Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib By Anum Rais Season 1 Complete Novel - Madiha Shah Writes

This is official Web of Madiha Shah Writes.plzz read my novels stories and send your positive feedback....

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Thursday, 13 August 2026

Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib By Anum Rais Season 1 Complete Novel

Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib By Anum Rais Season 1 Complete Novel 

Madiha Shah Writes: Urdu Novel Stories

Novel Genre:  Cousin Based Enjoy Reading...

Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib By Anum Rais Season 1 


Novel Name: Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib

Writer Name:  Anum Rais

Category: Complete Novel


ایک کہانی محبت کی ایک کہانی عشق کی ایک کہانی سچ کی ایک کہانی دھوکے کی ایک کہانی فریب کی ایک کہانی ظلم کی ہاں یہ کہانی ہے ایک انسان کی معاشرے کی ایک لڑکی کی......

ہزاروں لوگ بدقسمت ہوتے ہیں اس دنیا میں کچھ پیدا ہوتے ہی بدقسمت کہلائے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو بڑی فرست سے بدقسمت بنایا جاتا ہے اچھی قسمت کی جھلک دکھا کر بدقسمتی نصیب میں لکھ دیتے ہیں ...... قسمت یہ قسمت ہوتی کیا ہے سنا تو اسکے بارے میں بہت ہے پر یہ ہوتی کیا ہے قسمت محض ایک لفظ ہے لیکن ہوتی تو یہ کچھ نہیں ہم نے بیشتر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ اپنی قسمت خود لکھیں گے ارے وہ کیا ہم سب اپنی قسمت (destiny) خود لکھتے ہیں ہم جو آج اپنے ساتھ کر رہیں ہیں نہ کل وہی آکر آپکے گلے کا پھندا بنتا ہے اور ہم میں سے کچھ بعض پرست لوگ تو ایسے ہیں جو اسے قسمت کا لکھا سمجھ لیتے ہیں.....ہونہہ..... حالانکہ کیا دھرا انکا خود کا ہی ہوتا ہے اسی لئے ہم سب اپنی قسمت خود لکھتے ہیں ورنہ اگر وہ خدا رب العزت ہماری قسمت لکھتا نہ تو آج ہم اتنے پیشیمان نہ ہوتے 

ان الانسان لفی خسر

بے شک انسان خسارے میں ہے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

تیرے وعدے پر جئے ہم، تو یہ جان جُھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا!

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا، کوئی غم گسار ہوتا

یہ مسائل تصوّف، یہ ترا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

                                            (مرزا غالب)

💜💜

لالہ رخ زمان شاہ عرف لالی 

شوخ چنچل اور بولنے میں توبہ ایک تو بولتی بہت ہے اوپر سے چیخ چیخ کر بولنے سے سر پھری اور دیوانوں کی فہرست میں آتی ہے اور اسی بات پر اپنی امی جان سے کبھی کبھار صلواتیں تو کیا پٹ پٹا بھی جاتی تھی یہ تو ہوگیا مزاج اب آتے ہیں صورت پر۔۔۔۔۔

بھولی سی صورت آنکھوں میں مستی👀 

ہاں بھئی وہی والی صورت

گندمی رنگت بڑی بڑی ہیزل رنگ کی آنکھیں اور ان پر گھنی پلکوں کا سایہ اور ان میں بسنے والی شرارت چھوٹی سی کھڑی مغرور ناک چھوٹے چھوٹے سے گلابی ہونٹ اور ان پر رہنے والی ہمہ وقت مسکراہٹ اور چہرے پر چھائی معصومیت اور نور قد تھوڑا چھوٹا ہے ہیزل رنگ کے ہی لمبے سلکی بال خوبصورتی کا ایک نمونہ

اپنے گھر والوں سے بے پناہ محبت کرنے والی انکے لئے ہر حد سے گزر جانے والی اپنے باپ کا غرور اپنی ماں کیلئے (entertainment) کی دکان بقول لالی کہ اپنے بھائی کی جان اپنی بہن کی جگری دوست۔۔۔اور اپنے دوستوں پر جان دینے والی کراچی میں رہنے والی عشق و محبت پر یقین کرنے والی لیکن یہ یقین آگے جاکر بہت کچھ چھیننے والا ہے 

💜💜

رابیعہ خان عرف رابی (خوبصورت ترین چڑیل) 

مغرور مزاج سب کو اوقات میں رکھنا شاید پسندیدہ مشغلہ ہے انکا.....ہونہہ.... خوبصورتی اٹریکٹ کرتی ہے انہیں امیر گھرانے کی بگڑی ہوئی اولاد دینی دنیا سے دور ویسے تو مسلمان ہیں لیکن حقیقت میں کئی رنگ ہیں انکے پوری ناگن ہے توبہ جسے پانے کا سوچ لے پھر اسے پاکر چھوڑتی ہے اور نفرت بھی لیول کی کرتی ہے تو سوچو محبت میں تو کیا ہی کرے گی

گورا دودھیا رنگ بڑی بڑی ہرن جیسی آنکھیں جن میں کاجل کی لکیر سچ کا منہ بولتا آئینہ تھیں......اف........ کھڑی ناک بھرے بھرے لال گال گلاب کی پنکھڑی جیسے ہونٹ آواز ایسی کے کانوں میں رس گھول دے دونوں گالوں پر پڑنے والے ڈمپل درمیانا قد شولڈر کٹ ڈائی بال اسکی خوبصورتی کو اور بڑھاتے تھے.....بس اور نہی لکھ سکتے اسکی خوبصورتی پر۔۔۔۔۔۔

اپنے باپ کی اکلوتی اولاد کروڑوں کی اکلوتی وارث اپنے باپ سے بے پناہ محبت کرنے والی چڑیل.....اوپس.....رابی🤭

💜💜

علی اسماعیل ہمدانی (ہینڈسم ڈاکٹر)

ڈاکٹر تو بہت ہوتے ہیں مگر ہینڈسم ڈاکٹر نہیں کیونکہ بعض لوگوں کی خوبصورتی میڈیکل پڑھتے پڑھتے ختم ہو جاتی ہے یہ موصوف پتہ نہیں کیسے بچ گئے خیر شوخ چنچل کھانے کے شوقین گھر کا آدھا سامان تو یہ کھا جاتے تھے۔۔۔۔

گندمی رنگت درمیانی کالے رنگ کی آنکھیں جن میں چھائی مستی کھڑی مغرور ناک 6 فٹ قد خوبصورت طرز سے چہرے پر سجی سنت رسول (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ) کسرتی جسم اتنا کھانے کے بعد بھی فٹ حد ہے

اپنی ماں کا پیارا بیٹا اپنے باپ کا دوست اور اپنے بھائیوں جیسے دوستوں پر جان دینے والا کراچی کے ایک ہاسپٹل میں ہارٹ سرجن

💜💜

جنید فروز غزالی 

عشق نے کر دیا نکما غالب

ورنہ بندے بڑے کام کے تھے 

یہ شعر حقیقتاً انہی کے لئے بنا ہے ہم نے اکثر سنا ہے کہ محبت میں اندھے ہو جاتے ہیں بلکل جی یہ بھی اندھے ہی ہیں

پتہ نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے،

ہم جس پر اعتبار کرتے ہیں،

وہ ہمیں اندھا کیوں سمجھتا ہے۔

کم گو سب سے پیار کرنے والا رحم دل انسان عورتوں کی عزت کرنے والا اگر یہ عشق نہ کرتے تو ان میں کوئی کمی نہ تھی انکی سب لوگ عزت بھی بہت کرتے تھے

گندمی رنگت تیکھے نین نکوش اور چہرے پر سجی ہلکی داڑھی اور ہمہ وقت قائم رہنے والی سنجیدگی جو انہیں سب سے منفرد بناتی تھی 

اپنی ماں کا چشم و چراغ اپنے دوستوں کی جان باپ کا سایہ محض 10 سال کی عمر میں ہی سر سے اٹھ گیا تھا تب سے آج تک اپنی ماں کو اکیلے سنبھالا وقت نے سنجیدہ کردیا ہزاروں دکھ سہے کراچی کی ایک کمپنی کے اونر لیکن عشق نے ابھی اور بھی بہت کچھ ہرانا تھا

💜💜

میر گیلانی 

کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کا مزاج اپنے کام کے مطابق ہوتا ہے بلکل جی یہ بھی وہی ہیں محترم ایس۔ایس۔پی ہیں اور آپ کو تو پتا ہے پولیس والے کیسے ہوتے ہیں سڑیل اکڑو گھمنڈی لیکن اپنی فیملی کیلئے ایک الگ ہی میر ہے جس میں صرف پیار ہی پیار ہے 

سرخ و سفید رنگت درمیانی آنکھیں ان پر بڑی بڑی سایہ فگن پلکیں لال عنابی ہونٹ مغرور ناک گھنے بال اور چہرے پر سجی سنت (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) جو آج کل فیشن میں آگئی ہے 6 فٹ 3 انچ قد اس پر کسرتی جسم۔۔۔۔

جوائن فیملی کا چراغ اپنے  باپ سے بے پناہ محبت کرنے والا اپنے بھائیوں کیلئے انکی ماں اپنی اکلوتی بہن کا سب کچھ اپنے دوست جنید کے لئے جان دے دے تو علی کے لئے دل ہتھیلی پر رکھ دے امیر کبیر گھرانہ لاہور کے رہنے والے لیکن ٹرانسفر انکا کراچی میں ہوگیا تھا اور جگری دوست بھی وہیں تھے لیکن کبھی بھی چھٹّی لے کر گھر آجاتا تھا عشق و محبت کی دنیا سے دور بقول میر کے لیکن یہ قسمت بھی بہت کچھ سوچ بیٹھی ہے 

💜💜

یہ منظر ہے ایک بار کا جہاں امیر امیر گھرانوں کے چشم و چراغ اسلام سے دوری اختیار کر کے لڑکیوں کے ساتھ ہر حد پار کر رہے تھے جہاں لڑکیاں تنگ لباس میں خود کو آسمان سے اتری پریاں سمجھ رہی تھیں شرم و حیا کہیں دور جا سوئی تھی عجیب اسلامی ملک ہے کہنے کو تو اسلامی ہے لیکن حرکتیں استغفرُللہ 

انہی سب لڑکیوں میں وہ خوبصورت چڑیل بھی شامل تھی بلیک ٹائٹ جینز اس پر اسکائے کلر کی ہالف سلیوز شرٹ اور کھلے ڈائے بال میک اپ کے نام پر لائنز اور مسکارا لگا کر آنکھوں کو اور دلکش بنایا گیا تھا اور ہونٹوں پر پنک گلوس اور گالوں کو ہائی لائٹ کیا گیا تھا اُف ہزاروں آنکھیں اس پر تھیں لیکن وہ تھی ہی مغرور جانتی تھی کتنے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں لیکن ہمیشہ کی طرح خود کو ہر چیز سے لاتعلق دکھایا  یہ نہیں تھا کہ لالی حُسن میں رابیعہ سے کم ہو اسکے چہرے کا نور اور معصومیت اسکو منفرد بناتے تھے۔۔۔۔۔۔

اتنے میں جنید بار میں انٹر ہوا یہ نہیں تھا کہ وہ اس طرح کا لڑکا تھا بس یہ تو انکا عشق تھا رابی سے جو انہیں کھینچ لاتا تھا ایسی جگہوں پر کیونکہ وہ رابی کو اچھے سے جانتا تھا ناقابلِ قبول کپڑے پہن کر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتی تھی جو وہ نہیں چاہتا تھا عشق ہی اسکا اس قدر تھا  (جنید نے رابی کو پہلی بار سڑک پر گاڑی خراب ہونے کی وجہ سے باہر ٹہلتے ہوئے دیکھا تب ہی موصوف دل ہار بیٹھے لیکن رابی کو جنید میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا کیونکہ وہ تو کسی اور پر دل ہار بیٹھی تھی لیکن پھر بھی وقت گزاری کیلئے جنید کو بوائے فرینڈ کے رتبے پر فائز کیا تھا اور جنید اسکو محبت مان بیٹھا تھا آہ۔۔۔۔۔۔۔محبت)

اس نے چاروں اطراف نظریں گھما کر رابی کو ڈھونڈا تو رابی ایک لڑکے کے ساتھ انتہائی قریب تھی اسکو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ نشے میں دُھت سامنے کھڑے لڑکے کی باہوں میں جھول رہی تھی اور وہ لڑکا بھی اسکی کمر میں بازو ڈالے اسکے بے حد نزدیک ہوکر اسکی گردن پر جھکا ہوا تھا یہ دیکھ کر جنید کا دماغ بھک سے اُڑا غصّے سے دماغ کی رگیں واضح ہوئیں تھیں اپنی متاعِ جاں کو کسی اور کی باہوں میں دیکھ کر اور وہ بھی اتنے نزدیک غصے میں تن فن کرتا اس لڑکے کے سر پر جا پہنچا اور رابی کو کھینچ کر اس کی باہوں سے الگ کیا اس طرح کرنے سے رابی اسکے سینے سے آلگی تھی آور ایک خونخوار نظر اس لڑکے پر ڈالی

'She is Mine now get lost'

 اور رابی کو اپنی بازوؤں میں اٹھا کر اپنی گاڑی میں لاکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھکر کار اسٹارٹ کی اس وقت غصّے سے برا حال تھا پہلے رابی کو اسکے گھر پہنچایا

 پھر دوبارہ بار میں جا پہنچا اب تو ہڈّی پسلی توڑنے کا وقت تھا جیسے ہی وہ لڑکا بار سے نکلا اسکے پیچھے وہ بھی نکلا جنید نے پہلے اپنا منہ رومال سے ڈھکا پھر اسکے آگے آکر اسکا راستہ روکا روہن(لڑکا) اس سے بری طرح ٹکرایا اس نے سیچوئیشن سمجھنے کی کوشش کرنی چاہی کیونکہ وہ تھا نشے میں ٹُن اس سے پہلے کچھ سمجھتا ایک پنچ ناک پر آلگا وہ ناک سنبھالنے کی کوشش کرتا کہ جنید نے اسکے پیٹ میں ایک زور دار لات ماری وہ زمین پر جا گرا پھر اس پر ایک کے بعد ایک پنچ کی برسات کی منہ کا نقشہ بدلنے کے بعد سکون ملا تو نظر ہاتھ پر لگے زخم پر پڑی 

 💜💜

 'بس کردیں ڈاکٹر صاحب اور کتنا کھائیں گے'

 'تم تم میرے کھانے پر نظر لگا رہے ہو نوالے گن رہے ہو میرے اتنے سارے مریضوں کو دیکھ کر مجھے خود مریض جیسا فِیل ہورہا ہے کہیں میں مر ہی نہ جاؤں جاؤ ایک پلیٹ اور بریانی لے کر آؤ جلدی جاؤ اللّٰہ میرا بلڈ پریشر لو ہورہا ہے' علی نے دوہائی دی 

 ' تین پلیٹیں بریانی اور ایک پلیٹ کڑاھی آپ کھا چکے ہیں اب تو بلڈ پریشر نے بھی رفتار پکڑ لی ہوگی  ہوٹل والے کے پاس بھی جاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے میں نہیں جاؤں گا آپ رحیم کو بھیج دیں'

'ارے اس سے تھوڑی دیر پہلے سموسے منگوائے تھے نہ اب وہ دوبارہ نہیں جائے گا'

" کیاااااااااااا..........." 'میں کام نہیں کروں گا اس ہسپتال میں وارڈ بوائے ہوں یہاں کا آپکا پرسنل سیکرٹری نہیں مجھے تو لگتا ہے آپ پر جن کا سایہ ہے میں کامران بنگالی بابا کا نمبر دوں گا آپ کو ایک جھاڑو ماریں گے سارے جن نکل جائیں گے مجھے تو دو تین جنوں کا سایہ لگتا ہے'

'بس ہوگیا تمہارا نہیں چاہئے مجھے بھیک میں ملی ہوئی بریانی اور تم بڑا جانتے ہو بنگالی بابا کو اور انکی جھاڑو کو لگتا ہے پڑ چکی ہے تمہیں ویسے بھی تمھاری شکل دیکھ کر لگتا ہے پانچ سے سات چڑیلیں عاشق ہونگی تمھاری.....ہونہہ..... ڈاکٹر کو بول رہے ہیں بنگالی بابا سے علاج کر وائیں ارے میں تو خود ڈاکٹر ہوں لیکن میں اپنا علاج کیوں کروں گا.....اُف....'

'ڈاکٹر صاحب کیا بولیں جارہے ہیں' 

'کچھ نہیں بھائی تم جاؤ' اسنے ہاتھ جوڑ کر بولا

اتنے میں جنید اندر آیا علی اسکو آتا دیکھ کر پہلے تو بہت خوش ہوا اسکے بعد ناراض بھی (ارے اتنے دنوں بعد آیا ہے ناراضگی تو بنتی ہے) 

' او۔۔۔۔ کیا بابا جی کا آستانہ سمجھ رکھا ہے جو چلتے جا رہے ہیں چلتے جا رہے ہیں appointment لے کر آئیں' علی خفگی سے منہ موڑ کر بیٹھ گیا اور جنید جانتا تھا کہ اسے کیسے منانا ہے اسی لیے جلدی سے بولا

'او ہو یار تو تو ناراض ہے میں نے سوچا تھا کہ آج ہم تینوں بھائی بیٹھ کے امی کے ہاتھ کی بریانی کھائیں گے لیکن تو تو ناراض ہے چل پھر میں چلتا ہوں اللّٰہ حافظ لالے' جنید وپس جاتے ہوئے بولا

'اب اگر تم اتنا کہہ رہے ہو تو ٹھیک ہے میں نے تمھیں معاف کیا ہاں ہاں اب زیادہ پیر پڑنے کی ضرورت نہیں ہے بیٹھو اور ہاتھ آگے کرو' علی نے کہا جانتا تھا کہ کسی سے لڑ کے آیا ہوگا کیونکہ غصے کا بہت تیز جو تھا اور اکثر وجہ سے ہوسپٹل آوری  ہوتی تھی 

'بس کام کے وقت علی یاد آجاتا ہے' علی جل کر بولا ایک تو زخم اتنا گہرا تھا اور پھر یہ آیا اتنے دنوں بعد تھا

'اوہ آئی سی لگتا ہے بریانی بھی کام ہوتا ہے' اسنے دانتوں تلے لب دبایا علی کو منانا واقعی روٹھی محبوبہ منانے کے برابر تھا 

ڈریسنگ کروانے کے بعد جنید اور پر علی نے بیٹھ کر رات کا ڈنر کیا اسکے بعد جنید نے اپنی ماں کو اپنے سامنے کھانا کھلایا اس کے بعد انہیں دوائی دے کر انکو لئے روم میں آیا کمفرٹر اڑا کر میر اور علی کو الوداع کیا 

💜💜

یہ ہے شاہ ہاؤس کا منظر جہاں 12 بجنے کو آئے تھے لیکن لالی محترمہ کی نیند تھی جو پوری نہیں ہو رہی تھی اسلئے دانیال زمان شاہ (5 سال بڑا بھائی) اور پریشے زمان شاہ (3 سال چھوٹی بہن) لالی کو اٹھانے آئے تھے (لالی 20 سال کی) 

'یار لالی اٹھ جاؤ بھوک سے برا حال ہورہا ہے' دانیال نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر دہائی دی

'ہمیں تو ایسے کہہ رہے ہو جیسے پاٹ ٹائم کوک کی جوب پر رکھ لیا ہو چلے جاؤ سونے دو ویسے بھی آج تو چھٹی ہے' لالی نے سوئی جاگی کیفیت میں بولی

'بھائی اسکے منہ پر پانی ڈالدیں خود تو اٹھتی نہیں ہے ہمیں بھی بھوکا مارے گی' پریشے نے پانی کا گلاس دانیال کی طرف بڑھاتے ہوئے مشورہ دیا 

'خبردار! ہم کہہ رہے ہیں اگر کسی نے ہم پر پانی ڈالا تو تو تو تم لوگوں کی چائے میں نمک ڈالدیں گے اور ہمارے پیارے بھائی نہیں ہیں آپ جائیں نہ ناشتہ کرلیں دونوں ہم بعد میں آئیں گے' وہ پریشے کو چیخ کر بولتے ہوئے دانیال سے مخاطب ہوئی پھر خود پر کمفرٹر اوڑ کر لیٹنے لگی کہ دانیال نے ایک ہی جھٹکے میں اٹھایا اور واشروم میں لے جاکر پٹخا 

'تمھارے پاس صرف 15 منٹ ہیں فریش ہوکر نیچے آؤ ورنہ ناشتے سے ہاتھ دھو بیٹھو گی سمجھیں' 

وہ ٹیڑھے میڑھے منہ بناتی واشروم میں گھس گئی دانی اور پری باہر نکل گئے اور ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھ کر لالی کا انتظار کرنے لگے 

'امی ناشتہ لگادیں آرہی ہیں وہ محترمہ اور تم کیوں بیٹھی ہو بیٹری فل نہیں ہوئی کیا جاکر ناشتہ لگواؤ امی کے ساتھ' دانی نے ایک آواز  شبانہ بیگم کو دی اور دوسری بار پری کو ڈپٹا جو موبائل لے کر بیٹھی تھی 

'یار بھوک لگ رہی ہے ابھی نہیں بعد میں' پری نے ایک نظر دانی کو دیکھ کر کہا پھر موبائل میں مگن ہوگئ اتنے میں لالی محترمہ تشریف لے آئیں

اور شبانہ بیگم کو سلام کرکے ان کے گلے لگی "اسلام و علیکم ڈارلنگ"

'ہزار دفعہ کہا ہے ایسے نہ پکارا کرو خالص لوفر اور چھچھوری ہونے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی تم نے'

'ہا ہئے۔۔۔۔' لالی نے خالص جاہل عورتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ سینے پر رکھ کر بولی

' تو پھر کیا بولیں ایک تو اتنا پیار کرتے ہیں آپ سے اور آپ ہیں کہ ہمارے پیار کا جواب ایسے دے رہی ہیں ہمیں تو پہلے ہی شک تھا کہ ہم آپکی بیٹی نہیں ہیں بتائیں ہمیں کہ کون سے بھنگی پاڑے سے اٹھا کے لائی ہیں ان دونوں کو کیونکہ لوگ سگی اولاد سے زیادہ دوسروں کی اولاد سے پیار کرتے ہیں اور آپ تو ہم سے پیار کرتی نہیں ہیں ہمارے صرف پاپا ہیں' لالی نے دانی اور پری کی طرف اشارہ کیا اور ہاتھ نچا نچا کر   بولنے کے ساتھ ساتھ چیخنے کا فریضہ بھی خوب انجام دے رہی تھی اور تو اور زمین پر بھی بیٹھ  گئی اور دوپٹے کو سر پر اوڑھ کر کانوں کے پیچھے اڑسا ہاں بھئی لگنا بھی چائیے کہ کس کی ایکٹنگ کر رہے ہیں (جاہل عورتوں کی) 

اور دانی اور پری اسی لیے لالی کے ساتھ ناشتہ کرتے تھے صبح صبح فری کا انٹرٹینمنٹ ملتا تھا ناشتے کے ساتھ  

'اگر دو منٹ میں نہ اٹھی تو باٹا کی جوتی سے چھترول کروں گی' شبانہ بیگم نے نہ صرف بولا بلکہ ایک ڈیمو بھی دکھا دیا  

'اوئی۔۔۔۔۔ خدا کو مانیں یار کوئی جوان جہان بیٹی کو ایسے مارتا ہے بھلا'  لالی مصنوعی خفگی سے بولتی ہوئی اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی

ناشتہ کرتے وقت بھی لگاتار ڈھائی گز کی زبان (بقول لالی اور شبانہ بیگم کے) کے جوہر دکھا رہی تھی اور شبانہ بیگم صرف سوچ کر رہ گئیں کہ گئی تو گئی کس پر ہے ہمارے خاندان میں تو کوئی ایسا نہیں تھا

 ناصر شاہ اور انکی بیوی سلمی بیگم کے دو بچے زمان شاہ اور چھوٹی بیٹی شمائلہ شاہ 

 زمان شاہ کی شادی انکی ممانی کی بیٹی شبانہ بیگم سے ہوئی شادی کے چار سال بعد خدا نے انہیں بیٹے سے نوازا جسکا نام دانیال شاہ رکھا اسکے پانچ سال بعد خدا نے انہیں رحمت سے نوازا جسکا نام لالہ رخ رکھا اور تب ہی شمائلہ بیگم کی شادی انکے چاچا زاد کزن معراج الدین سے ہوئی اور اسکے اگلے سال خدا نے انہیں بھی بیٹے سے نوازا جسکا نام جواد معراج الدین رکھا اسکے دو سال بعد خدا نے پھر سے زمان صاحب کو بیٹی کی رحمت سے نوازا جسکا نام پریشے زمان شاہ رکھا اسکے بعد شمائلہ بیگم کو بھی خدا نے ایک بیٹے عمید اور اسکے چار سال بعد بیٹی میمونہ سے نوازا 

💜💜

یہ منظر ہے گیلانی ہاؤس کا جہاں اس وقت ڈائینگ ٹیبل مچھلی بازار کا منظر پیش کر رہی تھی 

میر گیلانی کے تین بھائی ریان گیلانی ہمدان گیلانی اور وجدان گیلانی ماشاءاللہ سے تینوں ہی شیطان اور ایک بہن فریہا گیلانی عرف فری حد درجہ معصوم سب سے بڑا میر 28 سال کا اس سے تین سال چھوٹا حمدان اسکے بعد یہ دونوں 24 سال کے جن میں محض 5 منٹ کا فرق ہے دونوں ہم شکل انکی ماں رامین گیلانی بھی نہیں جانتیں تھیں کہ پہلے کون آیا ان سے چار سال چھوٹی 20 سال کی فری، فری کے پیدائش کے وقت ماہین گیلانی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں تھیں جہاں خوشی آئی وہاں پر یہ دکھ بھی رہا خیر جانے والے کو کون روک سکتا ہے 

فاروق گیلانی اور انکی بیوی خدیجہ گیلانی (بی جان) کے تین بیٹے انصار صاحب، شیراز صاحب اور فہیم صاحب، فاروق گیلانی نے مرنے سے پہلے اپنے تینوں بیٹوں کو الگ الگ پورشن میں تائینات کردیا تھا 

انصار گیلانی (میر کے والد) کے چھوٹے بھائی شیراز گیلانی اور انکی بیوی قرۃ العین گیلانی کے تین بچے سب سے بڑی رواحہ 25 سال کی اسکے بعد سحرش 23 کی اور اسکے بعد عمر 21 سال کا 

انصار گیلانی کے دوسرے چھوٹے بھائی فہیم گیلانی اور انکی بیوی ساجدہ گیلانی کے چار بچے سب سے بڑی نازش 29 سال کی شادی شدہ 2 خوبصورت بچوں کی ماں اسکے بعد سفیان 25 سال کا اسکے بعد بہروز 23 سال کا اور آخر میں فاطمہ 21 سال کی

سب بڑے بیٹھے ڈائینگ ٹیبل پر ناشتہ کر رہے تھے اتوار کا دن ہے بھئ لیٹ اٹھنا تو بنتا ہے سب بچے اپنے اپنے کمروں سے نکل کر آرہے تھے اور سب سے آخر میں وہ تینوں شیطان۔۔۔۔۔

سربراہی کرسی پر بی جان انکے بائیں طرف انصار صاحب اور دائیں طرف شیراز صاحب پھر دائیں طرف کی دوسری کرسی پر فہیم صاحب انصار صاحب کے ساتھ میر(جو دو تین دن کے لئے گھر آیا تھا) بیٹھا اپنی فری گڑیا کی شکایاتیں سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ ان تینوں کو ڈانٹ بھی رہا تھا انکے بعد گھر کے سب بچے بیٹھے تھے ساجدہ بیگم اور قرۃ العین بیگم کچن میں مصروف تھیں...... وجدان اور حمدان کی طرف آئیں تو دونوں لڑنے میں لگے ہوے تھے اور وہ بھی چیز آملیٹ پر.....

'شرافت سے دے دو مجھے ورنہ تمہاری یہ کیچڑ کی کوفی تمھارے کیچڑ جیسے سر پر ڈال دوں گا'

حمدان نے وجدان سے پلیٹ کھینچنی چاہی

'یہ کیچڑ نہیں بلیک کوفی ہوتی ہے جاہل' 

وجدان چڑ کر بولا

'اگر تم نے مجھے یہ آملیٹ نہیں دیا نہ تو تمھارا رات دیر سے آنے والی بات اور اور اور اس دن جو تمہیں پولیس نے پکڑلیا تھا ڈراؤینگ لائسنس نہ رکھنے کی وجہ سے بتاؤں سب کو' 

حمدان آہستہ بولنے کے بجائے زور سے بول گیا اور وجدان تو اسے دیکھ کر رہ گیا اسکا دل کیا یہی آملیٹ اسکے منہ میں ٹھونس کر اسکا منہ بند  کردے کیسا ناگن سیزن 6 نکلا تھا اسکو ڈر بڑوں کی وجہ سے نہیں بلکہ میر کی وجہ سے لگا تھا کہ اس دن تو پولیس والوں نے چھوڑ دیا تھا لیکن آج سینٹرل جیل جانا پکا لگ رہا تھا اس نے دل میں آل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو کا ورد شروع کردیا تھا.....ان سب میں کوئ تھا جو فریہا کو بڑی فرست سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔آں۔۔۔آں۔۔۔۔سفیان عرف سیفی اور ادھر فری انجان بیٹھی لڑائیاں دیکھنے میں مصروف تھی اسنے بھی اپنی نظریں ناشتے کی طرف مبذول کرلیں

اب ماحول میں تھوڑی کشیدگی پیدا ہوگئی تھی کیونکہ میر کا غصہ اس غصے سے تو سبھی کی جان جاتی تھی اس لیے سبھی خاموش تھے میر نے ناشتہ کرنے کے بعد وجدان کو اپنے روم میں بلایا 

وجدان کا تو مانو جسم کاٹو لہو نہی والا حساب ہوگیا تھا اس نے جانے سے پہلے حمدان کو ایسی نظروں سے دیکھا جیسے ڈیول اپنے شکار کو گھورتا ہے میر کے جانے کے بعد سب اپنی ٹون میں واپس آگئے تھے ریان نے اِدھر اُدھر نظریں دوڑائیں سب اپنے ناشتے میں مصروف تھے تو سوچا کیوں نہ دیدارِ یار کرلیا جائے اس نے نظر اُٹھا کر سحرش کو دیکھا اور پھر نظر ہٹانا مہال ہوگیا اِدھر سحرش خود کو کسی کے نظروں کے حسار میں محسوس کر رہی تھی نظر اُٹھا کر دیکھا اور دونوں کی نظریں ٹکرائیں ریان اپنی آنکھوں میں عشق کا سمندر لئے اسے دیکھ رہا وہ ان نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے نظریں جھکا گئی اور یہ منظر ریان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آیا کیونکہ وہ جان گیا تھا کہ آگ سامنے کی طرف بھی برابر لگی ہے اور دوسری طرف حمدان بھی انہی حرکتوں میں مگن تھا لیکن اس کی نظریں رواحہ پر تھیں دونوں کا رشتہ بھی پکا ہوچکا تھا

💜💜

ادھر میر کے کمرے کا منظر ہی الگ تھا 

میر غصے میں اِدھر سے اُدھر چکر کاٹ رہا تھا اور اُدھر وجدان کو سانس بھی نہیں آرہا تھا (ارے بھئی آتا بھی کیوں قانونی بندے کے سامنے غیر قانونی حرکت کرکے آیا تھا اور قانونی بندہ بھی وہ جو ڈیوٹی سے جنونی محبت کرتا تھا بیوی کہنا برا نہیں ہوگا) 

' تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی کیا میں پاگل ہوں جو تم لوگوں کے پیچھے پڑا رہتا ہوں ہزار دفعہ کہا ہے کہ ذمہ دارانہ حرکتیں چھوڑ دو دل تو کر رہا ہے تمہیں جیل میں ڈال دوں لیکن نہی اس بار سزا ملے گی اگلے دو ماہ تک پاکٹ منی بند' میر ہلکی آواز میں دھاڑا 

'بھائی پلز اس بار معاف کردیں اگلی بار قسم سے نہیں کروں گا مجھ جیسے غریب کے پاس تو دال روٹی کھانے کے پیسے نہیں ہیں اپنے بچوں کو کیا کھلاؤں گا' وجدان نے آنکھوں میں آنسوں لا کر ایکٹنگ کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے  کہا اگر میر کے علاؤہ کوئی اور ہوتا تو اسکی بات پر سو نہ سہی 90 فیصد یقین تو ضرور کرلیتا 

'کونسے بچے.....؟' میر نے پوچھا جانتا تھا کیا بولے گا آگے

'وہی بچے جو سڑک پر سوتے ہیں وہی بچے جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہوتا وہی بچے جن کے ماں باپ انہیں پالنے سے منع کر دیتے ہیں وہی بچے........' وجدان ابھی بول ہی رہا تھا کہ میر نے جملہ مکمل کیا

'وہی بچے جن کے پاس عید منانے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔۔۔۔ہوگیا تمھارا دو ٹکے کہ تین تہائی ایکٹر اب سنو تم مجھے آوارہ گردیاں کرتے ہوئے نظر نہ آؤ نہیں تو جیل میں ڈال دوں گا تمہیں پھر سچ میں پتلی دال اور سوکھی ہوئی روٹی پر گزارا کرنا تم اب جاؤ' میر اپنے گھر والوں کے سامنے غصہ کم ہی کرتا تھا کبھی کبھار تو شوخ بھی ہوجایا کرتا تھا سب گھر والوں میں بے پناہ محبت تھی بی جان نے میر وجدان ریان حمدان اور فری کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی کرتی تو وہ سب سے بے پناہ محبت تھیں لیکن ان پانچوں سے کچھ زیادہ کرتی تھیں

💜💜 

ریان جو ابھی کمرے سے نکلا تھا سامنے سے آتی سحرش کو نہ دیکھ پایا اور زور سے ٹکرایا اسکو تو کچھ نہ ہوا لیکن وہ چھوئی موئی سی لڑکی اگر بر وقت نہ سنبھالتا تو زمین پر گر چکی ہوتی 

سحرش نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلی تھیں اسکو تو لگا آج وہ گئی 

ریان کو اس وقت وہ ایک پیاری سی بچی لگ رہی تھی جو گرنے کے ڈر سے آنکھیں بند کیے اسکے بازوؤں میں تھی ریان بے خود سا ہوکر اسکے ماتھے پر جھکا اور ایک عقیدت بھرا لمس اس کے ماتھے پر چھوڑا تھا 

وہ جو پہلے خود کو آرام دہ جگہ پر محسوس کر رہی تھی اس سے پہلے کہ وہ آنکھیں کھولتی اسکو اپنے ماتھے پر کسی کا پر حدت لمس محسوس ہوا اسنے پٹ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے ریان کو دیکھ کر گڑبڑائی اور جھٹکے سے اٹھی وہ بھی ہوش میں آیا تھا اس سے پہلے وہ کچھ کہتی ریان آگے بڑھ گیا لیکن وہ وہیں کھڑی اپنے ماتھے پر اسکا لمس محسوس کر رہی تھی بے خود سی ہو کر ہاتھ سے پیشانی کو چھوا پھر اسی ہاتھ پر اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے اور آخر میں خود ہی شرما دی اف یہ لڑکیاں۔۔۔۔۔۔۔۔

سورج پوری آب و تاب کے ساتھ خان ولا پر جگمگا رہا تھا 

رابی جوکہ کلب ڈریس میں ہی تھی اپنے چکراتے سر کے ساتھ اُٹھی خود کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اسکا سر حقیقتاً چکرایا یاد کرنے کی کوششں کی تو محض یہ یاد رہا ہے کا کل کلب میں اس نے آوور ڈرنک کرلی تھی جسکے بعد کچھ یاد نہیں تھا، موبائل اسکا سائڈ ٹیبل پر پڑا تھا اٹھا کر دیکھا تو جنید کا میسج تھا 

'اپنے چھوٹے سے دماغ پر زیادہ زور نہ ڈالو میں ہی واپس لایا تھا تمہیں کلب سے'

جسے پڑھ کر وہ بے فکر ہوئی تھی جو بھی تھا وہ سچ میں خود کو جنید کی قربت میں محفوظ سمجھتی تھی

اپنی سوچوں کو وہ بندھ باندھ کر فریش ہونے چل دی تھوڑی دیر بعد نہا کر نکلی تو ساؤنڈ سسٹم پر سونگ لگایا اور سٹیپ لینے لگی 

نینو والے نے آہاں 

نینو والے نے

چھیڑا من کا پیالہ 

چھلکائی مدو شالہ میرا چین رین نین اپنے ساتھ لے گیا

دو قدم آگے ہوکر اپنے بالوں کو ٹوول سے آزاد کیا اور تھوڑا آگے ہوکر گول گھومی 

پگ پگ ڈولوں رے 

ڈگ مگ سی میں چلتی ہوں جگ مگ لو سی جلتی 

ہاتھوں کو گھول گھمایا نیچے بیٹھی دوپٹہ خود پر گرایا رقص جاری رکھا پھر کھڑی ہوئی دوبارہ گھومی دیکھنا والا کہتا کہ دیوانی ہے لیکن وہ تو کسی کے عشق میں دیوانی تھی ہاں وہ دیوانی تھی ہاں وہ مغرور زادی اپنی انا بھلائے مجنو کے عشق میں لیلیٰ بننے کو تھی

تیرے نینوں کی کیسی مدھیرا 

تھر تھر کانپوں رے تیرے تیر سے چھپتی

چندن کی مونگ سے لپٹی 

میں بے ہوش تو نشا

ایسی موہ کی دشا

میرا چین رین نین اپنے ساتھ لے گیا 

وہ گھوم رہی تھی پانی کی ننی ننی بوندیں بالوں سے ٹپک رہی تھیں ہے لگتا جیسے شبنم برس رہی ہو بلو جینز پر گھٹنوں سے اوپر تک ریڈ ٹاپ جس پر بلیک ایمبرائیٹی دوپٹے سے ندارد اور بنا میک اپ وہ ہر کسی کے لئے سرتاپا امتحان تھی 

سونگ ختم ہوا تو اسنے ساؤنڈ سسٹم آف کیا اور ناشتے کیلئے باہر آئی تو طارق صاحب اسکا انتظار کر رہے تھے اسنے پہلے انہیں گڈ مارننگ کہا اور پھر ناشتہ کرنے لگی

'بیٹا آپ جانتی ہیں کہ کل رات آپ کو جنید گھر واپس لایا تھا' انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا

'جی بابا میں جانتی ہوں کل تھوڑی زیادہ ڈرنک کرلی تھی اسی لیے' اس نے لا پرواہی سے کہا 

'بیٹا آپ اپنا خیال رکھا کرو میرے پاس صرف ایک ہی ڈول ہے اگر کل جنید نہ آتا تو.....' انہوں نے بات ادھوری چھوڑدی پھر دوبارہ گویا ہوئے 'ویسے جنید ہے کافی اچھا لڑکا مجھے تمھارے لئے بلکل پرفیکٹ لگتا ہے جتنی تم لاپرواہ اتنا ہی وہ زمہ دار.....' طارق صاحب ابھی بول ہی رہے تھے کہ رابی نے انکی بات کاٹی

'بابا پلیز آپ اپنا یہ سوکالڈ جنید نامہ بند کریں زہر لگتا ہے مجھے وہ اور ویسے بھی میں نے بہت کچھ اوپر کا سوچ رکھا ہے بس آپ تھوڑا صبر رکھیں' رابی چڑ کر بولی اور طارق صاحب اسے دیکھ کر رہ گئے کتنی بے حس ہوتی جارہی تھی سامنے باپ بیٹھا ہے یہ تک بھول گئی تھی وہ

💜💜

'منحوس انسان گدھے الو کے پٹھے کمینے کتنا بھروسا کیا تھا تجھ پر لیکن آخر نکلا تو تو ناگن ہی نہ سینے پر خنجر کھونپا ہے سیدھا' وجدان ہمدان کو گھوڑا بنا کر اسکی پیٹھ پر دھموکے جڑ رہا تھا اور وہ تو بس رواحہ کے نظاروں میں مگن تھا جو سحرش فری  اور فاطمہ کے ساتھ اسکو پٹتا دیکھ کر ہنس رہی تھیں ہمدان تو اسکی ہنسی میں ہی کہیں کھو گیا تھا کوئی آواز نہیں سنائی نہیں دے رہی تھی اور نہ ہی کچھ دکھ رہا تھا وہ تھی اور اسکی ہنسی

عجب نہیں تیری ہلکی سی مسکراہٹ سے

میری حیات کا لمحہ طویل ہو جائے

اس نے رواحہ کو دیکھ کر پڑا سب کی ہنسی کو بریک لگے تھے وجدان کا ھاتھ بھی ہوا میں رکا تھا ریان اور سفیان جو انہی کی طرف آرہے تھے وہ بھی رکے تھے پھر دوبارہ وجدان نے اسے اور زور سے دھموکا جڑا وہ ہوش میں آیا اور روح تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوئی تھی

'کونسا سستا نشا کررہے ہو آج کل جو دن میں تارے نظر آرہے ہیں' وجدان نے اسکی گردن پکڑی

'آں ہاں چاند بول چاند اور وہ بھی چودھویں کا'

وہ محبت سے بولا

اسکی بات پر ریان اور سفیان کی نظر اپنے اپنے چاند پر جا ٹھری اور فاطمہ کی نظر وجدان پر

سحرش جو سفید رنگ کی کرتی اور سفید ٹراؤزر پہنے سیدھا ریان کے دل میں اتر رہی تھی 

فری پنک کلر کے گھٹنوں تک آتی فراک میں اور آنکھوں کو بڑا بڑا کرکے حمدان کو پٹتا دیکھنے میں مگن معصوم پری لگ رہی تھی سیفی کا دل کیا اس پری کو سب سے چُھپا کر اپنے پاس رکھ لے زمانے کی ہوا سے کہیں بہت دور جو اسکی معصومیت کو چوٹ نہ پہنچادے

وجدان جو کہ بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں کافی ہینڈسم لگ رہا تھا اس نے بھی ایک نظر فاطمہ کو دیکھا تھا جو پیلے رنگ کی شلوار قمیض میں سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے بہت حسین لگ رہی تھی دونوں کی نظریں ملیں اور یہی وہ لمحہ تھا جب دونوں جگہ محبت کی چنگاریاں پُھٹیں تھیں وجدان نے نظریں جھکائیں تو فاطمہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی 

گیلانی ہاؤس کا ہر مرد عورتوں کی عزت کرنا جانتا تھا 

ادھر بی جان ان سب کی آنکھ مچولی دیکھ رہی تھیں اور بہت کچھ سوچ رہی تھیں لیکن فکر انہیں صرف میر کی تھی جو شاید دوسری بیوی (پہلی بیوی ڈیوٹی) نہیں لانے والا تھا 

بی جان نے سب کو آوازیں لگا کر اِدھر اُدھر کیا ورنہ کیا پتہ تھا انکا رات یہں گزار دیں سب گڑبڑا کر آگے پیچھے ہوئے بی جان بھی مسکراتی ہوئیں اپنے کمرے میں چلی گئیں

💜💜

'کتنی بوریت ہورہی ہے ایسا لگ رہا ہے سانس بند ہو جائے گی ابھی' لالی نے لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے کہا ہر سنڈے کو اسکی سانس بند ہو جاتی تھی

'او بس کر دے ڈرامے باز خیر بور تو میں بھی ہورہی ہوں' پری نے بیزاریت سے کہا 

'ہمم ٹھیک ہے چلو پھر کرکٹ کھیلتے ہیں بلاؤ ہماری ٹیم کو' لالی نے جوش سے کہا

'اوو، میں نہیں دے رہی کوئی آوازیں اتنا عجیب لگتا ہے'

'او ہمارا معصوم بچّہ چلو پھر تم تیاری کرو ہم سب کو آواز دیتے ہیں'

اور لالی نے لان میں آکر دائیں دیوار کی طرف کھڑے ہوکر ایک مخصوص گانا گایا

'گاڑی والا آیا گھر سے کچرا نکال' اتنی زور سے چیخی کے آگے پیچھے کے سارے بچّے اگلے پانچ منٹ میں گھروں سے نکل آئے

اور پھر اگلے پندرہ منٹ میں ایک طوفانِ بدتمیزی برپا تھا پورے روڈ پر لالی بیٹنگ کر رہی تھی پری بال کیپر اور گڑیا (پڑوسی کے ریاض صاحب کی بیٹی) بولنگ کر رہی تھی اور باقی سارے لڑکے فیلڈنگ کررہے تھے ٹیم میں صرف یہی تین لڑکیاں تھیں باقی سارے لڑکے تھے یا پھر یہ کہہ لیں کہ باقی سارے لوگ اپنی بیٹیوں کو بگاڑنا نہیں چاہتے تھے 

'اور یہ تیسری بال گڑیا نے ڈالی اور اور اور آؤٹ ہے' پری نے آواز لگائی 

'او ہیلو ایسے کیسے آؤٹ ہے کوئی نہیں ہم نہیں مانتے پہلا والا آؤٹ ٹرائے ہوتا ہے دوبارہ کرو' ابھی وہ بحث کرہی رہی تھی کہ ایک کرولا انکے سامنے کھڑے ہوئے لڑکے کی طرف سے بہت تیزی سے گزری جسکے باعث وہ لڑکا جھٹکے سے زمین پر منہ کے بل گرا جسکی وجہ سے سکے سر پر چوٹ آئی اور لالی کا تو یہ دیکھ کر ہی خون خول گیا جیسے ہی وہ کرولا لالی کی طرف سے گزرتی لالی جھٹکے سے سامنے آئی اور گاڑی والے کو روکا 

💜💜

رابی آج کچھ امپورٹنٹ چیزیں لینے باہر نکلی تھی لیکن ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے اسے لالی کے گھر کی طرف کا راستہ لینا پڑا وہاں پر وہ لوگ کرکٹ کھیل رہے تھے وہ درشتگی سے گاڑی نکالنے لگی اسنے اِدھر اُدھر دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی کہ اچانک گاڑی کے سامنے لالی آئی اسنے جھٹکے سے گاڑی روکی اور غصے میں لال ہوتی باہر نکلی ایک تو وہ لیٹ ہورہی تھی اوپر سے ٹریفک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

'او ہیلو دکھائی نہیں دیتا تمہیں یا خودکشی کرنے کیلئے میری ہی گاڑی ملی ہے' رابی نے غصے سے کہا

'پہلی بات یہ گاڑی تمھارے شوہر کی ہو یا باپ کی لیکن یہ سڑک پبلک کی ہے اور دوسری بات ریس لگانے کا اتنا شوق ہے نہ تو جاکر ٹریک پے لگاؤ یہاں بچوں کی جان پر نہ آؤ' لالی نے شہیر(جو زخمی ہوا) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی

'مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں یہ میں تم سے تو نہیں پوچھوں گی اور ویسے بھی روڈ گاڑی چلانے کیلئے بنا ہے نہ کہ کرکٹ کھیلنے کیلئے' رابی نہ خاصہ مغرورانہ انداز استعمال کیا

'آپ منگل سے آئیں ہیں یا بدھ سے اس سے ہمیں کوئی لینا دینا نہیں لیکن پاکستان میں کہاں سڑکیں ختم اور میدان شروع ہوں یہ کسی کو بھی نہیں پتا' لالی نے بھی اسی کہ انداز میں بولا پیچھے سے پری اسے جھگڑا ختم کرنے کا کہہ رہی تھی اور وہ تو صرف لڑنے میں مگن تھی آج تو جیسے اسنے فیصلہ کر لیا تھا اس امیر زادی کی اکڑ نکالنے کا

''Are you crazy? Why you getting so hiper? 

کوئی مرا.......نہیں نہ  so just relax

Stop screaming your voices irritating me understand that

پک پک پک پک ۔۔۔۔۔ ایک منٹ کہیں تم یہ سب کچھ پیسوں کیلئے تو نہیں کر رہیں ویسے بھی تم جیسے مڈل کلاس لوگ ان سب چیزوں میں ماہر ہوتے ہیں"

 اسنے لالی کے اسکارف کو دیکھ کر تنز کیا اور چند ہزار کہ نوٹ نکال کہ لالی کے منہ پر مارے تھے اور اسی پل لالی کو پیچھے کھینچتا ہوا پری کا ہاتھ رکا تھا روڈ پر آس پاس کے گھروں کے لوگ نکل آئے تھے معاملہ رفع دفع کرنے کیلئے لیکن اسکی اس حرکت پر وہ لوگ بھی پیچھے ہٹے تھے کیونکہ اب لالی نے اسے چھوڑنا نہیں تھا

 ''یہ لو رکھو اور چاہئے ہوں تو بتانا کیونکہ تم جیسے لوگوں کو صرف انہی سے مطلب ہوتا ہے کروا دینا اسکی مرہم پٹی

And stop talking cuz you are damn anoying now get lost 

دماغ مت خراب کرو میرا''

رابی بولتی ہوئی پیچھے ہوئی کہ لالی نے اشارہ کیا سب بچے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے اب تو بڑے بھی سوچ رہے تھے کہ آگے کیا ہونا ہے لالی نے رابیعہ کو روکا سب بچے آکر رابیعہ سے چمٹ گئے

'او سائٹ پر ہو disgusting یار ہٹو' رابی چیخی

'آپ نے ان سب کو گاڑی سے اُڑانے کی کوششں کی تھی نہ یہ اسکا ہی احسان اتار رہے ہیں چلو بچوں سب لوگ آنٹی کو تھینک یو بولو' لالی چہک کر بولی رابی نے بچوں کو خود سے دور کیا تو لالی نے وہی ہزار کے کئی نوٹ ان سب بچوں پر سے وارے اور رابی کے منہ پر اسی طرح مارتے ہوئے کہا

''انسانیت کو کسی کی نظر نہ لگے"

لالی نی گویا اسکے منہ پر تھپڑ مار دیا ہو رابیعہ کا تو غصّے سے برا حال ہوا تھا لوگوں کی دبی دبی ہنسی کی آوازیں اسکو بہت واضح سنائی دے رہی تھیں پیسوں کو وہیں پھینک کر اپنی گاڑی میں آ بیٹھی اور گاڑی زن سے آگے بڑھائی بولنے کیلئے الفاظ جو ختم ہوگئے تھے کیونکہ اس بار وہ لالہ رخ سے ٹکرائی تھی جسے نہ پیسوں کا لالچ تھا اور نہ ہی کسی کا ڈر ایسے مغرور اور انا پرست لوگوں کو تو وہ اپنے جوتے کی نوک پر رکھتی تھی

 لیکن لالی کیلئے اب قیامت آنی تھی کیونکہ بہت غلط بندے کو اسکی اوقات یاد دلائی تھی اسنے

لالی نے پیسے اٹھا کر قریب ہی بستی میں ضرورت مند لوگوں کے حوالے کیے اور شہیر کو کلینک پر پہنچایا پھر واپس اپنے گھر کی راہ لی کیونکہ اب کرکٹ کھیلنے کا دل تو رہا نہیں تھا

💜💜

رابیعہ جانتی تھی لالہ رخ کو کیونکہ وہ اور لالی ایک ہی یونی میں پڑھتے تھے بس فرق یہ تھا کہ لالہ رخ LLB کے سیکنڈ سیمسٹر میں تھی اور رابی کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کر رہی تھی آتے جاتے ایک دو بار نظر پڑ چکی تھی رابی کی لالہ رخ پر

رابی جو یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس نے اسے کہاں دیکھا تھا گھر آکر یاد آیا کہ اس نے اسے یونی میں دیکھا تھا 

"ہمم تو لالی میڈم (نام پری سے معلوم ہوا تھا جب وہ اسے منع کررہی تھی) اوقات جو تم بھولی ہو نا اب اس کا تمہیں بہت بڑا خمیازہ ادا کرنا پڑے گا رابیعہ خان کو اس کی اوقات یاد دلانے کی کوشش کی ہے نہ اب تیار رہو تمہیں تمہاری اوقات تو کیا تمہارا آپ نہ بھلوا دیا تو میرا نام بھی رابیعہ خان نہیں 

That's my challenge"

رابیعہ کی آنکھوں میں ایک جنون تھا نفرت تھی یہ نفرت یہ جنون بہت کچھ تباہ کرنے والا تھا لیکن سب سے زیادہ تباہ کسے ہونا تھا یہ تو صرف کاتب جانتا تھا

💜💜

سفیان گھر کے اندر آرہا تھا کہ اسکی نظر فری پر پڑی جو جھولے پر بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی وہ اسی کی طرف چلا آیا اور پیچھے سے آکر اسے جھولا جھولانے لگا 

فری جو انہماک سے ناول پڑھ رہی تھی اچانک جھولے میں جنبش ہونے سے ڈری تھی جھجھکتے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سیفی بہت نزدیک کھڑا اس پر جھکا ہوا تھا وہ بے اختیار پیچھے ہوئی وہ اور آگے ہوکر اسکی طرف جھکا تھا 

'ی....یہ...یہ ککک....کیا کررہیں سیفی بھائی' فری کی زبان لڑکھڑائی

'شششششش.....تم یہاں کیا کررہی ہو رات کو ڈر نہیں لگتا کہ کوئی پری سمجھ کر لے گیا تو' سیفی نہ اسکے ہونٹوں پر اپنی شہادت کی انگلی رکھی تھی اسکے لہجے میں خمار سا ابھرا تھا

'وہ..... ناول پپپپپ....پڑھ رہی تھی' اپنے لہجے کو مضبوط بنانے کے باوجود بیچ میں ڈگ مگا گئی تھی کیونکہ سامنے والے کی نظروں میں کچھ تھا جو سمجھ سے باہر تھا وہ پیچھے ہٹا 

'اندر جاؤ اس طرح رات کے وقت باہر نہ دیکھوں تمہیں' لہجے میں سختی لایا اور اسے ڈانٹا

وہ اٹھکر اندر جانے لگی اسے بہت برا لگا تھا کیونکہ اس نے کوئی غلط کام تو نہیں کیا تھا جو ڈانٹ پڑے(اپنی سمجھ کے مطابق)

وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ تبھی سفیان نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا وہ جو سوچوں میں گم چل رہی تھی اس افتاد سے اسکے چوڑے سینے سے آلگی تھی سفیان نے اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسے اور قریب کیا 

'سسسس.....سسسفیان بھائی کککککک۔۔۔۔۔کیا کررہے ہیں چھوڑیں مجھے' وہ گھبرائی تھی ایسی سچوئیشن سے کبھی سامنا جو نہیں ہوا تھا مسلسل اپنا آپ چُھڑ وانے کی کوشش کی لیکن سامنے والے کی پکڑ بھی مضبوط تھی

'اچھا چھوڑ دوں گا پہلے یہ بتاؤ ناراض ہوکر جارہی ہو پرنسس' سیفی اسکے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھتے ہوئے بولا قریب سے اور بھی پیاری لگتی تھی وہ دل نہ گواہی دی تھی 

'نن۔۔نہیں بلکل بھی نہیں نہیں ہوں ناراض آپ سے'

وہ جلدی سے بولی سیفی اسکی جلد بازی پر مسکرایا تھا

'اب جاؤں کیا میں'

'ہمممم جاؤ' اسکا دل تو نہیں تھا لیکن کس حق سے روکتا وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی اندر گئی تھی   

'آہ' وہ سر پر ہاتھ پھیرتا ٹھنڈی آہیں بھر کے رہ گیا کبھی تو ہاتھ آؤ گی ہی جب بھی آؤگی بچ کر جہاں جاؤ گی وہ مسکرایا تھا

وہ اپنے مخصوص انداز میں ہاتھوں کو پینٹ کی جیبوں میں اڑسے آنکھوں پر سن گلاسز لگائے  ہونٹوں کو گول کرکے سیٹی بجاتا ہوا ہمیشہ کی طرح خوبرو سا وہ مرد پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا سامنے سے آتے حولدار سیلیوٹ کرکے سلام کرتے وہ سب کا سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنی ٹیبل کی طرف آیا اور ٹیبل پر پڑی فائلز کو چیک کرنے لگا 

اتنے میں انسپیکٹر حارث اندر داخل ہوا اور میر کو سیلیوٹ کرکے سلام کیا اس نے سر ہلا کر جواب دیا

'کیا اپڈیٹ ہے انسپیکٹر' 

''سر ایک درندے کو پکڑا ہے دو معصوم بچیوں کو نوچا ہے اس خبیث نے اور نہ صرف درندگی کی بلکہ جلا کر جان سے ماردیا'' میر نے مٹھیاں بھینچی تھیں دانت پر دانت جمائے تھے دو انگلیوں سے مخصوص اشارہ کیا تھا اور حارث جان گیا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے 'سر' کہتا واپس مڑا اسکے پیچھے میر بھی نکلا تھا

_ایسوں کا فیصلہ تو وہ خود کرتا تھا جب بھی ایسا کوئی کیس آتا تو میر کی عدالت لگتی تھی جس میں صرف سزائے موت ہوتی تھی نہ گواہ ہوتے نہ جج ہوتا اور نہ ہی کوئی تاریخ اور اس دن آس پاس کا پورا محلہ آتا تھا انصاف دیکھنے اور مقتول کا خاندان فیصلہ کرتا تھا کہ کیا کرنا ہے  اور انکے فیصلہ کے ساتھ ایک فیصلہ میر کا ہوتا تھا

کب ضد پر آجائے تو سمندر کو چیر دے 

جھونکا ہوا کا یہ نہ بن پاوے زنجیر سے

جب غررائے سب تھر رائے یا بند خول بن جائے

وہ مین انٹرینس پر موجود تھا جہاں پر دائیں طرف حوالداروں کی ٹیبلس تھیں اور بائیں طرف گزرے سالوں کے ریکارڈ تھے دائیں طرف ہی باہر آنے جانے کا دروازہ تھا دائیں اور بائیں کے بیچ کی جگا ایک دیوار تھی تھی جس پر زنجیریں لگی تھیں اور اس دیوار کے بلکل سامنے تین سٹیپ اوپر میر کا آفس تھا (یو نو سمبا) اور ان سٹیپ پر بیٹھا وہ ملک کا رکھوالا میر گیلانی کیسے اپنے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا ہوتا دیکھ سکتا تھا کیونکہ ملک کی جڑیں تو یہ بچے ہیں جن میں سے دو اسکی درندگی کا نشانہ بنے اب یہ میر کی درندگی کا نشانہ بنے گا 

کچھ دیر بعد حارث اور امان اللہ(حوالدار) نے اس درندے کو سامنے لگی زنجیروں میں جکڑا تھا میر کی خونخوار نظر بھی اسی پر تھی اس کا بس نہ چلتا کہ نظروں سے ہی کھا جاتا

'جلیل صاحب فیصلہ کریں یہ آپکا مجرم ہے' میر کی سرد آواز ہال میں گونجی تھی سامنے بندھے درندے کے نیم غنودگی میں بھی پسینے چھوٹے تھے آواز ہی اتنی سرد تھی جیسے اشتعال اور غصّے کو دبانے کی کوشش کی گئی ہو

'بیٹا اسنے میرے گھر کی خوشیوں کو چھینا ہے اسے چھینا ہے جسے میں نے اپنے ہاتھوں میں کھلایا تھا میری نازک پھول جیسی بچی تھی وہ اسنے میری بچی کو زندہ جلایا تھا میری آنکھوں کے سامنے میرا فیصلہ ہے اسے بھی زندہ جلایا جائے' انہوں نے روتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا انکی بیٹی محض نو سال کی تھی جسے اس درندے نے نوچ کھایا تھا

'رحیم صاحب آپ کا کیا فیصلہ ہے' وہی سرد لہجہ حارث نے بے ساختہ جھرجھری لی 

'میرا بھی یہی فیصلہ ہے' رحیم صاحب نے پختہ لہجہ میں کہا اپنی بیٹی کو انصاف دلا رہے تھے انہیں اس وقت مضبوط بننا تھا اپنی بیٹی کے لئے جو سترہ سال کی تھی جسنے کئی خواب دیکھے تھے اسے ڈاکٹر بننا تھا کافی زہین بھی تھی لیکن اسکا حسن اسے لے ڈوبا کالج سے واپسی پر اس درندے نہ اسے اٹھا لیا تھا اور درندگی کرکے اسے جلا دیا تھا وہ ہمیشہ کہتی تھی میں بڑے ہوکر ایسی لڑکیوں کیلیے لڑوں گی لیکن خود انہی لڑکیوں میں شامل ہوگئی تھی 

"خدا سب لڑکیوں کے نصیب اچھے کرے اور ساتھ میں انہیں اپنے حفظ وامان میں بھی رکھے آمین"

'تو پھر میرا بھی ایک فیصلہ ہے' میر نے سامنے نظریں ٹکائے کڑختگی سے بولا

💜💜

رابیعہ نے پورا پلین تیار کیا تھا اب وقت اس پر عمل کرنے کا تھا جو جنید کے بغیر نہ مکمل تھا سو فون اٹھایا اور اپنے ایک ضروری مُہرے جنید کو کال ملائی اور اپنے لہجے میں دنیا جہاں کا دکھ سمویا 

جنید نے پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کی

'زہے نصیب آج تو بڑے لوگوں نی فون کیا ہے' جنید کی شوخ سی آواز سنائی دی

'جنید' وہ بولتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی بھئی ناٹک کررہی ہے لگنا بھی چائیے اور ادھر جنید کی ساری شوخی ہوا ہوئی تھی

'رابی' جنید نے بولتے کے ساتھ ہی فون بند کیا تھا اور آفس کے مینیجر کو کام سنبھالنے کا بولتا ہوا گاڑی میں آبیٹھا اور گاڑی زن سے آگے بڑھائی 

ادھر رابی اپنی ایکٹنگ کو دنیا جہاں کے ایوارڈز سے نواز چکی تھی

💜💜

'رابی میری جان کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے اگر مجھے نہیں بتاؤ گی تو میں سب کچھ کیسے ٹھیک کروں گا' جنید نے روتی ہوئی رابی کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن وہ تو ایسے رو رہی تھی جیسے وہ مرنے والی ہو اور حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ اسنے خود کو شال سے ڈھکا ہوا تھا ایک پل کیلئے تو جنید بھی ٹھٹکا تھا لیکن وہ رابی کو سنبھالنے میں مگن ہوگیا تھا تو بھول گیا

'جنید اس نے.......مجھے……پوری یونی کے سامنے.......اس………نے' ہچکیوں کی وجہ سے بولا تک نہیں جا رہا تھا 

'اچھا روکو پہلے پانی پیو' جنید نے پانی کا گلاس اسکی طرف بڑھایا وہ ایک ہی سانس میں پی گئی

'اب بولو' 

'جنید اسنے پوری یونی کے سامنے میری انسلٹ کی اور اور میری جھوٹی تتتتت۔۔۔۔تصویریں بھی دکھائیں سب کو کسی لڑکے کے ساتھ وہ لڑکا تو بچ جائے گا پر میں میں تو لللللل۔۔۔۔لڑکی۔۔ی۔۔ ہونا' وہ زارو قطار روتے ہوئے(ڈرامہ) اسکے سینے سے آلگی رابی نے پلین کے مطابق پہلا پتّہ پھینکا تھا 

'ی۔۔۔ییی۔۔یہ دیکھو' اسنے وہ خود سے کی فوٹوشاپ تصویریں دکھائیں جسمیں اس نے انتہائی تنگ جسم کو چھپانے کے لیے نا برابر سا لباس زیب تن کیے کسی لڑکے (جو کہ شرٹ لیس تھا) کہ انتہائی قریب کھڑی تھی دکھانے والے نے تصویر اس طرح سے فوٹوشاپ کی تھی کہ دیکھنے والا ان پر ایمان لے آئے 

'اور اور اس۔۔۔۔۔نے میرییییی۔۔۔آستین بھی کھینچی جس سے وہ پھٹ گئی اس نے کہا ایسی حرکتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تو اب کیوں آئے گی(استغفرُللہ کتنی کمینی ہے)' اس نے اپنی شال ہٹا کر اپنا بازو دیکھایا جہاں آستین پھٹی ہوئی تھی جنید کو تو اپنی آنکھوں پر ہی یقین نہ ہوا پہلے تو وہ بے یقینی سے دیکھے گیا اسکے بعد غصّے نے اسے آ جکڑا تھا اور غصّے میں ہمیشہ کی طرح وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھا تھا اسی وجہ سے یہ تک بھول گیا تھا کہ سامنے کھڑی ہوئی لڑکی بہت تیز ہے کس میں اتنی ہمت ہوگئی تھی اسے کچھ کہنے کی وہ تو چڑیل تھی وار کرنے سے پہلے ثبوت مٹاتی تھی اگر کسی نے ایسا کچھ کیا بھی تھا تو رابی اب تک اسے موت سے بد تر سزا دے چکی ہوتی نہ کہ رو رہی ہوتی 

'کس نے کیا ہے یہ میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا'

لہجہ میں پختگی تھی غصّہ تھا 

'نن۔۔نہیں جنید تم ایسا کچھ نہیں کروگے تمہیں تمہاری محبت کی قسم' رابی نے ایک اور پتّہ پھینکا جو اس بات کی گواہی تھا کہ جیت اسی کی ہوگی مگر قسمت۔۔۔ جنید نے جھنجھلا کر اسکی طرف دیکھا وہ پھر بولی

'اس نے صرف میرے ساتھ ہی نہیں بلکہ بہت سی لڑکیوں کی زندگی خراب کی ہے اب ہم اسے سزا دیں گے جنید اس میں تم میرا ساتھ دوگے نہ کیونکہ تمھارے بغیر میں کچھ نہیں کرسکتی پلزززز' رابی نے آنکھوں میں امید لیے اسے دیکھا 

'ہاں میں کروں گا تمھاری مدد بلکہ تم اگر مجھے نہ روکتیں تو اب تک وہ میرے ہاتھوں قتل ہوچکی ہوتی' جنید کے لہجہ میں سختی ابھری لیکن وہ ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کتنی معصوم ہے رابی اپنی مشکلات بھلا کر دوسروں کا بھلا کررہی تھی

اور یہاں رابی نے پھینکا تھا جوکر کا پتّہ، دل ہی دل میں وہ قہقہ لگا رہی تھی ایک تیر سے دو شکار جنید بھی راستے سے ہٹے گا اور وہ لالی بھی برباد ہوگی

ہاہاہاہاہاہاہا قسمت نے بھی اسکے ساتھ زور سے قہقہ لگایا تھا کیونکہ کاتب بھی اب مزاق کرنے چلا تھا لیکن کاتب کے مزاق مزاق نہیں ہوتے

💜💜

میر کے فیصلے کے مطابق اسے محلے کی بنجار زمین پر آدھا زمین میں دفنایا اور آدھا زمین سے باہر رکھا کیونکہ میر کا فیصلہ زندان تھا وہ اسے ختم کر دینا چاہتا تھا لیکن ایسے نہیں 

پھر اس نے محلے کے لوگوں کو آگے کیا اور سب کو پتھر اٹھانے کو کہا اور سب نے مل کر اس درندے کو پتھر مارے تھے چند ہی منٹوں میں وہ لہولہان ہوگیا تھا اور آخر میں ایک پتھر رحیم صاحب نے اور ایک پتھر جلیل صاحب نے مارا تھا اور اتنی زور سے مارا تھا کہ اس کی چیخوں کے ساتھ کراہیں بھی گونجی تھیں

میر نے حارث کو اسے باہر نکالنے کا اشارہ کیا اسنے اشارہ سمجھتے ہی حوالداروں کے ساتھ باہر نکالا اور اب باری تھی تاریخ لکھنے کی کہ جب جب ایسے فرعون اٹھیں گے تب تب خدا موسیٰ (ع) کو بھیجے گا 

اس کے ہاتھوں اور پیروں کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا میر نے اپنے ہاتھوں سے اس پر پیٹرول چھڑکا، محلے کی کچھ دل برداشتہ عوام واپس جا چکی تھی جانتے جو تھے کہ ایک اور فرعون ختم ہونے آیا ہے اتنی آسانی سے تو نہیں مرے گا

میر نے رحیم صاحب اور جلیل صاحب کو اشارہ کیا وہ دونوں آگے بڑھے تھے دونوں کی ہاتھوں میں ماچس تھی بلکہ موت کا پروانہ تھا 

جلیل صاحب کے کانوں میں اپنی بیٹی کی آواز گونجی 

'بابا آپکی بیٹی ایک دن ٹاپ کی ڈاکٹر بنے گی اور سب کا علاج کرے گی اور سب سے پہلے آپکا بلڈ پریشر ٹھیک کرے گی نہ صرف آپکو بلکہ میں سب ٹھیک کروں گی ہم امیر ہو جائیں گے اور پھر ہم بڑا والا گھر لینگے اور اچھے اچھے کپڑے بھی پہنیں گے' اور آخر میں کھلکھلا کر ہنسی انکی آنکھوں سے آنسو ٹپکا میر نے ھاتھ رکھا تھا انکے کندھے پر انہوں نے سر ہلایا

اور ماچس جلائی رحیم صاحب نے بھی ماچس جلائی اور ایک ساتھ اسکی طرف پھینکی تھی 

پیٹرول نے شعلہ پکڑا اور آگ بھڑکی تھی اس درندے کی چیخوں نے اس بات پر مہر لگائی تھی کہ وہ خدا انصاف پسند ہے پھر جیسے بھی ہو مکافاتِ عمل لازمی ہوتا ہے

ادھر اسکے جسم سے روح نکلی جلیل صاحب نے بے ساختہ آسمان کو دیکھا تو سامنے انکی بیٹی کھڑی مسکرا رہی تھی اور پھر واپس پلٹ گئی یہ دیکھ کر انکے دل کو سکون ملا تھا ہائے یہ بیٹیاں کتنی پیاری ہوتی ہیں 

💜💜

لالی صبح یونی جانے کیلئے تیار ہورہی تھی آف وائٹ سیمپل سی کرتی صرف گول گلے پر سلور موتیوں کا کام تھا اسکے نیچے آف وائٹ ٹراؤزر دوپٹے کو پلیٹس ڈال کر اسکارف بنایا تھا بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل اور ہونٹوں پر گلوس 

'آجاؤ نیچے شیشے میں تو ایسے دیکھ رہی ہو جیسے ہور پری لگ رہی ہو بہت' پری نے شرارت سے کہا

'جلو مت اب ہیں تو کیا کرسکتے ہیں ہائے نظر نہ لگے کسی کی ماں صدقے ماں واری' لالی اپنے ہی صدقے واری ہوئی 

وہ دونوں باہر ٹیبل پر آئیں تو زمان شاہ انکا انتظار کر رہے تھے

'آگئیں میری پریاں' انہوں نے محبت بھرے لہجے میں کہا

'بابا پری تو صرف میں ہوں' پری نے لاڈ سے کہا

'ہاں پری تو یہی ہے کیونکہ ہم تو حور پری ہیں' اس نے آنکھوں کو جھپکا کر کہا 

'حور پری نہیں کچرا رانی کہو یا لڑاکا عورت' دانیال نے اسکے سر پر ہاتھ مارا

'اووو…بھئی عورت کسے کہا لڑاکا تو ٹھیک ہے لیکن عورت' ہاتھوں کو کمر پر رکھ کر صدمے سے بولی

'ہاں بابا کل وہ امیر زادی ہمارے محلے سے گزر رہی تھی اس نے شہیر کو مارا اپنی گاڑی سے بچارے کے سر پر چوٹ لگ گئی تھی اور سوری کرنے کے بجائے وہ گاڑی لئے وہاں سے جارہی تھی پھر لالی نے اس کی ساری اکڑ نکالی تھی' پری جوش سے سب بتانے لگی سب نے لالی کی ہمت کو سراہا اور لالی بھی اکڑ کر بیٹھ گئی شبانہ بیگم نے بھی ایک ایک بات سنی تھی انکو پہلے تو خوشی ہوئی لیکن بعد میں یاد آیا لڑکیاں ایسی نہیں ہوتیں اسلئے اپنے ازلی موڈ میں واپس آئیں

'لالہ رخ امیر زادی تھی وہ اس طرح ہر کسی سے نہیں لڑتے سدھر جاؤ تم دیکھا ہے کبھی خاندان کی لڑکیوں کو ایسا کرتے ہوئے کچن میں کونسی چیز کہاں رکھی ہے تمہیں اسکا زرا بھی پتہ نہیں ہوگا لیکن یہ پوچھو کہ کونسی ایکشن مووی کب اور کہاں ریلیز ہوئی ہے اسکا سب پتا ہوگا تمہیں' شبانہ بیگم شروع ہوچکی تھیں اور لالی حسبِ معمول سن رہی تھی کہہ تو وہ بھی سکتی تھی کچھ لیکن وہ بد تمیز نہیں تھی عزت کرنا تو اس نے بھی سیکھا تھا لیکن صرف ان کیلئے جو عزت کرنے کے لیے بنے ہیں اور جو اسکی عزت کرتے ہیں اور جو نہیں کرتے پھر وہ انہیں منہ بھی نہیں لگاتی تھی دریا دل بھی تھی اور لڑاکا بھی جہاں کچھ غلط ہو وہاں یہ پہلے پہنچ جاتی تھی

'اچھا ڈارلنگ سوری بس کے آنے کا ٹائم ہوگیا ہے اب ہم جارہے ہیں شام میں ملاقات ہوتی ہے اللّٰہ حافظ' لالی سب کو الوداع کہہ کر جلدی سے باہر دوڑی کوئی شک نہیں تھا کہ انکی چپل نہ اسکا پیچھا ضرور کیا ہوگا 

لالی صبح 7:30 پر یونی جاتی تھی اور پانچ بجے واپس آتی تھی کیونکہ وہ 1 بجے کے بعد وہ ایک نیوز پیپر میں ایز آ ایڈیٹر جاب کر رہی تھی اور یہ بات اس نے کسی کو نہیں بتائی تھی کیونکہ اسے جاب کرتے صرف دو ہفتے ہوئے تھے وہ سب کو اپنی پہلی کمائی دکھا کر سرپرائز کرنا چاہتی تھی جو کہ بیس ہزار تھی 

وہ اپنی جاب سے واپس آرہی تھی کہ اسے لگا جیسے کوئی اسکا پیچھا کررہا ہو اس نے ایک دو بار مڑ کر دیکھا کوئی نہیں تھا آج اس نے شارٹ کٹ لیا تھا لیکن اب وہ بری پھنسی تھی کیونکہ آس پاس کوئی تھا ہی نہیں عجیب آج کچھ زیادہ ہی سناٹا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ پہلے کبھی نہیں آئی تھی اکثر جب بھی لیٹ ہوتی تو یہیں سے گزرتی تھی

ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ دولفنگوں نے اسکا راستہ روکا وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی 

'ارے دن میں چاند کہاں سے نکل آیا' اس میں سے ایک لفنگا بولا

(ابے یار اب یہ کہاں سے آگئے چرسی سالے اب تمہیں چاند تارے دکھانے پڑیں گے) 

'ارے چھمک چھلو ڈرو نہیں بس کچھ وقت ہمارے نام کردو ہم جانے دیں گے' دوسرا بولا شاید وہ لوگ اسکی شکل کی معصومیت اور چھوٹے قد کی وجہ سے بچی سمجھ بیٹھے تھے 

(ہاہاہاہا امی دیکھ لیں آپ کی بیٹی کتنی تیز ہے صبر رکھو چرسیوں ڈرو گے تو اب تم لوگ) 

 دونوں نے لالی کی طرف قدم بڑھائے تو۔۔۔۔

 💜💜

میر اس سب کے بعد ڈسٹرب ہوگیا تھا اسلئے اسٹیشن سے گھر گیا کپڑے چینج کیے اور پھر گاڑی لے کر نکلا اور سڑکوں کی دھول چھاٹنے لگا ادھر ادھر نظریں بھی مار لیتا کہ اچانک اسے دور دو لڑکے دکھے جو کسی لڑکی کا پیچھا کر رہے تھے ان لڑکوں کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ نشہ کرتے ہیں اسکا مطلب وہ لڑکی مشکل میں تھی لیکن وہ بے خبر بھی تھی 

تبھی میر نے اپنی گاڑی روکی اور انکا پیچھا کرنے لگا لیکن اچانک سے وہ دونوں اس لڑکی کے سامنے آئے اور کچھ واحیات جملے بولے لیکن اسے عجیب تب لگا جب وہ لڑکی انکی باتوں پر مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کررہی تھی 

(پاگل ہے کیا یہ لڑکی جو گھبرانے کے بجائے ہنس رہی ہے) وہ ابھی کچھ کرتا کہ

.……………………………

دونوں لفنگوں نے لالی کی طرف قدم بڑھائے تو لالی کا ڈرامہ شروع ہوا وہ اونچی اونچی آواز میں رونے لگ گئی اور تو اور آنسوں بھی آگئے 

یہ دیکھ کر وہ دونوں گھبرائے

'آپ واقعی بہت اچھے ہیں جو ہمیں اپنے ساتھ لے جارہے ہیں ورنہ تم لوگوں کی یہ دنیا ہمیں کہاں جینے دے گی'

ان دونوں کو شاید اس پر بڑا ترس آیا تھا اس لیے پوچھ بیٹھے 

'یہ دنیا تمھاری کیوں نہیں ہے اور کون تمہیں جینے نہیں دیتا' اسنے الجھ کر پوچھا میر نے بھی درخت کے پیچھے سے اسے دیکھا تھا

(پاگل) میر مسکرایا وہ جو ایسے ڈرامے باز لوگوں میں رہتا تھا سمجھ گیا تھا (میر کے بھائی یار)

'یو نو واٹ انکل آپ دونوں بہت اچھے ہیں جو ہم سے ہمارے دکھ پوچھ رہے ہیں ورنہ ان انسانوں نے ہمیں زندہ ہی مار دیا تھا چلیں لے چلی ہمیں اپنے ساتھ ہمیں بھی نہیں رہنا ان بیڈ لوگوں میں'

اسکے ان انسانوں اور تمھاری دنیا کہنے سے وہ دونوں واقعی ڈر گئے تھے 

'کون ہہہہہ۔۔۔۔۔ہو تت۔۔تم' اسکی زبان لڑکھڑائی

'ہم جن کی بہن ہیں لیکن ہیں آپ لوگوں جیسے ہی بس پیر الٹے نہیں ہیں لیکن دماغ الٹا ہے آپ ہمیں لے کر جائیں گے نہ اپنے ساتھ' اسکا ڈرامہ عروج پر تھا 

جن کی بہن اس بات پر وہ یقین نہ کرتے لیکن اسکا ڈرامہ تبھی وہ لڑکی اس سنسان سڑک پر آئی تھی وہ لوگ ابھی بھاگتے کہ انہیں اسکے ہنسنے کی آوازیں آئیں اللّٰہ معاف کرے ہنستی بھی چڑیلوں جیسا ہے اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر کہتے وہاں سے بھاگے تھے

'ارے انکل سنیں تو سہی ارے روکیں ہمیں بچائیں اپنی دنیا کے لوگوں سے ارے لگتا ہے بھاگ گئے اب کون بچائے گا ہمیں' وہ خود سے کہتی آخر میں اس نے قہقہ لگایا 

'ہاہاہاہاہاہا سالے چرسی لالی دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز کو پھانس نے آئے تھے آخر میں خود ہی پھنس گئے ہائے صدقے' 

خود سے بولتی پیچھے مڑی بیگ اٹھانے کیلئے جو اسنے ڈرامہ کرتے ہوئے اتار کر پھینکا تھا پیچھے مڑتے ہی ٹھٹھکی کیونکہ میر نے اسکا بیگ اٹھا لیا تھا اور اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا تھا اب اطمینان سے اسکا جائزہ لے رہا تھا چہرے کی معصومیت دیکھ کر ٹھٹکا تھا پسند آگیا تھا اسے لیکن کیا۔۔۔؟ شاید اسکا کانفیڈینس یا شاید اسکی ہمت یا پھر۔۔۔۔۔۔۔وہ خود

اور اسکی طرف دو قدم بڑھائے وہ ڈری (ہائے اللہ کنوئیں سے نکل کر کھائی میں تو نہیں گر گئے کہیں امیییی) وہ دو قدم پیچھے ہوئی 

'دیکھو چرسی انسان دور کھڑے رہو ورنہ اچھا نہیں ہوگا' لالی نے اپنے لہجہ کو مضبوط بناتے ہوئے کہا ڈر تو اسکو سچ میں لگ رہا تھا اسکے پھولے ہوئے ڈولے اور سنجیدگی دیکھ کر

(اسکو بیوقوف بنانا مشکل لگتا ہے اور ہے بھی موٹا اٹھا کر لے جائے گا ہمیں اسکی فٹنیس اور مسلز کو وہ موٹا بول رہی تھی)

'واٹ چرسی میں تمہیں چرسی لگتا ہوں' میر نے صدمے سے قدم روکتے ہوئے پوچھا

لالی نے اثبات میں گردن ہلائی

'ہیں اچھا میری آنکھوں کے نیچے بلیک سرکلز ہیں' اسنے اپنی آنکھیں دکھاتے ہوئے پوچھا

"نہیں" لالی نے کہنے کے ساتھ گردن بھی ہلائی

'تو کیا میرے ہونٹ کالے ہیں' 

"نہیں" 

'تو میں چرسی کیسے ہوسکتا ہوں' میر نے سمجھانے کے انداز میں کہا

'کیونکہ آپ ان لوگوں کی طرح ہمارے قریب آرہے تھے تو اس لئیے' وہ منمناتی ہوئی بولی

'اوہ۔۔۔ہاں روکو ہلنا مت' میر اسکی طرف بڑھا اور اسکی چادر جو کہ کندھے سے ڈھلک گئی تھی سہی کی اس دوران لالی کی دھڑکنیں اسکو اپنے کانوں میں سنائی دی تھیں میر نے دانتوں تلے ہونٹ دبایا اور اپنا گال اسکے گال سے مس کیا لالی کی دھڑکنیں دو سو کی اسپیڈ سے تیز ہوئی تھیں میر اپنی حدود سے اچھے سے واقف تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ اس لڑکی میں اتنی دلچسپی لے رہ تھا

'جاؤ فی امان اللہ' میر بول کر پیچھے ہٹا

'فی امان اللہ' لالی نے بھی پیاری سی مسکراہٹ سے  کہا

اور پھر دونوں نے اپنی اپنی راہ لی وہ پیچھے مڑ گیا اور وہ آگے دونوں کی راہیں جدا تھیں لیکن پھر بھی ایک تھیں میر نے اسے مڑ کر ایک بار ضرور دیکھا تھا جو اپنے ہی دھن میں چلتی ہی جارہی تھی

دل کی ضد ہو تم ورنہ

ان آنکھوں نے بہت لوگ دیکھے ہیں 

💜💜

"رابی کیا بول رہی ہو کسی کو ایسی سزا نہی دیتے ہم کیوں کسی کی فیلینگس سے کھیلیں اور میری ماں نے مجھے سکھایا ہے کہ اگر کوئی برا ہے تو اسے اپنے طریقے سے سمجھاؤ نہ کہ اسکی طرح برے بن جاؤ تو آپ میں اور اس میں فرق کیا رہ جائے گا" جنید نے اسے سمجھانا چاہا جو کہ نا ممکن سا تھا رابیعہ کو سمجھانا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف تھا وہ جانتا تھا اسے وہ سب کرنا ہی پڑے گا 

'جنید تم میری بات مانو گے یا نہیں مجھے آخری امید صرف تم سے ہے' اس نے اسے بلیک میل کرنا چاہا اور تو اور وہ ہو بھی گیا 

'میں کوشش کروں گا کہ تمہاری امید پر پورا اتروں' وہ سنجیدگی سے کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا 

پیچھے وہ مسکرائی 

'The game is begins'

💜💜

آج بی جان نے سب کو اکھٹّا کیا تھا شام کی چائے پر اور میر کو وڈیو کال کی تھی کیونکہ بات ضروری تھی علی اور جنید بھی میر کے ساتھ تھے ان دونوں کو بھی میر کے گھر میں ایک فرد کی سی اہمیت حاصل تھی

علی حسبِ عادت کھانے میں مگن تھا، وجدان سوچ رہا تھا اپنی سزا کیسے ختم کروائے کیونکہ دو تین دنوں میں ہی اسے پیسوں کے لالے پڑگئے تھے  اسکو لگ رہا تھا جیسے اسکی دولت پر اسکے رشتے داروں نے قبضہ کرلیا ہو اور وہ ظلم کا مارا ہائے، جنید رابی کو سوچ رہا تھا اس نے اتنی بڑی بات کہہ دی تھی کہ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا کرے، انصار صاحب فریہا کو لیے بیٹھے تھے فہیم صاحب اور شیراز صاحب بھی انہی کی طرف متوجہ تھے پورے گھر کی لاڈلی تھی وہ اور میر بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جو اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں وجدان کی سفارش کررہی تھی اور میر اسکے آگے ہمیشہ کی طرح بے بس 

'بی جان بتائیں نہ کیا بات ہے کہیں میر نے شادی کیلئے ہاں تو نہیں کہہ دی' نازش اچھل کر بولی سب لوگوں نے گھوم کر میر کو دیکھا اس بات پر تو علی کا سموسے والا ہاتھ جو منہ تک جا رہا تھا روکا جنید کی سوچوں کا ارتکاز ٹوٹا اس بات پر

'اوئے لالے نے ہاں بول دی بلے بلے میرے یار کی شادی ہے' علی نے چیخ مار کر بھنگڑا ڈالا جنید بھی اٹھ کر گلے لگا

'کمینے ہمیں تو بتا دیتا اس کے گھر رشتہ ہی لے جاتے اب وہ خود رشتہ لے کر تھوڑی آئیں گے اور بی جان اگر وہ کراچی کی ہوگی تو ہم دونوں ہی رشتہ لے کر جائیں گے نہ بس تو ایڈریس لکھوا جگر ہم شادی کی ڈیٹ بھی لے کر آئیں گے اور اگر وہ نہیں مانے تو ہم پیر پڑ جائیں گے' 

جنید نے ایک ہی سانس میں سب کہہ دیا میر اور علی تو آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھ رہے تھے کہ ہیں یہ بولتا بھی ہے شاید اسے کچھ زیادہ ہی خوشی ہوئی تھی 

'بس چپ ہو جاؤ اسنے کوئی ہاں نہیں کی ہے' بی جان نے ڈانٹا دونوں کو

'اوہو ایویں میرا کھانا روک وا دیا ہونہہ۔۔۔۔' علی نے بھر کر اسے کوسا

'اففففف، فالتو میں ہی اتنا بول گیا میں حد ہوگئی ہے' جنید نے منہ بسورا 

'اچھا تو اب سب اپنی زبانوں پر لگام ڈالیں' بی جان نے روعب دار آواز میں کہا سب خاموش ہوئے

'آج ہم نے اپنے گھر کے بچوں کیلئے بہت بڑا فیصلہ کیا ہے اور اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ اعتراض کے ساتھ وجہ بھی بتائے نہیں تو کیوں نہیں' انہوں نے بات شروع کی

'ہم چاہتے ہیں کہ اب ہم سب کو نکاح جیسے پاک بندھن میں باندھیں' اس بات پر رواحہ کا دل زور سے دھڑکا 

'اس لئے ہم نے حمدان اور رواحہ کے ساتھ تین رشتے اور جوڑے ہیں پہلا سفیان کا فریہا کے ساتھ دوسرا ریان کا سحرش کے ساتھ اور تیسرا وجدان کا فاطمہ کے ساتھ' روکیں اور سب کو دیکھا سب سر جھکائے بیٹھے تھے انکا سر فخر سے اٹھا جانتی تھیں انکی تربیت تھی ان سب میں

'ارے بیٹھے کیوں ہو قرۃ اور ساجدہ ہمارے گھر کی بہوؤں کو نیگ دو اب یہ بیٹیاں نہیں ہماری بہوؤں ہیں' کتنا مان تھا انکے لفظوں میں پھر ایک شور مچا تھا پورے گیلانی ہاؤس میں

ساجدہ اور قرۃ نے ان دونوں پر سے ہزاروں نوٹ وارے اور انکی بلائیں لیں ادھر تو جیسے ان چاروں کو جنت مل گئی ہو گویا سارے لڑکوں نے مل کر بھنگڑے ڈالے انصار صاحب شیراز صاحب اور فہیم صاحب کو بھی خوب نچایا اور بی جان نے ان پر سے بڑے بڑے نوٹ وارے 

 فری بھی سب کھل کر انجوائے کررہی تھی زیادہ اسے کچھ پتا نہیں تھا شادی کے بارے میں بس وہ یہ جانتی تھی کہ ڈھیر ساری شاپنگ ہوگی 

 'اچھا سنو سب ہم نے نکاح کا فیصلہ کیا ہے' بی جان ابھی بول ہی رہیں تھیں کہ علی بول پڑا

 'اللہ اللہ بی جان اس عمر میں شادی کرتی ہوئی اچھی لگیں گیں دادا جانی کیا سوچیں گے اور ویسے بھی ابھی تو ہم لوگوں کی شادی کی عمریں ہیں' علی اپنی ہی بات پر شرمایا 

 'تم اپنا کھانا کھاؤ میاں اور ہم نے ان چاروں کے نکاح کا فیصلہ کیا ہے اگلے ہفتے کے جمعہ کو اور ایک سال بعد رخصتی' بی جان نے علی کو لتاڑا اور وہ بے شرموں کی طرح پھر بولا 

 'کسی دوشیزہ کو ہمارے لیے بھی ڈھونڈ لیں تاکہ ہمیں بھی کوئی اے جی او جی سننے کو ملے اور آپ کو بھی پر دادی سننے کو ملے' علی بے باک ہوا شرم تو تھی ہی نہیں زرا بھی 

 'بے شرم انسان گدھے لڑکیوں کا ہی خیال کرلے' میر نے دھموکا جڑا اسکی کمر پر

 'اوئے تیری جیل کا بھاگا ہوا پیشہ ور مجرم نہیں ہوں میں جب چاہا مار دیا' 

 'اچھا میر اگلے ہفتے آپ تینوں نے آنا ہے اور آپ دونوں گھر والوں کو لے کر آئیے گا ساتھ ٹھیک ہے' بی جان نے کہا

 'جی بی جان' دونوں ہم آواز ہوئے 

💜💜

'واہ واہ واہ کیا بات ہے کیا خوب حرکت کرکے آئی ہو تم' پریشے نے طنز کیا 'اور اگر انہیں پتہ چل جاتا کہ تم ڈرامے کر رہی تھیں تو' 

'کچھ نہیں ہوتا پری ڈارلنگ لالہ رخ بہت پہنچی ہوئی چیز ہے پتا چل جاتا تو کیا ہم انہیں اپنے سنگھم کے دوپ میں آکر دھو دیتے' لالی ہوا میں اڑی لیکن یہ کیا پری نے اسے نیچے پھینک دیا

'تم سنگھم ہاہاہاہاہا سنگھم شکل دیکھو اپنی اگر اسکے سامنے کاکروچ آجائے نہ تو وہ اپنے جوتے سے مسل دے نہ کہ ڈر کر چیخ نے لگ جائے ہا سنگھم' پری نے مزاق اڑایا

'بس تم جلتی رہو' لالی بولی

'ایسے لوگوں سے نہیں جلتی میں'

'مطلب کچرا رانی سے جلتی ہو تم' 

'ہیں اس سے کیوں جلوں میں'

'کیونکہ وہ رانی ہے اور تم بھنگن'

"لالییییییی" 

پری لالی کے پیچھے بھاگ رہی تھی اور لالی وہ تو تھی ہی بندریا کبھی ادھر چڑھ جاتی کبھی ادھر دونوں کی ہنسی کی آوازیں گھر میں گونج رہی تھیں شبانہ بیگم بھی مسکرائیں اور دل ہی دل میں انکی نظر اتاری

 لیکن جب نظر لگنی ہوتی ہے نہ تو مائیں جتنی کوششیں کرلیں کچھ تو اتر بھی جاتی ہیں لیکن کچھ نظریں بلا بن جاتی ہیں جیسے بہت جلد یہ گھر کسی کی نفرت کی آگ میں جلے گا 

نظر لگی ہے اسے یا پھر اسکو عشق ہوگیا ہے

کیا عجیب بات کرتے ہو 

دونوں ہی تو صورت میں وہ برباد ہے 

روز کی طرح یہ رات بھی قیام پذیر ہوئی نئی صبح لانے کیلئے

لالی اپنی یونی میں بنے گارڈن میں بیٹھی تھی جب اسکی بہترین دوست فصیحہ (دونوں بچپن کی ہی دوستیں تھیں نائن کلاس سے اسلئے بہترین دوستیں تھیں اور تھیں بھی ایک جیسی) آئی

'لالی لالی لالی تجھے پتا ہے آج یونی میں نیو پروفیسر آئے ہیں' فصیحہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی

'تو تو ایسے بول رہی ہے جیسے تیرے خوابوں کا بھائی ہمارا مطلب ہے شہزادہ سلیم آگیا ہو اور تو انار کلی بن کے مری ہی جارہی ہے اس کے لئے' لالی فصیحہ کو دیکھ کر گڑبڑا کر بولی جو اسے گھورنے لگی تھی 

'کچھ ایسا ہی سمجھ لے میں تو لٹّو ہوگئ ہوں اس پر پتہ ہے ساری یونی کی لڑکیاں مرے جارہی ہیں اس پر شرم تو کہیں جا سوئی ہے' فصیحہ پہلے شرما کر اسکے بعد بی اماں کے انداز میں غصّے سے بولی 

'اوو۔۔۔اپنے بارے میں کیا خیال ہیں خود تو لٹّو ہوگئی ہے اور دوسرے ہوں تو مصلا' لالی نے اس کی پشت پر تھپڑ مارا

'ہاں تو میں الگ ہوں اور میں کہہ رہی ہوں تو آج سے انہیں جیجو بنالے بس وہ فائنل' اس نے جوش میں ہوش کھوئے

'بے ڈھنگی انسان ہر ہینڈسم لڑکے کو دیکھ کر شروع ہوجاتی ہے تو چل دفعہ دور ہو اور ویسے بھی کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے چلو اب' لالی نے شرم دلائی اور پھر موبائل میں ٹائم دیکھا

'ہمممم چلو' 

💜💜

فصیحہ اور لالہ رخ نے اپنی مخصوص جگہ سنبھالی دونوں نے ان سیٹس پر اپنے نام بھی لکھ دیے تھے بیٹھ کر تو دیکھائے کوئی ادھر پھر ایک تماشا لگتا تھا جس میں ہمیشہ لالی اور فصیحہ جیت تی تھیں ہا خیر

جیسے ہی پروفیسر ارمان ملک نے کلاس میں قدم رکھا پوری کلاس میں ایک سنّاٹا سا چھا گیا تھا فصیحہ جو سوتے ہوئے بھی کبھی چپ نہ ہو وہ بھی چپ تھی لیکن کوئی تھا جو اس سب سے بے خبر اپنی ڈھائی گز کی زبان کے جوہر دکھا رہا تھا ہاں جی بلکل لالی

ارمان ملک پھرپور وجاہت کا مالک بلیک پینٹ پر بلیک ہی شرٹ اسکی صاف رنگت پر بے تحاشہ جچ رہی تھی تیکھے نین نقش مضبوط دائیں ہاتھ پر بندھی بلیک رسٹ واچ سیدھے ہاتھ میں موبائل بالوں کو جیل لگا کر اوپر کیا گیا تھا اپنی مضبوط چال چلتا ہوا اندر آیا جب کسی کی باتوں اور کھکھلاہٹ کی آواز کانوں میں پڑی وہ چونکا اور مڑ کر دیکھا

 وہ اس سب کا عادی تھا جہاں بھی جاتا تھا اپنی سحر زدہ  شخصیت سے سب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیتا تھا لیکن آج کچھ الگ تھا اس لڑکی نے اسے دیکھا تک نہیں اسے نیو سا لگا تھا اور انٹرسٹنگ بھی

'اسلام و علیکم کلاس' سلامتی بھیجی گئی

'وعلیکم السلام' 

ہمیشہ کی طرح لالی کی آواز سب سے تیز اور شاید لڑکیوں میں اکلوتی بھی کیونکہ کلاس کی باقی لڑکیاں تو انھیں دیکھنے میں مگن تھی 

'اوووو بہن مرمرا گئی ہے کیا اٹھ سر آگئے ہیں' لالی نے فصیحہ کو کونی ماری لالی کی آواز ارمان تک پہنچ چکی تھی اسنے لب دبا کر مسکراہٹ روکی

'Attension everyone I am Arman Malik, Your new professor Of IT Skills'

ارمان بات تو سب سے کررہا تھا لیکن نظریں اسکی لالی پر تھیں جو فصیحہ سے ناجانے کونسے راز و نیاز کررہی تھی ارمان پھر بولا

'کیوں نہ پہلے کچھ انٹرو ہوجائے آپ سب سے' آنکھوں کا فوکس لالی اور باتوں کا فوکس کلاس سب نے یہ بات اچھے سے نوٹ کی تھی ارمان نے نظریں پھیریں 

سب کا انٹرو لینے کے بعد باری لالی کی آئی 

'محترمہ کھڑی ہونگی آپ یا کورٹ سے دستخط کروا کر لاؤں' ارمان لالی کو دیکھ کر بولا جو بولے ہی جارہی تھی لالی نے نظریں گھما کر دیکھا ارمان اسی کی طرف دیکھ رہا تھا

'کون ہم'

'جی آپ'

'اوہ پریزنٹ سر' لالی جلدی سے بولی

'مس میں نے آپ سے آپ کا انٹرو مانگا ہے ایٹنڈنس نہیں' وہ چڑ کر بولا

'ہم لالہ رخ زمان شاہ عرف لالی فرام ڈگری کالج' کانفیڈینس سے کہا گیا ارمان ٹھٹکا اور دل میں بڑبڑایا "لالی"

'اوکے سٹ ڈاؤن اینڈ یو سٹینڈپ' لالی کے بعد فصیحہ کو اشارہ کیا

'مممم۔۔۔می۔۔میں۔۔۔میں' لالی نے اسکو دھموکا جڑا 'اووو وہ بکری بول بھی دے اب' لالی نے دانت کچکچائے

'آہہہ۔۔۔ہاں میں آپکی میرا مطلب ہے فصیحہ فاطمہ فرام ڈگری کالج' فصیحہ الٹے میں جلدی بول گئی ہمارا مطلب ہے فصیحہ جلدی میں الٹا بولتے بولتے سیدھا بول گئی ہاں

'ok let's we start lecture' 

ارمان نے سر جھٹکا اور لیکچر شروع کیا

💜💜

'بھائی ایک کلو چاول دے دیں' پری بولی کالج سے آتے ہوئے شبانہ بیگم نے چاول لانے کو کہا تھا

علی جو ہوسپٹل سے آتے ہوئے گھر کا سامان لینے پاس ہی دوکان میں چلا آیا تھا تب ایک پیاری سی آواز کانوں سے ٹکرائی علی نظر انداز کر گیا اور سامان لے کر جیسے ہی پیچھے مڑا پری سے ٹکرا گیا

'ہائو ربّا! کون ہے یہ موصوف جنہیں نظر نہیں آتا' پری چڑ کر بولی ایک تو کالج سے تھک کر آئی تھی اب یہ

'وہ غلطی………' علی نے بولتے ہوئے نظریں اٹھائیں  تو لگا جیسے سفید پری کھڑی ہو کالج یونیفارم میں سفید رنگت جو گرمی کی وجہ سے سرخ ہورہی تھی شال سے ڈھکا چھپا وجود لال ہونٹ جو ہل رہے تھے لیکن جیسے آوازیں آنا بند ہوگئیں ہوں کیا ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے کچھ نہیں پتا تھا بس پتا تھا تو یہ کہ یہ پری علی کی ہوگی دل بے ساختہ بولا انشاءاللہ 

'بھائی سوگئے ہوکیا' وہ جو کب سے بول رہی تھی لیکن وہ تو بس اسکے چہرے کو دیکھ نہیں بلکہ گھور رہا تھا

'استغفراللہ دیکھیں مس آئ ایم سوری میں نے دیکھا نہیں تھا' علی اسکے بھائی کہنے پر اچانک بولا

'ہمممم تو پہلے بول دیتے آپ ویسے آپ نے میری ناک توڑ دی ہے بیچاری' پری افسوس سے ناک چڑھا کر بولی اور علی تو اس ادا پر فدا ہی ہوگیا تھا سنبھالا خود کو پھر آگے بڑھا اور اسکی چادر کو اس کے سر پر اوڑھایا 

'چادر کو سر پر لے کر اوڑھتے ہیں ہمیشہ ہمم' علی نے سمجھایا

'ہمم' اسکی آنکھوں میں دیکھ کر وہ بے ساختہ بولی اور پھر چل پڑی اپنے گھر کی طرف

علی نے سر پر ہاتھ پھیرا اور مبہم سا مسکرایا 

💜💜

فری اور فاطمہ جو بڑے مزے سے ہورر مووی دیکھ رہی تھیں اچانک ہڑبڑا گئیں کیونکہ اس میں  کس سین آگیا تھا (ہاہاہاہاہا)

'لا ہولا ولا قوت' فاطمہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بولی

'ہاہاہاہاہا مجھے تو ہنسی آتی ہے ایسے سینز دیکھ کر' فری ہنستے ہوئے بولی 

'مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا یہ لوگ ایسے سینز کر کیسے لیتے ہیں اتنے بولڈ پاکستانی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہو تو وہ بیچاری تو شرم سے مر جائیں اور ایک یہ ہوتی ہیں بے شرمیوں کی دوکانیں' رواحہ اندر آتی ہوئی بولی اور ساتھ میں نازش بھی آئی

'اللہ نے عورتوں کو سب سے زیادہ عزت دی ہے لیکن ایسی لڑکیاں اپنی عزت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی عزتوں کو بھی خراب کرتی ہیں ہمارے ملک میں بڑھتے ریپ کیسز انہی وجہ سے تو پروان چڑھتے ہیں کیونکہ ایسی لڑکیاں اپنی روعنیاں ظاہر کرتی ہیں اور پھر شیطان یہ دونوں اچھے خاصے بندے کو بگاڑ دیتے ہیں اور اس سب کی جو لڑکیاں شکار ہوتی ہیں ان میں سے کچھ اپنی جان کھوتی ہیں کچھ آبرو اور کچھ اپنا ذہنی توازن غرض سب کچھ کھوتی ہیں……… ہمارے خدا رب العزت نے قرآن میں زنا کا بہت بڑا عزاب بتایا ہے ایسے لوگوں کا دین بھی جاتا ہے اور ایمان بھی' نازش خاموش ہوئی 

'آپی اور بتائیں' فری کی آواز میں لڑکھڑاہٹ پیدا ہوئی تھی اسکے دل میں ڈر بیٹھ رہا تھا لیکن کس چیز کا۔۔؟

'خدا نے یہ حق صرف شوہر کو دیا ہے کہ وہ آپ کی محبت کے ساتھ ساتھ آپکے جسم پر بھی حق رکھتا ہے اور اگر عورتیں اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور کو یہ حق سونپتی ہیں تو انکا وہ وہ حصہ آگ میں جلتا ہے قیامت کے روز جسے نامحرم چھوتا ہے یہاں تک کہ اگر آپ کو کوئی غیر محرم چھو بھی لے چاہے ہلکا سا مس ہی کیوں نہ ہوا ہو آپ کا وہ حصہ سلگ جاتا ہے جسم فروشی میں آج کل مرد ہی نہیں عورتیں بھی شامل ہیں کیسی تزلیل ہے یہ بنتِ حوا کی استغفرُللہ' اتنے میں آیت(نازش کی بیٹی) کے رونے کی  آواز آئی

'سکون نہیں ہے انکو بھی حد ہوگئی ہے' نازش بڑبڑاتے ہوئے باہر نکلی 

'میں آتی ہوں آپی آپ مووی انجوائے کریں' فری بھی بولتے ہوئے باہر نکلی

'اسے کیا ہوا خود ہی تو مووی لگائی تھی' فاطمہ نے رواحہ سے پوچھا اس نے کندھے اچکائے

💜💜

کئی دن گزر گئے سب کچھ معمول پر تھا لیکن کچھ الگ تھا تو وہ ارمان ملک کے جزبات تھے لالی کیلئے جو لالی کو دیکھتے ہی آنکھوں میں چمکنے لگتے تھے یہ بات لالی نے بھی نوٹ کی تھی لیکن سب سے زیادہ اسنے یہ نوٹ کیا تھا کہ فصیحہ کے جزبات بھی ابھرنے لگے تھے ارمان کیلئے جو محبت بن چکے تھے اور لالی اسی بات سے ڈر رہی تھی کہ کہیں فصیحہ اس قسمت کے کھیل کا حصہ نہ بن جائے لیکن لالی یہ بات بھی مانتی تھی کہ ارمان ملک ایک بہترین انسان ہے جو ہر لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا ہے لڑکیوں سے نظریں نیچے کرکے بات کرنا دھیما مزاج اپنے سے بڑوں کی رسپیکٹ سب کچھ تھا اس میں اور یہی بات لالی کو بھی باغی بنا رہی تھی کیونکہ جزبات تو اس میں بھی تھے لیکن وہ اپنی دوست کیلئے خاموش تھی  

'لالہ رخ آج کل تم کچھ پریشان سی رہنے لگی ہو خیریت تو ہے نہ زیادہ پریشان کرتی ہو مجھے سب ٹھیک تو ہے کوئی پریشانی کی بات ہے تو بتاؤ مجھے' شبانہ بیگم نے چاولوں میں بھگار لگاتے ہوئے پوچھا

'نہیں بس پڑھائی کا مسئلہ ہے اور کچھ نہیں' لالی نے خیالات کو جھٹکا

'پڑھائی اور تم ہا اصل بات کرو بکواس نہ کرو' انہوں نے سر جھٹکا

'اچھا چھوڑیں یہ بتائیں محبت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے' لالی نے لفظوں کا چناؤ کیا

'کیوں دل لگا بیٹھی ہو کیا' وہ مسکرائیں

'ہمممم محبت پیچھے پڑ گئی ہے کسی کی' لالی سنجیدگی سے گویا ہوئی شبانہ بیگم نے تاصوف سے اسے دیکھا سنجیدہ تو کبھی تھی ہی نہیں وہ تو کیا واقعی اسے محبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔

'محبت پیچھے پڑ گئی ہے یا خود محبت کے دھاگوں میں الجھ گئ ہو' انہوں نے اپنے دل کا خدشہ بیان کیا

'ڈر لگ رہا ہے کہیں بددعاؤں کے زیرِاثر نہ آجائیں' ڈر سچ ثابت ہوا تھا شبانہ بیگم کا لیکن انکی بیٹی اس بات سے ناواقف تھی یا سچ سے بھاگ رہی تھی

'ہمم بددعا اسے لگتی ہے جو حق پر نہ ہو اور میری بیٹی تو ہمیشہ حق پر فیصلہ کرتی ہے تو ڈر کیسا' بات آگے بڑھائی 

'محبت میں آپ حق پر ہوں یہ نہ ہوں محبت آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑتی آخر یہ محبت ہمارے ہی پیچھے کیوں پڑ گئی ہے' وہ جھنجھلائی

'ہاہاہاہا محبت تو اندھا کردینے کا ہنر رکھتی ہے پھر وہ یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے غریب گھرانے کی معصوم بیٹی ہے یا امیر گھرانے کا بگڑا ہوا رئیس زادہ محبت تو خدا کی طرح بے نیاز ہوتی ہے جب ہوجاتی ہے تو کمبخت رگوں میں اتر جاتی ہے' انہوں نے محبت بیان کی تو کیا سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی محبت سے بے نیاز تھی 

'لیکن کیا ہم محبت کو بانٹ نہیں سکتے سمجھوتا وغیرہ' لالی نے پریشانی ظاہر کی شبانہ بیگم تو حیرت زدہ سی رہ گئیں

'شادی شدہ انسان سے محبت کر بیٹھی ہو کیا یا دو بچوں کے باپ سے' آنکھوں میں پریشانی ابھری

'لا ہولا ولا قوت۔۔۔۔اب ایسے بھی نہیں ہیں ہم کہ کسی کے حق پر ڈاکا ڈالیں'

'تو کیا منگنی شدہ سے محبت کر بیٹھی ہو' شبانہ بیگم پھر پریشان ہوئیں 

'اتنا گیا گزرا سمجھ رکھا ہے اپنی بیٹی کو حد ہوتی ہے' 

'جہاں حدیں ختم ہوتی ہیں وہاں سے تمہاری حدیں شروع ہوتی ہیں بیٹا جی اب یہی دیکھ لو نہ جانے کس دوغلے انسان سے محبت کر بیٹھی ہو' غصے نے آن گھیرا تھا 

 'دوغلا تونہ کہیں اسے وہ اسکا ہمیں دیکھ کر احترام کرنا دوسری لڑکیوں سے نظریں نیچے کرکے بات کرنا لیکن ہمیں دیکھ کر نظریں اٹھا لیتا ہے ہائے وہ اسکا حق جتانا دھیما مزاج ٹھہر ٹھہر کر بولنا لہجہ میں صبر کا عنصر بھی نمایاں ہے اور صورت بھی خوبصورت ہے لیکن اخلاق کی بات ہی الگ ہے' لالی کھوئے کھوئے انداز میں بولی

 'اگر اتنا اچھا ہے تو سمجھوتا کیوں' اسکے آگے لالی لاجواب ہوئی 

 'اچھا تصویر تو دکھاؤ' 

 'نہیں'

 'کیوں'

'جو نہیں کرنا چاہتے تھے اب وہی کریں گے' 

'کیا'

''عشق ہے ہمارا وہ لیکن نصیب کسی اور کا ہے

قسمت کچھ کہتی ہے اور دل صبر مانگتا ہے

کہاں جا کر منّت مانگیں اسکے نام کی

ہر دربار اور ہر مزار اسے بھولنے کی دعا دیتا ہے''

'مشکل صفر ہے' 

'محبت امتحان مانگتی ہے امّی' 

'لیکن تم تو بھولنے کا کہہ رہی تھیں'

'کیا پتا نصیب ترس کھا کر ہماری جھولی میں ڈال دے ہماری محبت'

'بھول جاؤگی اسے'

'پہلی محبت کون بھولتا ہے' 

'آخر چاہتی کیا ہو'

'فصیحہ کی خوشی'

'فصیحہ کہاں سے آگئی' شبانہ بیگم جھنجھلائیں 

'ہاہاہاہاہاہا دوست ہے ہماری آگے پیچھے دائیں بائیں ہر جگہ وہی ہے' لالی کے لہجے میں محبت تھی 

'مطلب فصیحہ بھی......' شبانہ بیگم نے بات ادھوری چھوڑی تو لالی نے اثبات میں گردن ہلائی

'میری بچی خدا تمہیں صبر دے' انہوں نے اسے سینے سے لگایا لالی کی آنکھ سے آنسو نکلا اور شبانہ بیگم کے دوپٹے میں جذب ہوگیا

'آمین ثم آمین' لالی کے دل سے آواز نکلی

💜💜

گیلانی ہاؤس پر آج کی صبح نئی امیدیں لے کر آئی تھی کیونکہ آج یہاں کہ سپوتوں کے نکاح تھے پورے گیلانی ہاؤس میں افراتفری کا ماحول تھا اور سب سے زیادہ تو وہ چار پاگل ہورہے تھے جیسے آج ہی رخصتی ہو میر بھی جنید اور علی کے ساتھ آپہنچا تھا تینوں میر کے کمرے میں تھے

آخر کار نکاح کا وقت آہی گیا دلہنیں بنی ہوئی رواحہ سحرش فاطمہ اور فریہا آسمان سے اتری ہوئی پریاں لگ رہی تھیں

چاروں نے ایک ہی جیسی ڈریسنگ کی تھی سفید رنگ کی سادہ سی گھیر والی فراک ٹخنوں سے اوپر تک اس پر گولڈن کڑاہی کیا لال رنگ کا دوپٹہ سائیڈ کی مانگ نکالی ہوئی تھی اور اسی سائیڈ پر جھومر چھوٹے چھوٹے سے ٹوپس اور گلے میں لال ہی رنگ کا نیکلیس (سفید ہمارا فیورٹ ہے اس لئیے نو گلہ اینڈ نو شکوہ😁)

اور دولہے اہم اہم حمدان سفیان وجدان اور ریان دوپٹوں سے ملتے جلتے مہرون رنگ کی واسکوٹ سفید کرتے پر کسی ریاست کے شہزادے لگ رہے تھے

میر نے کالے رنگ کی فٹ سی شلوار قمیض پہنی تھی جس سے کسرتی جسم نمایاں ہوا مضبوط بائیں ہاتھ پر بندھی قیمتی گھڑی بالوں کا مخصوص اسٹائل چال میں واضح غرور سنجیدہ چہرہ انتہا کا اکھڑ مزاج اور سڑیل ایس ایس پی آج پرنس چارم بنا ہوا تھا

علی سفید رنگ کی شلوار قمیض اور پیروں میں پشاوری چپل اڑسے گاؤں کا وڈیرہ لگ رہا تھا

وہیں پر جنید نے سفید شلوار قمیض پر نیوی بلو کلر کی واسکوٹ پہنی تھی نرم مزاج خندہ پیشانی پر ایک بھی بل نہیں نظریں ہمیشہ کی طرح جھکی ہوئی وہاں موجود لوگ تو سمجھ سے باہر تھے دیکھیں تو دیکھیں کسے۔۔۔؟ 

💜💜

"رواحہ شیراز گیلانی بنتِ شیراز گیلانی آپکا نکاح حمدان گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے"

'قبول ہے'

'کیا آپ کو قبول ہے'

'قبول ہے'

'کیا آپ کو قبول ہے'

'ققق۔۔۔قبول ہے' آخر میں ڈگمگائی لیکن سنبھلی اور بولی

💜💜

"سحرش شیراز گیلانی بنتِ شیراز گیلانی آپکا نکاح ریان گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے"

'قبول ہے'

'کیا آپ کو قبول ہے'

'قبول ہے'

'کیا آپ کو قبول ہے'

'قبول ہے'

💜💜

"فاطمہ فہیم گیلانی بنتِ فہیم گیلانی آپکا نکاح وجدان گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے"

'قبول ہے'

'کیا آپ کو قبول ہے'

'قبول ہے'

'کیا آپ کو قبول ہے'

'قبول ہے'

💜💜

فریہا انصار گیلانی بنتِ انصار گیلانی آپکا نکاح سفیان گیلانی ولد فہیم گیلانی کے ساتھ حق مہر پچیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے"

فری نے میر کا ہاتھ پکڑا کپکپاہٹ واضح تھی میر نے سینے سے لگایا 

'گڑیا جواب دو'

فری نے سر ہلایا تو میر کی آنکھوں میں نمی چمکی ریان وجدان اور حمدان بھی انہی کے پاس کھڑے تھے انصار صاحب نے فری کے سر پر ہاتھ رکھا تھا

'کیا آپ کو قبول ہے'

'ججج۔۔جی' فری کی پکڑ میر کے ہاتھ پر مضبوط ہوئی

'فری گڑیا کیا آپ کو قبول ہے' انصار صاحب نے پوچھا

'جی'

فری میر کے گلے کر خوب روئی تھی یہاں تک کہ وہ اسٹون مین بھی رو رہا تھا ان دونوں کو اس طرح دیکھ کر وہاں ہر ایک کی آنکھ اشک بار تھی 

میر نے خود کو سنبھالا اور پھر فری کو 

💜💜

اسکے بعد لڑکوں کا نکاح ہوا اور کچھ ہی دیر میں ہر جگہ مبارک باد کی سدائیں بلند ہوئیں تھیں 

چاروں کے چہرے پر سے تو جیسے مسکراہٹ نے ڈیرہ ڈال لیا تھا

'اتنا بھی نہ ہنسو کہ بتتیسی گر جائے' علی بریانی کھاتے ہوئے جل کر بولا اسکی بات پر جنید کا قہقہ بلند ہوا

'تم کیوں ہنس رہے ہو لگتا ہے تمہارا بھی نکاح ہونے والا ہے دوشیزہ پسند آگئی ہے کیا کوئی' علی پھر بولا

(جنید نے ابھی تک کسی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ رابیعہ سے محبت کرتا ہے)

'نہیں لیکن تم کیوں جل رہے ہو ان بیچاروں سے' جنید سنبھل کر بولا

'بیچارے ماشاءاللہ سے نکاح شدہ ہوگئے ہیں ایک ہم تینوں ہیں چلو تیسرے کو تو اپنی نوکری سے ہی محبت ہوگئی ہے لیکن ہم دونوں کنوارے ہی مریں گے کیا' علی نے دوہائی دی میر بھی وہیں آگیا

لالی یونیورسٹی میں بنی لائبریری میں بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی کہ فصیحہ بھی وہیں آگئی 

'لالی'

'ہمممم'

'میں سر ارمان سے بات کرنا چاہتی ہوں' فصیحہ ہمہ تن گوش ہوئی لالی جھٹکے سے سیدھی ہوئی

'کککک۔۔کیوں' اسکی زبان لڑکھڑائی تو لالی نے آئیبرو اچکائی جیسے کہہ رہی ہو تجھے نہیں پتا 'فصو کیا ضضض۔۔ضرورت ہے چچچ۔چھ۔۔چھوڑ اسے تجھے ان سے اچھا کوئی مل جائے گا ویسے بھی وہ ہمیں کچھ ٹھیک نہیں لگتے' اسنے دبّو سی وضاحت کری

'اوو تیری طبیعت تو ٹھیک ہے بخار وخار تو نہیں ہوگیا کہیں ابھی کچھ دن پہلے ہی تو کہا تھا تو نے کہ سر کہ اخلاق ایسے ہیں اور ویسے ہیں اب کیا ہوگیا سر بھی وہ ہی ہیں اور اخلاق بھی' فصیحہ کے لہجے میں حیرت ابھری

لالی اسے کیسے بتاتی جس سے وہ محبت کرتی ہے وہ تو کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے کسی بھی کوئی اور نہیں اسکی اپنی دوست کی اور اسکی اپنی دوست بھی تو اسی سے محبت کرتی ہے اگر فصیحہ کو یہ سب پتا چلا تو ٹوٹ جائے گی اور جب پتا چلے گا تو بھروسہ مان جو اسکا لالی پر تھا وہ بھی ٹوٹ جائے گا لالی اس وقت کتنی بے بس تھی وہ سوچوں میں گم تھی جب 

'تو تو جانتی ہے نہ کہ میں ان سے کتنی محبت کرتی ہوں کسی اور کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔' وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ لالی نے اسکی بات کاٹی

'پاگل مت بنو یار اسکا سٹیٹس دیکھا ہے تم نے اور ہم اسکے بارے میں جانتے کیا ہیں بس یہی کہ وہ ایک اچھی تربیت کا مالک ہے اچھی شکل و صورت بھی ہے لیکن کیا اسکے پاس دل نہیں ہے کیا وہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا کیا پتا اس نے کسی اور کے ساتھ شادی کے وعدے کیے ہوں کیا پتا کسی اور سے محبت کرتا ہو۔۔۔۔۔۔' بات کاٹی گئی

'ممممم۔۔میں نے اسکی آنکھوں میں محبت دیکھی ہے' فصیحہ نے لہجے کو مضبوط بنایا

'آنکھیں جھوٹ بھی بولتی ہیں اور کیا پتا کسی اور کیلئے ہو وہ محبت' لالی نے آئینہ دکھانا چاہا

'نہیں جب میں اپنی چیزوں میں شراکت منظور نہیں کرسکتی تو وہ تو انسان ہے میں اسے خود سے محبت کروا کر رہوں گی' اسنے خود کو تسلی دی

'فصیحہ فاطمہ تم اس وقت ہوش میں نہیں لگتی اس محبت میں تم اتنی اندھی ہوگئی ہو کہ تمہیں کچھ دکھتا ہی نہیں ہے وہ انسان ہے کوئی کھلونا نہیں جسے تم توڑنے چلی ہو ارے اگر تمہیں ہم یہ کہیں کہ اسے چھوڑ دو اور کسی دوسرے سے محبت کرو تو کیا تم مان لوگی ہماری بات نہیں نہ ہماری جان بات کی نزاکت کو سمجھو تم'

'لالی میں کیا کروں مجھ سے نہیں ہوتا میں بے بس لگتی ہوں اسکے آگے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا' فصیحہ کی آنکھوں سے آنسو گرے لالی تڑپ کر اسکی طرف آئی 

'نہیں ہماری جان تم خدا سے مدد مانگو اس سے دعا میں کہنا نصیب میں ہو تو لکھ دے نہیں تو دل سے نکال باہر کرے اور آج تو ویسے بھی وہ نہیں آیا اچھا ہے ہم دونوں پیدل پیدل گھر جائیں گے' لالی نے ماحول کو ہلکا کرنا چاہا

'ہمم لیکن آج تو تجھے سیلری ملنی تھی نہ تو ہم دونوں تیرے آفس سے گھر جائیں گے اور تیرے ہی' اسنے اپنے آنسو صاف کیے

'ہمارے گھر کیوں بھئی' 

(لگتا ہے پھر سے بھول گئی ہے) فصیحہ نے دل میں سوچا 

'آنٹی سے ملنے کا دل کررہا ہے'

'اوکے'

💜💜

'میں بھی شادی کرنے کا سوچ رہا ہوں' جنید نے کہا تو میر علی اور باقی سب نے بھی اسکی طرف دیکھا

'کون ہے وہ' میر نے ساری بات ایک ہی جملے میں کہی 

'لڑکی ہے' لہجہ شوخ ہوا

'تو میں نے کب کہا کہ تو علی سے شادی کر رہا ہے' میر نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا 

'نہیں اگر میں نے اِس سے شادی کرلی تو اُس سے کیسے کروں گا' علی نے جلدبازی دکھائی

'اُس سے کس سے مطلب تو بھی چھپا رستم نکلا' میر نے آنکھیں بڑی کیں

'تو اب سب کی عمر ہوگئی ہے اپنے بارے میں ہی سوچیں گے تمہاری طرح نوکری کو سینے سے تو نہیں لگائیں گے' بی جان نے اوپر چڑھتے ہوئے کہا انکے بائیں طرف انصار صاحب تھے جو انہیں سہارا دےکر اوپر لارہے تھے 

'نہیں وہ میرا مطلب تو تھا کہ' میر خجل ہوا

'بس رہنے دو آئے بڑے میرا مطلب تھا' بی جان نے نقل اتاری تو سب نے قہقہ لگایا 'دیکھنا سب خدا نے اس کیلئے اسی کی طرح کی کوئی بنائی ہوگی اسکی طرح وہ بھی شادی سے انکاری ہوگی ورنہ اب تک تو ہم پر دادی بن چکے ہوتے' بی جان کی بات پر میر کی پیشانی عرق آلود ہوئی اور نظریں شرم سے جھکیں تھیں سوچ کے پردوں پر کسی کا چہرہ لہرایا

میر کے شرمانے پر انصار صاحب کا قہقہ بلند ہوا 

'برخوردار کب ملوارہے ہے پھر ہماری بہو سے' انصار صاحب کی بات پر ایک بار پھر اسکے چہرے پر شرمیلی مسکراہٹ ابھری سب ہقہ بقہ میر کو دیکھ رہے تھے ارے بھئی یہ کب ہوا پہلی بیوی کے پلو سے بندھے رہنے والا دوسری بیوی لانے کے بارے میں سوچ رہا تھا

'ایسا کچھ نہیں ہے میں بس ایسے ہی' میر کہتے ہی ادھر ادھر ہوا

'ہاہاہاہاہا اچھا زرا ہم نظر تو اتار لیں بچوّں کی' پھر بی جان کے صدقے واری گئیں 

'بی جان اب زرا ہمارے شہزادوں کو پریوں کے بھی دیدار کرا دیں جب سے نکاح ہوا ہے نظریں دروازے پر ہیں' کہنے والے کوئی مہمان تھے اس بات پر چاروں کا دل کیا سینے سے لگالیں اسے 

'ہاہاہا ہاں بھئی لو وہ دیکھو آگئیں ہماری پریاں' 

(فنکشن گھر کے لان میں ہی رکھا گیا تھا) سامنے سے رواحہ آتی ہوئی نظر آئی اسکے پیچھے سحرش اسکے پیچھے فاطمہ اور اسکے ہمراہ فری انکو دیکھ کر شہزادوں نے دل تھاما اور اٹھ کھڑے ہوئے چاروں نے اپنی دلہنوں کو اپنے ساتھ کھڑا کیا فری کو آخر میں میر نے تھام لیا تھا اور پھر اسکا ہاتھ خود سفیان کے ہاتھ میں رکھا 

💜💜

'ڈر کیوں رہی ہو پرنسس اس طرح کروگی تو رخصتی کروانی پڑ جائے گی' سیفی نے سرگوشی کی

'نہیں نہیں بلکل بھی نہیں' فری جھٹ سے بولی تو وہ مسکرایا

'ریلیکس رہو کچھ نہیں کہہ رہا ابھی صرف نکاح ہوا ہے' سیفی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دبایا فری کو جیسے کرنٹ لگا تھا لیکن اس طرح اسکا ڈر بھی ختم ہوا تھا

'میرا ہاتھ چھوڑیں سب دیکھ رہیں ہیں عجیب لگ رہا ہے' فری نے منہ بنایا اسکے اس طرح کرنے سے سیفی نے خود کو سنبھالا ورنہ دل اف۔۔۔۔۔۔

'کیوں چھوڑوں بیوی ہو میری گرل فرینڈ نہیں اور ویسے بھی یہ ہاتھ میں نے چھوڑنے کیلئے تو نہیں پکڑا نہ اس لئیے خاموش سب دیکھ رہے ہیں' سیفی نے اسے بولتا دیکھ چپ رہنے کا کہا 

'ہونہہ۔۔۔۔۔۔سب دیکھ رہے ہیں' فری نے اسکی نقل اتاری سیفی نے اپنی ہنسی روکی

💜💜

'فائنلی تم میری ہوگئیں' حمدان جو اتنی دیر سے چپ رہنے پر اکتا گیا تھا آخر بول ہی پڑا

'ہمم پتا نہیں کیسے لیکن اب کیا کرسکتے ہیں' رواحہ نے افسوس کیا

'کیا مطلب تمہیں کسی اور کا ہونا تھا' حمدان کا تو گویا دل بند ہونے لگا تھا

'ہاں تو ہائے میرا اففان وحید اسنے میری وجہ سے اپنی بیوی چھوڑدی اور میں نے تو ابھی اسکے خواب بھی ٹھیک سے نہیں دیکھے تھے کہ تم پہلے آگئے' رواحہ نے ٹسوے بہائے

'شکر مناؤ تم کہ آج رخصتی نہیں ہوئی ورنہ حشر بگاڑدینا تھا تمہارا اپنے شوہر کے سامنے غیر مرد کا ذکر کرتے ہوئے شرم نہیں آئی' وہ ہلکی آواز میں غرایا میر کا غصہ اس میں بھی پایا جاتا تھا لیکن سامنے فکر کسے تھی 

'غصہ کسے دکھا رہے ہو ابھی بی جان کو شکایت لگائی نہ سب کے سامنے کردیں گی تمھاری' رواحہ نے ڈرایا

'یہ تم کیا ہوتا ہے آپ کہو بیوی ہو میری' وہ پہلی بات کو چھوڑ کر دوسری بات پر آیا

'بیوی رخصتی کے بعد ہوتی ہے اور میں ابھی صرف تمھاری منکوحہ ہوں اسلئے اب خاموش ہو کر بیٹھو ویسے ہی تمھاری وجہ سے سب مجھے دیکھ رہیں ہیں کہ کیسی دلہن ہے'  

'میری وجہ سے کیوں اپنی وجہ سے کہو اور ویسے اتنا میک اپ تھوپنے کے بعد بھی کچھ خاص نہیں لگ رہیں وہی جنگلی بلی لگ رہی ہو' حمدان نے اسکے غصے کو ہوا دی

'یو جنگلی جانور خود کو دکھا ہے کبھی لال بھالو لگ رہے ہو' رواحہ نے مزاق اڑایا

اتنے میں کھانا کھولا گیا

💜💜

'مجھے بھوک لگ رہی ہے' سحرش نے بھوک کا رونا رویا

'کیوں صبح سے کھا کھا کر تھکی نہی تم' ریان نے چڑایا

'میں نے کچھ نہیں کھایا نکاح کی وجہ سے نروس ہی اتنی تھی کہ کچھ کھانے پینے کا سوجا ہی نہیں' سحرش نے منہ بنایا

'کیوں رخصتی تھی آج جو کھانے سے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے' ریان نے گھمبیر لہجے میں کہا

'نہیں وہ بس ایسے ہی دل نہیں کک۔۔کیا' گھبرائی

'چلو تمہیں کچھ کھلا پلا دیں اس سے پہلے کہیں گر گرا گئیں تو پھر مجھے ہی اٹھانا پڑے گا' اسکی بات سن کر گالوں پر لالی نے اپنا کام دکھایا

'افف ابھی سے شرما رہی ہو کنٹرول کرو نازک سا بندہ ہوں کہیں مر ہی نہ جاؤں' اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا

'ہاہاہاہا ابھی سے مر جائیں گے تو میرے اسائمنٹ کون بنائے گا' شرارت سے بولی

'مطلبی کہیں کی' اسکی بات پر وہ جی بھر کر بدمزا ہوا تھا

'کھانا'

'لارہا ہوں سب کیلئے یہیں لگوادیتا ہوں سٹیج پر'

💜💜

'فاطمہ' وجدان کی گھمبیر آواز کانوں سے ٹکرائی 

'جج۔۔جی' 

'کیا کہتی ہو آج ہی رخصتی نہ کروالوں' شوخ لہجہ 

'میں نہیں جاؤں گی آپکے ساتھ' 

'ارے اٹھا کر لے جائیں گے'

'لے جا کر دکھائیں میں بی جان کے پاس چلی جاؤنگی پھر وہ آپکے کان مروڑیں گی ہاہاہاہا' 

'بی جان کی چمچی سوچو انہوں نے اگر خالص ساسوں والا روپ دھار لیا تو' وجدان نے ڈرایا

'آپ میری ساس کو ناگن سمجھتے ہیں شرم نہیں آئی آپکو ابھی بی جان کو بتاتی ہوں جاکر' اس سے پہلے وہ اٹھتی بی جان ادھر ہی آتی ہوئی نظر آئیں 

'اب مزہ آئے گا ہاہاہا' اب فاطمہ نے ڈرایا

'نہیں یار پلیز ایسا نہ کرو' اسکو اپنی بینڈ لگتی ہوئی دکھی

'اب کریں گے رخصتی کی بات'

'نہیں'

'پکا'

'ہاں پکا' وہ بے بسی سے بولا 

بی جان نے ساری لڑکیوں کو کمرے میں بھیجا اور کھانا میر کے ہاتھ بھجوایا

💜💜

لالی اور فصیحہ جب گھر پہنچی تو ہر جگہ اندھیرا تھا

'بیڑا غرق جائے ان لائٹ والوں کا پھر سے لائٹ لے لی ہمیں تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ لائٹ والوں کو بددعائیں کیوں نہیں لگتیں' وہ اپنے موڈ میں واپس آئی اور حسبِ عادت چیخنا شروع کر دیا 

'تونے دی ہے نہ اب ضرور لگ جائے گی چل موبائل نکال اور لائٹ جلا' فصیحہ تھکے ہوئے انداز میں بولی

'ہمممم روکو' اس نے لائٹ جلائی اور اچانک پورے گھر میں روشنی پھیل گئی پورا گھر بلونز سے سجا ہوا تھا سامنے ہیپی برتھڈے لالی لکھا تھا پھر کہیں سے برتھڈے سونگ کی آواز آئی

'ہیپی برتھڈے ٹو یو'

ہیپی برتھڈے ٹو ڈیر لالی'

ہیپی برتھڈے ٹو یو' 

پری زمان صاحب شبانہ بیگم اور دانیال باہر آتے ہوئے گانا گانے لگے شبانہ بیگم کے ہاتھ میں چوکلیٹی کیک تھا جس پر HBD LALI لکھا تھا

دانیال نے لالی کے بال کھینچے 

'بس بھئی اب مراکبے سے باہر بھی آجاؤ اور کیک کاٹو تاکے ہم غریبوں کو بھی کچھ ملے' 

'بھائی' لالی دانیال کے گلے لگی

'بھائی کی جان' اسنے بھی اسکو خود میں بھینچا کچھ دنوں سے سب لالی کی حالت دیکھ رہے تھے اسلئے یہ پلین بنایا تھا اور اس کو عملی جامہ فصیحہ نے پہنایا تھا

لالی نے کیک کاٹا اور سب کو کیک کھلایا تو پری نے میوزک سسٹم پر سونگ لگایا اور ہاتھ میں بوتل کو مائک کی طرح پکڑا

میں ڈالوں تال پہ بھنگڑا تو بھی گدا پالے

چل ایسا رنگ جما دوں ہم کی بنے سبھی متوالے

گھومتے گھومتے لالی کی طرف آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گول گول گھمایا شبانہ بیگم نے اسے پکڑا اور اسکے ہاتھوں میں ہاتھ رکھا 

میں کہے کہ میں لے آؤں چاند اور تارے سارے

ان ہاتھوں پر میں چاند رکھوں اور

اس مانگ میں بھر دوں تارے

دانیال بھی آگے آیا ایک ہاتھ اسکا اپنے کندھے پر رکھا اور ایک اپنے ہاتھ میں تھمایا جب کہ اپنا ہاتھ اسکی کمر پر رکھا

ہیلو ہیلو تو فلور پر جب ہے آئی 

یہ لو یہ لو

بڑی سولڈ مستی چھائی

ہیلو ہیلو تو مچ ہے تم نے لگائی 

یہ لو یہ لو 

کنٹرول کرو میرے بھائی

دانیال لالی کے ساتھ کپل ڈانس کر رہا تھا باقی سب بھی انکے ارد گرد ڈانس کررہے تھے زمان صاحب نے جب شبانہ بیگم کو تھاما تو وہ بے اختیار شرمائیں ہاہاہاہا سب نے قہقہ لگایا

پری بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی اس نے فصیحہ کو تھام لیا 

'یہ بھی ٹھیک ہے ہاہاہاہا' فصیحہ سب کچھ بھول چکی تھی اور دانیال نے بڑی مشکل سے خود کو فصیحہ کی طرف دیکھنے سے روک ہوا تھا کیونکہ پاس کھڑی اسکی بہن آنکھوں سے ایکسرے کرتی تھی

اب سب کی پوزیشنز بدلیں تو لالی زمان صاحب کے پاس شبانہ بیگم پری کے پاس اور فصیحہ دانیال کے پاس فصیحہ نے منع کیا تو پری اور لالی نے اسے آنکھیں دکھائیں شبانہ بیگم بھی مسکرائیں دل دانیال کے دل کے حال سے واقف تھیں وہ تینوں لیکن تینوں نے ایک دوسرے کو بتایا بھی نہیں تھا مجبوراً فصیحہ کو ماننا پڑا 

یہ نین مٹکا تیرا مجھے بڑا تڑپاوے

تو دیکھ تو اج وی دلبر کڑیے تیر سا ایک چلاوے

دانیال کو لگا شاید اسکا دل گا رہا ہو وہ بے خود سا اسے دیکھے گیا اور وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی تھوڑا سا اسکی طرف دیکھ کر مسکراتی پھر ادھر ادھر دیکھنے لگتی

لالی زمان شاہ کے ساتھ ڈانس کررہی تھی

'ہئے کیا کوئی اتنا بھی ہینڈسم ہوسکتا ہے' لالی نے پیچھے اسٹیپ لیا

'شرم نہیں آتی جوان لڑکے کو چھیڑتے ہوئے' انہوں نے آنکھیں دکھائیں

'نہی اس معاملے میں کافی بے باک نہیں بلکہ آپ پر گئے ہیں ہاہاہا' لالی کھلکھلائی 'تو کیا خیال ہے شادی کریں گے ہم سے'

'نہی بھئی اس معاملے میں میری بیوی بہت سخت ہے' ڈر واضح کیا

'تو یوں کہے نہ بیوی سے ڈر رہے ہیں' لالی نے منہ بگاڑا

'ڈرتا نہیں ہوں محبت کرتا ہوں میری پہلی محبت ہیں وہ' زمان شاہ نے اعتراف کیا

'واہ ہیرو' لالی نے چھیڑا

کر دے بن پیے شرابی چہرہ تیرا گلابی

کوئی کیوں نہ یملا بن جاوے جو اتنی ہو بے تابی

لالی نے زمان شاہ کا ہاتھ پکڑا اور دانیال کی طرف آئی فصیحہ کو اسکی بانہوں سے آزار کرا کر اپنی طرف کھینچا

ہیلو ہیلو دل دل سے کنیکٹ کرنا

یہ لو یہ لو یہ بات ڈیریکٹ کرنا

فصیحہ کے اندر لالی کو دیکھ کر اچانک مجنو کا کیریکٹر جاگا اور لالی کو خود سے قریب کیا پیچھے لگے پھولوں میں سے ایک پھول منہ میں ڈالا آدھا ہونٹوں سے اندر اور آدھا باہر کیا پری نے سچوئیشن دیکھ کر سونگ چینج کیا 

جنم جنم ساتھ چلنا یونہی 

قسم تمہیں قسم آکے ملنا یہیں 

ایک جاں ہے بھلے دو بدن ہوں جدا

میری ہوکر ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع

ہونٹوں میں موجود پھول نکالا اور لالی کے چہرے پر پھیرا لالی نے بھرپور شرمانے کی ایکٹنگ کی

میری صبح ہو تمہی اور تمہی شام ہو 

تم درد ہو اور تم ہی آرام ہو

میری دعاؤں سے آتی ہے بس یہ صدا 

میری ہوکر ہمیشہ ہی رہنا کبھی نہ کہنا الوداع

فصیحہ نے تو جیسے سارے مجنوؤں کے ریکارڈ توڑے تھے کیا ڈانس کیا تھا ان دونوں نے دانیال تو مبہوت سا فصیحہ کو دیکھ رہا تھا گویا خدا نے دوسری لالی اتاری ہو زمین پر گانا ختم ہوتے ہی ایک فلک شگاف قہقہ گونجا تھا پری اور زمان صاحب کا شبانہ بیگم بھی اس بار مسکرائیں

'ماشاءاللہ صرف میری بیٹی ہی ایسی نہیں ہے آج تم نے یہ بات ثابت کردی ہے چلو کھانا لگاتی ہوں بیٹھو سب' شبانہ بیگم کچن کی طرف بڑھ گئیں

'یہ تحفہ اپنی شایانِ شان میں منظور کریں' فصیحہ نے جوبصورت پیکنگ میں ایک چھوٹا سا بوکس دیا

'اتنا سا گفٹ غریب عورت تھوڑا بڑا ہی لے لیتی' لالی چڑ کر بولی

'دیکھ تو لے پہلے' اسنے گفٹ کو اسکے آگے کیا

'ہممم'

لالی نے گفٹ کو پیکنگ سے آزاد کیا اور چھوٹا سا بوکس کھولا بوکس میں ایک لال ڈائمنڈ کی رِنگ تھی جس پر سلور نگ لگے تھے رِنگ کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں ستائش ابھرے

'واؤوو کیا رِنگ ہے یہ میں لے لوں' پری نے رنگ اپنے ہاتھ میں لی

'خبردار وہ ہمارے لئے لائی ہے تو اسے ہم ہی پہنیں گے' لالی نے رنگ اپنی درمیانی انگلی میں پہنی 

'سوٹ کر رہی ہے تجھ پر' فصیحہ بولی

'ہم پر سب اچھا لگتا ہے' وہ اترائی

'او نیچے آجاؤ زیادہ اُڑو مت' پری نے منہ بنایا

'اچھا 8 بجنے کو آئے ہیں مجھے گھر جانا ہے' فصیحہ نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا 

'ہم بھائی کو بولتے ہیں وہ تمہیں چھوڑدیں گے'

'نہیں نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے میں خود چلی جاؤں گی' وہ عجلت میں بولی

'کاٹ نہیں لوں گا تمہیں جو تم جانے سے منع کررہی ہو' دانیال اندر آتے ہوئے بولا

'نہیں وہ میرا مطلب ہے پری بھی جائے گی میرے ساتھ' فصیحہ جلدی سے بولی

'بھائی سچ میں انسان نہیں کھاتے' پری نے ہنسی دباتے ہوئے کہا

'زیادہ بکو مت اور جو کہا ہے وہ کرو ورنہ۔۔۔' (دراصل فصیحہ کے پاس پری کی کچھ تصویریں تھیں جن میں اس نے کچرا رانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا) آئیبرو اچکائی

'ہہ۔ہہ۔ہاں میں تو کہہ رہی تھی میں ہی جاؤں گی میرا آئسکریم کھانے کا دل جو چاہ رہا ہے' پری نے بات بنائی

'اگر آئسکریم کھانی ہے تو ہم بھی چلتے ہیں' لالی آگے آئی

'ہمم ٹھیک ہے چلو چلتے ہیں' دانیال گاڑی کی چابیاں لینے اپنے کمرے میں چلا گیا

💜💜

'قسمت ابھی بہت خواب دکھائے گی لالی لیکن خواب تو اکثر ٹوٹنے کیلئے دیکھے جاتے ہیں نہ ہاہاہاہا تم اور تمہاری وہ ڈرامے باز دوست دونوں کو دھول نہ چٹائی تو نام بدل دینا میرا' چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی 

'ویسے ہماری دشمنی صرف لالی سے تھی لیکن جب وہ بیچ میں خود آرہی ہے تو بسم للّٰہ پہلے تو صرف دھول چٹانی تھی لیکن اب لگتا ہے کیچڑ میں دھکا دینا پڑے گا ہاہاہا' سامنے والے نے خباثت سے کہا

'مجھ سے تو صبر ہی نہیں ہورہا کتنی معصوم بنتی ہے نہ یہ جب یہی معصومیت اسکا حشر بگاڑے گی نہ تب میں اس پر سے وہی ہزاروں روپے واروں گی ارے بھئی نظر نہ لگے' چہرے پر وہی مسکراہٹ کے ساتھ وسکی کا گھونٹ بھرا

'تم کب سدھروگی نہ پیا کرو شراب اچھی نہیں ہوتی جگر خراب ہو جائے گا' سامنے والا فکرمند ہوا

'ارے بےبی تم بھی پیو آج تو دل گارڈن گارڈن ہوریا ہے جب سے میں نے ان دونوں کو روتے دیکھا ہے ہاہاہا ارے کوئی میوزک لگاؤ آج تو میرا انار کلی بننے کا دل کر رہا ہے' اسنے آواز لگائی

'اور میرا شہزادہ سلیم بننے کا ہاہاہا' 

سامنے والے نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو جھٹکے سے کھینچا وہ سیدھا اسکے سینے سے لگی 'سلیبریشن کرنا ہے نہ تو آؤ تھوڑا ہمیں بھی کراؤ کچھ تم کرو اور کچھ ہم' کہتے کہ ساتھ اسکی پہنی ہوئی جیکٹ کی زب کو تھوڑا نیچے کیا اور اس کی گردن پر لب رکھے اور پھر تھوڑی اور زب نیچے کی تو گلے کی گہرائی واضح ہوئی ہونٹ جو گلے پر تھے اب سینے پر سفر کر رہے تھے اور پھر نظر ان لال ہونٹوں پر ٹھری ایک ہاتھ اسکے بالوں میں پھنسایا اور دوسرے سے کمر سہلائی ایک ہی جھٹکے سے جھکا اور لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا ہاتھ کمر سے نیچے بڑھ رہا تھا تبھی اس لڑکی نے اسے دھکا دیا 

'آج کیلئے اتنا سلیبریشن کافی ہے اور آج رابیعہ خان خوش تھی اسلئے ٹک گئے اگلی بار کیلئے دعا کرنا کہ میں خوش ہوں ہاہاہا'

 رابیعہ خان اس سب کی عادی تھی اسکے باوجود بھی ہیرا تھی اور ہیرے کی پہچان تو جوہری کو ہی ہوتی ہے چھوٹے اور مڈل کلاس لوگ تو صرف دور سے دیکھنے کی خواہش میں ہی پورے ہوجاتے ہیں 

 💜💜

لالی اپنے بھائی کے جزباتوں سے بہت اچھے سے واقف تھی لیکن وہ فصیحہ کی محبت کو بھی جانتی تھی اسلئے اب اسے فیصلہ کرنا تھا بھائی کی محبت اور فصیحہ کی بے رخی یا اپنا مستقبل سب اس کیلئے ضروری تھا لیکن ان سب میں سے بھی تو ایک، اختیار اسکے ہاتھ میں تھا لیکن یہ کیسا اختیار تھا کسی ایک کیلئے اسے بہت کچھ چھوڑنا تھا

'اے خدا! کوئی تو راہ دکھا فیصلہ کرنے میں مدد کر ہماری اور جو بھی فیصلہ ہو اس میں ہمیں ثابت قدم بھی رکھے گا پلزز' دل ہی دل میں وہ دعا کررہی تھی 

وہ چاروں آئسکریم پارلر میں بیٹھے تھے لالی کبھی اپنی دوست کو دیکھتی تو کبھی اپنے بھائی کو جو چوری چھپکے فصیحہ کو دیکھ رہا تھا لالی اسکی اس حرکت پر مسکرائی اور دل میں ڈھیروں دعائیں دے ڈالیں 

'چلو بھئی اب کیا یہیں دھرنا دینا ہے' پری لالی کو دیکھ کر بولی جو فصیحہ اور دانیال کو دیکھ رہی تھی 

'ہاں بھئی چلو ایک منٹ رکو' لالی جو اٹھنے لگی تھی ایک دم بولی

'کیا ہوا لڑکی اوو اچھا اچھا تم بل دینا چاہتی ہو کوئی مصلہ نہیں ہے نکالو ڈیڑھ ہزار' دانیال سمجھ کر بولا

'ڈیڑھ ہزار لیکن بل میں تو نو سو روپے لکھا ہے' فصیحہ نے آنکھیں بڑی کیں

'پیٹرول کے پیسے کون دے گا مفت خوروں' دانیال بھی اسی کے انداز میں بولا

'اوہ مفت خور کسے کہہ رہے ہو اور ویسے بھی احسان نہیں کیا تم نے کوئی یہ تمہارا فرض ہے' فصیحہ نے آپ کہنا تو سیکھا ہی نہیں تھا 

'فرض کون سا فرض' وہ ناسمجھی سے بولا

'ارے بھائی ہو تم ہم سب کے اور ہم بہنیں ہیں تمھاری' فصیحہ کی بات پر پری نے امڈ آنے والا قہقہ روکا اور لالی نے بھی سانس روکی اگلی سانس لی تو بہت زور سے ہنسی نکلنی تھی 

دانیال کا چہرہ تو دیکھنے والا ہوگیا تھا

'بھائی کون بھائی کس کا بھائی میرے پاس بہنوں کی کمی نہیں ہے جو تم بھی بہن بننے نکلی ہو اللہ کو مانو اوپر جاکر کیا منہ دکھاؤ گی اللہ میاں تمھارا جنت کا ویزا کنسل نہ کردیں کہیں ہونے والے شوہر کو بھائی کہہ رہی ہے' دانیال نے آخری بات دل میں کہی 

'اچھا ہم کچھ کہہ رہے تھے شاید' لالی نے اپنی طرف توجہ دلائی

'ہاں کہو کیا کہہ رہی تھیں' پری نے پوچھا

'وہ دیکھو سامنے' تینوں نے سامنے کی طرف دیکھا جہاں کچھ آوارہ لڑکے بیٹھے آنے جانے والی لڑکیوں پر با آواز بلند جملے کَس رہے تھے اور ایک نے تو آنے والی لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا

'ویسے کل ہی سنگھم کو دیکھا تھا ہم نے اسکو دیکھ کر دل کر رہا تھا کسی کو کوٹیں فائنلی پیس بھی مل گیا اور وجہ بھی ہاہاہا' لالی نے اپنی ہی بات پر قہقہ لگایا

'نہیں لالی وہ خطرناک بھی ہوسکتے ہیں' پری فکرمند ہوئی

'پاگل پن کہیں اور جاکر کیا کرو ان سر پھروں سے نہیں الجھتے گھر چلو' دانیال سنجیدہ ہوا

'بھائی لالہ رخ زمان شاہ ہیں ہم ان جیسے سڑک چھاپوں اور نشیڑیوں کو ٹھیک کرنا ہمارا فیورٹ کام ہے اگر یہ سر پھرے ہیں تو ہم تو راج کرتے ہیں ایسے سر پھروں پر' وہ مسکرائی دانیال نے سر جھٹکا پری نے بھی نشست سنبھالی البتہ فصیحہ اس کے ساتھ کھڑی تھی

وہ جو پاگل سرپھرے یا عامل ہوتے ہیں

ان میں سے اکثر عشق کے مریض ہوتے ہیں

💜💜

فصیحہ آگے بڑھی اور ان لڑکوں کے سامنے سے گزری ان میں سے ایک نے سیٹی بجائی اور بولا

'ارے آج تو شیلا کی جوانی دیکھنے کو ملی ہے' 

'نہیں آج تجھے شیلا کے علاوہ شکیرا بھی دیکھنے کو ملے گی بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ تارے اور دور دراز چاند بھی دکھے گا' فصیحہ نے لالی کی چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تبھی ان میں سے ایک نے فصیحہ کا ہاتھ تھاما

'بیوقوف سمجھتی ہے مجھے'

 اور یہیں دانیال کو غصے نے آجکڑا تھا 

'اتنی بڑی غلطی اللہ معاف کرے اب تو تمہیں کوئی نہیں بچا سکتا' 

'مطلب'

'پیچھے تو دیکھو' 

''چٹاخ" 

وہ جیسے ہی پیچھے مڑا لالی کے ایک زوردار تھپڑ نے اسکی دنیا ہلائی وہ ابھی کچھ سمجھتا کہ

"چٹاخ" 

ایک اور تھپڑ اسکے دوسرے گال پر پڑا اسکا تو سر گھوم گیا سب لوگوں نے بھی گردن گھما کر اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا اسکے دوست آگے بڑھے اور لالی کو تھامنا چاہا لیکن لالی تو تھی بندریا پھدک کر ٹیبل پر چڑھی سامنے کھڑے ہوئے لڑکوں نے حیرت سے اسے دیکھا شکل سے معصوم اور دماغ۔۔۔۔

'اے لڑکی عزت پیاری نہیں ہے کیا' ایک نے خبیث ہونے کا پختہ ثبوت دیا

'لگتا ہے تجھے تیری عزت پیاری نہیں ہے پوری محفل میں ایک لڑکی سے دو تھپڑ کھا چکا ہے ضمیر تو تھا نہیں لگتا ہے غیرت بھی سو گئی ہے بے غیرت انسان کی' لالی نے اسے للکارا 

'زبان کو قابو میں رکھ نہیں تو بھری محفل میں بے آبرو کردیں گے ویسے بھی اتنے دنوں سے روکھی پھیکی راتیں گزار کر تھک گئے ہیں اب کچھ رنگین۔۔۔۔' ہوس زدہ نظریں لالی کو اپنے وجود کے آرپار ہوتی محسوس ہوئیں تماشا لگا تھا سب خاموش تھے وہ بول رہا تھا کہ لالی نے جھٹکے سے کانچ کا گلاس اٹھایا اور اسکے سر پر پھوڑا

'آہہہہہ…ہہ(گالی) پکڑو اسے نکالتا ہوں اسکی اکڑ' وہ دونوں اسکے پیچھے آئے یہی تو چاہتی تھی لالی

'شاباش آؤ پکڑو ارے ہم یہ رہے آؤ نہ یار' وہ ہلکی پھلکی سی چھوٹی سی لڑکی کبھی ادھر کبھی ادھر چڑھ جاتی وہ دونوں بیٹھ کر کھانے کے عادی تھے شاید اس لئیے توند نکلی ہوئی تھی آخر میں وہ دونوں تھک گئے 

'ہاہاہاہا بس اتنی جلدی تھک گئے انکل' کہتے کے ساتھ ان میں سے ایک کے سر پر پہنچی جو رکوع کی طرح گھٹنوں پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور جھٹکے سے اوپر کیا 

"چٹاخ" 

"چٹاخ"

"چٹاخ"

تین تھپڑ لگاتار مارے تھے اسے لالی نے یہ وہ تھا جس نے اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تھا

'لڑکی ہوکر مرد پر ہاتھ اٹھاتی ہے' اسکا تیسرا دوست چیخا

'ابے او مرغی مرد وہ ہوتا ہے جو مردانگی دکھائے اور تم لوگوں نے اپنی درندگی دکھا کر اپنے نامرد ہونے پر ٹھپہ لگوایا ہے' لالی کی بات پر لوگوں کی دبی دبی مسکراہٹ گونجی لیکن ایک قہقہ بھی گونجا تھا جو فصیحہ نے لگایا تھا

لالی اس تیسرے کے سر پر پہنچی جو اسے دیکھتے ہی کھڑا ہوا تھا لالی نے گھما کر اپنی ٹانگ  اسکی ٹانگ پر ماری وہ گرا اور پھر اسکا ہاتھ تھاما جس سے اسنے فصیحہ کو ہاتھ لگایا تھا اور پھر اپنے گھٹنے پر رکھ کر اپنی کہنی اسکی کلائی پر ماری ٹک کرکے آواز آئی اور کلائی کی ہڈی ٹوٹ گئی

'آہہہہہہ……' ایک دلخراش چیخ گونجی تھی پارلر میں

'ہماری دوست کو ہاتھ لگایا تھا یہ تو ہونا ہی تھا اور پارلر میں موجود جتنی لڑکیوں کے ساتھ ان نا مردوں نے بد تمیزی کی ہے وہ اپنا بدلہ لے سکتیں ہیں اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی تم لوگوں کو ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو اسکا ہاتھ توڑنے کی زمہ داری ہماری'

کہنے کی دیر تھی پارلر کی تقریباً تمام لڑکیاں جھپٹ پڑی تھیں ان تینوں پر جسکے سر سے خون نکل رہا تھا وہ اب بے ہوش ہوگیا تھا 

'لے کے جاؤ بے چارے کو حالت دیکھ کر لگ رہا ہے رستے میں ہی ٹپک جائے گا لیکن اب ہم اتنے بھی پتھر دل نہیں ارے بھئی کوئی ایمبولینس کو کال کرکے کہو پہلے تو پوچھ لینا جانوروں کے ہسپتال جاتی بھی ہے یا نہیں' لالی نے آواز لگائی تو ایک بار پھر قہقہ گونجا لوگوں کا 

'چلیں یا اور کوئی مووی کا ٹریلر دکھانا ہے لوگوں کو' دانیال نے مسکرا کر کہا لیکن اس سب کے بعد اسکا سر فخر سے اونچا ہوا تھا اور غصہ بھی ختم ہوگیا تھا کیونکہ جہاں لالی ہو وہاں فکر نہیں ہوتی

'ہاں چلو اوکے بائے ایوری ون اور ہاں گرلز ڈرتے نہیں ہیں' لالی جاتے جاتے بولی 

💜💜

آج یونی میں بہت کام تھا اسلئے لالی اور فصیحہ کو جلدی آنا تھا لالی جو روڈ کراس کر رہی تھی سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو نہ دیکھ سکی لیکن فصیحہ نے بروقت اسے پیچھے کھینچ لیا تھا گاڑی بھی بریک لگا کر رکی اس میں فصیحہ کو بھی چوٹ لگ سکتی تھی لیکن پھر بھی اس نے لالی کو بچایا اور اس بات سے لالی نے وہ فیصلہ کیا تھا جو وہ اتنے دنوں سے نہیں کر پا رہی تھی 

'تم ٹھیک ہو' فصیحہ نے اسے گلے لگایا 

'ہاں ہم ٹھیک ہیں ہماری وجہ سے تمہیں بھی چوٹ لگ سکتی تھی' 

'پاگل اپنوں میں خود کو ترجیح نہیں دیتے' اس بات نے لالی کے فیصلے پر مہر لگائی تھی

'مس آپ ٹھیک تو ہیں آپ کو کہیں چوٹ تو نہیں لگی اگر لگی ہے تو پلز چلیں میں آپکو اپنے ہوسپٹل لے جاتا ہوں' علی ہوسپٹل جارہا تھا جب اسکی گاڑی کے سامنے لالہ رخ آگئی 

'ارے نہیں بھائی ہم بلکل ٹھیک ہیں ہمیں کچھ نہیں ہوا یہ تو بس ایسے ہی' اسنے فصیحہ کی طرف اشارہ کیا

'ویسے اچھے لگ رہے ہیں آپ' لالی نے سچائی کے ساتھ تعریف کی

'راہ چلتے لوگوں کی تعریف کرنا ثواب ہوتا ہے کیا' علی نے تعجب سے پوچھا

'نہیں لیکن سچ بولنا ثواب ہوتا ہے اور ویسے بھی ہم نے پڑھا ہے کہ جو چیز اچھی لگے اسکی تعریف کرو کیا پتا وہ ختم ہو جائے یا تو مر جائے' لالی نے اپنی فلاسفی جھاڑی

'ان شارٹ آپ مجھے مارنا چاہتی ہیں' علی نے منہ بنایا 

'اور ہم ایسا کیوں کریں گے' لالی بولی فصیحہ کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی

'کیوں کہ میری گاڑی کی وجہ سے آپکا ایکسیڈنٹ ہوا' اسنے سوچ کر کہا

'لیکن ہوا تو نہیں' لالی نے بھی اسی کے انداز میں کہا

'اففف…تعریف کی تھی نہ آپ نے میری تھینک یو سو مچ' علی جھنجھلاتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا 

'بھائی نام تو بتاتے جائیں اگلی بار ایکسیڈینٹ ہوا تو آپکے ہوسپٹل آئیں گے تاکہ ہمیں تھوڑا ڈسکاؤنٹ ملے' لالی نے علی کو پکارا 

'میرا نام علی اسماعیل آفندی ہے قریبی ہوسپٹل میں ہارٹ سرجن ہوں' علی نے تعرف کروایا

'ویسے علی بھائی کھانے پینے کے شوقین لگتے ہیں ہے نہ' لالی نے اس کے ہاتھ میں بسکٹ کا پیکٹ دیکھتے ہوئے پوچھا

'ہاہاہاہا رائٹ' وہ گاڑی کی طرف بڑھا

'اللہ حافظ' لالی نے بولا

'خدا حافظ' علی نے ہاتھ ہلایا اور گاڑی میں بیٹھ کر اپنی منزل کی طرف بڑھا

'میرے لئے جیسے لالہ رخ ہے ویسے ہی فصیحہ ہے میں چاہتی ہوں آپ اسے اب میری بیٹی بنا دیں میرے دانیال کے بارے میں آپ سب جانتی ہیں' شبانہ بیگم نے آسیہ(فصیحہ کی امی) سے کہا

'ارے دانیال کو تو ہم بہت اچھے سے جانتے ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ وہ ہماری بیٹی کو خوش رکھے گا لیکن ہمیں کل صبح تک کا وقت دیں ہم آپکا کل صبح تک جواب دیں گے' آفاق صاحب (فصیحہ کے بابا) نے کہا

'جی بھائی صاحب بس ہم بہت امید سے آئے ہیں' زمان صاحب نے کہا

اتنے میں فصیحہ نے لالی کا ہاتھ پکڑا اور اپنے کمرے میں لے گئی

'لگتا ہے شرما گئی ہے' آسیہ بیگم نے بات سنبھالی (ایک تو یہ لڑکی ہر جگہ میری عزت خراب کرتی ہے) آسیہ بیگم سوچ کر رہ گئیں

💜💜

'تو سب جانتی ہے لالی کہ میں ارمان سے محبت کرتی ہوں پھر اس سب کی وجہ' فصیحہ کے سنجیدہ لہجہ سے لالی تھوڑا ڈگمگائی 

'کیونکہ ہم تجھے خوش دیکھنا چاہتے ہیں' لالی منمنائی

'خوش تم مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو اگر خوش دیکھنا چاہتی نہ تو تم اپنے بھائی کا رشتہ لے کر نہیں آتیں' فصیحہ ہلکی آواز میں غرائی 'سب جانتے ہوئے بھی تم نے یہ سب کیا مجھے صرف وجہ بتاؤ' 

'فصیحہ تم جس کے پیچھے بھاگ رہی ہو وہ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے کیوں نہیں سمجھتی ہو یہ بات' لالی نے سمجھایا

'تمہیں کیسے پتہ کہ وہ کسی اور کی محبت میں مبتلا ہے' فصیحہ کو اسکی بات عجیب لگی وہ لڑکی جو اس کے لیے سب کچھ چھوڑ دے وہ آج اسکا ساتھ دینے کہ بجائے منہ موڑ رہی تھی

'و…وہ…ہ بس پپپ…پتہ ہے' لالی کو اس سوال کی امید نہیں تھی

'تم کچھ چھپا رہی ہو مجھ سے' فصیحہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکا

'پاگل ہوگئی ہو پوری بھلا ہم تم سے کچھ کیوں چھپائیں گے کہ ہم کچھ چھپا رہے ہیں' لالی ٹینشن میں الٹا بول گئی اور سامنے کھڑی ہوئی اسکی دوست پہچان گئی تھی کہ وہ کچھ چھپا رہی ہے یا جھوٹ بول رہی ہے

'لالی میری آنکھوں میں دیکھ کر بات کرو تم نے کب سے آنکھیں جھکا کر بات کرنا شروع کیا' فصیحہ نے ڈپٹا 

'ہا…ہاں دیکھ تو رہے ہیں' لالی نے خود کو کمپوز کیا تو دماغ نے چلنا شروع کیا 'فصو تیرے لیے ہماری دوستی امپورٹنٹ ہے نہ' 

'اپنی جان سے بھی زیادہ' اسکی بات پر لالی نے ایک لمبی سانس کھینچی 

'تجھے قسم ہے اس دوستی کی کہ تو ہاں کرے گی بھائی کہ رشتے کیلئے' لالی ایک ہی سانس میں پوری بات کہہ گئی

'لالہ رخ' فصیحہ چیخی ' تجھے شرم نہیں آئی ہماری دوستی کو بیچ میں لاتے ہوئے' 

'بات تو نے آگے بڑھائی ہے اگر تو پہلے ہی مان جاتی تو ہم کچھ نہیں کہتے' لالی نے اطمینان سے جواب دیا 

'تیرے لئے ہماری دوستی کوئی معنی ننن۔۔نہیں رکھتی کیا' فصیحہ بے یقینی کے ساتھ بولی

'ہے لیکن ہمیں لگتا ہے تیرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی ورنہ تو اب تک ہاں کر چکی ہوتی' لالی نے اس بار آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا

'اگر یہی بات ہے تو ہمیں یہ رشتہ منظور ہے لیکن یاد رکھنا دوستی کو بیچ میں لاکر اچھا نہیں کیا تم نے' اسکی آنکھ سے آنسو ٹپکا لیکن شاید سامنے کھڑی ہوئی لڑکی بےحس ہوگئی تھی 

'تمہاری امی نے کل تک کا کہا ہے جواب ہاں میں ملنا چاہیے اور رہی بات تمہاری محبت کی تو اسکا بھوت بھی بہت جلد اتر جائے گا تمہارے سر سے' لالی نے پھر سے آنکھیں چرائیں اور کمرے سے نکل گئی 

فصیحہ جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھ گئی اسکو اب تک یقین نہیں ہوا تھا کہ اسکی دوست نے یہ سب کیا ہاں وہ شاید اپنے بھائی کی محبت میں اندھی ہوگئی تھی کیونکہ یہ بات تو فصیحہ بھی جانتی تھی کہ دانیال کی نظریں کیا بولتی ہیں 

💜💜

(سوری فصو ہم جانتے ہیں آج پہلی بار تم ہم سے بد گمان ہوئی ہو لیکن یہ سب ضروری تھا اور اس کی وجہ تم بہت جلد جان جاؤ گی کیونکہ جو تمہیں دکھ رہا ہے یا ہمیں دکھایا جارہا ہے سب ڈرامہ ہے لالہ رخ کو ٹریپ کرنے کی کوشش ہے اور  یہی ضروری تھا کہ جو چل رہا ہے وہ چلتا رہے  لیکن ایسے میں تمہارا ارمان سے محبت ہو جانا یہ کوئی قسمت نہیں بلکہ سوچا سمجھا کھیل ہے جس میں تمہیں پھسانا مطلب صاف ہمارا دھیان بھٹکانا اور ہم نہیں چاہتے کہ تم اس جھوٹے انسان کی محبت میں پھنسو اسلئے بھائی سے تمہیں منسلک کردیا ہمیں تو ارمان خود چلتی پھرتی سازش لگتا ہے) لالی کے دماغ میں ایک الگ ہی سوچ تھی ایک پلینینگ تھی ایک ڈرامہ تھا اگر سامنے رابیعہ خان تھی تو یہاں بھی لالہ رخ تھی 

"تم جو کوئی بھی ہو اپنے بنائے ہوئے کھیل میں خود ہی پھنسو گے" لالی کے چہرے پر تنزیہ مسکراہٹ ابھری

💜💜

ارمان جب یونی سے باہر آرہا تھا تو اسکے پیچھے لالہ رخ بھی تھی وہ اسے فصیحہ سے دور رہنے کا کہنے آئی تھی لیکن جیسے ہی وہ قریب آئی تو ٹھٹھک کر رکی اور پلر کے پیچھے چھپی

ارمان جو اپنی دھن میں چلتا آرہا تھا سامنے سے علی کی گاڑی کو دیکھ کر رکا اور جلدی سے اپنے لینس اور نقلی مونچھیں ہٹائیں تو صورت واضح ہوئی

علی یہاں اپنے کسی دوست سے ملنے آیا تھا جو آج کل اس یونیورسٹی میں پروفیسر تھا لیکن سامنے جنید کو دیکھ کر رکا 

'جنید' علی بھاگتا ہوا اسکے قریب آیا 

'اسلام و علیکم یار کیسے ہو اور یہاں کیا کررہے ہو' علی نے ایک ہی سانس میں سارے سوال پوچھ ڈالے

'ارے ارے آرام سے پہلے وعلیکم السلام میں بلکل ٹھیک ہوں اور میں بس تیری بھابھی کے کسی کام سے آیا ہوا تھا' وہ شرارت سے بولا اور آخری بات سچ میں جھوٹ ملا کر بتائی

'کیاااااا……بھابھی' علی نے حیران ہو کر پوچھا تو اسنے اثبات میں گردن ہلائی 'بھابھی اس یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں تو ملوا تو صحیح' علی کی تو حیرانی ختم نہیں ہورہی تھی 

'نہیں وہ تو گھر جا چکی ہے' جنید نے اسکے آف ہونے کا بتایا اور یہیں لالی حیران ہوئی ابھی تو لاسٹ کلاس لی تھی ارمان نے کیا وہ کسی اور کی بات کررہا ہے لیکن بھابھی… 

'اچھا نام ہی بتادے انکا' علی نے پھر پوچھا

'ہاں اسکا نام رابیعہ خان میری مسز ٹو بی' اسنے شرارت سے کہا اور یہیں لالی کو ایک جھٹکا لگا آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا 

فصیحہ کو تو لالی نے سنبھال لیا تھا لیکن یہاں اسے کون سنبھالے گا یہ تو شکر تھا کہ وہ محبت کہ ایک ایسے مقام پر تھی جہاں سے واپس لوٹ جانا آسان تھا اسنے دوبارہ اوپر دیکھا لیکن اب وہاں کوئی نہیں تھا

لالی مسکرائی اور سر جھٹک کر آگے بڑھی وہ ماتم کرنے والوں میں سے تھی اب اسے یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ ایسا کر کیوں رہا ہے

'ہوگیا گزر گیا اب نئی امید کا ہاتھ تھامو اس سے پہلے وہ بھی گزر جائے'

___________________

دوسرے دن جب لالی یونیورسٹی آرہی تھی تو اسنے علی کو دیکھا دماغ نے چلنا شروع کیا اور لائحہ عمل تیار کیا تو پہلے اس نے علی پر نظر رکھی تو اسے اسکے ہوسپٹل جانے کے اوقات معلوم ہوئے اور راستے بھی زہن نشین کیا جہاں سے وہ گزرتا تھا اس سب کیلئے اسنے اپنی جوب سے ایک ہفتے کی چھٹی لینی پڑی تھی کیونکہ کہیں نہ کہیں ان سب میں فصیحہ آرہی تھی جو اسے کسی صورت منظور نہیں تھا

لالہ رخ کی سالگرہ کے دن جب اسکا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا تو وہ کوئی غلطی نہیں بلکہ جان بوجھ کر وہ گاڑی کے سامنے آئی تھی 

وہ علی سے ہیلو ہائی کرنا چاہتی تھی تبھی اسنے ایک نظر فصیحہ کو دیکھا اور دوسری نظر علی کی گاڑی کو جا ابھی دور تھی اس معلوم تھا فصیحہ اسے بچالے گی نہیں بھی بچی تو کوئی مصلہ نہیں ایک آت ہڈی ہی ٹوٹے گی اسنے سوچ لیا تھا اور تو اور علی کی کمزوری (کھانا) بھی جان گئی تھی اسلئے اب وہ علی کے ہوسپٹل میں موجود تھی شبانہ بیگم کے ساتھ کچھ وجہ انکا ہائی بلڈ پریشر تھا اور کچھ ارمان عرف جنید کے بارے میں معلوم کرنا تھا اسلئے اس نے شبانہ بیگم سے بریانی بھی بنوالی تھی 

'اسلام و علیکم علی بھائی ارے آج تو آپ پہلے سے بھی زیادہ اچھے لگ رہے ہیں' لالی نے اپنی ڈھائی گز زبان کے جوہر دکھائے ' اور بھول تو نہیں گئے ہمیں اور اگر بھول گئے ہیں تو بھی کوئی مصلہ نہیں ہم بتا دیتے ہیں ہم وہی جو آپکی گاڑی سے ٹکرانے……' وہ بول ہی رہی تھی کہ علی نے بریک پر پاؤں رکھا

'ہاں لڑکی جانتا ہوں میں تمہیں اور بتاؤ ڈسکاؤنٹ لینے آئی ہو کیا' علی نے شبانہ بیگم کو دیکھا

'نہیں ہم اپنی امی کو لے کر آئے تھے انکو…ہا۔ہائی بلڈ پریشر ہے ایک دو ہفتے سے آپ چیک کرلیں' لالی بول رہی تھی کہ اچانک اسکی نظر وہاں رکھے ہوئے ایک فریم پر پڑی جسمیں علی اور ارمان کور تیسرا کوئی اور(میر سرسری سی ملاقات ہوئی تھی اس لئے یاد نہیں تھا) پھر نظریں پھیریں 

'اچھا میں چیک کرلیتا ہوں' علی پھر شبانہ بیگم سے سوال جواب کرنے لگا لالی مسکرائی پری کی یاد آئی تھی علی کو دیکھ کر ناجانے کیوں

کچھ دیر بعد علی نے دوائیوں کا پیپر لالی کی طرف بڑھایا اور ساتھ ہی کچھ ضروری ہدایات دیں 

'علی بھائی آپ کیلئے ہم ایک گفٹ لائے ہیں ہمیں پتا ہے آپ اتنے سارے مریضوں کو دیکھ کر تھک جاتے ہونگے' لالی نے اسکی کمزوری کو ہاتھ میں تھاما 

' بتا بھی دو لڑکی کیا لائی ہو' علی بے صبرا ہوا کافی دیر سے اسے ویسے ہی بریانی کی خوشبو آرہی تھی

'لڑکی نہیں لالہ رخ آپ ہمیں لالی کہہ سکتے ہیں اور ہم آپکے لیے اپنی امی کے ہاتھ کی بریانی لائیں ہیں' لالی نے ٹفن آگے بڑھایا 

'ارے میری پیاری بہن کتنا خیال رکھتی ہے میرا بریانی لائی ہے میرے لئے' اسکی بات پر تو شبانہ بیگم بھی مسکرائیں 

علی نے جلدی سے ٹفن کھولا اور کھانے لگا 

'واہ آنٹی کیا بات ہے واہ واہ بہت خوش نصیب ہونگے انکل جنہیں آپ جیسی بریانی بنانے والی بیوی والی بیوی ملی بھئی لالی جب بھی بنے میرے لئے لے آیا کرو' علی کھاتے ہوئے بولا

'ہاں بیٹا کیوں نہیں لالی لے آیا کرے گی ویسے بھی لالی کی یونی کے راستے میں ہی تمہارا ہوسپٹل ہے' شبانہ بیگم نے ٹفن پیک کیا 

'ویسے بھائی یہ کون ہیں برابر والے ہم نے انہیں کہیں دیکھا ہے' لالی اپنے مدّعے کی بات پر آئی

'اوہ یہ…یہ جنید ہے میرا بھائی جیسا دوست اس ……کمپنی کا ڈی ایم ہے اور کل دیکھا ہوگا اسے تم نے اپنی یونی میں' علی نے اسکے شک کو تصدیق میں بدلا تھا 

 پھر لالہ رخ اور شبانہ بیگم نے گھر کی راہ لی

لالہ رخ مسکرائی تھی علی کی بات پر کمپنی کا ڈی ایم یونی میں پروفیسر بات کچھ سمجھ نہیں آئی

💜💜

'ہیلو سر' انسپیکٹر حارث کی کال تھی 

'ہاں بولو انسپیکٹر' میر کی بھاری آواز ابھری

'سر ……ہوسپٹل سے کال آئی ہے کہ وہاں پر تین لوگوں کو بری طرح پیٹ کر بھیجا گیا ہے اور ایمبولینس والے نے بھی کچھ نہیں بتایا ہوسپٹل والے ایڈمیٹ نہیں کر رہے کہ پولیس کیس ہے اس لیے ہمارے پاس کال کی ہے' انسپیکٹر نے سارا معاملہ بتایا

'ٹھیک ہے تم کسی کونسٹیبل کو لے کر پہنچو وہاں میں بھی وہی آتا ہوں' میر نے فون بند کیا

_______________

تھوڑی دیر میں میر ہوسپٹل میں موجود تھا سامنے حارث کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا 

ہالف سلیوز۔ والی وائٹ شرٹ اور نیچے بلو جینس  بائیں ہاتھ میں بندھی قیمتی گھڑی بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے وہ وجیہ شخص آس پاس کی لڑکیوں کیلیے امتحان تھا

'سر' حارث نے سیلیوٹ کیا

'کہاں ہے وہ تینوں' 

'اس سائٹ سر انکی حالت واقعی خراب ہے ایک کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ایک کا سر پھٹا ہوا ہے ایک کا جبڑا ہلا ہوا ہے' حارث بتاتے ہوئے وارڈ میں داخل ہو چکا تھا 

'سسٹر آپ باہر جائیں ہمیں ان سے بات کرنی ہے' حارث بولا لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی میر کی پرسنیلٹی ہی ایسی ہی تھی بھئی 

'سسٹر' حارث نے اسکو میر کو دیکھتے ہوئے دیکھا تو اسنے ہنسی دبائی اور کڑخت لہجے میں کہا

'جج…جی' سسٹر آگے پیچھے ہوئی

'دکھنے سے ہی لفنگے لگتے ہیں اوہ اٹھو باپ کا گھر نہیں ہے یہ تمہارے جو پھیل کر سو رہے ہو' میر کی ایک ہی آواز نے چاروں کو جگایا اسنے سختی سے اسلئے کہا کیونکہ وہ انکو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ کسی لڑکی کے بھائی سے پٹ کر آئے ہیں لیکن یہاں تو معاملہ ہی الگ تھا

'سسسس.……سر' ایک لڑکھڑایا

'کس کے بھائی سے پٹ کر آرہے ہو' میر نے سیدھا سیدھا سوال کیا

'ببببب۔۔۔بھائی نننن۔نہیں بہن' ایک نے اٹک کر کہا تو میر نے اچھنبے سے اسکی طرف دیکھا اور پھر حارث کی طرف دیکھا اسنے بھی ہاں میں سر ہلایا اور آئسکریم پارلر کی سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی جسمیں یہ لڑکے ان لڑکیوں کو چھیڑ رہے تھے اسکے بعد ان میں سے ایک لڑکی نے ان سب کی دھلائی کی لیکن جب اس لڑکی نے اس لڑکے کا ہاتھ توڑا تو میر کا دل زور سے دھڑکا سامنے کھڑی ہوئی لڑکی میں اسے اس دن والی لڑکی کی جھلک دکھی تھی وہ بے ساختہ مسکرایا

'اور چھیڑو لڑکیوں کو کرو آوارہ گردی حارث یہ لوگ یہاں سے ڈسچارج ہوجائیں تو مجھے پولیس اسٹیشن میں چائیے سمجھے' میر بولتا ہوا باہر نکلا اور حارث کو گھر جانے کیلئے کہا

💜💜

فصیحہ کے گھر کی طرف سے ہاں کہہ دی گئی تھی لالی نے چونکہ شبانہ بیگم کو کچھ کچھ اشارہ کردیا تھا فصیحہ کی طرف سے اسلئے انہوں نے نکاح کی بات چھیڑ دی تھی اور رخصتی فصیحہ کی پڑھائی کے بعد رکھی گئی تھی 

 دس دن بعد فصیحہ اور دانیال کا نکاح رکھا تھا شبانہ بیگم نے فصیحہ کو انگوٹھی پہنا کر منگنی کی رسم ادا کردی تھی 

لالی یونی میں بیٹھی ارمان کا ویٹ کررہی تھی کیونکہ ارمان نے کچھ ضروری بات کرنی تھی لالی سے 

'کیوں پیچھے پڑ گیا ہے ہمارے یہ دوغلا انسان بھئی جس سے محبت ہے اس کے پاس جاؤ ایک منٹ کہیں یہ وقت گزاری تو نہیں کرتا لیکن اگر وقت گزاری کرتا تو اس لڑکی کو اپنے دوست کی بھابھی بنانے کا تو نہیں کہتا نہ آخر چل کیا رہا ہے یہ یا تو یہ انسان بیوقوف ہے یا تو ہم سب کو دھوکا دے رہا ہے کیونکہ شکل اور حرکتوں سے تو شریف انسان لگتا ہے ہم نے آج تک اسکو  کسی لڑکی سے بدتمیزی کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی غلط حرکت کی کہیں نشا تو نہیں کرتا ہاں اور پھر یونی آتے وقت میک اپ کرتا ہوگا' لالی ادھر سے ادھر چکر کاٹتے ہوئے بڑبڑائے جارہی تھی 

'لالی رخ کیا بول رہی ہیں آپ' آنکھوں میں ڈھیروں پیار سمایا اور لالی کو دیکھا

'وووو...وہ وہ ہاں وہ ہم وہ آپکی راہ تک رہے تھے' لالی نے اپنے لہجے میں مٹھاس لائی

'جی لالہ رخ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں' (کاش تم واقعی اتنی معصوم ہوتیں کاش تم نے رابیعہ کے ساتھ ایسا نہیں کیا ہوتا) 

'جی سر کریں' (کاش تم بھی معصوم ہوتے یہ سب کرنے سے پہلے اپنی ماں کا ہی سوچ لیتے ایک عورت کے بیٹے ہوتے ہوئے ایک عورت کو دھوکا دیتے ہوئے شرم آنی چاہیے تمہیں) 

'میں چاہتا ہوں کہ' (رابی آج تمہارے علاؤہ کسی اور کو یہ جملے بولنے پڑ رہے ہیں) 

'کہ سر' (ہاں ہاں انہی کو جاکر کہیں ہمیں کیوں کہہ رہے ہیں ہم بھی مرے نہیں جارہے) 

'میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو اپنے دل کی فیلینگس شئیر کروں' وہ ایک ہی سانس میں کہہ گیا کیونکہ اس نے پیچھے سے آتی ہوئی فصیحہ کو دیکھ لیا تھا 

'کونسی فیلینگس سر' ڈرامہ ہنوز جاری تھا (ڈرامہ تو اچھا کررہا ہے یہ) 

'لالہ رخ میں نے  تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے محبت دیکھی ہے اور جب سے دیکھی ہے تب سے میرے دل میں بھی تمہارے لئے محبت پیدا ہوگئی ہے' وہ آپ سے تم پر آیا اور اسنے لالی کا ہاتھ تھاما لالی کو کرنٹ لگا تھا کسی مرد کی ہمت نہیں تھی اسے چھونے کی 

فصیحہ جو یہ سب دیکھ رہی تھی اب آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو ہوئیں تھیں آہستہ آہستہ دماغ میں لالی اور اسکی ساری باتیں گھومیں 

(وہ اچھا انسان نہیں ہے، تمہیں اس سے اچھا کوئی اور مل جائے گا، پاگل مت بنو تم سچ سے واقف نہیں ہو، تمہیں ہماری دوستی کی قسم، بھائی کے رشتے کیلئے ہاں کردو، ہم تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں، وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے، بھائی کے رشتے کیلئے ہاں کردو، تمہیں ہماری دوستی کی قسم، وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے) 

'لالی ارمان سے محبت کرتی ہے لالی نے مجھے کچھ کیوں نہیں بتایا اسکو ارمان چائیے تھا اسلئے اس نے میرا رشتہ اپنے بھائی سے کروادیا' فصیحہ کے ہونٹ ہلے تھے اس نے خالی نظروں سے لالی کی طرف دیکھا جس کے چہرے کی خوشی نے اسکی سوچ کو سچ ثابت کیا 

'تو یہ ہے تمہاری سچائی لالہ رخ تم پہلے ایسی نہیں تھیں تم تم واقعی اسکی محبت میں اپنی دوست کو ہرانے چلی تھیں کیا کر رہی ہو تم لالی لیکن شاید اس میں تمہاری کوئی غلطی ہی نہ ہو مجھے تو یہ ارمان جھوٹا لگتا ہے اسنے تمہیں اپنی محبت میں پھنسایا ہوگا نہ' فصیحہ کی سمجھ سے باہر تھا کہ ہو کیا رہا ہے وہ وہیں سے واپس پلٹ گئی لیکن وہ لالی کے ہاتھ میں اپنی دی ہوئی رِنگ نہیں دیکھ سکی 

'لالہ رخ آج تم سے بات کرکے واقعی دل ہلکا ہوگیا ورنہ کب سے سوچ رہا تھا کہ کیسے کہوں گا دراصل تجربہ جو نہیں ہے ہاہاہا' (نہیں ایک تجربہ ہے بلکہ اب دو ہوگئے)

(تو تجربے کہو نہ)

'جی سر اماں ہم جائیں گے کلاس کا وقت ہوگیا ہے' (اففف اسکو تو ایک نہیں بلکہ بہت سارے کؤے کاٹیں گے جھوٹا کہیں کا) 

(تمہیں تو کؤوں کی ٹولی کاٹے گی لیکن پہلے اپنی دوست کو تو سنبھال لو) جنید نے ایک لمبی سانس خارج کی نا جانے کتنا لمبا چلنا تھا یہ کھیل لیکن لالہ رخ اب شاید اس کھیل کو اختتام پر لانے کا سوچ رہی تھی یہ جانے بغیر کہ اس اختتام کے بعد قسمت کے کھیل کا آغاز ہوگا 

💜💜

'لالی کیسی ہو' فصیحہ کی کال تھی

'ہم بلکل ٹھیک ہیں تم بتاؤ آج دو لیکچرز لینے کے بعد تم گھر چلی گئیں تھیں کیوں' 

'ہاں وہ بس طبیعت تھوڑی ڈم لگی تھی' 

'اچھا اب کیسی ہے طبیعت' 

'ہاں میں اب ٹھیک ہوں اور لالی مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے' فصیحہ نے کال کی وجہ بیان کی

'ہاں پوچھو' لالی کی مصروف سی آواز گونجی

'تم آج کل کچھ چھپا رہی ہو کیا مجھ سے اگر ایسی کوئی بات ہے تو مجھے بتاؤ' فصیحہ کو لگا وہ سب سچ بتادے گی لیکن وہ یہ کیوں بھول رہی تھی کہ سامنے لالی ہے اپنے آپ میں بند رہنے والی اپنے اوپر خول در خول چڑھائی ہوئی آج تک کوئی لالی کے بارے میں کچھ نہیں جان پایا تھا وہ ایک بند کتاب تھی 

'چھاپانے کی وجہ ہونی چاہیے جو فلوقت ہمارے پاس نہیں ہے اور نہ ہی چھپانے کیلئے کچھ ہے اور اگر تمہیں لگتا ہے کہ ہم تم سے کچھ چھپا رہے ہیں تو غلط بھی نہیں لگتا سب سبھی سے کچھ کچھ چھپاتے ہیں جیسے تم کچھ چھپا رہی ہو ہم سے' لالی نے اسکا جھوٹ پکڑ لیا تھا

'نہیں میں کچھ نہیں چھپا رہی اور تم بات مت بدلو' فصیحہ کا لہجہ قائل کرنے والا تھا لیکن سامنے 

'خیر چھوڑو جو چھپا ہے اسے چھپا ہی رہنے دو ابھی تو چھپن چھپائی کا کھیل شروع ہوا ہے' لالی نے اسے اپنی بات کچھ ڈھکے چھپے لفظوں میں بیان کردی تھی لیکن وہ سمجھتی تب نہ 'اور ہاں ایک بات بتاؤ تمہارے نکاح کا ڈریس ہم فائنل کریں یا تم اور دانیال بھائی جاکر کرو گے بلکہ ہم تو کہتے ہیں تم دونوں خود ہی چلے جانا بھائی کیلئے بھی کوئی اچھا سا کرتا شلوار لے لینا اچھا امی بلا رہی ہیں اللہ حافظ' فصیحہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن لالی نے فون بند کردیا تھا 

'تمہیں کیا لگتا ہے ہم اتنے پاگل ہیں کہ یونی میں اپنے پیچھے تمہیں نہیں دیکھ پائیں گے ہم نے تو ارمان کی آنکھوں میں دیکھ کر ہی پتا لگا لیا تھا کہ پیچھے کوئی ہے اور پھر تمہیں ہم پہچان نہ پائیں ایسا کبھی ہوا ہے لیکن فصیحہ جو ہوا برا ہوا کیونکہ تم پھر بدگمان ہوئیں' لالہ رخ پر سوچ سی سامنے دیکھ رہی تھی پھر آزان کی آواز آئی سر پر دوپٹہ لیا اور وضو کرنے چلی گئی 

💜💜

'دانیال بھائی آگئے' لالی نے کچن میں جھانکتے ہوئے شبانہ بیگم سے پوچھا

'ہاں آگیا ہے کمرے میں ہے اپنے ویسے آج کل تو اسکی چھاپ ہی نرالی ہے' شبانہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا

'ہائے امی مجنو کو لیلی مل گئی ہے اور کیا چاہئے ہوگا' وہ شرارت سے کہتی ہوئی دانیال کے کمرے کی طرف بھاگی 

'بھائی ہم آجائیں کیا' اسنے دروازے سے سر نکال کر پوچھا 

'تم نے کب سے پوچھ کر آنا شروع کردیا ہے' اس نے فائل سے سر نکال کر کہا اور پھر فائل بند کی

'دل کررہا تھا کہ تمیز سے جا کر دیکھتے ہیں کہ کیسا لگتا ہے لیکن بلکل بھی اچھا نہیں لگا فیلینگ ہی نہیں آئی' لالی نے منہ بسورا اور دانیال کے پاس آکر بیٹھ گئی

'تو میری گڑیا دروازہ بجانے کی ضرورت ہی کیا ہے دل کرے تو توڑ دیا کرو' دانیال نے اسے سینے سے لگایا وہ اپنی بہنوں کے معاملے میں ایسا ہی تھا ٹچی ٹچی سا

'وہ آپ کو کچھ امپورٹنٹ بات بتانی ہے فصیحہ کے بارے میں' وہ سنجیدہ ہوئی 

'ہاں ہاں بتاؤ' دانیال کا چہرہ تو آج کل رنگ برنگا ہوگیا تھا فصیحہ سے نکاح کا سن کر 

لالی نے دانیال کو سب کچھ بتایا ارمان کے بارے میں اور فصیحہ کے جزبات کے بارے میں بھی لیکن کچھ باتیں اسنے اپنے علاؤہ کسی کو نہیں بتائی تھیں

دانیال کو دکھ ہوا تھا فصیحہ کا سن کر وہ کوئی ٹیپیکل مرد نہیں تھا وہ تو محبت جیسے پاک جزبے کی قدر کرتا تھا شبانہ بیگم اور زمان شاہ نے اپنے بچوں کو آج میں جینا سکھایا تھا جس میں لالی پیش پیش تھی 

'بس بھائی آپ نے اس کے دل سے اس ارمان کی محبت کو نکال باہر کرنا ہے اور اسکے دل میں اپنی محبت کے جذبات پیدا کرنے ہیں اور ہاں اس سب میں آپکو بے تحاشہ صبر کرنا ہے باقی آپ اور فصیحہ بہتر جانتے ہیں ویسے…… خوش کا تو ہم آپ سے بلکل نہیں پوچھیں گے کیونکہ خوشی تو آپکے چہرے سے جھلک رہی ہو اوہو شرما رہا ہے لڑکا ہمارا ہاہاہاہا' دانیال جو فصیحہ کی بات غور سے سن رہا تھا اور دل میں پختہ ارادہ کررہا تھا فصیحہ کو منانے کیلئے اسکی آخری بات پر بے ساختہ مسکرایا اور تھوڑا سا شرمایا بھی

💜💜

جنید رابی کے گھر میں موجود تھا اسکے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اسکی آواز نے اسکے قدم جکڑے

'میں کھیل کھیلنا جانتی ہوں اور کھلاڑی کسے کہتے ہیں اسکی ڈیفینیشن پر اگر کوئی ہمارا عکس کھڑا کردے تو سمجھ جانا اس نے دنیا کی بہترین اگزیمپل دی ہے' وہ شاید کسی سے بات کررہی تھی تبھی جنید کے بھاری بوٹوں کی آواز نہیں سن سکی

'ارے اب تم جنید کو ہی لے لو اسے بیوقوف بنانا دنیا کا مشکل ترین کام ہے لیکن جہاں میں ہوں وہاں پر کچھ مشکل نہیں ہوتا' وہ کچھ زیادہ ہی خوش فہم تھی 

جنید اپنا نام سن کر روکا کیونکہ وہ اسے بیوقوف کہہ رہی تھی 

'یو نو نہ لالہ رخ ہماری یونی کی دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز اس نے روہن کو مارا تھا بے چارہ روتے ہوئے میرے پاس آیا تھا کہ تم اس سے بدلہ لو میں نے بات ٹال دی تھی لیکن جب اس نے میری انسلٹ کی تو میرا تو خون خول گیا تھا بس پھر جنید کے سامنے ڈرامہ رچایا اور وہ مان بھی گیا اب دیکھنا لالہ رخ……' وہ اور بھی کچھ کہہ رہی تھی لیکن جنید خاموشی سے واپس چلا گیا تھا 

💜💜

'امی اگر ہم کسی کا دل دکھائیں یا کسی کو دھوکا دیں تو کیا معافی مل سکتی ہے کیا اللہ ہمیں معاف کر دیتا ہے' جنید اپنی امی کی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہوا تھا

'وہ خدا تو بہت رحیم ہے بیٹا اپنے بندے کی اتنی سی پکار پر ہی اسکی بات سننے چلا آتا ہے وہ کہتا ہے تم میرے پاس آؤ چل کر آرہے ہو تو میں بھاگ کر آتا ہوں تم تھوڑا مانگ رہے ہو وہ جھولیاں بھر کر دیتا ہے لیکن بس اسے ایک چیز نہیں پسند اسے کہ کوئی اسکے بندوں کا دل دکھائے اور پھر ہم تو مسلمان ہوکر مسلمان کا دل دکھاتے ہیں یہ تک بھول جاتے ہیں کہ یہ سب کل کو ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے' فوزیہ بیگم (جنید کی امی) نے کہا

'امی میں نے بھی کسی کا دل دکھایا ہے وہ واقعی معصوم ہے لیکن میں نے اسکو دھوکا دیا امی اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا' جنید اپنی امی کے سامنے بلکل بچہ بن جاتا تھا

'تو بیٹا اس سے معافی مانگ لو اگر اس بندۂ بشر نے معاف کردیا تو وہ خدا تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے کیسے نہیں معاف کرے گاا میرے بیٹے کو جاؤ اٹھو اور جاکر اپنے رب سے معافی مانگو نماز ادا کرو' فوزیہ بیگم نے اسے اٹھایا آج کل ویسے ہی انکے دل میں ڈر بیٹھتا جارہا تھا اپنے بیٹے کیلئے وہ کہیں جاتا تو گھنٹوں بیٹھ کر اسکی راہ تکتی تھیں 

💜💜

جنید نے نماز ادا کی تو اسکو لگا جیسے دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر گئی ہو دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے اور پہلے درودشریف پڑھا 

'آج میں معافی مانگنے آیا ہوں آپ سے میں جو ہر نماز کے بعد آپ سے کچھ مانگنے آتا تھا آج آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرے گی تب تک آپ بھی مجھے معاف نہیں کریں گے ایک موقع دے دیں مجھے اپنی غلطی سدھارنے کا تجھے تیرے رسول کا واسطہ تو تو ناراض نہ ہوں نہ اپنی رحمتوں کے در ہمیشہ کھلے رکھنا میرے گھر پر ہمیشہ میرے بعد بھی مجھ سے منہ مت پھیرنا اور میری ماں کا ہمیشہ خیال رکھنا میرے بعد بھی' وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا کچھ تو غلط تھا جس کی گواہی اسکو اسکا دل دیتا تھا لیکن کیا اور آخری بات اسکی زبان سے خود بہ خود نکلی تھی 

نماز پڑھنے کے بعد وہ کچھ ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا سکون ملا تھا

💜💜

'فصیحہ کیا مصلہ ہے کیوں منہ پھیر کر بیٹھ گئی ہو ایسا بھی کیا کردیا ہم نے اور اگر یہ تمہارے ڈرامے ہیں تو پلز انہیں بند کردو ہم سخت جھنجھلا گئے ہیں ہم سے نہیں برداشت تمہاری ناراضگی' لالی اسکے آگے ہاتھ پیر جوڑ رہی تھی 

'میں نہیں ہوں ناراض تم سے بس مجھے اکیلا چھوڑدو' فصیحہ نے کتابوں میں منہ دیا

'اف بند کرو یہ نیوٹن کی بہن نہ ہو تو ویسے تو پڑھنے کا دل نہیں کرتا لیکن اب ہم سامنے ہیں تو ساری پڑھائی یاد آگئی' وہ چیخی تو پیچھے گروپ میں بیٹھی ہوئی لڑکیاں جنہوں نے لالی کے بارے میں سنا ہوا تھا اٹھ کر اسکی طرف آئیں

'تمہیں بولنے کی تمیز نہیں ہے کیا شکل سے تو مڈل کلاس گھرانے کی لگتی ہو اٹ لیسٹ حرکتیں تو مڈل کلاس نہ کرو' ایک ہائی کلاس کی لڑکی نے اپنا سٹیٹس کا روعب جھاڑا 

لالی کو تو خاطر خواہ اثر نہیں ہوا تھا لیکن فصیحہ اسکو لگا جیسے کسی نے اسکی بے عزتی کی ہو 

'کیوں تمہیں کوئی مصلہ ہے مرضی ہماری جیسے بھی بولیں یوز لیس پلاسٹک' فصیحہ نے لٹھ مار انداز میں اسکی بے عزتی کی

'تمہیں کسی نے بولنا نہیں سکھایا کیا اوہ ہاں اب ماں باپ بھی تو جاہل ہوں گے کیسے تم لوگوں کو کچھ سکھاتے اور کچھ سیکھنے کیلئے بھی تم لوگوں کو تھرڈ کلاس اسکول میں ڈالا ہوگا ہاہاہا' اسکی بات پر ساری گرلز نے قہقہ لگایا لالی کو غصہ تو بہت چڑھا لیکن وہ جان گئی تھی کہ وہ لوگ اسکی ویڈیو بنا رہے ہیں ورنہ کون مکھیوں کے چھتے میں گھسنے کی غلطی کرے گا 

فصیحہ جو اپنی آستین اوپر چڑھا رہی تھی انکو مارنے کیلئے کیونکہ اسکو لگا لالی انکو دھونے والی ہے لیکن جب لالی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا تو اس نے حیرانی سے اسکی طرف دیکھا لالی نے اسکو موبائل کی طرف متوجہ کروایا جو سامنے والی لڑکی کے ہاتھ میں تھا، موبائل دیکھ کر فصیحہ کے ہونٹ گول ہوئے 'اوہ' تو لالی نے فصیحہ کو آنکھ ماری

'ہمارے ماں باپ نے ہمیں بہت کچھ سکھایا ہے لیکن سب سے زیادہ صحیح کے ساتھ صحیح اور غلط کے ساتھ بھی صحیح کرنا سکھایا ہے' لالی نے بول کر انکی طرف دیکھا پھر بولی 'سمجھے' 

'نہیں' ان میں سے ایک بولی 

'کوئی بات نہیں' بولتے کے ساتھ لالی نے اس لڑکی کے پیر پر پیر مارا جو وڈیو بنا رہی تھی موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹا نازک موبائل تھا گرتے کے ساتھ ہی کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوا 

'اوہ انا للّٰہ ہی وانا الیہ راجعون افسوس ہوا باجی اب جانے والے کو کون روک سکتا ہے' فصیحہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر افسوس سے کہا

'یو گوار باجی کسے کہہ رہی ہو' اسنے فصیحہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن ایک بار پھر افسوس ہاتھ لالی کے ہاتھ میں آگیا اور لالی نے ایک جھٹکے سے ہاتھ مروڑ کر اسکی کمر پر لگایا آس پاس کافی اسٹوڈنٹس جمع ہوگئے تھے

'اگلی بار ہماری دوست کو کچھ کہا نہ تو اچھا نہیں ہوگا' وہ اسکے کان میں پھنکاری اسی کے گروپ کی لڑکی لالی کی طرف بڑھی تو فصیحہ جو پانی پی رہی تھی اس لڑکی پر اس نے کلّی کردی تو سب نے قہقہ لگایا

'اوپس سوری سوری دکھا ہی نہیں' فصیحہ نے دنیا جہاں کی معصومیت اپنے لہجے میں سموئی لالی نے بھی اسکا ہاتھ جھٹکا فصیحہ ابھی ہنس ہی رہی تھی کہ سامنے سے آتا ہوا ارمان دکھا 

ارمان کو دیکھ کر فصیحہ کا چہرہ ایک دم پھیکا پڑا تھا ایک تو اس کی وجہ سے اس کی جان سے بھی زیادہ پیاری دوست اور اس کی دوستی میں بدگمانی آگئی تھی دوسرا اس کی دوست بھی اس سے محبت کرتی تھی لالی اور فصیحہ کے دکھ تقریباً ایک جیسے تھے بس فرق یہ تھا کہ لالی کسی چیز کا سوگ نہیں مناتی تھی اور فصیحہ کو سنبھل نے میں وقت لگتا تھا

'مس لالہ رخ کیا آپ مجھے اپنا کچھ وقت دے سکتی ہیں مجھے ضروری بات کرنی ہے میں زیادہ وقت نہیں لوں گا' جنید سنجیدگی سے گویا ہوا تو لالی اسکے انداز پر کھٹکی 

'فصیحہ تم کلاس میں جاؤ ہم ابھی آتے ہیں' لالی نے اسے بھیجنا چاہا

'میں کیوں جاؤں اسے کہو جو کہنا ہے یہیں کہہ' وہ بھی ڈٹ گئی تھی جنید نے لالی کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھا 

'اففف ڈھیٹ عورت بھاگے نہیں جارہے ہم کہیں آرہے ہیں جاؤ کلاس میں' وہ بھڑک گئی تھی 

'جارہی ہوں تم نہ اس انسان کی وجہ سے بدل گئی ہو لالی اپنی دوست کو جانے کیلئے کہہ رہی ہو تف ہے مجھ پر کہ میں اس دوغلے انسان سے محبت کر بیٹھی میں اب دانیال سے ہی شادی کروں گی بھاڑ میں جائے یہ اور بھاڑ میں جائے اس کی محبت آئی ڈونٹ کئیر' وہ اسے بول کر بڑبڑاتی ہوئی کلاس کی طرف چل دی 

'جی آپ کیا بولنا چاہتے تھے سر' لالی نے سر جھٹکا اور ارمان کی طرف متوجہ ہوئی

'اس سائٹ آجائیں آپ پلیز' اسنے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا تو دونوں اسی طرف چلے گئے

'مجھے……مجھے آآ…آپ سے معافی مانگنی ہے' اس نے اٹک اٹک کر کہا لالی نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا

'آپ کے ساتھ جو کچھ کیا اسکی معافی' وہ مزید بولا 

'لیکن آپ نے ہمارے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں کیا کہ آپ کو معافی مانگنی پڑے' لالی کی تو حیرت ختم نہیں ہورہی تھی

'جو کیا ہے وہ ہی تو نہیں کرنا تھا اس لئے تو معافی مانگ رہا ہوں' ارمان کی آنکھیں جھکی ہوئیں تھیں لالی کو کچھ کچھ سمجھ آرہا تھا

'آپ جو کہنا چاہتے ہیں صاف لفظوں میں کہیں کیونکہ گھما پھرا کر بات تو ہم کرتے ہیں اس لئیے اسے ہمارا فریضہ ہی رہنے دیں' لالی کے لہجے میں حیرت ابھری

'میں آپ سے محبت نہیں کرتا' وہ ایک ہی سانس میں بول گیا

لالی سب جانتی تھی لیکن پھر بھی ایک جو ہلکی سی امید تھی وہ ختم ہوگئی تھی اسے دکھ ہوا تھا اور اسے یہی ظاہر کرنا تھا تاکہ سچ پتا چلے

'آپ ابھی مزاق کررہے ہیں یہ جو پہلے تھا وہ مزاق تھا' لالی کہ لہجے میں دکھ خود بہ خود جگہ بنا رہا تھا 

'جو پہلے تھا' ہلکی سی رنج بھری آواز تھی

'اب کیوں بتا رہے ہیں' وہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہورہی تھی

'ندامت نے آن گھیرا ہے اور کچھ ضمیر نے بھی جھنجھوڑا ہے' آواز ہلکی اور آنکھیں جھکی ہوئیں

'کیوں پہلے یہ ضمیر سوگیا تھا یا مر گیا تھا جو اب اسکا دوبارہ جنم ہوا ہے اور یہ ندامت کہاں تھی تب جب ہم سے محبت کا اظہار کررہے تھے' اسکی آواز میں درد شامل ہورہا تھا آخر محبت تو وہ بھی کرتی تھی 

'میں میں سب بتاتا ہوں میں کوئی پروفیسر نہیں ایم ڈی ہوں ایک کمپنی کا میں تو یہاں محض بدلا لینے آیا تھا' اس نے جلدی سے سچ بتانا شروع کیا لیکن اس نے رابیعہ کا ذکر کہیں بھی نہیں آنے دیا تھا یہی تو محبت ہوتی ہے کہ محبوب پر آنچ بھی نہ آنے دی جائے 

'آپ معصوم ہیں یہ بیوقوف کوئی آپ کو کچھ بھی کہے آپ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرلیں گے' لالی بے یقینی سے بولی 

'میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتا لیکن اس بار اس نے مجھ سے یہ بات کی تھی جس سے میں بہت محبت کرتا ہوں شاید اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی تمہارے بارے میں' وہ کسی طور رابی کو مجرم ٹھہرانا نہیں چاہتا تھا حالانکہ اس نے اپنے کانوں سے سنی تھی رابیعہ کی باتیں 

ارمان نے اسکو ابھی تک اپنے اصل نام سے آشنا نہیں کیا تھا اور نہ ہی اپنے بارے میں کچھ بتایا تھا

'ایک سچ ہم بھی بتانا چاہتے ہیں' لالی نے اسکی طرف دیکھا 

'بولو' جنید نے اسکی طرف دیکھا

'ہم آپ کے بارے میں پہلے سے سب سچ جانتے تھے کہ آپ کوئی ارمان نہیں جنید ہیں جنید فروز غزالی اور ملٹی نیشنل کمپنی کے ایم ڈی ہیں صرف یہی نہیں بلکہ ہم تو علی بھائی کو بھی جانتے ہیں ڈاکٹر علی انکو تو ہم اپنی امی کے ہاتھ کی بریانی کھلانے ہوسپٹل بھی گئے تھے وہیں آپ کے بارے میں سب معلوم ہوا ہم نے علی بھائی کو یونی میں دیکھا تھا تب سے ان پر نظر رکھی تھی' لالی خاموش ہوئی جنید تو دم سادھے کھڑا اسے سن رہا تھا مطلب یہ لڑکی اتنے دنوں سے ان پر نظر رکھ رہی تھی اور انہیں  پتا بھی نہیں چلا واقعی بہت تیز اور اچھا خاصا دماغ رکھتی ہے تبھی رابی نے اس کے ساتھ ایسا کیا ہوگا پہلی بار اسے رابیعہ سے زیادہ تیز لڑکی دکھی تھی جو لوگوں کو عقل سے ہرانا جانتی تھی پیسوں سے نہیں

'اور بھی کچھ بتانے کو رہ گیا ہے یا بس یہی تھا' جنید نے اچھنبے سے پوچھا

'ہاں ہاں ایک بات اور بھی ہے' 

'اب کیا رہ گیا' 

'ہم یییی…یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کسی رابیعہ نامی لڑکی سے محبت کرتے ہیں' اور یہ تھا اسکا سب سے بڑا راز 

'تم نے مجھ پر بھی نظر رکھی تھی' اب اسکے لہجے میں حیرت تھی

'نہیں یہ بات تو خود آپ نے اپنے منہ سے کہی تھی' لالی کو اسکا الزام لگانا اچھا نہیں لگا 

'میں نے کب' جنید بے یقین ہوا

'اس دن جب علی بھائی یہاں آئے تھے آپ نے تب انکو بتایا اور یہ بھی بتایا تھا کہ وہ اسی یونی میں پڑھتیں ہیں' لالی مزے سے بولی اور جنید کو اب پتا چلا کہ کیسے یہ سب جان گئی تھی

'کافی تیز اور شاطر لڑکی ہو' وہ اسکو سراہے بغیر نہیں رہ سکا

'نوازش' وہ بھی ایک ادا سے دل پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھک کر بولی 'کبھی کوئی مصلہ یا پریشانی ہو تو بلا جھجک اس ناچیز کو یاد کرلیے گا اور ہاں آنٹی کو سلام کہیے گا اور ایک بات اور ہم نے آپ کو معاف بھی کردیا ہے' وہ ایسے بولی جیسے سب مصلوں لے حل اسکے پاس ہیں

جنید تو اسکو دیکھ کر رہ گیا کیا پرورش کی تھی اسکی اسکا دوست میر بھی تو ایسا ہی تھا لیکن وہ مغرور تھا اور اسکے سامنے کھڑی ہوئی لڑکی سرپھری تھی

وہ اپنے شہر کا مغرور زادہ

ہم سر پھروں کی نواب زادی

'اچھا نمبر تو دیتی جاؤ کبھی یاد آئی تو یاد کرلوں گا' جنید شوخ سے لہجے میں بولا وہ بہت ہی مشکل سے لوگوں میں گھلتا ملتا تھا 

'ہاں ہاں کیوں نہیں 000111 جب بھی ملاؤ تبھی بند' لالی بھی شوخ ہوئی

'دے رہی ہو یہ نہیں' اسنے مصنوئی سنجیدگی سے کہا

'اچھا اچھا لے لیں' اس نے بھی شرافت سے نمبر دے ہی دیا اسکے بعد وہ چلا گیا

لالی کو عجیب سا لگا جیسے آخری ملاقات ہو 

💜💜

'ہیلو پاپا کا کچھ پتا چلا' رابیعہ نے طارق خان کے پرسنل سیکرٹری عارف کو کال کی

'نہیں میم ہم بھی ڈھونڈ رہے ہیں اور پولیس بھی ڈھونڈ رہی ہے' عارف نے سنجیدگی سے کہا

'مجھے تو لگتا ہے تم لوگ صرف جھک ماررہے ہو دو ہفتے ہونے کو آئے ہیں پاپا کہاں ہیں آخر' وہ دھاڑی

'میم ہم کوشش کررہے ہیں پولیس بھی ڈھونڈ رہی ہے اب آپ کے پاپا بھی تو ایسے کام کرتے تھے ہوسکتا ہے کسی نے پکڑلیا ہو تو اب کہیں منہ چھپاتے پھر رہے ہونگے' عارف چوبھتے ہوئے لہجے میں بولا طارق صاحب کے رنگین مزاج سے اچھے سے واقف جو تھا ہر اتوار کی رات کسی لڑکی کے ساتھ ہوتے تھے اور اب تو ماشاءاللہ بیٹی بھی انہی کہ نقشِ قدم پر چل رہی تھی 

'عارف پاپا کو ڈھونڈو  نہیں تو میں آگ لگا دوں گی سب کو' اس بار اسکی آواز ہلکی ہوئی تھی باپ کے عاشقانہ مزاج سے تو وہ بھی واقف تھی 

'جی میم' کہتے کہ ساتھ ہی کھٹاک سے فون بند کیا

'ناگن کہیں کی اچھا ہے کہیں مر کھپ جائے بڈھا کہیں کا زمین سے چلتی پھرتی گندگی صاف ہوگی اے اللہ! اٹھا لے اس کمینے ٹھرکی بڈھے کو' عارف نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا آفس کی بیشتر لڑکیاں تو جاب چھوڑ کر چلی گئیں تھیں اور جو آفس میں ٹیلی ہوئی تھیں وہ ساری لالچی تھیں 

💜💜

میر پولیس اسٹیشن میں بیٹھا کچھ کام کررہا تھا تبھی اسے کسی کی کال آئی 

'ہاں بولو' میر کی مصروف سی آواز گونجی

'سر میں عارف حسن بات کررہا ہوں خان کنسٹریکشن سے آپ سے طارق خان کے بارے میں پوچھنا تھا' عارف نے کہا

'ہاں وہی جو لاپتا ہے کل تک اسکی ساری انفارمیشن آپکو مل جائے گی اب برائے مہربانی فون کرکے پریشان نہ کریں ہم ویلے لوگ نہیں ہیں ہزاروں کام ہوتے ہیں ہمیں' اس نے اچھی خاصی سنائی عارف تو اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور فون بند کیا

'انفارمیشن نہیں دیڈ باڈی ملے گی اسکی اور یقیں جانوں اسکی باڈی دینے میں خود آؤں گا آخر اپنی جیت کا جشن بھی تو منانا ہے' میر کے چہرے پر ایک پر اسرار سی مسکراہٹ تھی 

'بھائی چائے' چھوٹو نے اسکی توجہ چائے کی طرف دلائی لالہ کی سامنے دکان تھی چائے کی جس پر چھوٹو کام کرتا تھا  پورا پولیس اسٹیشن چھوٹو کو جانتا تھا کیونکہ میر اسکا خرچا اٹھاتا تھا لاوارث تھا لوگ کہتے تھے لیکن پولیس اسٹیشن والے اسے میر کے گھر کا ہی سمجھتے تھے وہ دونوں بہت کلوز تھے اسکا نام عبد الرحمن تھا لیکن سب پیار سے چھوٹو کہتے تھے

'ہاں بھئی لڑکے پڑھائی کیسی جارہی ہے' میر نے چائے لیتے ہوئے پوچھا

'ہاں وہ تو اچھی جا رہی ہے لیکن کالج والے ٹریپ پر لے کر جارہے ہیں کیا میں بھی جاؤں' چھوٹو ٹیبل کے سامنے رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا 

'کہاں جارہیں ہیں لے کر اور کتنے دنوں تک' میر نے فائل بند کی اور چھوٹو کی برابر والی کرسی پر براجمان ہوا

'ہم سکھر جارہے ہیں دو دن کیلئے بھائی پلز منع مت کرنا میرا بہت دل ہے' اس نے آس بھرے لہجے میں کہا

'دو دن کیلئے میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر یہاں' میر نے ایکٹنگ کرنی چاہی

'نہ کریں بلکل اوور لگ رہے ہیں' چھوٹو ہنسا اسکو دیکھ کر میر نے منہ بنایا 'اسکا مطلب میں جاسکتا ہوں' وہ ایکسائیٹڈ ہوا 

'ہاں بھئی جا سکتے ہو لیکن ابھی جاؤ مجھے کام کرنا ہے' 

'جی بھائی'

💜💜

دوسرے دن طارق صاحب کی دیڈ باڈی میر گیلانی خود لے کر آیا تھا خان ولا اور گیٹ کے باہر رکھ کر چلا گیا تھا جب چوکیدار نے یہ دیکھا تو رابیعہ کو بلانے چکے گئے

 رابیعہ کا سانس اٹک گیا تھا اپنے باپ کو اس حال میں دیکھ کر

'پاپا اٹھیں ککک…کی…کیا ہوا ہ…ہے پاپا کو' رابیعہ چیخی جنید بھی پہنچ گیا تھا اسے گھر کی ملازمہ نے کال کی تھی جنید تو باڈی کو دیکھ کر ہی رہ گیا بری طریقے سے جلی ہوئی تھی صرف چہرہ آدھا جلا تھا تو پہچان ہوگئی تھی لاش کے ساتھ ایک خط بھی تھا جو رابیعہ نے کھینچ کر نکالا کیونکہ وہ لاش کے اندر پیوست تھا ہلکا سا 

"طارق خان دی ریپسٹ ایک نو سال کی اور سترہ سال کی بچی کا ریپ کیا ہے اس نے اور ریپ کرنے والوں کی جگہ تو صرف جہنم میں ہوتی ہے دنیا میں یہ رہ نہیں سکتے کیونکہ میں رہنے نہیں دوں گا" 

اور آخر میں قانون کا رکھوالا لکھا تھا رابیعہ نے اس خط کو اپنی مٹھی میں بھینچا آنکھوں میں انگارے جلے تھے 

جنید نے کفن دفن کا انتظام کیا تھا پوری سوشل میڈیا پر یہ بات پھیل گئی تھی لیکن ریپسٹ ہونے کی بات چھپی ہوئی تھی ہر طرف سنسنی خیز نیوز تھی بیزنس کی دنیا کا جانا پہچانا نام طارق خان کو کسی نے جلا کر ماردیا 

میر نے تو یہ سب دیکھ کر خوب انجوائے کیا تھا وہ سوچ رہا تھا کہ مار تو دیا لیکن کمینا بدنام نہیں ہوا اور بس یہی سوچ اسکی خوشی کو بدمزہ کررہی تھی 

💜💜

فصیحہ کو لالی نے بڑی مشکل سے منایا تھا ابھی وہ دونوں شوپنگ مال میں موجود تھیں نکاح کیلئے شوپنگ کرنے آئی تھیں فصیحہ بھی اب مطمئن ہوگئی تھی دانیال نے اسے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور یقین بھی دلایا تھا کہ وہ اسے بہت خوش رکھے گا

'وہ ڈریس کیسا ہے' فصیحہ نے لالی سے پوچھا جسے الجھن ہورہی تھی اس سب سے نہ اسے شوپنگ کرنا آتی تھی اور نہ ہی اسکو شوق تھا

'ہاں یہ ٹھیک ہے بس اسے فائنل کروالیتے ہیں' لالی تھک گئی تھی اس لئے بے چارگی سے بولی 

'ہاں چل آ' فصیحہ نے اس ڈریس کی پیکنگ کرائی 

'چل کچھ کھلا ورنہ ہم نے یہیں سے ٹپک جانا ہے جلدی کر' فصیحہ گاڑی چلارہی تھی جب لالی نے اسے کہا

'ہاں رک ڈھونڈ رہی ہوں کوئی کھانے پینے کیلئے اچھی جگہ' فصیحہ نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں

'اچھی جگہ کی کیا ضرورت ہے وہ دیکھ لالہ کا ڈھابہ بس ہم نے تو وہیں کھانا ہے' لالی بضد ہوئی فصیحہ نے بھی گاڑی پارک کی تو دونوں ڈھابے کی طرف چل پڑیں یہ میر کے سامنے والا ڈھابہ تھا

'سلام لالہ' لالی چیخی پہلی بار آئی تھی لیکن اسے دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے آتی جاتی رہی ہو

'وسلام بچہ' لالہ نے جواب دیا

'لالہ بھائی جلدی سے گرما گرم کھانا لگائیں میری دوست کو بہت بھک لگی ہے' فصیحہ بھی کہاں پیچھے رہتی

'بچہ بتاؤ کیا کھائے گی اوئے تم ادھر کھڑی کیا کرتی ہے پوچھو جاکر ان سے' لالہ نے چھوٹو کو کہا

'باجی کیا لاؤں' چھوٹو نے پوچھا

'باجی کو چھوڑو یہ بتاؤ کھانے میں کیا ہے' لالی نے مینیو پوچھا

'دال چکن قورمہ چکن کڑاہی مٹن کڑاہی بیف پلاؤ….…' وہ بتائے جارہا تھا اور لالی کی بھوک بڑھتی جارہی تھی

'روک جاؤ لڑکے… ایک کام کرو دو پلیٹ چکن کڑاہی چار روٹیاں اور دو پلیٹ بریانی کے ساتھ میٹھے میں جو بھی ہو وہ بھی لانا بلکہ ایک کام کرو دال بھی لے آؤ آور آلو گوشت بھی لے آنا اور اسکے ساتھ کولڈرنک ہوجائے تو مزہ ہی آجائے اور ہاں چکھنے کیلئے ایک پلیٹ  بیف پلاؤ لے آنا اب جلدی جاؤ' لالی کی زبان فراٹے بھررہی تھی لالہ نے تو کانوں کی ہاتھ لگایا چھوٹو کو لگا وہ نہیں کھا پائے گی اسلئے بولا

'باجی اتنا کھانا بچ جائے گا میر بھائی کہتے ہیں جتنا کھانا ہو اتنا لیتے ہیں' چھوٹو بغیر ڈرے بولا تو لالی مسکرائی اسنے چھوٹو کو اشارہ کیا بیٹھنے کا

'دیکھو لڑکے تمہارا بھائی صحیح کہتا ہے جتنا کھانا ہو اتنا نکالو ورنہ کھانے کی بے حرمتی ہوتی ہے اور خدا بھی ناراض ہوتا ہے لیکن ہم بچانے والوں میں سے نہیں کچھ نہیں چھوڑنے والوں میں سے ہیں' لالی مسکرا کر بولی

'مطلب' وہ ناسمجھی سے بولا

'تم کھانا لاؤ سمجھ جاؤ گے' 

تھوڑی دیر میں کھانا ٹیبل پر لگادیا گیا تھا اور پھر لالی کا ہاتھ تھا اور کھانا تھا فصیحہ بھی کھا رہی تھی لیکن لالی تو چسکے لے لے کر کھا رہی تھی ہاتھ رکی نہیں رہا تھا چھوٹو بھی حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا اتنی سی لڑکی لگتی تھی یہ تو میر بھائی سے بھی زیادہ کھاتی ہے

خان ولا میں وحشت سی چھائی تھی رابی لاؤنج میں وہیں بیٹھی تھی جہاں تھوڑی دیر پہلے طارق صاحب کی میّت رکھی تھی آنسو تھے کہ رکی نہیں رہے تھے جیسے بھی تھے وہ تھے تو اسکے باپ ہی نہ بچپن سے لے کر کون سی ایسی خواہش تھی جو پوری نہیں کی تھی ہر چیز دی تھی پھر چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز 

'بابا' وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی جنید جو اب تک وہاں تھا بھاگ کر اسکے پاس آیا اور اسے سینے سے لگایا

'رابی سنبھالو خود کو صبر کرو ایسے کروگی تو انکل کی روح بےچین رہے گی یار' جنید بے بسی سے بولا

'کیسے سنبھالوں خود کو باپ تھا وہ میرا کیسے کہہ سکتے ہو تم لوگ کہ صبر کرو میرا دل کٹ کر رہ گیا ہے تم لوگوں کو کیا پتا کہ میرا دکھ کیا ہے' وہ چیخی اپنے دکھ میں یہ بھول گئی کہ جنید بھی تو یتیم تھا اسکے سر پر بھی تو اسکے باپ کا سایہ نہیں تھا 

'رابی میرے بھی تو بابا حیات نہیں ہیں میں بھی تو رونا چاہتا ہوں لیکن میں نہیں روتا کیوں کہ جانتا ہوں وہ میرے پاس کبھی لوٹ نہیں سکتے' اسکی آخری بات پر رابیعہ کی زور سے سسکی 

'باباااااااا' وہ زور سے چیخی 'کیوں کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر ماما تو پہلے ہی نہیں تھیں آپ بھی چلے گئے نہیں چھوڑوں گی میں قسم کھاتی ہوں نہیں چھوڑوں گی اس کمینے انسان کو جس نے آپ کو مجھ سے دور کیا' اسکے سر پر خون سوار تھا 

جنید اس کے تیوروں سے گھبرایا اور بھاگ کر کچن میں گیا فرج سے جوس نکالا اور اس میں نیند کی گولیاں ملائیں باہر آکر زبردستی اسکو پلایا دو چار گھونٹ لیے تھے تھوڑی دیر میں روتے روتے جنید کے سینے سے لگے ہی سو گئی تھی جب اسکی بھاری سانسوں کی آواز آئی تو جنید نے ایک ٹھنڈی آہ خارج کی اسے اپنی باہوں میں بھرا اور اسکے کمرے میں جاکر اسے بیڈ پر لٹایا پھر اپنے گھر کیلئے نکل گیا

💜💜

میر جانتا تھا کہ طارق خان کی ایک بیٹی بھی ہے جو اسکے باپ سے زیادہ تیز ہے باپ جان لیتا تھا تو اسکی بیٹی چلتی پھرتی ملکلموت تھی وہ اسکی بیٹی کو مارنا نہیں چاہتا بلکہ ڈبل کراس کرنا چاہتا ہے اسلئے آگے کے عمل کو تیار کیا اسکی انفارمیشن کے مطابق رابی کا کوئی بوائےفرینڈ بھی تھا جو لڑکیوں کی سمگلنگ میں ملوث تھا اور یہ غیر قانونی تھا مطلب مر گیا تو ثواب ملے گا اور جس چیز کے آگے ثواب لگ جائے وہ کام تو امپورٹنٹ ہوتا ہے اور میر جانتا تھا کہ رابیعہ خان اسکے باپ کی موت کا بدلہ ضرور لے گی وہ گہرا سا مسکرایا اور اپنے کونسٹیبل کو اشارہ کیا اور ایک لفافہ اسکے ہاتھ میں پکڑایا اور اچھے سے سمجھایا

'The real game is begins' 

میر دلکشی سا مسکرایا اور باہر نکل گیا

'اسکا مطلب ہے کسی کی موت کا پروانہ ہے اس میں' کونسٹیبل لفافے کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا اور باہر نکل گیا 

💜💜

آج فصیحہ اور دانیال کا نکاح تھا دانیال کے چہرے سے مسکراہٹ جائی نہیں رہی تھی ادھر فصیحہ کے چہرے پر بھی شرمیلی سی مسکراہٹ تھی 

نکاح حال میں رکھا گیا تھا جہاں نکاح ہونا تھا وہاں بیچ میں ایک پردہ ڈالا گیا تھا ایک طرف لڑکی والے اور دوسری طرف لڑکے والے یہ جگہ اسپیشلی لالی نے سیٹ کی تھی دانیال کو پردے کے دوسرے سائڈ پر بٹھادیا گیا تھا تھوڑی دیر میں فصیحہ آتی ہوئی دکھی جسے لالی نے تھاما ہوا تھا 

دانیال جسنے سفید کرتے پر کالی واسکوٹ پہنی تھی انتہا کا وجیہہ لگ رہا تھا تو دوسری طرف فصیحہ نے آف وائٹ گھٹنوں سے تھوڑی اوپر تک فراک جس پر شیشیوں کا کام ہوا تھا ہم رنگ دوپٹہ سائڈ پر پن کیا ہوا تھا لال رنگ کا دوپٹہ آنکھوں تک کرکے گھونگھٹ کیا تھا کوئی معصوم سی پری لگ رہی تھی 

لالی اور پری نے سیم ڈریسنگ کی تھی وائٹ میکسی پر بے بی پنک دوپٹہ دونوں ہی دیکھنے میں ڈولز لگتی تھیں اب تو پرنسیز لگ رہی تھیں

تھوڑی دیر میں نکاح شروع ہوا پہلے فصیحہ کا ہوا اور اسکے بعد دانیال کا کچھ ہی دیرمیں وہ فصیحہ آفاق سے فصیحہ دانیال شاہ بن گئی تھی 

نکاح کے بعد وہ پردہ ہٹادیا گیا تھا اور فصیحہ کا گھونگھٹ بھی اوپر کردیا تھا دانیال کے دل نے فصیحہ کو دیکھ کر ایک بیٹ مس کی تھی لالی نے ان دونوں کو ایک ہی صوفے پر بٹھادیا تھا تاکہ وہ آرام سے بات کرسکیں

'آہم آہم مبارک ہو مسز دانیال شاہ' دانیال نے اسکے کان میں سرگوشی کی

'آپکو بھی' فصیحہ نے ہلکے سے کہا دانیال نے بے ساختہ اسے دیکھا آپ تو کبھی کہا نہیں تھا 

'ہئے اللہ آپ' لالی نے انٹری ماری ''تو نے کب سے تمیز سکھلی آنٹی نے دو جوتے مارے ہونگے نہ تبھی'' لالی کی بات پر دانیال نے قہقہ لگایا تو فصیحہ نے لالی کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا 

'خیر ہم جارہے ہیں بھابھی آپ دونوں اپنا رومینس جاری رکھیں' لالی شرارت سے کہتی وہاں سے بھاگی 

💜💜

 'پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد بڑی بھابھی آنے والی ہیں' حمدان نے نیا شوشا چھوڑا

 'تمہیں کیسے پتا' سحرش نے حیرانگی سے اسے دیکھا 

 'پتا نہیں کیوں مجھے بس لگتا ہے' اسنے سب کی طرف دیکھ کر کہا اس وقت لاؤنج میں وجدان حمدان ریان سفیان عمر بہروز سحرش فری رواحہ فاطمہ موجود تھے 

 'ہاں بھائی جو بولتے ہیں وہ اکثر سچ ہی ہوتا ہے' عمر نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی

 'لیکن سوچو میر بھائی ہم سب کے بڑے بھائی ہیں ان کی بیوی یعنی ہم سب کی بڑی بھابھی اگر وہ پھاپھاکٹنی ٹائپ ہوئیں تو' بہروز نے بڑے پتا کی بات کی

 'تو وہ ہم سب کو گھر سے باہر نکال دیں گی' رواحہ کو نئی فکر جاگی

 'اور تو اور میر بھائی کو بھی چھین لیں گی ہم سے' فری کو غش پڑا تو سفیان کو کچھ ہوا

 'اور وہ ہماری پراپرٹی پر قبضہ کرلیں گی' وجدان کا ہاتھ سینے پر گیا 

 'اور پھر وہ سب کچھ چھین کر میر بھائی کو بھی دھوکا دے کر بھاگ جائیں گی' ریان بھی پریشان ہوا 

 'پھر ہم سب غریب ہو جائیں گے سڑک پر بھیک مانگیں گے وہ پھاپھاکٹنی ہماری جائداد پر عیش کرے گی' حمدان بھی بولا

 'ہم یہ سب بی جان کو جاکر بتاتے ہیں وہی کچھ کریں گی' فاطمہ بھی اب پریشان ہوگئی تھی

 اب سب بی جان کے کمرے میں موجود تھے اور اپنی پریشانی بھی بیان کر چکے تھے

 'لا ہولا ولا قوت ارے کیوں ہوگا ایسا تمھارا بڑا بھائی تم لوگوں کی طرح بے وقوف نہیں ہے اسی کی طرح کی ہوگی کوئی…' وہ ابھی بول ہی رہی تھیں کہ وجدان بول پڑا

 'اللہ نہ کرے میر بھائی جیسی تو بلکل نہ ہوں وہ تو بلا ضرورت ہنستے بھی نہیں ہیں ازلی درجے کے کھڑوس اور سڑیل واقع ہوئے ہیں وہ اگر وہ پھاپھاکٹنی ہی ہیں تو وہ ہی ٹھیک ہیں' 

'ارے بھئی جو بھی آئے گی تم لوگ اسے اپنے جیسا بنا لینا ورنہ وہ کیا کہتے ہیں ایڈیسٹ کرلینا' بی جاننے انگلش کی ٹانگیں توڑیں

'ایڈجسٹ بی جان' عمر نے انکی انگلش صحیح کرائی

'ہاں بھئی وہی' تھوڑی دیر میں سب ادھر ادھر ہوگئے تھے کیونکہ حسبِ معمول حمدان بی جان کو بھڑکا چکا تھا دادا جی کا ذکر کرکے

💜💜

دوسرے دن طارق صاحب کا سویم رکھا گیا تھا سب رشتےدار آئے تھے اور تھوڑی ہی دیر میں چلے گئے تھے رابی بھی گم سم سی بیٹھی تھی اپنے کمرے میں جب ہی اسے پرائیویٹ ڈیٹیکٹو کا میسج موصول ہوا اور جو لکھا تھا اس نے اسکا خون خولا دیا تھا 

'طارق صاحب کے قاتل کا پتا چل چکا ہے تھوڑی ہی دیر میں آپکے پاس کچھ تصویریں آئیں گی کورئیر کے زریعے اس میں سارے ثبوت ہیں' 

اب رابی کو صرف کورئیر والے کا انتظار تھا اور تھوڑی ہی دیر میں کورئیر والا کورئیر دے کر جا چکا تھا 

اب منظر کچھ ایسا تھا کہ ساری تصویریں ٹیبل پر پڑی تھیں ثبوت میں ایک یو ایس بی تھی جو لیپ ٹاپ میں لگی تھی اور رابی اسکے سامنے بیٹھی تھی سکرین پر چلنے والا وہ ہول ناک منظر جس میں طارق صاحب کو آگ لگائی گئی تھی جس نے لگائی تھی وہ کوئی اور نہیں تھا اسکا اپنا تھا وہ بے یقینی سے اسکرین کو دیکھ رہی تھی کیا یہ سچ تھا اور اگر یہ سچ تھا تو اسکا انجام بہت برا ہونا تھا 

'میں چھوڑوں گی نہیں ایسی موت ماروں گی اور ایسا عزاب لاؤں گی نہ کہ تمہاری سات نسلیں تو اس دنیا میں آئیں گی ہی نہیں بلکہ جو ہیں وہ بھی تباہ ہونگیں' وہ پھنکاری تھی اس وقت وہ ناگن صرف ایک زخمی شیرنی تھی اور بیٹی جو شاید شیرنی سے بھی زیادہ خطرناک کے رہی تھی

طارق صاحب کے انتقال کو ایک ہفتہ گزر گیا تھا رابیعہ بھی سنبھل گئی تھی خان ولا میں ہر طرف سناٹا چھایا رہتا گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا پہلے بھی جب گھر میں دو لوگ تھے تب بھی اس گھر میں خاموشی رہتی لیکن اب تو موت کا سا سناٹا رہتا تھا دو چار ملازماں تھی صرف گھر میں 

ادھر رابیعہ اپنے کمرے میں بیٹھی کسی سے فون پر بات کررہی تھی رات کا وقت تھا

'ہیلو ہاں میری گاڑی خراب ہوگئی ہے کیا تم مجھے پک کرنے آسکتے ہو اسی پرانی فیکٹری کے پاس جو بند ہے' وہ اب سامنے والے کا جواب سن رہی تھی

'ہاں ہاں وہی' وہ پھر خاموش ہوئی اور سامنے والے کا جواب سنا

'تھینک یو سو مچ میں تمہارا انتظار کررہی ہوں کتنی دیر تک پہنچو گے' وہ پھر خاموش ہوئی

'بس آدھا گھنٹا ٹھیک ہے میں تمہارا انتظار کررہی ہوں آجاؤ بائے' فون رکھنے کے بعد وہ پراسرار سا مسکرائی اپنا بیگ اٹھایا اور گاڑی کی چابیاں لیں اور نکل گئی

💜💜

لالہ رخ کا کافی دیر سے دل گھبرارہا تھا رات کا وقت تھا ہر سو خاموشی تھی آج تو موسم کے رنگ بھی عجیب تھے طوفان آنے سے پہلے کی خاموشی لگ رہی تھی

لالہ رخ نے قرآن نکالا اور سورۃ یسین کی تلاوت کرنے لگی 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

یٰسٓۚ(۱)

یس

 وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ(۲)

 قسم ہے قرآن کی جو حکمت سے پر ہے

 اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۳)

 جتنا تم رسولوں میں سے ہو

 عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ(۴)

 سیدھے راستے پر ہو

 تَنْزِیْلَ الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ(۵)

 نازل کیا ہوا ہے غالب مہربان کا

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اُنْذِرَ اٰبَآؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ(۶)

تاکہ خبردار کردو تم اس قوم کو نہیں خبردار کیا گیا تھا بنکے باپ دادا کو سو وہ غفلت میں ہیں 

 لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلٰۤى اَكْثَرِهِمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۷)

 یقیناً ثابت ہوچکی ہے (اللہ کی) بات ان میں سے اکثر پر سو وہ ایمان نہیں لائیں گے

 اِنَّا جَعَلْنَا فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ اَغْلٰلًا فَهِیَ اِلَى الْاَذْقَانِ فَهُمْ مُّقْمَحُوْنَ(۸)

بلاشبہ ہمنے ڈال رکھیں ہیں انکی گردنوں میں طوق سو وہ ٹھوڑیوں تک (پھنسے ہوئے) ہیں تو انکے سر اکڑے ہوئے ہیں 

 وَ جَعَلْنَا مِنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَاَغْشَیْنٰهُمْ فَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ(۹)

 اور بنادی ہم نے انکے آگ ایک دیوار اور انکے پیچھے ایک دیوار پھر ڈال دیا ہے پردہ ان پر تو یہ دیکھ نہیں سکتے 

 وَ سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰)

 اور برابر ہےان کیلئے خواہ تم خبردار کرو انکو یا نہ خبردار کرو انکو یہ ایمان نہیں لائیں گے

 اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِۚ-فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَّ اَجْرٍ كَرِیْمٍ(۱۱)

 صرف تم خبردار کرسکتے ہو اسکو جو پیروی کرے اس ذکر (قرآن) اور ڈرے رحمان سے غائبانہ۔ سو بشارت دو اسکو مغفرت کی اور اجر کریم کی 

 اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْۣؕ-وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ۠(۱۲)

 بےشک ہم ہی زندہ کریں گے مردوں کو اور ہم لکھ لیتے ہیں جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ اور ہر چیز کہ شمار کر رکھا ہم نے اسکو ایک واضح کتاب میں

 وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا اَصْحٰبَ الْقَرْیَةِۘ-اِذْ جَآءَهَا الْمُرْسَلُوْنَۚ(۱۳)

 اور بیان کرو ان سے قصہ بستی والوں کا جب آئے انکے پاس رسول

 اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ(۱۴)

 جب ہم نے بھیجے انکی طرف دو(رسول) تو انہوں نے جھٹلایا ان دونوں کو۔ پھر ہم نے تقویت دی تیسرے سے تو کہا انہوں نے بےشک ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

 قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَاۙ-وَ مَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍۙ-اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ(۱۵)

انہوں نے کہا نہیں ہو تم مگر ایک بشر ہماری طرح کے اور نہیں نازل کی رحمان نے کوئی چیز۔نہیں تم مگر یہ کہ جھوٹ بولتے ہو۔

 قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ لَمُرْسَلُوْنَ(۱۶)

 انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے یقیناً ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں

 وَ مَا عَلَیْنَاۤ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۱۷)

 اور نہیں ہمارے ذمے مگر پہچانا صاف صاف

 قَالُوْۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِكُمْۚ-لَىٕنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَ لَیَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۸)

 انہوں نے کہا ہم یقیناً منحوس سمجھتے ہیں تمکو۔ اگر نہیں تم باز آؤ گے تو ہم ضرور سنگسار کردیں گے تمہیں اور پہنچے گا تمہیں ہم سے عزاب دکھ والا

 قَالُوْا طَآىٕرُكُمْ مَّعَكُمْؕ-اَىٕنْ ذُكِّرْتُمْؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۱۹)

 انہوں نے کہا تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہے۔ کیا اس لئے کہ تم کو نصیحت کی گئی۔ بلکہ تم وہ لوگ ہو جو حد سے تجاویز کر گئے ہو

 وَ جَآءَ مِنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ رَجُلٌ یَّسْعٰى قَالَ یٰقَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِیْنَۙ(۲۰)

 اور آیا شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا۔ کہنے لگا اے میری قوم پیروی اختیار کرو رسولوں کی

اسکو لگا ہر لفظ پر ایک سچ لکھا ہے اسکی زندگی کا کیا مستقبل کا سچ ہے یا ماضی میں ہونے والا کوئی قصہ ہے کچھ تو تھا جو اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا

وہ پڑھ رہی تھی آواز میں سحر تھا کہ جو تھوڑی دیر پہلے وحشت تھی اب ختم ہو گئی تھی اب ہر طرف سکون سا لگا تھا وہ مزید پڑھتی کہ فون رنگ ہوا اسنے قرآن کو چوم کر سینے سے لگایا اور اٹھ کھڑی ہوئی فون اٹھانے کی غرض سے

💜💜

میر ابھی کچھ دیر پہلے ہی فلیٹ آیا تھا پورا دن تھکا دینے والا تھا اسلئے پہلے کھانا کھایا اور پھر فریش ہونے چل دیا بوجھل سی طبیعت تھی دل بھی بے چین ہورہا تھا آنکھیں بلاوجہ نم ہورہی تھیں 

'آخر کیا ہوگیا ہے آج سے پہلے تو کبھی ایسا انہیں ہوا اللہ خیر کرے' میر نے دل پر ہاتھ رکھا 

فریش ہونے کے ساتھ ہی اسنے وضو بھی بنا لیا تھا اب مصلے پر کھا تھا نیت باندھی تھی اور ہاتھ کان تک لے جاکر تدبیر پڑھی 

'اللّٰہ اکبر' آواز میں رعب تھا 

ثناء پڑھی اور پھر سورۃ فاتحہ اسکے بعد سورۃ اخلاص رکوع میں گیا اسکے بعد سجدہ

سجدے میں جاتے ہی آنکھیں موندیں گویا سکون دل میں اتارا ہو سجدہ کافی لمبا تھا 

بی جان اکثر کہتی تھیں مشکل میں ہو تو سجدے لمبے کردو وہ تمہاری خوشیوں کے پل لمبے کردے گا

سلام پھیرا اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے کچھ پل تو انہیں دیکھتا رہا پھر جب کہا تو درد سا محسوس ہوا اسکی آواز میں

'میں نہیں جانتا اے رب کریم جو بھی جانتا ہے بس تو جانتا ہے تیرا فیصلہ تیرا کن کہنا ہم سب کو ایک نئی راہ دکھاتا آیا ہے ہمیشہ سے میرا دل کہہ رہا ہے کہ میرا دل کٹ جائے گا اس لئے آج بھی ایک نئی راہ دکھائے گا میں منتظر رہوں گا آپکے اشارے کا اپنی قسمت کی جھلک کا میرے ہاتھ خالی ہیں اور میں چاہتا ہوں انھی خالی ہاتھوں سے تیرا ہاتھ تھاموں بے شک تو تھامنے والا ہے' میر کے دل نے دعا مانگی تھی دلوں پر راج کرنے والے سے ابھی وہ اور کچھ مانگتا کہ اسکا فون رنگ ہوا اسنے دعا مانگ کر ہاتھ منہ پر پھیرا اور فون دیکھنے کیلئے اٹھا 

💜💜

جنید جو گھر واپس جارہا تھا بیچ میں رابی کی کال آگئی تھی اور اسنے اسے پرانی فیکٹری پر بلایا تھا اور وہ وہاں پہنچ بھی گیا تھا 

جب اسے میسج موصول ہوا فیکٹری میں اندر آنے کا 

'شاید انتظار کرتی ہوئی اندر چلی گئی ہو' وہ بڑبڑاتے ہوئے اندر چلا گیا 

اندر داخل ہوا تو چاروں اور اندھیرا تھا پرانی فیکٹری تھی اسلئے لائٹ کا کوئی کنیکشن بھی نہیں تھا موبائل نکالا اور لائٹ اون کی تو سامنے ہی ایک لیڈی پرس دکھا اس نے پرس اٹھایا کھولا تو اس میں سے رابیعہ کا این آئی سی ملا جنید کو شدت سے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا 

'رابیعہ' وہ دھاڑا آواز میں ہلکا ڈر تھا کسی کو کھونے کا لیکن ہر طرف وہی خاموشی

'رابیعہ کہاں ہو تم فور گڈ سیک یار اگر یہ کوئی مزاق ہے تو باہر آجاؤ' وہ ایک بار پھر دھاڑا اس بار آواز میں غصہ تھا لیکن وہی خاموشی وہ ایک بار پھر کچھ بولتا کہ اسے پیچھے کسی کے قدموں کی آواز آئی باریک سی ٹک ٹک ہیلز کی

'کتنا چیختے ہو تم میرے کانوں میں درد کردیا' رابیعہ نے کانوں کو مصلا 

'رررررابیعہ تم ٹھیک تو ہو نہ' جنید نے اسے چھونا چاہا لیکن وہ پیچھے ہٹی جنید نے بے یقینی سے دیکھا 

'دور رہو مجھ سے میں سمجھتی تھی کہ تم غصے کے تیز ہو لیکن ہو سیدھے سادھے سے لیکن میں غلط تھی تم تو مکار بھی نکلے شکر ہے کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہوئی' رابیعہ چیخی تو جنید کے پیروں سے زمین کھسکی 

'تم تم محبت کرتی ہو نہ مجھ سے تم نے خود کہا تھا کہ یو لوو می تم ججج…جھوٹ بول رہی ہونہ' اسکی زبان کڑکھڑائی 

'ہاں یو نو نہ ٹائم پاس کررہی تھی مجھے تم میں تو سرے سے دلچسپی ہی نہیں تھی میں تو کسی اور سے محبت کرتی ہوں جنونی محبت کرتی ہوں اس سے میں تو تمہیں چھوڑنے ہی والی تھی' وہ ابھی اور بکواس کرتی کہ جنید کا ہاتھ بے اختیار ہوا میں اٹھا تھا اور اسکے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا ایک آواز گونجی تھی فضا میں 

رابیعہ نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا ہونٹ سے خون کی بوندیں نکلیں اور لکیر بنا گئیں 

'تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ساتھ کھیلنے کی لڑکی ہوکر محبت سے کھیلتی ہو ارے لڑکیوں کو تو محبت سے گوندھ کر بنایا جاتا ہے لیکن شاید تمہیں نفرت اور خود غرضی سے گوندھ کر بنایا ہے پہلے بھی تم نے مجھ سے جھوٹ بولا لالہ رخ کے معاملے میں اسے توڑنا چاہا لیکن شاید اسے خدا نے تھاما ہوا تھا اسے پہلے ہی سب پتا چل گیا اور مجھے بھی لیکن میں نے صبر کیا نظر انداز کیا لیکن اب صحیح کہتی ہے لالہ رخ میں بیوقوف ہوں جو تمہاری چالوں کو نہیں سمجھ سکا تھو ہے مجھ پر' وہ دھاڑا تھپڑ اتنی زور سے مارا تھا کہ اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا امی کا خیال بھی ذہن میں تھا کہ آج انکا بی ہی ہائی تھا نہیں انہیں ہسپتال کے جانا تھا وہ باہر جانے لگا تبھی فضا میں ایک آواز اور گونجی 

رابی نے اسے پلٹتے دیکھ کر اپنی گن نکالی تھی اور ایک فائر کیا

'ٹھاہ' اندھیرے میں ایک آگ کا شعلہ نکلا اور جنید کی کمر میں لگا وہ لڑکھڑاکر پیچھے مڑا اور بے یقینی سے اسے دیکھا 

رابی مسکرائی اور قریب آئی 

'یہ جو تھپڑ مجھے مارا ہے نہ اسکا تحفہ ہے میرے باپ کو مارنے کی سزا تو ابھی ملے گی تمہیں' رابیعہ کہتی ہوئی باہر کی طرف مڑی 

جنید کی آنکھوں میں اپنی امی کا عکس لہرایا 

'میں اپنے بیٹے کی چاند سی دلہن لاؤں گی' امی کو یاد کرکے اسکی آنکھوں سے آنسو ٹپکا

'ابے چل ہٹ میری شادی میں ناگن ڈانس کیے بغیر مرنے نہیں دونگا تجھے' علی کی آواز سنائی دی وہ آسودگی سے مسکرایا

'تجھے ابھی بہت کچھ کرنا ہے آنٹی کیلئے اپنے لئے اور پھر اپنے بچوں کیلئے بھی' میر کا چھیڑنا اسے یاد 

'جب بھی کوئی مصلا ہو تو بلا جھجک اس ناچیز کو یاد کرلیے گا' لالی کی آواز کانوں میں پڑی تو آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسؤں میں روانی آئی اپنا فون نکالا اور پہلا نمبر جسکا تھا اسے کال کی لیکن دوسری طرف بیل جاتی رہی تھی تبھی فون والے نے فون اٹھایا

_____________

'اسلام و علیکم کون بات کررہے ہیں' لالی کی شوخ سی آواز گونجی جنید نے دل میں سلام کا جواب دیا (لالی کا نمبر کچھ دیر پہلے ہی سیو کیا تھا اسلئے ریسینٹلی ایڈیڈ نمبرز میں تھا اور اوپر ہی تھا)

'پپپرانننیییی ف…فیک…فیکٹری آآآ آجاؤ میں مممم…مر جاؤں گا اااامممم…ام.امی لا……ل…لالی آآآججج۔۔۔جاؤ' جنید نے بہت مشکل سے بات کی درد برداشت کرنا مشکل ہورہا تھا

'ااا…ارمان ملک' لالی نے کہنے کے ساتھ ہی فون کاٹا اور بھاگ کر شال اٹھائی ہینڈ بیگ لیا اور گھر کے بیک ڈور سے باہر نکلی رکشا روکا پرانی فیکٹری کا پتہ سمجھایا اور نکلی

💜💜

'بیٹا آج تم نے بریانی نہیں کھائی کیا بات ہے' اسماعیل صاحب نے علی سے پوچھا 

ایک ہفتے میں تین بار لالی بریانی لائی تھی اسکے لئے آج بھی لائی تھی اور دے کر جا چکی تھی لیکن حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ علی نے کچھ کھایا نہیں تھا شام سے

'دل نہیں چارہا ڈیڈ آج جنید نے آنا تھا آنٹی کو لے کر مگر وہ نہیں آیا میرا دل بھی گھبرارہا ہے میں میر کو کال کرکے آتا ہوں' 

_________________

'ہیلو اسلام وعلیکم علی' میر کی آواز گونجی

'وسلام میر کیسے ہو' 

'میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ پریشان لگ رہے ہو ویسے پریشان تو میں بھی ہوں پتا نہیں کیوں دل گھبرا رہا ہے بے چینی ہورہی ہے' میر کی آواز میں بے چینی تھی 

'میر جنید نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ آج آنٹی کو لائے گا ہوسپٹل میں نے اسے آٹھ بجے کا ٹائم دیا تھا اب ساڑھے دس ہونے کو آئے میں گھر گیا لیکن وہ نہیں آیا اآآآآنٹی تو ٹھیک ہونگی نہ' اسکے لہجے میں کچھ تو عجیب تھا میر کو حیرت ہوئی

'علی ٹھیک سے بتاؤ کیا ہوا ہے تم کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے' میر بات کی گہرائی میں پہنچا

'میر آنٹی کے دل کے والز بند ہیں اگر انہیں کوئی صدمہ پہنچا تو انکی جان کو خخخ…خطرہ ہے' علی پریشانی سے گویا ہوا 'جنید نے آج اسی لئے اپائنٹمنٹ لیا تھا مجھ سے' 

'واٹ اتنی بڑی بات ہوگئی اور مجھے کسی نے کچھ بتایا ہی نہیں تم جنید کے گھر کیلئے نکلو میں بھی آتا ہوں' میر نے فون کال کٹ کی اب دل صحیح معنوں میں پریشان ہوا تھا بھاگ کر  چابیاں اٹھائیں اور باہر نکلا

💜💜

لالی پہنچ گئی تھی فیکٹری اسکو بمشکل دس منٹ لگے تھے رکشے کو تھوڑی دور ہی روک وایا تھا آگے بھاگ کر پہنچی ادھر ادھر نظریں گھامائیں تو ایک لڑکی اپنی گاڑی سے کچھ نکال رہی تھی چھپکے سے بنا آواز کیے اندر داخل ہوئی گھپ اندھیرا تھا پاؤں کسی چیز پر پڑا ہلکی سی آواز سے کسی چیز کے دو ٹکڑے ہوئے تھے اسنے اپنے موبائل سے لائٹ اون کی تو وہ کسی کا فون تھا پیچھے مڑ کر دیکھا تو کسی کا بیگ بھی تھا لائٹ جلانے سے لالی کے چہرے پر لائٹ پڑی تھی جنید نیم غنودگی میں تھا اسلئے پہچان گیا

'للل…لا…لالی…ی' وہ درد بھری آواز میں بولا

'سر کہاں ہیں آپ' اس نے ادھر ادھر دیکھا سامنے ہی جنید زمین پر گرا ہوا تھا خون بہہ رہا تھا اسکے پاس سے اگر لالی کے علاؤہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اب تک بے ہوش ہوچکی ہوتی وہ بھاگ کر اسکے پاس پہنچی اور اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھا اپنا پرس ایک طرف پھینکا اس میں سے موبائل نکالا ایمبولینس کو کال کی

'سر آپ کو کچھ نہیں ہوگا ایمبولینس بس آتی ہی ہوگی……' اسکا جملا مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ اسکو اپنے گلے کے پیچھے کی طرف کچھ چھوبتا ہوا محسوس ہوا 

'آہ.....' اسکا سر چکرایا ہاتھ سے موبائل چھوٹا اور چکنا چور ہوا 

'ماشاءاللہ بھئی بہت ہی کوئک سروس ہے تمہاری کافی جلدی پہنچ گئیں' رابی نے لالی کا منہ دبوچا 

'کون ہو تم' لالی نے اپنا منہ چھوڑوایا سر چکرارہا تھا لیکن جو ہار جائے وہ لالہ رخ نہیں

'میرے بارے میں ابھی پتا چل جائے گا تمہیں صبر کرو' اسنے لالی کو ایک طرف دھکا دیا لالی جو پہلے ہی چکرارہی تھی اچانک سے نیچے گرنے پر بے ہوش ہوئی

'تو ڈئیر موت سے ڈر تو نہیں لگ رہا نہ اگر لگ بھی رہا ہے تو اچھی بات ہے موت سے تو سب نے ڈرنا چاہیے' رابی کہہ بھی رہی تھی اور ساتھ میں اس پر پیٹرول بھی چھڑک رہی تھی اور جنید تو بس اسے دیکھ رہا تھا محبت موت بن کر سامنے کھڑی تھی وہ ہنس دیا ماں کا خیال ذہن میں آیا تو ہنستے ہنستے اتنی زور سے رویا کے بے ہوش پڑی لالی نے آنکھیں کھولیں

'شاباش میرے بابا نے بھی تم سے زندگی مانگی تھی لیکن تم تم نے انہیں اسی طرح تڑپا کر مارا تھا اب مرو تم بھی' وہ ہنس رہی تھی اسی کی ہنسی میں چھپا درد جنید نے دیکھ لیا تھا وہ تو یہ بھی جانتا تھا کہ اسکا باپ گناہگار تھا اسلئے مارا گیا وہ تو قاتل کو بھی جانتا تھا اسی لیے خاموش تھا کیونکہ اسکی محبت بے موت مارنے کا ہنر اچھے سے جانتی تھی

پیٹرول چھڑک دیا تھا آگ جلانے کیلئے لائٹر نکالا لالی بھاگ کر اسکے پاس آئی 

'اسے چھوڑدو اس کی ماں گھر پر انتظار کررہی ہے اسکا اسے چھوڑدو' لالی نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے

'اسکی ماں…اور وہ باپ تھا میرا جسے اس نے مارا میں اسے نہیں چھوڑوں گی' رابی نے لائٹر جلایا 

'چھوڑدو کیوں گناہگار بن رہی ہو چھوڑدو اسے اللہ کے قہر سے ڈرو' لالی نے اسے سمجھانا چاہا لیکن شاید تب تک دیر ہوگئی رابیعہ لیٹر پھینک چکی تھی 

'ارمااااااان' لالی چیخی آگ بری طریقے سے پھیلی تھی اسنے جلدی سے اپنے اوپر اوڑھی چادر اسکے اوپر ڈال کر آگ بجھائی کچھ حد تک بھج گئی تھی چہرہ جھلسنے والا تھا جب چادر ڈال کر آگ روکی رابیعہ آگ لگا کر باہر چلی گئی تھی

'لللل…لا…لای' وہ زندہ تھا آہستہ آہستہ جان نکل رہی تھی 

'ارمان چپ ہو جاؤ یہ ایمبولینس کہاں مر گئی ہے ابھی تک کیوں نہیں آئی' لالی بول رہی تھی نکھوں سے آنسو نکل رہے تھے 

'میں ننننن…نہیں بببب…بچ سسسس…سکتا' اسکی بات پر لالی ہچکیوں سے روئی

''ممممم….میری…ی ممم….ماں کککک…کا خیال ررررر…رکھنا اور ممم…میر کو بولنا دوستی ننننن…نبھ…نبھادی ہ…ہے اور اب وہ دوسسری شادی کرلے علی ککککک…کو ببب…بولنا کم…ککک…کھایا ککک…کرےےےےے'' اسکی آنکھیں اوپر چڑھ رہی تھیں "رررر…راببب…بی ممم…محببب…بت نہیں ککک…کرتی ووووہ…ہ ججج…جھوووٹی…ی تھی مممم…مجھے من…معاف ککک…کردیناااا' بس یہیں اسنے ایک زور سے ہچکی لی اور اسکی روح اسکے جسم سے نکل گئی لالی اسکی پتھرائی ہوئی آنکھیں دیکھ کر دھاڑے مار مار کر روئی

'ارمااااااان' وہ زور سے چیخی تو بے ہوشی کے انجیکشن کی وجہ سے وہ اپنے ہواس کھو بیٹھی

ایمبولینس پہنچ گئی تھی لیکن وہاں پر کوئی موجود نہیں تھا انہی میں سے ایک لڑکے نے فیکٹری کا گیٹ کھلا دیکھا تو اندر اشارہ کیا سب اندر گئے ہاتھوں میں لائٹس تھامیں ہوئیں تھیں اندر کا منظر دیکھ کر ان سب کے اوسان خطا ہوئے جلدی سے پولیس اسٹیشن کال کی تو اسپیکٹر حارث نے فون اٹھایا 

اسپیکٹر حارث نے میر کو فون کیا اور ساری بات اسکے گوش گزاری وہ ابھی جنید کے گھر کے راستے میں تھے علی بھی ساتھ تھا میر نے راستے میں ہی گاڑی موڑی اور فیکٹری کا رخ کیا علی بھی حارث کی کال دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ کچھ ہوا ہے پولیس اسٹیشن سے دو نفریاں نکلی تھیں میر کے آرڈرز کے مطابق

💜💜

تھوڑی دیر میں میر پہنچ گیا تھا تو ایمبولینس سروس میں سے ایک آدمی آگے آیا اور اندر کی طرف اشارہ کیا

'کسی نے باڈی کو ہاتھ تو نہیں لگایا' میر نے سوال کیا اتنے میں پولیس موبائل آکر رکی 

'سر' سب نے میر کو سیلیوٹ کیا

'اندر چلو سب' میر اور علی بھی اندر آگئے تھے

جنید اوندھے منہ پڑا تھا اور وہاں پر کوئی نہیں تھا ہر طرف روشنی ہی روشنی ہوگئی تھی میر نے لائٹس کا بندوبست کروالیا تھا باڈی بری طرح سے جلی تھی نیچے کے حصے سے میر دو زانوں ہوکر بیٹھا اور باڈی کا رخ موڑا تو میر کے پیروں تلے سے زمین کھسکی تو علی کے اوپر ساتوں آسمانوں آگرے میر زور سے زمین پر گرا ہاتھ میں پکڑی لائٹ چھوٹی علی نے چہرہ دیکھا تو بے ساختہ قدم پیچھے کیا پلر سے ٹکرایا اور بے یقینی سے جنید کو دیکھتا بیٹھتا چلا گیا

'جنییییید' علی زور سے چیخا میر کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرا بے یقینی ہی بے یقینی 

'شششش خاموش ہو جاؤ علی اسے کچھ نہیں ہوااا… یہ بلکل ٹھیک ہے سسس…سسو…سو رہا ہے ہے نہ جنید اٹھ نہ یار' میر نے اسکا سر اپنی گود میں رکھا اور اسکی کھلی ہوئی آنکھوں کو دیکھا علی بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا اور اسکا جلا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا

'جنید اٹھو یار آنٹی گھر پر انتظار کررہی ہیں تیرا انکی طبیعت خراب ہیں نہ' علی نے اسکا ہاتھ اپنی آنکھوں سے لگایا اور ہچکیوں سے رویا یہ دو وہ مرد تھے جو شاید ہی کبھی روئے ہوں 

میر نے اسے روتا دیکھا تو علی کو اس سے دور کیا 

'کیوں رو رہے ہو وہ سو رہا ہے' میر پاگلوں کی طرح اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا اسے وہ وقت یاد آیا جب وہ تھک جاتا تھا تو جنید اسی طرح اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتا تھا اسکے گھر آکر 

وہاں کھڑا ہر فرد سمجھ گیا تھا کہ کیا ہوا ہے انسپیکٹر اور کونسٹیبلز تعجب سے میر کو دیکھ رہے تھے کسی میں ہمت نہیں ہورہی تھی آگے بڑھنے کی حارث آگے بڑھا اور میر کے پاس بیٹھا

'سر ہی از نو……' وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ میر نے زور سے ایک تھپڑ رسید کیا اسے 

'دفع ہوجاؤ یہاں سے حارث کچھ نہیں ہوا ہے اسے' میر دھاڑا تو علی کو ہوش آیا اسنے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور میر کو گلے لگایا میر اسکے گلے لگ کر بے تحاشہ رویا 

'میر بس اسکی زندگی اتنی ہی تھی یار گھر چل آنٹی کو بھی سنبھالنا ہے' علی نے اسے بڑی مشکل سے سنبھالا 

بوڈی کو سرد خانے بھجوانے سے پہلے پوسٹ مارٹم کیلئے بھجوایا علی ہوسپٹل میں تھا میر نے سب انتظام کروادیے تھے

حارث اور باقی کی ٹیم چھان بین کررہی تھی ناٹ الاؤڈ کا ٹیگ لگ گیا تھا وہاں پر

💜💜

لالی جب بے ہوش ہوئی تو رابیعہ واپس اندر آگئی تھی اسکے ہاتھ میں پہلے رابی نے گن پکڑائی پھر نکالی اسکے بعد گن کو وہیں پھینکا اور اپنا بیگ اٹھایا لالی کو اٹھایا اور باہر نکل گئی لالی کے گھر کا پتہ تھا اسے جس دن وہ یہاں آئی تھی اسنے لالی کو ایک گھر میں جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہاں پہنچ کر اس نے لالی کا بیگ کھولا 

لالی کے بیگ سے چابی نکالی تو فرنٹ ڈور نہیں کھلا اس نے گھر کو آگے پیچھے سے دیکھا تو ایک بیگ ڈور بھی تھا اسنے وہ دروازہ ان لوک کیا تو وہ کھل گیا لالی کو وہیں سے اندر لے کر گئی اور لالی کو لاؤنج میں لٹایا اور ایک پیپر نکالا اپنے بیگ سے اور اس پر کچھ لکھا اور اسکے ہاتھ میں تھما کر مٹّھی کَس کے بند کی اور پھر وہاں سے نکلتی چلی گئی

💜💜

باڈی کے پوسٹ مارٹم کیا تو پتا چلا ایک گولی اسکی کمر میں بھی لگی تھی علی کو وہ خون یاد آیا جو زمین پر گرا ہوا تھا اگر جلایا نہ جاتا تو بھی اسکے زندہ رہنے کے چانسز کم تھے کتنی بے رحمی سے مارا تھا اسے 

ادھر حارث کو جو ملا وہ حیرت انگیز تھا کیونکہ وہاں پر جو بھی سامان تھا سب کسی لڑکی کا تھا مطلب کسی لڑکی نے قتل کیا تھا ایویڈینس میں ایک لیڈیز شال تھی جو جلی ہوئی تھی یونی کا آئی ڈی کارڈ ملا تھا دو ٹوٹے ہوئے موبائل تھے ایک ٹھیک کیا جاسکتا تھا اور دوسرے کی حالت خراب تھی کیونکہ وہ بھی جل گیا تھا اور ایک گن تھی حارث نے اچھے سے دیکھا تو کسی کے فنگر پرنٹس بھی تھے اس پر حارث نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ایک سی سی ٹی وی کیمرا بھی تھا 

تھوڑی دیر میں فیکٹری کا مالک بھی آچکا تھا جسے حارث نے بلایا تھا

'تمہاری فیکٹری میں کیا ہورہا ہے کچھ اندازا بھی ہے تمہیں' حارث نے غصے سے پوچھا وہ اسے کچھ نشے میں لگا

'کیا سر مجھے کیا پتا اچھا خاصا سو رہا تھا میں' اس نے جمائی لیتے ہوئے کہا تو اس کے منہ سے شراب کی سمیل آئی 

'چٹاخ'

حارث کا ہاتھ اٹھا اور اسکا گال لال کرگیا تو سامنے کھڑے ہوئے آدمی کا نشہ بھک سے اُڑا 

'شراب پیتا ہے' حارث نے اسکو گُدی سے پکڑا

'قانون کے کتے جانتا نہیں ہے تو مجھے میں کون ہوں' اس آدمی نے حارث کو گالی دی

'اٹھاؤ اسے لگتا ہے اسکا نشہ نہیں اترا پولیس اسٹیشن میں لے جاکر اتارا اسکا نشہ دو لاکھ جرمانہ لگاؤ اس پر اون ڈیوٹی پولیس والے کو گالی دینے پر' اسکی بات پر تو حارث کا دل کیا اسکو آگ لگادے 

💜💜

میر اور علی جنید کے گھر کے باہر کھڑے تھے صبح ہورہی تھی دونوں میں ہمت نہیں ہورہی تھی اندر جانے کی کل شام کو ہی تو وہ دونوں جنید سے ملنے آئے تھے اور آج… میر کی آنکھیں لال ہوچکیں تھیں علی کے آنسو نہیں رک رہے تھے دونوں نے ہمت باندھی اور اندر کی طرف چل پڑے   سامنے ہی فوزیہ بیگم صوفے پر سو رہی تھیں جنید کا انتظار کرتے کرتے سو گئیں تھیں انکو دیکھ کر میر کی سسکی نکلی خود پر قابو پاتے وہ انکی طرف بڑھا

'آنٹی…ی' میر نے جگایا تو وہ نہیں جاگیں 

'آنٹیی' میر نے ہلایا تو انکی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی علی بھاگ کر ان کے پاس آیا اور انکا ہاتھ پکڑ کر نبض چیک کی تو وہ بلکل بند ہوچکی تھی فوزیہ بیگم نے اپنے ہاتھ میں کوئی شیشی پکڑ رکھی تھی علی نے چیک کیا تو وہ نیند کی گولیاں تھیں وہ بہت ساری گولیاں کھا چکی تھیں شاید نہیں یقیناً وہ اپنے بیٹے کی موت سے واقف تھیں کیسا رشتہ تھا ماں بیٹے میں آج یہ بات بھی غلط ثابت ہوئی تھی کوئی کسی کیلئے مرتا نہیں ہے جو محبت میں کچھ کر گزرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ پھر وہ کسی چیز سے نہیں ڈرتے 

میر نے سر جھٹکا اور فون کرکے ایمبولینس بلائی کل ہی تو اپنے ایک دوست کی باڈی کو سرد خانے پہنچایا تھا آج ایک اور موت اس سب نے اسے اندر تک ہلایا تھا اور ایک درندے کو ہلایا تھا جو بہت بری موت دیتا تھا اسمیں یہی تو خاصیت تھی کہ وہ ایسے مارتا تھا کہ اگلا شکاری اپنے ہاتھوں سے اپنی خود جان لیتا ورنہ میر صرف مارتا نہیں تھا بلکہ عبرت کا نشان بناتا تھا 

💜💜

لالہ رخ کی آنکھ صبح فجر کی آذان کے وقت کھلی تھی اسکا سر درد سے پھٹنے کو ہو رہا تھا رات کا سارا واقعہ آنکھوں میں گھوما تو پھوٹ پھوٹ کر روئی آنسو صاف کرنے کیلئے ہاتھ اٹھایا تو ہاتھ میں ایک کاغذ تھا وہ بے تحاشہ چونکی پھر یاد آیا کہ وہ تو وہاں تھی یہاں کیسے آئی پھر کاغذ کھولا اور پڑھا

"رات ہونے والے واقعے کا کسی سے ذکر بھی کیا نہ تو اگلی باری تمہاری دوست کی ہوگی پھر اسی طرح رونا اسکی موت پر جس طرح کل رات روئیں تھیں" 

نام نہیں لکھا تھا لیکن پھر بھی وہ جان گئی تھی کہ یہ کس کی مہربانی ہے رابیعہ خان وہ ایک بار پھر اپنی بے بسی پر روئی 

پھر کچھ سوچ کر اٹھی اور تیار ہونے چل دی درد حد سے سوا تھا سر میں لیکن سب کچھ بھولی یاد تھا تو صرف ارمان اور ارمان کی بات اسکی ماں وہ شبانہ بیگم کو بتا کر یونی کیلئے نکل گئی تھی

یونی پہنچ کر ایک پیون کو کچھ پیسے دے کر ارمان کی فائل نکلوائی اور اسکے گھر کا ایڈریس پتا کیا اور نکل گئی فصیحہ کو میسج کیا کہ وہ آج نہیں آئے گی 

جنید کے گھر پہنچی تو پہلے چہرہ اچھے سے ڈھانپا اور اندر بڑھ گئی علی بھی وہیں موجود تھا علی کو دیکھ کر اسکا ضبط کا دامن ٹوٹا اور بھاگ کر اسکے پاس گئی 

'علی بھائی' لالی نے چہرے سے پردہ ہٹایا 

'لالی تم یہاں' علی اسے دیکھ کر حیران ہوا

'وہ استاد رہ چکے ہیں ہمارے اسلئے احترام میں بڑے ہیں ہم یہاں نہیں آتے تو ہمیں لگتا ہم نے انکی عزت نہیں کی ہم انکی ماں سے ملنا چاہتے ہیں' اس نے نظریں جھکائیں میر بھی وہیں تھا لیکن کسی گہری سوچ میں تھا اسلئے لالی کو دیکھ نہیں پایا 

'لالی جب ہم صبح آنٹی کو جنید کا بتانے آئے تو وہ بھی جنید کے ساتھ جا چکیں تھیں اس دنیا سے' علی کی آنکھ پھر آنسو ٹپکا

'کیاااااا' لالی بے یقینی سے دیکھے گئی کانوں میں جنید کے الفاظ سنائی دے رہے تھے……ماں کا خیال رکھنا

(ہم کیسے رکھتے خیال ارمان وہ تمہاری ماں تھیں  جو تمہیں دیکھ کر جیتی تھیں تمہیں دیکھ کر ہنستی تھیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی تمہارے لیے سرف کردی وہ کیسے خوش رہ لیتیں تمہارے بغیر تم نے اس دنیا سے کیا رخ موڑا تمہاری ماں بھی تمہارے پیچھے ہی چل پڑی ہم دعا کریں گے خدا آگے کا سفر آسان کرے بہت خوش قسمت ہیں آپ دونوں جو آگے کا سفر ساتھ طے کریں گے اور رہی بات رابیعہ خان کی تو اب لالہ رخ بھی ایک قہر لائے گی اس ناگن پر) وہ سوچتی ہوئی عورتوں کی طرف چلی گئی جہاں قرآن خوانی ہورہی تھی 

لیکن کوئی تھا جو لالی کو دیکھ کر بے تحاشہ چونکا تھا لیکن کون…؟

💜💜

تھوڑی دیر میں جنازہ اٹھانے کا وقت ہوا تو لالی اٹھی اور فوزیہ بیگم کے چہرے کے پاس بیٹھ کر سورۃ ملک پڑھی پھر اس نے علی کو کہا تو اس نے بھی کرنی چاہی لیکن میر نے اسے روکا اور خود کی اسکی آواز میں کیا سحر تھا علی اور لالی بے تحاشہ روئے جنید کو یاد کرکے

کب کسی نے یہ سوچا تھا کہ ایسا وقت بھی آئے گا لالی تو فوزیہ بیگم کی وجہ سے چلی آئی تھی لیکن یہاں تو اسے وہ بھی نہیں ملیں 

جنازہ اٹھانے کے لئے مرد اندر آئے اور فوزیہ بیگم کا جنازہ اٹھا لیا گیا انکے رشتے داروں کا کسی کو نہیں پتا تھا سب سے زیادہ پولیس فورس تھی 

تھوڑی ہی دیر میں کلمئہ شہادت کی آوازیں بلند ہوئیں تھیں لالی بھی اب گھر واپس چلی گئی تھی دوپہر ہوگئی تھی 

💜💜

دونوں کی نماز جنازہ ادا ہوئی اور انہیں دفنادیا گیا دونوں کی قبریں ساتھ ہی تھیں 

میر کے کان میں جنید کی سرگوشیاں گونج رہی تھیں علی میر کے پاس بیٹھا ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا


میر نے جو لفافہ اپنے کونسٹیبل کو دیا تھا اس میں ایک تصویر روہن کی(بقول میر کے لیکن وہ جنید کی تھی) اور یو ایس بی تھی جس میں طارق خان کے مرنے کی پوری وڈیو تھی اس میں رحیم صاحب اچھے سے دکھ رہے تھے 

میر نے کونسٹیبل کو رابیعہ کے بوائے فرینڈ روہن کی پک رحیم صاحب کی جگہ فوٹوشاپ کرنے کو کہا تھا چونکہ اس وقت رابیعہ کا بوائے فرینڈ جنید بھی تھا اسلئے اسکی جگہ جنید کی پک ایڈیٹ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے غلط فہمی میں جنید مارا گیا 

💜💜

آج دو ہفتے ہوگئے تھے جنید اور فوزیہ بیگم کے انتقال کو میر نے اپنے آپکو سنبھال لیا تھا گیلانی ہاؤس میں بھی جنید کے انتقال کی خبر پھیل گئی تھی سب بہت اداس تھے 

میر پولیس اسٹیشن آیا ہوا تھا سول ڈریس میں بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک ہی پینٹ سنجیدہ چہرہ سے سامنے رکھی ہوئی چیزوں کو دیکھ رہا تھا

حارث نے اسکے سامنے جنید کے مرڈر کے دن ملے تمام ایویڈینس رکھے تھے میر نے گن نکالی اور میگزین چیک کی چلی ایک تھی لیکن غائب دو تھیں پھر ان پر ملے فنگر پرنٹس دیکھے اور پھر آئی ڈی کارڈ دیکھا تو دماغ نے کچھ کلک کیا ہاں وہی لڑکی وہی معصومیت آنکھوں میں شرارت آئی ڈی کارڈ پر نام پڑھا تو لالہ رخ زمان شاہ لکھا تھا ان سب کے بعد وہ پہلی بار مسکرایا حارث نے حیرت سے اسکی مسکراہٹ دیکھی تھی 

جلی ہوئی لیڈیز شال غور سے دیکھی تو ہنستے ہوئے ہونٹ سکڑے وہی شال جو اس نے اس دن بھی اوڑھ رکھی تھی اسکے ساتھ کچھ غلط ہوا تھا کیا پیشانی پر بل ابھرے 

'سر یہ موبائل مسٹر جنید غزالی کا ہے دوسرا موبائل بلکل خراب ہوچکا ہے لیکن اُس موبائل کی سم لالہ رخ نامی لڑکی کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور سر اس سم پر لاسٹ کال مسٹر جنید کی ہی تھی تقریباً 11 بجے' 

علی کے مطابق 11:30 بجے کا وقت تھا جنید کی موت کا حارث نے جنید کا موبائل اسکے سامنے بڑھایا جو اسنے پکڑ لیا 

میر نے فون آن کیا اور لاسٹ کال دیکھی تو وہ لالہ رخ کے نمبر پر کی گئی تھی اس سے پہلے میر کی اپنی کال تھی 

'سر مجھے آپ کو کچھ اور بھی بتانا ہے' حارث نے اجازت مانگی

'ہمم کہو' میر اس کی طرف متوجہ ہوا

'سر آئی ڈی کارڈ پر موجود تصویر میں جو لڑکی ہے سر وہ اس دن جنازے میں وہیں موجود تھی اور سر میرے خیال سے ڈاکٹر علی انہیں بہت اچھے سے جانتے ہیں کیونکہ یہ مس وہاں اپنا چہرہ کور کرکے آئیں تھیں لیکن ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر اپنے چہرے سے پردہ ہٹالیا تھا اور ڈاکٹر علی بھی ان سے بہت اچھے سے بات کررہے تھے اور سر یہ رو بھی رہیں تھیں کچھ تو ہے جو یہ جانتی ہیں کیونکہ سر انکا لیفٹ ہینڈ جلا ہوا تھا تھوڑا سا' حارث نے دھماکا کیا تھا اسکے سر پر اگر اس دن وہ وہاں تھی تو اسے کیوں نہیں دکھی اور جنید اور علی اسے کیسے جانتے ہیں آخر 

'لالہ رخ زمان شاہ ساری ڈیٹیلز نکالو اسکی اور شام تک میری ٹیبل پر ہونی چاہیئے ناؤ ڈس مس' میر نے لالی کی پک پر آنکھیں گاڑتے ہوئے کہا 

'سر' حارث چل گیا تھا

'آئی وش لالہ رخ تمہارا ان سب میں کوئی لینا دینا نہ ہو ورنہ میر گیلانی سے الجھنا تمہارے لئے مشکل پڑ جائے گا' میر آنکھیں بند کرکے بولا  

کچھ دن پہلے کی اپنی اور جنید کی باتیں یاد آئیں 

('میں مان ہی نہیں سکتا کہ تو نے کسی کو دھوکا دیا ہے' میر نے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے کہا

'امی بھی نہیں مانی تھیں لیکن گناہ تو اب کرچکا ہوں' وہ سنجیدہ تھا 

'جنید تم تم نے کیوں' میر کو سمجھ ہی نہیں آیا 

جنید نے اسے سب بتایا یہاں بھی اس نے رابیعہ کا ذکر نہیں کیا تھا ساری بات سن کر میر نے گہری سانس کھینچی

'تم بے وقوف ہو یا جان بوجھ کر بے وقوف بن کر مزا آتا ہے' میر نے اسکی عقل پر ماتم کیا 

'بس یہ چھوڑ تو یہ بتا میں کیا کروں' جنید نے التجائیہ نظروں سے دیکھا

'کیا کروں کا کیا مطلب ہے جاکر معافی مانگو اس سے' میر نے دھموکا جڑا اسکی کمر پر 

'ہاں یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے ڈر لگتا ہے اس سے' جنید نے تصور میں لالی کو اپنی پٹائی کرتے دیکھ کر کہا میر نے تو جھٹکے سے اسے دیکھا یہ موصوف کب سے ڈرنے لگے

'چڑیل کو دھوکا دیا تھا کیا جو ڈر لگ رہا ہے' میر نے آنکھیں سکڑ کر کہا

'چڑیل سے بھی زیادہ پہنچی ہوئی چیز ہے پتا ہے لیڈی ڈون کہتے ہیں اسے یونی میں ہاتھ پاؤں توڑنے میں تو مہارت رکھتی ہے اور جہاں کچھ غلط ہو پہنچتی بھی سب سے پہلی وہی ہے یونی میں جن لڑکوں نے اپنی دہشت جمائی ہے وہ بھی لالہ رخ سے ڈرتے ہیں اور یہاں تک کہ میں بھی' اسنے سب میر کو بتایا میر تو اسکی اتنی تعریف پر دنگ رہ گیا تھا "لیڈی ڈون" زیر لب بڑبڑایا بھی

'اب بھگتو ایسی لڑکی کے ساتھ الجھنے کی ضرورت ہی کیا تھی' میر اسکو بول کر ایک سائٹ پر ہوگیا تھا)

💜💜

'کیا تھا وہ شخص اسکی آواز میں اتنا سحر کیسا تھا ہاں وہ شاید ساحر تھا لوگوں کو اپنے جادو میں جکڑنے والا لیکن ہم کیوں جکڑے گئے' لالہ رخ اپنے جلے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر میر کو سوچ رہی تھی 

'انکی آنکھیں بےحد لال تھیں وہ شاید میر تھے جنکا ذکر ارمان نے کیا تھا لیکن ارمان نے یہ کیوں کہا تھا کہ دوستی نبھادی ہے کچھ تو کیا ہے اس لال آنکھوں والے شخص نے……' لالی مسلسل بڑبڑارہی تھی اچانک روکی

'ہیں لال آنکھوں والا شخص کیا ہوتا ہے انکا نام بھی ہے میر' اسکا نام لیتے ہوئے دل عجیب طرز میں دھڑکا 

سر جھٹک کر کھڑی ہوئی اور اپنی آستین سے جلا ہوا ہاتھ چھپاتی ہوئی کمرے سے باہر آگئی جہاں سب بیٹھے تھے فصیحہ بھی آئی ہوئی تھی اسنے سب کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا

'ہیں یہ غالباً فصیحہ ہی ہے نہ' لالی نے اسے ٹچ کرتے ہوئے پوچھا وہ جو پہلے ہی دانیال کی نظروں سے کنفیوژ ہورہی تھی اب جھنجھلائی

'لالی نہ کرو مجھے آلریڈی تمہارے بھائی کی نظریں پریشان کررہی ہیں تم اسے کہو نہ کہ نہ دیکھے مجھے شرم آرہی ہے سب کے سامنے' فصیحہ لالی کے کان میں گھس کر برے برے منہ بناتی ہوئی بول رہی تھی جسے دیکھ کر دانیال محضوظ ہورہا تھا 

'بس اتنی سی بات ابھی کہتے ہیں بھائی کو روکو' وہ اسکو تسلی رہتی ہوئی دانیال کے پاس آئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا

'شرم نہیں آتی اسے اس طرح دیکھتے ہوئے بیچاری شرم سے لال ہورہی ہے اگر دیکھنا ہی ہے تو ملاقاتیں ہوتی ہیں زرا وہ کرلیں' لالی نے اسے اوپشن دیا 

'تم مدد کروگی میری' دانیال کے تو گویا دل کی مراد پوری ہوگئی تھی

'ہاں بس اس کیلئے کچھ رشوت لگے گی' لالی اپنے مطلب کی بات پر آئی 

'افف…بھوکی کہیں کی کیا چائیے' دانیال نے منہ بنایا

'موبائل کیونکہ ہمارے پس نہیں ہے ٹوٹ گیا ہے' لالی بولی

'موبائل کیسے ٹوٹا تمہارا اور اگر موبائل نہیں ہے تو آج جو میسج میں نے کیا تھا وہ وصول کیسے ہوا' دانیال کو شک ہوا کہ وہ جھوٹ تو نہیں بول رہی 

'سچ کہہ رہے ہیں ہم جھوٹ نہیں بول رہے اور فصیحہ سے ملاقات کرنی ہے یا نہیں' لالی نے اسکی بات کو گول گھمایا 

'کرنی ہے' دانیال جلدی سے بولا 

'مطلب موبائل بھی پکا ہمارا' لالی چہکی

'ہاں ہماری ماں' وہ بھی اسی کے انداز میں بولا

'اوکے تھوڑی دیر میں چھت پر آجائیے گا' لالی کہتی ہوئی فصیحہ کے پاس آئی اور اسکو لے کر چھت پر چلی گئی 5 منٹ بعد دانیال بھی انکے پیچھے گیا

پری ہونک بنی یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھی دانیال کو پیچھے جاتے دیکھا تو وہ سمجھ گئی تھی کہ کیا ہورہا ہے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آئی وہ بھی تو آخر لالی کی بہن تھی

💜💜

'میں نے تیری چھت بہت بار دیکھی ہے' فصیحہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے یہاں کیوں لائی ہے

'ہاں رک نہ ہاں ہوگیا' لالی نے دانیال کو دیکھ لیا تھا

'کیا ہوگیا' فصیحہ بولی

'ہم چائے لے کر آتے ہیں تو بیٹھ' لالی نو دو گیارہ ہوئی فصیحہ بھی کندھے اچکا کر ریلنگ سے نیچے دیکھنے لگی 

'اہم اہم' دانیال کھنکھارا 

فصیحہ جھٹکے سے پیچھے موڑی تو دانیال اسکے بہت قریب کھڑا تھا

'وہ وہ آآ…آپ یہی…یہاں' فصیحہ تو اچانک گھبرائی گئی 

دانیال نے لب دبا کر مسکراہٹ روکی اور اسکی طرف قدم بڑھائے فصیحہ پیچھے ہوتی ریلنگ سے لگ گئی دانیال نے بھی اسکے دائیں بائیں بازو رکھ کر فرار ہونے کی راہیں بند کیں فصیحہ تو جیسے چھپ گئی تھی

'تو ڈئیر وائفی ڈر گئی' دانیال نے اسکے کان میں سرگوشی کی 

'نن…نہیں میں نہیں ڈڈ…ڈرتی' وہ بڑی مشکل سے بول رہی تھی 

'نہیں ڈرتیں' وہ بول کر اسکے اور نزدیک ہوا  دانیال کی سانسیں فصیحہ کا چہرہ جھلسا رہی تھیں 

'چچچھوڑیں لالی آجائے گی' اس نے اسے دور کرتے ہوئے کہا لیکن کہاں دانیال اور کہاں وہ چھوئی موئی سی لڑکی ٹس سے مس نہیں ہوا وہ

'شششش نہیں آئے گی وہ' اسنے اسکے کان کے پاس سرگوشی کی اور پھر اس کے کان کی لو کو لبوں سے چھوا فصیحہ کی دل کی دھڑکنوں نے تو دو سو کی اسپیڈ پکڑ لی تھی 

بس تبھی دی پری نے انٹری ماری 

'اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ رحم' پری نے ان دونوں کو دیکھ کر آنکھوں پر ہاتھ رکھا 'کیا دیکھ لیا میں نے اب میری آنکھیں گناہگار ہوجائیں گی' پری نے دوہائی دی لالی جو اوپر آرہی تھی پری کو دیکھ کر دانتوں تلے زبان دبائی 

فصیحہ اور دانیال بھی جھٹکے سے ایک دوسرے سے دور ہوئے تھے دانیال سر کھجاتا ہوا باہر نکل گیا پیچھے فصیحہ کے گال شرم کی وجہ سے لال ہوگئے تھے 

'سکون نہیں ہے تمہیں کباب میں ہڈی کہیں کی' لالی نے پری کو ایک تھپڑ رسید کیا 

'کیا ہے مجھے کیا پتا تھا کہ چھت پر کوئی ہے میں تو ایسے ہی یو نو ٹہلتے ٹہلتے آگئی' پری نے شرمندہ ہوئے بغیر کہا

'پتا ہے اچھے سے ہمیں تمہاری یہ جو شکل ہے نہ اس پر ڈرامے سوٹ نہیں کرتے' اسنے اسکی معصوم چہرے پر چوٹ کی ادھر پری نے فصیحہ کا چہرہ دیکھا تو مسکراہٹ دبائی اور لالی کو بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا لالی نے فصیحہ کی طرف دیکھا تو "اوو" کہا

فصیحہ تھوڑی دیر پہلے ہونے والے لمحات میں کھوئی مسکرا رہی تھی جب اس نے پری کی آواز سنی جو شاید اسے بلا رہی تھی

'بھابھی آپ شرماتی بھی ہیں' پری نے اسے چھیڑا

'ہاں تمھاری طرح بےشرم نہیں ہے وہ' لالی نے اسکو چھیڑنے کے بجائے پری کو لتاڑا

'افف…کیا کرنے آئے تھے ہم' پری نے دانت کچکچائے 

'اوہ ہاں سوری… فصو بھابھی' لالی نے بھی چھیڑا 

'یار تم تو نہ کہو بھابھی' فصیحہ نے اسکے آگے ہاتھ جوڑے 

وہ ابھی اسے اور تنگ کرتے کہ نیچے سے شبانہ بیگم نے کھانا کھانے کیلئے بلایا 

رات اسی طرح ہنسی مذاق میں گزر گئی

💜💜

صبح میر پولیس اسٹیشن میں موجو تھا

لالہ رخ کی فائل میر کے سامنے پڑی تھی حارث نے اُس حادثے کے دو ایویڈینس اور لاکر دکھائے تھے ایک دو سیکنڈ کی وڈیو کلپ تھی اور دوسرے ایویڈینس میں ایک سرینج تھی 

دو سیکنڈ کی ویڈیو کلپ سٹارٹ کی تو اس میں لالہ رخ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی بس اور کچھ نہیں تھا اس میں 

'سر اس وڈیو کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کسی نے مین فوٹیج ایڈٹ کی ہے کیونکہ اس وڈیو کہ اسٹارٹ ہونے کا ٹائم الگ ہے اور ختم ہونے کا الگ یہ کلپ یا تو غلطی سے رہ گئی ہے یا پھر پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے انہیں' وہ بول کر خاموش ہوا اور میر کے چہرے کو دیکھا جو خطرناک حد تک سنجیدہ تھا

'مجھے لگتا ہے ان دونوں کے علاؤہ وہاں کوئی اور بھی تھا کیونکہ اس سرینج کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ وہ کسی لڑکی کے بلڈ کی ہے' علی اندر آتا ہوا بولا اسے صرف یہ پتا تھا کہ اس سب میں کوئی لڑکی بھی ہے

'اور اس سرینج میں تھا کیا کس چیز کی سرینج تھی یہ' میر نے رومال سے اس سرینج کو پکڑ کر کہا

'ہاں اس سرینج میں ڈرگز تھے جو زیادہ تر دماغ کو سن کرنے کیلئے یوز کیے جاتے ہیں اسکا ہلکا سا بھی ڈوز کسی کو بھی ہلاسکتا ہے' علی نے سرنج اس سے لیتے ہوئے پلاسٹک بیگ میں ڈالی 

'مطلب ہیوی ڈوز ہے تو اسکا یقیناً کوئی ریکشن بھی ہوگا' میر کچھ سوچتے ہوئے بولا اس کے زہن میں حارث کی کہی ہوئی بات گھوم رہی تھی کہ اسکا جلا ہوا ہاتھ 

'نہیں اسکا کچھ کہہ نہیں سکتے کیونکہ سب کی سکنز الگ ہوتی ہیں اس لیے اس ڈرگ کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس سے کوئی ریکشن نہ ہو' علی نے اسکی سوچ کو جھٹلایا 

'haris you may go now' 

میر نے اسے باہر جانے کا کہا وہ سر کہتا ہوا باہر چلا گیا

'لالہ رخ کو جانتے ہو' میر کی سنجیدہ سی آواز علی کے کانوں میں پڑی 

'لالہ رخ زمان شاہ' علی نے تصدیق چاہی

'ہمم'

'ہاں جانتا ہوں' 

'کب سے'

'ساڑھے تین ہفتوں سے' علی نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا اس سب میں لالی کا کیا کام

'کیسے کب اور کہاں ملی مجھے سب بتاؤ' میر نے تفصیلات مانگیں

علی نے اسے حرف بہ حرف سب سچ بتایا میر نے اسکو افسوس سے دیکھا 

(گدھا کہیں کا جنید بھی گدھا تھا اور یہ اس سے بھی بڑھا گدھا لوگوں پر بھروسہ کرنے میں تو یہ لوگ ماہر ہیں) میر نے صرف سوچ نہیں بلکہ بولا بھی

'گدھے کھانے کے علاؤہ اور کچھ نہیں سوجھتا عقل بند کہیں کا کسی پر ایسے بھروسہ کرتے ہیں' وہ دھاڑا بلکہ اسے ایک تھپڑ بھی جڑا 

علی اپنے گال پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا ایسا کیا کردیا اس نے میر کے غصے کو سوچ کر اسنے گلہ تر کیا

'میرا دل کررہا ہے تمہیں شوٹ کردوں' میر غصّے سے پاگل ہورہا تھا

'آخر ہوا کیا ہے' علی بھی آخر پوچھ بیٹھا

'ہوا کیا ہے واؤ ہوا کیا ہے دیکھو زرا یہ' میر نے اسکا یونی آئی ڈی کارڈ جلی ہوئی شال وڈیو کلپ اور جنید کا موبائل دکھایا 

علی تو آنکھیں پھاڑے یہ سب دیکھ رہا تھا اور پھر اس نے میر کو دیکھا 

'نہیں نہیں میر وہ لڑکی ایسی نہیں ہے میں جانتا ہوں اسے میں نے آج تک کسی پر بھروسہ نہیں کیا لیکن اس لڑکی میں کچھ تو تھا ایسا بے حد بہادر پاگل ہے یہ ایسا نہیں کرسکتی یہ کسی نے اسے ٹریپ کیا ہے' علی نے اسے یقین دلانے کی کوشش کی 

'تم الّو کے پٹھے نکلو یہاں سے شکل مت دکھانا اپنی دفع ہو جاؤ یہاں سے' میر نے اسے دھکے مار کر اپنے کیبن سے نکالا علی بھی کہاں بیٹھنا چاہتا تھا اسے بھی راہِ فرار چاہئے تھی میر کے غصے کو دیکھ کر اسکے نکالنے کی دیر تھی وہ سر پر پاؤں رکھ کر دوڑا

"حارث" میر اپنے کیبن سے نکل کر دھاڑا پورے پولیس اسٹیشن میں خاموشی چھا گئی تھی حارث بھاگ کر اس کے پاس آیا 

'لالہ رخ ٹھیک بارہ بجے مجھے میرے آفس میں چاہئے نہ ایک منٹ اوپر نہ ایک منٹ نیچے' میر کی دھاڑ پر سب اچھلے

'سس…سر' حارث بھی ڈر گیا تھا اور پھر لیڈی آفسسرز کو لے کر نو دو گیارہ ہوا

لالہ رخ یونی سے واپسی کے راستے پر گامزن تھی اپنی ہی دھن میں چلے جارہی تھی دوپہر ہونے والی تھی سورج سوا نیزے پر تھا گرمی کی وجہ سے اکا دکا ہی لوگ تھے اور جو لوگ تھے وہ بھی اپنے ہی کام میں مگن تھے ایسے میں لالی اچھل اچھل کر نیچے دیکھ کر چل رہی تھی کہ اتنے میں اسکے پاس پولیس موبائل آکر رکی 

لالی نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو نفری سے حارث اور دو لیڈیز کونسٹیبلز اتر رہیں تھیں

لالی کو پتا تھا جنید کی موت میں کہیں نہ کہیں وہ بھی پھنس سکتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ساتھ ہونے کیا والا ہے

'لالہ رخ زمان شاہ؟' حارث نے پوچھا

'نہیں وہ برابر والے گھر میں رہتی ہے ہم بلا کر لاتے ہیں اسے' لالی مسکرا کر کہتی آگے بڑھنے لگی حارث نے اس کے آگے اپنا بازو کیا تو وہ رکی اور اسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا جیسے 'لا تو رہے ہیں بلا کر اب کیا' 

'میں جانتا ہوں آپ ہی لالہ رخ زمان شاہ ہیں' حارث گھگیا گیا

'تو پھر کیسے آنے ہوا' لالی نے ایسے پوچھا جیسے وہ کافی عرصے سے جانتی ہو اسے

'آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا' حارث مدعے پر آیا

'یہ دو کافی نہیں ہیں ڈیٹ مارنے کے لیے جو ہمیں بھی لے کر جارہے ہو' لالی نے دونوں لیڈیز 

کونسٹیبلز کی طرف اشارہ کیا تو حارث کی ہنسی نکلتے نکلتے رہ گئی وہ بیچارہ کب سے ان دونوں کو پٹانے کی کوشش کررہا تھا

'دیکھیں آپ…' وہ اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرنا چاہتے تھے تبھی ایک کونسٹیبل نے بولنا چاہا لیکن لالی نے بات کاٹی

'آپ' لالی نے حیرانگی سے اسے دیکھا 'آپ نے ہمیں آپ کہا اتنی عزت… اتنی عزت تو کبھی ہماری ماں نے نہیں کی' لالی تو فرطِ جذبات میں اس کے گلے لگ گئی دوسری کونسٹیبل نے تعجب سے اسے دیکھا جیسے کسی اور دنیا کی ہو وہ 

'دیکھیں مس آپ کو ہمارے ساتھ پولیس اسٹیشن جانا ہوگا' حارث بولا تو ایسا لگا جیسے ہاتھ جوڑنے کی کمی رہ گئی ہے 

لالی کو ترس آگیا تھا اسلئے احسان کرنے والے انداز میں چلتی ہوئی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھی حارث تو اسکے مان جانے پر خوش ہوگیا تھا لیکن اسکا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا اسکو آگ لگاگیا 

'اففف یہاں کیوں بیٹھ گئی ہو پیچھے بیٹھو' حارث غصے سے چیخا لیکن سامنے بھی لالہ رخ تھی گاڑی اسٹارٹ کردی

'بیٹھنا ہے تو جلدی بیٹھیں ورنہ ہم بھگا کر لے جائیں گے آپ کی گاڑی کو' لالی نے ہاتھ پر باندھی گھڑی پر وقت دیکھتے ہوئے بولی جیسے اسے بہت دیر ہورہی ہو

'سر آپ پیچھے بیٹھ جائیں سر پھری لڑکی ہے نہیں مانے گی' ایک کونسٹیبل نے صبر کا مظاہرہ کیا تو حارث بھی دندناتا ہوا پیچھے بیٹھ گیا 

ایک کونسٹیبل لالی کے ساتھ بیٹھ گئی اور ایک حارث کے ساتھ پیچھے اور پھر لالی نے سو کی اسپیڈ سے گاڑی بھگائی تھی پیچھے بیٹھا حارث تو بس لوگوں کی گالیاں سن رہا تھا جن کی گاڑی سے انکی گاڑی لگتے لگتے رہ گئی تھی 

تھوڑی دیر میں گاڑی پولیس اسٹیشن کے پاس آکر رکی

💜💜

'سر' امان اللہ میر کے کیبن میں آیا

'ہاں بولو' میر چئیر پر بیٹھا فون میں بزی تھا

'سر ٹریفک پولیس کی طرف سے فون آیا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار ہوائی جہاز کی طرح گاڑی چلا رہے ہیں' امان اللہ نے اپنی بات مکمل کی اور اسکی طرف دیکھا 

'واٹ کونسی گاڑی' میر سیدھا ہوکر بیٹھا

'سر جو انسپیکٹر حارث لے کر گئے ہیں' امان اللہ نے اسکو دیکھ کر کہا

'اتنی غیرزمہدرانہ حرکت قانون کے ہوتے ہوئے غیر قانونی حرکتیں کرتے……' وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ باہر گاڑی روکنے کی آواز آئی 

'لگتا ہے سر وہ لوگ آگئے' امان اللہ نے اسکی معلومات میں اضافہ کیا

'کان ہیں میرے پاس بیوقوف چلو باہر' میر نے اسے ڈپٹا اور پھر دونوں میر کے کیبن سے باہر نکلے

💜💜

'تمہیں گاڑی چلانا بھی آتی ہے؟' حارث نے غصّے سے پوچھا

'نہیں' اتنے ہی اطمینان سے لالی نے جواب دیا

'تمہارا تو میں ڈرائیونگ لائسنس بننے نہیں دونگا دوسرے لوگوں کے لیے چلتا پھرتا خطرہ ہو تم' حارث بولتا ہوا اندر چلا گیا لالی جو اسکی بات سن رہی تھی اسکی بات پر بھڑکی اور اسکے پیچھے ہی بھاگتی ہوئی اندر آگئی 

'اوہ خبردار جو یہ فالتو کی حرکت کی ورنہ ہم تمہارے گھر کی بجلی کاٹ کر بھاگ جائیں گے' لالی چیخ کر بولی تو سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے اپنا کام چھوڑ کر

 علی بھی کچھ ضروری کام سے آیا تھا لیکن لالی کو دیکھ کر رکا میر نے اسے بلا ہی لیا آخر اسکا مطلب صحیح وقت پر آیا ہے وہ

میر بھی اسکی آواز پر ٹھٹھک کر رکا سامنے کا منظر ملاحظہ کیا تو لالی حارث سے لڑ رہی تھی اسنے لالی کو غور سے دیکھا جس نے اورنج شرٹ وائٹ ٹراؤزر کے ساتھ سر پر وائٹ اسکارف لیا تھا گرمی کی وجہ سے چہرہ سرخ ہوگیا تھا لیکن زبان اپنے پورے ڈھائی گز کے ہونے کا ثبوت دے رہی تھی

'اون ڈیوٹی پولیس والے کو دھمکی دیتے ہوئے شرم نہیں آتی تمہیں' حارث پھر بھڑکا

'تو کیا آف ڈیوٹی پولیس والے کو دھمکی دے سکتے ہیں' لالی نے معصومیت سے آنکھیں پٹ پٹائیں 

'تم…' حارث کچھ بولتا کہ میر کی آواز گونجی

'شٹ آپ' وہ دھاڑا اسکی دھاڑ پر تو لالی بھی اچھلی اور نہ محسوس انداز میں حارث کے پیچھے ہوئی جو میر دیکھ چکا تھا

'ڈائیناسور بھی ہے کیا یہاں' لالی نے حارث کے کان میں کہا تو حارث کو ہنسی آگئی 

'ایس ایس پی میر گیلانی ہے تم ڈائناسور ہی سمجھو' علی نے بھی اسکی بات سن لی تھی اسلئے اسکے پاس آکر بولا تو لالی اور حارث نے جھٹکے سے علی کو دیکھا

'علی بھائیییییی' لالی فرطِ جذبات میں چیخ پڑی

'اللّٰہ اکبر' علی نے سر پر ہاتھ مارا

'افففف پاگل ایڈیٹ نون سینس' حارث کو بھی اس سے ہمدردی ہوئی 

'خاموش ایک بات کی بات سمجھ نہیں آتی یا جاہل ہو' میر ایک بار پھر دھاڑا

'جاہل کسے کہہ رہے ہیں آپ' لالی کا دماغ لفظ جاہل پر بھک سے اُڑا اسلئے ایک بار پھر چیخی

(گئی اب تو یہ پکا گئی) حارث نے تو دل ہی دل میں اس پر انا للّٰہ پڑھ لیا تھا

'تمہیں پتا بھی ہے کہاں کھڑی ہو تم پولیس اسٹیشن ہے یہ' میر دھاڑا 

'ہمیں پتا ہے کہ یہ گندہ سا پولیس اسٹیشن ہے اب پلز ہمیں کوئی یہ بتائے گا کہ ہمیں کیوں بلایا گیا ہے ہمیں جانا بھی ہے'وہ چڑ گئی تھی اب ایک تو گرمی اوپر سے یہ ڈرامے

سب نے حیرت سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا تھا

میر چلتا ہوا لالہ رخ کے قریب آیا اسکا ہاتھ پکڑا اور ایک جھٹکے سے اپنے سامنے کیا پھر اسکی طرف جھکا تو لالی تھوڑا پیچھے ہوئی

'تم آئی بھی میری مرضی سے ہو اور جاؤ گی بھی میری ہی مرضی سے' میر کی غصّے میں ڈوبی آواز گونجی 

(ارے یہ تو ڈائلاگ ہوگیا امیتاب کی فلم دیوار کا) لالی نے دل میں سوچا

'ڈائیلاگ بازی اچھا اب ہم بھی بولیں گے' لالی کہتے کے ساتھ ہی پھدک کر ٹیبل پر بیٹھی اور اسٹک اٹھائی ٹیبل پر پڑے ہوئے سن گلاسس بھی اٹھا لیے اور آنکھوں پر لگائے 

میر اور تو اور جو کمپلین لکھوانے آئے تھے اب وہ سب بھی اسے ہی دیکھ رہے تھے

"یہ پولیس اسٹیشن ہے تمہارے باپ کا گھر نہیں  کہ منہ اٹھائے اور چلے آئے" لالہ رخ نے اسٹیک سے میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جس کی آنکھیں اب آگ اگل رہیں تھیں 

'یہ امیتاب بچن کی مووی کا ڈائیلاگ ہے نہ' علی نے اس کے پاس آکر کہا

'ہاں کیا نام ہے اسکا زنجیر' حارث بھی بول پڑا

میر کو تو آگ ہی لگ گئی مطلب اسکی کوئی اہمیت ہی نہیں ایک نئے سرے سے غصّہ نے آن جکڑا

'ماریہ' اسنے لیڈی کونسٹیبل کو مخاطب کیا

'جی سر' ماریہ جو شوق سے سب دیکھ رہی تھی میر کے بلانے پر چونک پڑی 

'ہتھ کڑی لگاؤ اسے اور منہ پر ٹیپ بھی لگاؤ اس کے' میر نے آہستہ سے بولا تو وہ جلدی سے آگے بڑھی اور اسکے ہاتھ باندھنے لگی

'ارے محترمہ یہ کیا کررہی ہیں آپ علی بھائی اسکو بولے نہ' لالی ڈری تھی یہاں ہلکا سا

'میر کیا کررہا ہے منع کر اسے' علی نے میر کو آنکھیں دکھائیں

'مجھے پتا ہے مجھے کیا کرنا ہے تم چپ رہو' میر نے علی کا ہاتھ پکڑ کر اسکے منہ پر رکھا 'اور تم اسے میرے کیبن میں لے کر جاؤ اور جب تک میں اندر ہوں کوئی اندر نہیں آئے گا اب سب اپنے اپنے کاموں میں لگو' میر نے ماریہ کو کہنے کے بعد سب کو وارن کیا 

ماریہ اسے کھینچ کر لے کر جارہی تھی اور وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر سب کو دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو کوئی تو بچا لو لیکن کون اس شیر کی پوچھاڑ میں ہاتھ ڈالتا 

💜💜

'لالی ابھی تک آئی کیوں نہیں کہیں پھر سے نوکری تو نہیں کرنے لگی' دانیال آج گھر پر تھا

(لالی نے اپنی سیلری اور اپنی جاب کا سب کو بتا دیا تھا کسی کو کوئی مصلا نہیں تھا لیکن زمان صاحب اسکی پڑھائی کی وجہ سے پریشان تھے اس لئے انہوں نے منع کردیا تھا کہ جب پڑھائی مکمل ہوجائے تب کرنا نوکری) 

'پتا نہیں کیا کرتی رہتی ہے یہ لڑکی کسی دن پٹے گی میرے ہاتھوں سے' شبانہ بیگم حسبِ معمول چڑ گئیں تھیں

'لگی ہوگی لوگوں کو پریشان کرنے میں اسکا تو زوز کا ہے اسلام و علیکم' پری نے گھر میں انٹری مار کر کہا وہ کالج سے آئی تھی لیکن شبانہ بیگم کو دیکھ کر گڑبڑا کر سلام کیا

'ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتی کل کلا کو اسکی شادی ہوگئی تو سسرال والے تو دو ہی دن میں رنگ آجائیں گے اس سے' شبانہ بیگم کو ایک نئی فکر جاگی

'اسکی شادی کو چھوڑیں پہلے دانی بھائی کی شادی کا سوچیں ویسے ہی آجکل یہ بہت اتاولے ہورہے ہیں' پری نے دانیال کو آنکھ ماری دانیال اچھلا

'چپ رہو تم بکواس نہ کیا کرو کچرا رانی' دانیال خود بھی جلا اور اسے بھی جلایا

'کیا ہے بھئی امّی انہیں کچھ کہتی کیوں نہیں ہے آنے دو لالی کو بتاؤں گی سب پھر وہ آپکی ٹانگ کھچے گی' پری نے اسے لالی کے نام سے ڈرایا

'آنے تو دو اسے پھر دیکھنا میرے ساتھ ہی ملکر تمہیں ڈرڈو کی بیوی بنائے گی ہاہاہا' دانیال اپنی ہی بات پر ہنسا تو پری کو آگ لگا گیا وہ پیر پٹختی ہوئی فریش ہونے چلی گئی

پیچھے دانیال کو تھوڑا پریشان ہوگیا تھا اب لالی کی وجہ سے پتا نہیں کہاں رہ گئی تھی

💜💜

لالی میر کے کیبن میں بیٹھی آفس کا جائزہ لے رہی تھی بلکہ اب تو نیم غنودگی میں جارہی تھی میر کو فری کی کال آگئی تھی تو وہ اس سے بات کررہا تھا کافی دیر سے

لالی کا ہاتھ اور منہ ابھی تک کسی نے نہیں کھولا تھا اسی لئے بیٹھے بیٹھے اسکی آنکھ لگ گئی

میر آفس میں داخل ہوا تو وہ محترمہ سو رہیں تھیں میر اسکے پاس آیا اسنے پہلے اچھے سے چیک کیا تو واقعی وہ سو گئی تھی 

میر نے رومال پکڑا اور پانی کا گلاس اٹھایا پھر لالی کے ہاتھ میں گلاس تھمایا تاکہ فنگر پرنٹس لے سکے اسکے بعد اسے حارث کے حوالے کیا اور پھر دوسرے گلاس میں پانی بھر کر لالی کے منہ پر مارا وہ بیچاری ہڑبڑا کر اٹھی

ادھر ادھر دیکھا تو سامنے میر کھڑا تھا بولنے کی کوشش کی لیکن ہونٹوں پر تو ٹیپ تھا 

میر سمجھ گیا تھا کہ وہ بولنا چاہ رہی ہے اسلئے اسنے پہلے اسکے ہاتھ کھولے اور پھر جھٹکے سے اسکا ٹیپ ہٹایا ہونٹوں کی کھال اکھڑی اور خون کی ننی بوندیں نکلیں 

'آہ آرام سے نہیں ہٹا سکتے تھے' لالی نے اپنا ہاتھ ہونٹوں پر رکھا

'شش کافی دیر سے تمہاری بدتمیزی دیکھ رہا ہوں اب چپ ایک لفظ بھی بولا تو ایک لگاؤں گا'

 میر نے اسکی کرسی کے دائیں بائیں ہینڈلز پر اپنے ہاتھ رکھے اور اسکی طرف جھکا وہ اب پوری طریقے سے اس کے حصار میں تھی ڈھائی گز کی زبان بھی خاموش ہوگئی تھی 

 'جنید فروز غزالی کو جانتی ہو' وہ سیدھا اپنے مقصد پر آیا

 'جنید ککون جنید' وہ زیادہ تر اسے ارمان کہتی تھی اس لیے اسکا اصل نام بھول گئی تھی

 میر نے اسکے سامنے تصویر رکھی جنید کی

 'ارمان…' وہ کہتے کہتے روکی پھر یاد آیا کہ اسکا اصل نام جنید ہے 'ہاں ہاں جانتے ہیں' لالی نے اعتراف کیا

 میر اسکے پاس سے دور ہوا اور اپنی ڈرا سے ایویڈینس نکالنے لگا

 'تو یہ بھی جانتی ہوگی کہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا' میر کی آواز میں واضح دکھ تھا 

 'ہاں' لالی ہلکے سے بولی میر نے سارے ایویڈینس اس کے سامنے رکھے اور پھر وڈیو کلپ سٹارٹ کیا

 لالی آنکھیں پھاڑے وڈیو کلپ دیکھ رہی تھی صرف دو سیکنڈ کی تھی لیکن بہت کچھ ثابت کررہی تھی

 میر اسکے بلکل سامنے ٹیبل پر بیٹھا 

 'کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ تم یہاں کیا کررہی تھیں؟' میر نے اسکی آنکھوں میں دیکھا جو کچھ کھوج رہی تھیں

 'غلطی سے آآگئے تتت…تھے وہاں' اسکی آواز کانپی جھوٹ بولتے ہوئے

 'تمہیں پتا بھی ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو' میر کی آواز تھوڑی اونچی ہوئی تھی 

  'پپ۔پتا نہیں' اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے

'اچھا اس کے بارے میں کیا خیال ہے' اب ایویڈینس میں اسکا آئی ڈی کارڈ تھا 

'یہ…یہ نا یونی میں گم ہوگیا تھا پتا نہیں وہاں کیسے پہنچ گیا' اسنے ایک بار پھر جھوٹ بولا 

'مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے' وہ دھاڑا تو لالہ رخ کے چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھریں

'اور یہ…یہ تو یقیناً وہاں خود چل کر گئی ہوگی ہے نا' میر نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اسکے سامنے جلی ہوئی شال لہرائی 

'نہیں' وہ کنفیوژ ہورہی تھی

'کیا نہیں' 

'مم…مطلب وہ ہاں یہ تو اڑ گئی تھی اوپر سکھائی تھی' لالی گھبراہٹ میں نہ جانے کیا بول رہی تھی

'کیوں اڑن قالین تھی یا اسکے پر تھے' اسنے اسکی عقل پر ماتم کرنا چاہا

'نہیں لیکن ہَوا تو تھی نہ اسنے آڑایا اسے' اب لالی نے اسکی عقل پر ماتم کیا تو میر کا دماغ بھک سے اڑا ایک ہی جھٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا اور ہاتھ کمر پر لےجاکر موڑا

'مجھے جھوٹ بلکل بھی پسند نہیں ہے اور تم جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہو' اس نے اس کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی لیکن وہاں بھی لالہ رخ تھی ایسے درد سہتی رہتی تھی 

لالہ رخ بولنے کے بجائے ہلکا سا پیچھے ہوئی اور پھر اسکا ہاتھ جو میر کے ہاتھ میں تھا اوپر اٹھایا اسکی نیچے سے نکلی اس طرح کرنے سے اب میر کا ہاتھ اسکی گرفت میں تھا جو وہ اسکی کمر سے لگا چکی تھی میر اسکی ہمت پر داد دیے بغیر نہیں رہ سکا

'آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں' لالی نے اسکا ہاتھ زور سے مروڑا اور اسکے کان میں پھنکاری 

میر نے اپنے دوسرے ہاتھ سے لالہ رخ کا بازو پکڑا اور آگے اتنی زور سے کھینچا کے لالی کو اسکا ہاتھ چھوڑنا پڑا 

'بہت سے کیسیز ہینڈل کیے ہیں میں نے لوگوں کے چہرے دیکھ کر سمجھ جاتا ہوں کہ کون جھوٹ بول رہا ہے اور کون سچ' میر نے اسکو ٹیبل کی طرف دھکا دیا تو وہ ٹیبل پر گری کوئی چوٹ نہیں لگی تھی دونوں ہی اس کھیل کے کھلاڑی تھے آخر 

حارث نوک کرکے اندر آیا اور فنگر پرنٹس کی فائل دکھائی اور میر کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا جیسے فنگر پرنٹس میچ ہوگئے ہیں

'پتا نہیں کیوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے تم نے ہی قتل کیا ہے' میر نے فائل کو دیکھتے ہوئے کہا

'قتل کرنے کے لیے وجہ ہونی چاہیئے جو یقین جانیں ہمارے پاس نہیں ہے' لالہ رخ نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

'کیوں تم جنید سے محبت نہیں کرتی تھیں' وہ چیخا یہ بھی ایک طریقہ تھا کہ مجرم ہراس ہوکر اطرافِ جرم کرے 

'کککرتے تھے' اسکو سمجھ آرہا تھا سب

'اسنے تمہیں دھوکا بھی دیا ہے نہ' وہ چیخا باہر کھڑا علی سب سن رہا تھا اسکو جھٹکا لگا تھا کہ جنید نے دھوکا لالی…

' ہاں دیا تھاااا' اب وہ بھی چیخی یہی تو میر چاہتا تھا کہ وہ اس طرح سب بتادے 

'بس تم نے اسی لئے اسے ماردیا' میر نے یہ بات سکون سے کہی تھی سامنے والے کا سکون غارت کرکے 

'چپ بلکل چپ سمجھتے کیا ہو خود کو محبت کے بارے میں جانتے بھی ہو وہ محبت نہیں کرتا تھا لیکن ہم تو کرتے تھے اور محبت میں محبوب کی جان لینا اپنی میّت اپنے کندھے پر رکھنے کے مترادف ہے میر گیلانی' وہ اتنی زور سے چیخی کہ علی نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھا میر بھی ایک پل کیلئے ہل گیا تھا اب اس نے یہ بھی نہیں چاہا تھا

'ثبوت تمہارے خلاف ہیں سارے' میر بھی اپنی بات سے ایک انچ نہیں ہٹا تھا

'سب جھوٹ ہے سارے ثبوت جھوٹے ہیں اگر ہمیں اسے مارنا ہی ہوتا تو گولی تو لگ ہی چکی تھی پھر جلانے کا مطلب' اس نے یہاں جوش میں اپنے ہوش کھو دیے میر مسکرایا اور علی کی اوپر جیسے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے وہ اندر داخل ہوا

'تمہیں کیسے پتا کہ اسکو گولی بھی لگی تھی' علی نے حیرت سے پوچھا یہ وہ بات تھی جو میر علی اور کچھ پولیس آفیسرز کے علاؤہ کسی کو نہیں پتا تھی 

لالی کو شدّت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا جلد بازی میں کیا بول گئی تھی وہ اور اب تو کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی 

'ہ…ہم…ہمیں گھر جانا ہے سب انتظار کررہے ہونگے' لالی نے اپنا بیگ اٹھایا اور نکل گئی

پیچھے علی صرف میر کو دیکھ کر رہ گیا 

'اسکا مطلب یہ وہاں موجود تھی' علی ابھی بھی حیرت میں تھا

'ہوسکتا ہے اسی نے قتل کیا ہو' میر نے آئی ڈی کارڈ پر اسکی تصویر کو دیکھ کر کہا

'میں مان ہی نہیں سکتا' علی نے سر نفی میں ہلایا

تبھی میر کے فون میں ایک بیل رنگ ہوئی 

میر نے فون چیک کیا تو اننون نمبر سے کسی نے کچھ تصاویر اور وڈیو بھیجی تھی جس میں لالہ رخ گن پکڑے جنید کے پچھے کھڑی تھی اور کچھ میں وہ جنید سے بات کررہی تھی اور وڈیو میں وہ جنید پر پیٹرول چھڑک رہی تھی میر کی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں تھیں علی نے میر کو دیکھا اور پھر اس سے موبائل لیا اور ایک ایک تصویر دیکھی تو اسکے پیروں تلے زمین کھسکی

'یہ نمبر کس کا ہے؟' علی نے میر سے پوچھا 

'فراز ایوبی ڈیٹیکٹو' میر کا سرسراتا لہجہ علی کو بھی اپنی کم عقلی پر افسوس ہوا کیسے اس نے بھروسہ کرلیا اس پر 

(مس لالہ رخ زمان شاہ تیار رہو کیوں کہ تمہیں قانون نہیں میں سزا دوں گا اور میری سزا موت سے بھی بدتر ہوتی ہے)

لالی اپنے گھر کے باہر روکی رکشے سے اتری اور خود کو کمپوز کیا چہرے پر مسکراہٹ سجائی اب وہ ایسی ہوگئی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں پھر گھر میں داخل ہوئی

'اسلام و علیکم' لالی نے گھر میں داخل ہوتے ہی سلام کیا سب کے چہرے لالی کو دیکھ کر پُرسکون ہوئے 

'کیا ہوا ہے سب اتنا پریشان کیوں ہیں خیریت' لالی نے سب کو دیکھتے ہوئے پوچھا

'تم آج لیٹ آئی ہو نہ اس لئے پریشان ہوگئے تھے سب کہاں تھیں؟' پری نے اسکو مطمئن کیا 

'ہاں وہ پیپرز ہونے والے ہیں نہ تو اسی لئے  لائبریری میں تھے' لالی نے جھوٹ بولا

'تو فون نہیں کر سکتی تھیں' شبانہ بیگم بھڑکیں

'امی فون نہیں ہے ہمارے پاس بھائی سے کہا تھا وہ نیا لادیں گے' لالی نے آرام سے پوری بات بتائی

'فون کہاں گیا تمہارا' اب کی بار سوال دانیال کی طرف سے تھا اسکو لالی کا پہلے کا جواب بہانا لگا تھا

'بتایا تو تھا کہ وہ ٹوٹ گیا ہے' 

''تو سم کہاں ہے تمہاری' ایک اور سوال

'وہ فون میں تھی' 

(اللہ ہمارے آج صبح سے ہم سے سوال جواب ہورہے ہیں ہمیں بات بات پر جھوٹ بولنا پڑ رہا ہے) 

'اور فون کہاں ہے' دانیال کے ماتھے پر بل ابھرے

'وہ تو ٹوٹ گیا نہ'

'کیا تم ایک ہی بات کو گھما رہی ہو سچ بولو فون کہاں ہے اور اگر ٹوٹ گیا ہے تو مجھے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے لا کر دکھاؤ' دانیال بس اسے جانچ رہا تھا کیونکہ جو اسے پتا چلا تھا وہ ناقابلِ یقین تھا

'وہ تو گگ…گر گئے' لالی کا اطمینان ڈگمگا رہا تھا

'لالی بات بات پر جھوٹ بولنا کہاں سے سیکھا تم نے' شبانہ بیگم اور پری تو بس ان دونوں کی شکلیں دیکھ رہے تھے 'لالی تم میرے کمرے میں آؤ مجھے ضروری بات کرنی ہے ابھی اور اسی وقت' دانیال کی بات پر لالی نے تھوک نگلا اور اسکے پیچھے چلدی

💜💜

'کہاں سے آرہی ہو' دانیال نے پوچھا

'لائبریر……' لالی نے بولنا چاہا

'جھوٹ نہیں لالہ رخ……پولیس اسٹیشن گئیں تھیں نہ تم؟' دانیال کا لہجہ تیز ہوا

'گئے نہیں تھے وہ لوگ لینے آئے تھے' جتنا تیز دانیال کا لہجہ اتنا ہی ہلکہ لالی کا لہجہ

'کیوووں' وہ غررایا

'کک…کسی کا قتل ہوا ہے' اب جھوٹ چھپانے کا فائدہ نہیں تھا 

دانیال نے آنکھیں پھاڑے سے اسے دیکھا

'کسی کے قتل سے تمہارا کیا لینا دینا'

'وہ کسی نہیں وہاں کے ایس ایس پی کا بہترین دوست اور' وہ روکی

'اور' 

'اور ہمارے ٹیچر رہ چکے ہیں' لالی نے سر جھکایا

'تو اس سب سے تمہارا کیا لینا دینا' اب دانیال نے آرام سے پوچھا 

'ہمارے سر رہ چکے ہیں تو اسلئے ان سب سے پوچھ گچھ ہورہی ہے جو آخری وقت میں ان سے ملے تھے امی کو نہیں بتانا چاہتے تھے ورنہ پریشان ہوجاتیں اور رہی بات فون کی وہ ہم سے گر گیا ہے کہیں' لالی نے آخر میں اپنے دانتوں کی نمائش کی

'میں تو ڈر ہی گیا تھا خیر تم جاؤ فریش ہو جاؤ'

'ایک منٹ پہلے فون دیے گا اپنا' دانیال نے سے اپنا فون دیا تو لالی نے تھوڑی دیر میں دے نے کا کہہ کر چلی گئی 

علی کو کال کی جو چند سیکنڈز میں اٹھا لی گئی

'علی بھائی روکیں کال مت کاٹیے گا پہلے ہماری بات سن لیں پلزززز'

'ہمم کہو' علی کی فون میں سے آواز بھری

'ہم آپکے ہوسپٹل آجائیں کچھ ضروری بات کرنی ہے'

'6 بجے' علی نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹ دیا

وہ لمبی سانس خارج کرتی ہوئی واشروم چلی گئی فریش ہونے لیکن علی کا نمبر ڈیلیٹ کرنا نہیں بھولی تھی

💜💜

لالی ہوسپٹل پہنچ گئی تھی ریسیپشن سے علی کا پوچھا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ موصوف ایک گھنٹہ پہلے ہی نکل چکے ہیں 

'اتنی بھی کیا ناراضگی علی بھا…' وہ بول ہی رہی تھی کہ اسکا فون بجا 

(دانیال نے اسے نیو فون دے دیا تھا اور اسکی پرانی سم بھی بند کروا دی تھی اور سی نمبر پر نیو سم دیجسٹرڈ کروائی تھی) 

اس نے فون پر وہ اننون نمبر دیکھا اور فون اٹھایا

'ہیلو کون' لالی نے بات شروع کی

'تمہارے پاس صرف بیس منٹ ہیں اسی پرانی فیکٹری پر واپس پہنچو' فون ڈسکنیکٹ ہوا

لالہ رخ ہلکا سا بڑبڑائی

'رابیعہ خان' وہ آواز پہچان گئی تھی

'اب کونسی نئی چال ہے تمہاری' وہ سر جھٹکتی ہوئی آگے بڑھی اور رکشہ روکا  

'پرانی فیکٹری جانا ہے بھائی کتنے لوگے؟' لالی نے رکشے والے سے پوچھا

'دو سو روپے' 

'دو سوووو اتنے سارے پیسے کس خوشی میں' لالی کی تو سوئیں دو سو روپے پر اٹک گئی تھی

'آپکو وہاں جانا ہے اس خوشی میں' رکشے والا بھی بحث کے موڈ میں تھا

'وہاں جانے کی کونسی خوشی خیر چلو لے لینا' لالی رکشے میں بیٹھ گئی تھی 

💜💜

'حارث امان اللہ کو تم نے لالہ رخ پر نظر رکھنے کےلئے کہہ دیا تھا نہ' میر نے انٹرقوم کے ذریعے حسث سے پوچھا

'جی سر مجھے آپکو اسی بارے میں بتانا تھا آپ پلز امان اللہ سے بات کرلیں وہ کچھ ضروری انفارمیشن دینا چاہتا ہے آپکو' حارث نے امان اللہ کے بارے میں بتایا

'اچھا ٹھیک ہے میں اس سے بات کرتا ہوں' میر نے انٹرقوم رکھا اور اپنا فون اٹھاکر امان اللہ کو کال کی

'کانسٹیبل اینی اپ ڈیٹ'

'سر مس لالہ رخ چھ بجے کے قریب گھر سے نکلیں تھیں پہلے ڈاکٹر علی کے ہوسپٹل میرے خیال سے ان سے ملنے گئیں تھیں لیکن کچھ ہی دیر بعد واپس آگئیں شاید وہ ہوسپٹل میں نہیں تھے اب سر وہ اسی پرانی فیکٹری کی طرف جارہی ہیں' امان اللہ بول کر خاموش ہوا

'پیچھے ہی رہنا اسکے کہیں آگے راستہ نہ بدل دے اور وہاں پہنچ کر اندر مت جانا خطرہ ہوسکتا ہے' میر نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹا جہاں اسکے دوست کی بات آجائے وہاں وہ کوئی رسک نہیں لے سکتا تھا

💜💜

انعم رئیس: روکیں روکیں اب ہمیں یہاں سے تھوڑا فلیش بیک میں جانا ہوگا کچھ بہت ضروری  پیچھے چھوٹ گیا ہے تو چلتے ہیں فلیش بیک میں

یہ اس وقت کا منظر ہے جب جنید کو گولی لگی تھی اس نے لالی کو فون کرنے سے پہلے کسی اور کو بھی فون کیا تھا اور وہ کوئی اور نہیں علی تھا

'جنید تم کہاں ہو یار تم نے مجھے آنٹی کو ہوسپٹل لانے کا کہا تھا لیکن تم آئے ہی نہیں' علی نے جنید کی کال اٹھاتے ہی بولنا شروع کردیا

'علی تم میری بات ٹٹھیک سے سننا' جنید کے عجیب سے لہجے نے علی کی بولتی بند کروائی 

'ہاں بولو کیا ہوا خیریت' علی کا لہجہ بھی سنجیدہ ہوا

'علی تو میرے گھر جائے گا ابھی اور میرے روم میں جاکر بیڈ کی لیفٹ سائیڈ کی ٹیبل سے نیند کی گولیاں نکالے گا اور' جنید کی ہچکیاں شروع ہوگئیں تھیں وہ رو رہا تھا

'کیا ہوا ہے یار کیوں رو رہا ہے تو سب ٹھیک تو ہے اور گولیوں کا کیا کرنا ہے' علی کی پریشان سی آواز سنائی دی 

'تو وہ گولیاں امی کو کھلائے گا ایک یا دو نہیں اتنی گولیاں کہ وہ میرے پاس آجائیں مطلب اس دنیا سے دور چلی جائیں' جنید نے ہمت سے کام لیا تھا اس وقت وہ جانتا تھا اس کے بعد اسکی ماں اکیلی ہوجائے گی

'جنید……تو پاگل ہوگیا ہے کہیں نہیں جارہا تو آنٹی کو کچھ نہیں ہوگا' علی کچھ پل تو بول ہی نہیں سکا

'میں جا رہا ہوں یار' وہ یہ بولتے ہوئے بہت رویا تھا 'اس لئے اپنی امی کو بھی ساتھ لے کر جاؤں گا مجھے پتا ہے وہ میرے بغیر نہیں رہ پائیں گی' 

'جنید کیا ہوا ہے کہاں ہے تو تو خودکشی کررہا ہے کیا' علی کے آنسو بہہ نکلے تھے اسکی بات پر سمجھ نہیں آرہا تھا وہ ایس کیوں کہہ رہا ہے

'نہیں یار کچھ نہ کردہ گناہوں کی سزا مل رہی ہے محبت کے ہاتھوں وہ جان لینے پر تلی ہے میری یار تجھے قسم ہے میری جو میں نے کہا ہے تو وہی کرے گا' روتے روتے فون ڈسکنیکٹ کردیا تھا اس نے پھر درد بے تحاشہ ہوا تو لالی کو کال کی تھی 

_____________

علی جنید کے گھر گیا اور اسکی ایک ایک بات اسکی ماں کو بتائی اسکی ماں تو اس بات پر ہی خوش ہوگئی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کہ پاس جارہی ہے تو مرنے کی خوشی کیوں نہ ہوتی انہوں نے وہ گولیاں کھالی تھیں اور خاموشی کا لبادھا اوڑھے سو گئیں تھیں ……ہمیشہ کیلئے 

_____________

علی جس وقت جنید سے بات کررہا تھا اس سے تقریباً 5 منٹ پہلے وہ لالی سے بات کررہا تھا وہ بتا رہی تھی کہ آج دل عجیب سا ہورہا ہے تو وہ نماز پڑھنے چلی گئی تھی 

وہ رات اپنے اندر ڈھیروں راز لیے ہوئے تھی 

___________

دوسری طرف رابیعہ کو علی سے خطرہ ہوا تھا اس نے لالی کو سائڈ پر لگایا لیکن وہ پھر بھی اس رات کی ہر بات علی کو بتانا چاہتی تھی مطلب اسکا سچ تو دونوں کو ایک ساتھ ٹھکانے لگانا تھا رابیعہ نے

اس لئے اسنے پہلے علی کو کوئی بہانہ کرکے ہوسپٹل سے باہر بلایا اسکے بعد اسکے سر پر کسی بھاری روڈ سے وار کیا تو وہ وہیں گر گیا رابیعہ کے بندوں نے اسے فیکٹری پہنچایا 

پھر رابیعہ نے لالی کو کال کرکے وہیں بلایا 

         اب ایسا تو اب ایسا ہی سہی

💜💜

'رابیعہ اب کونسا نیا کھیل کھیل رہی ہو تم ایک جان لے کر سکون نہیں ملا جو اب اور کھیل کھیل رہی ہو' لالی چیخی فیکٹری میں ابھی بھی ہلکا اجالا تھا مغرب ہونے والی تھی 

سنسان فیکٹری میں آج ایک تماشا اور لگنا تھا 

وہ آگے بڑھی تو ٹھٹھکی آنکھیں پھٹنے کو ہوئیں تھیں دماغ ماؤف ہونے لگا تھا کیونکہ آج جنید کی جگہ پر علی تھا وہی جگہ جہاں جنید کا مرڈر ہوا تھا

'نہیں نہیں ایسا نہیں ہوگا ہم علی بھائی کو کچھ نہیں ہونے دیں گے ایک اور فیملی کو اجڑنے نہیں دیں گے' لالی بھاگتی ہوئی علی کے پاس آئی اسے سر پر چوٹ لگی تھی 

لالی ہر جگہ اپنا بیگ لے کر جاتی تھی جس میں ضرورت کا سامان ہوتا تھا وہ آج بھی لائی تھی 

بیگ میں سے پانی کی بوتل نکالی اور پانی ہاتھ میں لے کر علی کے منہ پر ڈالا علی کو ہوش آنا شروع ہوا 

'علی بھائی' لالی نے اسکے چہرے پر آرام سے ہاتھ رکھ کر جگانے کی کوشش کی علی کو ہوش آگیا تھا وہ اٹھ کر بیٹھا لیکن سر کی چوٹ شدید تھی 

'تم…تمہارے پاس اور پانی ہے' علی نے لالی کو بولا

'ہاں ہاں یہ لیں' لالی نے اسے پانی کی بوتل دی 

علی نے کچھ پانی پیا اور باقی کا پانی سر آگے کرکے سر پر ڈالا ٹھنڈا پانی تھا خون روکنا بند ہوگیا تھا 

'اور کیا ہے تمہارے پاس اس وقت' علی نے لالی کے بیگ کو دیکھ کر کہا 

'ہاں فرسٹ ایڈ باکس بھی ہے پاپا کہتے ہیں اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہیے کسی کو بھی ضرورت پڑ سکتی ہے ہم ابھی دیتے ہیں' لالی نے اسکی طرف باکس بڑھایا علی نے اس میں سے ایک ڈیٹول کی بوٹل اٹھائی زخم صاف کرنے کے لیے اور ایک روئی لی اور لالی کی طرف بڑھایا

'یہ یہ صاف کردو' 

'ہاں ہاں کیوں نہیں بلکہ ڈریسنگ بھی کردیتے ہیں' لالی نے تھوڑی ہی دیر میں اسکی ڈریسنگ کردی تھی یہ سب کرنے میں دس منٹ لگے تھے 

لالی نے اس سے کچھ کہنا چاہا لیکن کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی 

'بھائی رررابی…' وہ بول رہی تھی کہ علی بول پڑا

'رابیعہ میں جانتا ہوں جلدی چھپو' علی کہتے کے ساتھ ہی پیچھے کی طرف گیا لالی بھی سارا سامان اٹھاکر بیگ میں ڈال رہی تھی اتنے میں رابی اسکے پاس پہنچ گئی تھی 

'میں نے تم سے منع کیا تھا نہ کہ تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گی لیکن تمہیں شاید میری بات سمجھ نہیں آتی لگتا ہے جنید کا حشر بھول گئی ہو کوئی بات نہیں اب نہیں بھولو گی' رابیعہ دل کشی سے مسکراتی ہوئی کہہ رہی تھی 

'کیا کروگی ہمیں بھی مارو گی ایک اور جان لوگی پھر خود کو بچانے کیلئے دوبارہ قتل کروگی اتنے قتل کرنے سے اچھا ہے تم خود کیوں نہیں مر جاتیں' لالی غررائی

'ابھی تو مجھے جینا ہے اسلئے تمہاری یہ آخری خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی' رابی نے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھنا چاہا لیکن لالی نے پکڑ لیا 

'آخری خواہش نہیں ہماری جان ہماری تو پہلی خواہش ہی یہی ہے' لالی نے کہتے کے ساتھ ہی اسکا ہاتھ مروڑ کر کمر پر لگایا اور ایک ہاتھ سے اسکی گردن دبوچی 

وہ ابھی کچھ اور کرتی کہ باہر کسی کی گاڑی روکنے کی آواز آئی پیچھے چھپا علی بھی چونکا اور پھر آنے والی سچوئیشن کیلئے خود کو تیار کیا

رابی نے لالی کے ہاتھ پر چاکو مارا اور وہاں سے بھاگ گئی جو چاہتی تھی وہ ہوگیا تھا

💜💜

میر فیکٹری پہنچ چکا تھا امان اللہ اور وہ ساتھ اندر داخل ہوئے تو لالی سامنے ہی کھڑی تھی 

علی نے میر کو دیکھا تو بھاگتا ہوا آیا 

'علی تو یہاں کیا کررہا ہے اور یہ سر پر کیا ہوا ہے' میر نے اسکا سر آگے پیچھے سے دیکھا پڑی اوپر سے لال ہوگئی تھی

'ہلکی سی لگی ہے یہ زیادہ لگ گئی ہے اور یہ کس نے مارا اور یہ یہاں کیا کررہی ہے' میر نے لالی کی طرف اشارہ کیا

علی نے لالی کی طرف دیکھا تو وہ نہ میں سر ہلا رہی تھی علی نے اثبات میں سر ہلایا 

'ہاں بس کچھ نہیں ہوا کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی اب سب ٹھیک ہے اور لا……' وہ کچھ کہتا اور میر کچھ سنتا کہ ایک شورِ قیامت برپا ہوا 

💜💜

رابیعہ نے لالی کے گھر پر آگ لگائی تھی رشتوں میں آگ لگائی تھی

اس نے لالہ رخ کو کرکٹرلیس ثابت کیا تھا اسنے ایسے ایسے ثبوت ڈھونڈے تھے کہ لالی گناہگار ثابت ہوئی تھی رابیعہ نے لالی کی جنید میر علی اور کچھ یونیورسٹی کے لڑکوں کے ساتھ پکس لیں تھیں چھپکے سے جو بلکل سچی تھیں کیونکہ یہ تصویریں تب لیں تھیں جب ایکسیڈینٹلی لالی کی ان سب سے ملاقات ہوگئی تھی لیکن علی جنید اور میر کے ساتھ بہت کلوزلی لی تھیں کیونکہ لالی ان سے ملتی رہی تھی 

لالی کا کردار مضبوط تھا اگر اسکی ہسٹری بھی مضبوط ہوتی

'یہ تربیت کی ہے تم نے اپنی بیٹی کی' زمان صاحب چلائے شبانہ بیگم پر

'وہ نہ میری بیٹی ہے اور نہ ہماری بیٹی ہے وہ جسکی بیٹی ہے تو اس سے یہ سب ایکسپیکٹ کر سکتے ہیں' شبانہ بیگم تنزیہ مسکراہٹ ہنسیں

'تربیت تو تم نے کی ہے' زمان صاحب کو انکا کسی اور بیٹی کہنا اچھا نہیں لگا تھا 

'تربیت میں نے کی ہے لیکن فطرت تو اسکی وہی رہے گی گندہ خون دوڑتا ہے اسکی رگوں میں' شبانہ بیگم پل بھر میں بدلیں تھیں 

وہ دونوں اور دانیال اس وقت گاڑی میں موجود تھے اور اسی فیکٹری کے راستے پر تھے 

'مجھے یقین نہیں آرہا وہ میری بہن ہے' دانیال کا غصہ سوا نیزے پر تھا 

'تمہاری صرف ایک ہی بہن ہے پریشے اور کوئی نہیں' شبانہ بیگم پھر چلائیں 

'صحیح کہہ رہی ہیں آپ اسکا تو گلا میں اپنے ہاتھوں سے دباؤں گا' دانیال کی آنکھوں میں سرد تاثر تھے 

لگتا ہے آج پھر کوئی غیرت کے نام پر قتل ہونے نکلا ہے 

💜💜

'امّی' لالی بھاگ کر شبانہ بیگم کہ پاس گئی 

'خبردار لالہ رخ تم اپنا امی کہنے کا حق کھو چکی ہو' شبانہ بیگم کی آواز اونچی ہوئی 

پیچھے کھڑے ہوئے وہ تینوں سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہے تھے 

'کیا کررہیں تھیں تم ان تینوں کے ساتھ یہاں اس بند فیکٹری میں' دانیال نے لالی کو بازؤوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا لالی نے تو بس اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں صرف ایک تاثر تھا جو آجنبی کو دیکھ کر ابھرتا تھا 

میر نے امان اللہ کو باہر جانے کا اشارہ کیا کیونکہ علی اور وہ اب سب سمجھ گئے تھے کیا ہورہا ہے 

'آپ غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے ہمیں تو کسی نے بلایا تھا یہاں' لالی نے سچ بولا 

شبانہ بیگم نے وہ ساری تصویریں لالی کے منہ پر ماریں لالی تو حقّہ بقّہ کھڑی تھی اپنے آس پاس پھیلی تصویروں کو دیکھا تو پیروں تلے زمین کھسکی اتنا گھناؤنا الزام 

میر اور علی نے بھی تصویریں دیکھیں تو انکا تو دماغ گھوم گیا ساری اس اینگل سے لی گئیں تھیں  کہ قصوروار وہ بھی ٹہررہے تھے لیکن ہمیشہ سے قصوروار لڑکی کو ٹھہرایا گیا ہے اس بار بھی لالہ رخ پھنسی تھی 

'میں نے تو ہمدردی میں تمہیں پالا تھا کم از کم اسی کا ہی مان رکھ لیتیں لیکن نہیں تمہیں تو اپنے اندر دوڑتا ہوا گندہ خون عزیز تھا جو ایک بھاگی ہوئی ماں کی بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تم نے' شبانہ بیگم غصّے میں ہوش کھو رہی تھیں 

لالہ رخ نے خالی خالی نظریں اٹھاکر اس رحم دل عورت کو دیکھا جس نے اسے جنم نہیں دیا تھا لیکن پالا تھا اور پیدا کرنے والے سے تو پالنے والا بڑا ہوتا ہے 

'نہیں یہ سب جھوٹ ہے ہم ہم سس…سچ بتاتے ہیں آپ کو مم…میر گیلانی بتائیں گے سچ' لالی بھاگ کر میر کے پاس آئی اور اسکے آگے ہاتھ جوڑے 'ہماری عزت بچالو بب…بتاؤ انہیں کہ ہم ایسے نہی ہیں' لالی روئی

میر کی آنکھوں کے سامنے جنید کا عکس لہرایا کانوں میں اسکی باتیں گونجیں دل جو کہہ رہا تھا سچ بولو اب خاموش ہوگیا تھا کیونکہ شیطان ہاوی ہورہا تھا اور کہہ رہا تھا بدلہ لو

'میں کیا سچ بولوں ڈارلنگ یہ سب سچ ہی تو ہے' میر نے اسکے قدرے قریب جھک کر کہا لالی کو خطرے کی بو محسوس ہوئی علی میر کی بات پر سن رہ گیا اسکا دوست آج پہلی بار ناانصافی کررہا تھا 

لالہ رخ نے سر جھٹکا سمجھ گئی تھی کہ یہ اسکا ساتھ نہیں دے گا علی کو پھنسانا نہیں چاہتی تھی کیونکہ وہ دوست کو چنتا یا ہمیں اسکے لیے مشکل ہو جاتا

'اے لڑکے کون ہو تم' زمان شاہ نے میر سے پوچھا

'آپکی بیٹی کا عاشق' میر کی بات پر لالہ رخ نے آنکھیں میچیں علی بولنا چاہ رہا تھا لیکن میر نے اسکا ہاتھ پکڑ رکھا تھا یہ قسم تھی کہ وہ نہیں بولے گا

'یقین نہیں آرہا تمہاری پرورش میں نے کی ہے' شبانہ بیگم بول کر آگے آئیں اور ایک زوردار تھپڑ لالی کو مارا 

'چٹاخ' 

'میں تم سے اپنی سرپرستی واپس لیتا ہوں آج سے تم صرف لالہ رخ ہو اور کچھ نہیں' الفاظ تھا یا کچھ اور لالہ رخ کو لگا سب ختم ہوگیا تھا جیسے 

'نہیں ایسے کیسے اسکے عاشق سے کہیں نکاح کرے اس سے خون نہیں پالا تو ہے اسے' شبانہ بیگم نخوت سے بولیں 

لالی تو بس خاموش کھڑی ان سب کو دیکھ رہی تھی کہ یہ لوگ کتنا آگے جاتے ہیں آج اسے پتا چلا تھا کہ کتنی بے مول ہے وہ 

'میں آپکی بیٹی سے نکاح کرنے کیلئے تیار ہوں' میر نے لالی کا ہاتھ پکڑ کر کہا لالی مسکرائی 

(اب کسی کے حوالے بھی کردیں آپ امی اتنا حق تو آپکا بھی بنتا ہے آخر ایک گندے خون کو پالا ہے آپ نے) لالی دل ہی دل میں اپنا مزاق اڑا رہی تھی

جس فیکٹری میں آج سے دو ہفتے پہلے ایک قتل ہوا تھا آج یہاں پر کسی کی موت ہوئی تھی لیکن عجب بات تو یہ تھی کہ اس موت کہ ڈولے کو اٹھانے کیلئے کوئی موجود نہیں تھا نہ کسی نے فاتحہ پڑھی نہ کسی نے ماتم کیا ارے کس بات کا ماتم  مرگئی انا للّٰہ پڑھ لیا ثواب مل گیا بس اور کیا چاہئے

نکاح اسی پرانی فیکٹری میں ہونا تھا امان اللہ مولوی صاحب کو لینے گیا تھا علی میر کو سمجھا رہا تھا شبانہ بیگم زمان صاحب اور دانیال ایک کونے میں کھڑے تھے ایسے میں لالی بلکل اکیلی کھڑی تھی اپنی قسمت سے محو گفتگو تھی

(سنبھل جاؤ یار بڑے بڑے خواب دیکھنے لگی ہو آج کل کیا تم یہ نہیں جانتیں کہ جس کے ساتھ تم ہمیں باندھ رہی ہو وہ قانون سے ملوس ہے اور ہم نے اسی قانون کو توڑا ہے اس کے نزدیک وہ تڑپا تڑپا کر مارے گا طارق خان کی موت نہیں دیکھی تھی تم نے کیسے مارا تھا اسے یہ نہیں ہے کہ ہم موت سے ڈرتے ہیں ہم تو وہ ہیں جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہیں آ موت ہے ہمت تو گلے لگا لیکن کیا کریں ابھی مرنے کا موڈ نہیں ہے کیونکہ وہ ناگن ابھی کھلے عام گھوم رہی ہے ہماری زندگی میں آگ لگا کر ہمارا ہی تماشا دیکھ رہی ہوگی) وہ انہی سوچوں میں گم کھڑی تھی کہ امان اللہ مولوی صاحب کو لے آیا 

'سر مولوی صاحب آگئے ہیں' امان اللہ میر کی طرف آیا علی نے بیٹھنے کا انتظام کردیا تھا اس فیکٹری میں کچھ کرسیاں بھی تھیں 

'چلو وقت ہوگیا ہے لالی کے جنازے کا اور تمہاری جیت کا لیکن یاد رکھنا میر اس بار میں تمہارے ساتھ تمہاری جیت کا حصہ نہیں بنوں گا بہن بولا ہے اسے میں نے اور میں اپنا فرض نبھا کر رہوں گا' علی نے میر کو ٹھیک ٹھاک سنائیں لالی اور اپنا رشتہ بھی جتایا وہ کہہ کر لالہ رخ کے پاس چلا گیا جو اکیلی کھڑی تھی 

💜💜

'لالی' علی نے آج اسے پہلی بار لالی کہا تھا

'ہم بے گناہ ہیں ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا نہ تو جنید کو مارا ہے اور نہ ہی کوئی بے حیائی کی ہے  بھائی آپ تو سب جانتے ہیں نہ ہم گناہگار نہیں ہیں' لالی کو صدمہ لگا تھا شاید علی نے تڑپ کر اسکی طرف دیکھا

'میں سب جانتا ہوں لالی مگر ہم دونوں کے پاس پاس ثبوت نہیں ہیں جو تمہیں بے گناہ ثابت کریں اور تمہیں بے گناہ ثابت کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ تم وہاں موجود تھیں…' علی کہہ رہا تھا کہ لالی نے روکا

'نہیں علی بھائی آپ کچھ ثابت نہیں کریں گے نہ ہی کسی کو کچھ بتائیں گے آپ نے دیکھا نا رابیعہ نے کیا کیا ہمارے ساتھ وہ تیز ہونے کے ساتھ ساتھ پاورفل بھی ہے کیونکہ اسکے پاس ہم لوگوں سے زیادہ شہرت ہے اس لئے وہ کسی بھی حد تک جاسکتی ہے' لالی نے اسے سمجھایا علی کو بھی یہی ٹھیک لگا کیونکہ پہلے ہی بہت کچھ ختم ہوگیا تھا جنید اور اسکی ماں اسکے بعد لالہ رخ کے کرئیکٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا 

لالہ رخ کو چادر اڑانے شبانہ بیگم آگے بڑھیں اور اسکی شال جو اسنے کندھوں پر ڈالی تھی سر پر اوڑائی وہ جانے لگیں کہ لالی نے انکا ہاتھ پکڑا اور انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی نظریں جھکائیں اور دونوں ہاتھوں سے انکے دونوں ہاتھ تھامے

'آپ نہ دنیا کی ورلڈ بیسٹ امی ہیں سب سے اچھی آپ کو اللّٰہ تعالیٰ نے اتنا پیارا دل دیا ہے کہ کسی اور کی بیٹی کو اپنی بیٹی بنا کر پالا اتنا تو اپنے بھی نہیں کرتے اور آپ نے تو ایک غیر کو اپنی عزت بنائی ہم یہ بھی جانتے ہیں آپ نے ہمارے لیے بہت تعنے سنے تھے لوگوں نے کتنا کہا تھا کہ اسے چھوڑدو لیکن آپ کی ممتا کو شاید یہ گوارا نہیں تھا اسلئے اپنے بچوں کی طرح ہماری پرورش کی ہم تو بھول ہی گئے تھے کہ ہم کسی اور کی بیٹی ہیں' لالی کی نظریں جھکی ہوئی تھیں آنسو گال پر بہہ رہے تھے شبانہ بیگم نے پالا تھا اسے کیسے دیکھ لیتیں اپنے کلیجے کو اس حال میں تھوڑی دیر پہلے غصّے میں سنادیا تھا

'وہ غلطی سے نکل گیا تھا منہ سے غصّہ آگیا تھا مجھے لیکن میں نے کتنے پیار سے رکھا تمہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی لیکن تم نے مجھے میری نظروں میں گرادیا بیٹیاں اپنی ماں کا نصیب لے کر پیدا ہوتی ہیں کل تک صرف سنا تھا لیکن آج دیکھ بھی لیا کیونکہ تم اسی کی طرح کی نکلیں مجھے افسوس نہیں ہوا کیونکہ بیٹا تمہاری فطرت ہی ایسی تھی' شبانہ بیگم نے اس بار نرم لہجے میں کہا تھا لیکن لالی کو لگا اس سے زیادہ تلخ رویہ کوئی ہوئی نہیں سکتا 

💜💜

میر اور لالی آمنے سامنے بیٹھے تھے میر لالی کو دیکھ رہا تھا اور لالی صرف زمین کو گھور رہی تھی آنکھیں بلکل خشک تھیں 

شبانہ بیگم اور علی لالی کے پاس کھڑے تھے میر کے پیچے امان اللہ کھڑا تھا مولوی صاحب کے ساتھ زمان صاحب اور دانیال تھے پہلے زمان صاحب اور دانیال نے لڑکی کے گواہوں میں اپنا نام لکھا اور سائن کیے اسکے بعد علی اور امان اللہ نے لڑکے کے گواہوں میں اپنا نام لکھا اور سائن کیے اب مولوی صاحب لالی کی طرف آئے تھے اور نکاح شروع کیا

''لالہ رخ بنتِ اسابیل عثمانی آپکا نکاح میر گیلانی ولد انصار گیلانی کے ساتھ حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے'' مولوی صاحب نے لالی کی طرف دیکھا 

لالی کا ہاتھ کانپا شبانہ بیگم نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا علی بھی اسکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا لالی نے خالی خالی نظریں اٹھاکر اسے دیکھا علی نے اثبات میں سر ہلایا تو لالی کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا

'قبول ہے' کیا کمالِ ضبط تھا  

'کیا آپ کو قبول ہے' ایک بار پھر پوچھا گیا 

لالی کا سر درد سے پھٹنے کو ہوا تھا 

'قبول ہے' 

'کیا آپ کو قبول ہے'

'قبول ہے' (ہاں ہمیں قبول ہے ہاں ہمیں یہ قید قبول ہے ہاں ہمیں یہ زندان قبول ہے ہاں ہمیں یہ موت قبول ہے) 

اب میر سے پوچھا گیا

"میر گیلانی ولد انصار گیلانی آپکا نکاح لالہ رخ بنتِ اسابیل عثمانی کے ساتھ حق مہر بیس لاکھ سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے'' مولوی صاحب کی بات پر میر پراسرار سا مسکرایا

'قبول ہے'

پھر پوچھا گیا میر نے دوبارہ اقرار کیا 

(مبارک ہو مسز میر گیلانی میں نے کہا تھا نہ کہ تمہیں کوئی قانون نہیں میں سزا دوں گا لیکن مجھے یہ نہیں پتا تھا کہ کائنات بھی بدلہ لینا چاہتی ہے تم سے) 

تھوڑی دیر میں نکاح ہوا لیکن مبارک باد کسی نے کسی کو بھی نہیں دی کیسی مبارک باد نہ تو دولہا خوش تھا اور نہ ہی وہ معصوم سی دولہن خوش تھی بس یہ تو ایک انتقامی کارروائی کی گئی تھی کسی کو عزت بچانی تھی کسی کو بدلہ لینے کا شوق چڑھا تھا

شبانہ بیگم لالی کے پاس آئیں اور اسے سینے سے لگایا لالی اس پورے واقعے میں کہیں نہیں روئی اب بھی صرف ایک آنسو نکلا جو شبانہ بیگم کے دوپٹے میں جذب ہوگیا تھا

''تم بھلے سے میرا خون نہیں ہو میری بیٹی نہیں ہو لیکن میں نے تم میں اور پری میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا لیکن اب جو حالات تم نے اپنے لیے پیدا کیے ہیں اس سب کے بعد میں تمہیں اپنے گھر میں کبھی قدم رکھنے کی اجازت نہیں دونگی اور جو تم نے میرا مان توڑا ہے اس کیلئے خدا کرے تمہیں کوئی خوشی نصیب نہ ہو' شبانہ بیگم کا دل رو رویا تھا جب کوئی اپنا بے وفائی کرتا ہے نہ تو ایسا ہی ہوتا ہے انکی بات پر لالہ رخ کی آنکھیں جھک گئیں

پیچھے کھڑے میر نے بھی سنا تھا ہلکا سا مسکرایا اور بولا 'آمین' 

رانجھے کی فریبِ نظر کی کہانی پڑھی ہے

اس کہانی کو ہر لمحے میں رسوائی ہوئی ہے

روک جاؤ آگے کا مرحلہ کٹھن ہے کیونکہ!

ابھی تو فریبِ عشق کی کہانی شروع ہوئی ہے

💜💜

شبانہ بیگم زمان صاحب اور دانیال نکاح ہونے کے بعد ہی نکل گئے تھے گھر کیلئے امان اللہ بھی چلا گیا تھا میر اور علی بھی کچھ ڈسکس کر رہے تھے لالی دور کھڑی اپنے بیگ میں سامان رکھ رہی تھی

سامان رکھنے کے بعد شال جو اسکو سر پر تھی اتار کر کندھے پر ڈالی اسکارف تو اسنے پہلے ہی پہنا ہوا تھا بیگ کو اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے

میر نامحسوس انداز میں اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کررہا تھا اسکا باہر جانا میر کو ٹھٹکا علی نے بھی مڑ کر لالی کو دیکھا تو اسکے پیچھے گیا وہ صرف دو قدم چلی تھی اسلئے میر وہیں کھڑا تھا

'کہاں جارہی ہو' علی لالی کے آگے آیا

'گھر نہیں ہے نہ اسی لئے وہی ڈھونڈنے جارہے ہیں' لالی کا لہجہ بےتاثر تھا

'کیوں گھر نہیں ہے نکاح ہوا ہے اسکے ساتھ تمہارا' علی نے میر کی طرف اشارہ کیا 'تم اسکے ساتھ ہی رہوگی' 

'آپ یہ بات اچھے سے جانتے ہیں علی بھائی کے ایس ایس پی صاحب نے ہمارے کردار پر تہمت لگائی ہے ہمارے ماں باپ کے سامنے ہمیں رسوا کیا ہے اسکے بعد بھی' لالی کو علی کی عقل پر افسوس ہوا میر تو اسکے طرزِ تخاطب پر حیران تھا

'جو بھی ہے لیکن اب یہ تمہارا شوہر ہے' علی نے اسکو سمجھانا چاہا

'شوہر آپ پہلے اپنے دوست سے پوچھ لیں کہ یہ اس نکاح کو مانتے بھی ہیں جو انہوں نے ایک انتقام کی آڑ میں کیا' لالی دھاڑی 

'ہاں نہیں ہے مجھے کوئی شوق تمہیں اپنی بیوی بنانے کا جو میری بیوی ہوگی اسکا کردار بلند ہوگا اور تم…تم تو نہ جانے کس کا گندہ خون ہو' میر کا دماغ گھوم گیا تھا لالی کے چیخنے سے 

اسکی بات پر لالی نے علی کی طرف دیکھا جو اپنے دوست کو گھور رہا تھا

'ہم جانتے ہیں کہ ہم کس کی بیٹی ہیں اور جو آج آپ نے ہمارے کیریکٹر پر سوالیہ نشان لگایا ہے نہ اسکا حساب آپکو دینا پڑے گا اور وہ بھی سود سمیت بی ریڈی میر گیلانی اور علی بھائی امید ہے کے آپ کو سمجھ آگیا ہوگا ہمارا رکنا بےکار ہے' لالی نے میر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھمکی دی تھی پھر چلتی ہوئی مین گیٹ سے باہر نکل گئی تھی

'میر' علی نے بے یقینی سے اسے دیکھا 

'واٹ' میر نے کندھے اچکائے اپنے الفاظوں کا دکھ اسے اب ہوا تھا

'تو نے یہ سب کیوں کیا میر مجھے صرف اتنا بتادو پہلے اسکو بدنام کیا اسکے بعد نکاح کیا اس سے اب بیوی ماننے سے انکار کررہا ہے کیوں' علی وہیں کھڑا تھا 

'کیونکہ اس نے جنید کو مارا تھا اور تو بجائے بدلہ لینے کے اسکی حمایت کررہا ہے' میر چلتا ہوا علی کے سامنے کھڑا ہوا

'شکر مناؤ میر کہ تم سہی سلامت میرے سامنے کھڑے ہو میں جنید کو کھو چکا ہوں لیکن تمہیں نہیں کھونا چاہتا بہت کچھ لالہ رخ کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور جو چھپا ہے وہ بہت بھیانک ہے یار اور مجھے اچھے سے پتا ہے کہ اب مجھے کیا کرنا ہے' علی میر کو کنفیوز چھوڑتا ہوا باہر نکل گیا میر بھی اسکے پیچھے باہر آیا لیکن جب تک وہ جاچکا تھا 

💕💕

اہم آہم انعم رئیس آپ لوگوں کو پھر سے فلیش بیک میں واپس لے جانا چاہتی ہیں تو چلتے ہیں فلیش بیک کی طرف

یہ منظر آج شام کا ہی ہے جب علی کے کیبن میں دو تین غنڈے اندر گھسے

'آپ لوگ کون ہیں' علی نے آرام سے پوچھا

'تم جنید فروز غزالی کے دوست ہو' ان میں سے ایک نے پوچھا

'ہاں میں ہی ہوں' علی حیران ہوا

'تمہیں ہی اس دن جنید نے کال کی تھی نہ' اسنے سیدھا سیدھا پوچھا

'ہاں اس نے مجھے ہی کال کی تھی لیکن کیوں' علی سنجیدہ سا انہیں دیکھ رہا تھا

'تو اب کان کھول کر سنو تیرا یہ دوست تو مر چکا ہے لیکن اگر تو اسکی موت کے بارے میں کچھ جانتا ہے تو بھوک جا نہیں تو تیرا ایک دوست اور بھی ہے……' وہ اسے دھمکی دے رہے تھے

'کیا مزاق ہے یہ' علی دھاڑا 

'مزاق تو ہم کرتے نہیں ہیں سیدھا ٹھوکتے ہیں' وہ اسے دھمکی دے کر چلے گئے تھے پیچھے علی پریشان ہوگیا تھا وہ میر کو پھر بھی سب سچ بتانا چاہتا تھا اسلئے ہوسپٹل سے پولیس اسٹیشن جانے لگا کہ اسے راستے میں ہی کڈنیپ کرلیا گیا

اسلئے علی نے میر کو کچھ نہیں بتایا تھا

💜💜

شبانہ بیگم نے پری اور فصیحہ کو ایک ساتھ سب بتادیا تھا لالی کے بارے میں دونوں ہی شوک تھیں پری کو اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا کہ لالی اسکی بہن نہیں ہے فصیحہ بھی اچانک حیران ہوئی تھی اس سچ پر اسنے بھی شبانہ بیگم کو لالی کے بارے میں سب بتایا ارمان کے بارے میں بھی 

لالہ رخ کی ماں کؤثر بیگم زمان صاحب کی دودھ شریک بہن تھیں وہ خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ خوبسیرت بھی تھیں 

وہ اپنے وقت کی وہ حسین لڑکی تھیں جنہوں نے اسابیل عثمانی کے دل کی سلطنت پر حکمرانی کی تھی 

اسابیل عثمانی بگڑا ہوا رئیس زادہ جسے کؤثر کی خوبسیرتی نے بدلہ تھا 

کؤثر بھی اسابیل سے محبت کرنے لگی تھی لیکن گھر والے نہیں مانے تھے اسلئے وہ گھر سے بھاگ گئیں تھیں 

اسابیل نے انہیں بےشمار محبت سے نوازا تھا شادی کے دو مہینے بعد کؤثر نے ممتا کی دہلیز پر قدم رکھا ایک سال بعد خدا نے انہیں بیٹی کی رحمت سے نوازا جسکا نام لالہ رخ رکھا تھا لیکن لالی کی پیدائش کے دو مہینے بعد کؤثر اور اسابیل عثمانی ایک ایکسیڈنٹ میں خالقِ حقیقی سے جا ملے 

لالہ رخ چونکہ ایک گھر سے بھاگی ہوئی بیٹی کی اولاد تھی اس لئے سب نے اسے پالنے سے انکار کردیا تھا ایسے میں شبانہ بیگم اور زمان صاحب نے اس ننھی سی گلابی گڑیا کو پالا تھا جب دانیال صرف پانچ سال کا تھا 

شبانہ بیگم نے لالہ رخ کو اسکی حقیقت سے پہلے ہی آشنا کردیا تھا لیکن لالی تو بس شبانہ بیگم کو اپنی ماں مانتی تھی

💜💜

لالہ رخ اکیلی تنہا اس سنسان سڑک پر چل رہی تھی سوچ رہی تھی کہ رات ہوگئی ہے کہاں جائے کون پنہا دیگا 

وہ سوچ رہی تھی کہ اچانک اسکے سامنے گاڑی آکر رکی وہ دو قدم پیچھے ہوئی نظریں اٹھاکر دیکھا تو میر تھا

لالی نے اسے نظرانداز کرکے آگے بڑھنا چاہا لیکن میر نے فرہت سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے گاڑی سے لگایا اور دائیں بائیں دونوں بازو رکھ کر اسکے جانے کی  راہیں بند کیں

'اس بدتمیزی کا مطلب' لالی غررائی

'تم نے مجھے دھمکی دی' میر نے ایک ہاتھ سے اسکا منہ دبوچا 

لالی نے اسکا ہاتھ جھٹکا اور بولی

'اب یہ مت کہنا کہ آن ڈیوٹی پولیس والے کو دھمکی دینا جرم ہے' لالی منہ بسور کر بولی

'جرم تو تم نے کیا ہے' میر کی آنکھیں لہو رنگ ہوئیں 

'ثبوت ہے تو آئیں ہتھ کڑی لگائیں اور لے جائیں' لالی ہاتھ سینے پر باندھ کر آرام سے بولی 

'ثبوت تو میرے پاس…'

'اوہ پلز ایس ایس پی صاحب کون سے دور میں جی رہے ہیں یہ کوئی ثبوت نہیں ہیں صرف آپ کو بھٹکانے کی سازش ہے آنکھیں کھول کر بیٹھیں لوگ آپکی ناک کے نیچے بیٹھے کھیل کھیل رہے ہیں اور آپ…' اس نے بات ادھوری چھوڑی 

میر اس سے دور ہٹ کر آگے بڑھنے لگا لالی نے گہری سانس لی اور بات شروع کی

'وہ ایی…ایک منٹ' لالی نے اسے روکا تو اسنے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا

'ہمارے پاس کوئی گھر نہیں ہے ابھی رات گزارنے کے لیے سر پر چھت مل جائے تو…' لالی نے اسکی طرف دیکھا کیسا رشتہ تھا دونوں کے درمیان بیوی تھی وہ اسکی لیکن اپنی اوقات سے واقف تھی بچپن سے اسے خوددار رہنا سکھایا تھا 

میر جواب دینے کے بجائے گاڑی میں بیٹھ گیا اور ہارن دیا مطلب بیٹھو 

لالی اتنی ہی بات پر خوش ہوگئی تھی کہ اسے رہنے کیلئے جگہ تو ملی پھر چاہے وہ ایک رات کیلئے ہی کیوں نہ ہو صبح وہ اپنے لئے کوئی جگہ تلاش کرکے گی

وہ فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی اور اپنے بیگ کو اپنی گود میں رکھا کافی بھاری تھا

💜💜

میر اور لالی کا نکاح نامہ علی کے پاس تھا 

علی میر کے لہجے کو سوچ رہا تھا کہ ناجانے وہ لالی کے ساتھ کیا کرے گا لیکن تھوڑی دیر پہلے میر کا میسج ملا تھا اسے جس میں اسنے لالی کا اپنے ساتھ ہونے کا لکھا تھا علی اب پر سکون ہوگیا تھا 

"علی" نجمہ بیگم نے علی کے روم کا دروازہ کھٹکھٹایا

'جی امی جان' علی نے دروازا کھولا

'تم اپنا کھانا پینا کم کب کروگے' نجمہ بیگم نے اسکو ایک تھپڑ جڑا

'اب آپ بھی میرے کھانے پر نظر رکھنے لگیں' علی کو دورہ پڑا

'میں نہیں گھر کی ملازمہ پریشان آگئیں ہیں کام کرنے سے منع کررہی ہیں کہتی ہیں جنات کا بسیرا ہے تم میں' نجمہ بیگم نے اب اسکا کان پکڑ کر موڑا

'یار اب میں کیا کروں مجھے بھوک ہی اتنی لگتی ہے' علی نے اپنا کام چھڑاکر معصومیت سے کہا

'پتا ہے وہ کیا کہہ رہی تھیں کہ تمہاری شادی کردیں تاکہ تمہاری بیگم تمہارے نخرے اٹھائے اب میں کیا بتاؤں کہ تمہیں کوئی لڑکی دیتا بھی تو نہیں ہے' انہوں نے اس بات کی کثر بھی علی کو مار کر نکالی

'ارے یار کیوں مار رہی ہیں آپکا بیٹا اپنے لیے لڑکی خود پسند کرے گا' علی نے دانتوں کی نمائش کی 

'ہمم وہ بھی کھانے پینے کی شوقین ہوگی' نجمہ بیگم نے اسے ترچھی نظروں سے گھورا

'لگتا تو نہیں ہے' اسکے منہ سے نکلا

'آہم آہم تو ہمارے بیٹے نے پسند کررکھی ہے' نجمہ بیگم نے ہنسی دباتے ہوئے کہا 

'چھوٹو سی ہے کالج کی سٹیوڈینٹ ہے معصوم سی' علی کی آنکھوں پر پری کا عکس لہرایا

'چھوٹی سی ہے کوئی بات نہیں میرے بیٹے کے ساتھ جچے گی اور ویسے بھی تم اتنے پیارے نہیں ہو' نجمہ بیگم نے اسے چھیڑا

راستہ نہ جانے کیوں لمبا ہوگیا تھا لالی سوچتے سوچتے سوگئی تھی صبح سے لڑ لڑ کر جواب دے دے کر تھک گئی تھی سر میں بے تحاشہ درد تھا وہ قسمت کے جال میں پھنسی تھی اس بار ابھی تو اسے بہت لڑنا تھا

میر نے ایک نظر اسکے سوئے ہوئے وجود پر ڈالی اور گہرا سا مسکرا کر یوٹرن لیا اب گاڑی پولیس اسٹیشن کے راستے پر گامزن تھی

اس وقت پولیس اسٹیشن میں ڈیوٹیز چینج ہوچکی تھیں اور اب دوسرے آفیسرز آگئے تھے جیسے ہی سب کو میر کے آنے کی اطلاع ملی سب کے سب الرٹ ہوگئے تھے

میر کی گاڑی پولیس اسٹیشن کے باہر روکی اپنی گاڑی سے اترا پھر لالی کی طرف آیا اسکا بیگ کندھے پر لٹکایا اور لالی کو بازؤوں میں اٹھاکر پولیس اسٹیشن میں داخل ہوا

'سر' سب نے اسے دیکھ کر سیلیوٹ کیا میر کے بازوؤں میں ایک لڑکی کو دیکھ کر سب لوگ حیران ہوئے تھے لیکن کسی میں پوچھنے کی ہمت نہیں تھی

میر روکا اور چار لیڈیز کونسٹیبلز اور اسپیکٹر ابراہیم کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا وہ سب اسکے پیچھے چل دیے 

میر لالی کو لے کر ٹارچر سیل کی طرف بڑھا تھا دروازے کے سامنے روکا تو اسپیکٹر نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا میر نے آگے بڑھ کر لالی کو ایک کرسی پر بٹھایا 

'اسکے ہاتھ پاؤں باندھو منہ پر بھی ٹیپ لگاؤ' میر نے حکم جاری کیا

'پر سر اسکی کیا ضرورت ہے لڑکی ہے صفتِ نازک ہمارا کیا بگاڑے گی' ابراہیم کو وہ لڑکی معصوم لگی تھی سوئی سوئی سی بلکل گڑیا لگ رہی تھی

'ابھی سو رہی ہے جب اٹھے گی تب خود دیکھ لینا' میر نے اسکی بات کو ہوا میں اڑایا 

'اور آپ دونوں' میر نے دو لیڈیز کونسٹیبلز کی طرف اشارہ کیا 'یہ کوئی معصوم لڑکی نہیں ہے قتل کیا ہے اس نے اس لئے کڑی سے کڑی نظر رکھی جائے اس پر جسم ریمانڈ بھی کرنا پڑے تو اجازت ہے اس حد تک ٹارچر کرو کہ اپنا جرم قبول کرلے اور آپ دونوں باہر رات بھر اسکی نگرانی کریں گی ابھی اسے سونے ہی دیں' میر نے دوسری دو لیڈیز کونسٹیبلز کو بھی آرڈر دیا اور باہر نکل گیا پیچھے ابراہیم بھی تھا

'سر کس کا قتل کیا ہے انہوں نے' ابراہیم نے میر کو دیکھ کر پوچھا

'اُسکا قتل کیا ہے جو میرے لئے سب سے زیادہ خاص تھا' میر کی آنکھوں میں دکھ تھا

'مطلب کسی لڑکی کا کیا ہے' ابراہیم نے پرسوچ انداز میں کہا

باہر کھڑی ایک کونسٹیبل کی ہنسی نکل گئی مطلب میر اور ایک لڑکی امپوسیبل

میر نے دونوں کو خونخوار نظروں سے گھورا ابراہیم گڑبڑا گیا

'وہ نن…نہیں سر مم…مطلب اااچھا ٹھیک ہے نہیں پوچھوں گا' وہ میر کے غصے سے ڈر گیا تھا کہیں ایک آت لگا ہی نہ دے

میر لالی کو وہاں چھوڑ کر اب اپنے فلیٹ چلا گیا 

💜💜

پری اپنے کمرے میں بیٹھی لالی کو یاد کرررہی تھی اسے دو ہفتے پہلے کی وہ کال یاد آئی جو لالی کے پاس آئی تھی رات کے وقت وہ لالی کے کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی جب کال کی آواز آئی لالی نے کسی کا نام لیا تھا وہ کچھ ارمان ملک کہہ رہی تھی پھر نہ جانے کیا ہوا اتھا کہ وہ دوڑتی ہوئی باہر نکلی تھی اسکے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں پری اسکے پیچھے گئی لیکن جب تک وہ نکل چکی تھی 

پھر رات کے ایک بجے کوئی گھر میں داخل بھی ہوا تھا پری جگی ہوئی تھی لالی کے انتظار میں لیکن کسی انجان لڑکی کا گھر میں گھسنا اسکو ٹھٹکا تھا لیکن اسکے ساتھ لالی بھی تھی وہ دروازے کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی اسلئے رابی کو دکھی نہیں تھی

وہ دیکھنا چاہتی تھی پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا ہوا ہے اور یہ لڑکی کون ہے پری کو نہ جانے کیوں لگ رہا تھا کہ اس نے اس لڑکی کو کہیں دیکھا ہے وہ اس سے پہلے کچھ پوچھتی پری کی نظر اسکے جوتوں پر پڑی جس میں ایک اسمول سائز گن تھی 9mm بلٹ والی وہ ڈر گئی تھی اسلئے خاموش کھڑی رہی ایک طرف لالی کی فکر کھائی جارہی تھی اور دوسری طرف ڈر تھا وہ لالی نہیں تھی پری تھی ایک سیدھی سی لڑکی جہاں ہلکی سی فائز کی آواز آتی اسکا ننھا سا دل کانپ جاتا اور یہاں تو گن تھی

پری کو اب یاد آیا کہ وہ لڑکی وہی تھی جس سے لالی کی لڑائی ہوئی تھی 

'لالی تم میری ہی بہن ہو امی غصّے میں کچھ بھی بول دیتی ہیں اور تمہیں پتا ہے بھائی وہاں سے واپس آکر بہت روئے تھے میں نے دیکھا تھا انہیں روتے ہوئے اور تمہیں پتا ہے جس سے تمہارا نکاح کیا ہے بھائی انہیں جانتے ہیں تبھی انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ وہ بہت اچھے ہیں' پری لالی کی تصویر سے باتیں کررہی تھی

'لالی امّی جب سے وہاں سے آئی ہیں کمرے سے نہیں نکلیں بابا بھی گھر نہیں لوٹے ابھی تک آفس میں ہیں تمہیں پتا ہے اگر انہوں نے تم سے اپنی سرپرستی واپس لی ہے تو تمہیں اسکے بدلے ایک محافظ تو دیا ہے مجھے امی نے سب بتا دیا ہے میں انتظار کروں گی کہ کب آؤ گی تم واپس یہاں' 

پریشے کو آج پتا چلا تھا کہ وہ اسکی بہن نہیں ہے اسکے تو ماں باپ بھی نہیں تھے اور تو اور اس کو یہ بات بچپن سے معلوم تھی لیکن نہ شبانہ بیگم اور زمان صاحب نے اسے کوئی کمی ہونے دی تھی اور نہ ہی لالی نے کبھی کوئی شکوہ کیا تھا

💜💜

'بس بہو ابھی آئی نہیں ہے بیٹے کو پہلے بھوک جائیں آپ' علی نے خفگی سے انہیں دیکھا

'بیٹا میں پہلے ہی کہہ رہی ہوں ایک دفعہ میری بہو آگئی نہ میں تمہاری طرف تو دیکھوں گی بھی نہیں' نجمہ بیگم نے علی پہلے سے ہی باور کروایا

'تبھی میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتا' علی تو اب باقاعدہ منہ پھلا کر بیٹھ گیا تھا

'اچھا بات مت بدلو تم جعلی ڈاکٹر…' وہ کہہ رہی تھیں کہ علی نے بات کاٹی

'واٹ میں جعلی ڈاکٹر' علی کو اپنی ڈگری یاد گئی تھی کیسے اسنے دن رات محنت کرکے حاصل کی تھی

'ہاں تم زرا اپنا کھانا پینا بند کرو ورنہ میں کچن میں تالے لگوادوں گی' نجمہ بیگم نے اسے گھرکا

'یار جتنا کھاتا ہوں اس سے زیادہ تو کما لیتا ہوں پھر بھی' علی نے صدمے سے انہیں دیکھا

'احسان کرتے ہو ہم پر' 

'نہیں'

'تو اس بکواس کا مطلب' انہوں نے آئیبرو اچکا کر پوچھا

'لڑکیوں سے جتنا امپوسیبل ہوتا ہے آج میں مان گیا' علی نے سر کو خم دے کر کہا

'اچھا ہے مستقبل کے لیے بہتر رہے گا' انہوں نے آنکھ دبا کر کہا

پھر تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد وہ چلی گئیں تھیں علی کے بھی سر میں درد تھا اسلئے دوائی کی اور سو گیا

💜💜

صبح کے دس بج رہے تھے لالی ابھی تک سو رہی تھی میر اسکے بلکل سامنے بیٹھا تھا بیچ میں ایک ٹیبل رکھی تھی سورج کی روشنی کا رخ میر کے چہرے کی طرف تھا اسکی آنکھیں چمک رہی تھیں میر نے ایک کونسٹیبل کو اشارہ کیا تو اسنے ایک گلاس بھر کر اسکے منہ پر ڈالا 

ڈیوٹیز چینج ہوگئیں تھیں پھر سے وہی سارا پرانا اسٹاف تھا اس بار میر کے پیچھے حارث کھڑا تھا 

لالی کی آنکھ منہ پر پانی پڑنے کی وجہ سے کھلی تھی ہلکی ہلکی آنکھیں کھولنی چاہیں لیکن سامنے کچھ چیز بہت چمک رہی تھی اسنے صحیح سے دیکھنا چاہا لیکن ساری رات ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے گردن اکڑ گئی تھی درد کی ایک ٹیس اٹھی تھی 

میر اسکی ایک ایک حرکت کو دیکھ رہا تھا سمجھ گیا تھا اسکی گردن اکڑ گئی ہے لیکن پھر بھی اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا 

لالی نے اپنی آنکھوں کو کس کے میچ کر کھولا تو سامنے میر تھا نظریں اٹھاکر ادھر ادھر دیکھنا چاہا لیکن درد بے تحاشہ تھا

 گردن کو پہلے نیچے کیا پھر دائیں طرف موڑا اسکے بعد جھٹکے سے بائیں طرف موڑا ایک ٹک سی آواز آئی اور گردن سیدھی ہوئی پھر گردن کو دائیں بائیں کیا تو گردن کا درد ختم ہوگیا تھا 

 میر کے ہونٹ کے کونے میں ہلکی سی مسکراہٹ ابھری حارث اور کونسٹیبل نے حیرت سے لالی کو دیکھا اسکو درد نہیں ہوتا کیا

 اب لالی نے آنکھیں کھول کر ادھر ادھر دیکھا تو میر کے پیچھے حارث تھا اور اسکے برابر میں وہی لیڈی کونسٹیبل ماریہ کھڑی تھی لالی ان دونوں کو دیکھ کر مسکرائی ہاتھ اٹھانا چاہا لیکن ہاتھ تو بندھے ہوئے تھے اس نے حیرت سے اپنے ہاتھوں کو دیکھا

 'ہمارے ہاتھ کیوں باندھے ہیں اور ہم کہاں ہیں' آواز میں ہلکا سا خمار تھا 

 'پولیس اسٹیشن میں' میر کی آواز گونجی

 'آپ پولیس اسٹیشن میں رہتے ہیں' لالی کی حیرت کی وجہ سے نیند اور ساری خماری اڑن چھو ہوئی

'نہیں لیکن اب تم یہیں رہو گی 

 You are under arrested' 

میر کی بات پر لالی کی آنکھیں حیرت سے کھلیں

'کیا بکواس ہے یہ کس خوشی میں ہمیں گرفتار کیا ہے' لالی غررائی

'مس لالہ رخ اپنی آواز کو زرا ہلکا رکھو نہیں تو تمہاری سزا میں اضافہ ہوسکتا ہے' میر پھنکارا

'کونسی سزا میر گیلانی ہم نے جب کوئی قتل کیا ہی نہیں تو کیسی سزا اور کونسی قید' لالی چیخی 

'وہی قید اور وہی سزا جو تم نے قبول کیا ہے' میر دھاڑا

'تو تم نے بھی زبردستی ہم سے قبول کروایا تھا تمہیں کیا لگتا ہے ہم پاگل ہیں یا بیوقوف ہیں جو تمہاری چالوں کو سمجھ نہیں پائیں گے' لالی کی بات پر میر کا دماغ گھوما اس نے حارث اور ماریہ کو باہر بھیجا اور ایک جھٹکے سے اپنے اور اسکے درمیان رکھی ہوئی ٹیبل کو پٹخا 

'واہ ڈرانا چاہتے ہو ہمیں تو یاد رکھو ہم لالہ رخ ہیں بندھے ہاتھوں سے بھی سامنے والے کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں' وہ استہزائیہ ہنسی بس میر کا ضبط یہیں تک تھا ایک ہاتھ اٹھا اور لالہ رخ کا منہ بند ہوا

ٹارچر سیل میں ایک آواز گونجی

'چٹاخ'

تھپڑ شدید تھا میر کا ہاتھ کانپ گیا تھا لالہ رخ کی آنکھ سے ایک آنسو گرا ہونٹ پھٹ گیا تھا لیکن وہ بھی کہاں چپ ہونے والی تھی

'شرم نہیں آتی تمہیں اپنی مردانگی دکھاتے ہوئے لگتا ہے تمہاری ماں نہیں ہے تبھی تمہیں عورتوں کی عزت کرنا نہیں آتی' لالی جانتی تھی اسکی ماں نہیں ہے علی نے بتایا تھا اسے

'خاموش' وہ دھاڑا 'اپنی اس غلیظ زبان سے میری ماں کا نام لیا تو تمہاری زبان کھینچ لوں گا' غصّے کی وجہ سے دماغ کی رگیں واضح ہوئیں تھیں

لالی مسکرائی

'رائٹ مسٹر ایس ایس پی جس طرح تمہیں دکھ ہوا نہ اس طرح ہمیں بھی دکھ ہوا تھا جب تم نے ہماری ماں کو غلط کہا تھا ہمارے نزدیک ہماری ماں نے صحیح کیا محبت کی تھی انہوں نے ایک پاک رشتہ بنایا تھا ڈیڈ سے تو کیسے ہم گندا خون ہوئے' اس کی آواز میں اب نرمی تھی اسکی بات سے میر کو اپنے سخت لفظوں کا احساس ہوا تھا لیکن معافی تو اس نے کبھی اپنی زندگی میں نہیں مانگی تھی

وہ ابھی اسکو اور کچھ کہتا کہ حارث بھاگتا ہوا اندر آیا وہ جس طرح بھاگ رہا تھا لالی اسکو دیکھ کر گہرا سا مسکرائی تھی 

'سر' حارث نے اسے اپنی طرف متوجہ کروایا 'سر یہ دیکھیں' حارث نے موبائل پر کوئی وڈیو لگائی ہوئی تھی جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی میر کے سر پر بمب پھٹ رہے تھے اس نے ایک نظر لالی کو دیکھا جو اپنی اطمینان سے مسکرارہی تھی 

❤️

لالی جو کل رات اکیلے نکلی تھی دراصل وہ تو میر کی عزت خاک میں ملانے نکلی تھی اسنے اس پر الزام لگایا تھا تو اب باری اسکی تھی 

اپنے اسکارف سے پہلے نقاب کیا اسکے بعد موبائل نکالا اور وڈیو سٹارٹ کی اور رونے کا بہترین ڈرامہ کیا

"ہم آپ سب کو آج ایس ایس پی میر کے بارے میں کچھ سچ بتانا چاہتے ہیں میر گیلانی نے ہم سے زبردستی نکاح کیا ہے ہمارے ماں باپ کو دھمکایا اس نے اور اور وہ ہر لڑکی کو اسی طرح بدنام کرتا ہے پولیس کی وردی تو صرف ایک ڈھونگ ہے اسکے پیچھے اسکا ایک غلیظ چہرہ چھپا ہے میں نے دیکھا ہے وہ ہمیں روز مارتا ہے آج ہم آپ لوگوں سے مدد مانگنے آئے ہیں ورنہ کیا پتا وہ یہ وڈیو دیکھ کر ہی ہمیں جان سے ماردے ہم اپنا نکاح نامہ آپ سب لوگوں کو دکھائیں گے" کچھ ہی دیر میں وڈیو کے ساتھ نکاح نامے کی تصویر بھی اپلوڈ کردی تھی سوشل میڈیا پر نکاح نامے کی تصویر لالی نے علی سے لے لی تھی 

لالہ رخ نے اسی روڈ پر ایک زوردار قہقہہ لگایا تھا اور بولی

"اب یہ تو اب یہی سہی ہاہاہا سرپرائز ایس ایس پی میر گیلانی'' 

❤️

'کیا بکواس ہے یہ' میر لالی کے سامنے کھڑا تھا

'ہم کیا بولیں ڈارلنگ یہ سب سچ ہی تو ہے' لالی نے اسکی بات اسی کو لوٹائی

'تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری عزت پر ہاتھ ڈالنے کی' میر دھاڑا

'ہمت کی بات تو کرنا مت ہم کوئی عام لڑکی نہیں ہیں اگر تم بکواس کرسکتے ہو تو ہم بھی کرسکتے ہیں' لالی نے اسے جتایا 

'ماریہ' میر چیخا 

'سر' ماریہ بھاگتی ہوئی اندر آئی

'دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس اسکو اتنا مارو کے اسے پتا چلے کہ اسنے کس کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے' وہ کہتا ہوا باہر نکلا کیونکہ اب میڈیا آنا شروع ہوگیا تھا ڈی ایس پی اور کمیشنر صاحب بھی آگئے تھے

'اوہ جسم ریمانڈ' لالی بڑبڑائی اطمینان میں زرا بھی فرق نہیں آیا تھا 

💜💜

بی جان اور باقی سب نیوز چینل کے سامنے بیٹھے تھے ناقابلِ یقین تھی یہ باتیں پہلی تو یہ میر نے شادی کرلی دوسرا ایک لڑکی پر بےجا تشدد اور تیسرا اسکی وردی پر الزام 

سب خاموش بیٹھے میر کو دیکھ رہے تھے جس کے بائیں جانب علی کھڑا تھا اور دائیں جانب حارث

'سر کیا یہ سب سچ ہے' ایک رپورٹر نے سوال کیا

'دیکھیں مس میں اس لڑکی کو نہیں جانتا اور یہ جو کوئی بھی ہے یقیناً یہ کوئی مجرم ہے یا میرا کوئی دشمن ہے جو میری وردی کے پیچھے پڑا ہے' میر نے تحمل سے بات مکمل کی ورنہ جتنے غصّے میں وہ تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لالہ رخ کو آگ لگا دیتا 

'سر لیکن کوئی لڑکی اپنی عزت پر بات کیوں آنے دے گی' ایک اور سوال

'دیکھیں ایسی لڑکیوں کو اپنی عزت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی انہیں صرف پیسوں کا لالچ ہوتا ہے' میر نے ایک دفعہ پھر صبر کا مظاہرہ کیا

'سر لیکن اس نے نکاح نامے کی تصویر بھی شائع کی ہے اسکے بارے میں آپکا کیا خیال ہے' ایک اور سوال

'غیر قانونی کام میں ایسے لوگ ایکسپرٹ ہوتے ہیں اور ویسے ابھی تک میں نے اس نکاح نامے کی تصویر نہیں دیکھی' میر نے آنجان بننے کی کوشش کی

'سر کیا آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں' ایک اور سوال

'جی نہیں میں اس لڑکی کو نہیں جانتا' میر نے سب کو دیکھ کر کہا

'ہوسکتا ہے سر آپ جھوٹ بول رہے ہوں اور وہ لڑکی سچ کہہ رہی ہو' جس نے بھی کہا تھا بڑا جگرے والا تھا میر کے سامنے ایسی بات علی تو بس سوچ کر رہ گیا 

'میں یہ بات بہت جلد کلئیر کردوں گا کہ یہ سب جھوٹ ہے' میر کے غصّے میں تیز رفتاری آرہی تھی

'لیکن سر اگر وہ لڑکی سچی نکلی تو' ایک اور سوال 

'میں نے کہا نہ بہت جلد یہ معاملہ سورٹ آؤٹ ہوجائے گا اب برائے مہربانی ہمارا اور اپنا وقت ضائع نہ کریں' میر دھاڑا کب سے بکواس برداشت کررہا تھا وہ ان لوگوں کو اور یہ لوگ تھے کہ سر پر چڑھے جارہے تھے 

❤️❤️

'افف کتنی بار کہا ہے اسے اپنے غصّے پر کنٹرول رکھا کرے لیکن وہی گدھے کی ایک ٹانگ' انصار صاحب بھی غصّے میں آگئے تھے

'صحیح کیا اس نے ارے شیر ہے وہ ہمارا ایسا غلط کام نہیں کرے گا' بی جان نے میر کی طرف داری کی

'میر کی ریپوٹیشن خراب ہورہی ہے اس طرح' فہیم صاحب نے تہمل سے بات کی

'یہی تو میں کہہ رہا ہوں لیکن اس کو غصّے کے علاؤہ کچھ نہیں آتا گدھا کہیں کا' انصار صاحب اب کسی کو فون ملانے لگے تھے

پیچھے بیٹھی ینگ پارٹی ہونکوں کی طرح ٹی وی دیکھ رہی تھے 

'سنسنی خیز خبر' وجدان بولا

'میر بھائی کی شادی' ریان بولا

'وہ بھی ایک لڑکی سے' عمر بھی بولا

'لڑکی پر تشدد' حمدان بھی بولا

'پولیس کی وردی بھی خطرے میں' سفیان بھی آگے آیا

'لڑکی کے ماں باپ کو بھی دھمکایا' بہروز بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا

'نکاح بھی زبردستی' سحرش محترمہ بھی بولیں

'وردی کے پیچھے چھپا غلیظ چہرہ' رواحہ محترمہ بھی ہیں

'جان سے جانے کا خطرہ وہ بھی میر بھائی سے' فاطمہ تو ابھی تک حیران تھی

'میر بھائی نے سارے غیر قانونی کام ایک ہی دن میں کر لیے' فریہا کو تو بس اپنے بھائی کی فکر ہوگئی تھی

'ویسے داد دینی پرے گی اس لڑکی کو کتنی ہمت والی ہے سیدھا سیدھا میر بھائی کی پہلی بیوی کو طلاق دینے نکلی ہے' حمدان کی آنکھوں میں ستائش ابھری

'ویسے کہیں یہ واقعی میر بھائی کی دوسری بیوی تو نہیں ہے سوکن والی حرکتیں اچھے سے انجام دے رہی ہے' ریان نے پرسوچ انداز میں کہا

'اسکا مطلب میر بھائی نے شادی کرلی ہئے' بہروز کو تو دوری پڑگیا تھا 

'بی جاااان' عمر چیخا بی جان اور فہیم صاحب کے ساتھ سب نے اسکی طرف دیکھا 'بی جان دیکھ دیکھ آپکا بیٹا بگڑا جائے اوہو اوہو بی جان کا بیٹا بگڑا جائے' عمر نے دو ڈھمکے لگائے 

بی جان نے کھینچ کر اسے جوتی ماری جو اسکے سر پر لگی 

'ہمارے تو سارے ہی بچے بگڑے ہوئے ہیں تو کیا ہم بھی ڈھمکے لگائیں' بی جان نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا

'لے بیٹا ہوگئی تیری تو' وجدان نے اسکے کان میں بولا عمر نے اسکو خون خوار نظروں سے گھورا تو سب کا قہقہ گونجا

💜💜

ماریہ کے ساتھ رات والی کونسٹیبلز بھی آگئیں تھیں 

لالی کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی ہاتھ ابھی بھی بندھے تھے 

'کیسے مارا تھا جنید کو' ایک نے اسکے بال جکڑے

'پہلے گولی ماری تھی اسکے بعد آگ لگاکر مارا تھا' لالی نے سچ بولا اندھیرے سے جھنجھلا رہی تھی وہ

'کیسی بےغیرت ہو مارکر اقرار کررہی ہو' ایک چیخی اور ساتھ ہی اسکو دو تھپڑ جڑے 

'اوہ ہیلو آنٹی ہم نے کسی کو نہیں مارا' لالی چیخی تو ایک نہ اسکے منہ پر پنج مارا 

(ابے یار یہ لوگ تو بلکل بچے کی طرح ماررہے ہیں ایسے کوئی مارتا ہے بھلا) لالی جھنجھلائی

'یار تم لوگوں کو تو مارنا بھی نہیں آتا ایسے لیتے ہیں ریمانڈ' لالی نے ان سے پوچھا

'تجھے بڑا پتا ہے کیا پہلے بھی کسی کو مار کر بھاگی تھی' ایک نے اسکا منہ جکڑا 

'دور ہٹو ایک منٹ' وہ دونوں پیچھے ہٹیں ایک باہر نکل گئی تھی قدموں کی آواز سے پتا چلا تھا 

لالی نے کرسی کو ہلکا سا ہلا کر ہاتھ آگے پیچھے کیے کہ رسیاں ڈھیلی پڑیں وہ مسکرائی 

'سنو پانی لانا' اس نے ایک کو کہا تو وہ پانی لینے چل دی بس اتنی سی دیر میں اسنے اپنی رسیاں کھولیں اتنے میں دونوں کی دونوں لوٹیں ایک کے ہاتھ میں بیلٹ تھا اور دوسرے کے ہاتھ میں گلاس لالی نے پھرتی سے اپنی پٹی ہٹائی

تو دونوں الرٹ ہوئیں اور اسکی طرف بڑھیں 

'اب آؤ' لالی نے قریب آنے کا اشارہ کیا

ایک نے اسکو پنچ مارنا چاہا لیکن لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور جھٹکا وہ چیخی حالانکہ اسکا ہاتھ نہیں ٹوٹا تھا لیکن درد ایسا تھا کہ آنکھوں سے آنسو آگئے

'ہم نہ عورتوں اور بچوّں پر ہاتھ نہیں اٹھاتے کیونکہ وہ کمزور ہوتے ہیں' لالی ایسے بولی جیسے خود وہ کوئی مرد ہو 

وہ بول رہی تھی کہ ایک مکا اسکی ناک پر پڑھا نظر گھما کر دیکھا تو وہ  دوسری لڑکی تھی جسکے ہاتھ میں بیلٹ تھا اس نے بیلٹ گھما کر اسکی ٹانگ پر مارا وہ لڑکھڑا گئی وہ ابھی سنبھلتی کہ اسنے اسے بیلٹ سے مارنا شروع کیا افف پولیس والی تھی اچھی خاصی ٹرینینگ تھی اسکی 

لالی کی آنکھیں ضبط کے مارے لال ہورہی تھیں وہ ایک بھی بار نہیں چیخی تھی اسکو یہ درد سہنا تھا لالی نے خود کو ہمت دلائی تھی

اسنے ایک اور دفعہ بیلٹ مارا لیکن لالی نے اس بار بیلٹ پکڑ لیا تھا اور کھینچا یہ سب اچانک تھا اسلئے وہ کونسٹیبل زمین پر گری لالی میں ہمت نہیں تھی اور برداشت کرنے کی اسنے اسکی ایک مخصوص رگ دبا کر بے ہوش کیا 

دوسری کونسٹیبل اسکی طرف بڑھی لالی نے ساری ہمت جمع کی اور کھڑی ہوئی اسنے لالی کے منہ پر پھر سے ایک مکا مارا اب کی بار خون بہہ نکلا لالی نے انگوٹھے سے ناک صاف کی اور اسکی طرف انگوٹھا کیا

'یہ کیا ہے؟' لالی نے اسے ایسے گھورا وہ بیچاری گھبراگئ

'وہ غلطی سے لگ گیا' لالی اسکی طرف بڑھتی کہ باہر کی طرف میر کو بلانے کیلئے بھاگی 

بھئی لڑکی پاگل تھی کچھ بھی کرسکتی تھی

لالی زمین پر بیٹھ گئی تھی ہاتھ بڑھا کر ٹیبل پر سے گلاس اٹھایا اور سارا کا سارا پانی ایک ہی سانس میں چڑھا گئی کمر میں بےتحاشہ درد ہورہا تھا 

💜💜

'سر وہ لڑکی سر' ماریہ ہانپتی ہوئی میر کے پاس آئی

'کون لڑکی' میر بھول گیا تھا 

'سر وہ لالہ رخ…' ماریہ بولتی کہ علی نے بات کاٹی

'واٹ لالہ رخ یہاں ہے وہ یہاں کیا کررہی ہے' اس کے سوالیہ نظروں سے میر کو دیکھا 

'سر پلز آپ چلیں' اسنے میر سے کہا

'چلو' علی بھی انکے پیچھے گیا

❤️

میر تو ٹھٹھک گیا تھا اندر کی صورتحال دیکھ کر علی کے اوپر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے تھے 

ایک کونسٹیبل بے ہوش پڑی تھی اور لالی دیوار سے سر ٹکا کر آنکھیں موندیں بیٹھی تھی کپڑے جگہ جگہ سے پھٹنے ہوئے تھے

'لالہ رخ' علی بھاگتا ہوا اسکے پاس پہنچا

لالی نے آنکھیں کھولیں

'یہ اسکارف ہاں یہ اسکارف لالی نے پہنا تھا اور یہ کس کے گھناؤنے چہرے کے راز فاش کررہی ہے' پری لالی کو پہچان گئی تھی 

پری دانیال زمان صاحب اور شبانہ بیگم نیوز چینل دیکھ رہے تھے پری نے سب کو اکھٹّا کیا تھا 

'میر گیلانی کہا ہے نہ اس نے' شبانہ بیگم کو لگا شاید سننے میں غلطی ہوئی ہو

'ہاں' دانیال نے گہری سانس لی

'لیکن یہ کر کیا رہی ہے ہو کیا رہا ہے یہ کونسا زبردستی کا نکاح اور یہ میر پر ایسے الزام کیوں لگا رہی ہے' شبانہ بیگم کنفیوژ ہوگئیں تھی

'ایک منٹ آپ لوگ ایس ایس پی میر گیلانی کو جانتے ہیں؟' پری نے نیوز چینل پر میر کی تصویر کی طرف اشارہ کیا

'لالہ رخ کا نکاح ہوا ہے اس سے' زمان صاحب سر جھٹک کر گویا ہوئے

'واٹ اس شخص کا آپ نے میری بہن سے نکاح کردیا' پری تو سکتے میں چلی گئی تھی کون نہیں جانتا تھا میر گیلانی کو اور اسکے بے رحم دل کو پری کو تو لالی کی فکر ہوگئی تھی 

'اس شخص سے کیا مراد ہے تمہارا' دانیال کو اپنے دوست کے بارے میں ایسے خیال پسند نہیں آئے تھے

'بھائی یہ شخص دل کی جگہ پتھر رکھتا ہے فیلنگ لیس ہے بلکل ہی اور میری بچاری بہن کو اس خشک انسان کے ساتھ باندھ دیا' پری نے رولا ڈالا

'لیکن لالی نے یہ کیوں کیا ہے جانتی بھی ہے یہ کہ کیا ہوسکتا ہے اسکے ساتھ میر بھائی اپنی ڈیوٹی کیلئے بے حد حساس ہیں' دانیال کو فکر جاگی

'بےوقوفی پر بے وقوفی نہ جانے یہ کہاں کہاں ہمارا نام ڈبوئے گی' شبانہ بیگم بھی پریشان ہوگئیں تھیں

'مجھے لگتا ہے لالی نے یہ سب کچھ سوچ کر کیا ہے اتنا بڑا خطرہ تو وہ کبھی مول نہیں لے گی' زمان صاحب لالی کی فطرت سے اچھے سے واقف تھے کسی سے بدلہ لینا ہو تو ایسا بدلہ لیتی تھی کہ سامنے والا حیران رہ جاتا اور دوبارہ اسے چھیڑنے کی غلطی نہ کرتا

'کل یہی لڑکا لالی پر الزام لگا رہا تھا اور آج یہ اس پر الزام لگا رہی ہے کہیں یہ لڑکا تو جھوٹ نہیں بول رہا تھا کل' شبانہ بیگم گھبرائیں کہیں کچھ غلط فیصلہ تو نہیں کردیا 

'نہیں اب ایسا بھی نہیں ہے یہ آدمی جتنا خشک مزاج ہے اتنا ہی اچھا بھی ہے آپ نے انکی بہادری کی داستانیں ابھی سنی نہیں ہیں' پری اب میر کی سائیڈ ہوگئی تھی

'ہاں امی صحیح کہہ رہی ہے یہ میر بھائی میرے دوست بھی ہیں کل ہی کی بات ہے لالی پولیس اسٹیشن گئی تھی تو انہوں نے ہی بتایا تھا مجھے' دانیال نے سب کے سروں پر دھماکہ کیا

'لالہ رخ پولیس اسٹیشن گئی تھی' زمان صاحب کا دل ڈوب کر ابھرا گھر کی عزت پولیس اسٹیشن میں یہ بات ہی بے چین کررہی تھی

دانیال نے سب کو ساری بات سے آگاہ کیا تو سب تھوڑا پرسکون ہوئے تھے لیکن ان لوگوں کو کیا پتا کہ یہاں تو معاملہ ہی پورا الگ ہے

💜💜

'لالہ رخ' علی بھاگتا ہوا اسکے پاس پہنچا

لالی نے آنکھیں کھولیں

'تم یہاں کیا کررہی ہو اور یہ سب کیا ہورہا ہے' علی نے لالی کو کرسی پر بٹھایا میر لب بھینچ گیا تھا اپنی کونسٹیبل کی یہ حالت دیکھ کر

'ایک منٹ علی بھائی' لالی نے ایک نظر علی کو دیکھ کر میر کی طرف متوجہ ہوئی

'آپ' شہادت کی انگلی سے میر کی طرف اشارہ کیا 'اپنی کونسٹیبلز کو لڑنے کے طریقے بھی سکھائیں زرا ایسے کوئی ریمانڈ لیتا ہے' لالی اٹھ کھڑی ہوئی اور ادھر ادھر چکر لگانے لگی حالانکہ جو اسکی حالت تھی اس میں کھڑا رہنا بھی مشکل تھا لیکن نہیں سامنے تو لالی تھی 

علی لالی کی بات پر ٹھٹھکا اور میر کو بے یقینی سے دیکھا جو لالی کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا

میر لالی کی طرف بڑھا اور اسکا گلا دبوچ کر دیوار سے لگاگیا وہ اس وقت شدید طیش میں تھا اپنے اوپر لگے الزامات سن کر

'میر کیا کررہا ہے چھوڑ اسے' علی چیخا ابھی آگے بڑھتا کہ لالہ رخ نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا

'میرا دل چاہ رہا ہے تمہیں زندہ گاڑدوں میرے دوست کو مار کر سکون نہیں ملا تمہیں' میر دھاڑا اپنی گرفت اور مظبوط کی لالی کی گردن پر لالی کا دم گھٹنے لگا تھا آنکھوں سے پانی آنا شروع ہوگیا تھا ہمت پھر سے ختم ہورہی تھی لیکن اسے ابھی بھی نہیں ہارنا تھا لالی نے نظریں اٹھاکر میر کی آنکھوں میں دیکھا جسکی آنکھیں بےانتہا لال تھیں سانسیں اکھڑنے لگی تھیں لالی کی 

لالی نے اپنا کانپتا ہاتھ اسکے سینے پر دل کے مقام پر رکھا اور دباؤ ڈالا میر کو لگا جیسے کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو ایک جھٹکے سے لالی کو چھوڑا وہ وہیں ٹیک لگاتی زمین سے بیٹھتی چلی گئی 

میر کا ہاتھ بے اختیار اپنے دل پر گیا تھا وہ پیچھے ہوتا ٹیبل سے ٹکرایا علی میر کی طرف بڑھا اور ایک نظر لالی کو دیکھا کیا کیا تھا اس نے ایسا 

'کیا ہوا میر' علی میر کی طرف بڑھا جو لالی کو دیکھ رہا تھا وہ گہرے گہرے سانس لے رہی تھی

'کک…کچھ نن…نہیں ہواا انہیں بببس ہلکا سا دل کی مقام پر ہاتھ رکھ کر ہلائیں ااایس ایس پی صاحب ٹٹٹ…ٹھیک ہو جائیں گے' لالی کو آکسیجن کی کمی لگی تھی فضا میں پاس پڑا اپنا بیگ اٹھایا پانی کی بوتل نکالی اور گٹاگٹ پانی کے گھونٹ چڑھائے

میر نے لالی کے مطابق دل پر ہاتھ رکھ کر ہلکا سا ہلایا تو وہ بلکل ٹھیک ہوگیا تھا یہ کیسا داؤ تھا یہ تو کبھی اس نے بھی نہیں سیکھا تھا ٹریننگ میں 

'کیا تم مجھے یہ بتاؤ گے کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟' علی نے میر سے پوچھا

'وہ لڑکی …وہ لڑکی کوئی اور نہیں یہی ہے' میر کی بات پر علی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اسنے بے یقینی سے لالی کی طرف دیکھا جو اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی 

'لالی' علی نے لالی کو بلایا

'ہماری کوئی غلطی نہیں ہے ہم نے تو بس رولز فولو کیے ہیں

According to Newton's third law every action has an equal reaction' 

لالی نے دانتوں کی نمائش کی 

علی اور میر دونوں کو ہی کچھ سمجھ نہیں آیا تھا

'مطلب یہ کہ انہوں نے کل ہمارے کردار پر کیچڑ اچھالی تھی ہم نے تو بس حساب برابر کیا ہے' لالی ایسے بولی جیسے اس کیلئے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی

علی کیا کہتا وہ تو دونوں کو دیکھ کر رہ گیا دونوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک تھے کہاں پھنس گیا تھا وہ

میر آگے بڑھا اور اپنے بیلٹ سے لگی ہتھ کڑی نکال کر لالہ رخ کے دونوں ہاتھوں میں پہنائی اور باہر لاکر اسے پولیس اسٹیشن میں بنے ایک ٹیمپرری جیل میں بند کردیا اس بار تو علی بھی کچھ نہیں بولا تھا اس بار وہ کچھ اور کرنے کا سوچ رہا تھا کیونکہ اب ایک ہی شخص تھا جو ان دونوں کو سنبھال سکتا تھا 

لیکن کون؟

💜💜

چھوٹو آیا تھا آج پولیس اسٹیشن سب کو چائے پلانے لالی کے واقعے کو بھی دو دن گزر گئے تھے وہ ابھی تک سلاخوں کے پیچھے تھی نیا نیا تھا اس کیلئے سب اس لئے عجیب تھا لیکن انٹرسٹنگ بھی تھا اپنے پڑوسی بھائی سے دوستی بنالی تھی نہ جانے کون تھا کل رات کو ہی آیا تھا نشے میں ٹُن تھا اس نے لالی کو چھیڑنے کی کوشش کی تھی لالی نے بھی گھما کر ایک مارا تھا تب سے وہ اسے لالی باجی کہہ رہا تھا

میر بھی اپنے کیبن سے نکل کر باہر کھڑا تھا اور کچھ فائلز چیک کررہا تھا تبھی چھوٹو اسکے لئے چائے لایا تھا 

'بھائی لڑکیوں کو بھی بند کرتے ہیں آپ؟' چھوٹو لالی کو دیکھ کر زور سے بول گیا 

لالی جو اندر بیٹھی بور ہورہی تھی اس نے بھی اسکی آواز سن لی تھی

'کیوں یہ مردانہ جیل ہے؟' جواب لالی کی طرف سے آیا تھا

'نہیں کبھی کسی لڑکی کو نہیں دیکھا تھا یہاں اسلئے' چھوٹو نے سر کھجاتے ہوئے کہا

'ارے اس میں کونسی کوئی بڑی بات ہے اب دیکھ لو اور شوق پورا کرلو' لالی بات کو بڑھاوا دینا چاہتی تھی 

'چھوڑو اسے تم اور چائے دو' میر نے چھوٹو سے کہا تو چھوٹو نے چائے کا کپ آگے بڑھایا

'چھوٹو زہر بھی ملادیتے تھوڑا آسانی ہوجاتی اوپر جانے میں' لالی کی زبان افف

'اور سب سے پہلے وہ چائے میں تمہیں پلاتا اور تم ایک کام کرو پھر سے ٹیپ لگادو اسکے منہ پر' میر نے ماریہ سے کہا

'لڑکی اپنی سہیلی کا حال بھول گئی ہو کیا ویسے کیسی ہے وہ اب' لالی مزے سے بولی تھی کیونکہ ماریہ کا رنگ سفید ہوگیا تھا کیسی لڑکی تھی پولیس والوں کو دھمکیاں دیتی تھی

'تمہیں پتا ہے ایک قاتل کی سزا کیا ہوتی ہے' میر نے سیل کے قریب جاکر سرسراتے لہجے میں کہا اس کے سوال سے پورا پولیس اسٹیشن خاموش ہوا تھا

'موت' لالی کا ایک لفظی جواب

'اسکے بعد بھی پرسکون ہو' میر کی بات پر لالی نے سر جھٹکا 

'نیا نیا قتل ہوا ہے نہ اسلئے' لالی لاپرواہی سے بولی 

اس انکشاف پر پورا پولیس اسٹیشن سکتے میں تھا یہ چھوٹی سی لڑکی قاتل ہے

'کب مانو گی کہ تم نے قتل کیا ہے' میر نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا

'ہم نے کوئی قتل نہیں کیا اگر کوئی ایسا ثبوت ہے جو ہمیں گناہگار ثابت کرتا ہے تو چڑھا دو پھانسی پر' ازلی لاپرواہی 

'لیکن تم نے ابھی کہا کہ نیا نیا قتل ہوا ہے' حارث جلدی سے بولا

'ہم نے کہا تھا نیا نیا قتل ہوا ہے نیا نیا قتل کیا ہے یہ نہیں' لالی کی بات پر سب کا سکتا ٹوٹا صحیح کہہ رہی تھی وہ

لالی نے دیکھا سب اسی کو دیکھ رہے تھے پھر اسے میر پر لگے الزام یاد آئے

'ویسے ایک بات بتائیں ایس ایس پی صاحب الزام ہٹ گئے کیا آپ پر سے' لالی نے آنکھوں کا فوکس میر کی طرف کیا

'نہیں کوئی الزام نہیں ہٹا ویسے تو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ سر کو کوئی لڑکی مل کیسے گئی خودکشی نہیں کی اس نے ابھی تک' حارث نے پرسوچ لہجے میں کہا میر نے اسے گھورا

'لڑکی مل نہیں رہی تھی تبھی زبردستی دھمکا کر شادی کی ہے ویسے بھی عمر ہوگئی ہے' لالی نے میر کا مزاق اڑایا پولیس اسٹیشن میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں گونجیں سب کی میر کا غصہ بڑھنے لگا تھا

'ہاں تو دیکھو زرا سفید بال نکل آئے ہیں' لالی نے اسکے کالے سیاہ گہنے بالوں پر چوٹ کی 

'عقل نے بھی ساتھ دینا بند کردیا ہے ورنہ اب تک اپنے اوپر لگے الزامات ختم کر چکے ہوتے کیوں ایس ایس پی صاحب' لالی نے میر کو اکسایا

میر ابھی اسے کرارا سا جواب دیتا کہ اسکا فون بجا اس نے فون کان پر لگایا کمیشنر کا فون تھا

💜💜

علی نے اپنا کام کردیکھایا تھا اب وہ سوچ رہا تھا کہ آگے کیا ہونا ہے ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر

میر نے لالی کو اسکے ماں باپ کے سامنے رسوا کیا لیکن لالی نے تو اسے پورے پاکستان میں بدنام کیا تھا 

اب وہ صرف دعا کرسکتا تھا کہ ان دونوں کی نیّا پار لگ جائے اور یہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ کھانے کا کام بھی بخوبی کررہا تھا 

اور دوسری طرف پری کے بارے میں بھی سوچ رہا تھا 

'پتا نہیں تم مجھے ملوگی بھی یا نہیں' علی اپنے 

خیالوں میں پری سے محو گفتگو تھا

اوہ میرے سپنوں کی رانی کب آئے گی تو

چلتی جائے زندگانی کب آئے گی تو

چلی آتو چلی آآآ 

وہ گنگناتا ہوا پری کی تصویر دیکھ رہا تھا جو اسنے چھپکے سے اسی دن لے لیتی جب وہ پری سے ملا تھا

💜💜

'ہمیں یقین نہیں آرہا کہ میر نے یہ حرکت کی ہے' بی جان سخت شرمندہ تھیں اپنی تربیت پر

'کیا کروں میں اس لڑکے کا سب سے زیادہ بھروسہ مجھے اس پر تھا لیکن اب لگ رہا ہے کہ سب سے بڑھا گدھا اور نالائق بھی یہی ہے' انصار صاحب بھی شرمندہ تھے

انکی بات پر وجدان حمدان اور ریان نے اپنے کالر کھڑے کیے 

انکے پاس میر کا نکاح نامہ آگیا تھا جو علی نے بھیجا تھا اور اس نے میر کے نکاح پر صداقت کی مہر لگائی تھی باقی یہ کہا تھا کہ وہ میر سے پوچھ لیں کیونکہ علی نے یہ سب بی جان کے سپرد کرنے کا سوچا تھا

بس تب سے نکاح نامہ ٹیبل پر رکھا تھا اور باقی سب اسکے پاس گول دائرہ بنا کر بیٹھے تھے اور ایک تنقیدی نظر نکاح نامے پر ڈال رہے تھے

'لڑکی اور میر کی عمر میں فرق ہے بلکہ یہ تو اپنی فری کی عمر کی ہے' ساجدہ بیگم نے نکاح نامے کو دیکھ کر کہا

'ارے یہ تو میری ایج کی ہیں مطلب اب کوئی اور بھی ہوگا جو میرے برابر کا ہوگا' فری خوش ہوگئی تھی کیونکہ سب اسے چھوٹا سمجھتے تھے 

' اب میں نے سوچ لیا ہے مجھے کیا کرنا ہے بہت کرلی اس گدھے نے اپنی من مانی' انصار صاحبِ باہر چلے گئے تھے انکے پیچھے شیراز صاحب اور فہیم صاحب بھی نکل گئے تھے

'بی جان اب کیا ہوگا' رواحہ آگے آئی

'اب ہونا کیا ہے بڑی بہو آگئی ہے اس گھر کی لیکن ابھی تک سسرال نہیں آئی بس اب اسے ہی بلوانا ہے' بی جان مسکرائیں 

❤️

باہر شیراز صاحب انصار صاحب اور فہیم صاحب ضروری بات کررہے تھے 

'نہیں مجھے نہیں لگتا میر کوئی ایسی حرکت کرے گا یقیناً کوئی وجہ رہی ہوگی' شیراز صاحب صاف گوئی سے بولے

'جو بھی ہو لیکن اسے ایک دفعہ ہم لوگوں کو تو بتانا چاہئے تھا اب بچے اتنے بڑے ہوگئے ہیں کیا جو ہم سے چھپانے لگے' انصار صاحب کو بھی میر کی طرح غصّہ بہت آتا تھا لیکن وہ اپنے غصے پر قابو پانا جانتے تھے

فہیم صاحب کا فون بجا تو دیکھا کمیشنر آصف کا فون تھا جو ان کے دوست بھی تھے 

انصار صاحب نے فون پر کمیشنر صاحب کو سب سمجھا دیا تھا وہ بھی مان گئے تھے کیونکہ میر کی ریپوٹیشن خراب ہوگئی تھی کافی اس لئے اسے سزا تو دینی تھی 

💜💜

دوسری طرف میر کمیشنر صاحب کی باتیں سن رہا تھا اور سخت شرمندہ ہورہا تھا لالی تو بس اسکے تاسرات دیکھ رہی تھی اور دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خوش ہورہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ اسے سسپینٹ کردیا ہے 

'سر لیکن'

'بس میر اب تم واپسی کا سامان پیک کرو اور گھر کیلئے نکلو شکر کرو کہ تمہیں سسپینٹ نہیں کیا بس ٹرانسفر کیا ہے' کمیشنر صاحب نے سخت لہجے میں کہا 

(یہ سب انصار صاحب نے کہا تھا کہ میر کا ٹرانسفر کردیں لاہور میں)

'اوکے سر' وہ اور کہہ بھی کیا سکتا تھا 

لالی نے اسے فون بند کرتے دیکھ جلدی سے بولی

'اوہ چلو بھئی مبارک ہو تم سب کو اس کھڑوس اور سڑیل انسان سے تم لوگوں کا پیچھا چھوٹ گیا' لالی خوشی سے چہکی 

'مطلب' حارث نے پوچھا

'ارے بھئی تمہارے سر کو سسپینٹ کردیا گیا ہے ایکسپائر ہوگئے اوہ ہمارا مطلب ہے کہ ریٹائر ہوگئے ہیں نہ اسلئے' لالی کی بات سن کر سب نے میر کو دیکھا 

'بکواس بند کرو میں سسپینٹ نہیں ہوا ہوں بس ٹرانسفر ہوا ہے' میر نے لالی کے ارمانوں پر بھر بھر کر پانی پھیرا 

لیکن اس بات پر تو پورے پولیس اسٹیشن میں خوشی کا ماحول چھا گیا تھا سب کے چہروں سے خوشی چھلک رہی تھی میر اپنے کیبن میں کیا گیا لوگ تو ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے تھے

لالی کو تو لگ رہا تھا جیسے آج عید ہے وہ سمجھ رہی تھی میر یہاں اسکو ایسے ہی چھوڑ کر چلا جائے گا پھر وہ رات کو بھاگ جائے گی جیل سے 

'دیکھا ہماری وجہ سے تم لوگ کتنا خوش ہوگئے نہ' لالی سب کو خوش دیکھ کر چہکی 'اوئے تم ڈرپوک پولیس والی ہمیں بھی کھول دو پھر ساتھ ملکر بھنگڑا ڈالیں گے' لالی ماریہ سے بولی

'سر ابھی گئے نہیں ہے یہیں ہیں تو سنو سب لوگ کل میری طرف سے پارٹی ہے' یہ حارث تھا

'ہوووووو' اور اسکی بات پر چیخنے والی لالی تھی 

'کیا ہورہا ہے یہاں جا رہا ہوں مرا نہیں ہوں' میر دھاڑا تو سب لوگ ادھر ادھر ہوئے 

💜💜

میر کے پاس بی جان کی کال آئی تھی 

'سلام بی جان' 

'وسلام میر' بی جان کی خفا خفا سی آواز تھی

'کیا ہوا سب ٹھیک ہے' میر نے پوچھا

'آپ ہمیں یہ بتائیں کہ آپ کی زندگی میں ہماری کوئی اہمیت بھی ہے' بی جان سخت خفا تھیں

'بی جان کیا ہوگیا ہے کیسی باتیں کررہی ہیں آپ جانتی ہیں کہ میرے لئے آپ کتنی ضروری ہیں' میر تڑپ ہی تو گیا تھا انکی بات پر

'تو اس طرح جلد بازی میں نکاح کرنے کی کیا تُک بنتی ہے' بی جان نے اسکے سر پر بمب پھوڑا 'ارے نہ کوئی ڈھول بجا نہ کوئی شہنائی بجی نہ ہم لوگوں کو بلایا ارے میاں ہم پوچھتے ہیں کہ نکاح تھا یا سوگ تھا' بی جان نے میر کو لتاڑا

'بی جان آپ کو کیسے پتا چلا' میر کے گلے میں گلٹی ابھری

'مطلب آپ ہمیں یہ بات بتانا ہی نہیں چاہتے تھے' بی جان نے اسکی چوری پکڑی

'ارے نننن…نہیں نہیں میں تو آپ کو ہاں سرپرائز کرنا چاہتا تھا آپ لوگوں کو بہت جلدی تھی نہ میری شادی کی' میر نے بات بنائی

'بیٹا یہ سرپرائز کرنے والے کام آپکے نہیں ہیں' وہ بھی بی جان تھیں

'بی جان میں آکر آپ کو سب سچ بتادوں گا' میر کو یہی ٹھیک لگا تھا

'نہیں اب ہم سب سچ اپنی بہو سے جانیں گے کل کے کر آئے گا اپنے ساتھ نہیں تو گھر میں گھسنے نہیں دیں گے' بی جان نے کہتے کے ساتھ ہی فون بند کیا

'کہاں پھنس گیا ہوں میں لالہ رخ تمہاری وجہ سے  میں ہر جگہ رسوا ہورہا ہوں اور وہاں سب کو کس نے بتائی یہ بات' میر کا سوچ سوچ کر سر پھٹ رہا تھا

دوسری طرف لالی لاشعوری طور پر میر سے ہی محو گفتگو تھی

(تم نے ہمیں رسوا کیا تھا بدلہ پورا ہوا میر گیلانی)

💜💜

میر نے دانیال کو میسج کرکے لالہ رخ کا سامان منگوا لیا تھا فلیٹ پر ہی رات ہوگئی تھی لیکن اسے کچھ ضروری کام سے پولیس اسٹیشن جانا تھا بلکہ وہ لالہ رخ کو بھی ساتھ ہی لانے والا تھا تاکہ وہ ریڈی ہوسکے کل جانے سے پہلے

دوسری طرف لالی رات میں بھاگنے کے منصوبے بنا رہی تھی

جیسے ہی رات کا ایک بجا پورا پولیس اسٹیشن خاموش ہوگیا تھا صرف دو تین لوگوں کی ڈیوٹی ہوتی تھی رات میں جو اس وقت سو چکے تھے بھاگنا آسان تھا

اس نے اپنے بالوں میں سے ہئیر پن نکالی اور سیل پر لگے تالے میں ڈالی اور چھ بار گھمائی اور ٹک سے تالا کھل گیا تھا 

واپس پیچھے گئی اپنی چادر اٹھائی اور سر پر اوڑھ کر نقاب کیا سیل سے باہر نکل کر تالا واپس سے بند کیا اسکے بعد ایویڈینس روم میں جاکر اپنا بیگ اٹھایا اور دبے پاؤں باہر نکلی

لالی نے ابھی گیٹ سے ایک قدم باہر ہی نکالا تھا کہ کسی نے اسے پیچھے کی طرف کھینچا 

میر پولیس اسٹیشن آیا تھا لالی کو سَیل میں نہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا تھا مطلب محترمہ بھاگ گئی ہیں وہ ابھی باہر نکلتا کہ ایویڈینس روم سے کسی کی آواز آئی وہ سمجھ گیا تھا وہ وہیں ہے اسکے کچھ دیر بعد وہ باہر نکلی اور میر کو نہ دیکھ سکی اس سے پہلے وہ پولیس اسٹیشن سے باہر نکلتی میر نے اسے پیچھے کی طرف کھینچا

لالی سنبھل نہ سکی اور میر کے سینے سے ٹکرائی 

میر پلر کے اوٹ میں تھا اسطرح کے اسکی کمر دیوار سے لگی تھی 

'آہ…کون ہو تم اور گئی رات کو پولیس اسٹیشن میں کیا کررہے ہو' لالہ رخ اندھیرے کی وجہ سے سامنے والے کو دیکھ نہیں پائی تھی

میر نے اپنے ہاتھ اسکی کمر پر باندھے اور پھر گھوم کر اسے دیوار سے لگایا ایک ہاتھ پلر پر رکھا جب کہ دوسرے سے اسکی کمر کو تھاما ہوا تھا 

'میں کون ہوں؟' وہ لفظ چبا کر بولا

'یاداشت چلی گئی ہے یا ہمیں گوگل سمجھ رکھا ہے' 

لالی کبھی خاموش نہیں ہوسکتی یہ بات تو طے تھی

'تو تم کون ہو؟' اب کی بار میر نے سوال پوچھا

'ہم ہم یہاں کے ایس ایس پی میر گیلانی کی بیوی ہیں' اسکے لہجے میں غرور جھلک رہا تھا

میر کچھ پل تو اسے ایسے ہی دیکھتا رہا پھر سر جھٹکا لیکن اسے نہیں چھوڑا تھا بلکہ اسکی کمر پر رکھے اپنے ہاتھ کو مضبوطی سے جھٹکا تو وہ اسکے اور نزدیک ہوئی لالہ رخ کے دونوں ہاتھ میر کے سینے پر تھے 

لالہ رخ ڈر گئی تھی اب تو آئے دن کچھ نہ کچھ نیا ہورہا ہوتا تھا اب پتا نہیں یہ کونسی مصیبت تھی 

لالی کو میر نے پہلی بار اتنے نزدیک سے دیکھا تھا ہلکی ہلکی سی روشنی پڑ رہی تھی اسکے چہرے پر وہ کتنی معصوم تھی اب کی بار تو میر کا دل کہہ رہا تھا یہ قتل نہیں کرسکتی لیکن وہ تو صدا کا پولیس والا ثبوتوں پر بھروسہ کرتا تھا 

'دور ہٹو کیا بے ہودہ حرکت ہے یہ ہم اب…' وہ کچھ کہتی کہ میر نے اس پر اسی کا حربہ آزمایا مخصوص رگ دبا کر بے ہوش کیا 

وہ چکراکر گری میر اسے اپنی باہوں میں اٹھا کر گاڑی میں لایا فرنٹ ڈور کھولا اور اسے بٹھایا پھر اسکا سیٹ بیلٹ لگایا اور پھر خود ڈرائیونگ سی سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کی اور فلیٹ کے راستے پر ڈالی 

💜💜

وہ فلیٹ کے باہر کھڑا تھا دروازہ بند تھا لالی کو نیچے اتارا اور ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا اور اسکے دانوں بازو اپنی گردن میں ڈالے وہ تو شکر تھا کہ لوگ سوگئے تھے ورنہ آج اسکی عزت کا کباڑہ ہونا تھا 

دروازہ کھولا اور لالی کو دوبارہ گود میں اٹھایا اور اندر داخل ہوا اپنے روم میں گیا اور لالی کو لٹایا اس پر کمفرٹر ڈالا اور باہر آگیا 

ابھی وہ صوفے پر بیٹھا ہی تھا اسکا فون بجا علی کا فون تھا

'میر' علی کی آواز سنائی دی

'ہاں بولو' میر تھکا تھکا سا بولا

'کل تم دونوں کے ساتھ میں بھی جاؤں گا' علی نے آرام سے کہا

'کیوں'

'میں لالی کے معاملے میں تم پر بھروسہ نہیں کر…' وہ ابھی کچھ کہتا کہ میر نے بات کاٹی

'تمہیں کیسے پتا کہ میں کل واپس جارہا ہوں اور لالی بھی میرے ساتھ ہوگی' میر الجھا ' تم نے  نکاح کے بارے میں سب کو بتایا ہے ہے نہ' میر بات کی تہہ تک پہنچ گیا تھا

'ہاں کیونکہ میں جانتا ہوں تم ایک نمبر کے بددماغ شخص ہو کہیں اسے جان سے ہی نا ماردو' علی چبا چبا کر بولا

'اچھا ٹھیک ہے باقی باتیں کل ہوں گی اللّٰہ حافظ' میر نے جلدی سے فون کاٹا 

صبح کے سات بج رہے تھے ان لوگوں کو بائے روڈ لاہور جانا تھا علی بھی پہنچنے والا تھا لیکن لالی محترمہ ابھی تک سو رہی تھیں میر نے پوری رات لاؤنج میں سو کر گزاری تھی 

میر جانتا تھا وہ نہیں اٹھے گی اسے اٹھانا پڑے گا لیکن اسے عجیب لگ رہا تھا کہ وہ کیسے

میر نے پہلے تو ڈور نوک کیا ایک بار دو بار تین بار یہاں تک کہ اس نے لگاتار ڈور نوک کرنا شروع کردیا تھا لیکن وہ نہیں اٹھی پھر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو دیکھا وہ بیڈ کے بلکل بیچ میں کمفرٹر میں گھس کر سو رہی تھی اور ہاتھ پیر چلا رہی تھی بلکل بچے کی طرح شاید وہ خواب میں بھی لڑ رہی تھی 

میر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اسکے پاس پہنچا ایک گھٹنا فولڈ کرکے بیڈ پر رکھا اور ہاتھ بڑھا کر اسکا کمفرٹر ہٹایا تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی

'لالہ رخ' میر نے پکارا

لالی جو خواب میں بہت سارے بلّی کے بچوں کے ساتھ بھاگ دوڑ کررہی تھی کبھی انہیں پکڑ رہی تھی کبھی انہیں پیار کررہی تھی اچانک اسے اپنے نام کی آواز آئی

'ارے بلّی کے بچے تم نے بولنا کب سے شروع کیا' وہ معصوم سا چہرہ بنا کر نیند میں بولنے لگی 

میر کو لگ رہا تھا وہ شاید خواب میں کسی کو مار رہی ہے لیکن یہ تو بلی کے بچے تھے اسنے تاصف سے سر جھٹکا اور پھر بلایا

'لالہ رخ اٹھ جاؤ' میر اب تھوڑا سا اونچا بولا تو لالی نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا 

'بلی یہ تم کھڑوس انسان میں کب سے ملنے لگیں' وہ ابھی بھی خواب کے زیرِ اثر تھی

'کھڑوس' وہ زیرِ لب بڑبڑایا اور پاس پڑے جگ سے گلاس میں پانی ڈالا اور سارا پانی اسکے منہ پر ڈالا

'آہ…افف پری کیا مصیبت ہےےے' لالی چیخی 

'لالہ رخ' میر بھی چیخا

لالی نے جلدی سے آنکھیں کھولیں اور سامنے دیکھا اور پھر چاروں طرف نظریں دوڑائیں اور منہ سے بے ساختہ نکلا

'یہ کہاں آگئے ہم' لالی نے میر کو دیکھا جو اب اسکے برابر میں بیٹھ گیا تھا لالی تھوڑا پرے کھسکی 

'میرا گھر ہے یہ' میر نے اسکو کھسکتا دیکھ کیا تھا

'تو ہم کیا کریں' لالی نے اسکی طرف دیکھا

'تمہارا بیگ وہ رہا کپڑے نکالو اور جاکر ریڈی ہو تم میرے ساتھ جا رہی ہو' میر نے اس کے سر پر دھماکہ کیا

'کک…کیا ہم کہیں نہیں جائیں گے' لالی کے لہجے اور آنکھوں میں خوف ابھرا میر نے پہلی بار اسکا سہما ہوا انداز دیکھا تھا 

میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے اوپر آگری میر نے اپنے ہاتھ سے اسکی کمر مضبوطی سے تھامی 

'تمہیں پتا ہے رات کو تمہیں کون لایا تھا یہاں' میر نے سرسراتے لہجے میں کہا

لالہ رخ ٹھٹکی کل رات ہاں کل رات تو وہ جیل سے بھاگ رہی تھی پھر کوئی اس سے ٹکرایا تھا لیکن کون

'میں لایا تھا اور پتا ہے رات کو میں تمہارے ساتھ سویا تھا' میر کے ہاتھ اسکی کمر سہلا رہے تھے وہ ڈرگئی تھی کل رات کا کوئی لمحا اسے یاد نہیں تھا کیا ہوا تھا 

'جج…جھوٹ بول رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا' لالی خوف زدہ سی بولی وہ یہ تک بھول گئی تھی کہ اسکے سر پر اسکارف ہے اسکے ارد گرد اسکی چادر موجود ہے 

'اور مجھے جھوٹ بولنے سے کیا ملے گا اور اب تو میں کچھ اور بھی سوچ رہا ہوں' میر نے اسکو اور قریب کرکے پراسرار لہجہ میں کہا 

لالی بلکل بے یقین تھی اپنی عزت جسکی حفاظت اس نے بچپن سے کی تھی جسکی وجہ سے اس نے اپنے دادا سے مارشل آرٹ سیکھا تھا کیا وہ سب رائیگاں گیا بچپن میں جب گلی کے ایک بزرگ سے انسان نے اسکے ساتھ درندوں جیسا سلوک کرنا چاہا تھا کیسے اس نے اسکا سر پھاڑا تھا بلکہ اسے جہنم رسید کیا تھا لیکن اب وہ اپنی عزت کی حفاظت نہیں کرپائی اسکو یہی سوچ کر رونا آرہا تھا لیکن میر کی بات سے وہ ٹھٹھک گئی تھی وہ آگے کیا کہنے والا تھا

'کک…کیا' لالی کا لہجہ لڑکھڑایا

'تم سے جتنا کام لینا تھا میں نے کل رات کو لے لیا اب تم میرے کسی کام کی نہیں ہو تو سوچ رہا ہوں کچھ شراب اور شباب ہوجائے' میر بےباک ہوا 

'تم گھٹیا انسان شرم نہیں آئے گی تمہیں اپنی ہی بیوی کو دوسروں کے آگے پیش کرتے ہوئے' لالہ رخ دھاڑی

'میں تمہیں بیوی نہیں مانتا' میر استہزائیہ ہنسا اور اسے پیچھے کی طرف دھکّا دے کر باہر نکل گیا

لالی وہیں بیٹھی اپنی قسمت پر روئی اور اپنی ماں کے وہ الفاظ یاد آئے خدا کرے تمہیں کبھی کوئی خوشی نہ ملے وہ تلخی سے مسکرائی اور اٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے آئی تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا وہ تو اسکارف میں تھی اور اسکے ایک کندھے پر شال تھی مطلب وہ جھوٹ بول رہا تھا وہ خوشی سے چہکی

'وہ جھوٹ بول رہے تھے اللّٰہ میاں وہ وہ ہمیں پریشان کررہے تھے ہیں نہ ایسا کچھ نہیں ہوا' وہ وہیں گر گئی تھی اور ایک شکرانے کا سجدہ کیا میر نے اسکی یہ حرکت دیکھی تو دل میں ٹھنڈک سی ہوئی 

"وہ ایسی لڑکی نہیں ہے"

💜💜

علی تقریباً 7:30 بجے میر کے گھر پہنچا تھا اور اسکا ڈور نوک کررہا تھا لیکن اندر سے بلکل ہلکی لیکن بارعب سی آواز آئی جو کسی لڑکی کی تھی 

'میر کے گھر میں لڑکی' علی کو حیرت ہوئی وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ لالی میر کے گھر میں موجود ہے

اسنے دروازہ کھٹکھٹایا جو پانچ منٹ بعد کھول دیا گیا 

'کیا کررہا تھا اندر جو اتنی دیر سے دروازہ کھولا' علی نے اسکو مشکوک نظروں سے دیکھا جب سے لالی کو بہن بولا تھا تب سے میر پر نظر رکھ رہا تھا

'کیوں تجھے کیا مصلا ہے' میر نے الٹا اس سے سوال کیا

'گھر میں اور کون ہے' علی نے ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا

'کیوں' 

'میں نے کسی لڑکی کی آواز سنی' علی نے سینے پر ہاتھ باندھے

لالی جو علی کی آواز سن چکی تھی دوڑ کر اسکے پاس پہنچی ایک یہی تو اسے اپنا لگتا تھا

'بھائی' لالی اسکے پاس پہنچ گئی تھی 

'لالہ رخ تم ہو یہاں' علی بھی اب پرسکون ہوگیا تھا

لالی روتی ہوئی اسکے سینے سے لگی علی گڑبڑایا میر نے چبھتی ہوئی نظروں سے لالی کو دیکھا

'کیا ہوا ہے لالی' علی نے اسکا چہرہ اوپر کیا

'علی بھائی ایس ایس پی صاحب نے ہمیں……' اور پھر سب کچھ بتاتی گئی 

'مجھے تو سمجھ نہیں آتا میر تم کیوں اسکے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑ گئے ہو' علی بھی اب سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا لالی بھی اسی کے ساتھ بیٹھی تھی 

'اس سب کو چھوڑو اور اسے مین بات بتاؤ' میر نے اسکا دھیان ہٹایا تو علی نے اسے گھور کر دیکھا پھر لالی کی طرف متوجہ ہوا

'لالی تمہیں ایک بات بتانی ہے' علی نے آرام سے بات شروع کی

'ایک منٹ پہلے اس شخص سے کہیں کہ یہ ہم سے معافی مانگے نہیں تو ہم نے اسے تنگی کا ناچ نچانا ہے' لالی نے دانت کچکچائے 

علی نے پھر میر کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو مانگتا ہے معافی یا ملاؤں حکومت (بی جان) کو فون میر نے لالی کو کھجانے والی نظروں سے دیکھا

'سوری' انتہائی ہلکی آواز جو شاید میر کو خود بھی سنائی نہ دی ہو

'یہ بولتے وقت تو اتنا دھاڑتے ہیں ابھی کیا آواز کو لکوا ہوگیا ہے' لالی نے بھرپور تنز کیا 

'میر' علی کی آواز میں تنبیہہ تھی

'سوری' میر لٹھ مار انداز میں بولا

'سوری مائی فٹ ہونہہ…' لالی نے چبا کر کہا

'تم…' میر کچھ کہتا کہ علی بول پڑا 

'تم چپ رہو اور جاکر ناشتہ بناؤ میری بہن کیلئے' علی نے میر کو ڈپٹا

'نہیں ہمیں ان پر زرا بھروسہ نہیں ہے انہوں نے زہر ملادیا تو' لالی نے گردن نفی میں ہلاتے ہوئے کہا

'تو میں کونسا مرا جارہا ہوں تمہارے لئے ناشتہ بنانے کیلئے' میر استہزائیہ کہتے ہوئے صوفے پر بیٹھا

'میر تو جارہا ہے یا…' علی نے بات ادھوری چھوڑ کر اپنا فون اٹھایا میر تو دانت کچکچا کر رہ گیا اور کچن میں چلا گیا

'لالی تمہیں ابھی ریڈی ہونا ہوگا کیونکہ ہم لوگوں کو لاہور کے لئے نکلنا ہے' علی نے بات شروع کی 

'کیوں' لالی نے علی کو دیکھا

'کیونکہ تمہیں میں نے بتایا تھا نہ کہ میر کا گھر لاہور میں ہے' علی نے اسکی طرف دیکھا

'تو' وہ اب بھی نہیں سمجھی تھی

'تو یہ کہ وہاں سب کو تمہارے اور میر کے نکاح کے بارے میں پتا چل گیا ہے تو اب وہ اپنی بہو کو سسرال بلانا چاہتے ہیں' علی نے لالی کو دیکھا

'تو ہمیں کیوں بلارہے ہیں' اسکی سوئی اب بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی

'کیونکہ تم ہی تو انکی بہو ہو' علی نے اسکی کم عقلی پر افسوس کیا

'بہو ہم انکی بہو ہیں' لالی نے علی سے ایک بر اہھر پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا

'واؤ یار ہم بہو کتنا مزا آئے گا ساس نندیں دیورانیاں جٹھانیاں کتنے سارے لوگ ہوں گے لڑنے کیلئے کتنا مزا آئے گا' لالی کی تو خوشی دیکھنے والی تھی علی تو بس اسے دیکھ کر رہ گیا یہ لڑکی واقعی سب سے الگ تھی 

تھوڑی دیر میں اسنے ناشتہ کیا اور فریش ہونے چلی گئی 

💜💜

اب وہ تینوں لاہور کے سفر کے لیے روانہ ہوگئے تھے میر کی جیپ تھی جسے وہ لمبے راستوں کیلئے استعمال کرتا تھا ڈرائیونگ سیٹ پر میر تھا فرنٹ سیٹ پر علی جب کے پیسنجر سیٹ پر لالہ رخ بیٹھی تھی

لالی افسردہ تھی اپنے گھر والوں سے دور جارہی تھی نہ لیکن وہ ایسی لڑکی نہیں تھی کہ غم کی دیوی بنی رہتی وہ تو وقت کے ساتھ قدم ملا کر چلتی تھی اسلئے خود کو سنبھال لیا تھا 

وہ دوڑتے نظاروں کو دیکھ رہی تھی اور آگے کی زندگی کا سوچ رہی تھی کہ اگر میر کے گھر والوں نے اسے نا پسند کیا تو کہاں جائے گی وہ کون پناہ دے گا اسے لیکن پھر سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا علی بھی تو ہے اسکے ساتھ اور اسکا خدا وہ تو ہمیشہ اسکے ساتھ ہی رہتا ہے 

'علی بھائی آپکا دوست تو ماشاءاللہ سے لیکن اب آپ بھی' لالی نے افسوس سے علی کو دیکھا

'کیوں کیا ہوا' علی نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا 

'اتنی بوریت ہورہی ہے کوئی میوزک ہی لگا دیں' انکو سفر کرتے ہوئے چھ گھنٹے گزر چکے تھے 2 بج رہے تھے دوپہر کے

'وہ میر کو پسند نہیں ہے' علی نے میر کی طرف اشارہ کیا

'ایک بات بتائیں آپکے دوست کو آخر پسند ہی کیا ہے یہ نہیں پسند وہ نہیں پسند مریخ سے تو نہیں آئے کہیں' لالی جی بھر کر بدمزا ہوئی تھی 

'تم سے مطلب' میر نے سنجیدگی سے جواب دیا تو لالہ رخ بھی خاموش ہوگئی تھی

تین گھنٹے اسی طرح خاموشی سے گزرے علی موبائل میں لگا تھا میر ڈرائیونگ کررہا تھا اور لالی اونگ رہی تھی اب تو اسے بھوک لگنے لگی تھی

'علی بھائی بھوک…' وہ کہتی کہ

'مجھے بھی لگ رہی ہے میر کہیں روکو یار کھانا کھانا ہے میں نے' علی کو اپنی بھوک کی فکر ہوئی

پندرہ منٹ بعد میر نے ایک جگہ گاڑی روکی

💜💜

علی لالی اور میر ڈھابے کی ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے تھے 

'جی کیا لاؤں' ایک لڑکے نے آکر لالی سے پوچھا 

'پہلے ایک کام کرو ان صاحب کیلئے زہر لادو' لالی نے میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آہستہ سے کہا جو صرف اس لڑکے نے سنی تھی

'جی' وہ حیران و پریشاں ہوا جو میر اور علی نے بھی دیکھا تھا

'کیا ہوا' میر نے نظریں ترچھی کرکے دیکھا

'ارے کچھ نہیں علی بھائی چلیں کچھ کھانے کے لیے منگواتے ہیں' لالی نے گڑبڑا کر علی کی طرف دیکھا

'ہاں ایک کام کرو جو بھی ہے نہ کھانے میں سب لے آؤ' علی نے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا

'سب' اس لڑکے نے سب کو لمبا کھینچا

'ہاں سب اب جلدی جاؤ شاباش اور میٹھے کا بھی بندوبست کرو' لالی تھوڑا پھیل کر بیٹھی جیسے یہ اسکا ہی تو ہوٹل ہے

شام کے 6 بج رہے تھے میر گھر والوں کو انفارم کرنے گیا تھا جب اسکی نظر کچھ لڑکوں پر پڑی جو مستقل لالی کو گھور رہے تھے انکی نظروں کا مفہوم میر کو اچھے سے معلوم ہورہا تھا لیکن پھر بھی خاموش تھا فیملیز تھیں یہاں اس لیے خاموشی سے آیا اور لالی کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا جسکی وجہ سے لالی انکی آنکھوں سے چھپ گئی تھی یہ نہیں تھا کہ میر لڑنا نہیں جانتا تھا بس وہ ہر بات کو آرام سے ہینڈل کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن اسکا غصّہ…

'ارے اوو راجو لے بھی آ یار' لالی نے پھر آواز لگائی بھوک برداشت نہیں ہورہی تھی

'راجو کون ہے' علی نے لالی سے پوچھا

'پتا نہیں' لالی مسکرائی

'تو تم نے راجو کیوں کہا' علی کو سمجھ نہیں آیا تھا

'نام نہیں پتا تھا نہ اسکا اسلئے راجو بول دیا' لالی کی الگ ہی منطق تھی اتنے میں کھانا لگا دیا گیا ٹیبل پر کھانا زیادہ تھا اسلئے دو ٹیبلز کو جوڑا گیا تھا

اور لالی نے پھر اپنی آستینیں اوپر چڑھائیں جیسے کسی کو مارنے دوڑ رہی ہو علی نے بھی انگلیاں چٹخائیں اور پھر کھانے پر ٹوٹ پڑے میر نے تو پہلے ہی کھانا شروع کردیا تھا 

آتے جاتے لوگ ان لوگوں کو ایسے گھور رہے تھے جیسے وہ لوگ نمونہ ہوں لالی تو سب بھلائے بس کھانا کھا رہی تھی علی کبھی ایک چیز ڈالتا اپنی پلیٹ میں کبھی دوسری لالی نے کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ راجو کو بھی خوب دوڑایا کبھی یہ موجود نہیں ہے کبھی یہ نہیں ہے ایک عجیب شور شرابا مچا تھا ہوٹل پر

'راجو' وہ ایک بار پھر چیخی

'جی' وہ اسکے پیچھے ہی کھڑا تھا

'ارے کچھ میٹھا ہوتا ہے وہ کہاں ہے' لالی نے اسکی طرف دیکھا 

'ابھی لاتا ہوں' وہ دوڑ کر میٹھا لے آیا

اور صرف دس منٹ میں میٹھا بھی ختم ہوچکا تھا بلکہ علی تو اب راستے کیلئے بھی کچھ سامان پیک کروا رہا تھا میر اور علی اب ایک سائیڈ پر ہوگئے تھے ایسے میں لالہ رخ اکیلی بیٹھی تھی جب وہ چار پانچ ہٹّے کٹّے گینڈے نما گنڈے لالی کے اردگرد بیٹھے 

لالی جو اردگرد لوگوں کو دیکھ رہی تھی اچانک کوئی اسکے قریب آکر بیٹھا اس نے نظروں کا فوکس سامنے کیا تو چاروں اسے گھٹیا لگے تھے

(ٹھرکی سالے) دل میں بول کر اٹھی اور جیپ کی طرف قدم بڑھائے تو ایک نے اسکا ہاتھ جکڑا 

'ارے کہاں چل دی شیلا کی جوانی' وہ انتہائی لوفر انداز میں بولا

لالی پیچھے نہیں مڑی تھی بلکہ میر کو دیکھ رہی تھی جو گاڑی میں آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا

'ایس ایس پی صاحب' لالی چیخی تو میر نے آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا تو آنکھوں میں خون اترا جس نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ایس ایس پی صاحب سن کر چھوڑ دیا 

علی بھی آگیا تھا اور میر کو غصّے میں دیکھ چکا تھا پہلے کھانا لے جاکر گاڑی میں رکھا (کھانا فرسٹ ہاں) اور پھر لالی کی طرف بڑھا 

میر ان چاروں کے سر پر پہنچ چکا تھا اور ان میں سے ایک غنڈے کا گریبان پکڑ کر اپنے روبرو کیا اور ایک کھینچ کر اسے مارا 

'چٹاخ'

لالی جو آستین چڑھا رہی تھی انہیں مارنے کیلئے علی اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لے گیا اور اپنے ساتھ ایک جگہ کھڑا کرلیا تھا وہ مستقل اپنا ہاتھ چھڑاںے کی کوشش کررہی تھی

اسکے باقی ساتھی بھی میر کی طرف بڑھے ان میں سے ایک نے اسے پنچ مارا لیکن میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر مروڑا اور ایک سائیڈ اتنی زور سے جھٹکا کہ وہ ٹیبل پر جا گرا  دوسرے والے نے چاقو نکالا اور میر کی طرف وار کرنے لگا لیکن ہر وار خالی گیا میر نے اپنی ٹانگ گھما کر اسکے ہاتھ پر ماری ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی اور چاقو دور گرا اسکی درد ناک چیخ گونجی وہاں موجود ہر بندہ یہ فائیٹنگ سین دیکھ رہا تھا چوتھا بندہ جو میر سے ڈر کر بھاگ رہا تھا اسے بھی میر نے ایک ہاتھ سے جالیا 

لالی علی سے ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئی تھی مار کٹائی ہورہی ہو کہیں اور لالی ایک جگہ کھڑی رہے نا ممکن

'ایس ایس پی صاحب' لالی چیختی ہوئی اسکی طرف آئی 'اس نے ہمارا ہاتھ پکڑا تھا' لالی نے شکایت لگانے والے انداز میں کہا

'نہیں باجی مجھے معاف کر دیں میں اگلی بار کسی لڑکی کا ہاتھ نہیں پکڑوں گا' وہ منتوں پر اتر آیا تھا لیکن میر نے اسکو پہلے ایک تھپڑ مارا پھر دوسرا اسی طرح لگاتار چار تھپڑ مارے تھے وہ اسی میں ڈھیر ہوگیا تھا

منٹوں میں میر نے دھنک کر رکھ دیا تھا چاروں کو میر گیلانی تھا وہ لالہ رخ سے زیادہ پاور فل سب کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے وہاں ہوٹل میں جتنے بھی غلیظ لوگ بیٹھے تھے سب اس جنونی انسان کو دیکھ کر رفو چکر ہوئے تھے 

میر انہیں ایسے ہی چھوڑ کر لالی کی طرف بڑھا اسکا ہاتھ پکڑا اور جیپ کی طرف لایا اسکو جیپ سے پن کیا اور اسکے دائیں بائیں بازو رکھے 

'تم خود بھی لڑ سکتی تھیں نہ پھر' میر اسکے بہت نزدیک تھا آنکھیں اب بھی لال تھیں

'جب آپ ہوں تو لڑنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ اب ہمارے سر کا سائیں ہمارا مجازی خدا ہمیں مل گیا ہے تو اب ہم بلکل نہیں لڑیں گے' لالی نے شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ہاتوں سے چہرے کو چھپایا

'یہ کیا کررہی ہو تم' میر نے اچھنبے سے پوچھا کیونکہ اس طرح کرنے سے وہ نمونی لگ رہی تھی

علی بھی آگیا تھا اب وہاں میر اسکے قدموں کی آواز سے ہی لالی سے دور ہوگیا تھا

'اب چلیں سات بج رہے ہیں' علی نے ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھ کر کہا

'ہمم چلو'

'اس بار ہم آگے بیٹھیں گے' لالی نے دوٹوک انداز میں کہنے کے ساتھ ہی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھ گئی

💜💜

'یہ لڑکی کون تھی' اسی ہوٹل میں بیٹھے ایک آدمی نے اپنے بندے سے پوچھا

'پتا نہیں سائیں لیکن دیکھنے سے لگتا ہے اس ایس ایس پی کی بیوی تھی' اسنے میر کی طرف اشارہ کیا

'لیکن ہوا کیا ہے سائیں' اس آدمی نے اپنے مالک سے پوچھا

'پتا کرو اسکے بارے میں چاہئے مجھے وہ' اسکی آنکھوں میں عجیب چمک در آئی تھی

'جی سائیں' وہ ادب سے کہتا ہوا آگے پیچھے ہوا

💜💜

صبح کے نو بج رہے تھے وہ لوگ پہنچ چکے تھے لاہور لالی ابھی سو کر اٹھی تھی علی بھی اٹھ چکا تھا البتہ میر ڈرائیور کررہا تھا اس لئے وہ نہیں سویا تھا

لالی نے ایک ہاتھ بڑھا کر ڈیش بورڈ پر مارا تو ریڈیو آن ہوا اور حیرت انگیز طور پر ریڈیو پر سچوئیشن کے حصاب سے سونگ لگا ہوا تھا 

تینوں لیکے میں جاوونگا دل دے کہ میں جاوونگا

اور پھر اسکی وہ والی لائین 

کردیا ہے تو نے مجھکو یوں بے قرار ماہی

کہہ دیا دنیا سے میں تیری…میں تیری ہوگئی رے

تیرے نال میں آوونگی سسرال میں جاوونگی

اور اس والی لائین پر لالی نے اپنی مسکراہٹ دبائی میر گڑبڑایا علی نے اچھنبے سے میر کو دیکھا 

میر نے جلدی سے ریڈیو بند کیا ریڈیو بند کیا تو کیا ہوا ارے بھئی ہمارے پاس تو چلتا پھرتا ریڈیو ہو

'تیرے نال میں آوونگی سسرال میں جاوونگی' لالی نے سُر کے ساتھ سُر جوڑا اب علی نے مسکراہٹ دبائی میر نے گھور کر لالی کو دیکھا لیکن بھئی یہاں فکر کسے تھی میر کا دل کیا اسکے منہ پر ٹیپ لگادے 

آگے جاکر ایک سگنل پر گاڑی رکی میر نے گاڑی سائیڈ پر لگائی لالی سب آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی کراچی کے رہنے والوں کو صاف ستھرے روڈ دیکھنے کی کہاں عادت ہوتی ہے 

اتنے میں ایک خواجہ سرا انکی گاڑی کے پاس آیا 

'اللّٰہ خوشیاں دکھائے تو صدا سہاگن رہے تیرے دس بچے ہوں سارے فرمانبردار ہوں' وہ بولے ہی جارہا تھا اور میر گڑبڑائے جارہا تھا 

'یہ اک پر راضی نہیں ہورہے تم دس کی باتیں کرلو' لالی نے منہ بنا کر کہا علی کو تو اچھو لگ گیا تھا وہ خواجہ سرا بھی گڑبڑاگیا تھا 

لالی نے اپنے بیگ سے پانچ سو کا نوٹ نکالا اور اسکی طرف بڑھایا وہ تو خوشی سے چہک گیا تھا دعائیں دیتا ہوا آگے چلا گیا سگنل کھلا تو میر نے بھی گاڑی آگے بڑھائی

💜💜

بیس پچیس منٹ لگے تھے انہیں گیلانی مینشن پہنچنے میں اب لالی تھوڑی نروس ہوئی تھی ناجانے کیسے لوگ ہوں گے میر نے گاڑی پورچ میں روکی اور ہارن دیا اندر سے انصار صاحب شیراز صاحب اور فہیم صاحب باہر آئے اپنی بہو کو رسیو کرنے میر اور علی اترے جیپ سے لیکن لالی نروس سی اس حویلی نما بینگلو کو دیکھ رہی تھی تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آئی دیکھا تو علی کھڑا تھا 

'ہمیں ڈر لگ رہا ہے' لالی نروس سی بولی علی کے ساتھ میر نے بھی اسکو دیکھا 

'کچھ نہیں ہوتا میں اور میر ہیں نہ سب بہت اچھے ہیں بلکہ کچھ تو تمہارے جیسے ہیں' علی نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا لالی نے ایک نظر میر کو دیکھا جو لاپرواہ سا کھڑا تھا پھر علی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا 

وہ جیپ سے اتری نروسنیس کی وجہ سے ہاتھ کانپ رہے تھے علی نے اسکو جیپ سے اتارنے کے بعد اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا وہ تینوں مین گیٹ کی طرف بڑھے تو میر انصار صاحب سے ملا اسکے بعد شیراز صاحب سے پھر فہیم صاحب سے علی بھی ملا سب سے

'ارے بیٹا آپ وہاں کیوں کھڑی ہیں ادھر آئیں' دھیما لیکن بارعب لہجہ انصار صاحب نے لالی کو اپنی طرف بلایا لالی جھجھکتی ان کے پاس گئی اور تینوں کو دیکھا

'اسلام و علیکم' لالی نے آنکھوں کے ساتھ سر بھی جھکایا انصار صاحب کی مسکراہٹ گہری ہوئی سامنے کھڑی لڑکی ادب و آداب کے طور طریقوں سے واقف تھی ان تینوں نے لالی کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعائیں دیں علی تعارف بھی کروارہا تھا لالی کو

اب وہ لوگ اندر داخل ہوئے تو لالی علی کے پیچھے چھپ سی گئی تھی 

'بہو کو یہاں لے آؤ بھئی' فہیم صاحب نے ڈرائینگ روم کی طرف اشارہ کیا تو سب اسکی طرف بڑھ گئے  

__________________

آج پورا گیلانی ہاؤس بھابھی کے آنے کی خوشی میں صبح ہی جاگ گیا تھا یہاں تک کے سارے گدھے(بقول بی جان کے) وہ بھی جاگ گئے تھے اور اب سارے ڈرائینگ روم میں بیٹھے تھے ایک ساتھ ہی بھابھی سے ملنے کیلئے نازش بھی آگئی تھی اپنے بچوں کے ساتھ

سب کی نظریں دروازے پر جمی تھیں جہاں سے انصار صاحب وغیرہ داخل ہورہے سب سے آخر میں علی داخل ہوا جسکے پیچھے لالہ رخ تھی 

'بھابھی کہاں ہیں' عمر نے بےتابی سے کہا تو علی اسکے سامنے سے ہٹ گیا تھا اب لالہ رخ سب کے سامنے تھی لالی نے ایک پوری نظر ڈرائینگ روم پر ڈالی اچھے خاصے لوگ تھے 

انصار صاحب فہیم صاحب شیراز صاحب میر اپنی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے علی ابھی لالی کے ساتھ کھڑا تھا 

بی جان نے ایک ہی نظر میں لالہ رخ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا لالی سب کی نظروں سے کنفیوژ ہورہی تھی 

'لالی وہ بی جان ہیں میر کی دادی' علی نے لالی سے کہا تو لالی آگے بڑھی اور انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی 

'اسلام و علیکم' بی جان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس پر عقیدت سے بوسہ دیا اور آنکھوں سے لگایا سب لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی میر بھی مطمئن بیٹھا تھا

'وعلیکم اسلام ماشاءاللہ چشمِ بددور' بی جان نے لالی کا ماتھا چوما لالی کے دل نے شبانہ بیگم کو زور سے یاد کیا 'فری بھابھی کو بھائی کے ساتھ بٹھاؤ' بی جان نے فری کو کہا

'جی بی جان' فری نے لالی کو میر کے ساتھ بٹھایا جو ان سب سے جھنجھلایا ہوا تھا 

بی جان کے دائیں ساجدہ اور بائیں قرۃ العین بیٹھی تھیں دائیں طرف کے دو سیٹر صوفے پر فہیم صاحب اور شیراز صاحب بیٹھے تھے جب کے بائیں طرف سنگل صوفے پر انصار صاحب ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھے تھے اور دو سیٹر صوفے پر نازش اور رواحہ بیٹھے تھے جب کہ دوسرے دو سیٹر صوفے پر میر اور لالی بیٹھے تھے اور انکے بائیں جانب سنگل صوفے پر علی بیٹھا تھا باقی گھر کی ینگ پارٹی کچھ صوفوں کے ہینڈل پر بیٹھے تھے جب کے کچھ زمین پر صوفوں سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے

 لالی نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر پیچھے ٹیک لگائی بس صرف دس منٹ چائیے تھے اسے خود کو تیار کرنے میں جو وہ کرچکی تھی

 'بیٹا آپکی میر سے شادی کب ہوئی' یہ سوال ساجدہ بیگم کی طرف سے تھا جس پر علی اور میر نے پہلو بدلا لیکن لالی پرسکون تھی 

'پانچ دن پہلے' لالی نے ٹہر ٹہر کر جواب دیا

'تب تک آپ کہاں تھی مطلب میر کے ساتھ تھیں' دوسرا سوال قرۃ بیگم نے کیا

'اپنے گھر پر تھے' لالی نے کہا

'اور آپکے گھر میں کون کون ہے' ساجدہ بیگم نے پھر سے سوال کیا یہ سوال لالی کو دل میں چبھتا ہوا محسوس ہوا تھا

'کک…کوئی نہیں ماں باپ بچپن میں ہی مرچکے تھے اسکے بعد جنہوں نے پالا انہوں نے بھی چھوڑ دیا' لالی بے تاثر لہجے میں میر کو دیکھتے ہوئے بولی 

'اوہ…بیٹا افسوس ہوا' بی جان نے غمگین لہجے میں کہا

'بیٹا آپ کون ہیں کیا کرتی ہیں' فہیم صاحب نے دھیمے لہجے میں پوچھا

'ہم لالہ رخ ہیں اور پڑھتے ہیں' لالی نے مسکراتے لہجے میں کہا

'اور آپ کیا پڑھتی ہیں' یہ سوال نازش کی طرف سے تھا 

'ہم قانون پڑھتے ہیں اور وکالت کے شعبے سے منسلک ہیں' لالی نے نازش کو دیکھ کر کہا تو سب کے چہرے دیکھنے والے ہوگئے تھے مطلب قانون والے کی بیوی بھی قانونی 

'آآ…آپ کو قانون سے محبت تو نہیں ہے نہ' یہ پوچھنے والی محترمہ رواحہ تھیں

'استغفراللہ بلکل نہیں ہمیں سخت نفرت ہے قانون سے اور کچھ قانون والوں سے بھی' آخری بات اس نے میر کو دیکھ کر کہی جس کو اپنی پہلی بیوی کے بارے میں ایسا سن کر کچھ ہونے لگ گیا تھا

'بیٹا آپکی میر سے شادی کیسے ہوئی' یہ سوال انصار صاحب کی طرف سے تھا جس کی وجہ سے میر لالی اور علی کے چہروں سے مسکراہٹ غائب ہوئی اور یہ بات بی جان کی نظروں سے چھپی نہیں رہی تھی

لالی کا دل کیا چیخ چیخ کر بتائے کہ انکے بیٹے نے کیا کیا ہے اسکے ساتھ

'وہ اس لڑکی کی وڈیو تو آپ سب نے دیکھی ہوگی بس اسی وجہ سے ہمیں نکاح کرنا پڑا' لالی نے دلیل دی

'لیکن وہ وڈیو تو پانچ دن پہلے آئی تھی جب کے آپکے مطابق آپکا نکاح چھ دن پہلے ہوا ہے کیسے' بی جان کے سوال پر میر نے لالی کو غصّے سے گھورا 

'اس لڑکی نے پہلے ایس ایس پی صاحب کو دھمکی دی تھی کہ وہ ان سے شادی کرلے نہیں تو وہ انہیں بدنام کردے گی یقیناً وہ لڑکی ایس ایس پی صاحب سے زیادہ تیز ہے بلکہ عقل مند ہے کیونکہ انہیں تو صرف غصّہ آتا ہے اور اسی غصّے میں آکر انہوں نے اسے چیلینج دیا جو کرنا ہے کرلو میں نہیں ڈرتا' لالی نے نہ صرف بات کی وضاحت کی بلکہ میر کو بھی بےعزت کیا اور خود کو عقل مند بھی کہا علی نے لب دبا کر مسکراہٹ روکی میر تو بس صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا اور انصار صاحب نے بھی میر کو دل میں نہ جانے کون کونسے القابات سے نوازا

'لیکن بیٹا بات تو وہی ہے کہ آپ سے نکاح کیوں ہوا' قرۃ بیگم نے دوبارہ سوال کیا

'جی وہ اسلئے تاکہ اس لڑکی کو بتا سکیں کہ انکی شادی ہوچکی ہے اور اب ایس ایس پی صاحب کسی اور سے شادی نہیں کر سکتے لیکن وہ لڑکی تو جیسے عشق کے دریا میں بہہ گئی تھی…ہمارا مطلب ہے کہ اسے ایس ایس پی صاحب سے دھواں دھار محبت ہوگئی تھی اسے اسلئے اس نے ان سے اپنا بدلہ لیا' لالی نے میر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا

'تو بیٹا تم نے اس سے شادی کیوں نہیں کی؟' سوال پوچھنے والے شیراز صاحب تھے

'جی کیونکہ یہ ہم سے محبت کرتے تھے' لالی جلد بازی میں بول گئی میر اور علی نے جھٹکے سے لالی کو دیکھا جو اب ہونٹ چبا رہی تھی 

اور اب سب انہیں ایسی نظروں سے گھور رہے تھے کہ وہ دونوں شرم سے پانی ہوگئے تھے 

'اوہ' ینگ پارٹی نے ہم آواز کہا 

'شٹ آپ' میر نے لفظ چبا کر کہا تو سب خاموش ہوگئے تھے 

'اچھا بس آج سے بلکہ ابھی سے لالہ رخ اب اس گھر کی بڑی بہو ہیں اب ہم زرا آرام کریں گے' بی جان لالی کے سر پر ہاتھ رکھ کر آگے بڑھ گئیں جبکہ لالی کے دل میں ایک ٹھنڈک سی پڑ گئی تھی 

بی جان کے ساتھ میر علی اور سب بڑے بھی چلےے گئے تھے ساجدہ بیگم اور قرۃ بیگم کو ناشتہ بنانا تھا اسلئے وہ کیچن میں چلے گئے تھیں 

اب ساری ینگ پارٹی تھی اور انکی بھابھی تھیں سفیان اور حمدان کی گود میں نازش کے دونوں بچے آیت اور ارمغان چڑ کر بیٹھے تھے

'بھابھی' حمدان کی شوخی سی آواز گونجی 

سب کے سب ابھی بھی زمین پر بیٹھے تھے بس رواحہ اور نازش اٹھ کر اب لالہ رخ کے دائیں بائیں بیٹھے تھے 

'پتا نہیں کیوں ہمیں ایسا لگتا ہے کہ آپ لوگ ہم سے بڑے ہیں' لالی کو انکا بھابھی کہنا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا

'جی آپ ہم سب سے چھوٹی ہیں ان تینوں کو ہٹا کر' عمر نے آیت ارمغان اور فری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا 

'تو آپ سب ہمیں لالی ہی کہیں' لالی نے مسکرا کر کہا

'ہم تا تہیں مامی' ارمغان نے اپنا چہرہ ہاتھوں پر ٹکا کر اپنی توتلی زبان میں کہا وہ ابھی دو سال کا تھا 

'لالی ہی کہو یار اور اب آپ بھی نہ کہے کوئی' لالی نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر کرلی تھیں اب وہ ریلیکس ہو کر بیٹھی تھی 

'ویسے تم نے میر بھائی سے شادی کیلئے ہاں کیسے کہہ دی' ریان نے اپنے دل کا سوال پوچھا

'بس اب کون انہیں لڑکی دیتا بوڑھے ہوگئے ہیں نہ تو بس ہم مان گئے' لالی نے لمبی چھوڑی تھی

'مطلب تم میر بھائی سے محبت نہیں کرتیں' سحرش نے پوچھا

'یار اب ہم محبت کا اقرار کرتے ہوئے اچھے لگیں گے کیا' لالی نے آئیبرو اچکا کر پوچھا تو سب نے سمجھنے والے انداز میں گردن ہلائیں

'اور تم میر بھائی سے کہاں ملی تھیں' یہ فریہا تھی

'پولیس اسٹیشن میں' لالی نے دانت دکھائے

'اور تم وہاں کیا کررہیں تھیں' یہ سوال سحرش کی طرف سے تھا 

'وہ وہ ہاں ہم وہاں ایس ایس پی صاحب سے ملنے گئے تھے بہت مشہور ہیں وہ کراچی میں تو ہم ان کا اوٹوگراف لینے گئے تھے' لالی نے مسکرا کر جواب دیا

میں ہوں تنہائی ہے اور فریبِ خیال تیرا ہے

کیا کہوں تجھے اس میں نہیں کوئی قصور تیرا ہے

میں سجدے میں گرا اور روکر التجا کی اے رب

کہا گیا واپس پلٹ جا نہیں وہ اب تیرا ہے

سوچا بیچ دوں وہ سامان جو گھر میں پڑا ہے

گھر نہیں جسم ہے سامان نہیں دل ہے جو تیرا ہے

کیا کہوں کیسے کہوں الفاظ نہیں پاس میرے  

جو تیرے پہلو میں بیٹھا وہ کل میرا تھا جو آج تیرا ہے

                                            (انعم رئیس)

یہ ہے گیلانی ہاؤس کی ڈائینگ ٹیبل کا منظر  جہاں صبح کا ناشتہ ہورہا ہے اور آج ایک افراد کا اضافہ اور ہوا ہے اور وہ ہے لالہ رخ 

میر کے بلکل سامنے والی چئیر پر لالی بیٹھی تھی اور اسکے برابر میں فری میر کے ساتھ علی بیٹھا تھا 

'بیٹا آپکی اور کیا مصروفیات تھیں' شیراز صاحب نے لالی سے پوچھا

'ماردھاڑ' میر بڑبڑایا

'سوشل ورکنگ کوکنگ اور سپورٹس' لالی نے ٹہر ٹہر کر جواب دیا 

'ویسے بیٹا آپ کو ہمارا میر کیسا لگا' یہ سوال فہیم صاحب نے پوچھا تھا اور لالی کا منہ میں لے جاتے ہوئے چمچ کا ہاتھ رکا تھا اس نے ایک نظر اٹھا کر میر کو دیکھا اور تھوک نگلا اور پھر بولنا شروع کیا

'جی ایس ایس پی صاحب تو ماشاءاللہ سے کافی ایماندار (رشوت خور) ہیں اور رحم دلی (توبہ توبہ) وہ تو ان میں بہت ہے اور جب بولتے ہیں تو لگتا ہے جیسے (آگ اگل رہے ہوں) پھول برسا رہے ہوں …ہی ہی…(ایک تو ہنسی کو بھی ابھی آنا ہے) اور تو باقی سب ان کی(دو ٹکے کا پولیس والا) بہت تعریفیں کرتے ہیں تو کون انکو اپنی لڑکی دینا چاہے اوہ ہمارا مطلب ہے کہ کون اپنی لڑکی انہیں نہ دینا چاہے (زندگی میں بڑے بڑے جھوٹ بولے ہیں مگر اس سے بڑا جھوٹ نہیں بولا ہوگا)…ہی ہی… اور اللّٰہ میاں نے کتنی پیاری شکل و صورت سے نوازا ہے (ہونہہ...بڈھا) تو یہ تو ہر کسی کا آئیڈیل ہوسکتے ہیں اور پھر تو یہ ہماری قسمت میں آئے (ہائے ہماری ہی قسمت پھوٹی تھی)' 

لالی نے میر کی تعریفوں میں جو قصیدے پڑھنا شروع کیے تھے کہ بس کتنی مشکل سے وہ ہنسی روک کر بول رہی تھی کہ ضبط کہ مارے چہرہ لال ہونے لگا تھا علی بھی اپنے لب دبا کر ہنسی روک رہا تھا 

'ارے ماشاءاللہ بہو تو میر کی تعریف کرتے ہوئے شرمانے لگ گئی ہے' ساجدہ بیگم نے لالی کے لال گالوں پر چوٹ کی

'ہاہاہاہا' اور یہاں علی کا ضبط ختم ہوا وہاں بیٹھی لالی کی آنکھوں سے آنسو آنا شروع ہوگئے تھے ضبط کے مارے لالی نے علی کو چپ ہونے کا اشارہ کیا وہ سمجھ گیا تھا اسے ہنسی آرہی ہے اسکی شکل دیکھ کر دوبارہ اسکی ہنسی نکل گئی

'ہاہاہاہا' علی کے پیٹ میں درد ہونا شروع ہوگیا تھا

'آپ ہنس کیوں رہے ہیں علی بھائی' رواحہ نے پوچھا باقی سب کا بھی یہی سوال تھا

'وہ مجھے نہیں پتا تھا کہ میرے دوست میں اتنی خامیاں میرا مطلب ہے خوبیاں ہیں' علی نے وضاحت دی 'ہاہاہاہاہا' اس بار علی کے قہقہہ کے ساتھ لالی نے بھی قہقہ لگایا میر وہاں بیٹھا سب سمجھ رہا تھا یہ لڑکی جب سے اسکی زندگی میں آئی تھی اچھا خاصا مزاق بن گیا تھا اسکا

سب ناشتہ کر چکے تھے لالی علی اور میر تھک ہوئے لگ رہے تھے اسلئے بی جان نے ان کو آرام کرنے کیلئے کہا تھا

'ہم کہاں جائیں آرام کرنے' لالی نے جمائی لیتے ہوئے رواحہ سے کہا 

'ارے اب تو تم میر بھائی کے روم میں جاؤ گی نہ' رواحہ نے میر کے روم کی طرف اشارہ کیا

'کیا انکا روم بھی ہے' لالی کو حیرت ہوئی

'مطلب' رواحہ ناسمجھی سے بولی

'نہیں ہمیں لگا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں رہتے ہیں' لالی استہزائیہ ہنسی 

رواحہ اسے میر کے روم کی طرف لے آئی تھی

💜💜

انعم رئیس: ارے ایک منٹ ہم تو آپ کو گیلانی ہاؤس کا نقشہ بتانا ہی بھول گئے تو سب سے پہلے ہم گھر دیکھتے ہیں کہ کیسا ہے لیکن یاد رہے کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگانا ہے ورنہ ایس ایس پی صاحب سے ڈرتے رہو

یہ ہے گیلانی ہاؤس کا گیٹ مطلب مین انٹرینس اس سے اندر جائیں تو پورچ میں گاڑیاں کھڑی نظر آئیں گی اور اس پورچ کے اوپر بنا ہے ایک چھجّا جب کے دائیں طرف لان ہے جہاں ہر قسم کے پھول ہیں اور ساتھ میں ایک درخت سے جھولا بندھا ہے اور اس جھولے کی رسیوں پر درخت کے پھولوں کی بیلیں ہیں اب ہم اندر چلتے ہیں جہاں دو اسٹیپس اوپر اندرونی گیٹ ہے اس گیٹ کو کھولیں تو سامنے ہی لاؤنج ہے جہاں صوفہ سیٹ رکھا ہے جسکے سامنے ٹیبل پر ایک بڑی سی ایل ای ڈی رکھی ہے صوفہ سیٹ کے دائیں طرف ڈائینگ ٹیبل ہے اور ڈائینگ ٹیبل کے سامنے ہی کچن ہے کچن امریکن طرز پر بنا ہے اب لاؤنج کے بائیں طرف ایک بڑا سا گیٹ ہے جو مہمان خانے کی طرف کھلتا ہے جو بہت بڑا تھا وہاں تقریباً دو سیٹ رکھے تھے صوفوں کے اب واپس باہر آتے ہیں تو کیچن کے بلکل برابر سے بلکہ لاؤنج کے بلکل درمیان میں سیڑھیاں لگی تھیں اوپر جانے کی سیڑھیوں کے بلکل برابر میں چار کمرے تھے جن میں سے ایک بی جان کا دوسرا انصار صاحب کا تیسرا شیراز صاحب کا اور چوتھا فہیم صاحب کا 

اب آتے ہیں اوپر تو یہ ارے یہ یہاں کون ہے اوہ یہ تو لالہ رخ ہے اور اسکے ساتھ رواحہ ہے جو اسے میر کے کمرے میں چھوڑنے جارہی ہے سیڑھیوں کے ساتھ ہی پورے فلور پر ریلنگ لگی تھی یہاں پر صرف تین کمرے ہیں ان میں سے بیچ کا روم میر کا تھا جب کے اسکے دائیں طرف والا روم حمدان کا اور اسکے بائیں طرف والا سفیان کا اور اسکے اوپر ہے ایک اور فلور جہاں باقی ینگ پارٹی رہتی ہے 

'یہ رہا تمہارا روم' رواحہ اسے گیٹ پر چھوڑ کر چلی گئی تھی 

لالہ رخ نے دروازے کا ہینڈل پکڑا اور گھمیایا  دروازہ کھلتا چلا گیا جیسے اسی کے انتظار میں تھا وہ اندر داخل ہوئی اور اردگرد نظر گھمائی

دروازے کی دائیں طرف کی دیوار کے ساتھ ہی جہاز نما بیڈ تھا بیڈ کے بلکل سامنے صوفہ سیٹ تھا بیڈ کے دائیں طرف ایک کپبورڈ تھا جس میں میر کے آوارڈز رکھے تھے اور بیڈ کے بائیں طرف ڈریسنگ ٹیبل اور اسکے برابر میں ایک سلائیڈ ڈور تھا جو ٹیرس کا تھا سلائیڈ ڈور پر پردے لگے ہوئے تھے صوفوں کے بلکل پیچھے یو شیپ میں گولائی نما ڈیزائن دیا گیا تھا جسکے دونوں سائیڈ میں ایک ایک دروازہ تھے دائیں واشروم تھا جب کہ بائیں طرف والا لوک تھا اور ان دو دروازوں کے بیچ میں الماریاں تھیں روم کو وائٹ اور گرے کومبینیشن دیا گیا تھا 

💜💜

'ہممم گڈ' لالی کو روم پسند آیا تھا 

وہ صوفے کی طرف آئی اور اپنا بیگ اٹھا کر ٹیبل پر رکھا اور اسے کھولا اس میں سے ایک ڈریس نکالا تو سامنے ہی اسکی فیملی کی تصویر رکھی تھی جو شاید پری نے رکھی تھی

وہ مسکرائی اور تصویر نکالی اوپر زمان صاحب کی فیملی تھی جبکہ نیچے بنے خانے میں اسکے سگے ماں باپ کی اس نے اپنا ہاتھ اس فوٹو فریم پر رکھا 

کوئی اس سے پوچھتا کہ دنیا کا سب سے بڑا دکھ کیا ہے وہ کہتی "جنہوں نے ماں باپ بن کر پالا وہ ماں باپ نہیں تھے" آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا لیکن یہ بھی تو سچ تھا کہ اگر ایک فیملی اس سے چھینی گئی تو ایک اور دے بھی تو دی تھی

وہ تصویر ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی اسنے فرتی سے فریم واپس رکھا اور اب دیکھا تو میر داخل ہوا تھا اندر 

'یہاں کیا کررہی ہو تم' اسکو اپنے کمرے میں دیکھ کر میر کی تیوری چڑھی

'شاید آپ بھول رہے ہیں کہ ہم آپکی بیوی ہیں' لالی نے اسے یاد کروایا

'میں نہیں مانتا تمہیں اپنی بیوی' وہ جارہانا انداز میں اسکی طرف بڑھا

'آپ نہیں مانتے لیکن باقی سب تو مانتے ہیں' لالی کے اطمینان میں زرا فرق نہیں آیا تھا

'اور اس سب کی وجہ بھی تم ہو سمجھیں' میر چلّایا اور اسکا بازو پکڑ کر اسے کھڑا کیا 

'ہم نے بھیجا تھا نکاح نامہ یہاں' لالی نے دانت پیس کر کہا  اور بازو چھڑانے کی کوشش کی جس پر میر کی پکڑ مضبوط تھی اسے لگا اسکا ہاتھ ٹوٹ جائے گا

'نیچے کیا ڈرامے کررہی تھی تم ہاں' میر نے اسکا ہاتھ اسکی کمر سے لگایا

'سی' وہ سسکی 'تو کیا بتا دیتے کہ آپ نے ہمیں ہمارے ماں باپ کے سامنے رسوا کرکے ہم سے نکاح کیا اسکے بعد ہمیں پولیس اسٹیشن میں رکھ کر ٹورچر کیا جیل میں ڈالا بولیں' وہ ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کررہی تھی اور میر کی پکڑ اتنی ہی مضبوط ہورہی تھی 

'تو یہ بھی کہو نہ کہ تم نے قتل کیا تھا اور میرے دوست کا کیا تھا' وہ دھاڑا اور اسے زمین پر پٹخا وہ اسکے قدموں میں گری اسکے پاس زمین پر بیٹھا اور اسکا منہ دبوچا 'تمہیں پتا ہے تمہاری اوقات میرے قدموں میں ہے اگر اپنی اوقات سے باہر آنے کی کوشش کی نہ تو تمہارا حشر بگاڑ دوں گا' وہ پھنکارا تھا 

لالی کانپ کر رہ گئی تھی اتنی تزلیل وہ اسے پلٹ کر جواب دینا چاہتی تھی لیکن نہیں دے سکی شبانہ بیگم کی نصیحت کانوں میں پڑی جو انہوں نے شوہر کے بارے میں کی تھی 

'بیٹا شوہر کو اللّٰہ نے آپکے سر کا سائیں بنایا ہے وہ آپ کو کچھ بھی کہے آپ نے صبر کرنا ہے ورنہ اللّٰہ میاں ناراض ہوتے ہیں' اور صرف یہی نہیں اس نے ہمیشہ شبانہ بیگم کو زمان صاحب کی عزت کرتے دیکھا تھا تو زمان صاحب بھی بدلے میں شبانہ بیگم کی ان سے زیادہ عزت کرتے تھے 

تو کیا وہ ڈر گئی تھی ہاں وہ ڈر گئی تھی اللّٰہ میاں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی جب بچپن میں اسنے اسکول میں ٹیچر سے بدتمیزی کی تھی اس دن اسکے دادا کا انتقال ہوگیا تھا اسے لگا اللّٰہ اس سے ناراض ہوگیا ہے اسی لئے اس کے دادا کو اس سے واپس لے لیا تب سے وہ ڈرتی تھی کہ اللّٰہ میاں پھر سے ناراض ہوگئے تو 

تبھی ڈور نوک ہوا میر نے لالی کو چھوڑا اور کھڑا ہوا لالی نے بھی اپنے آنسو صاف کیے ڈریس لیا اور واشروم میں گھس گئی 

میر نے اسکی پشت کو گھورا اور سر جھٹکا اور دروازے کی جانب بڑھا تو علی تھا جو اسے اسکا والٹ دینے آیا تھا میر والٹ لینے کے بعد پلٹا تو علی کی آواز نے اسکے قدم جکڑے

'کبھی کبھار ہم سے کچھ ایسے غلط فیصلے ہوجاتے ہیں جنکا خمیازہ ہمیں زندگی بھر بھگتنا پڑتا ہے لیکن اگر وقت رہتے اسکا کفارہ ادا کردو تو پچھتانا نہیں پڑتا' علی سنجیدہ تھا

'مطلب' میر نے ناسمجھی سے اسے دیکھا

'تم سے ایک غلط فیصلہ ہوا تھا لیکن وہ شاید تمہاری قسمت تھی اور اب میں دعا کروں گا کہ وہ فیصلہ اب تمہاری خوش قسمتی بن جائے' علی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اور چلا گیا لیکن پیچھے میر الجھ گیا تھا

💜💜

ساری ینگ پارٹی ہمیشہ کی طرح اپنے پورشن مطلب سیکنڈ فلور پر جمع تھی اور اس بار انکی گفتگو کا موضوع لالہ رخ تھی

'ویسے کتنی عجیب بات ہے نہ میر بھائی کو بلکل ان سے الٹ بیوی ملی ہیں' عمر نے چپس کھاتے ہوئے کہا

'ہاں قانون سے نفرت کرنے والی' رواحہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی

'وہ تو علی بھائی کی ہی بہن لگی مجھے تو دونوں ہی تھوڑا ایکسٹرا کھاتے ہیں' بہروز کو لالی کا کھانا یاد آیا

'ویسے تم لوگوں نے دیکھا تھا میر بھائی کتنے کھچے کھچے سے تھے لالی کے ساتھ' وجدان نے اپنے دل کی بات کہی

'ہاں ہوسکتا ہے ان کو یہ سب عجیب لگا ہو اسلئے' فریہا نے میر کی سائیڈ لی

'بھائی جتنے کٹم سے الٹ ہیں لالہ رخ بلکل ہمارے جیسی ہی ہے اسکی باتیں کتنی عجیب تھیں' سحرش کو لالی پسند آئی تھی

'یار چھوڑو سب لالی کو بلاتے ہیں شام ہونے والی ہے وہ ابھی تک باہر نہیں آئی لگتا ہے کچھ زیادہ ہی تھک گئی ہے' نازش منہ بنا کر بولی

💜💜

لالہ رخ شاور لے کر باہر نکلی تو میر سو رہا تھا وہ آہستہ سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی برش اٹھایا اور سلائیڈ ڈور کھولا اور ٹیرس پر آئی اور اپنے بالوں کو برش کیا نیند سے آنکھیں بند ہورہی تھیں اس لئیے بیڈ پر سونے کے بجائے صوفے پر لیٹ گئی اپنی چادر اٹھائی اور اوڑھ کر سو گئی 

3:30 بج گئے تھے سوتے سوتے اب بھی وہ سو رہی تھی لیکن میر اٹھ گیا تھا اور اسے اسکا سکون زہر لگ رہا تھا اسلئے اسکے سر پر جا پہنچا

'اٹھو' میر نے کہا لیکن وہ سوئی رہی میر نے غصے میں اسے اتنی زور سے جھنجھوڑا کہ وہ گرتے گرتے بچی

'اففف جنگلی انسان کیا مصیبت ہےےے' وہ چیخی اور صوفے سے نیچے اتر کر کھڑی ہوئی

'تمیز نہیں ہے تمہیں بات کرنے کی' وہ بھی چیخا

'ہاں نہیں ہے بتاؤ کیا کروگے' لالی دونوں ہاتھ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی 

میر نے اپنی ٹانگ اسکی ٹانگ میں اَڑائی وہ جو نیند میں تھی اسلئے سمجھ نہ پائی اور زمین پر منہ کے بل گری 

'کہا تھا نہ اوقات میں رہنا' میر اسکے بال مٹھی میں جکڑے 

'ہمیں اپنی حدود اور اوقات اچھے سے معلوم ہے ایس ایس پی صاحب اگر کوئی بھولا ہے تو وہ آپ ہیں' لالی پھنکاری تھی اس میں بھی صبر بس اتنا ہی تھا 

میر نے اسکے بال چھوڑے اور ایک زوردار تھپڑ مارا 

'چٹاخ'

'آہ' لالی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا

'میرے سامنے نظریں نیچے رکھا کرو کیونکہ تم نے ابھی تک ایک صرف ایک پولیس والا دیکھا ہے اسکے پیچھے چھپا درندہ نہیں دیکھا' کہتے کہ ساتھ ہی میر نے اس سے اسکی چادر کو کھینچ کر دور پھینکا لالی ہقّہ بقّہ کھڑی اسکو دیکھ رہی تھی وہ اپنے دوست کا بدلہ لینے کیلئے کس حد تک جارہا تھا 

لالی نے اپنا ہاتھ اسکے دائیں کندھے پر رکھا اور اسکا بایاں ہاتھ پکڑا کندھے پر زور دے کر ہاتھ کو اتنی زور سے چٹخایا کہ میر نے بے ساختہ اسے دھکہ دیا سیکنڈوں کا کھیل تھا کیا ہوا پتا بھی نہیں چلا لالی نے اپنا دوپٹہ اٹھایا اور اوڑھا 

'درندگی انکو دکھانا جو ڈرتے ہوں مگر ہم لالہ رخ ہیں جس کو دنیا میں کسی کا خوف نہیں ہے اور آپ جیسے کا تو بلکل نہیں جسے صرف کمزورں پر ہاتھ اٹھانا آتا ہے' لالی کہتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی اور دو چار کریمز چہرے پر لگائیں جس سے اب گال پر پڑے تھپڑ کا نشان چھپ گیا تھا 

میر اب خاموشی سے کھڑا تھا اور اسکو دیکھ رہا تھا آج پہلی بار اس نے اسکے بال دیکھے تھے کتنی حسین تھی وہ کاش اس نے قتل نہ کیا ہوتا تو آج وہ دونوں کتنی خوبصورت زندگی گزارتے

تھوڑی دیر میں دروازہ نوک ہوا 

'بھائی' فری کی شوخ سی آواز آئی

میر نے کتنی جلد بازی میں دروازہ کھولا تھا جیسے وہ بھاگ جائے گی لالی مسکرائی دونوں کی محبت پر 

'فری بچہ اندر آؤ' کتنی محبت تھی میر کے لہجے میں اور تھوڑی دیر پہلے کے لہجا نہ جانے کہاں گم ہوگیا تھا

'وہ بھائی لالی کو لیں جاؤں اپنے ساتھ' اسنے معصومیت سے پوچھا میر تو لالی کے نام سے جی بھر کر بدمزا ہوا تھا

'یار فری اگر ایس ایس پی صاحب اجازت نہ بھی دیں ہم تو تب بھی تمہارے ساتھ جائیں گے ہائے صدقے تمہاری اس معصومیت پر' لالی نے فری کی بلائیں لیں اس بات پر تو میر کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ رینگی 

'اور تم لوگوں میں سے کون کون ہے جو منگل ہوگیا ہے' لالی نے ساری ینگ پارٹی کو ایک نظر دیکھ کر کہا

سب لوگ سیکنڈ فلور پر تھے میر اور علی باہر تھے باقی سب بڑے نیچے تھے 

'میں بتاتا ہوں' عمر کھڑا ہوا 'روح آپی اور حمدان بھائی دوسرے سحرش اور ریان بھائی تیسرے وجدان بھائی اور فاطمہ اور آخر میں فریہا اور سفیان بھائی ان سب کا نکاح بھی ہوچکا ہے' عمر نے گہری سانس لی بتانے کے بعد

'کیا تم لوگوں کا نکاح بھی ہوگیا یار ہمارا تو انتظار کر لیتے ہم نے تو دیکھا ہی نہیں' لالی نے منہ بنا کر کہا

'اوہو آپ شادی دیتھ لینا' آیت نے کہا (یہ ایک سال کی ہے) جو لالی کی گود میں بیٹھی تھی 

'ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو یار' لالی خوش ہوئی تھی 'ویسے صرف تم دونوں ہی ویلے رہ گئے ہو' لالی نے بہروز اور عمر کی طرف اشارہ کیا جس پر دونوں نے منہ بنایا

'بس اس گھر میں تم ہی ہو جنہیں ہم دونوں کی فکر ہے ورنہ ان لوگوں نے تو جھوٹے منہ نہیں پوچھا' عمر نے تو دل پر ہی لے لیا تھا

'نہ ہمارے پتر دکھ نہیں کرنا زرا بھی ابھی ہم زندہ ہے تم دونوں کی شادی ہم کرائیں گے' لالی بھی اموشنل ہوگئی تھی 'بتاؤ ہمیں کیسی لڑکی چاہئے تمہیں' لالی رشتہ والی خالہ بن چکی تھی 

'مجھے ایسی لڑکی چائیے جو انجینئرنگ پڑھ رہی ہو' عمر انجینئرنگ پڑھ رہا تھا اسلئے اسے لڑکی بھی ایسی ہی چائیے تھی

'تو سیدھا سیدھا کہو میکینک چائیے' لالی نے سوچنے والے انداز میں کہا

'ارے میکینک نہیں' عمر پریشان ہوگیا تھا

'تو کیا الیکٹریشن چائیے' لالی نے حیرت سے اسے دیکھا 'اچھا اچھا ہم سمجھ گئے' لالی نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا

'ہاں وہی تو' عمر نے بتیسی نکالی

'پلمبر چائیے تمہیں ہیں' لالی نے کہتے کے ساتھ اسے چھیڑا بھی 

'ہاہاہاہا' لالی کے ساتھ سب ہنسے تھے اور پھر سب نے عمر کو چھیڑا بھی 

💖💖

'تو تم دولت کے پیچھے ہو'

'نہیں میرا مقصد یہ نہیں ہے بلکہ میں کچھ اور حاصل کرنا چاہتی ہوں' رابی کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی

'کیا حاصل کرنا چاہتی ہو تم' ماہین نے پوچھا (رابیعہ کی بہترین دوست) 

'وہی جس کیلئے میں نے یہ سب کیا' رابی نے آنکھیں بند کر کے کہا

'اس میں بہت خطرہ ہے' ماہین نے پریشانی ظاہر کی

'اور تمہیں تو پتا ہے مجھے خطروں سے کھیلنا کتنا پسند ہے' رابی کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے بولی

'تم نے لالہ رخ کو ان سب میں کیوں پھنسایا' ماہین نے پوچھا

'میں نے نہیں پھنسایا اسے وہ خود پھنسی ہے' رابی نے ماننے سے انکار کیا 

'کیسے؟' 

'وہ وہاں آتی ہی نہیں تو پھنستی بھی نہیں' رابی نے لاپرواہی سے کہا

'اسکا وہاں آنا اسے نہیں پھنسا سکتا بات کچھ اور ہے' ماہین نے اسکا رخ اپنی طرف کیا

'ہاں بات کچھ اور ہے کیونکہ پہلی بار کسی نے مجھے ہرایا تھا اور بھی اتنے لوگوں کے سامنے' وہ چلائی تھی 

'تو اسکا مطلب ہے تم اس پر الزام لگاؤ گی اسکے ماں باپ کے سامنے اس کا بھرم توڑو گی' ماہین نے بے یقینی سے اسے دیکھا

'نہیں میں نے صرف اسے پھنسایا تھا قتل کے الزام میں باقی یہ چیپ حرکتیں میں نہیں کرتی' اسکے لہجے میں سچائی بول رہی تھی 

'تو پھر یہ سب کچھ ایک ساتھ کیسے ہوسکتا ہے' ماہین ابھی بھی حیرت میں تھی

'وہی تو کوئی اور بھی ہے جو سب جانتا ہے لیکن کون' رابیعہ پریشانی تھی

'تمہیں کیسے پتا کہ کوئی اور بھی ہے جو یہ سب جانتا ہے' ماہین نے الجھتے ہوئے اس سے پوچھا

'کیونکہ جب لالہ رخ کو پولیس اسٹیشن بولایا تھا تب کسی نے لالہ رخ کے خلاف ثبوت بھیجے تھے' وہ پریشان تھی کیونکہ وہ اس انسان کو نہیں جانتی تھی

'خیر جو کوئی بھی ہے وہ تو تمہاری مدد کررہا ہے تو اس سے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے' ماہین نے ایک اور سوال کیا

'بات ڈرنے کی نہیں ہے مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ وہ سب جانتا ہے تو مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کررہا پولیس والوں کو اس نے سب سچ کیوں نہیں بتایا' واقعی اسکی پریشانی صحیح تھی

'کیا پتا وہ شخص تم سے کچھ چاہتا ہو جس کی وجہ سے تمہاری مدد کررہا ہو' ماہین کو صرف یہی سمجھ آیا تھا

'لیکن اگر اسکو کچھ چاہیے تھا تو وہ مجھ سے رابطہ تو کرتا' رابیعہ آئینہ کے سامنے کھڑی تھی اب

'خیر چھوڑو یہ ساری باتیں چلو کچھ کھاتے ہیں' ماہین نے اسکا دھیان ہٹایا 

💖💖

لالی کو ایک ہفتہ ہوگیا تھا اس گھر میں رہتے ہوئے وہ بہت مطمئن تھی میر نے بھی لالی کو پل پل خوب بے عزت کیا تھا لیکن وہ لالی ہی کیا جو میر کو جواب نہ دے وہ جو اس کو عزتاً ایس ایس پی صاحب کہتی تھی اب تو وہ بھی کہنا چھوڑ دیا تھا سیدھا سیدھا منہ پر دو ٹکے کا پولیس والا کہتی تھی یا کبھی رشوت خور پولیس والا کہتی تھی  

میر ابھی پولیس اسٹیشن کے لئے نکل رہا تھا لالی کچن سے نکل کر بھاگنے کے انداز میں سیڑھیاں چڑھ رہی تھی باقی سب ناشتہ کر رہے تھے 

لالی جو اوپر جا رہی تھی میر کو نہ دیکھ سکی اور دونوں کا زبردست تسادم ہوا کہ وہ جو گرنے لگے تھے افراتفری میں دونوں نے ایک دوسرے کو سنبھالا تو کون کس کی بانہوں میں آیا پتا ہی نہیں چکا

سب لوگ منہ کھولے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے کیونکہ سچویشن بہت عجیب ہوگئی تھی میر لالی کی باہوں میں تھا اور لالی نے ہینڈل کو پکڑا ہوا تھا

'یہ رومینٹک سچویشن ہے کیا' لالی نے میر سے پوچھا تو میر نے بے ساختہ کندھے اچکائے

'نہیں یہ رومینٹک سچویشن نہیں ہے' آواز ریان کی تھی دونوں نے اسکی طرف دیکھا اور ہم آواز بولے

'پھر؟' دونوں ابھی تک اسی پوزیشن میں تھے

'پہلی بار دیکھا ہے ہیرو کو ہیروئین کی بانہوں میں' عمر نے بہروز کو آنکھ ماری 

عمر نے ساجدہ بیگم کا دوپٹہ اٹھایا اور سر پر اوڑھا بہروز آگے آیا اور عمر کی بانہوں میں گرا 

'صنم دیکھ لو مٹ گئی دوریاں میں یہاں ہوں میں یہاں ہوں' بہروز نے اپنی خوبصورت آواز کے ہنر دکھائے تو لالی اور میر کو ہوش آیا 

لالی نے میر کو جلدی سے چھوڑا تو وہ سیڑھیوں پر گرا 

'لگتی تو نہیں دو ٹکے کے پولیس والے' لالی نے میر سے پوچھا تو اس نے اسے خونخوار نظروں سے گھورا

'نہیں' وہ لٹھ مار انداز میں کہتا ہوا باہر نکل گیا 

💖💖

پری اور دانیال بیٹھے ناشتہ کررہے تھے اب تو گھر میں خاموشی سی رہنے لگی تھی 

شبانہ بیگم کچن میں کھڑیں ناشتہ بنا رہی تھیں اور اب ان دونوں کے ساتھ بیٹھی تھیں ناشتہ کرنے زمان صاحب بھی آگئے تھے

'کل ہی برابر سے کچھ عورتیں آئی تھیں اور مجھے لالی کے نام پر باتیں سنا کر گئیں ہیں' شبانہ بیگم نے بات شروع کی 'کہہ رہی تھیں کیوں کسی کا گند پالا' وہ کہہ کر خاموش ہوئیں

'تو سنانی تھیں نہ دو باتیں' پری کو سخت تاؤ آیا تھا 

'تاکہ وہ اور باتیں بنائیں' شبانہ بیگم کی بات بھی سہی تھی

'تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم خاموشی سے لوگوں کی بکواس سنتے رہیں' دانیال کو بھی سخت ناگوار گزرے تھے ان عورتوں کے الفاظ

'کیا کہتی میں' شبانہ بیگم کی آنکھ سے آنسُو گرا

'صاف صاف کہتیں نہ کہ ہم نے تو اسکا نکاح کیا ہے تمہارا اپنی بیٹی کے بارے میں کیا خیال ہے جو لڑکوں کے ساتھ پکڑی گئی تھی' پری میں اب تھوڑی تھوڑی لالی نظر آتی تھی 

'صحیح کہہ رہے ہیں یہ دونوں بیگم لالہ رخ اب زمان شاہ نہیں رہی تو کیا ہوا رہے گی تو ہماری ہی بیٹی نا' زمان صاحب نے دلیل دی

'اسی لئے تو ان عورتوں کو گھر سے نکال دیا تھا' شبانہ بیگم مسکرائیں تو دانیال اور پری نے انہیں گھورا

'اتنی بھی اچھی ایکٹر نہیں ہیں آپ' پری نے ناک سکیڑ کر کہا

'چلو ناشتہ کرو اب سب جانا نہیں ہے' زمان صاحب نے سب کو کہا 

💖💖

میرے ماہی صنم جانم کی وے کریا نہ می دانم

شب گزری تے جگ سویا نی میں جگیا نہ می دانم

نی میں کملی کملی نی میں کملی کملی نی میں کملی کملی 

میرے یار دی 

فصیحہ چہک چہک کر گارہی تھی وہ یونی کے گراؤنڈ میں بیٹھی تھی اس بات سے بے خبر کے دانیال اسکے پیچھے بیٹھا ہے

دانیال اس سے ملنے آیا تھا لیکن وہ تو کہیں اور ہی گم تھی

    آنکھیاں دے محلے میں ہر شام تیرا عالم

 شب گزری تے جگ سویا نی میں جگیا نہ می دانم

 میرا ماہی صنم جانم……

وہ گاہی رہی تھی کہ پیچھے سے کسی نے اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیے

'ہئی کون ہے پیچھے ہٹو' فصیحہ نے اسے پیچھے کرنا چاہا

'پہچانو' دانیال کی گھمبیر آواز کانوں میں پڑی

'ددددانیال' فصیحہ پہچان گئی تھی

دانیال نے ہاتھ ہٹائے تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا

صاف شفاف رنگت مضبوط جسامت کھڑی ناک گرے آنکھیں چہرے کہ بائیں طرف پڑتا ڈمپل جو صرف ہنستے وقت ہی نہیں باتیں کرتے وقت بھی اٹکلیاں کرتا تھا چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی بھاری آواز وہ ایک وجیہہ مرد تھا 

'جی میں چلوگی میرے ساتھ' دانیال اسکے برابر میں بیٹھا

'کہاں' فصیحہ تو بس اسے دیکھے جارہی تھی اسکی حالت پر دانیال نے لب دبائے 

'سوچ رہا ہوں بھگا کر لے جاؤں رخصتی تو ہو نہیں رہی' دانیال نے اسکی طرف جھک کر گھمبیر آواز میں کہا اور اسکے کانوں کی لو چوم گیا 

فصیحہ کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی اسکے گال لال ہوگئے تھے 

دانیال نے پیچھے ہوکر اسکا چہرہ دیکھا اسکا چہرہ ابھی بھی اسکے بہت قریب تھا

'ددد…دانیال کک کوئی ددیکھ لے گا' وہ اٹک اٹک کر بولی 

'اچھا ریلیکس کچھ نہیں کررہا ابھی میرے ساتھ چلو لنچ کرتے ہیں' دانیال نے کھڑے ہوکر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا جسے اس نے کچھ بھی سوچے بغیر تھام لیا تھا

اور پھر یونی سے باہر نکل گئے

💖💖

میر اپنے آفس میں بیٹھا تھا وہاں موجود سارے پولیس والوں کا اسکو دیکھ کر موڈ خراب ہوا تھا کیونکہ وہ اصولوں کا بہت پکا تھا چھوڑتا نہیں تھا کسی کو بھی 

پولیس کی وردی کندھوں پر لگے ستارے سر پر پولیس کیپ بائیں طرف میر لکھا تھا جبڑے بھینچے ہوئے مضبوط ہاتھ آنکھوں میں سرد مہری واضح تھی وہ ایک روعبدار اور بہترین پرسنلٹی کا مالک تھا 

'سر' کونسٹیبل نے اندر آکر سیلیوٹ کیا 

'کہو' میر کی مصروف سی آواز گونجی

'سر کل جن کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی وہ لوگ پولیس اسٹیشن میں گھس کر توڑ پھوڑ کررہے ہیں ہمارے دو چار پولیس والوں کو زخمی کر کے ہیں' اسنے جلدی سے ساری کارروائی بیان کی

'تو یہاں کیوں کھڑے ہو چلو جلدی' وہ باہر نکلا میر نے اپنا کیپ اتارا گھڑی اتاری اور اپنی آستینوں کو اوپر چڑھایا 

وہ باہر نکلا تو چھ گنڈے تھے ان میں سے ایک لیڈی آفسر کا گریبان پکڑے کھڑا تھا جب کے باقی سب اسکے پیچھے کھڑے تھے

'کیا ہورہا ہے یہاں' میر دھاڑا

'تو کون ہے' ان میں سے ایک نے میر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا میر کی آنکھیں آگ اگل رہیں تھیں

'تو کون ہے' میر نے سرسراتے لہجے میں پوچھا

'جو ایف آئی آر کل درج ہوئی تھی بس اسے ہی پھاڑنے آئے ہیں' اسنے بڑے سکون سے کہا تھا 

'یہ رہی ایف آئی آر' ان میں سے ایک گنڈے نے ڈھونڈ لی تھی وہ اور اب وہ اپنے باس کے ہاتھ میں لاکر رکھ رہا تھا جو میر کے پاس کھڑا تھا

'چل سائن کر اسے اتنی ساری فائلیں ہیں ایک یہ بھی بند ہو جائے گی تو کوئی فرق تھوڑی پڑے گا' اسکی بات پر اسکے سارے چیلوں نے قہقہ لگایا تھا

'میں اس پر سائن نہیں کروں گا جو کرنا ہے کرلو' وہی سرسراتا لہجہ دونوں ہاتھ پینٹ کی پوکٹ میں تھے

'بہت چربی چڑھی ہے کیا تیرے اندر ابھی ایک آواز پر میرے سارے آدمی تیری ہڈیاں توڑ دیں گے' اسکی آواز میں خباثت تھی

پیچھے سے ایک آدمی بھاگ کر اسکی طرف آیا میر سائڈ پر ہوا اور اپنا دائیاں ہاتھ آگے کیا تو وہ اسکے کندھے سے لگا میر نے اسی ہاتھ سے اسے زمین پر پٹخا جبکہ دوسرا ہاتھ ابھی بھی جیب میں تھا

دوسرا آدمی آگے بڑھا جسکے ہاتھ میں ڈنڈا تھا ہاتھ ہوا میں لہرایا اور میر کو مارنے کی کوشش کی لیکن میر نیچے جھک گیا تھا جسکی وجہ سے وہ زمین پر گرا میر نے جھک کر اسکے تیسرے بندے کے پیٹ میں ایک پنچ مار کر اسے زمین کی دھول چٹائی

چوتھا آدمی بھی آگے آیا جسکے ہاتھ میں لوہے کی روڈ تھی میر جھکے اور اسکے پیٹ میں اپنا ہاتھ مارا وہ پیچھے ٹیبل سے لگا میر نے اسے دوبارہ پکڑا اور ناک کی ہڈی پر اتنی زور سے پنچ مارا کہ ناک سے خون رسنا شروع ہوگیا تھا

چھٹا آدمی آگے بڑھا میر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور گردن پکڑی ہاتھ کو سیدھا کرکے گردن نیچے کی طرف جھکائی اور اسے ایک شیشے کے کبرڈ پر مارا تو وہ اس سے ٹکرایا کانچ اسکے سر میں گھسے تھے

وہ آدمی جو انکا باس تھا آگے آیا اور میر کو ایک پانچ مارا میر نے اسکا ہاتھ بیچ میں ہی پکڑ لیا اور اتنی زور سے مروڑا کہ ٹک آواز آئی اور ہڈی ٹوٹی ہاتھ میر کے ہاتھ میں تھا وہ جھکا اور چلایا میر نے ایک ٹانگ اسکے پیٹ میں ماری وہ دور جا گرا 

لیکن پھر وہ دوبارہ چلتا ہوا میر کے قریب آیا میر نے ایک ہاتھ سے اسکی گریبان پکڑا اور اسے ٹیبل پر پٹخا اور پھر اسکی طرف جھکا

'طاقتور لوگوں کو کمزوروں کو ڈرانے کا شوق ہوتا ہے لیکن کیونکہ اب بدلاؤ آیا ہے اسلئے کمزور لوگوں کے پیچھے طاقتور لوگ کھڑے ہیں' میر غرایا تھا 'پہلے تو سوچا تھا کہ اٹھا کر لایا جائے تجھے لیکن تو تو خود چل کر آیا ہے تھانے ڈالو ان سب کو اندر' میر دھاڑا تو سب ادھر ادھر ہوئے

آج اتوار کا دن تھا حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ آج سب جلدی اٹھ گئے تھے کیونکہ اب میر واپس جو لوٹ چکا تھا اسلئے سب وقت سے پہلے اٹھے تھے کیونکہ آج سب کا جم ڈے بھی تھا 

میر کے روم میں بنا وہ بائیں طرف والا دروازہ جسے لالی نے کبھی نہیں دیکھا تھا وہ کچھ اور نہیں جم تھا لالی نے اسلئے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ میر کے اٹھنے سے پہلے اٹھتی تھی میر نے اپنے کام کی ساری زمہ داریاں لالہ رخ پر ڈالی تھیں اسلئے وہ صبح میر کے لئے ناشتہ بنانے کےلئے جلدی اٹھتی تھی اور رات کو میر کے سونے کے بعد روم میں آتی تھی وہ گھر کی آدھی زمہ داریاں اپنے کندھوں پر لے چکی تھی کیونکہ اب اسکا سب کچھ یہی فیملی تھی

'یہاں پر جم بھی ہے' لالی نے حیرانگی سے پوچھا 

'ہاں تم نے نہیں دیکھا کیا؟' بہروز نے پوچھا جو اس وقت ٹریکنگ سوٹ میں تھا 

باقی سارے بھی آچکے تھے میر بلیک ٹراؤزر اور بنا شرٹ کے جم میں ایکسرسائز کررہا تھا 

'نہیں ایس ایس پی صاحب نے کبھی ہمیں بتایا ہی نہیں' لالہ نے منہ بنا کر کہا

'ویسے ایک بات بتاؤ تم میر بھائی کو ایس ایس پی صاحب کیوں کہتی ہو؟' حمدان نے ٹراؤزر کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا

'وہ ہمارے یہاں شوہر کا نام نہیں لیتے' لالی نے شرمانے کی بھرپور ایکٹنگ کی

'او بس اب صحیح بات بتاؤ' عمر نے منہ بنا کر کہا

'بس ایسے ہی ہمیں ایس ایس پی صاحب کہنا اچھا لگتا ہے' لالہ رخ نے اپنے دل کی بات کہی

'اووو' عمر اور بہروز نے اسے چھیڑا

'چلو ورنہ میر بھائی ڈانٹیں گے' حمدان نے ان دونوں کو آکر کہا

تو سب اوپر چل دیے لالی بھی کچھ سوچتے ہوئے آگے بڑھ گئی

💜💜

تھوڑی دیر میں لالی بھی ٹریک سوٹ پہنے بالوں کی اونچی پونی بنائے جم میں موجود تھی

اندر داخل ہوئی تو میر پش اپ لگا رہا تھا اور عمر اسکا اپر پکڑے کھڑا تھا 

لالہ رخ نے پہلی بار میر کی باڈی دیکھی تھی چوڑھا سینہ پھولے ہوئے مسلز پر ابھری نسیں سکس پیک ایبز گردن پر موجود پسینے کی ننھی بوندیں جبڑے بھینچے ہوئے تھے 

لالی کے دل نے اعتراف کیا تھا اس سے زیادہ وجیہہ انسان اس نے آج تک نہیں دیکھا بڈھا تو وہ اسے چڑانے کیلئے کہتی تھی حالانکہ اسکی پرسنلٹی پر تو اسکا کرش تھا 

تجھے دیکھنے کے سو بہانے تھے

ہائے وہ زمانے بھی کیا زمانے تھے

میر جو پش اپ لگا رہا تھا اچانک خود پر کسی کی نظروں کا احساس ہوا تو گردن گھما کر دیکھا تو لالی اسے گھور رہی تھی اسکے دیکھنے وہ بیچاری سٹپٹا گئی میر کہ ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ پھیلی اور غائب ہوئی تھی

'ایس ایس پی صاحب اکیلے اکیلے پش اپ لگا رہے ہیں ہمارے ساتھ لگائیں کبھی' لالی نے ٹریڈمل کو سیٹ کرتے ہوئے کہا 

سب کے ہاتھ روکے وجدان اور حمدان جو ڈمبلز اٹھا رہے تھے روکے ریان جو روئینگ مشین پر تھا وہ بھی روکا سفیان اور بہروز جو اولمپک برینچ مشین پر تھے ان دونوں نے بھی چونک کر لالی کو دیکھا جو لاپرواہی سے رنینگ کر رہی تھی

'کیا اسکا دماغ خراب ہے' سفیان نے بہروز سے کہا تو اس نے کندھے اچکائے 

میر روکا نظروں کا زاویہ اس پاگل لڑکی کی طرف کیا اور اٹھ کر کھڑا ہوا اور سینے پر ہاتھ باندھے

'کیوں' ایک لفظی سوال

'ایسے ہی' اس نے کندھے اچکائے اور پھر مشین کو بند کرکے میر کے پاس آئی اور آنکھوں سے اسے اپر پہننے کا اشارہ کیا جسے سمجھتے ہی میر نے اپر پہنا 

'وہ شرط لگالیں ہم سے' لالی نے میر کے پاس جاکر قدرے کم آواز میں کہا میر نے آنکھوں کو چھوٹا کیا جیسے پوچھ رہا ہو کیا

'اگر ہم جیت گئے تو ایک ہفتے تک بیڈ پر ہماری حکومت' لالی کی آنکھوں کی چمک دیکھنے والی تھی میر نے بھی کچھ سوچ کر ہامی بھرلی

اب سب ان دونوں کو دیکھ رہے تھے لالی اور میر آمنے سامنے تھے 

'ہار جاؤگی' میر نے کہا

'دیکھا جائے گا' وہ بھی لالی تھی

دونوں زمین پر اب الٹے لیٹے تھے ہاتھوں کو زمین پر رکھے اوپر اٹھایا اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پش اپس اسٹارٹ کیں

سب لوگ آنکھیں نکالے لالی کو دیکھ رہے تھے میر اور لالی ایک ساتھ چل رہے تھے پندرہ منٹ میں پچاس پش اپس کا ٹاسک تھا

ابھی دس منٹ ہوئے تھے کہ تیس بار پش اپس ہوچکیں تھیں دونوں ایک ساتھ تھے 

لالہ رخ کی سانس پھول گئی تھی پھر اپنا صوفے پر سونا یاد آیا تو ڈٹ گئی میر لالی کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک اسکی نظر اسکے نظر اسکے بازوؤں پر گئی اپر پہنا ہوا تھا لیکن مسلز کی وجہ سے اپر کے بازو ٹائٹ تھے

میر کو ناجانے کیا ہوا تھا کہ وہ تھوڑا سا روکا لالی چونکی اور جلدی جلدی پش اپس لگائیں اور اب وہ میر سے آگے تھی 

'پندرہ منٹ ختم' عمر نے چیخ کر کہا تو لالی نے خود کو ڈھیلا چھوڑا اور زمین پر گری میر اسکو دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا اور عمر کو جوس لانے کا اشارہ کیا 

عمر فریش جوس اٹھا کر میر کی طرف آیا اور اسے پکڑایا اور پھر باقی سب باہر چلے گئے تھے 

'جوس' میر نے لالی کے سامنے جوس رکھا تو وہ زمین پر بیٹھ گئی اور گھٹنوں کو کھڑا کرکے سینے سے لگایا بائیں ہاتھ سے ٹانگیں کور کیں اور جوس اٹھایا میر اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھا تھا ایک گھٹنا زمین پر تھا جب کہ ایک کھڑا ہوا تھا اور اس پر ہاتھ رکھا تھا جب کہ نظریں لالی کے چہرے کا اعتراف کررہی تھیں جو جوس کو ایسے ہی رہی تھی جیسے اس سے زیادہ کچھ امپورٹنٹ نہیں میر کو ناجانے کیا سوجھی کہ اس نے اپنی اپر کی زب کھول دی جسکی وجہ سے اسکا سینہ نظر آرہا تھا

لالی جو میر کو اگنور کررہی تھی اسکی اس حرکت پر آنکھیں باہر کو آئیں جوس ہلق میں اٹک گیا تھا چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا تو پورا روم خالی تھا اس کے بعد جلدی سے جوس ختم کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی 

'ہ…ہم ہم جججاتے ہیں' وہ اٹک اٹک کر بولتی کمرے سے نکلنے کیلئے قدم بڑھائے

جب اچانک میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا وہ اس پر گری میر اسکی گھبراہٹ بڑھا رہا تھا وہ بری طرح کنفیوژ ہوئی

میر نے اسکے کمر پر اپنے بازو باندھے لالی کے دونوں ہاتھ میر کے سینے پر تھے 

میر اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا اور وہ آنکھیں مینچے اسکی گود میں بیٹھی تھی جب اچانک میر لالی کے کان کی طرف جھکا

'اچھی لگ رہی ہو' میر نے اسکے کانوں میں سرگوشی کی لالی کے دل کی دھڑکن میر آرام سے سن سکتا تھا لالہ رخ نے پٹ سے آنکھیں کھولیں اور اسکی طرف دیکھا ہوش میں نہیں لگتا تھا اسے وہ

'ہم جیت گئے ہیں اور ہم اپنا انعام بھی وصول کریں گے اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہم صوفے پر سوئیں گے تو آپکی غلط فہمی ہے' لالی نے ناک سکوڑ کر کہا کسی صورت یقین نہیں کرسکتی تھی وہ اس دوغلے انسان پر

'کاش تم کہتیں کہ ہم آپ کے ساتھ آپکے بیڈ پر سوئیں گے' میر کی آنکھوں میں شرارت تھی لالی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی کل تک تو مرنے مارنے پر تلا ہوا تھا آج کیا ہوا اسے کہیں جوس میں نشے کی گولیاں تو نہیں تھیں

'ایک منٹ چھوڑیں ہمیں پہلے' لالی نے کہا تو میر نے اسے ناسمجھی سے چھوڑدیا لالی نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا

'بخار تو نہیں ہے' لالی نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا

'آپ نشا کرنے لگے ہیں' لالی نے شکی نظروں سے اسے گھورا

'مطلب' میر سنجیدہ ہوا

'ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کررہے ہیں کل تو ہمیں جان سے ماررہے تھے آج کیا ہوا' لالی کی بات بلکل ٹھیک تھی

💜💜

یہ ایک ریسٹورنٹ تھا جہاں دو نفوس پیچھے کی جانب ایک ٹیبل پر آمنے سامنے بیٹھے تھے 

'یوں سر جھکانے سے کیا ہوگا' ان میں سے ایک بولا 'اتنا ہی پچھتاوا ہورہا ہے تو پیر پکڑ کر معافی مانگ لو' وہ تنزیہ بولا

'مجھ میں ہمت نہیں ہے اس کا سامنا کرنے کی' دوسرا نفوس شرمندگی میں گھرا ہوا تھا

'تو پھر یہ سب کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی اب بھگتو' سامنے بیٹھا ہوا شخص غصے سے بھرا ہوا تھا

'میں بہک گیا تھا' آنکھیں ہنوز جھکی ہوئیں

'تم سارا سچ بتادو اسے مجھے نہیں لگتا زمان نے سچ بتایا ہوگا' وہ شخص کچھ سوچ کر بولا

'سب ختم ہو جائے گا وہ مرجائے گی اور رابیعہ بھی کہیں کا نہیں چھوڑے گی خود کو بھی ختم کرے گی اور ساتھ اسے بھی مار دے گی' وہ بے تحاشہ خوف زدہ تھا 

'تم نے اپنی حوس میں دو لوگوں کی زندگیاں برباد کردیں اب اگر سچ سامنے کو آرہا ہے تو تم اسے چھپا رہے ہو شرم کرو مزید گناہ کرنے سے بچ جاؤ' اسنے اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا تو اسنے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے 

'میں پاگل ہورہا ہوں مجھے کؤثر کی آوازیں اپنی کانوں میں سنائی دیتی ہیں اسکی آہیں اسکا خدا کا واستہ دینا میں مرجاؤں گا' وہ بےبسی کی انتہا پر تھا تو سامنے والا نفوس کھڑا ہوا

'تمہارا مرنا ہی بہتر ہے لیکن مرنے سے پہلے جن لوگوں کی زندگیاں خراب کی ہیں ان کیلئے کچھ اچھا کرجانا' وہ اسکے کندھے پر دباؤ ڈالتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا 

💜💜

میر نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے جم سے نکال کر روم میں لے آیا روم کا دروازہ بند کیا اسے صوفے پر بٹھایا اور خود ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آیا اسکی دراز سے کچھ نکالا اور پھر لالی کے سامنے صوفے پر بیٹھا ایسے کے دونوں ٹانگوں پر ہاتھ تھے اور ٹانگوں کے  درمیان ہاتھوں میں گن لٹک رہی تھی لالی اور میر کے درمیان ایک ٹیبل تھی

لالی نے میر کی طرف دیکھا اور پھر گن کو دیکھا اور ایک لمبی سانس خارج کی میر کی آنکھوں سے شعلے بھڑک رہے تھے تھوڑی دیر پہلے کی نرمی محبت اب کہیں نہیں تھی اب اگر کچھ تھا تو صرف ایک رشتہ جو ایک چور اور پولیس کے درمیان ہوتا تھا 

میر نے کچھ تصویریں اور وہ سارے ثبوت لالی کے سامنے رکھے گن اب بھی ہاتھ میں تھی

'مجھے پتا ہے تم جھوٹ بولنے میں ماہر ہو لیکن اب مجھے صرف سچ سننا ہے' میر نے لالی کو دیکھا 

'دیکھیں…' لالی کی بات میر نے کاٹی

'صرف سچ' میر دھاڑا لالی کا ہاتھ کانپا وہ خوفزدہ ہورہی تھی

'اچھا ٹھیک ہے' لالی نے لمبی سانس کھینچی اور میر کی طرف دیکھا اور پھر اسے سب سچ بتاتی گئی لالی نے میر کو سب سچ بتایا تھا ایک لفظ نہیں چھپایا تھا بس رابی کے باپ کا ذکر اسکے دماغ سے نکل گیا تھا

رابیعہ خان کے نام پر میر چونکا دماغ میں طارق خان کا عکس لہرایا لیکن وہ یہ بات کیسے مانتا کیونکہ جس دن جنید کا مرڈر ہوا تھا اسی دن روہن کا مرڈر بھی ہوا تھا کسی نے اسکی گاڑی کے بریک فیل کیے تھے اور یہ تو صرف وہی جانتا تھا کہ روہن کے مرڈر کی پلینینگ میر کی طرف سے تھی اور دوسرا یہ کہ جنید سے رابیعہ کا کیا کنیکشن اور لالہ رخ رابیعہ کو کیسے جانتی ہے

'رابیعہ خان کو کیسے جانتی ہو' میر نے لالی سے پوچھا

'یونیورسٹی میں ہم سے ایک سال سینئر تھی ہمارے ڈپارٹمنٹس بھی الگ تھے' لالی کے چہرے پر ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں

'اسٹرینج بھلا رابیعہ خان جنید کو کیوں مارے گی' میر نے نظروں کو ترچھا کرکے اسے دیکھا

'ہہ.ہ.ہمیں نہیں پتا' لالی کی حالت خراب ہورہی تھی 

'جھوٹ' میر نے ٹیبل پر ہاتھ مارکر کہا 

'نن..نہیں پتا ہمیں کچھ' اسکی آواز کانپی 

'قتل تم نے کیا ہے' میر کی بات پر لالی نے سر جھٹکے سے اٹھایا ہر طرف بے یقینی ہی بے یقینی تھی 

'ساری بات چھوڑیں اور ہمیں ایک بات بتائیں' اب لالی کی بس ہوگئی تھی پرانی ٹون میں واپس آئی 'آپ نے اب تک کونسی ایسی انویسٹیگیشن کی ہے کہ مجرم ہم ہیں یہ بات ثابت ہوتا ہے' لالی نے تیر سے نشانہ لگایا تھا اسکی بات پر میر مسکرایا

'کیونکہ میں جانتا ہوں تم مجرم نہیں ہو میں تو بس سچ سننا چاہتا تھا تم سے' میر نے اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ کر کہا اور اپنی گن ایک سائیڈ پر رکھی دونوں کے بیچ فاصلہ کم تھا

لالی نے اسے دیکھا تھوڑی دیر پہلے والی بے یقینی اب لالی کی آنکھوں میں تھی 

'جھوٹ' وہ جھٹ سے بولی

'جھوٹ نہیں ہے یہ' میر نے عجیب سے لہجے میں کہا

'ہم کیسے مان لیں'

'کیسے مانو گی؟'

'کچھ بھی کرلیں ہم کیا ناول کے ریڈرز بھی نہیں مانیں گے' لالی اب بھی حیرت میں تھی

'کیوں؟' سوال پوچھا گیا

'کیونکہ کل تک جو شخص آپ کو مجرم سمجھ رہا ہو وہ اچانک سے کہے کہ آپ مجرم نہیں جھٹکا تو لگے گا' وہ اب بھی بے یقین تھی 

'میں میر گیلانی ہوں ایس ایس پی میر گیلانی سچ اور جھوٹ کا فرق سامنے والے کی آنکھوں میں دیکھ کر لگا لیتا ہوں اور اس وقت تمہاری آنکھوں میں سچائی کی رمق ہے' میر نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اسکی باتوں میں سچائی تھی 

'ہم نہ بہت تیز ہیں آپکی ان جھوٹی باتوں میں نہیں پھنسنے والے جانتے ہیں ہم آپ ایسا اس لیے کررہے ہیں تاکہ آپ بیڈ پر سو سکیں' لالی نے ناک پھلا کر کہا اور جھٹکے سے کھڑی ہوئی اور واشروم میں گھس گئی پیچھے میر بھی وارڈروب کی طرف بڑھ گیا ہونٹوں پر اب ہلکی سی مسکراہٹ تھی

💜💜

رواحہ اس وقت کیچن میں اکیلی اپنے لیے ناشتہ بنا رہی تھی بھوک لگ رہی تھی بہت تیز اور بانو بی(کام کرنے والی آنٹی) بھی نہیں آئیں تھیں 

حمدان جو کیچن میں کافی بنانے آیا تھا رواحہ کو وہاں دیکھ کر ٹھٹکا پھر آگے پیچھے دیکھا تو کوئی نہیں تھا رواحہ اسکی طرف پیٹھ کیے کھڑی تھے لمبے بال کمر پر بکھرے ہوئے تھے 

'روح' وہ گھمبیر آواز میں بولا تو رواحہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسکی سانس اٹکی بلیک ٹراؤزر وائٹ شرٹ بنا سلیوز کے وہ اسی طرف آرہا تھا

'اوہ آج تو آپ کافی اپنی اپنی لگ رہی ہیں مسز حمدان' وہ اسکی طرف بڑھتے ہوئے بول رہا تھا

وہ پیچھے ہٹ رہی تھی دل پسلیوں سے ٹکرا رہا تھا

'میں کیا سوچ رہا تھا ایک سال بہت ٹائم ہے کہو تو ابھی ہی رخصتی کروالوں' وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے دلکشی سے کہتا اسکے قریب آیا 

'یہ ککک…کیا کررہے ہ.ہ.ہو تم پپ…پلیز پیچھے ہٹو' رواحہ نے اپنے خشک ہونٹوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے کہا

'فلحال تو کچھ نہیں مگر تم چاہو تووو' حمدان نے کیچن سلیپ پر رواحہ کے دائیں بائیں بازو رکھ کر جانے کی راہیں مسدود کیں 

'دد۔دور رہو پلیز' ڈر کہ مارے رواحہ تھر تھر کانپی

'شششش' حمدان نے اسکی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا

اسکے پرحدت لمس پر رواحہ کا پور پور سلگا تھا جب کہ سانسیں اتھل پتھل ہونے لگیں تھیں اس نے خوف سے آنکھیں میچیں

حمدان نے دلچسپی سے اسکا یہ سہما سہما سا روپ دیکھا اور مسکرایا اور جھک کر اسکے دونوں گالوں پر اپنے ہونٹ رکھے 

خوف سے یوں نہ آنکھیں بند کر

چومنے سے کوئی نہیں مرتا

اسکی اس حرکت پر اسکے گال لال ہوگئے تھے ناشتہ کو چھوڑ کر وہ اپنے روم میں بھاگ گئی اب کونسی بھوک پیچھے حمدان ہنستے ہوئے اپنے لیے کافی بنانے لگا 

💜💜

بی جان نے لالہ رخ کو اپنے پاس بلایا تھا 

'جی بی جان' لالی انکے کمرے میں داخل ہوئی تو انہوں نے اپنے پاس بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا تو لالی انکے پاس بیٹھ گئی

'بیٹا میں میر کو جانتی ہوں اس نے تمہیں اپنے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہوگا' بی جان کی بات پر لالی نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا

'بیٹا میر جب پندرہ سال کا تھا تب اس پر چوری کا الزام لگا تھا تب وہ دو مہینے جیل میں رہ کر آیا تھا' بی جان کی بات پر لالی نے جھٹکے سے سر اٹھا کر انہیں دیکھا 

💜💜

'جب فری پیدا ہوئی تھی تو رامین(میر کی ماں) انتقال کرگئیں تھیں ایسے میں میر کو بہت دھچکا لگا تھا وہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پائے تھے کافی سال لگ گئے تھے انہیں وہ یہاں سے دور چلے گئے تھے یعنی آپ کے شہر کراچی وہاں وہ غلط صحبت کا شکار ہوئے نہ صرف چوری کی بلکہ ایک آدمی کو زخمی بھی کیا اسلئے دو مہینے جیل رہ کر آئے تھے میر' بی جان نے کہنے کے بعد لالی کو دیکھا جو اچھنبے سے انہیں دیکھ رہی تھی

'لیکن آپ ہمیں یہ سب کیوں بتا رہی ہیں' لالی نے بے ساختہ پوچھا بات بڑی تھی کیونکہ میر کا کیریکٹر جڑا تھا اس بات سے

'کیونکہ بیٹا آپ انکی بیوی ہیں' بی جان نے مسکرا کر کہا تو لالی کا چہرہ بےرونق ہوا اتنی بڑی بات اسے کیوں بتا دی 'اور اسلئے بھی کہ اگر آپ کو کوئی میر سے بدگمان کرنے کی کوشش کرے تو آپ کو میر پر بھروسہ ہو' بی جان نے لالی کا ہاتھ پکڑ کر مان سے کہا تھا 

'لیکن کوئی ہمیں کیوں بدگمان کرے گا ایس ایس پی صاحب سے' لالی نے پلکیں جھپکاتے ہوئے کہا وہ اس انداز میں اتنی کیوٹ لگی تھی کہ بی جان نے اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھ دیے تھے وہ کھل کر مسکرائی 

'کیونکہ ہمارے خاندان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو میر کو پسند نہیں کرتے لیکن میر انکی بھی بہت عزت کرتے ہیں' وہ اسے سمجھا رہی تھیں یا آنے والے وقت کیلئے تیار کررہیں تھیں وہ سمجھ نہیں سکی

'تو ہم کیا کرسکتے ہیں بی جان' لالی نے جھٹ سے پوچھا

'تو بس آپ کو ہمیشہ میر کو سمجھنا ہے' بی جان نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

'یہ تو بہت مشکل کام ہے اسکے علاؤہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کیا' لالی نے آرام سے منع کیا

'لالہ رخ' آواز میں تنبیہہ تھی

'اچھا اوکے' وہ منہ بناتے ہوئے باہر نکل گئی پیچھے بی جان مسکرائیں

'ہم غلط تھے میر یہ تمہاری طرح نہیں ہے بلکہ بلکل بھی نہیں ہے ہم کہتے ہیں لوگوں کو انکی معصومیت خطرے میں ڈالتی ہے لیکن ہم یہ بات بھی یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اسکی معصومیت ہی اسکو بہت آگے تک کے لے کر جائیگی' یہ وہ چند جملے تھے جو بی جان کے ساتھ شبانہ بیگم بھی کہتی تھیں 

لیکن لالہ رخ کے لئے ایک جملا ایسا تھا جسکا جواب کوئی نہیں دے سکا تھا 

'کون ہے وہ؟' 

💜💜

میر آج صبح لیٹ اٹھا تھا کیونکہ اسے آج پولیس اسٹیشن نہیں بلکہ کہیں اور جانا تھا اسلئے لالی بھی ابھی تک سو رہی تھی

لالی بیڈ پر سوئی تھی کافی ٹائم بعد اتنی اچھی نیند آئی تھی جیل میں زمین پر سو کر تو کمر ٹوٹ گئی تھی اور پھر یہاں آکر صوفہ اور وہ بھی اتنا سخت اٹھو تو کمر اسکے ہینڈل سے لگتی 

میر آج بھی سویا تھا صوفے پر پہلی دفعہ کا ایکسپیرینس ہی ایسا اتھا کہ ابھی تک کمر میں درد ہورہا تھا اسلئے بڑی مشکل سے نیند آتی پ تھی وہاں 

'لالی' میر اسے اٹھانے آیا تھا اور قدرے دھیمے لہجے میں اٹھا رہا تھا اسے 

لالی کی نیند ابھی ہی ٹوٹی تھی 

یہ جانے بغیر کہ کوئی اسکے برابر میں بیٹھا تھا ایک جان لیوا سی انگڑائی لی ساری کی ساری رونائیاں واضح ہوئیں میر کی نظروں نے وہ دلفریب سا منظر دیکھا تو دل میں گدگدی سی ہوئی تھی نظروں کا زاویہ بدلا اور خود پر کنٹرول کیا ورنہ دل تو مچلنے لگا تھا اسکو دیکھ کر

'لالی' ایک دفعہ پھر پکارا

لالی کو کافی دیر سے اپنے نام کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اس نے مڑ کر دیکھا تو برابر میں میر بیٹھا تھا وہ ایک دم بوکھلائی 

'آپ یہاں کیا کررہے ہیں' دوپٹہ اوڑھتے ہوئے بولی وہ گھبرا گئی تھی 

'ریلیکس' میر نے اسکے بوکھلائی ہوئی آواز سنی تو بولا 'وہ کپڑے پریس کردینا میرے وہاں رکھیں ہیں' وہ کہتا رکا نہیں اور واشروم میں گھس گیا 

اسنے ایک گہرا سانس لیا اور خود کو کمپوز کیا پھر استری اسٹینڈ کی طرف بڑھی کپڑے دیکھے تو سر گھوم گیا بلیک تھری پیس سوٹ تھا ایک نظر واشروم کے گیٹ کو دیکھا اور پھر استری کا سوئچ اون کیا دس منٹ میں کپڑے پریس ہوچکے تھے پھر نیچے کچن کی طرف بڑھ گئی ناشتہ بنانے کے لیے 

💜💜

ماہین خان کنسٹریکشن آئی تھی

'ماہی' عارف جو مصروف سا کام کررہا تھا ماہین کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی

'کیسے ہو عارف' اس نے خوشدلی سے اسکا مزاج پوچھا

'میں ٹھیک ہوں لیکن ناجانے کیوں تم ٹھیک نہیں لگتیں' عارف نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تو ماہین نے اثبات میں سر ہلایا

'رابیعہ دو ہفتوں سے غائب ہے' ماہین نے عارف کے سر پر دھماکہ کیا تھا

'رابیعہ میم تو لاہور میں ہیں' عارف نے بے یقینی سے پوچھا

'سب کو یہی لگتا ہے کہ وہ لاہور میں ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہ تو کبھی لاہور پہنچی ہی نہیں' ماہین کی آواز کانپ رہی تھی 

'تم مجھے یہ سب اب بتا رہی ہو پہلے کیوں نہیں بتایا' عارف نے ہاتھ میں پکڑی فائلز ایک طرف رکھیں 

'کیا تم نہیں جانتے کہ جب بھی وہ کہیں جاتی تھی تو کسی سے بھی رابطہ نہیں کرتی تھی کیونکہ اسے وہاں ایڈجسٹ ہونے میں ٹائم لگتا تھا اسلئے مجھے لگا وہ بعد میں فون کرلے گی لیکن اب دو ہفتے ہوگئے تھے اسکا کوئی میسج نہیں آیا نا ہی کوئی کال آج صبح ہی اس ہوٹل سے کال آئی تھی جو رابیعہ نے بک کرایا تھا کہہ رہے تھے کہ رابیعہ وہاں آئی ہی نہیں میں نے ائیرپورٹ پر بڑی مشکل سے معلوم کروایا تھا پیسے دے کر تو وہاں سے پتا چلا کہ رابیعہ خان اس دن فلائٹ میں موجود ہی نہیں تھی' وہ بولنے کے ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی عارف جو کب سے اسکی باتیں سن رہا تھا اسکے رونے ششدر رہ گیا 

'اچھا اچھا ریلیکس بیٹھو یہاں' اس نے چئیر کھینچ کر اسے بٹھایا اور خود اسکے لئے پانی لایا وہ دو چار گھونٹ پی سکی صرف 

'دیکھو رابیعہ خان کو تو تم بھی جانتی ہو اور میں بھی وہ اپنا خیال رکھ سکتی ہیں کچھ نہیں ہوا ہوگا انہیں' اس نے سمجھانے کے انداز میں کہا 

'تم یہ سب چھوڑو اور اسے ڈھونڈو میرا دل گھبرارہا ہے مجھے میری دوست چاہئے' وہ چیخی عارف نے دانتوں سے ہونٹ کاٹے کیسے سمجھائے اس پاگل لڑکی کو 

رابیعہ خان کی دوست تھی یہ وہ رابیعہ خان جو اپنی پہچان میں بہت دور نکل گئی تھی وہ محبت نہیں جنگ کرتی تھی جس میں سب جائز تھا جس چیز سے ڈرتی تھی اس چیز کو اپنے ہاتھوں سے ختم کرکے اپنا ڈر ختم کرتی تھی اور ایک یہ لڑکی تھی کچھ کرنے سے پہلے ڈرتی ہی اتنا تھی کہ ننھا سا دل بھی کانپ جاتا چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا اسکی عادت تھی 

یونی میں رابیعہ نے اسے اپنا دوست بنایا تھا خود کیونکہ محترمہ لیٹ ہوگئیں تھیں اسلئے رونے لگ گئی تھیں ایسے میں رابیعہ کو ایسی ہمدردی ہوئی تھی کہ اسے اپنا دوست ہی بنا لیا 

💜💜

'سنو ٹکے کے پولیس والے ناشتہ ریڈی ہے کرلوو.و' لالی جو بے دیہانی میں میر کو ناشتہ کا کہنے آئی تھی میر کو دیکھ کر اسکی چلتی زبان رکی 

میر بلیک تھری پیس پہنے برش سے اپنے بال بنا رہا تھا 

افف۔افف لالی کو اپنا دل ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا تھا 

میر نے شیشے میں سے پیچھے کھڑی لالی کو دیکھا برش رکھا اور دو انگلیوں سے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا لالی نا چاہتے ہوئے بھی اسکے قریب بڑھی آنکھیں تھیں کہ پلکیں نہیں جھپک رہی تھیں دل تھا کہ دھڑکنا بھول گیا تھا سانسوں میں میر کے پرفیوم کی خوشبو بس گئی تھی سنسناہٹ سی ہوئی تھی ہر قدم پر 

وہ میر کے قریب آئی تو میر نے اپنی گھڑی اسکے ہاتھوں میں پکڑائی اور اپنے ہاتھ پر اشارہ کیا 

لالی نے ٹرانس کی سی کیفیت میں گھڑی پکڑی میر نے اپنا بایاں ہاتھ آگے کیا مضبوط ہاتھ پر ابھرتی ہوئی نسیں لالی نے گھڑی پہنائی اور لوک بند کیا اور پھر ایک نظر بھر کر اسے دیکھا 

'کہاں جارہے ہیں' لالی نے نیچے دیکھتے ہوئے پوچھا

'کیوں' سوال پر سوال کیا

'چکر چل رہا ہے آپکا' لالی نے اسے دیکھ کر آئیبرو اچکائی

'ہاں' میر نے بھی کندھے اچکائے

'کون مل گیا ایسا' ایک اور سوال

'کوئی بہت خوبصورت' میر کی آنکھوں نے لالی کو نظروں میں بسایا 

'لیکن آپ جتنا خوبصورت نہیں ہوگا' لالی کی آواز پر میر کی آنکھوں میں حیرت ابھری 

'تعریف کررہی ہو' میر نے کوٹ کا بٹن بند کیا 

'نہیں تنز کررہے ہیں' لالی مسکرائی 

'کیسا تنز' میر اب پوری طرح اسکی طرف متوجہ تھا

'پیار بھرا تنز' لالی کی نظریں زمین پر تھیں

'محبت ہوگئی ہے؟' پھر سے سوال

'نہیں' عجیب سا جواب

'تو' میر کے ہونٹوں پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ ابھری

'ٹرائے کررہےتھے سوچا نہیں تھا اتنے پیارسے بات کرہیں گے' لالی نے مسکراہٹ دباتے ہوئے میر کے کندھے سے نادیدہ دھول صاف کی 

'کیسا ٹرائے' میر نے ڈریسنگ ٹیبل سے ٹیک لگائی اور سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا

'ٹریک پر آؤ لڑکے ہم صرف سیٹی مارکر آپ کی  توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کررہے تھے' لالی نے میر کو دیکھا اور دل نے ماشاءاللہ کہا

'سیٹی بھی انہیں ماری جاتی ہے جو پسند آئے ہوں اسکا مطلب میں تمہیں پسند ہوں' میر کی بات پر لالی لاجواب ہوئی

'خبردار جو ہمیں اپنی ان باتوں میں پھنسایا ہو تو ناشتہ نیچے رکھا ہے کرلیں اور بانو بی کو کہہ دینگا وہ آپ کے لئے چائے نکال دیں گی' لالی کہتی ہوئی واشروم میں گھس چکی تھی پیچھے کھڑے میر نے اپنے ہاتھ پر لب رکھے تھے جہاں کچھ دیر پہلے کے لالی کے ہاتھ کا لمس تھا 

💜💜

یہ کوئی ریسٹورنٹ تھا جہاں میر اپنی تمام تر وجہات کے ساتھ بیٹھا کسی کا انتظار کر رہا تھا وہاں بیٹھی ہر لڑکی میر کو گھور رہی تھی وہ شاید ان سب کا عادی تھا اسلئے لاپرواہ سا بنا اپنے موبائل میں لگا ہوا تھا

کچھ ہی دیر میں اسے اپنے قریب آتے قدموں کی آواز سنائی دی تو ہونٹوں کے کونے پر بلکل ہلکی سی مسکراہٹ ابھری اور گم ہوئی تھی نظریں اٹھاکر اوپر دیکھا تو 

سامنے سے آتی ہوئی سنینا پر نظر پڑی لال رنگ کی ٹائٹ ٹی شرٹ پر بلیک کورٹ نیچے بلو جینس اور پیںنسل ہل شرٹ کا گلہ گہرا تھا وہ محترمہ خوبصورتی میں مثال آپ تھیں 

'کیسے ہیں آپ میر' وہ بے تکلفی سے میر کے گال پر کس کرتی ہوئی سامنے چئیر پر بیٹھی میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی

'آپ کیسی ہیں' شوخ آنکھیں تو میر کی بھی تھیں

'آپ کو دیکھنے کے بعد کوئی کیسا ہوسکتا ہے' وہ کھوئے کھوئے لہجے میں بولی میر نے اب کی بار نظر پورے ہال پر ڈالی ساری لڑکیاں ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھیں بلکہ اب تو مرد حضرات بھی شامل تھے سُنینا کو گھورنے میں 

'آج کل کہاں ہیں آپ' سنینا نے پھر پوچھا

'میں تو مصروف رہتا ہوں آئے دن مجرموں کی مہمان نوازی کرنے میں' وہ دلفریب انداز میں بولا 

سنینا زرا اٹھی اور میر کی طرف جھکی گلہ گہرا تھا اسلئے رعنائیاں واضح ہوئیں تھیں میر نے آنکھیں پھیریں اندر اٹھنے والے اشتعال کو دبایا 

'کبھی ہمیں بھی اپنی خاطر توازہ کرنے کا موقع دیں بائے گوڈ بور نہیں ہونے دیں گے' وہ بے باک ہوئی

'اسکی ضرورت نہیں' میر کو ناجانے کیوں وہ پاگل سی لڑکی یاد آئی تھی 'خدمات تو ہم کرنا چاہتے ہیں آپ کی' میر ایک آنکھ دبا کر بولا

تو چیز بڑی ہے مست مست 

تو چیز بڑی ہے مست

میں چیز بڑی ہوں مست مست  

'ٹھیک سے لگاؤ یار ڈھمکے' عمر نے بہروز کو 

کھینچ کر کشن مارا پیچھے میوزک سسٹم پر سونگ لگا ہوا تھا

بہروز نے کل سب کو آئسکریم کھلانی تھی لیکن وہ رفو چکر ہوگیا تھا اسلئے اب اسے سزا مل رہی تھی

'تو تو لگالے' بہروز جل کر بولا اور لالی کو التجائیہ نظروں سے دیکھا لیکن لالی تو گانے کے بولوں پر جھوم رہی تھی

کلیوں جیسا حسن جو پایا

ہر ادا میں نور ہے آیا

ساتھ میرے اور ست ہتھر گایا

بلیم دوں رب کو کیوں ایسا بنایا 

'بلکل ہی کوئی خراب ڈھمکے لگاتے ہو تم اس ڈھمکے پر تو کوئی تمہیں ایک ڈھیلا نہ دے' وجدان جو کب سے اسکا عجیب سا ڈانس دیکھ رہا تھا آخر میں چڑ کر بولا

'عمر جاؤ اور اسے زرا بتاؤ کیسے لگاتے ہیں ڈھمکے اس نے تو ڈھمکے کو دھمکی بنا دیا ہے' لالی نے بہروز کو چڑایا اور پھر عمر نے بہروز کی جگہ لی

تیرا جس سے پڑ گیا پالا

اچھوں کو غلط کر ڈالا

تیرا…نہیں تیرا کوئی دوش دوش 

تیرا حسن ہی زبردست دست

تو چیز بڑی ہے مست مست

'واہ دیکھو زرا اسے کچھ سیکھو اس سے اس نے تو شیلا کی جوانی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا' ریان نے عمر کو فلائنگ کس بھیجی تو وجدان نے ہاتھ میں بوتل پکڑی اور اس کے پاس چلا گیا

نہیں تجھ کو کوئی ہوش ہوش

اس پر جو بن کا جوش جوش

نہیں تیرا…نہیں تیرا کوئی دوش دوش

مدہوش ہے تو ہر وقت وقت

تو چیز بڑی ہے مست مست

وجدان ہارا ہوا جواری اور شرابی لگ رہا تھا تو عمر بھی لیلیٰ سے کم نہیں تھا 

انکھیاں فریبی شیطانی ہیں

عشق میں تیرے مرجانی ہے

اتنا کوئی خود کو بچائے 

یہ آگ دلوں میں لگ جانی ہے

'کیا بات ہے' لالی نے دو انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹی ماری 

'آگ لگادی' ریان نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا

جادو ایسا کرڈالا

نہ ہوش کسی نے سنبھالا

تیرا نہیں تیرا کوئی دوش دوش 

تیرا حسن ہی زبردست دست

لڑکیاں بھی ساری موجود تھیں لیکن وہ خاموش تھیں کیونکہ وہ حیران تھیں اور وجہ لالی تھی جو بات بات پر سیٹی مار رہی تھی 

گانا ختم ہوا تو سب آکر بیٹھ گئے 

'ویسے تم کیا پاٹ ٹائم جاب کرتے ہو ڈھمکوں کی' رواحہ نے ستائشی انداز میں عمر کو دیکھا

'نہیں وہ تو بس ایسے ہی' عمر نے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا

'عمر تم نہ بہروز کی ڈھمکیوں کو زرا ڈھمکوں میں بدلو اتنے برے ڈھمکے لگاتا ہے یہ' سحرش کا تو دل ہی خراب ہوگیا تھا 

'ایک بات بتاؤ تم لوگ آفس نہیں جاتے کیا' لالی نے وجدان ریان اور بہروز سے پوچھا

'جب دل کرتا ہے تب جاتے ہیں' ریان نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا

'تو کل سے ریگولر جانا شروع کرو' لالی نے کہتے ہوئے ہاتھ جھاڑے

'کیوں' ان سب کی ایک ساتھ آواز نکلی 

'پہلی بات ہم تم سب سے رشتے میں بڑے ہیں اسلئے ہماری بات مانا کرو' لالی نے گردن اکڑا کر کہا 'اور دوسری بات تم لوگوں کا نکاح ہوچکا ہے ابھی شادی ہونے میں وقت ہے اسلئے کام دھندا کرو ورنہ ہم لڑکیاں نہیں دیں گے' لالی نے صاف صاف لفظوں میں رخصتی سے منع کیا

'لیکن میرا تو نہ کوئی رشتہ ہوا ہے اور نہ ہی کوئی نکاح' بہروز سکون میں تھا لیکن باقی سب تھوڑا گھبرا گئے تھے 

'تمہاری پوکٹ منی فہیم چاچو سے کہہ کر بند کرواتے ہیں کہیں گے کہ یہ ساری پوکٹ منی اپنی گرل فرینڈ پر اڑاتا ہے اور چاچو کو تم سے زیادہ ہم پر یقین ہے' لالی نے بھی دوبدو جواب دیا 

'تو منظور ہے' لالی نے سب سے پوچھا سب نے جھکی گردنوں سے سر ہلایا 

لالی نے نظر اٹھا کر  دروازے کو دیکھا جہاں قرۃ بیگم اور ساجدہ بیگم کھڑی تھیں انہوں نے ہی لالی سے ان سب کو آفس بھیجنے کا کہا تھا کیونکہ یہ سب انکے ہاتھ آکر نہیں دیتے تھے اب وہ دونوں مطمئن تھیں 

💜💜

'یہ خدمات کا بخش کون کسے بخشے گا یہ تو خدا ہی جانے لیکن آپ نے ہمیں کیوں بلوایا یہاں اتنے لوگوں میں بلانا ہی تھا تو زرا اکیلے میں بلاتے' سنینا نے آنکھ دبا کر کہا

'رابیعہ خان کو جانتی ہو' میر نے رابیعہ کی تصویر اسکے سامنے رکھی 

رابیعہ کی تصویر نے سنینا کے چہرے کی ہوائیاں اڑائیں

'نہیں' اسنے صاف جھوٹ بولا

'تو اسے تو جانتی ہی ہونگی' میر نے اب لالی کی تصویر رکھی تھی سامنے

'ہاں یہ تو ہمارے یونی کی ہے' اس بار اس نے سچ کہا تھا لیکن آدھا 

'تو مس رابیعہ بھی تو آپکی ہی یونی کی ہیں' میر نے آنکھوں کو ترچھا کرکے پوچھا 

'ہو گی لیکن میں نے نہیں دیکھا کبھی اسے' سنینا نے اطمینان سے کہا

'تو پھر یہ کیا ہے' میر نے اسکی اور رابی کی ایک وڈیو اسے دکھائی جس میں وہ رابیعہ سے کافی فرینک ہوکر مل رہی تھی

'مجھے یاد نہیں' وہ لاپرواہ ہوئی 

'اچھا اچھا کوئی بات نہیں لیکن یہ یہ کچھ سمجھ نہیں آتا' 

میر نے سنینا کی برتھ ڈے پارٹی کی پکس دکھائیں جس میں وہ دونوں ایک دوسرے سے گلے مل رہی تھیں اور رابی اسے گفٹ دے رہی تھی اور وہ گفٹ کیا تھا میر اچھے سے جانتا تھا اسی میں 9mm گن تھی 

'آپ نے میرا ٹائم ویسٹ کرنے کے لیے بلایا ہے کیا' وہ چڑتی ہوئی بولی 

'محترمہ زرا ٹھنڈ رکھیں کوئی بلی چوہا نہیں مرا ایک جیتا جاگتا انسان مرا ہے' میر غرایا اور ایک ہاتھ ٹیبل پر مارا

'کیا کون؟' وہ حیران ہوئی

'قتل ہوا ہے جنید فروز غزالی کا ملٹی نیشنل کمپنی کے ایم ڈی کا اور اس قتل میں جو جو ملوس ہے اسے تو میں بیچ چوراہے پر پھانسی لگاؤں گا' اسکی آنکھوں میں بدلا تھا آگ تھی جنون تھا اور شاید کہیں دور تھوڑا دکھ بھی تھا 

'تو اس سب سے میرا کیا تعلق' وہ پھر لاپرواہ ہوئی جب کے دل میں میر کی آنکھوں کا ڈر بیٹھ گیا تھا ایک خوف تھا جو ڈگمگا رہا تھا

'دعا کرنا کہ اس سب سے تمہارا کوئی تعلق نہ ہو نہیں تم مجھے جانتی نہیں ہو' وہ اٹھ کھڑا ہوا ٹیبل سے موبائل اور چابیاں اٹھائیں اور ایک نظر اسے دیکھا

'میری نظروں سے کوئی بچ نہیں سکتا اگر تم بے قصور ہو تو یہیں رہ کر اپنی سچائی کا یقین دلاؤ گی' وہ اسے قائل کررہا تھا یہ اپنے جال میں اسے پھنسا رہ اتھا یہ تو صرف میر جانتا تھا وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا 

جبکہ سنینا کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا دل بری طرح کانپا تھا اسکا ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اٹھایا اور ہونٹوں سے لگایا اور خود کو کمپوز کیا اور اپنا فون اٹھایا اور کسی کو کال ملائی

'ایس ایس پی میر گیلانی جنید مرڈر کیس میں رابیعہ خان سے ہوتا ہوا مجھ تک پہنچ گیا تو سمجھو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے اسلئے محتاط رہو' سنینا نے کچھ اور باتیں کرنے کے بعد فون کاٹا

💜💜

(دو ہفتے پہلے)

رابیعہ خان لاہور جانے کیلئے نکل رہی تھی اس نے سنینا کو بھی لاہور میں شفٹ کروادیا تھا ان دونوں کے تو فرشتوں کو بھی دور دور تک اندازہ نہیں تھا کہ وہاں لالہ رخ بھی ہے 

رابیعہ نے اپنی ساری پیکنگ کرلی تھی وہ یہ گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے لاہور جارہی تھی بچا ہی کیا تھا اب یہاں اب اگر کچھ تھا تو وہ صرف لاہور میں تھا اس نے اپنے بزنس کی ایک اور برانچ کا افتتاح کرنا تھا لاہور میں جسکے سلسلے میں کئی بار عارف بھی جاچکا تھا اور اب وہ بھی جارہی تھی

وہ ائیرپورٹ پر تھی جب کسی نے اسکے منہ پر رومال رکھ کر اسے بے ہوش کیا تھا اور وہ جو چڑیل اور ناگن جیسے الفاظ سن چکی تھی اپنے لئے اس حملے سے نہیں بچ سکی تھی لیکن بے ہوش ہونے سے پہلے اس نے اس شخص کو دیکھ لیا تھا اور پہچان بھی گئی تھی منہ سے ہلکی سی سرگوشی نما آواز ابھری 

                  "اسابیل عثمانی"

💜💜

لالہ رخ نازش کے بچوں کے ساتھ فیملی پارک گئی تھی آیت اسکی گود میں تھی جبکہ ارمغان اسکی انگلی پکڑے چل رہا تھا 

لائٹ پنک کرتی کے ساتھ بلو جینس سر پر سکارف کیے کرتی کے ساتھ والے دوپٹے کو گول گھما کر گلے میں ڈال رکھا تھا وہ معصوم سی گڑیا دو دو نمونوں کو اپنے ساتھ لے کر چل رہی تھی

'آئیتریم تانی ہے لالی (آئسکریم کھانی ہے لالی)' ارمغان نے آئسکریم ہاؤس کی طرف اشارہ کیا

'پہلے بولنا تو سیکھ لے' لالی نے اسکا مزاق اڑایا

'آتا ہے مدھے بولنا' وہ تو برا ہی مان گیا تھا  

'اچھا چلو آئیتریم کھاتے ہیں' لالی نے اسی کے انداز میں کہا

'ہیلو وعلیکم بھیا جی' لالی نے اس آئسکریم والے کو اپنی طرف متوجہ کروایا 

'جی کیا' وہ حیران ہوا

'جی کچھ نہیں بس آپ ان دونوں کو ان کی پسندیدہ آئسکریم دے دیں بلکہ ایک ہمیں بھی دیں ' لالی نے آیت اور ارمغان کی طرف اشارہ کیا اور پھر ایک ٹیبل پر جاکر بیٹھ گئے

میر جو چند کونسٹیبلز کے ساتھ اسی پارک میں ایک کیس کے سلسلے میں آیا تھا وہاں لالی کو دیکھ کر ٹھٹھکا اور پھر جب نظر بچوں پر پڑی تو بات سمجھ میں آئی

'اکیلے اکیلے آئسکریم کھانا گناہ ہے اسلئے ہمیں بھی کھلاؤ' لالی اپنی آئسکریم کھانے کے بعد اب انکی آئسکریم پر آئی تھی 

'نو' آیت اور ارمغان نے نہ میں سر ہلایا

'یہ جو جس کے پیسوں پر عیاشیاں کررہے ہو نہ وہ ہمارے ہیں' لالی نے چبا چبا کر کہا

'جھوت می ماموں تے ہیں (جھوٹ میر ماموں کے ہیں)' آیت نے اسے جھوٹا ثابت کرنا چاہا وہاں آتے میر نے بھی اسکی بات سن لی تھی وہ لالی کا جواب سننے کے لیے وہیں رکا

'اوہ تمہارے میر ماموں نے آج تک ہمیں ایک روپیہ تو کیا ایک چوّنی تک نہیں دی یہ ہماری پوکٹ منی کے پیسے ہیں جو ہم نے جمع کرکے رکھیں ہیں' 

لالی نے دل کی بھڑاس نکالی پیچھے کھڑے میر کو بے حد سبکی محسوس ہوئی وہ جو اسکے نام پر آئی تھی آج تک کبھی اس نے اس سے ایک روپیہ نہیں مانگا تھا کیا اسکی ضروریات نہیں تھیں

'میم پیمنٹ کردیں' آئسکریم پارلر کے ایک لڑکے نے آکر اس سے پیسے مانگے 

لالی جو پہلے ہی غصّے میں بھری بیٹھی تھی پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی'کتنے ہوئے' 

'ایک ہزار چار سو روپے' وہ بڑے اطمینان سے بولا

'کیاااا ایک ہزار چار سو روپے کس بات کے' وہ تو صدمے میں چلی گئی تھی 

'آئسکریم کے' وہ لڑکا لالی کے تیور دیکھ کر ڈرگیا تھا 

'آئسکریم کے نام پر لوٹ رہے ہو تم معصوم لوگوں کو' وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی 

'میم دیکھیں ان بچوں نے جو آئسکریم کھائی ہے وہ مہنگی والی تھیں' اس لڑکے نے صفائی پیش کی تو لالی نے ان دونوں آفتوں کو گھورا جو ابھی بھی بڑے مطمئن انداز میں آئسکریم کا صفایا کررہے تھے 

میر وردی میں ملبوس تھا بڑے اطمینان سے چلتا انکے قریب آیا دونوں بچوں نے میر کو دیکھا تو لپک کر اسکے پاس گئے میر نے دونوں کے سر پر بوسہ دیا اور پھر اپنی شیرنی کے پاس آیا جو ابھی بھی لڑرہی تھی

'کتنے پیسے ہوئے ہیں' میر نے اپنا والٹ نکالتے ہوئے کہا لالی جو لڑنے میں مگن تھی میر کی طرف پلٹی

'سر ایک ہزار چار سو روپے' اس لڑکے نے کہا

'میں دے دیتا ہوں' میر نے پیسے نکالے تو لالی نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ تھا 

'آپ کیوں دیں گے آئسکریم آپ نے کھائی ہے جو آپ دیں گے' لالی کا ارادہ اب شاید میر سے لڑنے کا تھا

'میں دے دیتا ہوں اٹس نوٹ آ بگ ڈیل' میر جانتا تھا اسے کیسے ہینڈل کرنا ہے اسلئے آرام سے ٹہر ٹہر کر بات کرنے لگا

'نہیں پیسے تو ہم ہی دیں گے ہم کسی کا احسان نہیں لینا چاہتے' لالی نے کہتے ساتھ ہی اپنی جینس کی پوکٹ سے پندرہ سو نکالے اور ویٹر کو دیے اور باقی کے پیسوں کی اسے ٹِپ دی 

ارمغان اور آیت کی طرف آئی تو وہ دونوں اپنا منہ اور ہاتھ گندے کرچکے تھے بلکہ میر کے کپڑوں پر بھی آئسکریم لگا چکے تھے 

لالی نے ان دونوں کے ہاتھ منہ صاف کیے جب کے میر اسی کو ہی دیکھ رہا تھا 

وہ انتہا کی خوددار تھی بات عزت پر آجائے تو انا کو بھی ٹھوکر مار دیتی تھی اسکا ضمیر اتنا مضبوط تھا کہ کوئی بھی اسے اپنے اشاروں پر نہیں چلا سکتا تھا 

'مراکبے میں چلے گئے ہیں کیا' لالی کی آواز سے وہ حال میں لوٹا

'کیوں' میر نے پوچھا

'کب سے گھورے جارہے ہیں لاہور کا فیملی پارک ہے یہ کراچی کا ہِل پارک نہیں' لالی نے اسے شرم دلائی 

'اپنی بیوی کو ہی گھور رہا ہوں' میر نے آرام سے کہا

'یہ ہمیشہ ایسی باتوں پر ہی بیوی کیوں یاد آتی ہے' لالی نے خطرناک تیوروں سے اسے گھورا

'ماموں' آیت کی آواز پر میر کا دل کیا اسے چوم لے صحیح وقت پر بچایا تھا اس نے اسے

'چلو بھئی گھر چلیں' لالی نے آیت کو گود میں اٹھاتے ہوئے کہا اور پھر ارمغان کو کرسی سے اتار کر کھڑا کیا 

میر دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا تھا اسلئے ان لوگوں کو دیکھ نہیں سکا پارک گھر سے قریب تھا دس منٹ کا راستہ تھا پیدل چلنے میں 

💜💜

اسابیل عثمانی 

یہ کبھی بدلا ہی نہیں وہی عیاش بگڑا ہوا رئیس زادہ ہی رہا اس نے کؤثر کو گھر سے بھگایا نہیں تھا بلکہ اسکا کڈنیپ کیا تھا کیونکہ کؤثر کو تو کبھی اس سے محبت تھی ہی نہیں 

اسابیل نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا لیکن وہ نہیں مانیں تھیں بس پھر وہ انا کا پجاری اس بات کو اپنی انا پر لے گیا اور کؤثر کو اگواہ کرلیا اور اسکو زیادتی کا نشانہ بنایا کؤثر کو اس بارے میں زرا علم نہیں تھا کہ اس سب کے پیچھے کون ہے

شبانہ بیگم سب جانتی تھیں سب سچ سارے جھوٹ سارے جرم اور سارے ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے انہوں نے 

وہ جب اپنی عزت لٹا کر گھر پہنچی تھیں تو سب نے انہیں رکھنے سے انکار کردیا تھا لیکن انکا سگا بھائی ملک سے باہر تھا 

ایسے میں زمان صاحب نے انہیں اپنے گھر کی چھت دی تھی اور بھائی ہونے کا مان دیا تھا کچھ عرصے بعد جب وہ پریگننٹ ہوئیں تو انکے لیے اسابیل عثمانی کا رشتہ آیا جو بھی تھا لیکن وہ محبت کرتا تھا ان سے 

کؤثر نے شرط رکھی تھی شادی کی کہ وہ جب تک اس بچے کو جنم نہیں دیں گی تب تک شادی نہیں کریں گی اسابیل عثمانی بھی مان گیا تھا 

کؤثر نے جب لالہ رخ کو جنم دیا تو انہیں سچائی کا علم ہوا تو اسنے یہ بات اپنے سگے بھائی کو بھی بتادی تھی اور یہ بات اسابیل بھی جان گیا تھا کؤثر اس کیلئے خطرہ بن گئی تھی

ابھی اس بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا شبانہ بیگم بھی نہیں

اسلئے اسابیل نے اسکی گاڑی میں بومب فٹ کروایا تھا اور اپنے تمام ڈاکیومنٹس کؤثر کے بھائی کے پاس رکھے تھے تاکہ مرنے کے بعد سب کو لگے کہ اسابیل عثمانی بھی ان کے ساتھ مرچکا ہے وہ تو لالی کو بھی مارنا چاہتا تھا لیکن شاید خدا کو کچھ اور منظور تھا لالی شبانہ بیگم کے پاس ہی رہ گئی تھی جب انکی گاڑی میں بومب بلاسٹ ہوا 

اور اس بومب بلاسٹ نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ کؤثر اور اسابیل عثمانی مرچکے ہیں اور انکا بھائی لاپتا ہے سارے شک اس پر گئے تھے کہ بہن کی محبت میں اس نے اسابیل عثمانی کو ماردیا 

لیکن شاید کؤثر کو اندازہ ہوگیا تھا انکے ساتھ کیا ہونے والا تھا اسلئے انہوں نے شبانہ بیگم سے کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہوجاتا ہے تو انکی بیٹی کو وہ اپنی بیٹی بناکر پالیں اور اسے کبھی بھی یہ بات نہیں پتا چلنے دیے گا کہ وہ ایک ناجائز اولاد ہے

لالی کا ایک ہفتہ پورا ہوگیا تھا بیڈ پر لیکن وہ بلکل بھی دوبارہ صوفے پر نہیں سونا چاہتی تھی اسلئے تانے بانے بننے لگی اسی کشمکش میں چلتی ہوئی وہ میر کے پاس آئی جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر بزی تھا وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئ بولنے کے لیے منہ کھولا لیکن میر کو دیکھتے ہی منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

میر ٹائٹ ریڈ ٹی شرٹ اور ڈارک بکو کلر کے ٹراؤزر میں چہرے پر سنجیدگی سجائے کام میں مگن تھا پتا نہیں کیوں اسے دیکھ کر لالی کا دل ایسے دھڑکتا تھا جیسے پہلے کبھی دھڑکا ہی نہ ہو وہ اس سچویشن سے پوری طرح کنفیوژ تھی

میر جو کب سے لالی کی نظریں خود پر محسوس کررہا تھا اور چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ بولے لیکن وہ خاموش تھی اسلئے نظریں اٹھاکر اسے دیکھا 

'لالہ رخ واٹس ہیپنڈ' میر نے اسکو اس طرح خود کو گھورتے ہوئے دیکھ کر لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا 

'وہ ہم کہہ رہے تھے' لالی جو اتنی پلینینگ کرکے آئی تھی سب بھول گئی تھی 

'کیا کہہ رہی تھیں' میر نے پھر سے پوچھا

'وہ.ہ.ہ' وہ اسے بتانے کے لیے اسکے قریب بڑھی ہی تھی کہ پاؤں کارپیٹ میں الجھا اور وہ لڑکھڑا کر میر پر گری 

لالی کے بال جو جوڑے میں قید تھے کھل کر اس کے چہرے پر آئے تو اسکا چہرہ چھپا گئے 

میر کا دل جو لالی کو پھر سے اتنے قریب دیکھ کر مچل گیا تھا اب اسکے بالوں کو محسوس کرنے کا کیا تھا اسلئے اپنے دل کی آواز پر لبیک کہتا اپنی انگلیوں سے اسکے چہرے پر جھولتی لٹوں کو کان کے پیچھے اڑسا

لالی جو پہلے ہی کنفیوژ تھی اب بوکھلا گئی تھی اسکے ہاتھوں کا لمس دہکتا ہوا سا تھا 

'can we share the bed?'

میر کی گھمبیر آواز کانوں میں پڑی تو لالی اور کنفیوژ ہوئی

'what?'

لالی کو لگا اس نے کچھ غلط سن ہے ادھر میر لالی کی آواز سے ہوش میں آیا اور اٹھ بیٹھا لالی نے اپنی دھڑکنوں کو گہری سانسیں لے کر نارمل کیا

'تم بیڈ پر سو سکتی ہو لیکن میں بھی یہیں سونگا' میر نے اپنی شرط بھی بتائی

'اس سے اچھا ہے ہم صوفے پر ہی سو جائیں' وہ منہ بناتی ہوئی بولی 

'سوچ لو میں تو تمہارے ہی فائدے کی بات کررہا ہوں' میر اسکے فائدے کی بات کررہا تھا یا اپنے 

'لیکن ہم…' وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی لیکن پھر دماغ میں ایک آئیڈیا آیا 'ٹھیک ہے ہم اور آپ یہیں سوئینگے' لالی نے چہکتے ہوئے کہا میر اسکے اتنی جلدی ماننے پر حیران ہوا لیکن سمجھ تو تب ہی جب لالی نے اپنے اور اسکے درمیان ایک احتیاطی تدابیر بنائی مطلب بیڈ کے بیچ میں کشن رکھ کر ایک لائن بنادی

💜💜

'مجھے کیوں لائے ہو یہاں' رابی چیخی اور اپنے ہاتھ کھولنے کی کوشش کرنے لگی وہ کرسی سے بندھی تھی 

'تم نے مارا ہے نہ جنید کو' اسابیل کا چہرہ روشن ہوا وہ آج بھی اتنا ہی وجیہہ تھا لالہ رخ کی آواز میں موجود غرراہٹ غرور اکڑ اور دھاڑ اس نے اسابیل سے حاصل کیا تھا

'کیوں تمہیں بھی مرنا ہے' رابیعہ کی آواز میں موجود پھنکار اس بات کی گواہی تھی کہ وہ ڈری نہیں ہے

'نہیں کسی اور کو مروانا ہے' اسابیل اب رابیعہ کے سامنے رکھی گئی کرسی پر آکر بیٹھا تھا

'تو میں کیا کروں' اس نے دانت کچکچائے

'سمپل اسے ماردو' اسابیل نے اطمینان سے کہا

'اور میں اسے کیوں ماروں گی' رابیعہ کی آنکھوں میں سوال تھا

'تمہیں پتا ہے برسوں پہلے جو جگنو میری آنکھوں میں روشن تھے وہ جگنو اب تمہاری آنکھوں میں روشن ہیں' اسابیل نے آگے ہوکر کہا

رابیعہ نے اسابیل کی آنکھوں میں دیکھا اور استہزائیہ مسکرائی 

'جن سے محبت کرتے ہیں انہیں مارا نہیں جاتا بلکہ اپنی عمر انہیں لگائی جاتی ہے لیکن آپ تو بہت کچّے کھلاڑی نکلے عثمانی صاحب اسکو مارا تو مارا لیکن دنیا کی نظروں میں خود کو بھی مار دیا کیوں' رابیعہ کی آنکھوں میں سوال تھے

'ہئے کیا یاد کرا دیا تم نے بھی' وہ شاید کچھ سوچ کر مسکرایا اور پھر رابیعہ کی طرف دیکھا 'میں نے کہا تھا کؤثر سے جان لے لوں گا لیکن وہ سمجھی کے شاید میں اپنی بات کررہا ہوں' آخر میں اس نے قہقہ لگایا جب کہ رابیعہ کی آنکھوں میں حقارت امڈ آئی تھی اُس کیلئے 

'پتا ہے میں لوگوں کو بلاوجہ نہیں مارتی کیونکہ پھر بعد میں میری آنکھوں سے نیند اڑ جاتی ہے جو مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے لیکن تم نے تو دو بے گناہوں کو ماردیا' وہ آپ سے تم پر آئی

'تو وہ کونسا بے گناہ تھے جانتی ہو کؤثر نواب کو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی تھی جتنی دولت اسکے پاس تھی اتنی تو میرے پاس بھی نہیں تھی لیکن پتا نہیں کیوں محبت ہوگئی اس سے شاید وہ خوبصورت بہت تھی لیکن پتا ہے کیا' وہ بول کر خاموش ہوئے اور رابیعہ کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی

'محبت سے اوپر نہ عشق ہوتا ہے اور مجھے عشق صرف دولت سے تھا وہ مجھ سے شادی نہیں کررہی تھی اسلئے اسے بےبس کیا پہلے اسکے بعد اس سے شادی ہونے ہی لگی تھی کہ اسکے بھائی احمد کو سب پتا چل گیا صرف اس دولت کے لئے میں نے سب کو مارا جب مجھے لگا کہ اب سب میرا ہے تو' اس نے ایک پنچ دیوار پر مارا 

'لالہ رخ وہ بیچ میں آگئی وہ کوئی ایری غیری نہیں نوابوں کی جائیداد کی اکلوتی وارث ہے اور اس سونے کی چڑیا کو بچانے والا کوئی اور نہیں شاہ خاندان تھا' اسابیل کی آنکھوں میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے وہ غصّے میں پاگل ہو دینے کو تھا 

رابیعہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ نڈر بہادر لوگوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والی لالہ رخ اس اسابیل عثمانی کی بیٹی ہے تو کچھ غلط نہیں ہوگا لیکن بس دونوں کے ارادے الگ تھے

💜💜

رات کے گیارہ بج رہے تھے شبانہ بیگم اور زمان صاحب اپنے کمرے کے دائیں جانب کرسیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے 

'پری کے رشتے کیلئے جو لوگ آئے تھے وہ منع کرگئے ہیں' شبانہ بیگم کی آواز بہت دھیمی تھی

'ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے' زمان صاحب نے کہ سائیڈ پر رکھا

'پوچھیں گے نہیں کیوں منع کیا ہے' شبانہ بیگم نے زمان صاحب کو دیکھا تو انہوں نے بھی انکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا

'لالی کی وجہ سے' وہ کہہ کر خاموش ہوئیں

'مطلب' وہ سمجھے نہیں

'جب گھر کی ایک بیٹی کمزور کردار کی مالک ہو تو دوسری بیٹی کے کردار پر خود بہ خود سوال اٹھتے ہیں' وہ استہزائیہ مسکرائیں

'جن کی سوچ اتنی گری ہوئی ہو ہم وہاں اپنی بیٹی دیں گے بھی نہیں' زمان صاحب کا لہجہ قطعی تھا

'کس کس کو منع کریں گے آپ مان کیوں نہیں لیتے کہ آپ کی بیٹی…' وہ ابھی کچھ اور بولتی کہ زمان صاحب اٹھ کھڑے ہوئے

'بس کردیں شبانہ بیگم جب آپ نے اسکی ماں کے ساتھ کبھی غلط نہیں کیا تو اسکے پیچھے کیوں پڑ گئی ہیں آپ' وہ گرجے تھے

'کیونکہ اس سب میں اسکی ماں کی کوئی غلطی نہیں تھی اور یہاں سراسر وہ غلط ہے' شبانہ بیگم کا لہجہ انکی آنکھوں سے یک سر مختلف تھا

'کیا پتا اسکی ماں خود گئی ہو اس…' ابھی زمان صاحب کے الفاظ پورے نہیں ہوئے تھے کہ 

'کوثر ایسی نہیں تھی اس کے کردار کی گواہی میں دیتی ہوں' شبانہ بیگم نے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر کہا

'تو پھر وہ تو آپکی بیٹی ہے سگی نہ صحیح لیکن اسکی پرورش تو آپ نے کی ہے خود پر بھروسہ نہیں ہے کیا' زمان صاحب کی آواز اس بار ہلکی تھی

'میں کیا کروں شاہ سگی بیٹی کی محبت غالب آرہی ہے اپنی پرورش پر' وہ بے بس تھیں زمان صاحب کچھ کہتے کہ اچانک دروازہ کھلا اور پری اندر داخل ہوئی 

'امی آپکی محبت اتنی خود غرض کب سے ہوگئی آپ نے ہم سب کو خوددار رہنا سکھایا ہے تو آپ کب سے خود غرض ہوگئی' پری کی آنکھوں میں آنسو تھے دکھ تھا افسوس تھا

'اور رہی بات ان فضول رشتوں کی تو یاد رکھیں آپ وہ کیا میں ٹھوکر مارتی ہوں ایسے لوگوں کو جو اتنے نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنکی سوچیں اتنی محدود ہیں کہ وہ کچھ اونچا سوچ لیں تو انہیں بےعزتی محسوس ہو' پریشے کا لہجہ باغی ہورہا تھا وہ اپنی بات مکمل کر کے جاچکی تھی پیچھے شبانہ بیگم نے زمان صاحب کو دیکھا جو زیرِ لب مسکرا رہے تھے اور دروازے کو دیکھ رہے تھے

💜💜 

آج گیلانی ہاؤس میں میر کی دلہن کو دیکھنے وہ عورتیں آئیں تھیں جنہیں میر سے خدا واسطے کا بیر تھا بلکہ یہ وہی عورتیں تھیں جو میر سے خار کھاتی تھیں چار سے پانچ عورتیں جن میں سے دو کے ساتھ انکی بیٹیاں بھی آئیں تھیں 

میر پولیس اسٹیشن سے جلدی آگیا تھا اور انصار صاحب کے ساتھ کچھ ضروری باتیں کررہا تھا سارے لوگ بھی منہ بنائے گھوم رہے تھے لالی ابھی تک کمرے میں تھی باقی سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے

'ارے بھئی اب بلوا بھی میر کی بیوی کو ایسی بھی کونسی حور پری آگئی ہے جو ہمارے سامنے بیٹھنا گوارا ہی نہیں' یہ میر کی خالا تھیں 

'ارے بس آتی ہی ہوگی اور خوبصورتی کی بات تو کریں ہی مت ماشاءاللہ بہت ہی خوبصورت ہے' قرۃ بیگم تو صحیح والا چڑتی تھیں ان سے

'ارے روبی تم کیا پارلر سے تیار ہوکر آئی ہو' رواحہ نے دوسری خالا کی بیٹی سے پوچھا

'نہیں اٹس نیچرل' وہ اتراتی ہوئی بولی تو سحرش نے اپنا منہ نیچے کرکے ہنسی روکی

اچانک کمرے میں لالی نے انٹری دی سفید شلوار قمیض پر کالے رنگ کا دوپٹہ سر پر جمائے پنک گلوس اور آنکھوں میں کاجل ہاتھوں میں بی جان کے دیے ہوئے خاندانی کنگن کانوں میں ہلکے پھلکے آویزے پہنے وہ کوئی میرڈ نہیں بلکہ ایک کالج گرل لگ رہی تھی اس نے آہستہ آواز میں سب کو سلام کیا اور میر کے برابر والی کرسی پر براجمان ہوئی اسکی چال میں موجود واضع غرور اور اکڑ نے وہاں پر آئے تمام مہمانوں کو مرعوب کردیا تھا

میر کے برابر میں جب وہ آکر بیٹھی میر کو لگا کہ وہ جیسے مکمل ہوگیا ہے وہ کوئی اپسرا لگ رہی تھی حسن تو اس نے بہت دیکھا تھا لیکن لالی جیسا معصوم حسن اس نے کہیں نہیں دیکھا تھا

'میں میر کی سگی خالا ہوں اور یہ میری بیٹی روبی' ان میں سے ایک نے اپنا تعارف کروایا تو لالی نے ترچھی نظروں سے انھیں گھورا جیسے ایکسرے کیا گیا ہو پھر ہاں میں سر ہلایا

'میں ان سب بچوں کی پھوپھو ہوں تمہاری بی جان میری خالا لگتی ہیں' پھوپھو صاحبہ بولیں تو لالی نے انہیں بھی گھورا اور پھر سر ہلایا

'میں ساجدہ کی بہن ہوں اور یہ میری بیٹی روفیہ' وہ کافی مسکرا کر بولیں پھر اور بھی لوگوں نے اپنا تعارف کروایا اور وہ بس سر ہلاتی گئی

💜💜

سنینا راحیل 

یہ ہیں وہ جنہوں نے لالی سے پنگا لیا تھا اور پھر منہ کی کھائی تھی یونی میں بس پھر اسے رابیعہ نے اپنے ساتھ ملایا 

رابیعہ نے جنید کا قتل کیا تو سنینا نے ساری کی ساری فوٹیجز ڈلیٹ کیں اور لالہ رخ کو اس سارے معاملے میں پھنسایا تھا یہ ایس ایس پی میر گیلانی کو جانتی تھی تبھی بڑے آرام سے کھیل کھیلتی گئی رابیعہ نے تو اختیار دیا تھا اسے اور اسنے اسی اختیار کا فائدہ اٹھایا تھا 

سنینا نے لالی کے گھر وہ ساری تصویریں بھیجی تھیں اور اس بارے میں رابی کو نہیں معلوم تھا

لیکن میر کو وہ وڈیوز اسابیل نے بھیجی تھیں وہ چاہتا تھا بس کسی طرح لالہ رخ اس پورے کھیل میں بری طرح سے پھنس جائے وہ چاہتا تو 

جائیداد آرام سے اپنے نام کرسکتا تھا لیکن وجہ صرف ایک عورت تھی اور وہ کون تھی یہ کوئی نہیں جانتا

💜💜

'آپ کے گھر میں کون کون ہے مطلب کس خاندان سے تعلق ہے آپکا' میر کی خالا نے سوال کیا

'جی گھر تو ہمارا کوئی نہیں ہے ہم یتیم ہیں' لالی نے بڑے اطمینان سے بات مکمل کی

'ارے خاندان کا تو پتا ہوگا نہ یا کسی یتیم خانے میں پلی ہو' پھوپھو نے چائے پیتے ہوئے کہا

'ہماری ماں نوابوں کے خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور باپ کا خاندان عثمانی تھا اسکے علاوہ جنہوں نے ہماری پرورش کی وہ شاہ ہیں' لالی نے مسکرا کر جواب دیا 

'تم نے کہا تمہارا کوئی گھر نہیں تو جنہوں نے تمہاری پرورش کی ان کے بارے میں نہیں کہوگی کیا' میر کی دوسری خالا کافی تیز تھیں 

'جی لیکن پھر بھی یتیم تو ہوئے نہ ہم اور رہی بات گھر کی تو ہم کچھ ٹائم پہلے اپنے گھر والوں سے الگ ہوگئے تھے' لالی نے بات آرام سے بتائی

'کہیں بھاگ کر تو شادی نہیں کی میر سے اسلئے گھر چھوڑ دیا' یہ تیر میر کی خالا نے چھوڑا تھا میر نے اپنے ہاتھ بھینچے انکے سوال پر

'گھر سے بھاگ کر شادی ہم نے کی ہے یا آپکی بیٹی نے' لالی اور تمیز سے رہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اسکے اس غیر متوقع سوال نے سب کو حیرت میں مبتلا کیا 

'مطلب' انہوںنے اپنی آییبروز اچکائیں جب کہ میر اب تھوڑا سکون میں تھا

'آنٹی اگر گھر سے بھاگ کر ہم نے شادی کی ہے تو آپ کو تو کوئی مصلا تو نہیں ہونا چاہئے نہ' لالی اب پیچھے ٹیک لگا کر سکون سے بیٹھی تھی 

'بہت تیز ہے آپکی بہو کہا بھی تھا میں نے کہ میری بیٹی کو بنالیں اپنی بہو لیکن آپ کو تو بس باہر والی لانی تھی' تو یہ وجہ تھی انکے چڑنے کی لالی نے ایک نظر انکو دیکھا اور پھر انکی بیٹیوں کو اور پھر مسکرائی

'جی اللّٰہ میاں نے جب ڈھائی گز کی زبان دی ہے تو جوہر تو دکھانے پڑیں گے نہ' لالی نے منہ نیچے کرکے کہا تو شیراز صاحب اپنی ہنسی چھپانے کیلئے مصنوعی کھانسے

'میر برا مت ماننا لیکن جلدی میں لے آئے تم شکل سے ہی کیریکٹر لیس لگتی ہے' یہ کوئی نامعلوم شخص تھیں انکی بات پر سب مہمانوں کے چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی

لالی کے تو سر پر لگی تلوؤں میں بجھی منہ پر انسلٹ میر کا دل کررہا تھا ایک ایک کو اچھی خاصی سنائے لیکن وہ خاموش بیٹھا تھا اور وجہ لالی تھی جو پلٹ پلٹ کر جواب دے رہی تھی

'آنٹی یہ سارا کھیل ہی تو کیریکٹر اور عزت کا ہے ایک بار اگر یہ عزت چلی جائے اور آپ کیریکٹر لیس ہوجائیں تو پیچھے کچھ نہیں بنتا بلکہ انسان بے خوف ہوجاتا ہے اور انسان جب بے خوف ہو جائے تو شیر بن جاتا ہے جسے پھر لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور رہی بات میری بیوی کی تو یہ میری متاع ہے میری عزت میری محبت پھر چاہے یہ کریکٹر لیس بھی ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں' میر آنچ دیتے لہجے میں بولا تو لالہ رخ کا دل دھڑکا گیا 

دنیا فریب دے کر__ ہنرمند ہوگئی ! 

ہم اعتبار کر کے__ گناہ گار ٹھہرے !🖤

بہروز جو اپنے روم میں آیا تھا موبائل لینے اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی وہ پیچھے مڑا اور ٹھٹکا کیونکہ اسکے پیچھے روفیہ کھڑی تھی 

'تم یہاں کیا کررہی ہو' بہروز کا ماتھا ٹھنکا

'اب تم اتنے بھی بچے نہ بنو' روفیہ نے ایک ہاتھ سے اپنے بال کھولے جو جوڑے میں مقید تھے

'کیا بے حیائی ہے یہ کسی نے تمہیں یہ نہیں سکھایا کہ ایک نامحرم کے کمرے میں نہیں گھستے' وہ دھاڑا ایک پل کو تو وہ بھی کانپ گئی تھی روم ساؤنڈ پروف تھا اسلئے آوازیں روم سے باہر نہیں گئی تھیں

'سکھایا تو مجھے سب نے بہت کچھ ہے' وہ دوپٹے سے آزاد اسکے سامنے تھی وہ ایک قدم اور بڑھی

'چٹاخ' 

بہروز نے اسکو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا وہ لہرا کر زمین پر گری

'دفعہ ہوجاؤ یہاں سے نہیں تو اس بار میر بھائی کچھ کہیں یا نہ کہیں میں تمہیں دھکے مار کر گھر سے نکالوں گا' بہروز کی آواز میں گرج تھی کہاں دیکھیں تھیں اس نے ایسی لڑکیاں 

روفیہ نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے بے یقینی سے دیکھا وہ آگے بڑھ رہی تھی جب اسے پیچھے دروازہ کھلنے کی آواز آئی

💜💜

اسابیل نے کافی امیر گھرانے میں شادی کی تھی انکی شادی روشنی بیگم سے ہوئی تھی جو ایک سوشل ورکر ہونے کے ساتھ ساتھ کلب میمبر بھی تھیں 

خدا نے انہیں ابھی تک اولاد جیسی نعمت سے نہیں نوازا تھا جسکے لئے اسابیل نے روشنی بیگم کے ٹیسٹ کروائے تو وہ سارے مثبت آئے تھے لیکن پھر بھی وہ اس نعمت سے محروم تھے روشنی بیگم خدا سے رو رو کر دعا مانگتی تھیں اگر انہیں ہلکی سی بھی بھنک پڑ جاتی نہ کہ انکے شوہر نے کیا کیا ہے انکو خدا کے آگے جھکنے سے شرم آجاتی

لیکن لالی پولیس قتل کیس میں پھنسے اسابیل کو خوشخبری سنائی گئی اور وہ یہ کہ وہ باپ بننے والا ہے اولاد کی خوشی دولت کے عشق پر حاوی آئی تھی وہ بے تحاشہ خوش تھا اپنی بیوی کا خود سے بڑھ کر خیال رکھ رہا تھا 

یہ شخص اولاد کیلئے تڑپ رہا تھا جب کہ اسکی بیٹی اپنے ماں باپ کے لئے ترس رہی تھی دونوں ایک دوسرے کیلئے جینے کی وجہ بن سکتے تھے لیکن ہمیشہ وہ ہی تو نہیں ہوتا جو ہم چاہیں

💜💜

کھانا خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا سب خوش گپیوں میں مصروف تھے جب بہروز اٹھ کر اوپر گیا اسکے ایک منٹ بعد ہی روفیہ اوپر جاتی ہوئی نظر آئی تھی یہ بات سحرش اور لالی نے بہت چبھتی ہوئی نظروں سے دیکھی تھی 

لالی کو یہ بات تو اور بھی زیادہ کھلنے لگی تھی کیونکہ جب سے وہ گئی تھی دونوں خالائیں کبھی اوپر دیکھتیں اور پھر عجیب سے انداز میں مسکرادیتیں 

جب کہ سحرش کی نظر اب روبی پر تھی جو عمر کو گھورے جارہی تھی وہ اٹھی اور اسکے برابر میں آکے بیٹھی جہاں لالی بھی تھی 

'لالی مجھے پتا نہیں کیوں روفیہ پر شک ہورہا ہے' سحرش سرگوشی میں بولی

'ہمیں پورا پورا یقین ہے' لالی سامنے دیکھتے ہوئے بولی 'تم زرا روبی کو انسان بناؤ جب تک ہم اوپر جاتے ہیں' لالی کہتے ہی اٹھی اور اوپر جانے لگی تو میر کی ایک خالا آگے آئیں اور اسے روکا جب کے دوسری طرف سحرش نے روبی کو اپنی طرف متوجہ کروایا

('شرم نہیں آتی مردوں کو گھورتے ہوئے' سحرش چبھتے ہوئے لہجے میں بولی)

'بیٹا کہاں جارہی ہو آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو' وہ کافی پیارے لہجے میں بولیں حالانکہ کچھ دیر پہلے لالی بھی وہی تھی اور خالا بھی وہیں تھیں لیکن لہجے میں زمین و آسمان کا فرق تھا

'آنٹی ہمارا گھر ہماری مرضی کہیں بھی جائیں ہم' لالی اب سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی وہ دونوں بھی اسکے پیچھے گئیں

میر جو باتوں میں مگن تھے لیکن اسکا سارا دھیان لالی کی طرف تھا میر چونکا تب جب لالی کے چہرے پر بے چینی نظر آئی 

('ارے میں تو کسی کو بھی نہیں گھور رہی' وہ مصنوعی سا مسکراتے ہوئے بولی 

'سنو یہ جو تمہاری دو ٹکے کی حرکتیں ہیں نہ انہیں اپنے گھر جا کر کیا کرو یہاں کے اگر کسی بھی مرد پر یہ گھٹیا حربے آزمائے تو اس گھر میں داخلہ ممنوع مردوں گی تمہارا سمجھیں' وہ غررائی تھی روبی اب ادھر ادھر ہوگئی تھی جبکہ پیچھے کھڑے ریان نے سحرش کا یہ روپ پہلی بار دیکھا تھا) 

💜💜

لالی نے بہروز کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی لیکن وہ لوک تھا اس نے دروازہ کھٹکھٹایا بھی لیکن کوئی رسپانس نہیں ملا لالی نے بالوں میں سے ہئیر پن نکالی اور لاک میں لگائی چھ بار گھمائی اور لاک ان لوک کیا

دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ لالی کو بے تحاشہ غصہ چڑھا اپنے پیچھے آتی خلاؤں پر نظر ڈالی اور اندر گئی 

بہروز لالی کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اور وہ بھی ایسی حالت میں اسے بے حد شرمندگی ہوئی وہ خود سے نظریں ملانے کے قبل نہیں رہا تھا

لالی اندر آئی اور روفیہ کو سر تا پاؤں دیکھا اور پھر اسکے چہرے پر پڑے تھپڑ کا نشان دیکھا تو تنزیہ مسکراہٹ نے چہرے پر احاطہ کیا

'ہمیں نہ کوئی سچ سننا ہے اور جاننا ہے کیونکہ تمہارے چہرے پر موجود تھپڑ نے ہمیں یہاں ہوئی ہر کہانی سمجھادی ہے' لالی آگے بڑھی اور روفیہ کا ہاتھ پکڑا 'بہروز نیچے آؤ' کہتی ہوئی اسے کھینچتی ہوئی نیچے لائی اب وہ سب بھی اسکے پیچھے تھیں

💜💜

لاؤنج کی سیڑھیوں سے اترتی ہوئی لالی اور اسکے ساتھ کھینچتی ہوئی روفیہ جو رو رہی تھی سحرش نے اسے دیکھا تو مسکراتی ہوئی کھڑی ہوئی گویا شق پر یقین کی مہر لگی ہو

میر نے صرف پیچھے آتے بہروز کو دیکھا تھا اور پھر روفیہ کو وہ بے تحاشہ چونکا بہروز نے روفیہ کے ساتھ…؟

اب سب لوگ کھڑے تھے اور سب کی نظریں لالی اور روفیہ پر تھیں 

'آپ لوگ جاننا چاہ رہے ہونگے نہ کہ یہ کیوں رو رہی رہے اور ہم اسکو اس طرح کھینچتے ہوئے کیوں لائے تو سنیں یہ' ہاتھ سے روفیہ کو پکڑ کر سامنے کیا 'یہ بہروز کے کمرے میں تھی اور دروازہ اندر سے لوک تھا' لالی چیختے ہوئے بول رہی تھی جب کہ لاؤنج میں اب سناٹا تھا سب کی نظریں روفیہ پر تھیں جب کہ گھر والوں کی نظریں بہروز پر جو شرمندہ سا کھڑا تھا

'نہیں نہیں روکیں بہروز غلط نہیں ہے غلط تو روفیہ محترمہ ہیں اسکے چہرے پر پڑنے والا تھپڑ اس بات کی گواہی ہے' لالی نے جب سب کی نظریں بہروز پر دیکھیں تو سب کی پریشانی دور کی

'اے لڑکی……میری بیٹی ایسی نہیں ہے بہروز نے زبردستی کرنے کی کوشش کی ہوگی جب وہ نہیں مانی ہوگی تو مارا ہوگا اسے' روفیہ کی ماں نے پوری کہانی گھڑی تھی جب کہ بہروز اپنے اوپر لگے الزام اور اپنوں کی بے یقینی پر نظریں نیچے گاڑھے کھڑا تھا وہ وہاں سے جانا لگا تو لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے روکا بہروز نے اسے دیکھا جب کہ وہ سامنے دیکھ رہی تھی دل میں ایک پھانس سی چبھی تھی اسکے

'زبردستی کی ہوگی واؤ آنٹی آپ کو پتا ہے آپ جس گھر میں کھڑی ہیں وہاں پر ایسے لفظ بولا تو کیا کبھی سنا بھی نہیں گیا ہم اس خاندان کے نہیں ہیں اسکے باوجود یہاں کے ہر مرد کے کردار کی گواہی دیتے ہیں' لالی نے بہو نہیں بیٹی ہونے کا ثبوت دیا تھا نامحسوس انداز میں قرۃ بیگم ساجدہ بیگم اور بی جان کا سر اونچا ہوا تھا 

'ارے دیکھو تو بول بھی کون رہا ہے جسکے خود کے کردار پر سوالیہ نشان لگا ہے نہ آگے کا پتا نہ پیچھے کا' یہ ان عورتوں کا روز کا تھا کسی کی بھی بیٹی یا بیٹے کی عزت خراب کرنا

'چلیں ہم بدکردار ہی سہی لیکن پھر بھی نکاح کیا ہے آپکی بیٹی کی طرح کسی نامحرم کے کمرے میں نہیں گھسے' لالی چباتے ہوئے بولی جب کہ آنکھوں میں ایک بار پھر بے بسی آئی اپنا نکاح کا دن یاد آیا تھا

'جھوٹ بول رہے ہیں یہ لوگ بی جان بہروز نے مجھے کمرے میں بلایا تھا لالی بھی اسی کے ساتھ ملی ہوئی تھی ان دونوں نے مجھے مل کر پھنسایا ہے تبھی سب سے پہلےیہ آئی کمرے میں' روفیہ کہتے کہ ساتھ پھوٹ پھوٹ کر روئی جب کہ بہروز کا دل کیا منہ توڑ دے اسکا ان سب میں میر خاموش تھا 

'کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے بی بی جھوٹ بولنے سے پہلے زرا یہ تو سوچ لیتیں کہ کمرے میں چل کر تو تم خود گئی تھیں' رواحہ بھی آگے آئی اسکی بات سن کر روفیہ اور خالا 

جان کے چہرے سفید پڑے تھے جو انکے غلط ہونے کا ثبوت دے رہے تھے میر سچ تو پہلے ہی جان گیا تھا اب یقین بھی ہوگیا تھا

'کیا تم نے ایسا کیا ہے' میر نے روفیہ سے پوچھا آواز میں ہلکا ہلکا غصّہ تھا

'وہ…' روفیہ میر کو سامنے دیکھ کر ڈگمگائی

'yes or no'

وہ دھاڑا 

'ہ.ہ.ہ۔ہاں' وہ اسکی دھاڑ سے سفید پڑتی سچ بول گئی 'لل…لیکن ااا…امی نے کہا تھا' وہ ہکلاتی ہوئی پورا سچ بولی میر کی پیشانی پر شکنیں در آئیں اور وہ گھوم کر اپنی خالا کی طرف آیا لیکن اس سے پہلے لالی آگئی تھی 

'کیا آپکو باہر کا راستہ پتا ہے' لالی نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے خالا سے کہا تو سب نے اچھنبے سے اسے دیکھا ایسے سوال کا مطلب

'بتائیں' لالی نے ایک دفعہ پھر پوچھا ت انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

'جب پتا ہے تو چلی کیوں نہیں جاتیں' لالی نے مسکرا کر کہا جب کہ اسکی بات سمجھ کر ینگ پارٹی کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی بہروز بھی اب ایزی تھا 

'کہاں' انکو شاید اپنی بےعزتی کرانے کا شوق تھا

'اس گھر سے باہر' لالی کہہ کر پیچھے ہوئی تھی 

ان سب کے چہرے بے عزتی کی وجہ سے سرخ پڑے تھے کچھ بھی کہے بغیر سب کے سب باہر چلے گئے تھے 

لالی کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی وہ خاموشی سے وہاں سے نکلتی چلی گئی جب کہ سب نظریں نیچے گاڑھے کھڑے تھے انہی کے خاندان کے تھے شرمندگی تو ہونی تھی

💜💜

میں جذب کرلوں ساری تھکاوٹیں تیری

تو اک بار میرے بازوؤں میں آ تو سہی❤️

سحرش اپنے روم میں تھی اسکے ساتھ روم میں فاطمہ رہتی تھی لیکن وہ ابھی آئی نہیں تھی شاید نیچے کہیں بزی تھی 

سحرش وارڈروب سے نائٹ ڈریس نکال رہی تھی اسلئے ریان کا روم میں آنا نوٹ نہیں کرسکی اور کام میں لگی رہی جبکہ وہ روم کا ڈور بھی کرچکا تھا اور فرصت سے دشمنِ جاں کو دیکھ رہا تھا 

سحرش کو خود پر کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو پیچھے مڑی کپبورڈ کھلا ہوا تھا 

ریان کو اپنے روم میں دیکھ کر اسکی آنکھیں باہر کو آئیں ریان اسکی حالت سے محظوظ ہوتا قدم آگے بڑھا گیا سحرش پیچھے ہوتی ہوتی وارڈروب کے اندر جانے لگی تھی جب ریان نے اسے ایک ہاتھ سے کھینچ کر سینے سے لگایا جبکہ دوسرے ہاتھ سے کپبورڈ بند کیا اور سحرش کو اسی کے ساتھ لگا کر کھڑا کردیا 

اس افتاد پر سحرش کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی تھی 'یہ کیا بے حودہ حرکت ہے؟' وہ غصے سے اس سے پوچھنے لگی

'ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے میری شیرنی ابھی سے پسینے چھوٹ گئے' ریان سحرش کے خوبصورت چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے شرارت سے پوچھنے لگا تو سحرش کے گال دہکے اسکی اتنی قربت پر سانس دھوکتی مانند چل رہی تھی

'رر…ریان پپ.پلیز' اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں احتجاج کیا

'شششش اب میں کہوں گا اور تم سنو گی بہت ظالم ہو یار تم' وہ کہتا ہوا اسکے مزید قریب ہوا سحرش کی تو جان پر بن گئی تھی 

'آہ' وہ بلکل کپبورڈ سے چپک کھڑی تھی

ریان نے اسکی کمر کے گرد باہیں حائل کرکے اسے خود سے مزید قریب کیا تھا سحرش کا دل مچلنے لگا 

'پلیز چھوڑ دو' سحرش نے التجائیہ نظروں سے دیکھا

'اور اگر نا چھوڑوں' وہ چہرہ جھکا کر بولا تو وہ آنکھیں مینچ گئی ریان کو اسکی اس ادا پر کھل کر پیار آیا اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی وہ کوئی گستاخی کرتا کہ دروازہ نوک ہوا اور باہر سے فاطمہ کی آواز آئی تو وہ اسے چھوڑتا بالکونی سے دوسرے کمرے کی بالکونی میں کود گیا پیچھے وہ اپنی سانسوں کو سنبھالتے ہوئے دروازہ کھلنے لگی

💜💜

اس نے عیشاء کی نماز پڑھنے کے بعد دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو کانوں میں کچھ پورانی آوازیں نئی آوازوں کے ساتھ سنائی دینے لگیں

(نکلی نہ تم ایک بھاگی ہوئی ماں کی بیٹی…میری بیٹی ایسی نہیں ہے…تم میری بیٹی نہیں ہو…دیکھو تو کہہ بھی کون رہا ہے جسکا کردار خود سوالیہ نشان ہے…خدا کرے کوئی خوشی نصیب نہ ہو…تم میری بیوی ہو بھی نہیں سکتیں…میں تمہیں اپنی بیوی نہیں مانتا…خدا تم جیسی بیٹی کسی کو نہ دو…اچھا ہوا تمہاری ماں تمہیں پیدا کرتے ہی مر گئی ورنہ یہ دن دیکھ کر ہی مرجاتی…خدا کرے کوئی خوشی نصیب نہ ہو) وہ خالی خالی نظروں سے ہاتھوں کو گھور رہی تھی آنکھیں بلکل خشک تھیں کیونکہ آج پھر دل کے زخم ادھیڑ دیے گئے تھے 

'جو ماں تھی وہ زندہ نہیں ہے اور جو زندہ ہے اسے کبھی خوشی نہیں دے سکے اسلئے آپ سے ایک ریکوئسٹ ہے امی کی بددعا قبول کرلیے گا انہوں نے دعائیں تو بہت دیں لیکن آپ پلیز بددعا قبول کرنا, آپکو پتا ہے ہم نے اچھی بیٹی بننے کی بہت کوشش کی لیکن اچھی بیٹیاں بھلا اچھی بیٹی ہونے کا ثبوت دیتی ہیں؟ نہیں نہ کیونکہ سب کو پتا ہے وہ اچھی ہیں اور بری پتا ہے کیسی ہوتی ہیں جو سچ بولتی ہیں حق کیلئے لڑتی ہیں ہم نے صرف ایک اچھا کام کیا تھا اور وہ سر کو بچانا تھا لیکن شو مئی قسمت انکو بھی نہیں بچا سکے بلکہ خود ہی پھنس گئے لیکن ہمیں اس چیز کا شکوہ نہیں ہے ہمیں تو اپنوں کی بے یقینی مار گئی ہے سب کچھ ادھر سے ادھر ہوگیا ہے ہمیں نہیں پتا ایس ایس پی صاحب ہمیں کب چھوڑ دیں گے اور کیا پتا تب تک دو چار غیر قانونی کاموں میں ملوس ہوکر جیل ہی چلے جائیں'

دعا مانگنے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرا لیکن اس نے دعا میں دعا تو مانگی ہی نہیں تھی کتنی مشکل ہوتی ہے نہ یہ زندگی لیکن صرف زندگی مشکل نہیں ہوتی بات تو آپکی قسمت کی ہے کہا تھا نہ کہ کچھ لوگوں کو بڑی فرصت سے بدقسمت بنایا جاتا ہے 

💜💜

'ہمارے خاندان کے لوگ کتنا گرگئے آج' انصار صاحب زمین پر نظریں گاڑھے بیٹھے تھے

'مجھے دیکھیں میں اس لڑکی کو دیکھ کر اپنے بیٹے پر یقین نہیں کر پارہا تھا' فہیم صاحب کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی بی جان خاموشی سے سب کو دیکھ رہی تھیں

'میری اپنی بہن نے یہ کیا ہے مجھے تو سوچتے ہوئے ہی شرم آرہی ہے کہ کیسے وہ بچوں کے سامنے کیسے لفظ ادا کررہی تھی' ساجدہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے

'کچھ بھی ہو مگر فہیم تمہیں بہروز پر بھروسہ کرنا چاہیے تھا وہ تو شکر ہے کہ بات اتنی بگڑی نہیں' شیراز صاحب کی سنجیدہ سی آواز گونجی

'وہ لڑکی روفیہ اچھا نہیں کیا اس نے اگر اسے بہروز پسند تھا تو بتاتی تو صحیح ہم رشتے کی بات چلاتے یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی' قرۃ بیگم بھی پریشان تھیں

'جو بھی ہوا غلطی جس کی بھی تھی بات کو ختم کریں ہم اب اس موضوع پر کوئی تنقید نہیں چاہتے اور رہی بات لالہ رخ کی تو ہمیں میر کے پسند پر اب غرور آنے لگا ہے بےشک وہ بہو نہیں بیٹی ہے' بی جان نے بات مکمل کی تو آخر میں انکی آواز میں فخر تھا غرور تھا جو یہاں سے گزرتے میر نے نہ صرف دیکھا سنا بلکہ محسوس کیا تھا 

💜💜

میر کمرے میں داخل ہوا تو وہ شاید سو چکی تھی آہستہ آہستہ چلتا اسکے پاس آیا اور دو زانو ہوکر اسکے سامنے بیٹھا اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں 

'مجھے پتا ہے تمہیں مجھ سے بہت ساری شکایتیں ہیں اور ہوں بھی کیوں نہ کچھ اچھا بھی تو نہیں کیا تمہارے ساتھ تمہیں ٹورچر کیا جیل میں بند کیا مارا بھی (نظریں شرمندگی سے جھک گئیں) کردار کشی بھی کی گھر والوں سے بھی الگ کیا ڈرایا بھی لیکن اب ایسا کچھ نہیں کروں گا بلکہ میرے دل میں جو محبت اب عشق بن رہی ہے بہت جلد تم میں بھی بھر دوں گا اتنا پیار کروں گا کہ خود کو بھول جاؤ گی میں تمہیں آسمان پر بٹھا کر رکھوں گا اور تم فکر مت کرو بہت جلد سارے مجرم جیل میں ہونگے سکون تو میں کسی کو لینے نہیں دوں گا بس اتنا جان لو تم صرف میرے دل کی مجرم ہو جسکی سزا تمہیں میں اپنی باہوں میں لے کر دوں گا' وہ اسکے سر پر محبت کی پہلی مہر ثبت کرتا ہوا بولا کتنا خوبصورت اظہارِ محبت تھا کہ سوتی ہوئی لالی کے چہرے پر بھی تبسم پھیل گیا تھا

لالہ رخ صبح اٹھی تو اسکے دائیں طرف ٹیبل پر ایک گلاب کا پھول رکھا تھا وہ چونکی 

'یہ کس نے رکھا' لالی نے گلاب کا پھول اپنی انگلیوں کی پوروں سے محسوس کرتے ہوئے سوچا اور پھر مسکرائی اس گلاب کو روم میں رکھے ایک واس میں رکھ دیا اور اس میں پانی ڈال دیا

آج کی صبح کافی روشن صبح تھی جیسے ہر طرف ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہوں ہر طرف گلاب کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی فریش ائیر میں سانس لینے سے دل کو راحت محسوس ہورہی تھی لیکن کیا یہ صبح روشن تھی یا دل آج ایک الگ لے میں دھڑک رہا تھا لیکن دھڑکتا تو روز تھا پھر کیا محبت کرنے لگی تھی وہ یا کسی کے اظہارِ محبت نے دل پر برف رکھ دی تھی یا پھر اس اظہارِ محبت نے آگ بھڑکائی تھی 

اس نے آج پہننے کے لئے ڈریس نکالا بیگ سے اس نے اپنے کپڑے الماری میں سیٹ نہیں کیے تھے دوسرے وارڈروب میں اپنا بیگ رکھ دیا تھا کبھی کپڑے لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی اسے لگتا تھا وہ یہاں پر وقتی ہے مگر آج اس نے اپنا ایک ایک ڈریس خود ہینگ کیے اپنی وارڈروب اچھے سے سیٹ کی 

پھر ایک لونگ ریڈ شرٹ نکالی جسکے ساتھ کھلے پائنچوں والا بلیک ٹراؤزر تھا ساتھ نرم سا کالے رنگ کا نیٹ کا دوپٹہ تھا وہ نکالا اور نہانے چلی گئی

💜💜

میر پولیس اسٹیشن میں بیٹھا مستقل لالی کو سوچ رہا تھا ایک پیاری سی مسکراہٹ نے چہرے پر احاطہ کیا ہوا تھا کیا محبت کا احساس اتنا پیارا تھا کہ اسے ہوش ہی نہیں تھا ہوش تو تب `یا جب کسی نے ڈور نوک کیا

'سر یہ آپ کیلئے ہے' ایک حولدار نے میر کی طرف ایک لفافہ بڑھایا جسے میر نے پکڑ لیا تھا پھر دو انگلیوں سے اسے باہر جانے کا اشارہ کیا اور پھر وہ لفافہ کھولا تو اندر ایک کاغذ تھا جو پورا سفید تھا کھولا تو کاغز کے بلکل درمیان میں کچھ الفاظ لکھے تھے لال رنگ سے

'ایف آئی آر پھاڑ دو ایس ایس پی نہیں تو دوبارہ ایف آئی آر لکھنے کے قابل نہیں رہوگے اور اسے خالی خولی دھمکی مت سمجھنا' 

میر نے کاغز کو لاپرواہی سے میز پر پھینکا اور کرسی پر پیچھے ہوکر ٹیک لگائی لیکن دماغ میں کچھ کلک ہوا تو چہرے پر مبہم سی مسکراہٹ ابھری پھر انٹرقوم اٹھایا اور اسی حولدار کو بلایا اور وہ کسی بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا جسے بس حکم چائیے تھا اور پھر اسکی تکمیل ہونی تھی

'آج تمہارے لئے نہیں کسی اور کیلئے حکم ہے جاؤ اور جن لوگوں نے یہ لفافہ بھیجا ہے انہیں زرا یہاں کے درشن کراؤ' میر کی سرسراتی آواز کسی کو بھی اپنے آگے کھڑا نہیں ہونے دیتی تھی پھر تو یہاں یہ کونسٹیبلز ہوتے تھے جن کی جان پر بنی ہوتی تھی

💜💜

'تم لالہ رخ کو مار بھی تو سکتے ہو یہ سب کرکے کیا ملے گا' رابیعہ اب اس اندھیرے کمرے میں نہیں بلکہ اسابیل کے ایک فارم ہاؤس پر تھی آج وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر اسکے پاس آیا تھا پلان سمجھانے 

'مجھے لالہ رخ کو مارنے میں وہ مزا نہیں آئے گا معمولی سی وہ لڑکی میرا کیا بگاڑے گی اسلئے اسے اور معمولی بنا کر کیڑے مکوڑے کی طرح مسلنا ہے تاکہ اسکی ماں کو پتا چلے جو میرا ہے وہ میرا ہے' اسابیل کے لہجے میں کہیں بھی تھوڑا سا بھی پیار نہیں تھا اپنی بیٹی کیلئے کیا وہ اتنی سستی تھی اور شاید یاں تبھی اسکا باپ اسکو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہا تھا

'غلط تم سراسر غلطی پر ہو تم اپنی بیٹی سے ملے ہو کبھی' رابیعہ نے اسابیل سے پوچھا تو اسنے نفی میں سر ہلایا

'بس ایک دفعہ جب وہ لاہور کے رستے میں ایک ہوٹل پر تھی اور اسکے ساتھ وہ ایس ایس پی اور اسکا دوست بھی تھا تب ہی دیکھا تھا' اس نے تفصیلی سا بتایا تو رابیعہ نے مسکرا کر ہلکا سا سر نفی میں ہلایا

'تم اپنی بیٹی کو نہیں جانتے لیکن میں جانتی ہوں وہ کوئی معمولی نہیں ہے نہ ہی ڈرپوک ہے تمہاری جیسی دھاڑ اکڑ دھونس اور دماغ وہ تو تم سے بھی زیادہ ہے اس میں کب کیا سوچتی ہے اور کیا کرتی ہے کوئی اسے سمجھ نہیں سکا ایک طرف وہ لاپرواہ ہے تو دوسری طرف وہ حساس ہے دوسروں کے دماغ پڑھنا اور پھر انہیں اپنی مرضی سے گھمانا وہ لڑکی مجھ سے بھی زیادہ تیز ہے میں صرف مات دوں گی تو وہ شہ مات دے گی اسلئے جو کرنا ہے سوچ سمجھ کر کرنا ورنہ اس سے ہارنے کے لئے تیار رہنا' وہ ایک جذب کے عالم میں بولی تھی کہ اسابیل بھی اسے دیکھے گیا ہلکا سا دل کے کسی کونے میں بیٹی کا احساس جاگا تو آنکھیں مسکرائیں لیکن پھر وہی دولت کی ہوس 

'اسی لئے میں چاہتا ہوں تم میرا ساتھ دو آخر تمہاری تو اس سے دشمنی ہونے والی ہے' وہ پراسرار لہجے میں بولا

'مطلب' رابیعہ ٹھٹھکی

'تم جسکے لئے یہاں آئی ہو مطلب جس سے محبت کرتی ہو اس سے بہت گہرا تعلق ہے لالہ رخ کا' وہ مسکرارہا تھا مسکراہٹ تھی کہ گہری ہورہی تھی 

'جو کہنا ہے صاف کہو' رابیعہ کے دل میں جو خدشات آرہے تھے وہ چاہ کر بھی انکی تصدیق نہیں کرنا چاہتی تھی

'تمہاری محبت کی محبت ہے لالہ رخ' الفاظ تھے یا پگھلا ہوا سیسہ رابیعہ کو لگا کسی نے اسکے کان میں صور پھونک دیا ہو ایک خاموش سا آنسو ٹوٹ کر گرا آنکھ سے جب کہ دل دھاڑیں مارکر رویا تھا ہونٹ ہولے سے لرزے اور کسی کا نام بغیر آواز پیدا کئے بھی کہہ گئے 

                     'میر گیلانی' 

اسکی اس سرگوشی پر اسابیل عثمانی مسکرایا بادشاہ تھا وہ اپنی ریاست کا مگر اب وہ بہت سے دلوں پر حکومت کرنے والا تھا اور وہ بھی زبردستی

💜💜

میر گھر پھنچا اور لالہ رخ کو ڈھونڈنے کے لیے نظریں ادھر ادھر دوڑائیں تو ایک کالے رنگ کا آنچل کچن سے جھانکتا ہوا محسوس ہوا گویا لالی کے وہاں ہونے کا ثبوت دیا ہو اس نے میر مسکراتا ہوا اپنے کمرے میں چلاگیا 

لالہ رخ جو میر کے قدموں سے ہی پہچان گئی تھی کہ وہ آگیا ہے کچن میں چھپ گئی لیکن یہ کیا اسکا دوپٹہ اس سے بغاوت کرگیا اور ہوا کہ دور پر اس طرح لہرایا کہ سامنے والے کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا ہو اپنے دوپٹے کی اس حرکت پر تو دل ہی دل میں مسکرائی لیکن چہرے پر گہبراہٹ کی آثار آگئے تھے

وہ اسکے جانے کے بعد اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں گئی اندر گئی تو وہ کسی سے فون پر بات کررہا تھا لالی کی نظر اسکی گھڑی پر گئی وہ مسکرائی

نچلا لب دانتوں کے بیچ دباتی ہوئی آگے آئی میر ٹیرس پر کھڑا تھا اسلئے سلائیڈ ڈور کھلا تھا وہ بغیر آواز پیدا کیے اسکی طرف آئی میر ریلنگ پر اپنا بایاں ہاتھ رکھے کھڑا تھا جب کہ وہ اسکے برابر میں کھڑی تھی اپنا نیٹ کا دوپٹہ آگے کیا اور اسکی گھڑی میں پھنسایا وہ اپنا کام کرتی ہوئی چور نظروں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی لیکن وہ شاید کوئی بہت ضروری بات کررہا تھا اسلئے یہاں نہیں دیکھ سکا لالی کے مطابق جب کہ وہ فون پر بات کرتے کرتے اسکی ایک ایک حرکت کو اچھے سے نوٹ کررہا تھا بلکہ اپنی نظروں سے اسکا جائزہ لے رہا تھا لال رنگ کی قمیض میں ریڈ روز لگ رہی تھی وہ سیدھا میر کے دل میں اتر رہی تھی لمبے بال اب چٹیا میں بندھے تھے لیکن کچھ شرارتی لٹیں اسکے چہرے سے کھیل رہی تھیں

لالی اپنا دوپٹہ پھنسا کر اب اسکے برابر میں اسی کی طرح ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئی تھی اور میر کا دل تو بس اپنی شیرنی کی قربت پانے کے لیے مچل رہا تھا فون پر اگلے بندے کی بات سنے بغیر ہی کال کاٹی آں…آں…اب اسے صرف وہ چائیے تھی اور کونی نہیں وہ اسکی طرف گھوما تھا ہاتھ پیچھے ہوا تو لالی کا دوپٹہ کھیچا 

'ارے یہ کیسے اٹک گیا' وہ بھرپور حیران ہوئی اور جھجھکتے ہوئے ڈرامے بازی کرتے ہوئے اسکے قریب آئی میر نے اپنا دایاں ہاتھ آگے کیا جب کہ بائیں ہاتھ میں پکڑا موبائل جیب میں ڈالا پھر لالی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو خود سے قریب کیا

لالی جو اس بات پر خوش تھی کہ وہ میر کی توجہ اپنی طرف مبذول کرواگئی ہے اب اسکی اتنی قربت پر اپنا دوپٹہ آزاد کرانا مشکل ہوگیا تھا چہرے پر ننھی پسینے کی بوندیں ابھریں تھیں

سن ساتھیاں ماہییاں 

برسادے عشقاتی سیاہیاں

رنگ جاؤں رنگ رنگ جاؤں رے 

تجھ پہ میں جھل جھل جھل جاؤں رے

پیا بس تیری میں چھولے تو کھری میں 

سن ساتھیاں ماہییاں 

برسادے عشقاتی سیاہیاں 

'وہ…وہ یہ نن نکل ہی نہیں رہا' وہ کہلائی اسکے اس طرح بولنے پر میر کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور اسے خود سے اور قریب کیا

'ہ.ہ۔ہم نننکال لیں گے دد۔دور تو ہوں' لالی اسکے اور قریب آنے پر کنفیوژ ہوئی اسلئے وہ اسے دور ہونے کا کہہ رہی تھی جو اسکی قربت میں سکون حاصل کررہا تھا کیسے چھوڑدیتا اسے میر نے اپنا ہاتھ جو لالی کے ہاتھ میں تھا اس سے لالی کا ہاتھ تھاما اور اپنے ہونٹوں کے قریب لایا اور اس پر اپنے ہونٹ رکھ دیے 

اسکے لمس پر لالی ششدر رہ گئی اتنا دہکتا لمس کانوں میں آج صبح کی سرگوشیاں گونجی 

میں ریت سی بوند کا ذریعہ تو

پا کہ تجھے بھیگ جاؤں رے

تر جاؤں ترتر جاؤں دریا یہ تر جاؤں جی

عشقی یہ پاکر تیرا نکھر جاؤں

پیا بس تیری میں چھولے تو کھری میں

('یہ پھول کون لایا تھا' لالی نے مالی بابا سے پوچھا کیونکہ یہ پھول اسے باہر گارڈن کا ہی لگا تھا 

'ارے یہ یہ تو میر بابا لے کر گئے تھے' مالی بابا نے مسکرا کر کہا)

لالی نے جلدی سے اپنا دوپٹہ اسکی گھڑی سے کھینچا تو وہ ہلکا سا پھٹ گیا اس نے میر کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگ گئی 

'بس اتنی ہی ہمت تھی میری شیرنی میں کل جب میرے ہاتھ لگو گی تو کیا ہوگا' وہ مسکراتا ہوا لالی کا شرم و حیا سے ہوتا لال چہرا یاد کررہا تھا

سن ساتھیاں ماہییاں 

برسادے عشقاتی ساہیاں

💜💜

'ڈیڈ' لالی انصار صاحب کے سامنے کھڑی تھی اسکے ہاتھ میں کافی سارے امرود تھے انصار صاحب کے ساتھ بی جان اور فہیم صاحب بھی موجود تھے

'یہ امرود کون لایا ہے بھئی اور دکھنے میں تو کچے لگتے ہیں' انہوں نے لالی کے ہاتھ سے ایک امرود لیتے ہوئے کہا انکی نظر لالی کے کپڑوں پر گئی جہاں مٹی لگی تھی 'مٹی کیسے لگ گئی کہاں تھی تم' وہ اسکا خیال بلکل بچوں کی طرح رکھتے تھے

'وہ نہ سامنے جو رؤوف صاحب کا گھر ہے نہ انکے گھر پر اتنا بڑا امرود کا درخت ہے تو بس ہماری تو نیت خراب ہوگئی انکا چوکیدار جانے ہی نہیں دے رہا تھا تو ہم دیوار پھلانگ کر گئے اور درخت پر چڑھ کر توڑ لیے' وہ اپنی بات مکمل کرتی ہوئی انکے برابر والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی وہ سب لان میں بیٹھے تھے لالی کی بات پر انصار صاحب اور فہیم صاحب نے قہقہ لگایا جب کہ بی جان اسے فکر مندی سے دیکھ رہی تھیں

'لگی تو نہیں کہیں لالی' وہ فکرمندی سے بولی تو اس نے نفی میں سر ہلایا 

'یار ڈیڈ وہ روؤف انکل نے ہمیں دیوار پھلانگتے اور یہاں آتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ نہ آرہے ہونگے آپ ہمیں بچا لیں پلزززز' وہ منت سماجت کرنے لگی تھی 

'انصار' روؤف صاحب لان میں ہی آگئے تھے انصار صاحب کھڑے ہوئے تو لالی انکے پیچھے چھپ گئی 

'ارے کیسے ہو روؤف آج کل نظر ہی نہیں آتے' انہوں نے ان سے سلام دعا کی لالی نے پیچھے سے جھنج کر دیکھا تو روؤف صاحب نے اسے دیکھ لیا

'تم انصار یہ لڑکی میرے گھر سے امرود چرا کر بھاگی ہے لڑکی ہوکر یہ حرکتیں کرتی ہے' انہوں نے اسے ڈانٹا

'ارے چھوڑو بچی ہے سدھر جائے گی تمہارے امردوں پر اسکی نیت خراب ہوگئی تھی بس اسی لیے لینے چلی گئی' وہ مسکراتے ہوئے اسکی طرف سے سفائیاں دینے لگے

'ویسے ہے کون یہ کبھی دیکھا تو نہیں اسے بھتیجی وغیرہ ہے کیا' روؤف صاحب نے لالی کے بارے میں پوچھا

'میر کی بیوی ہے یہ ہمارے گھر کی بڑی بہو' انصار صاحب نے اسکا تعارف کروایا تو روؤف صاحب کو میر یاد آیا

'کیا یہ میر کی بیوی ہے' انہیں یقین نہیں آیا تھا شاید انصار صاحب نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تو وہ بی جان اور فہیم صاحب سے ملے اور لالی کو بھی کہا جاتے جاتے کہ اسے اور امرود چاہئے ہوں تو وہ لے سکتی ہے

💜💜

لالی جوس پی رہی تھی کچن کی سلپ پر بیٹھ کر رواحہ اس سے باتیں کررہی تھی جب گھر کے لینڈ لائن پر کسی کا فون آیا تو عمر نے گے بڑھ کر فون اٹھایا فون سن کر عمر کے چہرے کی ہوائیاں اڑیں تھیں 

لالی نے عمر کو دیکھا تو وہ ٹھٹھکی 

'عمر کیا ہوا ہے' لالی نے عمر سے پوچھا

'ممم…میر بھائی کو گگ۔گولی لگی ہے' عمر نے اٹکتے ہوئے بات مکمل کی ادھر رواحہ کی چیخ نکلی جب کہ لالی کے ہاتھوں سے جوس کا گلاس چھوٹ کر زمین پر گرا اور ٹوٹ کر چکنا چور ہوا 

'میر' لالی کہتے ہوئے عمر کے پاس آئی 'ہمیں لے چلو پلزز ہمیں ایس ایس پی صاحب کے پاس لے چلو' وہ مسلسل اسے کہہ رہی تھی جب کہ عمر کی حالت بھی خراب ہوگئی تھی یہ پہلی بار تھا کہ میر کو گولی لگی تھی 'عمرررر' وہ چیخی تھی اسکا گریبان پکڑ کر تو وہ ہوش میں آیا 

رواحہ بھاگ کر لالی کے پاس آئی 'فور گوڈ سیک لالہ رخ سنبھالو خود کو' اس نے لالی کو کہا تو وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں آئی کیا کررہی تھی وہ اس نے خالی خالی نظروں سے رواحہ کو دیکھا اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی اور اندر سے روم لوک کرلیا

'کیا ہوا ہے عمر بتاؤ مجھے' رواحہ نے عمر کا رخ اپنی طرف کیا

'آپی میر بھائی کے گردے سے گولی چھو کر نکلی ہے' عمر کو اب سمجھ آیا تھا وہ کیا کرگیا تھا

'کیا وہ ٹھیک تو ہیں' بی جان باہر آئیں تو عمر کی بات سن لی تھی 

'جی بی جان مگر لالی نے صرف گولی لگی ہے سنا ہے اس طرح وہ پریشان ہوتی رہے گی' وہ پریشانی سے بولا 

'بیوی ہیں وہ انکی عمر انہیں پورا حق ہے جاننے کا جائیں اور جاکر انہیں پوری بات بتائیں' وہ بی جان تھیں جانتی تھیں میر کو پہلی بار گولی نہیں لگی اسلئے خاموش رہیں عمر اب واپس آرا تھا اور کہہ رہا تھا کہ وہ دروازہ نہیں کھول رہیں 

'تمہیں تمیز نہیں ہے کوئی ایسے ڈراتا ہے کسی کو' رواحہ نے ایک زوردار تھپڑ رسید کیا اسے تو وہ شرمندہ ہوگیا

💜💜

وہ جو گھٹنوں پر سر رکھ کر رو رو رہی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر بھی متوجہ نہیں ہوئی وہ جو اسکا بھرم تھا کہ کبھی محبت نہیں کرے گی اپنی محبت کو بھول بھی جاتی لیکن جنید کی موت نے اسے اندر تک ہلایا تھا کہ کیسے اسکے عشق نے اسکی جان لی تھی اور یہاں یہاں تو وہ عشق کر بیٹھی تھی کیوں بھول گئی تھی وہ کہ نکاح ہوا تھا اس سے وہ نکاح جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ دلوں میں محبت پیدا کرہی دیتا ہے وہ جتنا ماننے سے انکار کررہی تھی آج سب کچھ کھل کر سامنے آیا تو نظریں چرانے کے بجائے پھوٹ پھوٹ کر روئی

میر جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیا تھا نیچے بیٹھ کر سب سے باتیں کرتے ہوئے پتا چلا کہ عمر نے لالی کو پوری بات نہیں بتائی تھی جسکی وجہ سے وہ ابھی تک کمرے سے نہیں نکلی تھی وہ بے حد بےچین ہوا اسلئے جلدی سے اپنی شیرنی کے پاس آیا اپنے کمرے کی چابی وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا ابھی تک پولیس کی وردی میں موجود تھا وہ

اندر آیا تو کمرے میں ملگجا اندھیرا تھا لالی بیڈ سے ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھی شاید رو رہی تھی 

'لالہ رخ' اسکی بھاری آواز کمرے میں گونجی وہ جو رو رہی تھی اسکی آواز سے سر اٹھا کر بے یقینی سے اسے دیکھا اور پھر چلتی ہوئی اسکے سامنے آئی

'گگ۔گولی لگی تھی' وہ شاید اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی میر نے پہلے روم کی لائٹ جلائی اور اسے لے کر بیڈ پر آیا اور اسے بٹھایا اور خود اسکے سامنے بیٹھا

'چھو کر گزرگئی ہے زیادہ نہیں لگی' میر نے اسکو پرسکون کرنا چاہا

'مطلب لگی ہے' لالی کی آنکھ سے آنسو رواں تھے میر نے سر اثبات میں ہلایا

'رو کیوں رہی ہو' میر کو اسکا رونا کچھ اور ہی لگا تھا میر کے پوچھنے پر وہ اسکے سینے سے لگی جیسے کوئی غم گسار مل گیا تھا 

'کیوں ہم نہیں جانتے خود ہی ہوگیا' ج شاید وہ ساری تکلیفوں پر رونا چاہتی تھی

'کیا ہوگیا' میر نے اسکے بالوں میں انگلیاں چلائیں

'ہمیں محبت نہیں عشق ہوگیا ہے' وہ اظہارِ عشق کرنے چلی تھی شاید

'کس سے' میر کا ہاتھ پک بھر کیلئے روکا تو اس نے اسکے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا

'تم سے سنا تم نے ہمیں تم سے عشق ہوگیا ہے میر گیلانی ہم ہار گئے ہم خود سے کیا وعدہ توڑ گئے ہم ہار گئے' کچھ دن پہلے جو وہ محبت کا اظہار کررہا تھا آج لالی نے اس سے محبت کا نہیں عشق کا اظہار کرکے اسکی محبت کو شکست دی تھی

‏تُو شاہِ عشق ھے _________ تیرا پلڑا بھاری🥀

میں فقیر عشق ھوں میرا تَن بھی خالی مَن بھی خالی💕

میر نے اسے خود سے دور کیا اور اسے غور سے دیکھا جب کہ چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی لالی نے اسے دیکھا تو اپنی بے اختیاری پر خود کو کوسا کیا ضرورت تھی اظہار کرنے کی اور وہ بھی اظہارِ عشق لالی نے آنسو صاف کیے اور پھر اس سے فاصلے پر بیٹھی میر اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا محبت سے لیکن شاید نہیں اسکی آنکھوں میں عزت بھی تھی 

'کہاں لگی ہے' کچھ لمحوں بعد لالی نے میر سے پوچھا 

'پہلے تو ایک خراش آئی تھی لیکن اب لگتا ہے دل زخمی ہوگیا ہے' وہ شاید بےبس سا ہوگیا تھا لالی کا عشق اپنے لیے دیکھ کر

'ایسے نہ بولیں ہماری بے اختیاری میں کہی گئی بات کو دل پر نہ لیں ضروری نہیں ہوتا کہ رشتے میں بندھے دونوں فریقوں میں محبت ہو' وہ کچھ اور سمجھ بیٹھی تھی

'تو کیا محبت کا حق صرف تمہیں ہے' میر شاید اسے کچھ باور کروانا چاہتا تھا شاید نہیں وہ یقیناً اپنی محبت کا یقین دلارہا تھا

'نہیں سب کو ہے لیکن بس آپ کو نہیں ہے' وہ شاید سمجھ گئی تھی

'اور مجھے کیوں نہیں ہے' وہ گھمبیر آواز میں بولا تو لالی کی جان اٹکی

'کیونکہ ایک پولیس اہلکار مجرم سے محبت نہیں کرسکتا' لالی نے اسے کچھ یاد دلایا تو اسنے لمبی سانس کھینچی

'اور اگر میں کہوں کہ تم مجرم نہیں ہو تو' وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تو لالی کی آنکھیں حیرت سے پوری کھل گئیں وہ دونوں پاؤں اوپر کرکے آلتی پالتی مار کر میر کے سامنے ہوکر بیٹھی  

'رابیعہ خان کو پکڑ لیا ہے کیا' اسکے لہجے میں حیرت تھی اتنی جلدی کیسے پکڑ لیا اس چڑیل کو بھئی

'پکڑا تو نہیں ہے کیونکہ وہ غائب ہے لیکن اسکے خلاف ثبوت حاصل کررہا ہوں' وہ پرسکون لہجے میں بولا تو لالی بےچین ہوئی

'سر رابیعہ خان سے محبت کرتے تھے' لالی نے جملہ پورا کیا اور میر کی طرف دیکھا میر کے سر پر تو گویا دھماکا کیا گیا تھا اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا

'تو اسلئے مارا ہے رابیعہ جان نے اسے' وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور شرٹ اتارنے لگا تو ہلکا سا درد ہوا تو لالی فوراً سے پہلے اسکے پاس پہنچی اور بغیر کچھ کہے اسکی شرٹ اتروانے میں اسکی ہیلپ کرنے لگی 

'آپ فریش ہوجائیں جب تک ہم کھانے کا دیکھ کر آتے ہیں' وہ کہتی ہوئی پھدک پھدک کر چلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی میر مسکراتا ہوا واشروم میں چلا گیا

💜💜

'ٹھیک ہوگئیں تم سوری میں بتانے والا تھا لیکن تم بغیر کچھ سنے چلی گئیں میں بھی گھبرا گیا تھا' عمر شرمندہ سا تھا

'کوئی بات نہیں دراصل نہ ہم میں ہماری امی جان کی روح آجاتی ہے کبھی کبھی ہم پاگل ہوجاتے ہیں اسلئے تھوڑی دیر پہلے پاگل ہوگئے تھے' لالی نے ہنستے ہوئے کہا

'امی کی روح' عمر نے دوہرایا تو اسکی ہنسی کو بریک لگا امی…

'اوہ ہیلو ہمیں نہ اموشنل مت کرو تھوڑی دیر پہلے اموشنل ہو ہو کر ہم تھک گئے ہیں اب زرا ہمیں اپنی ٹون میں واپس آنے دو' وہ تھوڑا غصّے سے بولی اتنے میں فاطمہ بھی وہیں آگئی

'تم تھوڑی ڈائیٹنگ وائیٹنگ کرو کتنی موٹی ہوگئی ہو' عمر فاطمہ کو آگے پیچھے سے دیکھتے ہوئے بولا

'موٹی اور میں ارے جاؤ خود کو دیکھو پہلے پرسوں جو ویٹنگ مشین پر کھڑے تھے نہ تم وہ میں نے بھی دیکھا تھا ماشاءاللہ 60 کلو' فاطمہ نے اچھے سے لتاڑا اسے اور پھر لالی کو بھی بتایا

'کیاااا 60 کلو تھوڑا کم کھایا کرو ایک تو کھاتے اتنا ہو اوپر سے ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھاتے ہو توند نکل گئی نہ تو لڑکی نہیں دینی کسی نے اپنی تمہیں' لالی نے اسے ڈرایا اور بانو بی کو کھانا گرم کرنے کا کہنے لگی

'توند نہیں نکلی میری میں جم کرتا ہوں اسلئے اور موٹی تو یہ ہے' عمر نے فاطمہ کو بازو سے دھکا دیا تو وہ گرتے گرتے بچی اور پھر اسکے سر پر پہنچی

'موٹے کہیں کہ کیا بولا میں موٹی اچھا سنو اللہ کرے تمہاری بیوی موٹی ہو بچے موٹے ہوں پورا خاندان موٹا ہو' اسنے اسکے بال کھینچتے ہوئے بھر بھر کر بددعائیں دیں وجدان بھی اسی کی طرف آیا

'اللہ کرے تیرا شوہر کالا ہو موٹا بھدا ہو بال بھی نہ ہوں اسکے اور اور' اس نے لالی سے پوچھا تو لالی نے ایک نظر وجدان کے سفید پڑھتے چہرے کو دیکھا اور پھر شروع ہوگئی

'اور اسکے دانت بھی نہ ہوں پوپلا ہو کالے کالے ہونٹ ہوں چرسی ہو لفنگا ہو' لالی مزے سے بولی تو وجدان کو آگ لگا گئی وہ تن فن کرتا اسکے پاس پہنچا

'تم ہوگی چرسی اللہ کرے تمہارے دانت ٹوٹیں تمہارے ہوں ہونٹ کالے…' وجدان انگلیوں پر گنے گن کر بول رہا تھا اور لالی کی آنکھیں اسکی ہر بات پر مزید مزید کھل رہی تھیں پاس پڑا ہوا پانی کا جگ اٹھایا اور پورا کا پورا اس پر پلٹ دیا تو اسکی چلتی زبان کو بریک لگی عمر اور فاطمہ کے قہقہ بلند ہوئے

'ہم چرسی ہیں تو تم کیا ہو چپڑاسی کہیں کے' لالی کی زبان کو تو ہم سب جانتے ہی ہیں بھئی وہ وجدان کی کلاس لے کر آگے جارہی تھی کہ اپنے ہی کھودے ہوئے گڈّے میں گرگئی مطلب وجدان پر جو اس نے پانی پھینکا تھا وہ زمین پر بھی گرا تھا لالی کا پاؤں اس پانی پر سلپ ہوا اور وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی اب فاطمہ اور عمر کے ساتھ وجدان نے بھی قہقہ لگایا

'ہاہاہاہا کلیجے وچ ٹھنڈ پڑ گئی' وجدان نے ہنستے ہوئے کہا تو لالی جلتی بھنتی اٹھی 

'وجی۔ی۔ی' وہ چیختے ہوئے اسکے پاس آئی لیکن یہ کیا وہ ایک بار پھر سلپ ہوگئی اور ایک بار پھر قہقہ بلند ہوئے لیکن سب میر کو دیکھ کر خاموش ہوئے جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس چہرے پر سنجیدگی لیے ان سب کو ہی دیکھ رہا تھا لیکن لالی اسے نہیں دیکھ سکی کیونکہ اسکی طرف اسکی کمر تھی

'عمر کے بچے اٹھالے ہمیں نہیں تو تیری شادی نہیں کرائینگے ہئے کمبختو نے کمر توڑ دی' بوڑھی عورتوں کی طرح پہلے اسنے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور پھر اسے کانوں کے پیچھے اڑسا پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی 'اس وجدان کو تو اللہ پوچھے ارے ہم پوچھتے ہیں کونسے جنم کے بدلے لیے ہیں ہم سے ایسی کونسی کالی زبان رکھی ہوئی ہے منہ میں کہ بددعائیں کیا نکالیں قبول ہی ہوگئیں' وہ ہاتھ نچا نچا کر بولی تو فاطمہ اور عمر نے ہنسی روکی وجدان تو اسکی لمبی زبان پہلی بار دیکھ رہا تھا شاید جبکہ میر کیلئے یہ پرانی بات تھی لیکن پھر بھی وہ کڑے تیوروں سے اسے گھر رہا تھا

'کوئی بددعا نہیں دی میں نے تمہیں تمہارے خود کے گناہ ہی تمہارے آگے آئے ہیں' وہ مزے سے بولا 

'ہئے ہئے بیڑا غرق جائے تمہارا وجی ہم معصوم لڑکی پر ظلم کرتے شرم نہ آئی اور تم تم کیا کھی کھی کررہے ہو اٹھاؤ ہمیں' اسنے وجدان کو دو چار بددعائیں دے کر عمر کو لتاڑا تو اس نے میر کو دیکھا تو اسنے منع کردیا اور اشارہ کیا کہ وہ خود اٹھائے گا 

'آجکل کے جوانوں میں تو شرم و حیا کہیں دور جا سوئی ہے ارے کب سے سدا لگا رہے ہیں کہ کوئی اٹھالے لیکن لگتا ہے اب تو صرف خدا ہی اٹھائے…' وہ عمر کو اپنی جگہ سے نہ ہلتے دیکھ بولی تبھی میر سامنے آیا تو زبان کو ایسی بریک لگی جیسے کبھی چلی ہی نہ ہو چہرہ بلکل فق ہوگیا 

💜💜

میر نے اسے سب کے سامنے بانہوں میں اٹھایا اور ڈائینگ ٹیبل کی چئیر کھینچ کر اس پر بٹھایا تو وہ تینوں معنی خیزی سے انہیں دیکھنے لگے 

'چلو جاؤ سب' میر کی ایک ہی کڑک دار آواز نے سب کو ادھر ادھر کیا تو وجدان فاطمہ کو لے کر ایک سائیڈ پر ہوگیا جبکہ عمر اپنے کمرے میں چلاگیا تھا اب وہ دونوں بیٹھے تھے اور کوئی نہیں تھا بانو بی نے کھانا لگادیا تھا ٹیبل پر

'بولنے کا بہت شوق ہے' میر نے سنجیدگی سے پوچھا

'نہیں بس کبھی کبھی دل کہتا ہے بولتے رہو' وہ نظریں جھکاتی ہوئی معصومیت سے بولی ایک تو اس لڑکی کی معصومیت میر کو اپنا دل اپنے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا

'ایس ایس پی صاحب آپکی دوائیاں برابر والی ٹیبل پر رکھی ہیں کھالیے گا' کھانا کھانے کے بعد وہ برتن سمیٹتے ہوئے بولی میر اپنی دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھے انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے اس پر چہرا رکھے لالی کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا اسکے جانے کے بعد بھی وہیں بیٹھا رہا وہ کیچن صاف کرتی وہاں آئی تو اسے وہیں بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئی

'آج یہیں سونے کا ارادہ ہے' وہ اسکے پاس آتی ہوئی بولی تو وہ بنا کچھ بولے اسکا ہاتھ پکڑے اوپر کمرے میں لایا اور ٹیبل سے اپنی دوائیاں اٹھاکر لالی کے ہاتھ میں رکھیں تو وہ مسکرائی 

'بیٹھیں ہم کھلاتے ہیں' وہ مسکراتے ہوئے بولی یہی تو ہوتا ہے عشق میں محبوب کی آنکھیں پڑھ کر ہی محبوب کے دل کی بات جان لینا

لالی نے اسکو دوائی دی اور اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا اسکے کپڑوں پر پڑنے والی سلوٹوں کو ہاتھوں سے ٹھیک کیا اسکی پیشانی پر بکھرے بال پیچھے کیے نیچے جھک کر اسکے پیروں کو سینڈل سے آزاد کیا یہ لالی تو نہیں تھی یہ تو کوئی دیوانی تھی اور اس خوش قسمت میر کی جسکو رابیعہ خان نے چاہا تھا 

میر نے پہلی بار کسی عورت کو دیکھا تھا ایک مرد کے لاڈ اٹھاتے ہوئے زن مریدی کے بارے میں بہت سنا تھا اس نے لیکن یہ کیا تھا افف کون ہے وہ آخر کب ملے گا اس سوال کا جواب

💜💜

روشنی بیگم پارک آئیں تھیں چہل قدمی کرنے ڈاکٹر نے انہیں زیادہ سے زیادہ چہل قدمی کا کہا تھا اسلئے وہ اکثر اپنے گھر کے لان میں چہل قدمی کرتی تھیں لیکن آج وہ پارک آئیں تھیں اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھیں کہ جب انکے پاؤں کے نیچے پتھر آیا وہ ابھی گرتیں کہ…

لالی ایسے ہی ٹہلتے ٹہلتے یہاں آگئی تھی اب اسے واپسی کا راستہ یاد نہیں آرہا تھا وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ سامنے اسکو ایک عورت دکھی جو کافی پیاری سی تھیں ان میں نہ جانے ایسی کیا کشش تھی کہ لالہ رخ کے قدم انکی طرف خود بہ خود اٹھ رہے تھے وہ بے دیہانی میں چلتی انکی طرف آئی وہ جو گرنے لگیں تو لالہ رخ کا دل رک کر دھڑکا سانس سینے میں اٹکی وہ بھاگتی ہوئی انکی طرف آئی اور انہیں گرنے سے پہلے سنبھال لیا 

روشنی بیگم گرتیں کہ انہیں کسی نے سنبھال لیا تھا اور وہ اپنا بھاری نقصان کرانے سے بچ گئیں تھیں بری طریقے سے ڈری تھیں وہ اپنی اولاد کو کھونے کے ڈر سے مارے تشکر کے آنکھیں بھیک گئیں نظریں اٹھاکر اس فرشتے کو دیکھا تو وہ کوئی معصوم حسن رکھنے والی لڑکی تھی

'آپ ٹھیک ہیں' لالی کی آواز میں کپکپاہٹ تھی لیکن کیوں 

'تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم نے مجھے گرنے سے بچا لیا' وہ اسکے ہاتھ چوم کر بولیں اولاد کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے لالی نے بجائے کچھ کہنے کی انہیں ایک بینچ پر بٹھایا اور خود بھی انکے ساتھ بیٹھی

'آپ رو کیوں رہی ہیں کچھ نہیں ہوا دیکھیں اللّٰہ نے آپکو بچا لیا' لالی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے

'میں پریگننٹ ہوں' روشنی بیگم نے لالی کو دیکھ کر کہا تھا پتا نہیں کیوں یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھیں یا صرف وہی جانتی ہیں

لالی انکی بات سن کر اپنی جگہ سے اچھلی ابھی اگر وہ انہیں نہیں بچاتی تو کیا ہوتا بے ساختہ اس نے خدا کا شکر کیا تھا

'اوہ تو آپ کو کسی کو ساتھ لانا چاہیے تھا اکیلے باہر آنا آپکے لئے ٹھیک نہیں ہے ابھی اگر ہم نہیں پھونچتے تو کیا ہوتا' لالی منہ بنا کر بولی تو روشنی بیگم مسکرائیں

'اسابیل نے بھی یہی کہا تھا لیکن میں نے منع کردیا اب اگر انہیں پتا چلا تو بہت ڈانٹیں گے' روشنی بیگم نے مسکرا کر بات مکمل کی لالہ اسابیل کے نام پر چونکی

'اسابیل…؟' لالی نے سوالیہ انداز میں کہا 

'he is my husband'

وہ آرام سے بولیں

'اوہ ہمارے بابا کا نام بھی اسابیل تھا' لالی کے لہجے میں دکھ تھا

'تھا مطلب' اب وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں

'انکا اور ہماری ماں کی ایک کار ایکسیڈنٹ میں دیتھ ہوگئی تھی جب ہم مشکل سے ایک دو مہینے کہ تھے' وہ افسردہ سے لہجے میں بولی 

'Oh I am sorry'

انہوں نے افسوس کیا

'Its Ok'

لالی نے مسکرا کر کہا

'کس کے ساتھ رہتی ہو' انہوں نے مزید پوچھا

'ہم اپنے ہزبینڈ اور انکی فیملی کے ساتھ' وہ پیر سے زمین پر لائن مارتی ہوئی بولی

'ایک بات کہوں' انہوں نے پوچھا تو لالی نے اثبات میں سر ہلایا

'کل میری اپوائنٹمنٹ ہے ڈاکٹر سے تم چلو نہ میرے ساتھ' انہوں نے استفسار کیا 

'ہم ایس ایس پی صاحب سے پوچھ کر بتائیں گے اور ہمیں پتا ہے وہ منع نہیں کریں گے لیکن پھر بھی ہم ان سے پوچھ کر بتائیں گے' وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی یہی تو خوبی تھی اس میں ہر بات پر مسکرانا

'ایس ایس پی صاحب کون ہیں' روشنی بیگم اس سے اسطرح بات کررہی تھیں جیسے وہ انکی بیٹی ہو

'ارے ہاں ہم نے آپ کو ایس ایس پی صاحب کے بارے میں بتایا ہی نہیں وہی تو ہیں ہمارے ہزبینڈ ایکچلی انکا نام میر گیلانی ہے لیکن ہم انہیں ایس ایس پی صاحب ہی کہتے ہیں ہمیں اچھا لگتا ہے وہ نہ بہت اچھے ہیں پتا ہے وہ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں اسلئے ہم ان سے عشق کرتے ہیں اور نہ وہ ہم سے لڑتے بھی ہیں اور ہم بھی پلٹ پلٹ کر جواب دیتے ہیں' وہ مسکراتے ہوئے بولتی ہی جارہی تھی اور روشنی بیگم یک ٹک اسے دیکھ رہی تھیں انکے دل نے شدت سے بیٹی ہونے کی دعا کی تھی یہ الگ بات تھی کہ خدا تو انکو لالی جیسی بیٹی سے پہلے ہی نواز چکا تھا

'گھر نہیں جانا یا پھر آج یہیں رہنا ہے' شام ہوئی تو روشنی بیگم نے لالی سے پوچھا

'ڈئیر روشنی ہم نہ گھر کا راستہ بھول گئے ہیں اور ہمارے پاس فون بھی نہیں ہے ورنہ ایس ایس پی صاحب کو کہہ دیتے' وہ منہ بناتے ہوئے اپنی پریشانی بتانے لگی تو وہ 

'اوہو کوئی بات نہیں آؤ میرے ساتھ چلو میں تمہیں گھر چھوڑدیتی ہوں' انہوں نے مصلے کا حل پیش کیا تو لالہ رخ بھی من گئی

💜💜

'امی یہ کیا ہے' دانیال کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں وہ لاؤنج میں بھاگتا ہوا داخل ہوا 

'کیا ہوگیا ہے اللہ خیر کرے' شبانہ بیگم دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتیں اسکے پاس آئیں

'لالہ رخ کا ایک اور سچ اور یہ سچ بہت بھیانک ہے' اسکا چہرہ بلکل سفید تھا پری بھی وہیں تھیں اور سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی

'ہوا کیا ہے بھائی کچھ تو بتائیں' پری بھی آگے آئی تو دانیال نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا 

'امی کیا کؤثر آنٹی نے شادی نہیں کی تھی؟' دانیال نے سوالیہ نظروں سے شبانہ بیگم کو دیکھا تو انکا چہرہ سفید پڑا اور پری الجھی یہ کیسے ہوسکتا ہے 

'تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے کیا' وہ نظریں چراتی ہوئی بولیں 

'امی کسی نے یہ پیپرز بھیجے ہیں جو کوثر آنٹی کو…' وہ اپنے الفاظ منہ میں ہی روک گیا اور وہ پیپرز انکی طرف بڑھائے تو انہوں نے جھٹ سے پیپر چھینے اور جیسے جیسے دیکھتی گئیں انکی آنکھیں پتھرا گئیں اور کون تھا جسکو یہ سچ معلوم تھا کہانی مزید الجھ رہی تھی پری نے پیپرز شبانہ بیگم سے چھینے اور ایک ایک ورق کو پلٹ کر دیکھا تو پیپرز ہاتھ سے چھوٹ پڑے اسکا ننھا سا دل دہل گیا تھا 

'kausar Anty was a rape victim and lali…'

وہ مزید بولتی کہ شبانہ بیگم نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا 

'چٹاخ' 

'خبردار جو بکواس کی ہو تو لالہ رخ کے بارے میں کوثر نے شادی کی تھی اور اسابیل سے کی تھی لالہ رخ ان دونوں کی بیٹی ہے بس یہی سچ ہے اور جو سچ ہے وہ جھوٹ ہے' وہ چیخ کر بولیں تھیں گویا سچ کو دبانے کی کوشش کی تھی لیکن سچ کب چھپتا ہے

'ہاں یہی سچ ہے میں نہیں مانتا اس سب کو' دانیال کو اپنی آواز گہرائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی 

'آئیندہ سے اس بارے میں گھر میں کوئی بات نہیں ہوگی اور نہ ہی فصیحہ کو اس بارے میں کچھ پتا چلنا چائیے' شبانہ بیگم کہتی ہوئی واپس پلٹ گئیں اور پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے

💜💜

لالی کو روشنی بیگم نے اسکے گھر کے سامنے اترا تو وہ انہیں بائے کہتی ہوئی اندر کی جانب چلدی دروازہ کھولتے ہی کوئی چیز اسے آلگی اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ ایک کاغذ تھا جسے پتھر پر باندھ کر مارا گیا تھا اس نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نہیں دکھا پھر کاغذ اٹھا کر کھولا تو وہ خالی تھا 

لالی نے کاغذ کو مٹھی میں دبایا اور اندر بڑھ گئی

'ارے لالہ رخ کہاں رہ گئیں تھیں آج تو بہت دیر کردی تم نے آنے میں' فریہا بولتی ہوئی اسکے پاس آئی 

'ہاں یار ہم نہ غلطی سے تھوڑا آگے چلے گئے تھے تو راستہ بھول گئے پھر ہماری ایک فرینڈ بن گئی روشنی ڈارلنگ اس نے ہمیں یہاں ڈروپ کردیا اور تمہیں پتا ہے وہ نہ ممی بننے والی ہے' روشنی بیگم سے زیادہ خوش تو شاید یہ تھی 

'کیاااا رستہ بھول گئی تھی تم تو فون تو کردیتیں ابھی میر بھائی آتے تو ہم لوگوں کو ڈانٹتے' وہ اسے ڈانٹتی ہوئی بولی

'وہ ہم فون بھی گھر پر بھول گئے تھے' اس نے اپنے دانتوں کی نمائش کی

'اچھا ہوتا تمہیں کوئی اٹھا کر لیجاتا تو ہم لوگوں کو سکون مل جاتا' فریہا افسردگی سے بولی

'اوہ بیٹا زرا تھم لو کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز لالہ رخ کو ہاتھ بھی لگا سکے ہاتھ ہی توڑ دینا ہے ہم نے اسکا' لالی نے کالر جھاڑے جب کہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی پرچی وہ اپنی آستین میں چھپا چکی تھی تاکہ وہ کہیں گرے نہیں 

'ارے جاؤ جاؤ پولیس والے کی بیوی ہو پولیس والی نہیں ہو' فری نے اسے سچائی بتائی حالانکہ ابھی اسے پتا چلتا نہ کہ لالی میر کو بھی اپنے گے بےبس کرچکی ہے تو وہ یہ بات کبھی نہیں کہتی

'نہ مانو ہماری بات لیکن ایک دن تم یہ بات خود کہو گی 

And that's my challenge' 

وہ مسکراتی ہوئی بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی کمرے میں آکر دروازہ لوک کیا اور کمرے میں اندھیرا کیا اپنی آستین سے وہ کاغذ نکالا موبائل کی لائٹ اون کی اور کاغذ کے پیچھے رکھی جسکی وجہ سے کاغذ ہر لکھے ہوئے الفاظ واضح ہوئے وہ چاہتی تو کاغذ کو گیلا کرکے بھی پڑھ سکتی تھی لیکن اس طرح الفاظ مٹ جانے کا خدشاہ تھا اسلئے اس نے یہ حربا آزمایا کاغذ کے وسط میں ایک تحریر درج تھی اس پین سے لکھاھا گیا تھا جو سکھا ہوا تھا 

     'Congratulations Lala Rukh for Sister to be' 

لالہ رخ نے ان الفاظوں کو ایک بار نہیں بار بار پڑھا لیکن الفاظ نہیں بدلے تھے یہ کیسے ممکن تھا کس نے لکھے تھے یہ الفاظ اور کیوں لکھے تھے اور پھر لالی کو کیوں بھیجا گیا تھا یہ اور وہ کس کی بہن بننے والی تھی

'اب یہ نیا شوشا کون چھوڑ رہا ہے کون ہے یہ فضول انسان جس کو اپنی زندگی میں سکون نہیں ہے' وہ بڑبڑاتی ہوئی اس کاغذ کو اور الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی کہ کچھ اور مل جائے لیکن اس پر اور کچھ نہیں تھا

'شاید کسی نے مزاق کیا ہوگا ہاں یہی ہوسکتا ہے' لالی کچھ پرسکون ہوگئی تھی کاغذ کو پھاڑ کر ڈسٹ بن میں ڈالا 

💜💜

'اسے بھیج تو دیا ہے لیکن کیا وہ اسے پڑھ بھی پائے گی بھی یا نہیں' رابیعہ میز پر ہاتھ رکھے انگلیوں کو پیانو کی طرح چلا رہی تھی وہ کاغذ رابی نے بھیجا تھا لالی کو کیونکہ وہ لالی کو روشنی بیگم کے ساتھ دیکھ چکی تھی اسلئے یہ کام اس نے اسابیل سے چھپ کر کیا تھا 

اسابیل نے اسے اغواہ کیا تھا بدلہ تو چکا نہ تھا اس نے اور رابیعہ خان نے لالہ رخ کو نہیں چھوڑا محض انسلٹ کرنے پر پھر تو یہ اسکا کڈنیپ ہوا تھا ادھر اسابیل کو لگا تھا کہ وہ اسے شیشے میں اتار چکا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس بار اسکا جن سے پالا پڑا تھا دونوں ہی خطرناک تھیں انہیں شیشے میں اتارنا مطلب شیر کی پوچھاڑ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا

💜💜

لالی میر سے بات کرنا چاہ رہی تھی لیکن میر کے سامنے آتے ہی اسکی زبان اسکا ساتھ چھوڑدیتی تھی میر جو کب سے اسکے بولنے کا انتظار کررہا تھا آخر میں خود ہی بول اٹھا

'کیا بات ہے لالہ رخ' وہ سنجیدگی سے بولا

'ایس ایس پی صاحب ہمیں نے کل کہیں باہر جانا ہے صبح' وہ آج اس سے پہلی بار اجازت لے رہی تھی کیونکہ اسے دور جانا تھا

'کہاں جانا ہے اور کس کے ساتھ' وہی سنجیدگی

'ہمیں اپنی دوست کے ساتھ جانا ہے ہوسپٹل' وہ جلدی سے بولی

'کونسی دوست اور ہوسپٹل کیوں جانا ہے' اسکے ماتھے پر بل آئے

'ہماری نیو فرینڈ بنی ہے روشنی ڈارلنگ اور اسے ہوسپٹل لے کر جانا ہے اس نے ہمیں بہت پیار سے کہا تھا' وہ اب اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

'لالہ رخ کس کو دوست بنایا ہے' اب اسکا لہجہ تھوڑا سخت تھا

'ایس ایس پی صاحب ایک انسان کو دوست بنایا ہے جو لڑکی ہے اسکا نام روشنی ہے اور وہ…وہ نہیں بتائیں گے' وہ جو کہنے لگی تھی کہ وہ ممی بننے والی ہے روک گئی کیونکہ میر تو لڑکا ہے نہ اسے کیسے بتا سکتے ہیں میر جو کچھ فائلز چیک کررہا تھا اب انہیں بند کرکے پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوا

'کسی کو بھی اس طرح دوست نہیں بناتے بچی ہو تم جو تمہیں ہر بات سمجھانی پڑے گی' وہ سخت لہجے میں کہہ رہا تھا

'ایس ایس پی صاحب ہم بچی نہیں ہیں اور نہ ہی ہم روٹی کو کوکو بولتے ہیں ہم اتنے بڑے ہوگئے ہیں (ہاتھ سے اپنے بڑے ہونے کا اشارہ کیا) اور وہ نہ بڑی ہیں آنٹی ہوتی ہیں نہ وہ ہیں وہ انکی طبیعت خراب ہے اسلئے ہم ان کے ساتھ جارہے ہیں' وہ اپنی دوست کو آنٹی نہیں بولنا چاہتی تھی لیکن میر کو سمجھانا بھی ضروری تھا

'کوئی ضرورت نہیں ہے وہ خود بھی جاسکتی ہیں نہ' میر نے صاف لفظوں میں منع کیا اور اسے آنکھیں دکھائیں لیکن لالہ رخ نے سرے سے اگنور کیا

'ہمیں جانیں دے یار ہم نہ روشنی ڈارلنگ کو آپکے بارے میں اتنے پیارے پیارے لفظوں میں بتا کر آئے ہیں کہ آپ ہمیں جانیں دے گے اور اگر آپ نے ہمیں جانیں نہیں دیا نہ تو اچھا نہیں۔ ہوگا' وہ اسکو اپنی شہادت کی انگلی سے وارن کرتی ہوئی اب دھمکیوں پر اتری تھی میر نے اسکی انگلی پکڑلی 

'دھمکی دے رہی ہو' وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا 

'ہماری کیا مجال کہ آپ جیسے پولیس والے کو دھمکی دیں لیکن پلزز مان جائیں نہیں تو ہم بی جان کو شکایت کردیں گے اور اگر ہم ڈرامے بازیوں پر اترے نہ تو بی جان نے آپ کو بہت ڈانٹنا ہے' وہ ڈرا رہی تھی اسے اور اسکے اس انداز پر میر نے اپنی ہنسی دبائی اور اسکے ماتھے پر آئے بالوں کو اپنی انگلیوں سے کان کے پیچھے کیا بس اتنی سی ہی اسکی قربت میں اسکی سانسیں رک جاتی تھیں ابھی بھی کچھ یہی ہوا تھا

'ہ۔ہ۔ہم کہہ رہے تت۔تھگ ک۔ہ۔کہ' وہ بھول چکی تھی بلکل ہی اسے یاد ہی نہیں آرہا تھا 

'کیا کہہ رہی تھیں' میر اور قریب ہوا تو وہ بھاگتے ہوئے صوفے پر جا کھڑی ہوئی میر پھر اسکی طرف گھوما لیکن لالی نے صوفے پر پڑے کشن اٹھاکر اسے مارنا شروع کردیے تھے 

'لالہ رخ کیا کررہی ہو اترو وہاں سے' میر نے کشنز سے بچتے ہوئے کہا

'نہیں پہلے کہیں کہ ہاں تم جاسکتی ہو کل اسکے بعد ہی اتریں گے' وہ چیختے ہوئے بولی

'اوکے اوکے چلی جانا میں نہیں کچھ کہہ رہا' وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا تو لالہ رخ کھلکھلا کر ہنسی

💜💜

میر جاچکا تھا اور وہ ساری ینگ پارٹی بیٹھی ناشتہ کررہی تھی لالی کو بھی تھوڑی دیر میں جانا تھا اسلئے سکون سے ناشتہ کررہی تھی کہ اچانک اسکے خرافاتی دماغ میں کچھ کوندا

'تم لوگوں کو پتا ہے کل کیا سین ہوا' وہ چیختی ہوئی بولی جبکہ رواحہ کا ہاتھ بے ساختہ دل پر گیا تھا اور باقی سب بھی ناشتہ چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے

'اب بول بھی دو کیا ہوا تھا' عمر بےزاری سے بولا

'کل نہ ہم باہر گھوم رہے تھے ویلوں کی طرح تو ہم نے دیکھا ایک امیر انسان اتنا اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا اور نہ غریب لوگوں پر طنز کے تیر چلا رہا تھا موٹا (اسنے منہ بنایا سب لوگ اچھنبے سے اسے دیکھ رہے تھے) پھر وہ ایک جگہ آکر رکا ہم نے دیکھا کہ اسکے بلکل برابر میں ایک کتا سو رہا تھا بس پھر ہم نے اٹھایا پتھر اور لگایا نشانہ کتے کا اور کھینچ کر مارا وہ امیر انسان کتے کے تیور دیکھ کر ہی چکرا گیا تھا نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اندھا دھند بھاگا ئ کتے نے بھی اسے تنگی کا ناچ نچایا پھر کیا غرور اور کونسی اکڑ سب ملیا میٹ ہوئی تھی جتنے لوگوں کی بھی دل آزاری کی تھی ان سب کا بدلہ لیا' وہ آخر میں قہقہ لگا کر ہنسی تو اسکا ساتھ حمدان اور سفیان نے دیا تھا باقی سب تو حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے 

'بیچارا امیر انسان پھنسا بھی تو کس کے چنگل میں پھنسا لالی کے' رواحہ بھی ہنستے ہوئے بولی 

'لالی تم آج کہیں جارہی تھی نہ' فری نے جوس پیتے ہوئے کہا

'ہاں کیوں' لالی نے اسکی طرف دیکھا

'مجھے کچھ بکس منگانی ہے لادینا پلزززز' اس نے ریکوئسٹ کی

'ہاں تم ہمیں لسٹ دے دینا ہم کے آئینگے اوکے' وہ مسکراتی ہوئی بولی

'ویسے بچ تو گیا ہوگا نہ وہ امیر انسان' سحرش نے شرارت سے کہا تو سب ایک بار پھر ہنس دیے

💜💜

لالی اور روشنی ہوسپٹل میں موجود تھے روشنی کا نمبر آیا تو وہ لوگ اندر چلے گئے اندر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لائبہ تھیں 

'کیسی ہیں آپ مسز عثمانی' ڈاکٹر خوشدلی سے بولی جب کہ لالہ رخ انکا روشنی کو مسز عثمانی کہنا ٹھٹھک گیا اور کل کی روشنی کی بات دماغ میں آئی اسابیل میرے شوہر کا نام ہے تو کیا وہ…نہیں نہیں ایک نام کے اور بھی لوگ ہوسکتے ہیں اس دنیا میں دماغ میں آئی فالتو سوچوں کو جھٹکا تو روشنی کی آواز سنائی دی جو شاید ڈاکٹر سے اسکا تعارف کروارہی تھی 

'She is my friend Lala Rukh' 

وہ بہت پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں تو ڈاکٹر نے لالی سے بھی ہائے ہیلو کی ڈاکٹر انکا چیک اپ کررہیں تھیں تو لالہ رخ باہر آگئی ایک دو منٹ ہی گزرے ہونگے کہ اسکے فون پر کسی کی کال آئی اننون نمبر تھا لیکن پھر بھی دل نے سگنل بھیج دیا تھا میر کے نام کا اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا 

'ہیلو کون' لالہ رخ انجان بنی لیکن مسکراہٹ چہرے پر ہنوز قائم تھی

'مسکراہٹ سے لگ رہا ہے کہ پہچان گئی ہو' میر چئیر کی بیک سے ٹیک لگاتا ہوا بولا ہاتھ میں ایک چھوٹے سائز کا چاکو تھا جو گول گھوم رہا تھا

'شرم نہیں آتی ایک شادی شدہ لڑکی کو اس طرح کال کرتے ہوئے ایس ایس پی صاحب کو بتایا نہ تو اندر کردیں گے' وہ اکڑ کر بولی تو میر کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے 

'میں کسی ایس ایس پی سے نہیں ڈرتا' وہ بے خوف لہجے میں بولا تو لالی کی مسکراہٹ گہری ہوئی

'ان سے تو ہم بھی نہیں ڈرتے ہاہاہا' وہ ہنستی ہوئی بولی آتے جاتے لوگوں نے رک کر اسے دیکھا اسکی مسکراہٹ کافی پیاری تھی دور بیٹھے میر کی آنکھوں میں بھی مسکراتی ہوئی لالی کا عکس لہرایا ہاتھ میں گھومتا ہوا چاکو بھی رکا لیکن پھر سے گھمنا شروع ہوا

'سوچ کر بولو لالہ رخ ورنہ واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے' وہ روعب دار آواز میں بولتا لالی کی دھڑکنیں روک دیتا تھا

'تم ہم سے فلرٹ کررہے ہو' وہ اتراتی ہوئی بولی

'نہیں اپنی بیوی سے کررہا ہوں' اسکا بیوی کہنا لالی کے عشق کو اور بڑھا گیا تھا 

'اچھا خیر فون کیوں کیا تھا' وہ بہت ہی خوبصورتی سے بات بدل گئی تھی 

'گھر پھنچ گئیں' اسکے لہجے میں فکر تھی 

'نہیں ابھی تو آئیں ہیں اور ہم تو ابھی گھر نہیں جائیں گے ہمیں ابھی بک اسٹور جانا ہے اسکے بعد لنچ کرنا ہے پھر جائیں گے' وہ ج کی پوری پلینینگ میر کو بتا رہی تھی 

'کوئی ضرورت نہیں ہے کل بھی راستہ بھول گئیں تھیں نہ گھر جانا ہے سمجھیں' میر نے سنجیدگی سے کہا تو لالہ رخ گڑبڑا گئ اسے کیسے پتا کل کہ بارے میں

'اچھا بکس کے کر چکیں جائیں گے گھر' وہ منہ بناتی ہوئی بولی

'ہم یہی ٹھیک ہے آہ…' میر بات کرتے ہوئے چاکو کو فراموش کرچکا تھا اسلئے اسکے ہاتھ پر لگ گیا تھا جہاں سے اب خون کی لکیر نمایا ہورہی تھی

'کک…کیا ہوا ہے' لالہ رخ کی زبان لڑکھڑائی

'کچھ نہیں ہوا بس ہلکا سا کٹ لگا ہے…' وہ بول ہی رہا تھا کہ لالی نے فون کاٹ دیا چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی تھیں بھاگ کر ڈاکٹر کے کیبن میں آئی 

'روشنی ہم جارہے ہیں ایک ایمرجینسی ہوگئی ہے آپ اکیلے چلی جائیں گی نہ' وہ جلدی جلدی بول رہی تھی چہرہ بلکل سفید ہوگیا تھا

'ہاں میں چلی جاؤں گی لیکن تم کیسے جاؤ گی کیونکہ تم تو میرے ساتھ آئی تھی نہ' وہ فکرمندی سے بولی 

'کوئی بات نہیں ہم بلے جائیں گے ہمیں عادت ہے' وہ کہتی ہوئی عجلت میں نکلی لیکن باہر آکر اسے یاد آیا کہ اسے صرف پولیس اسٹیشن کا نام یاد ہے اس نے رکشہ روکا اور صرف نام بتایا پولیس اسٹیشن کا تو وہ سمجھ گیا تھا اور لالی کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بنا کوئی وقت ضائع کیے بیٹھ چکی تھی

💜💜

ہوسپٹل میں کھڑی رابیعہ خان نے لالی کی ہر بات سنی تھی اسکی آنکھیں ضبط کی وجہ سے لال ہوگئی تھیں ایک عجیب حسد سا تھا اسکی آنکھوں میں جس شخص کو پانے کیلئے وہ اتنا گر گئی تھی کہ اسکے دوست کو مار دیا تھا ورنہ طارق صاحب کے قاتل کو مارنا تو محض بہانہ تھا اصل وجہ تو میر کو حاصل کرنا تھا 

کیا سوچا تھا رابیعہ نے کہ لالی کو منہ کے بل گرائے گی اور کیا ہوا تھا اسکے ساتھ جسکو گرانے چلی تھی آج اسی نے اسے زمین کی دھول چٹائی تھی انجانے میں ہی صحیح مگر لالہ رخ ایک بار پھر رابیعہ کو زمین پر لانے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس بار تو بڑا کاری وار کیا تھا لالی نے 

آخر ایسا تھا کیا لالہ رخ میں کہ پہلے جنید علی اور اب میر اس کے آگے بچھے گھوم رہے تھے کیا ہے اسکے پاس ایسا خوبصورتی وہ تو رابیعہ خان کے پاس اس سے زیادہ تھی اور رہی بات دولت کی تو لالہ رخ سے کم دولت تو اسکے پاس بھی نہیں تھی پھر کیا ہے وہ کون ہے وہ 

رابیعہ خان کا دماغ صرف دولت اور حسن کے آگے پیچھے گھومتا تھا لیکن اب یہاں اسکے جنون کی باری آئی تھی اسکے عشق کی اسکے جنونِ عشق کی باری تو آگ تو اب لگنی ہی تھی دلوں میں یا پھر گھروں میں لیکن میر کو تو اب رابیعہ کو ہونا ہی تھا وہ ایسے ہی منصوبے بناتی ہوئی جلے دل کے ساتھ ہوسپٹل سے نکلی 

💜💜

'ایس ایس پی صاحب کا آفس کہاں ہے' لالہ رخ ہڑبڑاتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور پاس سے گزرتی ہوئی لیڈی کونسٹیبل کا بازو پکڑ کر اپنی طرف متواجہ کرایا

'اوہ بی بی تھم کے پولیس اسٹیشن ہے تمہارے باپ کا گھر نہیں' وہ بدتمیزی سے بولی تو لالی نے اسکا بازو چھوڑ دیا

'اا…اوکے سس۔سوری ایس ایس پی کا آفس کہاں ہے؟' اسنے معزرت کی اور اب دھیمے لہجے میں بولی

'کیا کام ہے کیوں ملنا ہے صاحب سے جو بھی شکایت ہے انسپیکٹر سے کرو' اس نے غصّے سے بولتے ہوئے انسپیکٹر کی طرف اشارہ کیا

'دیکھو بس ہمیں انکا آفس بتادو ورنہ ہم خود ڈھونڈلیں گے شکریہ آپکا' وہ کہتے ہوئے آگے بڑھی تو اسی کونسٹیبل نے اسکا بازو پکڑلیا 

'اوہ بی بی ہو کون تم جو سر سے ملنے کیلئے مچلے ہی جاری ہو' وہ ایک بار پھر بدتمیزی سے بولی اس نے لالی کو کسی غریب گھرانے کا سمجھ لیا تھا وجہ اسکا اسکارف اور سادہ کپڑے تھے لالی جو کب سے خود پر کنٹرول کرکے تمیز سے بات کررہی تھی اب اسکا کنٹرول ختم ہوا تھا

'کہا نہ ہمیں ایس ایس پی کا آفس بتاؤ یا تو ہمیں جانے دو' وہ دھاڑی تھی اسکی دھاڑ ایسی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے پولیس اسٹیشن جو مچھلی بازار کا منظر پیش کررہا تھا اب بلکل سکوت خاموشی چھا گئی تھی وہاں کانسٹیبل نے اسکا بازو چھوڑا 

'کیا ہورہا ہے یہاں' یہ میر تھا جو کسی کے دھاڑنے کی آواز سنتا ہوا باہر آیا تھا لیکن لالی کو کھڑا دیکھ کر چونک گیا تھا

لالی کا غصّہ میر کو دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا اب وہاں صرف فکرمندی تھی

'سر یہ لڑکی جب سے آئی ہے بدتمیزی کررہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ آپ سے ملنا ہے' وہی کونسٹیبل آگے آئی اور لالی کی میر سے شکایت کرنے لگی

'جھوٹ بولنے پر کوّے کاٹیں گے تمہیں بدتمیز' لالی اسے خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تو وہ آنکھیں گھما گئی

'مس اجالا (کونسٹیبل) یہ میری وائف ہیں تو آئندہ انہیں روکیے گا مت' میر سنجیدگی سے بولتا ہوا اجالا کے سر پر دھماکا کرگیا وہ کیا سب آنکھیں پھاڑے لالی کو دیکھنے لگی یہ چھوٹی سی لڑکی انکے سر کی بیوی تھی وہ شرمندہ ہوگئی جبکہ لالی کی گردن میں شاید راڈ آگئی تھی 'لالہ رخ آؤ میرے ساتھ' وہ کہتا ہوا گے بڑھا تو لالی اسکے پیچھے چلنے لگی

میر اپنے آفس میں آیا اور سنجیدگی سے ٹیبل پر بیٹھ گیا اور اپنا دایاں ہاتھ اسکی طرف بڑھا دیا وہ لالی کو یہاں دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں آئی ہے دل میں ایک احساس سا ہوا تھا تبھی ہاتھ کے زخم پر کچھ نہیں لگایا تھا

لالی نے میر کا ہاتھ تھاما اور بے چین نظریں میر کے چہرے کی طرف کیں تو اس نے اپنے پیچھے پڑا ہوا فرسٹ ایڈ باکس اسکے سامنے کیا لالی نے اس میں سے پہلے کچھ دوائیاں اٹھائیں اور میر کے ہاتھ پر سے رسنے والا خون صاف کیا ہاتھ کی پٹی کرتے وقت آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تو ایک قطرہ میر کے ہاتھ پر آگرا میر نے سر اٹھاکر لالی کو دیکھا تھا خود کی عشق بنتی محبت پر رشک آیا تھا کہ اس کے دل نے کس لڑکی سے محبت کی تھی

وہ تو پہلے ہی اس لڑکی کے عشق میں خود کو دبا ہوا محسوس کرتا تھا کب کس نے سنا تھا کہ کسی لڑکی نے اپنے محبوب کے لاڈ اٹھائے تھے لالی سے کوئی یہ کہہ دے نہ کہ میر کیلئے جان دینی ہے وہ بغیر سوچے سمجھے اپنی جان دے دے گی 

'درد تو نہیں ہورہا نہ' وہ فکرمندی سے بولی تو میر نے نفی میں سر ہلایا اور پھر ٹیبل سے اتر کر اپنی چئیر پر جا بیٹھا

'کیسے آئی ہو یہاں ہوسپٹل تو دور ہے یہاں سے' میر سنجیدہ تھا اور کچھ سنجیدگی اس پر سوٹ بھی کرتی تھی لالی اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گئی اور پاؤں جھلانے لگی

'پہلے ہاتھ ہلایا (ہلا کر بھی دکھایا) پھر رکشہ روکا اور پھر پولیس اسٹیشن کا نام بتایا بس پھر آگئے ہم' لالی کندھے اچکائے ہوئے بولی تو میر کرسی کی بیک سے ٹیک لگا کر پر سکون ہوا وہ لڑکی اپنی حفاظت کرنا جانتی تھی 

'اب' وہ خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا

'اب ہم جارہے ہیں ہمیں کچھ بکس لینی ہے' وہ اپنا چھوٹا سا پرس بیک کرتی ہوئی بولی 

'واپس کیسے جاؤگی' میر کی ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ورنہ وہ خود چھوڑدیتا اسے

'رکشے سے' وہ مصروف سی بولی اور پھر ایک لسٹ نکالی بکس کے ساتھ انکے ریٹس بھی لکھے تھے لالی نے پیسے چیک کیے تو تقریباً اتنے ہی تھے جتنے ٹوٹل پرائس تھے بکس کے مطلب اسے پیدل جانا پڑے گا اففف 'اپنے ہاتھ کا خیال رکھیے گا اور کسی کو ماریے گا نہیں کسی اور سے پٹوا لیے گا اور اب ہم جارہے ہیں ورنہ گھر پہنچتے پہنچتے دیر ہو جائے گی' ایک تو اسے راستہ نہیں پتا تھا اوپر سے دوپہر ہورہی شام بھی ہونے والی تھی اسلئے میر کو خدا حافظ کہتے اپنے موبائل میں گوگل کی ہیلپ سے نکل پڑی تھی

💜💜

اسابیل عثمانی اپنے آنے والے بےبی اور اپنی بیوی کیلئے کچھ شوپنگ کرنے آیا تھا یہ بات تو طے تھی کہ وہ ان دونوں سے بےحد محبّت کرتا تھا اور لالہ رخ سے شاید اتنی ہی نفرت 

وہ بک اسٹور پر کھڑا کچھ ضروری بکس لےرہا تھا جو روشنی نے منگائیں تھیں وہ بکس کے رہا تھا کچھ جب اپنی جیب میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ اسکی جیب سے اسکا پرس نکالنے کی کوشش کررہا تھا مطلب وہ چوری کررہا تھا اسابیل کا پارہ ہائی ہوا اور ایک ہاتھ گھما کر اس لڑکے کو مارنا چاہا لیکن کسی نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا

____________________

لالی بک اسٹور تک پہنچ گئی تھی اور بکس دیکھ رہی تھی تبھی اسکی نظر ایک بچے پر پڑی جو کسی کی جیب سے شاید پیسے نکالنے کی کوشش کررہا تھا پھر وہ شخص پیچھے مڑا اور اس لڑکے کو تھپڑ مارنا چاہا لیکن لالی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

اسابیل کا حلیہ بدل گیا تھا جو تصویر لالہ رخ کے پاس تھی وہ بیس سال پہلے کی تھی اب چہرے پر داڑھی تھی آنکھوں پر نظر کا چشمہ تھا بڑی بڑی مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹ وہ پہلے والا اسابیل نہیں تھا اسلئے لالی اسے پہچان نہیں سکی تھی 

'چھوڑو میرا ہاتھ کیا بدتمیزی ہے یہ' وہ چینگھاڑتا ہوا پیچھے ہوا لیکن لالی کو دیکھ کر اسکی آنکھیں تحیر سے پھیلیں لالی نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑا

'بدتمیزی تو آپ کررہے ہیں اتنے چھوٹے سے بچے پر ہاتھ اٹھا کر' لالی غرراتی ہوئی بولی اسابیل تو دم سادھے اسے دیکھتا رہ گیا اس میں اسے اپنی جھلک دکھی تھی

'یہ چوری کررہا تھا میرا پرس' اسابیل نے اپنا پرس لالی کے سامنے لہرایا تو لالی نے اس بچے کو دیکھا جو پکڑے جانے کے ڈر سے لالی کے پیچھے چھپا کھڑا تھا

'پرس چوری کررہا تھا نہ آپکی جان تو نہیں لے رہا تھا جو آپ اتنا اوور رئیکٹ کررہے ہیں انکل' وہ اپنے باپ کو انکل کہہ رہی تھی کیسے رشتے تھے لالی کے پاس 

'چوری وہ کررہا ہے تو تم مجھے کیوں باتیں سنا رہی ہو اسے سناؤ جو مظلوم بنا تمہارے پیچھے کھڑا ہے' اسابیل کو کہاں برداشت تھی اپنی تزلیل 

'آپکو پتا ہے یہ لوگ چور بھی آپ لوگوں کی وجہ سے بنتے ہیں کیوں کہ آپ ہی وہ لوگ ہیں جو ان جیسے لوگوں کے حق کھاتے ہیں قبر میں ٹانگیں لٹک رہی ہیں لیکن حرکتیں ہیں کہ ختم نہیں ہورہیں' وہ بڑے پیار سے پوری کی پوری کہانی پلٹ گئی تھی اور اسابیل کو پتا بھی نہیں چلا تھا

'کونسے حق اور کہاں کہ حق سیاستدان نہیں ہوں میں اور میں ابھی اتنا بوڑھا نہیں ہوا جو مرنے والا ہوں' وہ لفظ چبا چبا کر بولے تو لالی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی لیکن ہونٹوں کے کونے پر اپنی مسکراہٹ روک گئی تھی

'کیوں آپ لوگ جو اپنی عیاشیاں کرتے ہیں نہ بڑے بڑے محلوں میں رہ کر اے سی کی ٹھنڈی ہوائیں کھا کر بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم کر کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ سب بھی انہی سب کی بدولت سے ہے ورنہ بنا لیتے آپ اپنا بڑا سا مکان بنالیتے اس میں لگنے والی اینٹیں بنالیتے ان گاڑیوں کے انجن جن کے بغیر آپ لوگ سفر نہیں کرتے' وہ گن گن کر بولی تھی اسابیل تو ہقہ بقہ لالی کو دیکھ رہا تھا کونسی دور کی کوڑی لائی تھی وہ ایک لمبی سانس خارج کرنے کے بعد وہ بک اسٹور سے باہر نکل گیا جبکہ لالی تاسف سے سر جھٹک گئی پھر اس بچے کو دیکھا 

'پتا ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے تھے اسلئے جلدی سے سچ سچ بتاؤ چوری کیوں کی تھی ورنہ ہاتھ کٹوا دیں گے' لالی نے اسے ڈرایا اور وہ ڈر بھی گیا تھا

'میں نے کچھ نہیں کھایا تھا پیسے نہیں تھے اسلئے چوری کی' وہ بچہ ندامت سے آنکھیں جھکا گیا لالی کو اس پر ترس آیا تھا وہ اسے وہیں کھڑے رہنے کا کہہ کر لائیبریری میں گئی ایک بک کے علاؤہ ساری بکس خریدیں جو پیسے بچ گئے تھے ان پیسوں سے اس بچے کو کھانا کھلایا اور باقی کے پیسے اسے دے دیے


‏تُو شاہِ عشق ھے _________ تیرا پلڑا بھاری🥀

میں فقیر عشق ھوں میرا تَن بھی خالی مَن بھی خالی💕

میر نے اسے خود سے دور کیا اور اسے غور سے دیکھا جب کہ چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی لالی نے اسے دیکھا تو اپنی بے اختیاری پر خود کو کوسا کیا ضرورت تھی اظہار کرنے کی اور وہ بھی اظہارِ عشق لالی نے آنسو صاف کیے اور پھر اس سے فاصلے پر بیٹھی میر اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا محبت سے لیکن شاید نہیں اسکی آنکھوں میں عزت بھی تھی 

'کہاں لگی ہے' کچھ لمحوں بعد لالی نے میر سے پوچھا 

'پہلے تو ایک خراش آئی تھی لیکن اب لگتا ہے دل زخمی ہوگیا ہے' وہ شاید بےبس سا ہوگیا تھا لالی کا عشق اپنے لیے دیکھ کر

'ایسے نہ بولیں ہماری بے اختیاری میں کہی گئی بات کو دل پر نہ لیں ضروری نہیں ہوتا کہ رشتے میں بندھے دونوں فریقوں میں محبت ہو' وہ کچھ اور سمجھ بیٹھی تھی

'تو کیا محبت کا حق صرف تمہیں ہے' میر شاید اسے کچھ باور کروانا چاہتا تھا شاید نہیں وہ یقیناً اپنی محبت کا یقین دلارہا تھا

'نہیں سب کو ہے لیکن بس آپ کو نہیں ہے' وہ شاید سمجھ گئی تھی

'اور مجھے کیوں نہیں ہے' وہ گھمبیر آواز میں بولا تو لالی کی جان اٹکی

'کیونکہ ایک پولیس اہلکار مجرم سے محبت نہیں کرسکتا' لالی نے اسے کچھ یاد دلایا تو اسنے لمبی سانس کھینچی

'اور اگر میں کہوں کہ تم مجرم نہیں ہو تو' وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تو لالی کی آنکھیں حیرت سے پوری کھل گئیں وہ دونوں پاؤں اوپر کرکے آلتی پالتی مار کر میر کے سامنے ہوکر بیٹھی  

'رابیعہ خان کو پکڑ لیا ہے کیا' اسکے لہجے میں حیرت تھی اتنی جلدی کیسے پکڑ لیا اس چڑیل کو بھئی

'پکڑا تو نہیں ہے کیونکہ وہ غائب ہے لیکن اسکے خلاف ثبوت حاصل کررہا ہوں' وہ پرسکون لہجے میں بولا تو لالی بےچین ہوئی

'سر رابیعہ خان سے محبت کرتے تھے' لالی نے جملہ پورا کیا اور میر کی طرف دیکھا میر کے سر پر تو گویا دھماکا کیا گیا تھا اس نے بے یقینی سے اسے دیکھا

'تو اسلئے مارا ہے رابیعہ جان نے اسے' وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور شرٹ اتارنے لگا تو ہلکا سا درد ہوا تو لالی فوراً سے پہلے اسکے پاس پہنچی اور بغیر کچھ کہے اسکی شرٹ اتروانے میں اسکی ہیلپ کرنے لگی 

'آپ فریش ہوجائیں جب تک ہم کھانے کا دیکھ کر آتے ہیں' وہ کہتی ہوئی پھدک پھدک کر چلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی میر مسکراتا ہوا واشروم میں چلا گیا

💜💜

'ٹھیک ہوگئیں تم سوری میں بتانے والا تھا لیکن تم بغیر کچھ سنے چلی گئیں میں بھی گھبرا گیا تھا' عمر شرمندہ سا تھا

'کوئی بات نہیں دراصل نہ ہم میں ہماری امی جان کی روح آجاتی ہے کبھی کبھی ہم پاگل ہوجاتے ہیں اسلئے تھوڑی دیر پہلے پاگل ہوگئے تھے' لالی نے ہنستے ہوئے کہا

'امی کی روح' عمر نے دوہرایا تو اسکی ہنسی کو بریک لگا امی…

'اوہ ہیلو ہمیں نہ اموشنل مت کرو تھوڑی دیر پہلے اموشنل ہو ہو کر ہم تھک گئے ہیں اب زرا ہمیں اپنی ٹون میں واپس آنے دو' وہ تھوڑا غصّے سے بولی اتنے میں فاطمہ بھی وہیں آگئی

'تم تھوڑی ڈائیٹنگ وائیٹنگ کرو کتنی موٹی ہوگئی ہو' عمر فاطمہ کو آگے پیچھے سے دیکھتے ہوئے بولا

'موٹی اور میں ارے جاؤ خود کو دیکھو پہلے پرسوں جو ویٹنگ مشین پر کھڑے تھے نہ تم وہ میں نے بھی دیکھا تھا ماشاءاللہ 60 کلو' فاطمہ نے اچھے سے لتاڑا اسے اور پھر لالی کو بھی بتایا

'کیاااا 60 کلو تھوڑا کم کھایا کرو ایک تو کھاتے اتنا ہو اوپر سے ایک ہی جگہ بیٹھ کر کھاتے ہو توند نکل گئی نہ تو لڑکی نہیں دینی کسی نے اپنی تمہیں' لالی نے اسے ڈرایا اور بانو بی کو کھانا گرم کرنے کا کہنے لگی

'توند نہیں نکلی میری میں جم کرتا ہوں اسلئے اور موٹی تو یہ ہے' عمر نے فاطمہ کو بازو سے دھکا دیا تو وہ گرتے گرتے بچی اور پھر اسکے سر پر پہنچی

'موٹے کہیں کہ کیا بولا میں موٹی اچھا سنو اللہ کرے تمہاری بیوی موٹی ہو بچے موٹے ہوں پورا خاندان موٹا ہو' اسنے اسکے بال کھینچتے ہوئے بھر بھر کر بددعائیں دیں وجدان بھی اسی کی طرف آیا

'اللہ کرے تیرا شوہر کالا ہو موٹا بھدا ہو بال بھی نہ ہوں اسکے اور اور' اس نے لالی سے پوچھا تو لالی نے ایک نظر وجدان کے سفید پڑھتے چہرے کو دیکھا اور پھر شروع ہوگئی

'اور اسکے دانت بھی نہ ہوں پوپلا ہو کالے کالے ہونٹ ہوں چرسی ہو لفنگا ہو' لالی مزے سے بولی تو وجدان کو آگ لگا گئی وہ تن فن کرتا اسکے پاس پہنچا

'تم ہوگی چرسی اللہ کرے تمہارے دانت ٹوٹیں تمہارے ہوں ہونٹ کالے…' وجدان انگلیوں پر گنے گن کر بول رہا تھا اور لالی کی آنکھیں اسکی ہر بات پر مزید مزید کھل رہی تھیں پاس پڑا ہوا پانی کا جگ اٹھایا اور پورا کا پورا اس پر پلٹ دیا تو اسکی چلتی زبان کو بریک لگی عمر اور فاطمہ کے قہقہ بلند ہوئے

'ہم چرسی ہیں تو تم کیا ہو چپڑاسی کہیں کے' لالی کی زبان کو تو ہم سب جانتے ہی ہیں بھئی وہ وجدان کی کلاس لے کر آگے جارہی تھی کہ اپنے ہی کھودے ہوئے گڈّے میں گرگئی مطلب وجدان پر جو اس نے پانی پھینکا تھا وہ زمین پر بھی گرا تھا لالی کا پاؤں اس پانی پر سلپ ہوا اور وہ دھڑام سے زمین بوس ہوئی اب فاطمہ اور عمر کے ساتھ وجدان نے بھی قہقہ لگایا

'ہاہاہاہا کلیجے وچ ٹھنڈ پڑ گئی' وجدان نے ہنستے ہوئے کہا تو لالی جلتی بھنتی اٹھی 

'وجی۔ی۔ی' وہ چیختے ہوئے اسکے پاس آئی لیکن یہ کیا وہ ایک بار پھر سلپ ہوگئی اور ایک بار پھر قہقہ بلند ہوئے لیکن سب میر کو دیکھ کر خاموش ہوئے جو سفید شلوار قمیض میں ملبوس چہرے پر سنجیدگی لیے ان سب کو ہی دیکھ رہا تھا لیکن لالی اسے نہیں دیکھ سکی کیونکہ اسکی طرف اسکی کمر تھی

'عمر کے بچے اٹھالے ہمیں نہیں تو تیری شادی نہیں کرائینگے ہئے کمبختو نے کمر توڑ دی' بوڑھی عورتوں کی طرح پہلے اسنے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور پھر اسے کانوں کے پیچھے اڑسا پھر کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی 'اس وجدان کو تو اللہ پوچھے ارے ہم پوچھتے ہیں کونسے جنم کے بدلے لیے ہیں ہم سے ایسی کونسی کالی زبان رکھی ہوئی ہے منہ میں کہ بددعائیں کیا نکالیں قبول ہی ہوگئیں' وہ ہاتھ نچا نچا کر بولی تو فاطمہ اور عمر نے ہنسی روکی وجدان تو اسکی لمبی زبان پہلی بار دیکھ رہا تھا شاید جبکہ میر کیلئے یہ پرانی بات تھی لیکن پھر بھی وہ کڑے تیوروں سے اسے گھر رہا تھا

'کوئی بددعا نہیں دی میں نے تمہیں تمہارے خود کے گناہ ہی تمہارے آگے آئے ہیں' وہ مزے سے بولا 

'ہئے ہئے بیڑا غرق جائے تمہارا وجی ہم معصوم لڑکی پر ظلم کرتے شرم نہ آئی اور تم تم کیا کھی کھی کررہے ہو اٹھاؤ ہمیں' اسنے وجدان کو دو چار بددعائیں دے کر عمر کو لتاڑا تو اس نے میر کو دیکھا تو اسنے منع کردیا اور اشارہ کیا کہ وہ خود اٹھائے گا 

'آجکل کے جوانوں میں تو شرم و حیا کہیں دور جا سوئی ہے ارے کب سے سدا لگا رہے ہیں کہ کوئی اٹھالے لیکن لگتا ہے اب تو صرف خدا ہی اٹھائے…' وہ عمر کو اپنی جگہ سے نہ ہلتے دیکھ بولی تبھی میر سامنے آیا تو زبان کو ایسی بریک لگی جیسے کبھی چلی ہی نہ ہو چہرہ بلکل فق ہوگیا 

💜💜

میر نے اسے سب کے سامنے بانہوں میں اٹھایا اور ڈائینگ ٹیبل کی چئیر کھینچ کر اس پر بٹھایا تو وہ تینوں معنی خیزی سے انہیں دیکھنے لگے 

'چلو جاؤ سب' میر کی ایک ہی کڑک دار آواز نے سب کو ادھر ادھر کیا تو وجدان فاطمہ کو لے کر ایک سائیڈ پر ہوگیا جبکہ عمر اپنے کمرے میں چلاگیا تھا اب وہ دونوں بیٹھے تھے اور کوئی نہیں تھا بانو بی نے کھانا لگادیا تھا ٹیبل پر

'بولنے کا بہت شوق ہے' میر نے سنجیدگی سے پوچھا

'نہیں بس کبھی کبھی دل کہتا ہے بولتے رہو' وہ نظریں جھکاتی ہوئی معصومیت سے بولی ایک تو اس لڑکی کی معصومیت میر کو اپنا دل اپنے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس ہوا

'ایس ایس پی صاحب آپکی دوائیاں برابر والی ٹیبل پر رکھی ہیں کھالیے گا' کھانا کھانے کے بعد وہ برتن سمیٹتے ہوئے بولی میر اپنی دونوں کہنیاں ٹیبل پر رکھے انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے اس پر چہرا رکھے لالی کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا اسکے جانے کے بعد بھی وہیں بیٹھا رہا وہ کیچن صاف کرتی وہاں آئی تو اسے وہیں بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئی

'آج یہیں سونے کا ارادہ ہے' وہ اسکے پاس آتی ہوئی بولی تو وہ بنا کچھ بولے اسکا ہاتھ پکڑے اوپر کمرے میں لایا اور ٹیبل سے اپنی دوائیاں اٹھاکر لالی کے ہاتھ میں رکھیں تو وہ مسکرائی 

'بیٹھیں ہم کھلاتے ہیں' وہ مسکراتے ہوئے بولی یہی تو ہوتا ہے عشق میں محبوب کی آنکھیں پڑھ کر ہی محبوب کے دل کی بات جان لینا

لالی نے اسکو دوائی دی اور اپنے ہاتھوں سے پانی پلایا اسکے کپڑوں پر پڑنے والی سلوٹوں کو ہاتھوں سے ٹھیک کیا اسکی پیشانی پر بکھرے بال پیچھے کیے نیچے جھک کر اسکے پیروں کو سینڈل سے آزاد کیا یہ لالی تو نہیں تھی یہ تو کوئی دیوانی تھی اور اس خوش قسمت میر کی جسکو رابیعہ خان نے چاہا تھا 

میر نے پہلی بار کسی عورت کو دیکھا تھا ایک مرد کے لاڈ اٹھاتے ہوئے زن مریدی کے بارے میں بہت سنا تھا اس نے لیکن یہ کیا تھا افف کون ہے وہ آخر کب ملے گا اس سوال کا جواب

💜💜

روشنی بیگم پارک آئیں تھیں چہل قدمی کرنے ڈاکٹر نے انہیں زیادہ سے زیادہ چہل قدمی کا کہا تھا اسلئے وہ اکثر اپنے گھر کے لان میں چہل قدمی کرتی تھیں لیکن آج وہ پارک آئیں تھیں اپنے ہی دھیان میں چل رہی تھیں کہ جب انکے پاؤں کے نیچے پتھر آیا وہ ابھی گرتیں کہ…

لالی ایسے ہی ٹہلتے ٹہلتے یہاں آگئی تھی اب اسے واپسی کا راستہ یاد نہیں آرہا تھا وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ سامنے اسکو ایک عورت دکھی جو کافی پیاری سی تھیں ان میں نہ جانے ایسی کیا کشش تھی کہ لالہ رخ کے قدم انکی طرف خود بہ خود اٹھ رہے تھے وہ بے دیہانی میں چلتی انکی طرف آئی وہ جو گرنے لگیں تو لالہ رخ کا دل رک کر دھڑکا سانس سینے میں اٹکی وہ بھاگتی ہوئی انکی طرف آئی اور انہیں گرنے سے پہلے سنبھال لیا 

روشنی بیگم گرتیں کہ انہیں کسی نے سنبھال لیا تھا اور وہ اپنا بھاری نقصان کرانے سے بچ گئیں تھیں بری طریقے سے ڈری تھیں وہ اپنی اولاد کو کھونے کے ڈر سے مارے تشکر کے آنکھیں بھیک گئیں نظریں اٹھاکر اس فرشتے کو دیکھا تو وہ کوئی معصوم حسن رکھنے والی لڑکی تھی

'آپ ٹھیک ہیں' لالی کی آواز میں کپکپاہٹ تھی لیکن کیوں 

'تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم نے مجھے گرنے سے بچا لیا' وہ اسکے ہاتھ چوم کر بولیں اولاد کی محبت ایسی ہی ہوتی ہے لالی نے بجائے کچھ کہنے کی انہیں ایک بینچ پر بٹھایا اور خود بھی انکے ساتھ بیٹھی

'آپ رو کیوں رہی ہیں کچھ نہیں ہوا دیکھیں اللّٰہ نے آپکو بچا لیا' لالی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے

'میں پریگننٹ ہوں' روشنی بیگم نے لالی کو دیکھ کر کہا تھا پتا نہیں کیوں یہ تو وہ بھی نہیں جانتی تھیں یا صرف وہی جانتی ہیں

لالی انکی بات سن کر اپنی جگہ سے اچھلی ابھی اگر وہ انہیں نہیں بچاتی تو کیا ہوتا بے ساختہ اس نے خدا کا شکر کیا تھا

'اوہ تو آپ کو کسی کو ساتھ لانا چاہیے تھا اکیلے باہر آنا آپکے لئے ٹھیک نہیں ہے ابھی اگر ہم نہیں پھونچتے تو کیا ہوتا' لالی منہ بنا کر بولی تو روشنی بیگم مسکرائیں

'اسابیل نے بھی یہی کہا تھا لیکن میں نے منع کردیا اب اگر انہیں پتا چلا تو بہت ڈانٹیں گے' روشنی بیگم نے مسکرا کر بات مکمل کی لالہ اسابیل کے نام پر چونکی

'اسابیل…؟' لالی نے سوالیہ انداز میں کہا 

'he is my husband'

وہ آرام سے بولیں

'اوہ ہمارے بابا کا نام بھی اسابیل تھا' لالی کے لہجے میں دکھ تھا

'تھا مطلب' اب وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں

'انکا اور ہماری ماں کی ایک کار ایکسیڈنٹ میں دیتھ ہوگئی تھی جب ہم مشکل سے ایک دو مہینے کہ تھے' وہ افسردہ سے لہجے میں بولی 

'Oh I am sorry'

انہوں نے افسوس کیا

'Its Ok'

لالی نے مسکرا کر کہا

'کس کے ساتھ رہتی ہو' انہوں نے مزید پوچھا

'ہم اپنے ہزبینڈ اور انکی فیملی کے ساتھ' وہ پیر سے زمین پر لائن مارتی ہوئی بولی

'ایک بات کہوں' انہوں نے پوچھا تو لالی نے اثبات میں سر ہلایا

'کل میری اپوائنٹمنٹ ہے ڈاکٹر سے تم چلو نہ میرے ساتھ' انہوں نے استفسار کیا 

'ہم ایس ایس پی صاحب سے پوچھ کر بتائیں گے اور ہمیں پتا ہے وہ منع نہیں کریں گے لیکن پھر بھی ہم ان سے پوچھ کر بتائیں گے' وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی یہی تو خوبی تھی اس میں ہر بات پر مسکرانا

'ایس ایس پی صاحب کون ہیں' روشنی بیگم اس سے اسطرح بات کررہی تھیں جیسے وہ انکی بیٹی ہو

'ارے ہاں ہم نے آپ کو ایس ایس پی صاحب کے بارے میں بتایا ہی نہیں وہی تو ہیں ہمارے ہزبینڈ ایکچلی انکا نام میر گیلانی ہے لیکن ہم انہیں ایس ایس پی صاحب ہی کہتے ہیں ہمیں اچھا لگتا ہے وہ نہ بہت اچھے ہیں پتا ہے وہ ہم سے بہت محبت کرتے ہیں اسلئے ہم ان سے عشق کرتے ہیں اور نہ وہ ہم سے لڑتے بھی ہیں اور ہم بھی پلٹ پلٹ کر جواب دیتے ہیں' وہ مسکراتے ہوئے بولتی ہی جارہی تھی اور روشنی بیگم یک ٹک اسے دیکھ رہی تھیں انکے دل نے شدت سے بیٹی ہونے کی دعا کی تھی یہ الگ بات تھی کہ خدا تو انکو لالی جیسی بیٹی سے پہلے ہی نواز چکا تھا

'گھر نہیں جانا یا پھر آج یہیں رہنا ہے' شام ہوئی تو روشنی بیگم نے لالی سے پوچھا

'ڈئیر روشنی ہم نہ گھر کا راستہ بھول گئے ہیں اور ہمارے پاس فون بھی نہیں ہے ورنہ ایس ایس پی صاحب کو کہہ دیتے' وہ منہ بناتے ہوئے اپنی پریشانی بتانے لگی تو وہ 

'اوہو کوئی بات نہیں آؤ میرے ساتھ چلو میں تمہیں گھر چھوڑدیتی ہوں' انہوں نے مصلے کا حل پیش کیا تو لالہ رخ بھی من گئی

💜💜

'امی یہ کیا ہے' دانیال کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں وہ لاؤنج میں بھاگتا ہوا داخل ہوا 

'کیا ہوگیا ہے اللہ خیر کرے' شبانہ بیگم دوپٹے سے ہاتھ صاف کرتیں اسکے پاس آئیں

'لالہ رخ کا ایک اور سچ اور یہ سچ بہت بھیانک ہے' اسکا چہرہ بلکل سفید تھا پری بھی وہیں تھیں اور سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی

'ہوا کیا ہے بھائی کچھ تو بتائیں' پری بھی آگے آئی تو دانیال نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا 

'امی کیا کؤثر آنٹی نے شادی نہیں کی تھی؟' دانیال نے سوالیہ نظروں سے شبانہ بیگم کو دیکھا تو انکا چہرہ سفید پڑا اور پری الجھی یہ کیسے ہوسکتا ہے 

'تمہیں کسی نے کچھ کہا ہے کیا' وہ نظریں چراتی ہوئی بولیں 

'امی کسی نے یہ پیپرز بھیجے ہیں جو کوثر آنٹی کو…' وہ اپنے الفاظ منہ میں ہی روک گیا اور وہ پیپرز انکی طرف بڑھائے تو انہوں نے جھٹ سے پیپر چھینے اور جیسے جیسے دیکھتی گئیں انکی آنکھیں پتھرا گئیں اور کون تھا جسکو یہ سچ معلوم تھا کہانی مزید الجھ رہی تھی پری نے پیپرز شبانہ بیگم سے چھینے اور ایک ایک ورق کو پلٹ کر دیکھا تو پیپرز ہاتھ سے چھوٹ پڑے اسکا ننھا سا دل دہل گیا تھا 

'kausar Anty was a rape victim and lali…'

وہ مزید بولتی کہ شبانہ بیگم نے اسے ایک زوردار تھپڑ مارا 

'چٹاخ' 

'خبردار جو بکواس کی ہو تو لالہ رخ کے بارے میں کوثر نے شادی کی تھی اور اسابیل سے کی تھی لالہ رخ ان دونوں کی بیٹی ہے بس یہی سچ ہے اور جو سچ ہے وہ جھوٹ ہے' وہ چیخ کر بولیں تھیں گویا سچ کو دبانے کی کوشش کی تھی لیکن سچ کب چھپتا ہے

'ہاں یہی سچ ہے میں نہیں مانتا اس سب کو' دانیال کو اپنی آواز گہرائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی 

'آئیندہ سے اس بارے میں گھر میں کوئی بات نہیں ہوگی اور نہ ہی فصیحہ کو اس بارے میں کچھ پتا چلنا چائیے' شبانہ بیگم کہتی ہوئی واپس پلٹ گئیں اور پیچھے وہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا گئے

💜💜

لالی کو روشنی بیگم نے اسکے گھر کے سامنے اترا تو وہ انہیں بائے کہتی ہوئی اندر کی جانب چلدی دروازہ کھولتے ہی کوئی چیز اسے آلگی اس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ ایک کاغذ تھا جسے پتھر پر باندھ کر مارا گیا تھا اس نے ادھر ادھر دیکھا تو کوئی نہیں دکھا پھر کاغذ اٹھا کر کھولا تو وہ خالی تھا 

لالی نے کاغذ کو مٹھی میں دبایا اور اندر بڑھ گئی

'ارے لالہ رخ کہاں رہ گئیں تھیں آج تو بہت دیر کردی تم نے آنے میں' فریہا بولتی ہوئی اسکے پاس آئی 

'ہاں یار ہم نہ غلطی سے تھوڑا آگے چلے گئے تھے تو راستہ بھول گئے پھر ہماری ایک فرینڈ بن گئی روشنی ڈارلنگ اس نے ہمیں یہاں ڈروپ کردیا اور تمہیں پتا ہے وہ نہ ممی بننے والی ہے' روشنی بیگم سے زیادہ خوش تو شاید یہ تھی 

'کیاااا رستہ بھول گئی تھی تم تو فون تو کردیتیں ابھی میر بھائی آتے تو ہم لوگوں کو ڈانٹتے' وہ اسے ڈانٹتی ہوئی بولی

'وہ ہم فون بھی گھر پر بھول گئے تھے' اس نے اپنے دانتوں کی نمائش کی

'اچھا ہوتا تمہیں کوئی اٹھا کر لیجاتا تو ہم لوگوں کو سکون مل جاتا' فریہا افسردگی سے بولی

'اوہ بیٹا زرا تھم لو کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ دی گریٹ پھڈے باز اینڈ ڈرامے باز لالہ رخ کو ہاتھ بھی لگا سکے ہاتھ ہی توڑ دینا ہے ہم نے اسکا' لالی نے کالر جھاڑے جب کہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی پرچی وہ اپنی آستین میں چھپا چکی تھی تاکہ وہ کہیں گرے نہیں 

'ارے جاؤ جاؤ پولیس والے کی بیوی ہو پولیس والی نہیں ہو' فری نے اسے سچائی بتائی حالانکہ ابھی اسے پتا چلتا نہ کہ لالی میر کو بھی اپنے گے بےبس کرچکی ہے تو وہ یہ بات کبھی نہیں کہتی

'نہ مانو ہماری بات لیکن ایک دن تم یہ بات خود کہو گی 

And that's my challenge' 

وہ مسکراتی ہوئی بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی کمرے میں آکر دروازہ لوک کیا اور کمرے میں اندھیرا کیا اپنی آستین سے وہ کاغذ نکالا موبائل کی لائٹ اون کی اور کاغذ کے پیچھے رکھی جسکی وجہ سے کاغذ ہر لکھے ہوئے الفاظ واضح ہوئے وہ چاہتی تو کاغذ کو گیلا کرکے بھی پڑھ سکتی تھی لیکن اس طرح الفاظ مٹ جانے کا خدشاہ تھا اسلئے اس نے یہ حربا آزمایا کاغذ کے وسط میں ایک تحریر درج تھی اس پین سے لکھاھا گیا تھا جو سکھا ہوا تھا 

     'Congratulations Lala Rukh for Sister to be' 

لالہ رخ نے ان الفاظوں کو ایک بار نہیں بار بار پڑھا لیکن الفاظ نہیں بدلے تھے یہ کیسے ممکن تھا کس نے لکھے تھے یہ الفاظ اور کیوں لکھے تھے اور پھر لالی کو کیوں بھیجا گیا تھا یہ اور وہ کس کی بہن بننے والی تھی

'اب یہ نیا شوشا کون چھوڑ رہا ہے کون ہے یہ فضول انسان جس کو اپنی زندگی میں سکون نہیں ہے' وہ بڑبڑاتی ہوئی اس کاغذ کو اور الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی کہ کچھ اور مل جائے لیکن اس پر اور کچھ نہیں تھا

'شاید کسی نے مزاق کیا ہوگا ہاں یہی ہوسکتا ہے' لالی کچھ پرسکون ہوگئی تھی کاغذ کو پھاڑ کر ڈسٹ بن میں ڈالا 

💜💜

'اسے بھیج تو دیا ہے لیکن کیا وہ اسے پڑھ بھی پائے گی بھی یا نہیں' رابیعہ میز پر ہاتھ رکھے انگلیوں کو پیانو کی طرح چلا رہی تھی وہ کاغذ رابی نے بھیجا تھا لالی کو کیونکہ وہ لالی کو روشنی بیگم کے ساتھ دیکھ چکی تھی اسلئے یہ کام اس نے اسابیل سے چھپ کر کیا تھا 

اسابیل نے اسے اغواہ کیا تھا بدلہ تو چکا نہ تھا اس نے اور رابیعہ خان نے لالہ رخ کو نہیں چھوڑا محض انسلٹ کرنے پر پھر تو یہ اسکا کڈنیپ ہوا تھا ادھر اسابیل کو لگا تھا کہ وہ اسے شیشے میں اتار چکا ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس بار اسکا جن سے پالا پڑا تھا دونوں ہی خطرناک تھیں انہیں شیشے میں اتارنا مطلب شیر کی پوچھاڑ میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا

💜💜

لالی میر سے بات کرنا چاہ رہی تھی لیکن میر کے سامنے آتے ہی اسکی زبان اسکا ساتھ چھوڑدیتی تھی میر جو کب سے اسکے بولنے کا انتظار کررہا تھا آخر میں خود ہی بول اٹھا

'کیا بات ہے لالہ رخ' وہ سنجیدگی سے بولا

'ایس ایس پی صاحب ہمیں نے کل کہیں باہر جانا ہے صبح' وہ آج اس سے پہلی بار اجازت لے رہی تھی کیونکہ اسے دور جانا تھا

'کہاں جانا ہے اور کس کے ساتھ' وہی سنجیدگی

'ہمیں اپنی دوست کے ساتھ جانا ہے ہوسپٹل' وہ جلدی سے بولی

'کونسی دوست اور ہوسپٹل کیوں جانا ہے' اسکے ماتھے پر بل آئے

'ہماری نیو فرینڈ بنی ہے روشنی ڈارلنگ اور اسے ہوسپٹل لے کر جانا ہے اس نے ہمیں بہت پیار سے کہا تھا' وہ اب اسکی طرف دیکھ رہی تھی جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا

'لالہ رخ کس کو دوست بنایا ہے' اب اسکا لہجہ تھوڑا سخت تھا

'ایس ایس پی صاحب ایک انسان کو دوست بنایا ہے جو لڑکی ہے اسکا نام روشنی ہے اور وہ…وہ نہیں بتائیں گے' وہ جو کہنے لگی تھی کہ وہ ممی بننے والی ہے روک گئی کیونکہ میر تو لڑکا ہے نہ اسے کیسے بتا سکتے ہیں میر جو کچھ فائلز چیک کررہا تھا اب انہیں بند کرکے پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوا

'کسی کو بھی اس طرح دوست نہیں بناتے بچی ہو تم جو تمہیں ہر بات سمجھانی پڑے گی' وہ سخت لہجے میں کہہ رہا تھا

'ایس ایس پی صاحب ہم بچی نہیں ہیں اور نہ ہی ہم روٹی کو کوکو بولتے ہیں ہم اتنے بڑے ہوگئے ہیں (ہاتھ سے اپنے بڑے ہونے کا اشارہ کیا) اور وہ نہ بڑی ہیں آنٹی ہوتی ہیں نہ وہ ہیں وہ انکی طبیعت خراب ہے اسلئے ہم ان کے ساتھ جارہے ہیں' وہ اپنی دوست کو آنٹی نہیں بولنا چاہتی تھی لیکن میر کو سمجھانا بھی ضروری تھا

'کوئی ضرورت نہیں ہے وہ خود بھی جاسکتی ہیں نہ' میر نے صاف لفظوں میں منع کیا اور اسے آنکھیں دکھائیں لیکن لالہ رخ نے سرے سے اگنور کیا

'ہمیں جانیں دے یار ہم نہ روشنی ڈارلنگ کو آپکے بارے میں اتنے پیارے پیارے لفظوں میں بتا کر آئے ہیں کہ آپ ہمیں جانیں دے گے اور اگر آپ نے ہمیں جانیں نہیں دیا نہ تو اچھا نہیں۔ ہوگا' وہ اسکو اپنی شہادت کی انگلی سے وارن کرتی ہوئی اب دھمکیوں پر اتری تھی میر نے اسکی انگلی پکڑلی 

'دھمکی دے رہی ہو' وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا 

'ہماری کیا مجال کہ آپ جیسے پولیس والے کو دھمکی دیں لیکن پلزز مان جائیں نہیں تو ہم بی جان کو شکایت کردیں گے اور اگر ہم ڈرامے بازیوں پر اترے نہ تو بی جان نے آپ کو بہت ڈانٹنا ہے' وہ ڈرا رہی تھی اسے اور اسکے اس انداز پر میر نے اپنی ہنسی دبائی اور اسکے ماتھے پر آئے بالوں کو اپنی انگلیوں سے کان کے پیچھے کیا بس اتنی سی ہی اسکی قربت میں اسکی سانسیں رک جاتی تھیں ابھی بھی کچھ یہی ہوا تھا

'ہ۔ہ۔ہم کہہ رہے تت۔تھگ ک۔ہ۔کہ' وہ بھول چکی تھی بلکل ہی اسے یاد ہی نہیں آرہا تھا 

'کیا کہہ رہی تھیں' میر اور قریب ہوا تو وہ بھاگتے ہوئے صوفے پر جا کھڑی ہوئی میر پھر اسکی طرف گھوما لیکن لالی نے صوفے پر پڑے کشن اٹھاکر اسے مارنا شروع کردیے تھے 

'لالہ رخ کیا کررہی ہو اترو وہاں سے' میر نے کشنز سے بچتے ہوئے کہا

'نہیں پہلے کہیں کہ ہاں تم جاسکتی ہو کل اسکے بعد ہی اتریں گے' وہ چیختے ہوئے بولی

'اوکے اوکے چلی جانا میں نہیں کچھ کہہ رہا' وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑتا ہوا بولا تو لالہ رخ کھلکھلا کر ہنسی

💜💜

میر جاچکا تھا اور وہ ساری ینگ پارٹی بیٹھی ناشتہ کررہی تھی لالی کو بھی تھوڑی دیر میں جانا تھا اسلئے سکون سے ناشتہ کررہی تھی کہ اچانک اسکے خرافاتی دماغ میں کچھ کوندا

'تم لوگوں کو پتا ہے کل کیا سین ہوا' وہ چیختی ہوئی بولی جبکہ رواحہ کا ہاتھ بے ساختہ دل پر گیا تھا اور باقی سب بھی ناشتہ چھوڑ کر اسے دیکھنے لگے

'اب بول بھی دو کیا ہوا تھا' عمر بےزاری سے بولا

'کل نہ ہم باہر گھوم رہے تھے ویلوں کی طرح تو ہم نے دیکھا ایک امیر انسان اتنا اکڑ اکڑ کر چل رہا تھا اور نہ غریب لوگوں پر طنز کے تیر چلا رہا تھا موٹا (اسنے منہ بنایا سب لوگ اچھنبے سے اسے دیکھ رہے تھے) پھر وہ ایک جگہ آکر رکا ہم نے دیکھا کہ اسکے بلکل برابر میں ایک کتا سو رہا تھا بس پھر ہم نے اٹھایا پتھر اور لگایا نشانہ کتے کا اور کھینچ کر مارا وہ امیر انسان کتے کے تیور دیکھ کر ہی چکرا گیا تھا نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اندھا دھند بھاگا ئ کتے نے بھی اسے تنگی کا ناچ نچایا پھر کیا غرور اور کونسی اکڑ سب ملیا میٹ ہوئی تھی جتنے لوگوں کی بھی دل آزاری کی تھی ان سب کا بدلہ لیا' وہ آخر میں قہقہ لگا کر ہنسی تو اسکا ساتھ حمدان اور سفیان نے دیا تھا باقی سب تو حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے 

'بیچارا امیر انسان پھنسا بھی تو کس کے چنگل میں پھنسا لالی کے' رواحہ بھی ہنستے ہوئے بولی 

'لالی تم آج کہیں جارہی تھی نہ' فری نے جوس پیتے ہوئے کہا

'ہاں کیوں' لالی نے اسکی طرف دیکھا

'مجھے کچھ بکس منگانی ہے لادینا پلزززز' اس نے ریکوئسٹ کی

'ہاں تم ہمیں لسٹ دے دینا ہم کے آئینگے اوکے' وہ مسکراتی ہوئی بولی

'ویسے بچ تو گیا ہوگا نہ وہ امیر انسان' سحرش نے شرارت سے کہا تو سب ایک بار پھر ہنس دیے

💜💜

لالی اور روشنی ہوسپٹل میں موجود تھے روشنی کا نمبر آیا تو وہ لوگ اندر چلے گئے اندر گائناکالوجسٹ ڈاکٹر لائبہ تھیں 

'کیسی ہیں آپ مسز عثمانی' ڈاکٹر خوشدلی سے بولی جب کہ لالہ رخ انکا روشنی کو مسز عثمانی کہنا ٹھٹھک گیا اور کل کی روشنی کی بات دماغ میں آئی اسابیل میرے شوہر کا نام ہے تو کیا وہ…نہیں نہیں ایک نام کے اور بھی لوگ ہوسکتے ہیں اس دنیا میں دماغ میں آئی فالتو سوچوں کو جھٹکا تو روشنی کی آواز سنائی دی جو شاید ڈاکٹر سے اسکا تعارف کروارہی تھی 

'She is my friend Lala Rukh' 

وہ بہت پیاری سی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں تو ڈاکٹر نے لالی سے بھی ہائے ہیلو کی ڈاکٹر انکا چیک اپ کررہیں تھیں تو لالہ رخ باہر آگئی ایک دو منٹ ہی گزرے ہونگے کہ اسکے فون پر کسی کی کال آئی اننون نمبر تھا لیکن پھر بھی دل نے سگنل بھیج دیا تھا میر کے نام کا اس نے مسکراتے ہوئے فون اٹھایا 

'ہیلو کون' لالہ رخ انجان بنی لیکن مسکراہٹ چہرے پر ہنوز قائم تھی

'مسکراہٹ سے لگ رہا ہے کہ پہچان گئی ہو' میر چئیر کی بیک سے ٹیک لگاتا ہوا بولا ہاتھ میں ایک چھوٹے سائز کا چاکو تھا جو گول گھوم رہا تھا

'شرم نہیں آتی ایک شادی شدہ لڑکی کو اس طرح کال کرتے ہوئے ایس ایس پی صاحب کو بتایا نہ تو اندر کردیں گے' وہ اکڑ کر بولی تو میر کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے 

'میں کسی ایس ایس پی سے نہیں ڈرتا' وہ بے خوف لہجے میں بولا تو لالی کی مسکراہٹ گہری ہوئی

'ان سے تو ہم بھی نہیں ڈرتے ہاہاہا' وہ ہنستی ہوئی بولی آتے جاتے لوگوں نے رک کر اسے دیکھا اسکی مسکراہٹ کافی پیاری تھی دور بیٹھے میر کی آنکھوں میں بھی مسکراتی ہوئی لالی کا عکس لہرایا ہاتھ میں گھومتا ہوا چاکو بھی رکا لیکن پھر سے گھمنا شروع ہوا

'سوچ کر بولو لالہ رخ ورنہ واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے' وہ روعب دار آواز میں بولتا لالی کی دھڑکنیں روک دیتا تھا

'تم ہم سے فلرٹ کررہے ہو' وہ اتراتی ہوئی بولی

'نہیں اپنی بیوی سے کررہا ہوں' اسکا بیوی کہنا لالی کے عشق کو اور بڑھا گیا تھا 

'اچھا خیر فون کیوں کیا تھا' وہ بہت ہی خوبصورتی سے بات بدل گئی تھی 

'گھر پھنچ گئیں' اسکے لہجے میں فکر تھی 

'نہیں ابھی تو آئیں ہیں اور ہم تو ابھی گھر نہیں جائیں گے ہمیں ابھی بک اسٹور جانا ہے اسکے بعد لنچ کرنا ہے پھر جائیں گے' وہ ج کی پوری پلینینگ میر کو بتا رہی تھی 

'کوئی ضرورت نہیں ہے کل بھی راستہ بھول گئیں تھیں نہ گھر جانا ہے سمجھیں' میر نے سنجیدگی سے کہا تو لالہ رخ گڑبڑا گئ اسے کیسے پتا کل کہ بارے میں

'اچھا بکس کے کر چکیں جائیں گے گھر' وہ منہ بناتی ہوئی بولی

'ہم یہی ٹھیک ہے آہ…' میر بات کرتے ہوئے چاکو کو فراموش کرچکا تھا اسلئے اسکے ہاتھ پر لگ گیا تھا جہاں سے اب خون کی لکیر نمایا ہورہی تھی

'کک…کیا ہوا ہے' لالہ رخ کی زبان لڑکھڑائی

'کچھ نہیں ہوا بس ہلکا سا کٹ لگا ہے…' وہ بول ہی رہا تھا کہ لالی نے فون کاٹ دیا چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی تھیں بھاگ کر ڈاکٹر کے کیبن میں آئی 

'روشنی ہم جارہے ہیں ایک ایمرجینسی ہوگئی ہے آپ اکیلے چلی جائیں گی نہ' وہ جلدی جلدی بول رہی تھی چہرہ بلکل سفید ہوگیا تھا

'ہاں میں چلی جاؤں گی لیکن تم کیسے جاؤ گی کیونکہ تم تو میرے ساتھ آئی تھی نہ' وہ فکرمندی سے بولی 

'کوئی بات نہیں ہم بلے جائیں گے ہمیں عادت ہے' وہ کہتی ہوئی عجلت میں نکلی لیکن باہر آکر اسے یاد آیا کہ اسے صرف پولیس اسٹیشن کا نام یاد ہے اس نے رکشہ روکا اور صرف نام بتایا پولیس اسٹیشن کا تو وہ سمجھ گیا تھا اور لالی کو اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بنا کوئی وقت ضائع کیے بیٹھ چکی تھی

💜💜

ہوسپٹل میں کھڑی رابیعہ خان نے لالی کی ہر بات سنی تھی اسکی آنکھیں ضبط کی وجہ سے لال ہوگئی تھیں ایک عجیب حسد سا تھا اسکی آنکھوں میں جس شخص کو پانے کیلئے وہ اتنا گر گئی تھی کہ اسکے دوست کو مار دیا تھا ورنہ طارق صاحب کے قاتل کو مارنا تو محض بہانہ تھا اصل وجہ تو میر کو حاصل کرنا تھا 

کیا سوچا تھا رابیعہ نے کہ لالی کو منہ کے بل گرائے گی اور کیا ہوا تھا اسکے ساتھ جسکو گرانے چلی تھی آج اسی نے اسے زمین کی دھول چٹائی تھی انجانے میں ہی صحیح مگر لالہ رخ ایک بار پھر رابیعہ کو زمین پر لانے میں کامیاب ہوئی تھی اور اس بار تو بڑا کاری وار کیا تھا لالی نے 

آخر ایسا تھا کیا لالہ رخ میں کہ پہلے جنید علی اور اب میر اس کے آگے بچھے گھوم رہے تھے کیا ہے اسکے پاس ایسا خوبصورتی وہ تو رابیعہ خان کے پاس اس سے زیادہ تھی اور رہی بات دولت کی تو لالہ رخ سے کم دولت تو اسکے پاس بھی نہیں تھی پھر کیا ہے وہ کون ہے وہ 

رابیعہ خان کا دماغ صرف دولت اور حسن کے آگے پیچھے گھومتا تھا لیکن اب یہاں اسکے جنون کی باری آئی تھی اسکے عشق کی اسکے جنونِ عشق کی باری تو آگ تو اب لگنی ہی تھی دلوں میں یا پھر گھروں میں لیکن میر کو تو اب رابیعہ کو ہونا ہی تھا وہ ایسے ہی منصوبے بناتی ہوئی جلے دل کے ساتھ ہوسپٹل سے نکلی 

💜💜

'ایس ایس پی صاحب کا آفس کہاں ہے' لالہ رخ ہڑبڑاتی ہوئی اندر داخل ہوئی اور پاس سے گزرتی ہوئی لیڈی کونسٹیبل کا بازو پکڑ کر اپنی طرف متواجہ کرایا

'اوہ بی بی تھم کے پولیس اسٹیشن ہے تمہارے باپ کا گھر نہیں' وہ بدتمیزی سے بولی تو لالی نے اسکا بازو چھوڑ دیا

'اا…اوکے سس۔سوری ایس ایس پی کا آفس کہاں ہے؟' اسنے معزرت کی اور اب دھیمے لہجے میں بولی

'کیا کام ہے کیوں ملنا ہے صاحب سے جو بھی شکایت ہے انسپیکٹر سے کرو' اس نے غصّے سے بولتے ہوئے انسپیکٹر کی طرف اشارہ کیا

'دیکھو بس ہمیں انکا آفس بتادو ورنہ ہم خود ڈھونڈلیں گے شکریہ آپکا' وہ کہتے ہوئے آگے بڑھی تو اسی کونسٹیبل نے اسکا بازو پکڑلیا 

'اوہ بی بی ہو کون تم جو سر سے ملنے کیلئے مچلے ہی جاری ہو' وہ ایک بار پھر بدتمیزی سے بولی اس نے لالی کو کسی غریب گھرانے کا سمجھ لیا تھا وجہ اسکا اسکارف اور سادہ کپڑے تھے لالی جو کب سے خود پر کنٹرول کرکے تمیز سے بات کررہی تھی اب اسکا کنٹرول ختم ہوا تھا

'کہا نہ ہمیں ایس ایس پی کا آفس بتاؤ یا تو ہمیں جانے دو' وہ دھاڑی تھی اسکی دھاڑ ایسی تھی کہ تھوڑی دیر پہلے پولیس اسٹیشن جو مچھلی بازار کا منظر پیش کررہا تھا اب بلکل سکوت خاموشی چھا گئی تھی وہاں کانسٹیبل نے اسکا بازو چھوڑا 

'کیا ہورہا ہے یہاں' یہ میر تھا جو کسی کے دھاڑنے کی آواز سنتا ہوا باہر آیا تھا لیکن لالی کو کھڑا دیکھ کر چونک گیا تھا

لالی کا غصّہ میر کو دیکھ کر جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا اب وہاں صرف فکرمندی تھی

'سر یہ لڑکی جب سے آئی ہے بدتمیزی کررہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ آپ سے ملنا ہے' وہی کونسٹیبل آگے آئی اور لالی کی میر سے شکایت کرنے لگی

'جھوٹ بولنے پر کوّے کاٹیں گے تمہیں بدتمیز' لالی اسے خونخوار نظروں سے گھورتی ہوئی بولی تو وہ آنکھیں گھما گئی

'مس اجالا (کونسٹیبل) یہ میری وائف ہیں تو آئندہ انہیں روکیے گا مت' میر سنجیدگی سے بولتا ہوا اجالا کے سر پر دھماکا کرگیا وہ کیا سب آنکھیں پھاڑے لالی کو دیکھنے لگی یہ چھوٹی سی لڑکی انکے سر کی بیوی تھی وہ شرمندہ ہوگئی جبکہ لالی کی گردن میں شاید راڈ آگئی تھی 'لالہ رخ آؤ میرے ساتھ' وہ کہتا ہوا گے بڑھا تو لالی اسکے پیچھے چلنے لگی

میر اپنے آفس میں آیا اور سنجیدگی سے ٹیبل پر بیٹھ گیا اور اپنا دایاں ہاتھ اسکی طرف بڑھا دیا وہ لالی کو یہاں دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا کہ وہ کیوں آئی ہے دل میں ایک احساس سا ہوا تھا تبھی ہاتھ کے زخم پر کچھ نہیں لگایا تھا

لالی نے میر کا ہاتھ تھاما اور بے چین نظریں میر کے چہرے کی طرف کیں تو اس نے اپنے پیچھے پڑا ہوا فرسٹ ایڈ باکس اسکے سامنے کیا لالی نے اس میں سے پہلے کچھ دوائیاں اٹھائیں اور میر کے ہاتھ پر سے رسنے والا خون صاف کیا ہاتھ کی پٹی کرتے وقت آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تو ایک قطرہ میر کے ہاتھ پر آگرا میر نے سر اٹھاکر لالی کو دیکھا تھا خود کی عشق بنتی محبت پر رشک آیا تھا کہ اس کے دل نے کس لڑکی سے محبت کی تھی

وہ تو پہلے ہی اس لڑکی کے عشق میں خود کو دبا ہوا محسوس کرتا تھا کب کس نے سنا تھا کہ کسی لڑکی نے اپنے محبوب کے لاڈ اٹھائے تھے لالی سے کوئی یہ کہہ دے نہ کہ میر کیلئے جان دینی ہے وہ بغیر سوچے سمجھے اپنی جان دے دے گی 

'درد تو نہیں ہورہا نہ' وہ فکرمندی سے بولی تو میر نے نفی میں سر ہلایا اور پھر ٹیبل سے اتر کر اپنی چئیر پر جا بیٹھا

'کیسے آئی ہو یہاں ہوسپٹل تو دور ہے یہاں سے' میر سنجیدہ تھا اور کچھ سنجیدگی اس پر سوٹ بھی کرتی تھی لالی اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھ گئی اور پاؤں جھلانے لگی

'پہلے ہاتھ ہلایا (ہلا کر بھی دکھایا) پھر رکشہ روکا اور پھر پولیس اسٹیشن کا نام بتایا بس پھر آگئے ہم' لالی کندھے اچکائے ہوئے بولی تو میر کرسی کی بیک سے ٹیک لگا کر پر سکون ہوا وہ لڑکی اپنی حفاظت کرنا جانتی تھی 

'اب' وہ خاموشی کو توڑتے ہوئے بولا

'اب ہم جارہے ہیں ہمیں کچھ بکس لینی ہے' وہ اپنا چھوٹا سا پرس بیک کرتی ہوئی بولی 

'واپس کیسے جاؤگی' میر کی ڈیوٹی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی ورنہ وہ خود چھوڑدیتا اسے

'رکشے سے' وہ مصروف سی بولی اور پھر ایک لسٹ نکالی بکس کے ساتھ انکے ریٹس بھی لکھے تھے لالی نے پیسے چیک کیے تو تقریباً اتنے ہی تھے جتنے ٹوٹل پرائس تھے بکس کے مطلب اسے پیدل جانا پڑے گا اففف 'اپنے ہاتھ کا خیال رکھیے گا اور کسی کو ماریے گا نہیں کسی اور سے پٹوا لیے گا اور اب ہم جارہے ہیں ورنہ گھر پہنچتے پہنچتے دیر ہو جائے گی' ایک تو اسے راستہ نہیں پتا تھا اوپر سے دوپہر ہورہی شام بھی ہونے والی تھی اسلئے میر کو خدا حافظ کہتے اپنے موبائل میں گوگل کی ہیلپ سے نکل پڑی تھی

💜💜

اسابیل عثمانی اپنے آنے والے بےبی اور اپنی بیوی کیلئے کچھ شوپنگ کرنے آیا تھا یہ بات تو طے تھی کہ وہ ان دونوں سے بےحد محبّت کرتا تھا اور لالہ رخ سے شاید اتنی ہی نفرت 

وہ بک اسٹور پر کھڑا کچھ ضروری بکس لےرہا تھا جو روشنی نے منگائیں تھیں وہ بکس کے رہا تھا کچھ جب اپنی جیب میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بچہ اسکی جیب سے اسکا پرس نکالنے کی کوشش کررہا تھا مطلب وہ چوری کررہا تھا اسابیل کا پارہ ہائی ہوا اور ایک ہاتھ گھما کر اس لڑکے کو مارنا چاہا لیکن کسی نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا

____________________

لالی بک اسٹور تک پہنچ گئی تھی اور بکس دیکھ رہی تھی تبھی اسکی نظر ایک بچے پر پڑی جو کسی کی جیب سے شاید پیسے نکالنے کی کوشش کررہا تھا پھر وہ شخص پیچھے مڑا اور اس لڑکے کو تھپڑ مارنا چاہا لیکن لالی نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

اسابیل کا حلیہ بدل گیا تھا جو تصویر لالہ رخ کے پاس تھی وہ بیس سال پہلے کی تھی اب چہرے پر داڑھی تھی آنکھوں پر نظر کا چشمہ تھا بڑی بڑی مونچھوں تلے دبے عنابی ہونٹ وہ پہلے والا اسابیل نہیں تھا اسلئے لالی اسے پہچان نہیں سکی تھی 

'چھوڑو میرا ہاتھ کیا بدتمیزی ہے یہ' وہ چینگھاڑتا ہوا پیچھے ہوا لیکن لالی کو دیکھ کر اسکی آنکھیں تحیر سے پھیلیں لالی نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑا

'بدتمیزی تو آپ کررہے ہیں اتنے چھوٹے سے بچے پر ہاتھ اٹھا کر' لالی غرراتی ہوئی بولی اسابیل تو دم سادھے اسے دیکھتا رہ گیا اس میں اسے اپنی جھلک دکھی تھی

'یہ چوری کررہا تھا میرا پرس' اسابیل نے اپنا پرس لالی کے سامنے لہرایا تو لالی نے اس بچے کو دیکھا جو پکڑے جانے کے ڈر سے لالی کے پیچھے چھپا کھڑا تھا

'پرس چوری کررہا تھا نہ آپکی جان تو نہیں لے رہا تھا جو آپ اتنا اوور رئیکٹ کررہے ہیں انکل' وہ اپنے باپ کو انکل کہہ رہی تھی کیسے رشتے تھے لالی کے پاس 

'چوری وہ کررہا ہے تو تم مجھے کیوں باتیں سنا رہی ہو اسے سناؤ جو مظلوم بنا تمہارے پیچھے کھڑا ہے' اسابیل کو کہاں برداشت تھی اپنی تزلیل 

'آپکو پتا ہے یہ لوگ چور بھی آپ لوگوں کی وجہ سے بنتے ہیں کیوں کہ آپ ہی وہ لوگ ہیں جو ان جیسے لوگوں کے حق کھاتے ہیں قبر میں ٹانگیں لٹک رہی ہیں لیکن حرکتیں ہیں کہ ختم نہیں ہورہیں' وہ بڑے پیار سے پوری کی پوری کہانی پلٹ گئی تھی اور اسابیل کو پتا بھی نہیں چلا تھا

'کونسے حق اور کہاں کہ حق سیاستدان نہیں ہوں میں اور میں ابھی اتنا بوڑھا نہیں ہوا جو مرنے والا ہوں' وہ لفظ چبا چبا کر بولے تو لالی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی لیکن ہونٹوں کے کونے پر اپنی مسکراہٹ روک گئی تھی

'کیوں آپ لوگ جو اپنی عیاشیاں کرتے ہیں نہ بڑے بڑے محلوں میں رہ کر اے سی کی ٹھنڈی ہوائیں کھا کر بڑی بڑی گاڑیوں میں گھوم کر کبھی یہ سوچا ہے کہ یہ سب بھی انہی سب کی بدولت سے ہے ورنہ بنا لیتے آپ اپنا بڑا سا مکان بنالیتے اس میں لگنے والی اینٹیں بنالیتے ان گاڑیوں کے انجن جن کے بغیر آپ لوگ سفر نہیں کرتے' وہ گن گن کر بولی تھی اسابیل تو ہقہ بقہ لالی کو دیکھ رہا تھا کونسی دور کی کوڑی لائی تھی وہ ایک لمبی سانس خارج کرنے کے بعد وہ بک اسٹور سے باہر نکل گیا جبکہ لالی تاسف سے سر جھٹک گئی پھر اس بچے کو دیکھا 

'پتا ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے تھے اسلئے جلدی سے سچ سچ بتاؤ چوری کیوں کی تھی ورنہ ہاتھ کٹوا دیں گے' لالی نے اسے ڈرایا اور وہ ڈر بھی گیا تھا

'میں نے کچھ نہیں کھایا تھا پیسے نہیں تھے اسلئے چوری کی' وہ بچہ ندامت سے آنکھیں جھکا گیا لالی کو اس پر ترس آیا تھا وہ اسے وہیں کھڑے رہنے کا کہہ کر لائیبریری میں گئی ایک بک کے علاؤہ ساری بکس خریدیں جو پیسے بچ گئے تھے ان پیسوں سے اس بچے کو کھانا کھلایا اور باقی کے پیسے اسے دے دیے 

'اور یہ چھکا' لالی نے ایک زبردست شاٹ مارا تھا کہ لالی کی ٹیم ہم آواز ہوکر چیخی 

لالی گھر واپس پیدل ہی آرہی تھی اپنے گھر کے پاس پہنچی تو بچے کرکٹ کھیل رہے تھے بس پھر کیا تھا پہنچ گئی لالی شاہد آفریدی بننے 

'سنو ٹڈے اب تم آؤ بولنگ کرنے' لالی نے ایک چھوٹے سے لڑکے کو کہا

'لیکن میں تو فیلڈنگ کررہا ہوں' اسنے کیپ صحیح کرتے ہوئے کہا

'کچھ نہیں ہوتا آجاؤ آج نہ ہم جم کر کھیلیں گے' لالی جوش سے بولی 

پھر کھیل سٹارٹ ہوا لالی بیڈ پکڑے وکٹ کے سامنے کھڑی تھی اسکے پیچھے ایک اور لڑکا کھڑا تھا اس چھوٹے لڑکے نے بھاگتے ہوئے بول کرائی لالی نے بیڈ گھمایا اور بول اسکے بیڈ کو چھوتی ہوئی گزری لالی رن بنانے کے لیے بھاگی ادھر دو لڑکے بول کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور ادھر لالی کو رن بنانے تھے سامنے سے دوسرا لڑکا اب لالی کی جگہ پر آگیا تھا اور لالی اسکی جگہ پر اور وہ دو لڑکے بھی بول اٹھا کر واپس پھینک چکے تھے 

اب لالی واپس اپنی جگہ پر تھی اور پھر بول کرائی گئی لالی نے اس بار بھی چھکا مارا تھا لیکن بول کسی کے گھر میں چلی گئی تھی اور گلاس ونڈو توڑ گئی تھی

'اوہ شٹ' سارے لڑکے سر پر ہاتھ رکھ کر کھڑے لالی کو دیکھ رہے تھے جو ناخن منہ میں ڈالے حیران و پریشاں سی کھڑی تھی

'آپ نے چھکا مارا ہے اب آپ ہی لے کر آئیں گی ہماری بول' ان میں سے ایک لڑکا لالی کو کھسکتے ہوئے دیکھ کر بولا

'چھکا ہم نے مارا لیکن بول تو تمہاری ہے نہ اب تم جانو اور تمہاری بول اللّٰہ حافظ' ابھی وہ جاتی کہ اس گھر سے ایک انکل باہر نکلے جو غصے سے سب کو گھور رہے تھے

'کس نے کیا ہے یہ' وہ غصے سے دھاڑے تھے تو سب لڑکوں نے لالی کی طرف اشارہ کیا لالی اپنی جگہ چور سی کھڑی تھی وہ اسے حیران سے دیکھنے لگے

'Are you Mentally unstable?' 

انہوں نے لالی کو دیکھ کر پوچھا

'ہاں تھوڑی سی' لالی کو منہ سے بے ساختہ نکلا تو لڑکوں نے قہقہ لگایا

'شٹ آپ تم لوگوں کی شکایت تو میں تم لوگوں کے پیرنٹس سے کروں گا اور تم تمہارے پیرنٹس کہاں ہے' انہوں نے سب لڑکوں کو کہنے کے بعد لالی سے پوچھا

'جی وہ تو نہیں ہیں' لالی نے معصومیت سے کہا

'تو کس کے ساتھ رہتی ہو' انکا لہجہ تھوڑا دھیما ہوا تھا 

'ہم اپنے شوہر کے ساتھ رہتے ہیں' وہ شرماتی ہوئی بولی تو انہیں ایک اور جھٹکا لگا وہ اسے چھوٹی بچی سمجھ رہے تھے

'تو آپکے شوہر کون ہیں' انہوں نے اب پیار سے پوچھا تھا لڑکی سرپھری تھی 

'ایس ایس پی ہیں' لالی معصوم بہت تھی

'واٹ تم میر گیلانی کی بیوی ہو' وہاں صرف ایک ہی ایس ایس پی میر گیلانی تھا اسلئے پہچان گئے تھے 

یہاں انہیں ایک اور شاک لگا تھا یہ لڑکی اس بے رحم انسان کی بیوی تھی انکو اس لڑکی ہر ترس آیا تھا اگر انہیں زرا بھی معلوم ہوتا کہ یہ لڑکی معصومیت کا ڈھونگ رچا رہی ہے تو وہ کبھی اس پر ترس نہ کھاتے 

'انکل وہ ہماری بول دے دیں' وہی معصومیت سب لڑکوں کے کان کھڑے ہوئے

'میرا نقصان کون بھرے گا' وہ سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے بولے

'ایس ایس پی صاحب سے کہہ دیں گے وہ بھر دیں گے اب آپ ہماری بول دے دیں' وہ جلدی سے بولی تو انہوں نے بول اسکے حوالے کی اور خود اندر چلے گئے 

'یہ لو بھئی تمہاری بول اب خوش' 

لالی انہیں بول دیتی ہوئی خود آگے بڑھی کہ اچانک کسی سے ٹکرا گئی کندھے سے جھولتا ہوا پرس زمین بوس ہوا تھا لیکن لالی کی نظر صرف اس لڑکی کی آنکھوں پر تھی گرے چمکتی ہوئی آنکھیں چہرے پر رومال بندھا تھا وہ لڑکی جھکی اور لالی کا پرس اٹھاکر اسکے ہاتھ میں تھمایا اور آگے بڑھنے لگی لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا 

'رابیعہ خان' لالی سنجیدہ ہوئی تو رابیعہ نے چہرے سے نقاب ہٹایا

'چہرہ شناس کب سے ہوگئیں' رابیعہ نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا

'جب سے تم جیسے لوگوں سے پالا پڑا ہے' لالی کی نظریں صرف اسکی آنکھوں پر تھیں اور رابی کی نظریں اسکے دائیں ہاتھ پر جہاں اسکے مارے ہوئے چاکو کا نشان اب بھی موجود تھا جب کہ اسکے تھوڑا اوپر جلنے کا نشان بھی تھا 

'اس کیلئے سوری اور مجھے تمہارے گھر کے بارے میں بھی پتا چلا تھا افسوس ہوا کافی (جبکہ چہرے پر اطمینان تھا) لیکن میں کیا کرتی تمہیں راستہ سے ہٹانے کے لیے کچھ تو کرنا ہی تھا' اسکا لہجہ بے تاثر تھا رابیعہ نے لالی کو چلنے کا اشارہ کیا تو وہ اسکے ہمراہ ہوئی دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں

'یہاں کیوں آئی ہو رابیعہ' لالی اپنی آستین نیچے کی جو کرکٹ کھیلتے ہوئے اس نے اوپر چڑھائی تھی 

'کچھ بزنس کے سلسلے میں اور کچھ اپنی منزل حاصل کرنی تھی' وہ زمین کو دیکھتے ہوئے چل رہی تھی اسکی آنکھوں میں کوئی بھی احساس نہیں تھا 

'اور تمہاری منزل کیا ہے' لالی بے ساختہ پوچھ بیٹھی تھی رابیعہ کی نظروں نے گیلانی ہاؤس کو دیکھا تھا لالی نے اسکی نظروں کی تعاقب میں دیکھا تو چونکی

'میری منزل مجھ سے بہت قریب ہے کیونکہ میں چھیننا جانتی ہوں' وہ عجیب سے لہجے میں بولتی ہوئی آگے بڑھ گئی جبکہ پیچھے کھڑی لالی اسکے لہجے پر غور کیے بغیر نہ رہ سکی

💜💜

تو بول پیا

 میں سنتی ہوں

   تو دل کو توڑ کے ریزہ کر

      میں پھر پلکوں سے چنتی ہوں 💔

روشنی بیگم ہاتھ میں پکڑیں رپورٹس بےیقینی سے دیکھ رہی تھیں جو ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر سے ملیں تھیں 

'کیسی بدنصیب ماں ٹھرونگی میں جو اپنے بچے کو جنم دینے کے بعد اسے سینے سے نہیں لگا سکے گی' وہ رو رہی تھیں 

'اسابیل میں اگر خالی ہاتھ رہوں گی تو مجھے پورا یقین ہے وہ رب تمہیں بھی کوئی خوشی حاصل نہیں ہونے دے گا یہ تمہارے گناہوں کا سایہ ہے جو آج تمہاری فیملی پر پڑرہا ہے جس لڑکی کی زندگی کے پیچھے تم پڑے ہو میں اس لڑکی کو تمہارے جینے کی وجہ دونگی پھر دیکھتی ہوں کیسے جیتے ہو تم' روشنی بیگم کا دل تھا کہ بھر آیا تھا کتنی خوبصورت خبر ملی تھی جب انہیں کہ وہ ماں کے درجے پر فائز ہونے والی ہیں وہ سیدھا اسابیل کے فارم ہاؤس آئیں تھیں اسے یہ نیوز دینے تب انہوں نے اسابیل اور رابیعہ کی باتیں سن لی تھیں لیکن وہ اس لڑکی کو نہیں جانتی تھیں کہ کون ہے وہ لڑکی بس نام جانتی تھیں اسکا کوئی لالہ رخ ہے 

روشنی بیگم اٹھیں اور اپنی الماری سے وہ سفید کفن نکالا دو سال پہلے ہی انہیں پتا چل گیا تھا کہ انہیں بلڈ کینسر ہے انہوں نے یہ بات اسابیل کو نہیں بتائی تھی اپنا علاج کروا رہی تھیں وہ لیکن آج جو رپورٹس ملیں تھیں تو انہیں لگا سب ختم ہوگیا ہو رپورٹس کے مطابق ان کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا یہ بہت زیادہ پوسیبل تھا کہ وہ ڈلیوری کے وقت انکی جان جاسکتی ہے لیکن یہاں جان کی پرواہ تھی بھی کسے وہ تو بس اپنی اولاد کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتی تھیں لیکن شاید قدرت کو یہ منظور نہیں تھا 

انہوں نے اس کفن میں سے ایک لمبی چوڑی سی پٹی پھاڑ لی تھی وہ کچھ بہت دور کا سوچ رہیں تھیں صرف ایک عورت تھی جسکو وہ لالہ رخ کے حوالے سے جانتی تھیں اسابیل نے نام لیا تھا انکا اپنی باتوں میں وہ ایک وکیل تھی آئمہ اکرم یہ وہیں تھیں جنہوں نے شاہ ہاؤس لالی کی ذات کی سچائی کا پروانہ بھیجا تھا یہ وہ وکیل تھیں جو کوثر نواب سے جڑی تھی کونسی ایسی سچائی نہیں تھی جو انہیں نہیں پتا تھی یہ اپنی دوست سے کیا وعدہ نبھانے چلی تھیں جو کوثر نے آئمہ سے کیا تھا کہ لالی کو سچ بتانا لیکن تب جب اسابیل عثمانی میدان میں اتر جائے اسابیل سامنے آیا تھا تو وہ بھی پیچھے نہیں ہٹیں تھیں بس زرا چھپ گئیں تھیں اب وقت تھا ان سے رابطے کا حقیقتوں کو سامنے لانے کا جنگ شروع کرنا کا وہ جنگ جو ایک باپ بیٹی میں ہونے والی تھی 

روشنی بیگم نے وہ کفن کا ٹکڑا ہاتھ میں دبوچا اور کفن کو واپس رکھ کر الماری بند کی اور اس ٹکڑے کو قرآن شریف کے زلدان میں رکھ دیا تھا اور اسے چوم کر بند کیا

💜💜

'کیسا لگا اپنے باپ سے مل کر' 

آج ایک اور پیپر ملا تھا لالی کو اسکے پرس سے اور اسکے وسط میں یہ ایک لائن لکھی تھی 

لالی جھنجھلا گئی تھی کونسا باپ اسکا باپ تو مرچکا ہے تو پھر یہ بہن بننے کی مبارک باد اور باپ کا کیا کنیکشن ہے افف کوئی تو ہے جو اسے کوئی اشارہ دے رہا ہے لیکن کون…

تبھی اچانک زہن میں جھماکا ہوا کچھ دیر پہلے والی اپنی اور رابیعہ کی ملاقات یاد آئی اسکا پرس گرا تھا اور اسی نے اٹھا کر دیا تھا مطلب یہ وہی کررہی ہے لیکن وہ ایسا کر کیوں رہی ہے وہ اتنی پاگل نہیں ہے جو اسکے پیچھے اپنا وقت برباد کرے گی اور پھر وہ گیلانی ہاؤس کو اتنا گھور کیوں رہی تھی

وہ ان سب باتوں سے جھنجھلاتی ہوئی اٹھی (ہونہہ…نری بکواس) اپنا موبائل اٹھایا اور صوفے پر آڑھی ترچھی ہوکر بیٹھی کم لیٹی زیادہ وہ فیسبک اسکرول کررہی تھی تبھی ایک جگہ اسکا ہاتھ تو کیا دل بھی رک گیا تھا اتنے دنوں بعد اپنے گھر والوں میں سے کسی کو دیکھا تھا دانیال اور زمان صاحب ساتھ کھڑے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے لالی نے اس پر لوو رئیکٹ دیا تھا اپنا بازو سیدھا کیا اور اس پر اپنا سر رکھا ٹانگیں نیچے لٹک رہیں تھیں اور وہ خود بس دانیال کی پروفائل میں لگی فیملی پکس دیکھ رہی تھی کتنے مکمل تھے وہ لوگ اسکو پتا ہی نہیں چلا کب وہ تصویریں دیکھتی دیکھتی نیند کی وادیوں میں اتر گئی

💜💜

 دوسری طرف دانیال کو فیس بک سے نوٹیفکیشن ملا تھا اس نے چیک کیا تو وہ لالہ رخ تھی وہ بغیر پلکیں جھپکے اسکی پروفائل دیکھ رہا تھا جہاں میر کھڑا مسکرا رہا تھا اور اسکے ساتھ کولیج میں شاید لالہ رخ کی تصویر لگی تھی کیونکہ صرف مسکراہٹ دکھ رہی تھی 

  دانیال نے لالی کو میسج کیا اسے ہائے کہا حال احوال پوچھا لیکن وہ تو گہری نیند میں سو رہی تھی اسکی ڈی پی پر گرین ڈوٹ تھا جو اسے آن لائن دکھا رہا تھا تو پھر وہ اسکے میسج کیوں نہیں دیکھ رہی تھی کیا وہ اس سے ناراض تھی لیکن کیا پتا وہ سو رہی ہو دانیال نے ساری مخفی سوچوں کو جھٹک کر فصیحہ کو کال کرنے لگا

   'ہیلو' فصیحہ کی پیاری سی آواز دانیال کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ لے آئی تھی

    'کیسی ہو' گھمبیر آواز میں کہا تو فصیحہ نے دل تھاما اور تصور میں اسکا ڈمپل سوچنے لگی

     'ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں' وہ ہچکچاتے ہوئے بولی

      'ہمم ٹھیک ہوں تم گھر کیوں نہیں آرہی ہو' دانیال نے دل کی بات پوچھی

       'وہ امی نے کہا تھا کہ شادی سے پہلے بار بار سسرال جانا اچھا نہیں لگتا اسلئے' وہ بات بناتے ہوئے بولی

       'اسی لئے کہہ رہا تھا رخصتی کروالیتے ہیں لیکن تم نہیں مانیں' وہ مسکراہٹ دباتا ہوا بولا گالوں پر ڈمپل اٹکلیاں کررہا تھا یہ ڈمپل اسے خدا کی طرف سے تحفے میں ملا تھا کیونکہ شبانہ بیگم اور زمان صاحب دونوں ہی ڈمپل لیس تھے لیکن پریشے اسکے صرف دائیں طرف ڈمپل تھا

       'مجھے نہیں کروانی کوئی رخصتی' وہ منہ بسورتے ہوئے بولی جبکہ اسکی بات پر دانیال کے چہرے پر سختی در آئی تھی 

       'چپ میں چاہوں نہ تو تمہاری رخصتی ابھی اسی وقت کرواسکتا ہوں لیکن تمہیں ڈھیل دی ہوئی ہے کہ تم خود کو ریڈی کرو اس رشتے کیلئے اور میری بات کان کھول کر سن لو رخصتی کے بعد میں تمہیں زرا ڈھیل نہیں دوں گا میں نہیں چاہتا ہماری ازدواجی زندگی میں گیپ آئے' وہ فون بند کرچکا تھا کس قدر بےباک تھا وہ فصیحہ کہ گالوں پر جابجا لالی بکھری تھی

💜💜

وہ واپس آیا تو دیکھا کہ وہ محترمہ صوفے پر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہیں میر اپنی وردی میں ملبوس آستینیں اوپر چڑھاتا ہوا اسکے قریب آیا اور دو زانو ہوکر بیٹھا چہرے پر ایک عجیب سی شاطرانہ مسکراہٹ تھی شاید جیتنے کی وہ لالی کو غور سے دیکھ رہا تھا ہر وقت شیرنی کے روپ میں رہنے والی ابھی معصوم سی ہرن لگ رہی تھی کوئی گڑیا موبائل اسکے چہرے کے سامنے پڑا تھا جس پر اسکا بایاں ہاتھ تھا جبکہ دایاں بازو سر کے نیچے تھا 

میر نے اسے بازوؤں میں بھرا تو اس نے نیند میں ہی مسکرا کر اسکے گلے میں اپنے بازو ڈال دیے گویا خود سپردگی کا اعلان کیا ہو

میر نے مسکراتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا اور کمفرٹر اوڑھایا جسے وہ اپنے بازوؤں میں بھر کر کروٹ لے کر سو گئی صبح سے چل چل کر اور پھر کرکٹ کھیل کر تھک گئی تھی اسکے کرکٹ کی خبر تو میر کو بھی ہوگئی تھی آہم آہم انکل سے تو میر انہیں ایکسکیوز کرتا ہوا آگیا تھا

میر اسکے چہرے کو دیکھ رہا تھا محبت کیا عشق ہوگیا تھا لیکن پھر بھی رشتے کی شروعات نہیں ہوئی تھی دونوں کے درمیان کنٹرول لائن مطلب پلو لائن ابھی بھی بنی ہوئی تھی کبھی کبھار تو وہ بہک جاتا تھا لالی کو دیکھ کر ایسا خمار چڑھتا تھا کہ خود پر کنٹرول کرنا مشکل ہوجاتا تھا لیکن وہ کرلیتا تھا کیونکہ وہ جذباتوں میں بہتا نہیں تھا وہ میر گیلانی تھا کنٹرول کرنا جانتا تھا

💜💜

ایک ہفتہ گزر گیا تھا لالی نے رابیعہ کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ تو ایسی غائب ہوئی کہ جیسے کبھی ہو ہی نا دوسری طرف آئمہ اکرم لاہور پہنچ گئی تھیں اور روشنی بیگم سے بھی مل چکی تھیں ساری باتیں ڈسکس ہوچکی تھیں لیکن ایک بات تھی جس کے پیچھے وہ لوگ خوار ہورہے تھے کہ لالہ رخ کون ہے اور کہاں ہے آئمہ اکرم صرف اتنا جانتی تھیں کہ وہ شاہ ہاؤس میں ہے لیکن وہ تو وہاں بھی نہیں تھی انکی انفارمیشن کے مطابق لالی کی شادی ہوچکی تھی کسی پولیس والے کے ساتھ اور آج روشنی بیگم نے آئمہ اور لالی کو ریسٹورنٹ بلایا تھا آئمہ پہنچ گئی تھیں اور لالی صدا کی لیٹ

'تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے اور وہ تیسرا کون ہے' وہ وکیل تھیں تفتیش کرنا انکی عادت تھی

'تم اپنی لالہ رخ کو ڈھونڈ رہی ہو اور میں تمہیں اپنی لالہ رخ سے ملوانا چاہتی ہوں کافی زہین اور پیاری لڑکی ہے تمہاری مشکلات کا حل نکال ہی لے گی' انکے لہجے میں اکسائٹمینٹ تھی جب سے لالی ان سے ملی تھی تب سے وہ کول ہوگئیں تھیں

انہی سب باتوں میں لالہ رخ نے ریسٹورنٹ میں قدم رکھا تھا وہی مسکراتی ہوئی آنکھیں سر پر ہمیشہ کی طرح اسکارف کندھوں پر شال ڈالے پیرٹ گرین کلر کا ٹاپ اور وائٹ کلر کے ٹائیڈس پہنے وہ باوقار سی چلتی ہوئی انکی ٹیبل کی طرف بڑھ رہی تھی آئمہ اکرم کی اس کی طرف پیٹھ تھی جبکہ روشنی بیگم اسے دیکھ کر کھڑی ہوئیں تو آئمہ اکرم بھی پلٹی تھیں اور لالی کو دیکھ کر بے تحاشہ چونک گئی تھیں دماغ کے پردے پر کوثر کا عکس لہرایا تھا ایسا لگا خود کوثر چل رہی ہو لیکن وہ ڈری سہمی سی تھی اور یہ روعب و دبدبے کی مالک تھی چال میں کیسا غرور تھا اسکے ہاں یہ چال ڈھال تو اسابیل عثمانی کی تھی وہ لوگ کب سے اسے ڈھونڈ رہے تھے اور ایک یہ تھی خود چل کر آئی تھی

'لالی ان سے ملو یہ ہیں میری دوست ایک کام کے سلسلے میں یہاں آئی ہیں' وہ لالی سے ہائی فائی کرنے کے بعد آئمہ سے بولیں تو آئمہ سوچوں سے باہر آئی اور لالی کو غور سے دیکھنے لگی

لالی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا جسے سیکنڈ کے ہزاروے حصے میں تھاما گیا تھا 

'ہم لالہ رخ گیلانی ہیں شادی شدہ ہیں لیکن بچے نہیں ہیں کیونکہ ابھی ہمارے اور انکے درمیان ایسا کچھ ہوا ہی نہیں' اسکی بات پر آئمہ دل کھول کر مسکرائی تھیں جبکہ روشنی سٹپٹا گئی تھیں بہت بےباک تھی وہ دانیال کا اثر جو چڑھا تھا اس پر 'ویسے آپس کی بات ہے (وہ بیٹھتے ہوئے بولی) ہم بہت بےشرم ہیں لیکن ایس ایس پی صاحب بہت شریف ہیں ہاہاہا' وہ اپنی بات پر قہقہ لگاتے ہوئے بولی حالانکہ میر کی قربت ہر تو لالی کی جان جاتی تھی 

'تم اسی شہر کی ہو' وہ بات کو تھوڑا گھماتی ہوئی بولیں

'نہیں ہم کراچی کے ہیں' وہ سمجھی نہیں تھی جو وہ پوچھنا چاہ رہی تھیں 

'اور وہاں کس کے ساتھ رہتی تھیں مطلب تمہارے گھر میں کون کون ہے' وہ سنبھلتی ہوئی بولیں تو روشنی چونک گئیں تھیں لیکن لالی تو صرف مسکرا رہی تھی وہ مطمئن تھی

'ہمارے پیرنٹس نہیں ہیں لیکن جو ہمارے گارڈیئنس تھے وہ تقریباً پیرنٹس ہی تھے' لالی کی اس بات پر روشنی ایک بار پھر چونکیں یہ بات تو انہیں پتا ہی نہیں تھی کہ اسکی کسی نے پرورش کی ہے تو کیا لالی وہی لالہ رخ ہے… اوہ مائی گاڈ مطلب لالی انکی سوتیلی بیٹی تھی لیکن ابھی کنفرم نہیں ہوا تھا 

'اور تمہاری ماما کا نام کیا تھا مجھے واقعی بہت افسوس ہوا سن کر' یہ عقیل باتوں کو گھمانا بہت اچھے سے جانتے ہیں

'انکا نام کوثر تھا اور ڈیڈ کا نام اسابیل' وہی مسکراہٹ لیکن آنکھوں میں حسرت تھی لیکن ادھر روشنی کے چہرے پر پُر سکون مسکراہٹ تھی وہ جسے دوست کہتی تھیں جس پر بھروسہ کرتی تھیں آج وہی انکی سوتیلی بیٹی تھی مطلب بیٹی تھی اپنے کیے گئے فیصلے پر اب ہوتا بھروسہ ہوگیا تھا وہ سہی کر رہیں تھیں انہوں نے آئمہ کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے انہیں دیکھ رہی تھی مطلب ابھی لالی کو کچھ مت بتاؤ

کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد وہ دونوں جانے کی باتیں کرنے لگیں جبکہ لالی کا بھوک سے برا حال ہورہا تھا اسلئے وہ دونوں جاچکی تھیں لیکن لالی اب ہیٹ بھر کر کھانا کھا رہی تھی

آج گھر میں سب کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی ایک ہفتے بعد گیلانی ہاؤس میں مہندی کی رسم تھی ان سب کے نکاح کو سال ہوگیا تھا تو دانیال اور فصیحہ کے بھی نکاح کو سال ہوگیا تھا جہاں لالی کو اس گھر میں آئے نو مہینے ہوئے تھے وہیں روشنی کی پریگنینسی کو آٹھ مہینے ہوگئے تھے آہستہ آہستہ بہت کمزور ہوتی ہورہیں تھیں وہ لالی نے شادی پر روشنی اور آئمہ اکرم دونوں کو بلایا تھا 

علی کے پاس بھی انویٹیٹیشن پہنچ گیا تھا اور موصوف اپنی فیملی کے ساتھ آج ہی روانہ ہوئے تھے لاہور کے لئے

چونکہ گیلانی بزنس مین بھی تھے اسلئے بزنس کی دنیا کے بڑے بڑے ناموں کو بھی بلایا گیا تھا شادی میں جن میں رابیعہ خان اور اسابیل عثمانی بھی شامل تھے اسلئے روشنی اور اسابیل دونوں ساتھ نے والے تھے آئمہ اکرم اپنی بڑی بیٹی کے ساتھ شامل ہونے والی تھیں لالی ابھی تک ان سب باتوں سے انجان تھی راز ابھی بھی راز ہی تھے 

لالی اور میر کی اینیورسری بھی آنے والی تھی میر چھپکے چھپکے بہت کچھ پلین کررہا تھا اور لالی جس کو کبھی اپنی برتھڈے ڈیٹ یاد نہیں رہی اسکو اپنی اینیورسری ڈیٹ کیا خاک یاد ہوگی اسکو تو یہ بھی نہیں یاد تھا کہ اسے اس گھر میں آئے ایک سال ہونے والا ہے

لالی کو شبانہ بیگم نے گھر میں قدم رکھنے سے منع کیا تھا لیکن وہ لالی تھی اپنے گھر والوں کی خبر تو رکھنی ہی تھی وہ ڈائریکٹ فصیحہ سے بھی کانٹیکٹ نہیں کرسکتی تھی اسکے پیٹ میں بات رکتی جو نہیں تھی ڈھنڈورا پیٹ کر بتاتی تھی وہ سب کو چلو دانیال کو تو بتادیتی اور پھر وہ شبانہ بیگم کو بتادیتا اینڈ دین سو آن اسلئے لالی نے اپنے گھر کے برابر میں رہنے والی اسکی فیورٹ آنٹی سے کانٹیکٹ کیا تھا جنکا انکے گھر میں کافی آنا جانا تھا اور وہ آنٹی وہ کافی رحم دل عورت تھیں لالی انہیں روز کال کرتی تھی انکا بھی حال احوال پوچھتی تھی اور گھر کا بھی 

❤️انعم رئیس: ایک بات ایسی ہے جو آپ لوگوں کو نہیں پتا اسابیل عثمانی اسماعیل آفندی (علی کے بابا) زمان شاہ اور طارق خان چاروں یونیورسٹی کے بہترین دوست تھے لیکن اسابیل اور طارق دونوں ہی رنگین مزاج کے تھے جب کے زمان اور اسماعیل شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے ان ہی کے یونیورسٹی میں کوثر نواب اور آئمہ اکرم پڑھتی تھیں 

وہ دو نفوس یاد ہیں آپکو ریسٹورنٹ والے جو شرمندہ تھے وہ اسابیل تھا جو معافی مانگ رہا تھا اور دوسرے اسماعیل تھے جو اسے حقیقت بتا رہے تھے رابیعہ کا ذکر اس میں اسلئے تھا کیونکہ اس دن کوثر نواب کی عزت پر ہاتھ ڈالنے میں یہ اپنے دوست کے ساتھ قدم قدم پر شریک تھے اور رابیعہ کو اسابیل کے بارے میں بتانے والا اسکا باپ ہی تھا ورنہ کہاں سے پتا چلتا رابیعہ کو اسابیل کے بارے میں

طارق خان کا مرنا اسابیل کےلئے گولڈن چانس تھا جرم کی دنیا میں جس کسی کو بھی کسی کی بھی سچائی کا علم ہوتا ہے پھر مرنا ہی اسکا مقدر ہوتا ہے اگر میر اسے نہ مارتا تو اسابیل ختم کردیتا اسے اور صرف یہی نہیں وہ دو لڑکیاں جنکو طارق خان نے جلا کر مارا تھا جسکی سزا میر نے اسے دی تھی اس میں طارق خان کا کوئی قصور نہیں تھا کیونکہ ان دو لڑکیوں کے ساتھ زیادتی بھی اسابیل نے کی تھی اور وہ دو لوگ جو انکے باپ ہونے کا ڈھونگ رچا رہے تھے سب پلین تھا طارق خان کو مارنے کا وہ سچائی بتانا چاہتا تھا لیکن میر ثبوتوں کا قائل تھا اسلئے مارا گیا وہ کیونکہ ڈی این اے رپورٹس چینج کروائی گئیں تھیں اور پتا ہے کس نے سنینا نے اسابیل کی منظورِ نظر نے اسابیل کو جب یہ پتا چلا کہ اسکی بیٹی زندہ ہے اور اسکی اُس وقت سب سے بڑی دشمن رابیعہ خان تھی اور رابیعہ طارق خان کی بیٹی تھی مطلب سہی شکار ہاتھ لگا تھا سنینا کو رابیعہ کے پیچھے لگا دیا تھا لالی کو پھنسایا کس نے سنینا نے لالی کو بے گھر کیا سنینا نے رابیعہ کے لئے اینجل بن کر آئی تھی وہ اور کون جسے شیطانوں کی ملکہ کہتے ہیں لیکن لالی کو بھی لیڈی ڈیول کہتے ہیں 

لیکن بات ابھی یہیں ختم نہیں ہوئی ابھی تو جنید کی موت سے ایک ایسا پردہ اٹھنا ہے جس نے سب کو ہلا کر رکھ دینا ہے

 ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

 ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں🖤

💜💜

علی لاؤنج میں اکیلا بیٹھا تھا میر پولیس اسٹیشن گیا تھا تو اس نے آس پاس دیکھا جیسے کوئی ہے تو نہیں اور پھر اپنا موبائل نکالا اور پریشے کی تصویر نکالی یہی تو تھا اسکا کام بس اسکے نقش کو آنکھوں میں بسانا ہر روز دیکھتا تھا اور روز ایسا لگتا تھا جیسے آج کچھ الگ ہے اور اسے ہی کھوجنے وہ اتنے محویت سے دیکھتا تھا کہ آس پاس کے لوگوں کو یکسر فراموش کردیتا تھا جیسے وہ جلد بازی میں دائیں بائیں ہی دیکھ سکا آگے پیچھے نہیں کیونکہ اسکے بلکل عین پیچھے مطلب صوفے کے پیچھے چھپ کر لالہ رخ بیٹھی آملی کھا رہی تھی کیونکہ قرۃ بیگم نے اگر اسے دیکھ لیا تو پٹائی پکی گھر کو لائیٹوں سے سجانے کا کام جاری تھا تو کہیں دولہوں کے کمروں میں رینوریشن کا کام ہورہا تھا

لالی نے اچھے سے چسکے لے لے کر املی کھائی صوفے سے اٹھنے سے پہلے ہلکا سا جھانک کر دیکھا تو علی نظر آیا جو اپنے موبائل میں کسی کو گھور گھور کر دیکھ رہا تھا لالی نے آنکھوں کو ترچھا کرکے اسے دیکھا اور پھر ہلکا سا سر اٹھا کر موبائل میں دکھنے والی اس ہستی کو دیکھا تو ہقہ بقہ رہ گئی یہ تو پری تھی پھر دبے پاؤں صوفے کے پیچھے سے نکل کر سامنے والے صوفے کے بیک ہر آئی پھر سر نکال کر علی کی آنکھوں کو غور سے دیکھا ان میں چھپا مفہوم پڑھا تو چہرے پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی اسکو بتانے کے لیے گے بڑھی لیکن پھر رک گئی پھر دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ یہ سب نجمہ آنٹی کو بتائے اور ان سے اپنی بہن کے بارے میں ساری باتیں کرے تو علی کیلئے بہترین سرپرائز ہوگا آخر بھائی جو ہے اسکا اور پھر اپنے گھر کے حالات سے بھی واقف تھی کہ پری کو اسکی وجہ سے کیسی کیسی باتیں سننے پڑ رہی ہیں بس پھر طے ہوا اب تو علی کی برات نکلنی ہی تھی اور وہ بھی پری کیلئے لالی کا دل کیا یہیں بھنگڑا ڈالنا شروع کردے لیکن کنٹرول ہنسی دباتی ہوئی بھاگی اپنے کمرے کی طرف

پیچھے بیٹھا بچارا علی گڑبڑاگیا موبائل جلدی سے بند کیا اور ادھر ادھر دیکھا تو لالی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور ہولے سے منہ میں بڑبڑایا 'بیوقوف لڑکی دیکھا تو نہیں نہ کچھ اس نے نہیں اگر دیکھ ہی لیا ہوتا تو ابھی کلاس لینا شروع کر دیتی میری کہ بتایا کیوں نہیں ہمیں' 

💜💜

'اوہ آللہ جی آپ نے ہماری دعا قبول کرلی ہم نے جو جو مانگا آپ نے دیا ہم نے اپنی بہن کیلئے خوشیاں مانگیں آپ نے علی بھائی کو بھیج دیا ہم نے جیل میں کہا تھا آپ سے کہ ہمیں فیملی چائیے آپ نے ہمیں اتنی پیاری فیملی بھی دی اور ایس ایس پی صاحب بھی دیے' وہ بیڈ پر کھڑے ہوکر اچھل اچھل کر بول رہی تھی خوشی کا یہ عالم تھا کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے 

'اوہ میرے یار کی آئے گی بارات رنگینی ہوگی رات' اور اب لالی بیڈ پر کھڑے ہوکر پاؤں سے تکیے نیچے پھینکتی بھنگڑے ڈال رہی تھی 

بدلے سے دن ہیں میری بدلی سی راتیں 

کئی دنوں سے میری بہکی ہیں سانسیں

پہلی دفعہ ہے کہ یہ مجھ میں تو جھلکا ہے

میرے رنگوں میں کچھ رنگ ہیں تیرے جیسے بھی

کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی 

کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی 

ایک ہاتھ سے گلے میں جھولتا دوپٹہ ہٹاکر دور پھینکا اور پاس پڑے گلدان میں سے ایک پھول نکالا اور منہ میں ڈالا آدھا اندر اور آدھا باہر پھر میر کا تکیہ اٹھایا 

ان چھوئے تھے سپنے میرے تو نے چھو لیے

چھپکے چھپکے دل میں آیا تو جادو لیے 

تیری ہوگئی ہوں تجھ کو پتا بھی تو ہو 

میرے پیار میں تیری رضا بھی تو ہے

پہلی دفعہ ہے کہ یہ مجھ میں تو جھلکا ہے

میرے رنگوں میں کچھ رنگ ہیں تیرے جیسے بھی

کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

وہ اسکے تکیے کو سینے سے لگائے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی کہ منظر بدلا وہ بھی وہی تھی لیکن ریڈ میکسی میں کمرہ بھی وہی تھا لیکن وہ پھولوں سے سجا تھا اور لالی کے ہاتھ سے تکیہ غائب تھا کیونکہ اب اسکی جگہ میر تھا بلیک تھری پیس میں میر نے اسکو کمر سے پکڑا ہوا تھا وہ دونوں بہت قریب تھے پھر کہیں سے گانے کے بول سنائی دیے

میری دنیا میں تھا میں اپنے ہی دھیان میں تھا

کچھ تو بدل گیا ہے میرے آسمان میں

ایسا کیوں کیسے کیوں کیا ہوگیا 

کچھ خوبصورت سا دل کو ہوگیا

پہلی دفعہ ہے کہ یہ مجھ میں تو جھلکا ہے

میرے رنگوں میں کچھ رنگ ہیں تیرے جیسے بھی

کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

کچھ رنگ پیار کے ایسے بھی

وہ اپنے خواب میں اس کے ساتھ ڈانس کررہی تھی وہ بےحد خوش تھی اسے خوش رہنا تھا وہ خوش رہنا جانتی تھی کہ تبھی پاؤں کارپیٹ میں الجھا اور وہ سیدھا بیڈ پر گری تبھی ہڑبڑا کر اٹھی 

'ہم خواب دیکھ رہے تھے ہائے خواب ہی ہوسکتا ہے ورنہ وہ کھڑوس کہاں ہمارے ساتھ ڈانس کریں گے اللّٰہ پاک آپ تھوڑا سا انہیں رومینٹک ہی بنا دیتے' وہ منہ بناتے ہوئے بولی 

💜💜

اگلے مہینے کی تاریخ رکھی گئی تھی رخصتی کی دانیال کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ ابھی ہی رخصتی کرا لے تو کہیں فصیحہ بھی بہت خوش تھی ہاں بھئی نکاح میں بڑی طاقت ہوتی ہے دونوں فریقوں میں محبت کراہی دیتی ہے یہ بات فصیحہ بھی مان گئی تھی بلکہ وہ تو اب دانیال کے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی اور کہیں اسکی زومعنی باتیں بھی نہیں سن سکتی تھی

'کہاں چلیں گئیں تم لالہ رخ مجھے اتنی بڑی خوشی دے کر' وہ تصور لالی سے محو گفتگو تھی 

'میں ہی پاگل تھی جو تمہیں اپنا دشمن سمجھ بیٹھی اور پتا نہیں وہ شخص بھی کہاں چلا گیا ہے کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے جیسے اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہے کیونکہ یونی میں سب کہہ رہے تھے کہ سر ارمان کا مرڈر ہوا ہے اور پھر تمہیں میں نے اس دن پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے بھی دیکھا تھا تم کہیں نہ کہیں کچھ تو چھپا رہی ہو…' وہ انہی باتوں کو سوچ رہی تھی کہ تبھی پری اندر آئی 

'ہیولو بھابھی جی' وہ شرارت سے بولی تو فصیحہ اداس سا مسکرائی لالی کے بعد یہی تو تھی جو اسکی دوست تھی ورنہ یونی میں تو اس نے ابھی تک کسی کو گھاس نہیں ڈالی تھی

'کیا ہوا لالی یاد آرہی ہے' وہ اسکی اداس شکل دیکھ کر بولی تو فصیحہ اثبات میں سر ہلاگئی 

'تمہیں پتا ہے جب وہ یہاں تھی تب اسکا افئیر چل رہا تھا' فصیحہ اسکے کان کے پاس جھک کر بولی تو پری نے مسکراہٹ دبائی

'کتںی بار بتائیں گی یار آپ' وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی

'تمہیں یہ بات پتا ہے؟ (پری نے ہاں میں سر ہلایا) لیکن یہ نہیں پتا ہوگا کہ کس سے چل رہا تھا' اب وہ اترائی 

'ارمان ملک سے ہیں نا' پری نے اپنی بات پر زور دیا تو فصیحہ نے اپنی آنکھیں گھمائیں 

'تمہیں آج میں ایک بات بتاتی ہوں تم وہ بات کسی کو مت بتانا' وہ سنجیدہ ہوئی تو پری بھی سنجیدہ ہوگئی تھی اسکی بات پر اس نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا 'لالی کو میں نے پولیس وین میں بیٹھتے ہوئے دیکھا تھا' فصیحہ نے اپنی طرف سے تو پری کے سر پر تو دھماکا کیا تھا لیکن پری کو صرف حیرت ہوئی تھی 

'مطلب آپ کو بھی پتا ہے کہ وہ پولیس اسٹیشن گئیا تھی' پری نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا 

'تمہیں کس نے بتایا' فصیحہ نے جلدی سے سوال داغا جسکے جواب میں پری نے اسے پوری بات بتائی اور وہ تو دم سادھے بیٹھی تھی 

'آپ نے مجھےایک دفعہ بتایا تھا کہ آپکے سر ارمان ملک کو لاسٹ ٹائم آپ نے 4 تاریخ کو دیکھا تھا اسی دن رات میں لالی کو کسی کا فون آیا تھا تقریباً 11 بجے جس کے بعد وہ جلد بازی میں گھر سے نکل گئی تھی اور اس کے بعد وہ تین بجے گھر آئی تھی لیکن وہ اکیلی نہیں تھی اسکے ساتھ ایک اور لڑکی بھی تھی اور پتا ہے اس لڑکی کے پاس گن بھی تھی اور پھر اسکے بعد لالی پولیس اسٹیشن گئی اور یہ سب ہوا' پری نے اس کو دھماکہ خیز خبر بتائی تھی وہ تو اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھی

'اللّٰہ اکبر لالی کیا کرتی پھر رہی تھی اور مجھے خبر بھی نہیں ہوئی' فصیحہ جانتی تھی وہ اگر کچھ اس سے پوچھ بھی لیتی تو وہ اسے کچھ نہ بتاتی 

💜💜

انہی دنوں میں ماہین اور عارف کی منگنی کی تاریخ بھی رکھی جاچکی تھی وہ دونوں بھی خوش تھے لیکن ماہی بس اپنی دوست کیلئے پریشان تھی جسکا کچھ اتا پتا نہیں تھا 

اور دوسری طرف انسپیکٹر حارث نے بھی کونسٹیبل ماریہ کو پٹا ہی لیا تھا دونوں کی شادی ہوچکی تھی لیکن حارث لالی کو نہیں بھولا تھا بھئی بھولتا بھی کیسے آخر کار اسی کے بتائے ہوئے حربوں سے ہی ماریہ کو پٹایا تھا جو وہ جیل میں بیٹھ کر اسے روز نئی نئی ٹیکنیکس بتاتی تھی ہاہاہاہا ہئے لالی

💜💜 

شادی کی شوپنگ کرنے گیلانی ہاؤس کی ساری لڑکیاں جارہی تھیں لیکن لالی کو تو شوپنگ سے خار کھاتی تھی لیکن پھر بھی رواحہ اسے میر کے پیارے پیارے خواب دکھا کر لے گئی تھی اب وہ سارے برائیڈل ڈریسز لے رہے تھے اور لالی میر کے لئے شیروانی دیکھ رہی تھی برات کیلئے کریم کلر کی شیروانی جس پر بلیک اسٹونز کا کام تھا اور اسکے ساتھ بلک کلر کے کھسے تھے اور آج تو وہ کھل کر شوپنگ بھی کرسکتی تھی کیونکہ انصار صاحب نے اسے اپنا کریڈیٹ کارڈ دیا تھا لالی نے تو صاف منع کردیا تھا لینے سے لیکن انہوں نے اسے اموشنل بلیک میل کیا تو وہ مان گئی تھی

'ایکسکیوز می آپ یہ پیک کروا دیں پلزززز' اسنے ایک سیلز مین کو کہا وہ آج خود سے کچھ لے رہی تھی ورنہ اسکی شوپنگ تو ہمیشہ شبانہ بیگم کرتی تھیں 

'میم یہ آپکا آڈر اور بل وہاں ہے کردیں آپ' وہ لڑکا اسے بیگ پکڑا کر جاچکا تھا پھر اس نے بل پے کیا تھوڑا اور آگے چلی تو ایک جگہ نظریں ٹھر گئیں وہ روئیل بلو تھری پیس تھا میر کے پاس ایسے کلر کا کوئی بھی سوٹ نہیں تھا وہ تھری پیس ولیمے کے لیے اسے بیسٹ لگا تھا اس نے وہ بھی پیک کروایا اسی شاہ پر اسے دو چار شلوار قمیض پسند آئے تو وہ بھی لے لیے پھر شوز بھی کیے وہ میر کے سائز سے واقف تھی اتنے سارے بیگز وہ ہاتھ میں پکڑے گھوم رہی تھی یہ وہ لالی تھی جسے شوپنگ سے سخت نفرت تھی لیکن ابھی وہ میر کے لئے ہر چیز بہترین سے بہترین لے رہی تھی 

روح سحرش فری اور فاطمہ تو پارلر چلیں گئیں تھیں انہوں نے لالی کو بھی کہا تھا ساتھ چلنے کو لیکن اس نے منع کردیا تھا یہ کہہ کر کہ اسکی شادی تھوڑی ہے جو وہ تین دن پہلے سے ہی پارلر میں دھرنا دے کر بیٹھ جائے پارلر چونکہ مال میں ہی تھا اسلئے انہیں زیادہ پرابلم نہیں ہوئی تھی 

لالی ابھی میر کے لئے ہی ایک بریسلیٹ دیکھ رہی تھی جب اسکی نظر ایک کپل بریسلیٹ پر گئی ایک بریسلیٹ تھا جبکہ دوسرا لوکیٹ بریسلیٹ ہر دل بنا تھا اور اس میں ایک لوک بنا تھا ڈائمنڈ لگے تھے اس میں جبکہ لوکیٹ میں اسکی چابی لگی تھی لیکن وہ ڈائمنڈ کا نہیں تھا لالی نے سوچ لیا تھا یہ بریسلیٹ وہ میر کو دے گی جب کہ لوکیٹ وہ خود پہنے گی وہ بھی پیک کرایا اتنے میں ڈرائیور بابا آگئے تھے اور وہ کچھ پریشان سے لگے تھے

'کیس ہوا ڈرائیور انکل کوئی پروبلم ہے کیا' لالی انکا پریشان چہرہ دیکھ کر بولی

'بیٹا میری بیوی کی حالت بہت خراب ہے مجھے ہسپتال جانا ہے میری بیٹی اکیلی ہے وہ سب کیسے کرے گی' انہوں نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو لالی سے رہا نہ گیا انہیں کچھ پیسے دیے اور انہیں جانے دیا چونکہ اسپتال قریب تھا اسلئے وہ گاڑی کو چھوڑ کر خود جاچکے تھے انہوں نے کہا بھی تھا کہ وہ گھر سے کسی کو بلا لیں لیکن 

According to lali when lali is here no problem Is there

اس نے سوچا آخر اسکی ڈرائیونگ سکیلز آخر کب کام آئیں گی لگتا ہے آج گیالانی خاندان کی لڑکیاں گھر کے علاؤہ کہیں اور پہونچنے والی تھیں 

وہ ساری پارلر سے باہر آئیں تو لالی ہاتھ میں ڈھیر سارے شوپنگ بیگز لیے کھڑی انہی کا انتظار کررہی تھی 

'ارے انہیں ایک سائیڈ پر رکھ دیتیں یا پھر کہیں بیٹھ جاتیں' فاطمہ نے اس سے شوپنگ بیگ لینا چاہے لیکن اس نے ہاتھ پیچھے کرلیا کہیں رکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا میر کی چیزیں تھیں اس میں اپنے لئے اس نے کچھ نہیں لیا تھا بس وہ ایک لوکیٹ تھا جو وہ اپنے لئے لے چکی تھی

'بیٹھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر ہم کہیں ادھر ادھر ہوجاتے تو تم لوگ ہمیں ڈھونڈتے رہتے اور یہ ہمیں ہی پکڑے رہنے دو تم نے ابھی ہی مینیکیور اور پیڈیکیور کروایا ہوگا خراب ہوجائے گا اور ویسے بھی یہ بہت ہلکے ہیں' لالی نے اسے اپنی طرف سے اچھے سے مطمئن کیا تھا

'اچھا ایک کام کرتے ہیں ڈرائیور انکل کو بلا لیتے ہیں وہ کچھ بیگز پکڑنے میں ہیلپ کردیں گے تمہاری' سحرش نے فون نکالا وہ چاروں اپنا سامان پہلے ہی گاڑی میں رکھوا چکی تھیں بس لالی شوپنگ میں مصروف تھی اسلئے اسکا سامان رہ گیا تھا

'ارے نہیں انکل جاچکے ہیں انکے گھر پر ایمرجنسی ہوگئی تھی تو ہم نے انہیں بھیج دیا تھا' لالی نے رواحہ سے اسکا بھی وہ چھوٹا سا بیگ لے لیا تھا جس میں جیولری تھی 

'تو پھر ہم کیسے جائیں گے' فری محترمہ پریشان ہوئیں کیونکہ ان چاروں میں سے تو کسی کو بھی ڈرائیونگ نہیں آتی تھی

'ارے ہم ہیں نہ ہمیں ڈرائیونگ آتی ہے ہم کے کر چکیں گے تم لوگوں کو' لالی نے خدمات آگے رکھیں تو سب لوگ مطمئن ہوگئے تھے جو نو وقتی مطمئن

💜💜

گ

آج پولیس اسٹیشن میں قیامت خیز منظر تھا میر کی آنکھیں آگ اگل رہیں تھیں وہ کرسی پر بیٹھا تھا دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھے اور دونوں ہاتھ ایک دوسرے کی انگلیوں میں پھنسے تھے اسکے سامنے دو پولیس والے زمین پر بیٹھے میر سے معافی مانگ رہے تھے دونوں کے دونوں رشوت لیتے پکڑے گئے تھے نئے اہلکار تھے اسلئے میر کے غصے کو جانتے نہیں تھے 

'میں نے پوچھا پیسے لیے تھے یا نہیں' وہ دھاڑا تو دونوں اہلکاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا

'ننن…نہیں ہم نے نہیں ل۔لی' ان میں سے ایک کانپتا ہوا بولا تو ان دونوں کے پیچھے کھڑے انسپیکٹر نے ایک ڈنڈا گھما کر دونوں کو مارا تو ان میں سے ایک چیخ پڑا

'آہ۔ہ۔ہ ہاں ہم نے لی تھی رررر۔۔رشوووت رشوت' دوسرا زیادہ نہ سہہ سکا اور بول پڑا بس اسکا یہی بولنا تھا میر جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور انکے سامنے دو زانو بیٹھا ان دونوں کا سیدھا ہاتھ پکڑا اپنے دونوں ہاتھوں میں اور اتنی زور سے مروڑا کے کلائیوں میں تین کریک پڑے تھے پولیس اسٹیشن انکی چیخوں سے گونج اٹھا تھا

'جس قانون کی وردی پہنی ہے اسی کا ہی پاس رکھ لیتے یہ جو ہڈی ٹوٹی ہے نہ چھوٹی سی سزا ہے میری طرف سے آگلی بار یاد رکھوگے' وہ پراسرار لہجے میں بولتا اپنے آفس کی طرف بڑھا تھا کہ تبھی اسکا فون رنگ ہوا تھا وہ آفس میں پہنچا اپنا فون نکالا اور کان سے لگایا اور جو کہا جارہا تھا اس سے اسکی آنکھیں مزید لال ہوئیں تھیں

💜💜

'لالی ہمیں مرنا نہیں ہے گھر جانا ہے' سحرش کا تو چہرہ لٹھے کی مانند سفید تھا لالی دو سو کی اسپیڈ سے گاڑی بھگا رہی تھی وہ سحرش کی بات پر کھل کر مسکرائی 

'میں اس عمر میں نہیں مرنا چاہتی' فاطمہ نے اپنی سیٹ کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا لالی کا سارا دھیان سڑک پر تھا ورنہ ان لوگوں کی حالت ضرور انجوائے کرتی وہ گاڑی آرام سے چلانا چاہتی تھی لیکن سڑک سنسان تھی اسلئے وہ مجبور تھی کیونکہ وہ ان سب لڑکیوں کے ساتھ تھی اسلئے خطرہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی اور خاص طور پر فری ہو تب تو بلکل بھی نہیں 

'اور میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی ہے' روح سیٹ بیلٹ کو مضبوطی سے پکڑے بیٹھی تھی 

'اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر اللّٰہ میاں آج بچالیں اگلی بار میر بھائی سے کوئی شکایت نہیں لگاؤں گی اپنے بھائیوں کی لاحولا ولا وقوت استغفر اللہ سے اللّٰہ میرے گناہ معاف کردے' فریہا کو لگ رہا تھا کہ وہ مرنے والی ہے 

'یار ریلیکس رہو کیا ہوگیا ہے دیکھ نہیں رہے کتنی سنسان سڑک ہے اسی لئے بھگا رہے ہیں گاڑی تاکہ کہیں کوئی چور چھکا نہ ہو' لالی نے انہیں اپنی طرف سے ریلیکس کرنا چاہا تھا لیکن وہ لوگ تو سنسان سڑک دیکھ کر اور ڈر گئے تھے 

'گھر فون کرووو' سحرش چیخی 

'ارے پولیس والے کی بہنیں ہو کر ڈر رہے ہو تم لوگ شرم کرو' لالی نے انہیں شرم دلانی چاہی ان میں سے کوئی ابھی کچھ کہتا کہ گاڑی کے سامنے کسی کی گاڑی آکر رکی تھی لالی نے بروقت بریک مارا ورنہ جتنی اسپیڈ سے گاڑی چل رہی تھی اس اسپیڈ سے گاڑی پلٹ سکتی تھی لیکن پھر بھی گاڑی سامنے والے کی گاڑی میں گھسی تھی کہ اسکا لیفٹ ڈور تقریباً ہل گیا تھا اپنی جگہ سے 

گاڑی میں زور سے بریک لگنے کی وجہ سے پیچھے بیٹھی فری سحرش اور فاطمہ اپنی جگہ سے ہل گئیں تھیں فری اور فاطمہ اپنے آگے والی سیٹس سے ٹکرائیں جبکہ سحرش اچھلتی ہوئی لالی اور رواحہ کہ بیچ میں آگری تھی اور یہاں لالی کا قہقہ گونجا تھا 

'ہاہاہاہا اللّٰہ سحری تم مری ہوئی چھپکلی لگ رہی ہو' لالی کی تو ہنسی بند نہیں ہورہی تھی اور وہ اس سب میں سامنے والی گاڑی کو بھول گئے تھے جن میں سے چار لڑکے اترے تھے اور اب ہنستی ہوئی لالی کی ونڈو کے گلاس پر نوک کررہے تھے 

وہ چاروں لڑکے ان لڑکیوں کو دیکھ چکے تھے انکی نظر پیچھے بیٹھی معصوم سی فری اور سحرش پر پڑی تھی بس تب سے اس گاڑی کا پیچھا ہورہا تھا لیکن اب تو گاڑی میں بیٹھی حوروں پر نظریں خراب ہوگئیں تھیں 

لالی جو کہ ہنس رہی تھی چونکی اور ونڈو کی طرف دیکھا اور پھر شیشہ نیچے کیا اندر بیٹھی وہ چاروں ان گھٹیا اور گندی نظروں والے لڑکوں کو دیکھ کر ڈر گئیں تھیں جبکہ لالی مطمئن تھی اور انکی نظروں کا مفہوم بھی اچھے سے پڑھ رہی تھی

'کیا مصیبت ہے پنک پینٹر کی شکل والے' اس نے مسکراتے ہوئے پوچھے ان میں سے ایک تو اسکے مسکرانے پر ہی فدا ہوگیا تھا اسلئے ہاتھ دل پر رکھ کر اسکی طرف جھکا

'بس آپکی قربت کا کچھ وقت چائیے سرکار' وہ شاید عاشق مزاج تھا تو لالی کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی جبکہ وہ چاروں دم سادھے لالی کو دیکھ رہیں رہیں تھیں

'کتنا وقت چائیے' لالی دلفریب لہجے میں بولتی اپنا سر سیٹ سے ٹکا گئی تھی 

'ایک رات رنگین کردو بس' اسکی نظریں صرف لالی ہر ہی نہیں بلکہ ساری لڑکیوں پر تھیں 

'ہاہاہاہا بس ایک رات تم تو بہت ہی بھکاری نکلے' اب لالی کی نظریں ان چاروں کا ایکسرے کررہیں تھیں تبھی اسی لڑکے نے لالی کے چہرے کو چھونا چاہا لیکن لالی اپنا چہرہ پیچھے کرگئی

'کیا ہوا ڈر گئیں یا پھر قیمت لیتی ہو رات گزارنے کی ہاہاہا' ان میں سے ایک نے قہقہ لگایا تو لالی نے گاڑی کی چابی نکالی 

'باہر تو آنے دو تبھی اپنی قیمت بتائیں گے' لالی نے آنکھ مارتے ہوئے کار کا دروازہ کھولا جبکہ وہ چاروں لڑکے پہلی بار ایسی لڑکی دیکھ رہےتھے جو  خود انکی طرف قدم بڑھا رہی تھی اسلئے اور مزید فری ہوئے تھے 

'یہ پولیس والے کی بیوی ہے پولیس والی نہیں اسے کوئی بتاؤ' روح کہ تو ہاتھ پیر پھول گئے تھے 

لالی اب ان چاروں کے سامنے کھڑی تھی ان میں سے ایک کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی جو وہ وقفے وقفے سے چڑھا رہا تھا کچھ کچھ حد تک نشے میں ٹُن ہورہا تھا وہ

'تو تم میں سے کون ہے جو پہلے ہمارے ساتھ رات گزارنے کا خواہش مند ہے' لالی کا انداز ہئے ان میں سے ایک آگے بڑھا تو لالی کی آنکھوں نے اسے ترچھی نظروں سے گھور کر دیکھا تھا اب اس انسان کا ہاتھ لالی کے اسکارف پر گیا تھا لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے آنکھوں سے منع کیا

'لیکن اسکے بغیر کیسے' وہ کمینگی کی حدیں پار کرنا چاہ رہا تھا تو لالی نے اپنے ہاتھ میں موجود وہ ریڈ اسٹون والی انگوٹھی گھمائی تھی جو اسے فصیحہ نے دی تھی 

'تمہیں نہیں پتا کیسے' لالی نے اسکی عقل پر ماتم کیا تو اس نے اسے واقعی ناسمجھی سے دیکھا 'ایسے' لالی نے کہتے ساتھ ہی اسکا منہ کان کے سائیڈ سے اپنے سیدھے ہاتھ میں پکڑا اور اسے اپنی گاڑی کے بونٹ پر مارا تھا افف کتنی زور سے مارا تھا اسکی شریان پھٹ گئی تھی کانوں سے خون نکلنا شروع ہوا تھا 

'آہہہ' اندر بیٹھی فری اور فاطمہ کی چیخ بلند ہوئی تھی جبکہ باقی سب آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہے تھے 

پیچھے کھڑے تین لالی کو دیکھ کر چونکے پھر سنبھلے اور ان میں سے ایک نے دوسرے والے کو اشارہ کیا تو وہ گاڑی کی طرف بڑھا تھا رواحہ کی نظر اس پر پڑی تو چیخی تھی

'لالی' رواحہ کی پکار پر لالی نے گاڑی کی طرف دیکھا اور جھٹ سے گاڑی کی چابی اٹھاکر اسکی کی چین میں لگا بٹن دبایا تو گاڑی لوک ہوگئی تھی گاڑی کے شیشے تو وہ پہلے ہی بند کرچکی تھی جب وہ ان سے بات کررہی تھی 

لالی رواحہ کی طرف متوجہ ہوئی تو پیچھے کھڑا لڑکا اس پر چھپٹا تھا لالی چند قدم پیچھے ہوئی اپنے پاؤں میں پہنی ہل اسکے گھٹنے میں ماری اور اپنی کہنی اسکے پیٹ میں ماری وہ ایک پل تو سمجھ نہ سکا کہ پیٹ میں زیادہ زور سے لگی ہے یا پھر گھٹنے میں وہ رقوع میں جھکا تو لالی نے اپنی کہنی اسکی کمر میں ماری تھی وہ بلبلاتا ہوا گاڑی سے جالگا ان میں سے ایک اور آگے آیا لالی کے ہاتھ سے چابی چھیننے کے لئے جو اسکے بائیں ہاتھ میں تھی لالی کا منہ دوسری طرف تھا وہ تھوڑا سا چکی کہ اسی لڑکے نہ اسکے پاؤں میں اپنی ٹانگ اڑائی تو لالی زمین بوس ہوئی اور ہاتھ سے چابی نکل کر دور گری تھی دوسرے لڑکے نے چابی اٹھائی اور گاڑی کو ان لوک کرکے ان میں سے ان چاروں کو کھینچ کر باہر نکالا جو لالی کو آواز دے رہیں تھیں لالی جھٹکے سے اٹھی تھی اور اسکی نظر اب اس بندے کے ہاتھ پر تھیں جس نے فری کا ہاتھ جکڑا ہوا تھا وہ یہ وعدہ خود سے کرچکی تھی کہ ان تینوں پر حرف نہیں آنے دے گی اسلئے شیرنی کی طرح آگے بڑھی اور اس نشے میں دھت انسان سے اسکی شراب کی بوتل چھینی اور اس انسان کے سر پر ماری جس نے فری کا ہاتھ پکڑا تھا سر خون سے نہا گیا تھا اسکا اس نے فری کو چھوڑ کر اپنا سر تھاما لیکن لالی کی نظر تو اسکے ہاتھ پر تھی لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے کار کے دروازے میں دے کر اتنی زور سے دروازہ مارا کہ وہ اپنا سر کا درد بھول کر ہاتھ کی فکر میں بڑھا تھا وہ چاروں کار سے ٹیک لگائے کھڑیں تھیں سکون تھا اب انکے چہروں پر کہا تھا نہ جہاں لالی ہو وہاں پریشانی نہیں ہوتی 

انکے سامنے اب وہ تین تھے اور ان تین کے سامنے صرف ایک لالی تھی ان میں سے وہی نشے میں ٹُن انسان آگے بڑھا تو لالی کے ہاتھ میں اس شیشے کی بوتل کا صرف کیپ رہ گیا تھا وہی اسکی کمر میں گھسایا تھا وہ کراہتا ہوا بےہوش ہوگیا تھا

وہی آگے آیا جس نے لالی کو گرایا تھا اس نے لالی کے پیٹ میں پنچ مارنا چاہا لیکن لالی ہوا میں اچھلتی اسکے منہ پر فلائنگ کیک رسید کر چکی تھی وہ زمین بوس ہوا تھا وہ دوبارہ اٹھا اور لالی کے چہرے پر تھپڑ مارنے لگا تھا کہ لالہ رخ نے اسکا سر پکڑ کر اسی کی گاڑی کے شیشے میں مارا تھا چھن کی آواز سے پورا شیشہ ٹوٹا تھا اور ساتھ میں کہیں اسکا سر بھی دوسرے کھڑے لڑکے نے لالی کے منہ پر زور سے پنچ مارا تھا یہ پہلا کامیاب وار تھا جو لالی کا جبڑا ہلا گیا تھا اسکا ہونٹ پھٹ چکا تھا لیکن یہاں پرواہ کسے تھی لالی نے اپنے منہ کو تھوڑا ادھر ادھر کرکے ٹھیک کیا 

'آہ بیٹا بڑا اچھل رہا ہے تو تیری ہڈیوں کو مصالا چائیے اور وہ بھی ہمارے ہاتھ کا' لالی نے اس کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا 

"چٹاخ"

نرم ہاتھوں کا جان نکال دینے والا تھپڑ ہوتا تھا لالی کا اسکا منہ دوسری طرف ہوا لالی نے ایک اور تھپڑ رسید کیا

"چٹاخ" 

اب کی بار وہ زمین پر گرا تھا لالی نے اسکا سر اٹھایا اور گاڑی کی ہیڈ لائٹ پر دے مارا تھا چاروں کے چاروں ڈھیر ہوئے تھے اسکے آگے لالی کی سانس پھول گئی تھی وہ گاڑی سے ٹیک لگا کر بیٹھی اور ان چاروں کو دیکھ رہی تھی پھر سڑک پر نظر ماری تو گاڑی کی چابی نظر آئی سحرش نے اسکی نظروں کے۔م تعاقب میں دیکھا تو خود جاکر چابی اٹھائی اور اسکے پاس آکر بیٹھی رات ہورہی تھی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی گاڑی کی لائیٹس سے روشنی تھی بس 

'اب گاڑی کون چلائے گا' وہ فکرمند تھی تو لالی نے اسے گھورا

'نہ ہماری ٹانگ ٹوٹی ہے نہ ہمارا منہ ٹوٹا اور نہ ہی ہاتھ اور تو اور ہم مرے بھی نہیں ہیں' لالی نے تنز' کیا تھا یا مزاق وہ سمجھ نہ سکی 

'مطلب' اسکے پوچھنے پر لالی مسکرائی 

'چابی دو ہمیں جب ہم زندہ ہیں تو ہم ہی چلائیں گے نہ' لالی چابی اٹھاتی ہوئی آگے بڑھی تو نظر سامنے کھڑی اس گاڑی پر پڑی تھی پھر سب سے پہلے اس گاڑی کو سائڈ میں کیا جبکہ وہ چار بھاڑ میں جائیں اب وہ سب گاڑی میں بیٹھے تھے فری بھائی کی لاڈلی نے بھائی کو کال کردی تھی اور یہاں ہوئی ہر کہانی بتا چکی تھی وہ گاڑی کی حالت اچھی خاصی خراب ہوگئی تھی اور لالی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی سر پر زمین سے لگنے کی وجہ سے کٹ لگا تھا جبکہ ہونٹ سے بہتے خون نے ایک لکیر بنائی تھی ہاتھ بھی چھل گئے تھے جبکہ ایک کانچ کا ٹکڑا ہاتھ میں لگا تھا جسکا اسے علم ہی نہیں تھا ڈرائیونگ کرتے وقت اسے پتا چلا تھا کہ اسکے ہاتھ سے خون آرہا ہے اس نے ٹریفک سگنل پر گاڑی روکی اور گاڑی کی لائٹس آف کیں اور پھر ہاتھ سے کانچ نکال کر باہر پھینکا دو چار ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کیا اور انہیں باہر پھینکا اور اس کانچ کے ٹکڑے کو جیب میں ڈالا سڑک پر پھینکتی اور کسی کے چبھ جاتا تو کتنا گناہ ملتا اسے

💜💜

انصار صاحب فہیم صاحب شیراز صاحب علی میر غرض کہ سارے لوگ موجود تھے سوائے بی جان قرۃ بیگم ساجدہ بیگم اور مہمانوں کے علاؤہ میر ساری سچویشن انہیں بتا چکا تھا وہ سب لان میں کھڑے انکا انتظار کررہے تھے تبھی ایک خستہ حال سی گاڑی گھر میں داخل ہوئی گھر کی لائیٹس گاڑی پر پڑیں تو گاڑی پر خون کی چھینٹیں نمایا ہوئیں فری جلدی سے گاڑی سے نکلی اور میر کے پاس بھاگی حالانکہ جانا اسے سیفی کے پاس چاہیے تھا (بدتمیز) رواحہ سحرش اور فاطمہ بھی باہر آئیں ان تینوں پر ایک خراش تک نہیں آئی تھی لالی نے اپنا وعدہ نبھایا تھا سب کی جہاں اٹکی ہوئی سانسیں بحال ہوئیں تھیں لالی نے گاڑی کو بند کیا چابی نکالی اور پھر گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلی میر اور علی کی نظریں ایک ساتھ لالی ہر پڑی تھیں باقی سب بھی لالی کی طرف متوجہ ہوئے تو انکی بحال ہوئی سانسیں اٹکیں وہ ان لوگوں کی نظروں سے شاید بچتی ہوئی نکل رہی تھی جب علی کی آواز نے اسکے قدم روکے تھے 

'لالی' علی نے پوچھا تو وہ کچھ بولنے کے بجائے انکی طرف بڑھی اور پھر روح اور سحری کے زبانی انہیں سب پتا چلا تھا لالی ایک طرف کھڑی ان چاروں کو دیکھ رہی تھی جو اپنے بابا اور بھائیوں کے ساتھ کھڑیں تھیں آج اسے پتا چلا تھا کہ خون کے رشتوں کی کیا ویلیو ہوتی ہے ادھر ہی کھڑا میر اسے دیکھ رہا تھا اسکی آنکھوں میں حسرت دیکھی تو علی کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور لالی کی طرف اشارہ کیا تو وہ سمجھتا ہوا اسکی طرف آیا جسکی آنکھوں میں نمی چمک رہی تھی 

'آں آں ایس ایس پی کی بیوی روتی بھی ہے' علی اسکے کان کے قریب جھک کر ہلکی آواز میں بولا تو اس نے مسکراتے ہوئے پلکیں جھپک کر آنسو اندر اتارے 'اسٹرونگ گرل' علی نے اسے سراہا 

'تم تو پوری گنڈی نکلیں تبھی میں اس دن حیران تھا کہ تم میر بھائی سے کیسے جیت گئیں پش اپس میں' عمر کی آنکھوں میں ستائش تھی لالی کیلئے لالی نے سر خم کرکے تعریف وصول کی تھی اسکے اس شاہانہ انداز پر میر مسکرایا تھا

'بی جان صحیح کہتی تھیں آپ کیلئے آپکی جیسی ہی کوئی آئے گی بہترین چیز چوس کی ہے' حمدان وجدان ریان انصار صاحب میر کے پاس کھڑے تھے اور لالی کو دیکھ رہے تھے جو ان سب کے ساتھ اندر جارہی تھی 

'وہ میری جیسی نہیں ہے' میر نے تصحیح کی تھی 

'کافی چوٹ لگ گئی ہے اسے اور ان لوگوں کو بھی دیکھو زرا کتنی لگی ہے ان لوگوں کو جنہیں لالی مار کر آئی ہے' انصار صاحب کے لہجے میں غرور تھا میر نے جیب سے فون نکالا اور پولیس اسٹیشن کال کرکے متعلقہ جگہ پر بھیجا وہ لالی سے پوچھ چکا تھا جگہ کے بارے میں

وہ اپنے کمرے میں صوفے کے پیچھے بیٹھی تھی شبانہ بیگم اور زمان صاحب شدت سے یاد آئے تھے لیکن وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اپنی ہتھیلی کو دیکھنے لگی جہاں پر اب خون جم گیا تھا علی نے کہا تھا اسے کہ وہ بینڈیج کرالے لیکن اس نے صاف انکار کیا تھا کیونکہ اسے درد ہورہا تھا اور وہ کسی کے کے سامنے بھی خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی

میر کمرے میں آیا تو وہ اور اسے ڈھونڈنا چاہا لیکن وہ کہیں نظر نہیں آئی تھی تبھی محترمہ کا دوپٹہ ایک بار پھر سے اس سے بغاوت کرگیا تھا ہوا کہ دور پر ایسا لہرایا کہ میر کو اپنی طرف متوجہ کرگیا اور لالی اپنے دوپٹے کو دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ وہ آگیا ہے اس نے ایک نظر بیڈ پر ڈالی جہاں سارے شوپنگ بیگز رکھے تھے اسکے 

'یہاں کیا کررہی ہو' میر اس کے سامنے کھڑا تھا دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے 

'کچھ بھی نہیں' وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور میر کے روبرو ہوئی تو میر نے اسکا ہاتھ تھاما اور چلتا ہوا بیڈ پر آیا اور پھر اسکے ہاتھ کی ڈریسنگ کی اور پھر ماتھے پر ٹیوب لگائی ہونٹ پر لگانے کیلئے ہاتھ آگے کیا تو لالی نے وہ گال پھلا لیا جس پر چوٹ لگی تھی میر نے مسکرا کر ٹیوب لگائی اور پھر ٹشو سے ہاتھ صاف کیے وہ اٹھنے لگا کہ لالی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور پھر وہ شوپنگ بیگ اٹھایا

'ہمیں پتا ہے آپ کو یہ سب پہننا پسند نہیں ہے لیکن ہم بہت عشق سے لائیں ہیں آپ کیلئے اسلئے ہاتھ آگے کریں' لالی نے بریسلیٹ نکالا اور میر کے ہاتھ پر پہنا کر اسکی چابی سے اسکا لوک بند کیا میر کے ہاتھ میں وہ بلکل فٹ آیا تھا لالی نے وہ لوکٹ اپنے گلے میں پہن لیا وہ بریسلیٹ بنا چابی کے نہیں کھل سکتا تھا میر اس سب میں خاموش تھا بس اسکی کارروائی دیکھ رہا تھا

'کیا ہے یہ' اس نے اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا

'یہ یہ کپل بریسلیٹ ہے' اس نے مسکرا کر بتایا وہ ابھی کچھ کہتا کہ دروازہ نوک ہوا اور رواحہ کی آواز آئی تو میر نے گیٹ کھولا اور باہر چلاگیا لالی بیڈ پر لمبی لمبی ہوگئی تھی کافی تھک گئی تھی بیچاری رواحہ کے ساتھ سحرش اور فاطمہ تھیں فری شاید سو گئی تھی 

'تم نے شوپنگ کرلی اور ہمیں تو دیکھائی نہیں' وہ تینوں بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں انکے شوپنگ بیگز بھی اسی روم میں تھے 

'تم لوگ کیا کروگے ہماری شوپنگ دیکھ کر' وہ بولتے ہوئے کروٹ کے کر لیٹ گئی تھی رواحہ نے اسے بھاڑ میں ڈالا اور اسکے شوپنگ بیگز اٹھائے اور اندر سے نکلنے والی چیزیں دیکھ کر تو وہ لوگ حیران رہ گئے تھے جبکہ اندر داخل ہوتا میر بھی بیڈ پر پڑا سامان دیکھ کر رکا تھا وہ اپنا موبائل لینے آیا تھا

'یہ تم ساری مردانہ شوپنگ کرکے لائی ہو' سحری تو بس حیران سی وہ شیروانی دیکھ رہی تھی بلاشبہ اسکی چوائس بڑی پیاری تھی رواحہ اور فاطمہ وہ شوز پرفیوم کی بوتل دیکھ رہیں تھیں اور رائل بلو تھری پیس پر تو انکی آنکھیں حیرانگی میں ڈھلی تھیں کتنا خوبصورت تھا وہ میر بھی ان سب پر ایک ستائشی نظر ڈال کر باہر چلا گیا تھا بعد میں دیکھے گا سب

'ہاں بس ہمیں اپنے لئے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا اسلئے ہم نے ایس ایس پی صاحب کے لئے شوپنگ کرلی' وہ بتا کر پھر لیٹ گئی تھی افف مار پیٹ کرنا آسان تھوڑی ہے

 'اب تم کیا پہنو گی؟' فری نے فکرمندی سے پوچھا

 'کپڑے' لاپرواہی سے جواب آیا تو ان سب کا دل کیا اپنا سر پیٹ لیں

 'مطلب کونسے کپڑے پہنو گی؟' فری نے ٹہر ٹہر کر کہا 

 'الحمدللہ بہت کپڑے ہیں' وہ اپنے جواب سے انہیں مطمئن کرنا چاہتی تھی

 'واٹ تم ہماری شادی پر پرانے کپڑے پہنو گی کبھی نہیں' سحرش برا مان گئی تھی 

 'یار ہم شوپنگ پر نہیں جائیں گے ہمیں سخت زہر لگتی ہے شوپنگ' لالی نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا

 'اچھا اچھا ہم خود ہی کچھ کرلیں گے تم سوجاؤ ایک تو یہ لڑکی بھی نہ پل میں توشہ پل میں ماشہ والا حساب ہے اسکے ساتھ' رواحہ آخری لائن دل میں بولتی ہوئی اپنے اور ان شوپنگ بیگز انکو پکڑا کر ان سب کو لے کر باہر چلی گئ

💜💜

آج گھر میں مہندی کا فنکشن تھا سب لوگ تیاریوں میں مگن تھے میر اور علی بھی انتظام دیکھ رہے تھے ایسے میں کچھ لوگ بہت ویلے تھے مثلاً لالی بہروز اور عمر یہ لوگ لاؤنج میں بانو بی کے ساتھ بیٹھے تھے اور ڈھولکی کررہے تھے لالی کی تو آواز استغفرُللہ اور اس پر عمر اور بہروز لاحولا ولا وقوت 

'بانو بی اور کونسا گانا گائیں' لالی نے لہک لہک کر پوچھا

'بیٹی مجھے تو معاف ہی رکھو' انہوں نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے تھے تو لالی نے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے جائیں ہم نے آپ کو معاف کیا

'بے بی کو بیس پسند ہے' اب عمر کے ہاتھوں میں ڈھول تھا

'ابے چل یہ والا نہیں چکنی چمیلی والا گاؤ' بہروز جوش میں بولا

'یہ والا نہیں گرمی والا گاؤ' لالی نے بے شریوں کے ریکارڈ قائم کئے 'اچھا چھوڑو یہ والا گاتے ہیں مہندی ہے رچنے والی ہاتھوں میں گہرے لالی' اب وہ لوگ ٹریک پر آئے تھے لالی کھڑے ہوکر ڈھمکے لگانے لگی تھی جس پر عمر نے سیٹی ماری تھی

اتنے میں میر اور علی اندر آئے تو لالی نے میر کو دیکھ کر شرمانے کی ایکٹنگ کی اور دوپٹہ دانتوں میں لیا اور منہ نیچے جھکا لیا عجیب نمونہ لگ رہی تھی وہ میر نے علی کو دیکھا تو علی نے تائیدیتی نظروں سے اسے دیکھا اور دونوں نے ایک عجیب سی مسکراہٹ پاس کی تھی ایک دوسرے کو

💜💜

بیوٹیشن آگئی تھی اور ان چاروں دلہنوں کو لیے لالی کے کمرے میں بیٹھی تیار کررہی تھی کیونکہ میر کا کمرہ بڑا تھا سب سے زیادہ اسلئے دوسری طرف لالی نے بیوٹیشن سے ریڈی ہونے کو منع کردیا تھا کیونکہ اس کے مطابق وہ کوئی دولہن تھوڑی ہے اسکے کپڑے قرۃ بیگم اور ساجدہ بیگم کے آئیں تھیں اور انکی چوائس واقعی کمال کی تھی 

دلہنوں نے سیم ڈریسنگ کی تھی اورنج رنگ کی کرتی تھی اور اسکے نیچے گرین کلر کا لہنگا سر پر اورنج اور گرین کنٹراس کا دوپٹہ اور کندھے سے جھولتی فرینچ چوٹی جس پر موتی کے پھولوں کی لڑی لگی تھی ماتھے پر اور کانوں میں پھولوں سے بنی جیولری اور ہاتھوں میں گجرے اور چوڑیاں چاروں ہی پیاری لگ رہیں تھیں دوسری طرف لالی نے وائٹ شارٹ شرٹ کے نیچے ملٹی کلر کا لہنگا اور ملٹی کلر کا ہی دوپٹہ پہنا تھا لمبے بالوں کو ہلکا سا نیچے سے رول کیا تھا کانوں میں چھوٹی چھوٹی جھمکیاں اور ماتھے پر پھولوں کا تاج پہنے آنکھوں میں کاجل اور پلکوں پر مسکارا ہونٹوں پر گلوز لگائے وہ معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی وہ اپنے روم میں اکیلی تھی کیونکہ وہ چاروں نیچے بی جان کے روم میں تھیں اب

میر کمرے میں داخل ہوا تو اسکے ہاتھ میں پھولوں کے گجرے تھے اس نے لالی کے ہی لائے گئے کپڑوں میں سے مہندی رنگ کا کرتا پہنا تھا جسکے ساتھ ٹائیڈز تھے اسکا ورزشی جسم بہت نمایا لگ رہا تھا وہ بلکل پرنس چارم لگ رہا تھا 

'یہ لو یہ پہن لو' اس نے گجرے لالی کی طرف بڑھائے

'نہیں ہمیں نہیں پسند ہم نہیں پہنیں گے' وہ منہ بناکر بولی تو میر سر جھٹک گیا کیوٹ بہت تھی وہ

'لیکن مجھے بہت پسند ہیں' وہ محبت سے بولا تو لالی کی آنکھوں میں حیرت ابھری تھی

'آپ اب گجرے پہنیں گے' وہ حیرت زدہ سی بولی تو میر لب بھینچ گیا پاگل…

'میرا مطلب ہے تمہارے ہاتھوں کے لیے مجھے گجرے بہت پسند آئے' وہ دلچسپی سے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا جبکہ اسکی بات سن کر لالی نے اس سے ایسے گجرے چھینے جیسے وہ آخری ہوں

'پہلے بتاتے نہ ایویں میں ہم نے اتنا سارا بولا' لالہ رخ کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی وہ تو مبہوت ہوگیا تھا اسکے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ دیکھ کر اسکی طرف قدم بڑھایا وہ جو گجرے پہن رہی تھی خود کی طرف اٹھتے اسکے قدم دیکھ کر چونک ہی تو گئی تھی وہ آگے بڑھتا جارہا تھا اور وہ پیچھے ہٹتی جارہی تھی کب ڈریسنگ ٹیبل لالی کے راستے میں رکاوٹ بنی اسے پتا ہی نہیں چلا میر اسکے بلکل قریب آکر روکا تھا اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے ڈریسنگ پر بٹھایا اور اسکے دائیں بائیں بازو رکھے اور اسکی طرف جھکا لالی کو اپنے چہرے پر اسکی گرم سانسیں محسوس ہورہی تھی یہ پہلی بار تھا کہ وہ کانپ رہی تھی وہ زور سے آنکھیں مینچ گئی میر کو اسکی چھوٹی سی ناک بہت پسند تھی وہ کب بہکا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا پہلے اسکے ماتھے کو ہونٹوں سے چھوا پھر اسکے دونوں گالوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا اور پھر اسکی ناک کو پھر اسکی ٹھوڑی کو وہ اپنی سانسیں روک گئی تھی ہلکی ہلکی کانپ رہی تھی اپنے ہاتھ سے میر کا کالر جکڑ لیا تھا اس سے پہلے میر اسکے ہونٹوں پر جھکتا کہ دروازہ نوک ہوا تھا میر جیسے کسی ٹرانس میں سے واپس آیا تھا اس نے دیکھا لالی کے گال دہک رہے تھے شرم و حیا کی وجہ سے وہ مسکراتا ہوا اس سے دور ہوا اور دروازے سے باہر نکل گیا جبکہ وہ لمبے لمبے سانس لیتی خود کو پرسکون کرنے لگی 

'لگتا ہے اب پرنس یا پرنسز آنے والی ہے ہئے اللہ ہمیں تو بڑی شرم آرہی ہے' وہ بڑبڑاتی ہوئی شرم کو پرے پھینک کر مسکراتے ہوئے پیروں میں کھسے پہننے لگی تھی 

💜💜

 لان کافی بڑا ہونے کی وجہ سے فنکشن لان میں ارینج کیا گیا تھا سامنے سٹیج پر چار جھولے رکھے گئے جنہیں گیندے اور ہرے دوپٹوں سے سجایا گیا تھا جھولوں کے سامنے ایک بڑی ٹیبل تھی جیسی موتی کے پھولوں سے سجایا گیا تھا مہمان آنا شروع ہوگئے تھے آہستہ آہستہ کچھ ہی دیر میں پورا لان مہمانوں سے بھر گیا تھا لالی عمر اور بہروز کے ساتھ مل کر تصویریں بنوا رہی تھی کبھی جھولے پر بیٹھ کر کبھی نازش کے بچوں کے ساتھ تو پھر کبھی وہ عمر اور بہروز کی پکس لیتی جبھی اسکی نظر آئمہ اکرم پر پڑی جو اپنی بیٹی کے ساتھ اندر داخل ہورہی تھیں 

 'ہیلو پریٹی لیڈیز' وہ ان دونوں کے پاس آکر بولی تو آئمہ اکرم مسکرائیں تھیں جبکہ انکی بیٹی ابھی کنفیوژ تھی

 'عائشہ یہ میری چھوٹی سی فرینڈ لالہ رخ میر گیلانی ہے اور لالی یہ میری بیٹی عائشہ' انہوں نے تعارف کروایا تو عائشہ نے ہاتھ آگے کیا ملانے کیلئے جبکہ لالی تو سیدھا اسکے گلے لگ گئی تھی بھئی تکلف کیسا تو وہ بھی مسکرا کر گلے لگی تھی (ابھی تک لالی کو کوئی بھی سچ معلوم نہیں ہوا تھا) 

 تبھی گیٹ سے رابیعہ خان اندر داخل ہوئی تھی اسابیل ملک سے باہر تھا اسلئے نہیں آیا تھا جبکہ روشنی کی حالت بہت خراب تھی لالی تو سخت حیران ہوئی تھی اسے یہاں دیکھ کر گرین میکسی جسکی نیٹ کی آستینیں تھیں گلے میں دوپٹہ ڈالے وہ سادگی میں بھی کیا غضب ڈھا رہی تھی رابی کا صرف یہ حسن تھا جس کے سامنے تو لالی بھی ڈھیر ہوتی تھی ابھی بھی وہ اسکو دیکھ کر حیران کم ہوئی مبہوت زیادہ ہوئی رابی قدم قدم چل کر اسکے قریب آئی 

 'حیران ہوگئیں مجھے یہاں دیکھ کر' وہ اترا کر پوچھ رہی تھی

 'نہیں ہم تو پگھل رہے ہیں' وہ شوخ نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی 

 'مطلب' وہ ناسمجھی سے بولی

 'افف بہت خوبصورت ہو تم' وہ سچے دل سے اسکی تعریف کررہی تھی رابی کچھ پل حیران ہوئی لیکن پھر سر جھٹک گئی 

 'تم جل رہی ہو کیا' رابی نے مسکراتے ہوئے پوچھا جبکہ اس کی بات پر لالی نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر زور سے قہقہ لگایا

 'ہاہاہاہا دیکھو یار تم خوبصورت بہت ہو لیکن جلنے والی چیز نہیں ہو کیونکہ وہ چہرے کچھ اور ہوتے ہیں لائک وہ دیکھو وہ لوگ ہمیں دیکھ کر جل رہے ہیں کیونکہ ہم اس گھر کے سب سے بڑے بیٹے میر گیلانی کی بہو ہیں' وہ اسے پل میں آسمان سے زمین پر گرا چکی تھی رابی کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی کیونکہ اب اسکی آنکھوں میں جلن اتری تھی وہ کچھ نہ ہوکر بھی اسکے آگے سب کچھ تھی اور وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی کیونکہ اب جل تو وہ رہی تھی اس سے 

 'اینجوائے کرو کوئی کمی ہو تو ضرور بتانا' وہ بڑے حق سے کہہ رہی تھی اور اسکا یہ حق جتانا رابی کو اندر ہی اندر بھسم کررہا تھا 

💜💜

لال رنگ کے دوپٹے کے سائے میں دلہنوں کو لایا گیا جبکہ دولہے ڈولی میں آئے تھے یہ سب لالی نے کرا تھا اور اب اس عجیب سی انٹری پر حیران اور پریشان تھے 

اب رسمیں شروع ہوگئیں تھیں سب ان کو مہندی لگانے آرہے تھے اور لالی ڈی جے کی جگہ بیٹھی گانے لگا رہی تھی کیونکہ ڈی جے کی ڈیوٹی اسی نے ہی کرنی تھی کیونکہ اسکے مطابق گانے فنکشن کا سب سے مین ہارٹ ہوتا ہے اگر وہ ہی بے کار ہوگا تو فنکشن میں کیا خاک مزا آئے گا 

دوسری طرف رابی ایک بار پھر غلط کام کرنے نکلی تھی وہ لالی کو نیچا دکھانا چاہتی تھی اس نے اپنے پرس سے وہ نشے کی گولیاں نکالیں اور اسے ایک جوس میں اچھے سے مکس کردیا لیکن وہ غلطی سے وہ گولیاں وہیں بھول گئی تھی اور ساتھ میں اپنی ڈرنک بھی رابی نے وہ جوس ایک ویٹر کے ہاتھ لالی تک پہنچایا تھا اور لالی نے بنا کوئی اعتراض کیے لے لیا تھا دوسری طرف نازش کے بیٹے ارمغان نے وہ گولیاں اٹھا لی تھیں اس نے اس میں سے ایک گولی نکالی اور وہاں رکھے جوس میں ڈال دی تھی جبکہ ایک گولی ٹوفی سمجھ کر وہ خود بھی کھا چکا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ نشے میں ٹُن ہونا شروع ہوا تھا 

اِدھر رابی لالی کو دیکھ کر مزے سے بنا دیکھے جوس کے مزے لے رہی تھی اُدھر لالی نے ایک ہی سانس میں جوس گٹک لیا تھا کیونکہ پیاس لگ رہی تھی بے تحاشہ اب وہ تینوں نشے میں جھولنا شروع ہوئے تھے لالی کو نہیں پتا تھا وہ کیا کررہی ہے رابیعہ کو عادت تھی پینے کی لیکن گولیوں کو اثر زیادہ تھا وہ ایک جگہ بیٹھ گئی تھی اپنے سر کو سنبھال کر دوسری طرف ارمغان نشے میں کبھی ادھر گر رہا تھا کبھی ادھر اور تو اور عمر کا بھانجا ہونے کا فرض بھی خوب نبھا رہا تھا چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو چھیڑ رہا تھا

'ہئی توئیٹئ (سوئیٹی)' بولنا نہیں آتا تھا لیکن پھر بھی ادھر لالی نے بڑا پچھتاؤ گے گانا لگا دیا تھا جس پر سب سے زیادہ ارمغان جھوم رہا تھا سٹیج پر چڑھ کر سب لوگ اس پر زیادہ دھیان نہیں دے رہے تھے کیونکہ انکا دھیان تو لالی تو جو اب زور زور سے ہنس رہی تھی 

'ہاہاہاہا بہت پچھتاؤ گے تم سب ہاہاہا' اب اسکے قہقہے کے ساتھ رابیعہ نے ہنسنا شروع کیا تھا لیکن لالی اب خاموش تھی کیونکہ اب اس نے مائیک اٹھا لیا تھا

'SSP Sahab Can I ask you Something?'

اس نے معصومیت سے پوچھا تو میر چونکا اور ہاں میں سر ہلا دیا

'ایس ایس پی صاحب ہم دونوں کے بیچ وہ کچھ کچھ کب ہوگا جس کے بعد پرنس اور پرنسیز آتے ہیں' وہ اپنی آنکھیں بامشکل کھولتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اسکی بات پر پورے ہال نے قہقہ لگایا تھا محفل زعفران ہوئی تھی جبکہ میر شرمندہ ہوگیا تھا اور لالی کی طرف بڑھا تھا لیکن لالی وہاں سے اتر کر زمین پر بیٹھ چکی تھی ارمغان بھی اسکے پاس آگیا تھا

'مجھے کش کرنا (مجھے کس کرنا)' وہ لالی سے بولا تو لالی نے اسکو چٹاچٹ چوم ڈالا تھا میر اسکے پاس آکر رک گیا تھا اس نے ارمغان اور لالی کی آنکھوں کو غور سے دیکھا تو نشے کی وجہ سے وہ سرخ ہورہیں تھیں میر ٹھٹھکا تھا اس نے لالی کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ بہت ہی چپکے سے میر کے کرتے سے گن نکال چکی تھی جو وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا اور آج لالی کی نظر اس پر پڑ گئی تھی اور دوسری طرف رابیعہ نے میوزک سسٹم پر رام لیلی کا گانا لگایا تھا اور ساری لائیٹس آف کی تھیں کیونکہ اب چڑھ جو گئی تھی اسے وہ اسٹیج پر پہنچی تو سب اسٹیج کی طرف دیکھنے لگے تھے میر کی نظر بھی ڈانسینگ اسٹیج ہر گئی تھی لالی اور ارمغان وہیں بیٹھے گن سے کھیلنے میں لگے تھے تبھی گانا اسٹارٹ ہوا تھا 

رام چاہے لیلی چاہے لیلی چاہے رام

ان دونوں کے لوو میں دنیا کا کیا کام

اوہ رام چاہے لیلی چاہے لیلی چاہے رام

ان دونوں کے لوو کا دنیا میں کیا کام

انکا تو فنڈی ہے سمپل سا یار

گولی مارو تو پنگا آنکھ مارو تو پیار

رام چاہے لیلی چاہے لیلی چاہے رام

ان دونوں کے لوو میں دنیا میں کیا کام

رابیعہ خان کو سب لوگ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے اسکی پوری بوڈی ڈانس کررہی تھی کتنی لچک تھی اسکی چال میں وہ وہاں کھڑے مردوں کا ایمان ڈگمگا رہی تھی تبھی سپاٹ لائٹ لالی کی طرف ہوئی تھی لالی نے گن نکالی اور سپاٹ لائٹ کا نشانہ لیا تھا 

رکھ پوکٹ میں گھوڑا تے گھوڑے کو لگام

رکھ پوکٹ میں گھوڑا تے گھوڑے کو لگام

اور ایک "ٹھاہ" کرکے آواز آئی تھی اور اسپاٹ لائٹ کی دھجیاں اڑیں تھیں وہاں موجود لڑکیوں کی چیخیں نکلی تھیں جبکہ میر کا ہاتھ بے ساختہ اپنی گن پر گیا تھا جو وہاں تھی ہی نہیں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو لالی ہاتھ میں گن کیے گھڑی تھی کتنے ہی لوگوں نے اسے گن چلاتے ہوئے دیکھا تھا میر نے اس سے گن چھینی تو وہ اور ارمغان اسٹیج پر چڑھ گئے تھے

رام چاہے لیلی چاہے لیلی چاہے رام

ان دونوں کے لوو کا دنا میں کیا کام

پہلے جو لوگ رابی کو دیکھ رہے تھے اب وہ ارمغان اور لالی کا ڈانس دیکھ رہے تھے لالی کو تو صرف ایک ہی کام اچھا آتا تھا ڈانس کرنا جو وہ کررہی تھی اور ارمغان وہ نشے میں ٹُن اسٹیج پر لیٹ گیا تھا نازش نے گے بڑھ کر اسے اٹھایا تھا اور اسے لیے ایک چئیر پر آ بیٹھی تھی

لگے سارے دشمن دکھے سب میں چور

لگے سارے دشمن دکھے سب میں چور 

تیری بالکونی میں بیٹھا ایک مور

موروں کی ہے مسٹک رام لیلی بدنام

لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ لالی کو دیکھیں یا رابی کو ادھر رابی نے لالی کو مارنے کیلئے شیشہ کا گلاس اٹھا لیا تھا اور اسے کھینچ کر مارا وہاں سب لوگ چیخے 'لالی' لالی نے ایک ہاتھ سے اس گلاس کو کیچ کیا تھا کسی نے میوزک بند کیا اور لائیٹس آن کیں تھیں لالی گرتے گرتے رابی کے پاس پہنچی سب لوگ جو اسکے پاس آرہے تھی رابیعہ اور لالہ رخ نے اپنے ایک ہاتھ سے ان لوگوں کو وہیں رکنے کا اشارہ کیا تھا 

'تم تم نے میر کو کیوں چھینا مجھ سے' رابی کی آنکھ سے آنسُو گرا 

'ہم نے کب چھینا' وہ آنکھیں سکیڑ کر بولی تھی 

'تم نے چھین لیا مجھے آنا تھا یہاں تمہاری جگہ میں نے جنید کو بھی ماردیا' اسے پانے کے لیے سارا الزام تم پر ڈالا تمہیں ہرایا لیکن تم پھر بھی جیت گئیں' وہ اب باقاعدہ رو رہی تھی لالی نے اسکو گلے لگا لیا

'کوئی بات نہیں رو لو تھوڑا سا دل ہلکا ہو جائے گا' وہ اسے دلاسے دینے لگی تھی اور رابی کب اسکے کندھے سے لگتے لگتے سو گئی پتا ہی نہیں چلا 

'ارے تم سو گئیں لیکن ابھی تو چندا ماما نہیں آئے' لالی نے ایک اور سوال کیا 'عمرررررررر' وہ چیخی تو عمر میر ساجدہ بیگم اور قرۃ بیگم اسکی طرف آئیں 'یہ نہ سو گئی ہے اسے سلادو بےچاری تھک گئی ہے لڑ لڑ کر دیکھو کتنی کیوٹ اور کتنی پیاری ہے' وہ مسکراتے ہوئے اسکی تعریفیں کررہی تھی جبکہ میر حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کیا ہے یہ لڑکی ساجدہ بیگم نے اسے کمرے میں پہنچانے کا انتظام کروایا تھا لالی کھڑی ہوئی میر اسکے پیچھے تھا وہ تھوڑا سا چلی تھی کہ چکرا کر میر کے بازوؤں میں گری تھی تبھی نازش بھاگتی ہوئی آئی اور لالی کو حیرت سے دیکھنے لگی 

'میر ارمغان کو دیکھو کیا ہوگیا ہے اسکو ہوش نہیں آرہا' وہ رو رہی تھی میر نے علی کو اشارہ کیا تو علی اسے کے کر اندر چلا گیا میر نے لالی کو بازوؤں میں بھرا اور اندر کی طرف قدم بڑھائے وہ مستقل کچھ نہ کچھ بڑبڑا رہی تھی پاؤں جھلاتی دونوں بازو میر کی گردن میں ڈالے چہرے پر مسکراہٹ سجائے میر کے کندھے پر سر رکھے نیم غنودگی میں تھی 

میر نے اسے بھی ارمغان کے ساتھ لٹایا علی پہلے رابیعہ کا چیک اپ کرچکا تھا اب ان دونوں کا کررہا تھا 

'نشہ آوار چیز کھائی ہے ان تینوں نے اسلئے ایسا بی ہیو کررہے تھے میں نے انجیکشن لگا دیا ہے صبح تک ٹھیک ہو جائیں گے' علی نے تمام باتیں ان سب کو بتائیں فنکشن اب ختم ہوچکا تھا 

💜💜

صبح کے ایک بجے کسی کے رونے کی آواز سن کر لالی کی آنکھ کھلی تھی سر میں شدید درد ہورہا تھا اس نے ایک نظر اپنے برابر میں دیکھا تو ارمغان رو رہا تھا لیکن کیوں اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا کہ کل کیا ہوا تھا رابی صبح ہوش میں آتے ہی گھر چلی گئی تھی تبھی علی اندر داخل ہوا تھا شکنجی کے دو گلاس لے کر ایک ارمغان کو دیا اور دوسرا لالی کو ارمغان نے سارا پی لیا تاھا جبکہ لالی کو چکر آرہا تھے

'یہ دیکھنے کے لیے نہیں پینے کے لئے دیا ہے' علی نے اسکی توجہ گلاس کی طرف کروائی

'لیکن یہ ہم کیوں پئیں اور ہمیں اتنے چکر کیوں آرہے ہیں' اس نے سوال پوچھا 

'پہلے پیو اسکے بعد بتاؤں گا' علی نے کہا تو اس نے سارا گلاس ختم کیا تو سر کے درد میں واضح کمی محسوس ہوئی تھی 

'اب ٹھیک ہوگیا درد' علی نے اب ارمغان سے پوچھا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا اور چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کیے 'اب بتاؤ تم لوگوں نے کل کیا کھایا تھا' علی نے دونوں کی طرف دیکھ کر پوچھا 

'توفی (ٹوفی)' ارمغان نے دوبارہ گلاس لبوں سے لگایا تھا 

'کونسی ٹوفی' علی ٹھٹھکا تھا جبکہ لالی کو تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

'ہاں ہم نے کل جوس پیا تھا' لالی نے دماغ پر زور ڈال کر کہا تو علی نے سمجھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا 

'چلو چھوڑو ان سب باتوں کو اور جاکر ریڈی ہو آج تو برات ہے' علی کی بات پر لالی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی جبکہ علی کی نظریں لالی کی پیٹھ پر تھیں 

💜💜

بارات نکلنی تھی لیکن کچھ رسمیں رہ گئیں تھیں دولہوں کی دلہنیں ہال پہنچا دی گئیں تھیں جہاں قرۃ بیگم پہلے ہی پہنچ گئیں تھیں بارات کیلئے ہوٹل میں بولنگ کرائی تھی 

لالی نے سرمہ لگانے کی رسم نبھانی تھی لیکن وہ خود غائب تھیں کیونکہ انکی سینڈلز نہیں مل رہیں تھیں میر علی سب نیچے کھڑے اسکا انتظار کررہے تھے تبھی وہ مغرورانہ چال چلتی ہوئی سیڑھیاں اترنے لگی تھی لائٹ پنک کرتی جس پر گولڈن رنگ کی ایمبرائیڈری تھی اس کے نیچے گولڈن رنگ گہر دار گرارا پہنے دو گز دوپٹے سے الجھتے ہوئی نیچے آئی میر جو اس کا ہاتھ تھامنے کیلئے آگے بڑھ رہا تھا رک گیا کیونکہ انصار صاحب لالی کے سامنے اپنی مضبوط ہتھیلی پھیلائے کھڑے تھے لالی نے ایک نظر میر کی طرف دیکھا جو مسکرا رہا تھا پھر اس نے اپنا ہاتھ انصار کے ہاتھ پر رکھ دیا جسے وہ خوش دلی سے تھام کر آگے بڑھے اور اپنے کچھ دوستوں سے ملانے لگے 

اور پھر لالی نے سرمہ لگانے کی رسم نبھانی جس پر اسے نیگ میں سفیان کی طرف سے ڈائمنڈ نیکلیس ملا حمدان کی طرف سے گولڈ کے نفیس سے جھمکے اور وجدان اور ریان نے اسے گفٹ میں اپنا پہلا پروجیکٹ جو انہوں نے اسکے نام پر کیا تھا اسکے پیپرز دیے لالی اتنی محبت پر خوشی سے نہال ہوگئی تھی

کچھ ہی دیر میں برات نکلی تھی لالی میر بی جان ساجدہ بیگم اور بانو بی ایک ہی گاڑی میں تھے دوسری گاڑی میں فہیم صاحب انصار صاحب شیراز صاحب عمر اور بہروز بیٹھے تھے جبکہ دولہے سارے ایک ہی گاڑی میں تھے انکے ساتھ ایک علی موجود تھا لیکن پھر بھی ڈرائیونگ ریان کررہا تھا محترم کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی ہال پہنچنے کی اور باقی مہمانوں کی گاڑیوں بھی پیچھے تھیں 

💜💜

"بارات آگئی" کوئی زور سے چیخا تھا ان چاروں کا دل دھڑکا تھا زور سے تبھی باہر ڈھول اور نگاروں کی آواز آئی 

ڈھوک کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے جارہے تھے پنجاب ہے بھئی بھنگڑے ڈالے بغیر شادی شادی لگتی ہی نہیں ہے عمر اور بہروز خوب ناچے تھے لالی بھی کونسا پیچھے رہی کود پڑی تھی خوب ہاتھ ہلا ہلا کر ناچی تھی وہ اسکو دیکھ کر عمر اور بہروز اور مزید ناچے تھے علی سے بھی نہ رہا گیا تو وہ بھی آگیا تھا اور اب چاروں مل کر ناچ رہے تھے اور جیسے ہی ڈھول بجانا بند ہوتا لالی کی ایک آواز آتی تھی ارے بجاؤ بھئی آج تو جم کر ناچیں گے ان چاروں پر سے انصار صاحب فہیم صاحب اور شیراز صاحب نے بڑے بڑے نوٹ وارے تھے 

اندر چلے تو کچھ دروازے پر بھی رسمیں ہوئیں جو قرۃ بیگم اور ساجدہ بیگم نے کیں تھیں بی جان دلہنوں کی نظریں اتار رہیں تھیں

آج رابیعہ نہیں آئی تھی اور لالی اسے ڈھونڈ رہی تھی کیونکہ آج پھر وہ اس کے کپڑوں پر چٹ لگا کر گئی تھی جس پر لیکھا تھا کہ 

"تمہارا بھائی آنے والا ہے"

وہ تو ان سب باتوں کی وجہ اس سے کل بھی پوچھنا چاہتی تھی لیکن کل اس کے دماغ سے نکل گیا تھا اس نے سر جھٹک دیا ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو بہروز کسی کو نظروں کے حصار میں لیے کھڑا تھا اس نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو ایک چھوئی موئی سی لڑکی کھڑی تھی اس کا منہ پھولا ہوا تھا وہ تقریباً اٹھارہ سال کی لگ رہی تھی لائٹ گرین کلر پہنے بے انتہا معصوم 

'اوہ تو محترم کا نین مٹکا سٹارٹ ہوگیا ہے آئی سی' لالی چہرے پر شریر سی مسکراہٹ سجائے اس لڑکی کی طرف بڑھی 

'ہیلو پرینسیز' لالی نے مسکرا کر اسکی طرف ہاتھ بڑھایا

'ہیلو آنٹی' وہ بچوں جیسے لہجے میں پلکیں جھپکتی ہوئی بولی تو لالی کو اس کے دماغی حالت پر شہبہ ہوا

'ہم آپ کو آنٹی لگ رہے ہیں' لالی نے مصنوعی حیرت سے کہا تو اسکی آنکھوں میں خوف ابھرا

'نہیں نہیں سوری وہ ایرا بےبی ماما سے ناراض ہے اسلئے نوٹس نہیں کیا' وہ جلدی سے نفی میں سر ہلا کر بتانے لگی تو لالی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی

'تو آپکا نام ایرا بےبی ہے' لالی اب اسے کے کر ایک جگہ پر بیٹھ گئی تھی 

'افف نہیں صرف ایرا' اس نے سر پر ہاتھ مار کر لالی کی عقل پر ماتم کیا 

'اچھا تو ایرا بےبی ایک بات بتائیں وہ کیسا لگتا ہے' لالی نے بہروز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا تو اسے دیکھ کر ایرا کے چہرے پر ناراضگی در آئی جبکہ خود کی طرف اشارہ ہوتا دیکھ بہروز گڑبڑایا تو لالی کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی

'وہ بلکل بھی اچھا نہیں ہے تمہیں پتا ہے اس نے میری چوکلیٹ چھینی اور پھر کھا گیا' اس نے لالی سے اسکی شکایت لگائی تو لالی کو تو جم کر غصہ آیا اس پر اور ایک ہی آواز میں بہروز کو اپنے سامنے کھڑا پایا 

'یہ چوروں والی حرکتیں کب سے کرنے لگے تم اب تم جاؤ اور ہماری فرینڈ کیلئے چوکلیٹ کے کر آؤ' اس نے حکم صادر کیا تھا اور بہروز تو جیسے تھا ہی غلام پلک جھپکتے غائب ہوا لالی اسکی طرف مڑی ور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا 'وی آر فرینڈز؟' تو اس نے ہاں میں سر ہلاتے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا لالی نے اس کی مدر سے پرمیشن لی اور پھر اسے اپنے ساتھ لگائے جگہ جگہ گھوم رہی تھی تبھی دلہنوں کو لایا گیا تھا اور اپنے اپنے دولہوں کے ساتھ بٹھایا گیا 

💜💜

دودھ پلائی کی رسم ہوئی تو لالی نازش اور ایرا (جسکا ہاتھ لالی نے پکڑ رکھا تھا) اسٹیج پر آئے نازش کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں دودھ کے چار گلاس تھے جبکہ لالی کے ایک ہاتھ میں چار فیڈر تھے 

'اٹینشن پلیز آج بات عزت کی ہوگی دودھ پلائی کی نہیں' لالی قدرے سنجیدگی سے بولی جبکہ نامحسوس انداز میں بہروز ایرا کے ساتھ کھڑا ہوگیا تھا اور اسے چوکلیٹ دے رہا تھے وہ جو ناراض تھی اب چوکلیٹ کھا رہی تھی 

'مطلب' علی نے پوچھا

'مطلب یہ کہ اگر پچاس ہزار سے ایک ڈھیلا بھی کم کیا تو اسے فیڈر سے دودھ پلایا جائے گا ارے بھئی مرد تو وہ ہے جسے اپنی بیوی کے علاؤہ اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی' وہ جی کڑا کر بولی اور پھر انکے سامنے ہتھیلی پھیلائی

'بھکاری' عمر نے ہانک لگائی 

'کیوں تم مرد نہیں ہو کیا' لالی نے مسکراتی نظروں سے اسے دیکھا

'یار یہ کچھ زیادہ نہیں ہیں' سفیان نے داڑھی کھجاتے ہوئے کہا

'نہ ابھی تو ہولا ہاتھ رکھا ہے' نازش بولیں

'بھائی پانچ ہزار دیں کافی ہیں آپکو پتا نہیں ہیں اور لوٹنا ہے انہوں نے گھر جاکر' عمر نے روکنا چاہا اور پھر اسی ہلکی پھلکی نوک جھونک کے بعد دودھ پلائی کی رسم پوری ہوئی اور پھر اسی طرح رخصتی ہوگئی 

💜💜

سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے دلہنوں کو بھی کمروں میں پہنچا دیا تھا لالی کچن میں کچھ کھانے کیلئے ڈھونڈنے آئی تھی تبھی بہروز کچن میں داخل ہوا

"بہرو بھیا" لالی جب بھی خوش ہوتی تھی بہروز کو اسی طرح پکارتی تھی

'جی بھیا کی جان' اور وہ ہمیشہ اسکے طرزِ تخاطب پر نہال ہوجاتا تھا

'ایرا بہت پیاری ہے' وہ صدق دل سے بولی تھی تو بہروز کے چہرے پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی تھی 'تو بتائیں جب بات کریں بی جان سے' اس نے اسکی مسکراہٹ دیکھتے ہوئے کہا 

'سچ میں تم یہ کرسکتی ہو' اس نے بے یقینی سے پوچھا تو لالی نے جوش سے اثبات میں سر ہلایا

'تمہیں اسکی مینٹلی کنڈیشن سے کوئی پروبلم تو نہیں ہے نہ' لالی نے دل میں پنپنے والا سوال پوچھا 

'میں نے اسے تین سال پہلے دیکھا تھا وہ تب بلکل ٹھیک تھی یہ تو ایک سال پہلے اسنے اپنے باپ کے انتقال کا صدمہ لے لیا تھا جس کی وجہ سے اسکا زہنی توازن بگڑ گیا ہے لیکن تمہیں پتا ہے میں اس سے دو سال سے محبت کرتا ہوں اور اسے اپنی محبت سے بلکل ٹھیک کر دوں گا' اسکے لہجے میں ایرا کیلئے محبت نہیں عشق تھا عزت والا عشق جسے دشتِ عشق کہتے ہیں 

'یاد رکھنا بہرو ہماری دوست کو اتنی سی بھی تکلیف دی نہ تو ہماری جو ہڈیاں کڑکا دینے والی جمناسٹک ہے نہ اسکا ایک عملی مظاہرہ کریں گے تم پر' وہ باقاعدہ دھمکی دی رہی تھی تو بہروز کو علی کی باتیں یاد آئیں

(چاروں کو بری طرح مارا ہے اس نے ان میں سے ایک کومہ میں ہے اور دوسرے کے ہاتھ کا وہ حال کیا ہے کہ اسے کاٹنا پڑی گیا ہے اور صرف یہی نہیں کراچی میں بھی وہ ایسے مہان کارنامے انجام دیتی رہی ہے) بہروز نے تھوک نگلا اور ہاں میں سر ہلا کر ادھر ادھر ہوگیا

💜💜

بہروز اور ایرا کی بات فکس ہوگئی تھی سارے نیولی کپلز ہنی مون پر جا چکے تھے لالی کو ہسپتال سے کال کی گئی تھی کہ اسے روشنی نے بلایا ہے اسلئے تھوڑی دیر میں وہ ہسپتال میں موجود تھی صرف وہ ہی نہیں اسکے ساتھ آئمہ اکرم بھی موجود تھیں وہ سب ہسپتال کے اس ٹھنڈے کمرے میں موجود تھے لالی تو اپنی دوست کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی صدیوں کی بیمار لگ رہیں تھیں روشنی 

'ہوا کیا ہے آپکو کوئی بھی لیڈی اتنی بیمار تو نہیں ہوتی' لالی فکرمند تھی

'تم یہ سب چھوڑو ہمیں تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے' روشنی نے بات بدلی

'پہلے آپ ٹھیک ہو جائیں اسکے بات ہم ساری باتیں کریں گے اوکے' وہ وقت کی نزاکت کو نہیں سمجھ رہی تھی یا سمجھنا نہیں چاہتی تھی آئمہ اپنے ہاتھ میں پکڑے کچھ پیپرز چیک کررہیں تھیں انہوں نے فکرمندی سے لالی کو دیکھا وہ روشنی کی حالت کے بارے میں جانتی تھیں

'سب چھوڑو اور دھیان سے میری بات سنو وعدہ کرو جو بھی میں کہوں گی تم وہ پورا ضرور کروگی' ان کے اتنے مان سے کہنے پر لالی نے سر ہاں میں ہلایا 'تمہیں پتا ہے میں کس کی بیوی ہوں' وہ تمہید باندھ رہیں تھیں لالی نے ناں میں سر ہلایا 'میں اسابیل عثمانی کی بیوی ہوں تمہارے باپ کی بیوی' انہوں نے لالی کے سر پر دھماکہ کیا تھا 

'لیکن بب…بابا تو ہماری پیدائش پر ہی انتقال کرچکے تھے تو آپ انکی بیوی کیسے ہوئیں' لالی کو کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس ہوا تھا

'بیٹا تمہارا باپ زندہ ہے اور میں انکی دوسری بیوی ہوں…' وہ روانی میں بول رہیں تھیں سچ اور جھوٹ ملا کر تبھی لالی نے انکی بات بیچ میں کاٹی

'اگر بابا زندہ ہیں تو ماما بھی حیات ہونگی لیکن بابا نے آپ سے دوسری شادی کیوں کی آپ جھوٹ بول رہیں ہیں' لالی کو زرا یقین نہیں آرہا تھا تبھی آئمہ گے آئیں اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے

'تمہاری ماں اس دنیا میں نہیں ہے کیونکہ تمہاری ماں کو تمہارے اس مردود باپ نے گاڑی میں بومب فٹ کرکے اسے جان سے مارا تھا' وہ حقارت سے بولیں لالی دم سادھے انہیں سن رہی تھی 

'آپ ہماری ماں کو کیسے جانتیں ہیں' لالی نے اپنا رخ انکی طرف کیا

'تمہاری ماں اور میں تمہارے باپ کے ساتھ ایک ہی یونی میں پڑھتے تھے تمہارے باپ نے زبردستی شادی کی تھی تمہاری ماں سے' ان کی اس بات پر لالی بری طرح ٹھٹھکی زبردستی شادی تو پھر بھاگ کر شادی کا طعنہ کیا تھا 'ہم لوگ ہی نہیں ہماری یونی میں زمان شاہ اسماعیل آفندی اور طارق خان بھی پڑھتے تھے' یہ ایک ایسی بات تھی جس سے لالی بے خبر تھی 

'ایک منٹ زمان بابا نے بتایا تھا کہ ان دونوں نے بھاگ کر شادی کی تھی' لالی بہت زیادہ کنفیوژ تھی اسکی بات پر آئمہ اکرم اور روشنی نے پہلو بدلا تھا یہ بات تو سرے سے جھوٹ تھی کہ ان دونوں نے شادی کی تھی

'کیا ان دونوں نے بھاگ کر شادی کی تھی سوری مجھے اس بارے میں جو پتا تھا میں نے بتا دیا' اس بار انہوں نے سچ بولا تھا 

'لیکن بابا نے ماما کی جان کیوں لی تھی اور زمان بابا نے کہا تھا کہ رپورٹس کہ مطابق گاڑی میں ایک آدمی بھی موجود تھا جو بابا تھے' اس نے پھر سوال کیا تو آئمہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے پیپرز میں سے ایک پیپر اسکی طرف بڑھایا 

'یہ دیکھو رپورٹس میں ردو بدل کیا گیا تھا اس گاڑی میں کوثر کے ساتھ کوثر کا بھائی موجود تھا' رپورٹس میں حرف بہ حرف وہی لکھا تھا جو آئمہ کہہ رہی تھیں اس نے ایک نظر آئمہ کی طرف دیکھا اور دوسری نظر روشنی پر ڈالی جسکا تھوڑی دیر بعد آپریشن تھا وہ شدید ٹینشن میں تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا 

'ریلیکس اور میری بات غور سے سنو تمہارا باپ ایک نہایت ہی نیچ انسان ہے اور اسکا ثبوت اس میں ہے' آئمہ نے ایک اور فائلز اسکی طرف بڑھائی لالی نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر فائل کو پڑھنے لگی وہ جیسے جیسے پڑھتی جارہی تھی اسکی آنکھون میں خون کی لکیریں نمایا ہورہی تھیں اسکا باپ ایک زانی تھا وہ ایک ایسے باپ کی بیٹی تھی جو زنا کرتا تھا اسکا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے ایک ہاتھ سے فائلز کو دور پھینکا اور خود روشنی کی طرف پلٹی 

'آپ بھی شامل تھیں ہمارے باپ کے ان کالے کارناموں میں' لالی کی آواز سرد تھی روشنی کو اپنی ریڑھ کی ہڈی سنسناہٹ محسوس ہوئی

'اگر میں اسکے ساتھ شامل ہوتی تو تمہیں آج یہاں نہ بلاتی' انہوں نے دو ٹوک لہجے میں کہا تو لالی نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا اور پھر آئمہ کی طرف بڑھی

'ہماری ماں کو کیوں مارا تھا انہوں نے محبت کرتے تھے نے وہ پھر کیا ہوا' وہ اس وقت سنجیدگی میں ڈوبی کوئی اور ہی لالی لگی تھی ان دونوں کو

'تمہاری ماں کی دولت کی وجہ سے' 

'لیکن دولت تو انکے پاس بھی بہت ہے' لالی کو یہ جواز عجیب لگا تھا

'یہ جو دولت اسکے پاس ہے نہ تمہاری ماں کی مرہونِ منت ہے اس نے ہی صرف چالیس پرسنٹ اسابیل کے نام کیا تھا لیکن سکسکٹی پرسنٹ ابھی بھی اسکے پاس نہیں ہے جسے حاصل کرنے کیلئے اس نے کؤثر کا پورا خاندان ختم کردیا وہ اس دولت کو حاصل کرنا چاہتا ہے اور جس کیلئے وہ کچھ بھی کرسکتا ہے اور اس سکسکٹی پرسنٹ میں ایسی ایسی زمینیں ہیں جو اسے راتوں رات مالا مال کرسکتی ہیں' آئمہ کی بات پر لالی چونکی تھی

'باقی کا سکسٹی پرسنٹ کس کے پاس ہے؟' لالی نے کچھ سوچ کر پوچھا تو اسکی اس بات پر آئمہ اور روشنی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائیں

'تمہارے پاس کیونکہ اس خاندان کی واحد فرد بچی ہو تم' لالی کے چہرے پر یہ بات سن کر ایک شاطر سی مسکراہٹ ابھری تھی آئمہ نے سارے پیپرز اسکی طرف بڑھائے اور اسکے ہاتھوں میں ہیں تھمایا لالی نے سارے پیپرز پڑھے اور ان سب پر سائن کیا آئمہ نے ایک پرسکون سانس خارج کی دل سے بہت بڑا بوجھ سرک گیا تھا جائیداد اسکے حقدار کو مل چکی تھی

'اب' لالی نے پیپرز آئمہ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا

'اب روشنی نے ایک فیصلہ لیا ہے لالی کیونکہ تم تو جانتی ہو کہ وہ تمہاری سوتیلی ماں ہے لیکن ماں تو ہے اور ماں کا کام ہے اپنے بچوں کی زندگی کا فیصلہ کرنا اور تم بھی تو اسکی اولاد جیسی ہی ہو' وہ نرمی سے کہہ رہی تھی لالی مسکراتے ہوئے انکی طرف آئی تو انہوں نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا روشنی نے آئمہ کو کچھ لانے کا اشارہ کیا اور پھر اپنی بات شروع کی

'تمہیں پتا ہے میں ہمیشہ تمہیں دیکھ کر سوچتی تھی کہ اگر میری بیٹی ہوئی تو وہ تمہاری جیسی ہوگی لیکن اب دیکھو میرا چھوٹا سا بیٹا آنے والا ہے لیکن پھر جب میں نے سوچا کہ میرے پاس بیٹی کیوں نہیں ہے تو اسکے جواب میں ہمیشہ تم آتی تھیں میری نظروں میں اور پھر دل میں ٹھنڈک اتر جاتی تھی آج میں تم سے ایک وعدہ لینا چاہتی ہوں' انہوں نے امید بھری نظروں سے لالی کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے انہیں ہی دیکھ رہی تھی

'اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے اور میں زندہ نہیں بچتی تو میرے بیٹے کو اس شیطان سے دور لے جانا اسے اپنی آغوش میں پالنا وعدہ کرو مجھ سے لالی تم میرے بیٹے کو اپنی جان سے بڑھ کر رکھو گی تم اسے اسابیل سے بچاؤگی وعدہ کرو' روشنی اب رو رہی تھی بے بسی ہی بے بسی تھی وہ جانتی تھیں انکا شوہر کیا چیز ہے تو پھر لالی تو اسی کی بیٹی ہے وہ جانتی تھیں جب خون سے خون ٹکرائے گا تو طوفان آئے گا اور اس طوفان میں ضرور اسابیل ہارے گا 

'آپ اتنی بڑی زمہ داری ہمیں کیسے دے سکتی ہیں آپ اپنے بیٹے کیلئے ہم پر کیسے بھروسہ کرسکتیں ہیں اگر کبھی ہم سے کوئی کمی بیشی ہوگئی تو ہم آپکو کیا منہ دکھائیں گے ہم اتنی بڑی زمہ داری نہیں کے سکتے اور پھر آپ بھی تو یہیں ہیں' لالی کے دماغ نے کام کرنا بند کردیا تھا وہ شدید جلدبازی کا شکار تھی تبھی آئمہ نے روشنی کے ہاتھ میں وہی کفن کا ٹکڑا تھمایا تھا جو انہوں نے قرآن میں رکھا تھا

'بیٹا مجھے بلڈ کینسر ہے ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ ڈلیوری کے وقت میری موت ہوسکتی ہے میں مرجاؤں گی لیکن میں مرنے سے پہلے اپنے بچے کو محفوظ ہاتھوں میں دینا چاہتی ہوں کہو تم اپنے بھائی کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو تمہیں تو بہن کہنے کا بھی حق نہیں ہے کیسی بیٹی ہو تم اپنی ماں کی بات نہیں مان سکتیں' اب وہ اسے ایموشنلی ویک کررہی تھیں لالی نے ضبط سے نکھیں بند کیں نہیں وہ ایک اچھی بیٹی ہے اور اب وہ ایک اچھی بہن بھی ثابت ہوگی وہ نہیں جانتی تھی وہ کیسے رکھے گی اپنے بھائی کو لیکن بس اس وقت اپنی ماں کی یہ حالت دیکھ کر دل کٹ رہا تھا 

'ہم قسم کھاتے ہیں ہماری رگوں میں دوڑتے خون کی حفاظت کریں گے اسکی اسکو اپنی جان سے بڑھ کر رکھیں گے جان دے دیں گے اپنی لیکن اس پر خراش نہیں آنے دیں گے' لالی نے کبھی قسم نہیں اٹھائی تھی آج پہلی بار تھا کہ وہ قسم اٹھا رہی تھی روشنی روتے ہوئے مسکرائیں اور اسے خود میں بھینچ گئیں کچھ دیر بعد اسے خود سے دور کیا اور لالی کے بازو پر وہ کفن کا ٹکڑا باندھا 

'یہ کیا ہے' لالی نے اپنی سرخ آنکھوں کو مسلتے ہوئے کہا 

'یہ کفن کا ٹکڑا ہے جسے میں نے وعدے کی نشانی بنایا ہے کہ تم صرف میرے بیٹے کی حفاظت ہی نہیں کروگی بلکہ تم اپنی ماں اور اسکے خاندان کے خون کی بوند بوند کا حصاب لوگی' وہ اس ٹکڑے پر گِٹھان لگاتے ہوئے اسکے دماغ میں اپنی باتوں کا نقش چھوڑ رہیں تھیں لالی کے دماغ میں انکی ہر بات چھپ گئی تھی تبھی آئمہ ہانپتی ہوئی آئی تھیں

'اسابیل پہنچ گیا ہے لالہ رخ ہمیں ہیں سے نکلنا ہوگا' لالی نے ایک آخری اور بھرپور نظر روشنی پر ڈالی اور آئمہ اکرم کے ساتھ باہر نکلی تبھی سامنے سے آتا اسابیل نظر آیا آئمہ نے اسابیل کی طرف اشارہ کیا اور کہا "اسابیل عثمانی" 

💜💜

لالی گھر پہنچی تو گھر میں چاروں اور اندھیرا تھا اسے لگا شاید لائٹ چلی گئی ہو اس نے زیادہ دھیان نہیں دیا لیکن تبھی پورا گھر روشن ہوا تھا نظریں سامنے اٹھیں تو پلٹنا بھول گئیں تھیں سامنے دیوار پر 

"Happy Anniversary"

لکھا تھا

'آج ہماری اینیورسری ہے' وہ فرطِ جذبات میں چیخ پڑی تھی تبھی میر نے کہا 

'جی ہاں آج ہماری اینیورسری ہے' میر نے اسکے کان میں کہا تھا تو لالی اچھل کر پیچھے مڑی تو میر کھڑا مسکرا رہا تھا

'گھر پر کوئی نہیں ہے کیا بی جان ڈیڈ وغیرہ کہاں ہیں' اس نے سوالیہ نظروں سے میر کو دیکھا 

'یہ ہماری نائٹ کے اور کسی کی بھی نہیں' وہ بہت بھرے لہجے میں بولا 'تم نے آج کی رات کو کچھ خاص نہیں بنانا کیا' میر کا لہجہ عجیب تھا لیکن لالی کو خوشی ہی اتنی تھی کہ اس نے اسکے لہجے پر غور نہیں کیا

'بنانا ہے نہ بتائیں آپ کیا چاہتے ہیں' لالی نے اسکے قریب آکر کہا تو میر نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے مزید قریب کیا

'اظہارِ عشق سننا ہے تمہارا' میر کی خواہش پر لالی کی مسکراہٹ گھری ہوئی

'یہ مجرم قانون کے اس پاسدار سے بے حد عشق کرتی ہے' وہ بہکی بہکی سی ہلکی آواز میں بولی 

'زرا رور سے کہو کہ یہاں کی در و دیوار ہل جائے تمہارے اظہار سے' میر نے اسے اور قریب کیا لالی کھلکھلا کر ہنسی تھی 

"جھک کر تیرے آگے ہم یہ اقرار کرتے ہیں

ہم تم سے ہماری جان بے حد عشق کرتے ہیں" 

اسکی آواز اتنی اونچی تھی کہ پورا گھر گونج اٹھا تھا اسکے اظہار پر اسکی آواز میں اس قدر سچائی تھی کہ اسکی آنکھوں سے دو قطرے آنسو کے گرے تھے تبھی میر نے جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا تھا لالی اسکے خود سے دور کرنے پر زمین بوس ہوئی تھی لیکن وہ بجائے برہم ہونے کے مسکرائی 

'کبھی اظہارِ عشق کرواتے ہو کبھی گراتے ہو یار اب اتنی بھی خطائیں نہ کرو' وہ دوبارہ کھڑی ہوتی ہوئی بولی تبھی پیچھے سے کسی کے قہقہ لگا ے کی آواز آئی تھی لالی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو علی کھڑا تھا 

'علی بھائی بہن کا مزاق اڑاتے شرم نہیں آتی آپ کو، آپ اپنے دوست سے لڑنے کے بجائے یہاں کھڑے ہنس رہے ہیں' لالی خفگی سے بولی تھی جبکہ علی ہنستا ہوا اب میر کے پاس کھڑا تھا اور اب وہ دونوں ہنس رہے تھے 

'واہ میرے بھائی کیا عشق کیا ہے تو نے ہاہاہاہاہاہاہا' علی اب میر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ہنس رہا تھا لالی ٹھٹھکی پیچھے سے تین چار لیڈی کونسٹیبلز اور دو انسپیکٹرز آکر کھڑے ہوئے 

'خبردار جو  میری بیوی کے عشق کا مزاق بنایا تو ہاہاہاہاہاہاہا' میر نے بھی اسکا ساتھ دیا تھا ہنسنے میں لالی حق دق کھڑی تھی آگے بڑھی اور میر کے سامنے آئی

'کیا ہوا ہے آپ لوگ اس طرح ہنس کیوں رہے ہیں' وہ جو سمجھ رہی تھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی اس کے ہاتھ پیر پھول رہے تھے

'میری پیاری بہن آپ کے ساتھ ایک پیارا سا محبت اوہ سوری عشق بھرا مزاق ہوا ہے آپکے پیچھے کمرہ لگا ہے پلیزز وہاں دیکھ کر ہاتھ ہلادیں' علی نے اسکے دل کی دنیا ہلائی تھی میر انتہائی زہریلی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی تھی 

'کیا بکواس ہے آپ لوگ مزاق کررہے ہیں نہ ہمارے ساتھ' لالی کا دل سکڑ کر پھیلا تھا 

'ویسے میر کیا پلین تھا تیرا پہلے نکاح کیا پھر اسکو آہستہ آہستہ عشق کی بھٹی میں جھونکا صحیح آگ لگائی ہے تو نے' علی کے چہرے پر اب حقارت تھی لالی کیلئے 

'کیا بکواس ہے یہ' وہ دھاڑی تھی 

'جی ہاں تم سے نکاح کرنا اور پھر تمہیں تمہارے گھر والوں سے دور کرنا تمہیں یہاں لان پری پلینڈ گیم تھا جس میں تم پھنس گئیں' میر نے زہر اگلا تھا جو لالی کا دل بند کررہا تھا 

'اور پتا ہے کیا میں نے میر کو منع کیا تھا کہ تم سے نکاح نہ کرے مگر اس نے کیا اور پھر پتا ہے ہم دونوں نے وہیں کھڑے ہوکر پلین بنایا پہلے پلین بنایا تھا کہ ہم لوگ تمہیں پولیس اسٹیشن کا کر ٹورچر کریں گے لیکن تم تو ایکسٹرا عقل لے کر پیدا ہوئیں تھیں شاید میر کے خلاف وڈیو بنائی اور پھیلادی جس سے اسکی ریپوٹیشن خراب ہورہی تھی بس پھر ہم نے ایک اور پلین بنایا تمہیں یہاں لانے کا تب بھی میر تمہیں ٹورچر کرتا رہا لیکن تم سہتی رہیں داد دینی پڑے گی بھئی تمہاری ہمت کی لیکن پھر ہم نے تمہارے ساتھ عشق عشق کھیلا اور دیکھو تم ہار ہی گئیں' علی سفاکیت سے بولا تھا لالی کی آنکھ سے آنسوؤں کی لڑیاں جاری ہوئیں تھیں

'کیوں کیا ہمارے ساتھ یہ سب کیوں کھیلا ہماری زندگی سے ہمارے جذباتوں سے کیوں' وہ چیخ پڑی تھی صبح جو سچ سامنے آیا وہ کم تھا جو یہ ایک اور خود اذیتی سی خود اذیتی تھی

'اور جو تم نے کھیلا جنید کی زندگی سے وہ کیا تھا' میر اب دھاڑا تھا لالی کی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں

'لیکن ہم نے سچ بتایا تو تھا علی بھائی بھی سچ جانتے ہیں آپ ان سے کیوں نہیں پوچھتے' لالی نے ایک بار پھر امید سے کہا تھا

'مجھے سب سچ علی نے ہی بتایا ہے اور سنینا نے' میر نے پوری بات کہہ کر سنینا کو لانے کا اشارہ کیا تھا لیکن لالی تو علی کو بے یقینی سے دیکھنے لگی اسے تو سب سچ پتا ہے پھر جھوٹ کیوں 'آپکو تو سب سچ پتا ہے نہ پھر'

'کونسا سچ پتا ہے بھئی مجھے' علی نے اسے گھورتے ہوئے کہا

'وہ سب سچ کیا تھا جو آپ نے ہمیں بتایا تھا سر کی امی کو آپ نے نیند کی گولیاں دی تھیں سر نے آپ کو فون کیا تھا نہ جب وہ مرنے والے تھے اور اور ہوسپٹل میں آپ کو کچھ لوگ دھمکا کر گئے تھے یہ یہ سب بتایا تھا آپ نے ہمیں' لالی نے وہیں ساری باتیں اسے سنائیں جو اس نے لالی کو بتائیں تھیں لالی کی بات پر وہ ایک بار پھر مسکرایا

'چچچچچ… تمہیں پھنسانے کیلئے چھوٹے موٹے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ورنہ کبھی سوچا ہے کہ میں کیوں مارتا جنید کی ماں کو اپنے بھائی جیسے دوست کی ماں کو' وہ واقعی سچ کہہ رہا تھا لیکن پہلے کیوں اسکی بات پر یقین کیا تھا شاید تب آنکھوں پر محبت کی پٹی بندھی گئی تھی 

'یار میں تو بہت تنگ آگیا ہوں اس رشتے سے اب جلدی سے اسے ختم کردینا چاہیے' میر پتھر کا ہوگیا تھا یا پھر وہ پتھر کا ہی تھا وہ نہیں جانتی تھی 

'نہیں ایس ایس پی صاحب پلیز نہیں ہم آپکے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں نہیں ہم نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے سب جھوٹ ہے پلیزز ہمارا یقین کریں یار' وہ ہاتھ جوڑ کر اس مغرور اور انا پرست انسان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی اپنے عشق کی بھیک مانگ رہی تھی یہ وہ تھی جو ایسے انا پرست لوگوں کو اپنے پیر کے جوتے کی نوک پر رکھتی تھی اور آج وہ خود کسی کے پیر کی دھول بن گئی تھی وہ شخص اسے روندھنا چاہتا تھا

'میں میر گیلانی ولد انصار گیلانی اپنے پورے ہوش و حواس میں لالہ رخ بنتِ اسابیل عثمانی کو طلاق دیتا ہوں 

طلاق دیتا ہوں

طلاق دیتا ہوں' اور یہاں لالی کے جڑے ہاتھ زمین کو لگے تھے روندھ گیا تھا وہ شہزادہ اسے اپنے پیروں تلے 

'لیکن میر طلاق تو ہوگی نہیں' علی نے لالی کے چہرے پر نظریں ٹکراتے ہوئے کہا 

'کیوں' میر نے پوچھا

'کیونکہ تمہارا نکاح تو اس سے ہوا ہی نہیں تھا' اور یہاں علی نے ایک اور دھماکہ کیا تھا لالی کہ سر پر لالی کی بے یقین نظریں میر کے چہرے پر تھیں 

'ہاں ایک اور سچ تو رہ ہی گیا وہ یہ کہ میں نے تم سے نکاح اوپس جھوٹا نکاح کیا تھا کیونکہ میں تم سے کوئی بھی رشتہ نہیں بنانا چاہتا تھا وہ مولوی یاد ہے جسے امان اللہ لایا تھا وہ مولوی بھی جھوٹا تھا میں نے اس میں اپنی پیدائشی تاریخ فون نمبر حتی کہ ساری معلومات غلط دی تھیں اور پھر وہ مولوی نکاح کی جو دعا ہوتی ہے وہی غلط پڑھ کر گیا تھا تو ہمارا نکاح کیسا ہوسکتا ہے میری بیوقوف شیرنی' میر اسکے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ کر بولا تھا تبھی حال میں رابیعہ خان داخل ہوئی تھی لالی اسے دیکھ کر سیدھی کھڑی ہوئی

'ارے آؤ رابی اپنی کبھی نا ہونے والی سوکن سے ملو' میر نے رابیعہ کو پاس بلایا تھا ہاتھ کے اشارے سے لالی رابی کو یہاں دیکھ کر سخت حیرت میں مبتلا ہوئی اور یہ سوکن…

میر کھڑا ہوا اور رابی کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے بائیں کندھے سے اسکا دایاں کندھا جوڑا 

'Lala Rukh meet my wife Rabia Khan oops Rabia Gillani'

لالی کو لگا صرف اسکے ہونٹ ہلے ہوں اسکے کان سن ہوگئے تھے 

'پوچھو گی نہیں یہ نیک کام ہم نے کب کیا وہ یاد ہے جب میں نے تم سے اپنا بلیک تھری پیس سوٹ پریس کروایا تھا اسی دن ہم دونوں نے شادی کی تھی' لالی کو اس دن کی تمام فلم اپنی آنکھوں کے سامنے گھومتی ہوئی محسوس ہوئی تھی یہ کونسے سچ تھے زمان بابا دانی بھیا اور امی نے کونسے گناہوں کی سزا دی تھی اسے یوں پھر اپنی ماں کی بددعا یاد آئی تو خود اذیتی سے مسکرا بھی دی رابیعہ نے حیرت سے اسکی مسکراہٹ دیکھی تھی پھر خود بھی مسکرائی شاید دماغ چل بسا ہے لالی کا

(تو جیت ہی گئی میں کہا تھا نہ میں چھیننا جانتی ہو میں نے جنید کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا مل گیا آخر میر گیلانی مجھے جیت لی میں نے کائنات اور تم ہمیشہ کی طرح اکیلی ہی سڑو گی میری محبت کو چھیننے کے جرم میں لیکن شاید زندہ ہی نہ رہو) رابیعہ کی پرسوچ نگاہیں اسکے چہرے کو اسکین کررہیں تھیں

(میں اپنے دوست کے لیے ہر حد پار کر جاؤں گا پھر چاہے مجھے اس کیلئے گرنا ہی کیوں نہ پڑے اور پھر یہاں تو صرف جھوٹ بولنے تھے) علی حقارت سے سر جھٹک گیا

(تو فائنلی ختم ہوئی عشق کی کہانی) میر سوچ رہا تھا کہ اب وہ اسے تھپڑ مارے گی اور بددعا دے گی لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ وہ لالی ہے وہ لالی جس نے اس کے لاڈ اٹھائے تھے

لالی نے آنسو صاف کیے اور علی کی طرف قدم بڑھائے اور اسکے بلکل سامنے جاکر کھڑی ہوئی

'ہم نے سنا ہے عشق کی دنیا میں آپ بھی قدم رکھ چکے ہیں لیکن حد یہ ہے کہ آپ اسکو نہیں جانتے یہ پھر جانتے ہیں' لالی نے اپنی بات مکمل کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھا جہاں صرف سوال تھے 'مطلب نہیں جانتے' لالی نے اپنا فون اٹھایا گیلری کا ایپ اوپن کیا اور اسکے ہاتھ میں پکڑایا 'ہم نہیں چاہتے آپ عشق میں رانجھا بن جائیں لیں کیا یاد رکھیں گے کس سخی سے پالا پڑا ہے آپکا آپ نے صرف بہن بولا تھا لیکن ہم بہن ہونے کا فرض نبھا رہے تھے' وہ اپنا فون اسکے حوالے کرتی میر کی طرف بڑھی تھی پیچھے علی نے بے چینی سے موبائل کھول کر دیکھا تو ساکت رہ گیا اس میں پری کی پکچرز تھیں اسکا کونٹیکٹ نمبر سب 

'ہئے میر اتنے بوجھ لگے تھے تو کہہ دیتے خود چل کر پولیس اسٹیشن آتے اور اپنا ناکردہ گناہ بھی قبول کرتے صرف آپ کیلئے لیکن اب ہم ایسا کچھ نہیں کریں گے اب ہم صرف تماشا دیکھیں گے اور ہاں رہی بات بددعا کی یا تھپڑ کی تو ہم یہ دونوں کام نہیں کریں گے ہمارے پرورش کرنے والے لوگ اتنے عام نہیں ہیں' لالی کہتی ہوئی رابیعہ کی طرف مڑی جو اسے تنزیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی تبھی میر کے اشارے پر ایک کونسٹیبل لالی کی طرف بڑھی اور اسے ہتھکڑی پہنانے لگی

'کبھی ہمارا دل کرا نہ بددعا دینے کا تو ہم دل کو سمجھائیں گے کہ جس کے پاس رابیعہ خان اوپس رابیعہ گیلانی جیسی بیوی ہو پھر اسکو بددعا نہیں دیا کرتے اب تو دعا دینے کا دل کررہا ہے ہمارا کیونکہ جس دن سچائی عیاں ہوئی نہ آپ دونوں ہر (رابیعہ اور میر پر اشارہ کیا) اس دن  آپ دونوں ایک دوسرے کیلئے ہی خطرہ بن جائیں گے' وہ اسے ہتھ کڑی پہنا چکی تھی لیکن یہ کیا ہتھکڑی کہ ساتھ آنکھوں پر پٹی بھی باندھی گئی تھی اور پیروں میں بیڑیاں بھی ڈال دی تھیں لیکن وہ آنکھیں بند ہونے سے پہلے کچھ بہت واضح دیکھ چکی تھی اور بی جان کے کمرے کی جلتی لائٹ تھی اور اوپر کھڑے وہ سارے لوگ تھے یقیناً میر نے سب کو سچائی بتا دی تھی 

لالی کو اس گھر میں سر پر ہاتھ شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر لایا گیا تھا اور اس گھر سے اسے نکالا تو نا تو وہ شفقت بھرا ہاتھ تھا نا نام کے ساتھ کسی کا نام تھا نا خوشی تھی بس آنکھوں پر بندھی وہ سیاہ پٹی ہاتھوں میں لگی ہتھ کڑی اور پاؤں میں پڑی بیڑیاں تھیں کتنا شور اٹھا تھا جب وہ اس گھر میں آئی تھی اور اب اتنا ہی سناٹا تھا کتنی خوش تھی وہ میر نے اسے آسمان سے زمین پر لا پٹخا تھا کیا یہ تھی ہماری اوقات تھوڑی ہی دیر میں لالی کو پولیس وین میں بٹھایا تو کسی نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی

"Happy Anniversary"

اور یہ سرگوشی میر گیلانی کی تھی

اداسیوں کا یہ موسم بدل بھی سکتا تھا

وہ چاہتا، تو میرے ساتھ چل بھی سکتا تھا

وہ شخص جسے تو نے چھوڑنے میں جلدی کی

ترے مزاج کے سانچے میں ڈھل بھی سکتا تھا

وہ جلد باز! خفا ہوکر چل دیا، ورنہ

تنازعات کا کچھ حل نکل بھی سکتا تھا

انا نے ہاتھ اٹھانے نہیں دیا

ورنہ میری دعا سے وہ پتھر پگھل بھی سکتا تھا

تمام عمر تیرا منتظر رہا محسن

یہ اور بات، کہ رستہ بدل بھی سکتا تھا

❤️

ہاں اچھے ہیں زندگی کے باب بہت

محبت عشق دھوکا اور فریب بہت

زندگی درخت ہے تو نصیب پتّے ہیں

کچھ پھل کڑوے ہیں تو کچھ ہیں میٹھے بہت

ختم شد………🥀


If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


 Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib Season 1 Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib Season 1 written by  Anum Rais. Mohabbat Ishq Dhoka Aur Faraib Season 1 by  Anum Rais is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.

۔۔۔۔۔۔۔۔

Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link 

If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.

Thanks............

  

Copyright Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

  





No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages