Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 By Anum Rais Complete Novel - Madiha Shah Writes

This is official Web of Madiha Shah Writes.plzz read my novels stories and send your positive feedback....

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Sunday, 30 August 2026

Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 By Anum Rais Complete Novel

Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 By Anum Rais Complete Novel 

Madiha Shah Writes: Urdu Novel Stories

Novel Genre:  Cousin Based Enjoy Reading...

 Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 By Anum Rais Complete Novel 


Novel Name: Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 

Writer Name: Anum Rais 

Category: Complete Novel





آج دو دن گزر گئے تھے اسکو یہاں آئے ہر کوئی اسے لالہ رخ کے نام سے نہیں سنہری مالا کے نام سے جانتے تھے کچھ لوگ اسکا نام سن کر ہنستے تھے کہ یہ کیسے نام ہوا اور کچھ لوگ اس عجیب نام پر کہتے تھے جیسی عجیب وہ خود ہے ویسا ہی عجیب اسکا نام ہے پچھلے دو مہینوں میں ایسا کون سا ٹورچر نہیں تھا جو مالا پر نا کیا گیا ہو اسکو اسپیشل ٹورچر سیل میں رکھا گیا تھا لیکن اب وہ سینٹرل جیل میں منتقل ہوگئی تھی اور اسکے ساتھ سنینا بھی تھی کیونکہ اب باقاعدہ کیس چلنا تھا جنید مرڈر کیس کا


روشنی نے ایک شہزادے کو جنم دیا تھا مالا کو جب گرفتار کیا جارہا تھا تبھی روشنی اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھی اسابیل کیلئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا لیکن یہ صدمہ صرف ایک دکھ ثابت ہوا جو چند دنوں میں ختم ہوگیا کیونکہ اب اسکے پاس اسکا بیٹا آگیا تھا اسکی جائز اولاد سرآنکھوں پر رکھا تھا اسے اسکی پیدائش پر جشن منایا گیا تھا تھی اثیل عثمانی نام رکھا تھا شہزادے کا لیکن وہ ابھی ہوسپٹل میں تھا روشنی کو بلیڈ کینسر ہونے کی وجہ سے وہ تھوڑا سا کمزور تھا اسلئے اسے بخار ہوگیا تھا اسابیل نے اسے ہوسپٹل میں اڈمٹ کروایا تھا وہ اپنے بیٹے کو بیسٹ سے بیسٹ ٹریٹمنٹ دینا چاہتا تھا 


•••••••••••••••••


مالا کو جیسے ہی سینٹرل جیل میں شفٹ کیا گیا سب سے پہلے اس سے آئمہ اکرم ملنے آئی تھیں آئمہ گیلانی ہاؤس گئی تھی مالا سے ملنے اسے روشنی کا بتانے گئی تھی کیونکہ اسکا فون سوئچڈ آف تھا لیکن وہاں جا کر جو خبر انہیں پتا چلی تھی وہ چند پل کچھ بولنے اور سمجھنے سے قاصر ہوگئیں تھیں واچ مین سے تھوڑا اور مزید پوچھا تو پتا چلا کہ مالا کو میر گیلانی کے دوست کو مارنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے تب سے انہوں نے مالا سے ملنے کی بہت کوشش کی لیکن میر نے سخت سکیورٹی انتظام کیا تھا لیکن اب وہ اس سے آرام سے مل سکتی تھیں اسلئے کیس کا سن کر ہی پہنچ گئیں تھیں 


'لالہ رخ کہاں ملے گی' انہوں نے ایک پہرے دار سے پوچھا 


'کون لالہ رخ؟' اس نے کوئی الگ ہی جوب دیا تھا


'وہی لالہ رخ جو دو تین پہلے لائی گئی تھی یہاں جنید مرڈر کیس میں' انہوں نے تفصیلات بتائیں


'دیکھیں وکیل صاحبہ دو لڑکیاں لائی گئی ہیں جنید مرڈر کیس میں ایک سنینا راحیل ہے اور دوسری سنہری مالا ہے اب بتائیں کس سے ملنا ہے آپ کو' آئمہ کو سخت ترین حیرت ہوئی ہاں وہ سنینا کے بارے میں جانتی تھیں کیس ریڈ کرکے آئیں تھیں لیکن یہ سنہری مالا کون ہے 


'آپ مجھے سنہری مالا کا بتا دیں' اب وہ اس پہرے دار کے پیچھے پیچھے ایک روم میں آئیں تھیں جو شاید وزیٹرز کیلئے تھا جو مجرم سے ملنے آتے ہیں انہیں یہاں بلایا جاتا تھا چار کرسیاں رکھیں تھیں بیچ میں ایک ٹیبل تھی دو کرسیاں اسطرف تھیں اور دو اسطرف کمرہ بوسیدہ حالت میں تھا اس کمرے میں سی سی ٹی وی کمرہ بھی لگا تھا وہ ٹھٹھک گئیں ایسے کمروں میں زیادہ تر کیمرے نہیں لگے ہوتے تھے اسکا مطلب لالی پر سخت پہرے لگائے ہوئے ہیں وہ انہی سوچوں میں تھیں جب انہیں اپنے پیچھے کسی کا گمان گزرا پیچھے مڑیں تو مالا کھڑی تھی کالے رنگ کے لباس میں دوپٹہ سر پر تھا بال جوڑے میں مقید تھے چہرہ زرد تھا آنکھیں لال سرخ تھیں جیسے ان میں سے ابھی خون ٹپکے گا ہاتھوں پر جلنے کے نشان تھے پیروں میں بے شمار کٹ لگے تھے تین چار انگلیوں کے ناخن غائب تھے یہ وہ لڑکی تو نہیں تھی جسے وہ دو مہینے پہلے جانتی تھیں انہوں نے مالا کو سختی سے اپنے اندر بھینچا انکا دل رو رہا تھا اسکی اس حالت پر لیکن مالا کا رویہ عجیب تھا اس نے انکے گرد بازو حائل نہیں کئے تھے 


'لالی میری بچی کیا حال کردیا ہے ان لوگوں نے تمہارا' وہ ایک بار پھر اسے گلے لگ کر روئیں اسکے چہرے پر جہاں جہاں زخم تھے وہاں اپنے ہونٹ رکھے جیسے اسے راحت پہنچائی ہو لیکن وہ خاموش تھی 


'آپ آئمہ اکرم ہیں نہ؟' مالا پہلی بار بولی تھی اسکے اس سوال پر انکا دل دہل گیا وہ اچھے طریقے سے جانتی تھیں پولیس والوں کا ٹارچر 


'لالی کیا بول رہی ہو تم مجھے بھول گئیں' انکی آواز رونے کی وجہ سے بھاری ہوگئی تھی مالا گڑبڑا گئی تھی انکے سوال پر


'ارے نہیں آئمہ آنٹی ہم کسی کو نہیں بھولے بس ان لوگوں نے ٹورچر ہی اتنا کیا ہے کہ ہماری نظر کمزور ہوگئی ہے اسلئے ہمیں صحیح سے نظر نہیں آرہا بلکہ کہیں بیٹھ نے کی جگہ ہے تو بیٹھ کر بات کرتے ہیں' مالا بڑی مشکل سے انہیں دیکھ پارہی تھی آئمہ نے اسے کرسی پر بٹھایا اور خود اسکے سامنے بیٹھ گئیں 


'کیسی ہے میری دوست' انہوں نے محبت سے پوچھا تھا تو مالا کے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی لیکن اسکی آنکھیں وہ خالی تھیں 


'ہم ایک دم ہشاش بشاش ویسے ررر…روشنی۔ی کسی ہیں' روشنی کا نام لیتے ہی اسکی آواز بھیک گئی تھی کہ آئمہ نے اسکے گلے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر روئیں 


'نہیں رہی وہ ہمارے بیچ چلی گئی ہم سب کو چھوڑ کر' چند خاموش آنسو تھے مالا کے جو کہاں گرے پتا ہی نہیں چلا لیکن ان آنسوؤں کا رنگ سفید نہیں ہلکا ہلکا لال رنگ تھا یہ اسکا ضبط تھا جو آخری حدوں کو چھو رہا تھا لالی نے انکو اپنے اندر اور سختی سے بھینچا کون کونسی ازیت نہیں تھی جس سے وہ دو چار نہیں ہوئی تھی میر ایسا ظالم نکلا تھا کہ کبھی اسکی آنکھوں میں تیز ترین روشنی ڈال کر کبھی پوری پوری رات جگا کر کبھی ناخن اتار لیتا تھا اسکی انگلیوں سے کبھی اسے کھانا نہیں دیتا تھا اور دیتا تھا تو اس میں مرچیں اس قدر ڈالتا تھا کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے اسکو پینے کیلئے پانی نہیں دیتا تھا کبھی برے طریقے سے پٹواتا یا کبھی خود اسے پیٹتا تھا اسکو تو زنجیروں سے بھی مارا گیا تھا ٹورچر کی انتہا تو تب ہوئی جب اسکا جسم کا کوئی بھی اعضاء جلا کر وہاں مرچیں لگائی جاتی تھیں مالا کی چیخیں پورا پولیس اسٹیشن سنتا تھا سیدھے پاؤں کی چھوٹی انگلی جڑ سے اکھاڑ لی گئی تھی ہاتھ پیر کاٹنا تو معمول ہوگیا تھا انکا بس وہ لوگ چاہتے تھے کہ وہ کسی طرح جرم قبول کرلے لیکن وہ ناجانے کونسی مٹی کی بنی تھی سب سہہ کر پھر کھڑی ہو جاتی تھی جیسے ابھی وہ یہ سن رہی تھی کہ ایک اور رشتہ اس سے بچھڑ گیا تھا اسکا دل جو تھوڑا بہت پر امید رہتا تھا اب امیدیں ٹوٹ رہیں تھیں اسکی


'بس انکی عمر اتنی ہی تھی اللّٰہ انکے درجات بلند کرے آمین' مالا نے دل کر کرچیاں شاید اندر ہی کہیں چھپا لی تھیں آئمہ نے بھی دل میں آمین کہا پانی کا کولر رکھا تھا وہاں سے پانی لیا اور خود پیا اور پھر مالا کو بھی پلایا مالا نے شکر کا کلمہ پڑھا تھا کہ پانی اسے پچھلے دو مہینوں میں کم ہی ملا تھا 


'کیا ہوا تھا اس رات لالہ رخ' اب وہ سنبھل گئیں تھیں


'کونسی رات' لالی کی نظریں زمین پر گڑیں تھیں


'جس دن تم گرفتار ہوئیں تھیں' آئمہ کی اس بات پر مالا نے پہلو بدلہ 


'کونسی رات کی بات کررہیں ہیں آپ ہم پہلی دفعہ تو گرفتار نہیں ہوئے' مالا نے نظریں چرائیں تو وہ سمجھ گئیں تھیں کہ وہ انہیں کچھ بتانا نہیں چاہتی انہوں نے اسکی طرف دیکھا جسکی نظریں پورے کمرے کا طواف کررہیں تھیں اور اچانک ہی رک گئیں اور وہ جانتی تھیں کہ اسکی نظریں کہاں جا رکی ہیں


'یہ سی سی ٹی وی کیمرہ ہیں نہ؟' مالا نے تردید چاہی تو انہوں نے سر اثبات میں ہلایا 'اسکا یہاں کیا کام' لالی غور کرنا چاہ رہی تھی کیمرے پر لیکن اسکی آنکھیں اسکا ساتھ نہیں دے رہیں تھیں اسلئے نظریں پھیر گئی


'یہاں پر یہ ایک کمرہ تو نہیں ہوگا وزیٹنگ کیلئے؟' انہوں نے لالی سے پوچھا


'نہیں یہاں پر چار پانچ کمرے ہیں' اس نے وضاحت کی تو وہ سر جھٹک گئیں


'دیکھنا یہ لوگ اگلی بار بھی مجھے اسی کمرے میں لائیں گے جب میں تم سے ملنے آئوں گی' انکی بات پر لالی بھی مسکرائی 


'ایک بات بتاؤ پہلے جب تم جیل گئیں تھیں تو کیسے باہر آئیں تھیں کسی نے بیل کرائی تھی' انکی نظریں اب لالی کے چہرے کا طواف کررہیں تھیں 


'اس وقت ہمارے گھر والے ہمارا فرض ادا کرچکے تھے مطلب ہماری شادی کروا چکے تھے اسلئے انہوں نے پلٹ کر دیکھا ہی نہیں کہ ہم کس حال میں ہیں اور جس سے شادی ہوئی اسی نے جیل میں ڈالا تھا اسلئے بیل کون کرواتا ہماری' مالا کا لہجہ بہت عام تھا لیکن دکھ اتنا ہی بڑا تھا 


'تو پھر جیل سے باہر کیسے آئیں؟' انہوں نے چبھتی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا 


'ہم بھاگ گئے تھے جیل سے' وہی عام لہجہ لیکن اس بار آئمہ کے چہرے پر سکون پھیلا تھا کیونکہ وہ سمجھنے سے قاصر تھیں کہ اتنا سخت پہرہ کس لیے 


'بھاگی کیوں تھیں' اب وہ وقالت گری پر اتریں تھیں


'چل کر تو جا نہیں سکتے تھے اسلئے بھاگ گئے' اس نے سوال کو ہوا میں اڑایا


'بی سیریس لالہ رخ' وہ کافی زیادہ سنجیدہ تھیں تو لالی نے بھی اپنا مزاق ایک طرف رکھا


'جب ہمارا کوئی قصور ہی نہیں تھا تو کس بات کا ظلم سہتے' اسکا لہجہ مضبوط تھا


'اسکا مطلب قتل تم نے کیا ہے' انکی آنکھیں مالا کی آنکھوں کو سکین کررہیں تھیں


'خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی قتل نہیں کیا' وہ دھاڑتی ہوئی کھڑی ہوگئی تھی جبکہ وہ سکون سے بیٹھی تھیں


'اگر قتل تم نے نہیں کیا تو تم اب تک کس بات کی سزا کاٹ رہی ہو' انکی اس بات پر لالی ہارے ہوئے جواری کی مانند کرسی پر گری تھی ایک ہاتھ کا پنچ بنا کر زور سے ٹیبل پر مارا تھا 


'کیونکہ تب ہماری امیدیں قائم تھیں ہم یہ بات مانتے تھے کہ جس کے اندر طاقت ہو اور وہ ظلم سہتا رہے تو اسے بھی ظالم کے برابر گناہ ملے گا ہم وہاں سے بھاگ کر اپنی سچائی ثابت کرنا چاہتے تھے رابیعہ کو جیل میں دیکھنا چاہتے تھے ہم اسے مرتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے لیکن اب اب ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے نا تو کوئی امید باقی رہی ہے نا ہی طاقت ہے اور نہ ہی ہمارے لیے دعا کرنے والے دو ہاتھ موجود ہیں آپ بتائیں ہمیں' اس نے آئمہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا 'کون ہے ہمارے پیچھے کس کے لئے بھاگیں ہم جیل سے کوئی امید کوئی روشنی کی کرن کوئی زریعہ کوئی ایسی بات جو ہمیں زندگی کی طرف واپس لے آئے جو ہمیں جیل سے بھاگنے پر مجبور کردے ہے ایسی کوئی وجہ' انکے ہاتھ چھوڑکر وہ کرسی سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گئی وہ اپنی عمر سے بہت بڑی لگ رہی تھی


'بس یہ سمجھ لو میں تمہیں وہی روشنی کی ایک کرن پکڑانے آئی ہوں جس کے بعد مجھے پورا یقین ہے کہ تم یہاں سے بھاگنے کیلئے اپنی جان بھی دے دو گی' وہ اتنے یقین سے کہہ رہی تھیں کہ مالا نے اپنی آنکھیں کھولیں اور انکی طرف دیکھا تھا اسکی آنکھوں میں سوال تھے


'روشنی کا وعدہ بھول رہی ہو تم لالہ رخ تمہیں پتا ہے وہ اس دنیا سے جاتے جاتے تمہارے لیے ایک تحفہ چھوڑ گئی ہے شاید وہ جانتی تھی کہ تم اکیلی ہوجاؤگی وہ تمہارے لیے اپنا سب سے قیمتی ہیرا چھوڑ گئی ہے' وہ ایک جذب کے عالم میں بول رہی تھیں اور لالی یک ٹک انہیں دیکھ رہی تھی 


'کس کی بات کررہیں ہیں آپ' وہ یقیناً بھول گئی تھی


'روشنی کا بیٹا اور تمہارا سوتیلا بھائی اثیل عثمانی لالی' وہ آنکھوں میں چمک لیے اسے دیکھ رہیں تھیں جو اب اپنی جگہ سٹل ہوگئی تھی نہ آنکھیں جھپک رہی تھی نہ سانس لے رہی تھی بس یک ٹک انہیں دیکھ رہی تھی زہن میں کچھ دھندھلا سا نظر آیا تھا شاید کوئی کاغذ جس پر بہن بننے کی مبارک باد تھی کبھی اسکے باپ کے بارے میں کبھی اسکے بھائی کے بارے میں پھر ایک اور منظر دماغ کے پردے پر لہرایا روشنی نے اسکے ہاتھ پر کفن کا ٹکڑا باندھا تھا وعدہ لیا تھا اس سے……کفن…ہاں کفن کا ٹکڑا وہ کہاں ہے پھر یاد آیا کہ کچھ دن پہلے اپنے بازو پر باندھا تھا جہاں سے خون رس رہا تھا وہ سوچوں کی دنیا سے باہر آئی اور بائیں ہاتھ کی آستین اوپر کی پورا ہاتھ زخموں سے بھرا تھا لیکن اس پر صرف ایک پٹی تھی مالا نے وہ پٹی کھینچ کر ہاتھ سے نکالی اور آنکھوں کے سامنے کی اسی پل پہرے دار لوٹا تھا ویزیٹنگ آورز ختم ہوگئے تھے مالا کھڑی ہوئی اور انکی طرف جھکی


'ہم لالہ رخ نہیں ہیں مالا ہیں سنہری مالا اور رہی بات ہمارے بھائی کی تو بتادیں سب کو وہ شیرنی جو قید میں تھی اب میدان میں اتر رہی ہے اور یاد رکھیں وہ شیرنی اب زخمی شیرنی بن گئی ہے اور اس زخمی شیرنی نے موت کے گھاٹ نا اتارا نا تو ہمارا نام بھی سنہری مالا نہیں' اسکی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ رہی تھیں لیکن چہرے پر اتنی ہی خوبصورت مسکراہٹ تھی وہ کہتے ہوئے بائے کے انداز میں ہاتھ ہلاتے ہوئے نکل گئی تھی جبکہ پیچھے آئمہ اکرم مسکرائیں 


'مجھے یہی شیرنی چائیے تھی لالی اوپس سنہری مالا… ہممم…نائس نیم' وہ اب کھڑی ہوگئیں تھیں انکے چہرے پر اطمینان ہی اطمینان تھا لیکن جانے سے پہلے وہ ایک شعر پڑھ گئیں تھیں 


   تنہا ہی سہی لڑ تو رہی ہے وہ اکیلی


بس تھک کے گری ہے ابھی ہاری تو نہیں ہے


💜💜


'How is it Possible?'


اسابیل دھاڑا تھا جب سے اسے یہ پتا چلا تھا کہ وہ عربوں کھربوں کی جائیداد سنہری مالا نامی چڑیا لے اڑی ہے تب سے جینا حرام ہوگیا تھا اسکا جس جائیداد کیلئے اتنا کچھ کیا آج سب اسکے ہاتھ سے نکل گیا تھا 'کون ہے یہ سنہری مالا اور وہ جائیداد تو صرف کسی فیملی میمبر کے نام ہوسکتی تھی تو اسے کیسے مل گئی' وہ اپنے باپ دلاور عثمانی کے سامنے کھڑا تھا جو خود تذبذب کا شکار تھے انکے بلکل سامنے ایک وکیل بیٹھا تھا جو انہیں اپڈیٹ دے رہا تھا


'سر سنہری مالا تو انکا دارا نام ہے اصل نام لالہ رخ ہے' اب اس نے دھماکا کیا تھا اسکے سر پر 


'یہ کیسے ہوسکتا ہے وہ تو جیل میں ہے' اسابیل کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ مالا کی گردن اپنے ہاتھوں سے توڑتا


'سر دو مہینے پہلے ساری جائیداد انکے نام ٹرانسفر ہوئی ہے' وکیل صاحب نے کاغذات انکی طرف بڑھائے تو وہ رخ پھیر گئے 


'ساری جائیداد کے پیپرز تو صرف ایک ہی انسان کے پاس تھے وہ وکیل کیا نام ہے اسکا……' وہ نام بھول گیا تھا


'آئمہ اکرم سر لالہ رخ کی ماں کوثر نواب کی بہترین دوست' خبر دینے والا اسکا کوئی خاص ملازم تھا 


'آئمہ اکرم' زیرِ لب بڑبڑایا اور پھر مسکرایا ایک ہاتھ سے اشارہ کیا تو وکیل اور ملازم باہر نکل گئے تھے دلاور عثمانی بھی اپنے کمرے میں چلے گئے تھے اب اس وسیع کمرے میں وہ اکیلا کھڑا تھا تنہا 'تمہاری ہی تلاش تھی مجھے پہلے سوچا تھا غلطی کی ہے چھوڑ دوں گا لیکن اب تو گناہ کیا ہے تم نے اور گناہ کرنے والوں کی عمریں چھوٹی ہوتی ہیں' وہ دلفریب قہقہ لگاتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا 




وَھَدَی٘نَاہُ النَّج٘دَی٘نِ


ہم نے انسان کو دونوں راستے اچھی طرح سمجھادئیے۔




دوسری طرف مالا بھی مسکرائی تھی بلکہ قہقہ لگا رہی تھی ''حوا کی بیٹی ہیں ہم کھلونا سمجھ کر کھیلنے کی غلطی مت کرنا ورنہ یہی بیٹی کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑے گی"




💜💜




میر گیلانی کو گھر سے بےدخل کیا تھا بی جان نے ان سب کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کچھ تھا بھی تو لالی کے ساتھ جو کیا ہے وہ بےحد غلط تھا اور دوسرا انکے گھر میں ایک مجرم کو بہو بنا کر لایا تھا اس سے جھوٹا نکاح کیا تھا اور انکو یہ سب بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا اسلئے انہوں نے میر اور رابیعہ کو گھر سے باہر کیا تھا انکا دل کٹ گیا تھا لیکن انکا دل تو تب بھی کٹا تھا جب انہوں نے لالی کا وہ اظہارِ عشق سنا تھا اور کسی کے احساسات کو روندنا خدا کو سخت ناپسند تھا اور پھر اگر وہ لڑکی معصوم نکلی تو بی جان نے بہت سوچ کر یہ فیصلہ لیا تھا 


میر نے نیا گھر لیا تھا اس گھر کو رابیعہ گیلانی نے اپنی محبت سے سجایا تھا یہ وہ دو مہینے پہلے والی رابیعہ خان نہیں تھی یہ تو رابیعہ گیلانی تھی جسے میر کی محبت نے ہل ہل سنوارا تھا وہ بہت بدل گئی تھی اس نے خود کو میر کیلئے بدل دیا تھا وہ سب چھوڑ چکی تھی وہ تو میر نے گھر والوں کو منانے کیلئے روز نئی ترکیب سوچتی رہتی تھی 


 اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑا میر چاند کو دیکھ رہا تھا سکون ہی سکون ملا تھا اسے ہر طرف سے ایسے لگتا تھا اس نے اپنے دوست کا حق ادا کردیا ہو جب لالہ رخ اسکی قربت میں تھی تب وہ سکون سے نہیں سو پاتا تھا کہ جنید کا قاتل ابھی باہر کھلا گھوم رہا ہے 


 'میرررر' رابیعہ کی کھنکتی آواز کان میں پڑی تو وہ مسکراتا ہوا اسکی طرف مڑا جو پنک نائیٹی میں اس کیلئے امتحان بنی کھڑی تھی لیکن یہ کیا وہ اداس تھی میر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اسکے سینے سے لگی اسکی کمر پر اپنے بازو باندھے


 'جی جانِ میر' انتہائی گھمبیر آواز


 'آپ اداس ہیں کیا' اسکے لہجے میں میر کیلئے عزت ہی عزت تھی اسکی بات سن کر اسکے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوئی


 'جس کے پاس تم جیسی پیاری سی بیوی ہو وہ اداس کیسے ہوسکتا ہے' میر نے اسکے دونوں گال چومے تھے 


 'تو پھررر……' اس سے پہلے وہ بات مکمل کرتی میر مکمل طور پر بہک چکا تھا اس نے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لیے تھے اور آہستہ آہستہ اسکے گاؤن کی ڈوریاں کھولی تھیں ایک جھٹکے سے اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹایا تھا رابی نے اپنے دونوں ہاتھ میر کی گردن میں ڈالے تھے گویا خود سپردگی دی تھی میر اسکے انداز پر اور مزید بہک گیا تھا ایک ہاتھ سے جلتا لیمپ بھجایا 


💜💜


دوپہر کا وقت تھا فصیحہ کھانا بنا رہی تھی رخصتی کو ایک مہینہ گزر گیا تھا اور فصیحہ کو واقعی ایک بہترین ہمسفر مل گیا تھا دانیال نے اسکو اپنی محبت میں اس قدر الجھایا تھا کہ اسے دانیال کہ علاؤہ کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا شبانہ بیگم ہاتھ میں تصبیح لیے بیٹھی تھیں آج کل انکا دل بہت گھبرارہا تھا پاس ہی پری بیٹھی اپنے انجینئرنگ کے پیپرز کی تیاری کررہی تھی تبھی ڈور بیل بھی تھی پری نے دروازہ کھولا تو برابر والی فردوس خالا تھیں انتہائی نیک سیرت عورت ان کے گھر ہی لالی کا اکثر دن گزرتا تھا لالی نے انہی سے ہی کونٹیکٹ رکھا تھا ابھی وہ پریشان سی اندر داخل ہوئیں تھیں


'اللّٰہ خیر کرے فردوس کیا ہوا ہے' شبانہ بیگم نے پری کو پانی لانے کا اشارہ کیا فصیحہ بھی باہر آگئی تھی


'شبانہ تمہارے پاس لالی کا کوئی فون آیا تھا' انہوں نے سب سے پہلا سوال ہی یہی کیا تھا کہ شبانہ بیگم ٹھٹھک گئیں


'نہیں لالی نے مجھے کبھی کال نہیں کی لیکن ہوا کیا ہے' اب شبانہ بیگم کہ ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے 


'لالی تقریباً ایک سال سے مجھ سے رابطے میں تھی ہر دن کال کرتی تھی تم لوگوں کی خیریت پوچھنے کیلئے لیکن اب دو مہینے ہوگئے ہیں نہ اسکا نمبر لگتا ہے نہ وہ خود کوئی فون کرتی ہے میں نے اسکا نمبر بہت بار ملایا لیکن وہ نمبر اب ہے ہی نہیں' وہ بے حد پریشان تھیں لیکن شبانہ بیگم تو انکی اس بات پر سن تھیں کہ وہ ان سے فون کرکے ان لوگوں کی خیریت پوچھتی تھی 


'تو اس نے آپ کو میر بھائی کا یا کسی اور کا نمبر نہیں دیا تھا کیا' پری اپنی ماں کو گن دیکھ کر خود آگے آئی تھی فصیحہ کے چہرے پر بھی امید نظر آئی تھی


'بیٹا مجھے لالی نے کسی کا نمبر نہیں دیا بس وہ اچانک سے کہیں غائب ہوگئی ہے کوئی بھی رابطہ نہیں ہورہا اس سے' وہ لالی کو اپنی بیٹی کہتی تھیں تبھی اچانک شبانہ بیگم پھوٹ پھوٹ کر روئی تھیں


'میں نے کہا تھا نہ کہ میرا دل گھبرارہا ہے ضرور کچھ غلط ہوا ہے اسکے ساتھ یا اللّٰہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا اے رحیم میں اپنی دی ہر بددعا واپس لیتی ہوں یا اللّٰہ میری بچی کی حفاظت کرنا' وہ وہیں سجدے میں گریں تھیں فردوس خالا بھی واپس پلٹ گئیں تھیں امید کے کر آئی تھی یہاں شاید اسکا کچھ پتا چل جائے لیکن وہ پتا نہیں اچانک کہاں چلی گئی تھی


   جو تعلق گہرے تھے وہی اندر تک توڑ گئے


جن پر مان تھا سب سے زیادہ وہی لوگ چھوڑ گئے💔


💜💜


سنینا واشروم کی طرف گئی تھی لیکن کوئی تھا جو اسکا پیچھا کررہا تھا وہ واشروم سے باہر آئی تو کسی نے اسکا گلا دبوچ کر دیوار سے لگایا تھا 


'چھوڑو ممم…مجھے' سنینا کے گلے میں سانس اٹک رہی تھی آنکھیں اوپر چڑھ رہی تھیں وہ سامنے والے کو دیکھنے سے قاصر تھی


'کھاؤ اپنی جان کی قسم کے ہم جو پوچھیں گے اسکا صحیح صحیح جواب دو گی ورنہ تم اگلی صبح نہیں دیکھ پاؤ گی' مالا کی آواز پہچان گئی تھی وہ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو لالی نے ایک جھٹکے سے چھوڑا اسے وہ دیوار کے ساتھ لگتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی


'ککک…کیا پوچھنا چاہتی ہو' سنینا جانتی تھی وہ کیا پوچھنا چاہتی ہے اسی لئے ڈرامے کر رہی تھی مالا نے کھینچ کر اسے ایک لگایا 


"چٹاخ" 


'بکواس بند کرو اور سب بتاؤ ہمیں کیا بکواس کی ہے تم نے کونسی جھوٹی گواہی دی ہے ہمارے خلاف' وہ دھیمی آواز میں غررائی تھی اسکا تو اس تھپڑ سے ہی دماغ گھوم گیا تھا کتنا بھاری ہاتھ تھا اسکا


'ممم…مجھے یہ سب ااا…اسابیل اور رابیعہ نے کرنے کیلئے کہا تھا' وہ منمائی تو مالا نے مزید ایک تھپڑ مار کر اسکے ہوش ٹھکانے لگائے "چٹاخ" 


'ہم نے کہا نا بکواس نہیں سب سچ بتاؤ ہمیں' مالا نے اسکا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچا سنینا نے جلدی سے سر ہلایا تو اس نے اسکا منہ چھوڑ دیا پھر وہ پٹر پٹر بولنا شروع ہوئی


'میں تمہاری یونی کی نہیں تھی مجھے وہاں اسابیل نے بھیجا تھا تم پر نظر رکھنے کیلئے وہاں میری ملاقات ررر…رابی سے ہوئی وہ تمہاری دشمن تھی اس دن جنید کو مارنے جب وہ وہاں آئی تھی تب میں تھوڑی دیر بعد وہاں پہنچی تھی جب وہ جنید کو گولی ماری رہی تھی لیکن اس نے ایک گولی مجھے ماری تھی جو میرا بازو چیر گئی تھی (یاد آئی وہ بات جب میر نے کہا تھا گن میں سے دو گولیاں چلی ہیں) اور دوسری جنید کو ماری تھی میں وہاں سے چلی گئی تھی تھوڑی آگے گئی تو تم وہاں جاتی ہوئی نظر آئیں میں ٹھٹھک گئی تھی میں نے اسابیل کو ساری بات بتائی تو اس نے کہا نے مجھے وہیں روکنے کا کہا تھا پھر اس نے تمہیں بے ہوش کیا اور پھر جنید کو آگ لگائی تم پتا نہیں کیسے جاگ گئی تھیں اس سب واقعے کی میں وڈیو بنا رہی تھی تمہیں رابیعہ واپس لے گئی تھی پھر اسابیل نے اس کیس میں تمہیں پھنسانے کا کہا تھا اور تم پھنس بھی گئیں تمہیں رابیعہ نے نہیں اسابیل اور میں نے پھنسایا تھا' اب اس نے ڈرتے ڈرتے اپنا آنکھیں اٹھا کر مالا کو دیکھا جسکی آنکھوں کی بینائی کم ہونے کے باوجود وہ ایک ایک چیز کا اچھے سے جائزہ لے رہی تھی 


'آگے کیا ہوا تھا' مالا کی آواز سرد تھی وہ ایک طرف دیوار سے ٹیک لگائے کھڑی تھی جبکہ وہ زمین پر بیٹھی تھی


'پھر وہ سب وڈیو میں نے پولیس اسٹیشن بھیجیں تھیں نہ صرف یہ بلکہ ایسے ایسے ثبوت سامنے رکھے تھے کہ وہ سب تمہیں مجرم سمجھنے لگے تھے وہاں کے ایک حوالدار کو خرید لیا تھا ہم نے اور پھر اسابیل نے تمہاری کچھ پکس تمہارے گھر بھجوائیں تھیں ہم نہیں جانتے تھے آگے کیا ہوگا لیکن پھر رابیعہ نے علی کو وہاں خود بلایا تھا جنید کا نام لے کر وہ آ بھی گیا تھا پھر وہاں کیا ہوا میں نہیں جانتی لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ علی تم سے بے حد بدظن ہوا تھا لیکن صرف یہ نہیں اس نے کچھ اور بھی پلین کر رکھا تھا اس نے تمہارے گھار والوں کو اور میر کو پرانی فیکٹری بلایا تھا کاور اسطرح تم پھنس گئیں وہ تمہیں کہتی تھی کہ میر کو تم نے چھین لیا اس سے حالانکہ اس نے خود میر کو تمہارے حوالے کیا تھا تب تک وہ نہیں جانتی کہ ہم اسکی مدد کررہے ہیں' اب وہاں بلکل خاموشی تھی آواز تھی تو صرف سنینا کی سانس لینے کی لیکن یہ کیا مالا کی تو سانس کی بھی آواز نہیں آرہی تھی اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر بولنا شروع ہوئی


'پھر رابیعہ لاہور کیلئے نکلی تھی لیکن اسے بیچ راستے میں اسابیل نے کڈنیپ کرلیا تھا پھر وہ دونوں مل کر پلینینگ کرتے رہے اور پھر ایک دفعہ میر نے مجھے بلایا پتا نہیں کیسے مگر وہ مجھے جان گیا تھا بس یہیں پلین چینج ہوا تھا اور مجھے اسابیل نے تمہارے خلاف گواہ بنایا تھا میں نے جھوٹی قسم اٹھا کر گواہی دے دی تھی اور خود گرفتاری بھی دی تھی اور تب مجھے یہ سب پتا چلا کہ میر اور علی تمہارے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں اور یہ بھی کہ میر نے تم سے جھوٹا نکاح کیا ہے اور تبھی رابیعہ نے میر سے شادی کرلی بس اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی' اب وہ خاموش ہوگئی تھی اور اٹھ کھڑی ہوئی جانے کیلئے پلٹی ہی تھی کہ مالا نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا 


'تمہارا ہمارے باپ سے کیا تعلق تھا؟' سنینا کو لگا یہ سوال چبھتا ہوا لگا تھا لیکن اپنی جان کی قسم کھائی تھی


'مجھے تمہارا باپ اپنی پیاس مٹانے کیلئے…' وہ ابھی کچھ کہتی کہ مالا کے تیسرے تھپڑ نے اسے زمین بوس کیا تھا "چٹاخ" 


'شرم نہیں آئی تمہیں اپنا آپ بیچتے ہوئے بولو' مالا نے اسکے بال اپنے ہاتھ میں جکڑے تھے جب کہ وہ مچل رہی تھی اس کے سامنے تو مرد نہیں ٹک پاتے تھے پھر تو وہ ایک لڑکی تھی کمزور لڑکی جن کے اندر ضمیر نہیں ہوتا 


'ہم تمہیں چھوڑ دیتے مس راحیل کیونکہ تمہاری جان ہمارے کام کی نہیں تھی لیکن تم نے بھی گناہ کیا ہے پہلا گناہ جھوٹی قسم کھائی دوسرا گناہ اپنا جسم بیچا زنا کیا پھر بھی تم سوچ رہی ہونگی کہ جج کرنا تو خدا کا کام ہے نہ لیکن یو نو واٹ' اس نے اسکے بال چھوڑے اور کھڑی ہوئی تو وہ بھی کھڑی ہوتی ہوئی بھگانے کی کوشش کرنے لگی تبھی مالا نے اسے دیوار سے لگایا اور اسکے دل کے مقام پر اپنا ہاتھ رکھ کر دباؤ بڑھایا تھا درد کے مارے اسکی آنکھیں ابل کر باہر آنے کو ہوئیں تھیں اسکا دل بند ہورہا تھا مالا نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا تھا 'تمہاری جان کا پروانہ ان لوگوں کو ڈرا سکتا ہے جنہوں نے سنہری مالا کے ساتھ کھیلنے کی غلطی کی ہے' اس نے اب اپنا ہاتھ ہٹا دیا تھا وہ زمین پر گری بری طرح تڑپ رہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکی جان نکل گئی اسکی آنکھیں پتھرا گئیں تھیں تبھی مالا باہر نکلی تھی تو سائیڈ پر وہی پہرے دار کھڑا تھا وہ مسکراتی ہوئی اس تک آئی 


'دھیان رکھنے کیلئے شکریہ' وہ دو انگلیاں ماتھے تک لے جاکر اسے سیلیوٹ کرتی مسکراتی ہوئی چلی گئی تھی جبکہ وہ بوڑھا پہرے دار اسے دیکھ رہا تھا


'اکثر معصوم لوگوں کی معصومیت تب ختم ہوتی ہے جب وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی گناہ گار ثابت کردیے جائیں اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ سنہری مالا سچے موتیوں کی مالا بھی ہے' اس پہرے دار نے دل ہی دل میں سچے موتی کا لقب دے ڈالا تھا




"عورت جب نزاکت چھوڑ کر مضبوطی تھام کے تو اس جیسا پتھر کوئی نہیں"


صبح ہونے سے پہلے پہلے سنینا کی موت کی خبر آگ کی طرح جنگل میں پھیلی تھی


سنینا راحیل کی موت کیا ہوئی صرف سینٹریل جیل نہیں بلکہ عثمانی مینشن اور میر کا پولیس اسٹیشن بھی ہل گیا تھا اسکے دوست کے کیس کی اکلوتی گواہ مرچکی تھی جسکی وجہ سے کیس کمزور ہوگیا تھا 


ایس پی ارحم شفیع آیا تھا سینٹرل جیل انویسٹیگیشن کرنے باڈی کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیجا گیا تھا جسکی رپورٹس میں موت کی وجہ ہارٹ اٹیک ہے لیکن چہرے پر پڑنے والے تھپڑ تو کوئی اور ہی کہانی سنا رہے تھے اسلئے ایس پی صاحب آئے تھا میر آنا چاہتا تھا خود لیکن اسے کسی اور کام پر بھیج دیا گیا 


دوسری طرف جیل میں موجود تمام لڑکیوں کو لائن بنا کر کھڑا کیا گیا تھا ڈرتی تو مالا اپنے باپ سے نہیں تھی پھر یہ تو صرف قانون کے بندے تھے وہ چہرے پر مظلومیت لئے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی ایک چیز جو وہ کافی دیر سے محسوس کررہی تھی وہ یہاں کی لڑکیوں اور عورتوں کے چہرے پر دکھنے والا ڈر تھا وہ لوگ سخت ہراساں تھیں اس نے ایک لڑکی کو دیکھا جو رو رہی تھی وہ اسکے پاس چلی گئی یہاں پر کوئی ایسا نہیں تھا جو اس پر حکم چلا سکے روک کر دکھائے کوئی اسے بیچارہ…


'سنو رونے کا اعزاز ملنے والا ہے کیا تمہیں؟' مالا اسکے قریب بیٹھی تھی وہ لڑکی اب اسے دیکھ رہی تھی


'مطلب' لڑکی بہت کیوٹ تھی مالا گہرا سا مسکرائی


'رو کیوں رہی ہو کیوٹ گرل' مالا نے اسکے بالوں کی اڑتی ہوئی ایک لٹ کو اسکے کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا تو اسے جیسے ہمت ہوئی تھی وہ اور پھوٹ پھوٹ کر روئی


'وہ…وہ اااا…ایس پی ارحم وہ… اا…اچھا آآآ...آدمی نہیں ہے' وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی مالا کے چہرے پر نرم مسکراہٹ تھی


'اچھا کیا کیا ہے اس نے؟' مالا کے اندر وہی پرانی والی لالی جاگ رہی تھی جو کسی کو پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی 


'وہ وہ ٹچ…چ کرتا ہے یی…یہاں' وہ اب اسے اپنے جسم کے حصوں پر ہاتھ رکھ کر بتا رہی تھی مالا کے چہرے پر ابھی بھی وہی نرم سی مسکراہٹ تھی اور آنکھیں لال سرخ ہورہی تھیں


'اور بھی کسی کو ٹچ کیا ہے کیا اس نے' وہ اب بھی نرم لہجے میں پوچھ رہی تھی ورنہ اس کے اندر اٹھنے والا اشتعال کسی کو بھی تباہ کردینے کیلئے کافی تھا وہاں ایک روم تھا جو بڑے بڑے افسروں کیلئے تھا اسکے برابر والا کمرہ جیلر کا تھا اس بڑے افسر والے کمرے میں ساری عورتیں اور لڑکیاں جا رہی تھیں پوچھ گچھ کیلئے مالا نے غور کیا تو ان میں سے بیشتر لڑکیاں گھبراتی ہوئی کچھ روتی ہوئی واپس آرہیں تھیں کچھ بڑی عورتیں بھر بھر کر بددعائیں دے رہی تھیں اس افسر کو 


'ہاں وہ…وہ بہت بب…برا ہے اس نے ایک لڑکی کے ساتھ بہت برا کیا تھا اس نے خودکشی کرلی' وہ کیوٹ سی لڑکی مینا تھی ہندو تھی لیکن پیاری سی تھی چوری کرنے کے جرم میں یہاں لائی گئی تھی 


مالا کے صبر نے اب کہہ دیا تھا اٹھ جا مالا ہڈیاں کڑکا لے چھوڑنا مت اس خبیث کو وہ مسکراتی ہوئی آٹھ کھڑی ہوئی 


'اچھا ایک بات بتاؤ کبھی اسے سزا دینے کا دل کرے تو کیسے دو گی؟' مالا نے اپنے بازو پر سے وہ کفن کا ٹکڑا کھولا اور اسے سیدھے ہاتھ پر باندھا بلکل پنچنگ اسٹائل میں


'میں اسکا ہاتھ توڑوں گی اور پھر یہاں پر جتنی بھی لڑکیوں کے ساتھ اس نے برا کیا ہے سب سے پٹواؤں گی' وہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے سچ میں اسکے سامنے ایس پی آگیا ہو مالا مسکراتی ہوئی اب لائن کی سب سے پہلی لڑکی کو ہٹا کر خود آگے لگی تھی اور جتنی وہ پیاری تھی اسی کے مطابق ایس پی نے اسے دیکھ لیا تھا اور اب اپنے سامنے کھڑی عورت کو جلدی جلدی فارغ کررہا تھا 


💜💜


'جی ابھی بھی خبر ملی ہے کہ وومین سینٹرل جیل سے سنینا راحیل کی لاش ملی ہے پوسٹ مارٹم کے مطابق ہارٹ اٹیک ہوا ہے لیکن ہماری پولیس کہہ رہی ہے کہ یہ قتل ہے چلتے ہیں اپنے نمائندے کی طرف جی آثار بتائیں کیا صورتحال ہے وہاں کی' اب وہ اینکر خاموش ہوئی تھی اور دوسری طرف بیٹھا اسابیل ٹھٹھک گیا تھا یہ کیا ہوا تھا جسے مالا کو مارنے بھیجا تھا وہ خود ماری گئی تھی


جی ہاں سنینا کو اسابیل عثمانی نے مالا کو مارنے بھیجا تھا اور وہ کل رات ہی یہ فریضہ انجام دینے والی تھی لیکن مالا اسکے ہاتھ میں موجود وہ سرینج دیکھ چکی تھی اسی لئے مالا نے اسے مار دیا ورنہ وہ مالا کو ماردیتی یہ قتل مالا نے سیلف ڈیفنس میں کیا تھا جو اسکا شرعی حق تھا 


'ڈیم یہ لالی عرف مالا واقعی بہت تیز ہے آخر بیٹی کس کی ہے' وہ آخری بات دل میں سوچ کر مسکرایا تھا 


'راجااااا' اس نے اپنے خاص ملازم کو آواز دی تو وہ بھاگا بھاگا حاضر ہوا 


'حکم سرکار' آنکھیں جھکی ہوئیں ہاتھ بندھے ہوئے تھے


'گاڑی نکالو مجھے ہسپتال جانا ہے بس اب میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے تو میں اسے یہاں سے لے کر ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا خدا میرے بیٹے کو میری بھی عمر لگادے' جب سے اسکا بیٹا آیا تھا اسکے چہرے پر ہمہ وقت مسکراہٹ اور آنکھوں میں الوہی سی چمک رہنے لگی تھی


دو بچوں کا باپ تھا یہ اور پھر بھی اتنا ینگ کہ سنینا جیسی خوبصورت لڑکی اسکے آگے پیچھے گھومتی تھی


💜💜


مالا کیبن کے اندر داخل ہوئی تو اس کے ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا جو ایس پی نے پہرے دار سے منگایا تھا تبھی بس اسی وقت مالا کے دماغ نے کام کیا تھا پہرے دار سے جوس لیا اور پھر اسے کچھ اور لانے کو کہا جو وہ دو منٹ میں ہی لے آیا تھا 


'بہت خوب پہرے دار جی' مالا نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا جب کے وہ پہرے دار آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے داد دے رہا تھا اسے بھی وہ ایس پی زہر لگتا تھا 


سر یہ آپ کیلئے' مالا نے آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا 


'ارے یہ آپ کیوں لے آئیں' اس نے جوس لینے کے بہانے اسکے ہاتھ کو چھوا تھا مالا بڑی مشکل سے چہرے پر مسکراہٹ سجائے کھڑی تھی اس نے وہ جوس ایک ہی سانس میں گٹکا تھا اب وہ کھڑا ہوکر اس کے قریب آرہا تھا مالا نے کاؤنٹ ڈاؤن سٹارٹ کیا 


تین…دو…ایک بس نشہ ہونا شروع ہوا تھا وہ جو قریب آرہا تھا اچانک سے لڑکھڑا گیا تھا تبھی مالا نے اسے کرسی پر بٹھایا اور پھر دروازہ بند کیا پھر اسکا موبائل اٹھایا جس پر پاسورڈ لگا تھا 


'پاسورڈ بول' مالا نے اسکا جھکا سر اوپر کرتے ہوئے کہا 


'تم کون ہو' اسکے اس سوال پر مالا سمجھ گئی تھی اسے نشہ چڑھ گیا ہے دماغ میں ایک ساتھ کئی پلینز حاضر ہوئے تھے جسے سوچ کر وہ مسکرائی تھی 


'نن والی مووی دیکھی ہے' مالا نے آواز بھاری کی تھی اب 


'ہہ…ہاں' وہ تھوڑا ہکلایا تھا 


'وہ نن ہم ہی ہیں' اسکی آواز بے انتہا بھاری ہوگئی تھی 


'تو پھر مووی میں نن کون تھی' اس نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا اسکے سوال پر وہ تھوڑا گڑبڑائی لیکن پھر سنبھلی


'وہ نن تو جھوٹی تھی' بھاری آواز مرد کی آواز لگ رہی تھی 


'تو تم یہاں کیا کررہی ہو تمہیں تو اسکی جگہ مووی میں ہونا چاہئے تھا' وہ حیران ہوتا ہوا بولا مالا نے اسکے سوال پر مسکراہٹ دبائی


'ہم مووی کو چھوڑ کر سنینا راحیل کو قتل کرنے آئے تھے' وہ انتہائی خطرناک آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی


'کیاااا اسے تم نے مارا ہے؟' اسکی آنکھوں میں خوف در آیا تھا 


'ہاں پہلے ہم نے اسے پیٹا اور پھر اسے ہمیں دیکھ کر ہارٹ اٹیک آگیا تھا' وہ بڑی مشکل سے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہہ رہی تھی اس بات میں کتنی سچائی تھی یہ تو وہی جانتی تھی اور وہ نشے کے باعث خوف میں مبتلا ہوگیا تھا 


'تتت…تم ممم…مجھے جااا…نے دو' وہ خوف میں تھا بے تحاشہ جبکہ مالا کی مسکراہٹ اب گہری ہوگئی تھی 


'پہلے اس میں پاسورڈ ڈالو' اس نے موبائل اسے پکڑایا اور پھر زرا سا دروازہ کھول کر پہرے دار کو اندر آنے کا اشارہ کیا تو وہ اندر آگیا وہ پاسورڈ خود ڈال سکتی تھی لیکن اسکی نظریں اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھیں


وہ پہرے دار موبائل پکڑے کھڑا ہوگیا تھا 


'جو تم نے کسی کو بھی نہیں بتایا وہ بتاؤ سب کو نہیں تو میں اگلا قتل تمہارا ہوگا' اس نے ٹیبل پر پڑا پیپر کٹر اٹھاکر اسکے ہاتھ پر ضرب لگاتے ہوئے کہا وہ درد سے بلبلا اٹھا تھا 


'ممم…میں سس…سب سچ بولوں گا' مالا نے اسے چھوڑا اور پھر پہرے دار کو اشارہ کیا اس نے وڈیو بنانا اسٹارٹ کی جب کہ وہ پٹر پٹر بولنا شروع ہوگیا تھا 


'میں نے بہت ساری لڑکیوں کو ہراس کیا دو تین کا قتل بھی کیا ان کو میرے بارے میں پتا چل گیا تھا وردی کی آڑ میں بہت سے غلط کام کیے رر…رشوت بھی لی……' وہ کسی رٹے رٹائے طوطے کی طرح سب بولے جارہا تھا اور وہاں پہرے دار سب ریکارڈ کررہا تھا تبھی مالا نے وڈیو بند کرنے کا اشارہ کیا


'پہرے دار جی اب اس میں فیس بک کھولیں…' مالا اس سے جیسا جیسا کہہ رہی تھی وہ ویسا ویسا کرتا جارہا تھا 


'بس ہوگیا کام' پہرے دار نے مالا سے پوچھا


'نہیں ابھی کہاں' مالا کہتے کے ساتھ آگے بڑھی اور ٹوٹ پڑی اس ایس پی پر گریبان پکڑ کر اس کو زمین پر پھینکا وہ نشے میں تھا اسلئے کچھ کر نہیں پایا مالا نے اسکے پیر پر اپنا جوتا رکھا اور اتنی زور سے دبایا کہ پاؤں کی ہڈی ٹوٹنے کی آواز پہرے دار نے بھی سنی تھی اس نے گھبرا کر مالا کی طرف دیکھا


'کیا کررہی ہو بیٹی افسر ہے وہ ہوش میں آیا تو تمہیں چھوڑے گا نہیں' پہرے دار نے خوف ظاہر کیا مالا تنزیہ مسکرائی


'ایک بات یاد رکھئیے گا پہرے دار جی اگر کوئی جرم کرے یا قانون توڑے تو سزا کا مستحق ہے یہ بدنام بھی ہوجائے لیکن اسکو وہ درد اور بے بسی محسوس نہیں ہوگی جو ان لڑکیوں کو ہوتی تھی سالا امیر جو ٹہرا' مالا نے ابکی بار اسکو دوسرا پاؤں توڑا 'پہرے دار جی زرا دروازہ تو کھولیں' جیسے ہی دروازہ کھلا وہ سکا پاؤں کھینچتی ہوئی دروازے سے باہر لائی باہر کھڑے ساری عورتیں اور لڑکیاں منہ پر ہاتھ رکھے اسے دیکھ رہی تھیں تبھی مینا اس تک آئی


'یہ کیا ہوا' وہ حیران سی اسے دیکھ رہی تھی مالا نے چہرے پر مظلومیت طاری کرتے ہوئے پہرے دار کو آنکھ ماری بدلے میں اس نے بھی آنکھ ماری 


'پتا نہیں کیا ہوا تھا یہ ہم سے تفتیش کررہے تھے کہ اچانک سے ڈر گئے اور بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہمیں تو کسی بھوت کا چکر لگتا ہے ہم زرا آیت الکرسی پڑھ لیں' مالا نے اب باقاعدہ سر پر دوپٹہ لے کر منہ ہی منہ میں پڑھنے لگی جبکہ دل کہہ رہا تھا انا للّٰہ پڑھو سب ابھی بھی حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے جبکہ وہ اپنے ہاتھ پر سے وہ کفن کا ٹکڑا کھولا کر اپنے بازو پر باندھ رہی تھی


'ہاں یہ سہی کہہ رہی ہے میں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ویسے بھی یہاں ایک دو بھوت میں نے بھی دیکھیں ہیں' وہ بھی مالا کا بھرہور ساتھ دے رہے تھے ان میں سے کچھ لڑکیوں مالا کے ساتھ ہوگئیں تھیں اور کچھ نے تو حد ہی کردی تھی باقاعدہ بھوتوں کی کہانیاں گھڑ رہیں تھیں اور مالا تو بس مسکراہٹ دبائے کھڑی تھی ایک تو اسکی ہنسی 


تبھی وہاں پر موجود دوسرے پولیس اہلکاروں نے ایمبولینس منگوائی تھی کل رات ہی ایک ایمبولینس مالا کی وجہ سے آئی  تھی کہ دوسری بھی اسی کی وجہ سے آئی تھی ارے بھئی مالا سے پہلے لالہ رخ ہے وہ جہاں بھی جائے گی سب کو بجا کر آئے گی


💜💜


سورج ڈھل چکا تھا میر کو جب یہ پتا چلا کہ ایس پی ارحم شفیع صاحب جو وومین سینٹرل جیل گئے تھے انویسٹیگیشن کرنے خود کسی سے اپنی تفتیش کرواکر آرہے ہیں مطلب اپنی دونوں ٹانگیں تڑوا کر آرہے ہیں اور تو اور محترم نے ڈرگس لے رکھے تھے میر ہوسپٹل پہنچا تھا ان سے ملنے وہاں پہنچ کر سب سے پہلے انہیں سیلیوٹ کیا


'سر کیسے ہیں اب آپ' میر نے سنجیدگی سے پوچھا


'میر اچھا ہوا تم آگئے وہ سنینا اسے کسی بھوت نے مارا ہے وہ مجھے خود بتا کر گیا ہے' ارحم صاحب ابھی بھی خوف زدہ تھے 


'سر بھوت ووت کچھ نہیں ہوتا بس ہمارا وہم ہوتا ہے' میر کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا کہتا 


'میر تمہیں نہیں پتا دیکھو اس نے میری دونوں ٹانگیں توڑ دی ہیں میرا ہاتھ بھی زخمی کیا وہ مجھے مارنے کی کوشش کررہا تھا' ڈرگس نے دماغ پر اچھا خاصا اثر چھوڑا تھا میر کو تو یہی لگا جبکہ وہ بنا ثبوت کہ یہ لکھ کر دے سکتا تھا کہ اسکا یہ حال دی گریٹ لالہ رخ نے کیا ہے 


'سر آخری بار آپ کس سے ملے تھے' میر کا لہجہ سرد تھا 


'نن سے' انہوں نے بنا دیر کیے کہا


'نن… نن کون ہے' میر نے حیرانگی سے انہیں دیکھا


'دی نن مووی ہے نہ وہ والی نن' خوف اتنا تھا کہ اے سی کے ٹھنڈے کمرے میں بھی انکے ماتھے پر پسینہ چمک رہا تھا


'سر لیکن اسکا وہاں کیا کام' میر کا صبر جواب دے رہا تھا اب


'اسی نے تو مارا ہے مجھے اسی نے تو سنینا کو بھی مارا ہے' وہ جیسے میر کو یقین دلانا چاہ رہے تھے 


'لیکن وہ سنینا کو کیوں مارے گا' میر نے سینے پر ہاتھ باندھ کر چباتے ہوئے کہا 


'نہیں نہیں اس نے مارا نہیں سنینا کو اسے دیکھ کر ہارٹ اٹیک آگیا تھا' وہ بے بسی سے لیٹے ہوئے تھے ایک پاؤں کو اسطرح سے توڑا گیا تھا کہ وہ اب زندگی بھر چلنے سے قاصر تھے 


'مجھے کسی بھی بات پر یقین نہیں ہے اور جس بات پر یقین ہے وہ تو میں وہیں جاکر ہی دیکھوں گا ہمت کیسے ہوئی ایک شریف انسان کی یہ حالت کرنے کی' وہ آخری لائن منہ میں بڑبڑاتا ہوا باہر گیا تھا اب اسکا رخ وومین سینٹرل جیل کی طرف تھا 


💜💜


میر اسی روم میں بیٹھا تھا اور ساری اپڈیٹ لے رہا تھا اور یہ اپڈیٹ دینے والا پہرے دار ہی تھا 


میر کو کیا پتا وہ جس بندے سے پوچھ رہا ہے وہ تو پہلے ہی مالا کا سب سے بڑا مسیحا تھا وہ جہاں بھی جاتی تھی دوست سب سے پہلے بناتی تھی اور یہاں تو اسے ضرورت بھی تھی کیونکہ اسکی نظریں خراب ہوگئیں تھیں وہ کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھا پاتی تھی اسے نظر ہی نہیں آتا تھا یہ پہرے دار ہی تھا جو اسکا خیال کرتا تھا اور دو چار بزرگ عورتیں تھیں جو اسے کھانا کھلا دیا کرتی تھیں 


میر اس پہرے دار کے ہمراہ مالا کے سیل میں جارہا تھا جو آخر میں تھا اس لئے چلنے کے ساتھ ساتھ سب جگہ کا جائزہ بھی لے رہا تھا وہ جہاں جہاں سے گزر رہا تھا وہاں وہاں کی ساری عورتیں اور لڑکیاں اسے سلام کررہی تھیں کچھ عورتوں نے باقاعدہ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے دعائیں بھی دی تھیں وہ آخری سیل تک پہنچ گئے تھے مالا لوہے کی سلاخوں کے بائیں دیوار سے ٹیک لگائے سر دیوار سے ٹکائے آنکھیں موندے بیٹھی تھی  


وہ جو آنکھیں موندے بیٹھی تھی ایک مخصوص سی خوشبو اپنے آس پاس محسوس ہوئی اور چند قدموں کی آوازیں آئیں تو آنکھیں کھول کر اس کو دیکھا نظر نہیں آرہا تھا لیکن محسوس کرسکتی تھی وہ کتنے وقت کے بعد دیکھ رہی تھی اسے پورے جسم میں سکون کی لہر دوڑ گئی تھی اٹھ کر کھڑی ہوئی اور سلاخوں کو تھام گئی


'ایس ایس پی صاحب آئے ہیں کیا پہرے دار جی' مالا کی آواز ہلکی سی بھیگی ہوئی تھی وہ پہرے دار تو اسکا یہ لہجہ دیکھ کر چونک گیا تھا جب کہ میر سنجیدگی سے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا 


'ہاں مالا پولیس اسٹیشن سے ایس ایس پی میر گیلانی' اس کے لہجے میں عزت ہی عزت تھی 


'کھولو اسے' میر کا لہجہ بےحد سنجیدہ تھا


'جی سر جی' اس نے دروازہ کھولا تو میر جھک کر اس دروازے سے اندر داخل ہوا تھا مالا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں تھیں پلکیں جھپک جھپک کر آنسو اندر اتارے 


'آخری بار ایس پی سے تم ملیں تھی نہ' میر نے سیدھا سیدھا سوال کیا تھا اوہ تو یہ پوچھنے آئے ہیں ایس ایس پی صاحب وہ سر جھٹک گئی اس نے ابھی تک سلاخوں کو تھاما ہوا تھا اسکی پشت میر کی طرف تھی 


'ہاں ہم سے ہی ملے تھے' اس نے اب اپنا سر بھی سلاخوں سے ٹکایا تھا اسکا یہ بولنا تھا کہ میر نے اسکا بازو پکڑا اور درشتگی سے اسکا رخ اپنی طرف کیا مالا نے اپنی نظریں جھکا لیں وہ اپنے لئے اسکی آنکھوں میں نفرت نہیں دیکھ سکتی تھی


'کیوں کیا یہ سب…کیوں' وہ اتنی زور سے دھاڑا کہ پہرے دار دو قدم پیچھے ہوا سامنے بنے سیل کی عورتیں کھڑی ہوکر انہیں دیکھنے لگیں 


'ہم نے کچھ نہیں…' اسکے الفاظ پورے نہیں ہوئے تھے 


'شٹ آپ لالہ رخ پہلے تم نے جنید کا قتل کیا پھر جیل سے بھاگیں اس کے بعد سنینا کا قتل کیا اور اب ایک آن ڈیوٹی پولیس والے کو مارا ہے تم نے' میر غررایا تھا جب کہ مالا کی نظریں زمین پر گڑیں تھیں ایک یہی شخص تھا جس کہ سامنے اسکی زبان تو کیا اسکا دماغ بھی کام کرنا بند کردیتا تھا صرف اسکا دل تھا جو عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگتا تھا پھر بھی اس نے ہمت کی


'ایس ایس پی صاحب آپ کو تو خوش ہونا چاہیے ہم نے آپکے لئے جگہ خالی کردی آپ کے لئے راستہ صاف کردیا اب آپ اپنی ایس ایس پی کی پوسٹ سے ایس پی کی پوسٹ پر فائز ہوجائیں گے آپ کو بجائے ہمیں ڈانٹنے کے پارٹی دینی چائیے تھی' وہ منہ بناتی ہوئی اس سے شکوہ کررہی تھی جیسے پہلے کرتی تھی پہرے دار تو سکتے میں آگیا تھا اسکی اس پیشن گوئی پر میر نے اسکا بازو پکڑا اور اسے اسکی کمر پر لے جا کر موڑا اور اسکے کان کے پاس جھکا


'تمہیں شرم نہیں آتی تمہارے اندر ضمیر نہیں ہے دو لوگوں کا قتل کیا ہے تم نے چاہتی کیا ہو تم  کس کس کو ماروگی ایک قتل کروگی دس اور پیدا ہوں گے تمہارے خلف گواہی دینے کیلئے' اب اس نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور اسے دھکا دے کر زمین پر گرانا چاہا لیکن مالا نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو گرنے سے بچایا وہ دو قدم چل کر اسکے قریب ہوا 'اچھا ہوا تمہاری ماں مر گئی ورنہ تمہارا یہ روپ دیکھ کر خودکشی کرلیتی اور یہ بھی اچھا ہوا کہ تمہارا باپ نہیں ہے ورنہ شرمندگی کے مارے زہر کی گولیاں کھالیتا' میر جان بوجھ کر اسکا دل چھلنی کررہا تھا اس کی آنکھوں میں دکھنے والے قرب سے وہ سرشار ہوا تھا 


'واقعی بہت اچھا ہوا کہ ہماری فیملی نہیں ہے ورنہ آج ہم اتنے مضبوط نہیں ہوتے' مالا نے اب اپنی آنکھیں اسکی آنکھوں میں گاڑی تھیں ہاتھ سینے پر باندھے چہرے پر ایک قاتلانہ مسکراہٹ سجائی 'اور یہ بھی بہت اچھا ہوا کہ تمہاری بھی ماں نہیں ہے ورنہ ایسا بیٹا دیکھ کر کسی گاڑی کے سامنے آجاتی' لالی نے اپنے مالا ہونے کا ثبوت دیا تھا میر کی آنکھیں پل بھر میں لال سرخ ہوئیں تھیں اسکا ہاتھ اٹھاتا لالی پر لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ سامنے لالی نہیں مالا ہے 


'کیا ہوا زہر لگی ہماری بات آپ کو پتا ہے ایس ایس پی صاحب مرد نہ اپنے اعصاب چھپانے میں بہت کمزور ہوتے ہیں جب کہ ایک عورت اپنے اعصاب چھپانے میں بہت مضبوط ہوتی ہے ہمیں لگتا تھا آپ مضبوط ہیں لیکن آپ نے ہاتھ اٹھاکر اپنے مضبوط ہونے کا لقب چھین لیا' مالا نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور اس سے کچھ قدم دور ہوئی لمبی لمبی سانسیں کے کر خود کو کمپوز کیا کچھ دیر خاموشی رہی ان دونوں کے درمیان مالا نے وہاں رکھے مٹکے میں سے پانی نکالا اور میر کی طرف بڑھایا میر نے گلاس نظر انداز کیا


'یقین جانیں یہی پانی ہم بھی پیتے ہیں زہر نہیں ہے اس میں اور پانی اسلئے دیا ہے کیونکہ ہماری بات برداشت نہیں ہورہی ہوگی' مالا نے تنزیہ انداز میں کہا میر نے اس سے پانی کا گلاس لیا اور زمین پر بیٹھ کر تین سانسوں میں پانی پیا واپس جانے کیلئے پلٹا ہی تھا کہ مالا کی آواز نے اسکے قد روکے


'نکاح سچ میں ہوا تھا نہ' اسکی آواز میں ایک امید سی تھی جیسے وہ کہے گا ہاں میر خاموشی سے جیب میں ہاتھ ڈال کر اسکی طرف پلٹا جب کہ پیچھے کھڑا پہرے دار اسکے منہ سے ادا ہونے والے ان الفاظوں پر سخت حیرت میں مبتلا ہوا تھا


'اور اگر میں نہ کہوں تو' میر کی آواز بلکل سرد تھی


'جو بھی کہیں لیکن بس سچ کہیں' مالا کا دل ماننے سے انکاری تھا کہ وہ جو دن گزرے وہ سب جھوٹ تھا اسکی بات پر میر تنزیہ مسکرایا


'بہت شوق ہے تمہیں خود کو اذیت دینے کا تو سن لو ہاں میں نے تم سے جھوٹا نکاح کیا…' اسکے الفاظ پورے نہیں ہوئے تھے کہ مالا نے زوردار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تھا 


"چٹاخ" 


ایک سے شاید اسکا دل نہیں بھرا تھا کہ ایک اور تھپڑ اسکے منہ پر مارا


"چٹاخ" میر کا منہ دوسری طرف ہوا تھا جس سے اسے پتا چلا تھا جو لوگ یہ کہتے تھے کہ لالی کا نرم ہاتھ بہت بھاری ہے سہی کہتے تھے


سامنے والے سیل کی لڑکیاں کھڑی ہوگئیں تھیں پیچھے کھڑے پہرے دار کو مالا سے خوف آیا تھا مالا کی آنکھیں میر پر جمی تھیں جو اپنا بایاں ہاتھ دائیں گال پر رکھ کر دائیں طرف جھکا ہوا تھا


'ہمیں اذیت سہنا ہی نہیں اذیت دینے کا بھی بہت شوق ہے اور تمہیں پتا ہے' اب اس نے اسکا گریبان تھاما تھا میر کی لال سرخ آنکھیں مالا کی دہشت زدہ آنکھوں سے ٹکرائیں تھیں ایک پل کیلئے تو وہ بھی تھم گیا تھا 'ہمیں واقعی کوئی دکھ نہیں ہوا تمہاری ماں کے بارے میں کہہ کر لیکن ہمیں بی جان کیلئے دکھ ہے جنہوں نے تمہیں پالا' اسکا گریبان ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا وہ میر کی طرف پشت کیے کھڑی ہوئی 


'اور رہی بات ایس پی ارحم شفیع کی تو کل تک سب سچ پتا چل جائے گا ایک درخواست ہے ایس ایس پی صاحب ہوسکے تو کبھی دوبارہ ہماری آنکھوں کے سامنے نہیں آئیے گا' اسکا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا 


'اب ہماری ملاقات سیدھا کورٹ میں ہوگی' وہ کہتا ہوا پلٹ گیا تھا جبکہ پیچھے مالا کے چہرے پر تنزیہ مسکراہٹ آئی تھی


'سوچ ہے تمہاری ایس ایس پی صاحب بہت جلد تمہاری ناک کے نیچے سے پوری پولیس فورس کو چکما دے کر بھاگیں گے' وہ زمین پر بیٹھ کر پھر سے سر دیوار سے ٹکا گئی تھی اور آنکھیں موند گئی


'کمینہ سچ بول گیا' ایک آنسو گال پر پھسل گیا تھا اسکے 


  ختم اپنا درد کرجاؤں


جی میں آتا ہے آج مرجاؤں💔


💜💜


انڈر کنسٹریکشن بلڈنگ تھی جس کی بیس منزلیں بن چکی تھیں نیچے دس بارہ آدمی گنڈے کے حلیے میں کھڑے پہرہ دے رہے تھے انکے باس نے سکیورٹی بڑھائی تھی اسکی جان کو خطرہ تھا ابھی انکا باس اوپری منزل پر تھا


ایک سائرن کی آواز گونجی تھی بلڈنگ میں 


'اے چل دیکھ کون ہے' ان میں سے ایک چیخا تھا


تبھی ایک جیپ اندر آئی تھی سب کے سب چونکے اور اس گاڑی کی طرف بڑھے 


'کون ہے بے جان پیاری نہیں ہے کیا تجھے' ایسی بہت سی آوازیں ان لوگوں نے لگائیں تھیں لیکن وہاں صرف خاموشی تھی تبھی ایک آگے بڑھا


'کون ہے بے نکل باہر' اس نے دروازہ کھولا تو اندر کوئی نہیں تھا اس نے گاڑی کے نتیجے دیکھا وہاں بھی کوئی نہیں تھا 'ادھر تو کوئی نہیں ہے' اس نے سب کو آواز لگا کر بتایا تبھی ان سب کے پیچھے سے کچھ گرنے کی آواز آئی سب لوگ اس طرف بڑھے 


'ہاں تم لوگ جاؤ اپن ادھر ہی…' اسکے الفاظ پورے نہیں ہوئے تھے کہ ایک ہوا سی آئی تھی اور اسکا منہ گاڑی کی بونٹ پر لگا تھا آگے بڑھنے والے چونکے اور پیچھے مڑے انکا دوست زمین پر پڑا تھا کچھ گنڈے اسکی طرف بڑھے تھے


'کون ہے یہاں' پیچھے رہ جانے والوں میں سے ایک چیخا تبھی ایک تیز ہوا نے اسکی گردن توڑی تھی وہ بھی زمین پر گرا یہ کیا بلا تھی ہوا ہے یہ کوئی ہوائی مخلوق 


سب لوگ اس آدمی کی طرف بھاگ رہے تھے آخر میں جو بھاگ رہا تھا اسکی ٹانگ میں کچھ زوردار چیز لگی تھی وہ چیختا اور کلبازی کھاتا ہوا زمین پر گرا ان میں سے اس طرف مڑا تبھی انکا ایک اور آدمی اڑتا ہوا دیوار سے جا لگا ایک جیپ کے پیچھے کھڑا تھا تبھی ایک زوردار ہوا آئی تھی اور اسکے سر جیپ کے پیچھے والے شیشے پر زور سے لگا تھا کہ شیشہ چکنا چور ہوا تھا ان میں سے صرف چار ہی بچے تھے کہ دو پیچھے کی طرف بھاگے اور دو آگے کی طرف اسے ڈھونڈنے کیلئے تبھی ان میں سے ایک اور اڑتا ہوا دیوار سے لگا تھا


تبھی اچانک سے کوئی سامنے آیا تھا اور جو اسکی رفتار تھی وہ واقعی ہوا کی طرح تھا وہ سب جان گئے تھے کہ آگیا ہے وہ 


بلو شرٹ نیچے براؤن رنگ کی جینز پہنے سامنے آیا تھا کالی آنکھیں کھڑی ناک مونچھیں تلے دبے عنابی ہونٹ ہلکی سی سانولی رنگت لیکن پرکشش اور خوف میں مبتلا کردینے والی شخصیت تھی 


ان میں سے تینوں بھاگتے ہوئے اسکے پاس آئے اس نےاس یک لات اسکے سینے میں ماری وہ زمین بوس ہوئے دوسرے کے منہ پر تھپڑوں سے برسات کی تھی کہ وہ دیوار سے جا لگا تیسرے والے نے کات ماری چاہی اس نے اسکی ٹانگ پکڑی اور مڑ کر اسکی کمر سے لگائی اور جھٹکا دیا تھا ٹانگ میں تین سے چار کریک آرام سے پڑے تھے تبھی ان میں سے ایک آخری بھاگتا ہوا آیا تھا اور عجیب سی حرکتیں کرنے لگا


'اے رک جا دیکھ میرے پاس یہ ہے' اس نے اپنے گلے سے کراس نکال کر اسے ڈرانا چاہا جبکہ وہ اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اور قریب ہوا 'رک جا دیکھ میرے پاس کراس ہے شیطان دور ہوجا' عجیب بات تھی اسکے ہاتھ میں کراس تھا اسکے باوجود بھی ڈر رہا تھا 'شیطان دور رہے مجھ سے' وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا


'شیطانوں کا گاڈ فادر ہوں میں' اس نے ایک شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے اسکو منہ پر تھپڑ مارا تھپڑ کی شدت اتنی تھی کہ وہ اتنی زور سے زمین پر گرا کہ آواز اس خالی بلڈنگ میں گونج اٹھی تھی 


اوپر بیٹھا انکا باس چونک گیا تھا اسکے ساتھ بیٹھا انکا سکریٹری بھی 'کوظی گرگیا ہے کیا' اس بندے کی آواز بھاری تھی یقیناً وہ لوگ شراب پی رہے تھے


'سر میں دیکھتا ہوں' وہ کہتا ہوا اس جانب چلا گیا تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ کسی کے پانی میں مچلنے کی آواز آئی 


'شوہیب …کیا ہوا…ارے بولتا کیوں نہیں' اس نے اسے آواز دی جب کوئی رسپانس نہیں آیا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اپنی جگہ سے تھوڑا سا ہٹا ہی تھا کہ اسکے سیکریٹری کی باڈی اڑتی ہوئی اسکی جگہ پر آگری تھی وہ ہڑبڑا کر پیچھے ہٹا اس نے اس جانب دیکھ جہاں سے آواز آئی تھی وہ کوئی اور نہیں وہی تھا اسکو دیکھ کر وہ الٹے قدم پیچھے بھاگا اور تب حیرت کی انتہا نہیں رہی جب وہ اسکے سامنے بیٹھا وہاں پہلے سے ہی موجود تھا وہ اسے دیکھ رہا تھا جب وہ ہوا کی رفتار پر بلکل اسکے سامنے آ کھڑا ہوا ایک انگلی کا بھی فرق نہیں تھا انکے درمیان


'دیکھو مجھے مت مارو' وہ منتوں پر اتر آیا تھا 'میں…میں اپنی ساری دولت تمہارے نام کردوں گا' وہ رو رہا تھا


'چپ کر' اس نے کہتے ہی ایک تھپڑ اسکے منہ پر مارا عمر ہوگئی تھی اسلئے زمین پر گرا اسے راڈ اٹھاتا دیکھ اسکا دل حلق میں آگیا تھا وہ کھسک کر پیچھے ہوتا اٹھ کھڑا ہوا تھا اس نے روڈ اسکے منہ پر ماری وہ دوبارہ زمین پر گرا وہ لوگ اس مالے کی بارہویں منزل پر کھڑے تھے اسکو پتا بھی نہیں چلا کہ کب وہ کنارے پر آ کھڑا ہو تھا اسکے منہ سے خون بہہ رہا تھا وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا روتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کررہا تھا جب کہ سامنے والے کے ذہن کے پردے پر کچھ اور لہرارہا تھا شاید کسی میتیں وہ میتیں جو اسکے اپنوں کی تھیں اس نے ایک اور راڈ اسکے ہاتھ پر مارا وہ اپنا ہاتھ سہلانے لگا 


'مجھے مت مارو مجھے معاف کر دو' وہ بلکل کنارے پر تھا تبھی وہ ہوا میں اچھالا اور اسکے سینے پر اتنی زور سے لات ماری کے وہ بارہویں منزل سے نیچے گرگیا اور تھوڑی ہی دیر بعد ایک دھپ سی آواز سنائی دی تھی اور لوگوں کی چیخنے کی آواز بھی


'میں معاف نہیں کرتا' وہ اپنی شٹ پر لگی دھول جھاڑتے ہوئے بارہویں منزل سے کودتا ہوا گیارہویں پر آیا اسی طرح وہ زمین پر آگیا تھا سائیڈ پر پڑی اپنی ہوڈی اٹھائی پہنی اور اس علاقے سے باہر نکل گیا اسکی ہڈی کے پیچھے گولڈن دھاگوں سے شیر بنا تھا اور اس شیر میں ایک نا دکھنے والا نام بھی لکھا تھا                       "غازی اورنگزیب"


💜


دوسرے دن دوبارہ آئمہ اکرم چلی آئیں تھیں مالا سے ملنے 


'کب تک یہاں ٹکنے کا ارادہ ہے' وہ منہ بناتے ہوئے کہہ رہی تھیں


'آج رات ہی فل پروف پلین بناتے ہیں لیکن بس کچھ مسٔلے ہیں' وہ ٹیبل پر اپنی انگلیاں پیانو کے انداز میں چلا رہی تھی 


'کیا' انہوں نے بے چینی سے اسے دیکھا


'ہم کرنے کو تو سب کچھ کرسکتے ہیں لیکن ہماری آنکھیں بہت کمزور ہمیں نظر نہیں آتا ٹھیک سے اور دوسرا یہاں لگے سی سی ٹی وی کیمراز' اس نے مسٔلے بتائے


'سنگین معاملہ ہے لیکن میرے پاس ایک حل ہے' ان کے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا تھا


'ان سب باتوں میں تمہاری مدد میری ڈرپوک شیرنیاں کریں…' وہ ابھی بول ہی رہی تھیں کہ مالا کا قہقہ گونجا


'ڈرپوک شیرنیاں سیریسلی ہاہاہا' اس کی بات پر وہ بھی مسکرائیں 


'اچھا اسے چھوڑیں جو کام کیا تھا آپ سے وہ تو آپ نے کردیا ہوگا ہے نہ' انہوں نے سر اثبات میں ہلایا تبھی مالا نے ہاتھ ملانے کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا انہوں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا اور بغیر کسی کی نظر میں آئے ایک کاغذ پاس ہوگیا تھا 


••••••••••••••••••


دوسری طرف میر اپنی جگہ سے ہلنے کے قابل نہیں رہا تھا ارحم شفیع کی وڈیو دیکھ کر جو ابھی ابھی نیوز چینل ولے دکھا رہے تھے


علی ہوسپٹل میں اپنے کیبن میں بیٹھا مالا کے موبائل پر پری کی تصویریں دیکھ رہا تھا تبھی کچھ دماغ کے پردے پر لہرایا تھا وہی پرانی فیکٹری کا منظر 


علی کو اچھے سے یاد تھا کہ اسے رابیعہ نے فون کرکے پرانی فیکٹری بلایا تھا جنید کے قاتل کے بارے میں انفارمیشن دینے کیلئے 


'مجھے یہاں بلانے کا مقصد' علی نے سنجیدگی سے پوچھا 


'تمہیں یہاں اسلئے بلایا ہے تاکہ تم اپنی اس منہ بولی بہن کی اصلیت جان سکو' رابیعہ نے سیدھا سیدھا کہا تو علی الجھ گیا


'تمہیں کیا لگتا ہے تم مجھے بیوقوف بناؤ گی اور میں بن جاؤں گا' علی نے تاصف سے اسے دیکھا


'میں ثابت کرسکتی ہوں کہ یہ قتل لالی نے کیا ہے' رابیعہ بس کیسے بھی کرکے علی کو سائیڈ پر کرنا چاہتی تھی 


'کیسے؟' علی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا


'جنید نے ارمان بن کر لالی کو ڈوج کیا تھا اسکو اپنے پیار میں پھنسا کر لیکن اسے سب سچ پتا چل گیا اسلئے اس نے جنید کو مار دیا' رابی صرف کہہ نہیں رہی تھی بلکہ اپنے الفاظوں سے اسکے دماغ میں چھاپ رہی تھی کیونکہ وہ یہ بات بہت اچھے سے جانتی تھی کہ علی کو پرفیوم سے الرجی ہے پرفیوم کی وجہ سے اسکا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا تھا اور اسی بات کا وہ فایدہ اٹھا رہی تھی اسکے یہاں آنے سے پہلے ہی فضا میں پرفیومز کی اسمیل پھیلا دی تھی جو اسکے دماغ پر اثر کررہی تھی اور پھر وہ خاموشی سے اسکے پیچھے گئی اور راڈ سے اسکے سر پر وار کیا اور پھر چیخی لالی جس کی وجہ سے علی کے دماغ میں یہ بیٹھ گیا تھا کہ لالی ہی مجرم ہے 


اور پھر جب تھوڑی دیر بعد اسے ہوش آیا تو اپنے سامنے لالی کو بیٹھا پایا سر میں درد کی ٹیسیں شدید تھیں اسلئے اس سے ہیلپ لے لی اور پھر کچھ دیر بعد جب لالی نے اسے وہاں رابیعہ کی موجودگی کا بتایا تو وہ غائب دماغی سے بول گیا تھا کہ ہاں میں جانتا ہوں وہ پیچھے جاکر چھپ گیا تھا تاکہ دونوں کی گفتگو سن سکے لیکن وہ یہ بھول گیا تھا کہ اسکا دماغ کام نہیں کررہا تبھی رابیعہ کو یہ لگا کہ وہ شاید چلا گیا ہے اسلئے اس نے وہیں کھڑے ہوکر یہ بات کہی تھی کہ ہاں اس نے ہی جنید کو مارا ہے لیکن لالی کی قسمت بہت خراب تھی یہ بات لکھ لو علی کے دماغ میں رابیعہ کی باتیں گھوم رہیں تھیں اسلئے اسے لگا کہ لالی نے کہا ہے کہ اس نے قتل کیا ہے وہ ان دونوں کی آواز میں فر نہیں کرسکا اسکے دل میں رابیعہ کیلئے عزت بڑھ گئی تھی اور لالی کیلئے اتنی ہی نفرت


یہ کیس بہت کومپلی کیٹیڈ ہوتا جارہا تھا اسکو سلجھانے کی جتنی کوشش کررہے تھے اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا آخر ایک قتل کے پیچھے کتنے لوگ تھے 


ایک یہ کیس تھا اور دوسرا کیس کوثر نواب کا تھا ان دونوں ہی کیس کی واحد گواہ صرف لالہ رخ تھی لیکن اسے دونوں میں ہی مجرم بنایا گیا تھا ایک میں قاتل کا درجہ دے کر دوسرے میں بیٹی کا


💜💜


'بہت اچھا ہوا کہ تم نے سول انجینئرنگ چوس کیا' آئمہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ بیٹھی تھیں دو جڑوا بیٹیاں تھیں انکی عائشہ اور زاعشہ انکے شوہر نہیں تھے جب انکی بیٹیاں دو سال کی ہوئیں تو انکے شوہر نے دوسری شادی کرلی تھی اور انہیں طلاق دے دی تھی وہ تینوں کراچی میں رہتی تھیں لیکن آئمہ مالا کے سلسلے میں لاہور آئیں تھیں


آئمہ نے مالا کو اس جیل کا بلو پرنٹ پاس کیا تھا ہاتھ ملاتے ہوئے اور وہ بلو پرنٹ ان کی بیٹی کی وجہ سے بن گیا تھا دراصل آئمہ نے پورے جیل میں ایک خاص ڈیوائس لے کر چکر لگایا تھا جس سے بلو پرنٹ مل گیا تھا انکی بیٹی انجینئر تھی جسکی وجہ سے اسکے پاس ایسی ڈیوائسز موجود تھیں 


'مجھے تو اتنا ڈر لگ رہا تھا قانون کی ہوتے ہوئے بھی غیر قانونی کام کرتیں ہیں آپ' عائشہ خوف میں مبتلا تھی جبکہ زاعشہ کو یہ کوئی مزیدار اور انٹرسٹنگ بات لگ رہی تھی


'بیٹا مضبوط بنو ایک تم لوگ ہو اور ایک وہ ہے کوثر کی بیٹی مجھے نہیں پتا تھا کہ کوثر نے ایک بیٹی نہیں شیرنی پیدا کی ہے' وہ اپنی بیٹیوں کو تاصف سے دیکھ کر گویا ہوئیں


'کتنی مضبوط ہو میری طرح تو نہیں ہوگی میں تو لڑکوں سے بھی لڑتی ہوں' آج زاعشہ زچ ہوگئی تھی مالا کی اتنی تعریفیں سنکر اس کی بات پر آئمہ کا قہقہ گونجا تھا 


'بیٹا جی آپ اس سے ملیں گی نہ تو آپ کو اپنی بہادری مزاق لگے گی' انہوں نے اسے اور جلایا 


'کیسے؟' اب اس گفتگو میں عائشہ کا بھی انٹرسٹ بڑھا تھا


'کچھ دن پہلے ایک نیوز بریک ہوئی تھی سنینا راحیل کی کہ اسکا جیل میں قتل کردیا گیا ہے اور پرسوں ایک اور نیوز آئی تھی کہ ایس پی ارحم شفیع کی کسی بھوت نے ٹانگیں توڑی ہیں' وہ چہرے پر مسکراہٹ لئے ان دونوں کو دیکھ رہیں تھیں اور وہ دونوں تجسس لئے انہیں دیکھ رہی تھیں 'سنینا کو لالی نے مارا ہے اور تو اور وہ بھوت بھی یہی ہے صرف یہی نہیں یہ ایک دفعہ جیل سے بھی بھاگ چکی ہے پولیس والوں سے دشمنی ہے اسکی لوگوں کی ہڈیاں ایسے توڑتی ہے جیسے لکڑی توڑ رہی ہو پوری کی پوری جھانپڑ ہے وہ' اب وہ دونوں سکتے میں تھیں عائشہ کے دماغ میں لالی کی شبیہ دکھی تھی کتنی معصوم لگ رہی تھی وہ 


'ایسی دکھتی تو نہیں تھی وہ' عائشہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو آئمہ کے چہرے پر دکھ ابھرا وہ وہاں سے اٹھیں اور گیلری میں آگئیں پیچھے ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر کندھے اچکائے


'کوئی برا نہیں ہوتا اسے یہ دنیا برا بناتی ہے جیسے وہ بری نہیں تھی اور نہ ہی وہ اب بری ہے اور میں جانتی ہوں اسکا لالہ رخ سے سنہری مالا کا سفر بہت درد ناک رہا ہوگا جس عمر میں اس نے خواب دیکھنے ہیں اس عمر میں وہ حقیقت دیکھاتی ہے وہ تو خوشیاں کو لائق ہے کہاں نفرتوں کے بیچ آگئی جہاں اسکے ہتھوں میں چوڑیاں اور مہندی ہونی چاہیے تھی وہاں اسکے ہاتھوں میں ہتھ کڑی زخم اور بندوق رہتی ہے جہاں اسکے پیروں میں پائل ہونی چاہیے تھی اب وہاں صرف بیڑیاں ہیں وہ معصوم تو اب بھی ہے لیکن بس شیرنی بن گئی ہے میں نہیں جانتی اسکے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن یہ ضرور جانتی ہوں کہ اسکی محبت سے بھری آنکھیں اب خالی رہتی ہیں اور مالا تمہاری ذات کی سچائی میں تمہیں نہیں بتاؤں گی میں نہیں چاہتی کہ تم ٹوٹ جاؤ' وہ باہر کے نظارے دیکھتے ہوئے کچھ بہت گہرائی میں جاکر سوچ رہیں تھیں


💜💜

مالا نے پورا بلو پرنٹ اچھے سے سمجھا تھا اب اسے رات کے دس بجے کا انتظار تھا جانتی تھی وہ رات کے دس بجے ہو کا عالم ہوتا تھا جیل میں 


جیسے ہی رات کے دس بجے اس نے اپنے سیل کا تالا کھولا جس کی چابی اور میگنیفائینگ گلاس اس نے جیلر کے روم سے چرایا تھا وہ دبے قدم وہاں سے نکلی اسکو مین سوئچ تک پہنچنا تھا  جہاں پر صرف ایک پولیس اہلکار کھڑا تھا مالا نے پتھر اٹھا کر دوسری طرف پھینکا 


'اے کون ہے وہاں' وہ بولتا ہوا اس طرف بڑھ گیا مالا نے میگنیفائینگ گلاس اس مین سوئچ کی طرف کیا اب اسے سب صاف نظر آرہا تھا اس نے بہت دھیان سے مین سوئچ کا کباڑا کیا مطلب کٹر پلاس سےپ تاریں کاٹی تاریں کاٹتے ہی پورا جیل اندھیرے میں ڈوب گیا تھا وہ جیسے ہی پیچھے مڑی وہی اہلکار کھڑا تھا وہ گھبرائی لیکن جلدی سے اسکے منہ پر پنچ مارا وہ لہرا کر زمین پر گرا تبھی اسے بہت سارے قدموں کی آواز اس طرف آتی محسوس ہوئی وہ ننگے پیر تھی تاکہ آواز نہ آئے تبھی اسکے دماغ میں ایک اور آئیڈیا آیا تھا اس نے اس اہلکار کی گن نکالی اور مین سوئچ پر ایک فائر کیا اور تبھی اس میں سے چنگاریاں نکلیں آگ بھڑکی تھی آس پاس سوکھی جھاڑیاں ہونے کی وجہ سے آگ سیکنڈوں میں پھیلی تھی فائر کی آواز آتے ہی وہاں کھڑے سارے پولیس والوں نے اپنی گنز نکالی تھیں ایک شور اٹھا تھا آگ لگی ہے بچاؤ بچاؤ جب تک پولیس فورس وہاں پہنچی مالا وہاں سے بھاگ گئی تھی لیکن جاتے جاتے اسکے بازو کی آستین پر آگ لگ گئی تھی اس نے ہاتھ مار مار کر آگ بجھائی وہ ابھی کوئی نقصان افورڈ نہیں کرسکتی تھی


آگ بری طرح پھیلی تھی کہ ایویڈینس روم جیلر کا روم اور کئی سیل آگ کی لپیٹ میں آگئے تھے اس نے خاموشی سے اپنے ایک میں جاکر جوتے اٹھائے اور واپس نکلی


پہرے دار آگ بھجانے کیلئے آگے بڑھ رہا تھا تب کوئی اس سے بری طرح سے ٹکرایا 


'بھاگو یہاں سے یہاں کیا کررہے ہو' اس نے نہیں دیکھا تھا کہ سامنے مالا ہے مالا ایک شال میں لپٹی ہوئی تھی اس نے نا محسوس انداز میں پہرے دار کی جیب میں ایک کاغذ چھپا دیا تھا اور جیل کی بیک دیوار کی طرف بھاگی تھی لیکن وہاں ابھی بھی چند پولیس والے موجود تھے 


'ارے اس طرف آگ لگی ہے بھاگو' مالا نے انکا دھیان دھوئیں کی طرف کروایا وہ لوگ حواس باختہ اس طرف بھاگے پیچھے مالا کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا اس نے آس پاس اچھے سے دیکھا اور پھر دیوار کو اور دیوار سے لگے اس درخت کو دیکھا دیوار پر الیکٹرک وائرس لگا کر راستہ روکا گیا تھا لیکن یہ تو بہت اچھی بات تھی کہ وہاں درخت تھا کام بہت آسان تھا وہ درخت پر چڑھی اور دیوار پھلانگ گئی وہاں سے کود کر ایک پرسکون سانس خارج کی اور آنکھیں موند کر خدا کا شکر ادا کیا تبھی کانوں میں آئمہ کی باتیں سنائیں دیں


'تمہیں وہاں سے کل یا پرسوں تک لازمی بھاگنا ہوگا کیونکہ تمہارا بھائی پرسوں تک ہسپتال سے ڈسچارج ہوجائے گا اور پھر تمہارا باپ اسے لے کر یہاں سے چلا جائے گا' اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر دوبارہ جیل کر طرف دیکھا جہاں سے دھواں اٹھ رہا تھا وہ چاہتی تو صرف آگ بھی لگا سکتی تھی لیکن اسے سی سی ٹی وی کیمراز کی فکر تھی ویسے تو وہ چلتے نہیں تھے لیکن میر نے سارے نیو کیمراز لگ وائے تھے 


وہ نہیں جانتی تھی کہ کونسا ہسپتال ہے اسے ابھی جیل والوں کی فکر بھی نہیں تھی کیونکہ ابھی وہ لوگ آگ بھجانے میں مصروف ہوں گے تو اسکی غیر موجودگی کا کسی کو اندازہ بھی نہیں ہوگا وہ وہاں سے گزرتے ہوئے ایک ایک چیز کا اچھے سے جائزہ لے رہی تھی کتنے دنوں کے بعد کھلی فضا میں سانس لے رہی تھی ہر طرف سکون ہی سکون تھا تبھی اس نے وہاں سے گزرتے ہوئے ایک آدمی کا فون چرایا تھا بڑی ہوشیاری سے یہ چوری چکاری تو اس نے جیل میں سیکھی تھی 


اس نے اپنے جوتے کے پیچھے چھپا آئمہ کا کارڈ نکالا اور انہیں فون کیا جو دو تین بیل پر اٹھا لیا گیا


'کون بات کررہا ہے' آئمہ کی مصروف سی آواز سنائی دی


'ہم ہیں آئمہ آنٹی' دوسری طرف مالا کی آواز سنائی دی انکے ہاتھ سے فون چھوٹتے چھوٹتے بچا


'تم جیل سے بھاگ گئیں' انکی آواز میں خوشی تھی جسکو محسوس کرکے مالا کی مسکراہٹ گہری ہوئی وہ بات کرنے کے ساتھ ساتھ چل بھی رہی تھی


'بھگانا مشکل نہیں تھا بس پولیس والوں کو ڈوج کرنا مشکل تھا خیر ہمیں ہسپتال کا نام بتائیں' مالا نے ابھی بھی چادر لپیٹی ہوئی تھی 


'ہاں ........ہسپتال ہے تم وہاں جاؤ تمہاری مدد کیلئے وہاں میری بیٹی موجود ہوگی' انہوں نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹ دیا جبکہ مالا نے اس آدمی کے فون سے آئمہ کا نمبر ڈیلیٹ کرکے اس موبائل کو وہیں رکھ دیا اور وہاں سے آگے بڑھ گئی 


💜💜


چالیس منٹ لگے تھے مالا کو ہسپتال پہنچنے میں ایک رکشے والے کو پکڑ لیا تھا لیکن اب اسکے پاس پیسے نہیں تھے تبھی مالا کی نظر عائشہ پر پڑی لیکن اصل میں وہ زاعشہ تھی کیونکہ عائشہ کو ایسے کام کرتے ہوئے ڈر ہی بہت لگتا تھا


'عائشہ' مالا نے آواز لگائی زاعشہ جو اسکے انتظار میں تھی اپنی بہن کے نام پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی چادر میں کھڑا تھا پیچھے سے وہ مرد لگ رہا تھا لیکن آواز سے لڑکی وہ سمجھ گئی تھی یہی ہے وہ لڑکی بھاگتی ہوئی س کے پاس پہنچی


'تم لا میرا مطلب سنہری مالا ہو نہ' اس نے اپنا شک دور کرنا چاہا تھا مالا نے بھی بھی گردن اثبات میں ہلائی تو اس نے سکون کا سانس لیا 


'عائشہ پیسے ہیں تمہارے پاس تو اس کو دے دو ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں' مالا جلدی میں تھی زاعشہ نے جلدی سے اسے پیسے دیے اب ان دونوں کا رخ اندر کی طرف تھا


'رک جاؤ اس طرح مسئلہ ہوسکتا ہے کوئی اندر جانے نہیں دے گا ہمیں حلیہ بدلنا ہوگا' مالا نے وہاں کے چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے کیبن میں گئی اور دبے قدموں اسکے پیچھے جاکر گردن کی مخصوص رگ دبا کر اسے بے ہوش کیا اسکا کارڈ اسکا آوور آل اور سیٹتھو سکوپ چرایا اور ڈاکٹر کا گیٹ اپ لے کر منہ پر ماسک لگایا دوسری طرف زاعشہ نے اسٹاف روم میں جاکر صفائی کرنے والی کے کپڑے پہن لیے اور ایک پوچھا اٹھا لیا اور منہ پر ماسک لگایا اور بغیر کسی کی نظروں میں ئے صفائی کرنے لگی دوسری طرف سے مالا نکلی زاعشہ نے ماسک نیچے کرکے اسے دیکھا مالا کی نظر اس پر پڑی تو اس نے اشارہ کیا اپنے ساتھ چلنے کا اور اب وہ دونوں خاموشی سے بنا کسی کی نظروں میں ہے بچوں کی نرسری میں داخل ہوچکے تھے 


دوسری طرف اسابیل بھی ہسپتال میں ہی موجود تھا اپنے بیٹے کے ڈسچارج پیپرز بنوا رہا تھا اسکا دل گھبرارہا تھا جیسے کچھ ہونے ولا ہے تبھی راجا بوکھلایا ہوا اس کے نزدیک آیا 


'سائیں جیل میں آگ لگی تھی مالا بھاگ چکی ہے اور اسے اسی ہسپتال کے قریب آتے دیکھا ہے اپنے بندوں نے' اس نے دھماکا کیا تھا اسابیل نے سارے پیپرز چھوڑے اور نرسری کی طرف بھاگا اسکے پیچھے چار پانچ گارڈز اور راجا بھی تھا 


مالا نے زاعشہ کو باہر کھڑے رہنے کا کہا تھا کہ کوئی بھی آئے تو اسے روک دینا مالا نے پہلے پورے روم کو اچھے سے دیکھا کہ دوسرا دروازہ کہاں ہے ایسی جگہوں پر دو رومز ہوتے ہیں تاکہ اینرجینسی کہ دوران مسئلہ نہ ہو اور اسے وہ دروازہ مل گیا تھا مالا نے قدم اب بچوں کی طرف بڑھائے تھے روم میں اسکے علاؤہ کوئی نہیں تھا یکا یک اسکے قدم ایک کارٹ کے پاس رکے تھے ساتھ اسکا دل بھی رک گیا تھا ایک بچہ اسے دیکھ کر کلکاریاں مار رہا تھا وہ کھلکھلا کر ہنس رہا تھا تبھی مالا کی نظر اس کارٹ پر لگے بورڈ کی طرف گئی جہاں فادرز نیم کی جگہ اسابیل عثمانی لکھا تھا وہ کئی پل تو اپنی جگہ سے ہلنے سے قاصر رہی تھی تبھی باہر شور اٹھا تھا وہ چونکی اور زہن کے پردے پر اسابیل عثمانی لہرایا تھا 


اس نے ایک ہی جست میں اس بچے کو اپنی گود میں اٹھایا اور چیخی 'عائشہ اندر آؤ' عائشہ کا صرف یہ سننا تھا اس نے پوچھے کا ڈنڈہ نیچے پھینکا اور اندر کی بڑھ گئی اسابیل عثمانی بھاگم بھاگ اندر آرہا تھا لیکن مالا اور زاعشہ پیچھے کے دروازے سے بھاگ چکے تھے اسابیل اپنے بیٹے کی طرف بڑھا وہ کارٹ خالی تھا 


'میرا بیٹااااا پکڑو اسے' وہ دھاڑا تھا اسکولگا دولت کی طرح اسکا بیٹا بھی اس سے چھین کر لے گئی ہو سارے گارڈز پیچھے کی طرف بھاگے تھے 


عائشہ مالا کو کے لے کر گاڑی کی طرف بڑھی تھی اس نے اثیل کو زاعشہ کو پکڑایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آئی اسابیل نے بھی گاڑیاں نکلوائیں تھیں 


'عائشہ سیٹ بیلٹ لگاؤ کیونکہ اب ہواؤں سے باتیں کرنی ہے' زاعشہ نے خود کو اور اثیل کو سیٹ بیلٹ سے محفوظ کیا مالا نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اندھا دھند بھگائی تھی پیچھے اسابیل کے آدمیوں نے بندوقیں نکال لی تھیں جبکہ مالا کے پاس اس حوالدار کی بندوق ابھی بھی موجود تھی 


'میں زاعشہ ہوں عائشہ کی جڑوا بہن' زائشہ نے اٹیک کے گدگدی کرتے ہوئے کہا جس سے اسکی ہنسی گاڑی میں گونج رہی تھی گاڑی ہوا سے باتیں کررہی تھی گیارہ بجے کا وقت تھا مالا نے اسٹیئرنگ ویل زاعشہ کو پکڑاکر گاڑی چلانے کا اشارہ کیا اور خود اس نے ونڈو سے سر باہر نکالا اور اپنے پیچھے آنے والی گاڑی کا نشانہ لیا اسے نہیں پتا تھا وہ کہاں مار رہی ہے اسکا نشانہ گاڑی کا فرنٹ ٹائر تھا ایک ٹھاہ کی آواز سے بندوق چلی اور پیچھے آنے والی گاڑی نے کلٹی کھائی تھی پھر وہ دوبارہ اندر آکر بیٹھی


'اوہ تبھی ہم کہیں کہ۔لاسٹ ٹائم جو عائشہ دیکھی تھی وہ اتنی بہادر تو نہیں تھی' مالا کا سارا دھیان ڈرائیونگ پر تھا اسے نظر نہیں آرہا تھا بس دھندلا سا کچھ دکھ رہا تھا اور باقی کی مدد زاعشہ کررہی تھی


تبھی مالا کی نظر بیک ویو مرر سے پیچھے کی طرف گئی تھی وہ لوگ بندوق نکال کر نشانہ لے رہے تھے مالا نے زبردست موڑ کاٹا گاڑی دو سو کی اسپیڈ پر چل رہی تھی موڑ کاٹنے پر مٹی کا ایک طوفان اٹھا تھا گاڑی کی اسپیڈ ایسی تھی کہ زاعشہ کا ڈر کے مارے برا حال تھا جبکہ اسکا بھائی شاید انجوائے کررہا تھا تبھی سب کچھ غور سے دیکھ رہا تھا 


'ایسا لگ رہا ہے تم مجھے بھگا کر لے کر جارہی ہو' زاعشہ کو سچوئیشن انٹرسٹنگ لگ رہی تھی اسکو وہ چینائی ایکسپریس یاد آگئی تھی 


'بھگا کر ہی تو لے کر جارہے ہیں لیکن تمہیں نہیں اپنے بھائی کو اور وہ بھی اپنے باپ سے' اس بات پر ان دونوں کا قہقہ گونجا تھا گاڑی میں گاہے بگاہے مالا کی نظر پیچھے بھی اٹھ رہی تھی عجیب بات یہ تھی کہ اب وہ لوگ فائرنگ نہیں کررہے تھے تبھی مالا کی نظر سامنے پڑی تھی سامنے ایک اور گاڑی کھڑی تھی اور اسکے باہر تین چار گارڈز ہاتھوں میں بندوق تھامے کھڑے تھے نے گاڑی روکی تبھی بہت سارے لوگ اسکی طرف بڑھے تھے


'تم اثیل کو لے کر بیک سیٹ پر جاؤ ابھی کہ ابھی' زاعشہ نے بنا وقت ضائع کئے سیٹ بیلٹ کھولا اور پیچھے چلی گئی جب کہ مالا نے اب اپنا سیٹ بیلٹ لگایا تھا اور گاڑی کو دوبارہ اسٹارٹ کیا اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی ایکسلیریٹر پر پاؤں رکھا گاڑی کو موقع مل گیا تھا سامنے سے آتی گاڑی دیکھ کر گارڈز ادھر ادھر ہوئے مالا سامنے کھڑی گاڑی کو اڑاتے ہوئے وہاں سے نکلی تھی پیچھے اسابیل دانت پیستا رہ گیا تھا ان کے گارڈز نے مالا کی گاڑی پر فائرنگ اسٹارٹ کردی تھی گاڑی کا پیچھے کا ٹائر پنکچر ہوا مالا سے گاڑی سنبھالی نہ گئی اور گاڑی کھمبے سے جا ٹکرائی وہ لوگ اب گاڑی کی طرف آرہے تھے اسابیل نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو اندر کوئی موجود نہیں تھا تبھی کہیں سے اپنے بیٹے کے ہنسنے کی آواز سنائی دی وہ حواس باختہ پلٹا لیکن کوئی نہیں تھا تبھی وہاں سے ایک ٹرک گزرا تھا جو اوپر تک لدھا ہو تھا اسابیل کا دھیان اس ٹرک پر نہیں گیا وہ بیوقوف اپنے آس پاس مالا کو تلاش کرنے لگا تھا یہ جانے بغیر کہ وہ تو اس ٹرک پر چڑھ کر وہاں سے بھاگ گئی ہے پیچھے اسابیل کی فوج اسے ڈھونڈتی رہ گئی آج اسے حقیقت میں پتا چلا تھا کہ جان نکلنے کا درد کیا ہوتا ہے


تمہارے لشکروں کا کیا خوف ہمیں


ہم تو خود اپنے ارادوں سے ڈرتے ہیں


💜💜


جیل میں آگ لگنے کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی تھی آگ پر قابو پالیا گیا تھا اور یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ لالی عرف مالا بھاگ گئی ہے 


پہرے دار کو وہ کاغذ کا ٹکڑا مل گیا تھا جو مالا نے انکی جیب میں ڈالا تھا جس میں لکھا تھا


"ہم بنا بات کا ظلم نہیں سہہ سکتے پہرے دار جی ورنہ ہمارا خدا ناراض ہوگا اور رہی بات ہمارے کیس کی اب وہ خود بند ہو جائے گا ہمیں جانا تھا اسلئے ہم جارہے ہیں زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی 


            سنہری مالا"


وہ کیا کہتے وہ تو شروع دن سے جانتے تھے کہ وہ لڑکی ایسی چڑیا تھی جو قید کیلئے نہیں بنی تھی اور آج وہ یہ بات ثابت کرگئی تھی 


دوسری طرف میر اپنی جگہ سے ہلنے کے قابل نہیں رہا تھا مالا کے بھاگنے کی خبر سن کر وہ گھر پر تھا جب اسے یہ خبر ملی


'کیا ہوا ہے' رابیعہ نے اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا


'بھاگ گئی وہ' میر سفید پڑتے چہرے سے بولا جبکہ رابیعہ کا چہرہ دھواں دھواں ہوا تھا اسے پتا ہی نہیں چلا میر کب گاڑی کی چابیاں لے کر سینٹرل جیل روانہ ہوا


'نہیں لالی اس بار میں تمہیں میر کو چھیننے نہیں دوں گی ماردوں گی تمہیں جان سے اگر تم نے ہماری زندگی میں قدم بھی رکھا تو' اسکی آنکھیں آگ برسا رہی تھیں دل بند ہونے لگا تھا اسکا لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ چھینی ہوئی یا مانگی ہوئی چیزوں سے کھیلنے کی عادی نہیں تھی وہ تو ہر حال میں جینا جانتی تھی اب اسے نہ تو میر گیلانی سے مطلب تھا اور نہ ہی پھر سے رابیعہ کو دیکھنے کا شوق تھا 


میر سینٹرل جیل پہنچا وہاں کی حالت بہت خراب تھی آدھی جیل تباہ ہوگئی تھی آگ بغیر پیٹرول کے لگی تھی اسلئے جانی نقصان نہیں ہوا تھا بس کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے 


دماغ تو اسکا تب گھوما جب اسے یہ پتا چلا کہ ایویڈینس روم میں آگ لگی تھی ایک الماری بری طرح متاثر ہوئی آگ سے اور بدقسمتی سے اس میں سارے ایویڈینس تھے جنید کیس کے


'چھوڑوں گا نہیں تمہیں لالہ رخ' میر کی نظریں چاروں اور کا طواف کررہیں تھیں 


💜💜


وہ اپنے کمرے میں شرٹ لیس بیٹھا نیوز دیکھ رہا تھا جہاں وومین سینٹرل جیل میں آگ لگنے کے منظر دکھائے جارہے تھے اسکے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نے گھیرا کیا ہوا تھا ابھی تھوڑی دن پہلے ہی تو اسے پتا چلا تھا کہ اسکی شیرنی سینٹرل جیل میں قید ہوگئی ہے اور اب اسی جیل کی دھجیاں اڑی تھیں


'غازی' پیچھے سے کسی نے آواز دی تھی وہ چونکا اور اٹھ کر انکے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انکے ہاتھوں کو اپنے ہونٹوں سے چوم کر آنکھوں سے لگایا سامنے کھڑی ہستی نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا


'بابا مجھے بلا لیا ہوتا' اس کے لہجے میں احترام کی احترام تھا  


'ارے نہیں تم خبریں دیکھ رہے تھے سوچا میں بھی دیکھ لوں' غازی سر ہلاتا ہوا اورنگزیب صاحب کو لے کر صوفے پر بیٹھا تھا ٹی وی پر چلنے والی نیوز دیکھ کر وہ ٹھٹھکے


'یہ ابھی تو دو حادثے ہوئے تھے اسی جیل میں اب یہ' وہ اپنے بیٹے سے دریافت کررہے تھے 'کیا واقعی کوئی لڑکی ہے ان سب حادثوں کے ہیچھے' انہوں نے سوالیہ نظروں سے غازی کو دیکھا جو نیوز دیکھ کر پراسرار سا مسکرارہا تھا


'وومین سینٹرل جیل ہے کوئی لڑکی ہی ہوگی' بے انتہا بھاری آواز تھی اسکی انہوں نے بھی سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا کچھ دیر باتیں چلتی رہیں اور پھر وہ اٹھ کر چلے گئے تھے اب غازی کے سامنے اسکا وہی خاص ملازم ازحف کھڑا تھا جو اسے مالا کے بارے میں انفارمیشن دیتا تھا


'سر آپ نے سہی کہا تھا بھاگ گئیں میم جیل سے' اسکی بات سن کر اسکی آنکھوں میں چمک بڑھی تھی 


'شیرنی کس کی ہے؟' اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا جبکہ پیچھے کھڑا ازحف منہ نیچے کرکے مسکرایا تھا 


'شیرنی تو ہمیشہ شیر کی ہوتی ہے' ازحف نے اپنے سر کو دیکھتے ہوئے کہا تو اسکی مسکراہٹ سمٹی


'ہھر بتاؤ شیر کون ہے میں یا وہ میر گیلانی؟' وہ شاید کچھ پوچھنا چاہ رہا تھا


'سر میر گیلانی قانون کا وفادار کتا ہے اور بھلا کتوں کو کب شیرنیاں ملتی ہیں شیرنیاں شیر کی ہوتی ہیں اس شیر کی جو جنگل پر حکومت کرتا ہے اور بےشک جنگل دنیا سے زیادہ خطرناک جگہ ہے' ازحف نے ٹی وی کو بند کرتے ہوئے کہا اسکی بات پر غازی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی 


'سر شیرنی تو شیر کے پاس ہی اچھی لگتی ہے تو کب لارہے ہیں انہیں یہاں' اندر آتی ہوئی ملازمہ نے کہا تھا وہاں پر ملازم اور ملازماؤں کو کھلی چھوٹ تھی بات کرنے کی کوئی کہیں بھی آجاسکتا تھا 


'ابھی میرے جنگل میں کچھ بھیڑیے اپنی حکومت جمانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں فارغ کردوں پھر یہاں کی ہونے والی ملکہ کو اپنے دل کی سلطنت کا تاج پہناؤں گا' اسکی بات پر وہ دونوں مسکرائے تبھی ملازمہ کافی رکھے جاچکی گی


'سر بتائیں گے نہیں آپ کو میم کہاں ملیں؟' ازحف نے اسکے سامنے صوفے پر بیٹھ کر کافی پیتے ہوئے پوچھا دونوں دوست بھی بہت اچھے تھے تبھی غازی کی آنکھوں میں لالہ رخ کا عکس لہرایا تھا پولیس اسٹیشن میں


لالہ رخ جب پہلی دفعہ پولیس اسٹیشن لائی گئی تھی تب وہ بھی وہیں موجود تھا اپنی بہن کو لینے آیا تھا اسکی بہن وہاں پولیس اسٹیشن میں ایک لیڈی آفسر کی ڈیوٹی نبھا رہی تھی 


تبھی جب لالی اندر آئی تھی تو کتنا شور اٹھا تھا وہاں اور یہی شور اسکے دل کو ہلا گیا تھا وہ کئی پل بنا مقصد کے لالی کو دیکھتا رہ گیا تھا کوئی اتنا معصوم کیسے ہوسکتا ہے پھر جو اس لڑکی نے اپنی زبان کے جوہر دکھائے تو بس وہ کونے میں کھڑا اپنی مسکراہٹ روک رہا تھا اور پھر جب اسکو ہتھ کڑی لگائی گئی اور اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو اسکا دل کیا میر کو جان سے ماردے لیکن پھر اسکی زندگی میں ہونے والے حادثے نے اسکو ہلا کر رکھ دیا تھا وہ لاہور آگیا تھا پھر 


لیکن یہاں جب وہ اس سنسان سڑک پر ان چار لڑکوں کی درگت بناتی ہوئی دکھی تو تب سے اس نے اسکے پیچھے اپنے بندے لگا دیے تھے لیکن اسکے باوجود وہ بھی لالی کے بارے میں سب نہیں جان سکا وہ کس کی بیٹی ہے اسے نہیں پتا تھا اور نہ ہی یہ پتا تھا کہ اس گرفتاری والی رات کیا ہوا تھا


میرا لفظ لفظ تلاش کر


مجھے حرف حرف تلاش کر


میں الف ہوا تو الم ہوا 


ہوا ب تو باعثِ غم ہوا


جہاں پ نے پاؤں جکڑ لئے


وہیں ت نے تلوے پکڑ لئے 


کہیں ٹ جو مجھ کو ٹکر گیا


وہیں ث نے مجھ کو ثمر دیا


کہیں ج مجھ کو جلا گیا


کبھی چ نے چکر چلادیا


مگر ح نے حال بدل دیا


اور خ نے خال بدل دیا


تبھی د سے دل لگا لیا 


اور ڈ سے ڈنکا بجا دیا


پھر ذ سے ذات کو پا لیا


اک ر سے راستہ بنالیا 


اک ڑ سے بات بگڑ گئی


تب ز سے زینت سنور گئی


اور ژ سے ژاژ کا دم گیا 


ارے س سے میں سنبھل گیا


کسی ش نے مجھے دی شعاع 


تو ص نے دی صبا


اور ض نے دیا ضابطہ 


سرِ شام ط کے طنز سے


سرِ بزم ظ کے ظرف نے


میرے ع کو دیا عزم نو 


میرے غ کو کیا غرض نو


یہیں ف سے مل گیا فاصلہ


یہیں ق سے ملا قافلہ


یہیں ک نے کہا کچھ نہیں


یہیں گ نے گنا کچھ نہیں


ملا ل تو اس نے لڑا دیا


میرے م نے مجھ سے آ کہا 


تیرا ن تجھ سے نراش ہے


تیرا و وقت کی آس ہے


کہا ہ نے ہاتھ کو تھام بس 


کہا ء نے میں ہوں ءام مس


میری یہ نے آکے یقین دیا


بڑی ے یہاں کی ہے سربراہ


ابھی وقت ہے تو تلاش کر


میرا لفظ لفظ تراش کر 


💜💜


یہ منظر اسی پولیس اسٹیشن کا ہے جہاں کا کبھی میر گیلانی ایس ایس پی ہوا کرتا تھا اسپیکٹر حارث کی پروموشن ہوگئی تھی اور اب وہ اے ایس پی حارث تھا جو آج کچھ پرانے ریکارڈز دیکھ رہا تھا اور ساتھ میں فون پر ماریہ سے باتیں بھی کررہا تھا جو اب ممتا کی دہلیز پر قدم رکھ رہی تھی


'کھانا کھایا تم نے؟' حارث لیپ ٹاپ میں موجود ریکارڈز چیک کررہا تھا 


'ہاں کھا لیا ہے اور ایک بات بتاؤ یہ امی کو کیا ہوا ہے آج کل مجھ سے کرتی ہی نہیں ہیں' ماریہ منہ بناتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اسکی بات پر حارث نے قہقہ لگایا


'پہلے شکایت ہوتی تھی کہ امی نے یہ کیا وہ کیا اور اب وہ کچھ نہیں کہہ رہی ہیں تو بھی مسئلہ کے آخر کس حال میں ٹھیک رہوگی' حارث اب پچھلے سال کے ریکارڈز چیک کررہا تھا تبھی اسکی نظر ایک جگہ رکی


'میں بور ہورہی ہوں نہ تم کہیں باہر جانے دیتے ہو نہ گھر پر کوئی کام ہوتا ہے…' حارث نے اسکی بات کاٹی 


'ماریہ میں تم سے بعد میں بات کرتا ہوں ہاں اللّٰہ حافظ' اس نے فون کاٹ کر سائیڈ پر رکھا اور جنید کی وڈیو سٹارٹ کی جہاں جنید طارق صاحب پر پیٹرول دلاتا ہو انظر آرہا تھا پوری وڈیو دیکھنے کے بعد حارث کو میر کی باتیں یاد آئیں


'طارق خان کی بیٹی اپنے باپ کے قاتل کو معاف نہیں کرے گی اسلئے اس کیس کا الزام کسی اور پر لگانا ہے اور وہ اسی کی بیٹی کا کرنٹ بوائے فرینڈ روہن ہوگا روہن کا ڈیٹا کلیر نہیں ہے مر بھی جائے تو ثوب ہی ملے گا' اسکو اچھے سے یاد تھا میر نے یہی کہا تھا تو پھر جنید یہاں کیسے پھنس گیا 


'امان اللّٰہ' حارث نے اسے آواز دی تو وہ بھاگتا ہوا اندر آیا


'سر' اس نے سیلیوٹ کیا


'امان میر سر نے تم سے اس وڈیو کے بارے میں کیا کہا تھا' اس نے وڈیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا 


'سر نے کہا تھا کہ رحیم صاحب کی جگہ رابیعہ خان کے بوائے فرینڈ کی پک ایڈٹ کرنی ہے' اس نے حرف بہ حرف سچ کہا


'تو عقل کے اندھے جنید کی پک کیوں ایڈیٹ کی ادھر' وہ غصّے میں چیخا


'سر تو جنید ہی تو رابیعہ خان کا بوائے فرینڈ تھا' اس نے دھماکا کیا تھا حارث کے سر پر وہ بےیقینی سے اسے دیکھے گیا اور پھر آنکھوں کے سامنے ایویڈینس کی وہ سرینج گھومی تھی جو کسی لڑکی کی تھی اس نے امان اللہ کو جانے کا اشارہ کیا اور خود لیپ ٹاپ میں موجود میڈیکل رپورٹس نکالیں جس میں صاف صاف کہا تھا کہ اس پر کسی لڑکی کا خون موجود ہے اب اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ خون کس کا ہے وہ کیسے معلوم کرے پھر کچھ سوچ کر اٹھ کھڑا ہوا


💜💜

مالا اور زاعشہ اثیل کو لئے آئمہ کے گھر آئے تھے اثیل ابھی بھی ہنس رہا تھا اور زاعشہ کے ساتھ کھیل رہا تھا لیکن مالا کی کافی دیر سے طبیعت بگڑ رہی تھی حد تو یہ تھی کہ اب اسکی ناک سے خون آرہا تھا وہ لوگ دروازے پر کھڑے تھے کہ تبھی مالا گھٹنوں کے بل زمین پر گری اسکو سانس نہیں آرہا تھا


'مالا کیا ہوا تمہیں' زاعشہ اسکے سامنے زمین پر بیٹھی تھی مالا زور زور سے سانس لینے کی کوشش کررہی تھی 'امی' وہ چیخی تبھی عائشہ اور آئمہ بھاگتی ہوئی باہر آئیں انکی نظر مالا پر پڑی جو بےحال ہورہی تھی


'لالی کیا ہوگیا یہ خون' آئمہ کا دل دہل گیا تھا انہوں نے مالا کی کمر رب کی لیکن اسکو اب مکمل سانس نہیں آرہی تھی 


'سسس…سانس سانس …ننن…نہیں ااااآرہا ہمیں' مالا اب زمین پر گری تھی لیکن اسکی آنکھیں اثیل پر ٹکی تھیں جو اسے دیکھ کر اسکے پاس آنے کیلئے مچل رہا تھا مالا بے بس تھی اسکے سینے میں شدید درد ہورہا تھا ایک پل کیلئے تو اسے لگا کہ بس اتنی ہی تھی اسکی زندگی لیکن وہ اتنی کمزور نہیں ہے  اپنے بھائی کو دیکھا تو دائیں کونی زمین پر رکھی اور بائیں ہاتھ سے عائشہ کا کندھا پکڑ لیا 


'ہوسپٹل لے کر چلتے ہیں اسے' آئمہ نے گاڑی کی چابی اٹھائی اثیل کو عائشہ کو پکڑایا اور زاعشہ اور آئمہ مالا کو پکڑے ہسپتال روانہ ہوئے 


ہسپتال پہنچتے ہی اسے اینرجینسی وارڈ میں شفٹ کردیا گیا آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹرز باہر آئے


'کیسی ہے وہ' زاعشہ نے بے چینی سے پوچھا


'دیکھیں انکی حالت دیکھ کر لگتا ہے جیسے بہت زیادہ ٹارچر کیا گیا ہے انہیں انکے لنگز کی ایکسٹرنل ٹیوب بری طرح متاثر ہوئی جسکی وجہ سے وہ انہیلر کے بغیر سانس نہیں لے سکیں گی ڈریسنگ کردی گئی ہے زخموں کی ایک دو دن تک انہیں یہیں رکھنا پڑے گا' ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں کہتے ہوئے چکے گئے تھے وہ لوگ اندر جانے کیلئے بڑھے دروازہ کھولا تو سامنے وہ تھکن زدہ چہرے کے ساتھ بیڈ سے ٹانگیں نیچے کٹائے بیٹھی تھی 


مالا نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو انکی طرف دیکھا 


'بھائی کہاں ہے ہمارا' مالا نے سیدھا سیدھا سوال کیا


'گھر پر ہے عائشہ کے پاس' ئمہ کے کہنے پر اس نے سر اثبات میں ہلایا تبھی ایک نرس اندر آئی اور مالا کو انہیلر پکڑا گئی اسکا طریقہ کار وہ اسے پہلے ہی بتا چکی تھی


'شکریہ سسٹر' مالا نے سر کو جھکا کر کہا تو سسٹر مسکراتی ہوئی باہر چلی گئی


'زاعشہ یہاں کہیں انٹر کوم ہے کیا' مالا نے ادھر ادھر نظریں گھماتے ہوئے کہا تو زاعشہ نے اسکے بیڈ کے پیچھے والی دیوار کی طرف اشارہ کیا جہاں انٹر کوم تھا مالا اٹھی اور انٹر کوم اٹھایا 


'سنو جلدی سے ایک پرات بھر کر بریانی سلاد رائیتہ بھیجو ساتھ میں اسپرائیٹ بھی رکھ لینا اور روم نمبر' اس نے ادھر ادھر نظریں گھمائیں تو وہاں روم نمبر لکھا تھا 'روم نمبر بارہ میں ٹھیک ہے' کہتے کے ساتھ ہی اس نے فون رکھا اور آکر بیڈ پر لمبی لمبی کیٹ گئی 'آج کتنے دنوں بعد اچھا کھانا ملے گا جیل کی ٹھنڈی روٹی اور پتلی دال سے تو جان چھوٹی' وہ ان دونوں کو بتا رہی تھی جو سامنے موجود صوفوں پر بیٹھے تھے


'یہ جو تم کھانا منگا رہی ہو پھر یہ مہنگا ہسپتال اور اسکا بل کون دیگا' زاعشہ نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا مالا نے اسے دیکھ کر ایک آئیبرو اچکائی جیسے اچھااااا


'مر نہیں رہے ہم اور رہی بات ہمارے پیسوں کی تو یاد رکھو لاکھوں کروڑوں کے مالک ہے ہم' وہ اتراتی ہوئی بولی 


'ایسا ہے تو خود ہی بھرو پیسے' وہ اسے ہسپتال کی طرف سے ملا ہوا بل اسے پکڑاتے ہوئے بولی مالا نے بل دیکھا تو ایک پل کیلئے چکراگئی دو لاکھ


'ہم کوما میں تھے کیا چار سال بعد ہوش آیا ہے کیا ہمیں' وہ آنکھیں پھاڑے بل دیکھتے ہوئے بولی 


'یہ نا یہاں کا سب سے مہنگا ہسپتال ہے جہاں پڑی ہوئی تم بستر توڑ رہی ہو' وہ مسلسل اسے تعنے مار رہی تھی آئمہ کسی سے بات کررہی تھیں 


'بستر توڑنے کیلئے ہوتے ہیں اگر تم اسے کچھ اور سمجھ رہی ہو تو یہ تمہاری غلطی ہے ویسے کتنی گھٹیا سوچ کی مالک ہو تم' وہ زومعنی انداز میں بولی وہ جو تھک گئی تھی اسکی اس بات پر خون نچوڑ کر چہرے پر آیا مالا نے اسکو دیکھ کر مسکراہٹ دبائی 


'ممم…میں نے ایسا کچھ نہیں سوچا تم ہی خود سے بکواس کررہی ہو' اس نے جلدی سے کہا تو مالا نے قہقہ لگایا تبھی دروازہ نوک ہوا آئمہ کے ساتھ ان دونوں نے بھی دروازے کی طرف دیکھا زاعشہ نے دروازہ کھولا تو ایک لڑکا آڈر لے کر کھڑا تھا وہ لڑکا ٹیبل پر کھانا رکھ کر پلٹا ہی تھا تبھی اسکی نظر مالا پر پڑی جو بریانی کو ندیدوں کی طرح گھور رہی تھی وہ خاموشی سے باہر نکل گیا دوسری طرف زاعشہ بریانی کی طرف بڑھی تھی


'خبردار! گستاخ لڑکی اگر ہماری بریانی پر نظر بھی رکھی تو' وہ چیخی تو آئمہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا اور دوسری طرف زاعشہ ڈر کر اچھلی اور مالا کو خونخوار نظروں سے دیکھا 


'اچھا ہوتا تمہیں اسابیل کے بندوں کے آگے چھوڑدیتی بلکہ ابھی بھی کچھ اچھا ہوسکتا ہے جیسے میں ابھی پولیس والوں کو فون کردیتی ہوں کہ انکا بھاگا ہوا مجرم ہسپتال میں زیرِ علاج ہے کچھ کر بھی نہیں سکے گا لے جائیں اسے' وہ بولنے کے ساتھ ساتھ چل بھی رہی تھی تبھی مالا کی نظر پوچھے والے بالٹی میں گئی جس میں پانی بھرا تھا روم کی صفائی ابھی ہوئی تھی وہ جو چل رہی تھی مالا نے اسکے پاؤں میں پاؤں مارا تو زاعشہ صرف زمین بوس نہیں ہوئی بلکہ اسکا منہ پوچھے کے ڈبے میں گیا مالا نے ہونٹوں کو دانتوں میں دبایا اور چپ چاپ اپنی پلیٹ میں بریانی نکالنے لگی 


دوسری طرف زاعشہ نے اپنا منہ باہر نکالا ناک میں پانی چلا گیا تھا اسکے بال بھی گیلے ہوگئے تھے پانی اتنا گندہ تھا کہ اسکا منہ بھی ہلکا ہلکا کالا ہوگیا تھا مالا نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ہونٹوں سے پانی کا گلاس لگایا نو مور ہنسی پھر بھی اسکا قہقہ بلند ہوا ہاہاہاہاہاہا…… 


'آؤ کھانا کھاتے ہیں' اس نے اب شرافت سے اسے دیکھ کر کہا زاعشہ نے رائتے کا پیالہ اٹھایا اور اسکے سر پر الٹ دیا 


'یو جنگلن' مالا چیخی اور سالاد کی پلیٹ اٹھاکر اسکے منہ پر ماری وہ جو پہلے ہی فینائل کی وجہ سے چِپ چِپ ہورہی تھی اب خود کو دیکھ کر اسے گھن آرہی تھی اس نے مالا کو دیکھا جو سکون سے بریانی کھا رہی تھی 


'کیا سکون سے ٹھونس رہی ہو تمہاری وجہ سے میں اتنی بڑی مشکل میں پھنسی تمہارا وہ دو نمبر باپ اور اسکے کتے کیسے فائرنگ کررہے تھے ہم پر اگر مجھے کچھ ہوجاتا تووو' اب وہ اپنی پلیٹ میں بریانی نکالتے ہوئے اسے سنا رہی تھی 


'تو ہم آنٹی کا خرچہ بچاتے' اس نے بریانی کا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے کہا آئمہ روم سے باہر تھیں


'ہیں کیسے' اس نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا


'اگر تمہیں کچھ ہوجاتا یا تم مرجاتیں تو ہم تمہیں وہیں پھینک دیتے پیسے بچتے ویسے بھی ایسی اولاد پر پیسے لگا کر وہ خسارے میں ہیں' وہ اپنی طرف سے بڑی پتے کی بات کررہی تھی زاعشہ نے جواب دینے کے بجائے بریانی کھانا زیادہ ضروری سمجھا اسے لگا ڈھکن لوگوں سے بات کرکے کہیں وہ خود ہی ڈھکن نہ بن جائے وہ دونوں اب سکون سے ساری باتیں بھلائے بریانی کھا رہیں تھیں مالا تو بھرپور انصاف کررہی تھی بریانی سے اسکو ٹینشن میں ایکسٹرا کی بھوک لگتی تھی تبھی زاعشہ کے پاس عائشہ کا فون آیا جو اس نے اسپیکر پر رکھا مالا کے کہنے پر


'یار سنو آتے ہوئے پیمپر دودھ اور بچوں کے کپڑے لیتے ہوئے آنا سیریلیک کھانے والی عمر تو نہیں لگ رہی اسکی اور ہاں دودھ زرا ایکسٹرا الٹرا پرو لے کر آنا دو مہینے کا بچہ دس سال کے بچے کے برابر کھاتا ہے گھر میں موجود سارا دودھ پی گیا یہاں تک کہ آس پاس کے گھروں کا بھی' وہ چھوٹے سے بچے کی شکایتیں لگا رہی تھی جبکہ زاعشہ کبھی مالا کو کھاتے ہوئے دیکھتی کبھی عائشہ کی باتیں سنتی اسکا مطلب یہ چھوٹا پیک اسی پر گیا ہے اللّٰہ بچائے 


💜💜


'سر یہ دیکھیں یہ ایک چھوٹی سی فوٹیج ہے جس میں وہ بھاگتی ہوئی دکھائی گئی ہے' ایک حولدار نے میر کے سامنے اپنا موبائل کیا جہاں مالا ایک بندے کا موبائل چرا رہی تھی 


'اور کچھ پتا چلا' میر نے دو انگلیوں سے ماتھا سہلاتے ہوئے کہا


'سر ایک اور عجیب بات ہے جس ہوسپٹل میں مسٹر عثمانی کا بیٹہ ایڈمٹ تھا وہاں ہر یہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھی ہے سر نرسری روم میں اسکے ساتھ ایک اور لڑکی بھی موجود تھی پیچھے والے دروازے سے بھاگی ہیں سر دونوں اور سر مسٹر عثمانی کے گارڈز نے فائرنگ بھی کی تھی لیکن سر ان نے مطابق ایسے غائب وہاں سے جیسے کبھی تھے ہی نہیں' وہ ساری رپورٹس دے رہا تھا اسے جبکہ میر یہ سوچ رہا تھا کہ جب وہ پہلی بار اس سے ملا تھا کتنی معصوم سی تھی وہ اور اب یہ کتنے روپ ہیں اس لڑکی کے


اسابیل عثمانی نے اسی وقت پولیس فورس کو اثیل عثمانی کو ڈھونڈنے پر لگا دیا تھا 


'سر' ایک کونسٹیبل میر کے پاس آیا 'سر مالا کو ایک ہوسپٹل میں دیکھا گیا ہے لنگز میں مسئلہ ہونے کی سے وہ ایمرجنسی وارڈ میں داخل…' اسکی بات مکمل نہیں ہوئی تھی میر سب کو اپنے پیچھے آنے کا شارہ دیتے ہوئے بھاگا تھا  


💜💜

باہر بھگدڑ مچی تھی آئمہ ہانپتی ہوئی اندر داخل ہوئیں


'کسی نے پولیس کو کال کردی ہے باہر میر کی نفری آگئی ہے' زاعشہ کو زبردست پھندا لگا تھا جبکہ مالا سکون سے بیٹھی پانی ہی رہی تھی وہ دونوں دم سادھے اسے دیکھ رہیں تھیں اس نے پانی کا گلاس رکھا اور نظر انہیں دیکھا 


'ہم جادوگر نہیں ہیں جو غائب کردیں گے سب کو بھاگووو' وہ چیختی ہوئی بیڈ پر آئی ان دونوں کے ہاتھ پیر پھول گئے وہ دونوں اسی کی وجہ سے اطمینان سے کھڑیں تھیں مالا نے بیڈ پر سے کمفرٹر لیا اور اسے آئمہ اکرم پر اڑایا اچھے سے انہیں ڈھانپا مالا نے باہر نکل کر دیکھا سب ادھر ادھر بھاگ رہے تھے پھر وہ واپس انکی طرف آئی


'جلدی جائیں یہاں سے آپ دونوں کو کوئی نہیں جانتا اور ہماری فکر مت کریں ہمارے ساتھ روشنی امی کی دعائیں اور خدا کا ساتھ ہے آپ لوگ جائیں' مالا نے انہیں دلاسا دیا تو وہ لوگ باہر کی طرف بڑھیں اور باہر نکل گئیں 


مالا کی نظریں پورے کمرے کا طواف کررہی تھیں اس نے ونڈو دیکھی اسے کھولا تو باہر ونڈو کے بائیں طرف ایک چھوٹی سی جگہ تھی کھڑے ہونے کی اگر وہ یہاں کھڑی ہوگئی تو اسے کوئی پکڑ نہیں سکتا تھا وہ ونڈو سے باہر نکلی اور اس طرف ہوکر کھڑی ہوگئی ایک ہاتھ سے ونڈو بند کی اسکا دل زور سے دھڑک رہا تھا کیونکہ نیچے گہرائی تھی ہلکا سا بھی پاؤں سلپ ہوتا گرتی وہ نیچے لیکن پہنچتی وہ اوپر 


میر روم نمبر بارہ میں داخل ہوا آدھی فورس کو وہ نیچے کھڑا کرکے آیا تھا روم میں انٹر ہوا مالا کی مخصوص سی خوشبو تھی وہ جان گیا تھا وہ یہی ہے لیکن کہاں 


'اچھی طرح ڈھونڈو ایک چیز کو دیکھو وہ بچ کے نہیں جانی چاہیے' میر نے سب کو آڈر دیا تھا تبھی اسکی نظر کھڑکی پر پڑی جو نا محسوس انداز میں کھلی ہوئی تھی وہ قدم قدم چلتا اس تک آیا اور کھڑکی کھولی مالا جسکا ہاتھ کھڑکی کے پیچھے تھا بری طرح دب گیا اس نے دانتوں میں ہونٹ دبا کر چیخ روکی (اففف اللّٰہ یہ کیا ہورہا ہے ہمارا ہاتھ چھوڑ دو ایس ایس پی ورنہ ابھی تھوڑی دیر میں فریش بھرتا نکلے گا یہ یقیناً زاعشہ کی بددعا ہے کیسی کالی زبان ہے اس ڈرٹو کی بیوی کی) وہ مسلسل دل میں کبھی میر کو گالیاں دیتی کبھی زاعشہ کو کبھی اللّٰہ کو یاد کرتی اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے درد کے مارے وہ چیخ بھی نہیں سکتی تھی 


'سر وہ یہاں سے بھی بھاگ گئی ہے' ایک حولدار نے کہا تو میر ونڈو کو لاک لگاتا ہوا اسکے پیچھے چلا گیا 


'روکو ایس ایس پی ہم کھڑے ہیں یہاں اوئے کوئی تو دیکھ لو زاعشہ یہ بھی تمہاری بددعا ہے نہ' اس کے تو دماغ نے کام کرنا بند کردیا تھا اوپر سے اسکی بھوک چمک اٹھی تھی 


'اللّٰہ پاک اب آپ ہی کچھ ہیلپ کرے گا اللّٰہ اکبر' وہ تکبیر کہتے ہیں نیچے کود پڑی تھی اور واقعی اسے خدا نے بچا لیا تھا وہ سیدھا نیچے کچرے کے ڈبے میں گری میر جو وہیں کھڑا تھا پیچھے کچھ گرنے کی آواز سے مڑا لیکن کسی کو نا پاکر وہ آگے بڑھ گیا 


'اللّٰہ اکبر یہ کہاں گر گئے ہم یہ کیا چیز ہے گٹر میں گرگئے کیا جو اتنی بدبو ہے آئے ہائے اللّٰہ نہ کرے ویسے گٹر میں تو پانی ہوتا ہے تو پھر یہ کیا ہے' مالا نے غور سے دیکھا 'آئے ہائے یہ تو کچرے کا ڈبہ ہے یخخخخ…' اسے الٹی آنے لگی تھی وہ بھنبھناتی ہوئی وہاں سے باہر نکلی اسکا حال اتنا برا ہوگیا تھا کہ اسے پہچاننا مشکل تھا وہ کسی کی نظروں میں آئے بغیر جانا چاہتی تھی


'ارے جمادار کہاں صبح آتے ہوئے تمہیں موت پڑتی تھی اور اب تو رات ہی آگئے' کوئی پیچھے کھڑا ہنس رہا تھا 


'تم ہوگے جمادار تمہارا پورا خاندان جمادار' مالا بنا پیچھے دیکھے اسے باتیں سنسناتی ہوئی چلی گئی تھی اسے خود سے گھن آرہی ھی وہ اس حلیے میں کبھی زندگی میں واپس نہیں جاسکتی تھی اس نے ہوسپٹل سے ایک مریضوں کا لباس چرایا اور وہیں پر ہی اچھے سے نہائی کپڑے بدلے پرانے کپڑوں میں سے انہیلر لیا اور جہاں سے اس نے لباس چرایا تھا وہیں سے ایک کمفرٹر بھی لے لیا تھا خود کو اچھے سے اس میں لپیٹا اب وہ سکون میں تھی اچھا فیل کررہی تھی لیکن مسئلہ باہر کھڑی پولیس کا تھا 


💜💜

بی جان کے گھر ایک الگ ہی رونق لگی تھی سحرش اور رواحہ کی رپورٹس پوزیٹو آئیں تھیں جسکی خوشی میں انہوں نے رابیعہ کو بھی بلایا تھا میر ابھی ڈیوٹی پر تھا اور دوسری طرف ایرا بھی آئی تھی جس سے ملنے کیلئے بہروز مچل رہا تھا عمر میں تبدیلی آئی تھی وہ مالا کو مجرم نہیں مانتا تھا اس دن وہ اسکا اوپر دیکھنا اچھے سے دیکھ گیا تھا اسکے جانے کے بعد کافی دن تک کچھ بھی کرنے سے قاصر رہا تھا وہ سنجیدہ ہوگیا تھا لیکن آج وہ خوش تھا جب سے یہ خبر سنی تھی کہ وہ جیل سے بھاگ گئی ہے


'بی جان آپ پلیز ہمیں واپس بلا لیں میں جانتی ہوں میر نے غلط کیا لیکن اب وہ بہت اداس رہتے ہیں' رابیعہ کا بدلہ ہوا انداز دیکھ کر تو ہمیں بھی کبھی کبھار غش ہڑجاتا ہے 


'ویسے آپ کو بھی میر نے بتایا تھا کیا کہ انہوں نے لالہ رخ سے جھوٹا نکاح کیا ہے' انکی بات سن کر عمر کر چہرے پر مسکراہٹ آئی


'نن…نہیں مجھے نہیں پتا تھا' وہ پل میں بدل گئی تھی


'تو بیٹا آپ کو شرم آنی چائیے تھی کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے' رابیعہ کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کچھ ایسا کہنے والی ہیں اس سے چھا تھا وہ سچ ہی کہہ دیتی 


'بی جان مجھے نہیں پتا تھا کہ میر نے شادی کی ہوئی ہے' وہ منمنائی 


'بیٹا ہم نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے' انکی بات پر عمر نے مشکل سے اپنی ہنسی کا گلہ گھونٹا 


دوسری طرف بہروز ایرا کو چوکلیٹ دینے نے بہانے اپنے کمرے میں کی طرف کے گیا تھا وہ دروازے پر پہنچ کر روکی اور اسے دیکھا


'تم بوائے ہو ماما نے کہا تھا بوائس کے ساتھ اکیلے نہیں جاتے ماماااا' وہ چیختی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی بہروز نے ایک جھٹکے سے اسے کھینچا اور گود میں اٹھاکر کمرے میں لایا پاؤں سے دروازہ بند کیا وہ مسلسل ہاتھ پیر چلا رہی تھی اس نے اسے دروازے پر اتار کر دروازے سے ہی پن کیا اسکے دائیں بائیں اپنے ہاتھ رکھے 


'ایرا بےبی شکایت لگائی گی ماما سے' وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو لئے اسے دیکھ رہی تھی اور وہ اسے


'ایرا بےبی ماما نے بوائس کے ساتھ جانے سے منع کیا ہے بٹ میں تو فرینڈ ہوں' وہ اسکے مزید قریب ہوا تھا آج پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ ایرا کے گال لال ہوئے تھے بہروز تو مبہوت رہ گیا تھا اسکے چہرے پر قوس و قزح کے رنگ دیکھ کر اسکے چہرے پر جھکا اور اسکی سانسیں روک گیا اسکی پیاس بڑھ گئی تھی آج اور تب سے تو کچھ زیادہ ہی جب وہ سکے نکاح میں آئی تھی بس ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی 


ایرا کی سانسیں رکیں وہ بری طرح مزاحمت کررہی تھی کہ اسے کسی طرح چھوڑ دیا جائے لیکن بہروز تو پاگل ہوگیا تھا اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں کے کر دروازے سے لگایا اسکے عمل میں شدت تھی اسکی پیاس بجائے بجھنے کے بڑھتی ہی جارہی تھی لیکن پھر بھی وہ پیچھے ہٹا اور اسے غور سے دیکھنے لگا جو لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے رو رہی تھی


'میں ماما کو بتاؤں گی تم نے مجھے مارا' اسکی بات پر اسکے اپنے ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ کو کنارے پر روکا 


'میں نے کہاں مارا' وہ معصوم بنا تھا


'یہاں لپس پر زور سے میں ماما کو سب بتاؤں گی' بہروز نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے لئے بیڈ پر آیا سائیڈ ڈراز سے چوکلیٹ نکالی اور اسکے سامنے لہرائی اب کیا رونا اور کونسا دھونا 


'ایرا بےبی جو چوکلیٹ چائیے؟' اس نے پوچھا تو ایرا نے جلدی سے سر ہلایا 'اوکے دین پرومس می کہ جو ابھی ہوا وہ کسی کو نہیں بتاؤگی وہ فرینڈز کا سیکریٹ ہوتا ہے' اس نے پرومس لینے کیلئے ہاتھ گے کیا تو وہ جلدی سے تھام گئی تبھی بہروز نے اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور اس پر اپنا لمس چھوڑا تو وہ بلش کرگئی اس نے مسکراتے ہوئے اسے چوکلیٹ دی




💜💜




مالا کی نظر ایمبولینس پر پڑی تھی جو ایک مریض کو اسکے گھر چھوڑنے کیلئے ریڈی کھڑی تھی وہ بنا کسی کی نظروں میں آئے اس میں چھپ گئی تھی وہ سٹریچر کے نیچے بنی جگہ پر چھہ گئی تھی تبھی ایمبولینس کے چلی تھی اور وہ شاطر شیرنی بنا کسی کی نظروں میں آئے ایک بار پھر بھاگ گئی تھی 




💜💜




اللّٰہ اللّٰہ کرکے وہ واپس صحیح سلامت گھر پہنچی تھی سانس پھولنے کی وجہ سے سانس نہیں آرہی تھی انہیلر نکالا اور اسے منہ سے لگا کر مصنوعی سانس لی تب جاکر نارمل ہوئی رات کے چار بج رہے تھے اچھی خاصی تھک گئی تھی وہ دروازہ بجایا تو کچھ ہی دیر میں کھل گیا تھا سامنے آئمہ کھڑی تھیں


'تھینگ گاڈ تم آگئیں مجھے لگا پولیس والوں نے پکڑ لیا تمہیں' اابوک اندر دا ہوئی تواسکے بھائی کی رونے کی آواز سنائی دی


'لالی اسے تم ہی سنبھالو اور پتا ہے کیا اس میں کسی جن کا نہیں اس میں اس کی بہن کا سایہ آگیا ہے' زاعشہ کی آنکھیں نیند سے بند ہورہی تھیں وہ بامشکل اسے سنبھال رہی تھی 


'لاؤ اسے ہمیں دو تم جاکر سو جاؤ' مالا نے اثیل کو اپنی گود میں لیا زاعشہ اپنے روم میں چکی گئی تھی اثیل رو رہا تھا تبھی آئمہ انکی طرف آئیں


'اثیل کو مجھے دے دو تم بھی سو جاؤ  تھکی ہوئی آئی ہو کیسے سنبھالو گی اسے' انہوں نے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا 


'یہ اثیل نہیں چنکو ہے ہمارا چنکو اور رہی بات ہمارے تھکنے کی یہ تو ایک ایڈوینچر تھا بڑا مزا آیا آپ جاکر سوجائیں جائیں اور بس ہمیں روم بتادیں' انہوں نے مالا کو روم بتایا تو وہ اپنے روم میں چلی گئی روم میں آکر اس نے وہ کمفرٹر خود سے ہٹایا اور اپنے بھائی کو چپ کرانے لگی واقعی نیند کے مارے اسکی آنکھیں لال ہوگئی تھیں لیکن وہ چہ ہوکر نہیں دے رہا تھا تنگ آکر اس نے اسے بیڈ پر لٹایا اور خود اسکے سامنے بیٹھی


'تجھے پتا ہے تیرے رونے سے کیا ہوسکتاہے' اب چنکو مالا کو گھور رہا تھا لیکن رو بھی رہا تھا 'اگر تم رو گے تو تمہاری آواز باہر جائے گی لوگوں کو پتا چلے گا اس گھر میں بچہ رہتا ہے اور پھر وہ تمہیں پولیس کے حوالے کردیں گے اور ساتھ ہمیں بھی دوبارہ جیل میں بند کردیں گے اپنے بھائی کو اغواہ کرنے کے جرم میں' اسکو سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا لیکن بس وہ مالا کو دیکھ رہا تھا جو شاید کارٹون لگ رہی تھی تبھی اچانک روتے ہوئے وہ کھلکھلا کر ہنسا ہاتھ پاؤں مارنے لگا مالا کے اندر لالی جاگی تھی اسکی حرکتیں دیکھ کر اس نے اسے گود میں اٹھایا جھولا جھلانے لگی وہ اور ہنستا تبھی وہ پھر سے رونے لگا اور اب وہ سمجھ گئی تھی کہ اسے کیا ہوا ہے اسے بھوک لگی ہے وہ اسے آہستہ آہستہ بہلاتی ہوئی کچن تک آئی اور دودھ گرم کرنے لگی ایک ہاتھ سے اسے تھاما ہوا تھا اور ایک ہاتھ سے دودھ چمچ میں کے کر ٹھنڈا کرکے اسے پلا رہی تھی اور وہ اب خوشی سے اپنی زبان میں اس سے باتیں کرنے لگا تھا اور لالی اسے کہانی سنا رہی تھی


'ایک شیرنی(مالا) تھی اور ایک شیر (میر) تھا' اس نے ایک لائین بولی تھی کہ اسکا بھائی واں واں کرکے اپنی کہانی بنانے لگا مالا نے دودھ چمچ میں لیا پھونک مار کر اسے ٹھنڈا کیا اور اسے پلایا وہ ابھی بھی کھڑی تھی 'ایک لومڑی(رابیعہ) تھی جو شیر کو حاصل کرنا چاہتی تھی ایک ہاتھی(اسابیل) تھا جو شیرنی کی قسمت ہر سانپ بن کر بیٹھا تھا' مالا کی باتیں اور اسکی کہانیاں اللّٰہ ہی جانے دوسری طرف اسکا بھائی تھا ابھی چھوٹا تھا لیکن لگ رہا تھا یہی بڑے ہوکر اس سے چار ہاتھ آگے نکلے گا 


اسی وقت کانوں میں فجر کی آذان کی آواز پڑی تھی اس نے چنکو کو دودھ پلانے کے بعد اپنے کندھے سے لگایا اور اسے پیار سے تھپکی دی سوچا کچھ گنگنا بھی دے 


یہ موہ موہ کے دھاگے تیری انگلیوں سے جا الجھے


کوئی ٹوہ ٹوہ نہ لاگے کس طرح گرہ یہ سلجھے


ہے روم روم ایک تارہ ہے روم روم ایک تارہ


جو بادلوں میں سے گزرے


یہ موہ موہ کے دھاگے تیری انگلیوں سے جا الجھے


وہ گا نہیں رہی تھی بس گنگنا رہی تھی اور اتنی خوبصورتی سے کہ اسکا چنکو سو گیا تھا وہ اسے سینے سے لگائے کمرے تک آئی آواز پیدا نہ ہو اسلئے دروازے کو بس ہلکا سا بندکر دیا تھا بیڈ پر لیٹ کر اسے خود سے ہٹانے کے بجائے اسے خود ہر ہی کٹا لیا تھا کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دنوں بہن بھائی کی بھاری سانسوں کی آواز کمرے میں گونجی تھی 


💜💜




ایک بار پھر میر گیلانی کو شکست حاصل ہوئی تھی بھاگ گئی تھی وہ اسکی پوری پولیس فورس کو چکما دے کر 


لیکن پتا ہے کیا وہ مر گیلانی کو اسکی جاب کو تحفہ دے گئی تھی واقعی میر گیلانی ایس ایس پی سے ایس پی کی پوسٹ پر آگیا تھا وہ کتنا بھی جھٹلاتا مگر مالا اس بار بھی جیت گئی تھی




میر شکست لئے گھر پہنچا تھا ایک ہی دن میں دو بار گھمایا تھا اس چھوٹی سی لڑکی نے وہ ابھی تک اس بات میں الجھا تھا کہ لالی نے مسٹر عثمانی کا بیٹا کیوں اغواہ کیا اتنا بڑا نام تھا انکا کوئی دشمنی یا وہ واقعی اب مجرم بننا چاہتی ہے


 لیکن اب وہ صرف سکون چاہتا تھا جو اسے رابیعہ سے چاہیے تھا کمرے میں پہنچا تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھی واشروم میں دیکھا وہ بھی خالی تھا ٹیرس چیک کیا خالی لاؤنج گیسٹ روم سب چیک کیا مگر خالی مالا کی ٹینشن تو کہیں دور جا سوئی تھی اب تو اسکی ٹینشن تھی جو اسکی رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی لیکن تھی کہاں وہ پھر خیال آیا کہ فون کرے


'ہیلو رابی کہاں ہو؟' بھاری آواز میں پوچھا گیا سامنے سے رابی نے کوئی جواب دیا


'اچھا آتا ہوں لینے ہمم انتظار کرو میرا' اس نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹا اور پرسکون ہونے کیلئے نہانے چلا گیا باہر آیا تو اسکی نظر اس فوٹو فریم پر پڑی جس میں وہ تین دوست مسکرا رہے تھے میر کی آنکھوں کے سامنے کوئی منظر لہرایا تھا


رابیعہ پولیس اسٹیشن آئی تھی میر گیلانی سے ملنے وہ حال سے بے حال تھی سرخ اور سوجی ہوئی آنکھیں بکھرے ہوئے بال زرد پڑتا چہرہ سوکھے ہوئے ہونٹ میر نہیں جانتا تھا وہ کون ہے 


'آپ میر ہیں' وہ اسکے کیبن میں بیٹھی تھی 


'جی میں ہی میر گیلانی ہوں کہیے کیا مدد کرسکتا ہوں آپکی' وہ اپنے پروفیشنل انداز میں کہہ رہا تھا 


'جنید مجھے چھوڑ کر چلا گیا' وہ کہتے کے ساتھ ہی پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اسکے اس طرح رونے سے میر ششدر رہ گیا 


'آپ کون ہیں اور جنید کو کیسے جانتی ہیں' میر نے اسکو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے کہا


'میں رابیعہ ہوں میں جنید سے بے تحاشہ محبت کرتی تھی اور وہ بھی ہم دونوں شادی کرنے والے تھے اور اب یہ کیا ہوگیا' اس نے سچ میں جھوٹ ملا کر کہا میر کو کچھ عجیب لگا تھا اگر ایسا تھا تو یہ میت والے دن کہاں تھی 


'ہمم دوست تھا میرا بھائیوں جیسا لیکن آپکا دکھ سب سے بڑا ہے خدا آپ کو صبر دے' میر نے اسے دلاسا دلایا 


'میں کیسے صبر کروں میں تو وہ بدنصیب ہوں کو اسکی شکل آخری بار نہیں دیکھ سکی' اسکی اس بات پر میر ٹھٹھکا یہی تو سوچ رہا تھا وہ 


'کیوں نہیں آئیں تھیں آپ' اس نے اپنے دل میں مچلتا سوال پوچھا


'کیونکہ انہی دنوں میں مجھ سے میرا آخری رشتہ میرے بابا مجھے چھوڑ کر چکے گئے تھے تب جنید نے مجھے تھامنا تھا لیکن وہ بھی مجھے چھوڑ کر چلاگیا' وہ زارو قطار رو رہی تھی شاید وہ ڈرامے کرنے آئی تھی پولیس اسٹیشن 


میر کو لگا جیسے سب سے زیادہ بڑے دکھ میں تو وہ ہے اسے لالی پر رج کر غصّہ آیا تھا اور ساتھ میں اپنے سامنے بیٹھی لڑکی سے ہمدردی ہوئی تھی رابیعہ میر سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن میر نے رابیعہ کو شادی کیلئے پروپوز کیا تھا علی سے ساری باتیں جان لینے کے بعد 


علی جنید کے زیادہ قریب رہا تھا اسلئے جنید نے علی کو رابیعہ کے بارے میں کچھ باتیں بتائی تھیں جس کو سننے کے بعد میر نے رابیعہ سے شادی کی تھی 


میر نے سب باتوں کو اپنے ذہن سے جھٹکا گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور رابیعہ کو لینے چلا گیا اسکو جو چند مہینے پہلے صرف مجبوری تھی اور اب اسکی محبت




آج لگتا ہے بس تماشا تھا


وہ تعلق جو بے تحاشہ تھا


❤️❤️




سورج بیچارہ طلوع ہوچکا تھا لیکن دو ایسے شخص بھی تھے جنکی نیند پوری نہیں ہورہی تھی بارہ بج رہے تھے جی جی بلکل ٹھیک پہلی مالا اور دوسرا اسی کا بھائی چنکو 


'مالااااااا' کوئی زبردست سا چیخا تھا کہ اندر سوئی مالا ہڑبڑا کر اٹھی تھی لیکن اسکے بازؤں میں سویا اسکا بھائی ابھی بھی سو رہا تھا اس نے اسے بیڈ پر لٹایا اور اپنا تکیہ اس کے اوپر رکھتی تاکہ وہ گرے نہیں پھر اٹھ کر دروازے پر آئی


'کون ہو تم حرکتوں سے تو زاعشہ لگ رہی ہو' اس نے اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا 


'جی سنو یہ کونسا وقت ہے اٹھنے کا اس ٹائم ناشتہ کروگی یا دوپہر کا کھانا کھاؤگی' اسکی بات ختم ہونے پر مالا نے ایک نظر واک کلاک پر ڈالی جو بارہ بجا رہی تھی صرف بارہ 


'ہم جیل سے بھاگے ہیں بہت تھک گئے ہیں' وہ منہ بناتے ہوئے بولی زہر لگ رہی تھی سامنے کھڑی ہوئی لڑکی 


'اچھا چلو باہر آؤ یہ تو کچھ ایکسٹرا ہی بولتی ہے' آئمہ نے زاعشہ کو سائڈ پر کرتے ہوئے کہا تو مالا نے ایک نظر بھائی کو دیکھا اسکی نظروں کے تعاقب میں ان دونوں نے بھی دیکھا تو ٹھٹھک گئیں اور بیڈ کی طرف بڑھیں


'یہ کیا کیا' آئمہ نے جلدی سے چنکو کے چہرے سے تکیہ ہٹایا 


'ارے وہ گر نہ جائے اسلئے' مالا نے انکی عقل پر ماتم کرتے ہوئے کہا اب وہ بچاری بھی کیا کرتی اسے کیا پتا 


'تم صرف بھگوڑی ہو ایک نمبر کی گنڈی بھی ہو اس کے علاؤہ کچھ نہیں آتا تمہیں' زاعشہ اور عائشہ اسکی ہم عمر تھیں لیکن زاعشہ کبھی کبھار اس سے بڑی لگتی تھی اسکی بات ختم کیا ہوئی چنکو اٹھ چکا تھا اور رونا شروع ہوگیا تھا


'تمہاری آواز پھٹے ہوئے بھونپو کی طرح ہے اٹھ گیا وہ' اس سے پہلے اس کی طرف بڑھتی اچانک ہی اس کو آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی تھی اس نے اپنا انہیلر ڈھونڈنا چاہا لیکن وہ کہیں نہیں تھا تبھی اسکی نظر اپنے بھائی پر گئی جسکے نیچے انہیلر دبا تھا جلدی سے اسے نکالا اور سانس لی افف یہ کیا نئی مصیبت تھی ابھی تو آگے بہت کچھ کرنا تھا اور ایک بیماری ایسی لاحق ہوئی تھی کہ جان جارہی تھی 


مالا کو آگے نہ بڑھتے دیکھ آئمہ اسے اٹھا چکی تھیں لیکن جب مالا کو انہیلر اٹھاتے دیکھا تو دل میں درد سا اٹھا تھا انکے زاعشہ بھی ڈر گئی تھی اسکی ایسی حالت دیکھ کر لیکن ایک وہ تھی جسے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا اب بھی وہ سب کچھ بھلائے واشروم چلی گئی تھی




❤️❤️




'تمہیں ڈر نہیں لگتا کہ اسے سب پتا چل گیا تو کیا ہوگا' آج کافی عرصے بعد رابیعہ ماہین سے باتیں کررہی تھی اسکو سب بتاچکی تھی وہ


'جس دن میں ڈر گئی نہ اس دن سب ختم ہو جائے گا اس دن لالی جیت جائے گی اور یہ میں ہونے نہیں دوں گی' اسکی آنکھیں بےخوف تھیں 


'اب تو میر تمہیں مل گیا اب تو سب چھوڑدو' ماہی اسے شاید سمجھا رہی تھی 


'میں تو سب چھوڑ چکی ہوں لیکن کیا کروں مجھ جیسی کو اگر کسی نے ڈرایا ہے تو وہ لالہ رخ ہے اور تم اچھے سے جانتی ہو جس چیز سے میں ڈرتی ہوں پھر اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کرکے چھوڑتی ہوں' اس نے دو انگلیوں کو مسلتے ہوئے کہا


'تم اتنی شدت پسند کیوں ہو کیوں نہیں چھوڑ دیتیں اسے' ماہی ناگوار لہجہ میں بولی تھی


'تم کہتی ہو تو چھوڑ دیتیں ہوں لیکن اگر وہ میرے اور میر کے بیچ میں آئی تو مجھے ایک اور قتل کرکے بھی کوئی گلٹ فیل نہیں ہوگا' اسکا لہجہ عام سا تھا لیکن بات اتنی ہی بڑی تھی 


'تم نے کہا تھا کہ اسکا کوئی بھائی بھی ہے' ماہی آج اسے سننے بیٹھی تھی


'ہاں اسکا بھائی بھی ہے ہسپتال سے اٹھا لیا اسے اسابیل کی فوج بھی کچھ نہ کرسکی جو بھی کرتی ہے وہ خود کرتی ہے کاش وہ میری دشمن نہ ہوتی' وہ بہت عجیب تھی بلکہ یہی نہیں وہ مالا تو بہت ہی عجیب تھی




❤️❤️




دو تین دن ہوگئے تھے سب پرفیکٹ تھا مالا نے سب سنبھالا تھا لیکن آج وہ تینوں واپس جارہی تھیں اور یہ فیصلہ مالا نے ہی کیا تھا کیونکہ وہ اب کوئی عام شہری تو رہی نہیں تھی پورے ملک کی پولیس اور ساتھ میں اسکے باپ کے کتے اسے ڈھونڈ رہے تھے اسلئے وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ تینوں اسکی وجہ سے کسی مصیبت میں پھنسے 


آئمہ سامان پیک کررہیں تھیں عائشہ انکی ہیلپ کررہی تھی اور زاعشہ چنکو کو سنبھال رہی تھی اور خود وہ کچن میں کھڑی اپنے بھائی کیلئے فیڈر بنا رہی تھی اسکے کان میں ایک نا دکھنے والا مائکروفون لگا تھا


'مسٹر عثمانی کی کوششیں کہاں تک پہنچی' وہ دودھ گرم کررہی تھی اسلئے دودھ میں چمچ چلا رہی تھی 


'اسکی حالت تو بہت خراب ہے اپنے بیٹے کے بغیر وہ کچھ نہیں ہے' فون پر بات کرنے والا کوئی اور نہیں راجا تھا(شوک) اور یہی جیل میں پہرے دار تھا(دوسرا شوک) مالا کے ساتھ جسے بھیجا تو اسابیل نے تھا لیکن مالا اسے اپنی طرف کرچکی تھی کیونکہ وہ اسابیل کا مزید ساتھ نہیں دے سکتا تھا غیر قانونی کاموں میں


'راجا سنبھالو انہیں تمہیں آخری دم تک اپنے عہدے کا فرض نبھانا ہے پھر چاہے تم اسکی بیٹی کے ساتھ ہو یا اسکے ساتھ بات ایک ہی ہے' اسکی مسکراہٹ پراسرار تھی 


'مالا سائیں…' وہ آگے کچھ کہتا کہ مالا نے اسکی بات کاٹی 


'مالا کہو صرف راجا ہمیں اپنے نام کے ساتھ کوئی نام اور تخلص نہیں پسند' دودھ میں ابال آنے پر اس نے چولہا بند کیا اسکا لہجہ ہر احساس سے عاری تھا


'سچے موتیوں کی مالا' وہ شوخ ہوا تھا مالا مسکرائی 'عثمانی صاحب کی ٹانگیں قبر میں لٹک رہی ہیں لیکن کام اتنے ہی استغفرُللہ' اس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا


'کہنا کیا چاہتے ہو' مالا نے دودھ میں مزید پاؤڈر والا دودھ ملایا اور ہلایا 


'سائیں بزنس کی آڑ میں مویشیوں کا دھندا کرتے ہیں' اس کی بات پر مالا کا ہاتھ رکا مویشی…؟ 


'بکرا عید تو نہیں آرہی اور ویسے بھی مویشیوں کا ہی تو کام کررہے ہیں اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے' اس نے بات کو ہوا میں اڑایا


'مویشی مطلب جانور جانور مطلب مارخور…' اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ مالا کے ہاتھ سے فیڈر چھوٹ کر زمین پر گرا تھا


'کیا بکواس ہے یہ اسکو مارخور ملے کہاں سے' وہ ہلکی آواز میں غررائی 


'بات مارخور کی نہیں ہے بات ضمیر کی ہے جو اس میں ختم ہوچکا ہے اور یہ مارخوروں کی جو دیکھ بھال کرتے ہیں فوریسٹ آرمی سالے دھندا کررہے ہیں سائیں کے ساتھ' راجا نے سگریٹ سلگھاتے ہوئے کہا 


'کتنا پیسا کمائے گا یہ گھٹیا انسان اسکی تو بینڈ ہم بجائے گے ابھی جیل سے چھوٹے ہیں زرا سانس تو لے لیں پھر سب کا حساب کتاب کرتے ہیں' اس نے کہتے ساتھ ہی کان پر لگے آلے کا ایک مخصوص بٹن دبایا اور فون کاٹا 


زمین پر پڑا فیڈر اٹھایا دھویا اور پھر اس میں دودھ ڈالا اور چنکو کی طرف بڑھ گئی 




❤️❤️




میری نشست سے 'قد' اپنا ماپنے والے


تیرا یہ قد میرے اٹھنے سے گھٹ بھی سکتا ہے




ابھی بساط بچھی ہے ابھی غرور نہ کر


سنبھل کہ چل، کہ پانسہ پلٹ بھی سکتا ہے




آئمہ اور مالا بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے مالا کا فیورٹ گیم تھا آئمہ کو بس کھیلنا آتا تھا پسند نہیں تھا اور وہ یہ بھی اچھے سے جانتی تھیں کہ یہ کھیل مالا کو کیوں پسند ہے کیونکہ کؤثر بہت شوق سے کھیلتی تھی یہ کھیل


 'ایک بات بتاؤ تم دوسروں کو ہینڈل کیسے کرتی ہو' آئمہ نے اپنا سپاہی آگے بڑھایا تھا ان لوگوں کا سامان پیک ہوچکا تھا چار گھنٹے تھے انکی فلائیٹ میں عائشہ اور زاعشہ چنکو کو لے کر کہیں باہر گئیں تھیں مالا ابھی باہر نہیں جاسکتی تھی


 'بس یہ سمجھ لیں ہمیں کچھ کرنا ہی نہیں پڑتا' اس نے اپنا وزیر گھوڑے کے برابر میں کھڑا کیا


 'مطلب' انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا اور اپنے سپاہی کو بادشاہ کے قریب کیا  


 'ہم آج تک دو لوگوں سے لڑے ہیں رابیعہ اور اسابیل سے اور پتا ہے کیا دونوں نے تاش کے پتوں کی طرح ہمارے ساتھ کھیلا وہ ہمیں نہلا اور خود کو دھیلا سمجھتے تھے' اب کی بار اس نے گھوڑے کی چال چلی تھی 'اور ہم ہمیں تو یہی نہیں پتا تھا کہ وہ لوگ ہمارے ساتھ کھیل رہے ہیں ہمیں لگا سب ٹھیک ہوگیا' وہ ایک پل کیلئے رکی تو آئمہ نے اسکے چہرے کو دیکھا جہاں ہلکے سے دکھ کی رمش تھی 'لیکن سب ٹھیک نہیں ہوا تھا وہ سب تو بگڑ گیا تھا رابیعہ جیت گئی تھی ہاں لیکن مسٹر عثمانی ہار گئے تھے کیونکہ ان کی چال ہمیں پتا چل گئی تھی' اب وہ خاموش ہوگئی تھی تبھی آئمہ نے رانی کو آگے کیا تھا


 'آئمہ آنٹی یہی تو غلطی کی تھی اس نے رانی کوئی اور تھی لیکن اسے لگا رانی وہ ہوگی جو رانی جیسی چال چلے گی اسلئے وہ کھیل ہار جائے گا لیکن ابھی تو آپ ہار گئیں' وہ آخر میں شوخ ہوتے ہوئے اسکی رانی کو اپنے گھوڑے سے مار چکی تھی اور یہ دی تھی اس نے مات آئمہ کھلکھلائیں تھیں 




زندگی ہو یا شطرنج مزا تو تب ہی آتا ہے


جب رانی مرتے_______دم تک ساتھ ہو♟️


 


'تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا' انہوں نے اسکو اٹھتے ہوئے دیکھ کر کہا تو مالا انکی طرف آئی انکی کرسی کے دونوں ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر انکی طرف جھکی 


 'ہمیں پتا چل گیا ہے کہ وہ لوگ تاش کھیل رہے ہیں اور آپ کو پتا ہے ہمارے دادا نے بتایا تھا تاش ایک شیطانی کتاب کا نام ہے اس حساب سے وہ لوگ شیطان ہوئے' اب وہ واپس پیچھے ہٹی تھی اور نامحسوس انداز میں ان کے بیگ کے قریب جاکر اس پر ہاتھ رکھتے ہوئے ایک چھوٹا سا کیمرہ اور مائیکروفون لگا چکی تھی 'لیکن ہم شیطان نہیں ہیں اس لئے تاش کی طرح نہیں کھیلیں گے تاش کھیلنے کیلئے قسمت چاہئے اور قسمت بڑی کتّی چیز ہے' وہ آخر میں شاہ رخ خان کا ڈائلاگ اسی کے انداز میں کہتے ہوئے کھلکھلائی تھی لیکن آئمہ اکرم حیران سی اسے دیکھ رہی تھیں وہ کہنا کیا چاہتی ہے مالا نے انکو دیکھا 'نہیں سمجھیں' 


 'نہیں' انکے کہنے پر اس نے ٹھنڈی سانس خارج کی


 'صاف بات ہے مسٹر عثمانی زخمی شیر کی طرح مچل رہے ہوں گے لیکن رابیعہ وہ اب سیٹل ہوگئی ہوگی آفٹر آل اسے میر گیلانی مل گیا (وہ سوچتے ہوئے کہہ رہی تھی) پھر بھی ہمیں شک ہے دونوں کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے لیکن اب ہم ان کے ساتھ شطرنج کھیلیں گے جسے صرف وہی جیت سکتا ہے جس کے پاس دماغ ہو لیکن وہ دونوں تاش کھیلیں گے جس کیلئے قسمت چاہئے اور اگر دماغ اور قسمت دونوں ہمارے ہاتھ میں آجائیں تو جیت پتا ہے کس کی ہوگی' اس نے سوالیہ نظروں سے آئمہ کو دیکھا جو اسے ستائشی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں 'سنہری مالا کی' دونوں نے ایک ساتھ کہا تھا اور آخر میں دونوں کا قہقہ گونجا تھا


 تھوڑی دیر بعد وہ تینوں مالا اور چنکو کو یہاں چھوڑے کراچی کے سفر کیلئے روانہ ہوگئی تھیں بیگ میں کیمرہ لگانا پڑا تھا انکے کیونکہ اسے اپنے باپ پر بھروسہ نہیں تھا اور ان تینوں کو وہ باحفاظت پہچانا چاہتی تھی 




❤️❤️




اس نے اپنا ماتھا مسلا اور اگلے ہی پل گھما کر ایک تھپڑ اسے مارا 'کیا ہوا ہے اسے اتنی بڑی بات مجھ سے کیوں چھپائی' وہ دھاڑا تھا کب اسکے معاملے میں رفا دفا کیا تھا اس نے


'سر میم کی طبیعت رات کو خراب ہوئی تھی بارہ بج رہے تھے اس وقت ہمیں کچھ پتا چلتا اس سے پہلے میر اپنی فوج کو لے کر وہاں پہنچ گیا تھا…' اس نے اپنی بات مکمل کرنی چاہی لیکن


'میں نے کہا اسے ہوا کیا ہے' اس نے واس اٹھا کر ایل ای ڈی میں مارا تھا جو کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوئی تھی 


'سسس…سر ااانکے لنگز میں مسئلہ ہوگیا ہے سر وہ انہیلر کے بغیر سانس نہیں لے سکیں گی اور اگر درد کبھی زیادہ ہوتا بھی ہے تو سر انکی ناک سے خون شروع ہوجائے گا' وہ خبر نہیں تھی وہ غازی کیلئے لاوا تھا جو اسکے کان میں ڈالا گیا تھا ترک گیا تھا وہ 


'کیسے کیسے ہوا یہ سب' اس نے اپنے اندر اشتعال کو دباتے ہوئے پوچھا 


'میم کو جیل میں سخت ٹورچر کیا گیا ہے سر شاید مارتے وقت انکی ایکسٹرنل ٹیوب ڈیمج ہوئی تھی ڈاکٹرز کہہ رہے تھے کہ انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں درد کافی دنوں سے تھا اور سر انکی آئی سائیڈ بھی کافی ویک ہوگئی ہیں' وہ اب جلدی سے ساری بریفننگ دے رہا تھا اسکے ہر لفظ پر غازی کو میر سے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی 


'سنو ازحف مجھے میر کا سسپینشن لیٹر چاہئے وہ قابل تو بہت ہے اس پوسٹ کیلئے لیکن اب وہ مجھے کھٹک رہا ہے اچھا نہیں کیا اس نے' وہ کافی حد تک سنجیدہ تھا 


'ایک اور بات سر میم کو کسی بچے کے ساتھ دیکھا گیا ہے اور سر اب تک غائب ہیں وہ پولیس اور یہ مسٹر عثمانی کے بندے بھی انہیں ڈھونڈ رہے ہیں پتا چلا ہے کہ اسکے ساتھ میم کی دشمنی چل رہی ہے لیکن سر وہ ابھی تک ہمارے بندوں کو بھی نہیں ملیں' وہ اپنی بات کہہ کر اب پیچھے ہٹ چکا تھا غازی کی نظریں صرف اور صرف مالا کے پورٹریٹ پر تھیں جو اس نے آج ہی لگوایا تھا 


'ہماری طرف سے جو بھی اسے ڈھونڈ رہا ہے سب کو پیچھے ہٹا دو وہ کسی کو نہیں ملے گی جب تک وہ خود نہ چاہے' اس نے کہنے کے بعد ہی ایک اشارہ دیا تھا سب کے سب باہر نکلے وہ چلتا ہوا فریج کی طرف آیا اور اس میں سے برف نکالی اور ساتھ میں اورنج جوس نکالا گلاس میں جوس ڈالا اور کیوبز ڈالیں جب کہ نہیں پورٹریٹ پر جمی تھیں 


'مجھے پتا ہے کہاں چھپی بیٹھی ہو تم' وہ گہرا مسکرا رہا تھا




❤️❤️




مالا نے اپنی شناخت بدل دی تھی اس نے چنکو کی شناخت بھی بدل دی تھی وہ بھی سرکاری طریقے سے پیسے اس کے پاس بہت تھے جس کے در پر وہ کچھ بھی کرسکتی تھی 


مالا نے اپنا نام پرمینینٹ سنہری مالا کرلیا تھا باپ کے نام کی جگہ ثروت اعجاز لکھا تھا ماں کے نام کی جگہ کوثر نواب ہی لکھوایا تھا اپنے آپ کو بیوہ ثابت کیا تھا اس نے شوہر کا نام معراج خالد رکھا تھا اور اثیل کی ماں کی جگہ اپنا نام لکھ وایا تھا اور باپ کی جگہ معراج خالد 


مالا نے نا صرف شناخت بلکہ حلیہ بھی بدل لیا تھا لمبے بال کاٹ کر شولڈر کٹ اور ماتھے کی طرف سے بے بی ہئیر کٹ آنکھوں پر گول فریم والا نظر کا چشمہ لینسز لگا کر ہیزل رنگ کی آنکھوں کو کالے رنگ کی آنکھوں میں تبدیل کیا شہ رگ پر مالا کا نام لکھوایا تھا وہ جو پہلے سر پر اسکارف ہوتا تھا اب سرے سے غائب تھا جینز ہر شرٹ پہنے بائیں ہاتھ میں ڈھیر سرے بینڈز  منہ میں تیلی ڈالے گھومتی وہ پوری گنڈی بن گئی تھی اسکے اندر کی لالہ رخ کا مکمل صفایا ہوگیا تھا کوئی بھی اسے نہیں پہچان سکتا تھا 




❤️❤️




آج مالا کو صحیح معنوں میں گھمایا تھا اس آفت نے افف وہ کتنی دیر سے کبھی کچھ بناتی کبھی کچھ ابھی بھی اس کیلئے دودھ گرم کررہی تھی ایک تو وہ میٹھے کا بہت شوقین تھا چوکلیٹ بہت شوق سے کھاتا تھا اور ابھی چوکلیٹ کیلئے ہی رو رہا تھا 


'افف چپ ہوجا ہمارے باپ ورنہ تو ابھی ہمیں جانتا نہیں ہے ہمارا ایک تھپڑ تمہیں گرانے کیلئے کافی ہے' اسکی بات پر چنکو اوں اوں کرنے لگا تھا 


'اچھا مطلب نہیں ڈرتے تم' س نے آئیبرو اچکا کر اسکی طرف دیکھا تو وہ روتے ہوئے سر ہاں میں ہلاگیا 'ہمارے تھپڑ کے آگے کبھی کوئی مرد نہیں ٹک پایا تم تو ابھی انڈے سے نہیں نکلے ٹپک ہی نہ جاؤ کہیں' مالا نے اسکا مزاق اڑایا تو وہ اور زور سے رویا بھئی بھوک ہی بہت لگی تھی لیکن نخرے بھی تو کرنے تھے


'اچھا اچھا دیکھو ابھی یہ پی لو بعد میں تمہارے لئے چوکلیٹ لے آئیں گے پکا' وہ اسے بہلا رہی تھی اور وہ شاید بہل گیا تھا لیکن دودھ پینے کے بجائے ہاتھ اوپر اٹھائے لہک رہا تھا تبھی مالا نے اسے گود میں اٹھایا اور اسکے منہ سے فیڈر لگایا وقفے وقفے سے نکالتی تو وہ اوں اوں کرتا مالا نے اسے غور سے دیکھا بےشک اس بچے کے حسن کے آگے کونسا میر گیلانی اور کہاں کی رابیعہ خان وہ تعریف نہیں سراہنے کے قابل تھا بس اسکی آنکھیں مالا پر گئیں تھیں 


مالا نے گھر بدل لیا تھا ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی وہ اپنے بھائی کے ساتھ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس گھر میں کون رہتا ہے 




ڈاکٹر صاحب بلیک ڈنر سوٹ پہنے آج رشتہ لے کر جارہے تھے پری کیلئے ساری تیاریاں ہوگئی تھیں تیاریاں بھی ایسی کہ دلہن کو ساتھ لے کر آئیں گے کچھ دیر بعد نجمہ بیگم اور اسماعیل صاحب کے ساتھ علی پری کے گھر کی طرف روانہ ہوا تھا 


••••••••••


دروازہ زمان صاحب نے ہی کھولا تھا دراصل رشتہ فردوس آنٹی ہی لائی تھیں اسلئے سب گھر میں موجود تھے کہ سب کو پتا تھا آج رشتے والے آنے ہیں


علی میر سے چھوٹا تھا لیکن جنید میر سے ایک سال بڑا تھا اس حساب سے علی چھبیس سال کا تھا اس لئے اسکی عمر اتنی نہیں لگی کچھ اس وجہ سے کہ میچور ہوگا اسلئے زمان صاحب نے لڑکے والوں کو بلا لیا تھا لیکن جب یہاں اسماعیل کو دیکھا تو ٹھٹھک ہی گئے دوسرے طرف وہ بھی حیران رہ گئے تھے


'اسماعیل آفندی…' ہونٹ ہلے تھے صرف انکے آواز نہیں آئی تھی اسماعیل نے سب چھوڑا اور انہیں گلے لگا لیا 


'زمان میرے یار کیسے ہو' فرطِ جذبات میں انکی آواز بھیگ گئی تھی جب کے سب انکے اس ملن پر حیران تھے یہ کیا ہوا ہے


'میں نے اتنا ڈھوڈا تم سب کو لیکن کبھی ملا ہی نہیں کوئی' ان کو اپنی دوستی کے دن یاد آگئے تھے وہ انہیں لے کر گھر میں داخل ہوئے 


'زمان یہ میرا بیٹا علی آفندی' انہوں نے بھرپور تعارف کروایا تو علی بھی زمان صاحب سے گلے تھا اور کہیں اس نے دل ہی دل میں خود کو رشتہ پکا ہونے کی مبارک باد بھی دے دی تھی 


انہوں نے سب کو مہمان خانے میں بٹھایا شبانہ بیگم اور دانیال بھی آگئے تھے شبانہ بیگم تو اسے دیکھتے ہی پہچان گئیں تھیں جبکہ وہ پرانی فیکٹری والا قصہ ان تینوں کے دماغ میں نہیں تھا شاید 


'آنٹی آپ اسکے بعد بریانی ہی نہیں لائیں' علی نے شکوہ کیا تھا


'بیٹا وہ تو لالی…' وہ کہتے کہتے رکیں جبکہ علی تنزیہ مسکرایا تبھی فصیحہ پری کو لائی تھی پنک شرٹ گھٹنوں تک وائٹ ٹائیٹس سر پر پنک دوپٹہ آنکھوں میں کاجل ہونٹوں پر گلوس لگائے وہ پنک روز لگ رہی تھی علی کی دھڑکنوں نے شور مچایا تھا اسی وقت پری نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا بس آنکھیں ملیں تو دوسری طرف کی آنکھوں میں عشق کی لگائی گئی آگ کے شعلے سامنے والے کی آنکھوں تک پہنچے تھے اس طرح کہ کچھ پل کیلئے پری آنکھیں نہیں ہٹا سکی 


'مجھے پتا ہے تم لالی کی بہن ہو لیکن تھوڑی شرم کرو کیسے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی ہو' فصیحہ سامنے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی لیکن پری نے لالی کی بہن ہونے کا پورا پورا ثبوت دیا تھا


'ہاٹ ہے' اسکی بات پر فصیحہ کو بری طریقے سے کھانسی لگی تھی کہ پری نے نزاکت چھوڑی اور اسکا گلے میں لگا پھندا ٹھیک کرا جب وہ ٹھیک ہوئی تو اسکا ہاتھ پکڑ کر بازو پر رکھا اور آگے بڑھنے کا اشارہ کیا 


پری نے ہولے سے سب کو سلام کیا نجمہ بیگم نے پری کو پاس بٹھایا وہ تو دل ہی دل میں اسکی بلائیں لے رہی تھیں 


فصیحہ جو پری کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی خود ہر کافی دیر سے کسی کی نرم گرم نگاہوں کا احساس ہورہا تھا اس نے نگاہیں گھمائی تو دانیال ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا باتیں کررہا تھا لیکن اسکی نظریں فصیحہ پر تھیں اسکے دیکھنے پر دانیال نے اسے آنکھ ماری تھی فصیحہ کی اس سے پہلے ہنسی چھوٹتی وہ رخ موڑ گئی ماشاءاللہ لالی کا گھر ہے یہ سارے ہی بے شرم 


'آنٹی اگر آپ برا نہ مانیں تو میں پری سے اکیلے میں ملنا چاہوں گا' علی نے سنجیدگی سے کہا یہ کب سے شامل ہوا بے شرموں کی لسٹ میں اسکی بات پر فصیحہ اور دانیال نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اس نے دانیال سے آنکھوں ہی آنکھوں میں ہاں بولنے کا کہا اس نے آنکھیں دکھائیں تو فصیحہ نے معصوم سا چہرہ بنا کر اسے دیکھا شبانہ بیگم نے جب دانیال کی طرف دیکھا تو اس نے ہاں میں سر ہلادیا 




❤️❤️




وہ دونوں باہر لان میں تھے ٹہل رہے تھے دونوں میں خاموشی تھی 


'آپ کو اس دن نیوز میں میر بھائی کے ساتھ دیکھا تھا' پری نے اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے بےخوفی سے کہا تھا علی نے ناسمجھی سے سر اثبات میں ہلایا


'میر بھائی نے شادی کی تھی لالی سے وہ کہاں ہے' علی کے وہم وگمان میں نہیں تھا کہ وہ یہ پوچھنے والی ہے وہ کچھ پل تو اسے دیکھتا رہ گیا 


'مجھے نہیں پتا' اس نے نگاہیں چرائیں تھیں


'کیوں ایس ایس پی صاحب آپکے دوست نہیں ہیں کیا' اسکے طرزِ مخاطب پر وہ چونکا لالی کا انداز 


'ہاں وہ لل…لاہور میں ہے' اسکا لہجہ لڑکھڑا گیا تھا 


'اچھا' وہ اب خاموش ہوگئی تھی تبھی اسے لگا جیسے علی اسکے نزدیک ہوا ہے اس نے اپنے دائیں طرف دیکھا وہ واقعی بہت نزدیک تھا کہ اسکی سانسوں کی تپش محسوس ہورہی تھی اس نے پیچھے ہونا چاہا تبھی علی نے اسکا ہاتھ پکڑا اور خود سے مزید قریب کیا 


'آج تو صرف رشتہ لایا ہوں اگلی بار برات لانا چاہتا ہوں کیا خیال ہے' وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا پری کی نظریں اسکی شرٹ کے بٹن پر تھی اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا 


'بہت ہی نیک خیال ہیں' وہ کہتے ہی اپنے آپ کو چھڑا کر اندر بھاگ گئی تھی اپنے پیچھے علی کے ہنسنے کی آواز سنی تھی


'افف ایک سال بہت تھا جانم انتظار کیلئے' اسکی نظریں اس راستے پر تھیں جہاں سے پری اندر گئی تھی وہ بھی سر پر ہاتھ پھیرتا ہوا اندر چلا گیا 


اور کچھ ہی دیر بعد پری کے ہاں نے سب کو منہ میٹھا کرانے پر مجبور کیا تھا مٹھائیوں کے ڈھیر لگائے گئے تھے نجمہ بیگم علی کے نام کی انگوٹھی بھی پہنا چکی تھیں بس بھئی پری پر علی کے نام کی مہر لگ گئی تھی 


لیکن کسی کا دل ٹوٹا تھا کسی کی آنکھیں رونے کی شدّت سے لال ہوئیں تھیں کوئی ہزار بار مرا تھا اور پھر زندہ ہوا تھا کسی نے اپنا سب کچھ ہار دیا تھا تو کیا دکھ دینے والوں کو خوشیاں اتنی آسانی سے مل جاتی ہیں یا غم اور دکھ لالی کو وراثت میں ملا تھا جو بھی ہو علی کی سزا قسمت نے چن لی تھی……قسمت




❤️❤️




فصیحہ سب کے جانے کے بعد روم میں آئی تھی اس نے روم میں داخل ہوتے دروازہ بند ہی کیا تھا کہ دانیال نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا وہ اس کے سینے سے لگی 


'دد.دانیال' وہ گھبرائی ہمیشہ کی طرح 


'نیچے کیا ہورہا تھا ہاں شرم نہیں آتی تمہیں' دانیال نے اسکا چہرہ تھوڑی سٹ پکڑ کر اونچا کیا 


'وہ کیا ہوتی ہے' اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا دانیال ہنسا اور پھر یقدم گھمبیر ہوا فصیحہ جو اسے دیکھ رہی تھی اسکے بہکے انداز کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی 


'سوچ رہا ہوں وہ جو تمہیں اتنے دنوں سے چھوڑا ہوا ہے آج سب دوریاں مٹا دیتا ہوں' اس نے ایک ہاتھ سے اسے مزید قریب کیا 'پھر شاید شرم آہی جائے گی' وہ مسکرا نہیں رہا تھا لیکن اسکا ڈمپل ریکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ مسکرا رہا تھا فصیحہ کی رخصتی پڑھائی کے بعد ہونی تھی لیکن گھر میں موجود کشیدگی کی وجہ سے جلد ہی کردی اسلئے وہ ابھی پڑھ رہی تھی تو دانیال نے بھی ابھی ہولا ہی ہاتھ رکھا ہوا تھا 


'ننن…نہیں مجھے بہت شرم آتی ہے' وہ جلدی سے بولی تو دانیال کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی


'اچھا ہے تھوڑی اور شرم کرلینا میری جان' اس نے اسکے گال چھووے تھے ہونٹوں سے فصیحہ نے اسکا کولر جکڑ لیا 


'چھوڑیں مجھے چھوڑیں' وہ چیخی دانیال نے بنا کچھ سنے اسے بازوؤں میں اٹھایا وہ اپنے پاؤں ماررہی تھی کبھی اسکا پنچ مارتی بیڈ پر لٹا کر خود بھی جھکا تھا اسکے دائیں بائیں ہاتھ رکھے


'چھوڑتے ہو ی…' وہ بات مکمل نہیں کرسکی تھی کہ دانیال ایک شوخ جسارت کرکے پیچھا ہٹا تھا کہ وہ سرخ پڑی تھی دانیال نے مسکرا کر اسے خود سے قریب تر کر گیا تھا آج رات




مجھے تھام کر مجھے چوم کر میری شدتّوں میں قیام کر


اے دلربا نازک ادا! تجھے پر فدا اک شب تو میرے نام کر




❤️❤️




جن کی فطرت میں تھا بغاوت کرنا


میں نے ان کے دلوں پر حکومت کی ہے




وہ عثمانی مینشن میں موجود تھی مگر اپنے بھائی کو نہیں لائی تھی کس کے حوالے کرکے آئی تھی کسی کو نہیں پتا تھا


'آپ کون ہیں؟' کسی نے اسکے قریب آکر پوچھا تھا شاید ملازم تھا 


'کہو سنہری مالا آئی ہے' ایک عجیب غرور اور اکڑ تھی اسکے لہجے میں سامنے کھڑا شخص مرعوب سا ہوکر اندر گیا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہی اسکے حق میں فیصلہ لایا تھا وہ چاروں طرف نظریں گھماتی ہوئی تنزیہ مسکراہٹ لئے اندر داخل ہوئی تھی گھر نہیں محل تھا شیش محل جو چالیس پرسنٹ اسے ملے تھے اس کا پانچ پرسنٹ تو صرف یہ گھر ہوگا 


وہ مہمان خانے میں آئی تھی جہاں صرف اسابیل نہیں دلاور اور گارڈز کی فوج بھی موجود تھی


'شرم کریں مسٹر عثمانی بیٹی پہلی بار گھر آئی ہے کوئی صدقہ دیں خیرات کریں' وہ انکے قریب ہی صوفے پر بیٹھی تھی 


'بلاؤں سے محفوظ ہونے کیلئے دیا جاتا ہے صدقہ و خیرات' انکا لہجہ حتک آمیز تھا مالا کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی


'تب بھی آپکا پیچھا نہیں چھوڑیں گے' اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی اور بایاں ہاتھ صوفے کے ہینڈل پر رکھا 'ویسے آپ کون ہیں' مالا نے دلاور عثمانی کی طرف اشارہ کیا 


'دلاور عثمانی اسابیل کا باپ' انکے تعارف پر مالا کی آنکھوں میں چمک بڑھی تھی


'واٹ آ سرپرائز دادا جی' وہ چہکتے ہوئے انکے گلے لگی تھی جس پر انہوں نے حقارت سے اسے دور کیا مالا کو برا ہرگز نہیں لگا


'بیٹا کہاں ہے میرا لالہ رخ' اسابیل غررایا


'کونسا بیٹا' وہ انجان بنی


'اثیل عثمانی کہاں ہے' اب کی بار دلاور عثمانی بولے تھے


'ہم واقعی نہیں جانتے آپ لوگ کس کی بات کررہے ہیں' وہ ہر انداز میں اپنے باپ پر گئی تھی جھوٹ بھی ایسے بولتی تھی جیسے سچ بول رہی ہو 


'میرے بیٹے کو تم نے ہی ہسپتال سے چرایا تھا اس دن تم نے ہی فائر کیا تھا گاڑی پر اب تم جھوٹ بول رہی ہو' اسکے جھوٹ بولنے پر اسابیل کا دل کیا آگ لگادے مالا کو 


'کنٹرول مسٹر عثمانی اتنا غصہ صحت کیلئے ٹھیک نہیں ہے ہارٹ اٹیک ہوگیا تو اپنے بیٹے کو کیسے ڈھونڈیں گے' وہ ہنستے ہنستے مار رہی تھی اس طرح کے سامنے بیٹھا باپ اولاد کیلئے تڑپ گیا تھا 


'میں جان سے ماردوں گا تمہیں' اسابیل کے لہجے میں بےبسی تھی مالا کو دکھ نے آن گھیرا تھا باپ تھا اسکا یہی سوچ اسکو یہاں ٹکنے نہیں دے رہی تھی اس کے چہرے پر تڑپ دیکھ کر وہ خود ہی تڑپ گئی تھی وہ بھی تو اسی کی بیٹی تھی پھر یہ تڑپ صرف بیٹے کیلئے کیوں خود کو کنٹرول کیا 


'یار کیسے لوگ ہو تم لوگ کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرو ہم پہلی بار آئے ہیں' مالا نے وہاں کھڑے گارڈز نوکروں کو کہا جو اب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے 'ہم اس شیش محل کے بادشاہ کی بیٹی یعنی یہاں کی شہزادی ہیں ایک طریقے سے تمہاری مالکن تو حکم بجا نہ لانے کی سزا جانتے ہو' اسکی باتیں نہیں اسکی آنکھیں تھیں جو کسی کو کھڑا ہونے نہیں دے رہی تھیں سب کو اس نے کچھ ہی دیر میں باہر کا راستہ دکھایا تھا وہ گھوم کر انکی طرف آئی


'ہم یہاں آپ کو صرف ایک بات کہنے آئے ہیں ہمیں نا تو قانون پسند ہے اور نا ہی قانون توڑنے والے اور آپ وہی غلطی کررہے ہیں اس سے پہلے ہم گھوڑے کی چال چلیں آپ پیچھے ہٹ جائیں کیونکہ ہمارا گھوڑا یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے وزیر ہے یا بادشاہ' وہ ہلکی آواز میں اسکے کان میں سرگوشی کرتی ہوئی پلٹ گئی تھی 'ایک بات اور گناہوں پر پچھتاوا ہو اور ہم سے معافی مانگنی ہو تو یاد رکھنا ہم معاف نہیں کرتے' دروازے سے قدم باہر نکالنے سے پہلے وہ یہ کہنا نہیں بھولی تھی 


پیچھا کھڑا اسابیل نہیں اسکا سکتے میں تھا غیر قانونی کام…




❤️❤️




وہ وہیں قریب کی بستی میں چنکو کو چھوڑ کر آئی تھی اپنے باپ کے پاس جانے سے پہلے چشمہ اور لینس ہٹائے بالوں کو ہئیر بینڈ سے پیچھے کیا تاکہ وہ لوگ یہ نہ جان پائیں کہ وہ کس حولیہ میں ہوتی ہے وہاں اگر پتا چل جاتا تو مشکل ہو جاتی 


'ریمہ…' اس نے ایک گھر کے باہر کھڑے ہوکر آواز لگائی تھی کچھ ہی دیر میں ایک خواجہ سرا باہر آیا تھا 


'آگئی تو وہ سو گیا ہے آجاؤ اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں' مالا اس کے پیچھے اسکے گھر میں داخل ہوئی تھی یہاں تقریباً پندرہ خواجہ سرا رہتے تھے انکے یہاں مشہورِ زمانہ محفلیں نہیں لگتی تھیں شریف لوگ تھے مالا نے چنکو کو یہیں چھوڑا تھا 


'کیا لے گی' ان میں سے ایک نے پوچھا 


'نہیں کچھ نہیں بس بہت بہت شکریہ تم لوگوں کا کہ اسکا خیال رکھا' وہ تشکرانہ لہجے میں بولی


'کیسی بات کرتی ہے تو شکریہ تو ہمیں ادا کرنا چاہیے تیرا کہ تو نے ہماری اس سے جان بچائی' ریمہ نے ایک ادا سے کہا تو وہ مسکرائی 


مالا نے ان لوگوں کی جان بچائی تھی کچھ بےغیرت لوگوں سے جو اپنی عیاشیوں کیلئے ان بیچاروں کو بھی نہیں چھوڑتے تھے بس اسلئے وہ اکثر ان کے ساتھ ہی پائی جاتی تھی آج اپنے باپ کے گھر میں ایک ضروری کام سے گئی تھی اور وہ کام اپنے دادا کے کان کے پیچھے مائیکروفون لگانا تھا راجہ کی خبر کے مطابق مارخوروں کا دھندا دلاور عثمانی کررہا تھا 


اور وہ یہ کام انکے گلے لگتے ہوئے بہترین انداز میں کر آئی تھی


'تیرا چنکو تو سورہا ہے جب تک محفل کا مزا ہی لوٹ لے تو' اس نے بڑے مان سے کہا تھا مالا وہیں بیٹھ گئی تھی اسکے سامنے کھانے پینے کی اشیاء رکھی گئی تھی 


یہ لوگ پروفیشنلی لوگوں کے گھر جایا کرتے تھے اسلئے ڈانس وغیرہ کی پریکٹس کرتے تھے جسکو یہ لوگ محفل کا نام دیتے تھے 




❤️❤️




آج اسکے بھائی کے کھانے کیلئے سب ختم ہوگیا تھا اسلئے وہ مارکیٹ آئی تھی چنکو کو لے کر لیکن اب سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کھاتا کیا ہے لاسٹ ٹائم تو آئمہ آنٹی لے آئیں تھیں سارا سامان لیکن اب کون لے کر دے گا 


'ایکسکیوز می کیا آپ ہماری تھوڑی ہیلپ کرسکتی ہیں' اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا تو سامنے کھڑی ایک آنٹی جن کے ہاتھ میں ایک بیبی تھا اسکی طرف مڑیں 


'جی' انہوں نے عجیب سے انداز میں مالا کو دیکھا


'وہ…' مالا بےتحاشہ کنفیوژ ہوئی انکے اسطرح دیکھنے سے کیونکہ وہ ایک بڑا سا بیگ اپنے کندھوں پر ڈالے کھڑی تھی اب کسی کو کیا پتا اس بیگ میں اسکا بھائی تھا جو بار بار اپنی زبان میں کچھ بول رہا تھا یہ بیگ بولٹ پروف تھا جو اسکو بڑی منتوں کے بعد ملا تھا اپنے بھائی کیلئے


'ڈھائی مہینے کا بچہ کیا کھاتا ہے' اس نے اپنی سب سے بڑی پریشانی سامنے رکھی تو وہ سمجھنے والے انداز میں مڑیں اور دودھ کے بوکس اٹھا کر اسے دیے اس نے دودھ کے بوکس اور چاکلیٹس ٹرالی میں ڈالیں پیمپر لئے وہ ابھی آگے ہی بڑھی تھی کہ اسکا بھائی رونے لگ گیا تھا وہ ہڑبڑاتی ہوئی روکی اس نے جلدی سے بیگ اپنے ہاتھوں میں لیا بیگ اوپری سائیڈ سے کھلا ہوا تھا اسی بیگ کی ایک زب سے فیڈر نکالا اور اسکے ہونٹوں سے لگایا مالا بیگ کو ہاتھوں میں اٹھائے آگے بڑھ رہی تھی ایک ہاتھ سے ٹرالی چکا رہی تھی ایک ہاتھ سے بیگ تھام رکھا تھا آگے جاکر بل کلئیر کیا تو سامان اٹھانے کا مسئلہ 


جس ہاتھ میں ٹرالی تھی اس میں سارا سامان اٹھایا جبکہ ایک ہاتھ میں بیگ ہنوز پکڑا ہوا تھا وہ ہولے ہولے سے اسے ہلا بھی رہی تھی اسی اثناء میں وہ سو چکا تھا 


مالا نے اسے دیکھ کر سکون کی سانس لی اسے ابھی گھر نہیں جانا تھا بلکہ اسے تو ایک بہت ضروری کام نمٹانا تھا 




❤️❤️




میر گیلانی ہاتھ میں ٹرمینیشن لیٹر لئے ڈپٹی مئیر کے آفس میں موجود تھا کیونکہ اسے ڈپٹی مئیر نے ہی فارغ کروایا تھا


'سر کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ میری ایمانداری کے باوجود آپ نے مجھے فائر کیوں کیا' وہ بہت ضبط سے کہہ رہا تھا مئیر کی اسکی طرف پیٹ تھی میر سامنے کرسی پر بیٹھا تھا


'ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے سمجھ لو تمہارا وقت بھی آگیا ہے' بہت زیادہ بھاری آواز تھی جو اسکے جزبوں کا پتا دے رہی تھی میر کو ایسا لگا جیسے اسکے لہجے میں نفرت ہے


'لیکن میں نے کیا کیا ہے سر' باوجود ضبط کے اسکی آواز اونچی ہوگئی تھی تبھی وہ ڈپٹی مئیر اسکی طرف گھوما تھا پرپل شرٹ کے اوپری دو بٹن کھلے تھے نیچے بلیک پینٹ پہنے وہ بے انتہا وجیہ لگا تھا میر نے پہلی بار دیکھا تھا اسے وہ غازی تھا 


'اس وڈیو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے میر گیلانی' اس نے ایک وڈیو اسکی طرف کی تھی جس میں وہ ایک آدمی سے پیسے لے رہا تھا  وہ وڈیو بلکل ٹھیک تھی جھوٹی نہیں تھی کیونکہ میر نے پیسے لیے تھے لیکن وہ پیسے اسکے اپنے تھے وڈیو کو دوسرا رخ دے دیا گیا تھا


'بلکل ٹھیک ہے پیسے لئے تھے میں نے لیکن رشوت نہیں لی تھی یہ پیسے میری حق حلال کی کمائی تھی' وہ آخر میں چیخا تھا


'شٹ آپ میر میں چاہوں تو تمہیں اریسٹ کرواسکتا ہوں لیکن میں نے تمہیں ابھی صرف فائر کیا ہے تمہارا پچھلا ریکارڈ دیکھ کر' غازی اب اسکے روبرو ہوا تھا دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے تھے 


'لیکن یہ سب جھوٹ ہے' وہ ہمت نہیں ہارا تھا


'ثبوت لاؤ' اس نے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے تھے اطمینان سے اسکی بات پر میر لب بھینچ گیا 


'پروف نہیں ہے میرے پاس' اس نے نظریں چرائیں اس کی بات پر وہ تنزیہ مسکرایا میر کو اب غصہ آیا تھا اپنی بےبسی پر


'کیوں غصہ آرہا ہے اپنی بےبسی پر کبھی سوچا ہے جن لوگوں کو تم سزا دیتے تھے کسی جھوٹے الزام میں پھنسا کر انکو بھی غصہ آتا ہوگا' غازی نے اسکے کندھے پر سے نادیدہ دھول جھاڑی 


'میں نے کبھی کسی کے ساتھ انصافی نہیں کی' میر دھاڑا تھا اسکی بےبسی پر غازی کو سکون مل رہا تھا


'ہے کوئی ثبوت' اس نے میر کو ایک بار پھر زچ کیا 


'آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے' میر نے مٹھیاں بھینچیں 


'بہت جلد بہت پچھتاؤ گے تم مجھے انتظار رہے گا' غازی کہتا ہوا پیچھا ہٹا 'آؤٹ' وہ واپس رخ پھیرے کھڑا ہوگیا تھا 


'لیکن سر…' میر نے پھر کچھ کہنا چاہا


'آئی سید آؤٹ' اب کی بار وہ دھاڑا تھا میر کا چہرہ زلت کے مارے سرخ ہوا تھا وہ دروازہ پر ایک زوردار لات مارتا ہوا باہر نکلا تھا 


'سوری میر گیلانی مجھے اپنی شیرنی سے محبت نہیں جنونی عشق ہے' اس نے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگا کر غصہ ضبط کیا تھا




❤️❤️




دوسری طرف مالا نے چنکو کو ریمہ کے حوالے کیا تھا اور خود وہ اپنا بیگ لئے نکلی تھی وائٹ اپر کے نیچے وائٹ جینز آنکھوں میں گلاسز نہیں کونٹیکٹ لینز تھے دائیں بازو پر کفن کا ٹکڑا باندھا ہوا تھا بالوں کو ہئیر بینڈ سے پیچھے کیا تھا پیچھے کے بالوں کی پونی ٹیل بنائی تھی 


پہلے تو وہ اپنے باپ کے گھر گئی تھی خاموشی سے رات کے نو بج رہے تھے وہ دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئی دبے قدم پورچ کی طرف بڑھی تھی گاڑیوں کے پاس پہنچ کر ادھر ادھر دیکھا تبھی ایک آواز سنائی دی


'کوئی داخل ہوا ہے اندر سیکیورٹی روم میں سکرین پر دیکھا ہے اسے' افف شٹ یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ یہاں کیمرے ہوں گے یہ تو شکر تھا کہ وہ گاڑیوں تک پہنچ گئی تھی اپنے بیگ سے سکریو ڈرائیور نکالا اور ایک گاڑی کے پیچھے لگی نمبر پلیٹ نکالی اسے بیگ میں ڈالا یہ سب کرتے ہوئے اسے باقاعدہ اپنے آس پاس قدموں کی آوازیں محسوس ہورہی تھیں تبھی وہ باہر نکلی تو دیکھا کہ دو باوردی بوڈی گارڈز کھڑے ہیں دونوں کے ہاتھوں میں بندوقیں تھیں یقیناً وہ لوگ اسے ڈھونڈ رہے تھے وہ خاموشی سے چلتے ہوئے ان کے قریب آئی 


'وہ ادھر بھاگ گئی ہے' آواز کو قدرے بھاری کیا ان دونوں کو لگا شاید انہی کے کسی بندے نے کہا ہے دونوں اس سمت بھاگے پیچھے مالا مسکراتی ہوئی جیسے آئی تھی ویسے ہی باہر چلی گئی 


باہر آکر اس نے اپنی گاڑی کے پیچھے وہی نمبر پلیٹ فٹ کی یہ گاڑی چوری کی تھی جو اس نے ایک مکینیک کی دکان سے خریدی تھی 


اب اسکو کہیں اور جانا تھا اور وہ جگہ ڈپٹی مئیر کا گھر تھا جہاں پر اسکے اندازے کے مطابق جن لوگوں کا نام دلاور عثمانی نے فون پر بات کرتے ہوئے لیا تھا ان کے باس کا نمبر یقیناً اسکے پاس موجود ہوسکتا تھا یہ خبر اسے راجا نے دی تھی


گائک کے گھر میں موجود ہونے کے ستر پرسنٹ چانس تھے کیونکہ ان میں کچھ ایسے لوگوں کے نام بھی ہوتے ہیں جنکا کسی کو پتا نہیں ہوتا 




❤️❤️




کچھ دیر کی مسافت کے بعد وہ وہاں پہنچ گئی تھی ڈپٹی مئیر کے گھر جسکا ایڈریس اسے راجا نے لاکر دیا تھا 




بساط ایسی کہ ___گویا ابھی الٹتی ہے


اناڑی ایسے کے شاطر بھی چال بھول گیا




'یہاں بھی کیمرے لگے ہوں گے' وہ باہر کھڑی اپنی نظروں سے پورے گھر کا طواف کررہی تھی اور اپنے ہی آپ میں بڑبڑا رہی تھی 


'کنیکشن کاٹنا پڑے گا گھر کا' کوئی اسکے کان میں لگے آلے میں بولا تھا یہ اشعر تھا 


اشعر ایک بے روزگار انسان تھا وجہ اسکا معزور ہونا تھا اسکی دونوں ٹانگیں ایک کار حادثے میں ضایع ہوگئی تھیں بچپن میں لیکن پھر بھی اشعر نے خود کو ایک قابل انسان بنایا تھا کمپیوٹر وغیرہ کا جنون تھا سوفٹویئر انجینئر تھا لیکن جنون تب اور بڑھا جب اسے ہیکنگ کے بارے میں پتا چلا بڑی مشکل سے پیسے جوڑ توڑ کر کورس کیا تھا گھر میں صرف ایک بہن تھی جس کی شادی کیلئے جہیز جمع کرنا تھا لیکن نوکری نہیں تھی ایسے دنوں میں اسکو راہ چلتے مالا ملی تھی اور پھر مالا نے اسے اپنے ساتھ شامل کیا اسکے گھر کے حالات سن کر اور آج یہ اسکا پہلا مشن تھا مالا کے ساتھ وہ کچھ جانتا تو نہیں تھا اسکے بارے میں بس اسے یہ پتا تھا کہ وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے اچھی خاصی پے دی رہی تھی وہ اسے 


'لیکن مین کنیکشن کہاں ہوگا' مالا آہستہ سے بولی 


'تم کسی طرح گھر میں داخل ہو اور خود ہی ڈھونڈو' اس نے صاف صاف منع کیا مالا نے دو لفظ بھیجے اس پر اور اپنا انہیلر نکال کر پینٹ کی جیب میں ڈالا بیگ کے ایک سٹریپ کو پیٹ پر باندھا اب بیگ مضبوط ہوگیا تھا دیوار پھلانگنا مشکل تھا آس پاس کچھ بھی نہیں لگا تھا 


'دیوار پھلانگنا بہت مشکل ہے کچھ اور سوچنا پڑے گا' مالا کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا 'تم باہر آؤ اور زرا گھر کا دروازہ بجاؤ' مالا کی نظریں ہر چیز سکین کررہی تھیں


'میں… میں کیوں کروں' مالا کی فرینک نیچر کی وجہ سے وہ دونوں دوست بھی تھے اسلئے وہ بلاجھجک اس سے کچھ بھی کہہ دیتا تھا


'تم کیوں چاہتے ہو کہ تمہارے ہاتھ بھی ٹوٹیں' وہ دانت پیستے ہوئے بولی


'تم میرے ہاتھ توڑو گی' وہ صدمے سے بولا


'اوہ میرے بھائی پلیز کچھ تو کام کرلے مفت کی روٹیاں توڑنے کے علاؤہ کچھ کیا ہے آج تک' وہ آخر میں چیخی تھی تبھی کوئی جھنجھلاتا ہوا سامنے کھڑی بلیک مہران میں سے نکلا تھا ہاتھوں میں بےساخیاں پکڑے 


تیکھے نقوش ہلکی سی دھاڑی صاف رنگت کنجی آنکھیں پرانے کپڑوں میں بھی وہ اچھا لگ رہا تھا بس مسئلہ یہ تھا کہ وہ چل نہیں سکتا تھا 


مالا نے اشارے سے اسے دروازہ کی طرف بڑھنے کا کہا اشعر دروازے کی طرف بڑھا تھا


'دروازہ بجاؤ اور اس طرح ظاہر کرو جیسے تم مانگنے والے ہو' مالا نے کان میں لگے آلے میں کہا اسکی بات پر تو اس نے صدمے سے اسے دیکھا 


'پاؤں نہیں ہے صرف میرے اسکا یہ مطلب ہے کہ تم مجھے مانگنے والا بناؤگی' اسکی آواز میں دکھ تھا


'اس شکل پر تو ویسے تمہیں کوئی ڈھیلا نہیں دے گا لیکن اب کیا کریں ضرورت کے وقت گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے' وہ اچھے سے لتاڑ رہی تھی اسے


'تم…' وہ ابھی کچھ بولتا کہ


'بکواس بند اور گانا گاؤ بھیک مانگنے والا' مالا نے موبائل پر وقت دیکھتے ہوئے کہا


'غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا تم ایک دو گے وہ دس لاکھ دے گا' اس نے اپنی پھٹیچر آواز میں گانا گانا شروع کیا تھا یہاں مالا کی حالت خراب ہوگئی تھی کیوں کہ اسکے کان میں مائیکروفون لگا تھا جس سے اسکی آواز سیدھا دماغ میں نقش ہورہی تھی


'گدھے الو کے پٹھے مائیکروفون نکال کر گاؤ' وہ چیخی تھی جب کہ اسے تو کوئی فرق ہی نہیں پڑا تھا مالا غصے سے اس آلے کو نکال کر پھینکنے ہی والی تھی کہ رک گئی پھر دوبارہ اسے کان میں لگایا


'بس اب جاکر دروازہ بجاؤ کیونکہ ہمیں لگ رہا ہے کہ تمہارے ہاتھ ہم سے نہیں محلے والوں سے ٹوٹیں گے تمہاری آواز سن کر' اس نے تنزیہ کہا تو وہ بے ساخی سے ٹک ٹک کرتا ڈپٹی مئیر کے گھر کے سامنے رکا اور دروازہ بجایا 


'لگتا ہے مئیر سو گیا ہے' کچھ دیر بعد جب دروازہ نہ کھلا تو مالا نے کہا


'ہاں مئیر تمہارا چاچا لگا ہے جو خود آکر دروازہ کھولے گا تمہارے لئے' وہ تپ کر بولا 


'تو کون کھولے گا' اس نے ناسمجھی سے کہا تو اشعر نے اپنا ماتھا پیٹا


'اتنا بڑا گھر شو مارنے کیلئے یا میوزیم میں رکھنے کیلئے تو لیا نہیں ہے اس نے اپنے رہنے کیلئے لیا ہے اور جہاں وہ رہے گا تو اسکے ساتھ ہزاروں گارڈز اور چوکی دار تو ہوگا ہی' اس نے اسکی عقل پر ماتم کیا تھا مالا نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلایا تبھی کسی نے دروازہ کھولا تھا 


'آں آں پوزیشن میں آؤ' اسکے کہنے کی دیر تھی کہ اس نے عجیب سا منہ بنایا جس سے وہ ہلکا ہلکا فقیر لگ رہا تھا 'صحیح جارہے ہو' مالا نے چاروں اور نظریں گھماتے ہوئے کہا پھر آہستہ چلتی دروازے سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئی


'جی کیا چاہئے آپ کو' وہ شاید چوکی دار تھا 


'غریب کی مدد کرو' وہ مظلوم شکل بناتا ہوا بولا 


'شکل سے غریب تو نہیں لگتا تم مڑا' وہ پٹھان تھا


'اوہ خانہ خراب خدا نے صرف شکل اچھی دی ہے' اشعر بھی پٹھان تھا 


'لیکن اتنی رات کو کون مانگتا ہے' وہ چوکیدار نے اسے سخت نظروں سے دیکھا تو وہ گڑبڑایا پیچھے کھڑی مالا نے ہاتھ سے اشعر کو اشارہ کیا جسے سمجھ کر اس نے جلدی سے چوکیدار گلے لگا لیا


'کیا بتاؤں خان لالا پارٹ ٹائم جاب کررہا ہوں' اس نے مصنوعی رنجیدہ ہوکر اسے بتایا پیچھے مالا نے دوربین آنکھوں پر لگائی اور دروازے سے اندر دیکھا دروازے کے بلکل سامنے پاور سسٹم تھا اس نے بیگ سے چاکو نکالا اور نشانہ باندھا 


'اوہ یہ لو خانہ خراب اور پیچھا چھوڑو امارا' اس نے دس روپے نکال کر اسے چلتا کرنا چاہا اس سے پہلے وہ پیچھے مڑتا اشعر نے پھر خان صاحب کو اپنی طرف متوجہ کروایا پیچھے کھڑی مالا نے کھینچ کر چاکو مارا تھا نشانہ تو اسکا اسکے دادا نے ٹھیک کروایا تھا بلکل نشانے پر تیر لگتا تھا اسکا جیسے ابھی لگا تھا 


'دس روپے دیتے شرم نہ آئی تمہیں مجھے کیا گرا پڑا فقیر سمجھ لیا ہے پروفیشنل دھندا کرتے ہیں ہم اس علاقے میں میرے دس بھائی کام کرتے…' اس سے پہلے وہ اور کوئی گوہر افشانی کرتا پورے گھر کی لائٹ ایک جھٹکے سے بند ہوئی تھی اشعر نے مالا کو دیکھا تو اس نے تھمبز اپ کرکے سب ٹھیک ہونے کا اشارہ کیا 


'تم امارا پیسا نکالو' اشعر نے پھر کہا مالا اپنے قدم گھر کے اندر جما چکی تھی


'دیکتا نہیں ہے تم کو لائٹ چلا گیا ہے پکڑو اپنا پیسا اور جاؤ یہاں سے' اس نے پچاس روپے اسے دیے اور خود اندر کی طرف بڑھا اشعر کونسا روکنا چاہتا تھا چلتا ہوا گاڑی میں آ بیٹھا اور اپنا لیپ ٹاپ آن کرلیا اور کانوں پر ہیڈ فونز لگائے 




❤️❤️




غازی وہی پرپل شرٹ پہنے جسکے اب اوپری چار بٹن کھل چکے تھے نیچے بلیک پینٹ جیب میں ہاتھ ڈالے سامنے وال پر لگی تصویر کو دیکھ رہا تھا جس میں اسکی بہن کے ساتھ اسکا جگری یار اور اسکی ماں کھڑی تھی کتنی عجیب بات تھی ان تینوں نے ساتھ تصویر لی تھی اور یہی تین ایک ساتھ مارے گئے تھے 


یہ وہ وقت تھا جب وہ کراچی میں رہتا تھا غازی نے لاہور میں ڈپٹی مئیر کی کرسی کیلئے اپنا نام دیا تھا اورنگزیب صاحب چونکہ آرمی میں برگیڈیئر رہ چکے تھے اسلئے اورنگزیب کا نام فائنل ہوگیا تھا اسی وجہ سے اسکے کافی حریف تھے جو اسکو دھمکیاں دے رہے تھے انہی دنوں میں اسکے دوست رافع نے اسکی بہن مینال کیلئے رشتہ بھیجا تھا ان دنوں کا نکاح ہوچکا تھا رافع مینال اور غازی کی ماں ایک گاڑی میں واپس آرہے تھے تبھی انکی گاڑی کو ایک ٹرک نے ٹرین کے آگے دھکیل دیا تھا بہت بڑا ایکسیڈنٹ تھا ٹرین میں موجود کچھ لوگ بھی جاں بحق ہوئے تھے اور اسکی آدھی فیملی بھی وہ رات خوشیوں سے بھری تھی اور اسی رات سب ختم ہوگیا تھا 




بچھڑا کچھ اس ادا سے کے رت ہی بدل گئی


اک شخص سارے شہر کو_____ویران کرگیا




اسکو پتا بھی نہیں چلا کب اسکی آنکھیں جھلک پڑیں تبھی اچانک پورا گھر اندھیر ہوا تھا اس نے چونک کر اوپر دیکھا اور ایک ہاتھ سے آنسو صاف کیے 


'ازحف' اس نے آواز لگائی


'سر ہم چیک کررہے ہیں' ازحف نے وہیں سے آواز لگائی تھی تبھی اس نے شرٹ کے کف کھولے تھے 




❤️❤️




'سر' حارث نے میر گیلانی کو فون کیا تھا میر جو آج تھک کر گھر آیا تھا اب بی جان نے انہیں واپس بلالیا تھا رابیعہ کی اتنی آؤ بھگت ہر


'ہاں بولو حارث' اس نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا


'سر جنید مرڈر کیس کے حوالے سے ایک بہت ضروری بات ہاتھ لگی ہے' حارث نے سنجیدگی سے کہا میر سیدھا ہوا


'کونسی بات' میر نے جلدی سے کہا


'سر جنید غزالی طارق خان کی بیٹی کا بوائے فرینڈ تھا' اس نے دھماکہ کیا تھا میر کے سر 


'پھر' میر نے مزید پوچھا تو اس نے ساری بات اسکے ہمہ تن گوش گزاری تھی میر صدمے سے کچھ پل بول ہی نہ سکا 


'لیکن اسی رات روہن کا بھی مرڈر ہوا تھا اسے کس نے مارا' میر کے دل کی دھڑکن بھڑی تھی


'سر روہن کے باپ کے دشمنوں نے' حارث نے اسے اور مزید باتیں بتائیں 


'اسکا مطلب طارق خان کی بیٹی اس مرڈر میں شامل ہوسکتی ہے' میر نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا اس کے سر میں شدید درد ہورہا تھا 


'سر لالہ رخ قتل کرسکتی ہے اسکے چانسز اب صرف بیس پرسنٹ ہیں جبکہ طارق خان کی بیٹی رابیعہ کے قتل کرنے کے 80 پرسنٹ چانسز ہیں' وہ جو کہنا چاہ رہا تھا میر سمجھ رہا تھا


'تمہارا مطلب ہے کہ لالی کا کوئی قصور نہیں ہے اس سب میں' میر نے دانتوں پر دانت جمائے


'جی سر' حارث نے دو ٹوک کہا


'مجھے ثبوت لادو کہیں سے میں مان لوں گا' افف یہ پولیس والے حارث نے بھی خیر خیریت معلوم کرنے کے بعد فون کاٹ دیا تھا


میر اب بہت ساری سوچوں میں گھر چکا تھا طارق خان کی بیٹی کون ہے لالی کے ساتھ اس دن وہاں کیا ہوا ہوگا…؟




❤️❤️




مالا نے پہلے خاموشی سے جاکر جرنیٹر کا بھی کام تمام کیا اور اب خاموشی سے پھونک پھونک کر قدم رکھتی اندر آئی تھی یہ شاید گھر کا مین ڈور تھا اس نے اسے کھولا اور اپنے قدم اندر رکھے 


غازی کو اچانک سے ایک تیز ہوا کے جھونکے نے چھوا تھا اس نے چونک کر آسمان کی طرف دیکھا کھڑکی سے اور ہونٹوں سے ایک لفظ ادا ہوا تھا 'لالہ رخ' 


ادھر مالا نے اپنے بیگ سے ٹورچ نکالی اور ادھر ادھر ماری تو ایک جگہ رک گئی وہاں ایک آدمی کھڑا تھا مونچھوں والا اس کو دیکھ کر مالا نے تھوک نگلا کیونکہ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اس نے سب سے پہلے ٹورچ کا بند کیا وہ تو شکر ہے ٹورچ کی لائٹ کی وجہ سے وہ اسے دیکھ نہیں سکا تھا 


وہ خاموشی سے نیچے موجود ایک کمرے میں گئی ڈور انلاک تھا وہ اندر گئی اور اپنے سر پر بینڈ سے لائٹ باندھی جیسے ہیڈ لائٹ ہوتی ہے اسی طرح پھر کمرے کا چپا چپا چھان مارا لیکن وہاں کچھ نہیں تھا وہ وہاں سے نکلتی دوسرے روم تک گئی اور اسے بھی اچھے سے چھان مارا 




••••••••••••••




'سر' ازحف نے اسے فون کیا تھا


'کہو' وہ اپنے لئے ٹی شرٹ نکال رہا تھا


'سر مین سوئچ سے یہ چاکو ملا ہے نشانہ لے کر مین سوئچ اڑایا ہے اور جرنیٹر کے تو چن چن کر تار کاٹے ہیں سر مجھے پورا یقین ہے گھر میں کوئی گھسا ہے ابھی میں نے یہاں کسی چھوٹے قد والے کو بھی دیکھا ہے' مطلب وہ ازحف تھا جسے مالا نے دیکھا تھا اسکی ساری بات سن کر اسکے ماتھے پر شکنیں در شکنیں پڑی تھیں 


'بابا کے روم میں چیک کرو بابا ٹھیک ہیں آتا ہوں میں بھی' اس نے کہتے کے ساتھ ہی فون کاٹا تھا اسکا پہلا شک جانا بھی اورنگزیب صاحب پر تھا کیونکہ دھمکیاں ابھی بھی مل رہی تھیں 




•••••••••••••




مالا جو تیسرے روم یعنی اورنگزیب صاحب کے کمرے کی طرف جارہی تھی اس طرف آتے قدموں کی آواز سنی تو رکی جلدی سے تھوڑا پیچھے ہوکر اندھیرے میں چھپ گئی اپنے سر پر لگی ٹارچ بھی بند کی اب صرف اندھیرا تھا 


'ازحف سر کہہ رہے تھے کہ کوئی بچہ گھسا ہے گھر میں چھوٹا قد تھا اب بچہ ہی تو ہے اور کون آئے گا' دو لوگ تھے ان میں سے ایک نے مالا کے چھوٹے قد پر چوٹ کی تو اسکا دماغ گھوما تھا اس نے اپنے سر پر لگی لائٹ آن کی تو دونوں اس طرف متوجہ ہوئے


'کیا کہا چھوٹا قد ہمیں بچہ بولا تمہارے اس ڈپٹی مئیر کے گھر صرف مرد اور بچے آسکتے ہیں لڑکیاں نہیں آسکتیں بتاتے ہیں تمہیں ابھی چھوٹا قد کتنا بڑا دھماکہ ہوتا ہے' مالا نے کہتے کے ساتھ ایک تھپڑ اسکے منہ پر مارا تھا "چٹاخ"


ان میں سے دوسرا چیخا


'سر یہاں پر ایک لڑکی ہے' اس کے کہنے کی دیر تھی مالا نے اسکے گھٹنے پر پاؤں مار کر اسے خود کے سامنے گرایا پہلے والے کے پیچھے جاکر اسے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ دوسرے والے ہر گر پڑا سیکنڈوں میں کام کیا تھا تبھی سارے بھاگے ہوئے آئے تھے اس طرف مالا نے جیب سے رومال نکال کر منہ پر باندھا اور انہیلر والی جیب پر پکڑ مضبوط ہوئی تھی 


'بھاگ مالا' اشعر کی آواز گونجی تھی تبھی وہ وہیں سے سیڑھیوں کی ریلنگ پکڑے اوپر چڑھی تھی سر پر لگی لائٹ آف کی


'کچھ ملا' اشعر نے پوچھا 


'نہیں نیچے کچھ نہیں تھا بس ایک کمرہ رہ گیا لیکن وہ لوگ آگئے تھے ہم اوپر جارہے ہیں بس اب اللہ کرے وہیں سے کچھ مل جائے' وہ کہتے ہی اوپر بڑھی تھی سامنے نظر آنے والے ایک کمرے کی طرف بڑھی وہ لاک تھا تبھی اسے دوسرے روم سے کسی کے نکلنے کی آواز آئی وہ جو کسی سے نہیں ڈرتی تھی ابھی اسکا دل حلق میں آگیا تھا کہ کہیں پکڑی نہ جائے 


غازی جو روم سے نکلا تھا ایک مخصوص سی خوشبو آس پاس محسوس کرکے رکا نظریں بے ساختہ ایک روم کی طرف گئی تھیں اندھیرا اس قدر تھا کچھ نظر نہیں آرہا تھا لیکن پھر بھی وہاں پر جیسے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تھا اس نے موبائل نکالا اور لائٹ آن کرنے ہی لگا تھا کہ ہاتھ ہر جیسے راڈ آکھی تھی ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر زمین پر گرا تبھی وہ ایکشن میں آیا آنکھوں کو چھٹا کرکے آس پاس دیکھا کوئی نہیں تھا


مالا نے اسے لائٹ جلاتے ہوئے دیکھا تھا تبھی اپنے ہاتھ سٹریٹ کرکے اسکے ہاتھ پر مارا تھا وہ جان گئی تھی کہ سامنے کوئی بڑی ہستی ہے وجہ اسکا پرفیوم تھا وہ اسکے پیچھے کھڑی تھی تبھی قدم قدم چلتی جس کمرے سے وہ نکلا تھا اس کمرے میں داخل ہوئی آواز پیدا نہ ہو اسطرح دروازہ بند کیا اور لاک لگایا پھر اپنے سر پر لگی لائٹ آن کی تبھی اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی سامنے ہی لیپ ٹاپ پڑا تھا 


'اشعر سامنے لیپ ٹاپ ہے ہمیں لگتا ہے ہم صحیح روم میں آئے ہیں یہی اس ڈپٹی مئیر کا کمرہ ہے' مالا نے لیپ ٹاپ کھولا اور اسے اسٹارٹ کیا


'لیپ ٹاپ سے وہ یو ایس بی کنیکٹ کرو لاک بھی ہوگا تو بھی سب ڈیٹا کوپی ہوجائے گا' اشعر اپنے لیپ ٹاپ پر اس یو ایس بی سے کنیکٹ تھا 


'ہمم اوکے' اس نے لیپ ٹاپ پر وہ یو ایس بی لگائی اور اب ویٹ کررہی تھی کہ کب ڈیٹا کوپی ہوتا ہے


ڈیٹا بہت اسپیڈ سے کوپی ہوا تھا دس منٹ لگے تھے بس اس نے لیپ ٹاپ سے یو ایس بی نکالی اور قدم الماری کی طرف بڑھائے وہاں ہر ایک ڈرا تھی جو لاک تھی لاک تجوری والا لوک مگر مالا بھی سینٹرل جیل سے بھاگی ہوئی مجرم تھی بیگ سے سکریو ڈرائیور اور پنز نکلایں مشکل سے تھوڑا ہی وقت لگا تھا یہ کرنے میں اس نے چشمہ نکالا اپنا اور آنکھوں پر لگایا چشمے کے اندر اسکینر موجود تھا اسکین باہر بیٹھا اشعر کررہا تھا مالا نے ساری فائلز نکالیں اور سب کو اچھے سے دیکھا تھوڑی دیر بعد اس نے سب بند کیا لاک ٹھیک کیا لیپ ٹاپ بند کرکے واپس اسی جگہ رکھا اور لائٹ چونکہ آئی نہیں تھی اسلئے روم کا دروازے سے ہی جارہی تھی


ڈ


دروازہ کھولا ہی تھا کہ ایک جھٹکے سے پورا گھر روشن ہوا تھا اور دروازے کے عین سامنے غازی سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا پیچھے ازحف اور پانچ گارڈز کھڑے تھے موٹے موٹے مالا نے تھوک نگلا وہ تو شکر تھا اسکے منہ پر ابھی بھی رومال تھا وہ ان کے برابر سے دھکا دیتی ہوئی نکلی تھی 


'پکڑو اسے' ازحف چیخا تھا سارے اسکے پیچھے بھاگے 


مالا بجائے سیڑھیاں اترنے کے ریلنگ پر سے جھولا جھولتے ہوئے نیچے آئی تھی تبھی دو گارڈز سیڑھیوں کے نیچے کھڑی تھی مالا نے ریلنگ پکڑی اور خود کو بیچ میں روکا ریلنگ کی جالی پکڑ کر دونوں ٹانگیں اوپر کیں اور دونوں ہر فلائنگ کیگ رسید کی دونوں زمین بوس ہوئے تبھی اوپر والے نیچے آگئے تھے اس نے ادھر ادھر دیکھا سامنے کچن تھا وہ بھاگتی ہوئی اندر کی اس کے پیچھے وہ سب بھی آئے


'اب کہاں جاؤگی' ان میں سے ایک بولا تو مالا نے کچن میں لگی ایک ڈرا کھولی اس میں بیلن تھا نکالا 


'بچپن میں اپنی اماں سے پٹے ہوگے بیلن سے اب ہم سے بھی ہٹ کو' کہتے کے ساتھ ہی گھما کر اسکے سر پر بیلن مارا 


'آہہہہہ' ایک دلخراش چیخ ماری کر وہ وہیں بیٹھ گیا تھا 


'مالا جلدی نکلو وہاں سے' اشعر مسلسل کان میں چیخ رہا تھا مالا کا دل کیا وہی بیلن اٹھا کر اسکے سر پر دے مارے


پیچھے اسکے دو چار اور کھڑے تھے تبھی اس نے کبینیٹ کھولا اس میں مصالے تھے جلدی سے لال مرچ کا ڈبا ڈھونڈا اور انکی آنکھوں میں لال مرچیں ڈالیں وہ لوگ بلبلاتے ہوئے پیچھے ہٹے تو اور مزید اندر آئے 


'گارڈز ہیں یا کاکروچ ختم ہی نہیں ہورہے' وہ نظریں گھماتے ہوئے مسلسل کچھ بڑبڑا رہی تھی تبھی نظر آلووں پر گئی اٹھا اٹھا کر ان لوگوں پر مارے سارے آلو ختم ہوئے پلیٹیں اٹھا لیں 


ایک شورِ بدتمیزی برپا تھا پورے گھر میں کہ اندر لیٹے اورنگزیب صاحب بھی باہر گئے تھے تبھی ایک اڑتا ہوا ٹماٹر انکے کپڑوں پر لگا تھا انکو تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے تبھی غازی کچن میں داخل ہوا تھا اور ایک زوردار چیز اس کے سینے پر آلگی تھی غور سے دیکھا تو وہ پلیٹ تھی وہ درشتگی سے مالا کی طرف بڑھا وہ جو بغیر دوسری طرف دیکھے جو ہاتھ میں آئے مارے جارہی تھا کسی کے قدموں کی آواز سنی تو رخ پھیر کر دیکھا کوئی لمبا چوڑا مرد آنکھوں میں غصہ لیے کھڑا تھا 


'کون ہو تم' مالا نے کمر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھوڑی دیر میں ہی گھر کا ستیاناس کرچکی تھی وہ


'میں وہ ہوں جسکے گھر میں تم کھڑی ہو' وہ چباتے ہوئے بولا مالا نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا بلاشبہ بندہ دکھنے میں اچھا تھا 


'یوں کہو جس گھر میں تم کھڑی ہو اس گھر کے مالک کا بوڈی گارڈ شکل دیکھی ہے اپنی جلے ہوئے میٹر لگ رہے ہو' اس نے ناک پھولاتے ہوئے کہا تبھی غازی نے اسکا ہاتھ تھام کر اپنی طرف کھینچا تھا وہ اسکے سینے سے آلگی صرف آنکھیں دکھ رہی تھی کالی آنکھیں بہت خوبصورت آنکھیں


'مرشد آنکھوں پر دھیان دوگے 


تو بات اُدھوری رہ جائے گی' 


مالا نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا تھا 


'رومینٹک سین بن گیا ہے کیا' اشعر نے چھیڑنے والے انداز میں پوچھا تو مالا نے بے ساختہ ہمم کہا تھا 


'دراز پلکیں, غزال آنکھیں، مصوری کا ہیں کمال آنکھیں


انہیں دیکھ کر مر نہ جائے کوئی، خدا کی بندی سنبھال آنکھیں'


غازی گھمبیر آواز میں بولا تھا




❤️❤️




وہ سب نیچے لاؤنج میں بیٹھے تھے اب اورنگزیب صاحب بھی موجود تھے وہ سامنے سنگل صوفے پر بیٹھی تھی اسکے بکل سامنے غازی بیٹھا تھا سینے پر ہاتھ باندھے اسی پرپل شرٹ میں موجود


مالا مستقل ہونٹ کھا رہی تھی چہرے پر ابھی بھی رومال موجود تھا


'کون ہو تم' اورنگزیب صاحب نے اپنی گرجدار آواز میں پوچھا


'انکل ہم ایک معمولی سے چور ہیں چوری کرنے کی نیت سے آئے تھے' وہ سر جھکائے سچ میں جھوٹ ملا کر بول رہی تھی


'کیا چرایا ہے' اب کی بار ازحف نے پوچھا تھا تو مالا نے جیب سے وہ پیسوں کی ایک گڈی نکال کر آگے کیا تھا تبھی جیب سے انہیلر نکل کر زمین پر جاگرا 


'بس یہی اور کچھ نہیں چرایا' اس نے کہتے ہی زمین سے انہیلر اٹھایا اور دوبارہ جیب میں ڈالا سامنے غازی تھوڑا آگے جھک کر بیٹھا تھا گھٹنوں پر کونیاں رکھے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے بس وہ اسے دیکھ رہا تھا 


'چوری کرنا گناہ ہے بیٹا' اورنگزیب صاحب نے پیار سے سمجھایا تھا 


'بولو انکل چوری کرکے مجھے قلبی سکون ملتا ہے' اشعر جو اسکی ساری باتیں سن رہا تھا بولا 


'انکل چوری کرکے ہمیں قلبی سکون ملتا ہے' وہ کسی طوطے کی طرح بولی تھی پھر دانتوں تلے زبان دبائی 'منحوس انسان ملو تم باہر' وہ دل ہی دل میں بولتی مزید سر جھکا گئی جبکہ اسکی بات پر اشعر نے قہقہ لگایا تھا


'پولیس کو فون ملاؤ ابھی اسے حوالے کرو پولیس کے' اورنگزیب صاحب کو غصہ آگیا تھا اسکی بات سن کر انکی بات پر مالا نے سوچا (زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا وہ ہمیں جیل میں بند کریں گے اور ہم دوبارہ بھاگ جائیں گے ہی ہی ہی) اس نے اپنی مسکراہٹ روکی تبھی اچانک سے اسکو آکسیجن کی کمی ہوئی تھی بری طرح کھانسی اٹھی تھی آنکھوں سے پانی آنا شروع ہوگیا تھا اشعر کو اسکی کھانسی عجیب لگی


'مالا انہیلر کہاں ہے نکالو اسے' اشعر نے سختی سے کہا


ازحف نے ملازمہ کو پانی لانے کا کہا تھا غازی اسکو اسطرح کھانستے دیکھ کچھ ہوا تھا


'اننن…ہی…انہیلر ہہ…ہمارا انہیلر' اس نے کانپتے ہاتھوں سے جیب سے انہیلر نکالا منہ پر سے رومال ہٹا کر دور پھینکا تھا جلدی سے انہیلر سے مصنوعی سانس لی آنکھوں سے پانی آگیا تھا تبھی ملازمہ پانی کائی تھی جو اس نے ایک ہی گھونٹ میں کیا روکی سانس بحال ہوئی تھی


لیکن ان سب کی سانسیں روک کر ملازمہ کی تو نظریں نہیں ہٹ رہی تھیں اس پر سے ازحف کا منہ بھی کھل گیا تھا اسکو دیکھ کر غازی کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا 


'سر یہ تو…' وہ ابھی کچھ بولتا کہ غازی نے ہاں میں سر ہلایا تھا غازی کے پیچھے سارے گارڈز کھڑے تھے ازحف غازی کے برابر میں لیکن تھوڑا پیچھے کھڑا تھا 


'تھوڑا پانی اور مل سکتا ہے کیا' اس نے پاس کھڑی ملازمہ سے کہا وہ سر ہاں میں ہلاتے ہوئے غائب ہوئی تھی تبھی اسے غازی کی آواز سنائی دی


'پہلی بار آئی ہو کیا کھاؤگی' وہ بھاری لیکن نرمی سے بولا تھا مالا اور اورنگزیب صاحب نے حیرت سے اسے دیکھا پانی آیا تو دوبارہ ایک ہی سانس میں پانی ختم کیا پیچھے کھڑے جو گارڈز پہلے اسے غصے سے دیکھ رہے تھے ازحف کے اشاروں میں بتانے سے اب سب نظریں جھکائے کھڑے تھے 


'کیا واقعی جہاں تک ہمیں یاد ہے ہم تو چور تھے' مالا نے حیرت سے کہا 


'ہمارے یہاں جو بھی پہلی بار آتا ہے اسے ایسے ہی پوچھا جاتا ہے' ازحف نے اسکی مشکل آسان کی


'نہیں اسکی ضرورت نہیں بس ہمیں جانیں دیں ہم نے پیسے بھی واپس کردیے ہیں اب کبھی چوری نہیں کریں گے انکل' مالا نے اورنگزیب صاحب سے کہا تھا 


'ہاں تم جاسکتی ہو پھر ضرور آنا انتظار رہے گا' غازی نے اسکے سامنے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا ان دونوں کے درمیان بہت ہی کم فاصلہ تھا مالا کو عجیب لگا 


'آ…آئیں گے ضرور آئیں گے' مالا نے اپنی طرف سے اطمینان دلایا تھا وہ تھوڑا اور اسکے قریب ہوا اورنگزیب صاحب سب کچھ سمجھتے ہوئے مسکرائے تھے اور واپس اپنے کمرے کی طرف چلے گئے 


'پھر کب آؤ گی' اسکا انداز بہکا بہکا تھا ٹھرکی انسان مالا نے دل ہی دل میں اسے ایک پیارے سے لقب سے نوازا


'خدا نہ کرے کبھی دوبارہ آئے یہاں' وہ منہ بناتی ہوئی آٹھ کھڑی ہوئ تھی تبھی غازی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تو وہ صوفے پر گری تھی اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑیں




'خدا نہ کرے دور ہونا پڑے تم سے


سنا ہے 


جی نہیں پاتا کوئی جان سے بچھڑ جانے کے بعد' 




اس  نے بہت ہی محبت سے پڑھا تھا مالا اسکی نظروں کا مفہوم جان کر بری طریقے سے ٹھٹھکی تھی ایک سیکنڈ بھی لگائے بغیر بیگ اٹھایا اور اس گھر سے باہر نکلتی چلی گئی


'پہلی بار اس نے میرے غریب خانے میں قدم رکھا ہے صدقہ و خیرات کرو غریبوں کو کھانا کھلاؤ بابا فرید کے مزار پر لنگر رکھواؤ کل صبح بادشاہی مسجد میں فجر کی نماز کی امامت میں کروں گا' وہ دلفریب انداز میں کہہ رہا تھا نظریں اسکی اس راستے پر تھیں جہاں سے وہ گئی تھی 


'یہ سب کیوں سر' ازحف نے آگے آکر کہا 


'رحمت برسی ہے خدا کی میرے گھر کہیں نظر نہ لگ جائے' وہ کہتا ہوا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا تھا پیچھے ازحف کھل کر مسکرایا 




❤️❤️




مالا کے جانے کے بعد اسابیل کو دل کا دورا پڑا تھا لیکن پھر بھی بچ گیا (ہائے ہماری ایسی قسمت کہاں دل تو کرتا ہے ہم خود ہی چاکو اسکے پیٹ میں ماردیں)


ابھی بھی وہ ہسپتال میں زیرِ علاج تھا دلاور عثمانی بیٹے کی یہ حالت دیکھ کر رنجیدہ تھے لیکن ابھی تو انہیں اور مزید رنجیدہ ہونا تھا ایک لڑکی نے ان سب کی زندگی ہلا کر رکھ دی تھی ادھر میر گیلانی غصے میں خول رہا تھا دوسری طرف اسابیل عثمانی موت کے منہ سے باہر آیا تھا تیسرا دلاور تھا جو مالا کی وجہ سے پریشان تھا سیدھا سیدھا دھمکی دے کر گئی تھی منہ پر 


'نہیں اتنی آسانی سے میں سب ختم نہیں ہونے دوں گا' دلاور بہت کچھ سوچ رہا تھا 


دوسری طرف مالا کو زرا پرواہ نہیں تھی ان لوگوں کی اس کی بلا سے جہنم میں جائیں 




ہوا سے کہہ دو کہ خود کو آزما کہ دکھائے


بہت چراغ بجھاتی ہے ایک جلا کر دکھائے




وہ اس گھر سے باہر نکلی تھی قدم باہر ہی رکھا تھا کہ بائیں کندھے پر کچھ دباؤ سا محسوس ہوا چہرہ موڑ کر دیکھا تو کندھے پر سفید عقاب (باز نما چیل) بیٹھا تھا جسکے پیر پر ایک کاغذ بندھا تھا 


'کیا ہوا' اشعر کی آواز سنائی دی کان میں


'یار یہ کہیں سے سفید عقاب ہمارے کندھے پر آ بیٹھا ہے بہت خوبصورت ہے' مالا نے اسکے پاؤں سے کاغذ نکالتے ہوئے کہا


'سفید عقاب' وہ حیران ہوا کیونکہ یہ ایسا پرندہ تھا جو اتنی آسانی سے نہیں ملتا تھا 


مالا نے کاغذ کھول تو اس پر ایک لائن لکھی تھی


"تحفہ سمجھ کر قبول کرو لالہ رخ" اس نے ناسمجھی سے اس کاغذ کو دیکھا اور پھر اپنے کندھے پر موجود اس عقاب کو جو اسکے سر سے اپنا سر مس کررہا تھا شاید پیار کررہا تھا مالا نے مسکرا کر اپنا ہاتھ کندھے کی طرف کیا تو وہ اچھل کر اسکے ہاتھ پر آ بیٹھا 


پیچھے کھڑکی میں کھڑے غازی کے چہرے کی مسکراہٹ گہری تھی جو عقاب مالا کو ملا تھا وہ غازی کا تھا اسکا چہیتا لیکن آج جو وہ اسکے گھر میں آئی تھی تحفہ تو دینا ہی تھا پھر اسے اس لئے اسے کو مالا کو دے دیا


وہ قدم قدم چلتی گاڑی میں آئی تھی 


'کتنا خوبصورت ہے' اشعر نے اسے پیار کرنا چاہا تو اس نے اپنا پنجا مارا اشعر بچارہ بلبلا گیا تھا 


'اس کے ساتھ ایک کاغذ ملا ہے کسی نے تحفے میں بھیجا ہے یہ' مالا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی تھی عقاب اسکی سیٹ کے اوپر کے حصے پر بیٹھا تھا اشعر خونخوار نظروں سے اسے گھور رہا تھا 


'سنو زرا آرام سے گاڑی چلانا مجھے مرنا نہیں ہے' اس نے سیٹ بیلٹ ٹائٹ کرتے ہوئے کہا 


'برائے مہربانی کرسی کی پیٹیاں باندھ لیں کیونکہ اب گاڑی ہواؤں سے بات کرے گی' اس نے کہتے ہی ایسکیلریٹر دبایا تھا جب کہ اشعر نے دعائیں پڑھنی شروع کی تھیں جبکہ مالا اب گانا گارہی تھی


زندگی ایک سفر ہے سہانا


یہاں کل کیا ہو کس نے جانا


اشعر بھی اب اسکے ساتھ گانا گا رہا تھا عقاب پر ہلا ہلا کر ڈانس کررہا تھا 


موت آنی ہے تو آئے گی ایک دن 


موت آنی ہے تو آئے گی ایک دن


جان جانی ہے تو جائے گی ایک دن


ایسی باتوں سے کیا گھبرانا 


یہاں کل کیا ہو کس نے جانا 


آخر میں لائن اس نے اشعر کو دیکھتے ہوئے گائی تھی 




زندگی ایک سفر ہے سہانا


یہاں کل کیا ہو کس نے جانا


آخر میں مالا اور اشعر کھلکھلائے تھے اشعر نے مالا کو دیکھا جو  عقاب کو ہاتھ پر بٹھا رہی تھی کون ہے یہ؟ 


'سنو پہلے ہم چنکو لیں گے اسکے بعد تمہیں ڈروپ کریں گے اوکے' مالا نے اسکی طرف دیکھا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا




♥️♥️




گھر آکر مالا نے چنکو کو سلانے کے بعد اس عقاب کو چاول کے دانے ڈالے کو اس نے شوق سے کھائے پھر آئمہ اکرم کو فون ملا لیا تھا 


'ہیلو' آئمہ کی سوئی سوئی سی آواز سنائی دی


'سو رہی تھیں' اس نے شرارت سے پوچھا


'نہیں قتل کرنے گئی تھی کسی کا' انہوں نے آنکھیں مسلتے ہوئے کہا انکی بات پر وہ زور سے ہنسی تھی


'آئمہ دی ڈاکو' مالا نے انہیں مزید پریشان کیا


'یہ فضول بکواس کرنے کیلئے فون کیا ہے تم نے' انہیں واقعی بہت نیند آرہی تھی


'اچھا اوکے ایک ضروری بات بتانی ہے' وہ سنجیدہ ہوئی


'ہمم کرو' انہوں نے جگ سے پانی نکالا اور ایک ہی سانس میں پیا دل تھوڑا گھبرا سا رہا تھا


'آنٹی اسابیل عثمانی کا باپ بھی ہے دلاور عثمانی وہ بھی کوئی اچھا انسان نہیں ہے دھندا کرتا ہے' ملا اب خاموش ہوئی 


'کیسا دھندا' پانی پی کر تھوڑا سکوں ملا تھا


'مارخوروں کو دوسرے ملک میں سپلائے کرتا ہے اور آپ جانتی ہیں مارخوروں کا دھندا غیر قانونی ہے' وہ اچھے سے ایک ایک بات بتارہی تھی 


'تم نے کچھ کیا اب تک' وہ اب اٹھ کر بیٹھی تھیں پاؤں زمین سے ٹکرائے تھے


'ہمم ڈپٹی مئیر کے گھر سے کرنل محمد اسلم کا ڈیٹا چرایا ہے جن کے پاس چترال کے جنگل میں موجود فوریسٹ آرمی کی انفارمیشن ہوگی' اس نے اپنی پلینینگ سے آگاہ کیا 


'مطلب اب کرنل کے گھر سے انفارمیشن چرانی ہوگی' انہوں نے سوچتے ہوئے کہا


'رائٹ کرنل کا گھر مطلب اسلام آباد نیکسٹ ٹارگٹ' مالا مسکرائی


'مالا ایک بات کہوں' آئمہ نے پوچھا تھا مالا انکے انداز پر ٹھٹھکی


'آئمہ آنٹی پ ماں کی جگہ ہیں ہماری بلا جھجک کہیں' اس نے مان سے کہا تھا


'اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے…' وہ ابھی کچھ بولتیں کہ مالا نے بات کاٹی


'ایک منٹ کچھ نہیں ہورہا آپ کو ایسی باتیں کرنے سے پہلے اپنا نہ صحیح لیکن اپنی بیٹیوں کا سوچ لیا کریں' اس نے سخت انداز میں کہا تو وہ مسکرائیں 


'خاموشی سے سنو میری بات اگر مجھے کبھی بھی کچھ بھی ہوگیا تو تم میری بیٹیوں کا خیال رکھو گی' انہوں نے مالا سے پوچھا


(ہم نے تو جیسے یہاں یتیم خانہ کھول رکھا ہے) اس نے جل کر سوچا


'آنٹی کچھ نہیں ہوگا آپ کو بے فکر رہیں اور ویسے بھی یہ بات تو ہمیں آپ کو کہنی چاہئے کہ ہمارے بعد چنکو کا خیال رکھیے گا کیونکہ ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر گھومتے ہیں ہمارے کام ایسے ہیں کہ کب موت آجائیے پتا ہی نہ چلے' وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہی تھی مزید کچھ دیر بعد باتیں کرنے کے بعد وہ فون بند کرتی سونے کیلئے جاچکی تھی




♥️♥️


دوسرے دن غازی کی طرف سے شہر بھر کے غریبوں کو کھانا کھلایا گیا تھا صدقہ و خیرات دی گئی تھی اس نے خود صبح اٹھ کر فجر کی نماز میں امامت کی تھی کتنے ہی لوگ ملنے آئے تھے اس سے ابھی بھی وہ بابا فرید کے مزار پر موجود تھا اپنی نگرانی میں سب کو کھانا کھلوایا تھا اس نے اورنگزیب صاحب بھی اسی کے ساتھ تھے


'کون تھی وہ لڑکی' انہوں نے سیدھا سیدھا سوال کیا


'وہ لڑکی…' وہ روکا 'کون لڑکی' بھرپور انجان ہوا 


'باپ ہوں تمہارا شرم کرو کچھ' انہوں نے کان مروڑا اسکا


'اورنگزیب صاحب چھوڑدیں میرا کان ڈپٹی مئیر ہوں یہاں کا بہت عزت ہے' وہ جب بھی مزاق کرتا انہیں اورنگزیب صاحب کہتا تھا 


'برخوردار میں جوتے بھی لگا سکتا ہوں' انہوں نے اور سختی سے اسکا کان مروڑا بہت بگڑ گیا تھا وہ 


'کیا' اس نے صدمے سے انہیں دیکھا اور پھر منہ بنایا 'اسکا نام لالہ رخ ہے ایک سال پہلے دیکھا تھا اسے تب سے عشق کرتا ہوں اس سے' وہ کھوئے کھوئے سے لہجے میں دل پر ہاتھ رکھ کر بولا تو اورنگزیب صاحب نے ایک چپت ماری اسکے سر پر


'باپ کے سامنے بکواس کرتے ہوئے شرم نہیں آرہی' انہوں نے مصنوعی غصّے سے اسے دیکھا


'کیوں جب آپ نے امی حضور سے لوو میریج کی تھی تب یہ شرم کہاں تھی' غازی اب چھیڑخانی کررہا تھا ان کے ساتھ


'ہیں ہیں بولیں نہ' وہ مڑ کر جانے لگے تو انکے سامنے آیا لیکن تبھی کسی نے پیچھے سے آواز لگائی تھی غازی کو 


'صاحب اللّٰہ آپ کو خوش رکھے میرے گھر والوں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا صاحب آج آپکی وجہ سے کھانے جیسی نعمت مل گئی صاحب' وہ کوئی لڑکا تھا جو غازی کو بھر بھر کر دعائیں دے رہا تھا لیکن وہ سخت شرمندہ تھا اسکے شہر میں لوگ بھوکے پیاسے تھے اور اسے خبر ہی نہیں تھی اس نے ازحف کو اپنے بلایا 


'ازحف جہاں جہاں غریب لوگ رہتے ہیں ادھر ہی ان لوگوں کیلئے رومئیسہ دسترخوان لگاؤ دوسری جگہ مینال کے نام سے اور تیسری جگہ شارخ کے نام سے جتنے غریبوں کا پیٹ بھرے گا انہیں اتنا ہی ثواب ملے گا' اس نے ازحف کو اپنے دماغ میں پیدا ہونے والے خیالات سے آگاہ کیا تھا کچھ دیر بعد وہاں دعا مانگی اور پھر وہاں سے نکل آیا دل جیسے پرسکون ہوگیا تھا




♥️♥️




صبح جو خبر مالا کو دی گئی تھی وہ اسے ہلانے کیلئے کافی تھی اتنی وقت کے بعد جو اسے تھوڑا سکون ملا تھا سب ختم ہوگیا تھا راجا کا فون آیا تھا دلاور نے اسابیل کی حالت کا زمہ دار مالا کو ٹہرایا تھا لیکن اس سب کی سب سے بڑی وجہ وہ آئمہ اکرم تھی 


اور آئمہ اکرم کو آج صبح کورٹ میں گولی مار دی گئی تھی گولی ماتھے کے بیچ و بیچ لگی تھی اور یہ کام دلاور عثمانی نے کیا تھا 


مالا کی آنکھیں لال سرخ ہوگئیں تھیں کیوں وہ رشتوں کو نہیں سنبھال پارہی تھی اتنی مشکل سے تو کوئی اپنا بنا تھا اور اب پھر سے آئمہ کو اسکی وجہ سے گولی ماردی گئی تھی مالا کو کراچی جانا تھا لیکن کراچی جانے سے پہلے اس نے بہت ضروری کام کرنا تھا 


تھوڑی دیر بعد اشعر آگیا تھا چنکو کو اسے پکڑا کر خود وہ اپنا بیگ کندھوں پر ڈالے باہر نکلی تھی صبح کے گیارہ بج رہے تھے وہ مسلسل پیدل چل رہی تھی آنکھوں میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی 


تبھی اسے سامنے ایک جھونپڑا نظر آیا تھا اسکے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ ابھری تھی جھونپڑے کے قریب پہنچی تو باہر ایک فقیر بیٹھا تھا ایک چادر اوڑھ رکھی تھی منہ تک 


'مال لینے آئے ہیں اپنا' اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈالا اور نوٹوں کی گڈیوں کی جھلک دکھائی اسے


'کون ہو تم' اس نے منہ آدھا ڈھکا ہوا تھا آنکھیں نظر آرہی تھیں اسکی


'سنہری مالا' اسکی آنکھوں کا اشتعال بڑھا تھا کہ وہ گھبرا کر سر ہاں میں ہلا گیا اور اسے اندر چلنے کا اشارہ کیا


باہر سے کپڑا لگا کر یہ دکھایا گیا تھا کہ یہ جھونپڑی ہے لیکن جھونپڑی کے اندر جاتے ہی نیچے ایک تے خانہ بنایا ہوا تھا


وہ اس فقیر کے ساتھ اندر داخل ہوئی سیڑھیاں ختم ہوتے ہی سامنے ایک بار بنا تھا یہ اللیگل تھا یہاں غیر قانونی فائیٹنگ ہوتی تھی جوا کھیلا جاتا تھا ڈرگس شراب سب موجود تھا مالا کو یہاں کے بارے میں دو چار لوگوں نے بتایا تھا آج اسے ضرورت آن پڑی تھی اسلئے پہنچ گئی تھی 


'سامان کہاں ہے' مالا نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا


'آؤ' وہ اسے کئے ایک طرف کونے میں گیا چاروں اور لڑکے ہی لڑکے تھے کچھ نشہ کررہے تھے کچھ شراب بنا رہے تھے لیکن وہ جہاں جہاں سے گزرتی وہاں ہر موجود لڑکے نگاہیں جھکا لیتے یہ عزت نہیں تبھی ڈر تھا جو انہیں مالا سے لگتا تھا سالی چھوڑتی جو نہیں تھی 


'ہئی بیوٹی فل' ایک نشے میں ٹن اسکے قریب آیا تھا مالا نے ایک نظر اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور ایک گھما کے تھپڑ اسکے منہ پر مارا


"چٹاخ" وہ جو پہلے ہی نشے میں تھا بے ہوش ہوکر زمین پر گرا تھا 


'اسے چھوڑو اور یہ دیکھو تمھارا سامان اچھے سے دیکھ لو پورا ہے' سامان میں دو بیگ ڈرگس کے اور تین کین شراب کے تھے مالا نے سامن اچھے سے دیکھا ایک بیگ سے ڈرگس نکال کر ہاتھ میں کیا اور ناک کے قریب کرکے سونگھا اور پھر شراب کے کین کھول کر چیک کئے سب پورا تھا مالا اس کی طرف گھومی نظر نیچے پڑے اس لڑکے کو دیکھا اور ایک نظر باقی سب لڑکوں کو دیکھا


'یہ رہے تمہارے پیسے' مالا نے پچاس لاکھ روپے اسکی طرف بڑھائے پیسے دیکھ کر اسکی آنکھوں میں چمک بڑھی تھی پینتالیس لاکھ کے ڈرگس تھے اور پانچ لاکھ شراب کے 'سنو رانا گاڑی لارہے ہیں ہم اس میں سارا سامان رکھوا دینا لیکن یاد رہے ہمارے سامان میں زرا بھی ڈھیل ڈھال ہوئی زندہ گاڑدیں گے زمین میں' اس نے انگلی دکھاتے ہوئے اچھے سے خبردار کیا تھا رانا تو اسکی آنکھوں سے خوف کھاتا تھا اس نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا 


مالا تھوڑی دیر بعد ہی گاڑی لے آئی تھی پانچ لڑکے سامان پکڑے آئے تھے اور اسکی گاڑی میں رکھتے گئے مالا نے رانا کو دو انگلیاں ماتھے پر لے جاکر خدا حافظ کا اشارہ کرتی ہوئی گاڑی ریورس کرتی دھواں اڑاتی ہوئی نکلی تھی وہاں سے


'یے کون یہ رانا' کسی نے پوچھا اس سے 


'میں نہیں جانتا خود ہی آئی تھی میرے پاس اور ایک ساتھ اتنا ڈرگس لے کر گئی ہے کہیں پھنس ہی نا جائے' وہ سر ہلاتا ہوا اندر چلا گیا جبکہ اسے کیا پتا پھنسے گا تو ضرور لیکن کوئی اور


♥️♥️




اسابیل کے گھر کے دروازے پر سیکیورٹی نہیں ہوتی تھی کیونکہ دروازے پر سکینر موجود تھا جو گاڑی کی نمبر پلیٹ دیکھ کر دروازہ کھولتا تھا اسلئے مالا نے اس دن وہاں سے نمبر پلیٹ چرائی تھی 


وہ گاڑی ڈرائیو کرتی اندر آئی تھی راجا نے اسکے لئے دروازہ کھولا تھا ابھی وہ لوگ آسانی سے سب کام کر سکتے تھے کیونکہ ڈیوٹیز چینج ہوئی تھیں اسلئے صبح والے گارڈز ابھی نہیں آئے تھے


'کیا پلین ہے' راجا نے پوچھا تھا


'ابھی سب پتا چل جائے گا جسٹ ویٹ اینڈ واچ' وہ کہتے ہی دروازے سے باہر نکلی تھی اس کے پیچھے راجا بھی تھا وہ لوگ کچھ دور کھڑے ہوئے 'سب کردیا جو کہا تھا' مالا نے ایک نظر اسابیل کے گھر کو دیکھتے ہوئے کہا


'ہاں کردیا ہے' اس نے سنجیدگی سے کہا 


'مسٹر عثمانی گھر آگئے کیا' مالا نے اسکی طرف دیکھا


'ہاں گھر پر ہی ہیں سائیں' اس نے تصدیق کی


'ہم چلتے ہیں اب جو بھی ہوگا جیسا بھی ہوگا شیش محل میں رہنے والوں کی دنیا ہلادے گا' وہ کہتے ہوئے آگے بڑھی تھی


'کیسے جاؤگی میں گاڑی کا انتظام کرواتا ہوں' راجا نے فون پر کچھ ملاتے ہوئے کہا


'نہیں راجا شکریہ ہم چلے جائیں گے' وہ دو ٹوک انداز میں کہتی وہاں سے نکلی تھی قریب سے گزرتا رکشہ روکا اس میں سوار ہوئی اور گھر کی راہ لی تھی 


راجا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا تبھی اسے پیچھے گاڑیاں رکنے کی آواز آئی تھی اس نے پیچھے مڑکر دیکھا تو پولیس کی پانچ نفریاں رکی تھیں صرف یہی نہیں مختلف نیوز چینلز کی گاڑیاں بھی آگئی تھیں اسے میڈیا کا تو پتا تھا کیونکہ اس نے خود بلائی تھی مالا کے کہنے پر لیکن یہ پولیس کا کیا سین تھا 


تھوڑی ہی دیر میں دلاور اور اسابیل نیچے آئے تھے آس پاس کے گھروں کے لوگ نکل آئے تھے


'سر ہمیں آپ کی گاڑیوں کی تلاشی لینی ہے' ان میں سے ایک آفسر آگے آیا تھا


'لیکن کیوں' دلاور عثمانی گرجے


'وہ تو تلاشی کے بعد ہی پتا چلے گا تلاشی لو گاڑیوں کی' اس نے سب کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا تھا تھوڑی ہی دیر میں مالا کی گاڑی کی تلاشی کی گئی جس میں سے ڈرگس اور شراب کے کین ملے تھے


'سر یہ دیکھیں' پولیس ہی نہیں میڈیا نے بھی اس گاڑی کو کور کیا تھا


'مسٹر عثمانی ہم جانتے ہیں کہ آپ بہت بڑے بزنس مین ہیں لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ آپ بزنس کی آڑ میں یہ کرتے ہیں' ان میں سے ایک آفسر دھاڑا تھا جب کہ وہ دونوں تو حیرت سے سب دیکھ رہے تھے ہوا کیا تھا یہ تبھی اسابیل کو معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا تھا 


'دیکھیں آفسر یہ گاڑی ہماری نہیں ہے' انہوں نے سمجھانا چاہا 


'آپ کے گھر میں کھڑی ہے یہ گاڑی آپ کے نام پر رجسٹرڈ ہے اور آپ کہہ رہے ہیں یہ گاڑی آپ کی نہیں ہے بے وقوف سمجھ رہے ہیں آپ ہمیں' وہ کچھ زیادہ ہی برہم ہورہا تھا اس نے گاڑی کے پیپرز اسابیل کے منہ پر مارے مالا نے پیپرز اسابیل کے نام سے ہی بنوائے تھے تبھی ایک کونسٹیبل نے آگے بڑھ کر اسے ہتھ کڑیاں لگائی اور گاڑی میں بٹھایا جبکہ کچھ پولیس والوں نے گھر کے لان میں شراب کے کین اور ڈرگز رکھ دئے تھے  


انکی ریپوٹیشن جو آسمان سے باتیں کرتی تھی زمین پر لائی تھی مالا اسے میڈیا والوں نے ایک کی چار لگا لگا کر نیوز بنائی تھی 


دلاور عثمانی جو آج صبح خوش تھا کہ اس نے بدلہ لیا ہے اب اسکا دل چاہ رہا تھا ایک گولی خود کو بھی مارلے اس نے دھیان کیوں نہیں دیا اس سب پر پہلے


راجا تو یہ سب دیکھ کر سکتے میں تھا یہ کیا تھا اتنے سارے ڈرگس وہ بھی اصلی اور شراب کین میں بھری تھی جسکی وجہ سے ایک الزام یہ بھی لگ سکتا تھا کہ وہ شراب بناتے ہیں




♥️♥️




آنکھ پرنم اشک زم زم سانس مدہم وقت کم


وصال رات ہجر ماتم رقیب قاتل موت مرہم 




دوسرے دن مالا اپنے بھائی اور عقاب کو لئے کراچی پہنچی تھی نکل تو وہ اسی وقت گئی تھی لیکن بائے روڈ سفر کیا تھا اس نے بس میں اسلئے اب پہنچی تھی کراچی سے لاہور کا سفر کتنا پرسکون گزرا تھا اور اب کچھ نہیں تھا اس کے پاس 


گھر کا ایڈریس اسے معلوم تھا پورے شہر میں یہ بات پھیلی تھی میڈیا نے بہت لمبا کھینچا تھا اس بات کو 


آج سویم تھا جنازہ تو کل ہوچکا تھا اس نے گھر میں قدم رکھا تھا چنکو کو لے کر تبھی عائشہ روتی ہوئی اس سے لپٹی تھی 


'مالا امی' وہ سسکیوں سے رو رہی تھی مالا نے اسکے گرد بازو باندھ کر دلاسا دیا تھا اسے محسوس ہوا عائشہ بخار میں پھونک رہی تھی 


'عائشہ سنبھالو خود کو اور اندر چلو' وہ اسے اپنے ساتھ لگائے اندر آئی تو اسکی نظر زاعشہ پر پڑی جو پتھرائی آنکھوں سے سامنے دیکھ رہی تھی مالا کا دل کٹ گیا اسے دیکھا کر وہ اس کے پاس نیچے بیٹھی گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا 


'زاعشہ' اس نے اسے پکارا تو اس نے اپنی خالی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا 


'مالا پتا نہیں یہ لوگ کیوں رو رہے ہیں کل امی یہاں سو رہی تھیں انہیں اٹھا کر لے گئے ایسے کوئی کرتا ہے یہ دیکھو یہ کیسے رو رہی ہے ابھی امی آئیں گی نہ پھر بتائیں گی اسے' وہ عجیب بہکے بہکے انداز میں کہہ رہی تھی اسکی آنکھیں جھلک رہی تھیں لیکن اسکا دماغ ماؤف ہوگیا تھا 


'زاعشہ آنٹی چلی گئی ہیں وہ نہیں رہیں' اس نے چنکو کو وہاں کھڑی ایک عورت کو پکڑایا روش (عقاب کا نام مالا نے رات کو رکھا تھا) باہر تھا


'جھوٹ بولتی ہو تم سب جھوٹ بولتے ہو' وہ چیخی تھی مالا نے اسے خود میں کسکے بھینچا پھر جو اسکی چیخیں گھر میں گونجی تھیں کہ اللّٰہ کی پناہ چینکو بھی اسکے ساتھ رویا تھا تبھی مالا کی نظر دروازے کی طرف اٹھی تھی پھر پلٹنا بھول گئی زمان صاحب دانیال فصیحہ اور پری کھڑے تھے 


•••••••••


زمان صاحب کو یہ خبر اسی دن پتا چل گئی تھی یونی کی دوست ہونے کی حیثیت سے وہ انتقال والے دن بھی آئے تھے انکے ساتھ اسماعیل آفندی بھی تھے اور علی بھی تھا لیکن وہ سویم والے دن بھی آئے تھے


•••••••••


مالا بے بی کٹ ہئیر کٹ آنکھوں پر چشمہ لگائے لینس پہنے بیٹھی تھی اسے کوئی بھی پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ وہی لالی ہے دانیال اور زمان صاحب مردوں کی طرف چلے گئے تھے جبکہ فصیحہ اور پری انکی طرف آئے تھے تبھی روش اڑتا ہوا مالا کے کندھے پر بیٹھا تھا اور کل کی طرح ہی اپنا سر اسکے سر سے مس کرکے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا 


'کتنا خوبصورت پرندہ ہے' پری کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا مالا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی تھوڑی ہی دیر میں اسے احساس ہوا جیسے زاعشہ سوگئی ہے اس سے لگے لگے ہی اس نے چادر منگوائی اور اس پر ڈالی پھر عائشہ کو زبردستی دوائی کھلائی پری سب مہمانوں کے ساتھ بیٹھی تھی فصیحہ سب کو  پانی وغیرہ دے رہی تھی 


'اوں اوں' مالا کے چنکو کی آواز سنائی دی تو وہ اسکی طرف گئی اور اسے بازوؤں میں اٹھایا پھر اسے کافی دیر تک بہلایا وہ لمبے سفر کی وجہ سے سوگیا تھا روش بھی بیٹھا بیٹھا اونگ رہا تھا مالا نے پہلے روم زاعشہ کے روم میں جاکر عائشہ کے ساتھ اسے لٹایا پھر روش کی طرف آئی 


'بھوک لگ رہی ہے' اسنے پوچھا تو اسکی آنکھیں چمکیں مالا نے کچن میں جاکر تھوڑے سے چاول لئے اور اسے دئے جو اس نے چہکتے ہوئے کھائے وہ کب سے محسوس کررہی تھی جیسے فصیحہ اور پری اسے دیکھ رہے ہیں 


تبھی مالا نے اپنے پیچھے بیٹھی کچھ عورتوں کی آوازیں سنی تھیں 


'وکیل تھی وہ مرگئی سنا ہے بڑی جائیداد ہے اسکے ہیچھے' کسی عورت کی آواز تھی


'اب تو سب بیٹیوں کا ہی ہوگا' دوسری عورت بولی


'میرا ایک بیٹا ہے سوچ رہی ہوں عائشہ کو اپنے گھر کی بہو بنالوں دوسری والی کی زبان توبہ توبہ' وہ عورت بڑی ہی کوئی لالچی تھی


'ارے اس کو میں بہو بنالوں گی میرا بیٹا دبا کر رکھے گا اسے آواز بھی نہ نکلے گی اسکی' اب مالا کو غصہ چڑھا تھا 


'آپ لوگوں کو شرم نہیں آتی میت والے گھر میں ایسی بکواس کرتے ہوئے' وہ غررائی تھی 


'ارے ہم تو ان لڑکیوں کا اچھا سوچ رہے ہیں' ان ہی میں سے ایک عورت بولی


'اچھا مائے فٹ جب تک ان لوگوں کے گھر والے زندہ ہیں آپ کو کئی حق نہیں کہ آپ ان کی زندگیوں کے بارے میں فیصلہ کریں' مالا تمیز کے لہجے میں کہتے ہوئے بہت ضبط کررہی تھی 


'ارے اب کون رہ گیا ان کے گھر میں' ایک عورت فضول میں چیخی


'انکی بہن ابھی زندہ ہے' مالا نے دانت کچکچائے


'بہت پتا ہے ہمیں تم انکی جائیداد کی وجہ سے سب کررہی ہو' دال گلتی نہ دیکھ ان لوگوں نے نیا حربا آزمایا تھا تبھی روش اوڑھ کر اسکے کندھے پر آبیٹھا جائیداد والی بات پر وہ تنزیہ ہنسی


'جائیداد سیریسلی ہمارے پاس پچاس گناہ زیادہ جائیداد ہے اس سے' وہ سینے پر ہاتھ باندھتی ہوئی بولی 


'دیکھو تو زرا کتنی لمبی زبان ہے اسکی' وہ لوگ توبہ توبہ کرتی پیچھے ہوگئی تھیں تبھی عائشہ اسکے پاس آئی شاید سو کر اٹھ گئی تھی


'عائشہ سامان باندھ لو اپنا بھی اور زاعشہ کا بھی تم لوگوں کو یہاں اکیلا کبھی نہیں چھوڑیں گے ہم' اسکا لہجہ اکثر دو ٹوک ہوتا تھا پیچھے فصیحہ نے مسکرا کر اسے دیکھا 


تھوڑی دیر بعد سب اپنے گھروں کیلئے روانہ ہوئے تھے پورا گھر خالی ہوگیا تھا زاعشہ ابھی بھی سو رہی تھی بس اسے مالا نے روم میں لٹا دیا تھا 




وہ جو گیت تم نے سنا نہیں میرے عمر بھر کا ریاض تھا


میرے عمر بھر کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے


تیری بے رخی کے دیار میں میں ہَوا کے ساتھ ہَوا ہوا


تیرے آئینے کی تلاش میں میرے خواب چہرہ گنوا گئے


میری عمر سے نہ سمٹ سکے میرے دل میں اتنے سوال تھے


تیرے پاس جتنے جواب تھے تیری ایک نگاہ میں آگئے




♥️♥️




آج اس کا کراچی میں دوسرا دن تھا عائشہ اور زاعشہ سورہی تھیں البتہ جن کے روش کے ساتھ کھیل رہا تھا مالا کو کہیں جانا تھا کراچی آئی تھی عرصے بعد سوچا کچھ پرانا کام نمٹا کر جائے اس لیے بلیک لونگ شرٹ کے نیچے وائٹ ٹراوزر دوپٹہ ندار کالی آنکھیں چشمے کی آڑ میں اور منفرد لگ رہی تھی کندھوں تک آتے بال کھلے تھے ماتھے پر بے بی کٹ سے وہ معصوم لگ رہی تھی معصوم شیرنی


کندھوں پر بیگ ڈالے پیروں میں وائٹ سپورٹ شوز اور انہیں میں رکھا بلکہ چھپا بڑا سا چاکو تھا یہ چاکو اس کو اس کے دادا نے اٹلی سے لاکر دیا تھا کیونکہ وہ اٹلی آرمی فوج میں تعینات تھے اور وہیں انہیں شہادت ملی تھی


چینکو اب بیٹھنے لگا تھا اس لیے وہ زیادہ تر اسے اپنے ساتھ لے جاتی تھی بلیک رومپر سر پر بلیک کیپ اور پیروں میں بلیک شرٹ شوز پہنے وہ چہک رہا تھا وہ کوئی جاسوس لگ رہا تھا


تھوڑی دیر میں مالا اسے لیکر باہر نکلی تو اس کے کندھے پر روش آبیٹھا تھا وہ زاعشہ کی گاڑی میں ہی جارہی تھی


♥️♥️




تھوڑی دیر میں گاڑی میر لگیلانی کے سابقہ پولیس سٹیشن کے باہر رکی تھی مالا نے حلیہ درست کیا پھر چینکو کو اٹھایا اور پولیس سٹیشن کے اندر داخل ہوئی چلتے چلتے اس کی نظر امان اللہ پر پڑھی تھی یہی وہ شخص تھا جو جھوٹا مولوی لایا تھا اس نے نظر ہٹائی اور آگے بڑھی تبھی دو لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا ہر کوئی اسے میم کہہ رہا تھا وہ بری طرح ٹھٹھکی بنا ادھر ادھر دیکھے حارث کا پوچھ کر اس نے کیبن میں دھاڑ سے داخل ہوئی وہ جو فائلز دیکھ رہا تھا اچھل کر اٹھا اسے دیکھ کر سر پر ہاتھ رکھ کر سیلیوٹ کرنا چاہا لیکن غلطی سے فائل سر پر رکھ دی 'اوہ سوری' اس نے فائل رکھی اور صحیح سے سیلیوٹ کیا مالا نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا


'ہو کیا رکا ہے یہ ہم کو پرائمنسٹر لگیں ہیں کیا جسے دیکھو ہمیں سلام ٹھوک رہا ہے' وہ غررائی تھی


'نہیں وہ آپ سر کی وائف ہیں نہ…'وہ جملا پورا کرتا کہ


'سر کی وائف مائی فوٹ تمہارا سر ایک گھٹیا انسان ہے' اس نے چینکو کو چیر پر بٹھایا چنکو تو بڑے مزے سے منہ میں انگلی ڈالے مالا کو دیکھ رہا تھا


'کیا' حارث نے ناسمجھی سے اسے دیکھا


'امان اللہ کو بلاؤ' مالا نے سینے پر ہاتھ باندھے کچھ ہی دیر میں وہ وہاں حاضر تھا مالا نے ایک ہی جھٹکے میں اسکا گریبان تھاما امان اللہ کے اندر اسکی نظروں میں دیکھنے کی ہمت نہیں تھی


'یہ نظریں جھکی ہوئی کیوں ہیں' مالا نے تنز کیا تو اسکا سر بھی جھک گیا اس نے تنزیہ مسکراہٹ سے اسکا گریبان چھوڑا 'خدا کو کسی بھی چیز میں شراکت نہیں پسند تو پھر تم لوگوں نے مل کر ایک پاک رشتے میں شراکت کیسے کردی ڈر نہیں لگا تھا کہ قیامت کے دن خدا کو کیا منہ دکھاؤں گے' مالا نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا 


'یہ ہوکیا رہا ہے' حارث بیچ میں آیا


'تم سب لوگوں سے کہہ دو ہم کوئی تمہارے سر کی وائف نہیں ہیں یہ رشتہ تو محض انتقامی کارروائی تھا بلکہ جھوٹا رشتہ' مالا کا دل کرچی کرچی ہوتا تھا یہ سوچ کر کہ وہ سب جھوٹ تھا 'تمہارا وہ نام نہاد ایس ایس پی سچ صرف ٹی وی چینلز پر بولتا ہے حقیقت پتا ہے کیا ہے اسکی' مالا کی بات پر حارث نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو امان کا سر جھکا ہو اتھا


'اس گھٹیا اور زلیل انسان نے ہم سے جھوٹا نکاح کیا تھا یہ (امان کی طرف اشارہ کیا) یہ بھی شامل تھا اس میں ساروں نے مل کر کھیلا ہے ہمارے ساتھ' وہتلخی سے بولی تھی جبکہ حارث ہقہ بقہ کھڑا تھا 


'تمہیں پتا ہے اس نے کیا کیا اس نے ہمارے جذباتوں کے ساتھ کھیلا صرف تمہاری وجہ سے تم نے ہی یہ گھٹا تکیہ نوسی آئیڈیا دیا تھا نا اسے' مالا نے ایک بار پھر امان کا گریبان تھاما یہ بات اسے ابھی پتا چلی تھی جب وہ اپنا سر جھکا گیا تھا 


'لیکن سر نے تمہارے ساتھ ایسا کیا کیوں' حارث نے ایک نظر اس بچے پر ڈالی 


'کچھ نہیں چھوڑو ایک بات بتاؤ جنید مرڈر کیس کیا ہوا' اس نے سر جھٹک کر نیا سوال کیا امان سے وہاں کھڑا نا رہا گیا اسلئے واپس پلٹ گیا


حارث نے اسے اب تک کی ساری باتیں بتادیں کیونکہ اسے یہ لگتا تھا کہ یہ قتل اس نے نہیں کیا 


'کبھی کبھار دل کرتا ہے اس ایس پی کا گلا گھونٹ دیں' مالا نے دل کی بھڑاس نکالی اس کی بات پر چنکو کھلکھلایا تھا مالا نے اسے دیکھ کر آنکھ ماری تو اسکے گال ریڈ ہوئے تھا 


'ویسے یہاں آئی کیوں ہو' حارث نے اپنی سیٹ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا


'یہی پوچھنے آئے تھے لیکن یہاں آکر تم سب لوگوں کو روئیہ ہی الگ تھا اسلئے سچ بتانا پڑا' اس نے کنٹیکٹ لینز لگائے تھے گاڑی میں اسلئے چشمہ نہیں پہنا تھا 


'تم لوگ رابیعہ خان کو نہیں جانتے کیا' مالا نے دل میں پنپتا ہوا سوال پوچھا


'نہیں اس کے باپ نے اسے بہت چھپا کر رکھا تھا اور تو اور گھر میں کام کرنے والے ملازم بھی ایسے غائب کئے ہیں جیسے کبھی ہوں ہی نہ' اسکی بات پر وہ سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی


چنکو کو برابر والی سیٹ پر بٹھایا اچھے سے سیٹ بیلٹ لگایا چنکو کی سیٹ پر اسکے ساتھ روش بھی تھا


مالا نے گاڑی اسٹارٹ کی اور آگے بڑھا دی 




♥️♥️




کچھ دیر بعد ایک جگہ گاڑی روکی اور اپنا فون نکالا تبھی نظر اس نمبر پر اٹکی جو سیو نہیں تھا لیکن موبائل میں موجود ضرور تھا اس نے فون ملایا اور کانوں سے لگایا 


'ہیلو' میر کی آواز گونجی تو وہ آنکھیں موند کر کرسی کی پشت سے سر ٹکا گئی


'کیسے ہو میر گیلانی' مالا کی آواز پر میر نے غور سے نمبر دیکھا


'لالہ رخ جیل سے بھاگی ہوئی مجرم' میر نے تنز کیا 


'کچھ اور سناؤ سنا ہے رابیعہ کی رپورٹس پوزیٹو آئی ہیں' مالا نے آنکھیں کھولیں اور نظریں سامنے سڑک پر مرکوز کیں


'سوچا تھا تمہیں ٹریٹ دوں لیکن ملی نہیں' میر کی آواز میں جوش تھا 


'مبارک ہو' مالا کی آنکھیں لال سرخ تھیں یہ وہ شخص تھا جس کے اس نے لاڈ اٹھائے تھے


'شکریہ پتا چلا ہے کہ تم کراچی پولیس اسٹیشن گئی تھیں' میر ہاتھ سے پیپر ویٹ گھما رہا تھا 


'یہ بھی پتا چل گیا ہوگا کہ کیوں گئے تھے' مالا نے لمبی سانس کھینچی 'خیر چھوڑو ایک بات بتاؤ طارق خان کی بیٹی کو جانتے ہو' مالا کا چہرہ اسپاٹ تھا


'نہیں' ایک لفظی جواب


'کبھی آس پاس نظریں گھماؤ تو بہت کچھ نظر آئے گا' مالا نے چنکو کو دیکھا جو روش کے پر کھینچ رہا تھا ایک ہاتھ سے اسکے پر چھڑوائے 


'کہنا کیا چاہتی ہو' میر کا سرد لہجا


'طارق خان کی بیٹی کا نام کیا ہے' مالا نے پوچھا


'رابیعہ' میر نے ناسمجھی سے جواب دیا


'اور رابیعہ کس کا نام ہے' مالا نے ایک بار پھر پوچھا


'رابیعہ میری بیوی…' وہ رکا 


'جی آپ کی "بیوی" رابیعہ خان ہی طارق خان کی بیٹی ہے' مالا نے لفظ بیٹی پر زور دیتے ہوئے کہا 


کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے آس پاس نہیں دیکھ پاتے یا کسی غلط بات میں اپنے گھر والوں کا سوچ بھی نہیں سکتے اسی طرح میر گیلانی بھی نہیں سمجھا تھا


اسکی بات پر میر کے کانوں میں نکاح خواں کی آواز گونجی تھی آپکا نکاح رابیعہ خان ولد طارق خان…


وہ مزید نہ سن سکا اور فون کاٹ گیا مالا کے اندر اٹھتا ہوا اشتعال اچانک سے باہر نکلا تھا اٹھایا فون اور ایک جھٹکے سے کار سے باہر زمین پر مار کر توڑا دل تو کررہا تھا آگ لگادے پوری دنیا کو اور پھر سر سٹئیرنگ ویل پر ٹکایا اندر اٹھتا اشتعال کچھ کم ہوا تھا لیکن ختم نہیں


''یا اللّٰہ یا تو آپ موت کا فرشتہ بھیج دیں یا خودکشی حلال کردیں' اس نے آنکھیں موند کر خود کو تسلی دی اور گاڑی اسٹارٹ کی 


'گھٹیا ٹکے کا پولیس والا' وہ مسلسل اسے گالیاں دے رہی تھی 




اوہ خدا بتادے کیا لکیروں میں لکھا 


ہم نے تو ہم نے تو بس عشق ہے کیا 




♥️♥️




میر نے فون بند کرکے رکھا نظر گاہے بگاہے سامنے اٹھی جہاں ان تین دوستوں کی تصویر لگی تھی جنید رابیعہ سے محبت کرتا تھا ہاں رابیعہ نے خود ہی تو بتایا تھا 


تو کیا وہ طارق خان کی بیٹی ہے....اگر وہ طارق خان کی بیٹی نکلی تو کیا کروگے میر گیلانی اسکے اندر کوئی بولا تھا


'نہیں وہ صرف طرق خان کی بیٹی ہوگی اس نے کوئی قتل نہیں کیا' میر نے سر تھاما


'اگر رابیعہ نے ہی جنید کو…' آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اگر یہ سچ ہوا تو وہ انصاف نہیں کر سکے گا جو اسکی ذات کا حصہ ہے 


دوسری طرف پیچھے کھڑی رابیعہ نے سب کچھ سنا تھا وہ تو لالہ رخ کا نام سنتے ہی رک گئی تھی مطلب کیا اب سچ پتا چل جانا تھا جس سچ کو چھپانے کیلئے سنینا مر گئی جس سچ کو چھہا نے کیلئے اتنا کچھ کرنا پڑا وہ سچ کیا اتنی آسانی سے کھل جائے گا اور سب سے بڑی بات کیا میر گیلانی اسے چھوڑ دے گا؟




♥️♥️




وہ گھر پہنچی تھی زاعشہ جاگ چکی تھی مالا نے عائشہ کو جگایا اور دونوں کو زبردستی ناشتہ کروایا


'کچھ کہا تھا کل ہم نے'  مالا ان دنوں کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھے کھڑی تھی


'کیا' زاعشہ کو کچھ پتا نہیں تھا


'یہی کہ تم لوگ ہمارے ساتھ جا رہے ہو تو اب تک سامان پیک کیوں نہیں ہوا' مالا نے سختی سے کہا اسکی بات سن کر عائشہ ایک بار پھر رونے لگی زاعشہ کی بھی آنکھوں سے آنسو آگئے  مالا نے ان دونوں کو دیکھ کر ماتھا پیٹا صوفے پر لیٹا چینکو ان دونوں کو دیکھ کر مزاق اڑانے والے انداز میں ہنس رہا تھا


'اٹھو اور جاکر سامان باندھو یہ رونا دھونا نہیں چلے گا اگر اب مزید دونوں روتے ہوئے نظر آئیں نہ تو ایک لافڑ ماریں گے کھینچ کر' اس نے گنڈو والی زبان یوز کی تو دونوں نے رونا چھوڑ کر اسے دیکھا 'کیاااا جاؤ جاکر ریڈی ہو ہم مزید انتظار نہیں کریں گے بہت کام ہے ہمیں وہاں' مالا سارے لحاظ سائڈ پر رکھ کر خود بھی سائڈ ہی ہوگئی تھی 


'تم ہم سے ایسے بات نہیں کرسکتیں ہماری ماں مری ہے ہم روئے بھی نا' زاعشہ چیخی اور اسکے چیخنے پر مالا کا دماغ گھوما


'ہاں ہماری ماں تو جیسے ہمیں روز رات کو لوریاں سناتی ہیں نہ اوہ بی بی ہماری ماں تو بچپن سے نہیں ہے کیا کریں رونے بیٹھ جائیں' اسکے سخت الفاظوں پر زاعشہ شرمندہ ہوئی پھر خاموشی سے اٹھ کر سامان پیک کرنے اندر چلی گئی عائشہ ادھر ہی بیٹھی تھی


'تمہیں انویٹیٹیشن بھیجیں کہ جاکر سامان باندھو' مالا نے دانت پیستے ہوئے کہا تو وہ بھی گھبرا کر اندر کی طرف بھاگی اسکے بھاگنے پر چنکو زور سے کھلکھلایا مالا نے اسے دیکھا اور پھر اسکی طرف گئی 'اگر ان پر سختی نہ کرتے نہ تو یہ دونوں روتی رہتیں اور خود کی طبیعت خراب کرلیتیں ویسے بھی آئمہ آنٹی نے ہم پر بہت احسان کیے ہیں اب جب ہماری باری ہے تو ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے' وہ چنکو کے سامنے بیٹھی تھی اور وہ تو اسکی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا اسکی آخری بات پر وہ مسکرایا تو مالا بھی مسکرائی


تبھی اسکے پاس اشعر کا فون آنے لگا اس نے یس کرکے کان پر لگایا 


'کیا ہورہا ہے وہاں' مالا نے پوچھا


'مالا اسابیل عثمانی کو تم نے پھنسایا ہے' اشعر نے سنجیدگی سے پوچھا


'ہاں کیوں' مالا لاپرواہ تھی


'اسکا باپ اتنی آسانی سے نہیں چھوڑے گا تمہیں' اشعر نے فکرمندی سے کہا


 'نا چھوڑے ہماری بلا سے کچھ بھی کرے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ویسے بھی اسے اسکا دیا لوٹایا ہے پسند نہیں آیا اسے' مالا نے حیرانگی ظاہر کی


 'پولیس والوں نے چھوڑ دیا ہے اسابیل کو لیکن صحیح ٹھکائی کی ہے اسکی' اس نے جوش سے بتایا


 'یو نو واٹ جن پولیس والوں نے انہیں گرفتار کیا تھا وہ پولیس والے تھے ہی نہیں' اس نے روش کو پیار کیا


 'ایک منٹ ایک منٹ کیا' وہ سخت حیران ہوا 


 'وہ پولیس والے نہیں وہ گنڈے تھے جو نہ جانے کہاں لے گئے ہوں گے اسے ہاہاہا' مالا نے اپنی ہی بات پر قہقہ لگایا 


 'تبھی وہ ہسپتال سے چھٹنے کے بعد دوبارہ ہسپتال میں پڑا ہے' اشعر نے اسکی بات سن کر کانوں کو ہاتھ لگایا 


 'اچھا سنو گھر کا خیال رکھنا الیکشنز کی وجہ سے یہ بدنام سیاستدان غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں غنڈہ گردی کرکے سالے ووٹ بٹورتے ہیں ہم کل پرسوں تک آجائیں گے' مالا کو اچھے سے یاد تھا کے محلے میں غنڈہ گردی بڑھ گئی تھی اور اگر انہیں منع کرو تو اپنے پیچھے کسی پارٹی کا نام لیتے جسکی وجہ سے انہیں چھوڑ دیا جاتا 


 'تم فکر ہی مت کرو بھائی ہوں تمہارا سب سنبھال لوں گا' اسکے بھائی کہنے پر مالا کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہوئی آنکھوں میں سرد تاثر ابھرا 


'اشعر ابھی کہہ دیا اگلی بار مت کہنا بھائی جیسے لفظ سے بھی نفرت ہے ہمیں دوست ہو تو دوست ہی رہو' سپاٹ آواز تھی وہ یہ نہیں جان سکا کہ وہ غصے سے کہ رہی ہے یا نفرت سے 


'چنکو بھی تو تمہارا بھائی…' اسکی بات مالا نے کاٹی


'چنکو کو ہم نے بھائی نہیں اپنا بیٹا بنایا ہے اور اشعر مزید بات نہیں خدا حافظ' اس نے بغیر بات سنے فون کاٹا تھا اور خود کو ڈھیلا چھوڑا تو صوفے پر گری 'علی بھائی اچھا نہیں کیا آپ نے ہمارا اعتبار بھائی جیسے لفظ سے ختم کردیا' اس نے ہلکی سی آواز میں سرگوشی کی تھی اسکے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ڈیوائس تھی جو امان کے کالر میں لگی ایک ڈیوائس سے جڑی تھی اسے امان پر شک تھا کہ وہ رابیعہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اسلئے اس نے اسکا گریبان تھامنے کے بہانے ڈیوائس لگا آئی لیکن اب اسے پتا لگا تھا کہ امان ایسا نہیں ہے 


سب کو لئے وہ کراچی سے دوبارہ لاہور کیلئے نکلی تھی ناجانے کتنے سفر کرنے تھے




♥️♥️




وہ سب سے میں بیٹھے تھے تین سیٹیں بک کرائیں تھیں عائشہ اور زاعشہ ساتھ بیٹھیں تھیں مالا آنکھوں پر چشمہ لگائے چنکو کو گود میں لئے بیٹھی تھی روش ان دونوں کے پاس کھڑکی پر بیٹھا تھا مالا کے ساتھ پہلے تو ایک آنٹی بیٹھی تھیں مگر پھر ایک آدمی آ بیٹھا تھا 


'دِکھ نہیں رہا یہاں ہم بیٹھے ہیں دوسری سیٹ پکڑو جاکر' مالا نے سخت لہجہ اختیار کیا وہ آدمی منہ ڈھانپے بیٹھا تھا پہچاننا نا ممکن سا تھا


'ابے او لگڑ بھگے بہرا ہے کیا' مالا نے اپنی زبان کے جوہر دکھانا شروع کیے 


'تمیز نہیں ہے تمہیں بات کرنے کی' اس آدمی نے سرد نظروں سے اسے دیکھا


'دیکھ دماغ کا دہی نہیں کرنے کا ہاں فر ہو یہاں سے' مالا نے اسکے بازو پر چٹکی کاٹی تو اس نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا


'نہ میں کہیں جاؤں گا نہ تم بیٹھی رہو یہیں خاموشی سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا' اسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑتا ہو بولا تبھی روش اڑتا ہوا اس آدمی کے کندھے پر آ بیٹھا مالا نے حیرت سے اسے دیکھا 


'نمک حرام روش اپنی مالکن کو بھول کر کسی غیر کے کندھے پر بیٹھتے ہوئے شرم نہ آئی' مالا نے اس آدمی کو دیکھتے ہوئے کہا تبھی اس آدمی نے گھور کر روش کو دیکھا تو وہ سر جھکائے اڑتا ہوا چنکو کے سر پر بیٹھ گیا مالا نے اسے جتاتی نظروں سے دیکھا تو نقاب میں چھپے اسکے عنابی لب مسکرائے وہ کوئی اور نہیں غازی تھا 




اٹھ اٹھ کر دیکھیں گے_____ لوگ


جب ہم بیٹھ جائیں گے برابر میں تمہارے




اسے جیسے ہی پتا چلا کہ مالا کراچی میں ہے وہ اسکے پیچھے پیچھے چلا آیا اس عورت کو چلتا پھرتا کیا اور خود مالا کے ساتھ آ بیٹھا تھا مالا نے اسے نظر انداز کیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی کچھ ہی دیر میں بس چلنے لگی


'یہ بچہ کس کا ہے' غازی نہیں جانتا تھا کہ وہ بچہ کون ہے تبھی پوچھ بیٹھا


'تم سے مطلب' مالا نے پھاڑ کھانے والے لہجے میں کہا


'بتانا تو پڑے گا' وہ اسکے قریب ہوا تھا 


'ہم تمہیں جواب دینے کے پابند نہیں ہیں' اس نے اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف موڑا تو غازی نے بڑے پیار سے اسکا ہاتھ تھاما اور ہونٹوں سے لگایا مالا ششدر رہ گئی تھی اس گستاخی پر اور تبھی ایک رک کر تھپڑ اسکے منہ پر مارا غازی نے مسکراہٹ دبائی عائشہ اور زاعشہ نے حیرت سے ان دونوں کو دیکھا باقی سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے


'سنو لگڑ بھگے اٹھو اور دفعہ ہو جاؤ یہاں سے نہیں تو بھرے بازار میں پٹو گے ہم سے' اس نے انگلی دکھا کر وارن کیا تھا مگر غازی نے جیسے سنا ہی نا ہو بڑے ہی پیار سے دوسرا ہاتھ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا مالا کا تو منہ کھل گیا تھا عائشہ اور زاعشہ آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں چنکو منہ میں انگلی ڈالے غازی کو گھور رہا تھا روش پر ہلا رہا تھا 


'زا تا سرا منا کوم (آئی لوو یو)' اس نے آہستہ سے اسکے کان میں سرگوشی کی مالا کے تو کچھ پلے ہی نہیں پڑا تبھی جھٹکے سے کھڑی ہوئی 


'اوئے بس کے کنڈیکٹر زرا تشریف لاؤ ادھر' مالا نے چیختے ہوئے کہا بس میں سناٹا چھایا تھا وہ لڑکا بھاگتا ہوا آیا اسکی طرف


'جی باجی' اس نے ہانپتے ہوئے کہا


'کوئی دوسری سیٹ خالی ہے بس میں' اس نے پوچھا تو اس کنڈیکٹر نے ایک نظر غازی کو دیکھا جس نے نا میں سر ہلا کر منع کیا 


'نہیں باجی بس تو پوری فل ہے' اسکے جواب پر مالا کو ایک بار پھر غصہ آیا اور واپس بیٹھ گئی 'میں جاؤں' اس نے پوچھا تو غازی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کا کہا تو وہ واپس پلٹ گیا کچھ دیر تو خاموشی رہی غازی کا منہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا اسکے باوجود اتنی زور سے تھپڑ لگا تھا کہ جبڑا ہل گیا تھا لیکن اس نے مسکرا کر اسکا پہلا تحفہ قبول کیا تھا 


ازحف بھی بس میں سوار تھا اور بس کا دروازہ پکڑے کھڑا تھا دو چار باڈی گارڈز بھی تھے جو ادھر ادھر لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے 




♥️♥️




رات ہوگئی تھی پوری بس میں سکوت چھایا تھا سب سوگئے تھے یہاں تک غازی بھی اونگ رہا تھا اگر کوئی نہیں سویا تھا تو وہ مالا تھی جو بڑے اطمینان سے کھڑکی کی طرف منہ کئے بیٹھی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہورہی تھی وہی صبح والے کپڑوں میں تھی اسکے بال اڑ رہے تھے کہ تبھی غازی کی نظر اسکی گردن پر گئی جہاں شہ رگ پر مالا لکھا تھا وہ مبہوت ہوا تھا دل کیا تھا ایک بار لب رکھ کر اسے محسوس کرے لیکن پھر تھپڑ یاد آیا تو دل کو دلاسہ دیا اسے دیکھتے دیکھتے کب وہ نیند کی وادیوں میں گن ہوا اسے پتا ہی نہ چلا اسکا سر ڈھلک کر مالا کے کندھے پر آگیا تھا


مالا نے چونک کر اسے دیکھا اسکا دل کیا اٹھائے اسے لیکن پھر مناسب نہیں سمجھا کسی کی نیند خراب کرکے گناہ ملے گا اس نے نظر بائیں طرف کی تو عائشہ اور زاعشہ بھی سو چکی تھیں چنکو بھی سو گیا تھا روش چنکو کی گود میں سو رہا تھا اور چنکو خود مالا کی گود میں سو رہا تھا صبح کے قریب جاکر مالا کی آنکھ لگی




♥️♥️




وہ قرآن پڑھ رہی تھی اس کے سامنے کوئی شخص بیٹھا تھا جسکے آنسو بہت شفاف تھے لیکن وہ اسے جانتی نہیں تھی لیکن ہاں اس نے کہیں دیکھا ضرور تھا اسے پر کہاں وہ شخص اس کے قدموں میں گرا تھا اور پھر صرف وہی نہیں بہت سارے لوگ تھے جو اسکا ہاتھ پکڑ کر منتیں کررہے تھے 


اسکو گھبراہٹ ہوئی وہ کہہ رہی تھی خدا سے مانگو اس سے التجاء کرو مگر لوگ کہہ رہے تھے خدا نے تمہیں وسیلہ بنایا ہے اس نے ہاتھ چھڑا کر اٹھنا چاہا تو وہ پیچھے کنوئیں میں گرتی چلی گئی اور منہ سے ایک ہی لفظ ادا ہوا تھا 'غازی' 


تبھی جھٹکے سے اسکی آنکھ کھلی اسکی زبان پر ابھی غازی لفظ تھا پر یہ غازی تھا کون 


غازی جو اسکے کندھے پر سر رکھے سورہا تھا ہڑبڑا کر اٹھا 


'کیا ہوا لالہ رخ' اسکی بات پر مالا نے چونک کر اسے دیکھا


'تمہیں ہمارا نام کیسے پتا' مالا نے بےیقینی سے اسے دیکھا


'وہ تمہاری بہن لے رہی تھی نا تو مجھے پتا چل گیا' غازی نے بات بنائی تو مالا نے سر ہلادیا صبح ہوگئی تھی 


تھوڑی دیر میں اسلام آباد کے بس اسٹیشن پر بس رکی تو مالا نے زاعشہ کو ساتھ لیا اور بس سے اتری چنکو عائشہ کے پاس تھا غازی بھی اسکے پیچھے پیچھے آیا تھا 


مالا نے وہاں ہوٹل سے کچھ کھانے کیلئے سامان لیا پانی کی بوٹل لی منہ ہاتھ دھویا اور باہر نکل آئی 




میرے گوشہء فکر میں میری جان سے بھی عزیز تر


  ایسا بھی اک شخص تھا، جو ملا نہیں اور بچھڑ گیا




مالا منہ دھو کر پیچھے مڑی تو اس کے سامنے وہی لگڑ بھگا کھڑا تھا مالا کا تو دل کیا اسکا منہ نوچ لے لیکن پھر کچھ سوچ کر مسکرائی


غازی جو اسکے پیچھے سر جھکائے کھڑا تھا اسکے مڑنے پر آنکھیں بھی جھکا لیں 


(اوہ ہو دیکھو تو کتنا شریف انسان بن رہا ہے جیسے بس والی حرکت تو ہمیں یاد ہی نہیں ہے) مالا نے اسکی نظریں جھکانے پر جل کر سوچا


'کیا کررہے ہو تم یہاں' اس نے غصے سے پوچھا


'کیوں یہاں صرف تم ہی آسکتی ہو' اس نے ایک آئیبرو اچکا کر پوچھا


'لیکن تم ہمارا پیچھا کررہے ہو لگڑ بھگے' مالا نے دانت پر دانت جمائے


'اور مجھے تمہارا پیچھا کرکے کیا ملے گا' غازی نے ہاتھ پیچھے باندھتے ہوئے کہا


'دیکھو ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں ہیں شرافت سے کہہ رہے ہیں تو شرافت سے مان جاؤ ورنہ انجام کے زمہ دار تم خود ہوگے' مالا نے ایک بار پھر انگلی دکھائی لیکن اس بار یہ انگلی نیچے جانے سے پہلے غازی نے پکڑ لی 


'شرافت سے ہی تو سب کررہا ہوں نہیں تو تم میرے گھر میں میرے بیڈ روم میں ہوتیں' غازی کی بھاری آواز مالا کو غصہ دلا گئی لیکن وہ ہنس رہی تھی اور جب بھی وہ غصے میں ہنسے پھر سمجھ جاؤ رام رام ستے ہونے والا ہے اسکا (ہاہاہا یار بڑے مزے کے ورڈ ہیں) 


'بچاؤ بچاؤ کوئی ہے یہ لفنگا انسان ہمیں چھیڑ رہا ہے پلیز کوئی تو بچاؤ' مالا نے معلوم بنتے ہوئے اتنی زور زور سے آوزیں لگائیں کہ انکل تو انکل آنٹیاں بھی آگئی تھیں غازی حیرت زدہ سا سب دیکھ رہا تھا ازحف اور گارڈز نے آگے بڑھنا چاہا لیکن رش زیادہ ہوگیا تھا


'بیٹا کی ہویا' ایک پنجابی انکل نے بڑے شفقت سے پوچھا مالا آنکھوں میں بھر بھر کر آنسو لائی اسکی آواز سن کر زاعشہ بھی آگئی تھی عائشہ بس میں بیٹھ کر سب دیکھ رہی تھی روش بس کی چھت پر بیٹھا گردن دائیں بائیں ہلا رہا تھا جیسے کچھ نہیں ہوسکتا اسکا 


'انکل یہ لفنگا انسان ہمیں چھیڑ رہا ہے ہم سے واہیات گفتگو کررہا ہے اب ہمارا کوئی باہ بھائی تو ہے نہیں جو ہمیں بچائے' اس نے اموشنل بلیک میل کرنا شروع کیا تھا غازی نے ایک نظر لوگوں کو دیکھا اور تھوک نگلا 


'بیٹا میں ہوں نہ تمہارا باپ ابھی بتاتا ہوں اسے' کہتے کے ساتھ انکل آنٹیاں سب اس پر ٹوٹ پڑے تھے ازحف اسکو بچانے کیلئے آگے بڑھا تو اسے بھی بیچ میں گھسیٹ لیا اور اسے بھی مارنا شروع کیا


'ہاں انکل اور ماریں اور ماریں… ایک منٹ تھوڑا سا ہم بھی مار لیتے ہیں' مالا نے آنسو بہاتے ہوئے آستینیں اوپر چڑھائیں اور غازی پر پیروں گھونسوں تھپڑوں لاتوں کی برسات کردی خوب مارا اسے اور پھر کچھ ہی دیر میں اس رش سے نکل کر وہ باہر آئی 


'ٹھرکی لگڑ بھگا' مالا تنزیہ کہتی ہوئی بس میں جا بیٹھی تھی اسکے پیچھے عائشہ بھی آ بیٹھی تھی اسکے کچھ ہی دیر بعد بس میں سارے لوگ آ بیٹھے اور بس چلنا شروع ہوئی 


وہ لگڑ بھگا مار کھا کھا کر ادھ مرا ہوگیا تھا تو ازحف بھی کونسا ٹھیک تھا دونوں بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ رہے تھے لیکن ان لوگوں نے اسے چھوڑا نہیں تبھی ایک گارڈ آگے آیا اور ان سبھی سے غازی کا تعارف کروایا کہ وہ ڈپٹی مئیر ہے لاہور کا  تب کہیں جاکر لوگوں نے سے ناصرف چھوڑا بلکہ معافی بھی مانگی


'سر میم نے آج صحیح ٹھکائی کی ہے' ازحف منہ سیدھا کرتا ہو بولا


'صحیح کہہ رہے ہو لیکن یار غلطی بھی تو میری تھی شیرنی کو چھیڑ جو دیا تھا' اس نے ہاتھ گھماتے ہوئے کہا اور پھر کچھ ہی دیر میں ایمبولینس آئی تھی ان دونوں کو ہسپتال پہنچانے کیلئے




♥️♥️




دوپہر کے وقت وہ لوگ لاہور پہنچے تھے آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد مالا کا محلا آیا تھا تنگ گلیوں کے باعث وہیں اترنا پڑا محلے کے باہر


'لاکھوں کروڑوں کی دولت کہاں گئی جو اس گندے علاقے میں گھر لیا ہے' زاعشہ نے چڑ کر پوچھا مالا کے ہاتھوں میں دو تین بیگ تھے باقی ان دونوں نے ایک ایک پکڑ رکھا تھا زاعشہ کا پرس بیچارے روش کے پنجوں میں دے دیا تھا وہ اڑتا تو اسکا پرس بھی اڑتا 


'ہاں نہ ایک کوٹھی لے لیتے تاکہ جو دشمن تاق میں بیٹھے ہیں انہیں پتا چل جاتا کہ ہم کہاں رہتے ہیں یہ بدنام علاقہ لوگوں کی نظروں میں نہیں آئے گا' مالا سامان اٹھاتی ہوئی چل رہی تھی سامان بھاری تھا لیکن اب اس میں اتنی طاقت تو تھی


'میں نہیں جاؤگی اندر پتا نہیں کیسے کیسے لوگ رہتے ہوں گے' عائشہ نے پہلی فرصت میں منع کیا تو مالا نے گھور کر دونوں کو دیکھا


'سنو ہمارے ہوتے ہوئے تم لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کوئی خراش بھی نہیں آنے دیں گے تم تینوں پر' مالا نے ایک عزم سے کہا تھا پھر ؤہ ان تینوں کو کے کر آگے بڑھی 


تھوڑی دور چلی ہی تھی کہ کسی نے اسکے پاؤوں پر کانچ کی بوتل پھوڑی تھی زاعشہ اور عائشہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہوئیں چنکو عائشہ کے پاس ہی تھا روش ہواؤں سے باتیں کررہا تھا


مالا ہمیشہ سے جوگرز پہنتی تھی اسی لئے اسکے پیروں کی بچت ہوگئی نظریں گھما کر بائیں جانب دیکھا یہ وہی دس بارہ گنڈوں کا ٹولا تھا جو انہی سیاستدانوں سے جڑا تھا مالا نے بیگ سائٹ پر رکھے اور انکی طرف گھومی 


'کس نے ماری ہے یہ' اس نے سرسراتی آواز میں پوچھا


'میں نے ماری ہے' وہ شخص چوڑا ہوکر بیٹھا تھا سامنے ہی مالا نے ایک نظر اسے دیکھا اور برابر میں رکھیں خالی کانچ کی بوتلیں جو دودھ کی تھیں ان میں سے ایک نکالی اور اسی آدمی کے سر پر پھوڑی باقی آدمی اچانک سے پیچھے ہوئے وہ آدمی سر پکڑتا ہوا زمین پر گرا تھا زاعشہ گردن اکڑا کر اسے دیکھ رہی تھی جبکہ عائشہ کو اب ڈر نہیں لگا تھا


مالا کے ہاتھ میں اس شیشے کی بوتل کا ایک حصہ ابھی بھی موجود تھا جس کی وجہ سے کسی نے بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کی 


'اگلی بار سوچ سمجھ کر کرنا جو بھی کرنا یہ نہ ہو کہ اس سے اگلی بار کیلئے تم زندہ نا بچو' مالا نے بیگ اٹھائے اور گھر کی طرف جانے والے راستے پر قدم بڑھائے اسکی ہمراہی میں وہ دونوں بھی اسکے پیچھے پیچھے خاموشی سے چل دیں لیکن چنکو نے گھور گھور کر ان لوگوں کو دیکھا تھا




♥️♥️




علی ہوسپٹل میں فری بیٹھا تھا دماغ میں آنے والی سوچ سے ہونٹ مسکرائے تھے تبھی موبائل نکالا اور فون ملایا جو کچھ ہی دیر میں اٹھا لیا گیا


'ہیلو جی کون' پری کی آواز سنائی دی


'جی ہم' اس نے محبت سے کہا دوسری طرف پری اسے پہچان گئی تھی اس کے کب مسکرا اٹھے 


'جی آپ کون' اس نے زچ کرنا چاہا اسے علی سمجھ گیا تھا وہ پہچان گئی ہے


'جی ہم آپ کے' علی نے مسکراہٹ دبائی


'جی آپ ہمارے ہیں کون' پری پاؤں جھلاتی ہوئی بیڈ پر بیٹھی 


'جی آپ کے ہونے والے مجازی خدا' علی نے مسکرا کر کہا


'تو پھر میں کون ہوئی' پری نے منہ بسورتے ہوئے پوچھا


'جی آپ ہماری پری' علی نے اسکی مشکل آسان کی


'بس پری' پری نے مصنوعی حیرت سے کہا


'بلکل نہیں میرا دل جگر گردا پھیپھڑا سب ہو تم اور سب سے زیادہ جان ہو' اس کی بات پر پری کھلکھلائی 


'اچھا جب ہماری شادی ہوگی تب آپ لالی کو بلائیں گے نا' اسکی بات پر وہ خاموش ہوگیا تھا مسکراہٹ سکڑ گئی تھی


'پری ایک پیشنٹ آگیا ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں' اس نے اسکی بات سنے بغیر فون کاٹا


کیسے بتاتا اسے کہ اسے تو یہ بھی نہیں پتا کہ وہ کہاں ہے اسکے جیل سے بھاگنے کی خبر تو میر نے سنائی تھی کسی دھماکے سے کم نہیں تھی




♥️♥️




دوسرے دن مالا لائٹ گرین کلر کی کرتی اور  وائٹ ٹراؤزر پیروں میں سپورٹ شوز بال کھلے تھے آنکھوں پر چشمہ لگائے اور ہاتھوں میں ایک فائل پکڑے کہیں جانے کیلئے ریڈی تھی ہمیشہ کی طرح کندھے پر بیگ موجود تھا بڑا والا


زاعشہ نے اسے کہیں جاتے دیکھا تو پوچھے بغیر نہ رہ سکی


'کہاں جارہی ہو اتنا بن ٹھن کے' زاعشہ نے پیچھے سے آواز دی


'افف جاہل عورت پیچھے سے آواز نہیں لگاتے' مالا نے تنک کر کہا وہ تو عورت کہنے پر ہی سکتے میں آگئی تھی


'میں عورت… تم عورت تمہارا بھائی عورت' اس نے حساب کتاب برابر کیا 


'ہوگیا' مالا نے اسکی ساری بات سننے کے بعد صرف ایک لفظ کہا جس پر وہ کھسیانی سی ہنس دی


'اچھا جا کہاں رہی ہو' اس نے پھر پوچھا


'نوکری ڈھونڈنے' مالا نے روش کو کندھے پر بٹھاتے ہوئے کہا


'تمہیں کیا ضرورت پڑ گئی نوکری کی' وہ سخت حیران ہوئی


'یہ صرف ہم لوگ ہی جانتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنا پیسا ہے کہ سات پشتیں بیٹھ کر کھائیں لیکن دنیا والوں کو تو نہیں پتا اور کل تم اس محلے کی حالت بھی دیکھ چکی ہو ان لوگوں کو زرا بھی بھنک پڑی نہ تو اچھا نہیں ہوگا نہ جانے کونسا ان میں سے اسابیل کا آدمی ہو' مالا نے آستینیں اوپر چڑھاتے ہوئے اسے سمجھایا اسکی بات بلکل درست تھی اسلئے وہ مان گئی تھی


'اور ہاں سنو ہمیں دیر بھی ہوسکتی ہے اندر سے دروازہ بند کرلینا چنکو کا خیال رکھنا اور گھر میں کسی نے زبردستی گھس نے کی کوشش کی تو سیدھا ہمیں کال کرنا اوکے' مالا نے اسے سمجھا کر بیگ اٹھایا اور باہر نکل گئی


کل رات اس نے اخبار میں ایک ایونٹ اورگنائیزیشن کمپنی کا ایڈ دیکھا تھا جہاں مینیجر اور کچھ ورکرز کی ضرورت تھی 




♥️♥️




کچھ ہی دیر بعد وہ اس کمپنی کے باہر کھڑی تھی خدا کا نام لیا اور اندر داخل ہوئی لوگوں سے انٹرویو کا پوچھتے ہوئے وہ اندر آئی جہاں دو لڑکیاں اور دس لڑکے بیٹھے تھے وہ لمبی سانس کھینچتے ہوئے اندر داخل ہوئی 


نوکری تو وہ پہلے بھی کرچکی تھی اسلئے تجربہ تھا وہ خاموشی سے ایک سیٹ پر ٹک گئی لڑکیاں موڈرن سی تھیں جبکہ لڑکے عام حلیے میں تھے آفس اچھا بنا ہوا تھا وہ آخر میں آئی تھی اسلئے آخری نمبر تھا اسکے وقفے وقفے سے گھر پر بات بھی کرلیتی تبھی تین گھنٹوں کے انتظار کے بعد اسکا نمبر بھی آہی گیا 


وہ نوک کرکے اندر داخل ہوئی تو سامنے تین لوگ بیٹھے تھے دو لڑکیاں تھیں اور ایک لڑکا تھا تینوں ٹیبل کے اس پار بیٹھے تھے مالا ان کی سامنے والی بئیر پر بیٹھی


'جی آپ کا نام کوالیفیکیشن وغیرہ' اس لڑکے نے پوچھا


'ہمارا نام سنہری مالا ہے اور کوالیفیکیشن تو ہم ایل ایل بی کے سکینڈ ائیر میں تھے مجبوری کے باعث پڑھائی چھوڑنی پڑی' وہ تمیز سے جواب دے رہی تھی


'کیسی مجبوری' اب ایک لڑکی نے پوچھا


(قتل کرنا تھا اسلئے) 'شادی ہوگئی تھی' اس نے مصنوعی مسکرا کر کہا


'اوہ تو آپ شادی شدہ ہیں' اس لڑکے کے چہرے پر دکھ چھایا تھا


(شادی ہمارے نصیب میں کہاں) 'نہیں ہمارے شوہر کی دیتھ ہوگئی ہے ایک بیٹا ہے' اس نے تمیز کے سارے ریکارڈ توڑے


'اگر بک فرض ہم آپ کو جاب دے دیتے ہیں تو جیسا آپ نے کہا کہ آپ کا ایک بیٹا ہے تو آپ یہ سب کیسے مینیج کریں گی' اس لڑکی نے مزید کریدا


'ہماری دو (چڑیل) بہنیں بھی ہیں وہ اسکا خیال رکھتی ہیں' مالا مسکرائے جارہی تھی


'اگر کل کلا نو انکی شادی ہوجاتی ہے تو…' اس نے بات پوری نہیں کی تھی


'ہار یہ ہمارا مسئلہ ہے ہم دیکھ لیں گے آپ کیوں اتنا گھلے جارہی ہیں ہماری ٹینشن میں' اس نے چڑ کر کہا تو ان دونوں نے ہاں میں سر ہلایا 


'ویسے کیا کرنا چاہتی ہیں آپ آگے' وہ لڑکا شاید ٹھرکی تھا


'ہم بس دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں' مالا نے اسکے ٹھرک پن کو ہوا دی


'اوہ تو آپ کہیں کمیٹڈ ہیں' اس نے اپنے بال صحیح کرتے ہوئے پوچھا 


'بلکل نہیں' مالا نے جوش سے بتایا وہ دونوں لڑکیاں ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں خاموشی سے


'تو آپ کو کیسا لڑکا چاہیے' اس نے تجسس سے پوچھا 


'ایسا لڑکا جو ہمارے لئے جان دے دے اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے ہم' مالا نے ایسے بتایا جیسے یہ کوئی بڑی بات ہی نا ہو اسکی بات پر جہاں اس لڑکے کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی وہاں ان دونوں نے لڑکوں نے مسکراہٹ چھپائی 'آپ کی نظرق میں کوئی لڑکا ہو تو ضرور بتائیے گا' اس نے مزید کہا


'اوکے مس مالا آپ پر اعتماد لگتی ہیں اسلئے آپ کو جوائن کرنے سے پہلے کچھ شرائط ماننی ہونگی جیسے کمپنی ابھی نیو ہے اسی لئے سیلری کم ہوگی صبح نو بجے سے آپ نے آنا ہے' ایسی ہی کچھ اور بھی باتیں تھیں بلآخر اسے مینیجر کی جاب مل گئی 


'میں زرتاشہ یہ شمائل اور یہ یوشع' انہی میں سے ایک لڑکی جسکا نام زرتاشہ تھا اس نے سب کا تعارف کروایا پھر سائن وغیرہ کرنے کے بعد وہ تین بجے تک فارغ ہوئی پھر گھر کیلئے نکلی



میر آج جنید کے آفس جارہا تھا 

...

(ختم شد)


If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 written by Anum Rais . Tera Ishq Matti Ka Dher Season 2 by Anum Rais  is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.

۔۔۔۔۔۔۔۔

Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link 

If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.

Thanks............

  

Copyright Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

  





No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages