Raah e Yaar By Mehwish Ghaffar Complete Urdu Novel - Madiha Shah Writes

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Tuesday, 3 November 2026

Raah e Yaar By Mehwish Ghaffar Complete Urdu Novel

Raah e Yaar By Mehwish Ghaffar Complete Urdu Novel

Madiha Shah Writer ; Urdu Novels Stories

Novel Genre : Romantic Urdu Novel Enjoy Reading…


Novel Name : Raah e Yaar 

Writer Name : Mehwish Ghaffar

Novel ; Complete 


راہ یار

مہوش غفار 

مکمل ناول 

 

سر آج آپ سنگنگ نہیں کریں، منیجر کو دیکھتا ہواوہ مسکرایا تھا ۔

آج موڈ نہیں ہے ۔وہ تو تھا ہی اذل سے موڈی انسان ۔ 

پر سر آپ تو رونق ہیں ہمارے کلب کی ۔منیجر نے اسے منانا چاہا تھا ۔جو نہایت مشکل امر تھا ۔

کہہ دیا ناں یار آج موڈ نہیں ہے ۔ دوستانہ لہجہ اپناتا ہوا وہ اپنے ساتھ بیٹھے دوست کی سمت رخ موڑ گیا تھا ۔

مطلب اب اس مینجر کا وہاں پر کھڑے رہنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا تھا ۔

ڈی جے کو سونگز پلے کرنے کا اشارہ کرتا ہوا مینجر اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا تھا ۔

جاگی جاگی سوئی نا میں ساری رات تیرے لیے

بھیگی بھیگی پلکیں میری اداس تیرے لیے 

فل والیم میں چلتے ہوئے سونگ کو انجوائے کرنوجوانوں میں توانائی بھر دی تھی ۔

 یہ ایک نائیٹ کلب کا منظر تھا ۔پنک، پرپل اور لائٹ بلیو کلر کی لائٹس میں جگمگاتا کلب اپنی خوبصورتی کا منہ بوتا ثبوت تھا ۔

چاروں اطراف رکھے گئے وائیٹ کلر کے جدید ڈیزائن کے خوبصورت کنگ اسٹائل صوفے، جہان نشے سے چور ڈھلکتے وجود بے سود ڈھے ہوئے تھے ۔

کلب کے رائیٹ سائیڈ پر بنا وائن بار جہان ہر فلیور کی وائنز کسی قیمتی جواہرات کی طرح سجائی ہوئی تھیں ۔

چند لڑکے جو کچھ دیر پہلے ہی اپنے آئی ڈی کارڈز دیکھا کر کلب میں انٹر ہوئے وہ سب بار ٹیبل پر اپنی پسند کی وائن کے مزے اڑا رہے تھے ۔

کلب کے سب سے عالیشان دیوان جو خاص لوگوں کے لیے خاص طور پر رکھے گئے تھے ۔

ان پر براجمان گرے کلر کے سوٹ میں ملبوس شاہ میر ہمدانی ریلکس سا بیٹھا ہوا سب کو دیکھنے کے ساتھ اپنی وائن سے بھرے گلاس کو منہ لگاتا ہوا دلفریب مسکراہٹ اپنے عنابی لبوں پر سجائے ہوئے تھا ۔ 

لیفٹ سائیڈ پر میوزک سسٹم ہینڈل کرتا ہوا ڈی جے جو خود بھی نشے میں چور خود با خود جھول رہا تھا ۔

کلب کے بیجوں بیچ وائیٹ پنک اور بلیک کلر کے شیشے سے بنا ہوا ڈانس فلور اس پورے کلب کی شان تھا ۔

جہاں امیر ماں باپ کی بگڑی ہوئی اولادوں کے ساتھ ان کی گرل فرینڈز جو نشے کی حالت میں ڈانس فلور پر ایک دوسرے کی بانہوں میں جھول رہے تھے ۔

ڈانس فلور کے رنگ برنگی ہیڈ لائٹس میں جھلتا ہوا نازک وجود جو اس وقت بلیو کلر کی نیٹ کی تنگ میکسی پہنے ہوئے تھی جس میں اس لڑکی کے جسم کا ہر اعضاء ظاہر ہوتا ہوا بے ہودگی کا مناظر پیش کررہا تھا ۔

جسے ریڈ وائن پیتے ہوئے اس نائیٹ کلب کی پر رونق و شان شاہ میر ہمدانی نے بڑی ہی ناگواریت کے ساتھ اپنی نگاہیں اس کے قیامت خیز سراپے سے ہٹائی تھی ۔ 

اکھیاں بچھائی میں نے تیرے لیے 

دنیا بھولائی میں نے تیرے لیے 

اپنے رنگے ہوئے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی وہ ایک ایک قدم کھوئے ہوئے انداز میں شاہ میر ہمدانی کی جانب بڑھ رہی تھی ۔

جو شان بے نیازی سے اپنے جگری یار کے ساتھ محو گفتگو تھا ۔

ہوووووووووو تیرے لیے 

اب بس یار مجھ سے نہیں بیٹھا جارہا یہاں ایسے بیٹھے بیٹھے اکتا گیا ہوں ۔فرقان جو اس لڑکی کو اپنی جانب آتے دیکھ بے صبری سے بولا تھا نشہ جیسے سر چڑھ دوڑا تھا اس کے ۔

روکا کس نے ہے تجھے جا اور انجوائے کر ۔فرقان فورا سے اپنی جگہ سے اٹھی کھڑا ہوا تھا نشے میں بھی شاہ میر خود پر کنڑول کیے ہوئے مسکرایا تھا فرقان کی بے صبری پر ۔

جھوموں دیوانہ بن کے تیرے لیے ،،،

وعدہ ہے میرا میں ہوں تیرے لیے، ،،،

   ہونا کبھی تو جداااااااااااااا ،،،،،،،

جارہا ہے ناں تو ایک بات میری سنتا جا اگر تھوڑی دیر ویٹ کرلے گا ناں تو وہ خود سے آئے گی تیرے پاس ۔

تو سچ کہہ رہا ہے ناں ہمدانی ۔ 

تیری ایکس کی قسم ، ایک آنکھ دبائے سونگ انجوائے کرتا ساتھ کو گردن ہلاتا شاہ میر رقص کرتے نوجوانوں کو دیکھ کر تمسخرانہ انداز میں مسکرا رہا تھا ۔

وہیں فرقان فورا سے پہلے واپس سے اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا ۔

ہائے ،تیز والیم کے باعث وہ شاہ میر پر جھک کر بولی تھی ۔

آئبرو ریس کرتا ہوا شاہ میر فرقان کو دیکھ رہا تھا جو اس لڑکی کے ہوش روبہ حسن سے گھائل ہوگیا تھا ۔

ایم نینا اینڈ یو ہینڈسم، شاہ میر کے کالر کے ساتھ حرکت کرتی ہوئی وہ بڑے ہی دلفریب لہجے میں بولتی ہوئی مسکرائی تھی ۔

شاہ میر ہمدانی،میاں کے کالر پکڑنے پر اس کی کشادہ پیشانی پر ناگواریت کے بل پڑے تھے ۔

 اپنے کالر سے حرکت کرتے اس کے نرم ملائم ہاتھ کو پکڑ کر وہ اپنا کالر اس کی نازک گرفت سے آزاد کروا گیا تھا ۔

بھیگی بھیگی رات میں لے 

    کر کے تجھ کو ساتھ میں 

  مدہوش ہوجائیں ہم آ فاصلے کرنے دے کم ،،،،

کیا میں ادھر کس کرسکتی ہوں ۔ 

 شاہ میر کے قریب آتی ہوئی وہ اس کے عنابی لبوں پر انگلی رکھ کر ڈھٹائی سے مسکرائی تھی ۔اس کے لہجے اور حرکتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ کچھ زیادہ ہی ڈرنک کرچکی تھی ۔ 

جب ہی تو وہ شاہ میر کے اتنے قریب کھڑی ہوئی تھی ورنہ کسی شخص میں اتنی تاب کہاں تھی کہ شاہ میر ہمدانی کے عین سامنے آکھڑا ہو اور اس طرح کی حرکتیں کرسکے ۔

میرے خیال سے محترمہ آپ ڈرنک ہیں سو پلیز دور رہیں مجھ سے ۔اپنی عادت کے برخلاف کو بہت نارمل انداز میں مخاطب ہوا تھا ۔

کیا کر رہا ہے ہمدانی ایک کس ہی تو کرنا چاہ رہی ہے ،

سب سے بڑی بات وہ خود سے آئی ہے تیرے پاس کرنے میں کیا برائی ہے ۔شاہ میر کی خونخوار نظروں سے فرقان خاموش ہوا تھا ۔

پلیز دور رہیں محترمہ ۔۔وہ پہلے سے سخت لہجے میں بولا تھا ۔

اوہووووو کوئی بڑی ڈیمانڈ تھوڑی کر رہی ہوں بس ایک کس ہی تو کرنی ہے یاررررر ،جھکتی ہوئی وہ شاہ میر کا ضبط آزما گئی تھی ۔

ایک بار کا کہا سنائی نہیں دیتا دور رہو ۔۔۔۔ 

اس کو پیچھے نا ہٹتے دیکھ شاہ میر نے غصے سے اسے خود سے پیچھے دھکیلا تھا ۔

جس پر نشے میں ہونے کی باعث اوندھے منہ وہ فرش پر جا گری تھی ۔

او تیری،،فرقان جسے ذرا حیرانگی نہیں ہوئی تھی شاہ میر کے عمل پر ۔

نینا کو فرش پر گرتے دیکھ سب ہی ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے ،

تم جیسی عورتوں کو منہ لگانے کے لیے نہیں آتا ہوں یہاں ۔ناگواریت سے فرش پر گری ہوئی نینا کو دیکھتا ہوا وہ غصے سے چبا کر غرلایا تھا ۔

اس کے پیچھے کھڑا فرقان شاہ میر کے کڑے تاثرات دیکھتا ہوا خاموشی سے اس کے پیچھے کھڑا ہوا تھا ۔

شاہ میر ہمدانی کا اپنا ایک اسٹینڈر ہے جہاں تم جیسی لڑکیاں پوری نہیں اترتی ۔وہ کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا ۔

آئی لائک یور اسٹائل ہینڈسم پر کیا بہت غلط ہے تم نے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ۔شاہ میر کے جاتے ہی سب واپس سے مدہوش ہوئے تھے ۔صوفے پر بیٹھ تھی جہان تھوڑی دیر پہلے شاہ میر بڑی شان سے براجمان تھا ۔

 وائن آرڈر کرتی ہوئی افسردگی سے سرخ لپ اسٹک سے سجے اپنے گداز لب لٹکاتی ہوئی خود سے بڑبڑائی تھی ۔

******

یہ کیا تھا ہمدانی ،فرقان جو اس کے پیچھے بھاگتا ہوا آیا تھا آتے ہی فورا سے پوچھ رہا تھا ۔

جو تو نے دیکھا ۔۔وہ الٹا چبا کر بولا تھا ۔

یار یہ کس کرنا تو عام سی بات ہے خومخواہ بات کو تول دی تو نے ۔دونوں ہاتھ کمر پر رکھے فرقان چالاک عورتوں کی طرح بول رہا تھا ۔

اچھا عام بات ہے تو تو کر لیتا ۔جلے بھونے انداز میں بولتا ہوا پارکنگ ایریا میں کھڑی اپنی کار کی جانب بڑھا تھا ۔

اگر مجھے کہتی تو جب ناں ،،فرقان کے لہجےمیں دکھ صاف عیاں ہورہا تھا ۔

جسے محسوس کرتا ہوا شاہ میر پیچھے گردن موڑ کر اسے دیکھتا ہوا تاسف سے مسکرایا تھا ۔

لعنت ہے ویسے کمینے تجھ پر کسی لڑکی کو تو بخش دے ،کار ان لاک کرتا ہوا شاہ میر اس کی آئے دن کی گرل فرینڈز کا حوالہ دیتا ہوا بولا تھا ۔

تو کسی کو چھوڑے جب ناں ،مجھے تو جلن ہوتی ہے یار ۔فرقان کے لٹکے ہوئے چہرے کو دیکھ شاہ میر نے بڑی مشکل سے اپنا قہقہ ضبط کیا تھا ۔

ان لڑکیوں کو میرے ساتھ دیکھ کر ہوتی ہے یا پھر انہیں میرے پاس آتے ہوئے دیکھ ہوتی ہے ۔مزہ لیتا ہوا شاہ میر چہرے پر مضنوئی سنجیدگی سجائے ہوئے تھا ۔

دونوں ۔کار سے ٹیک لگاتا ہوا فرقان افسردگی سے بولا تھا ۔

ہائےےےےےے کمینے میری جلی ہوئی کالی بیوی ۔اپنی ہی بات پر شاہ میر قہقہ لگا گیا تھا ۔

دیکھ لے اتنی پیار کرنے والی بیوی تجھے چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملے گی ۔معصومیت سے کہتا ہوا فرقان کچھ دیر پہلے والا شاہ میر کا غصہ غائب کرگیا تھا اپنی بے تکی باتوں سے ۔

بکواس بند کر داجی کی کال آرہی ہے ۔ہنستا ہوا شاہ میر اپنی پاکٹ میں بجتے ہوئے کو باہر نکالتا ہوا فرقان کو خاموش رہنےکا کہتا ہوا وہ کال ریسوو کرگیا تھا جبکہ فرقان خاموشی سے اپنے لبوں پر انگلی رکھ گیا تھا ۔

داجی یہ کوئی ٹائم ہے آپ کا مجھے کال کرنے کا ، بنا سلام دعا کے وہ شرارت سے سوال کرگیا تھا داجی سے ۔

کیا ٹائم ہورہا ہے برخوردار، یہ تو ہم ینگ جینریشن کے جاگنے کا ٹائم ہے ۔وہ بھی اس کے داجی تھے اس سے آٹھ قدم آگے ۔

اوو اچھا ، ان کی بات پر وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔

 بی جان کو پتا ہے ناں کہ آپ جاگ رہے ہیں ۔شاہ میر کے سوال پر داجی نے بڑا سا منہ بنایا تھا ۔

ارے وہ بڈھیا تو سوئی ہوئی ہے اور تو اس کا ذکر کرکے میار موڈ خراب نا کر ، ہمیشہ کی طرح دوستانہ لہجے میں بولتا تھے ۔

باتوں میں لگا دیا جس لیے فون کیا تھا وہ تو میں بھول ہی گیا ۔شاہ میر مبہم سا مسکرایاتھا ۔

کیا ہوا داجی ۔سوال کرتا ہوا فرقان کی طرف متوجہ ہوا تھا جو کمر پر ہاتھ رکھے واک کرنے لگ گیا تھا ۔

کب آرہے ہو تم گھر ،

 آرہا ہوں بس آپ کی کال آنے سے پہلے ہی گھر آنے کے لیے نکل رہا تھا ۔فرقان کو آنے کا اشارہ کرتا ہوا وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھا تھا ۔

ویسے یار داجی بارہ بجے والے جن کی طرح مجھے کال کرنا کب بند کریں گے آپ ، داجی مسکرائے تھے اس کی بات پر ۔

بارہ بجتے نہیں ہیں کہ آپ کی کال آنے لگ جاتی ہے ۔

اب مجھے لگتا ہے بی جان کو کہنا پڑے گا کہ اپنے بوڑھے شوہر کی لگامیں کس لیں اور ان کا فون چھپا کر اپنے پاس رکھ لیں تاکہ یہ بڈھاپے میں بگڑے نا ۔وہ اب اپنے لاڈلے ہوتے کی بات پر مسکرا رہے تھے ۔

بہت ہنس لیے برخوردار تھوڑی پریشانی دینی بھی بنتی ہے ۔دل میں سوچتے ہوئے وہ خود با خود شعارت سے مسکرائے تھے ۔

  تیرا باپ سویا نہیں ہے تیرے انتظار میں ۔اچانک سے عام سے انداز میں بولتے ہوئے وہ شاہ میر کی مسکراہٹ چھین گئے تھے ۔

یقینا آپ نے ہی کوئی شوشہ چھوڑا ہوگا ،وہ فورا سے بھڑک اٹھا تھا ۔

نہیں میں نے کچھ بھی نہیں بتایا تیرے باپ کو ،رازدانہ انداز اپناتا ہوئے وہ اپنی ہی بات سے ڈگمگا رہے تھے ۔

ہو ہی نہیں سکتا داجی کہ آپ کی زبان نا پھسلی ہو ۔میں نے غلطی کی جو آپ کو بتایا کہ میں فرقان کے ساتھ کلب جاتا ہوں ۔وہ بڑی طرح پچھتایا تھا اس دن کو سوچ کر جب وہ داجی کی ایموشنل بلیک میلنگ میں آگیا تھا ۔

نشہ وشہ اتار کر آنا برخوردار کیونکہ تھانےدار صاحب گیٹ پر ہی کھڑے ہیں ۔شرارت سے کہتے ہوئے وہ قہقہ لگا گئے تھے ۔جو اس وقت شاہ میر کو زہر لگا تھا ۔اتنا تو اسے یقین تھا داجی نے اس سے کسی بات کا بدلہ لیا ہے پر کس بات کا ۔

نشے کی وجہ سے دکھتے سر پر دباؤ نا دیتا ہوا وہ گاڑی سائیڈ پر روک گیا تھا ۔

اور ہاں برخوردار تمہارا دیوانہ اب تک سویا نہیں ہے ۔ارحم کا خیال آتے ہی داجی مسکرائے تھے اس کی اور شاہ میر کی محبت پر ۔

کبری نے سلایا نہیں اسے کیا ۔شاہ میر نے فکرمندانہ لہجے میں پوچھا تھا ۔

جب تک تم آکر اسے اسٹوریز نہیں سناؤ گے وہ نہیں سوئے گا یہ تم اچھے سے جانتے ہو ،اس لیے وعدہ کرنے سے پہلے سو بار سوچا کرو کہ تم اسے پورا کر پاؤ گے یا نہیں شاہ میر ہمدانی اب جلدی سے گھر آؤ ورنہ میرا پرپوتا یوں ہی جاگتا رہے گا ۔آخر میں نصیحت کرتے ہوئے داجی کال کٹ کر گئے تھے ۔

شٹ یار ۔۔گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتا ہوا سرحد کے بارے میں سوچ کر پریشان ہورہا تھا ۔

جبکہ برابر میں بیٹھے فرقان نیند میں اونگنے لگا تھا ۔

*****               

                                                                        اس ویک اینڈ پر گھر آرہی ہو یا نہیں ۔ کال اٹینڈ کرتے ہی مما کے پوچھنے کے انداز پر منزہ مسکرائی تھی ۔

کوشش کرو گی مما ۔مختصر سا جواب جو منزہ دو ہفتوں دیتی آئی تھی ۔

دو ہفتوں سے کوشش کروں گی کوشش کروں گی اور اب بھی یہ ہی کہہ رہی ہو کوشش کرو گی مما ۔منزہ کے اس بار کوشش کرنے کے جواب پر وہ غصے سے تپ کر بولیں تھیں ۔

اچھا نا میں پوری کوشش کروں گی آنے کی اور آپ کے پاس پورے دو دن رکنے کی ۔ ٹیبل پر بکھری ہوئی کتابوں کو سائیڈ پر ترتیب سے رکھتی ہوئی وہ اپنا اسائنمنٹ اور کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑے ہوئے سنگل بیڈ پر آکر بیٹھی تھی ۔

 بلکل بھی دل نہیں لگتا میرا تمہارے بنا منزہ ،

 مزمل اور تمہارے بابا کام پر چلے جاتے ہیں تو میں بلکل اکیلی ہوجاتی ہوں ۔

خالی گھر جیسے کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔افسردگی سے کہتی ہوئیں وہ منزہ کو بھی اداس کرگئی تھیں ۔

میرا بھی دل نہیں لگتا مما آپ سب کے بغیر ۔مگر کیا کیا جاسکتا ہے وہ کہتے ہیں ناں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے ۔پل بھر میں اس کی پلکیں نم ہوئی تھی ۔

تمہارے اس پروفیسر بننے کے چکر میں میں بیٹی ہونے کے باوجود بھی بیٹی سے محروم ہوں ۔ان کی آواز رونے کے باعث بھاری ہورہی تھی ۔

ایم سوری مما ۔دو سال ہوگئے تھے منزہ کو پڑھائی کے سلسلے میں ہاسٹل رہتے ہوئے اس دوران وہ چار بار ہی گھر گئی تھی ۔ایک تو منزہ کا ہاسٹل میں اکیلے رہنا انہیں کھائے جاتا تھا اوپر سے اس کا سال میں دو بار آنا انہیں الگ افسردہ کرکے رکھتا تھا ۔

تمہاری سوری ایک ہی شرط پر ایکسپٹ ہوگی جب تم گھر آؤ گی ورنہ میں ناراض ہی رہوں گی ۔مما کی بات پر وہ قہقہ لگاتی کافی مگ اٹھانے لگی تھی کہ اچانک ہی کافی سے بھرا مگ منزہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر اس کے اسائنمنٹ بھگو گیا تھا ۔

ہااااااااا، منزہ کی چیخ نکلی تھی ساتھ آنسو بھی اس کی آنکھوں سے بہنا شروع ہوئے تھے چار دن کی محنت رائیگاں ہونے کے غم سے ۔

کیا ہوا منزہ تم ٹھیک ہو ۔انہوں نے فکر سے پوچھا تھا ۔

مما میرا اسائنمنٹ ۔ بچوں کی طرح روتی ہوئی کافی کے مگ کو اسائنمنٹ پر گرے ہوئے دیکھ مزید روانگی سے رونا شروع ہوگئی تھی ۔

کیا ہوا اسائنمنٹ کو وہ تو تم نے بنا لیا ہے ناں پھر ۔۔وہ سمجھی نہیں تھیں سمجھتی بھی کیسے منزہ نے انہیں سہی سے بتایا ہی کب تھا ۔

  مما میری ساری محنت پر کافی پھر گئی آپ سے باتیں کرنے کے چکر میں میں نے بے دھیان سے مگ اٹھایااور اسائنمنٹ کافی سے رنگ گیا ۔منزہ کی محنت رائیگاں ہونے کا سن کر مما بھی افسردہ ہوئیں تھیں ۔

یااللہ تیرا شکر ہے میرے مالک ، یو آر دا بیسٹ ۔ ہائے اللہ بچ گیا میرا اسائنمنٹ ۔منزہ کی چہکی ہوئی آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی ۔

منزہ اسائنمنٹ خراب نہیں ہوا ۔مما کی آواز سن کر وہ فون کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔

مما میرا اسائنمنٹ خراب ہونے سے بچ گیا ۔اسائنمنٹ کو سینے سے لگائے ہوئے وہ خوشی سے بولی تھی ۔

کیسے ۔مما کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔

مما میری ہی غلطی تھی میں نے ہی غور نہیں کیا تھا کہ اسائنمنٹ کے اوپر منیبہ نے پلاسٹک کوٹنگ کردی تھی تاکہ خراب نا ہو اور میں بے وقوف خود بھی پریشان ہوگئی اور آپ کو بھی کردیا ۔آخر میں سنجیدگی سے بولی تھی ۔

کوئی بات نہیں تم بس اسے احتیاط سے رکھو ،اور اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔مما کی نصیحت کے اندر چھپی محبت پر وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی ۔

ہمہم ۔۔بھرائی آواز میں فقط اتنا ہی کہہ سکی تھی ۔

اور ہاں ویک اینڈ پر تم آرہی ہو اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں سننا سمجھی تم ۔

جی مما ۔آنسوؤں کو واپس دھکیلتی ہوئی دانتوں تلے لب دبا گئی تھی ۔

اپنا خیال رکھنا منزہ ۔نم لہجے میں کہتی ہوئی وہ منزہ کے ضبط کردہ آنسوؤں سے اچھے سے واقف تھیں جب ہی تو خود کو مضبوط کرنے کی سعی کیے ہوئیں تھیں ۔

آپ بھی اپنا بابا کا اور بھائی کا بہت سارا خیال رکھنا ۔

خدا حافظ مما ۔خود کو کمپوز کرتی ہوئی وہ اتنا ہی کہہ سکی تھی اور کال کٹ کر گئی تھی ۔

آئی مس یو مما، آئی مس یو سو مچ ۔فون ہاتھ میں لیے اپنے ضبط کردہ آنسوؤں کے سارے بند توڑ گئی تھی ۔

******

ایک عدد لیموں اور عدد ایگ چاہے مجھے ۔ ریسٹورنٹ کے سامنے گاڑی روکتا ہوا شاہ میر فرقان کو گاڑی میں چھوڑ کر خود ریسٹورنٹ کے اندر گیا تھا ۔

ویٹر کو آرڈر دے کر اپنی نشے سے بند ہوتی آنکھوں ہر انگلیوں سے دباؤ دے رہا تھا جب ویٹر اس کا آرڈر لیے آیا تھا ۔

بوئلڈ ایگ نہیں چاہیے مجھے کچا انڈا چاہیے جس میں یلیو کلر کا سرکل ہوتا ہے جسے فرائی پین میں ڈالتے ہیں تو وہ اپنی شکل چینج کرلیتا ہے ۔بوئلڈ ایف دیکھ کر وہ فورا سے نشے کی حالت میں تفصیل دے رہا تھا ۔

بٹ سر کچا انڈا ،ویٹر پریشان ہوا تھا آج تک اس سے کسی نے ایسا آرڈر نہیں دیا تھا ۔پھر بھی خاموشی سے سر ہلا گیا تھا ۔

 رکو۔۔فون میں چلتی ویڈیو کو دیکھتا ہوا پریشانی میں جاتے ہوئے ویٹر کو وہ پیچھے سے آواز لگا گیا تھا ۔ایک لمین ایک کچا انڈا اور ساتھ ایک نیم گرم پانی کی بوتل ،ایک گلاس رہنے دو یہ تو ہے یہاں اور وہ جو ہوتی ہے نا جس وہ کٹ جاتا ہے ۔ٹیبل پر ہاتھ سے کاٹنےکےانداز سے اسے سمجھا رہا تھا ۔

ویٹر کو وہ کہیں سے بھی سڑک چھاپ نشائی نہیں لگ رہا تھا ۔جس وجہ سے وہ اسے سمجھنے کی سعی کررہا تھا ۔

سر آپ کو نائف چاہیے ۔وہ اپنے تحت صحیح اندازہ لگا گیا تھا ۔

کاریکٹ جو تم کہہ رہے ہو یہ ہی چاہیے مجھے ۔ویٹر کو داد دیتا ہوا مسکرایا تھا ۔ٹیبل پر دونون ہاتھ رکھے وہ اپنا نشے کی وجہ سے ہوتا بھاری سر ان پر رکھ گیا تھا ۔ 

یہاں کیا کر رہے ہو تم ۔ویٹر کو کچن میں دیکھ کر مینجر نے سخت لہجے میں پوچھا تھا ۔

سر وہ ایک سر کا آرڈر ہے انہوں نے ایک عدد لیمن ،میں گرم پانی کی بوتل اور اس کے ساتھ ایک نائف منگوائی ہے ۔تفصیل سے بتاتا ہوا ویٹر سامان لینے لگا تھا ۔

تم آگے چلو میں بھی آتا ہوں اس سر سے ملنے ۔عجیب آرڈر کو دیکھتے ہوئے مینجر نے اسے کہا تھا جس پر ویٹر سر ہلاتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔

سر آپ کا آرڈر ۔ویٹر کی آواز پر وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تھا ۔

تھینک یو ،ٹیبل پر رکھے سامان کو دیکھ کر فون میں چلتی ویڈیو کو دیکھتا ہوا وہ پھرتی سے آدھے گلاس پانی میں ایگ ڈالتا ہوئی ٹیبل پر رکھی ہوئی اسپون سے ہل کررہا تھا ۔

شاہ میر ہمدانی ۔ویٹر پیچھے سے آگے آکر کھڑے ہوتے مینجر اسے یہاں دیکھ کر چونکے تھے ۔

وہیں شاہ میر کو ناک دبائے وہ پانی میں گھولے ہوئے انڈے کو پیتے دیکھ ویٹر کو اکلائی آئی تھی جب ہی تو وہ خود بھی اپنی ناک دبا گیا تھا ۔

کتنا بل ہوا ہے ۔ تھوڑی دیر ریلکس کرتا ہوا شاہ میر اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔

اٹس اوکے شاہ میر سر ۔مینجر نے مخصوص لہجے میں انکار کیا تھا ۔

نہیں پھر بھی بتا دیں ۔پاکٹ مین کہاں رکھتا ہوا ایک ہاتھ میں پانی کی بوتل اور نائف پکڑے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے والٹ نکال کر پوچھ رہا تھا ۔

میں نے کہا نا سر اٹس اوکے ۔ مینجر کے انکار پر شاہ میر شانے آچکا گیا تھا ۔

ویٹر رکو ۔ویٹر کو جاتے دیکھ وہ پیچھے سے پکار گیا تھا ۔

یہ لو تمہاری ٹپ ۔

اٹس اوکے سر ۔۔شاہ میر کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے مینجر کو اس گھورا تھا ۔

آپ کو نہیں دے رہا یہ اس کا حق ہے ۔پانچ ہزار کا نوٹ ویٹر کے ہاتھ میں تھماتا ہوا وہ مینجر کو خاموش کروا گیا تھا ۔

یہ لے کر جارہا ہوں ۔نائف کی طرف اشارہ کرتا ہوا وہ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے کی سمت بڑھا تھا ۔

پیچھے کھڑا ویٹر کبھی ہاتھ میں پکڑے نوٹ کو حیرت سے دیکھ رہا تھا تو کبھی جاتے ہوئے شاہ میر کو ۔

******

 گرلز ہاسٹل کے تیسرے فلور پر بنے اس چھوٹا کمرا جو جو سنگل بیڈ ،ایک دو پٹ والی کبرڈ کے ساتھ ہی اٹیچڈ واشروم کی سہولت انہیں میسر تھی ۔

وہیں کمرت کی دائیں جانب رکھی ٹیبل جس پر ایک لیمپ کے ساتھ کتابیں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں ، نائیٹ بلب کی مدھم روشنی میں سنگل بیڈ کے چھوٹے سے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی وہ خود بخود مسکرا رہی تھی ۔

دوسری سنگل بیڈ پر لیٹی ہوئی صلہ جو کب سے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔

اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔

 کسے اتنی دیر میں سوچا جارہا ہے وہ بھی مسکرا کر ۔ صلہ کے استفسار کرنے پر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی ۔

کسی کو بھی نہیں سوچا جارہا بس ایسے ہی مسکرا رہی تھی ۔

تم بتاؤ تم کس خوشی میں جاگ رہی ہو اب تک ۔ بات ٹالتی ہوئی وہ الٹا اس سے ہی سوال کرگئی تھی ۔

زیادہ چالاک بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے ساتھ سمجھی تم ۔ صلہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔

یار مسئلہ کیا تمہیں ، وہ اب اس کے سوالوں سے زچ آئی تھی ۔

جب ہی اپنے بستر پر سیدھی ہوئی تھی ۔

منزہ کی بچی زیادہ چالاکیاں مت دیکھاؤ مجھے اور جلدی سے بتاؤ کسے سوچ کر مسکرایا جارہا تھا ۔منزہ کے منہ پر سے کمبل کھینچتے ہوئے اونچی آواز میں بولی تھی ۔

آہستہ بولو کسی نے سن لیا نا پروبلم ہوجائے گی ۔اسے تنبیہ کرتی ہوئی منزہ اٹھ کر بیٹھی تھی ۔

جاذب مجھے کل کافی پر لے جانا چاہتا ہے ۔انگلیاں چٹکھاتی ہوئی منیبہ سے نظریں چرا رہی تھی ۔

سچ میں ۔وہ چیخی تھی ۔

جاذب کی منزہ کے لیے فیلنگز وہ کب سے جانتی تھی مگر آج منزہ کے بتانے کے انداز سے وہ اندازہ لگا گئی تھی جاذب اکیلا نہیں تھا منزہ سے محبت کے سفر میں۔

چپ ہوجاؤ اور جاکر سو جاؤ ،منیبہ کا ڈپٹتی ہوئی منزہ تکیے میں میں دے گئی تھی ۔

راجہ کی آئے گی برات رنگینی ہوگی 

رات مگن ناچوں گی ہووووووو 

مگن میں ناچوں گی ۔۔۔۔۔۔

سوجاؤ منیبہ، تکیہ اس کے منہ پر مارتی ہوئی وہ شرم اور غصے کے ملے جلے تاثرات لیے بولی تھی ۔

جس پر قہقہ لگاتی ہوئی منیبہ اس کے برابر میں ہی لیٹ گئی تھی ۔

******

  اٹھ بے کمینے تیرا گھر آگیا ۔ لیمون جو پہلے ہی وہ پانی کی بوتل میں مکس کرگیا تھا ۔اس لیموں والے پانی کو پیتے ہوا وہ فرقان کو جھنجھوڑنے کے انداز ہلا رہا تھا ۔

میری جان ہمدانی آئی لوو یو ۔گاڑی سے اترنے کے بجائے فرقان نے اپنی دونوں بازوں اس کی گردن میں ڈالی تھی ۔

ابے کمینے دور رہ اور اتر میری گاڑی سے ،فرقان کو دور کرتا ہوا وہ گاڑی سے اترا تھا ۔

جس پر فرقان نے منہ بنایا تھا ۔

نکل ۔شاہ میر کی ترکیبیں رنگ لائی تھیں جو اس کا نشہ کافی حد تک اتر گیا تھا جو رہ گیا تھا اس پر وہ خود سے قابو پائے ہوئے تھا ۔

یارا تیری یاری کو میں نے تو خدا مانا 

یاد کرے گی دنیا تیرا میرا افسانہ 

کمینے بند کر اپنا بے سورا راگ ،شاہ میر جو اسے سہارا دے کر چل رہا تھا اچانک سے اس کی اونچی میں میں گانے پر زچ آیا تھا ۔

اوکے جانی ۔ کہتا ہوا وہ شاہ میر کے گال پر لب رکھ گیا تھا ۔

کتے کمینے گدھے انسان ،ایک ساتھ گالیوں سے نوازتا ہوا فرقان سے دور ہوا تھا جس پر وہ ہنستا ہوا لڑکھڑا گیا تھا ۔

ڈور بیل بجا کر شاہ میر دور ہوا تھا ۔

اسلام وعلیکم ابو ۔اپنے والد کو دیکھ فرقان آنکھیں پٹ پٹا کر بولا تھا ۔

جس پر اسے غصے سے بھری سخت گھوری ملی تھی ۔

اسلام وعلیکم انکل چند فرینڈز نے اسے زبردستی پلا دی اس لیے مجھے آنا پڑا اسے چھوڑنے ۔جھوٹ بولتا ہوا شاہ میر ذرا نہیں ڈگمگایا تھا ۔

آؤ بیٹا تم اندر آؤ ۔شاہ میر کو دیکھتے ہی وہ مسکرائے تھے ۔

 ضرور انکل مگر پھر کسی اور دن ابھی داجی اور بابا انتظار کررہے ہونگے میرا میں تو اس کو چھوڑنے کی خاطر آیا تھا اور اب چلتا ہوں ۔وہ کہتا ہوا مسکرایا تھا ۔

چلو بیٹا چکر ضرور لگانا ۔ان سے اجازت لیتا ہوا شاہ میر اپنی گاڑی میں بیٹھا تھا ۔

کتنا بدل گئے ہو تم شاہ میر ہمدانی ۔شاہ میر کو جاتے دیکھ وہ فرقان کو اپنے پاس کھڑے نا دیکھ اپنے کمرے کی سمت بڑھے تھے ۔

****** 

مل گئی فرصت گھر آنے کی ۔ پورچ ایریا میں گاڑی کھڑی کرتا ہوا وہ منہ ببل ڈالتا ہوا گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ اپنے ڈیڈ کی آواز پر اس کے قدم منجمند ہوئے تھے ۔

وہ ڈیڈ ۔ آنکھیں جو نشے کی وجہ سے سرخ ہوئیں تھیں اب تک سرخ تھی ۔

جو جہانزیب ہمدانی کی تیز نظروں سے چھپی نہیں تھی ۔

تمہاری آنکھیں سرخ کیوں ہورہی ہیں اتنی ۔ سخت گیر لہجے میں بولے تھے ۔

جس پر شاہ میر کے حلق خشک ہوا تھا ۔

کس نے بزنس مین کہہ دیا انہیں ، انہیں تو سی آئی ڈی آفیسر ہونا چاہیے ۔اپنے عنابی خشک لبوں کو تر کرتا ہوا اپنا سر کھجا کر رہ گیا تھا ۔

وہ ڈیڈ ۔

بتاؤ کیوں ہورہی ہیں تمہاری آنکھیں سرخ شراب پی کر آئے ہو ۔ شاہ میر کے بولنے سے پہلے ہی وہ بول اٹھے تھے ۔

پکے سی آئی ڈی ہیں اتنا کچھ کیا مگر پھر بھی پکڑ لیا ۔سر جھکائے گردن پر ہاتھ پھیرتا ہوا وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا ۔

جی ڈیڈ ۔وہ پھر ہلکی آواز میں بولنا شروع ہوا تھا کہ پھر سے جہانزیب ہمدانی بیچ میں بولے تھے ۔

ڈیڈ کے آگے بھی بولو گے ۔  

یار ڈیڈ آپ بولنے دیں گے تو میں کچھ بولوں گا نا ۔دکھتی پیشانی پر ہاتھ رکھے وہ روانگی سے بولا تھا کہ کہیں وہ پھر سے اس کی بات نا کاٹ دیں ۔

اندر آنے دیں ۔آخر کو وہ بھی ان کا ہی بیٹا تھا زبان اور دماغ کا تیز ۔ 

ہاں تو میں نے کب روکا ہے تمہیں گھر میں آنے اور بولنے سے ۔ شاہ میر کو اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے جہانزیب ہمدانی دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر ایک سائیڈ پر کھڑے ہوئے تھے ۔

ڈیڈ میں اور فرحان ایک کلائینٹ کے ساتھ ہوٹل گئے تھے وہیں کچھ فرینڈز نے بھی ہمیں جوائن کرلیا تھوڑی پارٹی وغیرہ کی تو تھوڑی ،

مطلب تھوڑی سی ڈرنک کرلی اس وجہ سے آنکھیں سرخ ہورہی ہیں ۔ ہاتھ سے تھوڑی سی کا اشارہ کرتا ہوا وہ نہایت سنجیدگی کے ساتھ باتوں کو گھما پھرا کر سچ بنا کر پیش کررہا تھا ۔

جس پر جہانزیب ہمدانی کو ذرا یقین نہیں آیا تھا ۔

سچ کہہ ہو ،شک بھری نظروں سے شاہ میر کو دیکھتے ہوئے انہیں اب بھی اس پر شک تھا ۔

جی ڈیڈ میں کیا آپ سے جھوٹ کہوں گا ۔ معصومیت سجائے وہ مبہم سا مسکرایا تھا ڈیڈ کی شاکی نظروں کو دیکھ کر ۔

مجھے یقین نہیں آرہا تم پر شاہ میر ۔

کیونکہ مجھے تم میں سے فرقان کے ہمدانی کی بو آرہی ہے ۔وہ اب بھی اسے شاکی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے تھے ۔

آگئے تم شاہ میر ۔ ڈیڈ کے بولنے پر شاہ میر کے لب کچھ بولنے کے لیے وا ہوئے تھے کہ داجی کو دیکھ کر وہ لب سل گئے تھے ۔

سارے فساد اور اس کلاس کی جڑ آپ ہیں داجی ۔داجی کے ساتھ اچانک بغلگیر ہوتا ہوا وہ چبا کر بولا تھا ۔

جس پر داجی اپنا قہقہ ضبط کرگئے تھے ۔

برخوردار گھوڑے کے نال اور لگام دونوں پر تھوڑا سی کڑکی اور سختی بھی ضروری ہے ورنہ کب بدک کر ہاتھ سے نکل پتا نہیں چلتا ۔شاہ میر کی پیٹھ تھپکتے ہوئے وہ رازدانہ انداز میں بول رہے تھے ۔

ابا جان آپ تو اپنے پوتے سے ایسے مل رہے ہیں جیسے وہ صدیوں بعد گھر واپس آیا جنگ فتح کرکے ۔جہانزیب ہمدانی چبا کر بولے تھے ۔

دیکھ لیں داجی کتنی جلن ہوتی ہے آپ کے بیٹے کو ہماری محبت سے ۔شاہ میر شرارت سے گویا ہوا تھا ۔

جس پر داجی اپنے بیٹے کو دیکھ کر شاہ میر سے الگ ہوئے تھے ۔

ابا جان آپ کو نہیں پتا آپ کا یہ لاڈلا پوتا شراب پی کر آیا ہے آج پھر ۔ 

یار ڈیڈ تھوڑی سی پی تھی وہ بھی دوستوں کے اسرار پر ۔شاہ میر کے جھوٹ بولنے پر داجی نے اسےگھورتا تھا جس پر وہ خاموش ہوا تھا ۔

نہیں تم نے تو جیسے دوستوں کے ساتھ مل کے پی ہی نہیں جو بچے پر اتنی سختی کررہے ہو ۔

بچہ اتنی رات کو تھک ہار کر گھر آیا ہے بجائے اسے یہ کہنے کہ جاؤ بیٹا آرام کرو الٹا تم یہاں کمرہ عدالت کھول بیٹھے ہو ۔داجی کے انداز پر جہانزیب ہمدانی نے دنیا معصومیت چہرے پر سجائے سر جھکا کر کھڑے شاہ میر کو دیکھ رہے تھے ۔

جی ابا جان ۔شاہ میر کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ڈیڈ کے بولنے پر ۔

جاتے ہوئے پہلے ارحم سے مل لینا کب سے تمہارا انتظار کرتا ہوا اب سویا ہے ۔جہانزیب ہمدانی کہہ کر جانے کے لیے بڑھے تھے ۔

کبری کے روم میں ہے کیا ارحم ،شاہ میر کے سوال پر وہ اثبات سر ہلا گئے تھے ۔

سوری پھر میں اس سے صبح مل لوں گا ۔اس نے فورا سے انکار کیا تھا ۔

کبری سے شادی کرلو شاہ میر ارحم اور پریشے کے سر پر باپ کا شفقت بھرا ہاتھ رکھ دو ۔

شاہ میر کو اپنے روم کی جانب بڑھتے دیکھ جہانزیب ہمدانی افسردگی سے پکار رہے تھے ۔

وہیں داجی نے اپنے بیٹے کی کم عقلی پر ماتھا پیٹا تھا 

وہیں سیڑھیوں پر کھڑے شاہ میر نے لب آپس میں سختی سے پیوست کیے تھے ۔

ارحم اور پریشے مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہیں ڈیڈ ۔

رہی بات کبری کی تو وہ میری بھابھی اور میری بہن جیسی ہے جس وجہ سے میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں ۔شاہ میر سخت گیر لہجے میں بولتا ہوا جہانزیب ہمدانی کی طرف رخ موڑ گیا تھا ۔

میں ان کے سر پر بڑا بھائی بن کر تو ہاتھ رکھ سکتا مگر شادی یہ میرے اور کبری کے رشتے کی توہین ہوگی ڈیڈ ۔ روانگی سے کہتا ہوا وہ جہانزیب ہمدانی اور داجی کو شکوہ کن نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔

کبری کو بھابھی کہہ کر کیوں نہیں پکارتے تم ۔ہمدانی صاحب کی بات پر شاہ میر نے کرب سے آنکھیں میچی تھیں ۔

وہیں داجی نے اپنے بیٹے کی سوچ پر تاسف سے گردن ہلائی تھی ۔

چھوٹی ہے وہ مجھ سے عمر میں اس لیے ڈیڈ ۔ضبط کرتا ہوا وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بول رہا تھا ۔

ہنہہ، وہ ہنکارا بھرتے خاموش ہوئے تھے ۔

خدا کے لیے دوبارہ اس چیپٹر کو مت کھولیں گا ڈیڈ ،ورنہ میں کبھی بھی کبری کو فیس نہیں کر پاؤں گا ،التجائی لہجہ اپناتا ہوا وہ ڈیڈ کے ساتھ کھڑے داجی کو بھی دیکھ رہا تھا ۔

داجی جو خاموش کھڑے دونوں کو سن رہے تھے ۔

گڈ نائیٹ، وہ کہتا ہوا جانے کے لیے مڑا تھا ۔ 

 ابی آپ آگئے ۔شاہ میر کی آواز پر وہ نیند سے جاگ گیا فورا سے روم سے باہر آکر وہ شاہ میر کی پیٹھ دیکھ کر آنکھیں مسلتا ہوا بولا تھا 

ارحم کی معصوم آواز نے شاہ میر ہمدانی کے مضبوط قدم جکڑے تھے ۔

جی ابی کی جان ۔ ارحم کے لیے دونوں بانہیں وا کرتا ہوا شاہ میر مسکرا رہا تھا ۔

آپ نے وعدہ کیا تھا ابی کہ آپ مجھے اسٹوری سنائیں گے ۔دونوں بازوں سینے پر باندھ کر کھڑا ارحم شاہ میر پر اپنی ناراضگی سے جتا رہا تھا ۔   

سوری ،کان پکڑ کر بولتا شاہ میر اگلے ہی لمحے میں ارحم کو اپنے چوڑے سینے میں بھینچ گیا تھا ۔

ارحم کے اور شاہ میر کے رشتے کو کسی اور نام کی ضرورت نہیں ہے جہانزیب ۔

یہ چاچو بھتیجا کے رشتے میں ہی ٹھیک ہیں ۔جہانزیب ہمدانی جو ان دونوں کو نآنکھوں سے دیکھ رہے تھے داجی کی بات پر وہ کہیں نا کہیں متفق ہوئے تھے ۔

ابی پتا ہے آپ کو مما نے مجھے سلا دیا تھا پر میں پھر اٹھا اور داجی کے پاس آگیا تھا ۔شاہ میر اسے گود میں لے کر کھڑا ہوا تھا ۔

مگر داجی نے بھی دکھا دیا مجھے ابی ۔ داجی کو دیکھتا ہوا ارحم انہیں مسکراتے دیکھ رخ موڑ گیا تھا ۔

اچھا داجی نے ۔ شاہ میر مزہ لینے انداز میں مسکرایا تھا ۔

انہوں نے مجھے سلا دیا ۔شاہ میر کی گردن میں دیئے وہ اس سے چپک گیا تھا ۔

کوئی بات نہیں ابی آگئے ہیں ناں تو ابی آپ کو اسٹوریز سنائیں گے ۔

کبری بھابھی بتا دیجئے گا کہ ارحم آج میرے پاس سوئے گا ۔مسکرا کر کہتا ہوا شاہ میر ڈیڈ کو اپنے روم میں جاتے دیکھ بولا تھا ۔

ایک نظر سیڑھیوں پر شاہ میر کو دیکھ کر وہ گئے تھے ۔

رکو برخوردار میری بات تو سنتے جاؤ ۔شاہ میر نے انہیں مسکرا کر دیکھا تھا ۔

میرا نیند کی دوا تو دیتے جاؤ ۔ ارحم کی وجہ سے وہ شراب کی کو اپنی دوا کا نام دے گئے تھے ۔

نگاہ کا چشمہ سیٹ کرتے ہوئے داجی نے اپنی روز کی ڈوز مانگی تھی ۔

 آپ نے میری شکایت کی ہے ڈیڈ سے اس کے باوجود بھی آپ مجھ سے ڈوز کی امید رکھ رہے ہیں داجی ۔آنکھوں میں شرارت لیے داجی کے لٹکے منہ کو دیکھ خوش ہوا تھا ۔

یار شاہ میر یہ ٹھیک نہیں کررہے تم ۔وہ دوستانہ لہجہ اپنا گئے تھے ۔

جو آپ نے کیا وہ ٹھیک تھا ۔وہ بھی ان کا ہی پوتا تھا ۔

برخوردار داجی ہیں ہم تمہارے ۔ وہ روادار لہجے میں بولے تھے ۔

میں بھی آپ کا پوتا ہوں داجی آج بنا ڈوز کے سوئیں آپ ۔ ارحم کی پیٹھ سہلاتا ہوا شاہ میر اپنا قہقہ ضبط کیے ہوئے تھا ۔

یار کھانسی تنگ کرے گی مجھے پھر وہ تمہاری بوڑھی دادی پریشان ہوجائے گی ۔ بی جان کا حوالہ دیتے ہوئے وہ شاہ میر کو بڑے معصوم لگے تھے ۔

میری بلا سے یہ آپ کا اور بی جان کا مسئلہ ہے میرا نہیں ۔ شاہ میر بھی آج اذلی ڈھیٹ بنا ہوا تھا ۔

نیند نہیں آئے گی ۔داجی بیچارگی سے بولے تھے ۔

جس پر بالآخر شاہ میر کو ترس آیا تھا ۔

پنک کشن کے نیچے رکھی ہے ۔ داجی کے چہرہ کھل اٹھا تھا شاہ میر کے بتانے پر ۔

کیا چیز رکھی ہے ابی ۔ارحم جو کب سے داجی اور اس کی باتیں سن رہا تھا فورا سے پوچھ گیا تھا ۔

داجی کی دوا میری جان ۔ارحم کی پیٹھ تھپکتے ہوئے شاہ میر نے داجی کو دیکھا تھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے ۔

تنگ کررہا تھا آپ کو اور پلیز تھوڑی ہی لیجئے گا ۔

میں کوئی بوڑھا ہوں جو مجھے ہدایت دے رہے ہو ۔ہر بار کی طرح آج بھی وہ خود جوان کہہ رہے تھے ۔

نہیں بوڑھا تو میں آپ تو ارحم سے تین سال ہی بڑے ہیں ۔ طنز کرتا شاہ میر اپنے روم کی سمت بڑھ گیا تھا ۔

اللہ پاک میرے بچے کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے ۔ اسے جاتے دیکھ داجی نے دل سے دعا کی تھی ۔

*****

ندا ! ارحم کو لے آؤ ذرا شاہ میر کے روم سے لیٹ ہورہی ہے اسے اسکول کے لیے ۔پریشے کے پیچھے بھاگتی ہوئی کبری مصروف انداز میں بولی تھی ۔

اوکے میم ۔ کبری اور پریشے کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی ندا وہاں سے گئی تھی ۔ 

 تین سالہ پریشے کے بال بنوانے کے بجائے کمرے میں کبری کی دوڑ لگوا رہی تھی ۔

پریشے مما تھک گئی ہے بی بی ۔ بلیو کلر کی فیری فراک میں گول مٹول سی پریشے اپنی مما کو تھکتے دیکھ ٹک کر بیٹھی تھی ۔    

 مما، کبری کے چہرے کو اپنے ننھے ہاتھوں میں لیے ننھی پریشے نے لاڈ سے پکارا تھا ۔

جی مما کی جان ۔ پیار لٹاتی کبری نے چٹا چٹ اس کے گال چومے تھے ۔

جس پر پریشے کبری کے ساتھ لگ گئی تھی ۔

زندگی کتنی مشکل ہوتی اگر تم دونوں میری زندگی میں نا ہوتے تو ۔پریشے کو گود میں لیے وہ روم سے باہر آئی تھی ۔

روم سے باہر آتے ہی وہ سمرین ہمدانی سے ہوا تھا جو اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح مسکرائی تھیں ۔

پریشے میرا بچہ دادو کی جان، کبری کی گود سے پریشے کو لیتی ہوئی سمرین ہمدانی اسے پی آر کرنے لگی تھی ۔

جس پر پریشے کے قہقہے ہمدانی ولا میں گونجے تھے ۔

کبری ارحم کہاں ہے ۔ سمرین ہمدانی نے ارحم کو کبری کے ساتھ نا پاکر استفسار کیا تھا ۔

 آج وہ شاہ میر کے ساتھ سویا ہے مما، کچن کی جانب بڑھتی ہوئی لائیٹ پنک کلر سادہ سے شلوار قمیض کےساتھ سر ہر سلیقے سے لیا ہوا لائیٹ پنک کلر کا ڈوپٹہ جو اس کی صاف رنگت خوب جچ رہا تھا ۔ میک اپ سے پاک چہرے لیے کبری ہمیشہ کی طرح آج بھی پرکشش لگ رہی تھی ۔

اچھا ۔ سمرین ہمدانی مسکرائی تھیں ۔

مما آپ بریک فاسٹ میں کیا لیں گی ۔وہ کچن میں جاتے ہوئے پوچھنا نہیں بھولی تھی ۔

تم یہ سب رہنے دو ندا دیکھ لے گی ۔ 

 بس ارحم کا بریک فاسٹ تیار کردو ویسے ہی بہت لیٹ ہوگئی ہے آج ۔کبری مثبت میں گردن ہلا کر کچن میں گئی تھی ۔

 وہیں سمرین ہمدانی پریشے کو لے کاؤچ پر بیٹھی تھیں ۔  

*****

منیبہ یار اٹھ جاؤ دیر ہورہی ہے اسائنمنٹ سبمینٹ بھی کروانے ہیں ۔

اگر تم دو منٹ کے اندر اندر نہیں اٹھی ناں تو میں آج اکیلی جاذب سے ملنے چلی جاؤں گی ۔ 

منزہ جو اسے کئی بار اٹھا چکی تھی اب تھک ہار کر آخری حربہ آزما گئی تھی ۔

میں اٹھ گئی ہوں سمجھی تم ۔جو کارآمد ثثابت ہوا تھا ۔

منزہ اسے بیڈ سے چھلانگ لگا کر اترتے دیکھ مسکرائی تھی ۔

کچھ دیر بعد شیشے کے سامنے کھڑی منیبہ کو بلش آن لگاتے دیکھ منزہ چونکی تھی ۔

یہ اتنا میک اپ کس خوشی میں کررہی ہو ۔

جاذب سے میں ملنے جارہی ہو یا تم ۔حیرت سے پوچھتی ہوئی منزہ کو منیبہ نے گھورا تھا ۔

کیا پتا مجھے میرا سلمان خان مل جائے ۔دونوں ہاتھ باندھے ہوئے وہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی تھی جس پر منزہ قہقہ لگا گئی تھی ۔

مل ہی نا جائے تمہیں پاکستان میں سلمان خان ۔اسائنمنٹ اٹھاتی ہوئی وہ اپنے ہینڈ بیگ میں اپنا سیل فون رکھ رہی تھی ۔

تم تو جب بھی دینا بد دعا ہی دینا ۔خود پر جائزانہ نظر ڈالتی ہوئی منیبہ شیشے کے سامنے سے ہٹی تھی ۔

یار منزہ تم بھی کوئی لپ اسٹک ،کاجل وغیرہ لگا لو آخر کو پہلی بار جاذب کے ساتھ ڈیٹ پر جارہی ہو ۔منزہ کے عام سے حلیے کو نظر میں رکھتی ہوئی وہ فکر اور شرارت سے بولی تھی ۔

ڈیٹ پر نہیں جارہی بس اپنے دوست سے ملنے جارہی ہوں ۔منزہ کا عام سا انداز دیکھ منیبہ حیران ہوئی تھی ۔

چلیں ۔۔منزہ جانے کے لیے بڑی تھی ۔

پہلے یہ لگا لو ۔بلکل لائٹ کلر ہے ۔منزہ نے نفی میں گردن ہلائی تھی ۔

پلیززززز منزہ ورنہ میں ابھی منہ دھو کر آرہی ہوں ۔

اچھا کرو ۔منیبہ کو باتھروم میں جاتے دیکھ منزہ نے چار رونا چار ہامی بھری تھی ۔

اب ٹھیک ہے اب چلتے ہیں ۔منزہ نے کہ اسٹک اسے تھماتے ہوئے کہا تھا ۔

اتنی ہلکی ۔منیبہ نے کو افسوس ہوا تھا اس کے لپ اسٹک لگانے پر ۔

ہاں تو ۔ منزہ نے نا سمجھی میں اسے دیکھا تھا ۔

یہ ان خالی آنکھوں میں بھر لو ۔ غصے سے کاجل منزہ کے ہاتھ پر رکھتی ہوئی وہ اپنا ہینڈ بیگ اٹھنے لگی تھی ۔

یہ تو میں بھول ہی گئی تھی ۔اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل لگاتی ہوئی وہ منہ بنائے کھڑی منیبہ جو میک اپ کے بعد اور بھی پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھ کر منزہ مسکرائی تھی ۔

چلیں ۔منزہ کے پیچھے منیبہ بھی روم سے نکلی تھی ۔

*****

گڈ مارننگ مما ۔ارحم نہیں دکھ رہا اسے اسکول ڈراپ کرنے جانا تھا مجھے اور نا ہی کبری بھابھی ۔آذر جو آج ذرا لیٹ ہوگیا تھا اٹھنے میں ارحم اور کبری کو ڈائنگ ٹیبل پر نا پاکر پریشان ہوا تھا ۔

 ارحم کو اسکول چھوڑنے آج کبری خود چلی گئی ہے ۔ سمرین ہمدانی کے لہجے میں ناراضگی صاف عیاں تھی آذر کے دیر سے اٹھنے کی وجہ سے ۔

تم یونی جانے کی تیاری کرو ۔آذر کے رف حلیے کو دیکھ سمرین ہمدانی نے غصے سے کہا تھا ۔

گڈ مارننگ بی جان ۔ندا کا ہاتھ پکڑے آتی بی جان کو دیکھ آذر پرجوشی سے بولا تھا ۔

گڈ مارننگ میرے شہزادے ۔بی جان کا ہاتھ پکڑ اپنے ساتھ بیٹھتا ہوا آذر مسکرایا تھا ۔

اور بھائی بہو بیگم میرے شہزادے پر غصے کش لیے ہورہی ہیں ۔بی جان نے آتے ہی سمرین ہمدانی کی کلاس لی تھی آخر کو انہوں نے ان کے چہرے ہوتے کو جو ڈانٹا تھا ۔

آپ شہزادہ آج پھر لیٹ اٹھا ہے جس کی وجہ سے کبری گئی ہے ڈرائیور کے ساتھ ارحم کو چھوڑنے ۔اب بھی ناراضگی سے بول رہی تھیں ۔

تو کیا ہوا بچی ہے وہ بھی چلو کسی بہانے تو گھر سے باہر جاتی ہے ورنہ شارق کے جانے بعد بیچاری نے خود کو قید کرلیا ہے ۔ شارق کے ذکر پر بی جان کے لہجے میں افسردگی گھلی تھی ۔

وہیں آذر اور سمرین ہمدانی بھی افسردگی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔

شارق کا ذکر انہیں آج بھی افسردہ کردیتا تھا۔

گڈ مارننگ ایوری ون ،شاہ میر کی خوشگوار آواز نے انہیں اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔

ارے واہ بی جان بڑی ہاٹ لگ رہی ہیں آج آپ ریڈ کلر میں ۔ریڈ کلر کی بنارسی ساڑھی پہنے بی جان اس عمر میں اپنی مثال آپ لگ رہی تھیں ۔

 بی جان کی پیشانی پر بوسہ دیتا ہوا وہ شرارت سے بولا تھا۔

ارے کہاں ہاٹ جو میں پہلے ہوا کرتی تھی ۔

خدا غارت کرے تمہارے داجی کو انہوں نے میری ساری خوبصوتی اپنی خدمتیں کروا کروا کر ختم کردی اب تو فقط جھریاں اور یہ سفید بال رہ گئے ہیں ۔ افسوس سے کہتی ہوئی بی جان ان تینوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھر گئیں تھیں ۔

کہیں نہیں بی جان مجھے تو آپ اب ہاٹ لگتی ہیں ۔شاہ میر کے بال بکھرتی ہوئی بی جان کے جھریوں زدہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلی تھی ۔ 

شاہ میر کو دیکھ تینوں کے چہروں پر مضنوئی مسکراہٹ کا خول چڑھا تھا جو سیکنڈ کا مہمان تھا۔شارق کے جانے کے بعد شاہ میر ان سب کو اداس رہنے ہی کب دیتا تھا۔

اووو اوو مسسز جہانزیب ہمدانی آج تو آپ قہر ڈھارہی ہیں ۔ویسے ڈیڈ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا کہیں ۔ایک آنکھ دبائے وہ راز دانہ انداز میں پوچھ رہا تھا ۔ 

شاہ میر کے بولنے پر آذر ایک ہاتھ سے اپنا چہرہ چھپائے ہوئے تھا ۔

اووو اوو مسسز جہانزیب بلش کررہی ہیں ۔

بدتمیز بیٹا ۔شاہ میر کے شانے پر ہلکی سی چت لگاتی ہوئی وہ شرمائی تھیں ۔

آئی لوو یو مما ۔سمرین کی زانوں پر سر رکھتا ہوا شاہ میر آنکھیں بند کیے ہوئے تھا ۔

اور تم جا کرتیار ہو میرے ساتھ چلنا ہے تمہیں ۔شاہ میر آنکھیں بند کیے آذر سے کہہ رہا تھا جو بی جان کے ساتھ کسی بات پر مسکرا رہا تھا ۔

مگر شاہ میر کی بات پر حیران ہوا تھا ۔

آپ میرے ساتھ جائیں گے ۔

نہیں میرا بھوت ۔شاہ میر کہتا ہوا کھڑا ہوا تھا ۔

مما ندا کو کہہ کر میرا بریک فاسٹ تیار کروادیں ۔

اور تم اب تک کھڑے ہو جاؤ جاکر تیار ہو ۔شاہ میر کے کہتے ہی آذر اپنے روم کی جانب دوڑ لگا گیا تھا ۔

یہ دادجی اب تک سوئے ہوئے ہیں ۔جاتے ہوئے شاہ میر نے استفسار کیا تھا ۔

بڑی ہی گہری نیند سوئے ہوئے ہیں تمہارے دادجی ۔

افففف یار دادجی میری وجہ سے کیوں خود کی صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔شاہ میر پریشانی سے مسلتا ہوا اپنا کمرے میں گیا تھا ۔

******

کیا ہوا ہے ایسے بھڑکے ہوئے شعلوں کی طرح کیوں بنی ہوئی آرہی ہو تم ۔ منزہ کو کیفے سے پیر پٹخ کر آتے دیکھ منیبہ حیران ہوئی تھی ۔

کیا ہوا ہے ۔منیبہ کو فکر ہوئی تھی ۔

کیا ہوا جاذب نے کچھ کہا کیا ۔فکرمندانہ لہجے میں پوچھتی ہوئی وہ منزہ غصے سے چہرے کو دیکھ کر پریشان ہوئی تھی ۔

نام بھی مت لو اس کمینے کا مجھے بلا کر خود آیا بھی نہیں ہے کمینہ ۔غصے میں بولتی ہوئی منزہ رونے کو تیار تھی ۔

کوئی بات نہیںہے شاید بزی ہو ۔ جواز پیش کرتی ہوئی منیبہ اس وقت منزہ کو زہر سے کم نہیں لگی تھی ۔

اچھا میں پانی لے کر آتی ہوں تم یہاں پر ہی رکنا ۔

جلدی آنا ۔۔بس اسٹاپ پر کھڑے رہنے کا کہتی ہوئی خود منیبہ وہاں سے گئی تھی ۔

کافی دیر سے منیبہ کے آنے کی راہ دیکھتی ہوئی منزہ بس کے تھوڑی اور نا آنے کی دعا کررہی تھی ۔

ذرا سا بھی نہیں دیں گے کسی کو 

تیرے بارے میں خود غرضی کریں گے 

مسلسل خود پر کسی کی نظروں کی تپیش محسوس کرتی ہوئی منزہ چاروں اطراف نظریں دوڑا رہی تھی مگر کسی کو بھی خود پر متوجہ نا پاکر بھی پرسکون نہیں ہوئی تھی ۔

منزہ کی متلاشی نظروں کو دیکھ کر وہ زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔

*****

آنکھ کھل گئی آپ کی دادجی ۔ آذر کو یونی چھوڑ کر وہ آفیس جاتا ہوا دادجی کا نمبر ملا گیا تھا جو تین چار کال کرنے کے بعد پک کیا گیا تھا ۔

کال ملتے ہی شاہ میر طنز کیا تھا ۔

ارے کہاں برخوردار ابھی بھی مجھ پر تو نیند مہربان ہے ۔مضنوئی نیند میں ڈوبی آواز نکالتے ہوئے دادجی چائے کچھ دیر پہلے ہی چائے کے مزے لے کر فراغ ہوئے تھے کہ شاہ میر کی کالز پر وہ چونکا ہوکر بیڈ پر نیم دراز ہوئے تھے جیسے شاہ میر ان کے روم کے باہر ہی کھڑا ہو 

یار دادجی وہ دیسی شراب تھی ۔ اپنی پیشانی مسلتا ہوا وہ پریشانی سے بول رہا تھا ۔

اچھا پر میں نے تو وہ آدھی بوتل پی لی تھی ۔ دراز سے بھری ہوئی بوتل نکالتے ہوئے دادجی مسکرائے تھے ۔

جبکہ شاہ میر سوچ کر ہی پریشان ہورہا تھا ۔

یار دادجی آپ کی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے اتنا پینا ۔ صحت نا سہی یہ ہی سوچ لیا کریں کہ حرام ہے یہ ۔ کیوں خومخواہ بڑھاپے میں اپنی آخرت خراب کررہے ہیں میری وجہ سے ۔ پریشانی سے بولتے ہوئے شاہ میر کی آواز میں نمی کی گھلی تھی ۔

اس پر تم بھی تو عمل کرسکتے ہو نا برخوردار ۔ دادجی کی بات پر شاہ میر نے ضبط سے آنکھیں میچی تھیں ۔

جس بات سے وہ تین سال سے بھاگتا آیا تھا اس کا موقع آج اس نے خود دادجی کو دے دیا تھا ۔

تمہاری صحت کو توانائی بخشتی ہے کیا ریڈ وائن ،ووڈکا، ویسکی، یا سوڈ ان سب میں کون سی وائن تمہیں زیادہ صحت مند بناتی ہے ۔ شاہ میر کے لب آپس میں پیوست ہوئے تھے دادجی کے سوال پر ۔

شراب حرام تو تم پر بھی ہے شاہ میر ، آخرت تو تمہاری بھی خراب ہورہی ہے صرف میری ہی تھوڑی ہورہی ہے ۔شاہ میر کی خاموشی پر دادجی سنجیدگی سے بول رہے تھے ۔

میرا کیا ہے دادجی نا ہی میری اتنی عمر ہے جو میری صحت خراب ہوگی ۔ شاہ میر نم لہجہ لیے بولا تھا ۔

ایک نوجوان پوتا کھو چکا ہوں میں شاہ میر ۔

مجھ میں مزید ہمت نہیں ہے کہ تمہیں بھی پل پل مرتے دیکھوں ۔یہاں شاہ میر ہمدانی کی آنکھیں نم ہوئی تھیں شارق ہمدانی کو سوچ کر ۔

قابل رحم ہیں وہ دیوانے

جن کو حاصل نہیں ہیں ویرانے

ہم ہلاک ستم نہیں ہیں مہر

ہم کو مارا ہے لطف بیجا نے

جن کا عنوان بن گئی وہ نظر

کتنے رنگین ہیں وہ افسانے

میں تو اس زندگی سے روٹھا ہوں

آپ کیوں آ رہے ہیں سمجھانے

میری محرومیوں کا غم ہے انہیں

چھلک اٹھیں کہیں نہ پیمانے

کشتہ اعتماد ہیں ہم لوگ

ہم کو دھوکا دیا ہے دنیا نے

تلخ گو مخلصوں کی محفل میں

جون کس بات کا برا مانے

جس دن بھی اس بے وجہ زندگی کو جینے کی وجہ مل گئی اس دن میں کہہ دوں کہ شاہ میر ہمدانی بس اب اس کا سہارا لینا چھوڑ دے ۔

وہ خدا جس دن میری سننے لگ جائے گا ناں اس دن میں خدا کے حضور میں سر جھکا کر روتے ہوئے پیش ہوجاؤں گا دادجی ۔ بنا ڈرائیور کی فکر کیے ہوئے وہ اپنی نم آنکھوں کو بے دردی سے صاف کررہا تھا ۔

پھر دیر کس بات کی ہے خود کو راہ یار پر ڈال دو ۔ دادجی کی بات پر اس کی بھنویں سکڑی تھی ۔

کیا مطلب دادجی ۔

بھئی کوئی لڑکی وڑکی دیکھو ، عشق کی پینگیں لڑاؤں کسی کے ساتھ پھر ہم بات آگے بڑھائیں گے ۔

ہمدانی یہ ہی تو عمر ہے تمہاری عشق معاشقے کرنے کی ورنہ میری طرح ساری عمر پچھتاؤ گے ۔

جیسے میں پچھتاتا ہوں تمہاری بی جان کو دیکھ کر ۔ آخر میں دادجی کے لہجے میں شرارت گھلی تھی ۔

واہ دادجی میں عشق معاشقے کرنے لگ گیا نا تو خاندان بھر میں آپ کا اور میرا نام روشن ہوجائے گا ۔ شاہ میر کہتا ہوا قہقہ لگا گیا تھا ۔

جس پر ڈرائیور نے میرر سے اسے اس طرح ہنستے ہوئے پہلی بار دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔

ہوجائے خاندان بھر میں نام روشن کم از کم اس شراب سے تو تمہارا پیچھا چھوٹ جائے گا ۔ شراب کی بوتل اٹھا کر دادجی باتھروم میں گئے تھے ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ بہا دی گئی تھی مگر آج ایک امید جاگی تھی جس پر دادجی پر امید تھے ۔

یار دادجی کوئی لڑکی ان آنکھوں کو بہائے تو سہی پھر ہی کوئی محبت کا سین چلے گا ناں ۔شعات سے بھرپور سنجیدگی لیے وہ مسکرایا تھا ۔

کلب میں کوئی دیکھ لو ۔انہوں نے رائے دی تھی ۔

یار دادجی وہاں تو فقط غم بھولانے کے لیے جاتا ہوں لڑکیاں تاڑنے نہیں ۔

اور ویسے بھی کلب والی لڑکیاں کبھی بیوی نہیں بن سکتی دادجی ۔ شاہ میر کی بات پر دادجی اپنا تیز دماغ دوڑانے لگے تھے ۔

کوئی تو پسند آئے گی ۔

آخر شاہ میر تم ہو تو میرے ہی پوتے جب مجھے اپنی جوانی میں جلدی سے کوئی لڑکی پسند نہیں آتی تھی تو تمہیں کیا خاک آئے گی ۔ دادجی کی بات لب دبائے مسکرایا تھا ۔

کیونکہ دادجی کی بات میں دم تھا ۔

کرتے ہیں آپ کی بات پر غوردادجی بس آپ دعا کیجئے گا کہ ان آنکھوں کو کوئی بہا جائے اور سیدھا دل میں اتر جائے ۔ 

انشاءاللہ برخوردار نیت صاف ہو تو منزل آسانی سے ملتی ہے ۔ تم بس میری پوتا بہو ڈھونڈو باقی سب کچھ تمہارا دادجی سنبھال لے گا ۔ دادجی کی بات پر وہ مسکراتا ہوا اثبات میں گردن ہلا گیا تھا ۔

میں پھر بات کرتا ہوں تم سے تمہاری بی جان کو دیکھ لوں ذرا ہے کہاں صبح سے میری بوڑھیاں ۔روم سے باہر نکلتے ہوئے دادجی سنجیدگی سے بولے تھے ۔

جائیں ڈھونڈیں اپنی بوڑھیاں اور میری بی جان کو ۔ شرارت سے کہتا ہوا شاہ میر کال کٹ کر گیا تھا ۔  

*****

                                                                      مما ڈیڈ واپس کب آئیں گے ۔ ارحم کے سوال پر کبری چونک اٹھی تھی ۔

مجھے ڈیڈ کی بہت یاد آتی ہے رات میں ابی کے سوتے ہوئے بھی مجھے ڈیڈ بہت یاد آرہے تھے مما ۔

آپ ڈیڈ سے کہیں ناں کہ میں انہیں بہت یاد کرتا ہوں اس لیے آجائیں واپس ۔ معصومیت سے بولتے ہوئے ارحم کو سن کر کبری کی زبان جیسے تلوے سے چپک گئی تھی ۔

مما بتائیں ناں آپ ڈیڈ سے کہیں گی ناں کہ وہ ہمارے پاس واپس آجائیں ۔کبری کو بازوں سے ہلاتے ہوئے وہ ضدی لہجے میں بول رہا تھا ۔

ارحم اسکول آگیا ہے باہر آؤ ۔ہر بار کی طرح آج بھی وہ بات ٹال گئی تھی ۔

 ہم اس بارے میں پھر بات کریں گے ۔ کبری کو غصے سے دیکھتا ہوا وہ اسکول کے گیٹ کی طرف بھاگا تھا ۔

ایم سوری ارحم ۔ نم لہجے میں بولتی ہوئی اسے بھاگتے ہوئے دیکھ رہی تھی جب تک اس کی آنکھوں سے وہ اوجھل نہیں ہوا تھا ۔

ذہن میں ارحم کی چلتی باتوں سے افسردہ ہوتی ہوئی کبری کا دل ہر کام اچاٹ گیا تھا ۔

کبری ۔اپنے روم میں جاتی ہوئی کبری مما کی آواز پر رکی تھی ۔ 

جی مما ۔ 

کچھ دیر کے لیے ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ پھر اپنے روم میں چلی جانا ۔ کبری جب سے ارحم کو اسکول چھوڑ کر آئی تھی جب سے بجھی بجھی سی لگ رہی تھی جو سمرین اور بی جان نے بخوبی نوٹ کیا تھا ۔

جی مما ۔ دھیمہ لہجہ جو ہمیشہ کبری کو پروقار بنتا تھا ۔

کیا ہوا ہے کبری میں نے دیکھا ہے جب سے تم ارحم کو اسکول چھوڑ کر آئی ہو جب سے بجھی بجھی سی لگ رہی ہو ۔ اپنے ہاتھوں کی خالی لکیروں کو دیکھتی ہوئی کبری تلخ مسکرائی تھی ۔

بی جان میری زندگی میں رونق باقی رہی ہی کب ہے ۔ بی جان سے بات کرتے ہوئے اس کا لہجہ خود بخود نم ہوا تھا ۔  

ایسے نہیں بولتے کبری بچے ۔ بی جان فورا سے اسے ٹوک گئیں تھیں ۔

ایم سوری بی جان ۔لب دبائے وہ اپنی آنسو روک رہی تھی نجانے بہنے کو تیار تھے ۔

کیا بات ہوئی کبری ۔سمرین ہمدانی نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا ۔

مما ارحم نے آج پھر وہی سوال پوچھا ہے اس کے ڈیڈ کیوں نہیں ملنے آتے اس سے ۔ آنسو ٹوٹ کر اس کے گلابی رخسار پر بہہ نکلا تھا ۔

کیا جواب دوں مما پر اب مجھے لگتا ہے کہ وقت آگیا ہے اسے بتانے کا اسے کہ اس کے ڈیڈ اب کبھی واپس نہیں آئیں گے ہمارے پاس کیونکہ وہ ہمیں چھوڑ کر اتنی دور جاچکے ہیں جہاں سے آج تک کوئی بھی واپس نہیں آسکتا ۔ سمرین ہمدانی کے شانے پر سر رکھ کر وہ اپنا ضبط کھو گئی تھی ۔

اسے یوں روتے دیکھ سمرین ہمدانی اور بی جان کی آنکھوں سے بھی شارق کی یاد میں آنسو بہنا شروع ہوئے تھے ۔

حوصلہ رکھو کبری اگر تم ہی ہمت ہار جاؤ گی تو ارحم اور پریشے اور ہمیں کون سنبھالے گا ۔بی جان کی بھرائی آواز پر اس کی نم آنکھیں اٹھی تھی ۔

کتنا حوصلہ رکھو بی جان ہر پل اپنے دل پر بڑا سا پتھر رکھتی ہوں مگر شارق کی یاد پھر میرے دل و دماغ پر حاوی ہوجاتی ہے ۔مجرمانہ انداز میں بولتی ہوئی وہ بے بس تھی اپنی دل کے ہاتھوں ۔

کبری بچے ۔ بی جان نے اسے جگہ سے اٹھتے دیکھ پکارا تھا ۔

بی جان میں تھوڑی دیر اکیلے رہنا چاہتی ہوں بہتر محسوس کروں گی ۔ وہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی ۔  

یااللہ اس بچی کے حال پر رحم فرما ۔  

آمین ۔ کبری کو جاتے دیکھ بی جان اپنے آنسوؤں پونچتی ہوئی بولی تھیں ۔

*****

کیا ہوا ۔سیٹ سے ٹیک لگائے ہوا شاہ میر نے اچانک سے بریک لگانے پر استفسار کیا تھا ۔

سوری سر وہ سگنل کی وجہ سے اچانک بریک لگانی پڑی ۔ڈرائیور نے گھبرائی ہوئی آواز میں جواب دیا تھا ۔

تم نے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔۔شاہ میر بھڑک اٹھا تھا ڈرائیور کی غلطی پر ۔

ایم سوری سر وہ ۔ڈرائیور کے منمنائے پر شاہ میر کا غصہ بڑھا تھا مگر تھوڑے ہی فاصلے پر کھڑی بلیک کلر کے سادے سے سوٹ میں ملبوس لڑکی پر رکی تھی ۔

جو بس اسٹاپ پر کھڑے ہونے کے باوجود بھی متلاشی نظریں ادھر ادھر دوڑا رہی تھی ۔

گاڑی سائیڈ پر لو ۔نظریں ہنوز اس لڑکی پر ٹکائے وہ ڈرائیور سے مخاطب ہوا تھا 

جی سر ۔ 

جو کہا ہے وہ کرو ۔حیرانگی سے گاڑی سائیڈ پر کرتا ہوا ڈرائیور اپنے لیے دل ہی دل میں دعا گو تھا ۔

خود کی مسلسل نظروں سے پریشان ہوتی لڑکی کو دیکھ کرشاہ میر کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ رینگی تھی ۔

*****

کہاں مر گئی ہو تم ۔ وہ ویسے خود پر کسی کی نظروں سے خائف ہورہی تھی اوپر سے بس بھی آکر جاچکی تھی ۔ بس کے جاتے ہی منزہ نے اسے کال کی تھی جو نجانے اسے یہاں چھوڑ کر خود کہاں چلی گئی تھی۔

یار بس آرہی ہوں ۔ منزہ کے غصے سے منیبہ ڈری تھی ۔

تمہارے بس آرہی ہوں کے چکر میں بس نکل گئی ہے ہماری ۔منزہ غصے بھڑکی ہوئی تھی۔

کیاااااا ۔ منیبہ کی صدمے سے بھری چیخ پر منزہ اپنے کان پر سے فون دور کرگئی تھی۔

اب کیا ہوگا منزہ ۔ منیبہ نے بیچارگی سے پوچھا تھا۔

کیا ہونا تم آؤ پھر کیب لیں گے اور کیا ۔ حال بتاتی ہوئی منزہ خود بھی پریشان کھڑی تھی۔

منزہ کے چہرے کے اترتے چڑھتے رنگوں کو دلچسپی سے دیکھتا ہوا شاہ میر اس کے آنکھوں کے نیچے پسینے سے پھیلے ہوئے کاجل کو بغور دیکھتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔  

اتنی جلدی دادجی کی دعا قبول کرلی میری تو سنتے بھی نہیں ہیں آپ ۔دل میں خدا سے مخاطب وہ شکوہ کرگیا تھا ۔

                                                                       یہ جو بلیک کلر کی ڈریس میں میڈم کھڑی ہیں انہیں لفٹ کی آفر کرنی تمہیں جاکر ۔شاہ میر کی بات پر ڈرائیور نے فورا سے اس لڑکی کو دیکھا تھا جو کسی کی راہ دیکھ رہی تھی ۔

ابھی سر ۔نا سمجھی میں سوال کرتا ہوا ڈرائیور گردن موڑ کر شاہ میر کو دیکھ رہا تھا جو اس لڑکی کو دیکھنے میں مگن تھا ۔

نہیں میرے مرنے کے بعد ۔ جلے کٹے انداز میں بولتا ہوا شاہ میر نے ڈرائیور کو غصے سے گھورا تھا ۔

بلکہ رکو ۔ گاڑی سے ڈرائیور کو اترتے دیکھ شاہ میر نے کچھ سوچ کر اسے روکا تھا ۔

جی سر ۔ ڈرائیور حیرت سے شاہ میر کو دیکھ رہا تھا جس کا انداز آج اسے نجانے کیوں حیران کررہا تھا ۔

تم کار ریوس کرکے ان کے پاس لے جاؤ اور جہاں انہیں جانا ہے وہاں ڈراپ کرنا ہے تمہیں ۔ شاہ میر کار سے نکلا تھا ۔

پر سر آپ کیسے جائیں گے آفیس ۔ ڈرائیور کے لہجے میں اپنے لیے فکر دیکھ شاہ میر نے آبرو ریس کی تھی ۔

تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میڈم کو ذرا علم نہیں ہونا چاہیے کہ تم یہاں پر ہی کھڑے تھے ۔

اور ہاں واپسی پر مجھے میڈم کی ساری ڈیٹیل چاہیے میری ٹیبل پر ۔

گھر کے ایڈریس سے لے کر سیل فون نمبر تک کی ساری ڈیٹیل چاہیے انڈر اسٹینڈ ۔ ایک لفظ پر زور دیتا ہوا وہ سنجیدگی سے مخاطب تھا ۔

اوکے سر ۔ کار اسٹارٹ کرتا ہوا ڈرائیور شاہ میر کے حکم پر لبیک کرتا وہاں سے گیا تھا ۔

وہیں شاہ میر روڈ کراس کرتا ہوا بنا منزہ کو دیکھے اس کے بلکل قریب سے گزرا تھا ۔ 

ڈسکسٹنگ ۔ شاہ میر کے پاس سے گزرتی لڑکی کا سبز آنچل نے اس کے چہرے پر سلامی پیش کی تھی ۔جس سے وہ سخت بدمزہ ہوتا ہوا ناک کی سیدھ میں وہاں سے گزر گیا تھا ۔

کیسا آدمی ہے دیکھنا تک گوارا نہیں کیا بدتمیز ۔ ہوا میں اپنا سبز آنچل لہرا کر اس کے سامنے سے گزرتی ہوئی منیبہ نے اسے اپنی سمت متوجہ کرنا چاہا تھا ۔

 اب بھی کیوں آئی۔ منزہ غصے سے بولی تھی ۔

منزہ غصے کم کرو ویسے ہی مجھے بہت غصہ آرہا ہے ۔منیبہ نے جاتے ہوئے شاہ میر کی پیٹھ دیکھ کر کہا تھا ۔

اچھا محترمہ میں نے دیکھی ہے تمہاری حرکت ۔ منزہ جو منیبہ کی گئی حرکت دیکھ چکی تھی فورا سے چڑ کر بولی تھی ۔

ہاں تو ہینڈسم بندہ تھا سوچا میرے ایسے کرنے سے مجھے دیکھا گا اور پہلی ہی نظر میں مجھ پر مر مٹے گا ۔

مگر مرے گا تو بعد میں دیکھا بھی نہیں مجھے اس نے ۔ ناگواریت سے بولتی ہوئی منہ لٹکا گئی تھی ۔

تمہاری اس حرکت پر اس شخص نے تمہیں دیکھا یا نہیں مگر بہت سے لوگوں کی نظریں اٹھی ہونگی جو تمہارے حق میں بہتر نہیں ہے ۔ منزہ کو اس کا اس طرح سے اس شخص کو اپنی طرف متوجہ کرنا برا لگا تھا ۔

افففف یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا ۔ اپنی بیوقوفی پر اسے پچھتاوا ہوا تھا ۔

اب کیا پچھتانا جو کرنا تھا تم کرچکی ہو ۔ منزہ نے اپنے شانے اچکائے تھے ۔

اچھا ناں سوری ویسے ہی مجھے برا فیل ہورہا ہے ۔منزہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ افسردگی سے بولی تھی ۔

ہمہم ویسے کس لیے گئی تھیں تم مجھے یہاں چھوڑ کر ۔ منزہ کو تفتیش ہوئی تھی ۔

جاذب سے بات کرنے اس کی مما کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی ہے اس وجہ سے وہ نہیں آپایا تم سے ملنے ۔روانگی سے بولتی ہوئی منیبہ ساتھ ساتھ منزہ کے پریشان تاثرات دیکھ رہی تھی ۔

کہ اچانک سے وائیٹ کلر کی کار ان کے پاس آکر رکی تھی ۔

میڈم آپ لوگ بس کا انتظار کررہی ہیں کیا ۔ گاڑی کا شیشہ نیچے کرکے ڈرائیور نے منزہ سے پوچھا تھا ۔

جس پر اسے جواب منیبہ کی طرف سے ملا تھا ۔

جی پر آپ کو کیسے پتا ۔ جواب کے ساتھ منیبہ سوال پوچھ گئی تھی ۔

میڈم وہ بس اب نہیں آئے گی ۔ ڈرائیور نے بہانا گھڑا تھا ۔

کیوں بھائی ۔ منزہ پریشان ہوتی ہوئی کار کے پاس آئی تھی ۔

وہ میڈم شاید اچانک سے بسوں کی ہڑتال ہوگئی ہے اس لیے آپ لوگ یہاں سے جلدی سے جائیں کب وہ لوگ یہاں دھوا بول دیں کچھ خبر نہیں ہے ۔ بڑی فکرمندانہ انداز میں بولتا ہوا ڈرائیور بہترین اداکاری کا مظاہرہ کررہا تھا ۔

ایسے لڑکیوں کو قائل کررہا ہے جیسے نجانے کتنی لڑکیوں کو میری کار میں لفٹ دی ہو ۔جس پر کیفے میں بیٹھا ہوا شاہ میر پر سوچ انداز میں اسے داد دے گیا تھا ۔

ایسی بات ہے کیا بھائی مطلب آپ سچ بول رہے ہیں ناں ۔ منزہ سوچ کر ہی گھبرائی تھی ۔

جی میڈم ۔ بولتے ہوئے ڈرائیور نے سر ہلایا تھا ۔

منیبہ اب کیا ہوگا ہم ہاسٹل کیسے جائیں گے ۔ منزہ اور دونوں یقین کرگئی تھی ڈرائیور کی بات پر ،کرتی بھی کیوں نا وہ سب بیان ہی ایسے کررہا تھا جیسے سچ میں ہڑتال ہوئی ہو ۔ 

کرنا کیا ہے یہ بندہ شریف لگ رہا ہے اس کے ساتھ چلتے ہیں ویسے بھی پندرہ سے بیس منٹ کا سفر تو ہے یہان سے ہاسٹل کا ۔منیبہ نے تجویز دی تھی ۔

اوکے میدم اب میں چلتا ہوں میرے سر میرا ویٹ کررہے ہونگے آپ پلیز یہاں سے جائیں یہاں کھڑے رہنا آپ دونوں کے لیے سیوو نہیں ہے ۔ منیبہ کی سرگوشی سنتا ہوا وہ فورا سے پہلے بولا تھا ۔

ارے بھائی رکیں جب نے آپ نے ہمیں اتنا بتایا ہے تو پلیز ایک اور فیور کردیں ۔ منیبہ نے بڑی ہی عاجزی سے بول رہی تھی ۔

پر میڈم میرے سر آفیس میں ویٹ کررہے ہیں میرا ۔ دل میں شکر ادا کرتا ہوا وہ فرضی بہانا بنا رہا تھا ۔

پلیز بھائی ۔ منزہ کے کہنے پر وہ اثبات میں گردن ہلا گیا تھا ۔

آجائیں میں ڈراپ کردیتا ہوں آپ دونوں کو ۔ منزہ کو گاڑی میں بیٹھتے دیکھ شاہ میر فاتح انداز میں مسکرایا تھا ۔

****

رکیں بھائی ! گاڑی اسٹارٹ کرتے ڈرائیور کو منزہ نے روکا تھا ۔

وہیں شاہ میر ٹھٹھکا تھا ۔ 

یہ کیسی خوشبو ہے آپ کی کار میں ، کار میں بیٹھتے ہی شاہ میر کے کلون کی محسور کن خوشبو منزہ کے نتھنوں سے ٹکرائی تھی ۔

منزہ کی چھٹی حس بیدار ہوئی تھی جو اسے کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی ۔

وہ میڈم کار فریشنز کی خوشبو ہوگی ۔ ڈرائیور نے فورا سے جواب دیا تھا ۔

لگ تو نہیں رہی ۔ منزہ زیر لب بڑبڑائی تھی ۔

اب میں گاڑی اسٹارٹ کروں میڈم مجھے لیٹ ہورہی ہے ۔ منزہ کی تیز حس پر ڈرائیور ڈگمگاتے ہوئے بولا تھا ۔

جی جی بھائی آپ چلائیں ہمیں بھی لیٹ ہورہی ہے ۔ منزہ کی جگہ منیبہ فورا سے بولی تھی ۔

اوکے میڈم ۔ سکھ کا سانس لیتا ہوا ڈرائیور اپنی پہلی کامیابی پر خدا کا شکر گزار تھا ۔

کیا ہے تمہیں منزہ بیٹھ جاؤ چپ چاپ ۔ منیبہ اسے ڈپٹی تھی ۔

جو کار بیٹھ تو گئی تھی اب الگ ہی پریشانی لاحق ہوگئی تھی اسے ۔

بھائی آپ کا نام کیا ہے ؟

آپ کہاں کام کرتے ہیں مطلب کس کے پاس ؟

شادی شدہ ہیں یا سنگل ہیں آپ ؟

اگر شادی شدہ ہیں تو کتنے بچے ہیں آپ کے ؟

روانگی سے سوال کرتی ہوئی منیبہ کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی ۔

جس پر وہ کافی دیر سے ضبط کیے خاموش بیٹھی تھی ۔

الحمداللہ میڈم میں شادی شدہ ہوں اور دو بچے ہیں میرے ،سارے سوالوں کو اگنور کیے وہ مصروف انداز میں مختصر سا جواب دے گیا تھا ۔

یہ نہیں بتایا آپ نے آپ کہاں کام کرتے ہیں ۔ وہ بھی منیبہ تھی کہاں بھولانے والی تھی اپنے سوال بنا جواب لیے ۔

میں میڈم ، خشک لب تر کرتا ہوا ڈرائیور کنفیوز ہوا تھا کہ اسے بتائے یا نہیں کہ وہ شاہ میر ہمدانی کا ڈرائیور تھا ۔

بس بھائی یہاں روک لیں ۔ کشمکش میں گھرے ڈرائیور کو منزہ نے بچایا تھا ۔

آپ کا بہت شکریہ بھائی ۔گاڑی سے نکلتے ہی منزہ نے تشکرانہ لہجے میں اسے کہا تھا ۔

اس میں شکریہ کی کیا بات ہے میڈم یہ تو میری خوش نصیبی ہے کہ میں آپ کے کام آیا ۔منزہ کو دیکھ کر پرجوشی میں گویا ہوا تھا ۔

کیا مطلب ۔خود کی بیوقوفی پر ماتم کرتا ہوا وہ سر کھجا رہا تھا ۔

مطلب میڈم آپ دونوں کی مدد کرکے مجھے بہت خوشی ہوئی اب میں چلتا ہوں ۔ فورا سے بات سنبھالتا ہوا وہ گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا تھا ۔

چلو ،منزہ کا ہاتھ پکڑ کر منیبہ اسے وہاں سے لے گئی تھی ۔

جبکہ منزہ اب بھی ڈرائیور کی بات میں الجھی ہوئی تھی ۔

*****  

کیا آج تم نے رونا لیا ہوا ہے ۔ بی جان کو مسلسل روتے دیکھ دادجی زچ آئے تھے ۔

تمہیں کسی چیز سے فرق نہیں پڑتا آج میرے رونے سے کیا خاک پڑے گا ۔

میں ہی بے وقوف ہوں جو اتنی عمر گزرنے کے بعد بھی مجھے عقل نہیں آئی اور تمہارے سامنے رونے بیٹھ گئی ۔دادجی کی بات پر بی جان کے رونے میں روانگی آئی تھی ۔

کیون ہونے لگی میری فکر تمہاری پہلی محبت تو سرحد ہے نا ان سے وفاداری نبھائی مجھ سے کیا خاک نبھاتے ۔بی جان پھٹ پڑی تھیں ۔

 اپنی ساری زندگی تو بارڈر پر گزار دی پہلے میرے شاہ زیب اس وطن پر قربان ہوگیا ۔

پھر سمرین کے پھول جیسا شارق بھی فوج میں پڑ کر ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔ 

آپ نے ساری عمر وطن سے وفادار رہے شاہ زیب اور شارق بھی آپ پر ہی گئے ۔بی جان دل سے قائل تھیں دادجی کی اپنے وطن سے حد درجہ محبت سے ۔

بیگم ۔ رہنے دیں شاہ سلطان ۔ دادجی کی بات بیچ میں کاٹتی ہوئیں بی جان آج فقط بولنے کا ارداہ رکھتی تھیں ۔

وطن کی محبت سر آنکھوں پر شاہ سلطان مگر ماں کی ممتا جو پل پل تڑپتی ہے اسے کیا وطن کی مٹی سکون بخشے گی ۔

یا یہاں کی مٹی ہماری کبری کو اس کا من پسند شارق واپس لوٹا دے گی ارحم اور پریشے کو ان کے ڈیڈ لوٹا دی گی نہیں ناں ۔

میں جانتی ہوں آپ سب آرمی والے ہماری ہی وجہ سے کفن سر پر باندھ کر بارڈر پر دشمنوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں شاہ سلطان۔

 آرمی ، نیوی ،ایئر فورس ، پولیس ،رینجرز، کمانڈوز، ایڈوکیٹ، جرنلسٹ ،ان سب کی فیملیز بھی عام ہی انسان ہوتے ہیں جن کے سینے میں بھی وہی چھوٹا سا دل ہوتا ہے جس پر بڑا سا پتھر رکھ کر ہم انہیں ان پیشوں میں بھیجتے ہیں اپنے وطن سے اظہار محبت کرنے کے لیے ۔

پر جب ہم مائیں اپنے بچوں کو تکلیف میں بلکتے ہوئے دیکھتی ہیں ناں تو کلیجہ منہ کو آجاتا ہے ہمارے تڑپ اٹھتی ہیں ہماری آنتیں ، بی جان کی آواز حلق میں اٹکی تھی ۔

پھر وہ جب ہمارے بچے اپنے زخموں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں تو یہ دل پھٹنے لگتا ہے ہم مائیں بے بس ہوجاتی ہیں ۔

ہمیں اپنے شارق پر صبر کیوں نہیں آتا شاہ سلطان ، 

ہم اب تک کیوں اپنے شارق کی راہ دیکھ رہے ہیں جبکہ ہم سب اچھے سے جانتے ہیں وہ واپس نہیں آنے والا تو یہ دل کیوں نہیں مانتا ۔

دادجی کے کندھے پر سر رکھے بی جان کا دل شاہ زیب کی درد بھری یاد سے دوچار ہوا تھا ۔

شہیدوں پر رویا نہیں جاتا بلکہ فخر کیا جاتا ہے ہم تو دعا گو ہی شہادت کے ہوتے ہیں بیگم ۔

 نم آنکھیں لیے دادجی انہیں دلاسا دے رہے تھے ۔

جانتی ہوں شاہ سلطان اور مجھے اپنا بچے پر بہت فخر ہے پر اس کوکھ کی آگ کو کیسا ٹھنڈا کروں جو آج بیٹے کی یاد میں کسی لاوے کی طرح پک رہی ہے ۔ بے بسی سے کہتی ہوئی بی جان کو شارق کے ساتھ اپنے پچیس سال پہلے وطن پر قربان ہوئے بیٹے کی یاد میں تڑپ رہی تھیں ۔

جو کرنل شاہ سلطان ہمدانی کی دیکھا دیکھی میں آرمی جوائن کرگیا تھا ۔

جوائننگ کے دوسرے ہی سال وہ شہادت کے اونچے درجے پر فائز ہوگیا تھا ۔

اب میں اپنے کسی بچے کو آرمی میں جانے نہیں دوں گی ۔ آنسوؤں صاف کرتی ہوئی وہ اپنا سر دادجی کے کندھے سے اٹھا گئیں تھیں ۔

اب آپ خود غرض ہورہی ہیں روبینہ ، بی جان کے فیصلے کو سن کر بولے تھے ۔

اب حوصلہ نہیں شاہ سلطان ۔ بی جان افسردگی سے سر جھکا گئیں تھیں ۔

جب اللہ ہمیں دے کر آزماتا تو ویسے ہی وہ لے کر بھی آزماتا ہے ،

ہم ناشکری کیوں کریں روبینہ جب اللہ نے ہمیں نعمت سے نوازا تھا تو ہم کتنے خوش و پرجوش تھے ۔

اب جب اس نے اپنے ہی بندے واپس اپنے پاس بلا لیے ہیں تو ہم کیوں واویلا مچارہے ہیں ،

اگر ہم خوشیاں نہیں منا سکتے تو ہمیں اس طرح رونے اور ناشکرا پن کرکے اپنے خدا کو ناراض نہیں نہیں کرنا چاہیے ۔ 

دیکھنا اللہ پاک سب ٹھیک کردیں گے ۔جہاں ہمیں شازیب پر صبر آگیا ہے ویسے ہی شارق پر بھی آجائے گا انشاءاللہ ۔ مضبوط لہجے میں انہیں حوصلے کے ساتھ سمجھاتے ہوئے دادجی مطمئن تھے اپنے خدا کی رضا سے ۔

انشاءاللہ ۔ بھرائی آواز میں بولتی ہوئیں بی جان اپنے آنسوؤں پونچتی ہوئی دادجی کے پرسکون چہرے کو دیکھ کر مزید اپنے آنسوؤں پر ضبط کرگئیں تھیں ۔

اب چپ ہوجاؤ بوڑھیاں ورنہ شاہ میر کے چھوڑے ہوئے جاسوس اس تک ساری خبر پہنچا دیں گے ۔ شاہ میر کے ذکر بی جان مبہم سا مسکرائی تھیں ۔

*****

یہ اب تک آیا کیوں نہیں، میٹنگ سے فارغ ہوتے ہی اپنے کیبن میں بیٹھا ہوا شاہ میر ڈرائیور کے انتظار میں اب تک بلیک کافی کے چھ مگ ختم کرچکا تھا ۔

کہاں رہ گئے ہو ۔آخر کار شاہ میر ڈرائیور کو کال ملا گیا تھا ۔

 سر بس میں پہنچ گیا ۔ ڈرائیور کے پھولتے ہوئے سانسوں کی آواز سنتا ہوا شاہ میر ریلکس ہوکر چیئر پر جھولنے لگا تھا ۔

انتہا ہوگئی انتظار کی 

آئی نا کچھ خبر میرے یار 

یہ ہمیں ہے یقین بے وفا وہ نہیں 

پھر وجہ کیا ہوئی انتظار کی   

انتہا ہوگئی انتظار کی 

چیئر پر جھولتا ہوا شاہ میر بے چینی سے انتظار کرتا ہوا گنگنا رہا تھا ۔ 

ٹک ٹک ۔فائنلی ڈور ناک ہوا تھا اور شاہ میر کا انتظار بھی اپنا اختتام پذیر ہوا تھا ۔

کم ان ۔ بنا ایک سیکنڈ کی دیر کیے شاہ میر نے اندر آنے کی اجازت دی تھی ۔

سر میڈم کی ساری ڈیٹیل اس فائل میں ہے ۔ کیبن میں داخل ہوتے ہی وہ فورا سے بولا تھا ۔

چلو پھر دیر کس بات کی ہے جلدی سے اسٹارٹ ہوجاؤ بتانا ۔ شاہ میر کی جلدبازی پر ڈرائیور حیران ہوا تھا ۔

فل نیم منزہ وقار مرزا ۔ منزہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے مسکراہٹ نے شاہ میر کے لبوں کا احاطہ کیا تھا ۔

میڈم حیدر آباد سے ہیں ، فیملی میں پیرنٹس کے ساتھ ایک بڑا بھائی ہے جو کیمسٹری کے قابل پروفیسر ہیں وہاں کی یونورسٹی کے ۔

تو میڈم کا یہاں کیسے آنا ہوا سنگل ہیں یا ۔ شاہ میر نے بیچ میں بات کاٹی تھی ۔

آپ نے فکر رہیں سر میڈم سنگل ہیں ۔ ڈرائیور کی بات شاہ میر کے لب آپس میں پیوست ہوئے تھے ۔

یہاں اسکالرشپ کے تھرو دو سال سے کراچی گرلز ہاسٹل میں رہتی ہیں، 

دو سال میں میڈم اپنے گھر صرف چار بار گئیں ہیں وجہ ان کی پڑھائی میں حد درجہ سنجیدگی رہی ۔

اور سر ایک بہت اہم بات ۔ وہ جو جاذب کے بارے میں بتانے لگا تھا کہ شاہ میر نے اسے بیچ میں روک دیا تھا ۔

 بس اتنا کافی ہے میں خود دیکھ لوں گا تم جاؤ ۔فائل لیتا ہوا شاہ میر ڈرائیور کے روانگی سے بتانے پر اسے بیچ میں روک گیا تھا ۔

اوکے سر ۔دونوں ہاتھ باندھے وہ وہاں سے گیا تھا ۔

گھر کا ایڈریس ،ہاسٹل ایڈریس سب دیکھتے ہوئے شاہ میر کی نظریں فون نمبر پر ٹھہر گئی تھیں ۔

گھر بھی چلے جائیں گے پہلے تھوڑی بات چیت تو بڑھا لیں ۔ منزہ کا نمبر اپنے سیل فون میں سیوو کرتا ہوا وہ زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔

حیران ہوں میں کیسے تم میری آنکھوں کو اچھی لگ سکتی ہو منزہ ۔منزہ کو سوچتا ہوا وہ اس کو سوچتا ہوا کھو سا گیا تھا ۔

تم نے ضرور کوئی جادو ٹونا سیکھا ہوا ہے ورنہ کیسے ممکن ہے ۔ وہ ایسے مخاطب تھا جیسے وہ سامنے ہی موجود ہو ۔

کیا خبر تھی مجھے تم یوں بھیڑ میں مل جاؤگے 

خبر ہوتی اگر تو ساری زندگی یوں خاک تھوڑی چھانتے

فائنلی کوئی تو وجہ ملی زندگی جینے کی منزہ وقار مرزا ۔دلفریب مسکراہٹ سجائے شاہ میر کھویا ہوا تھا ۔۔

*****

 مزید ناولز کے لئے نیچے جائیں ، یہاں مکمل اور قسط وار سبھی ناولز کے لنکس دئیے گئے ہیں۔

آپ مزید ناول کی پکس دیکھنے کے لیے نیچے جائیں ، اور ہماری ویب سائٹ کو وزٹ کریں ، اگر آپ نے ابھی تک مدیحہ شاہ کے مکمل اور قسط وار ناولز نہیں پڑھے ۔ تو جلدی سے مدیحہ شاہ کے سبھی ناولز کو پڑھیں اور اپنا فیٹ بائک دیں ۔


If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Web by Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


Raah e Yaar Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Raah e Yaar written by Mehwish Gaffar . Raah e Yaar by Mehwish Gaffar is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.


 Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link


Copyrlight Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only share links to PDF Novels and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted 

No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Post Bottom Ad

Pages