Chaya Hai Jo Dil Pe By Madiha Shah Epi 2 Romantic Forcad Marrige Novel - Madiha Shah Writes

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Wednesday, 4 November 2026

Chaya Hai Jo Dil Pe By Madiha Shah Epi 2 Romantic Forcad Marrige Novel

Chaya Hai Jo Dil Pe By Madiha Shah Epi 2 Romantic Forcad Marrige  Novel

Madiha Shah Writer ; Urdu Novels Stories

Novel Genre : Romantic Urdu Novel Enjoy Reading…

chaya hai jo dil pe by madiha shah epi 2

Novel Name : Chaya Hai Jo Dil Pe

Writer Name : Madiha Shah

 Novel ; Cousine Foraced Marrige 


چھایا ہے جو دل پہ

تحریر ؛۔ مدیحہ شاہ

قسط نمبر 2 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ رشتے خون سے بنتے ہیں، کچھ محبت سے۔۔۔ اور کچھ رشتوں کے درمیان ایسی غلط فہمیاں آ جاتی ہیں 

کہ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے کے دل کی بات نہیں سمجھ پاتے۔ 

شاہ ولا میں بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ یہاں ایلاف  کی شرارتوں پر ہنسی بکھرتی تھی، رعاد کے ایک گھورنے پر سب سیدھے ہو جاتے تھا

اور چند مسکراتے چہروں کے پیچھے ایسی کہانیاں چھپی تھیں جن سے ابھی سب ناواقف تھے۔

ایلاف ۔۔۔۔۔۔۔ رکو۔۔۔۔۔ گاڑی کے رکتے ہی ایلاف جلدی سے دروازہ کھول  باہر نکلنے لگی کہ پیچھے سے رعاد کی آواز آئی۔

یا اللہ۔۔۔۔۔۔ یہ انسان مجھے گھر پہنچ کر بھی سکون سے نہیں رہنے دے گا۔۔۔۔ جی۔۔۔۔رعاد  بھائی۔۔۔۔اب کیا رہ گیا ہے۔۔۔بازار تو آ گئے۔۔۔۔۔خریداری بھی ہو گئی۔۔۔۔آپ کے سارے اصول بھی سن لیے۔۔۔::اب کیا میری حاضری لگانی ہے۔۔۔۔۔ایلاف  آنکھیں بند کرکے آسمان کی طرف دیکھ سوچ  پلٹتے زبردستی مسکراتے ہوئے بولی۔

یہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔ رعاد اس کی باتوں کو اگنور کرتے  اس کے ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ کی طرف دیکھ پوچھ گیا 

کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔ ایلاف  بیگ کو اپنے پیچھے چھپاتے جلدی سے بولی 

ایلاف ۔۔۔۔۔ وہ چباتے بولا 

جی۔۔۔۔۔۔وہ فرمابرداری سے بولی 

بیگ دکھاؤ۔۔۔۔۔۔ وہ حکم دے گیا 

کیوں۔۔۔۔۔۔وہ بھی ایلاف تھی اتنی جلدی کیسے مان جاتی 

کیونکہ میں نے تمہیں صرف ضروری چیزیں خریدنے کے لیے کہا تھا۔۔۔۔۔ وہ غصے سے گھورتے بولا 

تو یہ ضروری ہی ہیں۔۔۔۔۔۔ ایلاف بیگ اپنے سینے سے لگاتے بولی 

کیا خریدا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ مزید بحث چھوڑ پوچھ گیا 

ایک کلپ۔۔۔۔۔۔۔دو چوڑیاں۔۔۔۔۔۔۔۔ایک چھوٹی سی ڈائری۔۔۔۔۔۔ایک پرفیوم اور۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بتاتے اچانک خاموش ہو گئی۔

اور۔۔۔۔۔ سالار نے بھنویں اٹھائیں۔

اور ایک چاکلیٹ۔۔۔۔۔۔۔وہ سوچتے بولی 

بس۔۔۔۔ وہ پھر پوچھ گیا 

جی بس۔۔۔۔۔۔ ایلاف نے بےحد معصومیت سے سر ہلاتے ہامی بھری 

رسید دو۔۔۔۔۔۔ سالار نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا

رسید۔۔۔۔۔۔رعاد  بھائی۔۔۔۔۔۔میں نے کوئی زمین تو نہیں خرید لی جو آپ حساب مانگ رہے ہیں۔۔۔۔ ایلاف منہ کھولے بولی 

رسید ایلاف ۔۔۔۔۔اس پر کوئی اثر نہ ہوا وہ پھر مانگ گیا 

اللہ۔۔۔۔۔دکاندار نے بھی نہیں پوچھے تھے اتنے سوال جتنے آپ پوچھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ منہ بناتے بولی 

تو پھر تمہیں میرے ساتھ آنے سے پہلے ہی سوچ لینا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے بولا تو ایلاف نے اسے گھورا کہ پہلے تو زبردستی لے کر گیا اور اب بات ایسے  کر رہا جیسے وہ خوشی سے اس کے ساتھ گئی تھی 

یہ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میری زندگی کا حساب کتاب بھی کر لیں۔۔۔۔۔۔ پیدائش سے لے کر آج تک کی رسیدیں بھی منگوا دیتی ہوں۔۔۔۔ ایلاف بیگ سے رسید نکال اس کے ہاتھ میں تھماتے غصے سے بولی 

آئندہ ضرورت کی چیزیں پہلے خریدا کرو۔۔۔۔غیر ضروری چیزیں بعد میں۔۔۔۔۔ رعاد  رسید دیکھ  پھر اسے واپس کرتے ہوئے جیسے نصیحت کر گیا 

اور آئندہ میں آپ کے ساتھ کبھی بازار نہیں آؤں گی۔۔۔ایلاف نے رسید جھپٹ کر بیگ میں ڈالتے چباتے کہا 

بہت اچھا فیصلہ ہے۔۔۔۔۔۔ وہ کہتے اسے مزید چڑا گیا 

اور آپ سے بات بھی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ایلاف جیسے دھمکی دے گئی 

اس سے بھی اچھا فیصلہ ۔۔۔۔۔۔وہ ہلکا سا مسکراتے بولا 

اور آپ کے سامنے آؤں گی بھی نہیں۔۔۔۔وہ مزید چڑتے بولی 

یہ آخری بات یاد رکھنا۔۔۔۔۔۔ رعاد گاڑی کی چابی انگلی پر گھماتے جیسے اسے یاد رکھنے کا کہہ گیا 

ایلاف غصے سے پاؤں پٹختی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی۔

اللہ ہی حافظ ہے اس لڑکی کا۔۔۔۔۔ رعاد اسے جاتے دیکھ سر جھٹک گیا 

اسے کیا معلوم تھا کہ وہ جس لڑکی سے روز تنگ آتا تھا، ایک دن اسی کی خاموشی اسے پریشان کرنے والی تھی۔ 

فی الحال تو ایلاف کی ہر بات اسے ایک نیا امتحان لگتی تھی، اور ایلاف کے نزدیک رعاد بھائی دنیا کے سب سے سخت مزاج انسان تھے۔دونوں کو ابھی ایک دوسرے کو سمجھنے میں بہت وقت لگنا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرمد  بھائیییی۔۔۔۔۔۔ایلاف کی آواز سنتے ہی صوفے پر بیٹھے سرمد نے اخبار نیچے کر لیا۔

جی۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔۔اب کیا ہوا۔۔۔۔ایلاف آ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی 

آپ کو پتا ہے رعاد بھائی نے کیا کیا۔۔۔۔۔سرمد نے سکون سے اخبار تہ کیا۔

نہیں۔۔۔۔۔لیکن تمہاری شکل دیکھ کر لگ رہا ہے کہ یا تو انہوں نے تمہارا موبائل چھین لیا ہے یا تم نے ان کی کوئی چیز توڑ دی ہے۔۔۔۔وہ سوچتے اندازہ لگاتے بولا 

آپ کو ہر وقت میری برائی ہی کیوں نظر آتی ہے۔۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی کی بات سن مصنوعی غصے سے بولی 

کیونکہ تمہاری اچھائیاں تم خود اتنے شور سے بتاتی ہو کہ برائیاں تلاش کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے اسے چھیڑ گیا 

سرمد بھائی۔۔۔۔۔ وہ اب کے اتنا ہی بولی

جی۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اسی کے انداز میں بولا 

آپ میرے بھائی ہیں یا دشمن۔۔۔۔۔۔ایلاف پھر سے ہر بار والا سوال کر گئی 

بھائی ہوں۔۔۔۔۔۔۔اسی لیے تمہاری حرکتیں برداشت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی اور ہوتا تو کب کا گھر سے نکال چکا ہوتا۔۔۔۔۔ سرمد مسکراتے اپنی نادان بہن کو دیکھ اپنے سر پر ہاتھ رکھ گویا 

تو پھر اپنے بھائی ہونے کا حق ادا کریں اور مجھے چاکلیٹ کے پیسے دیں۔۔۔۔۔ ایلاف نے فوراً اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔

ابھی تو بازار سے آئی ہو۔۔۔۔۔ سرمد نے حیرت سے اسے دیکھتے کہا 

وہ تو رعاد  بھائی کی نگرانی میں خریداری تھی۔ یہ میری ذاتی خوشی کا معاملہ ہے۔۔۔۔ وہ منہ بناتے آخر کی بات پر مسکرائی 

تمہیں پیسے نہیں ملنے والے۔۔۔۔۔ سرمد ہنستے بولا 

اچھا۔۔۔۔۔تو میں دادی جان کو بتاؤں گی کہ آپ مجھے تنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ ایلاف منہ پھلاتے دھمکی دے گئی 

بتا دینا۔۔۔۔۔۔میں بھی بتاؤں گا کہ تم نے کل میرا چارجر چھپایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کہتے ساتھ ایلاف کو اس کی حرکت یاد دلا گیا 

وہ تو میں نے مذاق میں کیا تھا۔۔۔۔۔۔ ایلاف فوراً سیدھی ہوتے بولی 

تو چاکلیٹ کے پیسے بھی مذاق میں مانگ رہی ہو۔۔۔۔۔وہ اس کی بات اس پر ڈال پوچھ گیا 

آپ بہت برے ہیں۔۔۔۔ وہ چڑی 

یہ بات تم روز کہتی ہو، کوئی نئی بات بتاؤ۔۔۔۔۔ وہ فورا اسے یاد دلاتے بولا 

میں جا رہی ہوں۔۔۔۔۔ ایلاف  نے تکیہ اٹھاتے  اس کی طرف اچھالا 

دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔۔ سرمد جیسے اسے راستہ بتا گیا 

اور میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔۔ وہ جتا گئی 

ٹھیک ہے۔۔۔۔ وہ بتا گیا کہ وہ جانتا ہے 

آپ منائیں گے بھی نہیں۔۔۔۔۔ ایلاف  دو قدم چلتے پھر پلٹ کر بولی۔

تم ناراض ہوئی ہو۔۔۔۔تم ہی مناؤ مجھے۔۔۔۔ سرمد اپنی ہنسی دبائے بولا 

کیا مطلب۔۔۔۔۔ وہ ناسمجھی سے پوچھ گئی 

تمہاری ناراضی بھی تمہاری۔۔۔تمہارا منانا بھی تمہارا۔۔۔۔وہ اسے گھوما گیا

ایلاف اپنے بھائی کو گھور اوپر کی طرف چل دی۔جبکہ سرمد کی ہنسی لاؤنج میں گونجتی رہی

ایلاف اور سرمد کا رشتہ ایسا ہی تھا۔ سرمد عمر اور ذمہ داری میں ایلاف سے بڑا تھا، مگر ایلاف کے سامنے اس کی سنجیدگی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی تھی۔ 

والدین کے انتقال کے بعد اس نے اپنی بہن کے لیے بڑے بھائی کے ساتھ ساتھ ایک محافظ کا کردار بھی نبھایا تھا۔ 

وہ ایلاف کی شرارتوں پر ہنستا بھی تھا، اسے ڈانٹتا بھی تھا، مگر کسی کو اس کی دل آزاری کرتے دیکھتا تو سب سے پہلے اس کے سامنے کھڑا ہو جاتا۔

اور ایلاف وہ اپنے بھائی کی جان تھی، چاہے ہر روز اسی سے لڑتی کیوں نہ رہتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلاف ادھر آؤ۔۔۔۔۔میرے پاس بیٹھو۔۔۔۔۔زبیدہ بیگم کی آواز پر ایلاف  فوراً ان کے پاس جا بیٹھی اور ان کی گود میں سر رکھ دیا۔

جی میری پیاری نانو  جان۔۔۔۔۔۔ وہ مسکراتےبولی 

بازار سے کیا کیا لائی ہو۔۔۔۔ وہ پیار سے پوچھ گئی 

یہ دیکھیں۔۔۔۔۔۔۔چوڑیاں۔۔۔۔۔کلپ۔۔۔۔ڈائری اور پرفیوم۔۔۔۔ ایلاف  فخر سے شاپنگ بیگ کھولتے دیکھانا شروع ہوئی 

اور تمہارے رعاد بھائی نے کچھ کہا تو نہیں۔۔۔۔۔ زبیدہ بیگم نے مسکرا کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہمیشہ کی طرح پوچھا 

نانو ۔۔۔۔۔ان کا نام مت لیں۔۔۔۔میرا سارا موڈ خراب ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔ ایلاف فوراً سر اٹھاتے منہ بنا گئی 

کیوں بھئی۔۔۔کیا کیا اس نے۔۔۔۔۔وہ وجہ پوچھ گئی 

کیا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ہر چیز کی رسید مانگتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہر بات پر اصول بتاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی میں گانا نہیں سننے دیتے۔۔۔اور ایسے گھورتے ہیں جیسے میں نے کوئی بہت بڑا جرم کر دیا ہو۔۔۔۔وہ نان سٹاپ بولنا شروع ہوئی

وہ تمہاری بھلائی کے لیے ہی تو کہتا ہے۔۔۔۔۔۔ دادی جان ہنستے اسے سمجھا گئی 

تو پھر میری بھلائی کا اتنا شوق ہے تو مجھ سے بات ہی نہ کیا کریں۔۔۔۔۔ وہ فورا بولی 

اچھا۔۔۔۔۔بس کرو۔۔۔۔۔ تم دونوں کی نوک جھونک ختم ہونے والی نہیں۔۔۔۔۔زبیدہ بیگم نے بات ختم کی 

نانو جان۔۔۔۔آپ ہی مجھے سمجھتی ہیں۔۔۔۔۔ ایلاف دوبارہ ان کی گود میں سر رکھتے بولی 

ایلاف کی بات سن زبیدہ بیگم کی مسکراہٹ دھیرے دھیرے مدھم پڑ گئی۔ 

انہوں نے ایلاف کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ یہ وہی چہرہ تھا جس میں انہیں اپنی مرحوم بیٹی کی جھلک نظر آتی تھی۔ 

ایلاف کے بچپن سے لے کر اب تک، انہوں نے اسے اپنی آنکھوں کے سامنے بڑا ہوتے دیکھا تھا۔ 

وہ اس کی ہنسی سے گھر آباد محسوس کرتی تھیں اور اس کی اداسی سے ان کا دل بیٹھنے لگتا تھا۔

میری بچی۔۔۔۔تمہیں کبھی کوئی تکلیف ہو تو مجھ سے ضرور کہنا۔۔۔۔۔ وہ پیار سے کہہ گئی 

کون مجھے تکلیف دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ ہیں نا میرے ساتھ۔۔۔۔ ایلاف نے فوراً سر اٹھایا۔

ہاں میں ہوں۔۔۔۔اللہ کرے ہمیشہ رہوں۔۔۔۔۔ زبیدہ بیگم نے اسے اپنے سینے سے لگاتے دعا کی 

ایسی باتیں نہ کیا کریں۔۔۔۔۔نانو جان۔۔۔۔ایلاف نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔

آپ کو میرے بچوں کی شادیاں بھی دیکھنی ہیں۔۔۔۔ وہ شرارت سے بولی جبکہ زبیدہ بیگم  کی آنکھیں پھیل گئیں۔

اچھا۔۔۔۔۔۔پہلے خود تو بڑی ہو جاؤ بیٹا ۔۔۔۔ زبیدہ بیگم بولی 

میں بڑی ہوں۔۔۔۔پورے انیس سال کی۔۔۔۔ ایلاف  ہنس دی۔

ہاں۔۔۔۔ہاں، معلوم ہے۔۔۔۔مگر حرکتیں ابھی بھی چار سال کی بچی والی ہیں۔۔۔۔۔۔ وہ اسے یاد دلا گئی 

نانو  جان۔۔۔۔ وہ روہانسی ہوئی جبکہ پھر دونوں کی ہنسی کمرے میں پھیل گئی۔

مگر اس ہنسی کے پیچھے زبیدہ بیگم کے دل میں ایک مستقل خوف رہتا تھا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کھوئی تھی

اور اب ان کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ ایلاف اور سرمد کو زندگی میں دوبارہ کبھی تنہائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہیں ابھی نہیں معلوم تھا کہ وقت ایک دن انہیں اپنی اسی لاڈلی نواسی کے مستقبل کے بارے میں ایک ایسا فیصلہ سوچنے پر مجبور کرے گا جس کا خیال بھی آج ان کے ذہن میں نہیں تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کے وقت کامران شاہ اپنے کمرے میں داخل ہوئے تو فرزانہ شاہ الماری سے کپڑے نکال کر ترتیب دے رہی تھیں۔

فرزانہ۔۔۔۔۔تم سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔۔۔کامران شاہ نے دیکھ بات شروع کی 

کہیے۔۔۔۔۔۔۔ فرزانہ نے کپڑے تہ کرتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔

کل ایلاف  کے تایا اور چچا کے گھر سے لوگ آنے والے ہیں۔۔۔۔۔۔انہوں اپنی بیوی کو دیکھتے بتایا 

پھر۔۔۔۔۔۔ فرزانہ کے ہاتھ رک گئے۔

وہ بچوں سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔وہ اگلی بات کہہ گئے 

ملنے دیں۔۔۔۔۔کس نے منع کیا ہے۔۔۔۔۔ وہ بے نیازی سے بولی 

بات صرف ملنے کی نہیں ہے۔ وہ دوبارہ ایلاف اور سرمد کو اپنے ساتھ لے جانے کی بات کریں گے۔۔۔۔۔۔ کامران نے ان کی طرف دیکھتے دل کی بات کی 

اور آپ پھر انہیں سمجھاتے رہیں گے کہ بچے آپ کے پاس رہیں گے، وہ اپنی طرف سے دلائل دیتے رہیں گے، دادی جان جذباتی ہو جائیں گی اور آخر میں پورا گھر میدانِ جنگ بن جائے گا۔ فرزانہ کپڑے ایک طرف رکھتے بولی 

تم بات کو اتنا بڑھا کیوں دیتی ہو۔۔۔۔ وہ تھوڑا غصے سے پوچھ گئے 

میں بڑھاتی ہوں۔۔۔۔۔کامران۔۔۔۔۔۔ذرا اپنے گھر کے حالات بھی دیکھ لیا کریں۔ آپ کی والدہ کے لیے ایلاف اور سرمد سب کچھ ہیں۔ آپ بھی ان دونوں کے معاملے میں کسی کی بات نہیں سنتے۔ 

اور رعاد کو دیکھ لیں۔۔۔۔۔اسے ہر بار ان کے مسائل میں کودنا پڑتا ہے۔ اور پھر مجھ سے توقع کی جاتی ہے کہ میں بھی ان دونوں کو اپنے بچوں کی طرح قبول کروں۔۔۔۔ وہ پھر سے شروع ہوئی 

وہ میرے بچوں جیسے ہی ہیں۔۔۔۔فرزانہ میری مرحوم بہن کی امانت ہیں۔۔۔۔۔ کامران کا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔

میں نے کب کہا کہ انہیں گھر سے نکال دیں۔۔۔۔لیکن اس گھر میں پہلے ہی تین بچے ہیں۔۔۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ ہر وقت ان دونوں کی وجہ سے نئی بحث شروع ہو۔۔۔وہ اپنی دل کی بات بولی 

ایلاف اور سرمد کی وجہ سے نہیں۔۔۔۔۔ان کے بارے میں بڑوں کے اختلافات کی وجہ سے بحث ہوتی ہے۔ دونوں بچے اپنے والدین کو کھو چکے ہیں۔ انہیں مزید یہ احساس دلانے کی ضرورت نہیں کہ وہ کسی پر بوجھ ہیں۔ کامران نے آہستہ سے کہا۔

فرزانہ خاموش ہو گئیں، مگر ان کے چہرے سے ناگواری نہیں گئی۔

ان کی ناراضی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ایلاف اور سرمد کے والد کی طرف کے رشتے دار جب بھی آتے، گھر میں پرانے معاملات کھول کر بیٹھ جاتے۔ کبھی بچوں کی پرورش پر سوال اٹھتا، کبھی ان کی رہائش پر، اور کبھی یہ بحث شروع ہو جاتی کہ ان کا اصل حق کس خاندان پر زیادہ ہے۔

فرزانہ کو محسوس ہوتا تھا کہ ان کے گھر کا سکون ان اختلافات کی نذر ہو رہا ہے۔ آہستہ آہستہ ان کی ناراضی ان لوگوں سے بڑھ کر خود ایلاف اور سرمد کی طرف بھی آنے لگی تھی۔

وہ یہ فرق نہیں کر پا رہی تھیں کہ مسئلہ بچوں کا نہیں، ان کے گرد کھڑے بڑوں کا تھا۔

میں کل سب کے سامنے واضح کر دوں گا کہ بچوں پر کوئی زبردستی نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ اور پہلے جب اپنے بھائی کے لیے ان گھر جگہ نہیں تھی ۔۔۔۔ تو اب بچوں کے لیے کیسے آ گئی ۔۔۔۔۔ یہ سب وہ لوگ سرمد کے بزنس کے لیے کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔کامران نے ان کی خاموشی دیکھ کر بات ختم کرتے کہا

آپ جو مناسب سمجھیں کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مجھ سے یہ توقع نہ رکھیے گا کہ میں ہر بار مسکرا کر ان جھگڑوں کا استقبال کروں۔۔۔۔۔ فرزانہ نے دوبارہ کپڑے اٹھاتے بتا بھی گئی 

کامران نے جواب نہیں دیا۔

وہ جانتے تھے کہ فرزانہ کو سمجھانا آسان نہیں تھا، اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کے گھر میں ابھی بہت سی باتیں ایسی تھیں جنہیں وقت کے ساتھ سلجھانا ضروری تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام ڈھل رہی تھی۔ مہر اپنے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑی بالوں میں کنگھی کر رہی تھی، لیکن اس کی توجہ بار بار دروازے کی طرف جا رہی تھی۔

ایلاف  بستر پر لیٹی چپس کھا رہی تھی اور کافی دیر سے اسے دیکھ رہی تھی۔

مہر ۔۔۔۔۔ آخر اس نے چپس کا پیکٹ ایک طرف رکھتے کہا

ہوں۔۔۔۔۔ وہ ویسے ہی پوچھ گئی 

تمہیں کسی کا انتظار ہے۔۔۔۔۔ وہ اسے دیکھتے سوال کر گئ 

نہیں تو۔۔۔۔۔ مہر نے آئینے میں اسے دیکھتے فورا انکار کیا 

اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر پچھلے دس منٹ سے دروازے کو ایسے کیوں دیکھ رہی ہو جیسے وہاں سے کوئی شہزادہ آنے والا ہے ایلاف دیکھتے مسکراتے بولی 

تمہیں ہر بات میں مسئلہ کیوں ہوتا ہے۔۔۔۔ مہر نے کنگھی میز پر رکھتے کہا 

مجھے نہیں۔۔۔۔۔تمہیں مسئلہ ہے۔۔۔۔۔پہلے تم مسکرا رہی تھیں۔۔۔۔۔پھر فون دیکھ کر بال ٹھیک کرنے لگیں۔۔۔۔اور اب بار بار دروازہ دیکھ رہی ہو۔۔۔۔ ایلاف اٹھ کر بیٹھتے اس کی ساری کاروائی بتا گئی 

تمہیں کسی نے جاسوسی کرنے کی نوکری دی ہے۔۔۔۔ مہر نے اس کی طرف تکیہ پھینکا 

نہیں۔۔۔۔۔لیکن اگر تم مجھے اپنا راز بتا دو تو میں تمہیں مفت مشورے دے سکتی ہوں۔۔۔۔۔ ایلاف نے تکیہ پکڑ تے ساتھ اپنا ٹیلنٹ بتایا 

مجھے تمہارے مشوروں کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔ مہر نے فورا انکار کیا 

اچھا۔۔۔۔تو پھر میں سرمد بھائی کو بلا کر پوچھ لیتی ہوں کہ مہر آج اتنی تیار کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔۔وہ غور سے دیکھتے بولی 

سرمد  بھائی کو کیوں بتاؤ گی۔۔۔۔۔ مہر فوراً اس کی طرف پلٹتے پوچھ گئی 

اوہووو۔۔۔۔۔سرمد  بھائی کا نام سنتے ہی تمہارے کان کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔ ایلاف  کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

ایلاف خبردار۔۔۔۔۔۔وہ انگلی اٹھاتے بولی 

اچھااچھا۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں چھیڑتی۔۔۔۔۔۔ویسے ایک بات بتاؤں۔۔۔۔ ایلاف ہنس پڑی۔

اب کیا ہے۔۔۔۔مہر بیزار ہوتے پوچھ گئی 

تم جب کسی کو پسند کرتی ہو نا۔۔۔۔۔۔تو تمہاری شکل پر لکھا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ایلاف اسے دیکھتے بولی 

ایلاف کی بات سن مہر کی مسکراہٹ اچانک غائب ہو گئی کچھ لمحوں کے لیے اس نے نظریں جھکا لیں۔

وہ چاہتی تو ایلاف کو سب کچھ بتا سکتی تھی، مگر اس کے دل میں جو بات تھی، وہ ابھی اتنی آسان نہیں تھی کہ ہنستے ہوئے بیان کر دی جاتی۔مہر کو سرمد اچھا لگتا تھا۔

یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں تھی۔ سرمد کی سنجیدگی، اس کا اپنی بہن کا خیال رکھنا، گھر میں سب کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا اور ضرورت کے وقت ذمہ داری اٹھانا، یہ سب باتیں مہر کے دل میں آہستہ آہستہ جگہ بنا چکی تھیں۔

وہ جانتی تھی کہ اذلان اسے اپنی چھوٹی کزن اور ایلاف  کی دوست سمجھتا ہے۔ اس کی طرف سے کبھی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی جس سے مہر کو یقین ہوتا کہ وہ بھی اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے۔

اور مہر اپنے دل کی بات بتا کر اس خوبصورت رشتے کو عجیب نہیں بنانا چاہتی تھی۔

مہر کیا ہوا۔۔۔۔میں مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ایلاف اس کے چہرے پر بدلتے تاثرات دیکھے تو شرارت چھوڑ کر اس کے پاس اتے بولی 

کچھ نہیں۔۔۔۔بس ایسے ہی۔۔۔۔۔ مہر نے سر ہلایا۔

پکی بات۔۔۔۔۔وہ پھر پوچھ گئی 

ہاں۔۔۔۔بابا۔۔۔۔وہ اب کے مسکراتے اسے ہلکا محسوس کروا گئی 

اچھا۔۔۔۔ نہیں پوچھتی۔۔۔۔۔لیکن جب بھی کوئی بات ہو۔۔۔۔مجھے بتا دینا۔۔۔۔۔ ایلاف اس کے کندھے پر سر رکھتے اسے بتا گئی کہ وہ ہمشہ اس کے ساتھ ہے

تم بھی تو اپنی ہر بات مجھے بتاتی ہو۔۔۔۔۔ مہر نے اس کے گرد بازو پھیلا دیے۔

ہاں۔۔۔۔۔کیونکہ میری زندگی میں راز رکھنے جیسی کوئی دلچسپ چیز ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔ دونوں ہنس پڑیں۔

مہر۔۔۔۔۔ایلاف ۔۔۔۔۔نیچے آ جاؤ۔۔۔۔۔۔چائے تیار ہے۔۔۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔

سرمد  کی آواز سن کر مہر کے دل نے ایک بےاختیار سی چھلانگ لگائی۔

اچھااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب سمجھ آئی کہ تم دروازے کی طرف کیوں دیکھ رہی تھیں ایلاف نے فوراً اس کا چہرہ دیکھ مسکرا کر بولی۔

ایلاف ۔۔۔۔۔۔ وہ گھور گئی 

اچھا بھئی۔۔۔۔۔چلتی ہوں۔۔۔۔۔ایلاف بھاگ کر دروازے سے نکلی، مگر جاتے جاتے پلٹی۔

سرمد  بھائی۔۔۔۔مہر تیار ہے۔۔۔۔آپ کے لیے۔۔۔۔۔۔

ایلاف ۔۔۔۔ مہر کی چیخ پورے کمرے میں گونجی۔

تم دونوں کو کبھی سکون نہیں آ سکتا۔۔۔۔۔۔ باہر سرمد ہنس پڑا۔

نہیں بھائی۔۔۔۔۔یہ ہماری خاندانی بیماری ہے۔۔۔۔۔ ایلاف نے معصومیت سے جواب دیا۔

سرمد سر ہلاتا ہوا نیچے چلا گیا۔

مہر نے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا، پھر دھیرے سے مسکرا دی۔

اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ سرمد اس کی بات سن کر ہنسا تھا۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ ایک دن یہی مسکراہٹ اس کے لیے خوشی بھی بنے گی اور امتحان بھی۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیچے لاؤنج میں سب جمع تھے۔ دادی جان اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھی تھیں، کامران شاہ ان کے ساتھ تھے، جبکہ رعاد ایک طرف بیٹھا فون پر کسی ضروری کام کی بات کر رہا تھا۔

ایلاف  نے داخل ہوتے ہی سرمد کے پاس والی کرسی پر بیٹھنے لگی 

ایلاف پہلے ہاتھ دھو کر آؤ۔۔۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے رعاد نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔

رعاد بھائی۔۔۔۔میں ابھی اوپر سے ہی آئی ہوں۔۔۔۔ایلاف رک گئی۔

تو۔۔۔۔۔۔وہ بھنویں اچکائے بولا 

تو میرے ہاتھ صاف ہیں۔۔۔۔۔۔وہ اپنے ہاتھوں کو سامنے کرتے بولی 

جا کر دھو کر آؤ۔۔۔۔۔۔وہ ان سنا کرتا دو ٹوک بولا 

نانو جان۔۔۔آپ بتائیں۔۔۔۔۔کیا میرے ہاتھ گندے لگ رہے ہیں۔۔۔۔ ایلاف زبیدہ بیگم کی طرف دیکھ بولی 

جا کر دھو آؤ۔۔۔۔میری بچی۔۔۔۔۔کیا فرق پڑتا ہے۔۔زبیدہ نے مسکرا کر اس کے ہاتھ دیکھ کہا 

اس گھر میں میری کوئی نہیں سنتا۔۔۔۔۔ ایلاف نے شکست خوردہ انداز میں ہاتھ اٹھا دیے اور وہ منہ بناتی ہوئی چلی گئی۔

بھائی۔۔۔۔آپ کو ایلاف سے خاص دشمنی ہے یا یہ آپ کی روزانہ کی ورزش ہے۔۔۔۔ شایان  نے چائے کا کپ اٹھاتےلبوں سے لگاتے ساتھ پوچھ گیا

تمہیں بہت فکر ہے اس کی۔۔۔۔۔ رعادنے اسے دیکھا۔

نہیں۔۔۔۔۔مجھے اپنے کانوں کی فکر ہے۔۔۔۔۔روز صبح سے رات تک اس کی آواز سننی پڑتی ہے۔۔۔۔۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگاتے بولا

اور جب یہ خاموش ہو جائے تو تم خود پوچھتے پھرتے ہو کہ ایلاف کہاں ہے۔۔۔۔سرمد نے مسکراتے کہا 

میں صرف یہ دیکھتا ہوں کہ کہیں اس نے کوئی نئی شرارت تو نہیں کی۔۔۔۔۔ شایان نے فوراً جواب دیا۔

مہر نے ہنسی دبائی 

تم کیوں ہنس رہی ہو۔۔۔۔ شایان نے اسے گھورا۔

میں تو چائے پی رہی ہوں۔۔۔۔۔۔وہ ٹھیک ہوتے بولی 

چائے پیتے ہوئے ہنسنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ وہ گھور پھر بولا 

آپ کی باتیں سن کر چائے بھی مزاحیہ لگنے لگتی ہے۔۔۔۔ مہر نے معصومیت سے کہا۔سب ہنس پڑے۔

اتنے میں ایلاف ہاتھ دھو کر واپس آئی اور سیدھی بانو  جان کے پاس بیٹھ گئی۔

اب تو خوش ہیں رعاد بھائی۔۔۔۔۔وہ ساتھ ہی بولی 

اس میں خوشی کی کیا بات ہے ۔۔۔۔ رعاد نے سکون سے چائے کا کپ اٹھایا۔

اللہ کرے آپ کی چائے ٹھنڈی ہو جائے۔۔۔۔ ایلاف نے اس کی طرف دیکھ کر منہ بنایا۔

تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔۔۔۔۔۔ رعاد نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔

کیوں۔۔۔۔۔ وہ پوچھ گی 

کیونکہ چائے ابھی گرم ہے۔۔۔۔۔۔ وہ اتنا کہتے ایلاف کو مزید تپا گیا 

شایان ہنسنے لگا۔۔۔۔سرمد نے منہ دوسری طرف کرتے نہ میں سر ہلایا 

تمہیں کوئی نہیں ہرا سکتا۔۔۔۔لیکن رعاد بھائی کو بھی ہرانا آسان نہیں۔۔۔۔۔۔ مہر نے ایلاف کے کان میں سرگوشی کی

ایک دن ان کی ساری اکڑ نکال کر رہوں گی۔۔۔۔ ایلاف نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔

میں سن رہا ہوں۔۔۔۔ایلاف ۔۔۔۔۔ رعاد نے بغیر ان کی طرف دیکھے کہا۔

یا اللہ۔۔۔۔۔۔۔ان کے کانوں میں بھی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایلاف کی آنکھیں پھیل گئیں

اس بار دادی جان بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکیں۔

شاہ ولا میں ہنسی کی آوازیں گونجتی رہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن گھر کے بڑے جانتے تھے کہ آنے والا دن شاید اتنا پرسکون نہ ہو۔

کیونکہ اگلے دن ایلاف اور سرمد کے والد کی طرف سے مہمان آنے والے تھے۔۔۔ اور ان کی آمد کے ساتھ پرانے اختلافات ایک بار پھر سر اٹھانے والے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح کے تقریباً دس بج رہے تھے ایلاف اپنے کمرے میں بیٹھی بال بنا رہی تھی اور مہر اس کے بستر پر لیٹی رسالہ دیکھ رہی تھی 

بی بی جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔صاحب نے سب کو لاؤنج میں بلایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔مہمان آ گئے ہیں۔۔۔۔۔ ملازمہ نے آتے بتایا تو ایلاف کے ہاتھ رک گئے۔

ایلاف ۔۔۔۔۔۔مہر نے فوراً اسے دیکھا۔

میں نیچے نہیں جا رہی۔۔۔۔۔۔ ایلاف نے آئینے میں خود کو دیکھ  بالوں میں لگی پن نکال کر میز پر رکھتے کہا 

لیکن دادی جان نے بلایا ہے۔۔۔۔۔ مہر اٹھ کر بیٹھ گئی

تو نانو جان کو بتا دو کہ میرے سر میں درد ہے۔۔۔۔وہ فورا حل بتا گئی 

ایلاف تم جانتی ہو نا کہ یہ بات زیادہ دیر نہیں چلے گی۔۔۔۔وہ اسے دیکھ بولی لیکن ایلاف  نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس کے چہرے سے شرارت غائب ہو چکی تھی۔

مہر اسے بچپن سے جانتی تھی۔ وہ ہر بات پر ہنسنے والی، ہر مشکل کا مذاق اڑانے والی ایلاف تھی، لیکن اپنے والد کے خاندان کا ذکر آتے ہی اس کا انداز بدل جاتا تھا۔

میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔ مہر اس کا ہاتھ تھامتے بولی 

اور اگر انہوں نے دوبارہ وہی باتیں شروع کر دیں تو۔۔۔ایلاف نے اس کی طرف دیکھا۔

تو ہم سن لیں گے۔۔۔۔۔۔اور اگر تمہیں برا لگا تو وہاں سے اٹھ کر آ جائیں گے۔۔۔۔۔ وہ سمجھا گئی 

چلو۔۔۔۔۔۔ ایلاف نے ایک لمبا سانس لیتے ہامی بھری  دونوں نیچے آ گئیں۔

لاؤنج میں کامران شاہ، فرزانہ شاہ، رعاد، شایان، سرمد اور دادی جان موجود تھے۔ ان کے سامنے ایلاف کے والد کے بڑے بھائی، سلیم شاہ، ان کی اہلیہ نسرین بیگم اور حورین کا چچا فہیم شاہ بیٹھے تھے۔

سلیم شاہ ایلاف اور سرمدکے تایا تھے، جبکہ فہیم شاہ ان کے چچا۔ ان دونوں کی والدہ، یعنی ایلاف کی دادی، اپنے گھر پر تھیں۔ 

وہ نہیں آئی تھی  مگر ان کا پیغام بھی ساتھ آیا تھا کہ وہ اپنے پوتے پوتی کو اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہیں۔

ایلاف نے سب کو سلام کیا اور زبیدہ بیگم  کے پاس جا بیٹھی۔ سرمد بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔

ماشاءاللہ۔۔۔۔۔سرمد  تو اب بالکل جوان ہو گیا ہے۔ اور ایلاف  بھی بڑی ہو گئی ہے۔ سلیم شاہ نے دونوں کو غور سے دیکھا۔

جی، تایا جان۔۔۔۔۔۔ ایلاف نے رسمی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔

تمہاری دادی   تم دونوں کو بہت یاد کرتی ہیں۔ کئی بار کہہ چکی ہیں کہ اپنے پوتے پوتی کو ہمارے گھر لے آؤ۔ آخر ان کا بھی تو تم دونوں پر حق ہے۔ فہیم شاہ نے بات آگے بڑھائی۔

فہیم۔۔۔۔آپ جب چاہیں ان سے مل سکتے ہیں۔۔۔۔ہم نے کبھی ملاقات سے منع نہیں کیا کامران شاہ نے نرمی سے کہا

ملاقات کی بات الگ ہے۔۔۔۔۔کامران بھائی۔۔۔۔۔۔ہم چاہتے ہیں کہ بچے کچھ وقت اپنے والد کے خاندان کے ساتھ بھی گزاریں۔۔۔۔ان کا تعلق صرف اپنی والدہ کے خاندان سے تو نہیں۔۔۔۔سلیم شاہ نے جواب دیا۔

یہ بات درست ہے کہ ان کا تعلق دونوں خاندانوں سے ہےلیکن بچوں کی اپنی مرضی بھی تو ہے زبیدہ بیگم نے اپنی تسبیح ایک طرف رکھ جواب دیا 

بچوں کو ان کی مرضی پر چھوڑ دیں تو وہ کبھی ہمارے گھر آئیں گے ہی نہیں۔۔۔۔۔ سلیم شاہ نے قدرے سخت لہجے میں کہا۔

تایا جان۔۔۔۔،میں آپ کی عزت کرتی ہوں، لیکن میں وہاں نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔ ایلاف نے سر اٹھاتے بولا 

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔

بیٹا۔۔۔۔آخر کیوں۔۔۔ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔نسرین بیگم نے اسے دیکھا۔

وہ بچپن سے اپنے والد کے خاندان کے درمیان ہونے والی بحثیں دیکھتی آئی تھی۔ 

اسے یاد تھا کہ جب بھی وہ وہاں گئی، کسی نہ کسی بات پر اس کے والدین کے انتقال، ان کی پرورش یا ان کے مستقبل کا ذکر شروع ہو جاتا تھا۔ 

وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہر ملاقات میں اسے یہ احساس دلایا جائے کہ وہ کس کے گھر کی ذمہ داری ہے اور کس کا حق۔

میں بس یہاں خوش ہوں۔۔۔۔چچی جان۔۔۔۔۔اس نے دھیرے سے کہا۔

اور تم۔۔۔۔تم بھی یہی چاہتے ہو۔۔۔۔ فہیم شاہ نے سرمد کی طرف دیکھا۔

جی۔ ۔۔۔۔ہم دونوں یہیں رہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔ سرمد نے اپنی بہن کی طرف دیکھ پُرسکون لہجے میں جواب دیا۔

یہی تو مسئلہ ہے۔۔۔۔۔۔تم دونوں کو یہاں اس قدر لاڈ پیار دیا گیا ہے کہ اب اپنے خاندان کے دوسرے لوگوں سے ملنا بھی پسند نہیں کرتے۔۔۔۔۔سلیم شاہ کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔

سلیم بھائی۔۔۔۔۔۔ بچوں سے اس طرح بات نہ کریںکا کامران شاہ نے فوراً مداخلت کی

میں غلط کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔۔۔ ہر بار جب ہم انہیں اپنے پاس بلانے کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔آپ لوگ درمیان میں آ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔پھر ہم اپنے ہی مرحوم بھائی کے بچوں سے ملنے کے لیے بھی اجازت لیتے پھریں۔۔۔سلیم شاہ کی آواز بلند ہو گئی۔

آپ کو ان سے ملنے سے کس نے روکا ہے۔۔۔۔۔لیکن آپ انہیں اپنے ساتھ لے جانے کی بات کریں گے تو ان کی مرضی بھی پوچھنی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔اور مرحوم بھائی سے بھی کتنا ہی مل لیتے تھے آپ ۔۔۔۔۔۔۔ کامران شاہ کا لہجہ بھی سخت ہو گیا

میں نے کہا تھا نا۔۔۔۔پھر یہی بحث شروع ہو گی۔۔۔۔ فرزانہ شاہ نے بےزاری سے سانس لیا۔

فرزانہ ابھی اس بات کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔ زبیدہ بیگم  نے فوراً ان کی طرف دیکھ ٹوکا 

فرزانہ خاموش ہو گئیں، مگر ان کے چہرے پر واضح تھا کہ وہ اس صورت حال سے خوش نہیں تھیں۔

میرا خیال ہے کہ ہم سب ایک ہی بات کو بار بار دہرا رہے ہیں۔۔۔۔۔اگر ایلاف اور سرمد اپنے تایا، چچا اور دادی سے ملنا چاہیں تو انہیں ضرور ملنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔لیکن اگر وہ کسی کے گھر رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہیں مجبور کرنا بھی درست نہیں۔۔۔۔ رعاد جو  خاموشی سے  بیٹھا سب کی باتیں سن رہا تھا آخر اس نے فائل میز پر رکھتے ہوئے کہا۔

رعاد ۔۔۔۔تم ابھی ان معاملات کو نہیں سمجھتے۔۔۔۔ سلیم شاہ نے اس کی طرف دیکھا۔

میں اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ دونوں پہلے ہی اپنے والدین کو کھو چکے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ ان کی زندگی کے فیصلے ہر کوئی ان سے پوچھے بغیر کر سکتا ہے۔ رعاد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

ایلاف نے حیرت سے رعاد کو دیکھا یہ وہی رعاد تھا جو اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسے ڈانٹ دیتا تھا، لیکن آج اس نے اس کے دل کی بات کہی تھی۔

البتہ تم دونوں کو بھی اپنے رشتے نبھانے چاہییں۔۔۔۔کسی سے اختلاف ہو تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیشہ کے لیے دروازہ بند کر دیا جائے۔۔۔۔ وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ رعاد  نے اس کی طرف دیکھ کر اضافہ کیا۔

جی رعاد بھائی۔۔۔۔۔آپ کا لیکچر مکمل ہو گیا ہو تو ہم جا سکتے ہیں۔۔۔۔ یلاف کا فوراً منہ بنا

شایان نے اپنا سر جھکا لیا تاکہ ہنسی چھپا سکے۔

شایان ۔۔۔۔۔ تمہیں بھی کچھ کہنا ہے۔۔۔۔ رعاد کی نگاہ اس پر پڑی تو گھورتے پوچھا 

نہیں بھائی۔۔۔۔میں تو دل ہی دل میں دعا کر رہا ہوں کہ آج کا اجلاس خیریت سے ختم ہو جائے۔۔۔۔۔ وہ ہنسی دبائے بولا 

بھائی۔۔۔۔یہ وقت ہنسنے کا نہیں ہے۔۔۔۔ سرمد  ہنسا تو ایلاف نے اسے کہنی ماری۔

اچھا، معاف کرنا۔۔۔۔۔وہ گویا 

بس۔۔۔۔۔میں ایک بات صاف کہہ دیتی ہوں۔۔۔ایلاف اور سرمد میرے لیے بہت عزیز ہیں 

لیکن میں انہیں ان کے دوسرے رشتوں سے بھی دور نہیں کرنا چاہتی۔ جب وہ خود تیار ہوں گے،۔۔۔۔۔۔اپنے تایا، چچا اور دادی سے ملنے جائیں گے۔ ۔۔۔۔۔۔کوئی زبردستی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔دادی جان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو خاموش کروایا۔

سلیم شاہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر پھر خاموش ہو گئے۔

مہمانوں کی گفتگو کچھ دیر بعد دوسرے موضوعات کی طرف مڑ گئی۔ چائے پیش ہوئی، رسمی باتیں ہوئیں اور آخرکار وہ رخصت ہو گئے۔

بیٹا۔۔۔۔۔اپنی دادی سے ملنے ضرور آنا۔۔۔۔۔وہ تم دونوں کو بہت یاد کرتی ہیں۔۔۔۔۔ مگر جاتے جاتے فہیم شاہ نے سرمد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

جی، چچا جان۔۔۔۔۔ سرمد نے احترام سے سر ہلایا جبکہ ایلاف  خاموش رہی۔۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھ لیا آپ سب نے۔۔۔۔۔پھر وہی باتیں۔۔۔۔۔۔وہی بحث۔۔۔۔۔آخر یہ معاملہ کب ختم ہوگا۔۔۔ دروازہ بند ہوتے ہی فرزانہ شاہ نے ناراضی سے کہا۔

جب سب یہ سمجھ لیں گے کہ ایلاف اور سرمد کوئی فیصلہ کرنے کی چیز نہیں۔۔۔انسان ہیں۔۔۔۔ کامران شاہ نے تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔

میں نے کب کہا کہ وہ انسان نہیں ہیں۔۔۔۔ابھی وہ بول ہی رہی تھی 

فرزانہ، تمہیں خود بھی معلوم ہے کہ تم ان دونوں کو پسند نہیں کرتیں۔۔۔۔۔وہ بات کاٹ بولے 

میں انہیں پسند کیوں کروں۔۔۔۔۔جب بھی ان کا ذکر ہوتا ہے،۔۔۔۔۔ہمارے گھر میں جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔۔۔آپ کی والدہ ہر بات میں ان کی طرف داری کرتی ہیں

آپ ان کے لیے ہر کسی سے بحث کرتے ہیں، اور اب رعاد بھی ان کے معاملوں میں بولنے لگا ہے فرزانہ نے فوراً ان کی طرف دیکھا۔

امی، میں نے صرف وہی بات کی جو درست تھی۔۔۔۔۔ رعاد نے پُرسکون لہجے میں کہا۔

وہ میرے بھانجے اور بھانجی ہیں۔ میں ان کے لیے کھڑا نہیں ہوں گا تو کون ہوگا؟ ان کے والدین کے بعد ان کا خیال رکھنا میری ذمہ داری بھی ہے۔۔۔۔۔ کامران شاہ نے اپنی بیوی کو سمجھانے کی کوشش کی۔فرزانہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں۔

کامران، میں نہیں چاہتی کہ اس گھر میں بچوں کے سامنے بار بار ایسی باتیں ہوں۔۔۔۔۔ایلاف بہت شوخ ہے، لیکن اس کے دل میں بھی دکھ ہے۔ وہ ہر بات پر ہنس کر اسے چھپا لیتی ہے۔۔۔۔۔ زبیدہ بیگم نے گہرا سانس لیا۔

امی، میں پوری کوشش کروں گا۔۔۔۔۔ کامران نے اپنی والدہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔

اور فرزانہ کو بھی سمجھاؤ۔۔۔۔وہ میری بہو ہے۔۔۔۔میں اس کی عزت کرتی ہوں۔ لیکن ایلاف  اورسرمد کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس گھر میں ناپسندیدہ ہیں زبیدہ بیگم نے سر ہلاتے ساتھ کہا 

رعاد  نے یہ بات سنی تو خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔

اسے معلوم تھا کہ اس گھر میں صرف اصول بنا دینا کافی نہیں تھا۔ کبھی کبھی لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اور یہ کام شاید اس کے اپنے لیے بھی آسان نہیں ہونے والا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کے وقت ایلاف چھت پر کھڑی دور آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ ہوا میں خنکی تھی اور سورج ڈھل رہا تھا۔

کیا سوچ رہی ہے میری بہن ۔۔۔۔۔ سرمد سیڑھیاں چڑھ کر اس کے پاس آیا۔

کچھ نہیں۔۔۔۔۔ حورین نے کندھے اچکائے۔

مجھے پتا ہے تمہیں آج کی باتیں اچھی نہیں لگیں۔۔۔۔ سرمد اس کے ساتھ کھڑا ہوتے بات شروع کر گیا 

بھائی۔۔۔۔۔ہم نے ان کا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔۔۔ہم تو بس یہاں رہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔پھر ہر کوئی ہمیں اپنے ساتھ لے جانے پر کیوں تُلا رہتا ہے۔۔۔۔۔ ایلاف نے دھیرے سے کہا۔

شاید انہیں لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ ہمارے لیے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی بات کہنا چھوڑ دیں۔۔۔۔ سرمد نے کچھ لمحے خاموش رہ کر جواب دیا۔

آپ بھی وہاں نہیں جانا چاہتے نا۔۔۔۔۔ وہ دیکھتے پوچھ گئی 

نہیں۔۔۔۔۔۔ سرمد نے اس کی طرف دیکھا۔

پھر ہم دونوں ایک ساتھ رہیں گے نا۔۔۔۔۔ ایلاف  نے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

ہمیشہ تمہارا بھائی رہوں گا ایلاف ۔۔۔۔۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔زندگی میں ہر رشتے سے بھاگنا حل نہیں ہوتا۔۔۔کبھی کبھی ہمیں ان لوگوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جن سے ہم دور رہنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ سرمد کے چہرے پر نرمی آ گئی۔

آپ بھی رعاد بھائی کی طرح باتیں کرنے لگے ہیں۔۔۔۔ ایلاف نے منہ بنایا۔

اچھا۔۔۔۔۔تو پھر تمہیں نصیحت کرنے کے لیے کسی اور کو ڈھونڈنا پڑے گا۔۔۔۔۔ سرمد ہنس پڑا۔

نہیں۔۔۔۔۔آپ ہی ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔وہ اس کے کندھے سے لگ گئی۔

کچھ دیر دونوں خاموش کھڑے رہے۔

اور سنو۔۔۔۔کسی کے کہنے سے کبھی یہ مت سوچنا کہ تم کسی پر بوجھ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔تم میری بہن ہو،۔۔۔ہماری جان ہو۔۔۔۔۔ سرمد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

بھائی۔۔۔۔۔اگر آپ نے مجھے رلایا نا۔۔۔۔۔۔تو میں آپ کا موبائل چھپا دوں گی۔۔۔۔۔ ایلاف کی آنکھوں میں نمی ابھری مگر اس نے فوراً چہرہ دوسری طرف کرتے ساتھ جیسے دھمکی دی 

بس یہی ایلاف چاہیے مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔رونے دھونے والی نہیں۔۔۔۔۔۔۔لڑنے والی۔۔۔۔ سرمد  نے قہقہہ لگایا تو ایلاف  بھی ہنس دی۔

ایلاف ۔۔۔۔۔۔۔سرمد بھائی ۔۔۔۔۔۔۔دادی جان بلا رہی ہیں۔۔۔۔۔ نیچے سے مہر کی آواز آئی۔

چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ پھر کہیں گی کہ دونوں چھت پر بیٹھ کر سازشیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔ ایلاف نے سرمد کی طرف دیکھ کہا 

تمہارے ساتھ رہ کر سازشیں کرنے کا الزام تو لگنا ہی ہے سرمد نے مسکرا کر کہتے دونوں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئے۔

مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے خاندان کے بزرگوں کے ذہن میں اب بھی کئی سوال تھے، 

اور ان سوالوں کے جواب آنے والے دنوں میں مزید اختلافات کو جنم دینے والے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایلاف اپنے کمرے میں مہر کے ساتھ بیٹھی فلم دیکھنے کی تیاری کر رہی تھی۔ مہر نے پاپ کارن کا پیالہ اٹھایا تو ایلاف نے فوراً اس میں ہاتھ ڈال دیا۔

اوئے۔۔۔۔یہ میرے ہیں۔۔۔۔۔وہ بولی 

دوستی میں میرا تیرا کیا۔۔۔۔۔ مہر نے دوستی کا واسطہ دیا 

تم اپنی دوستی اپنے پاس رکھو اور میرے پاپ کارن واپس کرو۔۔۔۔۔ایلاف بولی  تو دونوں کی آوازیں پھر پورے گھر میں گونجنے لگیں۔

کوئی ان دونوں کو خاموش کروائے گا۔۔۔۔۔ لاؤنج سے شایان نے آواز لگائی۔

چھوڑو۔۔۔۔ابھی تھک کر خود ہی سو جائیں گی۔۔۔۔ سرمد نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔

اس گھر میں سکون نام کی کوئی چیز نہیں۔۔۔۔۔ رعاد  نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے صرف اتنا کہا۔

مگر شاید یہی شور، یہی ہنسی، یہی چھوٹی چھوٹی لڑائیاں اس گھر کی اصل زندگی تھیں۔

بس فرق اتنا تھا کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک کہانی تھی، اور ہر کہانی ابھی پوری طرح سامنے نہیں آئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔


 مزید ناولز کے لئے نیچے جائیں ، یہاں مکمل اور قسط وار سبھی ناولز کے لنکس دئیے گئے ہیں۔

آپ مزید ناول کی پکس دیکھنے کے لیے نیچے جائیں ، اور ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کریں ، اگر آپ نے ابھی تک مدیحہ شاہ کے مکمل اور قسط وار ناولز نہیں پڑھے ۔ تو جلدی سے مدیحہ شاہ کے سبھی ناولز کو پڑھیں اور اپنا فیٹ بائک دیں ۔


If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Web by Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2020. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2020. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


Chaya Hai Jo Dil Pe Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Chaya Hai Jo Dil Pe written by Madiha Shah . Chaya Hai Jo Dil Pe by Madiha Shah is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.


 Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link


Copyrlight Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only share links to PDF Novels and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted 

No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Post Bottom Ad

Pages