Nafrat Se Barhi Ishq Ki Inteha By Madiha Shah - Madiha Shah Writes

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Friday, 23 October 2026

Nafrat Se Barhi Ishq Ki Inteha By Madiha Shah

 Nafrat Se Barhi Ishq Ki Inteha By Madiha Shah


Romantic Urdu Novel 




“ مرجان سائیں ۔۔۔۔۔!! مراد جو ویسے ہی چلتے گھر میں داخل ہوا تھا ۔
“ یہ وہی فام ہاؤس والا گھر ہے جہاں حال میں برہان اور آیت رہ رہے ہیں “ ؛۔
کیا ہوا ۔۔۔۔۔؟ مراد جو اُس حویلی والی ناز بھابھی اور جنت کی اداسی والی باتیں سن اُسکو ایک ہفتے بعد ہی فام ہاؤس لے آیا تھا ۔۔۔۔
ابھی اُسکو کیچن میں ٹیبل پر چڑھتے دیکھ بھاگ قریب آتے گرنے سے بچایا ۔
“ میر جان سائیں ۔۔۔۔ پلیز وہ ڈبہ اتار دیں ۔۔۔!! جنت جس کی طبیعت ویسے ہی ٹھیک نہیں تھی
اب کہ مقابل کے کندھے پر دباو دیتے ٹیبل سے نیچے اتار سامنے اوپر الماری کی طرف اشارہ کرتی بولی ؛۔
“ مرجان ۔۔۔۔ آپ کو ان کاموں کے لیے ملازموں کی ہیلپ لینی چاہیے ۔
وہ ویسے ہی تھوڑا سا آگے ہوتے ڈبہ اتارتے اُسکے سامنے شلف پر رکھ گیا ؛۔
مجھے لگا تھا میں اتار لوں گئی ۔ جنت جس کو چکر آ رہے تھے ۔
تیزی سے ڈبہ کھولتے آم کا اچار نکال کھانا شروع ہوئی ؛۔
ایسے خالی اچار کیسے کھا سکتی ہو ۔۔۔؟ چھوڑ اُسکو ۔۔۔۔!؟ مراد جو پہلے خاموشی سے دیکھ رہا تھا
ابھی اُسکو مزید مزے سے اچار کھاتے دیکھ غصے سے اچار پکڑ گویا :۔
“ مرجان سائیں ۔۔۔۔۔ ایسے نا کرے ۔۔۔ ہمیں کھانے دیں ۔ ہم یہ کھاتے ہیں تو دل کو سکون ملتا ہے ؛۔
مراد جو ڈبہ لیے آگے بھاگا تھا ، جنت بھی اُسکے پیچھے لپکی ؛۔
ملازم سب ہی اپنے میر سائیں اور چھوٹی بیگم صاحبہ کی طرف دیکھ مسکرانا شروع ہوئے تھے ۔۔۔۔
“ میر جان ۔۔۔۔۔سا۔۔۔۔ جنت جو مراد کے پیچھے بھاگ تھک چکی تھی ؛۔
اک دم سے تیز چکر آنے پر زمین پر گرتے بہوش ہوئی ،
جنت ۔۔۔۔۔!! مراد جو مسکرا رہا تھا اور اپنے دھیان میں آگے بھاگ رہا تھا اُسکو زمین پر گر دیکھ تیزی سے لپکا ؛۔
کیا ہوا میری جنت ۔۔۔۔۔ مر جان کو ۔۔۔؟ مراد جو جنت کو فورا سے اٹھاتے ہسپتال لے آیا تھا ۔
ڈاکٹر کے روم سے نکلنے پر لپکتے پوچھا ۔
آپ کو مبارک ہو میر مراد شاہ ۔۔۔۔ آپ باپ بنے والے ہیں ۔ آپ کی وائف پریگٹنیٹ ہیں ۔ ڈاکٹر نے مسکراتے مراد کی جیسے جہاں بھر کی آنے والی خوشیاں سے آشنا کروایا ؛۔
“ چھوٹے بابا سائیں ۔۔۔۔۔ داتا بخش جو قریب ہی موجود تھے ۔ مسکراتے مراد کے کندھے پر ہاتھ رکھ گئے
تو مراد جو حیران ہو چکا تھا خوشی سے داتا بخش کے گلے ملا ؛۔
مراد کی خوشی کی کوئی انتہا نا رہی تھی ، جنت کو لیتے وہ گھر تو پہنچ چکا تھا ۔
اور ساتھ ہی پورے خاندان میں اعلان کر چکا تھا ۔ آخر اُسکو اپنی دنیا مکمل خوبصورت ہوتی نظر آئی تھی ؛۔
داتا بخش اس قدر خوش تھے کہ وہ پورے گاوں میں جا کر مٹھائیاں بانٹ آئے تھے ۔۔۔۔
“ مرجان سائیں ہم اس قدر خوش ہیں کہ آپ کو الفاظ میں بیاں نہیں کر سکتے ؛۔
آپ نے ہماری زندگی مکمل کر دی ، وہ دلکشی سے بولتے جنت کو گود میں اٹھائے گھوما تو جنت مسکراتے اُسکو نیچے اتارنے کا بول گئی ۔۔۔۔
“ میر جان سائیں ۔۔۔۔ اب میرا چھوٹا شاہ آنے والا ہے ۔ میں بتا رہی ہوں میں اُسکو اس قدر محبت دوں گئی
کہ آپ جیلس فیل کرو گئے ، جنت جو مراد کی گود سے نیچے اتار چکی تھی
بیڈ پر بیٹھتے اپنے پلان بتائے ؛ جبکے وہ اوندھوں کی طرح اُسکو گھورنا شروع ہوا ۔ میری پری آنے والی ہے ،وہ بھی معنی خیز ہوتے گویا ۔
اچھا ۔۔۔۔۔ مر جان سائیں ۔۔۔۔۔ جو بھی آئے مجھے میرے دل و جان سے قبول ہے ۔۔۔۔
جس کو بھی اللہ نے ہمارے نصیب میں لکھا ہے ، وہی ملنے والا ہے ۔
آپ نے اب کوئی کام نہیں کرنا ہے ۔ خبر دار اگر آپ مجھے کیچن میں نظر آئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ؛۔،
وہ محبت سے اُسکے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑ بولا تو وہ مسکراتے اُسکے گلے لگ آنکھیں بوند گئی ؛۔
ایسے ہی یہ خبر سن سلطان شاہ لوگ پھر سے میرپور پہنچے تھے ۔
دشمنی اتنا گہرا رنگ لے چکی تھی کہ سلطان شاہ نے مراد کو مشکل سے سمجھایا کہ جنت کو کچھ وقت کے لیے لے کر لندن چلے جاؤ ۔۔۔۔
بچے کے پیدا ہونے کے بعد ہی پاکستان میں قدم رکھنا۔ مراد جانا نہیں چاہتا تھا اور وہ چاہ کر بھی اپنے بھائی کی بات سے انکار نہیں کر سکتا تھا
اسی طرح مراد جنت اور اپنے ساتھ داتا بخش کو لیتے لندن روانہ ہوا ؛۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حال
“ یہ کیا ۔۔۔۔؟؟ برہان جو تیار ہوا رہا تھا ۔ آیت کو اچانک سے آتے لفافہ آگے کرتے دیکھ برش کرتے ویسے ہی پوچھا ۔
تم نے کہا تھا کہ میں لڑکی تمہارے لیے تلاش کروں ، تو میں نے لڑکی تمہارے لیے ڈھونڈ لی ؛۔
ایک بار دیکھ لو ۔۔۔ وہ ویسے ہی پر اعتماد لہجا لیے بولی تو برہان اپنے برش رکھتے ایک نظر کف پر ڈالتے اُسکی طرف متوجہ ہوا ؛۔
دونوں کی نظریں ملی تھی ، اُسکی کالی سیاہ آنکھیں بنا کسی ثرارت لیے چمکتی نظر آئی تو مقابل کی نیلی آنکھوں میں محبت کی جگہ غصے نے اپنا ڈھیر ڈالا ۔
تم نے پسند کی ہے تو کمال ہی گئی ، اگر تم خوش ہو تو اس رشتے کے لیے اس کی فیملی سے بات کر لو ۔۔۔۔
اور ایک بات ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ ٹوکتی وہ تھوڑا زور سے بولتے اُسکے قریب ہوا ؛۔
جب تم یہ قدم اٹھا ہی رہی ہو تو پورے خاندان میں آ شادی کا اعلان بھی خود کروا دینا
ساتھ میں سب کو اچھے سے بتانا کہ تمہارے فیصلے کا مان رکھ رہا ہوں ۔
وہ ایک ایک لفظ پر زیر غور کرنے کا جیسے اُسکو بول گی تھا آیت حیران سی خاموش ہوئی تھی ؛۔
وہ غصے سے آگے بڑھا ، تو آیت خاندان کو بتانے والی بات پر پریشان ہوتی سر پڑ گئی ؛۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
برہان ۔۔۔۔۔۔۔!!! آیت جو ظہر کی نماز پڑھتے سو چکی تھی کہ اچانک سے اُسکی آنکھ لگی تھی ۔ ہڑبڑاتے اک دم سے اٹھتے ساتھ ہی برہان کا نام پکا گئی ۔
وہ پوری طرح پسینے سے گیلی ہوئی تھی ، ذہین جیسے مارف ہوا تھا
اُسنے ابھی خواب میں کیا دیکھا تھا ۔۔؟ وہ بنا جوتا پہنے بیڈ سے اٹھی تھی
اور کھڑکی کے قریب جاتے لمبے لمبے سانس بھرنا شروع ہوئی ۔ دوپٹہ جو کندھے پر تھا سلکنے کو ہوا
بال کھولے شانوں پر بکھرے اُسکی بوجھل آنکھوں کا پتا بتا رہے تھے ؛۔
عصر پڑھ لوں وہ ایک نظر ٹائم پر ڈالتے خود کے خواب جھٹکتے واش روم میں گھسی ؛۔
برہان ۔۔۔۔۔ کو کال کروں ۔۔۔۔۔؟ وہ کہاں ہے ۔۔۔۔؟؟
آیت جس کا دل ابھی بھی بے چینی پکڑے ہوئے تھا ، وہ ویسے ہی چلتے بیڈ سے فون اٹھاتے روم سے نکلی ؛۔
ملک کل تک تمہیں زلیخا مل جائے گئی ، تیار رہنا ۔۔۔ برہان جو کال پر بات کر رہا تھا دو ٹوک ملک کو کہتے فون رکھا ۔
ہاشم کل یہ کام فارغ ہو جانا چاہیے ، برہان چئیر سے اٹھتے کیبن سے نکلا تو کاشف بھی پیچھے گیا ؛۔
رنگ ۔۔۔۔۔۔
تبھی برہان کا فون بجا تھا وہ سرسری سی نظر فون پر ڈال گیا۔ جیسے ہی آیت کا نام دیکھا بنا دیر کیے فون پک کیا ؛۔
برہان جو چلتے آفس سے باہر نکل آیا تھا روڈ کو دیکھتے وہی کھڑا ہوا ۔
گارڈز سب بھاگ جلدی سے گاڑی لیتے آ چکے تھے ، وہ ویسے ہی کھڑا صرف آیت کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
کہاں ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ دیر کی خاموشی طاری کرنے کے بعد وہ جھجھلارتی دھیمی سے آواز میں بولی ۔۔۔
جہاں ہر روز ہوتا ہوں ، آج بھی وہی کھڑا ہوں ، وہ ویسے ہی فون کان سے لگائے گارڈز کو صبر کرنے کا بولتے ان سب میں سے تھوڑا دور ہوتے کھڑا ہوا ۔۔۔۔
برہان ۔۔۔۔!!! آیت نے گھبراتے دل سے مقابل کا نام لیتے جیسے اُس پر اپنی محبت کا سحر گرایا ۔
وہ جو فون کان سے لگائے بہت غور سے اُسکی سانسیں سن رہا تھا
اپنا نام سن دل کو دھڑکا گیا ۔
بولو ۔۔۔۔ وہ محبت سے گویا تو آیت کی آنکھیں بنا کسی وجہ سے بھری ۔
“ کیا ۔۔۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ ابھی گھر نہیں آ سکتے ۔۔۔؟ وہ کچھ دیر سوچتے پھر دل کے ہاتھوں مجبور اُسکو پوچھ گئی
تم چاہتی ہو ۔۔۔۔۔؟؟ وہ آہستہ آہستہ چلتے واک کرنا شروع ہوا ۔
ظاہری بات ہے ، چاہتی ہوں تو بول رہی ہوں ۔ وہ بنا دیر کئے بولی جبکے ساتھ ہی اپنی بھیگی پلکیں صاف کی ۔۔۔
لیکن ابھی مجھے کچھ خاص کام کرنے ہیں ، اُسکے بعد گھر ہی آ جاؤں گا ، برہان نے کتنی مشکل سے دل پہ پتھر رکھتے یہ بولا تھا ، وہ اس پل صرف وہ جانتا تھا ؛۔
کام تو تم ہر روز ہی بہت سے کرتے ہو ، ابھی کیا تم یہ کام میرے لیے چھوڑ نہیں سکتے ۔۔۔؟
پلیز گھر آ جاؤ ، کتنے دنوں سے ہم لڑ ہی رہے ہیں ، کیا آج تم جلدی گھر نہیں آ سکتے ۔۔۔؟
آیت کی آواز بلند ہوئی تھی ، مقابل نے اچھے سے اُسکا ڈر محسوس کیا تھا ؛۔
آیت تم ڈر رہی ہو ۔۔۔؟ وہ فکر سے بے چین ہوتا پوچھ گیا ۔
نہیں ۔۔۔۔ تمہیں یاد کر رہی ہوں،، وہ ویسے ہی بولتے مقابل کے ڈمپل گہرے کر گئی ۔
وہ کس قدر خوش ہوا تھا ، اُسکی اتنی سے چاہت ہی اُسکو پاگل کر دیتی تھی ؛۔
میں تمہارے لیے تمہارا پسندیدہ کھانا بناؤں ۔۔۔۔؟؟ آیت اُسکو خاموش دیکھ واپس سے بولی
ٹھیک ہے ، میں ابھی آتا ہوں ، وہ بنا اُسکے سوال کا جواب دئیے گویا
تو آیت کا چہرہ خوشی سے کھکھل اٹھا ،
سنو ۔۔۔۔۔!! اس سے پہلے برہان فون رکھتا آیت نے محبت سے پاش پکارا ۔
ہممم ۔۔۔۔۔ وہ سرسری سا ہنکارہ بھر گیا ۔
نشان باندھ لیا ہے ، جیسے ہی پلٹے گا گولی سیدھا سینے کے پار سامنے والی بلڈنگ پر بیٹھے شخص نے برہان پر نشانہ باندھتے فون پر اپنے باس کو بولا ۔
دھیاں سے ۔۔۔۔ ابھی آ جانا ۔۔۔۔۔۔میں انتظار کر رہی ہوں ، وہ دھیمی سی سراعت لہجے میں بولی تو برہان فون رکھا گیا ؛۔
جیسے ہی فون رکھا برہان پلٹا ۔ تبھی فائز ہوا جس کی آواز کسی نے نہیں سنی ۔
وہ گولی سیدھے برہان کے سینے میں آ لگی تھی ، برہان کی زمین جیسے گھوم چکی تھی ، فون جو وہ پاکٹ میں ڈالنے لگا تھا ۔
زمین بوس ہوا تھا ، تبھی دوسرا فائر ہوا ، برہان زمین پر گر چکا تھا جس وجہ سے نشانہ چونک گیا ۔
خادم سبھی تیزی سے بھاگے تھے ، جبکے ان لوگوں نے برہان کے گرد گھیرا بنایا ۔
“ دھیاں سے ،۔۔۔۔ ابھی آ جانا ۔۔۔ میں انتظار کر رہی ہوں، برہان جس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی ۔ ہاشم کو شرٹ سے پکڑتے خود کے قریب کھینچا ؛۔
اس ۔۔۔ کے بارے میں ۔۔۔۔ گھر ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔ برہان کے الفاظ وہی ٹوٹتے تھے اور وہ آنکھیں بوند گیا تھا ۔
خادم لوگ جلدی سے گاڑی میں سوار ہوئے تھے ، اور برہان کو لیتے ہسپتال کی طرف بھاگے ۔
برہان کا خون بہت تیزی سے بہک رہا تھا ، وہ لوگ پوری طرح گھبرا چکے تھے ۔
سر ۔۔ کاشف نے عماد کو کال ملائی تھی ، اور برہان کے بارے میں سب سے پہلے عماد کو ہی بتایا ۔۔۔۔۔
کاشف ۔۔۔۔ فام ہاؤس فون مت کرنا ، برہان سر نہیں چاہتے آیت میڈم کو یہ پتا چلے ۔ کاشف جو گھر کال ملانے لگا تھا ۔
خاموشی سے ڈرائیو کو گاڑی تیز کرنے کا بول گیا ، وہ چند منٹوں بعد ہی ہسپتال پہنچ گئے تھے ۔
اور میڈیا پانی کی طرح وہاں پہنچی تھی ۔ وہ لوگ برہان کو ہسپتال میں لے گئے تھے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



This is Official Web by Madiha Shah Writes.She started her writing journey from 2019.Masiha Shah is one of those few writers,who keep their readers bound with them , due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey from 2019. She has written many stories and choose varity of topics to write about

'' Nafrta Se barhi Ishq Ki Inteha '' is her first long novel . The story of this begins with the hatred of childhood and reaches the end of love ❤️.There are many lessons to be found in the story.This story not only begins with hatred but also ends with love. There is a great 👍 lasson to be learned from not leaving....,many social evils has been repressed in this novel.Different things which destroy today’s youth are shown in this novel . All type of people are tried to show in this novel.

"Mera Jo  Sanam Hai Zara Beraham Hai " was his second best long romantic most popular novel.Even a year after the end of Madiha Shah's novel, readers are still reading it innumerable times.

Meri Raahein Tere Tak Hai by Madiha Shah is a best novel ever 3rd Novel. Novel readers liked this novel from the bottom of their heart. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. This novel tries to show all kinds of relationships.

 The novel tells the story of a couple of people who once got married and ended up, not only that, but also how sacrifices are made for the sake of relationships.How man puts his heart in pain in front of his relationships and becomes a sacrifice

 

Nafrat Se Barhi Ishq Ki Inteha  Novel

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel  Nafrat Se Barhi Ishq Ki Inteha written Madiha Shah. Nafrat se barhi ishq ki inteha  by Madiha Shah is a special novel, many social evils has been represented in this novel. She has written many stories and choose varity of topics to write about

 Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel you must read it.

Not only that, Madiha Shah provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 Cousins Forced Marriage Based Novel | Romantic Urdu Novels

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.

If you all like novels posted on this web, please follow my webAnd if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.

Thanks............

If you want to read this  novel, go to this link quickly, and enjoy the novel۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

All Episode link

 

Copyrlight Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only share links to PDF Novels and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

No comments:

Post a Comment

Popular Posts

Post Bottom Ad

Pages