Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz By Ayesh Shah Complete Novel - Madiha Shah Writes

This is official Web of Madiha Shah Writes.plzz read my novels stories and send your positive feedback....

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Sunday, 6 September 2026

Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz By Ayesh Shah Complete Novel

Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz By Ayesh Shah Complete Novel 

Madiha Shah Writes: Urdu Novel Stories

Novel Genre:  Cousin Based Enjoy Reading...

Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz By Ayesh Shah Complete Novel 


Novel Name: Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz

Writer Name: Ayesh Shah

Category: Complete Novel



امی! آپ پریشان نہ ہوں۔ ڈاکٹر کی دوائیاں اور گھر کا راشن میں سنبھال لوں گی۔ بس آپ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔"


زوہا افغانی نے اپنی بیمار ماں کے ماتھے پر پیار سے ہاتھ رکھا اور ان کی چادر درست کی۔ والد کے انتقال کے بعد گھر کا سارا بوجھ اب زوہا پر تھا۔ لیکن اس کے دل پر سب سے بڑا بوجھ اس کی بڑی بہن **ہانیہ** کی گمشدگی کا تھا، جو چھ ماہ پہلے اچانک غائب ہو گئی تھی۔


ہانیہ غائب ہونے سے پہلے شاہ انڈسٹریز میں کام کرتی تھی۔ پولیس نے کیس بند کر دیا تھا، لیکن زوہا کے پاس اپنی بہن کو تلاش کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ خود اس کمپنی میں قدم رکھے۔


اس نے اپنے کپڑے درست کیے، فائل کو سینے سے لگایا اور شاہ انڈسٹریز کی بلند و بالا عمارت میں داخل ہو گئی۔

ارسلان شاہ، شاہ انڈسٹریز کا شاندار اور سنجیدہ مزاج CEO۔ کام کے معاملے میں حد درجہ سخت اور اصول پسند، لیکن اپنے ملازمین کے حقوق کا خیال رکھنے والا ایک باوقار انسان۔


زوہا نے دل میں ڈر کو دباتے ہوئے کیبن کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔


"کم ان (Inside)..." اندر سے ایک گہری، تحکمانہ مگر انتہائی متوازن آواز آئی۔


زوہا اندر داخل ہوئی۔ کیبن بڑا، خاموش اور صفائی سے سجا ہوا تھا۔ شیشے کی بڑی وال-ونڈو کے سامنے اٹالین ڈیسک پر **ارسلان شاہ** بیٹھا تھا۔ سیاہ سوٹ، نپلا تلا چہرہ، تیز اور پرواقار آنکھیں—اس کی شخصیت میں بلا کا رعب اور سنجیدگی تھی۔


ارسلان نے اپنی فائل سے نظریں اٹھائیں اور سامنے کھڑی زوہا کو دیکھا۔ زوہا کے چہرے پر پھیلی تھکاوٹ اور اس کی آنکھوں میں چھپی عجیب سی تڑپ ارسلان کی تیز نظروں سے چھپ نہ سکی۔


"مس... زوہا افغانی؟" ارسلان نے اس کی فائل دیکھتے ہوئے پوچھا۔ اس کا لہجہ سخت تھا، لیکن اس میں کوئی بلاوجہ کی بدتمیزی نہیں تھی۔


"جی مسٹر ارسلان شاہ،" زوہا نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔ "میں ریسرچ اسسٹنٹ کی جاب کے لیے انٹرویو دینے آئی ہوں۔"


ارسلان نے زوہا کی فائل کا جائزہ لیا۔ "تمہاری کوالیفکیشن اور ریسرچ ورک کافی اچھا ہے، زوہا... لیکن شاہ انڈسٹریز میں صرف ڈگری کام نہیں آتی۔ یہاں کام کی رفتار، ایمانداری اور مکمل توجہ چاہیے ہوتی ہے۔"


"میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی، سر۔ مجھے اس کام کی سخت ضرورت ہے،" زوہا کے لہجے میں جو سچائی اور ضرورت تھی، اس نے ارسلان کے سخت تاثرات کو ایک لمحے کے لیے ذرا نرم کر دیا۔


ارسلان نے اسے خاموشی سے دیکھا۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ لڑکی کسی گہرے مالی یا ذاتی دباؤ میں ہے۔ اس نے ڈیسک پر رکھا پانی کا گلاس زوہا کی طرف سرکایا۔


"پہلے پانی پیو... تم کافی گھبرائی ہوئی اور تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔"


ارسلان کا یہ چھوٹا سا اقدام زوہا کے لیے غیر متوقع تھا۔ اس نے حیرت سے ارسلان کو دیکھا، جس کے چہرے پر اب بھی وہی روایتی سنجیدگی تھی، لیکن اس کے اس انداز میں ایک چھپی ہوئی ہمدردی موجود تھی۔


"شکریہ سر،" زوہا نے گلاس اٹھایا۔


ارسلان نے جاب لیٹر پر اپنے دستخط کیے اور فائل بند کر دی۔


"تم سلیکٹ ہو گئی ہو۔ کل صبح اٹھا بجے رپورٹنگ ٹائم ہے۔ ہماری کمپنی میں وقت کی پابندی سب سے پہلا اصول ہے۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو تم HR سے بات کر سکتی ہو۔"


"تھینک یو سو مچ، سر!" زوہا نے راحت کی سانس لی۔


زوہا فائل لے کر مڑی ہی تھی کہ کیبن کے کونے میں رکھی ایک پرانی بورڈ میٹنگ کی فائل پر اس کی نظر پڑی—اس فائل پر اس کی بہن **ہانیہ** کا نام لکھا ہوا تھا۔ زوہا کا دل زور سے دھڑکا۔ اس نے قدم روک لیے۔


"کوئی اور بات ہے مس زوہا؟" ارسلان نے اپنی ڈیسک سے نظریں اٹھا کر پوچھا۔


"نہیں سر... کچھ نہیں،" زوہا نے فوراً اپنی نظریں ہٹائیں اور باہر نکل گئی۔


ارسلان نے اسے باہر جاتے ہوئے گہری نظروں سے دیکھا۔ اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا: *یہ لڑکی کام کے لیے جتنی سنجیدہ ہے... اس کی آنکھوں میں ویسا ہی کوئی راز بھی چھپا ہے۔*


..................


‎زوہا رات بھر سو نہ سکی۔ ایک طرف ماں کی بیماری اور گھر کا راشن، اور دوسری طرف شاہ انڈسٹریز کے کیبن میں دیکھی گئی وہ فائل جس پر **ہانیہ** کا نام درج تھا۔ اس کے ذہن میں سینکڑوں سوال گردش کر رہے تھے۔ کیا ارسلان شاہ ہانیہ کی گمشدگی کے بارے میں کچھ جانتا تھا؟ یا پھر ہانیہ کسی ایسے راز کا شکار ہو گئی تھی جس کا تعلق اس کمپنی کی دیواروں سے تھا؟

‎صبح ٹھیک پونے اٹھ بجے زوہا شاہ انڈسٹریز کے شاندار ہال میں موجود تھی۔ اس نے وقت کی پابندی کا پورا خیال رکھا تھا۔ HR ڈپارٹمنٹ سے ابتدائی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے اس کے ڈیسک پر پہنچا دیا گیا، جو اتفاق سے CEO کے کیبن کے بالکل قریب تھا۔

‎آٹھ بجتے ہی راہداری میں بھاری قدموں کی چاپ گونجی۔ ارسلان شاہ اپنے مخصوص سیاہ سوٹ میں، ہاتھ میں لیپ ٹاپ بیگ لیے داخل ہوا۔ اس کی تیز نظریں سیدھی زوہا پر پڑیں۔

‎"گڈ مارننگ، سر،" زوہا نے احترام سے کھڑے ہو کر کہا۔

‎"گڈ مارننگ، مس زوہا،" ارسلان نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے مختصر جواب دیا۔ "وقت کی پابندی دیکھ کر اچھا لگا۔ اگست کا یہ نیا ریسرچ پروجیکٹ ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ اگلے دو گھنٹے میں مجھے پچھلے چھ ماہ کی تمام مارکیٹ رپورٹس میری میز پر چاہئیں۔"

‎"جی سر، میں ابھی تیار کرتی ہوں،" زوہا نے سر ہلا دیا۔

‎ارسلان اپنے کیبن میں چلا گیا۔ زوہا نے گہرا سانس لیا اور اپنے سسٹم پر کام شروع کیا۔ پچھلے چھ ماہ کی رپورٹس کی تلاش کے دوران زوہا کے ہاتھ اچانک کانپنے لگے۔ یہ وہی چھ ماہ کا عرصہ تھا جب ہانیہ یہاں کام کر رہی تھی اور اچانک غائب ہوئی تھی۔

‎اس نے کمپنی کے آرکائیو فولڈر کو کھولنے کی کوشش کی، لیکن وہ پاس ورڈ سے محفوظ تھا۔ زوہا نے آس پاس دیکھا۔ تمام ملازمین اپنے کام میں مصروف تھے۔ اس نے ہمت جمع کی اور فائلنگ کیبنٹ کی طرف بڑھی جہاں پرانی کاغذی فائلیں رکھی تھیں۔

‎وہ ڈراز کھول کر ہانیہ افغانی کے نام کی فائل تلاش کرنے لگی۔ اس کی انگلیوں کی رفتار تیز تھی اور دل کی دھڑکن اس سے بھی تیز۔

‎"تم وہاں کیا ڈھونڈ رہی ہو، مس زوہا؟"

‎ایک دم پیچھے سے آنے والی سرد اور تحکمانہ آواز نے زوہا کے جسم میں سنسنی دوڑا دی۔ اس نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا—ارسلان شاہ کیبن کے دروازے پر کھڑا، ہاتھ سمیٹے اسے گہری اور شک کی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

‎"س... سر! میں وہ... پچھلے چھ ماہ کی پرانی رپورٹس کی ہارڈ کاپی دیکھ رہی تھی،" زوہا نے ہکلااتے ہوئے اپنی گھبراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کی۔

‎ارسلان آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ اس کا قد اور رعب دار شخصیت زوہا پر حاوی ہونے لگی۔ ارسلان نے کیبنٹ پر ہاتھ رکھا اور زوہا کی آنکھوں میں جھانکا۔

‎"ریسرچ اسسٹنٹ کا کام ڈیجیٹل ڈیش بورڈ پر ہوتا ہے، زوہا... پرانی خفیہ فائلوں میں نہیں۔ اور جو رپورٹس میں نے مانگی ہیں، وہ تمہارے سسٹم کے بنیادی فولڈر میں موجود ہیں۔"

‎ارسلان کا لہجہ بالکل دھیما تھا، لیکن اس میں ایک غیر محسوس سختی تھی۔

‎"مجھے معاف کیجیے گا سر... مجھے اندازہ نہیں تھا،" زوہا نے نظریں جھکا لیں۔

‎ارسلان نے کچھ دیر خاموشی سے اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھا۔ اسے زوہا کی آنکھوں میں خوف سے زیادہ ایک عجیب سی بے تابی نظر آئی۔

‎"کام پر دھیان دو، زوہا،" ارسلان نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ "شاہ انڈسٹریز میں کام سے ہٹ کر کسی دوسری چیز میں دلچسپی لینا تمہیں مشکل میں ڈال سکتا ہے۔"

‎وہ واپس اپنے کیبن میں چلا گیا، لیکن زوہا کے لیے ایک نیا سوال چھوڑ گیا۔ کیا ارسلان کو اس پر شک ہو چکا تھا؟

‎شام کے وقت جب تمام ملازمین جا چکے تھے، زوہا نے آخری بار کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ ارسلان کے کیبن کا دروازہ ہلکا سا کھول کر اندر جھانکی۔ کیبن خالی تھا، ارسلان شاید کسی میٹنگ میں تھا۔

‎زوہا تیزی سے اندر داخل ہوئی اور سیدھی اس ڈیسک کی طرف بڑھی جہاں کل اس نے ہانیہ کی فائل دیکھی تھی۔ اس نے فائل اٹھائی اور جیسے ہی اسے کھولا، اس کے اندر سے ایک چھوٹا سا ڈائری کا صفحہ نیچے گرا۔

‎صفحے پر ہانیہ کی تحریر میں لکھا تھا:

‎*"شاہ انڈسٹریز کے نیچے ایک ایسا راز ہے جو صحرا کی ریت کی طرح منتقل ہوتا رہتا ہے۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے تو..."*

‎جملہ ادھورا تھا۔ زوہا کا سانس حلق میں اٹک گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سمجھ پاتی، کیبن کا دروازہ کھلا اور لائٹ آن ہو گئی۔

‎ارسلان شاہ دروازے میں کھڑا تھا، اس کے چہرے پر اس بار محض سنجیدگی نہیں... بلکہ ایک گہرا طوفان تھا۔

‎"تو تم یہاں کام کرنے نہیں... کسی اور مقصد سے آئی ہو، مس زوہا افغانی؟" ارسلان کی آواز کیبن کی خاموشی میں بجلی بن کر کڑکی۔

---

ارسلان شاہ کی تحکمانہ آواز کیبن کی خاموشی میں بجلی بن کر کڑکی۔ زوہا کا دل اتنی زور سے دھڑکا جیسے سینے سے باہر آ جائے گا۔ اس کی انگلیوں میں جکڑا ڈائری کا وہ آدھا صفحہ کپکپایا، لیکن اس نے بڑی مشکل سے اپنے اعصاب پر قابو پایا۔

ارسلان آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے بالکل قریب آ کر رک گیا۔ اس کی سیاہ تیز آنکھیں زوہا کے چہرے کا ایک ایک تاثر پڑھ رہی تھیں۔

"میں... میں آپ کو صفائی دے سکتی ہوں، سر،" زوہا نے اپنے لہجے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی، حالانکہ اس کا گلا خشک ہو رہا تھا۔

"صفائی؟" ارسلان کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ ابھری۔ "میرے کیبن میں، رات کے اس پہر، میری ڈیسک سے خفیہ فائلیں نکالنا... اس کی کیا صفائی دو گی تم، مس زوہا؟ تمہیں شاہ انڈسٹریز میں آئے ہوئے ۲۴ گھنٹے بھی نہیں ہوئے اور تم کمپنی کے کانفیڈینشل آرکائیوز میں ہاتھ مار رہی ہو؟"

ارسلان نے ڈیسک پر جھک کر زوہا کے ہاتھ سے وہ کاغذ کا ٹکڑا نکالنا چاہا، لیکن زوہا نے تیزی سے اسے اپنی مٹھی میں بند کر کے اپنے پیچھے چھپا لیا۔ ارسلان کی ابرو میں بل پڑے۔ اس کا جھکاؤ زوہا کی طرف مزید بڑھا، دونوں کے درمیان فاصلہ ناپید ہو گیا۔

"تم کس کے لیے کام کر رہی ہو؟" ارسلان کی آواز بالکل دھیمی اور پراسرار تھی، لیکن اس میں بلا کا دباؤ تھا۔ "صداقت گروپ کے لیے؟ یا بورڈ کے ان ممبران کے لیے جو شاہ انڈسٹریز کو گرانا چاہتے ہیں؟"

"میں کسی کے لیے کام نہیں کر رہی!" زوہا نے ارسلان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا، حالانکہ اندر سے وہ بری طرح ڈری ہوئی تھی۔ "میں بس اپنے پروجیکٹ کے لیے پرانے ریسرچ پیپرز دیکھ رہی تھی۔ مجھے لگا اگر پچھلی ٹیم کے کام کا انداز دیکھ لوں تو کام بہتر ہو جائے گا۔"

"اور اس کے لیے تمہیں یہی فائل ملی؟" ارسلان نے ہانیہ کے نام والی فائل کی طرف اشارہ کیا۔ "تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کس آگ سے کھیل رہی ہو؟"

زوہا نے اپنے ہونٹ بھیچ لیے۔ اس کا دل چاہا کہ وہ چلا کر کہہ دے کہ ’ہانیہ میری بہن ہے!‘ لیکن اس نے اپنے جذبات پر پتھر رکھ لیا۔ اگر اس نے ابھی سچ بتا دیا، تو شاید ارسلان اسے فوراً پولیس کے حوالے کر دے یا نوکری سے نکال دے، اور وہ ہمیشہ کے لیے ہانیہ کے سراغ سے دور ہو جائے گی۔

ارسلان نے کچھ دیر خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ زوہا کی آنکھوں میں چالاکی نہیں تھی... وہاں ایک عجیب سا سچا ڈر اور گہری تڑپ تھی جو ارسلان کو الجھا رہی تھی۔

ارسلان نے ایک گہرا سانس لیا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے اپنے سوٹ کا بٹن بند کیا۔

"کل سے تمہارا ڈیسک باہر ہال میں نہیں ہو گا۔" ارسلان نے سرد لہجے میں فیصلہ سنایا۔

زوہا نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "کیا...؟"

"تمہاری شفٹنگ میرے کیبن کے اس کونے والے ڈیسک پر ہو گی۔" ارسلان نے شیشے کی بڑی کھڑکی کے پاس رکھی میز کی طرف اشارہ کیا۔ "تم اب میری براہ راست نگرانی میں کام کرو گی۔ اگر تم سچی ہو، تو کام سے ثابت کرو۔ اور اگر تم میرے دشمنوں کی بھیجی ہوئی جاسوس ہو... تو تم نے شاہ انڈسٹریز کا غلط راستہ چن لیا ہے، مس زوہا افغانی۔"

زوہا نے نفی میں سر ہلایا۔ "مجھے آپ کی نگرانی منظور ہے، سر۔ میں کوئی چور یا جاسوس نہیں ہوں۔"

"وہ تو وقت بتائے گا،" ارسلان نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ "اب تم جا سکتی ہو اور ہاں... وہ کاغذ ڈیسک پر رکھ کر جاؤ۔"

زوہا نے مجبوراً اپنی مٹھی کھولی اور وہ ادھورا کاغذ ڈیسک پر رکھ دیا۔ ارسلان کو ایک آخری گہری نظر سے دیکھتی ہوئی وہ کیبن سے باہر نکل گئی۔

زوہا کے جانے کے بعد ارسلان نے وہ کاغذ اٹھایا۔ اس پر ہانیہ کی وہی ادھوری تحریر لکھی تھی: * شاہ انڈسٹریز کے نیچے ایک ایسا راز ہے جو صحرا کی ریت کی طرح منتقل ہوتا رہتا ہے...*

ارسلان کے چہرے کے تاثرات سخت ہو گئے۔ اس نے فوراً اپنا فون نکالا اور ایک مخصوص نمبر ڈائل کیا۔

"ہیلو، فرہاد؟" ارسلان کی آواز سنجیدہ ہو گئی۔

"جی سر! حکم کیجیے،" دوسری طرف سے اس کے پرائیویٹ انویسٹی گیٹر کی آواز آئی۔

"ہانیہ افغانی والے کیس کی کیا اپ ڈیٹ ہے؟" ارسلان نے کھڑکی سے باہر رات کے اندھیرے میں ڈوبے شہر کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔ "پچھلے چھ ماہ سے تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ مجھے ہر حال میں پتہ چاہیے کہ وہ لڑکی اچانک دفتر سے کیسے غائب ہوئی۔ مجھے شک ہے کہ بورڈ کا کوئی ممبر یا صداقت گروپ اسے بلیک میل کر رہا تھا... یا شاید اسے قید کر رکھا ہے۔"

"سر، ہم صحرائی پروجیکٹ کی پرانی سائیٹس کی چھان بین کر رہے ہیں۔ کچھ سراغ ملے ہیں، بہت جلد آپ کو پکی خبر دوں گا،" فرہاد نے جواب دیا۔

"مجھے سچ چاہیے، فرہاد... جلد سے جلد،" ارسلان نے فون بند کر دیا اور ڈیسک پر رکھی زوہا کی فائل پر نظر ڈالی۔

اس کے ذہن میں زوہا کا خوفزدہ لیکن ضدی چہرہ گھوم گیا۔

*زوہا افغانی... تم جو بھی ہو، اور جس مقصد سے بھی آئی ہو... میں تمہیں اس خطرناک راز کی آڑ میں اپنی کمپنی یا خود کو نقصان نہیں پہنچانے دوں گا۔*

..................

زوہا جب گھر پہنچی تو رات کے دامن میں اندھیرا گہرا ہو چکا تھا۔ تھکن اور ذہن پر سوار ہزاروں سوچوں نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔ اس نے آہستہ سے دروازہ کھولا اور ماں کے کمرے میں داخل ہوئی۔

ماں نيم غنودگی کی حالت میں بستر پر لیٹی ہوئی تھیں۔ زوہا نے اپنا بیگ ایک طرف رکھا اور چپکے سے ان کے پاس بیٹھ گئی۔ اس نے ماں کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور ہلکے سے ان کے بال سہلانے لگی۔

"زوہا... تم آ گئیں بیٹا؟" ماں نے آنکھیں کھولتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا۔

"جی امی! آپ کی طبعیت کیسی ہے؟ دوائی وقت پر لی تھی؟" زوہا نے ان کے چہرے پر پھیلی نقاہت کو دیکھ کر فکر مندی سے پوچھا۔

"میں ٹھیک ہوں بیٹا... لیکن مجھے ہر وقت ہانیہ کی فکر کھائے جاتی ہے۔" ماں کی آنکھوں سے ایک آنسو نکل کر گال پر ڈھلک گیا۔ "چھ ماہ ہو گئے زوہا... میری بچی کہاں ہو گی؟ کس حال میں ہو گی؟"

زوہا کے دل میں ایک کٹک سی ہوئی۔ اس نے فوراً ماں کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔

"امی! آپ پریشان نہ ہوں۔ میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں، میں ہانیہ کو ڈھونڈ نکالوں گی۔ وہ جہاں بھی ہے، بالکل ٹھیک ہو گی۔ آپ بس اپنی صحت کا خیال رکھیں،" زوہا نے اپنے لہجے کو مضبوط بناتے ہوئے کہا، حالانکہ اس کا اپنا دل اندر سے کانپ رہا تھا۔

---

اگلی صبح، شاہ انڈسٹریز کے پرجوش ماحول میں زوہا اپنا سامان اٹھائے ارسلان کے کیبن کے باہر کھڑی تھی۔ وہاں موجود منیجر فاروق نے اسے تعجب سے دیکھا۔

"مس زوہا؟ آپ اپنا ڈیسک چھوڑ کر سر کے کیبن کے اندر کیوں شفٹ ہو رہی ہیں؟" منیجر نے حیرت سے پوچھا۔ "یہاں تو پچھلے پانچ سالوں میں کسی اسسٹنٹ کا ڈیسک کیبن کے اندر نہیں لگا۔ سر ارسلان اپنی پرائیویسی کے معاملے میں حد درجہ سخت ہیں۔"

زوہا نے دل ہی دل میں کڑوا گھونٹ بھرا، لیکن چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی، "سر ارسلان کا حکم ہے کہ ریسرچ پروجیکٹ کے کام کو براہِ راست ان کی نگرانی میں مکمل کیا جائے، اس لیے..."

"ہمم... خیر، سر ارسلان کا حکم ہے تو جو بھی ہو، احتیاط سے کام کرنا۔ سر کا مزاج ذرا مختلف ہے،" منیجر نے نصیحت کی اور چلا گیا۔

---

کچھ ہی دیر میں راہداری میں قدموں کی مخصوص اور پرواقار چاپ ابھری۔

ارسلان شاہ کی انٹری ہمیشہ ہی دیکھنے تعلق رکھتی تھی۔ تھری پیس ڈارک گرے سوٹ، ہاتھوں میں رولیکس گھڑی، سیدھے بال اور چہرے پر وہی بے نیازی اور رعب۔ وہ اکیلا تھا... اس دنیا میں اس کا اپنا کوئی خاندانی رشتہ باقی نہیں تھا۔ ماں باپ کا بچپن میں ہی انتقال ہو چکا تھا، جس کے بعد اس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر شاہ انڈسٹریز کی سلطنت کھڑی کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اتنا سنجیدہ اور تنہا رہنے کا عادی تھا۔

ارسلان کیبن میں داخل ہوا تو اس کے ساتھ اس کا واحد اور سب سے گہرا دوست **ہادی** بھی موجود تھا۔ ہادی شاہ انڈسٹریز کا لیگل ایڈوائزر بھی تھا اور ارسلان کا واحد رازدار۔ ہادی کا مزاج ارسلان کے بالکل برعکس، زندہ دل اور خوش مزاج تھا۔

"یار ارسلان! تم نے واقعی اس نویلی اسسٹنٹ کو اپنے کیبن میں جگہ دے دی؟" ہادی نے شیشے کے ڈیسک پر زوہا کی فائل دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

ارسلان نے اپنا کوٹ اتار کر کرسی کی پشت پر ڈالا اور سنجیدگی سے بولا، "ہادی... تمہیں پتہ ہے میں بغیر کسی وجہ کے کوئی قدم نہیں اٹھاتا۔ یہ لڑکی شاہ انڈسٹریز کی پرانی فائلوں میں کچھ تلاش کر رہی تھی۔ مجھے اس پر شک ہے۔"

ہادی نے کیبن کے کونے میں رکھی ڈیسک پر بیٹھی زوہا کو ایک نظر دیکھا جو لیپ ٹاپ پر مصروف ہونے کی اداکاری کر رہی تھی۔

"شاید وہ صرف محنتی ہو ارسلان؟ تم ہر کسی کو اپنے دشمنوں کا ایجنٹ سمجھنا بند کرو،" ہادی نے ڈیسک پر جھکتے ہوئے چھیڑا۔

"محبت اور جنگ میں احتیاط ضروری ہے، ہادی،" ارسلان نے روکھے پن سے کہا اور پھر اپنی ڈیسک پر بیٹھ گیا۔ لیکن اچانک اس کے ذہن میں ہانیہ افغانی کی فائل کا خیال آیا۔

اگر ہانیہ غائب ہوئی ہے، تو اس کے گھر والے کس حال میں ہوں گے؟ کیا اس کی فیملی نے پولیس میں رپورٹ کی تھی؟

ارسلان نے فوراً اپنے انٹرکام کا بٹن دبایا۔ "سیکرٹری! ہانیہ افغانی کی فیملی بیک گراؤنڈ کا پتہ کرو۔ اس کے گھر میں کون کون ہے، کہاں رہتے ہیں اور ان کا مالی موقف کیا ہے۔ مجھے آج شام تک رپورٹ چاہیے۔"

ڈیسک پر بیٹھی زوہا نے ارسلان کی یہ بات سن لی۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ *یہ ارسلان شاہ میری فیملی کے بارے میں کیوں پتہ کروا رہا ہے؟ کیا اسے مجھ پر حد سے زیادہ شک ہو گیا ہے؟*

---

ہادی کے جانے کے بعد کیبن میں ایک بار پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ زوہا کام میں اتنی مگن تھی کہ اس کا دھیان ہی نہ رہا کہ چائے کی گرما گرم پیالی اس کے ڈیسک کے بالکل کنارے پر رکھی ہے۔

اس نے جیسے ہی ایک فائل اٹھانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا، اس کی کوہنی پیالی سے لگی اور چائے گرنے ہی والی تھی کہ...

ایک تیز رفتار ہاتھ نے پیالی کو گرنے سے پہلے ہی تھام لیا!

چائے کی کچھ بوندیں ارسلان کی سفید قمیض کی آستین پر جا گریں۔ زوہا نے گھبرا کر اوپر دیکھا۔ ارسلان بالکل اس کے قریب کھڑا تھا، اس کا ہاتھ ابھی تک پیالی پر تھا اور اس کی تیز نظریں زوہا کی پریشان آنکھوں میں جمی ہوئی تھیں۔

"آ... آپ کی قمیض!" زوہا نے جلدی سے ڈیسک سے ٹشو پیپر اٹھایا اور بغیر سوچ سمجھے ارسلان کی آستین صاف کرنے لگی۔ "آئی ایم سو سوری سر! میرا دھیان نہیں تھا..."

ارسلان نے زوہا کا ہاتھ وہیں روک دیا۔ اس کا لمس زوہا کی کلائی پر بوجھل اور گرم تھا۔ دونوں کے درمیان فاصلہ اتنا کم تھا کہ زوہا کو ارسلان کی تیز ہوتی سانسیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔

"کام میں دھیان رکھا کرو، زوہا..." ارسلان کا لہجہ اس بار سخت نہیں، بلکہ ایک عجیب سی دھیمی اور گہری مٹھاس لیے ہوئے تھا۔ "نقصان کاغذ کا ہو یا کپڑوں کا... مجھے دونوں پسند نہیں۔"

زوہا نے جلدی سے اپنی کلائی چھڑائی اور نظریں جھکا لیں۔ "جی... جی سر، آئندہ دھیان رکھوں گی۔"

ارسلان نے اسے ایک لمبی، گہری نظر سے دیکھا اور واپس اپنی ڈیسک کی طرف بڑھ گیا۔ زوہا کا دل سینے میں بے ترتیبی سے دھڑک رہا تھا—یہ ارسلان شاہ جتنا سخت تھا، اس کا یہ انداز اتنا ہی الجھا دینے والا تھا۔

---

شام کے چھ بج چکے تھے۔ آفس کے تقریباً تمام ملازمین جا چکے تھے۔ زوہا بھی اپنا سامان پیک کر کے باہر نکلنے ہی والی تھی کہ ارسلان کا پرائیویٹ انویسٹی گیٹر، فرہاد، سائے کی طرح کیبن میں داخل ہوا۔

اس کے ہاتھ میں ایک سیاہ رنگ کا لفافہ تھا۔

"سر! صحرائی پروجیکٹ کی پرانی سائیٹ کا سراغ مل گیا ہے،" فرہاد نے رازداری سے کہا۔ "وہاں شاہ انڈسٹریز کے پرانے گودام سے ہمیں ہانیہ افغانی کا گھڑی اور ایک خون آلود کپڑا ملا ہے!"

یہ جملہ سنتے ہی زوہا کے قدم وہیں جم گئے۔ اس کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ بیگ نیچے جا گرا۔

ارسلان نے جھٹکے سے زوہا کی طرف دیکھا، جبکہ زوہا کا چہرہ خوف اور صدمے سے بالکل سفید پڑ چکا تھا...

---

"ہانیہ افغانی کا گھڑی اور ایک خون آلود کپڑا ملا ہے!"

فرہاد کے منہ سے نکلے یہ الفاظ کیبن کی فضا میں کسی بم کی طرح دھماکے سے گونجے۔ زوہا کا جسم بالکل شل ہو گیا، دل نے جیسے دھڑکنا چھوڑ دیا اور ہاتھوں کی گرفت اتنی کمزور ہوئی کہ کندھے پر لٹکا لیپ ٹاپ بیگ اور فائلیں فرش پر بکھر گئیں۔

خون آلود کپڑا؟ ہانیہ...؟

زوہا کے سر میں شدید درد کی لہر اٹھی۔ اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

ارسلان نے جھٹکے سے فرہاد کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں شدید غصے اور سنگی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے ایک پرغضب نگاہ فرہاد پر ڈالی جو زوہا کی موجودگی سے بالکل بے خبر اتنی بڑی بات بول گیا تھا۔

"زوہا! باہر نکلو... ابھی!" ارسلان کی آواز کیبن کی دیواروں سے ٹکرائی۔ اس کا لہجہ حد درجہ سخت اور چلاتا ہوا تھا۔

زوہا کے ہاتھ پاؤں ڈر سے کانپنے لگے۔ اس نے سہم کر فرش پر گرنے والی فائلیں اور اپنا بیگ سمیٹنے کی کوشش کی۔ اس کی انگلیاں اتنی بری طرح کانپ رہی تھیں کہ چیزیں بار بار اس کے ہاتھ سے چھوٹ رہی تھیں۔

"میں نے کہا باہر جاؤ!" ارسلان اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے دھاڑا۔ اس کے چہرے کی سختی دیکھ کر زوہا کا دل بیٹھ گیا۔ وہ بمشکل اپنی بکھری ہوئی چیزیں گود میں سمیٹ کر اٹھی اور بغیر کچھ کہے، خوف سے کانپتی ہوئی کیبن سے باہر بھاگ گئی۔

زوہا کے جاتے ہی ارسلان فرہاد کی طرف مڑا۔ اس کی تیز اور سرد آنکھیں فرہاد پر جم گئیں۔

"تمہارا دماغ ٹھکانے پر ہے فرہاد؟" ارسلان نے چباتے ہوئے لہجے میں کہا، آواز میں بلا کا غصہ تھا۔ "تمہیں اتنی عقل نہیں ہے کہ آفس کی ایک نئی ملازمہ کے سامنے اتنی حساس اور خفیہ معلومات بول رہے ہو؟ اگر یہ بات باہر لیک ہو جاتی یا وہ لڑکی ہمارے دشمنوں کی خبر رساں ہوتی تو تمہاری اس بے وقوفی کی قیمت کون چکاتا؟"

فرہاد نے ندامت سے نظریں جھکا لیں۔ "آئی ایم سوری، سر... مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ زوہا افغانی ابھی تک کیبن میں موجود ہے۔"

ارسلان نے گہرا سانس لیا اور اپنے غصے پر ضبط قائم کرتے ہوئے کوٹ کی آستینیں اوپر کیں۔ "اب بتاؤ... آگے کیا بات ہے؟ تم جو کہنے آئے تھے، پوری بات کرو۔"

فرہاد نے خود کو سنبھالا اور رازداری سے بولا، "سر! جو خون آلود کپڑا ملا ہے، اس کی فورنسک رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ وہ خون ہانیہ افغانی کا نہیں ہے۔ وہ محض ایک ڈرامہ تھا تاکہ پولیس اور ہم یہ سمجھیں کہ ہانیہ مار دی گئی ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہانیہ کو صحرائی پروجیکٹ کے پاس موجود کسی پرانی حویلی میں قید رکھا گیا ہے، اور یہ کام صداقت گروپ کے شاہد صداقت کا معلوم ہوتا ہے۔ وہ شاہ انڈسٹریز کے پروجیکٹ کو ناکام بنانے کے لیے ہانیہ کو بلیک میل کر رہا ہے۔"

ارسلان نے سوچ میں ڈوبتے ہوئے اپنے ڈیسک پر ہاتھ رکھا۔ "شاہد صداقت... مجھے پہلے ہی اس سانپ پر شک تھا۔ فرہاد، تم اپنی ٹیم تیار رکھو۔ بغیر کسی شور شرابے کے ہمیں اس لوکیشن کی تصدیق کرنی ہے۔"

فرہاد کے جانے کے بعد ارسلان کیبن میں اکیلا رہ گیا۔ اس کے ذہن میں بار بار زوہا کا وہ خوفزدہ، پیلا پڑتا چہرہ اور کانپتے ہاتھ گھوم رہے تھے۔ اس نے جس سختی سے زوہا پر چلایا تھا، اس کی گونج اب ارسلان کے اپنے اندر سنائی دے رہی تھی۔

*شاید میں نے کچھ زیادہ ہی سختی کر دی... وہ لڑکی پہلے ہی سہمی ہوئی لگتی ہے۔* ارسلان نے کیبن کی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچا، اس کے دل میں اک غیر محسوس سا گلٹ ابھرا۔

---

دوسری طرف، زوہا اپنے گھر کے ایک اندھیرے کونے میں گھٹنوں میں سر دیے رو رہی تھی۔

اس کے کانوں میں بس وہی ایک جملہ گونج رہا تھا—*خون آلود کپڑا!*

"نہیں... میری ہانیہ کو کچھ نہیں ہو سکتا،" وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے خود سے بول رہی تھی۔ اس کا ذہن بالکل مفلوج ہو چکا تھا۔ ایک طرف بہن کی زندگی کا خوف اور دوسری طرف ارسلان شاہ کا وہ خوفناک روپ! وہ ارسلان کو ہانیہ کی گمشدگی کا ذمہ دار سمجھ رہی تھی، اسے لگ رہا تھا کہ ارسلان کچھ بہت بڑا اور خوفناک راز چھپا رہا ہے۔

پوری رات زوہا کی آنکھوں میں کٹ گئی۔ نہ وہ سو سکی، نہ اس کا دل آرام پا سکا۔ صبح تک اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا اور جسم میں ذرا بھی ہمت نہیں تھی۔ اس نے اپنے گرتے ہوئے وجود کو سنبھالنے کے لیے فیصلہ کیا کہ وہ آج آفس نہیں جائے گی۔ اس نے HR کو بیماری کی ای میل بھیج دی اور بستر پر لیٹ گئی۔

---

شاہ انڈسٹریز میں صبح کے نو بج چکے تھے۔

ارسلان کیبن میں داخل ہوا تو اس کی نظریں سب سے پہلے کیبن کے کونے میں رکھی زوہا کی میز پر گئیں۔ وہ میز بالکل خالی تھی۔

ارسلان نے گھڑی دیکھی... سوا نو ہو چکے تھے۔ وقت کی پابندی کرنے والی زوہا افغانی آج غائب تھی۔

ارسلان کے چہرے پر ایک اداس اور الجھن بھرا سایہ لہرایا۔ وہ اپنی کرسی پر بیٹھا اور لیپ ٹاپ آن کیا۔ HR کا نوٹیفکیشن سامنے تھا کہ زوہا نے میڈیکل لیو لی ہے۔

*کیا وہ کل کے واقعے اور میرے چلانے کی وجہ سے بیمار ہو گئی؟* ارسلان کے دل میں گلٹ کا احساس ذرا اور گہرا ہوا۔ وہ سوچ میں گم تھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا اور ہادی مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔

"گڈ مارننگ ارسلان!" ہادی نے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ اس نے ارسلان کے چہرے پر چھائی پریشانی کو فوراً نوٹ کر لیا۔ پھر اس کی نظر زوہا کی خالی ڈیسک پر گئی۔

"اوہو... آج کیبن ذرا زیادہ ہی خاموش نہیں لگ رہا؟" ہادی نے شرارت سے ابرو اچکائے۔ "ہماری نئی اور محنتی اسسٹنٹ مس زوہا کہاں ہیں؟ کہیں تمہارے اس خونخوار مزاج سے ڈر کر بھاگ تو نہیں گئیں؟"

ارسلان نے ہادی کو ایک گھور کر دیکھا۔ "ہادی، اپنا کام کرو۔ وہ بیمار ہے، اس لیے نہیں آئی۔"

"اچھا؟ بیمار ہے یا تم نے کل شام اسے ڈرا کر بیمار کر دیا؟" ہادی نے ارسلان کو تنگ کرتے ہوئے کہا۔ "ارسلان، میں دیکھ رہا ہوں، تم اس لڑکی کے معاملے میں کچھ زیادہ ہی سوچنے لگے ہو... ورنہ تم تو کسی ملازم کی چھٹی پر اتنا غور بھی نہیں کرتے۔"

"ہادی!" ارسلان نے سرد لہجے میں ٹوکا۔ "فضول باتیں بند کرو۔ صداقت گروپ کے ساتھ جو ہمارا نیا لیگل کیس چل رہا ہے، اس کی فائل کہاں ہے؟"

ہادی کا موڈ بھی فوراً سنجیدہ ہو گیا۔ "ہمم... شاہد صداقت نے ہمارے صحرائی پروجیکٹ پر غیر قانونی قبضے کا کیس کیا ہے۔ لیکن تم فکر نہ کرو، ہمارے پاس تمام دستاویزات اصلی ہیں۔ لیکن ارسلان، شاہد صداقت ایک خطرناک انسان ہے، وہ بزنس جیتنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔"

ارسلان کی آنکھوں میں ایک پراسرار چمک آئی۔ "وہ جس حد تک جائے گا... میں اسے وہاں سے واپس بھیجنے کا انتظام کر چکا ہوں۔"

---

دوسری طرف، زوہا کے گھر کا ماحول مزید بگڑ چکا تھا۔

دوپہر کے وقت گھر کے پرانے اور خستہ حال دروازے پر زور زور سے دستک ہوئی۔ زوہا نے نقاہت سے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ سامنے ان کا مالکِ مکان **یاسین** کھڑا تھا، جس کے چہرے پر غصہ اور بے حسی تھی۔

"زوہا بی بی! پچھلے تین مہینے کا کرایہ باقی ہے!" یاسین نے اونچی آواز میں کہا۔ "مجھے اجرت اور تسلیاں نہیں چاہیے! اگر کل تک چھتیس ہزار روپے نہ ملے تو اپنی بیمار ماں کو لے کر اس گھر سے باہر نکل جاؤ!"

"یاسین صاحب! میری امی بہت بیمار ہیں، میں جلد ہی آپ کا کرایہ چکا دوں گی... میری نئی جاب لگی ہے، تنخواہ ملتے ہی..." زوہا نے منت بھرے لہجے میں کہا۔

"مجھے کچھ نہیں سننا! کل شام تک کا وقت ہے، ورنہ سامان باہر پھینک دوں گا!" یاسین دھمکی دے کر چلا گیا۔

زوہا دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں سے آباؤ اجداد کی غربت اور بے حسی پر آنسو بہنے لگے۔ اسے پیسوں کی سخت ضرورت تھی... ماں کی دوائیاں، راشن، اور اب یہ کرایہ!

اس نے اپنا فون اٹھایا۔ اس کی نظر شاہ انڈسٹریز کے ڈیش بورڈ پر پڑی۔ اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا... اسے ارسلان شاہ کے سامنے جانا ہی تھا، چاہے وہ کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو۔

---

شام کے وقت، زوہا ہمت جمع کر کے شاہ انڈسٹریز پہنچی۔ ہال خالی ہو رہا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ارسلان کے کیبن کے باہر پہنچی۔

اس نے دروازے پر دستک دی اور اندر داخل ہوئی۔

ارسلان نے ڈیسک سے نظریں اٹھائیں۔ زوہا کا مرجھایا ہوا چہرہ، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور اس کی بے بسی دیکھ کر ارسلان کے دل کو کچھ ہوا۔

"زوہا...؟ تم تو آف پر تھیں؟" ارسلان کا لہجہ خلافِ معمول بہت دھیما اور نرم تھا۔

"سر... مجھے... مجھے ایڈوانس سیلیری (Advance Salary) چاہیے،" زوہا نے نظریں جھکا کر، کانپتی آواز میں کہا۔ "مجھے پیسوں کی بہت ضرورت ہے۔"

ارسلان نے اسے خاموشی سے دیکھا۔ اس نے ڈیسک سے چیک بک نکالی اور قلم اٹھایا۔ "کتنے چاہیے؟"

"پچاس ہزار..." زوہا نے ہکلااتے ہوئے کہا۔

ارسلان نے بغیر کسی سوال کے پچاس ہزار کا چیک سائن کیا اور زوہا کی طرف بڑھا دیا۔ زوہا نے کپکپاتے ہاتھوں سے چیک تھاما۔

"شکریہ سر..." زوہا مڑنے ہی والی تھی کہ ارسلان کے ڈیسک پر رکھے انٹرکام کی گھنٹی بجی۔ ارسلان نے اسپیکر آن کیا۔

"سر! فرہاد بول رہا ہوں..." فرہاد کی سنسنی خیز آواز کیبن میں گونجی۔ "شاہد صداقت کا فارم ہاؤس ٹریس ہو گیا ہے! اور سر... وہاں ایک لڑکی کی موجودگی کی خبر ملی ہے، لیکن شاہد کے آدمی اس لڑکی کو آج رات ہی کسی دوسرے خفیہ صحرائی اڈے پر شفٹ کرنے والے ہیں!"

زوہا کے قدم جم گئے۔ فرہاد کی آواز میں موجود لفظ "لڑکی" نے زوہا کے دل پر بم گرایا۔

ارسلان نے جلدی سے اسپیکر بند کرنا چاہا لیکن زوہا نے ارسلان کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں بے شمار سوال اور خوف تھا۔

ارسلان نے زوہا کو دیکھا اور سنجیدگی سے کہا، "زوہا... تم ابھی گھر جاؤ۔"

ارسلان نے اپنا کوٹ اٹھایا اور تیزی سے کیبن سے باہر نکل گیا۔ زوہا کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال آیا: *وہ لڑکی ہانیہ ہے! ارسلان اسے کہیں اور منتقل کروا رہا ہے!*

زوہا نے بغیر اپنی جان کی پروا کیے ارسلان کے پیچھے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ارسلان کی گاڑی کے پیچھے ایک ٹیکسی لے کر نکل پڑی... شہر کی روشنیاں پیچھے چھوٹ رہی تھیں اور گاڑی اندھیرے اور سنسان صحرائی راستے کی طرف بڑھ رہی تھی...

---

‎شہر کی روشنیاں پیچھے چھوٹ چکی تھیں اور گاڑی صحرا کے سنسان اور پراسرار راستے پر دوڑ رہی تھی۔ زوہا ٹیکسی میں بیٹھی ارسلان شاہ کی گاڑی کا پیچھا کر رہی تھی، اس کا دل خوف اور بے چینی سے بری طرح دھڑک رہا تھا۔

‎کچھ ہی دیر میں ارسلان کی گاڑی صحرا کے بیچوں بیچ بنی ایک خستہ حال، پرانی حویلی کے سامنے جا کر رکی۔ ارسلان اپنی مخصوص باوقار چال کے ساتھ گاڑی سے اترا۔ اس کے اشارے پر اطراف میں چھپے اس کے اپنے مسلح بندوں نے پوزیشن سنبھال لی۔

‎ٹیکسی سے اتر کر زوہا اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حویلی کی پرانی دیواروں کے پیچھے چھپ گئی۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی، حویلی کا ماحول گولیوں کی بوچھاڑ اور دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھا۔ ارسلان اور شاہد صداقت کے آدمیوں کے درمیان شدید اور سنسنی خیز لڑائی شروع ہو چکی تھی۔ ہر طرف چیخ و پکار اور بارود کا دھواں پھیل گیا۔

‎زوہا نے ڈر کے مارے اپنے دونوں ہاتھوں سے کان بند کر لیے اور دیوار سے چپک کر بیٹھ گئی۔

‎لڑائی کے اسی شور و غل کے دوران، ولن شاہد صداقت کے ایک شاطر آدمی کی نظر اچانک دیوار کے پیچھے چھپی زوہا پر پڑ گئی۔ اس کی آنکھوں میں خباثت ابھری۔ وہ چپکے سے زوہا کے پیچھے پہنچا اور بغیر کسی رحم کے زوہا کو بال سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا!

‎"آہ... چھوڑو مجھے!" زوہا درد اور خوف سے چیخ اٹھی۔

‎"آواز بند رکھ اپنی!" اس آدمی نے زوہا کو اپنی گرفت میں جکڑا اور اس کی کنپٹی پر پستول تانتے ہوئے اونچی آواز میں چلایا، "روک دو یہ فائرنگ! ورنہ اس لڑکی کا بھیجا کھول دوں گا!"

‎ارسلان شاہ نے جیسے ہی مڑ کر دیکھا، اس کے قدم وہیں جم گئے۔ سامنے زوہا کو دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے! اس کے چہرے پر شدید حیرت، صدمہ اور پھر ایک خوفناک غصہ لہرایا۔ *یہ لڑکی یہاں کیسے پہنچ گئی؟!*

‎"ارسلان شاہ! ہتھیار پھینک دو، ورنہ یہ لڑکی ماری جائے گی!" ولن کے آدمی نے دھمکی دی۔

‎ارسلان نے اپنی تیز نظریں زوہا کی ڈری ہوئی آنکھوں پر جمائیں۔ اس کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے بھی کمزوری کا تاثر نہیں آیا۔ اس نے فرہاد کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا۔ اگلے ہی سیکنڈ ارسلان نے پلک جھپکتے ہی آگے بڑھ کر ولن کے آدمی کا ہاتھ موڑا، پستول چھین کر ایک زوردار کک اس کے سینے پر ماری اور زوہا کو جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ کر اس کی جان بچا لی۔

‎ارسلان کے بندوں نے شاہد صداقت کے آدمیوں کو دبوچ لیا۔ لیکن اس تمام کشمکش میں زوہا زمین پر گرنے کی وجہ سے زخمی ہو گئی۔ اس کے گھٹنے اور بازو پر خراشیں آئیں اور سر پر ہلکی سی چوٹ لگی۔

‎ارسلان نے غصے سے زوہا کو دیکھا اور اپنے ڈرائیور کو سخت لہجے میں حکم دیا، "اسے فوراً پاس کے ہسپتال لے کر چلو!"

‎حویلی کی تلاشی کا کام فرہاد کے سپرد کر کے ارسلان خود بھی ہسپتال پہنچا۔

---

‎ہسپتال کے ایمرجنسی روم کے باہر، زوہا کو پٹی کروائی جا رہی تھی۔ اسی اثنا میں ارسلان کا آدمی فرہاد تیزی سے وہاں پہنچا۔

‎"سر!" فرہاد نے سانس پھولتے ہوئے بتایا، "ہم نے حویلی کا کونہ کونہ چھان مارا ہے... وہاں کوئی لڑکی نہیں تھی! شاہد صداقت کے آدمیوں نے ہمیں غلط چکمہ دیا تھا۔"

‎یہ سنتے ہی ارسلان شاہ کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ اس کی آنکھوں میں غصے کا طوفان امڈ آیا، اس کے چہرے کی رگیں تن گئیں۔

‎"کچھ بھی ہو جائے، مجھے ہانیہ افغانی کا سراغ چاہیے!" ارسلان نے فرہاد کو چباتے ہوئے لہجے میں حکم دیا، "اس کی فیملی کا ایک ایک ریکارڈ نکالو! اور اس شاہد صداقت پر چوبیس گھنٹے کڑی نظر رکھو، وہ بچ کر نہیں جانا چاہیے! جاؤ یہاں سے!"

‎فرہاد فوراً وہاں سے چلا گیا۔

‎اسی لمحے زوہا روم سے باہر نکلی، اس کے جسم پر چوٹ کے نشان تھے اور چہرہ پیلا پڑا ہوا تھا۔ جیسے ہی اس کی نظر ارسلان پر پڑی، وہ کچھ کہنے کے لیے اس کی طرف بڑھی۔ "سر... میں..."

‎ارسلان نے اپنے شدید غصے پر ضبط کرتے ہوئے فوراً اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

‎"سر... میری بات سنیں..." زوہا نے دوبارہ ہمت کر کے بولنا چاہا۔

‎لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی، ارسلان شاہ مڑا اور ایک جھٹکے سے زوہا کا بازو دبوچ کر اسے دیوار سے لگا دیا! دونوں کے درمیان فاصلہ بالکل ختم ہو گیا۔

‎ارسلان کے چہرے پر بلا کا غصہ اور اس کی سانسوں میں ایک پراسرار تپش تھی۔ اس نے زوہا کو تھوڑا جھنجھوڑتے ہوئے اپنے سحر انگیز اور سرد لہجے میں کہا:

‎"تمہاری ہمت کیسے ہوئی زوہا افغانی...؟ تم نے میرا پیچھا کرنے کی جرات کیسے کی؟! تمہیں اندازہ بھی ہے کہ اگر آج تمہیں کچھ ہو جاتا تو کیا ہوتا؟ شاہ انڈسٹریز کے کام میں مداخلت کرنا اور اپنی جان جوکھوں میں ڈالنا... تم کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟"

‎زوہا ارسلان کے اس قدر قریب ہونے اور اس کی رعب دار آنکھوں کو دیکھ کر بالکل ساکت ہو گئی۔ اس کا دل سینے میں بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا، وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن ارسلان کی آنکھوں کے غضب اور اس کی قمیض پر لگے خون نے اس کی زبان پر تالے لگا دیے تھے۔

‎ارسلان نے چند سیکنڈز کے لیے اس کی بے بس اور سہمی ہوئی آنکھوں میں دیکھا، پھر جھٹکے سے اسے چھوڑ کر پیٹھے ہٹ گیا۔

‎اس نے اپنے ڈرائیور کی طرف دیکھا اور سخت لہجے میں حکم دیا، "اسے ابھی اور اسی وقت اس کے گھر چھوڑ کر آؤ۔ اور دیکھنا کہ یہ دوبارہ گاڑی سے باہر قدم نہ رکھے۔"

‎ارسلان زوہا کو ایک اخری، غضبناک اور پراسرار نظر دیکھتا ہوا لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہسپتال سے باہر نکل گیا، جبکہ زوہا وہیں دیوار سے ٹیک لگائے، اپنے بے ترتیب دھڑکتے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہ گئی...

---



ارسلان شاہ کی سیاہ کار جب زوہا کو اس کے خستہ حال گھر کے باہر چھوڑ کر واپس مڑی، تو زوہا کا وجود شدید صدمے اور درد سے نڈھال ہو چکا تھا۔




اس نے اپنا زخمی ہاتھ ہلکے سے چھوا جہاں پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اس کا ذہن ہسپتال کے اس خوفناک لمحے میں اٹکا ہوا تھا۔ ارسلان کا غصہ، اس کی دیوار پر لگائے جانے والی سختی، اور اس کی قمیض پر لگا خون... زوہا کے دل کو بے ترتیب کر رہا تھا۔




وہ خاموشی سے گھر میں داخل ہوئی۔ ماں بستر پر نیم غنودگی کی حالت میں لیٹی ہوئی تھیں۔ زوہا نے اپنے زخم ماں کی نظروں سے چھپانے کے لیے تیزی سے اپنی آستینیں نیچے کیں اور چپکے سے بستر پر دراز ہو گئی۔ اس کا سر شدید درد سے پھٹ رہا تھا۔




*اگر شاہد صداقت کے آدمی مجھے نقصان پہنچانا چاہتے تھے... تو ارسلان شاہ نے مجھے کیوں بچایا؟ وہ تو مجھے محض ایک ملازمہ اور جاسوس سمجھتا ہے... پھر اس نے اپنی جان خطرے میں کیوں ڈالی؟*




سوالات کا ایک طوفان زوہا کے اندر برپا تھا، اور اسی الجھن و تھکن میں اس کی آنکھ لگ گئی۔


---


دوسری طرف، شاہ انڈسٹریز کے پرتعیش پینٹ ہاؤس میں ارسلان شاہ شیشے کی بڑی ونڈو کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کا سیاہ کوٹ اتر چکا تھا اور سفید قمیض کی آستینیں کوہنیوں تک مڑی ہوئی تھیں۔ کندھے کی چوٹ سے ہلکا سا خون رس رہا تھا، لیکن اس کے چہرے پر بلا کا رعب اور سنجیدگی تھی۔




اسی لمحے کیبنٹ کا دروازہ کھلا اور اس کا پرائیویٹ انویسٹی گیٹر فرہاد، ایک موٹی فائل ہاتھ میں لیے اندر داخل ہوا۔




"سر!" فرہاد نے فائل ارسلان کی طرف بڑھائی۔ "آپ کے حکم پر میں نے صحرائی حویلی کے واقعے کے بعد مس زوہا افغانی کا مکمل بیک گراؤنڈ ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔"




ارسلان نے وہ فائل کھولی۔ جیسے ہی اس نے پہلی لائن پڑھی، اس کی تیز ابرو میں بل پڑ گئے۔




**"زوہا افغانی—دختر مرحوم افضل افغانی... ہمشیرہ: ہانیہ افغانی!"**




ارسلان کی انگلیاں فائل کے کنارے پر جم گئیں۔




تہہ خانے میں رکھی فائلوں کو ڈھونڈنا، ہانیہ کے نام کی کاغذی ہارڈ کاپی کو مٹھی میں چھپانا، راتوں کو جاگنا، اس کی آنکھوں کی وہ تڑپ اور ڈر—ایک سیکنڈ میں ارسلان کے ذہن میں ساری کڑیاں مل گئیں۔




"یہ لڑکی... ہانیہ کی بہن ہے؟" ارسلان نے دھیمی اور پراسرار آواز میں کہا۔




"جی سر!" فرہاد نے تصدیق کی۔ "یہ شاہ انڈسٹریز میں ریسرچ اسسٹنٹ کی جاب کرنے نہیں، اپنی لاپتہ بہن ہانیہ کا سراغ لگانے آئی تھی۔ ہانیہ کی گمشدگی کے بعد اس کا گھر شدید مالی بحران کا شکار ہے، اسی لیے اس نے آپ سے ایڈوانس سیلری مانگی تھی۔"




ارسلان نے فائل بند کر دی۔ اس کے اندر ایک عجیب سا گلٹ اور گہری پروا ابھری، لیکن اس نے اپنے چہرے پر وہی سخت اور نپا تلا تاثر قائم رکھا۔




*تو زوہا افغانی دشمن کی جاسوس نہیں... صرف اپنی بہن کی تلاش میں تڑپنے والی ایک مظلوم لڑکی ہے!*




ارسلان نے فرہاد کو سخت لہجے میں حکم دیا، "فرہاد! صداقت گروپ پر چوبیس گھنٹے نظر رکھو۔ اور زوہا کے گرد کوئی بھی مشکوک سایہ نظر نہیں آنا چاہیے۔"




---




اگلی صبح ٹھیک پونے آٹھ بجے۔




زوہا زخموں کی پروا کیے بغیر شاہ انڈسٹریز کے ہال میں داخل ہوئی۔ اس نے مالکِ مکان کا کرایہ چکا دیا تھا، لیکن اس کا ضمیر اسے کام سے چھٹی کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔




وہ خاموشی سے کیبن میں داخل ہوئی اور شیشے کے کونے میں رکھی اپنی میز کی طرف بڑھی۔




سامنے اٹالین ڈیسک پر ارسلان شاہ موجود تھا—سیاہ تھری پیس سوٹ، رولیکس گھڑی اور چہرے پر وہی روایتی رعب اور سنجیدگی۔




زوہا نے ڈرتے ہوئے اپنا بیگ رکھا اور بیٹھنے ہی والی تھی کہ ارسلان کی سرد اور تحکمانہ آواز کیبن کی خاموشی میں گونجی:




"شاہ انڈسٹریز میں زخمی حالت میں کام کرنے کا کوئی اصول نہیں ہے، مس زوہا افغانی۔"




زوہا کے قدم جم گئے۔ اس نے ڈرتے ہوئے نظریں اٹھائیں۔




ارسلان اپنی ڈیسک سے اٹھا اور نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا زوہا کے ڈیسک کے پاس آ کر رکا۔ اس کا قد اور شخصیت ہمیشہ کی طرح زوہا پر حاوی ہو رہی تھی۔ اس نے زوہا کے زخمی ہاتھ کی پٹی پر ایک سرد نظر ڈالی۔




"میں نے کل ڈرائیور کو ہدایت دی تھی کہ تم بیڈ ریسٹ کرو گی۔ تم یہاں کیوں آئی ہو؟" ارسلان کا لہجہ سخت اور تحکمانہ تھا، لیکن اس کی آواز کی تپش میں ایک غیر محسوس سنجیدہ پروا موجود تھی۔




"سر!" زوہا نے نظریں جھکا کر ہکلااتے ہوئے کہا، "آپ نے مجھے ایڈوانس سیلری دی ہے... میں کام چھوڑ کر گھر نہیں بیٹھ سکتی۔ مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔"




"تمہاری ذمہ داری کا اندازہ مجھے کل رات صحرا میں ہو چکا ہے،" ارسلان نے روکھے اور رعب دار لہجے میں کہا۔ " شاہ انڈسٹریز کو ایسے ملازمین کی ضرورت نہیں جو احکام کی عدولی کریں اور اپنی جان خطرے میں ڈالیں۔"




زوہا نے اپنے ہونٹ بھیچ لیے۔ ارسلان کا یہ سرد رویہ اسے اندر تک ہلا دیتا تھا، لیکن وہ کچھ بول نہ سکی۔




اسی لمحے، کیبن کا دروازہ ہلکی دستک کے بعد کھلا اور **ہادی** تیز قدموں سے اندر داخل ہوا!




"ارسلان!" ہادی نے سراسیمگی کے عالم میں کہا، "صداقت گروپ کے شاہد صداقت نے اپنی چال چل دی ہے! اس نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پرائیویٹ ممبران کو اپنے ساتھ ملا کر شاہ انڈسٹریز کے صحرائی پروجیکٹ کے این او سی (NOC) پر اسٹے آرڈر جاری کروا دیا ہے!"




ارسلان کی تیز نظریں فوراً ہادی کی طرف گھوم گئیں۔ "اس کی اتنی ہمت؟"




"بات یہی ختم نہیں ہوئی،" ہادی نے زوہا پر ایک محتاط نظر ڈالی اور دھیمی آواز میں بولا، "شاہد صداقت نے غیر رسمی طور پر شاہ انڈسٹریز پر اپنے انڈسٹریل ڈیٹا کی چوری کا الزام بھی لگایا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ صحرا والے پروجیکٹ کی جن خفیہ فائلوں پر دستخط ہوئے تھے، ان کا سراغ اب ہمارے پاس پہنچنے والا ہے۔"




ارسلان کے چہرے پر ایک خوفناک اور پراسرار مسکراہٹ ابھری۔ اس کی آنکھوں کی سیاہی میں ایک طوفان امڈ آیا۔




"شاہد صداقت کو لگتا ہے کہ وہ کاغذات روک کر شاہ انڈسٹریز کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا..." ارسلان نے اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔ "ہادی! بورڈ ممبران کی ایمرجنسی میٹنگ بلاؤ۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ کس کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔"




ہادی فوراً باہر کی طرف مڑا۔ ارسلان نے ایک اخری سخت نظر زوہا پر ڈالی۔




"تم اپنی ڈیسک پر بیٹھ کر صرف ریسرچ ورک مکمل کرو گی، مس زوہا،" ارسلان نے تحکمانہ انداز میں کہا، "اور اگر تم نے دوبارہ کمپنی کے معاملات میں دخل دینے یا باہر قدم نکالنے کی کوشش کی، تو نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔"



ارسلان لمبے قدم اٹھاتا ہوا کیبن سے باہر نکل گیا۔


زوہا اپنی کرسی پر بیٹھ گئی، لیکن اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ *شاہد صداقت، صحرائی پروجیکٹ، اور دستخط شدہ فائلیں...* زوہا کو احساس ہو چکا تھا کہ ہانیہ کی گمشدگی اور اس صحرائی پروجیکٹ کے رازوں کے درمیان ایک گہرا اور خوفناک جال بچھا ہوا تھا...


---

شاہ انڈسٹریز کا ہنگامی بورڈ روم کشیدگی کے اعلیٰ ترین درجے پر تھا۔




ارسلان شاہ کانفرنس ٹیبل کی مرکزی کرسی پر براجمان تھا۔ اس کا تھری پیس سیاہ سوٹ، میز پر ٹکائی گئی رولیکس لگی کلائی اور چہرے پر چھائی بلا کی خاموشی پورے ہال کو اپنے رعب میں لیے ہوئے تھی۔




"سر! شاہد صداقت نے جن ڈائریکٹرز کو اپنے ساتھ ملایا تھا، ہم نے ان کے تمام آف شور اکاؤنٹس فریز کروا دیے ہیں،" ہادی نے ارسلان کی دائیں جانب کھڑے ہو کر باوقار انداز میں پورٹ فولیو بند کرتے ہوئے کہا۔




ارسلان نے اپنی گہری، سیاہ آنکھیں سست روی سے اٹھائیں اور بورڈ ممبران پر ڈالی۔ اس کی ایک نظر نے وہاں بیٹھے تمام شاطر بزنس مینوں کے پسینے چھڑا دیے تھے۔




"آج کے بعد اگر کسی نے بھی شاہ انڈسٹریز کے پروجیکٹ پر باہر کے کسی آدمی... خصوصاً شاہد صداقت کے اشارے پر ناچنے کی کوشش کی،" ارسلان کا لہجہ برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دھار دار تھا، "تو وہ صرف شاہ انڈسٹریز سے باہر نہیں ہوگا... بلیک لسٹ ہو کر سڑک پر آ جائے گا۔ میٹنگ ختم ہوئی۔"




ارسلان اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک لمحے میں پورا روم خالی ہو گیا۔ ہادی اور فرہاد اس کے پیچھے کیبن کی طرف بڑھے۔




---




اسی وقت، شہر کے دوسرے کونے میں صداقت گروپ آف انڈسٹریز کا پرائیویٹ فلیٹ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔




شاہد صداقت سگار کا گہرا کش لیتے ہوئے بڑی شیشے کی ونڈو کے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ اس کا سب سے خاص اور خبیث کارندہ **کامران** کھڑا تھا، جس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے۔




"سر! ارسلان شاہ نے بورڈ ممبران کو دبا لیا ہے۔ صحرائی پروجیکٹ پر ہمارا اسٹے آرڈر زیادہ دیر نہیں ٹکے گا،" کامران نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا۔ "اور سب سے بڑی مصیبت... وہ لڑکی ہانیہ! ارسلان شاہ اس کی فائلیں ڈھونڈتا ہوا صحرا کی حویلی تک پہنچ گیا تھا۔"




شاہد صداقت نے مکارانہ قہقہہ لگایا اور سگار کا دھواں ہوا میں اڑایا۔




"ارسلان شاہ جتنا مرضی زور لگا لے کامران... وہ اس لڑکی ہانیہ افغانی تک کبھی نہیں پہنچ سکتا!" شاہد کا لہجہ زہریلا ہو گیا۔




"لیکن سر! اگر ارسلان شاہ کو خبر ہو گئی کہ وہ لڑکی اب دنیا میں ہی نہیں ہے تو..."




"خبر کیسے ہوگی؟" شاہد صداقت نے غصے سے مڑ کر کامران کو گھورا۔ "کسی کو کیا پتہ کہ اس صحرائی پروجیکٹ کی جن فائلوں پر ہم نے اس ہانیہ افغانی سے دھوکے سے سائن کروائے تھے... جب اس کو حقیقت کا پتہ چلا اور وہ پولیس کے پاس جانے کی دھمکی دینے لگی، تو ہم نے اسے صحرا کے اسی پرانے کنویں میں پھینک دیا تھا!"




کامران نے تھوک نگلا: "جی سر... وہ اس طوفانی رات میں صحرا کی ریت تلے دب کر وہیں دم توڑ چکی تھی۔ اس کا کوئی ثبوت، کوئی وجود اب باقی ہی نہیں رہا۔"




"بالکل!" شاہد صداقت نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ "وہ لڑکی مر چکی ہے، اس کا باب ختم ہو چکا ہے۔ ارسلان شاہ جس پروجیکٹ کے این او سی اور فائلوں کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے، اس کی واحد گواہ ہانیہ افغانی کی میت اب صحرا کا راز بن چکی ہے۔ ارسلان صرف ایک لاش کے پیچھے بھاگ رہا ہے... اور یہی اس کی سب سے بڑی ہار ہوگی!"




---




رات کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔




شاہ انڈسٹریز کی عمارت تقریباً خالی ہو چکی تھی اور زیادہ تر فلورز کی روشنیاں بند ہو چکی تھیں۔




زوہا اپنی میز پر بیٹھی لیپ ٹاپ کی سکرین کو گھور رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے گرد تھکن کے سیاہ ہالے واضح تھے، اور اس کے زخمی ہاتھ اور پاؤں میں دبا دبا درد اٹھ رہا تھا۔ وہ صحرائی پروجیکٹ کی پرانی ہارڈ کاپیز اور ڈیٹا کی جا نچ میں اتنی گم تھی کہ اسے وقت کے گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔




"یا اللہ... اتنی دیر ہو گئی؟" زوہا نے اچانک گھڑی پر نظر پڑتے ہی جلدی سے اپنا سامان سمیٹا۔




وہ ہلکا سا لنگڑا کر چلتی ہوئی کیبن سے باہر نکلی۔ راہداریوں میں چھایا سناٹا اور اندھیرا اس کے دل میں خوف کی لہر دوڑا رہا تھا۔ وہ لفٹ سے نیچے اتری اور شاہ انڈسٹریز کے مرکزی گیٹ سے باہر آئی۔




باہر سڑک بالکل سنسان تھی۔ سرد ہوا ریت کے ذروں کے ساتھ چل رہی تھی، اور کوئی ٹیکسی یا بس دور دور تک نظر نہیں آ رہی تھی۔ زوہا نے خوفزدہ ہو کر اپنا دوپٹہ سنبھالا اور سڑک کے کنارے پیدل چلنا شروع کر دیا۔ اس کی زخمی ٹانگ میں شدید درد ہو رہا تھا، لیکن وہ رکے بغیر آگے بڑھ رہی تھی۔




اسی اثنا میں، پیچھے سے ایک سیاہ اور چمکتی ہوئی شاہانہ کار آہستہ رفتار سے اس کے قریب آ کر رکی۔




سیاہ شیشہ نیچے ہوا۔ اندر ارسلان شاہ بیٹھا ہوا تھا—کوٹ اتارا ہوا، قمیض کی اوپری دو بٹن کھلی ہوئی، اور سیاہ بالوں کا ایک آوارہ بل اس کی پیشانی پر جھکا ہوا۔ اس کی سرخ آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ کتنی تھکن اور ذہنی دباؤ میں ہے۔




"گاڑی میں بیٹھو،" ارسلان کی تحکمانہ، بھاری اور سرد آواز رات کے سناٹے میں گونجی۔




زوہا کے قدم وہیں جم گئے۔ اس کا دل ایک دم تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے ڈرتے ڈرتے ارسلان کے باروب چہرے کو دیکھا۔




"ن... نہیں سر! شکریہ... میں بس پکڑ لوں گی،" زوہا نے نظریں جھکا کر ہکلااتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔




ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں ایک شدید غضب اور سرد چمک ابھری۔ اس نے گاڑی کا دروازہ خود کھولا اور نپے تلے، طویل قدم اٹھاتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا۔ اس کا قامت اور اس کی باوقار شخصیت زوہا کے بالکل سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔




رات کے سنسان روڈ پر، اس کی لوشن کی مسحور کن خوشبو اور اس کی سانسوں کی تپش زوہا کے وجود کو گھیرنے لگی۔




"میں نے تم سے مشورہ نہیں مانگا، مس زوہا افغانی،" ارسلان کا لہجہ بالکل دھیما لیکن ایسا تحکمانہ تھا کہ زوہا کا پورا وجود کانپ اٹھا۔ "رات کے اس پہر، اس سنسان روڈ پر تمہاری ہٹ دھرمی مجھے بالکل پسند نہیں۔ بیٹھو گاڑی میں!"




"سر! میں آپ پر بوجھ نہیں..." زوہا نے ہمت کر کے بولنا چاہا۔




لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنا جملہ پورا کرتی، ارسلان شاہ نے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ دونوں کے درمیان فاصلہ بالکل ختم ہو گیا۔




ارسلان نے زوہا کی نازک کلائی کو اپنے گرم اور مضبوط ہاتھ کے گھیرے میں لیا—اتنی نرمی سے کہ اس کے زخم پر اثر نہ پڑے، لیکن اتنی مضبوطی سے کہ زوہا ہل بھی نہ سکے۔ اس نے زوہا کی ٹھوڑی کو اپنے دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے سے ہلکا سا اوپر اٹھایا۔




زوہا کا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ اسے لگا اس کے سینے کی پسلیاں ٹوٹ جائیں گی۔ ارسلان کی سیاہ آنکھوں کی گہرائی میں غصے کے ساتھ ایک عجیب سی، جنونی اور تپش زدہ پروا تھی جو زوہا کو اپنے سحر میں قید کر رہی تھی۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے سے ملیں—ارسلان کے لب زوہا کے بالکل قریب تھے، اس کی گرم سانسیں زوہا کی گالوں کو چھو رہی تھیں۔




"تمہیں اندازہ بھی ہے زوہا... کہ اس شہر کی سڑکوں پر شاہد صداقت کے کتنے درندے گھوم رہے ہیں؟" ارسلان کی آواز اک گہرے، سحر انگیز سرگوشی میں بدل گئی، "اگر تم تک ایک بھی آنچ آئی... تو میں اپنی حدیں بھول جاؤں گا۔ اب بغیر کسی سوال کے، خاموشی سے گاڑی میں بیٹھو۔"




زوہا اس کے اتنے قریب ہونے اور اس کی آواز کے اس سحر انگیز جادو سے بالکل ساکت ہو گئی۔ اس کے پاس انکار کی کوئی گنجائش ہی نہ بچی۔




ارسلان نے خود فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا اور زوہا خاموشی سے، سہمی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اندر بیٹھ گئی۔ ارسلان مڑ کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی کو تیز رفتاری سے صحرائی سڑک پر دوڑا دیا۔




گاڑی کے اندر ایک عجیب، پراسرار اور کشیدہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ارسلان نے ہلکی مدہم رومانی و کلاسک موسیقی آن کر دی۔




زوہا نے اپنے کانپتے ہاتھوں کو گود میں مسلتے ہوئے شیشے سے باہر دیکھا، پھر آہستہ سے ارسلان کے باوقار پروفائل کی طرف دیکھا۔ اس کی مضبوط گرپ گاڑی کے اسٹیرنگ پر تھی، اور قمیض کی آستینوں سے جھانکتے اس کے کندھے پر وہی کل رات کا زخم اب بھی موجود تھا جو اس نے زوہا کی جان بچاتے ہوئے کھایا تھا...




*یہ شخص اخر کون ہے؟* زوہا کے دل نے شدت سے سوال کیا۔ *ایک طرف اس کا یہ رعب اور غضب... اور دوسری طرف میری جان بچانے کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنا... وہ مجھے کس کی نظر سے دیکھتا ہے؟*




ارسلان کو گاڑی چلاتے ہوئے زوہا کی نظروں کا احساس ہوا۔ اس نے سٹیرنگ پر اپنی گرپ مضبوط کی، لیکن چہرے کا تاثر وہی پروقار اور پراسرار ہی رکھا۔




گاڑی زوہا کے گھر کی گلی میں رکی۔




زوہا نے گاڑی کا ہینڈل تھاما اور ڈرتے ڈرتے مڑ کر دیکھا: "ش... شکریہ سر۔"




ارسلان نے اپنا رخ زوہا کی طرف کیا۔ اس کی آنکھوں میں گہرا سسپنس اور ایک ان کہی سچائی تھی۔




"کل سے تمہیں اتنی دیر تک کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے، زوہا،" ارسلان نے دھیمے، سرد لہجے میں کہا۔ "اور جو کچھ تم ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو... اسے مجھ پر چھوڑ دو۔"




زوہا کا دل دھک سے رہ گیا۔ *کیا اسے پتہ ہے کہ میں ہانیہ کو ڈھونڈ رہی ہوں؟*




اس سے پہلے کہ زوہا کچھ پوچھتی، ارسلان نے اسے ایک پراسرار نظر دیکھی اور باہر جانے کا اشارہ کیا۔ زوہا گاڑی سے اتری اور جیسے ہی اس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کیا، ارسلان شاہ نے ایک گہرا سانس لیا اور گاڑی کو صحرا کے اندھیرے میں غائب کر دیا۔




اسے ابھی تک معلوم نہیں تھا... کہ جس ہانیہ افغانی کی تلاش کا وعدہ وہ اپنے دل میں زوہا سے کر رہا تھا، وہ اب اس دنیا میں زندہ ہی نہیں بچی تھی!



---

شاہ انڈسٹریز کے پینٹ ہاؤس فلور پر خاموشی کا راج تھا۔ رات کے اٹھ بج رہے تھے اور پورا فلور تقریباً خالی ہو چکا تھا۔




زوہا اپنی میز پر بیٹھی شاہ انڈسٹریز کی پرانی صحرائی ریسرچ کی فائلوں کی جانچ میں اتنی گم تھی کہ اسے وقت کے گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔ اس کا زخم اب بھی ہلکا سا کسک رہا تھا، لیکن اس کی تمام تر توجہ فائلوں کے صفحات پر تھی۔




صفحہ نمبر 450 پر پہنچ کر اچانک زوہا کی انگلیاں جم گئیں۔




کاغذ پر شاہ انڈسٹریز کی ایک پرانی صحرائی سائٹ کا نقشہ تھا اور اس کے ساتھ حاضری رجسٹر کا پرنٹ اؤٹ تھا۔ اس کے نیچے دھندلے حروف میں ایک نام لکھا تھا:




**"ہانیہ افغانی — ڈائمیشن ریسرچر (سائٹ بی-4)"**




اور اس کے بالکل سامنے ہانیہ کے دستخط موجود تھے، لیکن ان کے ساتھ پینسل سے لکھا چھوٹا سا نوٹ درج تھا: *"شفٹ ٹو صداقت گروپ حویلی—غیر قانونی۔"*




زوہا کی آنکھوں سے آنسو کا ایک قطرہ کاغذی ہارڈ کاپی پر گرا۔ اس کا دل بری طرح تڑپ اٹھا، لیکن اس نے اپنے لب بھیچ لیے۔ ارسلان کے خوف اور اپنے مالی حالات کو سوچ کر وہ ارسلان سے کوئی سوال کرنے کی ہمت نہ کر سکی۔ اس نے خاموشی سے فائل بند کی، اپنا بیگ سنبھالا اور لنگڑا کر چلتی ہوئی کیبن سے باہر نکل گئی۔




ارسلان شاہ نے اپنے کیبن کے سلائیڈنگ شیشے سے زوہا کو جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کی سیاہ تیز آنکھوں میں ایک پراسرار اور گہری سوچ ابھری۔




---


رات کے بارہ بجے۔




شہر کی چکا چوند سے دور، صحرا کے ایک متروکہ گوڈاؤن کے اندر کا ماحول حد درجہ خوفناک اور تاریک تھا۔ گوڈاؤن کے بیچوں بیچ ایک کرسی پر **شاہد صداقت** رسسیوں سے جکڑا ہوا بیٹھا تھا۔ اس کے منہ پر خون کے دھبے تھے اور لباس بکھرا ہوا تھا۔




اس کے سامنے اندھیرے میں سے **ارسلان شاہ** نپے تلے، باوقار قدم اٹھاتا ہوا باہر آیا۔ اس کے پیچھے فرہاد اور اس کے مسلح بندے کھڑے تھے۔ ارسلان نے سیاہ سوٹ پہنا ہوا تھا، آستینیں کوہنیوں تک چڑھی ہوئی تھیں اور چہرے پر بلا کا غضب اور تحکم تھا۔




"ارسلان شاہ...! تم... تم جانتے ہو تم کس کو اغوا کر کے لائے ہو؟" شاہد صداقت نے درد سے کراہتے ہوئے، خوفزدہ آواز میں چلایا۔ "اگر پولیس کو پتہ چلا..."




ارسلان نے شاہد صداقت کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ اس نے خاموشی سے اپنے کوٹ کی جیب سے دستانے نکال کر پہنے اور ایک ایک قدم بڑھا کر شاہد کے بالکل سامنے آ کر کھڑا ہوا۔




ارسلان نے جھک کر شاہد صداقت کے بال دبوچے اور اس کا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں برف سے زیادہ ٹھنڈی، جنونی چمک تھی۔




"شاہد صداقت..." ارسلان کا لہجہ بالکل دھیما لیکن اتنا خوفناک تھا کہ شاہد کا جگر کانپ گیا۔ "میری کمپنی کے پروجیکٹ کے این او سی اور فائلوں پر جس لڑکی نے دستخط کیے تھے... وہ ہانیہ افغانی کہاں ہے؟ مجھے اس کا آخری سچ چاہیے، اور اگر تم نے جھوٹ بولا تو تم اس صحرا سے زندہ باہر نہیں جاؤ گے۔"




شاہد صداقت نے ارسلان کی آنکھوں میں موت کا سایہ دیکھا۔ وہ جان گیا تھا کہ ارسلان شاہ کوئی رعایت نہیں دے گا۔




"وہ... وہ لڑکی مر چکی ہے ارسلان شاہ!" شاہد صداقت نے خوف سے چیختے ہوئے سچ اگل دیا۔ "خدا کی قسم میں سچ کہہ رہا ہوں! دو سال پہلے جب اسے پتہ چلا کہ فائلوں پر غیر قانونی سائن کروائے گئے ہیں، تو وہ پولیس کے پاس جانے لگی... ہم نے اسے صحرا کے پرانے کنویں کے پاس روکا، لیکن وہ حادثاتی طور پر اس طوفانی رات میں صحرا کی ریت اور خشک کنویں کی گہرائی میں گر کر دم توڑ گئی! اس کا کوئی وجود اب باقی نہیں رہا!"




یہ سنتے ہی ارسلان شاہ کے ہاتھ کی گرفت شاہد کے بالوں پر جم گئی۔




کمرے میں ایک خوفناک خاموشی چھا گئی۔ ارسلان کے ذہن میں ایک سیکنڈ کے لیے زوہا کا روتا ہوا چہرہ، اس کی سسکیاں اور اپنی بہن کے لیے اس کی وہ تڑپ گھوم گئی۔




*ہانیہ افغانی... اب اس دنیا میں نہیں رہی؟*




ارسلان کے چہرے کی رگیں تن گئیں۔ اس نے ایک جھٹکے سے شاہد صداقت کو پیچھے دھکیلا۔




"فرہاد!" ارسلان کی آواز میں ایک دبا ہوا، خوفناک غضب تھا۔ "اسے یہیں قید رکھو۔ اور اس پرانے کنویں کی لوکیشن فوراً ٹریس کرو!"




ارسلان لمبے لمبے قدم اٹھاتا ہوا گوڈاؤن سے باہر نکل گیا، جبکہ شاہد صداقت اندھیرے میں چیختا رہ گیا۔




---


پینٹ ہاؤس کے اسٹڈی روم میں ارسلان اور اس کا سب سے قریبی دوست **ہادی** موجود تھے۔




ارسلان نے بلیک کافی کا کپ ہاتھ میں تھاما ہوا تھا اور شیشے کے باہر رات کے منظر کو گھور رہا تھا۔ اس کی رنگت زرد تھی اور چہرے پر ایک گہرا صدمہ اور گلٹ تھا جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔




"ارسلان..." ہادی نے ارسلان کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ "ہانیہ کی موت ایک بہت بڑا صدمہ ہے، خصوصاً اس کی فیملی کے لیے... لیکن تم اب کیا کرو گے؟ تم زوہا افغانی کو یہ سچ کیسے بتاؤ گے؟ وہ لڑکی تو اپنی بہن کی آس میں جی رہی ہے۔"




ارسلان نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس کی بھاری آواز لرز اٹھی:




"میں نے اسے ہر قدم پر دشمن سمجھا ہادی... میں نے اس کے زخموں کو نظرانداز کیا، اس پر سختی کی... جبکہ وہ صرف اپنی اس بہن کو تلاش کر رہی تھی جو پہلے ہی اس دنیا سے جا چکی ہے! زوہا یہ صدمہ کیسے برداشت کرے گی؟"




"تمہیں ہمت کرنی ہوگی ارسلان،" ہادی نے سنجیدگی سے کہا۔ "اگر تم نے اسے سچ نہ بتایا اور وہ کسی غلط فہمی میں رہی، تو شاہد صداقت کے لوگ اس کا اور فائدہ اٹھائیں گے۔ تمہیں خود اس کے گھر جا کر اسے بتانا ہوگا... اور اس کا سہارا بننا ہوگا۔"




ارسلان نے گہرا سانس لیا اور نفی میں سر ہلایا۔ اس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کے سامنے اتنی بے بسی محسوس نہیں کی تھی جتنا وہ آج زوہا کی حقیقت سوچ کر کر رہا تھا۔




---


اگلی صبح، زوہا شاہ انڈسٹریز نہیں آئی۔




اس کی ماں کی طبعیت رات سے ہی بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔ تیز بخار اور ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے وہ بستر سے اٹھ بھی نہیں پا رہی تھیں۔ زوہا تمام کام چھوڑ کر اپنی بیمار ماں کی دیکھ بھال میں لگی ہوئی تھی۔ وہ کبھی ان کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی اور کبھی دوا بنا کر دیتی۔




دوپہر کے تقریباً بارہ بجے، گلی میں ایک پرتعیش، سیاہ چمکتی ہوئی شاہانہ کار آ کر رکی۔




گلی کے غریب لوگ تعجب سے اس گاڑی کو دیکھنے لگے۔ گاڑی سے ارسلان شاہ اترا—سیاہ سوٹ، باوقار لیکن غمزدہ چہرہ، اور آنکھوں میں ایک گہرا سنجیدہ تاثر۔




وہ نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا زوہا کے خستہ حال گھر کے پرانے لکڑی کے دروازے تک پہنچا اور ہلکی سی دستک دی۔




دروازہ زوہا نے کھولا۔




سامنے ارسلان شاہ کو کھڑا دیکھ کر زوہا کے ہوش اڑ گئے۔ اس کے ہاتھ میں دوائیوں کا لفافہ تھا اور چہرہ ماں کی بیماری کی وجہ سے زرد پڑا ہوا تھا۔




"س... سر؟" زوہا کی زبان سے بمشکل نکلا۔ "آپ... آپ یہاں؟"




ارسلان نے زوہا کی حالت اور اس کے چھوٹے سے خستہ حال گھر کو دیکھا۔ اس کے دل میں ہمدردی کی ایک شدید لہر دوڑ گئی۔




"تم آج آفس نہیں آئی تھیں زوہا،" ارسلان نے دھیمی، غیر معمولی نرم آواز میں کہا۔ "مجھے تم سے کچھ بہت اہم بات کرنی ہے۔"




"سر! میری ماں کی طبعیت بہت خراب ہے... میں آفس میں اطلاع دینے ہی والی تھی..." زوہا نے نظریں جھکا کر معذرت خواہانہ انداز میں کہا۔




ارسلان نے زوہا کے چہرے پر چھائی معصومیت کو دیکھا اور بغیر کچھ کہے گھر کے چھوٹے سے صحن میں داخل ہو گیا۔




زوہا حیرت اور گھبراہٹ سے اس کے پیچھے آئی۔ ارسلان کمرے کے دروازے کے پاس آ کر رکا۔ اس نے زوہا کی طرف رخ کیا، دونوں کے درمیان صرف چند انچ کا فاصلہ تھا step.




"زوہا..." ارسلان کا لہجہ بالکل سرد تھا، لیکن اس کی آنکھوں میں دکھ کا ایک سمندر تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ زوہا کے شانوں پر رکھے—نہایت نرمی اور وقار کے ساتھ۔ "مجھے پتہ ہے کہ تم شاہ انڈسٹریز میں کیا ڈھونڈ رہی تھیں۔"




زوہا کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس کا جسم ساکت ہو گیا۔




"آپ... آپ کیا کہہ رہے ہیں سر؟" زوہا نے کانپتی آواز میں پوچھا۔




ارسلان نے اپنی آنکھیں میچ لیں اور ایک تلخ، دردناک حقیقت اس کے سامنے رکھ دی:




"ہانیہ افغانی... تمہاری بہن... وہ اب اس دنیا میں نہیں رہی زوہا!"




یہ الفاظ زوہا کے کانوں سے ٹکرا کر اس کے پورے وجود میں بم بن کر پھٹ گئے!




زوہا کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، اس کے ہاتھ سے دوائیوں کا لفافہ چھوٹ کر نیچے گر گیا۔ وہ بالکل ساکت، بے حس و حرکت ہو کر ارسلان کے چہرے کو گھورنے لگی۔ صدمہ اتنا شدید تھا کہ اس کے منہ سے کوئی چیخ، کوئی آنسو بھی نہ نکل سکا—وہ بالکل **سکتہ (Numb)** کی حالت میں چلی گئی۔




لیکن... قیامت کا لمحہ ابھی باقی تھا!




اسی لمحے، کمرے کے اندر بستر پر لیٹی ہوئی زوہا کی بیمار ماں نے یہ جملہ صاف سن لیا تھا!




"ہانیہ... میری... میری بچی...!"




کمرے کے اندر سے ماں کی ایک دردناک اور لرزہ خیز چیخ ابھری! زوہا کی ماں جو پچھلے دو سالوں سے اپنی بیٹی کی آس میں جی رہی تھی، وہ صدمے سے بستر سے اٹھی، لیکن جیسے ہی اس کے ذہن کو سچ کا ادراک ہوا، اس کے دل کی دھڑکن رکنے لگی۔




"ماں!" زوہا کی سانسیں بحال ہوئیں اور وہ بدحواس ہو کر کمرے کی طرف بھاگی۔




ارسلان بھی تیزی سے کمرے میں داخل ہوا۔




ماں اپنے سینے پر ہاتھ رکھے، زمین پر گر چکی تھیں! ان کا چہرہ پیلا پڑ چکا تھا اور آنکھیں پتھرا رہی تھیں۔




"ماں! آنکھیں کھولیں ماں!" زوہا ماں کے جسم سے لپٹ کر بری طرح چیخ اٹھی، اس کے آنسو ندی کی طرح بہنے لگے۔ "سر! میری ماں کو بچا لیں! خدا کے لیے میری ماں کو بچا لیں!"




ارسلان شاہ نے ایک سیکنڈ کا بھی ضائع کیے بغیر آگے بڑھ کر زوہا کی ماں کو اپنی مضبوط باہوں میں اٹھایا اور باہر گاڑی کی طرف بھاگا!




زوہا روتی، بلکتی ہوئی ارسلان کے پیچھے بھاگی۔ سڑک پر گاڑی کے پاس پہنچ کر ارسلان نے ماں کو پچھلی نشست پر لٹایا اور زوہا کو اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔




ارسلان نے گاڑی کا ایکسلریٹر دبایا اور کار ہوا سے باتیں کرتی ہوئی پاس کے سب سے بڑے پرائیویٹ ہسپتال کی طرف دوڑ پڑی...




زوہا گاڑی کی نشست پر ماں کا سر اپنی گود میں رکھے زار و قطار رو رہی تھی، جبکہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ارسلان شاہ شیشے سے زوہا کی اس بکھرتی ہوئی حالت کو دیکھ کر اپنے اندر ایک بے نام، جنونی درد اور ذمہ داری محسوس کر رہا تھا...




---


ہسپتال کے سرد راہداریوں میں پھیلی خاموشی کسی طوفان کی پیش خیمہ تھی۔




ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود زوہا کی ماں کا دل یہ شدید صدمہ برداشت نہ کر سکا اور وہ اپنی دوسری بیٹی کے غم میں زوہا کو اس بے رحم دنیا میں اکیلا چھوڑ کر رخصت ہو گئیں۔




زوہا ہسپتال کے سٹریچر سے لپٹ کر ساکت ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھوں کے آنسو خشک ہو چکے تھے اور وجود بے حس ہو چکا تھا۔ بہن کی موت کا غم ابھی تازہ تھا کہ ماں کا سایہ بھی اٹھ گیا۔




ارسلان شاہ نے ہسپتال کے تمام مراحل، ایمبولینس اور تدفین کے تمام انتظامات خود اپنی نگرانی میں پُروقار طریقے سے طے کروائے۔ 


وہ ایک محتاط، باوقار اور سنجیدہ فاصلے پر کھڑا ہو کر زوہا کی حفاظت اور ضروریات کا خیال رکھتا رہا۔




کفن دفن کے بعد، شام کے وقت زوہا کے خستہ حال گھر کے صحن میں خاموشی کا راج تھا۔ زوہا صحن میں لکڑی کے ایک پرانے بینچ پر سر جھکائے بیٹھی تھی—پوری طرح بکھری ہوئی اور اکیلی۔




ارسلان نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا صحن میں آیا۔ اس کے ساتھ ایک ادھیڑ عمر ہمدرد خاتون اور ان کی جوان بیٹی بھی تھیں۔




"زوہا..." ارسلان کی تحکمانہ آواز میں ایک گہری ہمدردی اور نرمی تھی۔




زوہا نے بجھی ہوئی آنکھوں سے ارسلان کی طرف دیکھا۔




ارسلان نے زوہا سے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر باوقار لہجے میں کہا:




"یہ بی بی کبرا ہیں اور یہ ان کی بیٹی حمیرا... یہ ہمارے شاہ ولا کی پرانی اور قابلِ اعتماد ملازمہ ہیں۔ جب تک تم چاہو، یہ دونوں تمہارے ساتھ اسی گھر میں رہیں گی تاکہ تم اکیلی نہ رہو اور تمہاری دیکھ بھال ہو سکے۔"




زوہا نے کوئی جواب نہیں دیا، بس خاموشی سے بی بی کبرا کو دیکھا جنہوں نے شفقت سے زوہا کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔




ارسلان نے تھوڑا فاصلہ قائم رکھتے ہوئے مزید کہا:




"اور تم تنہا نہ محسوس کرو، اس لیے گھر کے باہر دو سیکورٹی گارڈز تمہاری حفاظت کے لیے موجود رہیں گے... اگر تمہیں ان کی موجودگی سے کوئی اعتراض نہ ہو اور تم اجازت دو؟"




زوہا نے پلکیں جھکا کر ہلکے سے اثبات میں سر ہلا دیا۔




ارسلان نے زوہا کے زرد اور غمزدہ چہرے کو دیکھا اور رخصت ہوتے وقت چند گہرے اور باوقار الفاظ کہے:




"صدمے انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں زوہا... لیکن زندگی کا سامنا کرنے کے لیے خود کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ اپنا خیال رکھنا۔"




ارسلان شاہ زوہا کی اجازت لے کر، اپنے مخصوص رعب اور وقار کے ساتھ وہاں سے رخصت ہو گیا۔




---


دن گزرتے گئے۔ ایک پورا ہفتہ بیت گیا۔




ان سات دنوں میں بی بی کبرا اور حمیرا نے زوہا کا بیٹیوں اور بہنوں کی طرح خیال رکھا۔ 


زوہا نے آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنا شروع کیا، اگرچہ اس کی آنکھوں میں گہرا اداس پن قائم تھا، لیکن وہ اب اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی تھی۔




اس ایک ہفتے کے دوران، ارسلان شاہ خود کبھی زوہا کے سامنے نہیں آیا۔ لیکن وہ ہر دوسرے دن اپنی سیاہ گاڑی میں گلی کے موڑ پر آتا، سیکورٹی گارڈز سے زوہا کی خیر خبر لیتا، بی بی کبرا سے اس کی صحت اور کھانے پینے کا پوچھتا، اور دور سے ہی زوہا کے گھر پر نظر ڈال کر خاموشی سے گاڑی موڑ کر چلا جاتا۔




---


شاہ انڈسٹریز کے پرائیویٹ پینٹ ہاؤس میں ارسلان شاہ اور اس کا دوست ہادی آمنے سامنے بیٹھے تھے۔




ہادی نے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے تشویشناک لہجے میں بات شروع کی:




"ارسلان! ایک ہفتہ گزر چکا ہے... مس زوہا آخر کب تک یوں اس گھر میں اکیلی رہیں گی؟ ان کا اس دنیا میں اب کوئی رشتے دار یا سہارا نہیں بچا۔ شاہد صداقت جیل میں ہے لیکن اس کے بقیہ بندے اب بھی باہر ہیں، وہ زوہا کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ تم نے آگے کے لیے کیا سوچا ہے؟"




ارسلان شاہ نے کھڑکی سے باہر شہر کے منظر کو گھورتے ہوئے سگار کا دھواں ہوا میں چھوڑا۔ اس کی سیاہ تیز آنکھوں میں ایک شدید سنجیدگی تھی۔




"میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ہادی..." ارسلان کا لہجہ حد درجہ بوجھل تھا، "وہ معصوم ہے اور میں اب اسے یوں لاوارث اور خطرے میں چھوڑنا میرے وقار اور ضمیر کے خلاف ہے۔"




"تو پھر تمہارا کیا ارادہ ہے؟" ہادی نے سوال کیا۔




ارسلان نے رخ موڑا اور ہادی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا:




"میں زوہا سے **نکاح** کی بات کروں گا۔ اگر وہ مان گئی تو اس نکاح سے اسے معاشرتی تحفظ، عزت اور مکمل سیکیورٹی مل جائے گی۔ شاہ انڈسٹریز کے مالک کی بیوی پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ ہر مسئلہ حل ہو جائے گا۔"




ہادی کے چہرے پر ایک اطمینان بخش مسکراہٹ ابھری۔ اس نے ارسلان کے شانے پر ہاتھ رکھا:




"یہ تمہارا سب سے بہترین فیصلہ ہے ارسلان! اس سے نہ صرف اس کی حفاظت یقینی ہو جائے گی بلکہ تمہارا وہ بوجھ بھی ہلکا ہو جائے گا۔"




---


اگلی شام، ارسلان شاہ زوہا کے گھر پہنچا۔




زوہا سفید سادے لباس میں، سر پر بڑا دوپٹہ اوڑھے صحن میں لکڑی کے بینچ پر بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر غم کی پرتیں تھیں لیکن ایک ہفتے بعد وہ پہلے سے کافی سنبھل چکی تھی۔




ارسلان شاہ کے پروقار قدم صحن میں آ کر رکے۔ بی بی کبرا اور حمیرا احترام سے کمرے کے اندر چلی گئیں۔




ارسلان نے زوہا سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑے ہو کر، سنجیدہ اور نپے تلے انداز میں بات کا آغاز کیا:




"زوہا... میں تم سے ایک بہت اہم بات کرنے آیا ہوں۔"




زوہا نے اپنے خاموش اور اداس چہرے سے نظریں اٹھا کر ارسلان کو دیکھا۔




ارسلان نے زوہا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا:




"تم اس دنیا میں اکیلی ہو۔ تمہاری حفاظت، سیکیورٹی اور عزت کی ذمہ داری اب میرے ذہن اور ضمیر پر ایک بوجھ ہے۔ شاہد صداقت کے لوگ اب بھی خطرہ بن سکتے ہیں...۔"


تو کیا تم مجھ سے نکاح کرو گی …….وہ خود کو نارملُ رکھتے زوہا کے دل کو دھڑکنے پر مجبور کر گیا 


زوہا کا دل ایک دم دھک سے رہ گیا۔ اس نے غیر یقینی سے ارسلان کے باروب چہرے کو دیکھا۔ اس کے لب سِل گئے، وہ کچھ نہ بول سکی۔




ارسلان نے اس کی خاموشی اور گھبراہٹ کو فوراً محسوس کر لیا۔ اس نے نرمی سے کہا:




"تم پر کوئی زبردستی نہیں ہے زوہا... تم سوچ لو۔ یہ تمہاری زندگی کا فیصلہ ہے، میں کل تمہارے جواب کا انتظار کروں گا۔"




ارسلان اتنا کہہ کر، بغیر کوئی دباؤ ڈالے  وہاں سے نکل گیا۔




رات بھر زوہا بستر پر لیٹی سوچتی رہی۔ اس کا اس دنیا میں اب کوئی اپنا نہیں تھا۔ 


لیکن اس نے سوچا کہ ارسلان شاہ نے جس وقار، احترام اور سچائی کے ساتھ اس کی اور اس کی ماں کی مدد کی تھی،




اس میں کوئی کھوٹ نہیں تھا۔ وہ اکیلی رہ کر اپنی زندگی اور عزت کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔




اگلی صبح زوہا نے بی بی کبرا سے فون لیا اور ارسلان کا نمبر ڈائل کیا۔




ارسلان نے پہلی ہی بیل پر فون اٹھایا: "جی زوہا...؟"




"س... سر!" زوہا کی آواز ہلکی سی لرز رہی تھی، "مجھے... مجھے آپ کی بات منظور ہے... میں نکاح کے لیے تیار ہوں۔"




فون کے دوسرے سرے پر ارسلان شاہ کے چہرے پر ایک گہرا اور پراسرار اطمینان پھیل گیا۔




---


دو دن بعد، زوہا کے چھوٹے سے گھر کے صحن میں ایک انتہائی سادہ، پروقار اور پاکیزہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔




کوئی شور شرابا نہیں، کوئی دکھاوا نہیں۔ صرف ایک قاضی صاحب، ہادی، فرہاد، بی بی کبرا اور ان کی بیٹی موجود تھے۔




زوہا نے ہلکے گلابی رنگ کا سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا اور سر پر بڑا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ماں اور بہن کی یاد کے آنسو تھے، لیکن دل میں ایک سکون تھا۔




ارسلان شاہ آف وائٹ سوٹ میں ملبوس، اپنے روایتی جابرانہ اور باوقار روپ میں قاضی صاحب کے سامنے بیٹھا تھا۔




"زوہا افغانی بنت افضل افغانی... کیا آپ کو ارسلان شاہ ولد سکندر شاہ کے ساتھ حقِ مہر کے عوض نکاح قبول ہے؟"




زوہا کے لب کانپے۔ اس نے اپنے بہتے آنسوؤں کو صاف کیا اور مدہم آواز میں کہا:




"قبول ہے... قبول ہے... قبول ہے..."




جب ارسلان نے کاغذی دستاویزات پر اپنے دستخط کیے اور قاضی صاحب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، تو دونوں ایک دوسرے کے شرعی محرم بن چکے تھے۔




ارسلان اپنی جگہ سے اٹھا اور زوہا کے پاس آیا۔ اس نے اس بار فاصلہ ختم کرتے ہوئے،  دھیمی آواز میں بولا:




"آج سے تم ارسلان شاہ کی بیوی ہو زوہا... اور اس نام کا تحفظ اب میری اخری سانس تک تمہارے ساتھ رہے گا۔"



زوہا نے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر اور اپنے محافظ کی آنکھوں میں دیکھا—جہاں اب خوف کا کوئی سایہ نہیں تھا، بلکہ صحرا کی ریت پر لکھی جانے والی ایک نئی، پائیدار اور گہری داستان کا آغاز تھا...


---

سیاہ شاہانہ گاڑی جیسے ہی شاہ ولا کے وسیع و عریض، پرشکوہ پورچ میں آ کر رکی، رات کی خاموشی میں ایک عجیب سا سحر گھل گیا۔




فرہاد نے تیزی سے آگے بڑھ کر پیچھے کا دروازہ کھولا۔ ارسلان شاہ اپنی مخصوص باوقار اور تحکمانہ وجاہت کے ساتھ باہر نکلا۔ اس نے مڑ کر دیکھا، زوہا ابھی تک اندر ہی بیٹھی اپنے گلابی دوپٹے کے کنارے کو انگلیوں میں بھیچے ہوئے تھی۔ اس کا پورا وجود خوف، جھجھک اور انجانے احساسات کی کشمکش کا شکار تھا۔




ماں اور بہن کو کھونے کا دکھ ابھی تازہ تھا، اور اتنی جلدی ایک دم سے شاہ انڈسٹریز کے سب سے بااثر مالک کی بیوی بن کر اس کے محل جیسے گھر میں قدم رکھنا... زوہا کے لیے یہ سب کسی خواب کی طرح غیر حقیقی تھا۔




ارسلان نے کوئی جلدی نہیں مچائی۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور گاڑی کے کھلے دروازے پر جھک کر زوہا کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔




"زوہا..." ارسلان کا لہجہ معمول سے کہیں زیادہ دھیما اور گہرا تھا، "باہر آؤ۔"




زوہا نے کپکپاتی نظروں سے ارسلان کی سیاہ، تیز آنکھوں میں دیکھا۔ وہاں جلال تو تھا، لیکن ایک غیر محسوس نرمی بھی تھی۔ زوہا نے ہچکچاتے ہوئے اپنی چھوٹی سی، برف جیسی ٹھنڈی ہتھیلی ارسلان کے گرم اور مضبوط ہاتھ میں رکھ دی۔




ارسلان کی انگلیاں زوہا کی بکھرتی ہوئی ہمت کو تھامنے کے لیے کافی تھیں۔ اس نے زوہا کو باہر نکالا، لیکن جیسے ہی زوہا کا پاؤں فرش پر پڑا، لنگڑاہٹ اور تھکن کی وجہ سے اس کا توازن ہلکا سا بگاڑا۔




ارسلان نے ایک ہی لمحے میں اس کی کمر کے گرد اپنا مضبوط بازو پھیلا کر اسے گرنے سے بچا لیا۔ زوہا کا سارا وجود ایک لمحے کے لیے ارسلان کے کشادہ سینے سے جا ٹکرایا۔




زوہا کی سانسیں اٹک گئیں۔ ارسلان کے پرفیوم کی سحر انگیز خوشبو اور اس کے وجود کا لمس زوہا کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر گیا۔ اس نے فوراً ارسلان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلنے کی ناکام کوشش کی۔




"س... سر ! میں... میں ٹھیک ہوں..." زوہا نے گھبرا کر نظریں جھکاتے ہوئے اپنے ہاتھ پیچھے کیے۔




ارسلان کے لبوں کے کنارے پر ایک ہلکی، دلکش مسکراہٹ ابھری جو اگلے ہی سیکنڈ غائب ہو گئی۔ اس نے فوراً اپنا بازو پیچھے ہٹایا اور ایک پُروقار فاصلہ قائم کر لیا۔




"میں نے کہا تھا نہ کہ اب 'سر' کہنا چھوڑ دو،" ارسلان نے زوہا کو راستہ دیتے ہوئے نپے تلے انداز میں کہا، "اندر چلو۔"




---


شاہ ولا کے ماسٹر بیڈ روم کا ماحول حد درجہ شاندار تھا۔ کمرے میں جلتی دھیمی زرد روشنائیاں، شاہانہ فرنیچر اور کشادہ شیشے کی کھڑکی سے نظر آتا رات کا منظر بے حد دلکش تھا۔




بی بی کبرا نے زوہا کا چھوٹا سا سائیڈ بیگ ایک طرف رکھا اور شفقت سے مسکرا کر بولیں:


"بی بی جی! آپ ہاتھ منہ دھو لیں، میں آپ کے لیے گرم دودھ اور کھانا بھیجتی ہوں۔"




زوہا نے نفی میں سر ہلایا: "نہیں۔۔۔ بی بی! مجھے بھوک نہیں ہے۔"




"ارسلان صاحب کا حکم ہے بی بی جی، کھانا تو آپ کو کھانا ہی پڑے گا،" بی بی کبرا نے پیار سے زوہا کے سر پر ہاتھ پھیرا اور باہر نکل گئیں۔




زوہا وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی


۔ کچھ دیر بعد واش روم کا دروازہ کھلا اور ارسلان شاہ باہر نکلا۔ اس نے سوٹ اتار کر کیژول سیاہ شرٹ اور پتلون پہن رکھی تھی، 


جس کی آستینیں کوہنیوں تک مڑی ہوئی تھیں۔ اس کے بال ہلکے سے بھیگے ہوئے تھے اور چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا۔




زوہا کو بستر سے دور، کمرے کے کونے میں ساکت کھڑے دیکھ کر ارسلان کے قدم اس کی طرف بڑھنے لگے۔




زوہا نے جیسے ہی ارسلان کو اپنی طرف آتے دیکھا، وہ اضطراری طور پر ایک قدم پیچھے ہوئی۔ ارسلان کا ایک قد اور اس کا رعب و دبدبہ زوہا کے لیے اب بھی تھوڑا خوفناک تھا۔




ارسلان زوہا سے چند انچ کے فاصلے پر آ کر رکا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی پتلون کی جیبوں میں ڈالے۔




"تم وہاں کونے میں کیوں کھڑی ہو زوہا؟ کیا میں کوئی بلا ہوں جو تم مجھے دیکھ کر یوں دیوار سے جا لگتی ہو؟" ارسلان نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ کہا، لیکن اس کی آنکھوں میں شرارت تھی۔




"ن... نہیں..." زوہا نے اپنے دوپٹے کے کونے کو مروڑتے ہوئے کہا، "وہ... مجھے بس عادت نہیں ہے اس طرح..."




"کس چیز کی عادت نہیں ہے؟ اپنے شوہر کے ساتھ ایک کمرے میں رہنے کی؟" ارسلان نے ہلکا سا جھک کر زوہا کے چہرے پر اپنی سیاہ آنکھیں جمائیں۔




زوہا کا چہرہ شرم اور گھبراہٹ سے لال ہو گیا۔ اس نے جلدی سے نظریں جھکا لیں۔




"میں... میں صوفے پر سو جاؤں گی..." زوہا نے جلدی سے کاؤچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔




ارسلان نے ایک لمبا سانس لیا اور زوہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیدھا بستر کی طرف لے آیا۔ زوہا نے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی لیکن ارسلان کی گرفت مضبوط اور نرم تھی۔ اس نے زوہا کو بستر کے کنارے پر بٹھایا۔




"تم اس بستر پر سوؤ گی،" ارسلان نے تحکمانہ لیکن نرم لہجے میں کہا، "اور صوفے پر میں سوؤں گا۔ 


لیکن..." ارسلان نے زوہا کے بالکل قریب جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، "...اگر تم نے کھانا نہ کھایا، تو میں تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے کھلانے پر مجبور ہو جاؤں گا۔ اب فیصلہ تمہارا ہے۔"




زوہا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ارسلان شاہ کا یہ روپ اس کے لیے بالکل نیا تھا۔ وہ شخص جو آفس میں ایک جابر باس تھا، یہاں اس کے سامنے ایک الگ ہی انداز دکھا رہا تھا۔




"میں... میں کھانا کھا لوں گی،" زوہا نے جلدی سے کہا۔




ارسلان نے اطمینان سے سر ہلایا اور مڑ کر کاؤچ کی طرف بڑھ گیا۔ وہ کاؤچ پر بیٹھ کر اپنا لیپ ٹاپ کھولنے لگا، لیکن اس کی نظریں بار بار زوہا کے معصوم اور کشمکش میں گھِرے چہرے پر ٹک جاتی تھیں۔ زوہا بستر پر بیٹھ کر خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی—دل میں دکھ بھی تھا اور ارسلان کے اس نئے انداز کی ایک عجیب سی گرمجوشی بھی۔




---




اگلی صبح، شاہ ولا کے خوبصورت اور کشادہ ڈائننگ ہال میں صبح کی دھوپ بکھری ہوئی تھی۔




ارسلان سفید کڑک شرٹ میں ملبوس، ڈائننگ ٹیبل کے سرے پر بیٹھا بلیک کافی کا مگ تھامے آئی پیڈ پر شاہ انڈسٹریز کی نیوز دیکھ رہا تھا کہ اسی وقت **ہادی** کسی طوفان کی طرح ہال میں داخل ہوا۔




ہادی کے چہرے پر ایک شیطانی اور شریر مسکراہٹ تھی۔ وہ سیدھا آ کر ارسلان کے بالکل ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔




"السلام علیکم! شاہ انڈسٹریز کے ڈائریکٹر اور نو بستہ شادی شدہ جناب ارسلان شاہ صاحب!" ہادی نے اونچی آواز میں ڈرامائی انداز میں کہا۔




ارسلان نے آئی پیڈ سے نظریں ہٹائے بغیر کافی کا ایک گھونٹ لیا: "ہادی! صبح صبح اپنا یہ ڈرامہ بند کرو اور کام کی بات کرو۔"




"ارے ارے! اتنی سُستی اور اتنا غصہ؟" ہادی نے ارسلان کی کافی کے مگ کو تھوڑا سا دور کھسکاتے ہوئے زبردستی اس کے سامنے ناشتے کی پلیٹ رکھی، 


"بھائی! اب تم کنوارے نہیں رہے جو صرف بلیک کافی پر زہر مارو گے۔ اب تمہاری بیوی اس گھر میں ہے! تمہیں تو چہرے پر مسکراہٹ رکھنی چاہیے!"




ارسلان نے بالآخر آئی پیڈ سائیڈ پر رکھا اور ہادی کو ایک گھورتی ہوئی، ٹھنڈی نظر سے دیکھا: "ہادی... اگر تم نے زوہا کے سامنے کوئی فضول بات کی، تو میں تمہیں ابھی اسی وقت ولا سے باہر پھینکوا دوں گا۔"




"اچھا؟ ذرا دیکھوں تو صحیح کہ تم اپنی بیوی کے سامنے کتنے 'شیر' بنتے ہو!" ہادی نے قہقہہ لگایا۔




اسی لمحے زوہا ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی۔ اس نے ہلکے چمکیلے نیلے رنگ کا سادہ سا سوٹ پہن رکھا تھا، سر پر بڑا دوپٹہ تھا اور اس کی آنکھوں میں ابھی بھی کل رات کی جھجھک تھی۔




زوہا کو دیکھ کر ارسلان فائدے دیکھ گیا جبکہ اس کے چہرے کی روایتی سختی ایک دم غائب ہو گئی اور ایک پُروقار سنجیدگی آ گئی۔




ہادی نے یہ تبدیلی دیکھی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس نے اپنا منہ ہاتھ سے ڈھانپ لیا تاکہ اس کی ہنسی نہ نکلے۔




"السلام علیکم بھابھی!" ہادی نے فوراً کھڑے ہو کر باادب انداز میں کہا۔




زوہا نے ذرا سا مسکرا کر سر ہلا دیا: "وعلیکم السلام..."




"بیٹھو زوہا،" ارسلان نے زوہا کے لیے کرسی پیچھے کھینچی۔




زوہا خاموشی سے بیٹھ گئی۔ ارسلان بھی اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔




ہادی نے جھک کر ارسلان کے کان میں سرگوشی کی، اتنی دھیمی کہ صرف ارسلان سن سکے: "واہ ارسلان شاہ! کیا بات ہے... جو بندہ پورے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو انگلیوں پر نچاتا ہے، وہ اپنی بیوی کے لیے خود کرسی پیچھے کر رہا ہے؟ محبت کا رنگ تو بہت گہرا چڑھ رہا ہے یار!"




ارسلان نے میز کے نیچے سے ہادی کی ٹانگ پر زور سے اپنا جوتا مارا۔




"آہ!" ہادی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی لیکن اس نے زوہا کو دیکھ کر فوراً سنبھال لیا اور مصنوعی مسکراہٹ سجائی، "کچھ نہیں بھابھی... بس ٹانگ میں ذرا سا موچ آ گئی تھی!"




زوہا نے تعجب سے دونوں کو دیکھا۔ ارسلان نے بالکل نارمل چہرہ بناتے ہوئے جوسی کا گلاس زوہا کی طرف بڑھایا: "ناشتہ کرو زوہا، آج ہمیں ایک ضروری کام سے جانا بھی ہے۔"




ہادی نے ارسلان کو آنکھ ماری اور چپ چاپ اپنا ناشتہ کرنے لگا، جبکہ ارسلان اندر ہی اندر ہادی کو قتل کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا۔




---




شہر کی مرکزی جیل کا سیکیورٹی وارڈ۔




شاہد صداقت سلاخوں کے پیچھے ایک پرانی لکڑی کی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا، لیکن اس کے چہرے کی خباثت اور انتقام کی آگ کم نہیں ہوئی تھی۔




جیل کے ایک بدعنوان اہلکار کی مدد سے اس کا خاص وکیل اس کے سامنے کھڑا تھا۔




"سر! صورتحال ہمارے ہاتھ سے نکل رہی ہے،" وکیل نے گھبرائی ہوئی آواز میں بتایا، "ارسلان شاہ نے زوہا افغانی سے باقاعدہ نکاح کر لیا ہے اور اسے شاہ ولا لے گیا ہے۔ اب فرہاد کی پرائیویٹ سیکورٹی فورس زوہا کے ارد گرد چوبیس گھنڈے موجود ہے۔ ہم زوہا کو اب بلیک میل نہیں کر سکتے۔"




شاہد صداقت نے اپنی مٹھیاں بھیچیں اور زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ ہنس پڑا۔




"ارسلان شاہ کو لگتا ہے کہ اس نے زوہا سے نکاح کر کے اسے محفوظ کر لیا ہے..." شاہد صداقت کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا، "لیکن وہ یہ بھول رہا ہے کہ شاہ انڈسٹریز کے پرانے صحرائی پروجیکٹ کے اصلی کاغذات اور بلیک میلنگ کوڈز کہاں دفن ہیں!"




وکیل نے حیرت سے پوچھا: "آپ کا کیا مطلب ہے سر؟"




"صحرا کی وہ پرانی حویلی... جہاں ہانیہ افغانی کی لاش اور اس کے اخری سچ کے نشانات ہیں..." شاہد صداقت نے شاطرانہ انداز میں کہا، "ارسلان شاہ اس پروجیکٹ کی این او سی کلئیر کروانے کے لیے وہاں کی زمین اور اس خشک کنویں کی تفتیش کے لیے خود ضرور جائے گا۔"




"تو پھر ہمارا اگلا قدم کیا ہوگا؟"




"ہمارے جتنے بھی شوٹرز اور باقی ماندہ بندے باہر موجود ہیں، ان سب کو اس صحرائی حویلی کے گرد اکٹھا کرو،" شاہد نے سلاخوں پر ہاتھ مارتے ہوئے حکم دیا، "ارسلان شاہ جیسے ہی اس حویلی میں قدم رکھے گا... وہ وہاں سے زندہ واپس نہیں آنا چاہیے! اس بار کھیل صرف زوہا کا نہیں، بلکہ شاہ انڈسٹریز کا وجود مٹانے کا ہے!"




---




شام کے وقت شاہ ولا کے پورچ میں تین سیاہ گاڑیاں تیار کھڑی تھیں۔ فرہاد اپنے مسلح بندوں کے ساتھ ہتھیار چیک کر رہا تھا اور پورچ میں ایک عجیب سی تناؤ کا ماحول تھا۔




ارسلان شاہ بلیک سوٹ میں ملبوس، ہاتھ میں کچھ امپورٹڈ فائلیں تھامے باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر وہی روایتی، جابرانہ اور حد درجہ سخت تاثر تھا جو خطروں کا سامنا کرتے وقت اس کی پہچان بن جاتا تھا۔




زوہا بی بی کبرا کے ساتھ پورچ میں کھڑی ارسلان کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا ناخوشگوار احساس، خوف اور بے چینی اٹھ رہی تھی۔




ارسلان کے نپے تلے قدم زوہا کی طرف بڑھے۔




"میں چند دنوں کے لیے شہر سے باہر جا رہا ہوں زوہا..." ارسلان نے زوہا سے دو قدم کے فاصلے پر رک کر باوقار لیکن سرد لہجے میں کہا، "شاہ ولا میں بی بی کبرا، حمیرا اور فرہاد کے دو خاص گارڈز موجود ہیں۔ تم گھر سے باہر قدم نہیں رکھو گی۔"




زوہا نے ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا: "آپ... آپ کہاں جا رہے ہیں؟"




ارسلان کی آنکھوں میں ایک لمحیاتی سختی آئی: "صحرا... اسی حویلی کی طرف جہاں تمہاری بہن کا سچ دفن ہے، اور جہاں پروجیکٹ کا کام رکا ہوا ہے۔"




'صحرا' کا نام سنتے ہی زوہا کا دل زور سے دھڑکا۔ اس کے ذہن میں اپنی بہن ہانیہ اور ماں کا چہرہ گھوم گیا، اور اس کے ساتھ ہی ارسلان کی حفاظت کا ایک ان جانا خوف اس کے وجود میں دوڑ گیا۔




"مجھے... مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے!" زوہا کے لبوں سے التجا بھری آواز میں نکلا۔




ارسلان نے فوراً ابرو تانی اور اس کا چہرہ بے حد سخت ہو گیا۔




"ہرگز نہیں!" ارسلان نے انتہائی سختی اور تحکمانہ انداز میں اس کی بات کاٹ دی، "تم کہیں نہیں جا رہی ہو زوہا!"




"ارسلان! خدا کے لیے میری بات سنیں..." زوہا نے ایک قدم آگے بڑھا کر منت بھرے انداز میں کہا، اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے، "وہاں میری بہن کا اخری نشان ہے... اور مجھے آپ کی بھی فکر ہو رہی ہے۔ مجھے اکیلا مت چھوڑیں!"




ارسلان کے چہرے پر ذرا سی بھی نرمی نہ آئی۔ اس نے آگے بڑھ کر زوہا کے دونوں شانوں کو تھاما اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انتہائی جابرانہ اور روبدار آواز میں کہا:




"ایک بار جو بات میں کہہ دوں، اس کے بعد کوئی بحث نہیں ہوتی زوہا! وہاں خطرہ ہے اور تم ابھی اس حالت میں نہیں ہو کہ اس طوفان کا سامنا کر سکو۔ تم اسی ولا میں رہو گی، اور یہی میرا اخری فیصلہ ہے!"




ارسلان نے بغیر کسی رعایت کے زوہا کے شانوں سے ہاتھ ہٹائے، مڑ کر تیز قدموں سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا۔




"فرہاد! گاڑی نکالو،" ارسلان نے سرد آواز میں حکم دیا۔




زوہا پورچ میں کھڑی، آنکھوں میں بہتے آنسوؤں کے ساتھ ارسلان کی گاڑی کو طوفانی رفتار سے شاہ ولا کے گیٹ سے باہر جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئی۔ اس کا دل کہہ رہا تھا کہ صحرا کی اس حویلی میں ارسلان کے لیے کوئی بہت بڑا خطرہ منڈلا رہا ہے...


---

رات کے بارہ بج چکے تھے۔ شاہ ولا میں ایک سنسنان خاموشی کا راج تھا۔




ماسٹر بیڈ روم کی کشادہ کھڑکی کے پاس کھڑی زوہا کی نظریں مسلسل سیاہ آسمان اور صحرا کی طرف جانے والے راستے پر جمیں تھیں۔ 


ارسلان کو گئے ہوئے چند گھنٹے بیت چکے تھے، لیکن زوہا کے دل کو ایک لمحے کے لیے بھی قرار نہیں مل رہا تھا۔




اس کا دل بار بار کسی ان جانے خوف سے دہل رہا تھا۔ *صحرا... وہ پرانی حویلی... اور ارسلان شاہ کی وہ سخت، تحکمانہ آواز...*




زوہا نے اپنے ہاتھوں کو بھیچ کر خود سے کہا: "وہ اتنے سنگدل کیوں ہیں؟ مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گئے؟ اگر انہیں وہاں کچھ ہو گیا تو...؟"




یہ خیال آتے ہی زوہا کی سانس اٹک گئی۔ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا 


کہ کب شاہ انڈسٹریز کا وہ جابر اور مغرور مالک، جس سے وہ ڈرتی تھی، اس کی فکر اور اس کے دل کی دھڑکن بن چکا تھا۔




اسی وقت بی بی کبرا گرم دودھ کا مگ لے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے زوہا کو کھڑکی کے پاس اداس اور پریشان کھڑے دیکھا۔




"بی بی جی! آپ ابھی تک سوئی نہیں؟" بی بی کبرا نے شفقت سے کہا، "رات بہت ہو گئی ہے، دودھ پی کر آرام کریں۔"




"بی بی..." زوہا نے مڑ کر گھبرائی ہوئی آواز میں پوچھا، "ارسلان صاحب کا کوئی فون آیا؟ کیا وہ صحرا پہنچ گئے ہیں؟"




بی بی کبرا کے چہرے پر ایک اداس مسکراہٹ ابھری: "نہیں بی بی جی، صاحب جب صحرا کی کسی تفتیش یا پروجیکٹ پر جاتے ہیں تو وہاں اکثر نیٹ ورک کا مسئلہ ہوتا ہے۔ 




لیکن آپ فکر نہ کریں، فرہاد صاحب اور ان کی پوری مسلح فورس صاحب کے ساتھ ہے۔ وہ اپنے فیصلے بہت سوچ سمجھ کر لیتے ہیں۔"




زوہا نے اثبات میں سر تو ہلا دیا، لیکن اس کی بے چینی کم نہ ہوئی۔ اس نے دودھ کا مگ میز پر رکھا اور فون اٹھا کر ارسلان کا نمبر ڈائل کیا۔




جیسا کہ بی بی کبرا نے کہا تھا—*"مطلوبہ نمبر سے رابطہ ممکن نہیں ہے۔"*




زوہا نے اپنے لب کاٹ لیے۔ اس کی چھٹی حس چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ صحرا میں کچھ بہت غلط ہونے والا ہے۔




---




صحرا کا ماحول انتہائی خوفناک تھا۔ تیز طوفانی ہوائیں ریت کو ہوا میں اڑا رہی تھیں اور چاند کی دھیمی روشنی میں پرانی، متروک حویلی کا ڈھانچہ کسی بھوت بنگلے جیسا دکھائی دے رہا تھا۔




شاہ انڈسٹریز کی تینوں سیاہ گاڑیاں حویلی کے پرشکوہ لیکن ٹوٹے ہوئے مرکزی دروازے کے سامنے آ کر رکیں۔




ارسلان شاہ گاڑی سے باہر نکلا۔ سیاہ سوٹ، آستینیں کوہنیوں تک چڑھی ہوئی، اور ہاتھوں میں دستانے۔ 




اس کی آنکھوں میں حد درجہ سنجیدگی اور غضبناک چمک تھی۔ اس کے پیچھے فرہاد اور دس مسلح گارڈز اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے تھے۔




"فرہاد!" ارسلان کی دھیمی اور دھار دار آواز گونجی، "پورے علاقے کی سویپنگ کرو۔ شاہد صداقت کے بندے اس پرانے کنویں کے گرد ضرور موجود ہوں گے۔"




"جی سر!" فرہاد نے اپنے گارڈز کو اشارہ کیا اور وہ خاموشی سے حویلی کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔




ارسلان نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا حویلی کے عقب میں واقع اس پرانے، خشک کنویں کی طرف بڑھا جہاں ہانیہ افغانی کا سچ دفن تھا۔ جیسے جیسے وہ قریب بڑھ رہا تھا، اس کے ذہن میں زوہا کا روتا ہوا چہرہ گھوم رہا تھا۔




لیکن جیسے ہی ارسلان کنویں کے بالکل قریب پہنچا، حویلی کی چھتوں اور پرانے ستونوں کے پیچھے سے اچانک جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی زبردست آوازیں گونج اٹھیں!




*ٹھائیں! ٹھائیں! ٹھائیں!*




"سر! نیچی پوزیشن لیں!" فرہاد چیخا اور فوراً ارسلان کے آگے کور لے کر آ گیا۔




شاہد صداقت کے چھپے ہوئے شوٹرز نے چاروں طرف سے گارڈز پر حملہ کر دیا تھا! ریت کے طوفان اور گولیوں کے شور میں پورا علاقہ چیخ و پکار سے گونج اٹھا۔




ارسلان کے لبوں پر ایک خونخوار، سرد مسکراہٹ ابھری۔ اس نے اپنے کوٹ کی اندرونی جیب سے اپنا پسٹل نکالا اور بغیر کسی خوف کے کور کے پیچھے سے نکل کر شوٹرز پر جوابی فائرنگ شروع کر دی۔




"شاہد صداقت کے اخری کتے بھی آج اسی صحرا میں دفن ہوں گے!" ارسلان کا جابرانہ قہقہہ فضا میں گونجا۔




---




صبح کے چھ بج رہے تھے۔




زوہا رات بھر جاگتی رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر زردی چھائی ہوئی تھی۔ 




وہ صحن میں بے مقصد ٹہل رہی تھی کہ اچانک شاہ ولا کا مرکزی گیٹ تیزی سے کھلا اور **ہادی** کی گاڑی ہنگامی انداز میں پورچ میں آ کر رکی۔




ہادی گاڑی سے اترا۔ اس کا چہرہ زرد تھا اور اس کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔




زوہا کے قدم خود بخود ہادی کی طرف اٹھے۔




"ہادی صاحب!" زوہا نے کانپتی آواز میں پوچھا، "کیا ہوا؟ ارسلان کیسے ہیں؟ ان سے بات ہوئی آپ کی؟"




ہادی نے زوہا کو دیکھا اور ایک لمحے کے لیے ہچکچایا۔ اس کی آنکھوں میں شدید تشویش تھی۔




"بھابھی ۔۔۔۔ ہادی کی آواز بوجھل تھی، "ہماری سیکورٹی ٹیم کو صحرا سے ایک ایمرجنسی سگنل ملا ہے۔ شاہد صداقت کے بندوں نے حویلی پر گھات لگا کر حملہ کیا ہے۔




 فائرنگ بہت شدید ہوئی ہے اور پچھلے ایک گھنٹے سے فرہاد اور ارسلان سے ہمارا رابطہ مکمل طور پر کٹ چکا ہے!"




یہ سنتے ہی زوہا کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔




"رابطہ... کٹ گیا؟" زوہا نے اپنا سر تھام لیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ارسلان کے وہ اخری الفاظ اس کے کانوں میں گونجے—*"وہاں خطرہ ہے... تم اسی ولا میں رہو گی!"*




"میں اضافی فورس لے کر ابھی صحرا نکل رہا ہوں،" ہادی نے جلدی سے کہا۔




"میں بھی آپ کے ساتھ چل رہی ہوں!" زوہا نے فوراً، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کہا۔




"نہیں بھابھی! ارسلان کا سخت حکم تھا کہ آپ کو..."




"ارسلان کا حکم اپنی جگہ!" زوہا کی آواز میں اچانک ایک بلا کا استحکام اور ضد آ گئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، "




اگر ارسلان کو کچھ ہو گیا تو میں اس ولا کا کیا کروں گی؟ مجھے ابھی، اسی وقت وہاں جانا ہے! آپ مجھے روک نہیں سکتے!"




ہادی نے زوہا کے چہرے پر ارسلان کے لیے وہ تڑپ اور جنون دیکھا تو نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔ وہ جان گیا تھا کہ اب زوہا کو کوئی نہیں روک سکتا۔




"ٹھیک ہے... گاڑی میں بیٹھیں!" ہادی نے کہا۔




---




دو گھنٹے بعد، ہادی اور زوہا کی گاڑی صحرائی حویلی کی حدود میں داخل ہوئی۔




فضائے پر بارود اور ریت کی بدبو چھائی ہوئی تھی۔ حویلی کے صحن میں جگہ جگہ گولیوں کے خول بکھرے ہوئے تھے 




اور شاہد صداقت کے کئی شوٹرز زخمی يا بے ہوش پڑے تھے۔ شاہ انڈسٹریز کی سیکیورٹی ٹیم نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔




گاڑی کے رکتے ہی زوہا نے نہ اپنا زخم دیکھا نہ لنگڑاہٹ، وہ فوراً باہر بھاگی۔




"ارسلان! ارسلان!" زوہا کی چیخیں صحرا کے سناٹے کو چیر رہی تھیں۔




حویلی کے عقبی حصّے میں پرانے کنویں کے پاس، ارسلان شاہ ایک پرانے ستون سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ اس کا سیاہ کوٹ اتر چکا تھا، سفید شرٹ پر ریت اور گرد کی تہیں تھیں، اور اس کے دائیں بازو پر خون کا ایک گہرا دھبہ چمک رہا تھا—ایک گولی اس کے بازو کو چھو کر گزری تھی۔




فرہاد باقی شوٹرز کو جکڑ رہا تھا، جبکہ ارسلان کے ہاتھ میں ایک زنگ آلود دھاتی بکسہ (Metal Box) تھا جو اس نے خشک کنویں کے اندر کی پوشیدہ جگہ سے نکلوایا تھا۔




"ارسلان!"




زوہا کی روتی ہوئی آواز سن کر ارسلان نے ایک دم سر اٹھایا۔ اس کی سیاہ آنکھیں حیرت اور غضب سے پھیل گئیں۔




زوہا کو صحرا میں، اپنے سامنے کھڑا دیکھ کر ارسلان کے چہرے کے تاثرات انتہائی سخت ہو گئے۔ وہ زوہا کی طرف بڑھا، لیکن زوہا نے اس کے زخم اور خون کو دیکھا تو وہ اپنے تمام ہوش و حواس بھول کر سیدھا ارسلان کے سینے سے جا لگی!




ارسلان زوہا کے اس اچانک اور شدید لمس سے ساکت رہ گیا۔




زوہا نے ارسلان کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں کس کے بھیچ لیا اور اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا کر زار و قطار رو پڑی۔




"آپ کو گولی لگی ہے... آپ کو کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتی؟ آپ مجھے یوں چھوڑ کر کیوں آئے تھے؟" زوہا کی سسکیاں صحرا کی ہوا میں گھل رہی تھیں۔




ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں پھیلی سختی آہستہ آہستہ پگھل کر گہری نرمی میں بدل گئی۔ اس نے اپنا بائیں ہاتھ زوہا کے سر پر رکھا اور اس کے وجود کو اپنے سینے سے بھیچ لیا—ایک ایسا لمس جس میں تمام فاصلے، تمام کشمکش اور تمام دکھ ایک لمحے میں ختم ہو گئے۔




"میں ٹھیک ہوں زوہا..." ارسلان کی دھیمی اور تحکمانہ آواز میں ایک ان جانا پیار تھا، "ارسلان شاہ اتنی آسانی سے نہیں مرتا۔"




ہادی اور فرہاد نے مسکرا کر اپنی نظریں دوسری طرف پھیر لیں۔




ارسلان نے زوہا کو خود سے تھوڑا الگ کیا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔ اس نے زوہا کے آنسو اپنی انگلیوں سے صاف کیے اور پھر اپنے ہاتھ میں موجود زنگ آلود بکسہ زوہا کے سامنے کر دیا۔




"یہ کیا ہے؟" زوہا نے ہچکی لیتے ہوئے پوچھا۔




"یہ تمہاری بہن... ہانیہ افغانی کی ڈائری اور وہ کوڈڈ ہارڈ ڈرائیو ہے..." ارسلان نے گہرے اور پروقار لہجے میں انکشاف کیا، "جسے اس نے مرنے سے پہلے اس کنویں کے گپت لاکر میں چھپا دیا تھا۔ شاہد صداقت اسے ڈھونڈنا چاہتا تھا... لیکن سچائی اب تمہارے ہاتھوں میں ہے۔"




زوہا نے کانپتے ہاتھوں سے وہ بکسہ تھاما۔ اس کی بہن کا اخری نشان، اس کی پاکیزگی کا ثبوت اب اس کے پاس تھا۔




ارسلان نے زوہا کا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے گاڑی کی طرف لے جاتے ہوئے باوقار انداز میں بولا:




"ہانیہ کا سچ اب دنیا کے سامنے آئے گا زوہا... اور شاہد صداقت کو اس کی اخری سزا میں خود دلاؤں گا۔ لیکن اب... تمہیں میرے ساتھ شاہ ولا واپس چلنا ہوگا، اور اس بار میری اجازت کے بغیر رونے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔"




زوہا نے اپنے بہتے آنسوؤں کے درمیان ارسلان کے باوقار چہرے کو دیکھا اور پہلی بار اس کے شوہر، اس کے محافظ کے لیے اس کے دل میں محبت کا ایک گہرا سمندر موجزن ہو گیا...



---

ہسپتال کے پرائیویٹ روم کی فضا میں اینٹی سیپٹک کی شدید بو پھیلی ہوئی تھی۔




ارسلان شاہ بیڈ پر سیمی سٹنگ پوزیشن میں بیٹھا تھا، اس کے دائیں بازو پر سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں جن پر پٹی کے درمیانی حصے میں ہلکا سا سرخ نشان نظر آ رہا تھا۔




گولی اس کے بازو کے گوشت کو چھو کر گزری تھی، زخم گہرا ضرور تھا لیکن شکر تھا کہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تھا۔




کمرے میں زوہا ایک کونے میں سکت کی حالت میں کھڑی تھی، اس کی نظریں ارسلان کے پٹی بندھے بازو پر جمیں تھیں۔ اس کا دل اب بھی اسی خوفناک منظر کو یاد کر کے تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ 




اس کی آنکھیں مسلسل نم تھیں اور سرخ چہرہ اس کی رات بھر کی بے خوابی اور صدمے کی گواہی دے رہا تھا۔




ڈاکٹر نے ڈریسنگ مکمل کرنے کے بعد کہا، "مسٹر ارسلان! خوش قسمتی سے گولی صرف چھو کر گزری ہے، مسل ڈیمیج نہیں ہوا۔ 




لیکن آپ کو کچھ دن بازو پر زیادہ زور دینے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ ادویات لکھ دی ہیں، آپ شام تک گھر جا سکتے ہیں۔"




"تھینکس ڈاکٹر،" ارسلان نے اپنی روایتی، سرد اور تحکمانہ آواز میں کہا۔ ڈاکٹر کے کمرے سے باہر نکلتے ہی اس کی سیاہ، گہری نظریں زوہا پر جا ٹھہریں۔




زوہا اب بھی وہیں کھڑی کپکپا رہی تھی۔




"زوہا..." ارسلان نے رعب دار آواز میں اسے پکارا۔




زوہا نے چونک کر اسے دیکھا اور آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی بیڈ کے قریب آئی۔ اس کی آنکھوں سے ایک اور آنسو ٹوٹ کر اس کے گلابی گال پر ہولے سے ڈھل گیا۔




"تم اب کیوں رو رہی ہو؟" ارسلان نے اپنے بائیں ہاتھ سے زوہا کی نازک کلائی پکڑی 




اور اسے اپنے قریب بیڈ پر بٹھا دیا۔ اس کی گرفت میں ایک تحفظ اور ملکیت کا احساس تھا۔




"آپ... آپ کو اندازہ بھی ہے کہ اگر وہ گولی تھوڑی سی دائیں طرف لگتی تو...؟" 




زوہا کی آواز رندھ گئی، اس نے اپنے ہاتھ سے چہرہ ڈھانپ لیا، "مجھے اتنا ڈرا کیوں دیتے ہیں آپ؟"




ارسلان نے اس کے ہاتھوں کو چہرے سے ہٹایا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔




"ارسلان شاہ کو مارنا اتنا آسان نہیں ہے زوہا شاہ،" اس نے جابرانہ انداز میں کہا لیکن اس کی آنکھوں میں زوہا کے لیے ایک الگ ہی چمک تھی




، "اور جب تک تم میرے لیے اس طرح روتی رہو گی، تب تک تو میں بالکل نہیں مرنے والا۔"




زوہا نے اپنے لب بھیچے اور اسے گھور کر دیکھا: "آپ اس وقت بھی اپنے غرور میں ہیں؟ میں وہاں صحرا میں کس حال میں پہنچی تھی، آپ کو ذرا احساس ہے؟"




اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا اور ہادی تیزی سے داخل ہوا۔




"ارسلان! بھائی، اب کیسی ہے طبعیت؟" ہادی نے تشویش سے پوچھا، لیکن ارسلان اور زوہا کی قربت دیکھ کر وہ فوراً مسکرا دیا اور موڈ کو ہلکا کرنے کے لیے بولا




، "اوہو... لگتا ہے میں نے غلط وقت پر اینٹری مار دی۔ معذرت بھابھی!"




زوہا کا چہرہ جھجھک سے سرخ ہو گیا اور وہ فوراً ارسلان کے قریب سے ہٹ کر کھڑی ہو گئی۔




ارسلان نے ہادی کو ایک گھورتی ہوئی نظر سے دیکھا: "ہادی! تمہاری بغیر نوک کیے اندر آنے کی عادت شاید کبھی نہیں بدلے گی۔"




ہادی نے ہنستے ہوئے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا: "معافی سر! لیکن صحرا کے واقعے کے بعد پولیس رپورٹ درج ہو چکی ہے۔ جو ثبوت حویلی سے ملے تھے، وہ ہمارے سیف لاکر میں محفوظ ہیں۔"




---




سٹی سینٹرل جیل کا پرائیویٹ ملاقاتی سیل تاریک اور بوجھل تھا۔




شاہد صداقت سلاخوں کے پیچھے ایک پرانی لوہے کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ غصے اور انتقام کی آگ سے سرخ ہو رہا تھا۔ اگرچہ وہ جیل میں بند تھا، ل




یکن اپنے اثر و رسوخ اور پیسے کے بل بوتے پر اس کے پیغامات باہر تک جا رہے تھے۔




اس کا وکیل، راشد، سلاخوں کے دوسری طرف کھڑا سر جھکائے ہوئے تھا۔




"تم کہہ رہے ہو کہ ارسلان شاہ صرف زخمی ہوا ہے؟" شاہد صداقت کی آواز میں ایک وحشیانہ غرّاہٹ تھی، "




صحرا کی اس حویلی میں دس مسلح شوٹرز بھیجے تھے میں نے! اور وہ ارسلان نہ صرف بچ گیا بلکہ ہانیہ افغانی کی ڈائری اور ڈرائیو بھی نکال لایا؟"




"س... سر! ارسلان شاہ کی سیکیورٹی فورس بہت مضبوط تھی،" راشد نے ڈرتے ڈرتے وضاحت دی، "




وہ ثبوت اگر عدالت میں پیش ہو گئے تو آپ کی ضمانت کی تمام امیدیں ختم ہو جائیں گی۔"




شاہد صداقت نے میز پر مکا مارا، اس کی آنکھوں میں ایک خباثت بھری چمک ابھری:




"ضمانت؟ شاہد صداقت اتنی آسانی سے ہار نہیں مانے گا! اگر میں جیل کے اندر ہوں تو کیا ہوا، میرے بندے باہر اب بھی موجود ہیں۔ 




ارسلان شاہ کو لگتا ہے کہ اس نے جیت حاصل کر لی ہے... لیکن اس کی سب سے بڑی کمزوری اب اس کی بیوی زوہا ہے۔ راشد! اپنے آدمیوں کو الرٹ کرو۔ اس بار نشانہ ارسلان نہیں، وہ لڑکی ہوگی!"




---


شام کے وقت ارسلان کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور وہ گاڑی کے ذریعے شاہ ولا پہنچا۔




بی بی کبرا نے صدقہ دے کر ارسلان کا استقبال کیا۔ ارسلان کو زبردستی ماسٹر بیڈ روم میں بھیج دیا گیا تاکہ وہ آرام کر سکے۔




زوہا ادویات اور پانی کا گلاس ٹرے میں رکھ کر بیڈ روم میں داخل ہوئی۔ ارسلان بیڈ کی بیک ریسٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا اور اپنے بائیں ہاتھ سے لیپ ٹاپ پر کچھ فائلز دیکھ رہا تھا۔




"آپ کو ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے، آپ پھر سے کام شروع کر گئے؟" زوہا نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اس کا لیپ ٹاپ بند کر کے ایک طرف رکھ دیا۔




ارسلان نے اپنی ایک ابرو اٹھا کر اس کی اس جرات کو دیکھا: "زوہا شاہ! تم اب شاہ انڈسٹریز کے مالک کو آرڈرز دو گی؟"




"جی ہاں! کیونکہ اس وقت آپ میرے سامنے ایک مریض ہیں،" زوہا نے دوا کی گولی اس کی طرف بڑھائی، "یہ لیں، خاموشی سے دوا کھائیں۔"




ارسلان نے اپنے زخمی دائیں بازو کی طرف اشارہ کیا اور تحکمانہ انداز میں بولا: "میرا ہاتھ زخمی ہے، تم خود کھلاؤ۔"




زوہا نے اس کا بازو دیکھا—وہ تو بائیں ہاتھ سے لیپ ٹاپ چلا رہا تھا!




"آپ کا بایاں ہاتھ بالکل ٹھیک ہے ارسلان صاحب،" زوہا نے نخرے سے کہا۔




"بایاں ہاتھ صحیح سے کام نہیں کرتا، تم خود کھلائو،" ارسلان نے اپنے روایتی ہٹ دھرم اور حاکمانہ انداز میں کہا اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔




زوہا نے اپنے لب دبائے، اس کے دل میں ایک دھیمی سی مسکراہٹ جاگی۔ اس نے خاموشی سے گولی ارسلان کے منہ میں ڈالی اور پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگایا۔




ارسلان نے پانی پیتے ہی اچانک اپنا بایاں ہاتھ زوہا کی کمر کے گرد لپیٹ کر اسے اپنے قریب کر لیا!




"ارسلان!" زوہا کا سانس سینے میں اٹک گیا۔ گلاس اس کے ہاتھ میں تھرتھرایا۔




"تم صحرا میں مجھے گلے لگا کر رو رہی تھیں زوہا..." ارسلان کی آواز انتہائی سحر انگیز اور مدہم تھی




، اس کا چہرہ زوہا کے چہرے کے بالکل قریب تھا، "تم نے کہا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہو جاتا تو تم کیا کرتی؟"




زوہا کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ وہ اس کی گہری نظروں کی تاب نہ لا سکی اور نظریں جھکا لیں۔




"میں... میں نے تو بس ایسے ہی... انسانیت کے ناطے..." زوہا نے بات بنانے کی کوشش کی۔




"انسانیت؟" ارسلان کے لبوں پر ایک فاتحانہ اور دلکش مسکراہٹ ابھری، "ارسلان شاہ سے سچ چھپانا ناممکن ہے بیگم۔ تم مجھ سے محبت کرنے لگی ہو، اور تم اس سچ سے بھاگ نہیں سکتی۔"




زوہا کے پاس اس کی اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔ ارسلان نے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔




---




اگلی صبح، ارسلان زوہا کے منع کرنے کے باوجود شاہ انڈسٹریز چلا گیا۔




وہ اپنے عالیشان کیبن میں اپنی بڑی شیشے کی میز کے پیچھے باوقار انداز میں بیٹھا تھا۔ 




سیاہ سوٹ میں اس کی شخصیت کا رعب اور دبدبہ دیکھتے ہی بنتا تھا، اگرچہ کوٹ کے نیچے اس کے بازو پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔




فرہاد کیبن میں داخل ہوا: "سر! شاہد صداقت کے خلاف حتمی چارج شیٹ تیار ہے اور کورٹ میں کیس فائل کر دیا گیا ہے۔"




"گڈ،" ارسلان نے ٹھنڈے لہجے میں کہا، "شاہد صداقت کو جیل کے اندر بھی سکون کا سانس نہیں لینے دینا۔ اس کے ہر رابطے پر کڑی نظر رکھو۔"




"جی سر!" فرہاد نے اثبات میں سر ہلایا۔




فرہاد کے جاتے ہی ارسلان نے اپنی میز پر پڑا فون اٹھایا۔ اس کا دل عجیب سی بے چینی محسوس کر رہا تھا۔ 




شاہ ولا میں زوہا کو اکیلا چھوڑ کر آنے کے بعد، اس کا ذہن کام میں پوری طرح سے یکسو نہیں ہو رہا تھا۔




اس نے نمبر ڈائل کیا اور فون کان سے لگایا۔ دوسری طرف سے دو بیپ کے بعد زوہا کی آواز ابھری:




"ہیلو...؟"




"کیا کر رہی ہو؟" ارسلان کی وہی تحکمانہ لیکن گہری آواز گونجی۔




"میں... میں بی بی کبرا کے ساتھ باورچی خانے میں تھی،" زوہا کی آواز میں ہلکی سی حیرت تھی، "آپ نے اس وقت فون کیا؟ کوئی کام تھا؟"




"شاہ انڈسٹریز کا اونر اپنی بیوی کو فون کرنے کے لیے کسی کام کا پابند نہیں ہے زوہا شاہ،" ارسلان نے جابرانہ انداز میں کہا، پھر اس کے لہجے میں ایک دھیمی سی سختی آئی، "کیا تم نے ناشتے کے بعد اپنی ادویات لیں؟"




"جی... لے لی تھیں،" زوہا نے آہستہ سے جواب دیا، پھر ہچکچاتے ہوئے بولی، "اور آپ نے...؟ آپ کے بازو میں درد تو نہیں ہو رہا؟"




ارسلان کے لبوں پر ایک دلکش، غرور سے بھری مسکراہٹ تیر گئی۔




"مجھے درد کی پروا نہیں ہے زوہا... لیکن اگر تم چاہتی ہو کہ میں ٹھیک رہوں، تو شام کو میرے گھر لوٹنے سے پہلے تیار رہنا،" ارسلان نے مدہم آواز میں کہا۔




"کیوں؟" زوہا نے چونک کر پوچھا۔




"کیونکہ ارسلان شاہ اپنی بیگم کو اب مزید خود سے دور رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا،" اس نے حاکمانہ انداز میں کہا، 




"اور ہاں... ولا سے باہر قدم رکھنے کی غلطی مت کرنا۔ سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔"




زوہا نے دل کی تیز دھڑکنوں کے ساتھ فون کٹتے ہوئے سنا۔




دوسری طرف، ارسلان نے فون میز پر رکھا، اس کی آنکھوں میں ایک شدید تحفظ اور محبت کی چمک تھی۔ 




شاہد صداقت جیل میں ہو یا باہر، ارسلان شاہ اپنی زوہا کی طرف اٹھنے والی ہر بری نظر کو مٹانے کے لیے تیار تھا...


---

ام کے چھ بج رہے تھے۔ سورج کی نارنجی شعاعیں شاہ ولا کے پرشکوہ ماسٹر بیڈ روم کی کشادہ کھڑکیوں سے اندر چھن کر آ رہی تھیں۔




زوہا شیشے کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے گہرے جامنی رنگ کا سادہ مگر بے حد خوبصورت سوٹ زیب تن کر رکھا تھا




 اور سر پر دوپٹہ سلیقے سے سیٹ کیا ہوا تھا۔ ارسلان شاہ کے صبح کے الفاظ—*"شام کو میرے گھر لوٹنے سے پہلے تیار رہنا"*—




اس کے ذہن میں بار بار گونج رہے تھے، جس سے اس کے گالوں پر خود بخود حیا کی سرخی دوڑ جاتی تھی۔




اسی لمحے بیڈ روم کا بھاری دروازہ کھلا اور ارسلان شاہ اندر داخل ہوا۔




اس کے سیاہ کوٹ کا بٹن کھلا ہوا تھا اور گردن سے ٹائی ہلکی سی ڈھیلی تھی۔ 




چہرے پر پورے دن کی تھکن کے باوجود وہی روایتی رعب، دبدبہ اور حاکمانہ شائستگی تھی۔




زوہا نے آئینے میں ارسلان کا عکس دیکھا اور تیزی سے مڑ کر کھڑی ہو گئی۔




ارسلان نے بغیر کچھ کہے اپنے سحر انگیز، سیاہ آنکھوں کے ساتھ زوہا کو اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ اس کی نظروں میں ایک شدید ملکیت اور تحسین تھی۔ 




وہ نپے تلے قدم اٹھاتا ہوا سیدھا زوہا کے بالکل قریب آ کر رکا—دونوں کے درمیان اب چند انچ کا بھی فاصلہ نہیں تھا۔




"آپ... آپ آ گئے؟" زوہا نے اپنے لب سی لیے اور گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔




ارسلان نے اپنے بائیں ہاتھ سے زوہا کی نازک ٹھوڑی کو نرمی سے اوپر اٹھایا اور اس کی کپکپاتی آنکھوں میں جھانکا۔




"میں نے تمہیں تیار رہنے کو کہا تھا زوہا شاہ..." ارسلان کا لہجہ حد درجہ مدہم اور سحر انگیز تھا، "لیکن تم نے یہ نہیں پوچھا کہ کس لیے؟"




"کس... کس لیے؟" زوہا نے بمشکل سانس بحال کرتے ہوئے پوچھا۔




ارسلان کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔ اس نے زوہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کیا اور اس کے کان کے پاس جھک کر بولا:




"تمہیں اس دنیا سے دور، اپنی اس چھوٹی سی دنیا میں ہر دکھ سے محفوظ رکھنے کے لیے... اور یہ بتانے کے لیے کہ اب ارسلان شاہ کی زندگی میں تم سے زیادہ اہم کچھ نہیں ہے۔"




زوہا کا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ اسے لگا ارسلان بھی اس کی دھڑکنیں سن رہا ہے۔ 




وہ ارسلان کے سینے پر ہاتھ رکھ کر خاموش ہو گئی، جبکہ ارسلان نے اس کے سر پر اپنے لب رکھے اور اسے اپنی پناہ میں لے لیا۔




---


شہر کی مرکزی جیل کا سیکیورٹی وارڈ۔




شاہد صداقت سلاخوں کے پیچھے لوہے کی بینچ پر بیٹھا اپنے وکیل راشد کے ساتھ خفیہ میٹنگ کر رہا تھا۔ 




اس کی آنکھوں میں زہر اور انتقام کی آگ پہلے سے زیادہ تیز تھی۔




"کیا انتظام ہوا؟" شاہد صداقت نے راشد کو گھورتے ہوئے غصے سے پوچھا۔




"کام ہو گیا ہے سر،" راشد نے دھیمی آواز میں بتایا، "شاہ ولا کی بیرونی سیکیورٹی کے لیے جو نئی نجی ایجنسی ہائر کی گئی تھی




، اس میں ہمارا ایک خاص آدمی **کامران** بطور سیکیورٹی گارڈ داخل ہو چکا ہے۔"




شاہد صداقت کے لبوں پر ایک خونخوار اور زہریلی مسکراہٹ تیر گئی۔




"بہت خوب!" شاہد نے سلاخوں پر مٹھیاں بھیچیں، "ارسلان شاہ کو لگتا ہے کہ اس نے اپنے محل کے گرد لوہے کی دیواریں کھڑی کر دی ہیں۔ 




وہ نہیں جانتا کہ اس محل کے اندر اب میرا سانپ موجود ہے۔ کامران کو ہدایت دو کہ جیسے ہی ارسلان شاہ دفتر کے لیے نکلے، وہ اپنے بندوں کے ساتھ اندر گھس کر زوہا کو ختم کر دے!"




راشد نے اثبات میں سر ہلایا: "جی سر! جیسے ہی موقع ملے گا، وہ اپنا کام کر دے گا۔"




---




اگلی صبح، شاہ ولا کے خوبصورت ڈائننگ ہال میں پرسکون ماحول تھا۔




ارسلان ڈائننگ ٹیبل کے سرے پر بیٹھا، سفید شرٹ میں ملبوس، اپنے بائیں ہاتھ سے کافی کا مگ تھامے آئی پیڈ پر کچھ میلز چیک کر رہا تھا۔ اس کا دایاں بازو اب بھی پٹی میں بندھا ہوا تھا۔




اسی وقت **ہادی** کسی طوفان کی طرح بغیر کسی اطلاع کے ہال میں داخل ہوا اور سیدھا ارسلان کے سامنے والی کرسی پر جا بیٹھا۔




"السلام علیکم! میری جان ارسلان شاہ!" ہادی نے اونچی آواز میں مسکراتے ہوئے کہا۔




ارسلان نے آئی پیڈ سے نظریں اٹھائے بغیر ٹھنڈی آواز میں کہا: "ہادی... اگر تم نے آئندہ میرے گھر میں یوں بنا بتائے اینٹری ماری، تو میں تمہاری گاڑی کے سارے ٹائر پنکچر کروا دوں گا۔"




"ارے یار! اب تو بھابھی بھی اس گھر میں ہیں، اب تو مہمان نوازی سیکھ لو!" ہادی نے قہقہہ لگایا




 اور ناشتے کی پلیٹ اپنی طرف کھسکائی، "ویسے سنا ہے کل شام شاہ ولا کا موسم کافی 'رومانٹک' تھا؟"




ارسلان نے آئی پیڈ کو میز پر پٹخا اور ہادی کو ایسی خونخوار نظر سے دیکھا کہ ہادی کی ہنسی وہیں کے وہیں خشک ہو گئی۔




"ہادی! تم اپنی زبان کو تھوڑا لگام دو گے یا میں فرہاد کو بلا کر تمہیں باہر نالی میں پھینکوا دوں؟" ارسلان نے تحکمانہ انداز میں دھمکایا۔




اسی لمحے زوہا ڈشز کی ٹرے اٹھائے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئی۔ اس نے دونوں کو دیکھا اور دھیرے سے بولی: "السلام علیکم ہادی بھائی..."




"وعلیکم السلام بھابھی!" ہادی فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور معصوم بنتے ہوئے بولا، "




دیکھیں بھابھی! آپ کا شوہر صبح صبح مجھ پر تشدد کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ آپ ہی اسے سمجھائیں۔"




زوہا نے مسکرا کر ارسلان کی طرف دیکھا۔ ارسلان نے فوراً اپنے چہرے کے سخت تاثرات بدلے




 اور بالکل نارمل بنتے ہوئے زوہا سے کہا: "اس کی باتوں پر دھیان مت دو زوہا، یہ پیدائشی ڈرامے باز ہے۔"




ہادی نے جھک کر ارسلان کے کان میں کہا: "دیکھا؟ بھابھی کے سامنے آتے ہی 'شیر' کیسے دم دہلا کر سیدھا ہو گیا!"




ارسلان نے میز کے نیچے سے ایک بار پھر ہادی کی ٹانگ پر زور سے اپنا جوتا مارا!




"آہہہ!" ہادی کے منہ سے چیخ نکل گئی اور وہ ٹانگ پکڑ کر بیٹھ گیا۔




زوہا نے تعجب سے پوچھا: "کیا ہوا ہادی بھائی؟"




"کچھ نہیں بھابھی... بس لگتا ہے شاہ ولا کا فرنیچر بہت سخت ہے، بار بار ٹانگیں ٹکراتی ہیں!" 




ہادی نے روتے بسورتے چہرے کے ساتھ کہا، جبکہ ارسلان نے سکون سے کافی کا گھونٹ لیا۔




---




دوپہر کے وقت ارسلان شاہ انڈسٹریز کی ایک انتہائی اہم بورڈ میٹنگ کے لیے اپنے عالیشان کیبن میں موجود تھا۔




شاہ ولا میں ماحول بالکل سکون کا تھا۔ زوہا اپنے بیڈ روم میں بستر پر بیٹھی ہانیہ کی ڈائری پڑھ رہی تھی، جبکہ بی بی کبرا اور ملازمین نچلی منزل پر کام کر رہے تھے۔




اچانک ولا کی مین اینٹری سے شور اور شیشہ ٹوٹنے کی خوفناک آواز آئی!




*چھن! BAM!*




شاہد صداقت کا بھیجا ہوا مسلح گارڈ کامران اپنے تین دیگر شوٹرز کے ساتھ ولا کے گارڈز کو چکمہ دے کر اندر داخل ہو چکا تھا۔ بی بی کبرا کی چیخ و پکار پورے ولا میں گونج اٹھئ۔




زوہا کا دل دھک سے رہ گیا۔ اس نے ڈائری سائیڈ پر رکھی اور ڈرتے ڈرتے کمرے سے باہر نکل کر گیلری سے نیچے دیکھا۔




نیچے چار مسلح اور نقاب پوش آدمی ہاتھوں میں پسٹل لیے کھڑے تھے! کامران کی آواز گونجی: "ڈھونڈو اس لڑکی کو! وہ اوپر ہی ہوگی!"




زوہا کا پورا وجود خوف سے کانپ اٹھا۔ اس کا سانس سینے میں اٹک گیا۔ وہ تیزی سے پیچھے ہٹی اور بدحواسی میں بھاگ کر اپنے ماسٹر بیڈ روم میں واپس آئی۔ 




اس نے جلدی سے دروازہ اندر سے لاک کرنا چاہا، لیکن ڈر کی وجہ سے اس سے ہینڈل نہیں گھوم رہا تھا۔




اس نے فوراً بیڈ روم کے ساتھ ملحقہ واک اِن کلازٹ (Walk-in Closet) کے پردوں اور بھاری الماریوں کی اوٹ میں خود کو چھپا لیا۔ 




اس کی مٹھیاں بھیچی ہوئی تھیں، آنکھوں سے بوند بوند آنسو گر رہے تھے اور وہ اپنا منہ ہاتھوں سے ڈھانپ کر اپنی سانسیں روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔




*اسی وقت شاہ انڈسٹریز میں...*




ارسلان کیبن میں پروجیکٹ ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ میں تھا کہ اچانک فرہاد بنا اجازت، بدحواسی کی حالت میں کیبن کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔




"سر! شاہ ولا کا خاموش سیکیورٹی الارم (Silent Alarm) ٹریگر ہوا ہے!" فرہاد کی آواز میں شدید اضطراب تھا، "ولا پر مسلح بندوں نے حملہ کر دیا ہے!"




ارسلان شاہ کی آنکھوں کے سامنے ایک دم اندھیرا چھا گیا۔ اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو گیا، جابرانہ جلال ابھرا اور وہ ایک ہی جھٹکے میں اپنی کرسی سے کھڑا ہو گیا۔




"کیا کہا تم نے؟" ارسلان کی آواز اتنی گرجدار تھی کہ پورٹ بورڈ روم کانپ اٹھا۔




اس نے ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور طوفان کی طرح کیبن سے باہر بھاگا۔




---




صحن میں گاڑی کے بریکوں کی زوردار چیخ گونجی۔




ارسلان اور فرہاد کی فورس گاڑیوں سے اتری۔ ارسلان نے اپنے ہاتھ میں پسٹل تھاما ہوا تھا، 




اس کی آنکھوں میں صرف اور صرف زوہا کی حفاظت کی فکر اور جنونی غصہ تھا۔




جیسے ہی کامران اور اس کے بندوں نے باہر سیکیورٹی فورس کا سائرن اور گاڑیوں کا شور سنا، ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔




"پولیس اور ارسلان شاہ آ گئے ہیں! بھاگوں یہاں سے!" کامران چیخا اور وہ لوگ زوہا کو ڈھونڈے بغیر ہی ولا کے عقبی دروازے سے بھاگ نکلے۔




ارسلان نے اپنے گارڈز کو حکم دیا: "فرہاد! ان کتوں کو زندہ یا مردہ پکڑو! ایک بھی بچ کر نہ نکلے!"




فرہاد اور گارڈز ان کے پیچھے صحرا اور گلیوں کی طرف بھاگے۔




ارسلان شاہ کسی طوفان کی طرح ولا کے اندر داخل ہوا۔ ہال میں بی بی کبرا خوف سے رو رہی تھیں۔




ارسلان نے ان کی طرف دیکھے بغیر تیز، لمبے اور بے چین قدموں سے سیڑھیاں پھلانگیں اور سیدھا ماسٹر بیڈ روم کا دروازہ دھکا دے کر کھولا!




"زوہا! زوہا!" ارسلان کی تحکمانہ اور شدید بے چین آواز کمرے میں گونجی۔




کلازٹ کی اوٹ میں چھپی، ڈر سے کپکپاتی زوہا نے جب ارسلان کی آواز سنی، تو اس کی آنکھوں میں امید کی ایک روشنی چمکی۔




وہ بھاگتی ہوئی، تھر تھر کانپتے وجود کے ساتھ کلازٹ سے باہر نکلی۔




"ارسلان!" زوہا کی چیخ نکلی اور وہ بغیر کچھ سوچے، اپنے سارے ڈر اور جھجھک کو بھول کر سیدھا ارسلان کے کشادہ سینے سے جا لگی! اس نے ارسلان کی شرٹ کو اپنی مٹھیوں میں کس کے بھیچ لیا۔




ارسلان نے جیسے ہی زوہا کو اپنے وجود سے ٹکراتے محسوس کیا، اس کا سانس بحال ہوا۔ 




اس نے سکون کا ایک گہرا سانس لیا اور اپنے بائیں بازو سے زوہا کے نازک وجود کو خود میں بھیچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔




"میں آ گیا ہوں زوہا... تم ٹھیک ہو، کچھ نہیں ہوا..." ارسلان نے اس کے بالوں پر اپنے لب رکھے




 اور اس کی پیٹھ تھپتھپائی۔ اس کا دل ابھی تک زوہا کو صحیح سلامت دیکھ کر سکون کی سانس لے رہا تھا۔




"وہ... وہ لوگ مجھے... مارنے آئے تھے..." زوہا نے سسکتے ہوئے بمشکل چند الفاظ کہے




، اس کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور خوف کا دباؤ اتنا شدید تھا کہ اس کا وجود اب ڈھیلا پڑ رہا تھا۔




ارسلان نے اسے خود سے تھوڑا الگ کر کے اس کا چہرہ دیکھنا چاہا: "زوہا؟ میری طرف دیکھو زوہا!"




ارسلان اس سے پہلے کہ کچھ اور کہتا یا اسے سنبھالتا، زوہا کی آنکھیں خوف اور تھکن کی وجہ سے بند ہونے لگیں 




اور اس کی ٹانگوں نے جواب دے دیا۔ وہ بے ہوش ہو کر سیدھا ارسلان کی باہوں میں جھول گئی!




"زوہا!" ارسلان کا دل ایک بار پھر زور سے دھڑکا۔ اس نے فوراً زوہا کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ کی طرف بڑھا...


---

-




ماسٹر بیڈ روم میں دھیمی، زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر دوا کی شیشیاں بند کر کے بیڈ سے پیچھے ہٹا۔




"گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے مسٹر ارسلان،" ڈاکٹر نے ارسلان شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 




جو بیڈ کے پاس کھڑا، سیاہ آنکھوں میں بلا کی تشویش اور غصہ لیے زوہا کو دیکھ رہا تھا، "شدید خوف اور ذہنی دباؤ (Shock) کی وجہ سے ان کا بلڈ پریشر ایک دم گر گیا تھا




 اور وہ بے ہوش ہو گئی تھیں۔ میں نے سکون کا انجیکشن لگا دیا ہے، چند منٹوں میں انہیں ہوش آ جائے گا۔ بس انہیں کسی بھی قسم کے تناؤ سے دور رکھیں۔"




ارسلان نے صرف ایک بار سر ہلایا۔ ڈاکٹر کے باہر جاتے ہی ارسلان نے بیڈ کے کنارے بیٹھ کر زوہا کے چہرے پر جھکے اس کے بے ترتیب بالوں کی لٹوں کو نرمی سے پیچھے کیا۔




کچھ ہی دیر میں زوہا کی پلکیں ہلیں اور اس نے آہستہ سے اپنی سرخ آنکھیں کھولیں۔ اس کی پہلی نظر اپنے سامنے بیٹھے ارسلان کے باوقار چہرے پر پڑی۔




خوف کا لمحاتی سایہ پھر سے اس کی آنکھوں میں لہرایا اور اس کے لب کپکپائے: "ار... ارسلان...؟"




"میں یہاں ہوں زوہا،" ارسلان نے اس کا برف جیسا ٹھنڈا ہاتھ اپنی گرم ہتھیلی میں تھام لیا۔ 




اس کی آواز میں حد درجہ سکون اور تحفظ تھا، "اب کوئی نہیں ہے یہاں۔ تم بالکل محفوظ ہو۔"




زوہا نے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری اور ارسلان کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے کس کے پکڑ لیا، جیسے اسے ڈر ہو کہ وہ ہاتھ چھوڑے گا تو وہ لوگ پھر آ جائیں گے۔




"وہ... وہ نقاب پوش بندے..."




"انہیں ان کی اوقات یاد دلا دی گئی ہے،" ارسلان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے تحکمانہ انداز میں کہا




، اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ سختی آئی، "اب تمہیں کسی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"




---


سٹی سینٹرل جیل کا اندھیرا سیل۔




شاہد صداقت اپنے وکیل راشد کی خبر سن کر دیوانوں کی طرح سلاخوں کے ساتھ اپنا سر ٹکرا رہا تھا:




"کیا مطلب کہ وہ لڑکی پھر بچ گئی؟" شاہد صداقت کی آواز میں ایک خوفناک غرّاہٹ تھی، "




چار مسلح شوٹرز گھر کے اندر گھسے اور ارسلان شاہ کے بروقت الارم کی وجہ سے کامران اور اس کے بندے زوہا کو چھو بھی نہ سکے؟"




راشد نے ڈرتے ڈرتے کہا: "سر! ارسلان شاہ کی سیکیورٹی فورس اتنی تیز تھی کہ شوٹرز کو زوہا کے کمرے تک پہنچنے کا موقع ہی نہیں ملا اور انہیں عقبی راستے سے بھاگنا پڑا۔"




شاہد صداقت نے اپنی مٹھیاں بھیچ لیں، اس کا چہرہ انتقام کی آگ میں سرخ ہو رہا تھا:




"ارسلان شاہ نے اپنے ولا کو کسی قلعے کی طرح بنا رکھا ہے... لیکن اب میں جیل کی ان سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر کھیل نہیں کھیلوں گا۔ شاہد صداقت اب خود میدان میں اترے گا!"




"سر؟ آپ کا کیا مطلب ہے؟" راشد نے حیرت سے پوچھا۔




شاہد صداقت کے لبوں پر ایک زہریلی اور شاطرانہ مسکراہٹ تیر گئی: "کل رات جب جیل کے گارڈز کی شفٹ بدلے گی... میں اس جیل سے فرار ہو جاؤں گا۔




باہر میرے پرانے اور وفادار ادمی میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔ ارسلان شاہ اور اس کی بیوی کا اخری حساب میں خود اپنے ہاتھوں سے کروں گا!"




---


شاہ ولا کے سٹڈی روم میں ارسلان شاہ اور **ہادی** موجود تھے۔




ارسلان سٹڈی ٹیبل کے پاس کھڑا تھا، اس کے چہرے کی رنگت سخت اور غضبناک تھی۔ 




ہادی سامنے کھڑا کافی حد تک سنجیدہ نظر آ رہا تھا—اس کا روایتی مذاق اب غائب تھا۔




"کیا اپڈیٹ ہے ہادی؟" ارسلان کی ٹھنڈی آواز فضا میں گونجی۔




ہادی نے نفی میں سر ہلایا: "ارسلان... فرہاد اور ہماری سیکیورٹی ٹیم نے صحرا اور ولا کے اطراف کے پورے علاقے کی گھیرا بندی کی تھی، 




لیکن وہ چاروں ادمی... کامران سمیت... عقبی صحرائی راستے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے نشانات مٹا کر غائب ہو چکے ہیں۔"




ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں غصے کا طوفان امڈ آیا: "میری فورس کے ہوتے ہوئے... وہ چار کتے شاہ ولا کے اندر گھسے اور پھر زندہ صاف نکل بھی گئے؟"




"وہ علاقہ پرانا تھا اور شاہد صداقت کے پرانے شوٹرز وہاں کی گلیوں سے واقف تھے،" 




ہادی نے تشویش سے کہا، "لیکن فرہاد ان کے پیچھے لگا ہوا ہے، جلد ہی وہ دھر لیے جائیں گے۔"




"مجھے ہر قیمت پر وہ ادمی چاہیے ہادی!" ارسلان نے تحکمانہ انداز میں کہا، "اگر زوہا کو ایک خراش بھی آتی تو میں اس پورے شہر کو آگ لگا دیتا!"




---


کچھ ہی دیر بعد، ارسلان کے فون پر فرہاد کی کال آئی۔




ارسلان نے فون کان سے لگایا: "بولو فرہاد!"




دوسری طرف سے فرہاد کی آواز انتہائی پریشان اور گھبرائی ہوئی تھی: "سر! ایک بہت بڑی اور خوفناک خبر ہے..."




"کیا خبر؟" ارسلان کے چہرے پر تناؤ بڑھ گیا۔




"سر! سٹی سینٹرل جیل میں ہنگامی حالت نافذ ہو گئی ہے... شاہد صداقت جیل کی سیکیورٹی کو چکمہ دے کر، پولیس وین پر حملہ کروا کے جیل سے فرار ہو گیا ہے!"




یہ سنتے ہی ارسلان شاہ کا دماغ جیسے سُن ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں جنون، غصہ اور درندگی ایک ساتھ بیدار ہو گئی۔




"شاہد صداقت... فرار ہو گیا؟" ارسلان کی آواز اتنی گرجدار اور خوفناک تھی کہ روم میں کھڑا ہادی بھی کانپ گیا۔




ارسلان نے فون کاٹ کر میز پر پٹخ دیا۔ اس کے اندر کا جنونی غضب تمام حدیں پار کر چکا تھا۔ شاہد صداقت کا فرار ہونا یعنی زوہا کی زندگی پر براہِ راست موت کا منڈلانا!




غصے اور جنون کی شدید لہر میں، ارسلان شاہ نے اپنے ہوش و حواس کھو دیے اور اپنا پورا مکہ سیدھا سامنے پختہ دیوار پر دے مارا!




*بام!*




کتھئی دیوار پر زبردست دھماکا ہوا۔ اس کا وہی دایاں ہاتھ، جس پر صحرا کی گولی کی پٹی بندھی ہوئی تھی اور زخم ابھی تازہ تھا، دیوار سے ٹکرایا۔




پٹی ایک ہی جھٹکے میں پھٹ گئی اور اندر سے تازہ خون کا فوارہ چھوٹ پڑا! سفید پٹی سیکنڈوں میں سرخ خون سے تر ہو گئی اور خون کی دھاریں اس کے ہاتھ سے ہو کر فرش پر ٹپکنے لگی۔




"ارسلان! یہ کیا کر رہے ہو؟" ہادی چیخا اور آگے بڑھ کر اسے روکنا چاہا۔




---




اسی لمحے سٹڈی روم کا دروازہ کھلا اور زوہا، جو ارسلان کی اونچی آواز سن کر گھبرا کر کمرے سے باہر آئی تھی، وہاں داخل ہوئی۔




"ارسلان...؟"




زوہا کے قدم وہیں جم گئے۔ اس کی آنکھیں خوف اور صدمے سے پھیل گئیں۔




ارسلان دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا، اس کے چہرے پر جنونی غصہ تھا




 اور اس کا پورا دایاں ہاتھ خون میں لت پت تھا—فرش پر خون کے لال قطرے تیزی سے گر رہے تھے۔




"ارسلان!" زوہا کے منہ سے ایک دردناک چیخ نکلی۔




وہ اپنے تمام ڈر اور تھکن کو بھول کر بدحواسی کی حالت میں بھاگتی ہوئی ارسلان کے پاس پہنچی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب روانہ ہو گیا۔




"یہ... یہ کیا کیا آپ نے؟" زوہا نے کانپتے، تھر تھراتے ہاتھوں سے ارسلان کے خون آلود ہاتھ کو تھامنے کی کوشش کی، 




لیکن خون دیکھ کر اس کا اپنا وجود بری طرح کانپ رہا تھا، "آپ کو خون نکل رہا ہے! ہادی بھائی! جلدی کریں، ڈاکٹر کو بلائیں!"




زوہا نے اپنے گلابی دوپٹے کا ایک کنارا فوراً اپنے ہاتھوں سے پھاڑا اور ارسلان کے زخم پر کس کر باندھنے لگی، اس کی انگلیاں خون سے لال ہو رہی تھیں اور وہ زار و قطار رو رہی تھی۔




"آپ اتنے لاپروا کیوں ہیں؟ آپ اپنے آپ کو نقصان کیوں پہنچا رہے ہیں؟" 




زوہا کی سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں، "مجھے ڈر لگتا ہے ارسلان... خدا کے لیے ایسا مت کریں!"




ارسلان شاہ، جس کی آنکھوں میں ابھی کچھ دیر پہلے تک صرف اور صرف تباہی اور غصہ تھا، 




زوہا کے اس بے پناہ خوف، تڑپ اور آنسوؤں کو دیکھ کر بالکل خاموش اور ساکت ہو گیا۔




اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے زوہا کے بھیگے ہوئے گال کو چھوا۔ اس کا تحکمانہ لہجہ اب ایک عجیب سی دکھ اور نرمی میں بدل گیا:


"تم کیوں رو رہی ہو زوہا...؟"


"آپ کے لیے رو رہی ہوں!" زوہا نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر چیخ کر کہا، اس کے لہجے میں محبت اور حق کا وہ طوفان تھا 


جو اب وہ مزید چھپا نہیں سکتی تھی، "مجھے آپ کی فکر ہوتی ہے! اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی؟"


ارسلان شاہ نے زوہا کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ شاہد صداقت کے جیل سے بھاگنے کی خبر نے جہاں خطرہ بڑھا دیا تھا


، وہی زوہا کے اس اقرار اور تڑپ نے ارسلان کے دل میں اسے ہر قیمت پر بچانے کا جنونی عزم اور مضبوط کر دیا تھا...


---

سٹڈی روم کا ماحول حد درجہ بوجھل اور تناؤ سے بھرا ہوا تھا۔ فرش پر جابجا خون کے سرخ قطرے چمک رہے تھ


ے اور فضا میں ارسلان شاہ کے پرفیوم کے ساتھ ساتھ اینٹی سیپٹک اور خون کی عجیب سی بو گھلی ہوئی تھی۔


ارسلان بیڈ کے کنارے پر خاموش بیٹھا تھا، اس کے چہرے کی رنگت اب بھی کسی چٹان کی طرح سخت تھی، 


لیکن آنکھوں میں زوہا کے آنسوؤں کو دیکھ کر ایک عجیب سی بے تابی تیر رہی تھی۔


زوہا بیڈ کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی، کپکپاتے ہاتھوں سے روئی کا پھایا ڈیٹول میں بھگو کر ارسلان کے زخم کو صاف کر رہی تھی۔


ہر بار جب وہ روئی اس کے گہرے زخم پر رکھتی، اس کی اپنی آنکھوں سے گرم آنسو ٹوٹ کر ارسلان کی گود میں گرتے۔


"آہستہ..." ارسلان نے دھیمی، تحکمانہ مگر غیر محسوس نرمی سے کہا۔


زوہا نے اپنے لب دانتوں میں بھیچ لیے اور سسک کر ارسلان کو دیکھا: "آپ کو اتنی تکلیف ہو رہی ہے، لیکن آپ کو اپنی کوئی پروا نہیں۔ 


اپنے ہی ہاتھ کو دیوار پر مار دیا... آپ نے یہ بھی نہیں سوچا کہ اس زخم میں گولی کا زخم ابھی تازہ تھا!"


"ارسلان شاہ اپنی تکلیف کی پروا نہیں کرتا زوہا..." ارسلان نے اپنے بائیں ہاتھ سے زوہا کی ٹھوڑی کو اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں جھانکا، 


"مجھے صرف اس بات پر غصہ تھا کہ شاہد صداقت جیل سے نکل گیا... اور تم پر منڈلاتا ہوا خطرہ پھر سے بڑھ گیا۔"


زوہا کا دل اس اعتراف پر زور سے دھڑکا۔ اس نے اپنی آنکھیں جھکائیں اور پٹی کو ارسلان کے بازو پر احتیاط سے کس کر باندھا۔


"آپ کے ہوتے ہوئے مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا..." زوہا کے لبوں سے یہ الفاظ اتنی دھیمی آواز میں نکلے کہ ارسلان بمشکل ہی سن سکا۔


ارسلان نے اپنی ایک ابرو اٹھائی، اس کے سخت تاثرات میں ہلکی سی فاتحانہ مسکراہٹ ابھری: "کیا کہا تم نے؟ ذرا دوبارہ کہو۔"


زوہا کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ اس نے فوراً مرہم کی شیشی بند کی اور کھڑی ہونے لگی: "میں... میں کچھ نہیں کہا۔ میں آپ کے لیے دوا اور گرم دودھ لے کر آتی ہوں۔"


ارسلان نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے روکا اور اسے اپنے بالکل قریب کر کے سنجیدگی سے بولا: "اب سے تم ماسٹر بیڈ روم سے باہر ایک قدم بھی نہیں رکھو گی۔ 


ہادی اور فرہاد باہر ولا کے گارڈز کے ساتھ موجود ہیں، لیکن تم میری نظروں کے سامنے رہو گی۔ یہ میرا حتمی حکم ہے۔"


زوہا نے ارسلان کی آنکھوں میں چھپا وہ جنونی تحفظ دیکھا اور چپ چاپ اثبات میں سر ہلا دیا۔


--


رات کے دو بج رہے تھے۔ شاہ ولا کے وسیع ہال میں روشنی مدہم تھی، لیکن باہر لان میں شاہ انڈسٹریز کی پرائیویٹ سیکیورٹی کا سخت پہرہ تھا۔


ہادی گہرے فکرمند چہرے کے ساتھ ہال میں ٹہل رہا تھا کہ ارسلان، جو اب کیژول سیاہ شرٹ اور پتلون میں تھا، شانے پر ڈریسر کی پٹی لپیٹے سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔


"ارسلان! تم ابھی تک جاگ رہے ہو؟" ہادی نے تشویش سے پوچھا، "تمہیں آرام کرنا چاہیے، تمہارا زخم گہرا ہے۔"


ارسلان نے ہادی کو ایک ٹھنڈی نظر سے دیکھا اور ڈائننگ ٹیبل کے پاس آ کر رکا: 


"شاہد صداقت باہر ہے ہادی... ایسے میں آرام کی بات صرف بیوقوف کرتے ہیں۔"


"ہم نے پولیس کے تمام نائٹ پیٹرولنگ گروپس کو الرٹ کر دیا ہے،" ہادی نے دھیمی آواز میں بتایا، "فرہاد شاہد صداقت کے پرانے روپوش ٹھکانوں کی ریکی کر رہا ہے۔ 


لیکن شاہد صداقت کوئی عام مجرم نہیں ہے ارسلان... وہ پچھلے بارہ گھنٹوں سے مکمل طور پر زیرِ زمین چلا گیا ہے۔ اس کا کوئی نیٹ ورک سگنل ٹریس نہیں ہو رہا۔"


ارسلان نے اپنی مٹھیاں بھیچیں، اس کی سیاہ آنکھوں میں ایک شاطرانہ اور خطرناک چمک ابھری:


"شاہد صداقت شہر سے باہر بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا ہادی..."


"تم اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتے ہو؟" ہادی نے تعجب سے پوچھا۔


"کیونکہ اس کا ادھورا کام ابھی باقی ہے،" ارسلان نے سرد اور جابرانہ انداز میں کہا، 


"وہ جانتا ہے کہ ہانیہ افغانی کی ڈائری اور شاہ انڈسٹریز کے پرانے صحرائی پروجیکٹ کی بلیک میلنگ ڈرائیو میرے پاس ہے۔ 


وہ مجھے مٹانے اور زوہا کو حاصل کرنے کے لیے آخری وار ضرور کرے گا۔"


ہادی نے گہرا سانس لیا: "تو پھر ہمارا اگلا قدم کیا ہے؟"


ارسلان نے ایک نقشہ میز پر پھیلایا: "ہم اسے خود راستہ دیں گے۔ ہم شہر کو یہ تاثر دیں گے


 کہ میں زخمی ہوں اور زوہا کو شاہ ولا سے دور، ہمارے پرانے فارم ہاؤس میں شفٹ کیا جا رہا ہے۔ وہ اس جال میں ضرور آئے گا... اور یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔"


ہادی نے ارسلان کی اس ماسٹر پلاننگ کو دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا: "میں فوراً فرہاد کو اس پلان پر عمل کرنے کی ہدایات دیتا ہوں۔"


---


شہر کے مضافات میں واقع ایک پرانی، ویران کار فیکٹری۔


تاریک کمرے میں صرف ایک اکیلا بلب لٹک رہا تھا جس کی روشنی میں شاہد صداقت کا بھیانک چہرہ اور زیادہ خوفناک دکھائی دے رہا تھا۔ 


اس کے گرد پانچ مسلح شوٹرز کھڑے تھے اور اس کا خاص وکیل راشد اس کے سامنے نقشہ پھیلائے ہوئے تھا۔


"سر! شاہ ولا سے ابھی خبر ملی ہے،" راشد نے پرجوش انداز میں بتایا، "ارسلان شاہ کا دایاں ہاتھ شدید زخمی ہو چکا ہے 


اور وہ کام کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ شاہ ولا کی سیکیورٹی بھی اندرونی افرا تفری کا شکار ہے۔"


شاہد صداقت نے زہریلا قہقہہ لگایا: "ارسلان شاہ کا غرور ہی اس کا دشمن بن گیا


! جب شیر زخمی ہوتا ہے، تو شکاری کے لیے اس پر حملہ کرنا سب سے آسان ہوتا ہے۔"


"لیکن سر! ارسلان شاہ زوہا کو کل صبح فارم ہاؤس منتقل کرنے والا ہے تاکہ اسے ولا سے دور رکھ سکے،" شوٹر کے لیڈر نے اطلاع دی۔


شاہد صداقت کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک ابھری: "فارم ہاؤس... 


یعنی شہر کی حدود سے باہر کا صحرائی راستہ! ارسلان شاہ نے خود اپنے اور اپنی بیوی کے لیے قبر کھودی ہے۔


شاہد نے اپنی گن کو لوڈ کیا اور زہر میں بجھے لہجے میں بولا: "کل صبح جب ان کا قافلہ صحرائی موڑ سے گزرے گا... 


ہم ان کی گاڑی پر سیدھا راکٹ لانچر اور آٹومیٹک پسٹلز سے حملہ کریں گے۔ اس بار زوہا کو زندہ اٹھانا ہے اور ارسلان شاہ کا وجود ہمیشہ کے لیے اس زمین سے مٹانا ہے!"


---


صبح کے چار بج رہے تھے۔


زوہا بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی، لیکن اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور وہ بار بار کمرے کے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ 


ارسلان کافی دیر سے نیچے ہادی کے ساتھ تھا اور زوہا کا دل اس کی غیر موجودگی میں مسلسل بے چین رہتا تھا۔


اچانک بیڈ روم کا دروازہ ہولے سے کھلا اور ارسلان خاموش قدموں سے اندر داخل ہوا۔ 


اس نے زوہا کو جاگتے ہوئے دیکھا تو اس کی سیاہ آنکھوں کی سختی پگھل گئی۔


"تم ابھی تک سوئی نہیں زوہا؟" ارسلان نے بیڈ کی دوسری طرف کاؤچ پر بیٹھتے ہوئے دھیمے لہجے میں پوچھا۔


زوہا نے اپنے بستر سے اٹھ کر بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی: "مجھے نیند نہیں آ رہی تھی... آپ کا بازو کیسا ہے؟"


ارسلان نے اس کی طرف دیکھا، پھر وہ کھڑا ہوا اور سیدھا زوہا کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔ 


اس کے وجود کا تحکم اور پرفیوم کی سحر انگیز خوشبو زوہا کے حواس پر چھانے لگی۔


"اگر تم اس طرح میری فکر کرتی رہو گی، تو شاید مجھے اپنے اس زخم سے پیار ہو جائے،" ارسلان نے مدہم آواز میں کہا اور اپنا بائیں ہاتھ زوہا کے گال پر رکھا۔


زوہا کا پورا وجود اس لمس سے کانپ اٹھا۔ اس نے ارسلان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے تھاما اور اس کی آنکھوں میں دیکھا: "


آپ کو ذرا بھی اندازہ نہیں ہے ارسلان... کہ اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو میں تنہا رہ جاؤں گی۔ اب اس دنیا میں آپ کے علاوہ میرا کوئی نہیں ہے۔"


یہ بات زوہا کے دل سے نکلی تھی، اور یہ پہلی بار تھا کہ اس نے ارسلان کے سامنے اپنے اس جذبے کا یوں برملا اظہار کیا تھا۔


ارسلان شاہ کا دل ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گیا۔ اس کے جابرانہ اور سخت وجود پر زوہا کا یہ اقرار کسی بارش کے قطرے کی طرح برسا۔ 


اس نے زوہا کو دونوں شانوں سے تھام کر اپنے اتنے قریب کر لیا کہ زوہا کی گرم سانسیں اس کی گردن سے ٹکرا رہی تھیں۔


"ارسلان شاہ زندہ ہے زوہا..." ارسلان کا لہجہ اب پہلے سے کہیں زیادہ گہرا اور حاکمانہ تھا، "اور جب تک میری رگوں میں خون کا اخری قطرہ بھی باقی ہے،


 تمہیں اس دنیا کی کوئی طاقت مجھ سے الگ نہیں کر سکتی۔ تم میری بیوی ہو... میری ملکیت ہو!"


ارسلان نے زوہا کی پیشانی پر انتہائی پیار اور عقیدت کے ساتھ اپنے لب رکھے، اور پھر اسے اپنے ساتھ بستر پر لٹا کر اپنا ایک بازو اس کے گرد پھیلا دیا۔


زوہا نے اپنے تمام خوف اور خدشات کو بھول کر اپنا چہرہ ارسلان کے مضبوط سینے میں چھپا لیا۔ 


ارسلان کے سینے کی منظم دھڑکنیں زوہا کے لیے اس دنیا کا سب سے بڑا تحفظ بن چکی تھیں۔


---


اگلی صبح، اٹھ بجے شاہ ولا کے پورچ میں چار سیاہ بلٹ پروف گاڑیاں قطار میں کھڑی تھیں۔


فرہاد اور بیس مسلح سیکیورٹی گارڈز اپنے ہتھیار چیک کر رہے تھے۔ فضا میں ایک عجیب سا سکون تھا جو آنے والے طوفان کا پیش خیمہ لگ رہا تھا۔


ارسلان شاہ سیاہ سوٹ میں ملبوس، اپنے دائیں بازو کو پٹی میں کور کیے باہر نکلا۔ اس کی آنکھوں میں ایک چٹان جیسی سختی اور بے باکی تھی۔


اس کے ساتھ ہی زوہا باہر نکلی، جس نے سیاہ رنگ کا عبایا اور دوپٹہ پہن رکھا تھا۔ 


اس کے چہرے پر ہلکی سی زردی تھی، لیکن ارسلان کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں دیکھ کر اس کی ہمت برقرار تھی۔


"سب تیار ہے فرہاد؟" ارسلان نے تحکمانہ آواز میں پوچھا۔


"جی سر! تمام راستوں کی کلیئرنس لے لی گئی ہے،" فرہاد نے باادب انداز میں جواب دیا


، لیکن اس کی آنکھوں میں ارسلان کے خفیہ اشارے کا سگنل تھا۔


ارسلان نے زوہا کے لیے گاڑی کا عقبی دروازہ کھولا: "اندر بیٹھو زوہا..."


زوہا گاڑی میں بیٹھ گئی، اور ارسلان بھی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ ہادی دوسری گاڑی میں آگے فورس کو لیڈ کر رہا تھا۔


قافلہ شاہ ولا کے گیٹ سے باہر نکل کر صحرائی فارم ہاؤس کی طرف جانے والے طویل اور ویران راستے پر روانہ ہو گیا۔


گاڑی کی شیشے سے باہر صحرا کی تپتی ہوئی ریت اور طوفانی ہوائیں نظر آ رہی تھیں۔ زوہا نے ارسلان کی شرٹ کی آستین کو بھیچ لیا۔ 


اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ سفر شاہد صداقت کے بچھائے ہوئے جال اور ان دونوں کی زندگی کے سب سے بڑے معرکے کی طرف جا رہا ہے...



---

فلہ صحرا کی ویران اور کشادہ سڑک پر تیزی سے گامزن تھا۔ سورج کی تپش ریت کے ذروں کو سونے کی طرح چمکا رہی تھی، 




لیکن گاڑی کے اندر کا ماحول برف کی طرح ٹھنڈا اور پراسرار 


تھا۔




ارسلان شاہ نے زوہا کا نازک ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں تھام رکھا تھا اور اس کی انگلیاں زوہا کے ہاتھ میں الٹھی ہوئی تھیں۔ 




زوہا گاڑی کی کھڑکی سے باہر پھیلے صحرا کو دیکھ رہی تھی، لیکن اس کے دل کی دھڑکنیں ارسلان کی قربت اور خاموشی کے باعث تیز تھیں۔




اچانک صحرائی موڑ پر پے در پے تین گاڑیاں سامنے سے نمودار ہوئیں اور سڑک کو بلاک کر دیا!




*تھپ! BAM!*




گولیاں برسنے کی زوردار آوازوں سے فضا گونج اٹھی! بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ دھماکوں کے ساتھ کانپ اٹھا۔




"سر! سامنے سے حملہ ہوا ہے!" فرہاد نے آگے والی گاڑی سے وائرلیس پر اطلاع دی اور اپنی پسٹل نکال کر جواب کارروائی شروع کر دی۔




ہادی نے بھی اپنی گاڑی کو ترچھا کر کے دفاعی پوزیشن لے لی۔ فضا گولیوں کے دھماکوں اور دھوئیں سے بھر گئی۔




زوہا خوف کے مارے چیخ اٹھی اور اس نے ارسلان کا دایاں بازو کس کے پکڑ لیا: "ارسلان!"




ارسلان کے چہرے پر خوف یا پریشانی کا ایک سایہ بھی نہیں ابھرا۔ اس کی سیاہ آنکھوں میں صرف ایک شاطرانہ چمک آئی۔ 




اس نے اپنے بائیں ہاتھ سے پسٹل نکالی اور گاڑی کا لاک کھول کر باہر نکلنے لگا۔




"ارسلان نہیں! آپ باہر مت جائیں!" زوہا نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔




ارسلان نے مڑ کر زوہا کی پیشانی کو چوما اور دھیمی، جابرانہ آواز میں کہا: "گھبراؤ مت زوہا... شیر شکار خود کرنے نکلتا ہے۔ تم اندر ہی رہو گی!"




ارسلان گاڑی سے باہر نکلا۔ اس نے زخمی بازو کی پروا کیے بغیر ایک ہی ہاتھ سے شاہد صداقت کے تین شوٹرز کو نشانہ بنایا اور وہیں ڈھیر کر دیا!




اسی اثنا میں، دھوئیں اور افرا تفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عقبی راستے سے شاہد صداقت کی دوسری گاڑی زوہا کی گاڑی کے بالکل قریب آ کر رکی۔ 




اس سے پہلے کہ ارسلان واپس مڑتا، شاہد صداقت کا آخری وفادار شوٹر زوہا کی طرف بڑھا—




لیکن ارسلان نے چیتے کی طرح چھلانگ لگا کر اس شوٹر کو دبوچ لیا!




شاہد صداقت جو تھوڑے فاصلے پر گاڑی کے شیشے کے پیچھے سے یہ سب دیکھ رہا تھا، اپنے شوٹر کو ڈھیر ہوتے دیکھ کر بدحواسی میں چیخا: "بھاگو یہاں سے!"




شاہد صداقت اپنی بچی کچی گاڑی کے ساتھ صحرا کی گرد اڑاتا ہوا فرار ہو گیا، 




جبکہ اس کے باقی تمام آدمی ارسلان، ہادی اور فرہاد کے ہاتھوں یا تو مارے گئے یا گرفتار کر لیے گئے۔




ارسلان نے ہادی کی طرف رخ کیا، اس کی آواز میں جلال تھا: "ہادی! فرہاد کے ساتھ جاؤ اور شاہد صداقت کو اس کے اس آخری روپوش ٹھکانے تک فالو کرو! 




اس کا فارم ہاؤس کے قریبی پرانے ہائیڈ آؤٹ میں ہونا طے ہے۔ اس بار وہ زندہ نہ بچے۔"




"اور تم؟" ہادی نے پوچھا۔




"میں زوہا کو فارم ہاؤس لے جا رہا ہوں۔ اس کا یہاں ایک لمحہ بھی رہنا محفوظ نہیں ہے۔"




---




شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے جب ارسلان شاہ کی سیاہ گاڑی فارم ہاؤس کے پرشکوہ گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔




یہ فارم ہاؤس شہر کے شور و غل سے دور، صحرا کے ایک ہرے بھرے نخلستان پر بنایا گیا ایک شاہکار تھا۔ ارد گرد کھجور کے بلند درخت اور روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔




ارسلان نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور زوہا کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکالا۔ زوہا اب بھی حملے کے صدمے اور ارسلان کے بازو سے نکلتے ہلکے سے خون کو دیکھ کر کپکپا رہی تھی۔




"ارسلان... ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ شاہ ولا واپس کیوں نہیں گئے؟" زوہا نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا۔




ارسلان نے بغیر کچھ کہے زوہا کی کمر کے گرد اپنا بایاں بازو پھیلا کر اسے اپنے ساتھ دبوچ لیا




"ارسلان! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ مجھے چھوڑیے!" زوہا نے اس کی مضبوط گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش کی۔




ارسلان نے اسے کمرے کے اندر لا کر لکڑی کا بھاری دروازہ زور سے بند کیا اور اسے چابی سے لاک کر دیا! *کلاک!*




"آپ نے دروازہ لاک کیوں کیا؟" زوہا نے پیچھے ہٹتے ہوئے پوچھا۔




ارسلان نے نپے تلے قدم اٹھاتے ہوئے زوہا کو دیوار کے ساتھ لگا دیا اور دونوں ہاتھ اس کے دائیں بائیں رکھ کر اسے اپنی پناہ میں قید کر لیا۔




"کیونکہ زوہا شاہ..." ارسلان کا لہجہ مدہم، سحر انگیز اور حد درجہ حاکمانہ تھا، "آج سے تم ارسلان شاہ کی اس خوبصورت قید میں ہو۔ 




باہر کی دنیا میں تم پر ہر طرف خطرہ ہے، لیکن اس کمرے کے اندر... 




تم صرف میری ہو۔ اب تم میری اجازت کے بغیر اس کمرے کا دروازہ بھی نہیں کھولو گی!"




زوہا نے لب سی لیے اور اس کی سیاہ، سحر انگیز آنکھوں میں دیکھا: "یہ کیسی قید ہے جہاں آپ مجھے بند کر رہے ہیں؟"




ارسلان کے لبوں پر ایک دلکش، شرارت آمیز مسکراہٹ ابھری۔ اس نے زوہا کی نازک ٹھوڑی کو اپنی انگلی سے چھوا:




"یہ محبت کی قید ہے زوہا... اور جہاں تک رہی تمہاری خاطر تواضع کی بات، تو تمہیں کیا لگا؟ ارسلان شاہ اپنی بیوی کو قید میں بھوکا رکھے گا؟"




ارسلان نے پیچھے مڑ کر ٹیبل پر رکھی چاندی کی ٹرے اٹھائی جس پر تازہ پھل، گرما گرم سوپ اور لذیذ کھانے سجے ہوئے تھے۔ وہ کھانا خود لے کر بیڈ کے پاس آیا۔




"آؤ یہاں بیٹھو،" ارسلان نے تحکمانہ انداز میں حکم دیا۔




زوہا چپ چاپ بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ ارسلان اس کے بالکل سامنے اپنے ایک گھٹنے کے بل بیٹھ گیا اور سوپ کا چمچ زوہا کے لبوں کے قریب کیا۔




"میں... میں خود کھا لوں گی،" زوہا نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔




"میں نے جو کہا، چپ چاپ کرو زوہا،" ارسلان نے مصنوعی سختی سے کہا، لیکن اس کی آنکھوں میں بے پناہ پیار تھا۔




زوہا نے خاموشی سے ارسلان کے ہاتھوں سے سوپ کا ایک گھونٹ لیا۔ ارسلان نے اپنے ہاتھ سے سیب کا ایک قاش اٹھایا اور زوہا کو کھلایا




، پھر زوہا کے لبوں کے کنارے پر لگے سوپ کے قطرے کو اپنے انگوٹھے سے بہت نرمی سے صاف کیا۔




زوہا کا دل اتنی زور سے دھڑکا کہ اس کے گالوں پر گلابی سرخی دوڑ گئی۔ 




اس نے دیکھا کہ ارسلان شاہ—وہ شخص جس سے پورا شہر کانپتا تھا—اس وقت کتنے پیار اور نزاکت سے اس کی خاطر داری کر رہا تھا۔




---


رات کا ایک بج رہا تھا۔ فارم ہاؤس کے کمرے میں ہلکی مدہم زرد روشنی پھیلی ہوئی تھی۔


زوہا بیڈ پر ڈریسنگ گاؤن پہنے بیٹھی تھی اور اپنے ہاتھوں پر لوشن لگا رہی تھی، 


جبکہ ارسلان شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھولے کاؤچ پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ پر فرہاد کی رپورٹ دیکھ رہا تھا۔


زوہا نے بار بار ارسلان کے زخمی دائیں بازو کو دیکھا جو اب پٹی میں بندھا ہوا تھا، 


لیکن وہاں درد کی ہلکی سی لہر ارسلان کے چہرے پر دکھائی دے رہی تھی جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔


زوہا خاموشی سے اٹھی، مرہم کی ٹیوب اٹھائی اور ارسلان کے پاس کاؤچ پر جا کر بیٹھ گئی۔


ارسلان نے لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھا کر زوہا کو دیکھا: "کیا ہوا؟ تم سوئی کیوں نہیں؟"


زوہا نے بغیر کچھ کہے ارسلان کا لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا اور اس کا دایاں ہاتھ اپنے دونوں نازک ہاتھوں میں تھام لیا


"آپ اتنی اداکاری کیوں کرتے ہیں؟" زوہا نے خفا ہوتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔


 "کتنا درد ہو رہا ہوگا آپ کو، لیکن آپ ظاہر ہی نہیں ہونے دیتے!"


ارسلان نے اپنی ایک ابرو اٹھائی: "مجھے کوئی درد نہیں ہو رہا زوہا شاہ۔"


"جھوٹ مت بولیں!" زوہا نے روٹھ کر کہا اور بہت احتیاط سے ارسلان کی پٹی پر مرہم لگانے لگی۔


ارسلان شاہ نے زوہا کی اس معصومانہ خفگی اور پروا کو دیکھا، تو اس کے سخت چہرے پر ایک دلکش اور شاطرانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔


"اچھا؟ اگر مجھے واقعی درد ہو رہا ہے... تو اس کی دوا کیا ہے تمہارے پاس؟" ارسلان نے جھک کر زوہا کے بالکل قریب ہو کر پوچھا۔


زوہا کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے گھبرا کر ارسلان کی طرف دیکھا، دونوں کے چہرے ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ ان کی سانسیں اپس میں الجھ رہی تھیں۔


"دوا... دوا تو یہ مرہم ہی ہے،" زوہا نے تتلا کر کہا۔


"غلط..." ارسلان نے اپنے بائیں ہاتھ سے زوہا کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کیا اور اسے ایک جھٹکے میں اپنے گود کے قریب کر لیا!


"آہ!" زوہا کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور اس کا چہرہ ارسلان کے سینے سے ٹکرا گیا۔


"اس کی دوا تم ہو زوہا..." ارسلان کا لہجہ گہرا اور محبت سے لبریز تھا، "جب تم میرے اتنے قریب ہوتی ہو، تو مجھے دنیا کا کوئی درد محسوس نہیں ہوتا۔"


زوہا نے اپنے لب سی لیے اور اس کے سینے پر اپنی ہتھلیاں رکھ دیں۔ اس کا سارا ڈر اور جھجھک ارسلان کی اس حاکمانہ محبت کے سامنے پگھل چکا تھا۔


"آپ بہت برے ہیں ارسلان..." زوہا نے اس کی شرٹ کو بھیچتے ہوئے مدہم آواز میں کہا۔


"اور تم میری ہو..." ارسلان نے جھک کر زوہا کے رخسار پر اپنے گرم لب رکھ دیے، جس سے زوہا نے اپنی آنکھیں کس کے بند کر لیں۔


اسی لمحے، ارسلان کے فون کی رینگ ٹون بج اٹھی!


زوہا نے فوراً پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، لیکن ارسلان نے اسے اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیا۔ 


اس نے ایک ہاتھ سے زوہا کو خود سے لگائے رکھا اور دوسرے ہاتھ سے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔


"بولو فرہاد..." ارسلان نے سنجیدہ آواز میں کہا۔


"سر! شاہد صداقت کا سراغ مل گیا ہے!" فرہاد کی آواز فون سے گونجی، "وہ صحرا کی پرانی بارود فیکٹری میں چھپا ہوا ہے 


اور اپنے اخری بندوں کے ساتھ باہر بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہم نے علاقے کو گھیرنا شروع کر دیا ہے۔"


ارسلان شاہ کی آنکھوں میں ایک دم اندھیرا چھا گیا، اس کی رنگت سخت ہو گئی:


"میں آ رہا ہوں فرہاد! اس حساب کو اب میں خود اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گا۔"


ارسلان نے فون کاٹا اور زوہا کو دیکھا جو اب خوفزدہ آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی



"آپ پھر جا رہے ہیں؟" زوہا کے لہجے میں فکر اور التجا تھی۔


ارسلان نے کھڑے ہو کر اپنے پسٹل ہولسٹر کو درست کیا اور زوہا کے پاس آ کر اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما:


"آخری بار زوہا... صرف اس سانپ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے۔ اس کے بعد، ہماری زندگی میں صرف سکون ہوگا اور تم ہوگیا۔"


ارسلان نے زوہا کی پیشانی کو چوما، اور گارڈز کو فارم ہاؤس کی فولادی سیکیورٹی کی ہدایت دیتے ہوئے طوفان کی طرح باہر نکل گیا۔ 


زوہا بیڈ کے پاس کھڑی، دل میں اپنے شوہر کی سلامتی کے لیے دعائیں مانگنے لگی...



---

صحرا کے پرانے، ویران حصے میں واقع خستہ حال بارود فیکٹری کی عمارت اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ 




ہوا کی سنسناہٹ ریت کے ذروں کو دیواروں سے ٹکرا رہی تھی، اور فضا میں ایک عجیب سی خوفناک خاموشی تھی۔




عمارت کے مرکزی ہال کے اندر، شاہد صداقت بدحواسی کی حالت میں اپنے تین آخری شوٹرز پر چیخ رہا تھا:




"جلدی کرو! گاڑی کے اندر سارا کیش اور پاسپورٹ رکھو! ارسلان شاہ کے آدمی کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے ہیں!"




"وہ کسی اور وقت نہیں شاہد صداقت... وہ پہنچ چکے ہیں!"




ایک گرجدار، جابرانہ اور سرد آواز پورے ہال میں گونج اٹھی!




*بام!*




فیکٹری کا زنگ آلود لوہے کا بھاری دروازہ ایک ہی زبردست کک کے ساتھ ٹوٹ کر اندر جا گرا!




دھوئیں اور گرد و غبار کے طوفان میں سے ارسلان شاہ نمودار ہوا۔ اس نے سیاہ لانگ کوٹ زیب تن کر رکھا تھا، سیاہ آنکھوں میں بلا کا جلال اور جنون تھا




، اور بائیں ہاتھ میں چمکتی ہوئی سیاہ پسٹل تھی۔ اس کے پیچھے فرہاد اور دس مسلح، ٹرین سیکیورٹی اہلکار جدید رائفلیں تانے اندر داخل ہوئے۔




شاہد صداقت کا رنگ زرد پڑ گیا، اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں: "ار... ارسلان شاہ!"




ارسلان نے اپنے نپے تلے، شاہانہ قدم اٹھاتے ہوئے شاہد صداقت کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ اس کے دائیں بازو پر بندھی سفید پٹی پر ہلکے سے سرخ دھبے چمک رہے تھے، 




لیکن اس کے چہرے پر درد کا کوئی نام و نشان نہیں تھا—صرف ایک درندہ صفت سکون تھا۔




"تم نے سوچا تھا کہ تم شاہد صداقت... ارسلان شاہ کی بیوی پر ہاتھ ڈالو گے 




اور اس صحرا کی ریت میں روپوش ہو جاؤ گے؟" ارسلان کا لہجہ اتنا ٹھنڈا تھا کہ ہال کا درجہ حرارت جیسے منفی میں چلا گیا۔




"مارو اسے!" شاہد صداقت نے بدحواسی میں چیخ کر اپنے شوٹرز کو حکم دیا۔




شوٹرز نے جیسے ہی اپنی پسٹلز اٹھائیں، فرہاد اور ارسلان کی گنز سے پے در پے گولیاں نکلیں!




*تھپ! تھپ! تھپ!*




چند ہی سیکنڈز میں شاہد صداقت کے تمام شوٹرز فرش پر خون میں لت پت ہو کر ڈھیر ہو گئے۔




شاہد صداقت نے بھاگنے کی کوشش کی اور زمین پر پڑی ایک گن کی طرف جھکا، 




لیکن ارسلان نے ایک ہی چھلانگ میں اس کی گردن کو اپنے بائیں ہاتھ کی لوہے جیسی گرفت میں دبوچ لیا اور اسے بھاری سیمنٹ کے ستون سے جا ٹکرایا!




*کتھ!*




شاہد صداقت کے منہ سے خون کا فوارہ چھوٹ پڑا۔




"آہہہ! ارسلان... مجھے... چھوڑ دو..." شاہد صداقت کا سانس اٹک رہا تھا۔




ارسلان نے اپنی پسٹل کا نچلا حصہ شاہد صداقت کے چہرے پر دے مارا، جس سے اس کے دانت ٹوٹ گئے اور وہ درد سے چیخ اٹھا۔




"ہانیہ افغانی کے ساتھ کیے گئے تمہارے مظالم... میری کمپنی کے خلاف سازشیں... اور زوہا کے چہرے پر لایا گیا خوف کا ایک ایک آنسو..." 




ارسلان نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے کہا، "آج اس کا حساب چُکانے کا وقت آ گیا ہے۔"




---




ارسلان شاہ نے شاہد صداقت کو بغیر کسی رحم کے زمین پر پٹخ دیا اور اپنا بوٹ اس کی گردن پر رکھ کر کس دیا۔




"فرہاد!" ارسلان نے ٹھنڈی آواز میں کہا۔




"جی سر!" فرہاد آگے بڑھا۔




"ہانیہ افغانی کی اصلی ڈائری، اور شاہد صداقت کی بلیک میلنگ اور معصوم لڑکیوں کی خرید و فروخت کا تمام ڈیجیٹل ریکارڈ نیب اور پولیس کے آئی جی کو ابھی ہینڈ اوور کرو۔"




اسی وقت باہر سائرن بجاتے ہوئے پولیس کی دس گاڑیاں اور اینٹی ٹیررازم اسکواڈ کی ٹیمیں فیکٹری کو گھیر چکی تھیں۔ ہادی پولیس کمانڈر کے ساتھ اندر داخل ہوا۔




"ارسلان! پولیس فورس آ گئی ہے!" ہادی نے اونچی آواز میں کہا۔




پولیس کے ایس ایس پی نے آگے بڑھ کر ارسلان سے ہاتھ ملایا: "مسٹر ارسلان شاہ! آپ نے اس خطرناک مجرم کو پکڑ کر قانون کی بہت بڑی مدد کی ہے۔




 تمام ثبوت پولیس کی تحویل میں آ چکے ہیں، اب شاہد صداقت کو عمر قید اور پھانسی کی سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا!"




ارسلان نے اپنے بوٹ کو شاہد صداقت کی گردن سے ہٹایا۔ شاہد صداقت خون میں لت پت، زمین پر گھسٹتا ہوا




 ارسلان کے پیروں کے پاس گرا ہوا تھا، اس کا غرور اور حاکمیت اب ہمیشہ کے لیے خاک میں مل چکی تھی۔




ارسلان نے اس کی طرف دیکھے بغیر اپنے کوٹ کا بٹن بند کیا اور فرہاد سے بولا: 




"اس کتے کو لے جاؤ میری نظروں کے سامنے سے... اور یقینی بناؤ کہ یہ اپنی باقی کی پوری زندگی جیل کی اندھیری کوٹھڑی میں سڑتا رہے۔"




پولیس اہلکاروں نے شاہد صداقت کو ہتھکڑیاں لگائیں اور گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔




ہادی نے ارسلان کے شانے پر ہاتھ رکھا: "شکر ہے ارسلان... آج صحرا کی ریت میں دبے سارے راز باہر آ گئے، اور تمام خطرات ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے۔"




ارسلان نے اپنی سیاہ آنکھیں بند کر کے ایک گہرا اور پرسکون سانس لیا۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی عکس ابھرا—**زوہا**۔




"مجھے فارم ہاؤس واپس جانا ہے ہادی..." ارسلان کے سخت لہجے میں پہلی بار ایک عجیب سی جلدی اور نرمی تھی، "میری زوہا میرا انتظار کر رہی ہے۔"




---




رات کے تین بج رہے تھے۔ صحرائی فارم ہاؤس کی فضا بالکل پرسکون اور معطر تھی۔




زوہا بیڈ روم کی کشادہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی، اس کی نظریں مسلسل باہر مرکزی راستے پر لگی ہوئی تھیں۔ 




اس کے ہاتھ مسلسل دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے اور اس کا دل اپنے شوہر کے تحفظ کے لیے دھڑک رہا تھا۔




اچانک باہر سیکیورٹی گارڈز کا اشارہ ہوا اور سیاہ گاڑی کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔




زوہا کے قدم خود بخود دروازے کی طرف اٹھے۔




اسی لمحے ماسٹر سوئیٹ کا بھاری لکڑی کا دروازہ ہولے سے کھلا۔




ارسلان شاہ اندر داخل ہوا۔ اس کا سیاہ کوٹ اس کے ہاتھ میں تھا، شرٹ کے اوپر کے دو بٹن کھلے تھے،




 اور چہرے پر تھکن کے باوجود ایک فاتحانہ سکون اور بے پناہ محبت چمک رہی تھی۔




"ارسلان!"




زوہا کے منہ سے ایک خوشگوار چیخ نکلی۔ وہ اپنے تمام ڈر، تمام تحفظات اور شرم کو ہوا میں اڑاتی ہوئی، بھاگتی ہوئی سیدھا ارسلان کے سینے سے جا لگی!




اس نے ارسلان کی گردن کے گرد اپنے دونوں بازو کس کر پھیلا دیے اور اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا کر سسکنے لگی۔




ارسلان نے اپنے سیاہ کوٹ کو نیچے گرنے دیا اور اپنے دونوں بازؤوں سے—اپنے زخمی ہاتھ کی پروا کیے بغیر—زوہا کے نازک وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا کر اپنے سینے سے بالکل بھیچ لیا


"زوہا... بس... میں آ گیا ہوں..." ارسلان کا لہجہ حد درجہ مدہم اور محبت سے لبریز تھا۔


زوہا نے اپنے بھیگے ہوئے چہرے کو اوپر اٹھایا اور ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں دیکھا: "آپ... آپ بالکل ٹھیک ہیں نہ؟ وہ... وہ روپوش دشمن؟"


ارسلان کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔ اس نے زوہا کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما


 اور اس کے بھیگے ہوئے گالوں کو اپنے انگوٹھوں سے صاف کیا:


"کھیل ختم ہو گیا ہے زوہا شاہ... شاہد صداقت اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔ 


اب کوئی تم پر آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا... کوئی تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا۔"


زوہا نے ارسلان کے سینے پر اپنا ہاتھ رکھا، جہاں اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔


"مجھے پتا تھا... مجھے اپنے ارسلان پر پورا یقین تھا،" زوہا نے مسکرا کر کہا، اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑے۔


---


ارسلان نے زوہا کو اپنی باہوں میں اٹھائے رکھا اور قدم بڑھا کر اسے نرم و نازک بیڈ پر لٹا دیا۔ 


وہ خود بھی اس کے ساتھ بیڈ پر جھک گیا، دونوں کے درمیان فاصلہ اب بالکل ختم ہو چکا تھا۔


زوہا نے شرما کر اپنی نظریں جھکا لیں۔


"تم نے اب تک میرا ایک بھی حکم نہیں مانا زوہا..." ارسلان نے اس کے کان کے پاس جھک کر مدہم، حاکمانہ آواز میں کہا۔


"میں نے... میں نے کیا نہیں مانا؟" زوہا نے گھبرا کر پوچھا۔


"میں نے تمہیں کہا تھا کہ رویا مت کرو..." ارسلان کی انگلی زوہا کے گلابی لبوں پر تری، "لیکن تم ہر بات پر اپنے یہ موتی جیسے آنسو بہانا شروع کر دیتی ہو۔"


"تو میں کیا کروں؟ مجھے آپ کی فکر ہوتی ہے!" زوہا نے روٹھنے کا ڈراما کرتے ہوئے رخ موڑنا چاہا۔


ارسلان نے فوراً اس کا رخ اپنی طرف موڑا اور اس کے گال کو اپنے چہرے سے چھوتے ہوئے بولا: "


اگر مجھے معلوم ہوتا کہ زخمی ہونے پر مجھے اپنی بیوی کی اتنی محبت اور فکر ملے گی... تو میں روز اپنے آپ کو زخمی کرواتا۔"


"ارسلان!" زوہا نے تڑپ کر اس کے منہ پر اپنا نازک ہاتھ رکھ دیا، "خبردار جو آئندہ کبھی ایسی بات کی!"


ارسلان نے اس کے ہاتھ پر اپنے لب رکھے اور زوہا کی آنکھوں میں جھانکا: "تم میری رو ح ہو زوہا... اور میں اپنی روح کو کبھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔"


زوہا کا دل ارسلان کے اس اقرار پر خوشی سے بھر گیا۔ اس نے ارسلان کے سینے پر سر رکھ دیا، اور ارسلان نے اس کے گرد اپنی باہوں کا حصار اور مضبوط کر لیا۔


شام کی خوفناک جنگ کے بعد، اب اس کمرے میں صرف ان دو دلوں کی دھڑکنیں اور پیار کی حسین برسات باقی تھی...



---

ک مہینہ بیت چکا تھا...




انصاف کی گھڑی آ پہنچی تھی اور انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت کا ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ 




میڈیا کے نمائندے، سیکیورٹی اہلکار اور شہر کے معززین عدالت میں موجود تھے۔




کٹہرے میں شاہد صداقت کھڑا تھا—وہی شاہد صداقت جو کبھی اپنی دولت اور اثر و رسوخ کے زعم میں خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا تھا، 




آج ہتھکڑیوں میں جکڑا، زرد چہرے اور جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ سزا کا منتظر تھا۔ 




اس کے کپڑے میلے تھے اور اس کے چہرے پر خوف کے سائے صاف نمایاں تھے۔




سامنے فرنٹ رو میں ارسلان شاہ سیاہ سوٹ میں ملبوس، اپنے روایتی شاہانہ اور روبدار انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔ 




اس کے ایک طرف ہادی اور دوسری طرف فرہاد کھڑے تھے۔ ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں ایک گہرا فاتحانہ سکون تھا۔




جج صاحب نے عدالتی کارروائی کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد پین کی نوک پر زور دیتے ہوئے حتمی فیصلہ سنانا شروع کیا:




"عدالت، ہانیہ افغانی کیس کے تمام شواہد، شاہد صداقت کے خلاف فراہم کردہ ڈیجیٹل ریکارڈز، شاہ ولا اور صحرائی حویلی پر حملوں کے ناقابل تردید ثبوتوں کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچی 




ہے کہ ملزم شاہد صداقت پر ملک دشمن سرگرمیوں، قتل کی سازشوں اور اغوا کے تمام الزامات ثابت ہوتے ہیں۔"




جج صاحب نے چند سیکنڈ کا وقفہ لیا اور پھر گرجدار آواز میں کہا:




"لہٰذا، یہ عدالت ملزم شاہد صداقت کو **سزائے موت (Death Sentence)** کا حکم سناتی ہے!"




*تھپ! تھپ! تھپ!*




پورا کورٹ ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ شاہد صداقت کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور وہ وہیں کٹہرے میں گرنے لگا، 




لیکن پولیس اہلکاروں نے اسے گھسیٹ کر کھڑا کر دیا۔ جیسے ہی اسے باہر لے جایا جانے لگا، اس کی نظر ارسلان شاہ پر پڑی۔




ارسلان اپنی جگہ سے اٹھا، اپنے کوٹ کا بٹن بند کیا اور شاہد صداقت کے بالکل سامنے آ کر رکا۔




"میں نے تم سے کہا تھا شاہد صداقت..." ارسلان کی دھیمی اور دھار دار آواز گونجی، "




ارسلان شاہ سے ٹکرانے والوں کا نام و نشان اس زمین سے مٹ جاتا ہے۔ تمہاری کہانی اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔"




شاہد صداقت نے خوف اور حسرت سے ارسلان کو دیکھا اور پولیس اسے گھسیٹتی ہوئی جیل کی اندھیری کوٹھڑی کی طرف لے گئی، جہاں پھانسی کا پھندا اس کا منتظر تھا۔




عدالت سے باہر نکلتے ہی ہادی نے مسکرا کر ارسلان کے شانے پر تھپکی دی: "




آج بالاخر وہ باب بند ہو گیا ارسلان۔ صحرا کی ریت نے اپنے اندر چھپے سارے راز اگل دیے اور حق کی جیت ہوئی۔"




"ہاں ہادی... اور اب زندگی کا نیا اور پرسکون سفر شروع ہوگا،" ارسلان نے مسکرا کر دور آسمان کی طرف دیکھا۔




---




ایک مہینے کے طویل تناؤ کے بعد شاہ ولا کی فضا آج خوشگواری اور رونق سے معطر تھی۔ 




عصر کے بعد کا وقت تھا، دھوپ ڈھل چکی تھی اور شاہ ولا کے وسیع و عریض سبزہ زار (لان) میں ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔




لان کے وسط میں ہادی، فرہاد اور ارسلان نے کرکٹ کا سیٹ اپ لگا رکھا تھا۔




ہادی نے اپنے کوٹ کو اتار کر کرسی پر پھینکا اور آستینیں اوپر چڑھاتے ہوئے وکٹ پر جا کھڑا ہوا، 




اس کے ہاتھ میں لکڑی کا بیٹ تھا اور چہرے پر شرارت آمیز مسکراہٹ:




"ہاں بھی فرہاد! آج تمہاری بولنگ کا پرزہ پرزہ ڈھلا کروں گا۔ بال کرواؤ ذرا، دیکھوں تم میں کتنا دم ہے!"




فرہاد نے اپنے ہاتھ میں چمکتی ہوئی ٹینس بال کو گھمایا اور منہ بنا کر بولا: "




ہادی بھائی! باتیں کم بنائیں اور وکٹ سنبھالیں۔ اگر پہلی ہی بال پر بولڈ نہ کیا تو میرا نام بھی فرہاد نہیں۔"




ارسلان لان کے کنارے ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھا، کیژول سفید شرٹ اور سیاہ پتلون میں ملبوس، 




اپنے ہاتھوں میں کافی کا مگ تھامے ان دونوں بچوں جیسی حرکتوں پر ہلکا سا مسکرا رہا تھا۔




فرہاد نے لمبا رن اپ لیا اور تیزی سے بھاگتا ہوا آیا۔ اس نے زبردست سپیڈ سے بال کروائی!




*سوئش!*




ہادی نے شاندار انداز میں بلا گھمایا اور بال سیدھی جا کر ارسلان کے مگ سے چند انچ دور لان میں گری!




"یہ دیکھا تم نے؟" ہادی نے ہوا میں بلا لہراتے ہوئے نعرہ لگایا، "اسے کہتے ہیں کلاسیک شاہی شاٹ!"




"اوہو ہادی بھائی! یہ تکا تھا، اصلی شاٹ اب دکھائیں۔" فرہاد نے غصے سے بال واپس اٹھائی۔




ارسلان نے کافی کا مگ سائیڈ پر رکھا، کھڑا ہوا اور اپنی آستینیں موڑتے ہوئے بولا: "ہٹاؤ فرہاد... تم سے بولنگ نہیں ہو رہی، بال مجھے دو۔"




"لو جی! اب آ گئے ہمارے کپتان فیلڈ میں!" ہادی نے مزاق بناتے ہوئے کہا




، "شاہ صاحب ، ہاتھ کا زخم اب بالکل ٹھیک ہو گیا ہے نہ؟ کہیں پہلی بال کے ساتھ ہی ڈاکٹر کو نہ بلانا پڑ جائے!"




ارسلان نے ایک ٹھنڈی گھور سے ہادی کو دیکھا: "ہادی... خاموشی سے وکٹ سنبھالو، ورنہ یہ بال تمہاری کھوپڑی پر لگے گی۔"




ارسلان نے تھوڑا سا رن اپ لیا اور اپنی مخصوص جابرانہ توازن کے ساتھ زبردست سپن بال پھینکی۔




*کھٹ!*




بال ہادی کے بلے کا کنارا چھوتی ہوئی سیدھی پیچھے رکھی وکٹ پر جا لگی اور اسٹمپس ہوا میں اڑ گئے۔




"آؤٹ!" فرہاد خوشی سے چیخا اور ہادی کے گرد ناچنے لگا،آؤٹ ہو گئے! چلیں اب بیٹنگ میری ہے!"




ہادی نے منہ بنا کر بیٹ زمین پر رکھا: "یہ بال ہی خراب تھی! ارسلان تم نے چیٹنگ کی ہے، یہ سپن نہیں ڈائریکٹ جادو تھا۔"




ارسلان نے مسکرا کر اپنا سر نفی میں ہلایا: "ہار ماننا سیکھو ہادی۔"




تینوں  کے اس قہقہوں اور نوک جھونک کی آواز سے پورا ولا گونج رہا تھا۔ 




کچھ دیر کھیلنے کے بعد فرہاد اور ہادی گھڑی دیکھ کر اٹھے۔




"چلو بھائی، میری ایک اہم میٹنگ ہے، میں نکلتا ہوں،" فرہاد نے اپنی گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کہا۔




"اور مجھے بھی بزنس پروجیکٹ کی فائلز دیکھنی ہیں،" ہادی نے ارسلان سے ملتے ہوئے کہا،




 "ارسلان! اب بھابھی کے ساتھ وقت گزارو، ہم چلتے ہیں۔"




دونوں مسکراتے ہوئے اپنے گاڑیوں کی طرف بڑھ گئے اور ولا کے پورچ سے باہر نکل گئے۔




---




ہادی اور فرہاد کے جاتے ہی لان میں خاموشی چھا گئی۔ ارسلان نے وکٹیں اور بال اٹھا کر ایک سائیڈ پر رکھنا شروع کیں 




کہ اچانک پیچھے سے ایک نرم اور پیاری سی آواز آئی:




"ارسلان...؟"




ارسلان نے مڑ کر دیکھا۔ زوہا ہلکے گلابی رنگ کے سادہ اور خوبصورت سوٹ میں ملبوس، کھلے بالوں کے ساتھ لان کی گھاس پر چہل قدمی کرتی ہوئی اس کی طرف آ رہی تھی۔ 




اس کے چہرے پر ایک معصومانہ چمک اور ہلکی سی شرارت تھی۔




"تم باہر کب آئیں؟" ارسلان نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھا۔




"میں کافی دیر سے بالکونی سے آپ تینوں کا میچ دیکھ رہی تھی،" زوہا نے اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجا کر کہا




 اور زمین پر پڑا لکڑی کا بلا (بیٹ) اٹھا لیا، "آپ نے ہادی بھائی کو اتنی جلدی آؤٹ کر دیا... ویسے، مجھے بھی کرکٹ کھیلنی ہے!"




ارسلان نے اپنی ایک ابرو اٹھائی، اس کی سیاہ آنکھوں میں ایک شاطرانہ مسکراہٹ ابھری




: "تمہیں؟ کرکٹ؟ ۔۔۔۔۔۔۔زوہا شاہ... کیا تمہیں بال پکڑنا بھی آتی ہے؟"




زوہا نے روٹھ کر اپنا منہ دوسری طرف کیا اور بیٹ کو شانے پر رکھا: 




"آپ مجھے کمزور سمجھ رہے ہیں؟ مجھے سب آتا ہے! آپ مجھے بال کروا کے تو دیکھیں۔"




ارسلان نے ہلکا سا قہقہہ لگایا—ایک ایسا کھلم کھلا قہقہہ جو صرف زوہا کے سامنے ہی اس کے لبوں پر آتا تھا۔ 




اس نے زمین سے بال اٹھائی اور وکٹ سے کچھ قدم دور جا کر کھڑا ہو گیا۔




"ٹھیک ہے، اگر تم کہتی ہو تو..." ارسلان نے مسکرا کر کہا، "لیکن میری بال کا سامنا کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا مسز ارسلان شاہ۔"




"آپ بس بال کروائیں!" زوہا نے بڑے غرور سے بیٹ کو وکٹ کے سامنے ٹکایا اور پوزیشن لی۔




ارسلان نے بہت ہی آہستہ اور معصومانہ رفتار سے بال زوہا کی طرف پھینکی تاکہ اسے کوئی چوٹ نہ لگے۔ بال بالکل سیدھی اور دھیمی آئی۔




زوہا نے پورے زور سے بیٹ گھمایا—*سوئش!*


لیکن بیٹ ہوا میں گھوم گیا اور بال سیدھی جا کر اس کی وکٹ سے ٹکرا گئی! *تھپ!*


ارسلان نے اپنے دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے اور ایک دلکش فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ زوہا کو دیکھا


 "پہلی ہی بال پر آؤٹ! مسز ارسلان شاہ کی کرکٹ اننگز کا اختتام ہو گیا۔"


زوہا نے حیرت سے اپنے پیچھے گری ہوئی وکٹ کو دیکھا، پھر ارسلان کو جو اس کا مذاق اڑا رہا تھا


۔ اس کے گال شرم اور خفگی سے سرخ ہو گئے۔


"یہ... یہ کوئی بات نہیں ہوئی!" زوہا نے فوراً بیٹ کو سیدھا کیا اور وکٹ دوبارہ کھڑی کی


، "یہ تو ٹرائل بال (Trial Ball) تھی! پہلی بال ہمیشہ ٹرائل ہوتی ہے، یہ کاؤنٹ نہیں ہوگی!"


ارسلان کے لبوں پر مسکراہٹ اور گہری ہو گئی، وہ زوہا کے بالکل قریب آ کر رکا: "ٹرائل بال؟ 


بین الاقوامی کرکٹ کے کس قانون میں لکھا ہے کہ پہلی بال ٹرائل ہوتی ہے؟"


"زوہا شاہ کے قانون میں لکھا ہے!" زوہا نے ضد کرتے ہوئے کہا 


اور ارسلان کے سینے پر اپنی چھوٹی سی مٹھی سے ہلکا سا مکا مارا، "آپ دوبارہ بال کروائیں گے، اور اس بار بالکل سیدھی!"


ارسلان نے زوہا کا وہ نازک ہاتھ اپنی مضبوط ہتھیلی میں تھام لیا اور اسے اپنے بالکل قریب کھینچ لیا۔ 


زوہا کی سانسیں ارسلان کی گرم سانسوں سے ٹکرانے لگی۔


"اگر میں دوبارہ بال کرواؤں... اور تم پھر آؤٹ ہو گئیں، تو مجھے کیا انعام ملے گا؟" 


ارسلان نے اس کے کان کے پاس جھک کر مدہم، حاکمانہ آواز میں پوچھا۔


زوہا کا دل زور سے دھڑکا، اس نے ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں چھپی محبت اور شرارت دیکھی۔


"اگر... اگر میں آؤٹ نہیں ہوئی تو؟" زوہا نے ہمت کر کے پوچھا۔


"تو جو تم مانگو گی، ارسلان شاہ تمہارے قدموں میں رکھ دے گا،" ارسلان کا لہجہ گہرا اور دلکش تھا۔


"اور اگر میں آؤٹ ہو گئی...؟" زوہا نے دھیمی آواز میں پوچھا۔


ارسلان نے جھک کر زوہا کے گلابی گال کو اپنے لبوں سے چھوا اور مسکرا کر بولا: "تو پھر تم مجھے ساری زندگی اپنی اس محبت کی قید میں رکھو گی..."


زوہا نے شرما کر اپنا چہرہ ارسلان کے مضبوط سینے میں چھپا لیا۔ ارسلان نے اسے اپنے دونوں بازوؤں کے حصار میں دبوچ لیا۔ 


لان میں پھیلی ٹھنڈی ہوائیں ان دونوں کی بے پناہ محبت، سکون اور خوشیوں کی گواہ بن رہی تھیں۔


ان کی زندگی کے تمام طوفان، دشمن اور راز اب ختم ہو چکے تھے... 


اور صحرا کی ریت پر صرف ان کی محبت کا ابدی راز لکھا جا چکا تھا۔


---


شاہ ولا کے وسيع و عریض سبزہ زار (لان) میں عصر کا خوشگوار وقت تھا۔ 




ہلکی ٹھنڈی ہوا ریت کی خوشبو اپنے ساتھ لا رہی تھی، اور لان کی سرسبز گھاس پر ارسلان شاہ اور اس کا جگری دوست ہادی صوفوں پر براجمان تھے۔




ارسلان سیاہ کیژول شرٹ اور پتلون میں ملبوس، اپنے ہاتھوں میں کافی کا مگ تھامے نہایت پُرسکون نظر آ رہا تھا۔ 




جبکہ ہادی، جو ہمیشہ کی طرح اپنے چہرے پر رونق لیے ہوئے تھا، آج کچھ زیادہ ہی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔




"ارسلان یار!" ہادی نے اچانک گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی، "




تیری اور زوہا بھابھی کی یہ ہنستی مسکراتی جوڑی دیکھ کر نا... اب میرا دل بھی تھوڑا تھوڑا پگھلنے لگا ہے۔"




ارسلان نے چائے کا گھونٹ لیا اور ایک ابرو اٹھا کر اپنے دوست کو دیکھا: 




"اوہو! تو آپ صاحب کو بھی بالاخر کسی کی کمی محسوس ہونے لگی ہے؟"




"کمی کیا یار... پورا خلا محسوس ہو رہا ہے!" ہادی نے منہ بنا کر، انتہائی مظلومانہ انداز میں کہا،




 "شاہد صداقت کا کیس ختم، تمام مسئلے حل... اب تو بندہ تھوڑا سیٹل ہونے کا سوچے۔ 




لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مجھے اپنے معیار کی کوئی لڑکی مل ہی نہیں رہی! جس کو دیکھتا ہوں، یا تو وہ میری ڈرائنگ اور بزنس سینس سے ڈر جاتی ہے،




 یا پھر اسے میرے اس خوبصورت چہرے میں کوئی نہ کوئی نقص نظر آ جاتا ہے۔"




ارسلان کے لبوں پر ایک دلکش اور شاطرانہ مسکراہٹ ابھری۔ اس نے کافی کا مگ ٹیبل پر رکھا اور ہادی کے شانے پر تھپکی دی:




"ہادی... مسئلہ لڑکی میں نہیں ہے، مسئلہ تیرے اندر ہے۔ دن میں چوبیس گھنٹے تو نوک جھونک اور مذاق کرتا رہتا ہے




، کون سی سمجھدار لڑکی اپنا ہاتھ تیرے جیسے سرپھرے کے ہاتھ میں دے گی؟"




"توبہ ہے ارسلان!" ہادی نے دل پر ہاتھ رکھا، "دوست ہے یا میرا دشمن؟ 




ایک تو میں تجھ سے مشورہ مانگ رہا ہوں اور تو میری ہی عزت کا فالودہ بنا رہا ہے۔ 




زوہا بھابھی سے ہی کہنا پڑے گا کہ وہ میرے لیے کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈیں، تم سے تو کوئی امید رکھنا ہی بیکار ہے۔"




"اگر زوہا نے تیرے لیے کوئی لڑکی ڈھونڈ بھی لی نہ ہادی،" ارسلان نے ہنس کر کہا، "




تو میں اس لڑکی کو پہلے ہی وارن کر دوں گا کہ یہ صاحب رات کو بھی بزنس پلانز کے خواب دیکھتے ہیں!"




دونوں کا قہقہہ فضا میں گونج اٹھا۔ ہادی نے مصنوعی غصے سے تکیہ اٹھا کر ارسلان کی طرف پھینکا، جسے ارسلان نے آسانی سے ہوا میں ہی کیچ کر لیا۔ 




دوستی کا یہ حسین لمحہ ان دونوں کے برسوں پرانے مخلص رشتے کا شاہکار تھا۔




کچھ دیر مزید مذاق مستی کے بعد ہادی گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے کھڑا ہوا: 




"چلو بھیا! میں نکلتا ہوں، تم اپنی بیگم کے پاس جاؤ ورنہ وہاں بھی میری وجہ سے تمہاری کلاس لگ جائے گی۔"




"خدا حافظ دوست!" ارسلان نے مسکرا کر کہا اور ہادی پورچ کی طرف بڑھ گیا۔




---۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




ہادی کے جاتے ہی شاہ ولا کے ماسٹر سوئیٹ میں خاموشی چھا گئی۔ 




سٹڈی روم کا دروازہ جیسے ہی کھلا، سامنے زوہا کھڑی تھی—وہ سفید اور سنہری کمبائنیڈ روایتی لباس میں کسی حور کی طرح چمک رہی تھی۔ 




کھلے سیاہ بال اس کی کمر پر لہرا رہے تھے، لیکن اس کے چہرے پر ہلکی سی خفگی اور منہ پھولا ہوا تھا!




ارسلان نے اپنی ایک ابرو اٹھائی اور اپنے نپے تلے شاہانہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے بالکل قریب آ کر رکا۔




"مسز ارسلان شاہ کا چہرہ صبح صبح کیوں سُوجا ہوا ہے؟" 




ارسلان نے اس کی گردن کے پاس جھک کر گہری اور سحر انگیز آواز میں پوچھا۔




زوہا نے فوراً رخ دوسری طرف موڑ لیا اور اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے: "آپ پھر آفس جا رہے ہیں! 




آپ نے کہا تھا کہ شاہد صداقت کے کیس کے بعد آپ مجھے گھمانے لے جائیں گے،




 لیکن آپ کے پاس تو اپنی فائلوں اور ہادی بھائی سے باتیں کرنے کے علاوہ کوئی وقت ہی نہیں ہے!"




ارسلان کے لبوں پر ایک فاتحانہ اور انتہائی دلکش مسکراہٹ ابھری۔ 




اس نے بغیر ایک لمحہ ضائع کیے زوہا کی نازک کمر کے گرد اپنا بایاں بازو پھیلا کر اسے ایک ہی جھٹکے میں اپنے سینے سے بالکل بھیچ لیا!




"آہ!" زوہا کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی اور اس کی ہتھلیاں ارسلان کے مضبوط سینے پر ٹک گئیں۔




"تمہیں کیا لگتا ہے زوہا... کہ ارسلان شاہ اپنا وعدہ بھول جائے گا؟" ارسلان کا لہجہ حد درجہ حاکمانہ مگر محبت سے لبریز تھا، "




آج شام شاہ انڈسٹریز کی گرینڈ ریسیپشن اور ہماری فتح کی خوشی کی پارٹی ہے... 




اور کل صبح میری اور تمہاری فلائٹ سویٹزرلینڈ کے لیے ہے۔"




زوہا کی آنکھیں حیرت اور خوشی سے پھیلا گئیں: "کیا... واقعی؟"




"ارسلان شاہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا،" ارسلان نے جھک کر زوہا کے رخسار پر اپنے گرم لب رکھے، جس سے زوہا کے پورے وجود میں سنسنی دوڑ گئی، "




اور اب اگر تم نے یوں روٹھ کر اپنا چہرہ بنایا... تو میں تمہیں اس روم میں بند کر کے فلائٹ بھی کینسل کر دوں گا۔"




"نہیں نہیں!" زوہا نے گھبرا کر اس کے کوٹ کو بھیچ لیا اور مسکرا دی، اس کے گالوں پر گلابی سرخی دوڑ گئی، "میں بالکل بھی نہیں روٹھ رہی!"




ارسلان نے اس کی پیشانی کو چوما: "یہی میری زوہا ہے۔ شام کی پارٹی کے لیے تیار رہنا... آج میری بیوی کو اس شہر کی سب سے حسین ملکہ دکھنا ہے۔"




---۔۔۔۔۔۔۔۔۔




رات کو شاہ ولا کا شاندار لان اور ہال روشنیوں، پھولوں اور پرتعیش سجاوٹ سے دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔




شہر کے تمام بڑے بزنس مین، وزرا، میڈیا اور شاہ خاندان کے تمام وفادار اور قریب ترین لوگ جمع تھے۔ 




پریس اور میڈیا کے کیمروں کی فلیش لائٹس مسلسل چمک رہی تھیں۔




ہادی اور فرہاد سیاہ سوٹس میں ملبوس تمام مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔




اچانک ہال میں ایک گہرا سکون چھا گیا اور تمام کیمروں کے رخ مرکزی سیڑھیوں کی طرف ہو گئے۔




سیڑھیوں کے اوپر سے ارسلان شاہ اور زوہا نیچے اتر رہے تھے۔




ارسلان شاہ بے حد نفییس، رائل بلیک سوٹ میں ایک بادشاہ کی طرح لگ رہا تھا، 




اور اس کے ساتھ زوہا نے گہرے سرخ اور زری کے کام سے مزین شاہانہ لٹکا ڈریس پہن رکھا تھا، 




جس میں وہ بلا کی خوبصورت نظر آ رہی تھی۔ ارسلان نے زوہا کا ہاتھ اپنی مضبوط، محافظانہ گرفت میں تھام رکھا تھا۔




ہال تالیوں کی گونج سے کانپ اٹھا۔




میڈیا کے نمائندوں نے ارسلان شاہ کی طرف مائیک آگے کیے: "مسٹر ارسلان شاہ! آپ نے دشمن کا خاتمہ کر کے اپنی سلطنت اور اپنے خاندان کی عزت کو بچایا ہے، آج کے اس دن آپ کیا کہنا چاہیں گے؟"




ارسلان شاہ نے تمام کیمروں کے سامنے زوہا کی طرف دیکھا اور اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر اونچی، پُرعزم آواز میں کہا:




"شاہ انڈسٹریز کی کامیابی اور میری تمام طاقت کا ایک ہی راز ہے... میری بیوی، زوہا ارسلان شاہ! اس کے ایمان، اس کے پیار اور اس کی موجودگی نے ارسلان شاہ کو ایک ناقابلِ تسخیر انسان بنا دیا ہے۔"




زوہا نے آنکھوں میں خوشی کے آنسو لیے اپنے شوہر کا غرور اور محبت دیکھی۔




ہادی نے آگے بڑھ کر جوس کا گلاس فضا میں بلند کیا: "ٹوسٹ ٹو ارسلان اور زوہا! اور شاہ خاندان کی کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیوں کے لیے!"




سب نے ایک ساتھ تالیاں بجائیں اور جشن کی موسیقی پورے ولا میں گونجنے لگی۔




---۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




رات کا اخری پہر تھا۔ ریسیپشن کی تقریب ختم ہو چکی تھی اور تمام مہمان جا چکے تھے۔




ارسلان اور زوہا ولا کی سب سے اونچی بالکونی میں کھڑے تھے جہاں سے پرسکون، دور دور تک پھیلا ہوا صحرا اور اوپر تارے چمکتا ہوا آسمان نظر آ رہا تھا۔ 




صحرا سے گزرنے والی ٹھنڈی ہوا زوہا کے بالوں کو ہوا میں اڑا رہی تھی۔




ارسلان نے زوہا کو پیچھے سے اپنی آغوش میں لے لیا اور اپنا چہرہ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔




"کیا سوچ رہی ہو زوہا؟" ارسلان نے دھیمی، پُرسکون آواز میں پوچھا۔




زوہا نے اپنے دونوں ہاتھ ارسلان کے بازوؤں پر رکھے اور صحرا کی تپتی ہوئی ریت اور ہواؤں کو دیکھتے ہوئے بولی:




"میں سوچ رہی ہوں کہ اس صحرا میں کتنے درد، کتنے خون اور کتنے خوفناک راز چھپے ہوئے تھے... لیکن آج اسی صحرا کی ریت پر سکون کی چاندنی پھیلی ہوئی ہے۔"




ارسلان شاہ نے مسکرا کر زوہا کو گھما کر اپنے سامنے کیا اور اس کے بھیگے، خوبصورت چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا:




"راز وہ نہیں تھا جو شاہد صداقت نے چھپایا تھا زوہا..." ارسلان کی سیاہ آنکھوں میں ایک لا محدود، کبھی نہ ختم ہونے والی محبت کی چمک تھی، "




اصلی راز یہ تھا کہ صحرا کی ریت کی طرح جابر اور سخت دل ارسلان شاہ... 




صرف تمہاری محبت کے سامنے جھک سکتا ہے۔ تم میری زندگی کا سب سے خوبصورت اور ابدی راز ہو۔"




زوہا کے لبوں پر ایک شاندار مسکراہٹ آئی۔ اس نے اپنے تمام وساوس کو ہوا میں اڑا کر ارسلان کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


دو مہینے بعد 




ارسلان خاموش قدموں سے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے زوہا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے کھلے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ 




اس نے فیروزی رنگ کا خوبصورت روایتی ڈریس پہن رکھا تھا اور اس کے چہرے پر ایک تروتازہ نکھار تھا۔




ارسلان نے مسکراتے ہوئے چپکے سے پیچھے سے جا کر زوہا کا دوپٹہ اپنی طرف کھینچ لیا


 اور ڈریسنگ کیٹ پر رکھی اس کی پسندیدہ واچ اٹھا کر اپنی جیب میں ڈال لی۔


"ارسلان!" زوہا نے مڑ کر دیکھا اور خفا ہو کر کہا، "میری گھڑی واپس کریں! مجھے ابھی تیار ہونا ہے۔"


"نہیں ملتی زوہا شاہ..." ارسلان نے انتہائی شاطرانہ انداز میں مسکرا کر کہا اور پیچھے ہٹ گیا


، "اگر ہمت ہے تو خود آ کر مجھ سے چھین لو۔"


"آپ بہت برے ہیں!" زوہا نے مصنوعی غصے سے کہا اور ارسلان کی طرف بھاگی۔


ارسلان نے فوراً ایک طرف چھلانگ لگائی اور بیڈ کے گرد بھاگنے لگا۔ زوہا اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی، دونوں کے 


بچوں جیسے اس کھیل اور قہقہوں سے پورا بیڈ روم گونج رہا تھا۔ ارسلان جان بوجھ کر آہستہ بھاگ رہا تھا تاکہ زوہا اسے پکڑ سکے، 


لیکن جیسے ہی زوہا اس کے بالکل قریب پہنچتی، ارسلان پھر سے ترچھا ہو کر نکل جاتا۔


"ارسلان رک جائیں! میں تھک گئی ہوں!" زوہا نے بھاگتے ہوئے چیخ کر کہا


 اور جیسے ہی اس نے ارسلان کی شرٹ کا دامن پکڑنے کے لیے تیز قدم بڑھایا...


اچانک زوہا کا پاؤں ڈگمگایا! اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور سر میں شدید چکر آیا۔


"آہ..." زوہا کے منہ سے ایک دھیمی سی چیخ نکلی اور وہ زمین پر گرنے لگی۔


ارسلان شاہ کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، اس کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا۔ 


اس نے چیتے کی سی تیزی سے آگے بڑھ کر زوہا کو زمین پر گرنے سے پہلے ہی اپنی باہوں میں دبوچ لیا!


"زوہا!



ارسلان کی آواز میں بلا کا خوف اور بے تابی تھی۔ اس کا سخت اور جابرانہ وجود زوہا کی اس حالت پر بری طرح کانپ اٹھا۔ 


اس نے فوراً زوہا کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹا دیا۔


"زوہا... آنکھیں کھولو! کیا ہوا ہے تمہیں؟" ارسلان نے بیڈ کے کنارے بیٹھ کر زوہا کے گالوں کو تھپتھپایا


، اس کی سیاہ آنکھوں میں شدید پریشانی تیر رہی تھی۔ وہ فوراً فون اٹھا کر ڈاکٹر کا نمبر ملانے لگا۔


زوہا نے آہستہ سے اپنی پلکیں کھولیں اور ارسلان کا ہاتھ پکڑ کر فون نیچے کر دیا: "ارسلان... رک جائیں، میں بالکل ٹھیک ہوں۔


"تم بالکل ٹھیک نہیں ہو زوہا!" ارسلان نے تحکمانہ اور غصے سے ملے لہجے میں کہا،


 "تمہارا چہرہ زرد ہو رہا ہے اور تمہیں چکر آیا ہے۔ میں ابھی ڈاکٹر کو بلا رہا ہوں۔"


"مجھے بس ہلکی سی تھکن اور چکر محسوس ہوا تھا، اب میں بہتر ہوں،" زوہا نے ارسلان کی آنکھوں میں چھپا بے پناہ تحفظ اور ڈر دیکھا


 تو مسکرا کر اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا، "آپ بلا وجہ اتنے پریشان ہو جاتے ہیں۔"


ارسلان نے زوہا کی پیشانی پر اپنے گرم لب رکھے اور گہرا سانس لیا


: "تم میری جان ہو زوہا... تمہاری ذرا سی تکلیف بھی ارسلان شاہ کا وجود ہلا دیتی ہے۔ اب تم خاموشی سے آرام کرو گی!"


---۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اگلی صبح، ڈاکٹر شاہ ولا میں زوہا کا تفصیلی طبی معائنہ کرنے کے بعد ماسٹر سوئیٹ سے باہر نکلے۔


ارسلان شاہ، جو رات بھر زوہا کے پاس جاگتا رہا تھا، باہر ہال میں بے صبری سے ٹہل رہا تھا، 


جبکہ ہادی بھی ارسلان کی کال سن کر فوراً وہاں پہنچ چکا تھا۔


"ڈاکٹر! کیا بات ہے؟ زوہا کی طبیعت کیسی ہے؟" ارسلان نے آگے بڑھ کر تشویش سے پوچھا۔


ڈاکٹر کے لبوں پر ایک دلکش اور مبارکباد دیتی ہوئی مسکراہٹ ابھری:


"مبارک ہو مسٹر ارسلان شاہ! گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ زوہا بیگم بالکل ٹھیک ہیں... 


یہ چکر اور تھکن شدید کمزوری اور خوشخبری کی وجہ سے تھی۔ زوہا بیگم پریگننٹ ہیں! آپ باپ بننے والے ہیں!"


یہ سنتے ہی ایک لمحے کے لیے شاہ ولا کے اس وسیع ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی۔


ارسلان شاہ کا جابرانہ چہرہ حیرت اور بے پناہ خوشی سے دمک 


اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سحر اور نمی تیر گئی۔ 


وہ انسان جو پورے شہر پر حکومت کرتا تھا، آج اس ایک خوشخبری پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔


"کیا...؟" ارسلان کے لبوں سے بس یہی لفظ نکلا۔


"ییسسسس!"


اچانک ہادی کی زوردار چیخ نے سکون کو توڑ دیا!


ہادی نے خوشی کے مارے ہوا میں چھلانگ لگائی اور سیدھا ارسلان کے گلے سے جا لگا: "


مبارک ہو میرے شیر! مبارک ہو! تو باپ بننے والا ہے ارسلان! اور میں... میں چاچو بننے والا ہوں!"


ہادی ارسلان کو چھوڑ کر ہال میں ناچنے لگا اور گارڈز کو آوازیں دینے لگا: "فرہاد! کہاں ہو یار؟ 


ولا کے تمام ملازمین میں مٹھائیاں بانٹو! ارسلان شاہ کے گھر نیا شاہ آنے والا ہے! میں چاچو بن گیا ہوں!"


ہادی کا یہ پاگل پن اور بے پناہ خوشی دیکھ کر ارسلان کے چہرے پر بھی ایک کھلم کھلا، دلکش قہقہہ ابھر آیا۔ 


ہادی نے ارسلان کا شانہ جھنجھوڑا: "اب یہاں کیا کھڑے ہو یار؟ جاؤ اندر بھابھی کے پاس!"


---۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ارسلان شاہ نے ہادی کو مسکرا کر دیکھا اور ماسٹر سوئیٹ کا دروازہ ہولے سے کھول کر اندر داخل ہوا۔


زوہا بیڈ پر تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی، اس کی آنکھوں میں حیا، خوشی اور آنسوؤں کا ایک حسین امتزاج تھا۔ 


ارسلان خاموش، پروقار قدم اٹھاتا ہوا بیڈ کے پاس آیا اور زوہا کے بالکل سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔


اس نے زوہا کے دونوں نازک ہاتھ اپنی مضبوط ہتھیلیوں میں لیے اور ان پر اپنے لب رکھ دیے۔


"ارسلان..." زوہا نے سسک کر مسکراتے ہوئے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیلا دیں۔


"تم نے مجھے وہ خوشی دی ہے زوہا..." ارسلان کا لہجہ حد درجہ گہرا، مدہم اور محبت سے لبریز تھا


، "جس کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ آج ارسلان شاہ کی سلطنت مکمل ہو گئی ہے۔"


زوہا نے ارسلان کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں اب ماضی کے تمام طوفان، سسپنس اور خطرات ختم ہو چکے تھے اور صرف ایک کبھی نہ ختم ہونے والی محبت باقی تھی۔


"آپ میری دنیا ہیں ارسلان..." زوہا نے تڑپ کر ارسلان کی پیشانی سے اپنی پیشانی ملائی، "اور ہماری یہ محبت اب اس گھر کے صحن میں چہکے گی۔"


ارسلان شاہ نے زوہا کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ باہر بالکونی سے صحرا کی پرسکون ہوائیں ان کی اس نئی زندگی پر برکت بن کر برستی رہیں۔ 


ارسلان شاہ نے زوہا کو اپنی پناہ میں کس کر بھیچ لیا۔ تارے ان دونوں کے ملن پر جگمگا رہے تھے، 


اور صحرا کی ہواؤں نے ہمیشہ کے لیے ان کے نام کو اس ریت پر سنہرے حرفوں سے لکھ دیا تھا...


صحرا کی ریت نے اپنے اندر چھپے سارے راز اگل دیے تھے... اور اب وہاں صرف اور صرف **ارسلان اور زوہا** کی ابدی محبت کی داستان لکھی جا چکی تھی۔


---۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ختم شدہ 


If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


 Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel  Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz written byAyesh Shah .Sehra Ki Rait Mohabbat Ka Raaz by Ayesh Shah is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.

۔۔۔۔۔۔۔۔

Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link 

If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.

Thanks............

  

Copyright Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

  






No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages