Tu Ashna E Shiddat Gham By Syeda Honey complete Novel
Madiha Shah Writes: Urdu Novel Stories
Novel Genre: Cousin Based Enjoy Reading...
![]() |
| Tu Ashna E Shiddat Gham By Syeda Honey Complete Novel |
Novel Name: Tu Ashna E Shiddat Gham
Writer Name: Syeda Honey
Category: Complete Novel
دن کا اجالا چار سو پھیل رہا تھا ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا راحت بخشتی تھی اسنے لمبی سانس لے کے خود کو پر سکون کیا رات سے ذہن بہت بوجھل تھا مگر وہ اپنا دھیان بٹاتی کھڑکی سے پرے ہٹ گئ آج ویسی وہ لیٹ ہوگئ تھی آج اسکا ریاضی کا امتحان تھا وہ ساری سوچوں سے سر جھٹکتی اسکول جانے کے لیے تیار ہونے چلی گئ. وہ تھی سیدہ تالیا حیدر سید ہاؤس کی اکلوتی بیٹی.سید ہاؤس کوئ بہت بڑی حویلی نہیں تھی وہ ایک سو بیس گز کا ایک سادہ اور نیا گھر تھا مگر اس گھر کی لڑکی کے خیالات بہت پرانے تھے اور یہ بات اس گھر کا کوئ فرد نہیں جانتا تھا. سید ہاؤس میں کل پانچ مکیں رہتے تھے ایک گھر کے سربراہ سید حیدر علی شاہ جو ایک کامیاب بزنس مین تھے انکا امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار تھا جو کافی اچھا چل رہا تھا انکی زوجہ آصفہ حیدر جو ایک گھریلو خاتون تھیں انکے تین بچے تھے سب سے بڑی بیٹی سیدہ تالیہ حیدر جو کلاس نائنتھ کی طالبہ ہے اور ایک ہونہار طالب علم ہے اس سے تین سال چھوٹا سید نوفل حیدر جو کلاس سیونتھ کا طالب علم ہے اور ایک ایوریج اسٹوڈینٹ ہے تیسرا بیٹا سید مومن حیدر جو کلاس فورتھ کا طالب علم ہے. سید ہاؤس کے سربراہ سید حیدر علی شاہ ایک مہربان اور ہمدرد انسان ہیں اور اپنے خاندان کے کرتا دھرتا بھی ہر معاملات پہ انکی نظر رہتی ہے وہ ایک اچھے بیٹے بھی ہیں انکی والدہ سیدہ مہاجابین خاتون اور والد سید ارشاد علی شاہ اپنے دوسرے بیٹوں کے ساتھ تین گھر چھوڑ کے رہتے ہیں. انکے ٹوٹل نو بچے ہیں پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں دو بیٹیاں اور چار بیٹے شادی شدہ ہیں اور انکی اولادیں سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں سواۓ دو بیٹوں کے باقول سیدہ تالیہ حیدر دادی کا گھر, گھر کم چڑیا گھر زیادہ لگتا تبھی وہ وہاں جانے سے گھبراتی وہ ایک امن پسند لڑکی ہے جو لڑائ جھگڑوں سے دور بھاگتی ہے. پچھلی رات کا پذ منظر بھی کچھ یہی تھا کہ بڑی پھپھو کل سے رکنے آئ ہوئ تھیں اور اسی خوشی میں حیدر شاہ نے اپنے بہن بھائیوں کی دعوت کی تھی اسے دعوت سے کوئ مسلئہ نہیں تھا لیکن جب رات کے چار بجنے کے بعد بھی وہ لوگ گۓ نہیں تو اسکا موڈ خراب ہوگیا کیونکہ کل اسکا ریاضی کا امتحان تھا اور اتنے شور میں وہ بلکل پڑھ نہیں پارہی تھی یہی وجہ تھی وہ جب صبح اسکول جانے کے لیۓ اٹھی تو اسکا سر بہت بھاری ہورہا تھا.
وہ میز پہ پہنچی تو حیدر شاہ اخبار پڑھ رہے تھے عاصفہ بیگم کچن میں کھڑی ناشتہ بنارہی تھیں نوفل اور مومن کا آج گیپ تھا جسکی وجہ سے وہ مزے سے سو رہے تھے وہ بابا کو سلام کرتی سلائس کترنے لگی عاصفہ بیگم نے جب اسے یونہی بیٹھا دیکھا تو اسے ٹوک دیا اور دودھ کا گلاس اسکے آگے کیا اسنے ایک گھونٹ لیا اتنے میں وین کا ہارن سنائ دیا اور وہ جلدی جلدی ان دونوں کو پیار کرتے باہر بھاگی.ایک بج چکا تھا وہ جب اسکول سے باہر نکلی اسکا موڈ کافی خوشگوار تھا کیونکہ اسکا پیپر بہت اچھا ہوا تھا اور اب وہ خاصی ریلیکس تھی.گھر آکے اس نے چینج کۓ اور کھانے کا شور مچا دیا عاصفہ بیگم اسکی آواز سنتے کچن سے باہر آئ تو دیکھا وہ فریش ہوچکی ہے. بیٹا تالیہ پلاؤ دم پہ ہے آپکے بابا آجائیں تو میں نکالتی ہوں کیوں امی بابا کہاں گۓ ہیں بیٹا آپکی دادی نے بلایا تھا عاصفہ بیگم کی بات سن کے وہ سخت بیزار ہوئ کیونکہ جانتی تھی ایک نئ فرمائشوں کی لسٹ انہیں دے دی گئ ہوگی اسے بڑبڑاتے دیکھا تو عاصفہ بیگم مسکرادیں جانتی تھیں وہ ان سب سے نالاں انکی حساس بیٹی ہے تبھی اسے پیار کرتے بولیں اچھا چلو چاول ہوگۓ ہونگے میں لاتی ہوں اور دو منٹ بعد اسکے سامنے بھانپ اڑاتا پلاؤ تھا اسکی بھوک چمک گئ تو وہ سب جھٹکتی کھانا کھانے میں مصروف ہوگئ. ایسا نہیں تھا کہ وہ تنگ دل تھی بس اسے اچھا نہیں لگتا کہ کسی کے گھر ولادت ہو یا کسی کے بچے کا ایڈمیشن ہو, کسی کو نیا کاروبار شروع کرنا ہو, کسی کے سسرال کا مسلئہ ہو, یہاں تک کسی کو قربانی یا دعوت بھی کرنی ہو تو اسکے بابا کا سب منہ دیکھتے تھے اسے لگتا تھا اپنی کوئ زندگی نہیں ہے ہر وقت کی ہڑبونگ اور مسلئوں نے اسے تنہائ پسند بنا دیا وہ ان مطلبی رشتوں سے کہیں دور جانا چاہتی تھی کسی کو نہیں پتا تھا اسکے اندر کیسی بغاوت پل رہی ہے.وہ اندر ہی اندر کڑھتی رہتی مگر اسے نہیں پتہ تھا آگے زندگی کیا موڑ مڑنے والی ہے.دوسرے دن اسکا آخری پرچہ تھا وہ بہت خوش تھی کیونکہ اسکے سارے پرچے بہت اچھے ہوۓ تھے اگلے دن وہ جب پرچہ دے کہ اسکول سے باہر نکلی تو چوکیدار نے بتایا آپکو کوئ لینے آیا ہے وہ حیران ہوئ کیونکہ وہ شروع سے وین میں آتی جاتی تھی جبھی اس نے گاڑی کے پاس بڑی پھپھو کے بیٹے کو کھڑے دیکھا وہ سخت کوفت کا شکار ہوئ کیونکہ اسے اپنا یہ کزن کچھ خاص پسند نہیں تھا.
وہ اسکا پھپھی زاد سالار شاہ تھا اس نے تالیہ کو دیکھ کے ہاتھ ہلایا تو وہ اسی طرف چلی آئ اور سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا. آپ یہاں ہاں یار تم گھر چلو نانو کی طبیعت بگڑ گئ تھی ماموں نے تمہیں لینے بھیجا ہے دادو کی طبیعت کا سن کے وہ بھی پریشان ہوگئ اور تیزی سے گاڑی میں بیٹھ گئ سالار نے اسے پریشان دیکھا تو مسکرا دیا کیونکہ جانتا تھا وہ بہت حساس طبیعت کی مالک ہے تبھی اسے مطمئن کرنے کے لیے بولنے لگا. تم پریشان مت ہو تالہ وہ اب کافی بہتر ہیں اور ہاں مجھے تم سے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے تالیہ نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا تو لمبی سانس لے کے بولنا شروع ہوا دیکھو تالیہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں میں یہ بھی جانتا ہوں تم مجھے پسند نہیں کرتی لیکن میں بچپن سے تمہیں چاہتا ہوں تم ابھی چھوٹی ہو پڑھ رہی ہو یہ سب جانتا ہوں مگر میں پھر بھی امی کو بھیجونگا تمہیں کوئ اعتراز تو نہیں ہے تالیہ بلکل سن سی اسے سنے جاری تھی اور جب بولی تو اسکے لہجے میں بہت تلخی تھی. آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا سالار بھائ مجھے آپ میں کوئ انٹرسٹ نہیں سالار نے ایک نظر اسے دیکھا اور گاڑی روک دی. آپ نے گاڑی کیوں روکی کیونکہ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں تالیہ تمہیں پتہ ہے جب تم چھوٹی سی تھیں نہ تو سب کزن کے ساتھ کھیلتے تمہاری اکثر سب سے لڑائ ہوجاتی تھی میں سب کی مخالفت لے کہ تمہارے ساتھ ہوجاتا تھا پتہ ہے کیوں اسے غور سے سنتی تالیہ نے کہا کیوں کیونکہ مجھے تمھارا روٹھنا سب سے الگ تھلگ ہونا اور دکھی ہونا تکلیف دیتا تھا تالیہ میں جانتا ہوں تم جوائنٹ فیملی سسٹم سے اکتائ ہوئ ہو سچ بتاؤں تو میں خود بھی زیادہ خوش نہیں ہوں مگر میرا یقین کرو میں سب ٹھیک کردونگا بس مجھ پہ اعتبار کرو میں تمہارے سارے خواب پورے کرونگا یار تم نک چڑھی ہو باغی ہو مگر تم بہت معصوم بھی ہو اور یہ دنیا بہت خراب ہے میں نہیں چاہتا تم اپنی ضد میں کوئ نقصان اٹھاؤ تمہارے اور بھی رشتے آۓ ہوۓ ہیں جس پہ بڑے غور کررہے ہیں تبھی یہ سب تم سے ڈسکس کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ تمھاری راۓ بہت اہمیت رکھتی میرے لیے تمھاری رضامندی ہو تو میں سب کو منا لونگا میں چاہتا ہوں تم وقت پہ سہی فیصلہ کرلو کیونکہ اگر وقت پہ سہی فیصلے نہ کیے جائیں تو وقت خود فیصلے کرتا ہے اور وقت کے فیصلے بہت بے رحم ہوتے ہیں تالیہ.
تالیہ نے لمبی سانس لے اپنا رکھ کھڑی کی طرف کرلیا کیونکہ وہ جانتی تھی سالار شاہ غلط نہیں کہہ رہا بچپن سے غیر محسوس طریقے سے وہ اسکی سائٹ لیتا تھا اسے مناتا تھا اور وہ یہ بات بھی جانتی تھی وہ کبھی کبھی بہت شدید ردعمل کا اظہار کردیا کرتی تھی اسے اپنی اس کمی کا ادراک تھا تبھی اسنے سالار شاہ کی بات کا کوئ جواب نہیں دیا جب خاموشی طویل ہوگئ تو سالار شاہ نے اسے پکارا. تالیہ ہمم کچھ کہا آپ نے وہ اپنے خیال سے چونکی کہا تو بہت کچھ ہے میں نے تم نے جواب نہیں دیا وہ الگ بات ہے شاید میں تمھارے قابل نہیں تمھیں تو فوجی پسند ہیں پر تم فکر مت کرو میں نے فوج میں اپلاۓ کیا تھا میری سیلیکشن بھی ہوگئ ہے بس دو چار دن میں ٹریننگ شروع ہوجاۓ گی تالیہ نے خوشگوار حیرت سے اس نوجوان کو دیکھا گندمی رنگ کھڑی ناک بھوری آنکھیں لمبا قد کالے سیاہ سلکی بال جو ہمیشہ وہ بہت ترتیب سے بناۓ رکھتا تھا وہ خاصہ خوبرو ہے یہ آج تالیہ کو معلوم ہوا اگر وہ اسکا پھپھی زاد نہ ہوتا تو وہ رکش کرتی خود پہ کہ ایسا شخص اسے چاہتا ہے مگر بد قسمتی سے وہ بھی اسی خاندان سے وابستہ تھا جس سے وہ خود نالاں تھی. وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی جب سالار نے اسکے آگے چٹکی بجائ اسنے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو سالار بےساختہ ہنس دیا اور اسکے سر پہ چپت لگاکے بولا اتنا مت سوچو انشأللہ سب اچھا ہوگا میں ہوں نہ گھر آگیا ہے جاؤ اب نانو سے مل لو وہ یاد کررہیں تھیں تمہیں وہ اثبات میں سر ہلاتی گھر کے اندر چلی گئ. دادو کے پاس گئ تو وہ آنکھیں موندے لیٹی تھیں وہ آہستہ سے انکے پہلو میں بیٹھ گئ اور انکے پاؤں دبانے لگیں دادی نے چونک کے آنکھوں پہ سے ہاتھ ہٹایا اور اسے سامنے دیکھ کے خوش ہوگئیں ارے میری لاڈلی پوتی کیسے آگئ آج ہمارے پاس وہ سخت شرمندہ ہوئ کیونکہ باقی سب کی عداوت میں وہ دادو سے بھی زیادہ نہیں مل پاتی تھی تبھی بولی دادو سالار بھائ لینے آۓ تھے آپکی طبیعت کا پتہ چلا تو سیدھے یہیں آگئ اب کیسی طبیعت ہے آپکی بیٹا اب تو ہم مہمان ہیں ناجانے کب بلاوا آجاۓ یہ بڑھاپا بھی ایک بیماری ہے دادو کی بات سن کے تالیہ چڑ گئ کوئ نہیں دادو کس نے کہا آپ بوڑھی ہیںاس نے لاڈ سے انکی گود میں سر رکھا آپکو پتا ہے آپ پھپھو کی بڑی بہن لگتی ہیں دادو اسکی بات پہ مسکرادیں پھر کچھ سوچ کے بولیں تالیہ میرا بچہ میں ایک بات کہوں
جی دادو کہیں نہیں حکم دیں نہیں بیٹا جوان اولاد کو حکم کیسا بس تم سے درخواست ہے تمہاری ماں جب تمہارے لیے آۓ رشتوں کے متعلق تم سے راۓ لے تو تم سالار شاہ کو چننا اس لۓ نہیں کہ وہ تمہارا کزن ہے بلکہ اس لۓ کیونکہ وہ ایک نیک فطرت لڑکا ہے اور سب سے بڑی بات تم سے محبت کرتا ہے انکی اس بات پہ تالیہ نے بے ساختہ انہیں دیکھا تو وہ اس کی حیرت پہ مسکرادیں بیٹا اپنی پسند کی خبر سالار نے سب سے پہلے مجھے ہی کری مجھے کیا اعتراز ہوسکتا تھا بھلا تم دونوں میرے بچے ہو میں تو سیدھا نکاح کے حق میں تھی لیکن سالار نے روک دیا کہ وہ پہلے تم سے خود بات کرے گا تالیہ خاموش رہی اور چاچو کے آنے پہ انہیں سلام کرتی اپنے گھر آگئ مگر وہ گھر آکے بھی بے چین رہی سالار کی باتیں اسکے انداز وہ چاہ کے بھی جھٹک نہیں پاری تھی اور وہ آرمی میں صرف اسکی خواہش کی خاطر جارہا ہے یہ بات اسے مصرور بھی کررہی تھی.وہ جھنجھلا گئ آخر میں کیوں سالار کو سوچ رہی ہوں نہیں ہم کبھی ایک نہیں ہوسکتے دل کی آواز کو دبا کے وہ سونے لیٹ گئ. تین دن گزر کۓ نہ سالار سے سامنہ ہوا نہ وہ دادو کے گھر پھر گئ چوتھے دن وہ اسکے سامنے تھا وہ آیا تو آصفہ بیگم نے مشین لگائ ہوئ تھی سالار کو اندر آتے دیکھا تو خوش ہوگئیں وہ بھی دل سے چاہتی تھیں سالار جیسا سلجھا ہوا لڑکا انکا داماد ہو پر یہ بات انکی ضدی بیٹی کو سمجھ نہیں آرہی تھی. سالار بیٹا خیریت آج تم راستہ کیسے بھول گۓ وہ جھینپ گیا کیونکہ وہ واقعی ماموں کے گھر بہت کم آتا تھا. اصل میں ممانی میری فوج کی ٹریننگ ہے کل سے آج رات چلا جاؤنگا ارے تم نے بتایا نہیں کب اپلاۓ کیا خیر سے جاؤ میرے بچے مجھے یقین تم ہم سب کا نام روشن کروگے ممانی کی دعاؤں پہ وہ مسکرادیا. ممانی باقی سب کہاں ہیں بیٹا تالیہ اپنے کمرے ہے تمہارے ماموں اور بچے مسجد گۓ وہ اثبات میں سر ہلاتا بولا ممانی کیا میں تالیہ سے مل سکتا ہوں اسنے ہمت کرکے بول دیا ہاں ہاں بیٹا جاؤ مل لو وہ جب اسکے کمرے میں آیا وہ الماری میں کچھ ڈھونڈنے میں مگن تھی سالار نے کھنکھارا تو وہ چونک کے پلٹی اور اسے دیکھ کے ساکت ہوگئ سالار دھیرے دھیرے چلتا اسکے سامنے آیا اسے دیکھتا رہا بنا پلک جھپکے تمھیں خبر ہی نہیں اے نادان لڑکی تم میرا کیسا اثاثہ ہو میرا سکون ہو تمھارے دم سے میرے دل میں کتنی رونقیں ہیں تمھارا روٹھنا کیسی بے چینی ہے تمھارا مان جانا کیسی تسکین ہے تم سے دور جانا کیسی قیامت ہے تمھارا یہ چہرہ آنکھوں میں جذب کرنا کیسی نعمت ہے تمھاری خواہشیں پوری کرنا میری اوالین ترجیع ہے کاش تم یہ بات سمجھ جاؤ وہ سالار کی نظروں سے گھبرا کے بولی آپ یہاں وہ تالیہ کی آواز پہ اپنے خیال سے باہر آیا ہمم تالیہ میں جارہا ہوں میرے لیے دعا کرنا مجھے تمھاری دعاؤں کی بہت ضرورت ہے دعا کرنا میں سرخرو لوٹوں میرا انتظار کرنا تالیہ بتاؤ میرا انتظار کروگی نہ اور تالیہ وہ کچھ سن کب رہی تھی اسکے آس پاس تو بس ایک جملا گردش کررہا تھا کہ تالیہ میں جارہا ہوں تالیہ تو بس یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی اسکے جانے کا سن کے ناجانے کیوں دل میں سناٹا سا اتر گیا تھا.وہ بہت کچھ بولنا چاہتی تھی پر بولی تو صرف اتنا اپنا خیال رکھنا سالار شاہ اور جلد آنا سالار نے بےتابی سے پوچھا تم انتظار کروگی نہ میرا اسنے دھیرے سے اثبات میں سر ہلادیا کیوٹس کا جادو چل گیا تھا محبت کے ایک لمحے نے انہیں گرفتار کرلیا تھا.
دن یونہی بے کیف سے گزر رہے تھے آج سالار شاہ کو ٹریننگ پہ گۓ ایک ہفتہ ہوگیا تھا تالیہ کو لگتا وہ اپنے ساتھ اسکے سارے گلے شکوے بھی لے گیا نہ وہ اب کسی سے الجھتی نہ بات بات پہ آپے سے باہر ہوتی وہ بس چپ ہوگئ تھی اور لاشعوری طور پر سالار شاہ کی واپسی کی منتظر تھی اسکی خاموشی اور بے چینی اور کسی نے محسوس کی ہو یا نہیں لیکن عارفہ بیگم ماں تھیں وہ سب سمجھ رہی تھیں مگر اسے خود فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہتی تھیں. اسی رات وہ جب چاۓ دینے حیدر شاہ کو آئیں انہوں نے ہاتھ پکڑ کہ انہیں روک لیا بیٹھو عارفہ بیگم مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے وہ بیٹھ گئیں جی بولیں کیا بات ہے دیکھو عارفہ تم جانتی ہو ہمارے خاندان میں جلدی شادی کا رواج ہے ہماری تالیہ نے میٹرک کرلیا ہے چند دن میں کالج بھی جانے لگے گی میں چاہتا ہوں ہم تالیہ کی بات پکی کرکے چھوڑ دیں شادی اسکے انٹر مکمل ہونے کے بعد کردینگے تمہاری کیا راۓ ہے جی جیسا آپکو ٹھیک لگے لیکن آپکی نظر میں کوئ رشتہ ہے ہاں رشتے تو ہیں میرے دوست نے اپنے بیٹے کے لیے بات کی ہے اور اماں کی خالہ زاد شمیم خالہ کو تم جانتی ہو نہ ارے وہ حیدرآباد والی ہاں وہی وہ بھی اپنے نواسے کے رشتے کے لیے آنا چاہ رہی اور بتول نے بھی سالار شاہ کے لیے پیغام دیا ہے اماں نے بتایا مجھے اچھا پھر کون سا رشتہ ٹھیک لگ رہا آپکو دیکھو رشتے تو تینوں اچھے ہیں اور سچ کہو تو سالار شاہ میرا بھانجہ ہے مجھے اس سے بڑھ کر کوئ عزیز نہیں مگر.. مگر کیا حیدر مگر عارفہ سالار نے فوج کو چنا ہے اور تم جانتی ہو فوج کی ڈیوٹی کیسی ہوتی ہماری ایک ہی بیٹی ہے ہمیں سوچ سمجھ کے اسکے لیے فیصلہ کرنا ہوگا تبھی میں اب سالار کے حق میں نہیں ہوں اسے تو بار بار پتہ نہیں کتنے عرصے کے وہاں جانا ہوا کرے گا ہماری بیٹی کی زندگی تو انتظار میں کٹ جائیگی. آپکو نہیں لگتا حیدر ہمیں اپنی بیٹی کی راۓ لینی چائیے ہاں کہتی تو تم ٹھیک ہو ایک کام کرو تم تالیہ سے بات کرلو مگر سالار کے رشتے کے علاوہ بقیہ دو رشتوں کے لیے کچن سے گزرتی تالیہ نے انکا حرف بہ حرف سنا تھا اسے اپنا دل پاتال میں اترتا محسوس ہوا ابھی تو محبت کا ادراک ہوا تھا ابھی تو محبت کی کونپل دل میں کھلی تھی ابھی تو بہار آئ تھی ابھی تو اظہار ہوا تھا اور اتنی جلدی خزاں کا موسم آگیا. اسکی آنکھوں میں نمی پھیلنے لگی.
وہ بے دلی سے اپنی بنائ چاۓ میز پہ پٹک کے سر ہاتھوں میں تھام کہ بیٹھ گئ اسے بابا سے اس رویے کی امید نہیں تھی اسے سالار سے بھی شکوا تھا وہ جب انجان تھی تو انجان ہی رہنے دیتا اب جب وہ اسکے خواب دیکھنے لگی تھی تو وہ خود اسے ان سب کے بیج تنہا کر گیا تھا. وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی جب عارفہ بیگم دستک دے کہ اندر آئ اسکی روئ روئ سی آنکھیں دیکھ کہ انہیں احساس ہوا انکی بیٹی محبت کی وادی میں قدم رکھ چکی ہے یہ جانے بنا کہ اسکے پاؤں ان خاردار راستوں پہ چلتے کتنے زخمی ہونگے. ارے مما آپ آئیں مجھے بلالیا ہوتا کیوں بھئ کیا میں اپنی بیٹی کے پاس نہیں آسکتی آپ آسکتی ہیں مما اسنے لاڈ سے انکی گود میں سر رکھ دیا تو وہ اسکے بال سہلانے لگیں پھر آہستہ سے بولنا شروع ہوئیں تالیہ تمھیں پتہ ہے محبت عورت کی ایجاد ہے اور مرد کی دریافت, یہ وہ بیماری ہے جس میں مرد اور عورت کی بینائی کم ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی تو یہ اندھے بھی ہوجاتے ہیں۔ میرے بچے تمہارے رشتے آۓ ہوۓ تمہاری راۓ لینے بھیجا ہے تمہارے بابا نے زارون شمیم خالہ کا بھانجا اچھا سلجھا ہوا لڑکا ہے باپ کا کاروبار بہت کامیاب طریقے سے چلا رہا اور سعد وہ تمہارے بابا کے دوست کا بیٹا ہے بہت لائق فائق انجینئر ہے تم بتاؤ بیٹا تمھیں ان میں سے کون پسند یہ لو یہ ان دونوں کی تصویر ہیں فیصلے کا اختیار تمھیں ہے بیٹا جو مناسب لگے مجھے بتا دینا یہ کہہ کے وہ جانے لگیں تو اسکی آواز پہ چونکیں مما اس میں اسکی تصویر تو آپ لائ ہی نہیں جو مجھے پسند کون بیٹا مما میں سالار کی بات کررہی ہوں مما آپ پلیز بابا کو سمجھادیں میں سالار کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرونگی وہ مجھ سے وعدہ لے کے گیا ہے وہ آئیگا میں اسکا انتظار کرونگی مما وہ کوئ روایتی ماں نہیں تھیں جو غصہ ہوتیں انکی ایک ہی بیٹی تھی وہ اسے اپنی سہیلی سمجھتی تھیں اور وہ بھی اپنی ہر بات خاندان والوں کی جو جلی کٹی ہوتی وہ انہیں سناتی رہتی تھی تبھی وہ اسکے پاس آئیں اور چھپکے سے ایک اور تصویر اسکے آگے بڑھائ وہ تصویر سالار شاہ کی تھی وہ نم آنکھوں سے مسکرادی شکریہ مما یہ کہتی وہ ان سے لپٹ گئ تو وہ اسکی پیٹ تھپکنے لگیں اور آنے والے حالات کے بارے میں سوچنے لگیں ایک طرف بیٹی کی خوشی تھی تو دوسری طرف انکے شوہر انہیں منانا آسان نہیں ہوگا یہ بات وہ جانتی تھیں.مگر اپنی بیٹی کا دل بھی نہیں توڑ سکتی تھیں وہ جانتی تھیں زبردستی کے بندھن روگ بن جاتے ہیں تبھی اس کے سر پہ بوسہ دے کے بولیں تم فکر مت کرو میں طات کرونگی تمہارے بابا سے اس نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ کمرے سے باہر چلی گئیں انکے جانے کے بعد اسنے پاس پڑا لفافہ اٹھایا اسکے سامنے سالار شاہ کی مسکراتی ہوئ تصویر تھی وہ اسے کئ لمحے تکتی رہی سالار شاہ یہ نام اسکے لبوں سے دھیرے سے نکلا اور اسکے اندر تک سکون اتار گیا. تم ہنستے ہو تو لگتا ہے کسی چھوٹے بچے کے چہرے کی معصومیت ساری کی ساری تمہارے چہرے پر سمٹ کر آگئ ہو. دل کرتا ہے وقت کی ہر حد سے بے نیاز تمھیں ہنستا ہوا دیکھتی جاؤں. اور اپنے تئیں ہر وہ بات کروں جو تمہارے چہرے کی ہنسی کو دوام بخشے. یہ سوچتے اسکی آنکھ کب لگی اسے خبر نہ ہوئ. جب اسکی آنکھ کھلی تو فجر ہورہی تھی اسکی نیند پوری ہوچکی تھی وہ کچن میں جاکے اپنے لیۓ چاۓ بنانی لگی چاۓ جا مگ لے کہ وہ ٹیرس پہ آگئ ہلکہی ہلکی سرد ہوا اور پرندوں کی آوازیں ایک عجیب سی راحت بخش رہی تھی وہ پرندوں کو دیکھنے لگی جو گول کی صورت قطار بناتے اپنے اپنے آشیانوں سے رزق کی تلاش میں نکلے تھے. اسے وہ شخص یاد آیا سالار شاہ اسکا وہ اسٹوپڈ سا کزن دور جاتے ہی کتنا عزیز ہوگیا تھا اسے وہ بھی تو ایک پرندہ تھا جو اپنا رزق ڈھونڈتے ڈھونڈتے بہت دور نکل گیا تھا. اسنے پوروں پہ گنا گیارہ ہاں پورے گیارہ دن ہوگۓ تھے اسے گۓ. وہ سوچنے لگی اسنے رابطہ نہیں کیا بلکہ ہوسکتا وہاں سگنل بھی آتے یا نہیں وہ انہی سوچوں میں مگن تھی جب عارفہ بیگم اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اوپر آگئیں ارے تم یہاں ہو میں تمہیں نیچے ڈھونڈ رہی تھی اوہ مما آپ کب آئیں بیٹا جب آپ سوچوں میں مگن تھی تبھی آئ چلیں نیچے جی مما چلیں.
نیچے آکے اسنے سب کے ساتھ ناشتہ کیا اور پھر لان میں آگئ صبح کی ٹھنڈک پرندوں کی چہچاہٹ چاروں طرف موتیا اور رات کی رانی کی مہک اسکے اعصاب ایک دم ہلکے پھلکے ہوگۓ رات سے چھائ بےزاریت ختم ہوگئ تھی موسم نے اسکے مزاج پہ اچھا اثر ڈالا تھا وہ آنکھیں موندے بیٹھی تھی جب ہی مالی بابا نے آواز دی تالیہ بیٹی اس آواز پہ اسنے آنکھیں کھولیں جی مالی بابا بیٹی یہ خط پوسٹ مین دے کے گیا ہے اسے بے دھیانی میں لے کے سامنے ٹیبل پہ رکھ دیا مگر اسکی نظر جیسی ایڈریس پہ پڑی وہ رک گئ وہ تو وہی پتہ تھا جہاں سالار ٹریننگ کے لۓ گیا تھا ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اسنے وہ لفافہ بےتابی سے کھولا "پیاری تالیہ امید کرتا ہوں تم خیریت سے ہوگی اور باقی گھر میں بھی سب ٹھیک ہونگے تمھیں پتہ ہے ہمیں مہینے میں صرف ایک خط لکھنے کی اجازت ہے میں نے بہت سوچا میں امی کو پہلے خط لکھوں یا تمھیں مگر میرے دل نے تمھیں چنا کیونکہ مجھے یاد آیا امی تو خالہ کے وہاں حیدرآباد گئ ہونگی اور باقی کوئ خط پڑھتا تو صرف اپنی کہانیاں لکھ بھیجتا جب کہ تم مجھے سب کی خیریت دے دوگی اور کچھ خاص باتیں ہیں جو صرف تم سے کرنا چاہتا ہوں تمھیں بتانا چاہتا ہو تالیہ حیدر میں نے تمھیں بہت یاد کیا کٹھن راستوں میں اونچے پہاڑوں میں رت جگوں میں بھوک میں مجھے پتہ ہے تم پڑھ کے ہنسوگی مگر ہاں تالیہ میں نے تمھیں بھوک میں بھی یاد کیا تمھیں یاد ہے جب میں تم سے کبھی ناراض ہوجاتا تو تم کتنے مزے کے نوڈلز میرے لیے بناتی تھی اور تمہارے ہاتھ کے وہ جلے ہوۓ پراٹھے بھی قسم سے یہاں بہت یاد آتے ہیں میں نے یہاں آکے سیکھا ہے تالیہ ہم جن باتوں کو جن رشتوں کو جن نعمتوں کو عام سا سمجھتے ہیں وہ بہت خاص ہوتے ہیں یہ بات ہمیں اپنوں سے دور جاکے محسوس ہوتی ہے اور میں نے ان سب چیزوں کے ساتھ تمھاری محبت کو محسوس کیا ہے تم جو لہو بن کے مجھ میں ڈورتی ہو میری ہر ڈھرکن تمہارا نام پکارتی ہے یہاں کی ٹریننگ بہت سخت ہے تالیہ تمھیں پتہ ہے جب میں تھک جاتا ہوں میری آنکھوں کے سامنے تمھارا چہرہ آجاتا ہے تم نے کتنے شوق سے بولا تھا سب کزنز کے سامنے میں تو کسی فوجی سے شادی کرونگی اور جب تمھاری آنکھوں میں ایک یقین تھا میں نے تبھی فیصلہ کر لیا تھا مجھے ہی تمھارا فوجی بننا ہے تمھارا چہرہ تمھاری باتیں تمھارا یقین مجھے حوصلہ دیتا ہے.مجھے یہ کہنے میں کوئ عار نہیں تم میری روح میں بس گئ ہو اور یہ احساس مجھے شاید ساتھ رہتے اتنا نہیں ہوسکتا تھا جتنا تمھاری دوری میں ہوا ہے سوچتا ہوں پتہ نہیں تم مجھے یاد کرتی بھی ہوگی یا نہیں پتہ نہیں اب سب سے لڑ کے منہ بنا کے بیٹھتی ہوگی تو تمھیں کون مناتا ہوگا باتیں تو بہت ہیں تالیہ مگر وقت کم ہے تم بس میرے لیے دعا کرنا کل سے ہمیں بارڈر پہ بھیج دیا جاۓ گا تم دعا کرنا میں غازی بن کے لوٹوں اور ہاں اگر میں شہید ہوجاؤں تو مجھے بھولنا مت میں تمہارے آس پاس ہوں ہمیشہ بس یہ ایک ہفتے کا سرچ آپریشن ہے جیسی ڈیوٹی چینج ہوگی میں گھر آنے کی درخواست دے دوں گا ایک بار تمھیں حق سے دیکھنا چاہتا ہوں میں آگیا تو آتے ہی ہمارے نکاح کی بات بڑوں سے کرونگا بس تم میرا انتظار کرنا پریشان مت ہونا بس میرے اور اپنے لیۓ دعا کرنا انشاأللہ جلد ہم روبرو ہونگے.
میرے ہمسفر، میرے ہم نشیں
میں نے رب سے مانگا تو کچھ بھی نہیں
پر جب بھی مانگی کوئی دعا
نہیں مانگا کچھ بھی "تیرے سوا
یہ طلب کیا کہ :میرے خدا
سبھی راحتیں ، سبھی چاہتیں
وہ عطا کرے تجھے منزلیں
یہ طلب کیا کہ میرے خدا
تجھے بخت دے
تجھے تاج دے
تجھے تخت دے
میرے ہمسفر، میرے چارہ گر
یہ هے محبت کا کٹھن سفر
میرے ساتھ چلنا ذرا سوچ کر
میرے پاس زر نا کوئی ہنر
پهر بھی دیکھ تو میرا حوصلہ
میرے پاس جو کچھ ، "سبھی تیرا"
نہیں اور کچھ ، تیرے سوا🍁
میری دوستی
میری زندگی
میری خاموشی
میری بے بسی
میری صبح بھی
میری شام بھی
میرا علم بھی
میرا نام بھی
کہ جو مل سکیں میرے دام بھی
وہ سبھی کچھ تجھ کو عطا کرے
میرے چارہ گر ، تو یقین تو کر
مجھے مانگنا تو نہ آ سکا
میں نے مانگی پهر بھی یہی دعا
کہ گواہی دے گا "میرا خدا "
میں نے جب بھی اس سے طلب کیا !!
نہیں مانگا کچھ بھی "تیرے سوا "
(سیدہ تالیہ حیدر کا سید سلار شاہ)
خط اسکے ہاتھوں میں تھا اسے نہیں پتا اسکے آنسو کب سے بہہ رہے تھے اسکے لبوں سے بس ایک ہچکی نکلی سالار شاہ اور وہ پھوٹ پھوٹ کے رو دی اسے نہیں پتہ تھا اسکی اپنی خواہش اسکی محبت کو اس سے دور کردے گی اس خط کو پڑھتے وہ کئ کیفیات سے گزری تھی کبھی کسی بات پہ دل کی ڈھڑکن تیز ہوئ کبھی اسکی محبت نے دل کو سرشار کیا اسکے آنے اور نکاح کی بات نے اسے سکون دیا لیکن وہیں اسکی جدائ کے خیال نے دل کو وسوسوں میں ڈال دیا اگر سالار کو کچھ ہوگیا نہیں نہیں اس سے آگے وہ سوچ نہیں سکی اسے اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا وہ وہیں سجدا ریز ہوگئ میرے مالک اسکی حفاظت کر اسے غازی بن کے لوٹا اسے ہمت دے میرے مولا اسے اپنی امان میں رکھ ایک تواتر سے اسکے آنسو بہے رہے تھے. اسکے لبوں پہ بس ایک ہی دعا تھی سالار شاہ کی سلامتی کی دعا. دور پیڑ پہ فاختہ اس دیوانی کو دیکھ رہی تھی اور دور افق پہ پرندے اسکے گرد گھوم رہے تھے. کوئ نہیں جانتا آنے والا وقت اپنے دامن میں کیا کیا لے کے آنے والا تھا.
" ہم ٹہھرے رہینگے کسی خواب کو تھامے
آنکھوں میں اک خواب رواں ہونہی رہے گا."🦋✨
آصفہ بیگم نے جب اسے ایسے روتے دیکھا تو وہ گھبرا گئیں تالیہ اٹھو بیٹے ایسے کیوں رو رہی ہو کیا ہوا ہے تالیہ جیسے ہوش میں آئ وہ امی یہ خط وہ یہ کہہ کے دوبارہ سسک پڑی آصفہ بیگم نے لپک کے خط اٹھایا اور جیسے جیسے وہ پڑھتی گئیں انکی رنگت زرد ہوتی گئ خود کو سنبھال کے انہوں نے تالیہ کی جانب دیکھا بکھرے بال روئ روئ سی آنکھیں زرد رنگت گہرے ہلکے ایک مہینے میں ہی انکی بیٹی کیسی مرجھا گئ تھی وہ چل چل طبیعت ہر وقت کا شور شرابا ہر ایک سے پنگے لینا تو کہیں کھو گیا تھا انکے سامنے بیٹھی لڑکی تو داسی کا روپ دھار گئ تھی وہ سوچنے لگیں یہ سب انکے سامنے ہوتا رہا اور وہ کتنی بے خبر رہیں وہ جو بات اس سے کرنے آئیں تھیں اسکی حالت دیکھ کے یکسر فراموش کر گئیں ایک لمبی سانس خارج کرکے انہوں اسکے شانے پہ ہاتھ رکھے جاؤ اچھا ابھی جاکے آرام کرو اور ساری سوچیں فراموش کردو ابھی تمھارے ماں باپ زندہ ہیں تمہاری زندگی کا فیصلہ کرنے کے لۓ آخر میں انکا لہجہ کچھ تلخ ہوگیا مگر تالیہ اپنی سوچوں میں انکے لہجے کو محسوس ہی نہیں کر پائ اور اثبات میں سر ہلاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ مگر جاتے سمے بھی وہ خط لے جانا نہیں بھولی تھی اسکے جاتے ہی آصفہ بیگم نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام لیا انہیں سمجھ نہیں آرہا وہ شوہر کا ساتھ دیں یا بیٹی کا سید حیدر علی شاہ انہیں صبح آگاہ کرچکے تھےکہ انہوں نے اپنے دوست کے بیٹے کے لیۓ ہاں کردی ہے اگلے ہفتے وہ لوگ رسم کرنے آئینگے تالیہ کو آگاہ کردو اور جس جیز کی اسے طلب ہو اسے دلادو وہ کیسے بتاتی انہیں انکی بیٹی کا دل تو انکے فوجی بھانجے میں اٹکا ہے بہت ہمت کرکے وہ تالیہ سے بات کرنے آئ تھیں مگر اسے خط کی وجہ سے پریشان دیکھا تو کچھ بول ہی نہ سکیں لکین بولنا تو تھا ایک طرف بیٹی کا دل تھا تودوسری طرف شوہر کی دی ہوئ زبان وہ افسردہ سانس لیتی اٹھیں اور اندر چلی گئیں تالیہ کی پسند کا پلاؤ اور کباب بناۓ رات کے کھانے پہ سب تھے سواۓ تالیہ کے حیدر شاہ جب ٹیبل پہ آۓ تو تالیہ کو غیر حاضر پایا عاصفہ تالیہ کہاں ہے بلاؤ بھئ اسے اسکی پسند کا کھانا بنا ہے آج تو جی میں نے بلایا تھا اسکے سر میں درد ہے تو کہہ رہی دل نہیں چاہ رہا ارے رکو میں لے کے آتا ہوں اپنی بیٹی کو حیدر شاہ خود تالیہ کو بلانے چلے گۓ اور آصفہ بیگم انکی پشت دیکھ کے سوچ رہی تھیں حیدر ہم ماں باپ بھی نہ عجیب ہوتے ہیں ساری عمر اولاد کی پسند نہ پسند کو فوقیت دیتے ہیں انکو ہر سرد و گرم سے بچاکے رکھتے ہیں اور زندگی کے سب سے اہم معاملے میں ان سے پوچھتے تک نہیں اپنی تربیت کا خراج انکی دلی خوشی چھین کر لے لیتے ہیں وہ تالیہ جس کا آپ ایک جوڑا بھی خود لے آتے تو وہ سر پہ آسمان اٹھا لیتی تھی کیوں کہ وہ اسکی پسند کا نہیں تھا اور آج جیون ساتھی جس کے ساتھ اسے اپنی ساری عمر گزارنی ہے آپنے اس سے پوچھے بنا ہاں کردی مجھے افسوس ہے حیدر شاہ آپ بھی ایک روایتی مرد نکلے. حیدر شاہ آۓ تو وہ اپنے خیالوں سے چونکیں انہوں نے دیکھا تو تالیہ انکے ہمرا تھی چلو بھئ کھانا شروع کرو سب تالیہ بھی سر جھکاۓ کھانا کھانے لگی حیدر شاہ نے اسکے جھکے سر کو دیکھا پھر بولے تالیہ بچے کچھ شاپنگ کرلینا اپنی ماں کے ساتھ جاکے کیوں بابا کہیں جانا ہے کیا نہیں کہیں جانا نہیں کچھ مہمان آرہے ہیں آپکی بات کرنے حمدان کی فیملی آرہی ہے انکی بات سن کے تالیہ کو لگا چاول اسکے ہلک میں اٹک گۓ ہوں اس نے ایک پر شکوہ نظر ماں پہ ڈالی تو آصفہ بیگم نجانے کیوں نظریں چرا گئیں وہ ایک نظر سب پہ ڈالتی سپاٹ تاثرات کے ساتھ معذرت کرکے وہاں سے اٹھ گئ آصفہ بیگم اسے آوازیں دیتی رہیں بیٹا کھانا تو کھالو وہ سنا ان سنا کر کے وہاں سے نکلتی چلی گئ اچانک اسکا ہر چیز سے دل اچاٹ ہوگیا تھا وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اتنا پیار کرنے والے اسکی ہر بات ماننے والے بابا یوں اپنی مرضی کرینگے وہ تو سوچتی تھی بابا سالار شاہ اور اسکے رشتے کے متعالق ضرور سوچینگے آخر کو وہ انکا بے حد لاڈلا اور لائق فائق بھانجہ ہے مگر بابا نے اسے غلط ثابت کردیا تھا وہ سیدھا لان کے پچھلے حصے میں چلی آئ یہ کونا اسے اپنے پورے گھر میں سب سے زیادہ پسند تھا وہ جب بھی خوش ہوتی غصہ ہوتی یا اداس ہوتی وہ یہاں آجاتی تھی یہاں اکے اسے اجیب سا سکون ملا یہاں سالار اور اسکی بہت سی یادیں تھیں وہ اس جھولے پہ آکے بیٹھ گئ جو سالار سے اس نے بہت ضد کرکے لگوایا تھا جھولے پہ بیٹھ کے اس نے لمبی لمبی سانس لی اور خود کو ہواؤں کے سپرد کردیا آج سالار شاہ بے انتہا یاد آرہا تھا."وحشت کے اس نگر میں، قوسِ قزح سا وہ اک شخص"♥️اسکی نظریں آسمان پہ تھی اور ذہن مختلف سوچوں کی زد میں تھا بہت سوچنے کے بعد اسنے پھپھو کو کال ملائ سلام دعا کے بعد وہ اصل بات کی طرف آگئ پھپھو آپکی اس ہرجائ سے بات ہوئ وہاں جاکے بھول ہی گۓ ہیں نواب صاحب اسنے اسی ہلکے پھلکے لہجے میں کہا جیسے وہ ہمیشہ اسکے لیۓ بات کرتی تھی پھپھو ان دونوں کی نوک جھونک کی عادی تھیں تبھی ہنس دیں پھر بتانے لگیں ہاں بیٹا ہم نے ہیڈ آفس کال کی تھی تمھیں پتہ ہے بھائ صاحب نے حادیہ کی شادی کی تاریخ تہہ کردی ہے اس سے بات کرکے یہی بات کرنی وہ اگر ممکن ہو تو چھٹیاں لے کے آجاۓ تھوڑی دیر کے لیۓ گھر کی شادی ہے سب کچھ ان لڑکوں نے ہی کرنا ہے وہ پھپھو کی بات سن کے خوش ہوگئ وہ خود بھی تو اس سے بات کرنا چاہتی تھی تبھی جلدی سے بولی پھپھو میں آجاؤں آپکے وہاں میں بھی اس سے بات کرلونگی اتنے دن ہوگۓ میں بھی اسے مس کررہی ہوں ہاں ہاں تالیہ بیٹی تم آجاؤ پھپھو کے کہنے پہ وہ جھولے سے چھلانگ لگاکے اتری ٹھیک ہے پھپھو کب تک آئیگا اسکا فون دیکھو بیٹا بات تو تمہارے انکل نے کی شاید صبح کال کرنے کی اجازت ملے گی اسے اس نے وقت دیکھا رات کے دس بج رہے تھے وہ پھپھو کو اپنے آنے کی اطلاع دے کے اندر کی جانب بڑھ گئ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گئ جلدی سے کپڑے بدلے ایک سوٹ بیگ میں رکھا اور باہر اگئ عاصفہ بیگم نے جب اسے بیگ کے ساتھ آتے دیکھا تو گھبرا گئیں تم اس وقت کہاں جارہی ہو.
ہاں میں زرا پھپھو کے گھر جارہی ہوں لیکن بیٹا اس ٹائم اچانک ہاں مما میرا دل گھبرا رہا ہے گھر میں آپ پلیز گل خان کو کہیں مجھے چھوڑ آۓ عاصفہ بیگم نے اسے یوں سنجیدہ دیکھا تو بنا اور کوئ سوال کیۓ انہوں نے گل خان کو گاڑی نکالنے کا کہہ دیا وہ پوچھتیں اس سے پہلے اس نے خود ہی بتادیا میں ایک دو روز میں آجاؤںنگی انہوں بس اثبات میں سر ہلا دیا. تالیہ گاڑی میں آکے بیٹھی تو اسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کسی شکنجے سے بچ نکلی ہو.
"مجھ کو معلوم نہ تھی عشق کی یہ رمز کہ
تو جب میرے پاس نہ ہوگا تو ہر سو ہوگا"🦋
اس نے سیٹ سے پشت ٹکا کے آنکھیں موند لیں سالار کے جانے کے بعد پھپھو قریب ہی ایک سوسائٹی کے بنگلے میں شفٹ ہوگئ تھیں پھپھو کا نیا گھر آدھے گھنٹے کی مصافت پہ تھا گاڑی رکنے کی آواز پہ اس نے آنکھیں کھولیں سامنے ہی پھپھو کا خوبصوت بنگلہ تھا وہ گاڑی سے اتری اور ایک نظر چاروں اطراف میں ڈالی پھولوں کی باڑ ناریل اور کھجور کے درخت موگن ویلیا ہریالی نے پورے گھر کو ڈھانپ رکھا تھا اسٹریٹ لائٹ اور لیمپ جو دروازے کے کناروں پہ جل رہے تھے انکی مدھم روشنی میں چمکتی سالار ولا کی نیم پلیٹ وہ اسکا نام پڑھ کے دھیمے سے مسکرادی اسکا ایک اپنا ذاتی گھر خریدنے کا خواب وہ جانتی تھی اور یہ گھر اس نے اپنے سامنےتیار کروایا تھا وہ یہاں اسے کئ بار لایا تھا جب یہ گھر زیر تعمیر تھا اب گھر مکمل تھا اور اسکو بنوانے والا خود بہت دور وہ بیبی جی آپکا بیگ گل خان کی آواز پہ وہ چونکی اور بیگ اسکے ہاتھ سے لے کر بیل بجائ شاید پھپھو ملازم کو اسکے آنے کا بتاچکی تھیں تبھی وہ اسے مؤدب سا اندر لے آیا اندر آکے اسکی سب سے پہلے نظر شزا پہ پڑی وہ اسکے چھوٹے چاچو کی نک چڑھی بیٹی تھی اور کیونکہ وہ خود بھی زرا سرپھری تھی تبھی دونوں کی کبھی نہیں بنی تھی. تالیہ نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کیا تو شزا نے کچھ منہ بگاڑ کہ جواب دیا وہ اسے نظر انداز کرتی پھپھو سے گلے ملی اور باتوں میں مشغول ہوگئ کھانا وہ کھا کے آئ تھی تبھی پھپھو نے چاۓ پہ اچھا خاصہ انتظام کرلیا تھا وہ شرمندہ ہونے لگی سوری پھپھو آپکو اس وقت پریشان کیاارے چندہ پریشانی کیسی میرا سالار نہیں ہوتا گھر میں تو پورا دن یونہی بور گزرتا ہے وہ ہوتا تھا تو ہر وقت شور شرابا مچاۓ رکھتا تھا ارے ہاں پھپھو سالار سے یاد آیا سالار کل کال کریگا نہ ہاں بیٹا بولا تو ہے آفیسر نے تمھارے انکل سے کل بات کروائینگے شزا کو تالیہ کا یوں آنا بہت کھل رہا تھا وہ بچپن سے سالار کی محبت میں گرفتار تھی مگر سالار کو تالیہ کے علاوہ کوئ دکھتا ہی نہیں تھا اور یہی بات اسے تالیہ سے حسد میں مبتلا کرتی تھی ابھی بھی وہ چاہتی تھی سالار کی کال آنے سے پہلے تالیہ کو یہاں سے کسی طرح غائب کردے تبھی طنزیہ لہجے میں بولی تو تالیہ تم صرف سالار سے بات کرنے کے لۓ یہاں آئ ہو دیکھ لیں پھپھو اسے آپ سے کوئ محبت نہیں ہے ارے نہیں میری بیٹی مجھ سے ملنے آئ ہے اور ظاہر ہے سالار بچپن کا دوست ہے اسکی غیر موجودگی میں یہ بھی بور ہوگئ ہوگی تالیہ خاموشی سے ان دونوں کی گفتگو سن رہی تھی تبھی پھپھو نے کہا چلو اب تم دونوں آرام کرو دو بج رہے ہیں وہ دونوں اثبات میں سر ہلاتی گیسٹ روم کے کمروں کی جانب مڑ گئیں. صبح اسکی آواز کسی چیز کے ٹوٹنے سے کھلی ایک منٹ تو اسے سمجھ ہی نہیں آیا وہ کہاں ہے پھر دھیرے دھیرے اسے یاد آیا وہ پھپھو کے گھر میں ہے تبھی اس نے آس پاس دیکھا مگر کچھ ٹوٹنے کی آواز باہر سے آئ تھی وہ باہر نکل آئ تو دیکھا پھپھو ملازمہ پہ برس رہی تھیں سلام پھپھو کیا ہوا ارے بیٹا برتن ٹیبل پہ رکھنے کو کہا تھا ان محترمہ نے اس ہفتے میں دوسرا گلاس توڑا ہے اس نے ملازمہ شنو کو دیکھا اور بولی چلیں کوئ بات نہیں پھپھو آپ نے ناشتہ کرا نہیں بیٹا میں تمھیں ہی اٹھانے آرہی تھی.جاؤ تم فریش ہوکے آؤ میں ناشتہ نکلواتی ہوں وہ اثبات میں سر ہلاتی کمرے میں آگئ فریش ہوکے وہ ٹیبل پہ آئ تو پھپھو کو منتظر پایا وہ دونوں مل کے ناشتہ کرنے لگیں آدھے گھنٹے بعد سالار کے والد سید ابرار شاہ بھی آگۓ وہ سب مل کے باتیں کرنے لگے ٹھیک گیارہ بجے سالار کی کال آگئ سب سے پہلے پھپھو نے بات کی پھر انکل نے دس منٹ بعد پھپھو اور انکل کو چونکہ ڈاکٹر کے پاس جانا تھا پھپھا دل کے مریض تھے اور پھپھو ہر ہفتے انہیں باقائدگی سے چیک اپ کے لۓ لے کہ جاتی تھیں ابھی بھی سالار سے بات ہوتے ہی فون اسکے ہاتھ میں تھماکے وہ لوگ جاچکے تھے تالیہ کی دل کی ڈھرکن بہت تیز ہورہی تھی "ہیلو ہیلو تالیہ اوہ میرے خدا شکر ہے تم یہیں ہو ورنہ میں سوچ رہا تھا تم سے بات کیسے کروں اور تالیہ اسکے تو آنسو ہی نہیں رک رہے تھے اسکی آواز سن کے چند لمحوں بعد وہ بےتابی سے بولا ہیلو تالیہ تم ہو نا لائن پہ جی کیسے ہو تم کب آؤگے میں بہت یاد کرتی ہوں تمھیں بہت مس کررہی اتنے دن ہوگۓ تم سے لڑے ہوۓ اور وہ جو غور سے سنتا اسکی باتیں دل میں اتار رہا تھا اسکے آخری جملے پہ قہقہے لگا کہ ہنس دیا مطلب سیدہ تالیہ حیدر تم مجھے صرف اس وجہ سے مس کررہی ہو کیونکہ ہمیں لڑے ہوۓ بہت دن ہوگۓ ہاں تو اچھا تو اپنے دل سے پوچھو کیا وہ بھی صرف لڑنے کے لۓ مجھے مس کررہا اسکی گھمبیر آواز ماؤتھ پیس سے آئ تو وہ لب کچلنے لگی نہیں صرف لڑنا نہیں ہے سالار بہت ساری باتیں کرنی ہیں بہت کچھ بتانا ہے سالار بابا میری بات پکی کررہے ہیں پلیز تم اس سب کو روکو میں نے بہت روکا لیکن وہ میری نہیں سن رہے وہ یہ کہہ کے رونے لگی کل کا دبایا لاوا اب باہر آیا تھا سالار شوکڈ تھا وہ ماموں سے ایسی امید نہیں رکھتا تھا تبھی تالیہ کے رونے کی آواز پہ بے چین یوا تم فکر نہ کرو میں اسی ہفتے آرہا ہوں تم بس کسی طرح انہیں روک کے رکھو ہیلو سن رہی ہونا تالیہ تم میری ہو اور انشآللہ میری ہی بنوگی بس میرے ساتھ کھڑی رہو میں آکے ماموں سے بات کرتا ہوں ٹھیک ہے ہمم چلو کال کا ٹائم ختم ہورہا ہے اپنا خیال رکھنا اوکے ہمم اوکے اپنا خیال رکھنا اور جلدی آنا میں تمھارا انتظار کررہی ہوں.اوکے اللہ حافظ.
اوکے تالیہ اللہ حافظ اسکے ساتھ ہی ٹوں ٹوں کی آواز آنے لگی شاید اسکی کال کا وقت ختم ہوگیا تھا شزا جب تک آئ وہ فون رکھ چکی تھی شزا سخت چڑی جلدی اٹھتے اٹھتے بھی وہ لیٹ ہوگئ تھی اس نے ایک چبھتی ہوئ نظر تالیہ پہ ڈالی تمھاری کیا بات ہوئ سالار سے کچھ خاص نہیں سلام دعا ہوئ اسے مختصر جواب دے کے وہ اپنے کمرے میں آگئ ابھی وہ بس سالار کی کہی باتوں کو سوچنا چاہتی تھی اس سے بات کرکے دل ہلکا پھلکا ہوگیا تھا جیسے اسے یقین تھا وہ آکے سب ٹھیک کردے گا.
"میرا کمال، میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگ
ایک باکمال شخص میری دسترس میں ہے"❤️
سالار شاہ کو سوچتے سوچتے اسکی ناجانے کب آنکھ لگ گئ پھر اسکی آنکھ فون کی آواز سے کھلی اسنے مندی مندی آنکھوں سے موبائل دیکھا تو مما کی کال تھی اسنے بے دلی سے کال لی جی سلام دعا کے بعد مما نے اس سے آنے کا پوچھا تو اسنے کل واپس آنے کا کہہ دیا آصفہ بیگم سوچتی رہیں پھر ہمت کر کے بولیں تالیہ تم تیار ہوجاؤ لیکن کیوں مما بیٹا رسم کا جوڑا لینے جانا ہے ہمدان تمھیں پک کرنے آرہا ہے تھوڑی دیر میں وہ جو ابھی مکمل نیند سے بیدار نہیں ہوئ تھی انکی اس بات پہ اسکا دماغ بھک کرکے اڑا مما مجھے کہیں نہیں جانا پلیز مجھے مزید اذیت مت دیں بات کرتے کرتے اسکا لہجہ تلخ ہوگیا تھا تبھی آصفہ بیگم کو بھی غصہ آگیا تم اور تمھارا باپ بیٹھ کے ڈیسائٹ کرلو تم لوگوں کو کرنا کیا ہے مجھے بخش دو باپ شادی کی تاریخ تہہ کررہا ہے اور بیٹی رازی ہی نہیں مجھے بھی بتادو میں کیا کروں تم سے بھی سنوں تمھارے باپ سے بھی اخر میں وہ آبدیدہ ہوگئیں تو تالیہ کو اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہوا سوری مما لیکن مجھے نہیں جانا نہ حمدان کے ساتھ تالیہ میرے پاس ایک آئیڈیا ہے آصفہ بیگم کے کہنے پہ وہ سیدھی ہوکے بیٹھی کیسا آئیڈیا مما بیٹا تم حمدان کے ساتھ جاؤ وہ اچھا خاصہ پڑھا لکھا روشن خیال نوجوان ہے تم اس سے خود بات کرو کے فلحال تم شادی کرنا نہیں چاہتی کیا پتہ وہ مدد کردے کوئ تالیہ کو انکا آئیڈیا دل پہ لگا ارے ہاں مما یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں لوو یو مما وہ خوش ہوکے بولی تو عاصفہ بیگم مسکرادیں بس بیٹا خیال سے کہیں بات بننے کی جگہ بگڑ ہی نہ جاۓ ڈونٹ وری مما انشأللہ سب اچھا ہوگا اچھا آپ یہ بتائیں حمدان یہیں پھپھو کے گھر آۓ گا مجھے لینے ہاں میں نے اسے ایڈریس بھیج دیا تھا آدھے گھنٹے میں آتا ہوگا تم جاؤ جلدی سے تیار ہو اوکے مما دعا کریں سب اچھا ہو اوکے اللہ حافظ مما فون رکھ کے وہ تیار ہونے چلی گئ وہ تیار ہوکے باہر آئ تو پھپھو کو لان میں بیٹھا دیکھا وہ سیدھا انکے پاس ہی چلی آئ پھپھو نے اسے یوں تیار دیکھا تو پوچھنے لگیں بیٹا کہیں جارہی ہو جی پھپھو وہ میں حمدان کے ساتھ جوڑا لینے جارہی ہوں شزا جو وہیں بیٹھی تھی حمدان نام سن کے چونکی یہ حمدان کون ہے بیٹا تالیہ کا منگیتر ہے شزا بری طرح اچھلی اوہ یہ کب ہوا ہاں بس بھائ صاحب نے اچانک ہی فیصلہ کرلیا ورنہ میری تو کچھ اور ہی خواہش تھی پھپھو افسردہ سانس بھرتے بولیں انکے خاندان میں اس سے بھی پیاری لڑکیاں تھیں شزا اس سے کئ زیادہ خوبصورت تھی مگر سب تیز طرار جدید فیشن کی شوقین تھیں تالیہ ان سب میں مختلف تھی سانولی رنگت بڑی بڑی آنکھیں ساتواں ناک مناسب سراپا اسے جاذب نظر بناتا تھا اسکی سادگی ہی سالار شاہ کو اسکی جانب کھینچتی تھی پھپھو کو وہ شروع سے عزیز تھی اور بیٹے کے دل کا حال بھی وہ کسی حد تک جانتی تھیں تبھی جب انہیں تالیہ کا رشتہ ہوجانے کی بات پتہ چلی تو انہیں دلی صدمہ ہوا تھا. گاڑی کے ہارن کی اواز پہ وہ اپنے خیالوں سے چونکیں شاید حمدان آگیا تھا تالیہ ان سے ملتی باہر کی جانب چلی گئ. جب کے شزا کے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا آگے اس نے کیا کرنا ہے اس نے سوچ لیا تھا اب تو بس اسے سالار کے آنے کا انتظار تھا. وہ گاڑی میں اکے بیٹھی تو حمدان نے اسے سلام کیا وہ ہولے سے جواب دیتی کھڑکی کے باہر دیکھنے لگی حمدان نے کچھ دیر اسکے بولنے کا انتظار کیا پھر خود ہی کھنکھار کے اسے متوجہ کیا ویسے کونسے برانڈ پہ چلنا ہے اسکے پوچھنے پہ تالیہ خالی ذہن اسے دیکھتی رہی حمدان نے اسکے اگے چٹکی بجائ پھر ہلکے پھلکے لہجے میں بولا لگتا ہے میں نے بہت مشکل سوال پوچھ لیا آپ سے نہیں وہ اصل میں کچھ خاص برانڈ کانشس نہیں ہوں پھر کچھ سوچ کے بولی کیوں نہ پہلے آئسکریم کھالیں حمدان کو اسکا فرمائش کرنا اچھا لگا چلو کچھ تو بولیں محترمہ وہ دل میں کہتے اس نے گاڑی آئسکریم پالر کی جانب موڑ لی آئسکریم پالر پہنچ کے اسنے گاڑی پارک کی وہ دونوں پالر کے اندر داخل ہوۓ اور ایک جانب بیٹھ مینیو کارڈ اٹھاتے حمدان نے اس سے فلیور پوچھا تو اسے بے ساختہ سالار شاہ یاد آیا اسے تالیہ کی ہر پسند نہ پسند حفظ تھیں انہیں کبھی ایک دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑھتی تھی وہ باہر جاتے تب بھی سالار اسکی پسند کا آرڈر خود ہی دے دیا کرتا جس پہ اکثر وہ چڑ جاتی تھی ضروری نہیں میں ہمیشہ یہی کھاؤں اچھا تمھیں اور کچھ منگوانا تو منگوالو وہ کہتا تو وہ نفی میں سر ہلادیتی کیوں کے وہ تکہ بریانی کے آگے واقعی کچھ نہیں کھاتی تھی وہ وہ تو بس اسے زچ کرنے کی کوشش کرتی تھی لیکن مجال ہے وہ چڑتا ہو حمدان نے ٹیبل بجائ تو وہ حال میں واپس آئ سامنے سالار شاہ کی جگہ حمدان آفریدی بیٹھا تھا اسکے منہ میں کڑواہٹ گھل گئ تبھی چاکلیٹ فلیور بتاتے یہاں وہاں دیکھنے لگی ویٹر کے جانے کے بعد وہ اسکی جانب متوجہ ہوا ہمم تو کیسی ہیں آپ میں ٹھیک ہوں ایک بات پوچھوں آپ سے تالیہ جی پوچھیں تالیہ آپ اس رشتے سے خوش تو ہیں نہ تالیہ بس اسے دیکھ کے رہے گئ.
"میں دھنوں اور اقتباسات کی تلاش میں گھنٹوں صرف کرتی ہوں
صرف ان لفظوں کو ڈھونڈنے کے لیے جو میں کہہ نہیں سکتی"🦋✨
حمدان کے براہ راست پوچھنے پہ تالیہ نے اس سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ کیا. ہمم حمدان اگر میں یہ کہوں کے نہیں مجھ سے نہیں پوچھا گیا اس رشتے میں میری راۓ کو اہمیت ہی نہیں دی گئ تو حمدان جو غور سے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا تالیہ کی بات پہ بے ساختہ ہنس دیا تالیہ نے اسے حیرت سے دیکھا وہ تو کچھ اور امید کررہی تھی اس سے حمدان نے اسے یوں خود کو حیرت سے تکتے دیکھا تو سنبھل کے بولا تالیہ دیکھو سچ تو یہ ہے میں بھی ابھی ان سب چکروں میں نہیں پڑھنا چاہتا میرے خود کے کچھ گولز ہیں ہمارا خاندانی بزنس تو ہے ہی لیکن میں خود سے کچھ کرنا چاہتا ہوں تبھی میں نے اپنا سائٹ بزنس شروع کیا ہے میرا بزنس ابھی رن ہوا ہے اور میں اسے مزید بڑھانا چاہتا ہوں مگر مما کو پتہ نہیں کیا میری شادی کروانے کا جنون سوار ہوگیا اچانک سے اور انہوں نے آپکو فائنل بھی کردیا وہ بات کرتے کرتے اسے بڑی گہری نظروں سے اپنی باتوں پہ اسکے تاثرات جانچ رہا تھا تالیہ دل ہی دل میں خوش ہورہی تھی چلو شکر اس معاملے تو کم سے کم قدرت میرے ساتھ ہے تبھی حمدان کی طرف دیکھ کے بولی تو آپ یہ منگنی روک دیں منع کردیں اپنے بڑوں کو آپکو کیا لگتا میں نے نہیں سمجھایا ہوگا انہیں بہت سمجھایا باۓ دا وے مجھے کہہ رہی ہیں میڈم انکار تو آپ بھی کرسکتی تھیں اسکی بات پہ تالیہ نے لمبی سانس لے کہ سر نفی میں ہلایا آپکی طرح میری بات میرے بڑے نہیں سمجھ رہے میں ہر طرح کی کوشش کرچکی ہوں ویسے مجھے ابھی شادی کرنے پہ اعتراز ہے آپ سے شادی کرنے میں نہیں حمدان کی پرشوق نگاہوں سے وہ خفیف سی ہوکے یہاں وہاں دیکھنے لگی. تو پھر بتائیں تالیہ منگنی کا جوڑا لینے چلیں یا نہیں میرے کچھ سمجھ نہیں آرہا حمدان پلیز کچھ کریں تم کیوں منع کررہی ہو کیا کسی اور کو پسند کرتی ہو اسکی بات پہ تالیہ کا رنگ اڑا مگر وہ خود کو بے پروا ظاہر کرتی بولی نہیں ایسی کوئ بات نہیں بس میں اپنی پڑھائ مکمل کرکے جاب کرنا چاہتی ہوں اور دو سال تک کم سے کم شادی نہیں کرنا چاہتی میرے بھی کچھ خواب ہیں جنہیں مجھے پورا کرنا ہے مگر ہمارے بڑوں کو کون سمجھاۓ اس نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا تو حمدان نے کہا میرے پاس ایک آئیڈیا ہے تالیہ کیسا آئیڈیا دیکھو فلحال ہم منگنی کرلیتے اسکی بات پہ تالیہ نے اسے گھورا تو وہ سنبھل کے بولا پوری بات تو سن لو ہم منگنی کرلیتے تم اپنی پڑھائ کے ساتھ جاب کرنا میں آرام سے ترکی چلا جاؤنگا اپنا بزنس ویسے ہی مجھے وہیں رن کرنا ہے جب میں تین چار سال نہیں آؤنگا تو ظاہر ہے تمھارے والدین خود منگنی توڑ دینگے کیسا اس نے داد طلب نظروں سے تالیہ کو دیکھا تو وہ بھی متاثر نظر آئ ہمم یہ ٹھیک ہے چلو پھر بوتیک چلتے سوٹ لینے انہوں نے بوتیک سے سوٹ لیا پھر حمدان نے اسے گھر ڈراپ کیا وہ اسکا شکریہ کرتے گاڑی سے اترنے لگی تو حمدان نے کہا سنو اپنا نمبر دے دو آگے کا پلان میں میسج کردونگا اس نے اثبات میں سر ہلا کے اسے اپنا نمبر لکھوایا پھر جانے لگی تو حمدان نے کہا سنو وہ جلد سے جلد گھر جانا چاہتی تھی تبھی اسکے دوبارہ روکنے پہ جھنجھلا گئ اب کیا ہے ارے وہ بس یہ کہہ رہا تھا مکرنا مت حمدان نے شرارت سے کہا تو وہ اسے گھورتی نیچے اتر گئ پھر ونڈو پہ جھک کے بولی میں تو نہیں بھولوں گی آپ بھی یاد رکھیے گا یہ معاہدہ حمدان نے اثبات میں سر ہلا کہا اوکے باس اور گاڑی بھگا لے گیا وہ جب تک وہاں کھڑی رہی جب تک اسکی گاڑی انکھوں سے اوجھل نہیں ہوگئ حمدان سے ملاقات سے پہلے وہ جتنی مضطرب تھی اس سے ملاقات کے بعد وہ اتنی ریلیکس تھی اسکے سر سے بوجھ ہٹ گیا تھا شکر حمدان نے اسکی بات سمجھ لی تھی وہ ہلکا پھلکا محسوس کررہی تھی تبھی اچھے موڈ میں گھر میں داخل ہوئ عاصفہ بیگم نے جب اسے خوش اور مطمئن دیکھا تو وہ بھی پرسکون ہوگئیں انہیں نہیں پتہ تھا کہ انکی بیٹی کے دماغ میں کیا چل رہا ہے.
"ہم نغمہ سرا کچھ غزلوں کے
ہم صورت گر کچھ خوابوں کے"♥️🦋
دوسرے دن وہ ناشتے پہ بھی کافی فریش تھی حیرد شاہ نے جب اسے اتنی صبح ناشتے کی ٹیبل پہ دیکھا تو بولے بھئ یہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے آصفہ بیگم آج لوگ بنا اٹھاۓ خود اٹھ گۓ انکی بات سن کے وہ دھیرے سے مسکرادی بس بابا رات جلدی سوگئ تھی تبھی جلدی آنکھ کھل گئ. دوسری طرف سالار شاہ تالیہ کو سرپرائس دینا چاہتا تھا تبھی بنا بتاۓ چھٹی لے کے آگیا وہ جب گھر میں داخل ہوا تو امی لان میں شزا کے ساتھ بیٹھی تھیں شزا کو دیکھ کے اسے سخت کوفت ہوئ ایک تو اسے اپنے گھر میں چین نہیں ہے یہاں تو اسکے سائز کا کوئ ہے بھی نہیں پھر بھی پتہ نہیں کیوں ہر وقت یہاں رہتی وہ کوفت سے سوچتا آگے بڑھا اور امی کو سلام کیا وہ تو اسے یوں اچانک سامنے دیکھ کے ہی سکتے میں چلی گئیں میرا بچہ میرا سالار وہ اسکے چوڑے سینے سے لگیں تھیں سالار شاہ کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں زندگی میں پہلی بار وہ اتنے عرصے کے لیے اپنے اپنوں سے یوں دور ہوا تھا. تبھی اسے وہ دشمن جاں یاد آئ تو نظریں یہاں وہاں اسے تلاش کرنے لگیں اسے اپنے نہ بتاکے آنے کا افسوس ہوا کم سے کم بتاکے آتا تو آتے ہی وہ سامنے تو ہوتی اب تو شام میں ہی اسے وہ چہرہ نظر آئیگا جس کے لۓ وہ یہ سب مسافتیں تے کررہا تھا.
محبتیں بھی مقدر میں درج ھوتی ھیں
کسی کا رزق کسی اور کو نہیں ملتا🤎🦋✨
ارے میرا بچہ یوں اچانک میرے سامنے آگۓ دل خوش ہوگیا سچ میں تمھیں بہت یاد کررہی تھی میں جانتا ہوں امی میں نے بھی آپکو بہت یاد کیا سالار نے آہستہ سے ماں کو شانوں سے پکڑ کے کرسی پہ بٹھایا اور خود انکے پاؤں کے پاس انکی گود میں سر رکھ کے بیٹھ گیا وہ اسکے بال سہلاتی رہیں. چوڑی پیشانی سیاہ سلکی بال جو ہمیشہ وہ ایک خاص طرح سے جما کے بناتا تھا بھرے بھرے ہونٹ ساتواں کھڑی ناک گہری براؤن آنکھیں جو مقابل کو اپنی جانب کھینچتی تھیں ہلکی بڑھی ہوئ شیو چوڑے شانے کسرتی بدن دراز قد وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا اسکی ماں کو اس پہ فخر ہوا انہوں نے بہت لاڈ سے اسکے ماتھے پہ پیار کیا تو وہ بند آنکھوں سے دھیمے سے مسکرادیا چلو اٹھو سالار وہاں کیا وہ لوگ کھانا نہیں دیتے کمزور ہوگۓ ہو اللہ کو مانیں امی اب فٹ ہوا ہوں پہلے تو آپ نے کھلا کھلا کے مجھے موٹو بنانے میں کوئ کسر نہیں چھوڑی تھی آپکو پتا ہے پانچ کلو وزن کم کیا ہے میں نے بھاگ بھاگ کے ہیں پانچ کلو ہاۓ میرا بچہ وہ تو دہل گئیں اسے پتہ تھا اب امی کا لیکچر شروع ہونے والا ہے تبھی بھوک کا شور مچادیا وہ بھی فورن کچن کی جانب بڑھ گئیں. اتنے دنوں بعد ماں کے ہاتھ کا پلاؤ کباب اس نے خوب سیر ہوکے کھاۓ کھانے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کرنے اپنے کمرے میں آگیا دراز سے اپنا موبائل نکال کے اس نے سوچا کیا اسے اپنے آنے کی اطلاع تالیہ کو دینی چائیے نہیں جو مزا اچانک سامنے جانے میں ہے وہ موبائل پہ نہیں اس نے دل کی آواز پہ لبیک کہتے موبائل واپس رکھ دیا اور سوگیا اسکی آنکھ مغرب کی اذان کی آواز سے کھلی وہ چونک ے اٹھا ٹائم دیکھا تو فورن بستر چھوڑ کے فریش ہونے چلا گیا اب بس اسے تالیہ سے ملنے کی جلدی تھی ایش گرے شرٹ اور بلیک جینز میں سلیکے سے جیل سے بال جماۓ اس نے اپنا ایک تنقیدی جائزہ لیا آئینہ بتارہا تھا کہ وہ جابز نظر لگ رہا ہے تبھی اپنی تیاری سے مطمئن ہوتا وہ امی کے کمرے کی جانب جانے لگا کہ اسے راستے میں شزا مل گئ وہ اس سے کترا کے نکلتا اس سے پہلے شزا نے اسے سلام کرلیا سالار نے مروت میں اسکا حال چال پوچھا اور پھر وہاں سے جانے لگا شزا لپک کے اسکے پیچھے گئ سالار آپ کیا حیدر ولا جارہے ہیں سالار نے بیزاری سے اثبات میں سر ہلا دیا اچھاااا تالیہ کو فون کرکے پوچھ لیتے وہ گھر میں ہے یا آج بھی حمدان کے ساتھ گئ ہوئ شزا نے اسے تپایا اور وہ واقعی سلگ بھی گیا کون حمدان اور تالیہ کیوں جاۓ گی اسکے ساتھ ارے ہاں آپ تو تھے ہی نہیں یہاں آپکو کیا پتہ آپکے پیچھے کیا سے کیا ہوگیا کہنا کیا چاہتی ہو شزا واضع کہو سالار سے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں کہا تو شزا طنزیہ مسکرائ میں تو بس آپکو یہ بتانا چاہتی تالیہ نے آپکو دھوکا دیا ہے وعدے آپکے ساتھ کیے اور منگنے حمدان کے ساتھ کررہی ہے کل تو دونوں باہر بھی گۓ تالیہ یہیں سے گئ اسکے ساتھ کافی تیار ہوکے اور دونوں خوش بھی لگ رہے تھے اچھا کپل ہے دونوں کا شزا نے جان پوچھ کے اسے بھڑکایا سالار اسکے قریب آیا تو شزا ایک قدم پیچھے ہوئ ماۓ ڈیئر کزن تالیہ حیدر سالار شاہ کی تھی اور سالار شاہ کی ہی رہے گی تمھیں میری فکر میں دبلا ہونے کی ضرورت نہیں مجھے بہت اچھے سے پتہ یہ سب کیا ہورہا اور میں یہی سب روکنے آیا ہوں مائنڈ اٹ شزا پہ ایک بے تاثر نظر ڈال کے وہ حیدر ولا جانے کے لیۓ نکل گیا اور شزا اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ تالیہ کو آگ لگادے وہ اتنا دھیان سے تیار ہوئ تھی بلیک نیٹ کی فراک کھلے کرل کیے بال نیچرل میک اپ کانوں میں جھمکے اسے حسین بنارہے تھے کوئ بھی مرد اس پہ دل ہار سکتا تھا مگر سالار شاہ کے علاوہ. پتہ نہیں اس سانولی سی تالیہ میں ایسا کیا ہےجو سالار شاہ جیسا مرد اس کے پیچھے یوں پاگل ہے وہ جھلی تھی وہ نہیں جانتی تھی عشق خوبصورتی سے نہیں ہوتا جس سے عشق ہوجاۓ وہ ساری کائنات سے زیادہ خوبصورت لگتا ہے.
"نگاہ یار میں وہ زیر غور ہوتے ہیں
عشق والوں کے تو تیور ہی اور ہوتے ہیں"♥
وہ جب حیدر ولا پہنچا تو سب کھانا کھارہے تھے اسنے سلام کیا تو سب سے پہلے آصفہ بیگم نے اسے دیکھا ارے سالار بیٹا آیا ہے برخوردار کب ہوئ واپسی بس چچا جان صبح ہی آیا ہوں چلو اچھا ہوا اب آۓ ہو تو تالیہ کی منگنی میں شرکت کرکے ہی جانا انکی بات پہ اس نے لب بھینچ لیے آصفہ بیگم نے گھبرا کے سالار کو دیکھا پھر فورن اسے کھانا دینے لگیں نہیں چچی جان میں کھانا کھا کے آیا ہوں اچھا چلو یہ کبابتو کھاؤ میرے ہاتھ کے بہت پسند ہیں نہ تمھیں وہ دوپہر میں پلاؤ کباب کھا چکا تھا مگر چچی کے کہنے پہ ایک کباب اٹھاکے اسکے چھوٹے چھوٹے لقمے لینے لگا اسے تالیہ کی غیر موجودگی کھل رہی تھی اور وہ یوں چچا جان جے سامنے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا تبھی چپ بیٹھا رہا کہ شاید وہ اندر ہو پر کھانا کھانے کے بعد جب چاۓ بھی پی لی اور تالیہ تب بھی نہیں آئ تو اسے بےچینی شروع ہوگئ چچا جان کی کوئ کال آئ تو وہ اٹھکے نوفل کے پاس چلا آیا ارے سالار بھائ آئیں نہ بیٹھیں بہت اچھا میچ چل رہا ہے وہ میچ کا شدائ تھا تبھی سالار نے پوچھا یہ تالیہ کہاں ہے بدتمیز ائ نہیں مجھ سے ملنے ارے سالار بھائ تالیہ آپی گھر میں ہونگی تو آئینگی نہ ہیں کیا مطلب وہ کہاں ہے سالار بھائ وہ تو حمدان بھائ کے ساتھ جیولر کے پاس گئیں ہیں مما بھی جاتیں پر آج بابا جلدی آگۓ تو مما نے آپی کو بھیج دیا نوفل لاپروائ سے بتاتا دوبارہ میچ میں گم ہوچکا تھا اور سالار شاہ سے اپنا غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا وہ سیدھا باہر نکلتا چلا گیا آصفہ بیگم نے اسے یوں جاتے دیکھا تو پیچھے لپکیں ارے سالار میں حلوہ بنارہی ہوں تمھارے لیے لہاں چل دیۓ نہیں چچی جان مجھے کچھ دوستوں کے ساتھ جانا یے میں بس اب نکلونگا یہ کہتا وہ انکی ارے ارے ان سنا کرتا نکلتا چلا گیا فلحال وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا یہاں آنے سے پہلے وہ جتنا خوش تھا اب اتنا ہی ہر چیز سے بےزاریت ہورہی تھی ایسا نہیں تھا کہ اسے تالیہ پہ بھروسہ نہیں تھا لیکن بس وہ اچھا فیل نہیں کررہا تھا.🍂
تالیہ جب واپس آئ تو اسے عاصفہ بیگم سے سالار شاہ کے آنے کا پتہ چلا اسکے آنے کی خبر سن کے اسکا دل چاہا وہ اڑ کے اسکے پاس پہنج جاۓ اسے افسوس ہونے لگا کے اگر آج وہ گھر میں ہوتی تو وہ اسے دیکھ کے کتنا خوش ہوتا اسنے سالار شاہ کو کال کی اس وقت سالار سڑکوں پہ مارا مارا پھر رہا تھا فلحال اسکا گھر جانے کا کوئ ارادہ نہیں تھا تالیہ کی کال پہ اسنے غصے میں کال کاٹ دی وہ ابھی کسی سے بھی بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا. ہیں میری کال کٹ کردی تالیہ نے حیرت سے فون اسکرین کو گھورا وہ اسے ہمیشہ خود ہی فون کرتا تھا اور اگر کبھی تالیہ فون کرلیتا تو کرلیتی تو وہ اتنا خوش ہوتا اور آج کال کاٹ دی وہ سوچوں میں گم تھی شاید میری غیر موجودگی کی وجہ سے ناراض ہے چلو کوئ بات نہیں کل جاکے منالونگی جناب کو وہ خود کو تسلی دیتی سونے لیٹ گئ. دوسرے دن وہ ناشتہ کرتے ہی پھپھو کے گھر جانے کے لۓ تیار تھی اسے یوں تیار جلدی جلدی ناشتہ کرتے دیکھا تو عاصفہ بیگم پوچھنے لگیں کہیں جارہی ہو بیٹا جی مما میں پھپھو کے گھر جارہی ہوں آپ پلیز گل خان کو کہہ دیں مجھے چھوڑدے اچھا بیٹا میں بولتی ہوں کب تک واپسی ہوگی مما میں کال کردونگی جیسا بھی ہوگا چلو ٹھیک بیٹا خیال سے جاؤ وہ مما کو پیار کرتی گاڑی کی طرف بڑھ گئ پھپھو کے گھر پہنچی تو وہاں سناٹا تھا وہ سب کو ڈھونڈتی پھپھو کے کمرے کی طرف آئ تو اپنا نام سن کے رک گئ پھپھو سالار سے کہہ رہی تھیں دیکھو سالار تم میرے اکلوتے بیٹے ہو مجھے بھی شوق ہے تمھاری شادی کا لیکن امی میں آپکو بتا چکا مجھے تالیہ کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کرنی دیکھو بیٹا پہلے کی بات اور تھی میری بھی یہی خواہش تھی کہ تالیہ ہی میری بہو بنے مگر اب بیٹا اسکی منگنی ہورہی ہے وہ اپنے منگیتر کے ساتھ شاپنگ کررہی ہے اسکا مطلب وہ خوش ہے میرے بچے امی پلیز ایسا کچھ نہیں ہے اس سب جے پیچھے بھی کوئ حکمت عملی ہوگی.بیٹا تم سب جانتے سراب کے پیچھے بھاگو مجھے یہ قبول نہیں دیکھو اپنے ارد گرد دیکھو اور بھی لڑکیاں ہیں ہمارے خاندان میں شزا بھی اتنی پیاری بچی ہے میں نے فیصلہ کرلیا ہے میں بھائ صاحب سے شزا کا ہاتھ مانگونگی تمھارے لیۓ امی پلیز آپ ایسا کچھ نہیں کرینگی مجھے شادی کرنی ہی نہیں وہ غصے میں ٹیبل کو ٹھوکر مارتا نکلا تو تالیہ فورن سائٹ ہوگئ اسکا دماغ کام نہیں کررہا تھا وہ تو سالار شاہ کو منانے آئ تھی سب ٹھیک ہونے کے بجاۓ بگڑتا جارہا تھا وہ خاموشی سے پھپھو کے گھر سے باہر آگئ فلحال وہ ابھی پھپھو کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی وہ مین روڈ پہ اپنے خیالوں میں چل رہی تھی اسے فلحال کوئ حل سمجھ نہیں آرہا تھا تالیہ نے اپنا موبائل نکالا اور حمدان کو کال کی ہیلو حمدان تالیہ ہاں بولو حمدان ہم مل سکتے ہیں ابھی اس ٹائم سب خیریت ہے ہاں بس تم مجھے پک کرلو اسنے راستہ بتاکے فون آف کردیا اور پیڑ کے نیچے بیٹھ کے سارے حالات پہ غور کرنے لگی پھپھو اور سالار کی باتیں ابھی تک اسکے کانوں میں گونج رہی تھی اسکی آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی. ایسا تو نہیں سوچا تھا ہم نے سالار ہماری محبت کو کس کی نظر لگ گئ ہمارے خواب بکھرتے جارہے ہیں پتہ نہیں کب سب ٹھیک ہوگا. ڈھلتی دھوپ میں پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھی وہ اداس لڑکی کسی اداس غزل کاحصہ لگ رہی تھی.
اداس چہرہ
مخمور آنکھیں
زلف غزل کی لام جیسی
اک لڑکی
میٹھی دھن سی وہ صوفیانہ کلام جیسی ہے.🦋✨
حمدان نے وہاں پہنچ کے جب اسے یوں نڈھال سا بیٹھے دیکھا تو اسکے دل کو دھکا لگا بھلے اسے ابھی شادی نہیں کرنی تھی تالیہ سے فو کیا کسی سے بھی نہیں مگر ان کچھ دنوں میں تالیہ اسکی بہت اچھی دوست بن گئ تھی اسے یوں بکھرتا دیکھ کے اسے بھی اچھا فیل نہیں ہورہا تھا اچھا اٹھو گاڑی میں بیٹھو حمدان نے ایک کافی شاپ پہ گاڑی روک دی کافی اور سینڈوچز کا آرڈر دے کے وہ اسکی جانب متوجہ ہوا ہاں تالیہ اب بتاؤ کیوں پریشان ہو حمدان میں تم سے جھوٹ موٹ کی بھی منگنی نہیں کرسکتی پلیز یہ سب روک دو اتنا کہہ کے وہ پھوٹ پھوٹ کے رودی حمدان نے اسے رونے دیا اچھا ہے غبار نکل جاۓ وہ مرد تھا اسے اتنا فرق نہیں پڑھتا لیکن سامنے بیٹھی لڑکی بہت حساس ہے اس بات کا اندازہ اسے کچھ دن میں ہی ہوگیا تھا وہ دل سے چاہتا تھا یہ لڑکی خوش رہے. سالار شاہ جو کچھ دوستوں کے ساتھ کافی شاپ آیا تھا تالیہ کو کسی مرد کے ساتھ بیٹھے دیکھ کے اسکے ماتھے پہ بل پڑ گۓ وہ اپنے دوستوں سے معذرت کرتا انکی ٹیبل کی طرف آیا اور عین تالیہ کے سامنے جاکے کھڑا ہوگیا تو یہ ہے حمدان مجھے سب نے کہا تم خوش ہو اس رشتے سے مگر میں ہی پاگل نہ مانا تم پہ اعتبار ہی اتنا تھا اور اس تھا پہ تالیہ ساکت ہوئ سالار میری بات سنو جیسا تم سمجھ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے شٹ اپ تالیہ حیدر میرا ضبط مزید مت آزماؤ ایسا نہ ہو میری محبت نفرت میں بدل جاۓ اور تالیہ تو اسی سرد آنکھوں میں دیکھ کے ہی مرنے کے برابر ہوگئ تھی جن آنکھوں میں ہمیشہ محبت دیکھی ہو ان آنکھوں میں نفرت دیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا اس میں سالار جھٹکے سے مڑا اور کیفے سے نکلتا چلا گیا تالیہ جیسے ہوش میں آئ سالار میری بات سنو اسے لگ رہا تھا آج اگر وہ اسکے پیچھے نہ گئ تو سالار شاہ کو ہمیشہ کھودیگی وہ اسکے پیچھے بھاگ رہی تھی سالار گاڑی نکال رہا تھا وہ سڑک پار کرتی اسکے پیچھے بھاگتی اس سے پہلے گاڑی اسے ہٹ کرکے جاچکی تھی ایکسیڈنٹ اتنا شدید تھا وہ اچھل کے گری اسکا سر فتھ پات سے ٹکرایا سالار جو گاڑی آگے بھگانے والا تھا اسکی چیخ پہ ساکت ہوگیا تالیہ وہ بھاگتا اسکے پاس آیا سڑک تالیہ حیدر کے خون سے رنگتی جارہی تھی اور سالار شاہ اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہورہی تھی.
اب حالِ دل نہ پوچھ کہ تابِ بیاں نہیں
اب مہرباں نہ ہو کہ ضرورت نہیں رہی.🖤
سالار کی حالت خراب ہورہی تھی اسکے ہاتھوں میں واضع لرزش تھی تالیہ آئ سی یو میں تھی وہ اور ہمدان کوریڈور میں سانس روکے بیٹھے تھے. جانتے ہو وہ مجھ سے کیوں مل رہی تھی تاکے وہ یہ رشتہ ہونے سے روک سکے وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے اس نے کبھی تمھارے بارے میں بتایا نہیں مجھے لیکن وہ میرے سامنے بیٹھی ٹیبل پہ اپنے پوروں سے تمھارا نام لکھ رہی تھی مجھے سالار سمجھ آیا تب مجھے اس شخص پہ رشک آیا تھا جسے تالیہ جیسی لڑکی چاہتی ہے حمدان کی بات پہ سالار نے ہونٹ بھینچ لیۓ اسے بہت دیر سے اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تھا. اور سالار شاہ تم نے کیا کیا تم نے اس پہ یقین ہی نہیں رکھا ایسا نہیں ہے مجھے اس پہ خود سے زیادہ یقین حمدان کی بات پہ سالار تڑپ اٹھا یقین ہوتا تو اسے یوں بےاعتبار نہ کرتے حمدان کے تلخ لہجے پہ سالار نے لمبی سانس لے کے خود کو پرسکون کیا کوئ اور وقت ہوتا تو وہ حمدان سے شاید لڑجاتا مگر اس وقت وہ ذہنی طور پہ بہت ڈسٹرب تھا. گھر میں سب تالیہ کے واپس آنے کے منتظر ہونگے سالار نے ماتھا سہلاتے سوچا اسے گھر میں اطلاع دینی چائیے اسنے حیدر شاہ کو کال کی سلام دعا کے بعد اس نے مختصر لفظوں میں انہیں احوال بتایا. تالیہ کے ایکسیڈنٹ کا پتہ چلتے ہی حیدر ولا میں بھونچال آگیا تھا عاصفہ بیگم کا رو رو کے برا حال تھا سب بڑے اسپتال پہنچ چکے تھے اور بے صبری سے ڈاکٹر کی آمد کے منتظر تھے. حیدر جاکے دیکھیں نا ڈاکٹر باہر کیوں نہیں آرہے میری تالیہ ٹھیک تو ہوجائگی نہ حیدر وہ حیدر شاہ کے شانے سے لگی سسک رہی تھیں حیدر شاہ نے بہت مشکل سے خود کو سنبھالا ہوا تھا انہوں نے عاصفہ بیگم کا شانہ تھپکا فکر مت کرو عاصفہ ہماری تالیہ کو کچھ نہیں ہوگا. ڈاکٹر کو باہر آتا دیکھ کے سب اسکی طرف لپکے ڈاکٹر میری بیٹی ٹھیک تو ہے نہ حیدر شاہ نے بے چینی سے پوچھا. دیکھیں ہم اپنی کوشش کررہے ہیں خون بہت زیادہ بہہ گیا ہے اور انکا سر کسی پتھر کے ٹکرانے کی وجہ سے انکے سر میں شدید چوٹیں آئ ہیں اگلے ارتالیس گھنٹے بہت اہم ہیں انکا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے ورنہ...ورنہ کیا ڈاکٹر سالار نے بے چینی سے پوچھا ورنہ یہ کوما میں بھی جاسکتیں آپ بس دعا کریں انہیں ہوش آجاۓ ڈاکٹر کی بات پہ وہاں موجود ہر شخص ساکت ہوا تھا اور سالار شاہ اسے لگ رہا تھا اندر لیٹے وجود کے ساتھ اسکی سانسیں بھی مدھم ہوتی جارہی تھی.
زخم پر اوڑھ کے مرہم کا لبادہ رکھا
ہم نے فریاد کے عنوان کو سادہ رکھا،
شدّت ِعشق کوکیا روئیں کہ ہم نے دل میں،
درد ِدنیا بھی ضرورت سے زیادہ رکھا،
دائرہ ایک تیرے گرد بنانے کے سوا،
دل کی پرکار نے ہر زاویہ ادھا رکھا،
وقت کے ہاتھ نے اس طور سے مہرے بدلے
خانہ شاہ میں قسمت نے پیادہ رکھا.
اسکے کان میں تالیہ کی آوازیں گونج رہی تھیں جب وہ اس سے ناراض ہوتا تب وہ منہ پھولا کے ہمیشہ کہتی تھی جب نہیں ہونگی نہ میں تب قدر ہوگی تمھیں میری سالار شاہ اور وہ تیوڑی چڑھا کے بولتا تھا کیوں تم کیوں نہیں ہوگی کیونکہ تم مجھ سے ناراض ہوجاتے ہر بات پہ کبھی میں مناتے مناتے تھک جاتی ہوں جس دن میں ناراض ہوگئ نہ سچ والا تم ڈھونڈتے رہوگے اور وہ آج اسے ڈھونڈ رہا تھا اسکے ساکت وجود میں اپنی چنچل سی تالیہ کو تلاش کررہا تھا جب گھٹن ہد سے سوا ہوئ اسنے ان ساکت وجود کو جھنجھوڑ دیا اٹھوں تالیہ اٹھ جاؤ یار خدا کی قسم کبھی ناراض نہیں ہونگا اٹھ جاؤ میں نہیں دیکھ سکتا تمھیں ایسے مت کرو نہ میرے ساتھ ایسے تمھیں ترس نہیں آرہا ہاں خود تو تم آرام سے سورہی ہو میری حالت پہ ترس نہیں آتا نا تمھیں. تالیہ کو کومے میں گۓ بیس دن ہوچکے تھے اس نے کسی کو وہاں رکنے نہیں دیا تھا ڈیوٹی گھر کھانا پینا اسے کسی بات کا ہوش نہیں تھا وہ ایک لمحے کے لیے اسے اکیلا چھوڑ کے نہیں گیا تھا. اصر کی نماز پڑھنے وہ سجدے میں گیا تو سسک پڑھا میرے مالک مجھے اسے لوٹادے میرے مولا اسے زندگی عطا کر میرے مالک اسے صحت دے اسکے لبوں سے بس تالیہ کی سالامتی کی دعا نکل رہی تھی.
"صوت کی لہر گئی، اذن کا دھارا بھی گیا
یار اب کے تو شن و گفت کا یارا بھی گیا
کون مانے گا مرے دوست کہ تو تھا ہی نہیں
تو دیکھا بھی گیا اور تو پکارا بھی گیا
چار ماہ ہاں پورے چار ماہ ہوگۓ تھے تالیہ حیدر کو کوما میں ڈاکٹر بھی اب مایوس ہوتے جارہے تھے مگر سالار شاہ مایوس نہیں تھا اسے اپنے رب کی ذات پہ یقین تھا وہ دونوں جہانوں کا مالک اسے مایوس نہیں کرے گا اسے بس اس کن کا انتظار تھا. ان چار ماہ نے اسے سر تا پیر بدل دیا تھا اسنے ڈیوٹی سے چھٹیاں لے لی تھیں جسکی خواہش پہ وہ فوج میں گیا تھا جب وہ خود ہوش میں نہیں تھی تو سالار شاہ کو کہاں سے ہوش آتا وہ بس اسپتال میں رہتا یا پاس بنی مسجد میں. بڑھی ہوئ شیو آنکھوں کے گرد ہلکے تھکا تھکا سا وہ چار مہینے پہلے والے سالار شاہ سے یکسر مختلف تھا جس کے دم سے شرارتیں تھیں وہ تو روٹھ گئ تھی اس سے وہ بس شدت سے اسکی واپسی کا منتظر تھا.
"ہم نہ ہوئے تو کوئی افق مہتاب نہیں دیکھے گا
ایسی نیند اُڑے گی پھر کوئی خواب نہیں دیکھے گا"
نماز پڑھ کے اسکے قدم قلندر کے مزار کی جانب مڑ گۓ وہ بہت دیر تک گم سم سا مزار کی سیڑھیوں پر بیٹھا رہا اسکے شانے پہ کسی نے ہاتھ رکھا تو وہ چونکا سامنے ایک نورانی شکل کے بزرگ ہاتھوں میں کھجور لیۓ کھڑے تھے سالار نے انکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ شفقت سے مسکرادیۓ اور اسکے برابر میں بیٹھ کے بولے پتر زندگی اسی کا نام ہے کئ لوگ آتے ہیں کئ چلے جاتے. لیکن میں اسے کھونا نہیں چاہتا سالار بےچینی سے بولا بیٹا تم کھونا نہیں چاہتے تو رب سے دل سے اپنے اور اسکے لۓ بہتری مانگو کہیں ایسا تو نہیں تمھاری دعائیں اسے روکے رکھی ہوں مگر ساتھ وہ تکلیف میں بھی ہو تم دعا مانگو جو تم دونوں کے حق میں بہتر وہ ہوجاۓ انکی بات پہ وہ تڑپ اٹھا اسنے سامنے دیکھا تو وہ بزرگ جاچکے تھے لیکن سوچ کے کافی دروازے کھول دیۓ تھے اسنے وضو کیا اور مزار کے احاطے میں ہی نوافل ادا کرنے کھڑا ہوگیا "میرے مالک اسے لمبی زندگی دے اسکے اور میرے حق میں بہتری کر میرے مولا دعا مانگتے مانگتے اسکی ہچکی بندھ گئ وہ چھ فٹ اونچا پرکشش نوجوان کسی بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کہ رو رہا تھا.
"ﮐﺒﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ
ﻭﺟﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﻋﺎﻟﻢ
ﺑﺲ ﺗُﻮ ﮨﯽ ﺗُﻮ ، ﺗُﻮ ﮨﯽ ﺗُﻮ ﺍﻭﺭ ﺗُﻮ ﮨﯽ ﺗُﻮ ﮐﺎ ﻋﺎلم"🖤
سالار شاہ کی عرضی پے مالک دو جہان نے کن کہہ دیا تھا اسکے رب نے اسے مایوس نہیں کیا تھا اسکی دعائیں شرف قبولیت پاگئیں تھیں چار ماہ سترہ گھنٹے بعد تالیہ حیدر کو ہوش آگیا تھا ڈاکٹرز حیران تھے اسپتال سے سب کو سالار صبح ہی بھیج چکا تھا ڈاکٹر تالیہ کے گھر والوں کے منتظر تھے سالار اسپتال آیا تو اسے سڑھیوں پہ ہی حیدر شاہ مل گۓ. حیدر شاہ ان چار ماہ میں کافی کمزور ہوگۓ تھے تالیہ کی حالت ان سے دیکھی نہیں جاتی تھی انکی بلبل ایسی خاموش ہوئ تھی کہ وہ اسکی آواز سننے کو ترس گۓ تھے. وہ دونوں جب واٹ میں داخل ہوۓ ڈاکٹر نے انہیں تالیہ کے ہوش میں آنے کی خبر دی سالار وہیں سجدے میں جھک گیا اسکے رب نے اسکی دعاؤں کی لاج رکھلی تھی سالار نے حیدر شاہ کو اس سے ملنے بھیجا تو وہ نفی میں سر ہلا کے بولے پہلے تم جاؤ بیٹا سالار اثبات میں سر ہلاتا روم میں داخل ہوا سامنے وہ دشمن جان انکھیں چھت پہ ٹکاۓ گہری سوچ میں گم تھی ان چار ماہ میں وہ بہت کمزور ہوگئ تھی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے گندمی رنگت سنولا گئ تھی مگر سالار شاہ کو وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی لگی. وہ دھیرے سے اسکے پاس آکے کھڑا ہوا اور ہولے سے بولا تالیہ اتنا تنگ کوئ کرتا ہے تالیہ نے اسے دیکھا بڑھی ہوئ شیو سرخ آنکھیں وہ اندازہ کرسکتی تھی وہ اسکی پریشانی میں کس حال میں رہا ہوگا تبھی ہولے سے بولی سالار مجھ سے نفرت مت کرووہ سسک اٹھی میں نہیں سہہ سکتی تمھاری بے اعتباری حمدان بس تالیہ میں جان گیا ہوں میں غلط تھا اب اور بات نہیں اس بارے میں تمھیں پتا ہے کتنا ترس گیا تھا میں تم سے لڑنے کے لۓ اچھااا جی اب بھی لڑنے کے لۓ تالیہ نے اسے گھورا تو وہ دونوں نم آنکھوں سے ہنس دیۓ عشق نے کڑا امتحان لیا تھا مگر وہ دونوں سرخرو ٹھہرے تھے سالار نے طمانیت سے اسکی پیشانی پے لب رکھے ہمیشہ تنگ کرتی ہو مگر اس بار جان نکال دی تم نے ایک آنسو سالار کی آنکھ سے گرا تو تالیہ نے اسکا ہاتھ تھپک کے اسے تسلی دی دی. اب تو ٹھیک ہوں میں ہمم رکو میں آتا ہو چچا باہر انتظار کررہے وہ باہر آیا تو حیدر شاہ منتظر تھے چچا جان ایک گزارش ہے سالار انکے قدموں میں بیٹھ گیا بولو بیٹا چچا جان میں تالیہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں ابھی اور اسی وقت لیکن سالار اسکی منگنی کیسی منگنی چچا جان حمدان آپکو ساری حقیقت بتاچکا ہے آپ کو اب بھی کوئ امید اسکی واپسی کی حیدر شاہ کو ادراک تھا انکی بیٹی کی بھی یہی خوشی تبھی اثبات میں سر ہلاتے سبکو فون کرنے لگے ٹھیک ایک گھنٹۓ بعد مولوی صاحب تالیہ حیدر اور سالار شاہ کا نکاح پڑھا رہے تھے سب بڑوں کے چہروں پہ طمانیت تھی خاص کر عاصفہ بیگم آج بہت خوش تھیں ان دونوں کا نکاح ہوا تو ہر طرف مبارک بعد کی آوازیں گونجنے لگی سب افراد باہر چلے گۓ تو تالیہ نے منہ پھیر لیا کیا بات ہے بیگم سالار منہ کیوں پھلایا ہوا ہے سالار نے اسے چھیڑا تو وہ چڑ کے بولی بھئ اسپتال میں کوئ شادی کرتا ہے بھلا میں نے تو اتنی ڈھولکی کرنی تھیں اپنی شادی پہ سالار اسے پرانی تالیہ کی طرح لگی آج کتنے عرصے بعد وہ اپنی ٹون میں واپس آئ تھی تبھی اسے چھیڑتے ہوۓ بولا یہ بولو نہ تمھیں بل بتوری بننے کا شوق پالر سے ڈاین بن کے آنا تھا تمھیں اور اپنی سہیلیوں کے سامنے شوخیاں مارنی تھی سالار کی بات پہ وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی کیونکہ بات تو واقعی یہی تھی اسکے یوں نظریں چرانے پہ وہ قہقہہ لگا کے ہنس دیا. اچھا تم ڈسچارج ہوجاؤ اسپتال سے پھر سارے شوق پورے کرینگے ہم اپنے ٹھیک ہے ہمم اور سنو ہمم کہو وہ نہ بل بتوڑی بھی بن جانا تم وہ معصومیت سے بولا تو تالیہ نے اسے کھینچ کے مکا مارا تم سالار شاہ میں تمھیں کچا کھا جاؤنگی نہیں یار تھوڑا سا پکا لینا اور ٹیسٹی لگونگا اسکی بات پہ وہ اسے گھورنے لگی دونوں کی نظریں ملی اور دونوں کے قہقہے ایک ساتھ اس اسپتال کے کمرے میں گونجے. بآخر انہوں نے ایک دوسرے کو ایک طویل انتظار کے بعد پالیا تھا آگے خوشیاں انکی منتظر تھیں.❤️
ﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﺎﮦ ﻋﺸﻖ ﮨﮯ، ﺻﺪﺭِﺻُﺪﻭﺭ
ﻋﺸﻖ
ﺩﺭﺑﺎﺭِﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﺖ ﻧﺸﯿﮟ ﮨﮯ ﺣُﻀﻮﺭ
ﻋﺸﻖ
ﺍﺱ ﺣُﺴﻦِ ﺧﻮﺵ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺗﺠﻠّﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ
ﻟﮕﺎ
ﻣﻮﺳﯽٰ ﮨﻮﮞ، ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺳﺮِﮐﻮﮦِ ﻃُﻮﺭ
ﻋﺸﻖ
ﺍﺱ ﺑﺎﺭ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗُﺠﮭﮯ
ﺑﻠﻘﯿﺲ ! ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ﺗُﺠﮫ ﮐﻮ ﺿُﺮﻭﺭ
ﻋﺸﻖ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺯُﻟﯿﺨﺎ ﯾﮩﯽ ﺧﻠﻞ
ﻣﻨﺼﻮﺭ ﺗﯿﺮﮮ ﺳَﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﻓُﺘﻮﺭ ﻋﺸﻖ
ﺻﺤﺮﺍ، ﻧﻮﺭﺩﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﭙﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻗﯿﺲ ﮐﻮ
ﮐﭽّﮯ ﮔﮭﮍﮮ ﭘﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻋُﺒﻮﺭ ﻋﺸﻖ
ﻓﺮﮨﺎﺩ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﯿﺸﮧ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﮨﮯ
ﺷﯿﺮﯾﮟ! ﺗُﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﭼُﻮﺭ ﭼُﻮﺭ
ﻋﺸﻖ
ﺭﺍﻧﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺟُﺮﻡ ﻓﻘﻂ ﮐﺎﺭِﻋﺸﻖ ﮨﮯ
ﮨﯿﺮﮮ! ﺗﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ "ﻗُﺼﻮﺭ "
ﻋﺸﻖ🖤🥀
(ختم شد)
If you want to read More the Beautiful Complete novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read Youtube & Web Speccial Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read Famous Urdu Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about
Tu Ashna E Shiddat Gham Novel
Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Tu Ashna E Shiddat Gham written by Syeda Honey. Tu Ashna E Shiddat Gham by Syeda Honey is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.
Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply
Thanks for your kind support...
Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels
Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.
۔۔۔۔۔۔۔۔
Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link
If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.
Thanks............
Copyright Disclaimer:
This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

No comments:
Post a Comment