Khuwab Ae Dil Bikharne Na Do By Yamna New Complete Novel
Mahra Shah Writes: Urdu Novel Stories
Novel Genre: Cousin Based Enjoy Reading...
![]() |
| Khuwab Aa Dil Bikharne Na Do By Yamna |
Novel Name : Khuwab Ae Dil Bikharne Na Do
Writer Name: Yamna
Category: Complete Novel
خواب اے دل بکھرنے نہ دو
چچ۔۔۔چھ ۔۔۔"چھوڑو مجھے میں نے کہا چھوڑو مجھے نہی جانا کہیں بھی تمہارے ساتھ" ۔۔۔ بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ وہ اس قدر اونچا دھاڑا کے منہا کانپ کے رہ گئی ۔۔کہا تھا نہ تم کو منہا بی بی کہ تم صرف میری ہو۔۔۔۔"حمزہ شاہ" کی۔۔۔۔۔۔۔
اب تم دیکھو میں کیا کرتا ہوں ؟؟؟اُسنے کہتے ساتھ ہی فون نکالا اور کسی کو کال کرنے لگا ۔۔۔تم ایسے سننے والوں میں سے نہیں ہو میری غلطی ہے کہ میں تمہیں پیار سے سمجھا رہا تھا اب تمہیں اپنی پاور دکھانے کا وقت آ چکا ۔۔۔۔
بہت سمجھا لیا پیار سے ۔۔۔ "ہاں کہاں ہو تم"؟؟؟ فون لاؤڈ اسپیکر پر لگاتے کہا۔۔۔۔۔ جی سر آپ حکم کریں میری آنکھوں کے سامنے ہے بندہ دوسری طرف موجود بندے کی آواز فون سے باہر گونجی ۔۔۔۔۔۔ایسا کرو چڑھا دو اس پر گاڑی منہا کی طرف دیکھتے ہوے وہ بولا-
منہا کا رنگ ایک پل میں متغیر ہوا اُسکے ایسا کہنے پر اور دماغ میں بس ایک چیز تھی۔۔۔ آج اُسکا بھائی بھی یونی گیا تھا ۔ اُسکی یونی ورسٹی میں فنکشن منعقد تھا اور اُس نے بھی اس میں حصہ لیا تھا۔۔۔۔
نہیں نہیں پلیز!!! تم ایسا کچھ نہیں کروگے تم جو کہو گے میں ویسا ہی کرونگی--- پلیز ! میرے بھائی کو کچھ مت کرنا --وہ روتے روتے اٹکتی سانسوں کے ساتھ کہنے لگی ۔۔"پلیز!نہی ایسا مت کرنا میں تم سے نکاح کرنے کے لیے تیار ہوں"---
______________________
"بس کردو تم دونوں باہر تک شور جا رہا ہے تم دونوں کا"---
منہا کی والدہ نے دونوں کو ڈانٹا۔۔۔جنکے کان پر جوں تک نہیں رینگی وہ اپنی ہی لڑائی میں لگے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ "آج آلینے دو تم لوگوں کے باپ کو بتاتی ہوں اُنہیں کوئی بات نہیں مانتے تم دونوں میری"ان کی والدہ نے تنگ آکر کہا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاہاہاہا !!! مما آپ جانتی ہیں بابا ہمیں کچھ نہی کہیں گے ۔۔۔۔یہ ارشادات چھوٹے شہزادے کے تھے جو جانتا تھا کہ اُنکے پاپا جان اُنہیں کچھ نہی کہیں گے ۔۔۔۔اماں کی فلائنگ چپل اُسکی طرف آئی۔۔۔۔ اگر وہ وقت پر ایک طرف نہ ہوتا تو یقیناً اُسکا مّنہ سوجا ہوتا ۔۔۔۔۔۔
______________________________
یہ ہے" ارتضیٰ بٹ صاحب" کا چھوٹا سا آشیانہ جہاں وہ، انکی بیوی کلثوم بیگم اور دو بچے رہتے ہیں بڑی بیٹی "منہا ارتضیٰ" جو اپنی پڑھائی مکمل کرکے پاس ہی ایک مدرسہ میں پڑھ رہی ہے اور چھوٹا بیٹا "موسیٰ بٹ"جو یونی سے بی بی اے کر رہا ہے ۔۔۔وہ لوگ اپنی زندگی میں مطمئن اور خوش تھے یہ جانے بغیر کے آگے چل کے اُنکا آشیانہ بکھرنے والا ہے ۔۔۔لیکن یہ تو خدا ہی جانتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا تھا کس کی زندگی میں نیا موڑ آنا تھا؟؟؟؟
منہا اب اپنے بابا سے اپنے بھائی کی شکایت کر رہی تھی جو وہ خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔۔موسیٰ بری بات ہے۔ بہن نے جب کہا تھا کے اس کو باہر لے کے جاؤ تو کیوں نہی گئے؟؟بابا یہ جھوٹی ہے۔۔۔ میں نے اسکو کہا تھاکہ تھوڑا سا انتظار کرو لے جاتا ہوں لیکن یہ کہہ رہی تھی ابھی جانا ہے۔۔میں نے بھی کہا نہی لے کر جاؤنگا اُسنے مسکین سی صورت بناتے کہا ۔۔۔۔جو کلثوم بیگم دیکھ نہ سکی انکی تو اُنکے بیٹے میں جان بستی تھی یہ کہنا غلط نہی ہوگا کے انہوں نے اپنے دونوں بچوں کو بہت سینچ سينچ کر رکھا تھا ۔۔دنیا کی سختیوں سے بچا کر۔۔۔۔۔۔
بس کر دیں آپ میرے بیٹے کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اپنی صاحبزادی کو سمبھال کے رکھیں جو فضول وقت میں الٹی خواہشات کرتی رہتی ہے ۔۔۔میں پوچھتی ہوں کیا ضرورت ہے ٹھنڈ کی راتوں میں باہر جانے کی ۔۔۔خود تو بیمار ہوگی اسکو بھی کرے گی پتا بھی ہے کے کتنی جلدی اسکو زکام ہو جاتا ہے۔۔۔۔کلثوم بیگم منہا کو گھورتے ہوئے بولیں۔۔۔۔
" دیکھ رہے ہیں نہ بابا آپ مما ہمیشہ اُسکی سائڈ لیتی ہیں اسی لیے تنگ کرتا ہے یہ مجھے"منہا ارتضیٰ صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے ناراضگی سے بولی۔۔۔۔۔۔۔
"میں تم دونوں سے محبت کرتی ہوں ماں کبھی اپنے بچوں میں فرق نہیں کرتی" کلثوم بیگم اُسکی بات سنتے بولیں
"مما آپ کیا جانے کتنا سکون ہے اس ہوا میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جب لگتی ہے بہت سکون آتا ہے"۔۔ منہا اٹھ کر اُنکے گرد بانہیں پھیلائے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔"جاؤ بی بی چھت پے جا کر لے آو ہوا باہر نہیں لے کر جائیگا تمہیں وہ ۔۔موسیٰ بیٹا تم اپنی اسائمنٹ بناؤ "کلثوم بیگم اسکی مسکے بازی کو سمجھتے ہوئے موسیٰ سے گویا ہوئیں۔۔۔۔۔
منہا کا منہ بن گیا اور خاموشی سے بیٹھ گئی ۔۔۔۔لے جاتا ہوں بس تھوڑا سا کام ہے اتنی بری شکل نہ بناؤ ۔۔۔۔۔موسیٰ اُسکی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔۔۔ہیییں سچییی ۔اچھا پھر میں چادر لے کر آتی ہوں خوشی سے بولتی وہ جلدی سے اپنے کمرے میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا کی چھوٹی سی فیملی چار لوگوں پر مشتمل تھی ۔
جہاں منہا کے ہونے سے خوشیاں تھی وہ بظاہر لوگوں کو بہت سنجیدہ لگتی تھی لیکن صرف اُنکے لیے جن سےوہ بات کرنا پسند نہی کرتی تھی ۔۔اپنی فیملی کے لیے وہ بالکل محتلف تھی جو بہت چنچل سی شرارتیں کرنے والی اور سب کا احساس کرنے والی تھی ۔۔۔اکثر اُسکی والدہ کو انکی سہیلیاں کہتیں تھیں کہ بہت معصوم اور خاموش ہے انکی بیٹی ۔۔۔معصوم کو تو وہ حضم کر لیتی تھیں لیکن خاموش مزاج وہ بھی منہا۔۔وہ بےچاری بس خاموش سنتی رہتی تھیں کہ کبھی گھر آ کر اسکی شرارتیں دیکھیں۔۔۔
اور صرف انکی سہیلیاں ہی نہیں سب رشتے داروں میں بھی سب سے لاڈلی منہا ہی تھی ۔۔۔۔کیونکہ وہ ہے ہی ایسی تھی سب سے پیار کرنے والی ۔۔حساس سی ۔۔اپنی باتیں دل میں چھپانے والی ۔۔کسی کو اپنا غم نہی بتانے والی صرف ایک ایسی ذات تھی جسکو سب بتاتی تھی اور وہ اُسکی بہت نزدیکی دوست" کشف" تھی جس سے وہ سب شیئر کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________________
منہا بیٹا اُٹھ جاؤ مدرسہ نہی جانا کیا دیر ہو رہی ہے ؟؟
مما بس اٹھتی ہوں تھوڑی دیر سونے دیں ۔۔۔اُٹھ جاؤ تم نے آج دوستوں کے ساتھ جانا نہیں ہے ہوٹل جلدی جاؤ گی تو چھٹی لے کر جلدی آ جانا ۔۔۔
نہیں آج مجھے نہیں جانا آج اسکول ہی جاؤنگی اُنکے پاس وہ اٹھتی بولی۔۔۔
"افف مما پہلے کیوں نہی یاد کروایا آج تو فیئر ویل ہے مریم کی مجھے ریڈی بھی ہونا ہے ابھی"
وہ جلدی سے اٹھی اور فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔۔آج اُسکی دوست کا لاسٹ ڈے تھا اسکول میں اُسکی شادی ہونے والی تھی اسی لیے سب دوستوں نے مل کر گھومنے کا پلان بنایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ حافظ مما آج دیر ہو جائے گی آنے میں پریشان مت ہوئیے گا آ جاؤنگی جلدی کہتی وہ اپنی دوستوں سے ملنے نکلی سب مل کر ہوٹل گئے وہاں چھوٹی سی سلبریشن کی اور وہاں سے بہت اچھے موڈ میں کھانا کھا کر اپنے اپنے گھر آ گئیں۔۔۔۔بس اب سبکو انتظار تھا اُسکی شادی میں جانے کا
ایسے ہی وقت گزرتا گیا اور بلاآخر وہ دن بھی آ پہنچا جب وہ سب مل کے شادی کے فنکشن میں گئے ۔۔۔۔۔۔۔یار ابھی تک یہ مریم کیوں نہی آئی مجھے تو گھر والے لینے آ جائیں گے۔۔۔ منہا نے تنگ آ کر کہا جو آدھے گھنٹے سے دلہن کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔
آ جاتی ہے یار ابھی ۔۔۔۔وہ دیکھ آ گئی ۔۔۔۔۔اُٹھ اب مل کر آتے ہیں اسے منہا اور اُسکی دوست اٹھی اور گفٹ لے کر برائیڈل روم کی طرف چل دی۔۔۔۔
____________________
اچانک سے کوئی اس سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں گفٹ اُسکے ہاتھ سے چھوٹ کے نیچے گرا ۔۔۔۔
مقابل فون کان کے ساتھ لگائے اپنی شاندار پرسنالٹی کے ساتھ آ رہا تھا اچانک صورتحال سے دونوں ہی گبھرا گئے۔۔۔۔
ہیلو مس آپ ٹھیک ہیں ؟
حمزہ اپنے سامنے جھکی چھوٹی سی لڑکی کی جانب متوجہ ہوا جو نیچے جُھکی ہوئی کچھ اٹھا رہی تھی ۔۔اُسکا چہرہ جُھکے ہونے کی وجہ سے نظر نہی آ رہا تھا۔۔۔۔
لیکن جیسے ہی منہا نے اپنا چہرہ اٹھایا حمزہ دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔۔۔
بلیک کلر کا فراک پہنے ڈوپٹہ سر پر سلیقے سے لیے گورا رنگ، گھنی لمبی جُھکی پلکیں ،گلابی ہونٹ ۔۔ہلکے سے میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔حمزہ کچھ لمحے کے لیے اُسے دیکھتا ساکت رہ گیا ۔۔۔۔
ایک تو وہ حسین
اوپر سے کالا لباس ۔۔۔۔۔۔واللہ
Excuse me ۔۔۔۔۔۔
آپ کو کہیں لگی تو نہی۔۔۔۔ سوری میں اپنی فرینڈ سے بات کر رہی تھی تو دیکھا نہی آپکو۔۔۔۔وہ معذرت کرتی ہوئی بولی۔۔۔۔۔۔
ایکچولی میں اپنی دوست سے ملنے کے لیے اتنی ایکسائیٹڈ تھی کہ آپ کو دیکھ نہیں سکی ۔۔۔۔۔
I'm really very sorry again!!!!!
اسکے بولنے کے انداز پر حمزہ کو اعتراف کرنا پڑا کے اس سے زیادہ معصوم کوئی نہیں اس دنیا میں۔۔۔۔
No i am sorry ..its my mistake
حمزہ اُسے دیکھتا بولا
منہا its ok کہتے چلی گی ۔۔۔اور وہ وہاں کھڑا اسے دور جاتا دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ برائیڈل روم میں انٹر ہوئی تو سمن کی آواز آئی تم کہاں رہ گی تھی ؟؟؟
"یار کچھ نہی بس ٹکڑا گئی تھی کسی سے اسلئے "ساتھ ہی دونوں مریم کی جانب متوجہ ہوئیں جو فوٹو سیشن کروانے میں بزی تھی جیسے ہی کیمرا بند ہوا وہ دونوں اسکی طرف گئیں
"ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو" دونوں نے دل کھول کے اُسکی تعریف کی ۔۔۔اللہ تمہارے نصیب بہت اچھے کرے۔۔۔آمین
Thnk u soo much for coming
"مجھے یقین نہیں آ رہا کے منہا تم آئی ہو" مریم لہجے میں حیرانگی سموئے اس کے ہاتھ تھام کر بولی۔۔۔۔۔۔
"میں نے کیوں نہیں تھا آنا تم بلاؤ اور میں نہ آؤں ہو ہی نہیں سکتا "منہا مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔
ایسے ہی باتوں میں اور پکس بنانے میں وقت گزر گیا اور سب واپسی کی راہ لینے لگے۔۔۔۔منہا نے موسیٰ کو کال کرکے بلا لیا ۔۔۔۔سمن بھی مل کے جا چکی تھی اسے اکیلے انتظار کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا
"آ بھی جاو موسیٰ کہاں رہ گئے ہو یار "۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ کی نظر اس پر پڑی جو پارکنگ ایریا میں ایک طرف کھڑی کسی کا انتظار کر رہی تھی اور مسلسل فون پے بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Excusse me
آپ یہاں کیا کر رہی ہیں ؟؟
منہا نے مڑ کر اسے دیکھا جو کہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ "وہ مجھے لینے آنے والے ہیں اسلیے یہاں کھڑی ہوں"
"آپ اندر جا کر انتظار کر لیں باہر ٹھنڈ ہو رہی ہے"وہ اس طرف دیکھتے نرمی بولا۔۔
میرا بھائی آ رہا ہے بس ٹریفک کی وجہ سے لیٹ ہو گیا "
منہا جواب دے کر جیسے ہی پلٹی موسیٰ بائک اسکے پاس لے آیا۔۔۔۔وہ خاموشی سے بیٹھ گئی
حمزہ شاہ اسے دوڑ جاتا دیکھتا رہا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کے اُسے کیوں اتنا عجیب فیل ہو رہا ہے ایسے جیسے کوئی چیز دل سے دور جا رہی ہو ۔۔۔لیکن وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔سر جھٹک کے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔۔۔۔۔
______________________________
بھائی آپ کہاں چلے گئے تھے؟؟؟ میں کب سے آپکو دیکھ رہی ہوں ۔۔۔اریج بولتے ہوۓ اسکے پاس آئی ۔۔۔
بیٹا میں یہاں ہی تھا بس آ رہا تھا ۔۔۔کیا ہوا میرے بچے کو ؟؟؟
کیا سمیع نے تنگ کیا میرے بچے کو ۔۔۔۔۔حمزہ اپنی چھوٹی لاڈلی بہن کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے بولا۔۔۔
کیونکہ اُسکا چھوٹا بھائی سمیع ہمیشہ ہی اُسے تنگ کرتا رہتا تھا۔۔۔اور وہ صرف حمزہ کے ہی قابو آتا تھا ۔۔۔۔۔
نہیں بھائی سمیع نے کچھ نہی کہا ۔۔۔۔مجھے گھر جانا ہے میں تھک گئی ہوں اور مما چل نہیں رہیں ۔۔۔۔آپ انکو بولیں ناں ۔۔۔۔۔
"اچھا میرا بیٹا میں بولتا ہوں ۔۔۔آپ موڈ اچھا کرو اپنا"
کچھ ہی دیر میں وہ لوگ گھر روانہ ہو گئے کیونکہ ایسا ہو ہی نہی سکتا تھا کہ حمزہ شاہ اپنی بہن کی بات نہ مانے۔۔۔
"بھائی آپ ہمیشہ اسکی بات مانتے ہیں اور اس سے ہی زیادہ پیار کرتے ہیں مجھے کوئی پیار نہی کرتا "سمیع جو اریج سے 2 سال بڑا تھا جان بوجھ کر لہجے کو نم کرکے بولا ۔۔۔۔
حمزہ نے اسے مڑ کے دیکھا جو بیک سیٹ پر مما کے ساتھ بیٹھا خفا خفا سا بول رہا تھا ۔۔۔۔
"سمیع تم خود کو چھوٹی بہن سے کمپیئر کر رہے ہو ۔۔میرے لیے تم دونوں ایک جیسے ہو آئندہ ایسی بات نہ کرنا۔۔۔۔وہ بس چھوٹی ہے تم سے بچی ہے اس لیے زیادہ لاڈلی ہے"
Yayyy Yahoooo!!!!!!!!
اریج خوشی سے چیخی ۔۔۔۔دیکھا تم نے ۔۔۔بھائی پھر بھی مجھے ہی زیادہ پیار کرتے ہیں،،،ہیں نہ بھائی ؟
جی میرا بچہ ۔۔لیکن بھائی اس سے بھی ویسا ہی پیار کرتے ہیں میری جان..........
بس تم نے انہیں سر پر چڑھایا ہوا ہے حمزہ ۔۔۔ مما انہیں آپس میں بحث کرتے دیکھ بولیں ۔۔۔اب خاموش بیٹھ جاؤ دونوں جسکی آواز آئی باہر نکال دونگی ۔۔۔۔۔
اریج نے معصوم چہرہ بنا کر حمزہ کو دیکھا اور خاموش ہو گئی۔ ۔۔۔۔
____________________________
یہ تھی چھوٹی سی" شاہ فیملی" ۔۔۔۔جس میں "حمزہ شاہ" گھر کا بڑا بیٹا ہے، اس سے چار سال چھوٹا"سمیع"اور سب سے چھوٹی بہن گھر بھر کی لاڈ لی "اریج" اور گھر میں "دادی جان "اور جان سے پیاری انکی "مام"۔۔۔۔
والد کے انتقال کے بعد سے بزنس حمزہ ہی سمبھال رہا تھا ۔۔جب وہ اپنی اسٹڈیز مکمل کرکے لندن سے واپس آیا تو ان دنوں اُنکے والد بیمار رہنے لگے اور پھر ایسے ہی ایک دن ان سب کو اکیلا چھوڑ کر اس دنیا چھوڑ کر چلے گئے ۔۔۔۔
اسکے بعد سے سب کچھ حمزہ سنبھال رہا تھا۔۔۔۔۔
______________________________
"منہا کیسی رہی شادی کیسی لگ رہی تھی مریم "؟؟؟اسکے آتے ساتھ ہی کلثوم بیگم نے سوالات شروع کردیئے ۔۔۔
"دکھاتی ہوں مما اچھی لگ رہی تھی تھی ۔۔دولہا بھائی بھی پیارے ہیں ۔۔اچھا کپل ہے ۔۔۔۔میں چینج کرکے آجاؤں پھر آپ کو شادی کی تصاویر دیکھاتی ہوں ۔۔ ان سے کہتی وہ اٹھ کر کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔
چینج کر کے واپسنیچے آتے انکو فنکشن کی تصاویر دکھائیں ۔۔۔
سارا دن کی تھکی ہوئی جب وہ سب سے فارغ ہو کے لیٹی تواچانک آنکھوں کے سامنے ایک چہرہ لہرایا۔۔۔۔۔۔
انہہہہہ ہہہوں!!!!! استغفار میں کیوں اُسے سوچ رہی ہوں ۔۔۔
کروٹ بدل کے وہ سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔تھکن کے باعث وہ جلد ہی نیند میں چلی گئی
_______________________
حمزہ واشروم سے شاور لے کر نکلا ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے اُسنے تولیے سے اپنے بال رگڑے ۔۔۔۔
خود پر پرفیوم سپرے کرتے اُس نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا ۔۔۔
اچانک اسکی آنکھوں کے سامنے اُسکا معصوم چہرہ آ گیا ۔۔۔۔
وہ پہلے بھی کافی لڑکیوں سے ملا تھا لیکن آج تک اُس نے کبھی کسی کو بلاوجہ خود سے اتنا فرینک نہ کیا تھا۔۔۔
لیکن منہا کو دیکھتے وہ نہی جانتا تھا کہ اُسے اتنا عجیب احساس کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔کیوں وہ اُسے سوچ رہا ہے ۔۔۔وہ تو اُسکا نام بھی نہی جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کیسے پتہ لگواؤں اُسکا۔۔۔مجھے تو نام تک نہی معلوم اُسکا ۔۔۔۔
کچھ دیر اسے سوچتا وہ ایک نتیجے پر پہنچتا لیٹتا آنکھیں موند گیا ۔۔۔
______________________________
اگلے دن رات کو ریسیپشن تھا ۔۔وہ لوگ اسلام آباد کے لیے نکل گئے تھے ۔۔۔دل میں یہی خواہش تھی کہ ایک دفعہ وہ نظر آ جائے کہ اچانک سے اریج سے اس کے پاس آئی ۔۔۔۔۔
"بھائی اگر دن کا فنکشن ہوتا تو ہم یہاں سے شاپنگ کرتے" اریج افسردگی سے بولی۔۔۔۔
ہاں بھائی اس موٹی کو تو بس ہر وقت ایک کام آتا ہے ۔۔۔شاپنگ ،شاپنگ اور بس شاپنگ !!!!! سمیع اسے چڑاتا ہوا بولا۔۔۔۔۔
"بھائی دیکھیں اسنے مجھے موٹی کہا" ۔۔۔
"سمیع تمیز سے بات کیا کرو بہن سے "حمزہ نے سمیع کو ڈانٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
"سوری" وہ منہ بناتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________________
گھر آ کر بھی بس اُسکا خیال دماغ سے جا ہی نہی رہا تھا۔۔۔۔ وہ لیٹا لیٹا اُٹھ بیٹھا اسے اپنی حالت سمجھ نہیں آ رہی تھی ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔
بات اتنی سی تھی کے "حمزہ شاہ " یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ اُسے بھی محبت نے چن لیا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو لڑکیوں سے دور بھاگتا تھا آج ایک لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے نیندیں طویل کرلیں یار
تم مجھ سےخواب میں ملا کرنا ہے
___________________________
Hiii Girl whts up ???
منہا نے فون پکڑا تو سمن کا میسیج تھا۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں اپنے لیے نوڈلز بنا رہی تھی ۔۔۔تم بتاؤ کیا حال چال ہیں؟؟ ۔۔۔۔
میرے تو بلکل ٹھیک حال ہیں تم سناؤ ۔۔۔۔
کہیں شادی پر ٹکرانے والے ہینڈسم کو یاد تو نہی کر رہی تھی ۔۔۔۔وہ لہجے میں شرارت سموئے گویا ہوئی۔۔۔
منہا کا دل کیا اگر وہ اُس کے سامنے موجود ہوتی تو اُسکا سر پھاڑ دیتی۔۔۔
بکواس بند رکھو اپنی سچ ہی کہتے ہیں سیانے اپنے راز کسی کو نہیں دینے چاہیے ۔۔۔۔بعد میں وہ تمہاری طرح ذلیل کرتاہے ۔۔۔ منہا چڑتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
یار کیا ہو گیا ہے ۔۔۔غصہ کیوں ہو رہی ہے مذاق کیا تھا میں نے ۔۔۔جانتی ہوں تمہارا دل تو فہد بھائی کے پاس ہے ۔۔۔ انکے علاوہ تم نے کسی اور کو کیوں سوچنا ۔۔۔۔وہ معنی خیزی سے بولی ۔۔۔۔
اگر تم نے یہی بکواس کرنی ہے تو میں فون بند کر رہی ہوں۔۔۔۔
منہا زچ ہوتی بولی اور ایک ہاتھ میں نوڈلز کا باؤل پکڑے صوفے پر بیٹھی ۔۔۔
اچھا سنو اب سچ میں تنگ نہیں کر رہی ۔۔۔۔شادی کا تو بتاؤ کب تک ہونی ہے؟؟؟ وہ سنجیدہ ہوتی بولی ۔۔۔
انشا اللہ ایک دو ماہ تک کا کہہ رہی ہیں مما ۔۔۔وہ لوگ تو کب سے تاریخ مانگ رہے ہیں لیکن ہماری طرف سے ہی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔منہا رسانيت سے بولی ۔۔۔۔
اچھا پہلے بتا دینا یہ نہ ہو لاسٹ ٹائم پر ہمیں معلوم ہو ۔۔۔
جی جی میڈم جو حکم۔۔۔۔یوں ہی باتوں کے درمیان وقت کا اندازہ نہی ہوا
_____________________________
دن ایسے ہی گزر رہے تھے بے کیف وقت کا کام تھا گزرنہ اور گزر رہا تھا ۔۔۔۔۔
_______________________
حمزہ گاڑی روکے ایک بیکری میں گیا ۔۔۔۔وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکلا تھا کے اریج کی کال آئی اُسکے لیے چاکلیٹ لے کر آئے۔۔۔۔جیسے ہی وہ بیکری سے باہر نکلا اُسکی نظر موٹر سائیکل پر بیٹھے اس لڑکے پر پڑی جو شادی میں منہا کو لینے آیا تھا اسکے پیچھے یقیناً وہی بیٹھی تھی نقاب کیے۔۔۔۔۔۔۔
جلدی سے وہ گاڑی میں بیٹھا اور اُنکا پیچھا کرنے لگا بائیک ایک تنگ گلی میں چلی گئی وہ ونڈو سے اسے دور جاتا دیکھتا رہا۔۔۔"
تو تم یہاں رہتی ہو جلد ملے گے پھر" کہتے حمزہ گھر کی طرف روانہ ہوا
___________________________
وہ اپنے آفس میں بیٹھا کوئی فائل پڑھنے میں مصرف تھا جب آفس کا دروازہ کھلا
May i come in sir ????
اسکا پی اے اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
Yes Come in.........
وہ فائل بند کرکے اسکی طرف متوجہ ہوا ۔۔کام کہا تھا تمہیں ایک ۔۔۔۔
"يس سر وہی بتانے آیا تھا "
"سر میںم کا نام منہا ہے ۔۔چھوٹی سی فیملی ہے نارمل طبقے کے لوگ ہیں ۔۔۔والد اُنکے کسی کی دکان پر کام کرتے ہیں ۔۔والدہ ہاؤس وائف ۔۔۔چھوٹا بھائی موسیٰ بٹ ہے جو یونی سے بی بی اے کر رہا ہے ۔۔۔میم نے ماسٹر ابھی ہی مکمل کیا ہے اور گھر کے پاس ایک مدرسہ میں جاتی ہیں ۔۔۔عمر ۲۳ سال ہے" ۔۔۔۔
ہممم گڈ ۔۔۔تم جا سکتے ہو
تو منہا میں پہنچ ہی گیا آپ تک ۔۔۔۔۔اس نے فائل کھولی جس پر اُسکا نمبر تھا ۔۔کچھ سوچتے ہوئے نمبر ڈائل کیا کال جا رہی تھی لیکن کوئی اٹھا نہی رہا تھا تیسری بار کال کرنے پر فون اٹھا لیا گیا۔۔
"السلامُ علیکم "۔۔۔
اسکی آواز سنتے ہی رگوں میں ایک عجیب ساسکون اُترا ۔۔۔
پیچھے سے بچوں کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔۔وہ سمجھ گیا کہ وہ اس وقت مدرسہ میں ہے ۔۔۔
جی کون؟؟دوسری طرف سے اس کی آواز پھرآئی۔۔۔۔
وہ بس آگے سے خاموشی سے اسکی میٹھی آواز سن رہا تھا۔۔۔۔
"بول بھی دو اب یا زبان نہیں ہے"۔۔۔اسکی جھنجلای سی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔
حمزہ کو بے ساختہ ہنسی آئی اس کی بات پر لیکن وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرگیا۔۔۔۔۔۔
"وعلیکم اسلام ! کیسی ہیں آپ"؟ اُسنے آرام سے کرسی کی پشت پر سر رکھتے پوچھا۔۔۔
کون ہو آپ ؟منہا نے تند لہجے میں پوچھا
۔۔۔۔جی میں حمزہ بات کر رہا ہوں ۔۔
کون حمزہ ؟
"آپ مجھے نہیں جانتیں ۔۔۔ آپ کو یاد ہے ہم شادی میں ملے تھے"۔۔۔۔۔۔وہ شدید صدمے میں چلا گیا تھا یہ سوچ کر کہ اسے تو یاد بھی نہیں۔۔۔۔۔۔
جی نہیں میں آپ کو بالکل نہیں جانتی۔۔۔آپکے پاس میرا نمبر کیسے آیا ؟
اگین کال مت کریے گا ۔۔۔نمبر بلاک کردونگی میں آپ کا ۔۔۔۔۔
ایک منٹ بس میری بات سن لیں پلیز !!!!!
"جی فرمائیں " وہ چڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔
"میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اپنے گھر والوں کو بھیجنا چاہتا ہوں آپ کے گھر" حمزہ جلدی سے بولا
"بس بس یہ زیادہ ہو گیا ۔۔۔یہاں میں رشتے والی نہیں ہوں ۔۔آپ جا کے کسی اور سے رابطہ کریں ۔۔۔۔اور دوبارا کال مت کریے گا ۔۔۔میں مریم کو بتاؤں گی آپکا" ۔۔۔ یہ بولتے ساتھ اس نے کھٹاک سے فون بند کردی۔۔۔
کچھ لمحے تو وہ فون کو دیکھتا رہا پھر خاموشی سے اٹھا اور گھر کے لیے نکل گیا ۔۔۔۔
______________________________
السلام علیکم اس نے گھر میں داخل ہوتے بولا۔۔۔۔۔۔سب لان میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے ۔۔۔۔
اریج اور سمیع کو پیار کرنے کے بعد اس نے دادی کے کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔۔
السلام علیکم دادی کیسی ہیں آپ؟؟؟؟؟
"وعلیکم السلام !! آج تو جلدی آ گئا میرا بیٹا "وہ اسے دیکھ محبت سے گویا ہوئیں۔۔۔۔
جی بس کچھ ضروری بات کرنی تھی آپ سے دادی۔۔۔۔ وہ انکے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
میرا بچہ کیا بات ہے؟؟؟ وہ متفکر سی اُسکی طرف دیکھ کر گویا ہوئیں۔۔۔
نہیں نہیں پریشانی والی بات نہیں دادی جان۔۔۔۔
بس آپکی خواہش پوری کرنے والا ہوں ۔۔۔۔شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔لڑکی پسند آ گئی ہے مجھے
"شکر خدا کا سفینہ بیگم جو کب سے اس کے پیچھے لگی ہوئی تھیں کہ شادی کر لو "۔۔۔۔خوشی سے بولی ۔۔۔۔
ما شاء االلہ کون ہے وہ ؟؟ کہاں رہتی ہے؟؟
بس پھردادی کے سوالات شروع تھے۔۔۔۔
رک تو جائیں ابھی میں بھی زیادہ نہی جانتا ۔۔۔۔بس مریم کی شادی پر دیکھا تھا۔۔۔اسکی دوست ہے ۔۔۔۔بس وہ مان جائے دادی جان بولتے وہ انکے ہاتھ تھام گیا۔۔۔۔
کیوں نہی مانے گی میرا بچہ اتنا پیارا ہے ۔۔۔نیک ہے ۔۔۔اللہ سب بہتر كرے گا ۔۔۔۔۔
میں مما سے بھی بات کرتا ہوں پھر آپ دونوں انکی طرف جائیے گا۔۔۔۔۔۔
"اور آپ نے جواب ہاں میں ہی لے کر آنا ہے "حمزہ اُنکے ہاتھ پر بوسہ دیتا ہوابولا ۔۔۔
"میرا بچہ جو چاہے گا وہی ہوگا "دادی نے اسے پیار سے تسلی دی۔۔۔۔
______________________________
رات میں کھانے سے فارغ ہو کر وہ فون پکڑ کے بیٹھی ہی تھی کہ کال آ گئی ۔۔۔
اس نے یس کرکے فون کان سے لگایا ۔۔۔
جی کون ؟؟...
"میں حمزہ شاہ" ۔۔۔۔۔
تم !!! کیوں کال کر رہے ہو میں نے منع کیا تھا ناں تمہیں۔۔۔۔
ہوںلڈ آن ۔۔۔۔پہلے میری بات سن لیں ۔۔۔۔میرے گھر والے آنا
چاہتے ہیں آپکے گھر ۔۔۔
"کیا؟؟دماغ ٹھیک ہے تمہارا ۔۔۔۔مطلب کیا فضول حرکت ہے ۔۔۔۔ میری منگنی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔آپ براے مہربانی مجھے تنگ نہ کریں اور کسی اور کو ڈھونڈ لیں ۔۔۔اور دوبارہ کال مت کیجئے گا "۔۔۔۔ وہ انتہائی غصے سے بولی۔۔۔
"رکو کال بند کی تو کل تمہارے پاس موجود ہوں گا۔۔۔سن لو غور سے میری بات ۔۔۔شادی تو میں بس تم سے ہی کرونگا" حمزہ غصے سے بولا اسکا تو منگنی والی بات سن کر ہی دماغ گوم گیا
"فضول مت بولو ۔۔۔بہت آئے گئے تم جیسے ایسے ہی لڑکیوں کو ڈرا دهمکا کے انکو ٹریپ کرتے ہو تم جیسے لوگ ۔۔۔لیکن غلط بندی سے بات کر رہے ہو ۔۔۔اب کال کی تو منّہ توڑ دونگی۔۔۔۔تم جانتے نہی ہو مجھے میری فیملی کو اسلیے دور رہو مجھ سے اور جا کر اپنے جیسی دیکھو کوئی" کہتے ساتھ منہا نے فون غصے سے بند کر دیا۔۔۔۔
حمزہ کی آنکھیں غصے کی شدت سے لال ہو گئیں تھیں ۔۔۔
"تم ابھی مجھے نہی جانتی منہا بیبی ۔۔۔حمزہ شاہ کو جب ایک چیز پسند آ جائے تو وہ اس پر کسی کی نظر بھی برداشت نہی کرتا ۔۔۔تم تو پھر جیتی جاگتی انسان ہو ۔۔۔۔میرا چین سکون لے کر تم مزے سے رہوگی ایسا نہی ہونے دونگا"
خود سے کہتے وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
______________________________
دن ایسے ہی بے کیف گزر رہے تھے ۔۔۔۔
اچانک حمزہ کو ایک ڈیل کے لیے دبئی جانا پر گیا اور اس سب میں وہ منہا کو لے کر بالکل غافل ہو گیا ۔۔۔۔۔
وہ سویا ہوا تھا موبائل کی مسلسل بجتی بیل سے اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔
"کیا بات ہے رفیق تم جانتے ہو کے میں ابھی آیا ہوں پھر اس گستاخی کا مطلب" ۔۔۔۔وہ فون اٹھاتے غصے سے دھاڑا رفیق کا تو رنگ ہی اُڑگیا ۔۔۔
اب بکو بھی کیا بات ہے؟؟؟
"سر وہ بات بہت ضروری تھی اسلئے کال کی ۔۔۔۔سر آپنے کہا تھا کے میڈم پر نظر رکھو ۔۔۔۔سر مجھے لگتا ہے میڈم کی شادی ہے میں نے اُنکا پیچھا کیا وہ بازار جا رہی تھیں انہیں اپنی والدہ سے بات کرتے سنا تھا میں نے وہ ان سے بات کررہیں تھیں شادی سے ریلیٹڈ" وہ جلدی جلدی اس کو سب بتانے لگا۔۔۔۔۔۔
یہ سننا تھا کے حمزہ کا چہرہ لال ہو گیا ۔۔۔۔"تو تم نے کر لی اپنی مرضی اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں"۔۔۔۔
اس نے فوراً اپنی واپسی کی ٹکٹ بک کروائی ۔۔۔ اس کے اندر پکتا لاوا کسی طور بھی کم نہیں ہورہا تھا ۔
______________________________
منہا مدرسہ سے نکل کر گھر واپس آ رہی تھی کہ اچانک اسکے قدموں کے پاس گاڑی رکی اور کسی نے اسے کھینچ کر اندر دھکا دیا۔۔۔۔۔منہا اس افتاد کہ لیے تیار نہ تھی...
اُسے سمجھ نہیں آئی ہوا کیا ہے ۔۔۔۔۔گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
"کون ہو تم گاڑی روکو؟ ۔۔۔۔میں چیخ کے سبکو اکٹھا کر لونگی" وہ چیختی ہوئی اُسکا بازو جھنجھوڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے ہی اسکی نظر مقابل پے پڑی رنگ ایک دم سے پھیکا پڑ گیا ۔۔۔۔۔
"تم !!۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔یہ کیا حرکت ہے روکو گاڑی" ۔۔۔۔۔
"میں نے کہا تھا نہ کے تم سے شادی صرف میں کرونگا پھر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آئی تھی کیا"؟؟ حمزہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
"بکواس بند کرو اور روکو گاڑی" ۔۔۔۔۔۔ منہا غصے سے چلائی....
گاڑی ایک دم سے رکی کسی خاموش جگہ پر منہا بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئی ۔۔۔۔حمزہ نے بازوں سے پکڑ کے اسکو باہر نکالا ۔۔۔۔اور فون پے ایک نمبر ڈائل کرکے سپیکر آن کر دیا ۔۔۔
بہت غلطی کی تم نے منہا۔۔۔تم جانتی نہی ابھی "حمزہ شاہ" کو ۔۔۔۔۔۔
اسپیکر پے جو بات اسنے سنی اس سے اُسکا دماغ ماؤف ہو گیا ۔۔۔۔۔
"نہی تم ایسا نہی کر سکتے ۔۔۔پلیز اُسے روکو پلیز میرے بھائی کو چھوڑ دو" ۔۔۔۔۔
میرا نکاح ہونے والا ہے پلیز ایسا نہ کرو میرے گھر والے لوگوں کو کیا کہیں گے ۔۔۔۔میں کیسے انکار کرونگی سبکو شادی کی تیاریاں مکمل ہونے والی ہیں اگلے مہینے میری شادی ہے ۔۔۔۔۔
اللہ کا واسطہ مجھے چھوڑ دو!!!
"مجھے صرف ہاں سنننی ہے ورنہ" کہتے ہی حمزہ نے گنتی شروع کی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ،،،،،، دو
رکو رکوتم جو کہو گے میں کرونگی ابھی وہ تین بولتا کہ وہ جلدی سے بول اٹھی ۔۔بس میرے بھائی کو کچھ مت کرنا ۔۔۔۔میں تم سے نکاح کے لیے تیار ہوں۔۔۔۔
سوچ لو ایک بار ۔۔۔اگر مجھے انکار ملا تو اگلی بار موقع نہیں دونگا ۔۔۔۔۔
"نہیں نہیں میں سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔جیسا تم کہوگے میں ویسا ہی کرونگی اُسے منع کرو۔۔۔۔۔ اسے بولو میرے بھائی سے دور رہے" منہا روتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔
"تمہارا کام ہو گیا تم جا سکتے ہو ضرورت پڑی تو دوبارہ کال کرونگا "۔۔۔۔۔یہ کہتے ساتھ ہی حمزہ نے فون بند کردیا ۔۔۔۔۔اور منہا کی جانب متوجہ ہوا
دو دن بعد میرے گھر والے آئیں گے تمہاری طرف ۔۔۔جواب ہاں ہی ہونا چاہیے اُسکا گال تھپتھپا کر وہ اسے لیے گاڑی میں بیٹھا اور اُسے گھر چھوڑ کر واپس روانہ ہو گیا ۔۔۔
بس اسی کام کے لیے وہ آیا تھا تاکہ ایک دفعہ اُسے اپنے سٹائل میں سمجھایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
_____________________________
منہا خاموش سی گھر میں داخل ہوئی تو کلثوم بیگم نے اسے دیکھتے متفکر لہجے میں پوچھا ۔۔۔
منہا بیٹا آج اتنی لیٹ کیوں آئی ہو ؟؟
"مما کچھ نہی بس مدرسہ میں دیر ہو گئی" ۔۔وہ غائب دماغی سے انھیں جواب دیتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔منہا اب آنے والے وقت کے لیے پریشان تھی کہ کیا ہوگا اب ۔۔۔۔۔کہاں پھنس گئی ہے وہ ۔۔۔۔یہی سوچتے سوچتے وہ روتی روتی سو گئی ۔۔۔۔۔
____________________________
شام میں اسکی آنکھ موسیٰ کی آواز سے کھلی جو کب سے اُسے ہی اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔اُٹھ جاو آپی ۔۔۔میں برگر لے کر آیا ہوں ٹھنڈا ہو جانا ۔۔۔۔۔ہاں بس آ رہی ہوں ۔۔۔۔۔
منہا یہی سوچ رہی تھی کے اگر آج کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔اسکی مما کی تو جان بستی ہے اپنے بیٹے میں اور وہ کیسے زندہ رہتی اپنے جان سے پیارے بھائی کے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ پاک اب میں کیا کروں آپ ہی میری مدد کرسکتے ہیں بس ۔۔۔۔۔۔۔
______________________________
ساری رات منہا بیٹھی یہی سوچتی رہی کہ کیسے گھر والوں سے بات کرے۔۔۔۔ وہ شادی سے منع کیسے کرے کوئی وجہ پوچھے گا تو وہ کیا جواب دے گی ۔۔۔۔۔کونسا جواز پیش کرے گی ۔۔۔۔۔
یاللہ کون سی مصیبت میں پھنس گئی اپنے سر کو ہاتھوں میں گرائے وہ خدا کو پکارنے لگی۔۔۔۔۔اللہ جی پلیز میری مدد کریں اس پاگل سے میری جان چھڑوا دیں میں کیا بولوں گی گھر والوں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روتے روتے ناجانے کس وقت اس کی آنکھ لگی۔۔۔۔۔۔۔
____________________________
"منہا اٹھ جاو بیٹا مدرسہ بھی نہیں گئی طبیعت تو نہیں خراب" ؟ کلثوم بیگم پریشان سی اُسکے ماتھے پر ہاتھ رکھتے بولیں۔۔۔
"نہیں مما بس ویسے ہی دل نہیں کر رہا تھا جانے کو" وہ اٹھتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
"اچھا اٹھو پھر ناشتہ کرنے کرلو بہت وقت ہو گیا" کہتیں وہ کچن کی جانب چلی گئیں۔۔۔۔۔۔
اس نے بے دلی سے دو چار نوالے حلق سے اتارے۔۔۔۔۔۔۔۔
" وہ مما مجھے بات کرنی ہے آپ سے" ۔۔۔۔ پاس بیٹھی کلثوم بیگم کا ہاتھ پکڑ کر اُسنے کہا ۔۔۔۔۔
و وہ !"مما مجھے یہ شادی نہیں کرنی آپ منع کردیں انہیں" گہرا سانس لے کر وہ ایک ہی سانس میں بولی......
"تمہارا دماغ ٹھیک ہے منہا کیا بکواس کر رہی ہو شادی سے ایک مہینہ پہلے تم مجھے شادی سے انکار کرنے کا کہہ رہی ہو "کلثوم بیگم شدید برہم لہجے میں اسے ڈانٹتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مما مجھے نہیں پتہ بس میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی آپ انکو انکار کر دیں" منہا لہجے کو مضبوط کرتی ہوئی بولی
اچھا تو یہ بات تمہیں پہلے نہیں یاد آئی اب جب سب تیاریاں ہو گئیں تو تمہیں یاد آیا ۔۔۔۔۔۔۔
میں کبھی بھی انکار نہیں کرونگی تمہارے بابا کو کیا بتاؤں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کس وجہ سے تم منع کر رہی ہو تم تو بہت خوش تھی شادی سے پھر اچانک کیا ہوا ؟؟
انہوں نے کھوجتی نگاہوں سے اسے دیکھتے استفسار کیا۔۔۔۔
"مما میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور اس کے گھر والے آنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
میں نہیں جانتی آپ بس انھیں انکار کر دیں اور بابا کو بھی بتا دیں" ۔۔۔۔۔کہتی وہ اٹھ کر چلی گئی
اور کلثوم بیگم اُسکی بات سے سکتے میں اتنی دیر وہیں بیٹھی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
انکی بیٹی تو ایسی نہیں تھی پھر یوں بیٹھے بٹھائے کیا ہو گیا کیا کریں گے وہ لوگ کیا جواب دیں گے اسکے سسرال والوں کو جو شادی کی تاریخ بار بار مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اٹھ کر کانپتے ہاتھوں سے فون پکڑا اور منہا کے بابا کو کال کرکے جلدی گھر آنے کا کہا
______________________________
ارتضیٰ صاحب پریشان سے گھر میں داخل ہوئے کلثوم بیگم نے ساری بات انکو بتائی ۔۔۔۔۔۔
"بیگم آپ ویسے ہی پریشان ہو رہی ہیں اُسنے مذاق کیا ہوگا آپکو تنگ کرنے کے لیے میں پوچھتا ہوں اس سے" کہتے وہ منہا کے کمرے کی جانب چلے گئے
دروازہ بجا کر اندر داخل ہوئے تو وہ بیڈ کے ایک طرف خاموشی سے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
"کیا بات ہے آج میرا بچہ بہت خاموش ہے طبیت ٹھیک ہے نہ ؟؟کیا سن رہا ہوں آپکی مما سے کیوں تنگ کرتی ہیں آپ انہیں جانتی بھی ہیں وہ فوراً پریشان ہو جاتی ہیں "ارتضیٰ صاحب اسے محبت سے ساتھ لگاتے گویا ہوئے
منہا کے لیے آنسو روکنا مشکل ہو گیا خاموشی سے اُن سے دور ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
"بابا میں تنگ نہیں کر رہی میں بالکل سنجیدہ ہوں مجھے یہ شادی نہیں کرنی پلیز آپ انہیں منع کر دیں "وہ نظریں جھکائے بولی اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھ کر جھوٹ بول سکے۔۔۔۔۔۔۔۔
لیکن بیٹا مسئلہ کیا ہے پہلے تو آپ راضی تھی آپ سے پوچھ کے ہی یہ رشتہ تہہ کیا تھا پھر اب کیا ہوا؟؟؟؟؟؟
آپ سے فہد نے کچھ کہا ہے تو بتاؤ مجھے میں بات کرتا ہوں اس سے ۔۔۔۔وہ اس کی بات کو ابھی بھی اسکی بچگانہ حرکت سمجھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔
"نہیں بابا اُسنے مجھے کچھ نہیں کہا لیکن میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔وہ اچھا نہیں لگتا مجھے ۔۔۔۔میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور اس سے ہی شادی کرنا چاہتی ہوں"
منہا آنکھیں ميچے کانپتی آواز میں بولی ۔۔۔۔۔۔
ارتضیٰ صاحب بالکل خاموشی اسے دیکھتے رہے اور آہستگی سے اٹھ کر کمرے سی نکل گئے ۔۔۔۔۔
منہا بیٹھی بے آواز رونے لگی ۔۔۔۔۔وہ یک ٹک ایک ہی جگہ بیٹھی سوچ رہی تھی کہ یہ ہو کیا گیا ہے اُسکے ساتھ ۔۔۔وہ شخص کیوں اُسکی زندگی میں آیا ۔۔۔جسکی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کے سامنے شرمندہ ہوں رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
کیا بتائے وہ انہیں ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد کلثوم بیگم کمرے میں داخل ہوئیں وہ خاموش بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔۔
"کیوں اب کیوں رو رہی ہو تم ہمیں ذلیل کرنے میں تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا کیا ایسی تربیت کی تھی میں نے تمہاری آج تمہارے باپ سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی میں ۔۔۔۔بتاؤ مجھے اب میں کیا جواب دوں انکو کیا وجہ بتاؤں انکار کی ؟شادی سے ایک مہینہ پہلے تمہیں یاد آیا
تمہیں وہ پسند نہیں ۔۔۔۔۔لوگ کیا کہیں گے۔ ہمیں۔۔۔۔۔ ایک بار سوچا تم نے یہ سب "وہ اسکے بازو کو جنجھورتی بولیں
"مما پلیز !!آپ تو سمجھیں مجھے میں نہیں کر سکتی یہ شادی" اُسنے روتے ہوئے ماں کا ہاتھ تھامے کہا
ٹھیک ہے پھر بولو اپنے اس عاشق کو کل ہی اپنے گھر والوں کو بھیجے۔۔۔۔
جس سے تم کہو گی اسی سے ہوگی تمہاری شادی لیکن اتنا یاد رکھنا شادی کے بعد اس گھر کی طرف کبھی مر کے بھی نہ دیکھنا ہمیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم مر گئے تمہارے لیے اور تم ہمارے لیے ۔۔۔جو اولاد بوڑھاپے میں ماں باپ کو ذلیل کرے ایسی اولاد کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں روتے ہوئے کہتیں وہ اٹھ کر چلی گئیں۔۔۔۔
مما !!وہ انکی بات سن کر حیران رہ گئی ۔۔۔۔وہ جانتی تھی کہ وہ بہت غلط کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
اُسکی بات کا سخت ردعمل ہوگا لیکن اس سے مکمل قطع تعلق کر دیا جائے گا اُسنے سوچا تک نہ تھا ۔۔۔۔۔ وہ اپنے بالوں کو کھینچتی اونچا اونچا رونے لگی۔۔۔۔۔۔
اللہ کرے مر جاؤ تم حمزہ شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔کیوں آئے تم میری زندگی میں وہ بےبسی کی آخری انتہا پر تھی لیکن سوائے رونے کے کوئی رستہ نہیں تھا اس کے پاس۔۔۔۔۔۔
باہر موسیٰ یہ سب سن کر پریشان تھا اور مما بھی بابا کے پاس بیٹھی رو رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
____________________________
اسکے کہے کے مطابق اگلے دن حمزہ کی فیملی اُنکے گھر تھی ۔۔۔۔۔حمزہ کی فیملی تو بہت خوش تھی لیکن منہا کے والدین خاموش تھے ۔۔۔۔منہا کے والد نے ایک ہفتے میں رخصتی کی شرط رکھی ۔۔۔۔
ربیعہ بیگم(حمزہ کی والدہ) اتنی جلدی شادی کا سن کر پریشان ہوئیں کہ اتنی جلدی تیاری کیسے ہوگی ؟؟لیکن حمزہ کی دادی نے کہا کہ یہ کوئی مسلئہ نہی کیونکہ وہ جانتی تھیں ساری بات حمزہ انہیں بتا چکا تھا کہ اُسکی منگنی ہو چکی ہے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔منہا اُن لوگوں کو بہت پسند آئی ۔۔۔۔۔دادی نے اُسکی انگلی میں رنگ پہنائی ۔۔۔۔۔شادی کی ڈیٹ فیکس ہوئی ۔۔۔۔ منہا کے گھر میں مکمل خاموشی تھی موسیٰ کی علاوہ کوئی اس سے بات نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف حمزہ کی فیملی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی شاپنگ شروع ہو چکی تھی۔۔۔دونوں طرف سے تیاری مکمل تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________________
دیکھتے ہی دیکھتے وہ دن بھی آ پہنچا جب منہا کو اپنے ماں باپ کا گھر ہمشہ کے لیے چھوڑ جانا تھا۔۔۔۔۔
اس پورے ہفتے میں اس نے بہت کوشش کی مما سے بابا سے بات کرنے کی لیکن وہ اُسکی طرف دیکھ کر رخ موڑ لیتے۔۔۔۔ منہا کو یہ چیز بہت تکلیف دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
لیکن وہ خاموش رہی کیونکہ غلطی اُسکی تھی۔۔۔۔۔ اُسکے ماں باپ کو اُسکی وجہ سے لوگوں کی باتیں سننی پڑ رہیں تھی ۔۔۔۔۔لیکن وہ بھی کیا کرتی وہ بےبس تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سارے وقت میں حمزہ نے اس سے بالکل بھی بات نہیں کی اور ویسے بھی منہا کو کون سا پرواہ تھی اُسکی اسکا بس چلتا تو اسے دنیا سے ہی غائب کر دیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جسکی بدولت آج اسے لوگوں کی عجیب نظروں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔اس کے جان سے پیارے ماں باپ اس سے بات تک ناکر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________________
منہا کو لا کر برائیڈل روم میں بیٹھایا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منہا کی والدہ کی آنکھیں نم ہو گئیں اسے دیکھ کر لیکن خاموش رہیں ۔۔۔۔۔
وہ لگ ہی بہت خوبصورت رہی تھی ۔۔۔۔سرخ لہنگے میں گولڈ کی تار کا کام ہوا ہوا تھا ۔۔۔۔بڑی بڑی آنکھوں کو لائنر کاجل سے اور حسین بنایا گیا تھا ۔۔۔ وہ بہت پیاری لگ ری تھی منہا کی آنکھیں ماں کو دیکھ کر پانیوں سے برھنے لگیں۔۔۔۔
آپی رونا نہیں ورنہ چوڑیل لگو گی۔۔۔۔۔۔۔ موسیٰ جو خود بھی اُداس تھا کہ بہن نے چلے جانا ہے وہ جلدی سے بولا ۔۔۔۔
۔۔۔۔ ویسے میں تو شکر کرونگا یہ جائیگی ۔۔۔۔
منہا کی سہیلیاں جو کہ اُسکے پاس ہی موجود تھیں اسکی باتیں سن کر سب کھلکھلا اٹھیغ ۔۔۔لیکن منہا کی آنکھیں نم ہو گئیں وہ جانتی تھی کہ وہ اُسکا موڈ اچھا کرنے کے لیے ایسا کہ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔
دادی اور حمزہ کی والدہ آ کے اُسے دیکھ کر بہت سی دعائیں دے کر گئیں۔۔۔ نکاح کے مراحل مکمل ہوئے ۔۔۔سب بہت خوش تھے سوائے اسکے مما بابا کے۔۔۔ منہا کو باہر لے کر جانے کے لیے موسی روم میں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نیٹ کے دوپٹے سے گھونگھٹ کیے منہا اپنے بھائی کے ساتھ اسٹیج کی طرف قدم بڑھا رہی تھی ۔۔۔۔جیسے جیسے اسکے قدم آگے بڑھ رہے تھے حمزہ کے دل میں ہلچل مچ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اُسنے خود کو مکمل طور پر گھونگھٹ میں چھپایا ہوا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ نامحرم لوگ اُسے دیکھیں اور مرد حضرات کا انتظام بھی سیپریٹ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے دادی سے پہلے ہی اجازت لے لی تھی اور حمزہ کو بھی اس چیز سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔۔
حمزہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکو اپنے برابر میں کھڑا کیا ۔۔۔۔۔سب لوگ اس حسین جوڑے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔اگر منہا خوبصورت تھی ۔۔۔تو حمزہ بھی کسی سے کم نہی تھا ۔۔۔۔
بھورے بال۔۔۔گرے آنکھیں ۔۔۔۔ہلکی بیئرڈ ۔۔۔گولڈن شیروانی میں وہ اپنی شاندار پرسنیلٹی کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصتی کا وقت آ پہنچا ۔۔۔ منہا روتی ہوئی باپ کے سینے سے لگی جانتی تھی کہ آج کے بعد شايد وہ انہیں دیکھ بھی نا پائے ۔۔۔
روتی ہوئی وہ ماں کے گلے لگی وہ بھی اسے ساتھ لگائے خود پر ضبط نارکھ سکیں ۔۔۔۔ موسیٰ سے ملتی اسے ماں بابا کا خیال رکھنے کا کہتی سب کی دعاؤں میں رخصت ہو کر نکلی ۔۔۔
کچھ لوگ باتیں بنا رہے تھے تو کچھ افسوس کر رہے تھے لیکن وہ بے بس تھی اس سب میں ۔۔۔۔۔۔
____________________________
بہت سی رسموں کے بعد اسے حمزہ کے کمرے میں بٹھایا گیا ۔۔۔۔روم بہت بڑا اور خوبصورت تھا ۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا اُنکے پورے گھر جتنا تو یہ ایک کمرہ ہے ۔۔۔لیکن منہا کو اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ تھکن سے برا حال تھا ۔۔۔۔
"میں کیوں اس کا انتظار کروں میری طرف سے جائے جہنم میں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جیسے ہی اُٹھ کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوئی ڈور کھلنے کی آواز آئی لیکن وہ مڑی نہیں جانتی تھی کہ وہی ہوگا ۔۔۔.. حمزہ اُسکی پیچھے آ کر کھڑا ہوا ۔۔۔۔
وہ جو آئینے میں دیکھتے اپنے دوپٹے کی پنز اتار رہی تھی اس کو آئینے میں بلکل اپنے پیچھے کھڑے پایا۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں کی نظریں ملی تھیں ایک پل کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
منہا نے نظروں کا زاویہ بدلہ اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتی وہ ایک طرف ہونے لگی ۔۔۔۔
"بیگم اتنی بھی جلدی کیا ہے پہلے مجھے جی بھر کے دیکھ تو لینے دیں آپکو ۔۔مجھے یقین تو کرنے دیں کے آپ میری ہو چکی ہیں" اُسکو بازوں سے تھامتا وہ باپنے قریب کر گیا ۔۔۔۔۔
منہا کی آنکھوں میں خوف کا عنصر تھا ۔۔۔اس نے اس سے دور ہونا چاہا۔۔۔۔۔۔۔
خاموشی میں اسکی چوڑیوں کی آواز نے ارتعاش پیدا کیا ۔۔۔
منہا کیا ہوا ریلیکس رہیں ۔۔۔۔حمزہ اُسکا خوف دیکھ کے بولا ۔۔۔اُسکا ہاتھ پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔ وہ اپنے آپ میں سمٹ رہی تھی۔۔۔ غیرارادی طور پر اس سے تھوڑا سا فاصلہ قائم کیا ۔۔۔۔
"نا نہ یہ دوری آج ممکن نہیں ۔۔۔۔۔ آپ جانتی نہی ہیں کہ آج میں کتنا خوش ہوں ۔۔۔مجھے یقین ہی نہی ہو رہا کہ آپ میرے سامنے مجود ہیں میری دسترس میں ہیں میری ہو چکی ہیں ۔۔۔۔میں جانتا ہوں آپکے ساتھ زبردستی کی ہے میں نے ۔۔۔لیکن اگر میں ایسا نہ کرتا تو آپ کبھی بھی میری بات سنتی۔۔۔
Am really sorry!!!!!
لیکن یقین مانیں میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔بہت خوش رکھونگا آپکو" ۔۔۔۔یہ کہتے ساتھ ہی حمزہ نے اس کے ماتھے پر اپنا لمس چھوڑا ۔۔۔۔
پلیز حمزہ دور رہیں ۔۔۔ایسے زبردستی رشتے قائم نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔ حمزہ شاہ ۔۔۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپکے ایک دفع معافی مانگنے سے میں آپکو معاف کردونگی تو سوچ ہے آپکی ۔۔۔۔
وہ نخوت سے کہتی رخ موڑ گئی
حمزہ نے اُسے کمر سے کھینچ کر خود پر گرایا ۔۔۔
"ٹرسٹ می ڈارلنگ ۔۔۔۔تمہیں بھی مجھ سے محبت ہو جائیگی "۔۔۔۔۔رات آہستہ آہستہ گزرتی گئی ۔۔۔۔۔حمزہ نہی جانتا تھا کہ یہ رات منہا کو اس سے اور دور کرے گی یا قریب۔۔۔۔
______________________________
صبح اسکی آنکھ کھلی تو وہ اپنی ایک ٹانگ اس پر پھیلائے سو رہا تھا ۔۔رات کا سوچ کر منہا کو غصہ آ گیا ۔۔۔وہ اُٹھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔
حمزہ کی جب آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر نہیں تھی ۔۔۔۔وہ اُٹھ کر بیٹھا تو وہ فریش سی باہر نکلی ۔۔۔۔ وہ اُٹھ کر اُسکے پاس آیا۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے بال بنا رہی تھی ۔۔۔
"صبح بخیر زندگی"!!!!!
کہتے ہی اس نے منہا کے شانے پر اپنی ٹھوڑی ٹکائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منہا کے گال گلال ہوئے اس کے اتنے قریب ہونے پر ۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے تھوڑا سا فاصلہ بنا کر کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ اس کا ماتھا چومتا فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔۔ جب وہ فریش ہوکر باہر نکلا تو منہا خاموش بیٹھی اُسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں نیچے آ گئے ۔۔۔۔
'ماشاء االلہ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے" دادی نے اُسکی تعریف کی ۔۔۔منہا جھنپ گئی ۔۔۔گال لال ہو گئے ۔۔۔
بھابھی بھائی نے کیا گفٹ دیا ؟۔۔۔۔۔ اریج اُسکے ساتھ بیٹھتی بولی
وہ،،،، وہ
اس سے پہلے کے منہا کچھ بولتی ۔۔۔۔حمزہ بول اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
"بریسلٹ گفٹ کیا ہے آپکی بھابھی کو"
"واؤ !!! بھابھی دیکھائیے نہ مجھے بھی "اریج اشتیاق سے کہتی اُسکا ہاتھ تھام گئی
وہ اوپر روم میں ہی رہ گیا منہا بوکھلاتی جلدی سے بولی۔۔۔۔
"چلیں کوئی بات نہیں بعد میں دکھا دیجیے گا " اریج پیار سے بولی اور اٹھکر اپنی دوست کی کال سننے چلی گئی
اتنی دیر میں منہا کی کزن اور موسیٰ ناشتہ لے آئے ۔۔
"اسلامُ علیکم"!!! موسیٰ نے اور اُسکی کزن نے انکے قریب آتے سلام کیا۔۔۔۔
"وعلیکم السلام بیٹا اسکی کیا ضرورت تھی" ؟ربیعہ بیگم اُسکو پیار دیتی ہوئی بولیں ۔۔۔۔منہا بھی اُٹھ کر اُنسے ملی ۔۔۔
سواۓ اریج کے (جو کہ ابھی تک اپنی دوست کو شادی کا احوال بڑے جوش و خروش سے سنا رہی تھی) سب نے مل کر ناشتہ کیا ۔۔۔
منہا بیٹا جاؤ اپنی کزن اور بھائی کو اپنے روم میں لے جاؤ ۔۔۔۔ دادی اس سے بولیں۔۔۔۔
منہا اٹھنے لگی تو حمزہ اسکے پاس آ کر بولا ۔۔۔۔۔رات آپکا گفٹ نہی دے پایا ۔۔۔۔ڈرا میں بریسلیٹ پڑا ہوا ہے پہن لیجئے گا ۔۔۔۔۔۔
منہا سر ہلاتی اُن دونوں کو لے کر اوپر کی طرف چلے گئی ۔۔۔۔
واہ آپی تمہارا روم بہت پیارا ہے موسیٰ کمرے میں قدم رکھتا بولا ۔۔۔۔منہا اُسے دیکھ ہلکا سا مسکرائی ۔۔۔
منہا حمزہ نے کیا گفٹ دیا اُسکی کزن نے اشتیاق سے پوچھا ۔۔۔منہا نے ڈریسنگ کی طرف رُخ کیا ۔۔
جہاں اسکی بتائی گئی جگہ کے مطابق بہت پیارا سا ایک باکس موجود تھا ۔۔جس میں بہت نفیس سی گولڈ کی بریسلیٹ تھی ۔۔۔جس کے اوپر "ایچ "لکھا تھا ۔۔۔۔ اُسنے باکس نکال کر انکی جانب بڑھآیا
"بہت پیارا ہے "منہا سے باکس لیتی کھول کر وہ بولی ۔۔۔۔۔۔۔
منہا تم خوش تو ہو نہ ؟
دیکھو تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائیگا میں جانتی ہوں جن حالات میں تمہاری شادی ہوئی ہے وہ بہت مشکل حالات ہیں لیکن تم خود بھی جانتی ہو جو تم نے کیا اس سے آنٹی انکل کا ردِعمل ایسا ہی ہونا تھا ۔۔۔سب خاندان والے اتنی جلدی شادی کی وجہ پوچھ رہے ہیں کس کس کو ٹالیں وہ ۔۔۔۔۔
تم صبر سے کام لینا انشاء اللہ ایک دن سب سہی ہو جائیگا ۔۔۔
"جی "منہا سر جھکائے بولی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کو ولیمہ کا فنکشن تھا ۔۔۔منہا کو بیوٹیشن تیار کرنے آئی تھی ۔۔۔۔آخری ٹچ دیتے ہوئے اسنے منہا کی دل سے تعریف کی ۔۔۔
میم آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔آپکی آنکھیں بہت حسین ہیں۔۔۔منہا بس خاموش رہی ۔۔۔۔اتنی دیر میں دروازہ کھلا ۔۔۔۔ حمزہ اپنی شاندار پرسنالٹی لیے بلیک پینٹ کورٹ میں کھڑا اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو اسکو کسی پری سے کم نہی لگ رہی تھی ۔۔۔۔آگے بڑھ کر اسنے بیوٹیشن کو باہر جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ خاموشی سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا ۔۔۔بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔اور بریسلیٹ اٹھا کر اسکے ہاتھ میں پہنایا ۔۔۔
کیسا ہے ؟اس نے محبت سے پوچھا لیکن اُسکو خاموش دیکھ کر اسکے ہاتھ کو تھام کر باہر کی طرف رُخ کیا ۔۔۔۔۔
___________________________
حال میں پہنچے تو سب اُنکے ہی انتظار میں تھے ۔۔۔وہ بہت آرام سے اسکے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اسٹیج تک گئی ۔۔۔۔سب سے مل کر وہ بیٹھی اپنی گھر والؤں کا انتظار کر رہی تھی دل میں خدشہ تھا کہ کوئی آئے گا بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔
اس سے ملنے صرف موسیٰ آیا تھا اُسکی آنکھیں انکی بے رخی کا سوچ ایک پل میں نم ہوئیں۔۔۔۔
اُسکے جاننے والا تو کوئی تھا نہیں اسلیے خاموشی سے نظریں جھکائے وہ بیٹھی رہی ۔۔۔۔حمزہ اپنے آفیس کے کالیگ کے ساتھ مصروف تھا دوسری طرف
اُسکے پردے کا خیال کرتے ہوئے مرد حضرات کے لیے الگ حال تھا ۔۔۔۔جلد ہی تقریب اپنے احتتام پر پہنچی اور وہ لوگ گھر آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
______________________
منہاخاموشی سے جیولری اُتار رہی تھی جب پیچھے سے حمزہ نے آ کر اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔۔۔اتنی خاموش کیوں ہیں ۔۔۔ ناراض ہیں کیا ابھی تک ؟؟
"دور رہیں مجھ سے ۔۔۔ وہ غصے سے اُسے دیکھتی پھٹ پڑی۔۔۔۔۔۔۔ہر بات پر زبردستی کرتے ہیں ۔۔۔پہلے شادی زبردستی کی اوراب" وہ کہتی نم لہجے سے رخ موڑ گئی ۔۔۔۔غلام بنا لیا ہے مجھے اپنا ۔۔۔۔۔میری تو کوئی مرضی ہی نہی ۔۔۔وہ روتے ہوئے سرخ چہرے سے ہچکیوں کے درمیان بولی۔۔۔۔
"آپکو کس نے کہا کہ آپ غلام ہیں ۔۔۔۔آپ تو میرے دل کی ملکہ ہیں ۔۔۔۔۔آپکو میرا پیار قید لگ رہا ہے میرا قریب آنا برا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔
آپ یقین کریں منہا میرا گزارا آپکے بغیر ممکن نہی ۔
۔۔اور میں جانتا ہوں آپ کے گھر والے ناراض ہیں اسلیے آپ اُداس ہیں
آپ یقین کریں میں بہت جلد انہیں راضی کر لونگا اور آپکو ان سے ملوانے وہاں لے جاؤنگا ۔۔۔۔لیکن پلیز اس طرح رو کے خود کو تکلیف نہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔جائیں فریش ہو جائیں" وہ اُسکے آنسو صاف کرتا بولا ۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے اس سے دور ہوتی ڈریسنگ روم میں چلی گئی ۔۔۔ وہ باہر آئی تو حمزہ کمرے میں موجود نہیں تھا شکر کا کلمہ پڑھتے وہ جلدی سے کمفرٹر لیے لیٹ گئی
___________________________
صبح اُسکی آنکھ کھلی تو حمزہ پاس لیٹا سو رہا تھا وہ اٹھ کر فریش ہوئی اور نیچے چلی گئی
نیچے آتے ہی سبكو سلام کرکے وہ دادی جان کے پاس بیٹھ گئی ۔۔۔۔
بیٹا حمزہ نہیں آیا ؟؟
"جی وہ سوئے ہوئے تھے میں اسلیے آ گئی" وہ دھیمے لہجے میں بولی
"اچھا کوئی بات نہیں میرا بچہ "وہ پیار سے اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتے بولیں
"منہا بیٹا حمزہ کو بلا لاؤ ناشتہ لگ گیا ہے" ربیعہ بیگم اسے کہتی ملازمہ سے ناشتا لگوانے لگیں
جی،،،وہ کہتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی
روم میں قدم رکھا تو وہ ابھی بھی ہنوز ویسے ہی سو رہا تھا
منہا کو اسے اٹھانا دنیا کا مشکل ترین کام لگا ۔۔۔۔ججھکتی ہوئی اُسکے قریب گئی ہاتھ بڑھا کر اسکے کندھے کو ہلایا اٹھ جائیں سب آپکا ویٹ کر رہے ہیں نیچے
لیکن وہ اٹھنے کی بجائے اُسکا ہاتھ تھام کر اپنے گال کے نیچے رکھتے پھر سے سو گیا
منہا جھنجھلا گئی اُسکی اس حرکت سے
نواب صاحب کے نخرے دیکھو یہاں میں اٹھانے کی تگودو میں ہوں اور مسٹر میرا ہاتھ تھامے چھوٹے بچے کی طرح سو رہے ہیں
اٹھ جائیں پلز سب انتظار کر رہے ہیں آپکا اُسنے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے اونچی آواز سے کہا
حمزہ جاگ چکا تھا لیکن اسے تنگ کرنے کی غرض سے جان بوجھ کے اٹھ نہیں رہا تھا
وہ کروٹ بدل کر سویا ہوا بنا
افّف میرے خدایا ایک کو گھر چھوڑ کے آئی تھی اب یہ مسٹر بھی ویسے ہی ڈھیٹ ملے
وہ پاؤں پٹخکتی جانے کے لیے مڑی کہ اچانک حمزہ نے اُسکا ہاتھ تھام لیا
"ڈھیٹ تو میں ہوں بیگم اسی لیے تو آپ میرے پاس ہیں" وہ بولتا اسے اپنے قریب کر گیا
منہا کا تو غصے سے چہرہ لال ہو گیا کے وہ جان بوجھ کر اُسے تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
جلدی ریڈی ہو جائیں سب ویٹ کر رہے ہیں وہ نظروں کا زاویہ بدلتی بولی
حمزہ نے اسے بغور دیکھا
جو پنک کلر کا سمپل سے ہلکی ایمبرائیڈری والا ڈریس پہنے دوپٹہ سلیقے سے سر پر اوڑھے ۔۔۔۔ہلکی پنک لپسٹک لگائے سادگی میں بھی اُسکا ایمان ڈگمگا رہی تھی
اس سے پہلے کے وہ کوئی گستاخی کرتا وہ وارڈروب سے اپنا ڈریس لیتا واشروم میں بند ہو گیا
منہا کاوچ پر بیٹھی اُسکا انتظار کرنے لگی
جیسے ہی وہ باہر آیا دونوں روم سی باہر نکلے
حال میں قدم رکھتے سب کے قریب آتے دونوں نے ایک ساتھ سلام کیا حمزہ نے منہا کے لیے کرسی کھینچ کر اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور ساتھ والی کرسی پر بڑی شان سے براجمان ہوا
"وعلیکم السلام!! میرا بیٹا نیند پوری ہو گئی آپکی "ربیعہ بیگم پیار سے اُسے دیکھتی بولیں
"جی مما بہت اچھی اور پرسکون نیند آئی" وہ معنی حیزی سے منہا کو دیکھتا بولا جسکا رنگ اُسکی اس حرکت سے ایک دم سرخ ہوا
"منہا بیٹا ٹھیک سے کھاؤ آپکا اپنا گھر ہے" دادی نے اُسکو ٹوکا جو صرف جوس پی رہی تھی
وہ سر ہلاتی بریڈ کا سلائس اٹھا کر اس پر جیم لگانے لگی
باتوں کے درمیان ناشتہ کیا گیا
حمزہ کی ضروری میٹنگ تھی وہ آفس چلا گیا اور منہا سب کے ساتھ باتوں میں مصروف ہو گئی
اریج منہا سے اُسکی پسند نہ پسند اور باقی باتیں پوچھ رہی تھی جنکا جواب منہا بس ہوں ہاں میں دے رہی تھی ۔۔۔۔دادی نے اُسکی خاموشی محسوس کی تو اسے اپنے کمرے میں بھیج دیا
جاو منہا بیٹا تھوڑی دیر آرام کرلو ۔۔۔۔۔آنے دو اس گدھے کو میں پوچھتی ہوں کہ نئی نویلی دلہن کو چھوڑ کر آفس چلا گیا ہے
منہا سر ہلاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
شام میں جب وہ کافی دیر نیچے نہیں آئی تو اریج اُسکے پاس آ گئی۔۔۔۔بھابھی میں آ جاؤں ؟؟
جی جیآ جائیں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی
وہ آپ نیچے نہی آئیں تو میں نے سوچا میں آپکے پاس آ جاتی ہوں آپکو برا تو نہیں لگا میرا یوں آپ کے روم میں آنا ۔۔۔ اریج اسکے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
نہیں ایسی کوئی بات نہیں بہت اچھا کیا تم آ گئی میں بس نیچے ہی آنے والی تھی ۔۔۔۔اریج سے بات کرکے وہ اتنا تو سمجھ گئی تھی کہ وہ کافی فرئینک طبیعت کی تھی۔۔۔ جسکی وجہ سے منہا بھی زیادہ دیر خاموش نہ رہ سکی باتوں میں وقت گزرنے کا دونوں کو احساس ہی نہیں ہوا ۔۔۔
اُف بہت وقت ہو گیا بھابھی آ جائیں نیچے چلتے ہیں بھائی آنے والے ہونگے ۔۔۔منہا بھی سر ہلاتی مسکراتی اسکے ساتھ اٹھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ گھر آیا تو اُسے منہا دکھائی نہیں دی ۔۔۔۔دادی کے کمرے میں گیا انکو سلام کرکے منہا کا پوچھا
بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہے اریج بھی اُسکے ساتھ ہے ۔۔۔میں نے ہی اُسے بھیجا ہے کہ اس سے باتیں کرے تاکہ اُسکا دل بھی بہل جائے
حمزہ اپنا بیگ ایک طرف رکھتا انکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔
دیکھو میرا بیٹا جن حالات میں تمہاری شادی ہوئی ہے وہ ایک لڑکی کے لیے قبول کرنا بہت مشکل ہے اسلیے بہت محبت سے اُسکے ساتھ رہو ۔۔۔۔اُسے کچھ وقت دو ،،،،اُسے سمجھو۔۔۔۔
اُسے احساس دلاو اپنی محبت کا ۔۔۔۔تم اُسے اکیلا چھوڑ آفیس چلے گئے ۔۔۔
جانتے بھی ہو کے اُسے اس وقت سب سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔ دادی اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولیں
میری پیاری دادی آپ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہیں بس تھوڑا سا کام تھا اس وجہ سے جانا پڑا
آپ فکر نہ کریں میں جانتا ہوں ۔۔۔۔
بس اسے کچھ وقت دینا چاہتا تھا تاکہ وہ ہمارے رشتے کو سمجھ سکے اچانک جس طرح سے شادی ہوئی اس وجہ سے میں چاہتا تھا کہ اُسےکچھ اسپیس دوں ۔۔۔۔وہ اُنکا ہاتھ چومتا بولا
"اچھا اب جاؤ اپنے روم میں اور فریش ہو کر اُسے کہیں باہر کھانے پر لے جاؤ " دادی اس سے بولیں
"جو حکم آپ کا" اُسنے مسکراتے ہوئے کہا اور دادی کے روم سے باہر قدم رکھا اور ربیعہ بیگم سے مل کر اوپر کی جانب جانے لگا
نظر اس پر پڑی جو اریج کی کسی بات پر مسکراتی نیچے آ رہی تھی
اُسے دیکھ منہا کی مسکراہٹ ایک دم غائب ہوئی ۔۔۔۔
"اسلام علیکم بھائی '''' آپ کب آئے ۔۔۔میں ابھی بھابھی سے یہی کہہ رہی تھی کہ آپ کے آنے کا وقت ہو گیا" اریج اسے سلام کرتی ہوئی بولی
سلام کا جواب دیتا وہ بولا" میرا بیٹا میں بس ابھی آیا ہوں۔۔۔۔آپ نے بھابھی کو تنگ تو نہیں کیا زیادہ "۔۔۔۔۔حمزہ نے مسکراتے ہوئے اُسے بولا
"اللہ بھائی ۔۔۔بھابھی کے آتے ہی آپ بدل گئے ۔۔۔۔میں کیوں تنگ کرونگی بھابھی کو" اُسنے منھ پھلاتے کہا
ہاہاہا میرا بیٹا مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔اس دوران منہا خاموشی سے ایک طرف سے نکلتی نیچے چلی گئی
حمزہ نے اُسکا جانا محسوس کیا لیکن خاموشی سے اریج کو فریش ہونے کا کہتا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا
__________________________
منہا نیچے آ کر لاونج میں بیٹھی تو ربیعہ بیگم اور اریج بھی اُسکے پاس بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
بیٹا حمزہ نہیں آیا ابھی تک؟؟انہوں نے منہا سے پوچھا۔۔۔
جی ،،،،ابھی آئے ہیں چینج کرنے گئے ہیں۔۔۔منہا انہیں دیکھ جلدی سے بولی
" تو میرا بیٹا آپ جاؤ روم میں دیکھو اُسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور خود بھی ریڈی ہو جاؤ
آج باہر ڈنر پر جانا ہے آپ نے بتایا تھا اُسنے مُجھے ۔۔۔جائیں شاباش میری بیٹی"
منہا خاموشی سے "جی" بولتی کمرے کی جانب چل دی۔۔۔
روم میں قدم رکھتے ہی اس نے ارد گرد دیکھا وہ کہیں نظر نہ آیا۔۔۔۔
واشروم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی ۔۔۔وہ شکر ادا کرتی خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی
گھر کی یاد آئی تو موسیٰ کا سوچتی فون اٹھا کر اُس کا نمبر ملایا جو فوراً اٹھایا گیا
سلام دعا کے بعد اس نے مما بابا کی طبیعت کا پوچھا ۔۔۔اور اس سے باتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کب حمزہ اُسکے قریب بیٹھا
احساس تو اُسے تب ہوا جب حمزہ نے اُسکے بالوں سے کیچر نکالا۔۔۔ایک دم فون ہاتھ سے چھوٹتے بچا ۔۔۔ ۔۔۔۔دل کانوں میں بجتا سنائی دیا
اُسے دوبارہ بات کرنے کا بولتی فون بند کرتی اُس سے دور ہونے لگی
لیکن اُسکی یہ کوشش ناکام ٹھہری ۔۔۔حمزہ نے اُسکے گرد حصار بنایا اور اُسکے قریب ہو کر اُسکے بالوں سے آتی خوشبوں کو اپنے اندر اُتارا ۔۔۔۔منہا اُسکی اس حرکت سے کپکپاتی دور ہونے لگی۔۔۔
کب تک ناراض رہنے کا ارادہ ہے جان دل۔۔۔وہ گھمبیر آواز میں اُسکا رخ اپنی طرف کرتا بولا۔۔۔۔ منہا خاموش رہی۔۔۔۔
" اچھا چلیں جائیں تیار ہو جائیں ڈنر پر جانا ہے ہم نے" اُسنے کہتے اس پر گرفت ڈھیلی کی۔۔۔ منہا اس سے دور ہوتی تیزی سے ڈریس لیتی ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی
حمزہ تیار ہوتا نیچے چلا گیا ۔۔۔۔۔۔
پیچ لونگ فراک پہنے وہ باہر نکلی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی تیار ہونے لگی
ہلکا سا میک اپ کیا اور دوپٹہ حجاب سٹائل میں لپیٹا ۔۔۔۔سفید بڑی سی چادر اپنے گرد پھیلائے وہ خود کا جائزہ لیتی نیچے کی جانب گئی
حمزہ جو اُسے دیکھنے کے لیے اوپر آنے لگا تھا اُسے آتا دیکھ وہیں رک گیا ۔۔۔۔پیچ لونگ نیٹ کی فراک پر حجاب لیے وہ اُسے کوئی پری لگی ۔۔۔۔اس نے بے ساختہ ہاتھ اُسکی طرف بڑھایا
جسے منہا نظر انداز کرتی آگے بڑھنے لگی لیکن اُسکی چادر پاوں میں پھنس گئی ۔۔۔
اس سے پہلے کے وہ گرتی حمزہ نے فوراً اُسے تھام لیا ۔۔۔اور اُسکے گرد حصار بناتا اُسکے ساتھ نیچے لاؤنج میں قدم رکھا ۔۔۔۔
واؤ بابھی ,,,,,
You look prett
سمیع اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔۔ وہ اُسکی تعریف سے جھنپ گئی ۔۔۔ "بھابھی ہیں تمہاری "اریج اُسے روکتی بولی ۔۔۔تو کیا بھابھی کی تعریف نہیں کرتے ۔۔۔بھابھی آپ بتائیں میں نے کچھ غلط کہا سمیع نے منہا سے پوچھا جس نے فوراً نفی میں گردن ہلای۔۔۔۔سب انکو دیکھ ہنس پڑے
ما شاء االلہ میرے دونوں بچے بہت پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔۔اللہ نظربد سے بچائے( آمین)
اریج اور سمیع کی تکرار جاری تھی اس سے پہلے کے حمزہ انکو کچھ بولتا ربیعہ بیگم بول اٹھیں
بیٹا انکو چھوڑو انکا روز کا کام ہے جاؤ آپ لوگ ۔۔۔۔۔
حمزہ نے باہر نکلتے گاڑی کے قریب آتے اُسکی طرف کا دروازہ کھول پہلے اُسے بٹھایا
وہ گاڑی میں بیٹھی تو حمزہ نے دوسری طرف جگہ سنبھالی ۔۔۔۔گاڑی میں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔منہا خاموشی سے باہر کی جانب دیکھ رہی تھی
حمزہ نے ایک فائیو سٹار ہوٹل کے سامنے گاڑی روکی ۔۔۔۔ہوٹل بہت بڑا تھا منہا کو باہر سے ہی دیکھ پریشانی ہونے لگی ۔۔۔۔کیونکہ وہ نقاب کے بغیر تو بلکل بھی کہیں نہیں جاتی تھی اور اس طرح کے بڑے ہوٹل میں تو ہر طرح کا بندہ موجود ہوتا ہے
حمزہ نے اتر کر اُسکی طرف کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔میں نقاب کے بغیر نہیں جانا چاہتی منہا اُسکی طرف دیکھ پریشانی سے بولی ۔۔۔
تو آپکو کس نے منع کیا ہے جان دل آپ کریں نقاب میں آپکے سامنے کھڑا ہوں ۔۔۔۔
منہا نے اپنے حجاب سے نقاب کیا اور چادر اچھے سے اپنے گرد پھیلائے گاڑی سے باہر قدم رکھا۔۔۔۔حمزہ مسکراتے اُسکا ہاتھ تھامتا اندر کی جانب چل دیا ۔۔۔۔۔اور اُسے لیے ایک کیبین میں بیٹھا تاکہ وہ پرسکون رہے
خاموشی سے کھانا کھایا گیا ۔۔۔۔کھانے کے دوران حمزہ کی کسی بات کا وہ جواب دے دیتی ورنہ خاموش رہتی ۔۔۔۔۔بل ادا کرتے وہ لوگ
واپسی کے لیے نکلے ۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی میں ہلکا ہلکا میوزک چل رہا تھا ۔۔۔حمزہ نے منہا کا ہاتھ پکڑا اور ساتھ خود بھی گنگنانے لگا
چاند آسمانوں پر لاپتہ لاپتہ
چل کے میرے گھر آ گیا
میں خوش قسمت ہوں با خدا شکریہ
ہو جائے پوری یہ دعا شکریہ
تیرے بن میری جانا کبھی ایک دن بھی گزارا نہی
تیری آرزو نے خود سے بیگانہ کر دیا ۔۔۔۔۔۔
مینے تجھے تحفے میں یہ دل دیا ۔۔۔۔
تونے مجھے بدلے میں یہ جہاں دیا
تیرے بن میری جانا کبھی ایک دن بھی گزارا نہی
چاند آسمانوں پر لا پتہ ہو گیا
۔۔۔۔۔چل کر میرے گھر آ گیا
منہا نے ہاتھ چھغروانے کی کوشش کی
لیکن حمزہ نے گرفت اور سخت کردی ۔۔۔۔منہا خاموش رہی جانتی تھی ضدی انسان ہے اپنی مرضی کرنے والا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن ایسے ہی بے معمول کے مطابق گزرنے لگے ۔۔۔۔ انکی شادی کو مہینہ ہونے والا تھا ۔۔۔لیکن منہا کے رویے میں فرق نہیں آیا ۔۔۔ویسے تو وہ سبکے ساتھ خوش رہتی تھی ۔۔۔۔۔کھلکھلاتی تھی ۔۔لیکن جیسے ہی حمزہ کو دیکھتی سنجیدہ
ہو جاتی ۔۔۔۔رات کو دیر سے کمرے میں جاتی ۔۔حمزہ نے بہت کوشش کی اسکو اسکے خول سے نکالنے کی ۔۔لیکن وہ خاموش رہی ۔۔۔حمزہ بہت کوشش کرتا اسکو بلانے کی اسکے ساتھ زیادہ وقت گزارتا۔۔۔لیکن وہ کوئی خاص جواب نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں سب سے اُسکا رویہ اچھا تھا ۔۔۔سب سے زیادہ وہ دادی جان کے ساتھ وقت گزارتی
اریج کے ساتھ اُسکی اچھی دوستی ہو چکی تھی۔۔۔ربیعہ بیگم کا کچھ وقت اپنے گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ انکے وومن کلب میں گزرتا ۔۔۔کچھ اُنکا رویہ منہا کے ساتھ پچھلے کچھ دنوں سے کھینچا کھینچا سا تھا وہ منہا سے کچھ خاص بات نہیں کر رہی تھیں ۔۔۔
لیکن وہ اپنا وہم سمجھ کر ٹال گئی
منہا کے آنے سے گھر میں جو سب سے اچھی تبدیلی آئی تھی وہ یہ تھی کہ سب باقاعدگی سے نماز پرھنے لگے تھے۔۔۔۔۔دادی اس سب سے بہت خوش تھیں کیوں کہ وہ تو بارہا سبکو نماز پڑھنے کی تلقین کرتیں لیکن پھر سب اچھا کہہ کر اپنے کاموں میں لگ جاتے۔۔
حمزہ کو آواز دے کر وہ سب کو صبح نماز کے لیے اٹھانے انکے کمروں میں جاتی شروع میں تو اریج اور سمیع نے اٹھتے ہوئے بہت تنگ کیا لیکن اب انہیں بھی عادت ہو چکی تھی ۔۔۔اور پھر کچھ دیر دادی کے پاس بیٹھ کر قرآن پاک کی تلاوت کرکے اپنے کمرے میں جاتی تاکہ حمزہ سو چکا ہو حمزہ کو نماز کے لیے آواز دیتے ہی وہ جلدی سے روم سے نکل جاتی
لیکن حمزہ اس بات پہ ہی شکر گزار تھا کے آخر وہ اُسے اٹھاتی تو ہے۔۔۔
اور کسی نے تو نہیں لیکن دادی نے اُسکا کھینچا کھینچا سا رویہ حمزہ کے ساتھ نوٹ کیا تھا ۔۔۔۔
______________________________
آج بھی وہ ابھی تک روم میں نہی گئی تھی ۔۔۔گھڑی رات کے ۱۱ بجا رہی تھی ۔۔۔دادی نے اُسے اپنے کمرے میں بلایا ۔۔۔۔منہا بیٹا اگر میں آپ سے کچھ بولوں تو آپ برا تو نہی مانو گی
دادی جان کیسی بات کر رہی ہیں آپ بڑی ہیں حکم کریں۔۔۔۔۔۔
بیٹا آپ حمزہ سے ناراض ہو؟...وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔
"نہیں دادی جان ایسی بات نہیں ہے" اس نے انکی بات پر پہلو بدلتے کہا ۔۔۔۔
بیٹا میں جانتی ہوں کہ آپکو برا لگا جس طرح سے اسنے شادی کی ۔۔۔آپکے ساتھ زبردستی کی ۔۔۔۔لیکن بیٹا وہ آپ سے بہت محبت کرتا ہے ۔۔۔۔یہ مت سمجھنا کہ میں اسکی سائڈ لے رہی ہوں ۔۔۔۔مجھے پتہ ہے اسنے غلط کیا ہے ۔۔۔اُسے ایسے نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔
لیکن بیٹا آپ مجھے یہ بتاؤ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو آپکے گھر رشتہ لانے کا نہ کہتا ۔۔۔۔لیکن آپ نے کیا کیا ۔۔آپ نے اسکے سچے جذبات کو جھوٹ کہہ کر ٹال دیا ۔۔۔۔اور اسکو مجبور کیا کہ وہ آپکے ساتھ زبردستی کرے۔۔۔۔
دیکھو میرا بچہ ۔۔۔۔حمزہ بہت اچھا ہے ۔۔۔۔اسکی ذات شروع سے ہی بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہی ہے ۔۔۔۔پہلے وہ عمر کا اتنا عرصہ باہر پڑھائی میں گزار آیا ۔۔۔اور جب واپس آیا تو اسکے بابا کا انتقال ہو گیا ۔۔۔
وہ اپنے بابا کے ساتھ بہت اٹیچڈ تھا لیکن اُنکا غم اس نے اپنے اندر ہی رکھا ۔۔۔کبھی کسی کو کچھ نہ کہتا ۔۔۔اسنے اپنی تمام ذمہداریاں بخوبی نبھائیں ہیں ۔۔کبھی کسی کو کچھ نہ کہا صرف اسلیے کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کمزور پڑا تو ہمیں کون سمبھالے گا ۔۔۔۔
پہلی دفعہ اسنے ہم سے کچھ مانگا ہم لوگ انکار نہ کر سکے ۔۔۔میں ایک دفعہ پھر اس کو ٹوٹتا ہوا نہی دیکھ سکتی تھی ۔۔۔میرا حمزہ تم سے بہت محبت کرتا ہے بیٹا ۔۔۔اسکو سمیٹ لو۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ بکھر جائے ۔۔۔۔میں جانتی ہوں وہ تمہیں کچھ کہتا نہیں لیکن محسوس بہت کرتا ہے جب تم اُس سے دُور بھاگتی ہو ۔۔۔لیکن وہ کبھی تم سے شکایت نہیں کرے گا ۔۔۔۔ہو سکے تو اسکو سمجھو ۔۔۔۔ایک دفعہ سب بھلا کر اسکے ساتھ آگے بڑھو۔۔۔وہ تمہیں شکایت کا موقع نہیں دے گا ۔۔۔ اُنہوں نے نم آنکھوں سے منہا کو دیکھتے کہا ۔۔۔۔۔"آج کل محبت کرنے والے لوگ بہت کم نصیب ہوتے ہیں اور ویسے بھی آپ تو علم رکھتی ہو بہت سمجھدار ہو "ماشاءاللہ" ۔۔۔۔
آپ تو جانتی ہو کہ خدا کی مرضی کے بغیر ایک پتہ نہیں ہل سکتا ۔۔۔۔۔تو یہ بھی تو خدا کی ہی مرضی تھی ۔۔۔اُسنے حمزہ کو آپ کے نصیب میں لکھا تھا بس ملنا کچھ اس طرح لکھا تھا "۔۔۔۔
منہا خاموشی سے نظریں جھکائے انہیں سن رہی تھی ۔۔
انکی بات مکمل ہوتے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھتی بولی
"تو آپ بتائیں اس سب میں میرا کیا قصور تھا ۔۔۔میں کیوں پسی گئی اس سب کے درمیان ۔۔۔۔شادی سے ایک مہینہ پہلے مجھے انکار کرنے کے لیے فورس کیا گیا یہ کہہ کر جی کہہ کر کہ "مجھے تم سےمحبت ہے" ۔۔۔ محبت یہ تو نہیں ہوتی کہ جس سے محبت ہو اُسے یوں ذلیل کرو ۔۔۔۔میرے گھر والے میری شکل نہیں دیکھنا چاہتے ۔۔۔۔میرے بابا جنکا مجھے دیکھے بغیر گزارا نہیں ہوتا تھا وہ مہینہ ہو گیا مجھ سے منھ موڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔
میرا بھائی میرے بابا کے ڈر سے مجھے چوری چوری کال کرتا ہے
خدا نے یہ سب نہیں کیا ۔۔۔آپکے پوتے نے کیا ہے ۔۔مجھے سب کی نظروں میں گرا دیا ۔۔۔مجھے ذلیل کر دیا ۔۔۔۔آج سب کی نظروں میں میرے لیے سوال ہے ۔۔۔۔۔میرے گھر والے پتہ نہیں کس کس کو جواب دیتے ہونگے ؟"
وہ آنسو سے تر چہرے سے انہیں دیکھتی بول رہی تھی
"آپ خدا پر سب نہ ڈالیں ۔۔۔۔خدا نے نہیں کہا تھا کہ مجھے یوں شادی سے کچھ دن پہلے ذلیل کرنے کو
جو لوگ محبت کرتے ہیں وہ تو اپنی محبت کو خوش دیکھنے کے لیے کچھ بھی کر جاتے ہیں لیکن اس نے کیا کیا زبردستی کی میرے ساتھ
معافی چاہتی ہوں دادی جان لیکن میں اتنا سب کچھ بھلا کر کبھی حمزہ کے ساتھ نہیں گزارہ کر سکتی ۔۔
"اُن کے ساتھ رہنا میری مجبوری ہے کیوں کہ میں اپنے ماں باپ کو ایک اور بار تکلیف نہیں دینا چاہتی اور میں خدا کی گنہگار نہیں ہونا چاہتی ۔۔۔لیکن میں سب کچھ بھلا بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔میں صرف اس رشتے کو مجبوری کے تحت نبھا رہی ہوں اور نبھاؤں گی ۔۔۔۔۔جس شخص کی وجہ سے میری ذات پر نشانہ لیا گیا جسکی وجہ سے مجھے اپنے ماں باپ کی بے رخی دیکھنے کو ملی
میں کیسے اُسکے ساتھ سب کچھ بھلا کر زندگی گزار سکتی ہوں" ۔۔۔ وہ اتنے دن سے اپنے اندر پکتا غبار نکال گئی۔۔۔
دادی نے پیار سے اُسکے چہرے پر ہاتھ پھیرا
" میرا بچہ میں جانتی ہوں سب کچھ بھولانا آسان نہیں لیکن بس ایک موقع اُسے دے کر دیکھو ۔۔۔اور انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔حمزہ سب ٹھیک کر دے گا تمہارے گھر والے راضی ہو جائینگے میں خود بات کرونگی اُن سے ۔۔۔۔لیکن اس طرح اس سے دور رہ کر اُسے اتنی بڑی سزا نا دو ۔۔۔۔تم جانتی ہو نہ شوہر کا مقام ۔۔۔۔۔اور کچھ نہ سہی ایک دفعہ اپنے اللہ پر یقین رکھ کر اُسے ایک موقع دو ۔۔۔۔تھوڑی دیر اُسکے ساتھ گزارو۔۔۔۔۔۔شوہر کی ناراضگی سے تو اللہ بھی ناراض ہوتا ہے ۔۔۔
کیا تم اللہ کو ناراض کرنا چاہتی ہو ؟؟"انہوں نے سوالیہ نگاہوں سے اُسکی طرف دیکھا ۔۔۔
منہا نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
تو میرا بچہ اس طرح سے اس سے دور نہ رہو اُسکو وقت دو ۔۔۔اُسکے ساتھ بات کرو ۔۔۔۔اللہ خود تمہارے دل کو اُسکے لیے نرم کر دے گا ۔۔۔۔میری جان میری بات مانو گی نا" انہوں نے بڑی محبت سے اُسے دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔
وہ سر ہاں میں ہلاتی انکے ساتھ لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔۔۔
"بس میرا بچہ خاموش ہو جاؤ ۔۔۔اللہ بہت بہتر کرے گا میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے ۔۔۔۔اس طرح نہیں روتے ۔۔۔جاؤ شاباش اب اپنے کمرے میں جاؤ وہ تمہارا انتظار کر رہا ہوگا ۔۔۔۔بہت وقت ہو گیا "۔۔۔۔ وہ اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوئے بولیں
__________________________
اُسنے کمرے میں قدم رکھا تو اندھیرے نے اُسکا اسقبال کیا ۔۔۔ وہ بیڈ پر خاموشی سے آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا منہا اندازہ نہ لگا سکی کہ وہ اٹھا ہوا ہے کے سو رہا ہے؟؟؟
وہ خاموشی سے چلتی ہوئی وہ اپنی طرف آئی اور ایک طرف لیٹ کر کمفرٹر اوڑھا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
نیند میں اُسے خود پر کچھ بوجھ محسوس ہوا آنکھ کھلی تو دیکھا حمزہ کا بازو اُسکے پیٹ پر پڑا تھا ۔۔۔۔ایک پل کے لیے اس پر جی جان سے غصہ آیا کہ اچھی بھلی نیند خراب کردی پر پھر خاموشی سے اُسکا ہاتھ تھامتی دور کرنے لگی لیکن اُسکا ہاتھ پکڑتے ہی اُسے ایسا لگا جیسے اُسنے کوئی گرم چیز پکڑ لی ہو ۔۔۔۔ایک دم سے اٹھ کر بیٹھتی اُسکا ہاتھ آرام سے پیچھے کرتی اُس پر جھک کر اسکی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھا
ہاتھ رکھتے ہی اُسے بخار کی حدت محسوس ہوئی ۔۔۔اُسکے چہرے کی طرف دیکھا جو نائٹ بلب کی روشنی میں بھی سرخ اور بے چین لگ رہا تھا۔۔۔۔۔اسی وجہ سے شاید وہ آتے ہی سو گیا تھا اور اب بخار تیز ہو گیا ۔۔۔۔
ایک پل کو دل کیا کہ اُسے ایسے ہی تکلیف میں چھوڑ کر سو جائے وہ کیوں خیال کرے اُسکا اس نے کیا تھا خیال ۔۔۔۔۔لیکن دوسرے پل ہی دل نے ملامت کی کہ منہا تم تو ایسی نہی ہو ۔۔۔کیوں خدا کی ناراضگی اٹھانی ؟؟
اٹھ کر لائٹ آن کرتی پاؤں میں جوتا اڑستی دروازہ کھول کر وہ کمرے سے نکلی ۔۔۔کچن کا رخ کیا ۔۔۔۔۔دودھ گرم کرکے گلاس میں ڈالا اور انڈے ابال کر چھیل کر پلیٹ میں رکھے۔۔۔۔ٹرے میں سب رکھتے پین کلر کیبن سے نکالی اور اپنے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی ٹیبل پر ٹرے رکھی اور بیڈ پر اُسکے نزدیک جا کر اُسے شانوں سے تھام کر ہلایا
حمزہ جو نیند میں بھی بے چین تھا اور اُسکا انتظار کرتا کرتا سو گیا تھا اس نے اپنی سرخ ڈورں والی آنکھیں کھولیں ایک پل کو منہا کو اسکی حالت پر رحم آیا پتہ نہیں کتنی دیر تک وہ اسکا انتظار کرتا رہا ہوگا دل میں سوچتی وہ اُسے دیکھتی ہوۓ بولی
اٹھ کر بیٹھیں کچھ کها لیں پھر پین کلر لے لیجیے گا کہیں بخار اور تیز نہ ہو جائے" کہتی وہ ٹیبل سے ٹرے لے کر اُسکے سامنے آئی۔۔۔۔
حمزہ تو حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا کہ آج وہ اتنی مہربان کیسے ہو گئی۔۔۔۔۔وہ تو اُسے بلانا بھی گوارہ نہیں کرتی تو اُسے کیسے پتہ چلا اُسے بخار ہے ؟؟
جب وہ آفیس سے آیا تو سر درد سے پھٹ رہا تھا چائے پی کر کافی وقت اُسکا انتظار کرتا رہا لیکن وہ نہی آئی اور پھر پتہ نہی کب اسکی آنکھ لگ گئی اُسے پتہ نہیں چلا۔۔۔
وہ اٹھ کر بیٹھا تو منہا نے ٹرے اُسکے پاس کی اور کھانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
"میں دودھ نہیں پیوں گا بس ایگ لے لیتا ہوں "وہ بولتا پلیٹ سے ایک انڈہ اٹھا گیا
"نہیں بلکل نہی دودھ بھی ساتھ ہی پینا ہے یوں خالی پیٹ میڈیسن نہیں لینی "کہتے ساتھ وہ دودھ کا گلاس اُسکے ہاتھ میں تھما گئی ۔۔۔۔۔حمزہ اُسے دیکھتا گلاس منھ سے لگا گیا تھوڑا سا پی کر واپس رکھتے بس کہتا وہ ٹرے کو دور کر گیا۔۔۔۔
نہیں جی کوئی بس نہیں ہاتھ آگے کریں اُسکے ہاتھ میں پین کلر رکھتے گلاس اٹھا کر اُسے تھمایا جلدی سے یہ لیں اور گلاس اس کے منھ سے لگایا ۔۔۔۔۔حمزہ کڑوا سا منھ بناتا بولا
"میں دودھ نہی پیتا "
"یہ کیا بات ہوئی پینا چاہیے اچھا ہوتا ہے صحت کے لیے" وہ کہتی اُس سے خالی گلاس پکڑتے واپس ٹرے میں رکھتے ٹیبل پر رکھنے اٹھی ۔۔۔
حمزہ کو یوں اسکو اپنا خیال کرتا دیکھ دل میں بہت خوشی ہوئی کہ شکر وہ کچھ تو بولی بیشک اسکی طبیعت کے ہی بہانے سے ہی
چلیں اب لیٹ جائیں انشاء اللہ آرام آ جائیگا جلد ہی۔۔۔۔ درد تو نہیں ہو رہا کہیں ؟؟؟ وہ بیڈ پر بیٹھتی اسکی طرف دیکھتی ہوۓ بولی۔۔۔
"سر میں بہت درد ہے "حمزہ ایک ہاتھ سے سر دباتا بولا۔۔۔۔
منہا نے اٹھ کر لائٹ بند کی اور اسکے تھوڑا نزدیک بیٹھ کر اُسکا سر دبانے لگی
حمزہ کو اُسکے نرم ہاتھوں کا لمس اندر تک سکون دے گیا ۔۔۔۔وہ اسکے نزدیک ہوتا اسکی گود میں سر رکھ گیا ۔۔۔منہا جھجکتی ہوئی دور ہونے لگی تو اُسنے اُسکا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے ماتھے پر رکھا ۔۔۔
"ویسے سر دبانے میں آپ کو پرابلم ہورہی ہوگی اسلیے میں خود ہی نزدیک آ گیا" وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ بولتا اپنی آنکھیں موند گیا
منہا کا دل اسکے اتنے نزدیک ہونے پر تیزی سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔کمر کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی ۔۔۔۔دل کیا اُس سے دور بھاگ جائے ۔۔۔لیکن خود کو روکتی وہ خاموشی سے اُسکا سر دبانے لگی ۔۔۔ اُسکے چہرے کی طرف دیکھا جو پرسکون ہوتا جلد ہی سو گیا تھا۔۔۔۔اُسے سویا ہوا وہ بہت معصوم لگ رہا تھا کالے خوبصورت بال جو پیشانی پر پھیلے ہوے تھے ۔۔۔۔۔۔اُسنے ہاتھ پھیر کر انہیں پیچھے کیا ۔۔۔۔
تیکھی ناک۔۔۔۔ بخار کی شدت سے تپتا سرخ چہرہ اور ہلکی بڑھھی ہوئی داڑھی ۔۔۔بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھا ۔۔وہ کسی بھی لڑکی کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا تھا اپنی شاندار پرسنالٹی سے لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا ۔۔۔۔
وہ اُسکے بال سنوارتے ہوئے آہستہ سے بولی ۔۔۔۔۔
"کاش تم میری زندگی میں نہ آتے حمزہ شاہ اور اگر آتے بھی تو یوں نہ آتے ۔۔۔۔۔
اگر آج تم میرے ساتھ زبردستی نہ کرتے تو یقیناً مجھے تم سے محبت ہو جاتی ۔۔۔۔۔
لیکن جس طرح زور زبردستی سے تم میری زنگی میں آئے تم نے مجھے توڑ دیا ۔۔۔۔اب میں چاہ کر بھی تم سے محبت نہی کر پاؤنگی" ایک آنسو ٹوٹ کر اُسکے گال پر بہا جسے اُسنے ہاتھ کی پشت سے بیدردی سے صاف کیا ۔۔۔
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
حوصلے انتہا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکھتے ہیں !!!
ہم کبھی بد دعا نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ !!
ہم سلیقے دعا کے ۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!
اُن کے دامن بھی جلتے دیکھے ہیں ۔۔۔۔۔
وہ جو ۔۔۔۔۔۔۔۔ دامن بچا کہ رکھتے ہیں !!!
ہم نہیں ہیں شکست کے قائل !!
ہم سفینے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جلا کے رکھتے ہیں !!!
جس کو جانا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلا جائے !!
ہم دیئے سب بجھا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!
ہم بھی کتنے عجیب ہیں" محسن"
درد کو دِل بنا کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکھتے ہیں !!!
(مُحسن نقوی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر کے وقت حمزہ کی آنکھ کھلی نظر اسکی طرف اٹھی تو وہ ابھی تک ویسے ہی اُسکا سر گود میں رکھے بیٹھی بیٹھی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔حمزہ کو اس معصوم پر ترس آیا جو ساری رات ایسے ہی بیٹھی رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھ کر بیٹھتا وہ اُسکے معصوم چہرے کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔جس لڑکی کے ساتھ اُسنے اتنا برا کیا "زبردستی کی وہ سب کچھ بھلا کر.........ساری رات اُسکے لیےجاگتی رہی ۔۔۔۔جانے کب تک وہ اُسکا سر دباتی رہی ہوگی ؟؟وہ تو اُسکے نرم ہاتھوں کا لمس پآتے ہی نیند میں چلے گیا ۔۔۔ فجر کی آذان ہو رہی تھی ۔۔۔۔وہ اسی کشمکش میں تھا اُسے اٹھائے یا نہیں....! کچھ سوچ کے آگے بڑھتا
ایک ہاتھ اُسکی کمر کے گرد ڈال دوسرا گردن کے پیچھے لے جا کر اُسے سیدھا کرکے لٹایا وہ گہری نیند میں تھی تھوڑا سا کسمساتی پھر سے سو گئی۔۔۔۔۔
حمزہ اٹھ کر وضو کرنے چلے گیا ۔۔۔نماز ادا کرکے اُسکے قریب آ کر اُسکی پیشانی سے بال ہٹاتے اسے پُکارا۔۔۔۔
منہا ......!
اٹھ جائیں نماز کا وقت ہو گیا ۔۔۔۔ایک ہی آواز میں اُسنے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں ۔۔۔آپ نماز ادا کر لیں میں سب کو اٹھا آتا ہوں۔۔۔منہا اپنا دوپٹہ لیتی سر ہلاتی واشروم میں چلی گئی
_______________________
وہ اریج کو اٹھانے اُسکے روم میں گیا جو مزے سے سو رہی تھی ۔۔۔اٹھ جائیں میرا بیٹا نماز کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔اُس پر سے کمفرٹر ہٹاتے وہ بولا لیکن اسکی بات کا اثر لیے بغیر "اچھا "بولتی وہ کروٹ لیتی پھر سے سو گئی۔۔۔۔۔
نماز کا وقت چلے جائے گا اٹھ جاؤ ۔۔۔پھر سو جانا اب کی بار اُسکے سر پر کھڑے ہوتے وہ بولا جلدی کرو شاباش اسکو بازوں سے پکڑ کر بیٹھاتا وہ بولا
میں سمیع کو دیکھ کر آتا ہوں۔۔۔" دوبارہ نہی سونا جلدی سے وضو کرو۔۔۔وہ "جی" بولتی اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
"سمیع" کو اٹھانے گیا تو اُسنے بھی ویسے ہی تنگ کیا ۔۔۔پتہ نہیں کیسے روز منہا انہیں اٹھاتی ہے....... وہ سر ہلاتے دادی کو سلام کرتا انکے پاس بیٹھتا بولا۔۔۔۔
بیٹا انکا تو روز کا یہی کام ہے وہ ایسے ہی اٹھاتی ہے انہیں زبردستی ۔۔۔۔۔آپ بتاؤ میرے بیٹے کی طبیعت کیسی ہے ؟؟اور منہا کیوں نہی آئی آج آپ کیوں آ گئے؟؟
جی الحمدللہ میری طبیعت بہتر ہے اب ۔۔۔۔۔رات میں وہ میری وجہ سے جاگتی رہی اسلیے میں نے اُسے آرام کرنے کا کہا اور خود آ گیا لیکن انکی ہمت ہے بہت تنگ کرتے ہیں یہ دونوں ہی ۔۔۔دادی اسکی بات پر مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔ماشا اللہ بہت پیاری اور اچھی بچی ہے منہا ۔۔۔اللہ میرے دونوں بچوں کی جوڑی سلامت رکھے صدا خوش رکھے (آمین)
"جاو میرا بیٹا آرام کرو"دادی اس پر پھونک مارتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے کمرے میں قدم رکھا تو اُسے کمفرٹر میں دبکے پایا ۔۔۔خاموشی سے آ کر ایک طرف لیٹ گیا اور جلد ہی اُسے دیکھتے نیند میں چلے گیا۔۔۔۔۔۔
صبح جب منہا کی آنکھ کھلی تو وہ کمرے میں نہی تھا وقت دیکھا تو "دس "بج رہے تھے اسکا مطلب وہ کب کا جاچکا تھا ۔۔۔۔جلدی سے اٹھ کر کپڑے لیتی وہ وآشروم میں بند ہو گئی ۔۔۔۔فریش ہو کر وہ نیچے آئی ۔۔۔۔دادی کے کمرے میں جاتے انہیں سلام کیا ۔۔۔۔
"اٹھ گئی میری بیٹی "۔۔۔۔
جی دادی آج تھوڑی دیر ہو گئی پتہ ہی نہی چلا ۔۔۔کوئی بات نہیں بیٹا میں جانتی ہوں حمزہ کو بخار تھا آپ اُسے دیکھتی رہی ہوگی۔۔۔
اریج کہاں ہے نظر نہی آ رہی اور سمیع؟؟؟
بیٹا وہ دونوں یونی گئے ہیں لیٹ آئیں گے ۔۔۔آپ جاؤ شاباش ناشتہ کر لو پہلے ہی کافی وقت ہو گیا ۔۔۔۔اتنی دیر بھوکے نہیں رہتے ۔۔وہ اُسے ہدایت کرتی بولیں.......
"جی میں کرتی ہوں" ۔۔۔اٹھ کر کچن کا رخ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ملازمہ کو ناشتے کا کہتی وہ وہیں کرسی پر بیٹھتی اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔صدیقہ آپ ایسا کریں آج کھانا نہ بنانا ۔۔۔آج کھانا میں بناؤنگی اُس سے چائے کا کپ پکڑتے وہ بولی ۔۔۔۔کیوں بی بی جی کیا میرا بنایا آپکو پسند نہی آيا ؟؟ کچھ اور بنا لوں آج؟؟ ۔۔۔۔۔
نہی نہیں ایسی بات نہیں ہے ویسے ہی آج میرا دل کر رہا ہے اسلیے ۔۔۔چائے کا گھونٹ لیتی وہ بولی ۔۔۔۔آپ کو میں چیزیں بتاتی جاتی ہوں آپ وہ نکال کر دیتی جائیں ۔۔۔ناشتے سے فارغ ہو کر وہ کیبن کے نزدیک ہوتی بولی ۔۔۔۔ دادی جو کب سے اُسکا انتظار کر رہی تھی خود ہی باہر آ گئیں .........
منہا بیٹا کیا کر رہی ہو وہ کچن کے پاس آتی اُسے دیکھ گویا ہوئثی ۔۔۔"دادی جان آپ کیوں آ گئیں یہاں میں آ جاتی "وہ آگے بھرتی اُنکا ہاتھ تھام کر متفکر ہوتی بولی اور انہیں پاس پری کرسی پر بیٹھایا۔۔۔۔۔
کوئی بات نہی بچے میں اکیلی بیٹھی تھی اسلیے یہاں آ گئی ۔۔۔وہ اُسکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے بولی
کیا بنا رہی ہے میری بیٹی"؟؟؟ اُسے ایپرن پہنے دیکھ وہ بولیں ۔۔۔۔۔
میں نے سوچا آج کچھ اچھا سا بناتی ہوں" ۔۔۔۔۔گھر میں مجھے عادت تھی موسیٰ کے لیے روز کچھ' خاص" بنانے کی.... وہ افسردگی سے اپنے گھر کو سوچتی بولی۔۔۔
کچھ نہی ہوتا میرا بیٹا سب ٹھیک ہو جائے گا بناؤ آپ نے جو بنانا ہے اس بہانے میں بھی اپنی بیٹی کے ہاتھ کا کھانا کھاونگی ویسے تو مجھے روز صدیقہ کے ہاتھ کے پھیکے کھانے پڑتے ہیں ۔۔وہ اُسے دیکھ مسکراتی ہوئی بولیں۔۔۔۔۔"جی!! کیوں نہی آج آپ میرے ہاتھ کا بنا کھانا کھائیں گی۔۔۔
آپ چلیں روم میں آپ یہاں نہیں بیٹھیں گیں میں کھانا بنا کر آتی ہوں پھر ہم دونوں گارڈن میں بیٹھ کر چائے پیں گے۔۔۔وہ اُنکا ہاتھ تھامتی کچن سے باہر نکلی اور انکے کمرے تک لے گئی
واپس کچن میں آئی ڈوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا۔۔۔ملازمہ کے آگے سبزیاں رکھتی بولی "آپ یہ کاٹ دیں "اور جلدی سے دوسری طرف کام میں لگ گئی۔۔۔۔
"چکن کڑاہی اور فرائیڈ رائس" بنا کر اُسنے اپنے اور دادی کے لیے چائے رکھی۔۔۔صدیقہ کو چائے باہر لانے کا کہتی خود وہ چینج کرنے اپنے روم میں چلی گئی
______________
چینج کرکے نماز ادا کی اور دادی کے کمرے میں آتے انہیں ساتھ لے کر باہر لان میں آئی ۔۔۔۔صدیقہ باہر ٹیبل پر چائے رکھ گئی ۔۔۔۔موسم بھی بہت حسین تھا۔۔۔ دادی کے ساتھ باتیں کرتے چائے پی۔۔۔
گاڑی سے اترتے سمی اور اریج بھی انہیں لان میں بیٹھا دیکھ وہی آ گئے ۔۔۔۔ انکے نزدیک آتے سلام کرتا وہ بولا "کونسی چغلیاں ہو رہی ہیں میرے بھائی کی "؟؟
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں" ۔۔۔منہا ججھکتی جلدی سے بولی۔۔۔
"ریلیکس،،،بھابھی ۔۔یہ صرف آپکو تنگ کر رہا ہے" اریج منہا کا پریشان سا چہرہ دیکھ کر بولی اور انکے ساتھ ہی کرسی پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
بھابھی ایک کام تھا آپ سے بہت ضروری "اگر کر دیں گی تو مان جاؤنگا آپکو "۔۔۔۔سمیع بولتا انکے قریب گھاس پر بیٹھ گیا ۔۔۔
"جی بولیں"
بھابھی پرمیشن لے دیں بھائی سے کل کی ۔۔۔یونی میں کنسرٹ ہے بہت مزا آنے والا ہے لیکن بھائی نہی جانے دیں گے ۔۔۔۔پلیز آپ اُن سے پرمیشن لے دیں ۔۔۔۔وہ متانت سے منہا کو دیکھتا مسکین سی صورت بنا کر بولا
"مم ...میں ،میں کیسے لوں ؟؟ "آپ خود بات کرنا ناں اُن سے وہ مان جائیں گے "وہ گڑبراتے ہوئے جلدی سے بولی۔۔۔
مان تو جانا تھا لیکن اب اس نے اپنا شور مچایا ہوا ہے وہ اریج کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا ۔۔۔اور میں جانتا ہوں اسکی وجہ سے بھائی نے مجھے بھی نہی جانے دینا۔۔۔
"کیوں بھئی کیوں نہی جانے دینا میں خود بات کرونگی بھائی سے مجھے تو جانا ہے اور میں جاؤنگی" ۔۔۔اتنا مزہ آنے والا ہے میری سب فرینڈز آئیں گیں ۔۔۔۔ہم سب نے تو پلان بھی بنا لیا ہے ۔۔۔اریج اُتاولی ہوتی بولی۔۔۔۔
اچھا جاؤ تم لوگ جا کر فریش ہو کر آرام کرو۔۔ دادی انہیں بحث کرتا دیکھ ڈپٹتی ہوئی بولیں
وہ دونوں منھ کے زاویے بگاڑتے اٹھ کر چلے گئے
____________________
رات کو سب ڈنر کے لیے بیٹھے ۔۔۔۔منہا کچن میں ملازمہ کے ساتھ مصروف تھی ۔۔۔۔
یار بھابھی آبھی جائیں آج تو بہت اچھی خوشبو آ رہی ہے۔۔۔۔۔ سمیع ٹیبل پر کہُنی ٹکائے بولا ۔۔۔۔
ملازمہ کے ساتھ کھانا لگوا کر وہ بھی حمزہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی۔۔
"کیوں نہیں میری بیٹی نے اتنی محنت سے بنایا ہے آج کھانا صرف خوشبو ہی نہی کھانا بھی بہت مزے کا ہوگا ٫دادی سمیع کو دیکھتے بولیں جو جلدی سے کھانا اپنی پلیٹ میں ڈال رہا تھا ۔۔۔۔
واہ !!!بھابھی کیا کھانا بنایا ہے مزا آگیا ۔۔۔دل کر رہا ہے آپکے ہاتھ چُوم لوں۔۔۔وہ چمچ میں چاول بھرتا ہوا بولا۔۔۔
اوں ہوں!! حمزہ نے اُسے گھورا "خاموشی سے کھانا کھاؤ"۔۔۔ میں کونسا سچ میں چومنے لگا تھا۔۔۔جانتا ہوں آپکی ہی ہیں ۔۔۔وہ منھ بناتا بولا
اریج نے اُسے مسکراہٹ دباتے ہوئے دیکھا اورمنہا اُسکی بات سے سرخ پڑتی سر جھکا گئی
" آپ کو کیا ضرورت تھی کھانا بنانے کی؟؟ ان سب کاموں کے لیے ملازمہ موجود ہے "۔۔۔ربیعہ بیگم منہا کو دیکھتے سپاٹ چہرے سے بولی
"نہیں آنٹی مم میرا ابھی" اُسکے الفاظ منہ میں ہی تھے کہ حمزہ بول اٹھا۔۔۔"میں نے کہا تھا مما منہا کو کیوں کے میں اپنی بیوی کے ہاتھ کا کھانا ٹیسٹ کرنا چاہتا تھا "۔۔۔۔منہا اُنکا سپاٹ چہرہ دیکھتی اچانک گھبراتے ہوئے دادی کی جانب دیکھا جو اُسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
انہوں نے آنکھوں سے اُسے تسلی دینے والے انداز میں ہاتھ سے اشارہ کیا ۔۔۔۔وہ سر جھکائے خاموشی سے پلیٹ پر جھکتی کھانا کھانےلگی ۔۔۔
حمزہ نے اسکو دیکھا جو گرین پاجامے پر لونگ کرتا پہنے ہمیشہ کی طرح ڈوپٹہ سلیقے سے لیے پریشانی سے انکی بات پر سر جھکا گئی ۔۔۔۔
اریج آپ نے مجھ سے کچھ بات کرنی تھی ؟؟ اُس نے بات بدلنی چاہی۔۔۔۔حمزہ اُسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا بولا۔۔۔۔
"جی بھائی "۔۔۔۔وہ پانی پیتی فوراً سے بولی ۔۔۔۔
اس نے ڈرتے ہوئے منہا کی طرف دیکھا اور پھر حمزہ کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔وہ بھائی ہماری یونی میں کل کنسرٹ ہے اور مجھے بھی جانا ہے ۔۔۔۔
"پلیز پلیز !!بھائی انکار مت کیجئے گا میری سب فرنڈز بھی آ رہی ہیں" وہ اُسکے چہرے کا جائزہ لیتی ہوئ بولی جہاں سختی تو بلکل نہی تھی لیکن نرمی بھی نہی تھی ۔۔۔
آپ جانتی ہیں نہ اس طرح کے فنکشن پر میں آپکو جانے کی اجازت بلکل نہی دیتا تو پھر پوچھنے کا مقصد ۔۔۔حمزہ نے سنجیدگی سے اُسکی طرف دیکھتے پوچھا ۔۔۔۔
لیکن بھائی مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔خرابی کیا ہے اس میں سمیع بھی تو ہوگا ساتھ میں۔۔۔
اور میں سب کو بول چکی ہوں آنے کا ۔۔مجھے جانا ہےبھائی ۔۔۔۔وہ ضد کرتی ہوئی بولی ۔۔۔
سمیع بھی نہیں جائے گا آپکے ساتھ آپ دونوں کل گھر رہو ہے ۔۔۔
"اور خرابی ایک نہی بہت سی ہیں" ۔۔۔۔۔میں نے کہہ دیا بس وہ دو ٹوک لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
"بھائی!!!بھائی ہر دفعہ آپ ایسے ہی کرتے ہیں "وہ پر شکوہ نظر اُس پر ڈالتی پاؤں پٹختی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔اُس کے ساتھ ہی ربیعہ بیگم بھی اٹھ گئیں ۔۔حمزہ بھی اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
بھابھی پلیز آپ میری تو بات کریں بھائی سے میں نے پہلے بھی کہا تھا بھائی نہی مانیں گے اب اس کی وجہ سے میرا بھی پلان خراب ہو گیا"۔۔۔سمیع دانت پیستے ہوئے بولا
"میں بات کرونگی" وہ سر ہلاتی ہوئی اٹھی اور دادی کا ہاتھ تھام کر انہیں لاؤنج میں بیٹھاتی وہ ملازمہ کو برتن سمیٹنے کا کہتی اریج کے کمرے کی جانب گئی۔۔۔
دروازہ بجا کر تھوڑا سا کھولا اور اندر آنے کی اجازت لی ۔۔۔لیکن جواب نہ پا کر وہ خاموشی سے اندر داخل ہوئی
روم میں قدم رکھتے ہی وہ اُسکے قریب گئی جو بیڈ کے ایک طرف بیٹھی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔۔
منہا اُسے روتا دیکھ جلدی سے اُسکی جانب بڑھی ۔۔۔۔"کیا ہوا ہے اریج"؟؟....
"میری جان کیوں رو رہی ہو "؟؟؟
بھائی ہمیشہ ایسے کرتے ہیں مجھے جانے نہیں دیتے ۔۔۔میری سب فرینڈز آئیں گی وہاں ۔۔۔
میری کتنی انسلٹ ہوگی جب میں نہی جاؤنگی سب میرا مذاق اڑائیں گی۔۔۔۔وہ ہچکیوں سے روتے ہوے سرخ چہرہ اٹھاتی ہوئی بولی ۔۔
اووہ ہو!! کیا ہو گیا تم تو اتنی بہادر ہو یوں چھوٹی سی بات پر رونے بیٹھ گئی ۔۔۔۔اس طرح نہی کرتے میری جان ۔۔۔اُسکے چہرے سے آنسو صاف کرتے وہ بولی ۔۔۔۔
"اچھا بتاؤ آپ صرف اس بات پر رو رہی ہو کہ حمزہ نے جانےسےمنع کر دیا" ؟؟؟اُسکو دیکھ کر منہا نے اپنی بات کی تائید کرنی چاہی ۔۔۔۔
اریج نے ہاں میں سر کو جنبش دی ۔۔۔"اور کیا ہمیشہ ایسے کرتے ہیں بھائی" ۔۔۔وہ اُسے دیکھ شکایتی انداز میں بولی۔۔۔
منہا اُسکی بات پر ہنس دی اور اُسکے رونے کی شدت سے سرخ ہوتے گالوں پر پیار کیا ۔۔۔
میری جان یہ بھی کوئی رونے والی بات ہے؟۔۔۔
چلو اب آپ مجھے بتاؤ کنسرٹ میں صرف لڑکیاں ہونگی؟؟
"نہیں لڑکے بھی ہونگے اکٹھا پروگرام ہے سارا "...وہ سوں سوں کرتے بولی۔۔۔۔
اب دیکھو آپ اپنے بھائی سے پوچھ رہی تھی خرابی کیا ہے وہاں پر؟؟ ۔۔۔۔
سب سے بڑی خرابی تو یہ ہے کہ لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے ہیں ۔۔۔۔کوئی روک تھام نہیں ہوگی ۔۔۔
اتنے زیادہ لوگوں میں اگر سمیع ہو بھی تو اُسکے آپکے ساتھ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کے اتنی بھیڑ میں دھکے لگنے سے آگے پیچھے ہو جاتے سب ۔۔۔
خدا نخواستہ اگر وہاں پر آپ کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے ،؟؟تو کون ذمےدار ہوگا اسکا ۔۔۔۔
طرح طرح کے لوگ ہوتے ہیں وہاں پر ۔۔۔۔
اور پتہ نہیں اُن میں کتنے غلیظ نظروں والے ہوتے ہیں۔۔۔جو لوگ برقع پہنے ہوئی لڑکی کو نہی چھوڑتے وہ تنگ لباس پہننے والی کو کیاکچھ نہی کہیں گے؟؟...
تم خود بتاؤ کتنا بولڈ ڈریس ہوتا ہے وہاں کی لڑکیوں کا ۔۔۔کیا تم بھی انکی طرح کے لباس پہننا چاہتی ہو۔۔۔۔کیا تمہارے گھر میں اس طرح کا ماحول دیا گیا ہے ۔۔۔۔
کیا تم وہاں اپنی نمائش کرنا چاہتی ہو۔۔؟؟
اریج اُسکی طرف دیکھتی نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔
تو میری جان تمہیں یہ نظر آیا کے تمہارے بھائی نے تمہارے جانے سے انکار کیا ۔۔۔یہ نہی دیکھا کے وہ کیوں روکتے ہیں۔۔۔وہ آپکو لوگوں کی گندی نظروں سے بچانا چاہتے ہیں۔۔۔آپ کو اس طرح کے لوگوں سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔۔۔وہ آپ کو منع صرف آپکی حفاظت کی لیے کرتے ہیں
آپ جانتی ہو وہاں کسی کا بھی لباس قابل قبول نہیں ہوتا ۔۔۔۔لڑکے لڑکیاں اکٹھے کنسرٹ کے بہانے ملتے جلتے ہیں۔۔۔بہآنے بہانے سے لڑکیوں کو ہاتھ لگاتے ہیں شیطان کا کوئی پتہ نہی کسی بھی وقت حملّہ آور ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا تم اس طرح کے گندے ماحول میں جانے کے لیے رو رہی ہو؟؟۔۔۔۔۔
ہمیں تو خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے کے "اللہ پاک" ہمیں شیطان کے شر سے محفوظ رکھے (آمین)
اور کنسرٹ میں ہے ہی کیا ۔۔۔گانے بجانے والوں کو بلایا جاتا ہے۔۔۔آپ انکو دیکھنے جانا چاہتی ہو ۔۔۔جو آپ لوگوں کے ہی پیسوں سے آ کر آپ کے آگے ناچتا گاتا ہے اور آپ لوگ انکو دیکھنے کے لیے دھکے کھاتے پھرتے ہو۔۔۔
میری جان آپکے بھائی آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔ آپ اس طرح اُن سے خفا نہ ہو۔۔۔
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم" کا فرمان ہے:
عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے......جس وقت وہ بے پردہ ہو کر باہر نکلتی ہے۔۔۔۔تو شیطان اُس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے"۔۔۔۔!
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
آپ صل اللہ علیہ وسلم " نے فرمایا یہ بناؤ سنگھار کرکے اترا اترا کر چلنے والی عورت کی مثال اُس تاریکی کی ہے جس میں بلکل بھی روشنی نہ ہو"..
آپ چاہتی ہو کے شیطان آپ کے ساتھ ساتھ رہے کیا
آپ ہمارے پیارے نبی کی بات پر عمل نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔ کیا آپ اللہ کی ناراضگی مول لینا چاہتی ہیں؟؟ منہا اسکو سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی۔۔۔
سوری بھابھی میں ایسا نہیں چاہتی وہ نظریں جھکاتے شرمندگی سے بولی ۔۔۔۔۔
میری جان میرا مقصد آپکو شرمندہ کرنے کا نہی ۔۔۔میں صرف آپ کو بتانا چاہتی تھی کے جب ہمارے بڑے ہمیں کسی کام سے روکیں تو اس میں ہماری ہی بھلائی ہوتی ہے ۔۔۔۔وہ ہمارے دشمن نہی ہوتے ہماری حفاظت اور ہماری اصلاح کے لیے ہمیں روکتے ٹوکتے ہیں ۔۔۔۔۔
"اور سوری مجھے نہیں اپنے بھائی کو بولو جن سے آپ سخت رویہ اختیار کر گئی"۔۔۔۔۔وہ اُسکا ہاتھ تھپکتی ہوئی اٹھ گئی۔۔۔اب میں چلتی ہوں ابھی مجھے آپکے بھائی سے سمیر کے جانے کے لیے بھی پرمیشن لینی ہے ۔۔۔۔۔۔
آپ اٹھو جلدی سے فریش ہو کر نیچے آؤ ۔۔۔اُسے بولتی وہ جلدی سے اپنے کمرے کی طرف گئی ۔۔۔۔جانتی تھی اجازت طلب کرنا زیادہ مشکل ہے ۔۔۔پتہ نہیں جب وہ اُس سے پوچھے گئ تو کیا کہے گا ۔۔۔دل میں ڈر بھی تھا اور خدشہ بھی کے غصہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔یہ سب سوچیں سوچتی وہ اپنے روم کے دروازے کے سامنے کھڑی ہوئی کہ اب کیا کروں جاوں یا نہیں؟؟
______________________________
کیوں میں کیوں ڈرو اُس سےمجھے جانا چاہیے"
وہ ایک پل میں فیصلہ کرتی" آیت لکرسی " پڑھتے دروازے کی ناب گھوماتی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔۔
وہ بیڈ پر نیم دراز لیپ ٹاپ گود میں رکھے چہرے پر سخت تاثرات لیے کچھ کام کر رہا تھا ۔۔۔۔
منہا اُسکے تھوڑا قریب آتی اُسے مخاطب کرتے ہوئے بولی۔۔۔امّ۔۔۔وہ نہ۔۔۔مجھے کچھ بات کرنی ہے آپ سے! ۔۔۔۔آپ فری ہیں؟؟...
دل پر قابو پاتی دھڑکنوں کو سمبھالتی وہ اپنی اُنگلیاں مروڑتی اُسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
"ہنہہ!جی بولیں میں سن رہا ہوں!۔۔۔
حمزہ کے تیزی سے لیپ ٹاپ پر چلتے ہوئے ہاتھ ساکت ہوے ۔۔۔اُس نے اپنی سرخ پڑتی آنکھوں سے اُسے دیکھا ۔۔۔۔
اُسکی سرخ پڑتی آنکھوں سے منہا کو خوف محسوس ہوا ۔۔۔ایک پل کو دل کیا بھاگ جائے کمرے سے ۔۔۔لیکن اب تو بول چکی تھی ۔۔۔۔اپنا اعتماد بحال کرتی وہ اُسکے نزدیک بیڈ پر بیٹھتی گویا ہوئی۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔وہ مجھے ناں اجازت چاہیے تھی آپ "سے۔۔۔
اجازت کس بات کی؟؟ ۔۔۔حمزہ نے ابرو اچکائی...
منہا اپنے خشک پڑتے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہولے سے "بڑبڑائی"۔۔۔۔۔۔"کس مشکل میں پھسا دیا مجھے سمیع"۔۔۔۔
حمزہ نےاُسکے ہلتے لبوں کو بڑے غور سے دیکھا
" اسکو یوں زچ ہوتا دیکھ۔۔۔" اُسکے لبوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ نمودار ہوئی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا۔۔۔۔
جانتا تھا کس نے بھیجا ہے اسے سفارش کرنے ............
" بولیں میں سن رہا ہوں"۔۔۔۔وہ اُسکی طرف دیکھ قدرے نرمی سے بولا۔۔۔۔
منہا جو ل
سوچتی پریشان ہو رہی تھی بات شروع کیسے کرے اُس کی آواز سے ہڑبڑا گئی۔۔۔
وہ۔۔۔ ہاں۔۔۔ "ہاں وہ پلیز آپ سمیع کو جانے کی اجازت دے دیں ناں پلیز !!!!
وہ اُسکی جانب التجایہ نظروں سے دیکھتی بولی...اور اُسکے تھوڑا قریب ہوتے اُسکا بازو تھام گئی
حمزہ نے اُسکی چلاکی سمجھتے گہری نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔
پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُسے دیکھ گویا ہوا۔۔۔
آپ جانتی ہیں کہ اریج کو میں باہر انکار کر چکا ہوں جس کی وجہ سے وہ مجھ سے خفا بھی ہے۔۔۔اب اگر میں سمیع کو اجازت دونگا تو وہ مجھ سے اور زیادہ خفا ہو جائے گی کہ میں صرف اُسے ہی کیوں نہی جانے دے رہا"۔۔۔۔
وہ ابھی بچی ہے نہیں سمجھ سکتی کہ میں اُسے کیوں ایسے فنکشنز پر جانے سے روکتا ہوں لیکن آپ تو سمجھدار ہیں جانتی ہیں ساری بات ۔۔۔۔ایسے میں سمیع گیا تو وہ مزید مجھ سے خفا ہو جائے گی"۔۔۔وہ اپنی دلکش گھمبیر آواز میں منہا کی جانب دیکھتا بولا۔۔۔
جی میں جانتی ہوں اور سمجھتی بھی ہوں"منہا اپنے لہجے میں مضبوطی لاتے بولی ۔۔۔۔"آپ اُسکی طرف سے پریشان نہ ہوں اور نہ ہی اُسکی ناراضگی کو دل پر لیں ۔۔۔وہ چھوٹی ہے اُسے معلوم نہیں جلدی میں کیا بول جاتی ہے ۔۔۔۔
وہ آپ سے بہت زیادہ ایکسپکٹیشنز رکھتی ہے۔۔۔۔اُسے لگتا ہے آپ اُسے کبھی انکار نہی کرئیں گے۔۔۔۔اسی لیے بس آپ کے انکار پر خفا ہو گئی ۔۔ٹھیک ہو جائیگی آپ اُسے پیار سے سمجھائے گے تو۔۔۔اور رہی سمیع کی بات تو وہ کچھ نہیں کہے گی میں جانتی ہوں ۔۔بس آپ اجازت دے دیں۔۔۔۔وہ ماشا اللہ سمجھدار ہے اور اپنا اچھا برا جانتا ہے ۔۔بس کچھ وقت کے لیے اپنے دوستوں کے ساتھ جانا چاہتا ہے ۔۔۔۔ایسے میں اگر ہم اُس پر سختی کرئیں گے تو وہ مزید ضد کرے گا "۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لڑکیاں سمجھ جاتی ہیں بات لیکن لڑکے تھوڑا وقت لیتے ہیں اور ویسے بھی ماشا اللہ وہ چھوٹا نہیں ہے ۔۔۔۔اپنی حدود جانتا ہے ۔۔۔۔
اسلیے آپ اُسے جانے سے مت روکیں۔۔۔بس یہ گذارش ہے آگے آپکی مرضی آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں انکے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں"۔۔۔۔
منہا کہتی ہوئی اُسکے قریب سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔
حمزہ نے اُسکا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیااور اُسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتے منہا کی سیاہ آنکھوں میں دیکھتے گھمبیر آواز میں بولا
"سب کی فکر ہے آپکو سوائے میرے"
منہا کی پلکیں لرزیں اور دل الگ سپیڈ پر دھڑک رہا تھا اس کی اتنی قربت پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کچھ نظر کرم مجھ پر بھی کر دیں ۔۔۔مجھ غریب کا بھی بھلا ہو جائے گا"
دلکش انداز میں کہتے ہوئے اُسنے اُسکے ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے دانتوں سے آزاد کروایا ۔۔۔۔۔
"یہ ظلم نہ کریں ان پر صرف میرا حق ہے"
اس پر جھکتے ہوئے شدت سے اُسکے رخسار پر اپنا لمس چھوڑتے پیچھے ہٹتے ہوئےاُسکے گلال ہوتے خوبصورت چہرے کو دیکھنے لگا۔۔۔۔جو اُسکی زرا سی قربت سے لال ہو چکا تھا
منہا اسکو اتنے قریب دیکھے دل کو سمبھالتی دور ہونے لگی۔۔۔۔۔۔
منہا کب تک یوں گریز برتیں گئیں بس مجھے کچھ وقت دے دیں آپ کے سب رشتے آپ کے پاس ہونگے۔۔۔۔۔ میں آپ سے اپنے ہر عمل کی معافی چاہتا ہوں ۔۔۔۔بس تھوڑی سی گنجائش میرے لیے بھی دل میں پیدا کر لیں۔۔۔۔کچھ وقت میرے ساتھ بھی گزار لیا کریں ۔۔۔اسکو آپ میری گذارش سمجھ لیں"
اُسکا ہاتھ تھامے شدتِ جذبات سے بولتا اُن پر لب رکھ گیا۔۔۔۔
"میں کوشش کرونگی"
وہ اپنا ہاتھ کھینچتی اُسکے قریب سے اٹھتی ہوئی بولی اور باہر کی جانب قدم بڑھائے ۔۔۔
جب وہ اچانک پیچھے سے بول اٹھا ۔۔۔۔"ٹھیک ہے آپ اُسے کہیں کے وہ جا سکتا ہے لیکن وقت پر واپس آ جائے زیادہ دیر باہر نہ رہے" ۔۔۔۔
"چّھچھورا" اُسے نئے لقب سے نوازتی پلٹے بغیر کمرے سے نکلتی نیچے کی طرف بھاگی۔۔۔۔
______________________________
لاؤنج میں آکر اُسکے قدم تھمے جہاں سمیع اور دادی موجود تھے۔۔
"بیٹا آرام سے منہا کیوں اتنی ہڑبڑی میں آ رہی ہو" ۔۔۔دادی اُسے یوں تیزی سے آتا دیکھ ٹوک گئی ۔۔۔
اُفف !!سو سوری دادی جان" وہ کان پکڑتے بولی۔۔۔
اور سمیع کی جانب دیکھا جو اُس کے بولنے کا ہی منتظر تھا ۔۔۔۔
"کیا ہوا بھابھی بھائی نے کیا کہا ۔۔۔۔نہیں مانے نہ؟؟ مجھے معلوم تھا "۔۔۔وہ افسردہ ہوتا صوفے سے ٹیک لگاتا بولا ۔۔۔۔
اچھا اگر میں انہیں منا لوں تو مجھے کیا ملے گا "؟؟؟؟منہا اپنی تھوڑی پر انگلی رکھتے شرارتی نگاہوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔
کیا چاہیے آپکو؟ ۔۔۔۔
آپ بس اجازت لے دیں۔۔۔۔آپ جو کہیں گی وہی لے دونگا آپکو ۔۔۔وہ ہاتھ جوڑتا مسکین سی شکل بناتا بولا۔۔۔۔
آہ ہاں۔۔۔۔چلو ٹھیک ہے پھر آج رات کو تم مجھے اور اریج کو آئسکریم کھیلانے باہر لے کر جاو گے ۔۔۔۔
اوکے ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔وہ ہاتھ کے انگھوٹھے سے اشارہ کرتا بولا۔۔۔
اب تو جائیں پلیز اجازت لے آئیں!!!!!
"وہ تو میں کب کی لے چکی" وہ لاپرواہی سے کندھے اُچکاتی بولی ۔۔۔۔
"کیا سچ ۔۔۔سچ میں بھائی نے اجازت دے دی "۔۔۔وہ اٹھتا خوشی سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔۔
"جی ہاں اب تم ہمیں لے کر جاؤ گے رات کو ۔۔۔۔اور ساتھ میں شاپنگ پر بھی" ۔۔۔۔
اریج قریب آتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
کیوں بھئی زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں بھابھی نے بس آئسکریم کا ہی بولا تھا ۔۔۔وہ چڑتا ہوا بولا ۔۔۔
" ٹھیک ہے پھر میں بھائی کو کہتی ہوں تمہیں بھی نہ جانے دیں اور میں جانتی ہوں وہ میری بات سے انکار نہی کریں گے'وہ کندھے اچکاتی ہوئی منہا کو دیکھ بولی ۔۔۔۔
منہا اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی سر ہلا گئی ۔۔۔
بھابھی یہ تو چیٹنگ ہے پہلے تو ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی!!! سمیع منھ پھلاتا بولا ۔۔۔۔
ڈیل منظور ہے تو بولو ورنہ ہم چلے ۔۔۔۔۔منہا اریج کا ہاتھ تھامتی بولی ۔۔۔۔
بھابھی آپ بھی اس چڑیل کے ساتھ مل گئی ہیں وہ صدمے سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔اریج کندھے اچکا گئی سوچ لو پھر ۔۔۔۔۔! اریج آنکھیں نچاتے بولی
اچھا اچھا ٹھیک ہے لے جاؤنگا میری پیاری بہنننن۔۔۔۔۔وہ دانت پیستے ہوئے بولا
"لیکن انہوں نے سختی سے کہا ہے کے زیادہ لیٹ نہی کرنا آپ نے جلدی گھر آ جانا "۔۔۔۔منہا اُسے تنبیہہ کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
ہائے تھینک یو سو مچ بھابھی ۔۔۔تسی گریٹ ہو ۔۔۔وہ ہاتھ نچاتا بولا ۔۔۔۔
اور سب کے چہروں پر اُسکی اوور ایکٹنگ دیکھ مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔۔
______________________________
انہیں یونیورسٹی جوائن کیے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔۔۔
دونوں کے ڈیپارٹمینٹ الگ تھے ۔۔۔
اریج بی بی اے کے پہلے سمسٹر میں تھی ۔۔۔جبکہ سمیع ایم بی اے کر رہا تھا ۔۔۔۔
پہلے ہی وہ کافی چھٹیاں کر چکی تھی مزید دیر کرکے وہ پیچھے نہی رہنا چاہتی تھی۔
اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جاتے ہوئے اریج نے دوڑ لگائی۔۔۔۔ کیونکہ سمیع کی وجہ سے وہ پہلے ہی لیٹ ہو چکی تھی ۔۔۔ ارد گرد دیکھا تو بہت کم سٹوڈنٹس تھے جو باہر تھے ۔۔۔۔
تیزی سے سیڑھیاں عبور کرتی اچانک اُسکا مقابل سے سخت تصادم ہوا اور اُسکا پاؤں مڑا ....اس سے پہلے کے وہ پیچھے کی طرف گرتی ۔۔۔مقابل نے اُسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈالے اُسے گرنے سے بچا لیا ۔۔۔
آہ مما !!!! اریج کی زوردار چیخ نکلی اور وہ آنسو بہاتی وہیں سیڑھیوں کے بیچو بیچ بیٹھ گی ۔۔۔
ایکسکیوزمی !!!! آپ ٹھیک ہیں؟؟؟
مقابل اپنی گھمبیر آواز میں اُس پر جھکتا بولا۔۔۔
"نہیں دیکھ نہی رہے اتنی زور کی لگی ہے"۔۔۔
وہ چیختی ہوئی پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی اور پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔
'پلیز آپ اٹھنے کی کوشش کریں" وہ اُسکے پاس پنجوں کے بل بیٹھتا اُسکی نیچے گری ہوئ کتابیں اٹھاتا بولا۔۔۔
کیسے اٹھوں اتنا درد ہو رہا ہے...... وہ آنسو صاف کرتی اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
وہ اسکے آنسو سے تر معصوم چہرے کی طرف دیکھتا شائستگی سے بولا ۔۔۔۔
"میں مدد کرتا ہوں آپکی" ۔۔۔۔۔۔۔کتابیں اُسکی طرف بڑھاتا وہ بولا ۔۔۔
آپ پکڑیں انکو اور ان پر اپنا وزن ڈال کر اٹھنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔۔
اریج کو اُس کی یہ حرکت بہت پسند آئی۔۔۔۔۔۔
ہاتھ بڑھاتی کتابوں کو تھامے اُن پر اپنا وزن ڈالے اُس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔
اُسکا بیگ تھامتا وہ دھیرے سے بولا ۔۔۔آرام سے ۔۔۔
زیادہ تکلیف تو نہی ہو رہی ۔۔۔اریج کے چہرے پر تکلیف کے آثار واضح تھے ۔۔۔
ریلنگ کا سہارا لیتے وہ اپنے پاؤں پر وزن ڈالتی تکلیف برداشت کرتی ہوئی بامشکل اٹھی ۔۔۔۔"مجھ سے نہی چلا جائے گا "
وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
"آپ پلیز میرے بھائی کو کال کر دیں ۔۔۔۔میرا بھائی بھی اسی یونی میں ہے ۔۔میرا تو فون بھی آج گھر رہ گیا "
بولتی وہ پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔
" بیلو جینز پر فیروزی لونگ فرراک پہنے ڈوپٹے کا حجاب کیے" اُسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔
درد کی شدت سے گلابی پڑتا چہرہ ۔۔۔۔رونے کی وجہ سے بیگھی پلکیں ۔۔۔اور گلابی ہونٹ ۔۔۔۔
اُسکے حسین سراپے کو دیکھ اُسکے دل نے ایک بیٹ مس کی ۔۔۔۔
دیکھیں پلیز آپ ایسے نہیں روئیں۔۔۔ مجھے اُنکا نمبر بتائیے میں بات کرتا ہو اُن سے ۔۔۔۔۔
اسکو یوں شدت سے آنسو بہتا دیکھ وہ پریشانی سے بولا۔۔
اس نے سمیع کو کال کرتے اُسے جلدی سے بلایا ۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں سمیع وہاں پہنچا ۔۔۔
وہ اُسے دیکھ ایک بار پھر سے رونا شروع ہو گئی ۔۔۔"کیا ہو گیا میری جان ۔۔۔۔کچھ نہی ہوتا ۔۔۔کہا لگی" ؟؟.....
وہ اُسکے آنسو صاف کرتا پریشانی سے اُسے دیکھتے استفسار کرتا بولا
"پاؤں مڑ گیا ہے"........
وہ روتے ہوئے پاؤں کی جانب اشارہ کرنے لگی ۔۔۔۔
اچھا میرا بیٹا کچھ نہی ہوتا ۔۔۔۔۔ہم ابھی ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ٹھیک ہو جائے گا کچھ نہیں ہے بس چھوٹی سی موچ ہے ۔۔۔۔
وہ نیچے جھکتا اُسکے پاؤں کا معائنہ کرتا بولا۔۔۔اور اُسے محبت سے ساتھ لگاتے اُسے لیے گاڑی تک آیا ۔۔۔۔
"بہت بہت شکریہ آپ کی ہیلپ کا" ۔۔۔۔۔۔
وہ اریج کو گاڑی میں بیٹھاتا مڑتا ہوا اُس کی جانب دیکھتا تشکر بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔
نہیں اس میں شکریہ کی کوئی بات نہی یہ انکا بیگ اور کتابیں ۔۔۔۔وہ اُسکی جانب دونوں چیزیں بڑھاتا ہوابولا۔۔۔۔
معذرت چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ہماری وجہ سے آپکو پریشانی ہوئی "
سمیع اُس سے بیگ اور کتابیں پکڑتا گاڑی میں رکھتا بولا ۔۔۔۔
نہیں اس میں معذرت کی کوئی بات نہیں ۔۔۔کسی کے کام آنا اچھی بات ہے نہ کہ بری ۔۔۔۔
اس لیے آپ معذرت کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں۔۔۔وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔
اس سب میں اریج نے پہلی بار اُسے غور سے دیکھا ۔۔۔۔
دراز قد ۔۔۔۔۔ گندمی صاف رنگت پر گہری سیاہ آنکھیں اور ہلکی دھاری ۔۔۔۔ مسکراہٹ کی وجہ سے گالوں پر پڑتے گڑھے واضح ہو رہے تھے جو اُسے اور دلکش بنا رہے تھے" ۔بلاشبہ وہ بہت شاندار پرسنالٹی کا مالک تھا ۔۔۔
سمیع اُس سے مصافحہ، کرتا شکریہ ادا کرتا گاڑی کا ڈور کھولے فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی کا رخ ہسپتال کی جانب کیا
_____________________________
ہسپتال میں اُسکا پاؤں چیک کروانے کے بعد وہ میڈیسن اور آئنٹمنٹ لیے اُسے بازو کے گھیرے میں لیے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔۔
ربیعہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ایک ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اور دوسرے میں میگزین پکڑے ورق گردانی کر رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
اریج کی آواز سنتی انہیں دیکھ تیزی سے ٹیبل پر کپ رکھتی انکے قریب آئیں۔۔۔۔
میری جان!!!!!؛
کیا ہوا ایسے کیوں آ رہی ہو ؟؟وہ متفکر ہوتیں اُسےدیکھتی گویا ہوئیں ۔۔۔
"مما "۔۔۔۔
اریج اپنی ماں کو دیکھ پھر سے رونے کے لیے تیار تھی۔۔۔۔
"کچھ نہی ہوا مما بس یونی ورسٹی میں پاؤں مڑ گیا تھا اسکا "۔۔۔
وہ اُسے صوفے پر بیٹھتا اُن کی پریشان صورت دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔۔
منہا جو دادی جان سے کچھ بات کر رہی تھی باہر سے آتی آوازوں کی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔
یہ تو اریج کی آواز ہے۔۔۔دادی جان اُسکی آواز سنتی بولیں ۔۔۔۔
"لیکن وہ تو یونی ورسٹی گئی ہوئی ہے ۔۔۔۔آپ یہیں بیٹھیں میں دیکھ کر آتی ہوں "منہا تیزی سے اٹھتی کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔
اریج اور سمیع کو دیکھ انکے قریب آ گئی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے تم لوگ تو یونی ورسٹی گئے تھے اتنی جلدی کیوں آ گئے ؟؟
وہ متفکر ہوتی انہیں دیکھتی بولی۔۔۔۔
بھابھی میرا پاؤں!!! ۔۔۔۔۔اریج اُسے دیکھتی معصومیت سے بولی ۔۔۔۔
"کیا ہوا ہے میری جان آپ کے پاؤں کو" ۔۔۔۔
"کچھ نہیں بس ہلکی سی موچ ہے ٹھیک ہو جائے گی یہ کچھ میڈیسین اور آئینٹمنٹ ہے ڈکٹر نے لگانے کے لیےدی ہے اور دو دن کا ریسٹ کہا ہے" ۔۔۔۔
ٹھیک ہو جائے گی انشا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمیع سبکو پریشان دیکھتا بولا۔۔۔۔
اریج کیسے مڑا پاؤں ...! دھیان سے چلنا تھا ناں ۔۔۔۔ربیعہ بیگم اُسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ بولیں ۔۔۔۔مما آپ تو ایسے کہ رہی ہیں جیسے میں نے جان بوجھ کے لگوائی ہو "وہ لہجے میں ناراضگی سموئے بولی ۔۔۔۔
نہیں میری جان آنٹی اسلیے پوچھ رہی ہیں کیوں کہ ہمیں آپکی فکر ہے ۔۔۔دیکھیں سب پریشان ہیں آپکے لیے ۔۔۔۔دادی کو معلوم ہوگا تو وہ بھی پریشان ہو جائیں گی "منہا اُسکو یوں منھ پھلاتے دیکھ بولی۔۔۔
سمیع آپ دادی کو یہاں لے آؤ انکے کمرے سے وہ بھی پریشان ہو رہی ہونگیں۔۔ منہا سمیع کو دیکھتی بولی اور اریج کے جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔۔
اب بتائیں کیسے لگی آپکو ؟؟
اریج اُسے ساری بات بتاتی اپنا پاؤں دیکھانے لگی ۔۔۔۔
"شکر ہے ابھی وہ لڑکا وہاں موجود تھا ورنہ سمیع کو کیسے معلوم ہونا تھا ۔۔۔۔آپ اپنا فون ساتھ لے کر جایا کرو۔۔۔
اور اب جب یونی ورسٹی جاؤگی تو اُسکا شکریہ ضرور ادا کرنا ۔۔۔ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو اپنا کام چھوڑ دوسروں کی مدد کریں "منہا اُسکا پاؤں دیکھتی بولی۔۔۔
"بھابھی اب میں کیا کرونگی پہلے ہی اتنی چھٹیاں ہو چکی ہیں ۔۔۔۔اور میرے نوٹس بھی مکمل نہیں".... وہ متفکر ہوتی بولی۔۔۔
کوئی بات نہیں آپ اپنی کسی فرینڈ سے لے لینا ہم دونوں مل کر مکمل کر لیں گے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں" منہا اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
لیکن بابھی وہ بھی زیادہ تر کلاس بنک کرتی ہیں ۔۔۔اور پھر مہینے بعد مڈ ٹرمز سٹارٹ ہو جانے ۔۔۔۔۔
کوئی بات نہی کسی سینئر سے بات کرنا وہ آپکی ہیلپ کر دے گا ۔۔۔اچھا اب ابھی سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ریلیکس رہو میں صدیقہ کو گرم دودھ لانے کا کہہ کر آتی ہوں ۔۔۔
کچھ کھا کر پھر آرام کرنا انشا اللہ اللہ شفا دے گا ۔۔۔وہ پیار سے اُسکا چہرہ تھپکتی بولی ۔۔۔
_________________________
منہا نے آج پھر سب کے لیے کافی ڈشز بنائیں۔۔۔۔۔
اریج کو دودھ کا گلاس دے کر اُسے کچھ وقت آرام کرنے کی ہدایت کرتی وہ کچن میں آ گئی ۔۔۔
فارغ بیٹھنے کی اسے عادت نہی تھی اسلیے چھوٹے موٹے کاموں میں لگی رہتی تھی ۔۔۔۔دادی جان کے لیے خود وہ کھانا بناتی ۔۔۔۔انکی دوائیوں کا خیال رکھتی تھی ۔۔۔۔زیادہ وہ دادی کے ساتھ ہی اپنا وقت گزارتی ۔۔۔۔۔۔۔
کچن سے فارغ ہوتی وہ چینج کرکے دادی کے پاس بیٹھی جو اپنے پاس سوئی ہوئی اریج پر کچھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں ۔۔۔۔صبح سے ہی اُسے اپنی طبیعت بوجھل محسوس ہو رہی تھی لیکن پہلے اریج کے پاس بیٹھی رہی پھر کاموں میں مصروف اُسنے اَپنی طبیعت پر دھیان نہی دیا ۔۔۔لیکن اب سر درد سے پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔۔
دادی کو آرام کرنے کا کہتی وہ خود بھی اپنے کمرے میں آ کر آرام کی غرض سے لیٹ گی ۔۔۔
یوں ہی لیٹے لیٹے وہ سو گئی ۔۔۔۔
____________________________
آج کا دن بہت تھکا دینے والا تھا ۔۔۔۔کچھ اُسے آتے ہوئے بھی کافی دیر ہو گئی ۔۔۔
دادی نے حمزہ کو اریج کا بتانے سے منع کیا تھا خوامخواہ اُس نے پریشان ہوتے رہنا تھا ۔۔۔۔
لیکن جب اُسے اریج کو چوٹ لگنے کا معلوم ہوا تو اُسے سمیع پر غصہ آیا ۔۔۔۔اس سے پہلے کے سمیع اُسکے اعتاب کا نشانہ بنتا دادی بول اٹھیں ۔۔۔۔
بیٹا میں نے ہی اُسے منع کیا تھا ۔۔۔۔زیادہ چوٹ نہی ہے آرام آ جائے گا جلد ہی ۔۔۔
وہ دادی کی بات پر سر ہلاتا اریج کے ماتھے پر لب رکھتا اُن سے منہا کا پوچھنے لگا۔۔۔۔
"منہا کہی دکھائی نہیں دے رہی" ارد گرد دیکھتے اُسکا پوچھا ۔۔..
واہ واہ بڑی یاد آ رہی ہے بیگم کی۔۔۔ہمارا تو کبھی ایسے آتے نہی پوچھا ۔۔۔۔۔
ہائے میرا بھائی بدل گیا ۔۔۔۔
سمیع دادی کے پاس بیٹھتا اُسکی جانب دیکھ کر اونچی آواز سے آہ وزاری کرنے لگا ...
فضول گوئی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔حمزہ اُسکی جانب دیکھتے سختی سے بولا ۔۔۔
دیکھئے دادی اب انکو میرا بولنا بھی فضول لگنے لگا ۔۔۔وہ اُسکی بات کا اثر لیے بغیر دادی کی جانب چہرہ پھیرے معصومیت سے بولا ۔۔۔
حمزہ اُسکی ایک ہی تکرار سے زچ ہوتا اس سے پہلے اسکو پکڑتا ۔۔۔۔وہ دوڑ لگا گیا ۔۔۔
دادی اُسکی شرار ت سمجھتی مسکرانے لگیں ۔۔۔۔
تنگ کر رہا تھا تمہیں بس ۔۔۔
"منہا اپنے روم میں ہے آج صبح سے کاموں میں لگی ہوئی تھی آرام کرنے اپنے کمرے میں گئ تھی مجھے لگتا ہے سو گئی ہوگی ویسے بھی صبح سے اُسکے سر میں درد تھا"
اُسکی طبیعت کا سن اُسکا دل پریشان سا ہو گیا ۔۔۔۔
دادی آپ نے منع کرنا تھا نہ اُسکو طبیعت خرابی میں کیا ضرورت تھی کچھ کرنے کی ۔۔۔گھر میں اتنے ملازم موجود ہیں وہ کر لیتے ۔۔۔۔
"میں تو پہلے بھی کافی بار منع کر چکی ہوں لیکن تمہاری بیوی مڈل کلاس لڑکیوں میں سے ہے ۔۔۔۔جنہیں لگتا ہے شوہر کو اچھے کھانے کھلا کر قابو کیا جا سکتا ہے" ۔۔۔ربیعہ بیگم اُسکے قریب آتے ہوئے بے تاثر لہجے میں بولیں۔۔۔۔۔
"مما اُسے میں نے ہی کہا تھا کہ میرے لیے خود کھانا بنایا کرے" وہ اُنکی بات کا اثر لیے بغیر آرام سے بولا ۔۔۔
اُسے اپنی ماں سے بے تحاشا محبت تھی ۔۔۔اُسنے کبھی انہیں آگے جواب نہیں دیا تھا ۔۔۔چاہے وہ غلط بات ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔
اس لیے اب بھی ہمیشہ کی طرح نرمی سے بات کرتا وہ بولا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا!! تمہاری مرضی جس چیز میں تم خوش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہاری خوشی کے لیے ہی میں نے لوگوں کی باتیں سننے کے باوجود تمہاری شادی کی ۔۔۔وہ بولتی اُس کی پیشانی پر لب رکھتیں وہاں سے چلی گئیں ۔۔۔۔
حمزہ خاموش سا انہیں جاتا دیکھتا رہا جب دادی کی آواز سے انکی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
"حمزہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تم جانتے ہو اسکی عادت ہے اور ویسے بھی تمہاری ماں کی سہیلی اپنی بیٹی کے ساتھ تمہاری شادی کرنا چاہتی تھی اور اس بات کا اظہار وہ ربیعہ کے سامنے بھی کر چکی تھی ۔۔۔۔بس اسی لیے وہ اسے کچھ نہ کچھ سیکھاتی رہتی منہا کے خلاف"۔۔۔۔۔
دادی اُسے متفکر دیکھ رسانیت سے گویا ہوئیں
______________________________
کچھ دیر ان کے پاس بیٹھتا وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔کمرے میں قدم رکھتے ہی نظر اُس پر پڑی جو بیڈ کے بیچوں بیچ کمفرٹر میں دبکے سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
قریب آتے ہی منہا کے چہرے پر نظر پڑتے سارے دن کی تھکن خودبخود ختم ہو گئی۔۔۔،،گہری نیند میں سوئی ہوئی وہ اُسے بہت معصوم لگی۔۔۔۔
اُسکی پیشانی پر لب رکھتا وہ فریش ہونے چلے گیا ۔۔۔۔منہا جو کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی اُسکے لمس سے کمساتی کروٹ بدل گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چینج کرتا اُسکے پاس آ کر ایک طرف لیٹا ۔۔۔اور منہا کو اپنے قریب کیے اُسکا سر اپنے سینے پر رکھتا آنکھیں موند گیا۔۔۔۔تھکن کی وجہ سے وہ بھی جلد ہی نیند میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
حمزہ کی آنکھ کھلی تو پاس لیٹی منہا کو دیکھا جو ابھی بھی گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی ۔۔۔اُس کے پاس سے آرام سے اٹھتا فریش ہوتا وہ نیچے چلے گیا ۔۔۔کچن میں جاتا ملازمہ سے ناشتہ لے کر آیا تو وہ ابھی تک ویسے ہی سوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اس پر جھکتے اُسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوئے اُسے پُکارا ۔۔۔منہا اُسکی آواز پر اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
گڈ مارننگ کیسی طبیعت ہے آپکی؟؟
اگر زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔وہ اُسے دیکھتا پریشانی سے بولا۔۔۔
نہیں اب بہتر ہوں بس سر میں درد تھا ۔۔۔رات میں میڈیسین لی تھی میں نے۔۔۔۔۔۔ وہ اُسے اپنے لیے متفکر دیکھ دھیمے لہجے میں بولی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔۔
وہ فریش ہو کر بیٹھی تو اس نے ناشتے کی ٹرے اُسکے سامنے لا کر رکھی۔۔۔۔۔۔۔
آپ ویسے ہی ناشتا اوپر لے آئے میری طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔نیچے سبکے ساتھ ناشتا کرتے۔۔۔۔
دادی بھی پریشان ہو رہی ہونگی ۔۔۔وہ اپنا دوپٹہ شانوں پر پھیلاتی بولی۔۔۔۔۔
میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا آپ کی طبیعت کا اور ویسے بھی سب ناشتہ کر چکے ہیں۔۔۔
ناشتا کرنے کے بعد و ہ ٹرے اٹھاتا ٹیبل پر رکھ کے خود ڈریسنگ روم میں چینج کرنے چلے گیا باہر نکل کر
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو جیل سے سیٹ کر رہا تھا گرے تھری پیس اُس پر خوب جچ رہا تھا۔۔۔
منہا کو یوں اُسکا کیئر کرنا ۔۔۔اُس سے بات کرنا بہت اچھا لگا ۔۔۔
"اب آپ ریسٹ کریں نیچے جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کوئی کام کرنے کی ۔۔۔جب آپکی طبیعت خراب تھی تو کیوں اٹھیں تھی آپ"۔۔۔۔
منہا نے اُسے کوئی جواب نہیں دیا بس خاموشی سے سر جھکا گئی ۔۔۔
اُسے یوں سر جھکائے دیکھ وہ ایک دم نرم پڑا۔۔۔۔۔۔
اچھا اب اگر زیادہ طبیعت خراب ہوئی تو مجھے فون کرنا ہے آپ نے ۔۔۔۔ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے اوکے ۔۔۔۔۔۔
منہا نے اثبات میں سر ہلاتے اُسکی جانب دیکھا ۔۔۔وہ اُسکے بالوں پر محبت سے لب رکھتے آفیس کے لیے نکل گیا ۔۔۔
منہا خاموشی سے اپنے کمرے سے منسلک ٹیرس پر آ کر کھڑی ہو گئی ۔۔۔گہرا سانس لیتی وہ تازہ ہوا کو اپنے اندر کھینچنے لگی ۔۔۔۔
زندگی کتنی بدل گئی تھی ۔۔۔۔اُس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا یوں اپنے گھر والوں سے دور ہوگی ۔۔۔
اپنے گھر والوں کو یاد کرتے اُسکی آنکھیں نم ہو گئی۔۔۔
کچھ اُسکی طبیعت عجیب سی ہو رہی تھی۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے اُسے اپنی طبیعت میں عجیب بوجھل پن محسوس ہو رہا تھا سر میں ابھی بھی درد تھا ۔۔لیکن وہ اپنا وہم سمجھ کر ٹال گئی ۔۔۔۔۔
______________________________
نیچے آتے ہی وہ اریج کے پاس گئی اُسے سوتا دیکھ وہ باہر لان میں چلی گئی ۔۔۔۔تازہ ہوا اور پھولوں کی خوشبو اُسے بہت بھلی لگی ۔۔۔
کچھ وقت لان میں چہل قدمی کرنے کے بعد وہ لاؤنچ میں واپس آتی دادی کے قریب بیٹھ گئی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے منہا بیٹا؟؟؟وہ لہجے میں محبت سموئے اُس کی زرد پڑتی رنگ دیکھتی گویا ہوئیں
کچھ نہی دادی بس تھوڑا سر میں درد ہے ۔۔۔عجیب سی طبیعت ہو رہی ہے اسی لیے تازہ ہوا لینے گئی تھی ۔۔۔۔
اُسکی رنگت دیکھ انہیں اُسکی طبیعت کے بارے میں اندازہ تو ہو گیا تھا لیکن فلحال وہ خاموش رہیں ۔۔۔
کب سے ہےایسی طبیعت ؟؟؟
وہ کھوجتی نگاہوں سے منہا کے چہرے کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگیں ۔۔۔
"دو تین دن سے ہی ایسی طبیعت ہو رہی ہے"وہ ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔۔۔۔
بیٹا حمزہ آتا ہے تو آپ اُسکے ساتھ جا کر ڈاکٹر کو دیکھا آؤ ۔۔۔۔
نہیں نہیں میں ٹھیک ہوں دادی جان ۔۔۔۔بس ویسے ہی لگتا بخار ہو رہا ہے۔۔۔۔آرام کرونگی تو ٹھیک ہو جاؤنگی ۔۔۔وہ جلدی سے اٹھکر بیٹھتی ہوئی بولی۔۔۔۔
وہ دادی کو اپنے ٹھیک ہونے کا یقین دلاتی واپس کمرے میں آ گئ ۔۔۔سر ہاتھوں میں تھامے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
تقریباً سارا دن ہی اُسنے اپنے کمرے میں گزارا ۔۔۔۔ شام کو تھوڑی دیر اریج کے پاس بیٹھ کر وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کے لئے کمرے میں آئی ۔۔۔۔
نماز میں کھڑے ہوتے ہی اسکو شدید چکر آیا ۔۔۔مشکل سے نماز مکمل کرتی وہ واشروم کی جانب دوڑتی واش بیسن پر جھکی ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ نڈھال سی ہو کر بیڈ پر لیٹ گئی ۔۔۔۔
حمزہ کمرے میں داخل ہوتا اُسے یوں لیٹا دیکھ فوراً قریب آیا۔۔۔
اُسکا خوبصورت سرخ و سفید چہرہ بلکل زرد تھا ۔۔۔۔ دوپٹہ شانوں پر گرا ہوا تھا ۔۔۔۔ سیاہ گھنے لمبے بال چٹیا سے نکلے بے ترتیب سے پشت پر بکھرے ہوے تھے ۔۔۔
منہا میری جان کیا ہوا آپکو ۔۔۔۔اتنی زیادہ طبیعت خراب تھی تو مجھے کیوں نہی بلایا ؟؟؟ وہ لہجے میں فکرمندی لیے اُس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
منہا اُسے دیکھ اٹھ کر اٹھکر بیٹھی لیکن سر چکرانے کی وجہ سے اُسکا بازو تھام کر اُسکے کندھے سے سر ٹکا لیا ۔۔۔۔۔۔
حمزہ اُسکی اتنی خراب حالت دیکھ حقیقت میں بوکھلا گیا ۔۔۔۔۔
اُسنے بہت کم اُسکے سر سے دوپٹہ اترا دیکھا تھا ۔۔۔وہ ہمیشہ بہت سلیقے سے دوپٹہ لیتی کے اُسکے بال نظر ہی نہیں آتے تھے۔۔۔حمزہ کی یہ خواہش ہی رہی تھی کے وہ اُسکے بالوں کو دیکھے انکی نرماہٹ کو اپنی انگلیوں پر محسوس کرے اور آج خواہش پوری ہوئی بھی تو کس طرح ۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے سے بال ہٹاتا وہ محبت سے بولا "چلیں جلدی سے اٹھیں ہم ہسپتال چلتے ہیں "۔۔۔۔اور اٹھ کر الماری سے چادر نکال کر اُسے پکڑائی ۔۔۔جسے وہ تھام کر اپنے گرد اچھے سے لپیٹ گئی ۔۔۔
اُسکے گرد حصار بنائے وہ گاڑی تک لایا اور ہسپتال لے گیا۔۔۔۔۔۔
____________________________
"کانگریجولیشن!!!!! سر یور وائف از پریگننٹ "
ڈاکٹر مسکراتی ہوئی کہتی روم سے باہر نکل گئی ۔۔۔حمزہ خوش ہوتا جلدی سے ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں داخل ہوا ۔۔۔
وہ سامنے بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے بلکل خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
"منہا میری جان بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔مجھے اتنی بڑی خوشی دینے کے لیے" اُسکے قریب آتے اُسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامے وہ محبت سے بولا ۔۔
وہ کچھ نہیں بولی بس خاموش رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
___________________________
میڈیسین لیتے وہ واپس گھر کے لیے نکلے۔۔۔۔منہا خاموشی سے باہر چلتی گاڑیوں اور روشنیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جانے کیوں وہ اتنی خاموش تھی ۔۔۔۔اتنی بڑی خوشی کی خبر سن کر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کے وہ کیا کہے ۔۔۔۔اُسے کچھ محسوس نہی ہو رہا تھا ۔۔۔اک کشمکش سی اندر چل رہی تھی جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں سب کو معلوم ہوتے ہی سب میں خوشی کی لہر دوڑ اٹھی۔۔۔۔اریج تو فوراً سے اُسکے گلے لگ گئی۔۔۔
دادی نے خوب دعائیں دی اور بلائیں لے ڈالی۔۔ سب اپنی اپنی جگہ بہت خوش تھے۔۔۔۔سب یوں ہی ساتھ بیٹھے باتوں میں مشغول ہو گئے
لیکن ایک فرد ایسا بھی تھا جسے یہ خبر سن کر کوئی خوشی نہی ہوئی تھی۔۔۔
کچھ دیر انکے پاس بیٹھتی وہ آرام کرنے کا کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔حمزہ گاڑی میں بھی اُسکی خاموشی نوٹ کر چکا تھا لیکن کچھ بولا نہی ۔۔۔۔
اب بھی اُسکے یوں سب میں سے اٹھ کر جانے پر وہ خاموش رہا ۔۔۔۔دادی اُسکی لال ہوتی آنکھوں کو دیکھ چکی تھیں اسی لیے اُسے اپنے پاس بیٹھاتی گویا ہوئی ۔۔۔۔
حمزہ بیٹا آپ نے منہا کا بہت خیال رکھنا ہے ۔۔۔اس وقت میں ایک عورت کو سب سے زیادہ اپنے شوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور پریشان نہیں ہونا سب ٹھیک ہو جائے گا "۔۔۔۔۔
اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے وہ بولیں
اب جاؤ اپنے کمرے میں اُسے دیکھو" ۔۔۔۔وہ سر ہلاتا اٹھ چلا گیا ۔۔۔
____________________________
کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔
خاموشی سے چلتا اُسکے قریب آیا ۔۔۔وہ جو آنکھیں موندے لیٹی تھی قدموں کی آہٹ کا احساس ہوتے فوراً سے آنکھیں کھولے اسے دیکھ اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔
"منہا کیوں خاموش ہیں آپ؟؟ ۔۔۔کیا آپکو خوشی نہیں ہوئی اتنی بڑی خبر سن کر"؟؟؟ وہ اُسکے قریب بیٹھتا اُسکا ہاتھ تھامتا سوالیہ نگاہوں سے دیکھ بولا....
میں جانتا ہوں آپ پریشان ہیں پہلے ہماری شادی اور اب اس خبر سے ۔۔۔
"اگر آپ اس سب کے لیے ابھی تیار نہیں تو کوئی بات نہیں ہم کل ہی ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں" ۔۔۔
اُسنے یہ الفاظ خود پر کتنا ضبط کرتے ادا کیے تھے یہ صرف وہی جانتا تھا۔ ۔۔۔اندر سے روح ایسا سوچتے ہوئے بھی جھنجھنا اٹھی تھی ۔۔۔۔لال انگارا آنکھیں ضبط کی شدت کی گواہ تھیں جنہیں سختی سے میچے اُس نے یہ الفاظ ادا کیے تھے ۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک بار پھر سے وہ اُسکے ساتھ زبردستی کرے ۔۔۔اُسے تکلیف دے ۔۔۔۔۔
ابھی تو وہ پہلے دی ہوئی تکلیف کا مداوا نہی تھا کر پایا۔۔۔ایسے میں وہ اُسکے ساتھ ایک اور زیادتی نہی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
"نہیں ایسی بات نہیں ہے بس میری طبیعت ٹھیک نہیں اسلیے" ۔۔۔۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولی۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کے وہ پریشان ہے اپنے گھر والوں کی کمی کو محسوس کر رہی ہے اور کچھ وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ تھی۔۔۔
"ٹھیک ہے آپ آرام کریں "
اسی لیے اُسے پرسکون کرنے کے لیے بولا۔۔۔۔
لیکن اگلے ہی پل حمزہ نے بے یقین ,اور دم بخود سا ہوتے اُسے دیکھا جو اُس سے اس عمل کی ہرگز توقع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
اُس کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں ۔۔۔میں خوش ہونا چاہتی ہوں لیکن ہو نہی پا رہی ۔۔۔۔مجھے میری مما کی بہت یاد آ رہی ہے ۔۔۔مجھے انکے پاس جانا ہے "۔۔۔۔
وہ روتے ہوئے ہچکیوں کے درمیان اٹک اٹک کر بولی ۔۔۔
حمزہ کو اُسکا اس طرح سے رونا تکلیف دے گیا ۔۔۔۔سختی سے لب بھینچے اُسکا نام پُکارا۔۔۔۔۔۔" منہا "۔۔اور اُس کے بالوں پر اپنے لب رکھے۔۔۔۔
روح میں ایک سکون سااترا کہ جیسا وہ سوچ رہا تھا ویسا کچھ نہی تھا ۔۔
"خاموش ہو جائیں ۔۔۔۔میں جاؤنگا ناں آپ کے گھر ۔۔۔انہیں راضی کرکے لے کر آونگا آپکے پاس "۔۔۔۔
وہ نہی آئیں گے میں جانتی ہوں ۔۔۔۔میں نے انہیں بہت تکلیف دی ہے وہ اب مجھ سے کبھی بات نہیں کریں گے"۔۔۔۔وہ روتے ہوئے بولی
کیوں بات نہی کریں گے جب انہیں سچائی کا علم ہوگا تو وہ خود چل کر آپکے پاس آئے گے "۔۔۔۔ وہ اس کے گرد اپنے بازو کا حصار بناتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔
"آپ سچ کہہ رہے ہیں"؟؟؟ اُسنے اُسکے سینے سے چہرہ اٹھا کر اپنی روئی ہوئی سرخ آنکھوں سے اُسے دیکھتے تصدیق چاہی ۔۔۔
کیا سچ میں وہ آئینگے؟؟ وہ لہجے میں تمام تر معصومیت لیے بولی ۔۔۔۔
حمزہ کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔۔۔۔۔"جی ضرور آئیں گے" ۔۔۔
آنسو صاف کرتا اسکی آنکھوں پر لب رکھتا وہ بولا ۔۔۔۔ اُسکے سینے سے لگی وہ ویسے ہی بیٹھی بیٹھی سو گئی ۔۔۔۔
اُس کی بھاری ہوتی سانسوں کی آواز سنتا وہ اُسے بیڈ پر سہی سے لٹاتا اُس پر کمفرٹر اوڑھا گیا ۔۔۔۔
اور اسکو پرسکون کرنے کے لیےاُسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا ۔۔۔۔۔
اُسکے سرخ چہرے کو دیکھتے اسکی نظر اُسکے گلابی ہونٹوں پر ٹھہر سی گئی ۔۔۔۔
جھک کر اُن پر محبت کی مہر ثبت کرتا جلدی سے دور ہوا ۔۔۔
اور ساتھ لیٹتا اُسکے بالوں میں منھ چھپائے آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔۔۔
_____________________________
صبح منہا کی آنکھ کھلی تو حمزہ بیڈ پر موجود نہی تھااُسے اپنی رات کی بے اختیاری پر جی بھر کر غصہ آیا ۔۔۔۔
اٹھتی وہ فریش ہو کر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی بال بنانے لگی ۔۔۔۔
کھٹک کی آواز سے دروازہ کھلا ۔۔۔اور حمزہ ناشتے کی ٹرے لیے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔ وہ جلدی سے بیڈ سے دوپٹہ اٹھاتے سر پر اوڑھ گئی۔۔۔۔
منہا کے بہت منع کرنےکے باوجود اُسنے اُسے زبردستی ناشتہ کروایا اور میڈیسین دی ۔۔۔اُسے کمرے میں رہنے کی ہدایت کرتا وہ کمرے سے نکلا ۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ملازمہ کے ساتھ دوبارہ کمرے میں داخل ہوا ۔۔
ملازمہ کو سختی سے اُسے وقت پر دوائی دینے اور اُس کے کھانے کا خیال رکھنے کی ہدایت کی ۔۔۔۔۔
ملازمہ اثبات میں سر ہلاتے ٹرے اٹھاتی کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔
اب آپ نے کمرے سے باہر نہی نکلنا زیادہ اوپر نیچے نہیں جانا اور وقفے وقفے سے کچھ نہ کچھ کھاتے رہنا ہے" الماری سے اپنا ڈریس لیتا وہ بولا ۔۔۔۔۔
منہا اُسکی بات سنتی پہلو بدلتی بولی ۔۔۔
اچھا اب میں نیچے بھی نہ جاؤں تو کیا کروں سارا دن اکیلی کمرے میں بیٹھی رہوں ۔۔۔۔دیواروں کو دیکھتی رہوں" ۔۔۔منہا روٹھے ہوئے لہجے میں بولی ۔۔۔
ٹھیک ہے پھر آپ میرے ساتھ نیچے جائیں گی اور جب تک میں واپس نہیں آ جاتا اکیلے آپ روم میں نہی آئیں گی "۔۔۔۔کہتا وہ چینج کرنے چلے گیا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اُس کو اپنے ساتھ لیے نیچے لاؤنج میں داخل ہوا ۔۔۔۔سب کو سلام کرتے اُسنے ملازمہ کو بلایا ۔۔۔۔
کیسی طبیعت ہے میری بیٹی کی ؟؟
دادی جان نے محبت سے اُسے ساتھ لگاتے پوچھا۔۔۔
جی میں بلکل ٹھیک ہوں اب" اُسنے چہرے پر مسکراہٹ سجائے جواب دیا
اب آپ یہاں بیٹھیں سب کے پاس ۔۔۔کچن میں جانے کی کوئی ضرورت نہی ہے ۔۔۔۔ وہ منہا کو ہدایت کرتا ہوا بولا
اور اگر مجھے پتہ چلا کہ یہ کیچن میں گئی ہیں تو اسی وقت تمہیں کام سے نکال دونگا ۔۔ملازمہ کی جانب متوجہ ہوتے وہ سختی سے اُسے تنبیہہ کرتا بولا
منہا منھ پھلاتی وہیں بیٹھ گئی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے آپکو منھ پر کیوں بارہ بجھے ہوئے ہیں؟؟" سمیع انکے قریب بیٹھتا بولا ۔۔۔۔
تمہارے بھائی کی وجہ سے بلاوجہ کی پابندیاں لگا رہے ہیں مجھ پر اب اگر میں اٹھوں بھی نہ تو ایک جگہ پر بیٹھی بیٹھی بس بور ہوتی رہوں "وہ روہانسی ہوتے بولی ...
بس اتنی سی بات ہے میں ہوں نا آپکے پاس آپکی بوریت ختم کرنے کے لیے ۔۔۔۔۔
میں بس ابھی آیا کہتا ہوا وہ غائب ہو گیا اور کچھ ہی دیر میں لوڈو لیے انکے قریب آ بیٹھا ۔۔۔۔
چلیں آئیں ہم لوڈو کھیلتے ہیں ۔۔۔۔اریج بھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور پھر تینوں اپنے سامنے لوڈو پھیلائے کھیلنے میں مشغول ہو گئے ۔۔۔۔
_____________________________
شام میں وہ سب کہ ساتھ لان میں بیٹھی ٹھنڈی ہوا سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔۔
"دادی پلیز مجھ سے یہ فروٹس نہی کھاے جا رہے ۔۔۔میں پہلے ہی بہت کھا چکی ہوں ۔۔۔میرا پیٹ بھر گیا ہے" ۔۔۔۔دادی جو اُسکے آگے فروٹ کی پلیٹ رکھ رہی تھیں وہ یہ دیکھ تنگ آتی بولی ۔۔۔
"بیٹا کھاؤ گی نہی تو صحت کیسے بنے گی ۔۔۔ماں صحت مند ہوگی تو بچہ بھی صحت مند ہوگا اسلیے میرا بیٹا خاموشی سے کھاؤ "۔۔۔۔۔وہ منھ بناتی رہ گئی لیکن دادی نے زبردستی اُسے سب فروٹس کھلائے۔۔۔
اریج اور سمیع کو پاس بیٹھے اسکو عجیب شکلیں بناتا دیکھ اپنی ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
"دیکھ لیں دادی یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں" وہ روہانسی ہوتی دادی کو شکایت کرنے لگی ۔۔۔
دادی نے انہیں گھورتے ہوئے ڈپٹ دیا
مزا آیا اب" ۔۔۔۔وہ مسکراتی ہوئی انکی جانب دیکھ بچوں کی طرح بولی ۔۔۔۔۔
دادی سمیت انکے مشترکہ قہقے گونجھے تھے۔۔۔۔۔۔منہا منھ بگاڑتی اٹھ گئی ۔۔۔"میں جا رہی ہوں اپنے روم میں آپ سب ملے ہوئے ہیں مجھے تنگ کر رہے ہیں" ۔۔۔اور پاؤں پٹختی اندر چلے گئی ۔۔۔۔
پیچھے سے سب آوازیں دیتے رہ گئے لیکن وہ نظر انداز کرتی چلی گئی۔۔۔
ابھی وہ اپنے کمرے میں آ کر بیٹھی ہی تھی کے اُسکا فون بج اٹھا ۔۔۔۔
اُسنے فون پکڑ کر یس کرتے کان سے لگایا ہی تھا کہ اُسکی پریشان سی آواز سنائی دی ۔۔۔
کیسی طبیعت ہے آپکی ؟؟ کیا کھایا ۔۔۔۔کچن میں تو نہی گئی ۔۔۔۔۔اس وقت کہاں ہیں آپ" ؟؟۔۔۔۔
کیا ہو گیا ہے رک بھی جائیں۔۔۔۔
اُسے مسلسل سوال کرتا دیکھ وہ بولی ۔۔۔
"میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔کچھ نہی بہت کچھ کھایا ۔۔۔۔ اور اس وقت میں اپنے روم میں ہوں ۔۔۔۔۔
"اوپس !!! یہنہی بتانا تھا "۔۔۔۔وہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی بولی ۔۔
لیکن اب آپ بتا چکی ہیں ۔۔۔۔منہا میں نے آپکو منع بھی کیا تھا کہ روم میں اکیلے نہی جانا آپ نے پھر بھی میری بات نہی سنی۔۔۔۔وہ متفکر سا بولا ۔۔۔۔
ابھی آئی ہوں میں روم میں ۔۔۔نیچے سب مجھے تنگ کر رہے تھے اسلیے میں آ گئی ۔۔اور دادی نے صبح سے کھلا کھلا کر مجھے ایک ہی دن میں موٹا کر دینا ہے "وہ روہانسی ہوتی بولی ۔۔۔
اونہہ،، کس نے تنگ کیا آپ کو میں آ کر انکو سیدھا کرتا ہوں ۔۔۔ میری معصوم سی جان کو کیوں تنگ کر رہے ہیں "۔۔۔لوہ اُسکی بات سنتی سرخ پر گئی ۔۔۔
وہ کل سے اُسکا بہت زیادہ خیال رکھ رہا تھا اور اریج اُسکے صبح والی بات پر بھی اُسکا اچھا ریکارڈ لگا چکی تھی اور اگر وہ اب کچھ کہتا تو تب بھی اُسی کے لیے مشکل ہونی تھی ۔۔۔اسی لیے وہ جھنجھلا کر بولی۔۔۔۔۔
" نہی آپ کسی کو کچھ مت کہیے گا پہلے ہی آپکی وجہ سے اریج مجھے صبح سے بہت تنگ کر چکی ہے" ۔۔۔
اس میں تنگ کرنے والی کونسی بات ہے میں اپنی بیوی اور بےبی کا خیال رکھ رہا ہوں " ۔۔۔۔
اُسکے شرارت بھرے لہجے کو وہ سمجھتی پھر سے روہانسی ہوتی بولی ۔۔۔۔
اب آپ بھی مجھے تنگ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔
"میں آپ سے بھی بات نہی کرونگی اب" ۔۔۔کہتی فون بند کر گئی ۔۔۔۔
حمزہ مسکراتا ہوا نفی میں سر ہلاتا اُسکے نمبر پر کچھ بیھجتا فون رکھ گیا۔۔۔
میسیج کی ٹون پر اُسنے واٹس ایپانباکس اوپن کیا ۔۔۔۔جہاں اُسکا میسیج جگمگا رہا تھا ۔۔
اِک شام لکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سرے عام لکّھوں
کیا کیا میں تیرے نام لکھوں!!!!
تُجھے رات لکھوں یا چاند لکھوں۔۔۔۔
کیا کیا میں تیرے نام لکھوں!!!!
چرا کے آنکھ سے اپنی ہر خوشی۔۔۔۔۔
تیرے نام لکھوں!!!!
دل لکھوں یاں جان لکھوں
کیا کیا میں تیرے نام لکھوں!!!!
غزل پڑھتے اُسکی پلکیں لرزیں۔۔۔۔چہرہ الگ سرخ پڑ گیا جیسے وہ اس کے سامنے موجود ہو
_______________________
آج کافی عرصے بعد وہ کھل کر مسکراتا خدا کا شکر ادا کرنے لگا ۔۔۔۔اُسکا نارمل رویہ دیکھتے اُسکے دل کو سکون آیا تھا ۔۔۔ورنہ کل رات اُسکے اتنے شدید ردعمل سے وہ بوکھلا گیا تھا ۔۔۔۔
اب بس اُسکے گھر والوں سے بات کرنی تھی ۔۔۔یہ مرحلہ حل ہو جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا وہ سوچتا فون پر کسی کو کال ملانے لگا ۔۔۔
__________________________
وہ جو اسکو گاڑی تک چھوڑ کر واپس اپنی کلاس لینے کے لیے جانے لگا تھا پاؤں میں کسی چیز کے اٹکنے سے ایک دم سنبھلا ۔۔۔۔نیچے جھک کر دیکھا تو کسی کا یونی ورسٹی کارڈ تھا ۔۔۔۔
اٹھا کر دیکھا تو اُسکی تصویر تھی ۔۔۔نیچے نام درج تھا ۔۔۔"اریج شاہ،،
وہ زیرِ لب بڑبڑایا ۔۔۔ اُسکا نام لیتے اُسکی آنکھوں کے سامنے اُسکا معصوم رویا ہوا چہرہ آ گیا ۔۔۔ اُس نے چمکتی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے
کارڈ کو اپنے بیگ میں رکھا اور کلاس لینے چلے گیا ۔۔۔
_______________________
شام میں اُس سے بات کرنے کے بعد وہ کچھ دیر آرام کی غرض س لیٹ گئی اور جلد ہی اُسکی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
آنکھ کھلی تو اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔۔۔
وقت دیکھا تو آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔جلدی سے اٹھ کر منھ پر پانی کہ چھینٹے مارتی وہ دوپٹہ سہی سے لیتی نیچے چلی گی ۔۔۔
نیچے آتے ہی ڈائننگ روم کا رخ کیا ۔۔۔۔اس وقت سب وہیں موجود تھے۔۔۔
" ارے منہا بیٹا آ جاؤ ہم آپکا ہی انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
حمزہ نے بتایا کہ آپ سو رہی ہیں اسلیے آپکو اٹھانا مناسب نہیں سمجھا ۔۔۔طبیعت ٹھیک ہے نہ آپکی "؟؟ دادی اُسے دیکھتیں تشویش زدہ لہجے میں گویا ہوئیں ۔۔۔
ج۔،،۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں پتہ ہی نہی چلا کب سو گئی وہ سر جھکاتے شرمندہ ہوتی بولی ۔۔۔
کوئی بات نہی بچے اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے ۔۔وہ اُسے شرمندہ ہوتے دیکھ محبت سے بولیں
"آ جائیں منہا ڈنر سٹارٹ کریں" حمزہ اُسے کھڑے دیکھ پیار بھرے لہجے میں بولا ۔۔۔۔
"نہی مجھے نہی کھانا کچھ بھی صبح سے میں بہت کھا چکی ہوں ۔۔۔اب میرا بلکل بھی دل نہی چاہ رہا "۔۔۔وہ منہ بسورتے بولی
" منہا آ کر یہاں بیٹھیں اور کھانا شروع کریں" حمزہ قدرے سخت لہجے میں بولا ۔۔۔
وہ منھ بناتی پاؤں پٹختی اُسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی ۔
۔۔
"میرا بچہ تھوڑا سا کھا لو "دادی اُسے پیار سے پچکارتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔
اُسنے تھوڑا سا پلاؤ اپنی پلیٹ میں ڈالا اور جھک کر خاموشی سے چھوٹے چھوٹے چمچ لیتی اپنے منہ میں ڈالنے لگی ۔۔۔
اُسکا سر جھکانا اس کی ناراضگی کا صاف اظہار تھا جسے حمزہ اچھے سے سمجھ چکا تھا اسی لیے اپنے لب دانتوں میں دبائے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتا خاموشی سے کھانے لگا ۔۔۔
ابھی کچھ پل ہی گزرے تھے اُسے سر جھکائے ہوئے کہ اُسکے کانوں میں کسی کی دبی دبی ہنسی کی آواز سنائی دی ۔۔۔۔
چہرہ اٹھا کر دیکھا تو اریج اور سمیع لب دباتے اُسکی حالت کے مزے لے رہے تھے ۔۔۔۔
انکو یوں ہنستا دیکھ اسکا چہرہ پل میں سرخ ہوا ۔۔۔
"دیکھیں یہ دونوں پھر سے میرا مذاق اڑا رہے ہیں" وہ روہانسی ہوتی حمزہ کا بازو جنجھورتی بولی ۔۔۔۔
"نہی ایسی تو کوئی بات نہیں ہم تو خاموشی سے ڈنر کر رہے ہیں" ۔۔۔وہ دونوں چہرے پر معصومیت لاتے حمزہ کی جانب دیکھ بولے۔۔۔
حمزہ سے منہا کا پریشان سرخ چہرہ دیکھا نہ گیا اسی لیے بول اٹھ ۔۔۔۔
" تمیز سے رہو تم دونوں ہنسنے والی کونسی بات ہے ۔۔۔۔ میری بیوی کو تنگ کرنے کی ضرورت نہیں وہ بہت معصوم ہے اور بھابھی ہے تمہاری۔۔۔۔۔۔۔
اگر اب میری بیوی کو تنگ کیا تو بہت برا پیش آؤں گا "وہ انہیں سختی سے بولتا منہا کی جانب متوجہ ہوا جسکا چہرہ انکی بےعزتی ہوتی دیکھ کھل اٹھا تھا ۔۔۔۔
منہا اُنھیں آنکھوں میں شرارت لیے دیکھ رہی تھی اور آنکھوں میں واضح پیغام تھا کہ بچو اب ہنسو تم لوگ ۔۔۔
حمزہ کی ڈانت سنتے اُن دونوں کے چہرے اتر گئے تھے خاموشی سے سر جھکائے وہ ڈنر کرنے لگے ۔۔۔
مشکل سے تھوڑے سے چاول اُسنے اپنے حلق میں اتارے۔۔۔۔۔ کہ اُسکا سخت دل خراب ہوّا۔۔۔
وہ تیزی سی اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب دوڑی ۔۔۔حمزہ اُسکو یوں بھاگتے دیکھ پریشان ہوا۔۔۔۔
اٹھتا وہ بھی اُسکے پیچھے پیچھے کمرے میں گیا ۔۔۔۔۔۔
____________________________
وہ کلاس لے کر گراؤنڈ میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔آتے ہی اُسے اسائنمنٹ کی الگ پریشانی لگ گئی تھی جو کل تک جمع کروانا تھا اور اُسے کچھ آتا ہی نہی تھا ۔۔۔
اس نے لڑکیوں کی زبانی سنا تھا کہ سر بہت سخت ہیں کوئی بہانے نہی سنتے اُلٹا چھٹی کے نام پر اور سخت ہو جاتے ہیں تب سے وہ اور زیادہ پریشان تھی ۔۔۔۔اور کل کا سوچتے دل کانپ رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی جب کسی کی آواز سے وہ اپنی سوچوں سے نکلی
السلام علیکم۔۔۔!
کیسی ہیں آپ۔۔۔۔پاؤں کیسا ہے آپکا؟
اس نے چونک کر چہرہ اٹھا کر اُسکی جانب دیکھا جو چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے اُس سے حال احوال پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
'وعلیکم السلام ۔۔۔۔ الحمداللہ اب بہتر ہوں پہلے سے "وہ آہستگی سے بولتی پھر سے چہرہ جھکا گئی ۔۔۔
یہ آپکا کارڈ اُس دِن سیڑھیوں میں ہی گر مجھے ملا تو میں نے رکھ لیا ۔۔۔۔بس یہی دینے آیا تھا ۔۔۔وہ کارڈ اُسکی جانب بڑھاتا بولا
بہت شکریہ آپکا ۔۔اگر اُس دِن آپ نہ ہوتے تو پتہ نہیں میں کیا کرتی ۔۔
اُس سے کارڈ تھامتے وہ تشکرانا لہجئے میں بولی
نہیں اس میں شکریہ کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ایک دوسرے کی مدد کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔۔۔۔
وہ شائستہ لہجے میں بولا وہ مسکراتی سر ہلا گئی ۔۔۔
" اف یو ڈونٹ مائنڈ کین آئی آسک یو آ کویسچن"؟؟۔۔۔
(اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں)
وہ اُس سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھتا بولا ۔۔۔
جی جی پوچھیں۔۔۔اریج چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لاتی بولی
کیا کوئی پریشانی ہے آپ اس طرح سے بلکل خاموش اکیلی بیٹھی ہوئی ہیں۔؟؟
وہ اُسکا متفکر چہرہ دیکھتا پوچھ بیٹھا۔۔۔۔
"اٹس اوکے ۔۔۔۔۔!! اگر آپ نہی بتانا چاہتیں تو" وہ اُسکے جھکے ہوئے چہرے کو دیکھتا بولا ۔۔۔
" نہی مجھے بلکل بھی برا نہی لگا "۔۔۔۔ وہ جلدی سے بولی
میں اُس دِن کے بعد آج آئی ہوں اور آتے ہی مجھے پتہ چلا کہ کل اسائمنٹ جمع کروانی ہے ۔۔۔اور مجھے کچھ نہی معلوم کہ میں اتنے تھوڑے وقت میں کیسے بناوگی ۔۔۔۔کس سے ہیلپ لوں گی ۔۔۔۔۔۔
بھابھی نے کہا تھا کسی سینئر سے ہیلپ لے لینا لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے اگر کسی نے میری ہیلپ نہ کی تو میری انسلٹ ہو جانی۔۔۔
وہ نم لہجے سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
بس اتنی سی بات ہے ۔۔۔وہ استفہامیہ انداز میں بولا
"جی"اُسے دیکھتی سر ہلا گئی ۔۔۔
پھر تو کوئی مشکل ہی نہی ۔۔۔میں ہوں نا ۔۔۔
میں بھی بی بی اے کے سیکنڈ لاسٹ سمسٹر میں ہوں ۔۔۔میں آپکی ہیلپ کر دونگا ۔۔۔ٹیک اٹ ایزی۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا
آپ کو کیسے پتہ میرے ڈیپارٹمینٹ کا ؟؟؟ وہ حیرت سے پوچھ بیٹھی ۔۔۔۔
آپ کے کارڈ سے دیکھا ۔۔۔۔ وہ بولا
"ہمم!!!
کیا سچ میں آپ میری مدد کریں گے"؟ وہ خوشی سے نہال ہوتی بولی ۔۔۔
"جی بالکل لیکن ابھی میری کلاس ہے ۔۔۔آپ بھی اپنی کلاس لے لیں۔۔۔اس کلاس کے بعد یہیں پر ملتے ہیں ۔۔پھر مل کر اسائنمنٹ بنا لیں گے" ۔۔۔۔ وہ اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولا
"جی ٹھیک ہے" ۔۔۔۔۔
وہ شکریہ کہتی کلاس لینے کے لیے اٹھ گئی ۔۔۔
_____________________
ایک گھنٹے بعد جب وہ واپس آئی تو وہ وہاں پہلے سے ہی موجود تھا ۔۔۔
مقابل نے اُسے اپنے قریب آتے بڑے غور سے دیکھا ۔۔
پنک فراک کے ساتھ وائٹ کیپری پہنے ہم رنگ دوپٹے کا حجاب لیے وہ اُسکے قریب آتی سلام کرکے بیٹھ گی۔۔
میں آپکو ضروری ٹاپکس پر نشان لگا دیتا ہوں اور ساتھ ساتھ سمجھا بھی دیتا ہوں ۔۔۔۔
کل آپ انہی کو نوٹ کرکے اسائمنٹ بنا کر لے آئیے گا ۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ سے کتاب لیتے ہوئے بولا
وہ سر ہلاتی اُسکی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔جو اُسے سمجھانے ساتھ ساتھ ضروری ٹاپکس کو انڈرلائن بھی کرتا جا رہا تھا ۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ اُسے کافی حد تک سمجھا چکا تھا جس سے اُسکی اسائنمنٹ بنانے میں کافی مدد ہوتی۔۔
"سمجھ آیا ہے آپکو؟؟ اگر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تو بے ججھک پوچھ لیں ۔۔۔اور کل اسآئیمنٹ جمع کروانے سے پہلے ایک بار مجھے دیکھا لیجیے گا ۔۔۔میری فرسٹ کلاس فری ہے کل میں یہیں پر آپکا انتظار کرونگا"۔۔۔ وہ کتاب بند کرتا ہوا بولا
آپکا بہت بہت شکریہ !!!وہ خوش ہوتی اُسے دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔۔۔
اگر آج آپ میری مدد نہ کرتے تو صبح میری بہت انسلٹ ہونی تھی ۔۔۔۔
نہی کوئی بات نہیں آپکو جس چیز میں مشکل لگے آپ مجھ سے پوچھ سکتی ہیں ۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا
"تھینک یو سو مچ" وہ بھی مسکراتی ہوئی اُسکی طرف دیکھتی ہوئی بولی
ایک پل کے لیے وہ اُس کی مسکراہٹ دیکھتا مبہوت رہ گیا ۔۔۔۔
"میں اب جاؤں میری کلاس کا وقت ہو گیا" وہ اُسکی نظروں سے خائف ہوتی ججھکتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
"جی جی ضرور"!!! وہ ایک دم اپنی بے اختیاری پر شرمندہ ہوتا بولا ۔۔۔
______________________________
وہ نڈھال سی بیسن پر جھکی ہوئی تھی اُس تک جاتا وہ جلدی سے اُسکی کمر سہلانے لگا
اور اسکو ساتھ لگائے بیڈ تک لایا ۔۔۔وہ بیٹھتی گہری سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔کچھ ہی پل میں اُسکا چہرہ زرد پڑ گیا تھا ۔۔۔
وہ اُسکے قریب بیٹھتا اُسکا سر اپنے سینے سے لگا گیا
"طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے" ؟؟وہ متفکر ہوتا محبت سے اُس سے استفسار کرنے لگا ۔۔۔۔
" میں نے کہا بھی تھا آپ سے کہ مجھے بھوک نہیں ہے لیکن آپ نے زبردستی کی"
وہ اٹکتی سانسوں کے درمیان بولی۔۔۔۔۔اور کچھ وقت ایسے ہی اُسکے سینے کے ساتھ لگی رہی ۔۔۔۔
کہ تیزی سے اٹھتی پھر سے وہ واشروم کی جانب بھاگی۔۔
وہ اُسکے ساتھ واشروم میں اُسکے پیچھے کھڑا ہوتا اسکی کمر سہلانے لگا ۔۔۔۔۔
چہرے پر پانی گرآتے وہ سیدھی ہوئی ۔۔۔
اُسکی کمر کے گرد بازو حائل کرتا وہ پھر سےاُسے بیڈ تک لایا۔۔۔
"ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں"۔۔۔۔۔وہ اُسکے بال سہلاتا محبت اور پریشانی کے ملے جلے تاثر سے بولا۔۔۔
"نہی اسکی ضرورت نہیں صبح بھی ایسے ہی وومٹ ہو رہی تھی ۔۔۔دادی نے کہا تھاکہ ایسا ہی ہوتا ہے اس کنڈیشن میں" وہ ہانپتی ہوئی بولتی بیڈ کراؤن کے ساتھ ٹیک لگا گئی ۔۔۔
دوپٹہ ایک طرف کندھے پر گرا تھا ۔۔۔
اُسکا دوپٹہ ٹھیک کرتے وہ اُسکے ساتھ بیٹھتا اُسکا سر اپنے شانے پر رکھتا اُسکے بال سہلانے لگا ۔۔۔
منہا کو اُسکی اس حرکت سے کافی حد تک سکون محسوس ہوا۔۔۔۔۔جلد ہی وہ پرسکون ہوتی اسکے شانے سے لگی ہی سو گئی ۔۔۔
حمزہ کچھ وقت اُسکی نرم گرم سانسوں کی آواز سنتا رہا حب اُسے مکمل یقین ہو گیا کہ وہ گہری نیند میں جا چکی ہے اُسکا سر خاموشی سے تکیے پر رکھا ۔۔۔۔اُسکی پیشانی پر لب رکھتا اُس پر کمفرٹر سہی سے اڑاتا اور اٹھ کر لائٹ آف کرتا نائٹ لیمپ آن کرتا اُسکے قریب لیٹ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ یونی ورسٹی کے پارکنگ ایریا میں جیسے ہی اپنی بائیک روک کر ایک طرف کھڑی کرکے داخلی دروازے سے اندر جانے لگا۔۔۔۔
تو وہ اُسے سامنے ہی کھڑی اُسکا انتظار کرتی دکھائی دی ۔۔۔وہ قدم بڑھاتا اُسکی جانب بڑھا ۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ اُس تک پہنچتا اریج جلدی سے اُسکے قریب آتی سلام کرکے اُس کے آگے اپنی اسائنمنٹ کر گئی ۔۔۔۔
"میں کب سے آپکا انتظار کر رہی ہوں اب جلدی سے یہ چیک کریں وقت بہت کم ہے میرے پاس ۔۔۔میری کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے ۔۔۔۔
اسی لیے آج میں جلدی آ گئی کے آپکو جا کر چیک کرواؤنگی ۔۔۔۔۔
لیکن آپ کہیں نظر نہیں آئے اسی لئے میں یہاں سامنے کھڑی آپکا انتظار کرنے لگی"
وہ جلد جلدی بولتی اُسکی جانب دیکھ منھ بسور گئی ۔۔۔
اُسکی یہ حرکت مقابل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی ۔۔۔
وہ دراصل آج میں تھوڑا لیٹ ہو گیا نکلتے ہوئے ۔۔۔معذرت آپکو میرا انتظار کرنا پڑا ۔۔۔ وہ شائستگی سے بولا
"نہیں نہی اس میں معزرت کی کوئی بات نہیں میں بس ایک دفعہ آپکو دیکھانا چاہتی تھی کے کیسی بنائی ہے؟؟؟" ۔۔۔۔ وہ اس کے معذرت کرنے پر جلدی سے بولی
وہ سر ہلاتا اسائمنٹ کے پیج الٹنے لگا ۔۔۔۔
اریج کی نظر اُس پر ٹھہر سی گئی وہ اپنی شہد رنگ آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جینز پر وہ گرے شرٹ پہنے گلاسز لگائے
صاف گندمی رنگت ۔۔۔سلکی بال جو اُسکے ماتھے پر بکھرے پڑے تھے اُسکی پرسنلٹی کو شاندرا بنا رہے تھے۔۔۔
کچھ اُسکے لہجے کی نرمی کسی کو بھی اُسکا اسیر کر سکتی تھی ۔۔۔۔
اُسکی آواز پر وہ ٹھٹھکتی جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل گئی
"بہت اچھی اسائمنٹ بنائی ہے آپ نے امپریسیو!! "وہ اُسکی جانب اسائمنٹ بڑھاتا اپنے مخصوص لہجے میں اُسے دیکھتا گویا ہوا ۔۔۔
رئیلی؟؟؟؟!!
مجھے لگا اتنی اچھی نہی بنی ہو گی۔۔۔۔کچھ میں گھر میں بھی کسی کو دیکھا نہیں پائی کے مجھے اندازہ ہو سکتا کہ کیا کیا مسٹیکس ہیں۔۔۔۔
اسی لیے میں جلدی آئی تھی کہ پہلے آپکو دکھاؤنگی پھر کلاس میں جاؤنگی ۔۔۔
اُس سے اسائمنٹ لیتی وہ پر مسرت لہجے میں بولی ۔۔۔
جی جی آپ بے فکر ہو کر جمع کروائیں ۔۔۔بہت اچھی بنائی ہے ۔۔۔۔
اب آپ جائیں کلاس کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔۔ورنہ لیٹ اسٹوڈنٹس کو سر کلاس میں اینٹر نہیں ہونےدیتے
اریج سر ہلاتی مسکراتی ہوئی اُسے دیکھتی چلی گئی ۔۔۔
______________________
وہ دادی کی گود میں سر رکھے انکے پرانے قصے سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
ناشتہ کرنے کو بلکل بھی دل نہی تھا اسی لیے وہ بس جوس پینے لگی ۔۔۔
ربیعہ بیگم نک سک سے تیار ہوتیں ایک ہاتھ میں اپنا بیگ تھامے کہیں جا رہی تھیں ۔۔۔۔اُنھیں سلام کرتی وہ دادی کے پاس آ گئی ۔۔۔۔۔
اُس نے بہت کم انہیں گھر میں موجود دیکھا تھا۔۔۔اور اگر کبھی وہ گھر ہوتیں بھی تو اس سے کچھ خاص بات نہ کرتیں ۔۔۔
پہلے تو اُس نے اپنا وہم سمجھ کر ٹال دیا اور اتنا محسوس نہی کیا لیکن اب اُنکا سپاٹ سا رویہ منہا کو عجیب لگا ۔۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ؟؟؟.... وہ سوچتی دادی کے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
جب ایک ملازمہ اُسکے قریب آتی بولی ۔۔۔
" بی بی جی باہر کوئی لڑکا آپ سے ملنے آیا ہے کہہ رہا ہے آپ جانتی ہیں اُسے۔۔۔کیا اُسے اندر آنے دوں" ؟؟
"بیٹا تمہارا بھائی آیا ہوگا جاؤ اُسے یہاں لے آؤ" دادو اُسے محبت سے دیکھتیں بولیں ۔۔۔۔
منہا موسیٰ کا سوچتی خوش ہوتی بولی۔۔۔۔
جی آپ اُسے سیٹنگ روم میں بٹھائیں میں آتی ہوں ۔۔۔۔
کہتی وہ دادی کی گود سے سر اٹھاتی خوشی سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
دوپٹہ درست کرتی وہ اُسے ملنے کے لیے کمرے سے نکلی ۔۔۔۔۔
کمرے میں قدم رکھتے وہ سامنے موجود شخص کو دیکھ ٹھٹھک گئی۔۔۔۔
مقابل بھی اُسے دیکھ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔
تمم۔۔۔۔؟؟
وہ شاک کی کیفیت میں اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔
یہاں کیا کر رہے ہو تم ؟؟؟۔۔۔۔وہ اُسے دیکھ حیرت سے سوال کرنے لگی ۔۔۔۔
مقابل اُسے یوں حیرت زدّہ سا دیکھ مسکراتا ہوا بیٹھ گیا ۔۔۔۔
کیسی ہو منہا ؟؟۔۔۔۔اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی ۔۔۔۔
بہت کمزور ہو گئی ہو ۔۔۔
کیا کھانے کو نہی دیتا تمہارا " کروڑ پتی" شوہر؟؟؟
میں نے سوچا تم تو بیٹھنے کا خود کہو گی نہیں میں خود ہی بیٹھ جاتا ہوں ۔۔۔وہ اُسے یوں حیرت میں مبتلا دیکھ بولا۔۔۔
فہد تم یہاں کیا کر رہے ہو ...؟؟
اور میرے گھر کا ایڈریس کیسے ملا تمہیں ۔۔؟؟؟ وہ لہجے میں حیرت سموئے اُسکی بات کو نظر انداز کرتی سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔
جیسے ملتا ہے ایڈریس۔۔۔
ایڈریس،، معلوم کروانا کونسا مشکل کام ہے ۔۔۔۔میں نے سوچا اپنی منگیتر سے تھوڑی بات چیت ہی کرلی جائے وہ اُسے دیکھتا طنزیہ لہجے میں بولا ۔۔۔۔
فضول مت بولو میں اب کچھ نہی لگتی تمہاری اسلیے بہتر ہے خاموشی سے نکل جاؤ یہاں سے اور دوبارہ کبھی یہاں آنے کی کوشش نہ کرنا منہا غصے سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔
مجھے کونسا تم جیسی دھوکے باز لڑکی سے کوئی مطلب ہے۔۔۔۔
یہاں بس تمھیں دیکھنے ہی آیا تھا کے مجھے ریجیکٹ کرنے کی وجہ کیا تھی وہ بھی شادی کے اتنے قریب ۔۔۔۔
اب میں سمجھ گیا اچھا خاصہ امیر بکرا پھنسایا ہے تم نے ۔۔۔
اسی لیے تو ایک مہینہ پہلے شادی سے انکار کیا تھا ۔۔۔
ایک بات سمجھ نہیں آئی مجھے بس اُسکا جواب دے دو تو چلا جاؤنگا ۔۔۔
منہا سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی...
"مجھ سے منگنی کی دفعہ تو بڑی مولانی بنتی پھیرتی تھی
ایک تصویر کی دفعہ تم نے اتنا شور برپا کیا تھا ۔۔۔ اور بات کرنے کے لیے کہا ۔۔۔تو اُس وقت تو تمہیں بہت اسلام یاد آیا تھا ۔۔۔۔۔جائز نا جائز""
اب کیا ہوا پیسہ دیکھ سارا اسلام کہیں جا سويا۔۔۔
اب نہی یاد آیا کہ ایک کو دھوکا دے کر دوسرے کو
پھنسانا جائز نہی ۔۔۔
اُس میں ایسا کیا تھا جو تم اپنا مولانیو والا ڈھونگ چھوڑ اُسکے پیچھے پیچھے چلی آئی ۔۔۔
کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے خوبصورت تو میں بھی بہت ہوں"؟؟ قہر بھری نظر اُس پر ڈالتا وہ بولا ۔۔۔
" ہاں مگر پیسہ اس سے کم ہے میرے پاس ۔۔۔
اُسکے جیسا اسٹیٹس نہیں ہے میرے پاس
تمہیں اس طرح کے بنگلے میں نہی نہ رکھ سکتا تھا اسی لیے تو تم اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی شادی سے پہلے "۔۔۔ وہ حقارت آمیز لہجے میں بولا ۔۔
" بکواس بند کرو اپنی اور دفعہ ہو جاؤ اس سے پہلے کے میں تمہارا منھ توڑ دوں گھٹیا انسان ۔۔۔کتنی غلیظ سوچ ہے تمہاری"۔۔۔۔
منہا اُسکے الزام پر تڑپ اٹھی ۔۔۔وہ کچھ بھی برداشت کر سکتی تھی لیکن اپنی کردار کے بارے میں ایک لفظ نہی سن سکتی تھی۔۔۔۔
میں تو کبھی ایسا سوچ بھی نہی سکتی تھی تمہارے بارے میں کہ تم اتنا گر جاؤ گے ۔۔۔
لیکن بہت اچھا کیا کہ اپنی اصلیت دیکھا دی ۔۔۔۔ورنہ میں تو ساری زندگی اسی گلٹ میں رہتی کے میں نے تمہارا دل توڑا۔۔۔۔۔
لیکن بہت اچھے وقت میں تم نے میری سوچ کو غلط ثابت کیا ۔۔۔۔
بہت اچھا ہوا کہ میری تم جیسے گھٹیا انسان سے شادی نہیں ہوئی ۔۔۔
جسکی سوچ ہی اتنی گری ہوئی ہے وہ خود کتنا گرا ہوا ہوگا ۔۔۔۔
میں شکر گزار ہوں حمزہ کی جسکی وجہ سے میں تم جیسے " پست ذہن" کے مالک فرد سے بچ گئی۔،،،
میں خدا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔۔۔۔
جس نے اچھے وقت میں مجھے تم جیسے نفسیاتی شخص سے بچا لیا ۔۔۔اور مجھے اتنی عزت اور محبت کرنے والا شوہر دیا ۔۔۔
اب شرافت سے نکل جاؤ یہاں ںسے ورنہ گارڈ کو بولا کر دھکے دے کر نکلواؤنگی ۔۔۔۔
منہا حقارت بھرے لہجے میں بولتی قدم کمرے سی باہر نکالنے لگی کہ پیچھے سے اُسکی آواز سنآئی دی
" جا تو میں رہا ہوں لیکن اتنا یاد رکھنا کے تمہیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔
جس طرح تم نے مجھے لوگوں کے سامنے 'سوالیہ نشان" بنایا تھا اُسی طرح تمہارے ساتھ بھی ہوگا ۔۔۔
بلکل ویسے ہی تمہارے ساتھ کرونگا"وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا
منہا اُسکی آواز سنتی مڑے بغیر کمرے سے نکل گئی اور ملازمہ کو پانی لانے کا بولتی کاؤچ پر بیٹھ کر سر ہاتھوں میں تھام گئی ۔۔۔۔
وہ کیوں آج حمزہ کے بارے میں اُس سے بولی۔۔۔کیوں اُسکی تعریف کی اُسنے ۔۔۔
کیا وہ اُسکے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
ہاں وہ اُسکے دل میں جگہ بنا چکا تھا
اسی لیے تو اُسے اس وقت اُسکی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی
۔دل میں شدت سے خواہش پیدا ہوئی کہ وہ یہاں موجود ہوتا ۔۔۔۔۔
وہ اُس لمحے وہاں ہوتا تو کسی کی جرات نہی تھی کہ وہ اُسے یوں منھ اٹھاتا کچھ بھی بول جاتا ۔۔۔
سوچ سوچ کر اُسکا سر گھومنے لگا تھا ۔۔۔۔اُسے ایسا لگا کہ جیسے ایک دم سے ہوا میں آکسیجن ختم ہو گئی ہو۔۔۔
اُسکا سر چکرانے لگا تھا۔۔۔ دماغ پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔
تھوڑا سا پانی پیتے اُسنے لمبی سانسیں لیتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اُسکے بولے گئے جملوں کی بازگشت اُسے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔
کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھاتے اُسنے مشکل سے حمزہ کا نمبر ملایا
__________________________
دوسری جانب سے فوراً فون اٹھایا گیا ۔۔۔۔
ہمم" ۔۔۔۔ حمزہ ،،،،
وہ مشکل سے اُسکا نام لے پائی تھی ۔۔۔۔
"منہا کیا ہوا ہے طبیعت ٹھیک ہے ؟؟" وہ جو کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جلدی سے سیدھا ہوتا بولا ۔۔۔۔
آپ جلدی سے گھر آ جائیں ۔۔۔پلیز مَّ۔۔ مجھے ضرورت ہے آپکی" ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے اُسے بولی ۔۔۔
میں بس آ رہا ہوں منہا آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔
پلیز مجھے بتائیے تو سہی ہوا کیا ہے؟؟
بات کیا ہے وہ گاڑی میں بیٹھتا پریشانی سے اُس سے استفسار کرنے لگا ۔۔۔۔
" میں نے کچھ نہی کیا ۔۔۔۔۔وہ سب جھوٹ کہہ رہا تھامیں ایسی نہیں ہوں" وہ اٹکتی ہوئی سانسوں کے درمیان بول رہی تھی ۔۔۔
کون ؟؟؟کس نے کہا آپ سے کچھ!!!!
"منہا میں آ رہا ہوں بس خاموش ہو جائیں آپ طبیعت خراب ہو جائے گی میری جان ۔۔۔۔دادی کہاں ہیں؟؟ ۔۔۔
آپ انکے پاس جائیں میں بس آ رہا ہوں "
کہتے اُسنے کال ڈیسکنیکٹ کی اور گاڑی کی سپیڈ تیز کی ۔۔۔۔
پورچ میں گاڑی روکتا تیزی سے وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔وہ لاؤنج میں چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بیٹھی تھی ۔۔۔
منہا میری جان کیا ہوا ہے ۔۔۔وہ جلدی سے اُسکی جانب قدم بڑھاتِے متفکر سا پوچھنے لگا۔۔۔
وہ چہرے سے ہاتھ ہٹاتی اُسکی آواز سنتے تیزی سے اُسکی جانب لپکی اور روتے ہوئے اُسکے چوڑے سینے سے لگ گئی ۔۔۔۔
منہا کیا ہوا ہے کچھ تو بتائیے۔۔۔۔کیوں میری جان نکال رہی ہیں ۔۔۔۔حمزہ اُسکی کمر سہلاتا محبت سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
یہاں آئیں بیٹھیں بتائص مجھے کیا ہوا ہے ۔۔۔کیوں اس طرح رو رہی ہیں
وہ اُسکے سرخ چہرے کو دیکھتا بولا ۔۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ "فہد ،،۔۔۔
آیا تھا اُس نے مجھے بولا ۔۔۔مجھے بہت گندا بولا ۔۔۔میں نے جان بوجھ کر آپ سے شادی کی ۔۔۔۔اور اور وہ روتی ہوئی اُسے ساری بات بتا گئی ۔۔۔۔
حمزہ اُسکے گرد اپنا حصار بناتا اُسکی پشت سہلانے لگا ۔۔۔۔بس کچھ نہی ہوا ۔۔۔۔کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔۔۔خاموش ہو جائیں۔۔۔
"وہ دوبارہ آ جائے گا اُسنے کہا تھا" وہ اپنے آنسو صاف کرتی چہرہ اٹھاتی اُسے دیکھتی بولی
نہیں آئے گا "میری جان" ۔۔
میں آپکے ساتھ ہوں ہر پل ۔۔۔ہر لمحے ۔۔۔۔
اُسکی تو میں ایسی حالت کرونگا کے دوبارہ کبھی یہاں کا رخ کرنے کا بھی نہی سوچے گا ۔۔۔۔
حمزہ اُسکے بال چہرے سے ہٹاتا ساتھ لگائے کمرے میں لے آیا ۔۔۔۔
اُسے بیڈ پر لٹاتے اُسکے پاس بیٹھتے اُسکا کانپتا ہوا ہاتھ تھام کر اُسے پرسکون کرنے لگا
"کچھ نہی ہوا میں پاس ہوں آپ کے ۔۔۔۔چلیں آنکھیں بند کریں جلدی سے اپنی "
"آپ،،، آپ پاس رہیں میرے"
وہ اُسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے بولی ۔۔۔۔
میں پاس ہوں آپکے میری جان'''
کہیں نہیں جا رہا ۔۔۔۔۔"وہ اُسکے ماتھے پر لب رکھتا بولا ۔۔۔۔
وہ آئے گا تو نہی نہ ؟؟؟منہا نم آنکھوں سے خوفزدہ لہجے میں بولی ۔۔۔
نہثی بلکل بھی نہی جب تک میں آپکے ساتھ ہوں کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ میری فیملی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔۔۔۔
وہ مٹھیاں بھینچتا اپنے اشتعال کو دبائے اُسکے پاس بیٹھا اُسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا اُس کے سامنے کچھ بھی سخت رد عمل ظاہر کرے
وہ پہلے ہی بہت خوفزدہ تھی ایسے میں اگر حمزہ کچھ بولتا تو وہ اور زیادہ سہم جاتی ۔۔۔۔
کتنے ہی وقت وہ اُسکے پاس بیٹھا اُسکے معصوم چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔
آنکھوں کے کنارے رونے کی شدت سے ابھی تک سرخ تھے ۔۔۔۔
وہ نیند میں بھی اُسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی۔۔۔
موبائل پر بیل کی آواز پر وہ اُسکی آنکھوں پر لب رکھتا اٹھنے لگا تاکہ فون کی آواز سے وہ ڈسٹرب نہ ہو ۔۔۔۔
لیکن اس سے پہلے کے وہ اٹھتا منہا کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔کہاں؟؟؟
وہ سہمے ہوئے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔ خوف کی ایک سرد سی لہر اُسکے پورے جسم میں دوڑ گئی
حمزہ بوکھلا کر اُسکے ٹھنڈے ہاتھوں کو پکڑ کر اُسے ساتھ لگا گیا جو ایک بار پھر سے پینک ہونے لگی تھی ۔۔۔
اُسے خود میں بھینچے وہ ریلیکس کرنے لگا ۔۔۔
منہا اُسکے سینے میں چھپائے ایک بار پھر سے تیزی سے رونے لگی ۔۔۔
منہا میری جان کیوں تکلیف دے رہی ہیں خود کو اور مجھے اس طرح رو کر ۔۔۔میں ہوں نہ آپکے ساتھ پھر کیوں رو رہی ہیں ۔۔۔"شش "چپ میری جان ۔۔۔۔اچھا بتائیں آپ نے کچھ کھایا ؟؟....
اُس کے بالوں پر لب رکھتا وہ پوچھنے لگا ۔۔۔۔
وہ نفی میں سر ہلاتے پھر سے اُسکے سینے میں چھپانے لگی
حمزہ کو اُسکی حرکت پر ٹوٹ کے پیار آیا ۔۔۔۔
بری بات،، ۔۔۔
یار خود تو بھوکی ہیں ہی """میرے بےبی کو بھی کچھ نہی دیا ۔۔۔وہ اُسکا موڈ بدلنے کے لیے شوخ لہجے میں بولا ۔۔۔۔جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا ۔۔۔۔منہا اُس سے دور ہوتی ایک پل میں سرخ ہوئی ۔۔۔۔
اچھا آپ فیس واش کرکے آئیں جلدی سے میں کچھ کھانے کو لے کر آتا ہوں ۔۔۔
وہ سر اثبات میں ہلاتی اٹھ گی اور حمزہ نیچے کی جانب چلا گیا ۔۔۔۔۔
اُسے زبردستی کھانا کھلایا ۔۔۔۔
کھانے کے بعد جسم میں تھوڑی جان آئی تو وہ لیٹتی دوبارہ سے آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔
حمزہ اُسکے قریب بیٹھا فہد کے بارے میں سوچ رہا تھا....بہت مہنگا پڑے گا تمہیں یہاں آنا مسٹر فہد ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کوریڈور سے گزر کر پارکینگ کی طرف جانے لگا جب پیچھے سے" رکیں پلیز" کی آواز سنتے ایک دم اُسکے قدم تھمے۔۔۔
"اریج " اُسے رکتے دیکھ تیزی سے اُسکی جانب بڑھی ۔۔۔اُسکے قریب آتے وہ رک کر اپنا سانس بحال کرنے لگی ۔۔۔۔
"افف ایک تو آپ نے مجھے اپنا نام نہی بتایا میں کب سے رکیں رکیں بولی جا رہی ہوں۔۔۔۔
ہزار بندہ سن کر رک گیا لیکن آپ نے نہیں سنا "
وہ جنجھلاتی ہوئی بولی ....
اوہ آئم سوری مجھے جلدی تھی میں دھیان نہی دے پایا
مقابل خجالت سے اُسے دیکھتا بولا ۔۔۔
آپ بتائیںاسائمنٹ سبمٹ کروا دی؟ ۔۔۔سر نے دیکھی ۔۔۔کیسا رسپانس دیا ؟؟؟
۔۔۔۔پسند آئی اُنھیں ۔۔۔؟؟؟
موسیٰ نے سوالوں کی بوچھاڑ کردی
"اففف رک بھی جائیں آپ تو سٹارٹ ہی ہو گئے" ۔۔۔
اُسے سوالوں کے بھرمار کرتے دیکھ وہ بولی ۔۔۔
" جی میں نے پہلی ہی کلاس میں جمع کروا دی تھی ۔۔۔۔سر کو بہت پسند آئی ۔۔۔۔سر نے ساری کلاس کے سامنے مجھے ایپریشیٹ کیا "وہ مسکراتی ہوئی بولی
"اور اسکا سارا کریڈٹ آپکو جاتا ہے،۔۔۔
تھنک یو سو مچ ""
" اوہ میں پھر بھول گئی "وہ اپنے سر پر ہاتھ مارتی بولی
دراصل میں آپ سے پوچھنے آئی تھی کہ صبح آپکی فرسٹ کلاس فری ہے کیا؟؟؟
وہ ایکچوئلی مجھے کچھ ٹاپکس کلیئر کرنے ہیں ۔۔۔۔آپ مجھے سمجھا دیں گے "وہ اُسکی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی ۔۔۔
"جی میں سمجھا دونگا کوئی مسئلہ نہی اور آپ یوں میرا بار بار شکریہ ادا کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں پلیز" وہ اُسکی جانب دیکھتے بولا ۔۔۔
"اوکےاب نہیں بولتی" وہ مسکراتے ہوئے بولی
چلیں پھر صبح ملاقات ہوتی ہے ابھی مجھے زرا جلدی ہے ۔۔۔کہتے اُسنے قدم بڑھائے
"اوہو نام تو بتاتے جائیں اپنا کل پھر میں آپکو ڈھونڈتی پھروں گی "۔۔۔۔ وہ جھنجھلا کر بولی
وہ مسکراتا ہوا پلٹا ۔۔۔۔
" موسیٰ بٹ" اور آپکو ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں میں گراؤنڈ میں ہی بیٹھونگا آپ وہاں آ جائیے گا ۔۔۔ وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
اوکے اور میں" اریج شاہ"
وہ بھی مسکراتی ہوئی اُسے دیکھتی بولی اور الوداعی کلمات ادا کرتے اسکو دور جاتے ہوئے دیکھنے لگی
""موسیٰ"" ۔۔۔۔۔
اُسکا نام زیر لب لیتے وہ سمیع کو کال کرنے لگی ۔۔۔۔
_____________________________
وہ نیچے لاؤنج میں بیٹھی اریج کی جانب متوجہ تھی جو اُسے یونی ورسٹی کی باتیں سنا رہی تھی ۔۔۔۔دادو بھی وہیں بیٹھی اُسکی باتیں سنتی مسکرا رہی تھیں
حمزہ اُسکی طبیعت خرابی کا دادو کو بتاتا مطمئن کر چکا تھا
اسلیے اُس سے کسی نے بھی کوئی سوال نہیں کیا ۔۔۔
سمیع جو قریب بیٹھا تھا اچانک اپنے دل پر ہاتھ رکھتا بولا ۔۔۔
بھابھی میری پیاری بھابھی ۔۔۔!!!
کیا کام ہے!!!
زیادہ مسکے لگانے کی ضروری نہیں
کام بتاؤ ؟؟ وہ اس کی طرف دیکھتے مسکراتے ہوئے بولی
بھابھی میں سوچ رہا تھا کث آپ اکیلی ہوتی ہیں سارا دن بور ہو جاتی ہیں ۔۔۔۔
اسلیے اگر آپ دو ہو جائیں تو آپکی بوریت ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔۔ وہ اس کے نزدیک بیٹھتا ہوا بولا
دو ۔۔مطلب؟؟؟
منہا اُسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی بولی۔۔
"میری معصوم بھابھی یہ بہت تیز ہے ۔۔۔۔ اریج اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔۔۔؟ یہ اپنی شادی کے مطلق بات کر رہا ہے آپ سے "۔۔۔۔
کیوں ایسی ہی بات ہے نہ سمیع؟؟...اریج اُسے دیکھتی بولی ....
تو وہ شرمانے کی ایکٹنگ کرتے چہرہ جھکا گیا ۔۔۔۔اُس کو یوں شرماتے دیکھ منہا کا قہقہ گونجھا ۔۔۔
"بیٹا جی یہ تو ابھی بھول ہی جاؤ کہ ایسا کچھ ہوگا۔ابھی خاموشی سے پڑھائی مکمل کرو اور اپنے بھائی کا ساتھ دو کاروبار میں پھر کچھ سوچیں گے "
دادی اُسکا کان پکڑتی ہوئے بولیں
"آہ دادی جان سب کچھ ساتھ ساتھ ہوتا رہے گا "وہ اپنا کان مسلتا بولا ۔۔۔
اور ویسے بھی میں تو بھابھی کا ہی احساس کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
"تم میرا احساس تو رہنے ہی دو ۔۔۔میں بلکل بھی بور نہیں ہوتی آپ سب ہیں نہ میرے پاس "منہا ٹیبل پر پڑی پلیٹ سے چپس اٹھاتی بولی ۔۔۔۔
" بھابھی آپ اسے چھوڑیں میری بات سنیں
کل بھی آپ اتنی جلدی سو گئیں تھی میری بات ہی نہیں سنی اور اب بھی اسکی طرف ہو گئی ہیں" ۔۔۔۔
اریج منھ پھولتے بولی۔۔۔
'جی میری جان تم بولو میں سن رہی ہوں" منہا اُسکا پھولا ہوا چہرہ دیکھتی بولی۔۔۔
" اچھا میں یہ بتا رہی تھی کہ اُسکے دیے گئے ٹاپکس کی وجہ سے سر نے میری پوری کلاس کے سامنے تعریف کی۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو اکاؤنٹنگ کے سر پیر کا پتہ ہی نہیں چلتا ۔۔۔۔
سچی یار میرے لیے تو وہ فرشتہ ہی ظاہر ہوا "۔۔۔۔
اُسکی بات سنتی منہا کو اپنا بھائی یاد آ گیا
وہ اکثر کہتا تھا کہ آپی تم مجھے کچھ سمجھتی نہیں ہو اور پوری کلاس میرے آگے پیچھے گھومتی ہے۔۔۔۔
اسکو بھی تو اکاؤنٹنگ بہت پسند تھی اُسکا فیورٹ سبجیکٹ تھا ۔۔۔۔۔
اُسے سوچتے ایک دم سے اُسکی آنکھیں بھیگ گئیں
"اور نہ میں نے آج آتے ہوےث اُسکا نام بھی پوچھ لیا ۔۔۔۔
کیوں کہ کچھ میرے ٹاپکس جو کلیئر نہی ہوئے تھے کل وہ بھی اُس سے سمجھ لونگی ۔۔۔
اُسکے سمجھانے کا انداز بہت اچھا ہے" ۔۔۔۔ اریج مزید اسکے بارے میں بتاتے ہوئے بولی
منہا کو نام جاننے میں اشتیاق ہوا۔۔۔ایک مبہم سی اُمید تھی شاید وہ اُسکا بھائی ہوتا ۔۔اسلیے پوچھ بیٹھی
" کیا نام ہے اُسکا؟؟؟؟"
------------------------------
اسلام علیکم"۔۔۔۔سلام کرتے حمزہ دادی کے آگے جھکتے اُن سے پیار لیتے سب کے ساتھ آ بیٹھا ۔۔۔
منہا جو اریج کی بات سن رہی تھی سلام کا جواب دیتی پھر سے اُسکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔
کیوں میری بیوی کو گھیرے بیٹھے ہو دونوں؟؟
منہا کو انکے درمیان بیٹھے اتنی توجہ سے انکی باتیں سنتا دیکھ حمزہ رہ نہ سکا اور بول اٹھا۔۔۔۔۔
آپ کو تنگ تو نہی کر رہے یہ دونوں؟؟
منہا کی جانب دیکھتے اُس نے نرمی سے استفسار کیا
نن، نہیں!!! ۔۔۔۔سب کی نظروں سے خائف ہوتی وہ جلدی سے بولی ۔۔۔۔
اریج اور سمیع اُسے شکایتی نظروں سے دیکھنے لگے ۔۔
۔اور ایک دوسرے کو آنکھوں میں اشارے کنارے کرنے لگے ۔۔۔۔
منہا انکی حرکات دیکھ جلدی سے اٹھتی بولی "میں پانی لے کر آتی ہوں آپ کے لیے" ۔۔۔
نہیں رہنے دیں آپ بیٹھی رہیں ۔۔۔
میں چینج کر کے آتا ہوں آپ لوگ بیٹھیں۔۔۔
اُسکے جانے کے بعد سمیع اور اریج اُسے ہی دیکھ رہے تھے جو اُنگلیاں مروڑتی ارد گرد دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اُنکی جانب دیکھتے تنگ آتی وہ بولی۔۔۔۔
" کیا ہے ۔۔۔۔کیوں مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو دونوں؟؟"
"ایک بات بتائیں اتنا ہم نے آپکو تنگ نہی کیا جتنا آپ
نے بھائی کو ہمارے پیچھے لگوا دیا ہے"
سمیع نے تپتےہوئے کہا ۔۔۔
'می،،میں نے انکو کچھ نہیں بولا وہ بس خود ہی
اچھا چھوڑو بھی یہ بات اریج تم مجھے نام بتا رہی تھی اُسکا" ۔۔۔
اریج سر اثبات میں ہلاتی بولنے لگی
مم،،،اس سے پہلے کے وہ نام لیتی ۔۔۔۔
سمیع کی آواز آئی ۔۔۔۔۔
"یہاں میں اتنی اہم بات کر رہا ہوں بھابھی میری زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہے اور آپکو نام جاننے کی پڑی ہے" ۔۔۔۔
و ہ اونچی آواز سے دہائی دیتا بولا۔۔۔
منہا کو اُسے ایسے عورتوں کی طرح بولتے دیکھ ہنسی آئی ۔۔۔۔
_ اچھا نہی پوچھ رہی کچھ ۔۔۔۔۔تم بتاؤ کیا بات ہے اب؟" ۔۔۔
وہ اُسکی طرف گھوم کر سوال کرنے لگی
"زیادہ کچھ نہی بس اپنے شوہر نامدار کو بول کر کہیں ٹانکا فٹ کروا دیں میرا بھی ۔۔۔۔
میرا بھی کوئی جانو، ۔۔۔۔شونا ہو ،،۔۔۔۔
میں اُس سے دل کے دکھ درد شیئر کر سکوں"۔۔۔
"کون سے دکھ درد ہیں تمہارے زرا مجھے بھی تو بتاؤ ۔۔۔۔۔
حمزہ نیچے کی جانب آتا اُسکی بات سن چکا تھا ۔۔۔۔اسلیے اُنکے قریب آتا بولا ۔۔۔۔
سمیع ہڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔۔۔۔
"نہیں۔۔۔ کوئی بھی،، کچھ بھی نہیں ہم تو بس ویسے ہی بات کر رہے تھے" وہ گھبراتے ہوئے بولا
" نہی سمیع بتا دو اگر کوئی بات ہے تو "منہا شرارتی نگاہوں سے اسے دیکھتے بولی ۔۔۔۔
" بھابھی اللہ کا واسطہ بچا لو ۔۔۔۔آپ جو بولیں گی وہ کرونگا "وہ آگے جھکتا منہا کے کان کے قریب بڑبڑایا ۔۔۔
چاٹ لا کر دو گے ؟؟
منہا ابرو اچکاتی اُسے دیکھتے پوچھنے لگی۔۔۔
" ہاں ہاں سب لا دونگا ۔۔۔اللہ کی بندی"
وہ چہرے پر معصومیت طاری کرتا بولا
"ٹھیک ہے پھر ڈن"
"وہ تو ویسے ہی کوئی یونی ورسٹی کی بات سنارہا تھا ۔۔۔چلیں آ جائیں سب ڈنر کرلیں"۔۔۔۔
سمیع کی رکی سانسیں بحال ہوئی تھیں
منہا سب کو دیکھتی بولی اور کچن میں ملازمہ کو کھانا لگانے کا بولنے چلے گی ۔۔۔۔
___________________________
حمزہ فون کان سے لگائے ٹیرس پر کھڑے ہوئے کسی سے بات کر رہا تھا۔۔
منہا اُسے ایک نظر دیکھ بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔۔۔
نیند تو اُسے بہت آ رہی تھی لیکن کچھ دیر ایسے ہی لیٹی حمزہ کا انتظار کرتی رہی ۔۔۔
لیکن جب وہ نہیں آیا تو کروٹ بدل کر سو گئی ۔۔۔
حمزہ نے اپنے خاص بندے کو کہہ کر فہد کو اٹھوایا تھا
اس وقت وہ اُسی سے بات کر رہا تھا
"جی سر آپ کا کام ہو گیا ہے ۔۔۔۔
اسکی تو ہم نے ایسی خدمت کی ہے کہ دوبارہ کبھی آپ کی جانب دیکھنے کا بھی نہیں سوچے گا "۔۔۔
دوسری جانب سے آدمی بولا۔۔۔
"بات کرواو میری اس سے" وہ سنجیدگی سے بولا
اُن لوگوں نے اُسکی اچھی دُرگت بنائی تھی کہ اب تو اُسکی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
"پلیز !!انہیں بولو مجھے چھوڑ دیں ۔۔۔میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا "۔۔۔۔
فہد تکلیف سے دوہرا ہوتا بولا۔۔۔
حمزہ کو اُسکے کہے گئے الفاظ ایک بار پھر سے طیش دلا گئے ۔۔۔۔۔
" جان تو تم گئے ہوگے کہ تمہیں کس چیز کی
سزا ملی ہے ۔۔۔۔۔
اور اگر نہی جانے تو میں یاد کروا دیتا ہوں ۔۔
یہ سزا تمہیں میری بیوی کو تکلیف دینے کی وجہ سے ملی ہے "۔۔۔۔حمزہ سرسراتےلہجے میں بولا
آ تو میں خود جاتا ۔۔۔لیکن بات ایسا ہے کہ میرے پاس اتنے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے وقت نہیں اسلیے میرے بندے کو بیھجا ۔۔۔۔
اُمید ہے اُس نے تمہیں بہت اچھے سے سمجھایا ہوگا
اور سمجھ تو تم گئے ہوگے۔۔۔
یاد رکھنا اب دوبارہ کبھی میرے گھر کی طرف آنکھ اٹھانے کی کوشش کی تو جان سے جاؤ گے "۔۔۔۔۔
حمزہ غصہ سے غرایا ۔۔۔۔۔
" دل تو میرا یہی کر رہا تھا کہ تمہاری زبان کاٹ دوں جس سے تم نے میری بیوی کو تکلیف دی ۔۔۔۔
اور تمہاری ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں ۔۔۔جن پر چل کر تم میرے گھر آئے ۔۔۔
لیکن رحم آ گیا کہ تمہاری اس حالت کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کا کیا ہوگا ؟؟
چّ،،، چچ۔۔۔۔۔
کیسے سنبھالیں گے تمہیں۔۔۔
اسلیے کوشش کرنا کہ اب کبھی میرے سامنے نہ آؤ ورنہ میں اپنا ارادہ بدل سکتا ہوں" ۔۔۔۔
سرد لہجے میں کہتے اُسنے فون بند کردیا
ٹیرس کا دروازہ بند کرتا وہ روم میں آیا تو وہ سو چکی تھی۔۔۔
وہ لائٹ آف کرتا اُسکے قریب آتا اُس کے ماتھے پر لب رکھتا
پرسکون ہوتا اُسکی گردن میں چہرہ چھپا کر سو گیا ۔۔۔۔
سارا اشتعال ۔۔۔ ساراغصہ کہیں دور جا سویا۔۔۔۔
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
دن یونہی خوشگوار اور معمول کے مطابق گزر رہے تھے۔۔۔
اریج اکثر موسیٰ سے بات کر لیتی ۔۔۔جو مشکل ہوتی پڑھائی میں وہ پوچھ لیتی ۔۔۔۔اب تو وہ کافی حد تک فرینک ہو چُکے تھے ۔۔۔اور اس میں بھی زیادہ ہاتھ موسیٰ کی نرم طبیعت کا تھا ۔۔۔
جسکی وجہ سے اریج اُس سے بلا جھجک بات کر لیتی
لیکچر لے کر وہ اپنے دوست سجاول کے ساتھ گراؤنڈ میں بیٹھا کچھ ڈسکس کر رہا تھا ۔۔۔۔
جب اسے دور سے وہ اپنے گروپ کے ہمراہ آتی ہوئی دکھائی دی ۔۔۔
کسی بات پر وہ ہنس رہی تھی
یلو کلر کی شلوار قمیص پہنے،، سفید دوپٹے کا حجاب کیے وہ اُسے اپنی جانب متوجہ کر گئی۔۔۔۔
وہ مبہوت ہو کر اُسکی ہنسی دیکھنے لگا ۔۔۔۔
اچانک اُسکی نظر قریب ہی کھڑے دو لڑکوں پر پڑی جو اریج کو بڑی کمینگی سے دیکھ رہے تھے۔۔
"سجاول میں ابھی آتا ہوں تم یہی بیٹھو "
وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتا بولا
سجاول جو اپنے کام میں مصروف نیچے منھ کرکے سوال حل کر رہا تھا اُسے اچانک اٹھتا دیکھ پریشان ہوا
کیا بات ہے موسیٰ یار سب خیریت ہے نہ ؟؟؟۔۔۔
" ہاں سب ٹھیک ہے میں آتا ہوں ابھی "کہتا وہ اٹھ گیا ۔۔۔
چلتے ہوئے اُسکے قریب آتے وہ سرد لہجے میں بولا۔۔۔
اریج اٹھئیں یہاں سے ۔۔
موسیٰ کی سرد آواز پر وہ بوکھلاتی اُسے دیکھتی جلدی سے اٹھتی بولی۔۔۔
" آپ !!کچھ کام تھا "
کیوں کہ سب لڑکیاں معنی حیزی سے اُسے دیکھ رہی تھی
"جی!!
اٹھئیں یہاں سے "وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھتے بولا
اریج جلدی سے اٹھی اور اُسکے پیچھے گراؤنڈ سے نکل گئی ۔۔۔۔
اریج اُسکا سرد انداز دیکھ ایک پل میں خوفزدہ ہوئی ۔۔۔۔
کوريڈور میں آ کر وہ روکا اور اُسکی طرف مڑا۔۔۔
اریج جو پہلے ہی گھبرا رہی تھی اُسکی سرخ آنکھیں دیکھ دو قدم پیچھے ہوئی ۔۔۔
"آپکو خود دکھائی نہی دیتا کیا وہ اپکو کن نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
اپنے اِرد گرد سےانجان مت رہا کریں" ۔۔۔۔وہ اُسکی جانب دیکھ سختی سے بولا ۔۔۔۔
اُسکا سخت انداز دیکھ اریج کی آنکھیں پل میں نم ہوئی ۔۔۔۔
اور یہ نمی موسیٰ کی آنکھوں سے چھپ نہیں سکی ۔۔۔۔۔ اُسے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
" آئم ،،سو ،،سوری ۔۔۔۔
میں آپکو یوں ہرٹ نہی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔بس مجھے غصّہ آ گیا "۔۔۔
اُسکا نرم رویہ دیکھتے ہی اریج کے روکے ہوئے آنسو رخسار پر بکھرے ۔۔۔۔
اُسے روتے دیکھ موسیٰ کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔
"لک!! آئم ریلی سوری یار "
اُسکے چہرے سے نظریں ہٹاتا وہ بولا ۔۔۔۔ورنہ اُسکی نم پلکیں دیکھ اُسکا دل ایک الگ لے پر دھڑکا تھا ۔۔۔
بس میں انہیں دیکھ کر خود پر کنٹرول نہیں رکھ پایا ۔۔۔۔
وہ اپنے مخصوص نرم لہجے میں بولا۔۔۔
"آپ نے مجھے ڈرا دیا ۔۔ اتنے غصے سے بات کی مجھ سے "
اریج آنسو صاف کرتی بولی ۔۔۔
موسی کی نظر اُس پر ٹھر سی گئی ۔۔۔۔
رونے کی وجہ سے دودھیا رنگت میں سرخی نمایاں ہو رہی تھی ۔۔۔دراز بھیگی پلکیں لرز رہیں تھی ۔۔۔۔
دراز پلکیں ، وصال آنکھیں
مصوری کا۔۔۔۔۔۔۔ کمال آنکھیں
شراب رب نے ۔۔۔۔۔۔حرام رکھ دی
تو پھر کیوں رکھی ۔۔۔۔۔۔۔خلال آنکھیں
ہزاروں ان سے ٫٫٫٫قتل ہوئے ہیں
خدا کے بندے سنبھال آنکھیں۔۔۔۔۔
اُس کی اٹھتی گرتی پلکیں دیکھ موسیٰ اُسے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
سچ ہی کہا ہے کسی نے آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں وہ اُسے دیکھتا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
اسکو دیکھ موسیٰ اپنے دل کی بے ہنگم دھڑکنوں کو محسوس کرتا جلدی سے اُس پر سے نظروں کا زاویہ بدل گیا ۔۔۔
وہ اب بچوں کی طرح منھ پھلاتی اُس سے شکوہ کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
"میں ایسا نہی چاہتا تھا ۔۔میں اپنے سخت رویے کی معافی چاہتا ہوں "وہ شرمندہ ہوتا بولا۔۔۔۔
" ہممم ٹھیک ہے معافی آپکو ایک صورت میں ملے گی" وہ اُسے یوں شرمندہ دیکھ شرارت سے بولی
وہ جان گئی تھی کہ وہ کیوں اُسے وہاں سے اٹھنے کا بول رہا تھا ۔۔۔۔۔
اُن لڑکوں کی عجیب نظریں تو وہ خود بھی نوٹ کر چکی تھی لیکن نظرانداز کرتی باتوں میں لگ گئی ۔۔۔
_____________________________
منہا ٹیرس پر کھڑی تازہ ہوا لے رہی تھی ۔۔۔
حمزہ نے کمرے میں قدم رکھا تو اُسے ٹیرس پر کھڑا پایا۔۔۔
یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔؟؟
حمزہ نے پیچھے سے اُسے اپنے حصار میں لیا اور اُسکے کان کے قریب سرگوشی کی ۔۔۔۔
آپ،،آپ کب آئے ۔۔۔؟؟
منہا اُسکے حصا ر میں مسکراتی بولی
"ابھی آیا ہوں ۔۔۔۔۔
آپ بتائیں یہاں کھڑی میرا انتظار کر رہی تھیں" ۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھتے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔
"خوش فہمی ہے آپکی" منہا مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔
" اور مجھے اس خوش فہمی میں ہی رہنا ہے" حمزہ چمکتی آنکھوں سے اُسے دیکھتے بولا۔۔۔۔
"اچھا جائیں آپ چینج کرکے آئیں ۔۔۔۔میرا دل گھبرا رہا ہے
باہر چلتے ہیں واک پر کچھ دیر" ۔۔۔۔ وہ اس کی طرف مڑتی ہوئی بولی
"اگر زیادہ طبیعت خراب ہو رہی ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں"۔۔۔
حمزہ متفکر ہوتا اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتے بولا۔۔۔
"نہیں طبیعت نہیں خراب بس ویسے ہی تھوڑا ڈل سا محسوس کر رہی ہوں ۔۔۔
باہر جاؤنگی تو بہتر محسوس کرونگی" اُسے پریشان ہوتا دیکھ منہا بولی ۔۔۔
اُسکا دل صبح سے ہی بہت پریشان تھا ۔۔۔
حمزہ اُسے دیکھ فکر مند ہوا ۔۔۔
"بس ویسے ہی طبیعت عجیب ہو رہی ہے ۔۔۔پریشانی کی بات نہیں "
منہا اُسے اپنے لیے متفکر دیکھ بولی ۔۔۔
"اچھا میں آتا ہوں آپ ریڈی رہیں ۔۔۔۔پھر واک پر چلتے
ہیں "
کچھ دیر میں وہ اس کے ساتھ آہستہ اسٹیپ لیتے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔
__________________________
پارک میں اُس کے ساتھ چلتے وہ اردر گرد روشنیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔کئی خوشگوار لمحے اچانک اُسکی آنکھوں کے سامنے آئے ۔۔۔۔
آنکھیں فوراً نم ہوئیں ۔۔۔
وہ کافی وقت بعد باہر کی ہوا میں کھل کر سانس لے رہی تھی۔۔۔
حمزہ اُسے خاموش دیکھ کر خود ہی اُسے مخاطب کر گیا۔۔۔
" منہا اتنی خاموش کیوں ہیں؟؟؟.... کیا اپنے گھر کی یاد آ رہی ہے "؟؟؟....
وہ سر کو اثبات میں جنبش دیتے بولی ۔۔۔۔"مجھے موسیٰ کی یاد آ رہی ہے ۔۔۔۔
"آپکو پتہ ہےمجھے ٹھنڈ بہت پسند ہے ۔۔۔۔
میں مما کے ساتھ ضد کرکے موسیٰ کے ساتھ رات میں باہر نکلتی ۔۔۔
اور وہ بیچارہ ۔۔۔ٹھنڈ سے کانپ رہا ہوتا تھا "۔۔۔۔
وہ اُسکے بازو میں اپنا ہاتھ ڈالتی مسکراتی ہوئی بولی....
کافی وقت وہ لوگ باتیں کرتے رہے ۔۔۔جب منہا کی نظر دور پانی پوری والے ٹھیلے پر پڑی ۔۔۔۔
" حمزہ مجھے وہ کھانے ہیں "
وہ دور سے اُس طرف اشارہ کرتی بولی ۔۔۔۔
"اچھا چلیں آ جائیں پھر مل کر کھاتے ہیں"۔۔۔۔وہ مسکراتا ہوا اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔۔
آپ بھی کھائیں گے ؟؟؟
وہ حیرت اور بےيقینی کے ملے جلے تاثر سے بولی ۔۔۔۔
" کیوں جب آپ کھا سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں " وہ بھی جواب میں مسکراتے ہوئے بولا
منہا تو مزے لے لے کر کھا رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن حمزہ نے ابھی پہلا ہی کھایا تھا کہ مرچ سے اُسکا چہرہ لال ہو گیا ۔۔۔۔
پّ ۔۔۔پانی ۔۔۔۔۔
وہ کھانستا ہوا بولا ۔۔۔۔
منہا نے جلدی سے آدمی سے پانی لیتے گلاس حمزہ کے منھ سے لگایا جسے وہ ایک ہی سانس میں پی گیا ۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں؟؟؟
منہا اُسے پریشانی سے دیکھتی بولی ۔۔۔۔
"ہاں ۔۔۔بس تیکھا بہت تھا ۔۔۔۔
آپ کیسے کھا رہی ہیں ۔۔۔۔مجھے سے تو ایک نہیں کھایا جا رہا" ۔۔۔۔
وہ اُسکی جانب دیکھتے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
" کہاں کوئی زیادہ تیکھا تو نہی ہے۔۔۔۔اتنا مزے کا ہے "
وہ سوں سوں کرتی بولی ۔۔۔۔
حمزہ نے پاکٹ سے رومال نکالتے اُسکی جانب بڑھایا ۔۔۔
جیسے وہ مسکراتے ہوئے تھام گئی
مرچوں کی وجہ سے اُسکی چھوٹی سی ناک سرخ پڑ رہی تھی ۔۔۔۔لیکن وہ پرواہ کیے بغیر مزے لیتی کھا رہی تھی
کچھ دیر اور واک کرنے کے بعد انہوں نے واپس گھر کے لیے قدم بڑھائے ۔۔۔۔
"آپ اچھے ہوتے جا رہے ہیں" ۔۔۔۔
منہا اُسکے کندھے پر سر رکھتی مسکراتی ہوئی بولی
" میں پہلے بھی اچھا ہی تھا آپ نے کبھی مجھ غریب پر نظر ہی نہیں ڈالی" ۔۔۔۔
وہ مسکین شکل بناتا بولا۔۔۔۔اور اُسکی کمر کے گرد بازو حائل کر گیا
منہا اُسکی بات سنتی کھلکھلا دی ۔۔۔۔
"منہا" بھاری گھمبیر لہجے میں اُسکا نام پُکارا گیا
"جج،، جی "منہا نے اُسکی جانب دیکھا
مجھے "بیٹی" چاہیے ۔۔۔۔
وہ محبت پاش نظروں سے اُسے دیکھتے بولا
منہا اُس سے تھوڑا فاصلہ اختیار کر گئی
شرم سے پلکیں لرزنے لگیں۔۔۔۔رخسار تپ سےگئے ۔۔۔
"ایسے نہیں دیکھیں پلیز"
منہا اُنگلیاں مرورتی ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوئے بولی
پھر کیسے دیکھوں ؟؟۔۔۔۔
وہ اُسکے ساتھ قدم بڑھاتا مسکراتے ہوئے بولا۔۔
"حمزہ اگر اب آپ نے مجھے یوں دیکھا تو ،،،، تو
تو میں نے ناراض ہو جانا" ۔۔۔۔وہ روہانسی ہوتی بولی
" ہاہاہا!!! اچھا یار نہیں دیکھتا "
وہ اُسے اپنے حصار میں لیتا گھر میں داخل ہوتا محبت بھرے انداز میں بولا۔۔۔
______________________________
"کس صورت میں"؟؟...
موسیٰ اُسے نرم نگاہوں سے دیکھتا بولا۔۔۔
" زیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں کوئی بہت مشکل کام نہیں کہنے لگی ۔۔۔
بس کینٹین سے کچھ کھلا دیں ۔۔۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے "وہ بیچارہ سا منھ بناتی بولی ۔۔۔۔
موسیٰ اُسکی معصومانہ بات سنتا مسکرا دیا
" جی جی کیوں نہی ۔۔۔۔آ جائیں بھوک تو مجھے بھی لگ رہی ہے "
دونوں نے کینٹین کی جانب قدم بڑھائے
دونو ہی اپنی فیلنگز سے انجان تھے یا پھر جان بوجھ کر سمجھنا نہی چاہ رہے تھے ۔۔۔۔
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
بابا نہیں ۔۔۔۔" بابا آپ مجھے نہیں چھوڑ کے جا سکتے"
اٹھئیں ناں " بابا ۔۔۔۔وہ مسلسل اپنے بابا کا نام لیتی چیختی جا رہی تھی
منہا"....منہا "حمزہ اُسکا نام پکارتے اُسے جنجھورنے لگا جو بند آنکھوں سے مسلسل چیختی ایک ہی نام پکاڑے جا رہی تھی
منہا ۔۔۔"میری جان کیا ہو گیا ہے آنکھیں کھولیں ۔۔۔وہ اُسکا چہرہ تھپتھپاتے بولا۔۔۔۔
لیمپ کی مدھم روشنی میں وہ اسکو آنکھیں کھول دیکھنے لگی ۔۔۔
حمم۔۔۔۔حمزہ " ۔۔۔ میرے بابا اُسکا نام ادا کرتے وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی
کچھ بھی نہیں ہوا منہا۔۔۔۔۔سب ٹھیک ہے وہ اُسے اپنے سینے سے لگاتا بولا ۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کے اُسنے یقیناً کوئی برا خواب دیکھا ہے جسکی وجہ سے وہ مسلسل رو رہی تھی۔۔۔
جلدی سے سائڈ ٹیبل سے پانی کا جگ لیتے وہ گلاس میں پانی انڈیلتے اُسکے ہونٹوں سے لگا گیا ۔۔۔۔
تھوڑا سا پانی پیتی وہ گلاس ہٹاتی بولی
مجھے بابا کے پاس جانا ہے ابھی اسی وقت وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
منہا سب ٹھیک ہے ۔۔۔
ہم صبح چلیں گے ۔۔۔میں خود آپکو لے جاؤنگا کل ۔۔۔
اس وقت اُنکی نیند خراب ہو جائیگی وہ محبت سے بولتا اُسکے بالوں پر لب رکھ گیا
نہی میں نے بہت بڑا 'خواب" دیکھا
میرے بابا" ۔۔۔
مجھے ابھی بات کرنی ہیں اُن سے
وہ ٹھیک نہی تھے حمزہ آپ کیوں نہی سمجھ رہے میرا اس وقت اُن سے ملنا کتنا ضروری ہے
وہ بے بسی سے بولتی ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھر سے رونے لگی ۔۔۔
اچھا آپ پلیز اس طرح مت روئیں۔۔۔۔آپ ایسا کریں اپنے بھائی کو کال کرکے پوچھ لیں۔۔
وہ اسکو اس طرح روتا دیکھ ساتھ لگاتا بولا۔۔۔
ہمہم،،، میں کرتی ہوں ۔۔
وہ موسیٰ سے بات کرتی سب کی خیریت معلوم کرتی پرسکون ہوئی ۔۔۔
اُسکے سینے پر سر رکھ کر گہرا سانس کھینچتی وہ آنکھیں موند گئی
وہ اُسکے بال سہلاتا مختلف سوچوں میں گھرا ہوا تھا۔۔۔
نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
ایک ہی ڈر ستاے جا رہا تھا کے اگر وہ اپنے گھر والوں سے ملنے کے بعد اُسے بھول گی تو۔۔۔"
پہلے ہی کافی وقت بعد تو وہ اُس کے ساتھ ہنسنے بولنے لگی ہے ،،،
عجیب کشمکش میں وہ خود کو گھڑا محسوس کر رہا تھا۔۔۔ دماغ الگ تانے بن رہا تھا ۔۔۔۔۔ ایک پل کے لیے وہ خود غرض ہوا ۔۔۔۔
سب خیالوں کو پس پشت ڈالتے وہ آنکھیں موند گیا
______________________
وہ باہر کھلےصحن میں بیٹھی آسمان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جب قدموں کی چاپ پر انہوں نے نظروں کا زاویہ پھیرا ۔۔۔۔
کیا کر رہی ہیں یہاں رات کے اس پہر۔۔۔
منہا کے بابا (ارتضیٰ صاحب) اُنکے قریب آتے بولے۔۔۔
کچھ نہی بس نیند نہی آ رہی تھی
تو ٹھنڈی ہوا لینے باہر آ گئی وہ اپنی آنکھوں کی نمی چھپاتی لہجے کو کافی حد تک نارمل رکھتی بولی ۔۔۔
لیکن مقابل بھی اُنکے شریک حیات تھے اُنکی رگ رگ سے واقف تھے
اچھا جہاں تک مجھے معلوم ہے آپکو تو ٹھنڈی ہوا بلکل نہی پسند
وہ انکا چہرا اپنی جانب کرتے بولے
کلثوم بیگم اُنکی جانب دیکھتی ہاتھوں میں چہرہ چھپائے رو پڑی "
مجھے 'منہا " بہت یاد آ رہی ہے
چار ماہ سے میں نے اپنی بچی کا چہرہ نہیں دیکھا ۔۔
اسکو میں ایک منٹ اپنی نظروں سے اوجھل نہی ہونے دیتی تھی اب چار ماہ سے اُسکا چہرہ تک نہیں دیکھا
وہ بے بسی سے بولیں
میرا دل پھٹ رہا ہے ۔۔۔۔پتہ نہیں میری بچی کیسی ہوگی "میرا دل ہول رہا ہے
مجھے اُسکے پاس جانا ہے ۔۔۔۔میں مر جاونگی اُسکے بغیر وہ روتے ہوے بولتی اُنکے کندھے سے اپنا سر ٹیکا گئی ۔۔۔۔
ارتضیٰ صاحب خود بھی اپنے پر سختی کا خول
چہرہاے پھر رہے تھے
لکین اب اپنی بیوی کی ایسی خالت دیکھ کر اُنکی اپنی آنکھیں نم ہو گئی ۔۔۔
آپکو میں نے کب منع کیا اُس سے ملنے سے ۔۔۔۔آپ رابطہ رکھیں اُس سے ۔۔۔اولاد ہے ہماری
اور اولاد تو غلطیاں کر جاتی ہے ۔۔۔مان باپ کا فرض ہے
اُنھیں معاف کرنا ۔۔۔اُنھیں سمجھآنا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے ہم نے اپنی بیٹی کے ساتھ بہت غلط کر دیا ۔۔۔۔اُسے یوں ایک پل میں پرایا کر دیا ...
اُنکی رندھی ہوئی آواز سن کر وہ ایک دم اُنکے کندھے سے سر اٹھا گئی اور کانپتی ہوئ آواز میں بولی ۔۔۔
وہ ٹھیک تو ہوگی نا؟؟
انشا اللہ مجھے اپنے رب پر یقین ہے ،،
ہماری بیٹی بلکل ٹھیک ہوگی ۔۔۔۔ہم کل ہی اُس سے ملنے جائے گے
میں بس اسلیے خاموش تھا کے کچھ دیر وہ ہم سے دور رہے اسکو اُسکی غلطی کا احساس ہو ۔۔۔
اُسے خود سے دور کیا تھا رشتا نہی ختم کیا
جلد اُسے اپنے ساتھ لے کر آئیں گے
وہ اُنکی آنکھوں میں بیٹی کے لیے تکلیف دیکھ سکتی تھی اسی لیے خاموشی سے سر کو جنبش دے گئ
_____________________
حمزہ نے منہا کے گھر والوں کو ساری بات بتا دی اور ان سے معافی مانگی۔۔۔
کلثوم بیگم سچ جان کر بلکل ساکت ہو گئی ۔۔۔۔ ارتضیٰ صاحب کا بھی حال کچھ ایسا ہی تھا ۔۔۔
وہ کیسے نہ سمجھ پائے اپنی بیٹی کو کلثوم بیگم اپنی بیٹی کا سوچتی ایک بار پھر سے رو دی "
حمزہ انکے قریب آتا اُنکے قدموں میں بیٹھ گیا ۔۔۔
آنٹی یقین جانئے میں آپکی بیٹی سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔
میں جانتا ہوں بہت تکلّیف دے چکا ہوں آپکو
لیکن ایک بار مجھے معاف کر دیں
ارتضیٰ صاحب نے اُسے اُنکے قدموں سے اٹھایا اور گلے لگاتے بولے
ہم اپنی بیٹی سے ملنا چاہتے ہیں
وہ خوش ہوتا اُنکے گلے لگ گیا ۔۔۔۔
ضرور وہ بھی آپ سے ملنے کے لیے بہت بے چین ہے
موسیٰ سبکو اکٹھا دیکھ خوش ہوتا اُنکے قریب آیا ۔۔۔۔میں بھی آپکی ہی فیملی کا فرد ہوں ۔۔
یاں داماد ملتے ہی مجھے بھول گئے وہ سب کا موڈ خوشگوار کرنے کے لیے بولا
تو ہم کب بھولے ہیں تمہیں آ جاؤ تم بھی حمزہ اُسکے گلے لگتا بولا ۔۔۔۔۔
آپی کیسی ہیں؟؟...
خود چل کر دیکھ لو وہ مسکراتا بولا
وہ خوش تھا اب سب تھیک ہو جائے گا
------------------------
منہا لان میں بیٹھی سب سے باتیں کر رہی تھی
پورچ میں گاڑی رکنے کی آواز آئی ،،
لو جی آپ کے سیاں جی آ گئے "
خود تو آپ کے بغیر رہتے نہی اور مجھ بیچارے پر ظلم کر رہے ہیں ۔۔۔۔
سمیع جلتا ہوا بولا ۔۔۔۔
منہا اُسکی بات سنتی جھینپ گئی اُسے آنکھیں دیکھاتی
وہ نظروں کا زاویہ پھیرتی اپنی ماں کو اپنے قریب آتا دیکھ رہی تھی۔۔۔
اُسکے سوچنے سمجھنے کی سلاحیت جیسے ختم ہو گئی ۔۔۔
وہ یک ٹک اپنی ماں کو قريب آتا دیکھ رہی تھی
اپنی مما سے ملو گی نہی وہ قریب آتی بولی
وہ اٹھتی اُنکے سینے سے لگ گئی۔۔۔۔
دونو مان بیٹی مل کر رو دی ۔۔۔
اپنے بابا کو قریب آتا دیکھ وہ سر جھکا گئی ۔۔۔
مجھے معاف کر دیں بابا وہ سسکتی ہوئی بولی
نہیں میری جان معافی تمہیں نہی بلکہ ہمیں مانگنی چاہیے
وہ اُسے ساتھ لگاتے غمگین لہجے میں بولے۔۔۔
ہم جان گئے ہیں ساری حقیقت ۔۔۔
حمزہ نے سب بتا دیا ہے ہمیں ۔۔۔
ہم بہت شرمندہ ہیں میری بچی ہمیں معاف کر دو ۔کلثوم بیگم نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
نہی مما مجھے اس طرح معافی مانگ کر گنہگار نہ کریں بس وقت اور خالات ایسے تھے آپکی غلطی نہیں
پیچھے ہی حمزہ اور موسیٰ بھی اُنکے قریب آ رہے تھے
وہ موسیٰ کے گلے لگتی اُسکا چہرہ ہاتھوں سے چھونے لگی ۔۔۔
اُسکے ماتھے پر لب رکھتی وہ اُسکے سینے سے لگ گئی
دونو بہن بھائی بے آواز رونے لگے
بابھی بس بھی کر دیں ۔۔۔۔
میں بھی یہی موجود ہوں۔۔۔۔
اپنے گھر والوں کو دیکھ آپ مجھے بھول گئ ۔۔۔
ہماری تو کوئی ویلیو ہی نہی رہی دادو
وہ خفا ہوتا بولا تو سب ہنس دیے ۔۔۔
ہاں نہ کب تک تمہیں برداشت کروں ۔۔۔منہا اُسکی جانب دیکھتی بولی
سمیع تو اُسکی بات سنتا بھونچا کے رہ گیا
منہا اُسکا چہرہ دیکھ کر مسکرا دی
سب ہنسی خوشی لاؤنج میں آ گئے ۔۔۔۔ سب لوگ منہا کی طرف سے اتنی بری خوشبری سنتے بہت خوش ہوئے
کلثوم بیگم اُسے ساتھ لگاتی بہت سی ہدایت کرنے لگی
اور حمزہ سے اُسے ساتھ لے کر جانے کی بھی بات کر لی
حمزہ کا تو منہا کے جانے کی بات سنتے ہی چہرہ اُتر گیا ۔۔
اُسے یوں خاموش دیکھ منہا خود ہی اُنھیں بولی
مما میں بعد میں آونگی زیادہ دیر کے لیے۔۔
خوشگوار ماحول میں سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے ،
اریج آوازیں سنتی لاؤنج میں آئی تو سب بیٹھیں باتوں میں مشغول تھے ۔۔۔۔
سب کو حیرانی سے دیکھتی
وہ قریب آتی سلام کرتی اُنکے پاس بیٹھی جب اُسکی نظر پاس بیٹھے موسیٰ پر پڑی جو حمزہ سے مسکراتا کوئی بات کر رہا تھا ۔۔۔
آپ یہاں ۔۔۔۔
اریج اُسے خیرت سے دیکھتی بولی ۔۔۔جبکہ موسی بھی خیرت زدہ سا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آپ جانتے ہیں ایک دوسرے کو منہا اُنھیں دیکھتی بولی
بابھی یہ وہی ہیں جنہوں نے میری ہیلپ کی تھی بتایا تھا ناں میں نے آپکو
وہ اپنی خیرت پر قابو پاتی بولی ۔۔۔
میں بھی کب سے یہ سوچ رہا تھا کہ یہ موصوف کہی دیکھے بالے لگتے ہیں
سمیع تھوڑی کھوجاتا بولا ۔۔۔
اریج اور سمیع دونو موسیٰ سے باتوں میں مصروف ہو گئے
منہا اپنے بھائ کی آنکھوں میں اریج کے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی ۔۔
لیکن فلوقت خاموش رہی
اٹھتی سب کے لیے ریفریشمنٹ کا کہنے چلی گئی
🦋🦋🦋🦋🦋🦋
سب کے جاتے ہی منہا اپنے کمرے میں آتے بیڈ پر نیم دراز ہو گئی ۔۔۔
سب کو سوچتی وہ بہت خوش ہوئی۔۔۔۔
اُسے اپنے سب رشتے واپس مل گئے تھے
اُسنے نہی سوچا تھا کے اتنی جلدی سب ٹھیک ہو جائے گا
حمزہ کمرے میں آتے خوشی سے نہال ہوتا اُسکی جانب بڑھا
اور اُسکے ہاتھ تھام کر بولا"
تھینک یو سو مچ یار ۔۔۔۔
"یو آر جسٹ لو!!!!
منہا خاموشی سے بیٹھی اُسے مسکراتی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
سچی مجھے لگا اگر آپ آج چلی گئیں تو میرا کیا ہوگا ۔۔۔۔
میں آپکے بغیر ایک دن نہی رہ سکتا اور آنٹی تو آپکو مہینے کے لیے لے کر جا نے کا کہہ رہی تھی ۔۔
اُنکی بات سنتے میری تو جان پر بن گئی تھی
آپ جانتی ہیں میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں ۔۔۔
میری زندگی میں آنے والی آپ پہلی اور آخری لڑکی ہیں
کچھ چیزیں ایک ساتھ اچھی لگتی ہیں "...
جیسے کہ آپ 'اور میں"....
آپ کے آنے سے میں مکمل ہوں ۔۔۔آپکی موجودگی سے میری زندگی حسین ہے اُسنے منہا کے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھے
منہا نم آنکھوں سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
بہت شکریہ میری فیملی سے مجھے ملوانے کا ۔میرے تمام رشتے لوٹانے کا "
حمزہ اُسکو اپنے ساتھ لٹاتے بولا
آپ شکریہ ادا کرکے مجھے شرمندہ نہ کریں ۔۔۔
یہ سب کچھ میری وجہ سے ہی ہوا تھا
اور ٹھیک بھی مجھے ہی کرنا تھا ۔۔۔
معافی چاہتا ہوں کے مجھے سب ٹھیک کرنے میں وقت لگ گیا
حمزہ اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا ۔۔
میں سب بھول گئی ہوں آپ بھی بار بار مجھ سے معافی مانگ کر مجھے شرمندہ نہ کریں
مجھے اچھا نہی لگتا ایسے،،
بس خدا کی مرضی تھی اُسنے ہمارا ملنا ایسا ہی لکھا تھا ۔۔۔
ہم کون ہوتے ہیں اُسکے فیصلوں میں کچھ بولنے والے
وہ مدھم آواز میں اُسکی جانب دیکھتی بولی۔۔۔
بیشک اللہ تعالیٰ بہتر فیصلے کرنے والا ہے ،،
میں سوچ رہا تھا کل ہم بّےبی کی شاپنگ کرنے چلتِے ہیں وہ اُسے دیکھتا خوش ہوتا بولا ۔۔۔
اتنی جلدی !!!.
کچھ وقت رک جائیں
اتنی جلدی کیا کرنا لے کر اور ویسے بھی ابھی تو ہمیں پتہ بھی نہیں کہ ۔۔۔۔
وہ کہتے چپ ہو گئی!!
تو کیا ہوا میں جانتا ہوں ہماری بیٹی ہی ہوگی بلکل آپ جیسی وہ اُسکی ناک پر لب رکھتا بولا
اُسکی بات سنتے اُسکی کھلکھلاہٹ پورے کمرے میں گونج اٹھی ۔۔۔۔
وہ خوش تھی بہت خوش اور پرسکون
اُسکی کھلکھلاہٹ سنتا حمزہ کو اپنے اندر تک سکون محسوس ہوا
______________
یونی ورسٹی میں اریج موسیٰ اور سمیع نے اپنا الگ ہی گروپ بنا لیا تھا ۔۔۔۔
ویسے تو وہ دونوں ساتھ ہوتے تھے
لیکن سمیع بھی اُن سے ملنے آ جاتا اور تینوں مل کر خوب مزا کرتے ۔۔
اُنکے مدٹرمز سٹارٹ ہونے والے تھے
اس لیے اریج زیادہ تر کلاس چھوڑ کر اُس کے پاس ہی موجود ہوتی ،،
ذہین تو وہ پہلے ہی بہت تھی لیکن موسیٰ کی مدد سے وہ اور اچھے سے تیاری کر پا رہی تھی
دوسری طرف موسیٰ نے سوچ لیا تھا کے پیپرز سے فری ہوتے ہی وہ اپنے اور اریج کے مطلق منہا سے بات کرے گا ۔۔۔
لیکن اس سے پہلے اریج کی رضامندی جاننا بہت ضروری تھی
اسلیے آج اُسنے سوچا تھا کے اریج سے اس مطلق بات کرے گا
کینٹین میں بیٹھی وہ مزے سے چپس کھا رہی تھی
اور ساتھ ساتھ موسیٰ سے اردگرد کی باتیں بھی کر رہی تھی
جب موسیٰ نے اپنے بھاری گھمبیر لہجے میں اُسکا نام پُکارا
اریج "۔۔۔
مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ اُسے دیکھتا بولا۔۔۔۔جو دکھنے میں ایسی لگ رہی تھی جیسے آج پہلی مرتبہ وہ فرائز کھا رہی ہے
ہممم بولیں میں سن رہی ہوں
وہ ہنوز نیچے منھ کیے ہوئے بولی ۔۔۔
میری طرف بھی دیکھ لیں ۔۔۔
حمزہ جلتا ہوا بولا
اچھا بھئی بتائیں سن رہی ہوں وہ اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔۔۔
وہ میں کہہ رہا تھا اسکا لہجہ ایک لمحے کے لیے لڑکھڑایا ۔۔۔
جی جی میں ہمہ تن گوش ہوں
وہ مسکراتی ہوئی بولی ۔۔۔
اگر میں آپکے گھر آپکے لیے پرپوزل بھیجو تو آپکو کوئی اعتراض تو نہیں ہوگا
وہ اپنی بات کہتے جانچتی نظروں سے اُسے دیکھنے لگا ۔۔۔
جو اُسکی بات سنتی گربڑا گئی ۔۔۔۔
چہرے ایک پل میں گلا ل ہوا
وہ اُسکی بات سنتی نظریں جھکا گئی ۔۔۔
اریج فور گود سیک
کچھ تو بولیں !!
اگر آپکو میں نہی پسند تو کوئی مسئلہ نہی
اُسے یوں خاموش نظریں جھکائے دیکھ وہ بولا ۔۔۔
نہی ایسی تو کوئی بات نہیں وہ ایک دم اُسکی جانب دیکھتی بولی ۔۔
مطلب میں پسند ہوں آپکو موسیٰ شریر لہجے میں بولا ۔۔۔
اب میں نے ایسا بھی نہی کہا وہ منھ پھلاتی بولی
اور دوبارہ سے چپس کی پلیٹ اپنے آگے کیے کھانے لگی ۔۔
تو پھر بتا دیں کیسی بات ہے
جیسا گھر والوں کو ٹھیک لگے
مجھے کوئی اعتراض نہیں،،
وہ کہتی اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ گئی
میری کلاس کا وقت ہو گیا پھر ملاقات ہوتی ہے وہ جلدی سے کہتی اُسکے پاس سے گزری
وہ اُسکی جیجھک سمجھ کر سر نفی میں ہلا گیا اور مسکراتا ہوا اُسکی پشت دیکھنے لگا
-------------------------
منہا کے منع کرنے کے باوجود حمزہ صبح آفیس نہیں گیا ۔۔۔
اور منہا کو لیے شاپنگ مال میں آیا
دونو مال میں بےبی کی شاپنگ کر رے تھے
حمزہ نے سب ڈریسز بےبی گرل کے لیے منہا کے کہنے کے باوجود ۔۔۔
جو بولتی رہی کے ایک دو ہی بےبی بواے کا ڈریس لے لیکن وہ اپنی پسند سے لیتا رہا ۔۔۔
تنگ آ کر منہا دوسری جانب دیکھنے لگی
اُسکا خراب موڈ دیکھ حمزہ اُسے لیے ٹوايز شاپ میں داخل ہوا۔۔۔
حمزہ ابھی ان کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔
چھوٹے بےبیز اتنی جلدی نہیں کھیلتے ان سے "
ہم ڈولز لیتے ہیں سوفٹ سی
اُس سے میری ڈول کھیلے گی وہاں بھی وہ اپنی مرضی کرتا سب اٹھاتا گیا ۔۔۔
اگر میری بات نہی سُنّی تھی تو مجھے لائے ہی کیوں ۔۔۔منہا پاؤں پٹختی ایک طرف بینچ پر بیٹھ گئ ۔۔۔
اچھا چلئیں آئیں اب آپ کی شاپنگ کرتے ہیں
اُسکا موڈ اچھا کرنے کے لیے وہ اُسکا ہاتھ تھامتے بولا ۔۔
شکر ہے میرا بھی خیال آیا۔۔۔
ورنہ مجھے تو لگا تھا آپ اپنے بےبی کے ہی ہو کے رہ گئے ہیں
منہا جل کر بولتی چلنے لگی ،،
ہاہاہا سیریسلی!!
آپ جیسلس ہو رہی ہیں حمزہ قہقہ لگاتا بولا
ہنہہ،،
مجھے کیا ضرورت ہے جلنے کی میں تو ویسے ہی کہہ رہی ہوں ۔۔۔
دو گھنٹے سے مجھے لیے گھوم رہے ہیں ۔۔۔
اب تو بوکھ سے میرے پیٹ میں درد ہونے لگی ہے منہا مسکین سی شکل بناتی بولی ۔۔۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُسے بوکھ بھی بہت لگتی تھی ،،،جسے کنٹرول کرنا اُسکے بس میں نہی تھا
اوہ،، آئم سوری یار
مجھے بلکل بھی اندازہ نہی تھا آپ مجھے پہلے بتاتیں۔چلیں اب جلدی سے چلتے ہیں
یہاں پاس ہی ریسٹورنٹ ہے آ جائیں وہاں چلتے ہیں اُسکی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔
چیزیں لیتے اُسے واقع وقت کا خیال نہی رہا تھا ۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ریسٹورنٹ میں موجود تھے ۔۔۔
مینیو کارڈ پکڑتے اُس نے ویٹر کو آرڈر لکھوایا ۔۔۔۔
حمزہ جو فون میں مصروف تھا اُسے دیکھتی بولی ،
آپ اپنا آرڈر کر دیں میں تو کر چکی ہوں
آپ نے جو کیا ہے میں اُسی میں سے لونگا کہتا وہ پھر سے میسیج ٹائپ کرنے لگا ۔۔۔
کیا مطلب اُسی میں سے لونگا
میں کچھ نہی شیئر کرونگی آپ کے ساتھ"
جو کھانا ہے خود آرڈر کریں
منہا آرام سے بولتی ویٹر کو جلد آنے کا کہتی اردگرد دیکھنے لگی ۔۔۔
آپ نے اتنا زیادہ منگوایا مجھے لگا میرا بھی ساتھ میں ہے
حمزہ خیرت سے اسے دیکھتا بولا ۔۔۔
ہاں تو وہ سب میرے لیے ہے ناں ""
مجھے بوکھ لگی ہے میں کچھ نہی دونگی آپکو
اور ویسے بھی ہم دو ہیں اسلیے ہمارا کھانا بھی زیادہ ہے
حمزہ شاک کی کیفیت میں گھرا تھا جب ویٹر کی آواز سے اُسکی جانب متوجہ ہوا
سر آرڈر ۔۔۔
ہممم ہاں " اُسنے اپنے لیے چائنیز ڈیش آرڈر کی
ٹیبل پر لوازمات دیکھتے حمزہ خیرت سے منہا کو دیکھتا بولا ۔۔۔۔
کیا آپ یہ سب اکیلی کھایں گی ؟؟
تقریاً سب ہی اسپائسی ڈشز اُسنے آرڈر کی تھی ۔۔۔
جی،،۔۔
اور کوئی نظر آ رہا ہے آپکو؟؟
جل کر کہتی وہ کھانے لگی ۔۔۔۔
حمزہ تو بس اُسکی کھاتے ہوے اسپیڈیں ہی دیکھتا رہ گیا
اُسے اتنی رغبت سے کھاتے دیکھ اُسے اپنی چاینیز ڈش ایک دم زہر لگی ۔۔۔
ٹشو سے ہاتھ صاف کرتی وہ حمزہ کے تاثرات کو دیکھے بغیر بولی
الحمدُ للہ بہت بوکھ لگی تھی مجھے
وہ تو لگ ہی رہا ہے اپنی سامنے منھ چرهاتی خالی پلیٹیں دیکھتا وہ بولا ۔۔۔۔
اور کچھ رہ گیا ہے تو وہ بھی بتا دیں اسکو شرمندہ کرنے کے لیے وہ بولا ۔۔۔۔
جبکہ اُسکی بات کا اُلٹا ہی اثر ہوا۔ ۔۔۔۔
ہاں مجھے آیس کریم بھی کھانی ہے وہ آپ لے کر
آئین میں گاڑی میں بیٹھ کر کھائونگی وہ اٹھتی ہوئی بولی ۔۔۔
جبکہ حمزہ تو اُسکی بات سنتا صدمے میں ہی چلے گیا ۔۔۔۔
اتنا کچھ کھانے کے بعد کیسے اُسکے پیٹ میں اتنی جگہ بچی ہے ۔۔۔
اُسے اس بات کا یقین ہوگیا تھا یقیناً اُسکے ٹونز تھے جبھی تو اُسکی بیوی تین لوگوں کا کھانا اکیلی بیٹھ کر کھا گئی ۔۔۔
کچھ بات بھی ایسی تھی جتنی اسکو پہلے بوکھ نہی تھی لگتی اب وہ اتنی ہی سپیڈ سے کھاتی تھی
وہ سر جھٹکتا بل پے کرتا اُسکی آیس کریم لیتا گاڑی میں بیٹھا
جو اُس سے پہلے ہی گاڑی میں بیٹھی اُسکا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
آگے ہوتی اُس سے شکریہ بولتی آیس کریم کا پیک پکڑ گئ "
اور وہ بیچارہ اسی خوش فہمی میں رہا کہ اتنا اچھا لنچ کروانے پر اُسکی جانب سے کوئی خراج وصول ہونے لگا ہے ۔۔۔۔۔
وہ جلتا اُسے آیس کریم کھاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔بندہ پوچھ ہی لیتا ہے بربراتا وہ گاڑی سٹارٹ کر گیا
گاڑی اپنی منزل پر روا دوا تھی لیکن حمزہ کا غم کم نہی ہو رہا تھا ۔۔۔
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
چار ماہ پر لگا کر گزر گئے
سب بہت خوش اور پرسکون تھے ،،
دونوں فیملیز کا ایک دوسرے کی طرف آنا جانا لگا رہتا
سمیع پر ترس کھاتے اُسکی یونی کی لڑکی جسے وہ پسند کرتا تھا اُسکے ساتھ اُسکی بات پکی کر دی گئی
اریج اور موسیٰ کے مطلق بھی منہا نے حمزہ سے بات کی
اُسکی رضامندی جان کر سب بہت خوش تھے
کسی کو بھی اس رشتے سے انکار نہ تھا
بلآخر دونو کے رشتے تہہ کر دیے گئے
اب بس منہا کے خیریت سے فارغ ہونے کا سبکو انتظار تھا
اُسکے بعد شادی کی ڈیٹ فائنل ہونی تھی
منہا نے جلدی شادی کرنے کا بہت کہا لیکن سب نے سختی سے انکار کر دیا
سب جانتے تھے اُسکی طبیعت ان دونوں کتنی بوجھل رہتی تھی اسلئے حمزہ نے سختی سے اسے آرام کرنے کا کہا
_____&&&_________
حمزہ اور منہا اپنی زندگی میں بہت خوش تھے
حمزہ اُسکا ہر طرح سے خیال کرتا ۔۔۔۔
اُسکی تمام خواہشیں سر آنکھوں پر رکھتا
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہوتا جا رہا تھا
منہا خود سے بلکل لاپرواہ بنی پھیرتی جسکی وجہ سے حمزہ ہر وقت اُسکا خیال رکھتا
منہا اُسکے بے جا روکنے ٹوکنے کی وجہ سے خفا ہو جاتی
جسکی وجہ سے بیچارہ اُسکے آگے پیچھے گھومتا پھرتا
سب اُسکا بہت خیال رکھتے
کیوں نہ رکھتے سب کی جان بستی اُس میں
اُسنے اپنے نرم رویے سے سبکے دل میں جگہ بنائی تھی
ڈاکٹر نے سختی سے اُسکی اچھی ڈایٹ کی ہدایت کی تھی
لیکن وہ منہا ہی کیا جو مان جائے
دن میں دس بار تو وہ اوپر نیچے کے چکر لگاتی
بلاآخر تنگ آتے حمزہ نے نیچے روم میں شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا
لیکن وہاں بھی منہا نے اپنی مرضی کی
اُسکا کہنا تھا کہ اُسے اپنے روم کے بغیر نیند نہی آتی اس وجہ سے وہ نیچے شفٹ نہی ہوگی
یہاں بھی حمزہ کو ہار ماننی پڑی
کیوں کے ڈاکٹر نے اُسکے کیس میں تھوڑی سی کملیکشن بتائی تھی
جسکی وجہ سے حمزہ ہر چیز میں بہت احتیاط برتتا
حمزہ اُسے زیادہ اوپر نیچے نہی ہونے دیتا اسی وجہ سے وہ صبح خود اُسے اپنے ساتھ لیے نیچے آتا اور سختی سے دوبارہ کمرے میں جانے سے منع کرتا
جاتے وقت وہ دادو کو بھی اُسکا خیال رکھنے کا کہتا جاتا
سب کی بہت زیادہ کیئر کی وجہ سے اُسکا سراپا جلدی بھر گیا تھا
اب بھی وہ تیزی سے قدم اٹھاتے سیڑھیوں سے نیچے آ رہی تھی کے سامنے سے حمزہ نے آتے اُسے ٹوکا
اُسکی آواز سنتے اُسکے قدم تھمے
اوپس !!!۔۔۔
منہا آج تو _"تو گئی وہ ہولے سی بڑبڑای
پھر سے لیکچر ملے گا ،،
وہ لب دانتوں میں دبا گئی
حمزہ جو اپنی ضروری فائل بھول گیا تھا خود لینے آیا تھا
اُسے یوں تیزی سے آتا دیکھ ٹوک گیا
تیزی سے سیڑھیاں پھیلانگتا وہ اُس تک پہنچا
اور اُسکی کمر میں ایک بازو حائل کرتا اُسکا ہاتھ تھامے اُسے اپنے ساتھ لیے نیچے آیا
کتنی دفعہ میں نے آپکو منع کیا ہے کے بار بار اوپر نیچے نہی ہوا کریں
آخر کون سی زبان سنیں گی " آپ "۔۔۔۔
مجھے بتا دیں !!...
کون سی ایسی آفت آ پری تھی جو آپکو کمرے میں جانا پڑا
وہ سخت لہجے میں بولتا اُسے لیے نیچے لاؤنج میں آیا
مجھے چارٹ کھانی تھی اسی لیے روم میں گئی
دادی نے سختی سے منع کیا تھا اسلیے میں چوری چھپے سکینہ ( ملازمہ)سے منگوانے لگی تھی
لیکن آپ آ گئے ،،
میرا سارا پلین کینسل کروا دیا
وہ منھ بناتی کاوچ پر بیٹھتی بولی
تو میری جان آپ نے کسی اور سے کہہ دینا تھا نہ خود آپ کو جانے کی کیا ضرورت تھی
یاں پھر مجھے کال کر دینی تھی
میں بھجوا دیتا کسی کے ہاتھ وہ اُسکے ساتھ بیٹھتا بولا
ہاں اور دادی کو پتہ چل جاتا وہ منھ بگاڑتی بولی
منہا اپنا نہیں تو میرا ہی خیال کر لیجئے
تو سہی ہی کہتی ہیں دادی
کچھ اچھا تو آپ نے کھانا نہی
آخر کیا رکھا ہے اس چارٹ اور گندے پاپڑوں میں
جو آپ چوری چھپے منگوا کے کھاتی ہیں وہ سر پکڑتا بولا
بہت مزے کے ہوتے ہیں
اب منگواؤں گی نہ تو آپ کے لیے بھی ایک رکھونگی
خود ہی آپکو پتہ چلے گا کیا رکھا ہے اُن میںوہ چہکتی ہوئی اُسکا طنز سمجھے بغیر بولی
اللہ!! ۔۔ یہ لڑکی "
یہ دیکھیں میرے جڑے ہاتھ وہ اُسکے آگے ہاتھ جورے بولا
مجھ پر تھوڑا ترس کھائیں
سارا دن مجھے آفیس میں یہی ٹینشن لگی رہتی ہے کے کہی آپ نے اپنا خیال رکھا ہوگا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کچھ اچھا کھایا بھی ہو گا یاں پھر بس چارٹ اور گول گپے ہی کھاتی رہی
اللہ کی بندی اپنا خیال رکھا کریں
اچھی خوراک لیا کریں
ورنہ اب میں نے سچ میں دادی کو آپکی شکایت لگا
دینی ہے
جو آپ چوری چھپے کھاتی پھیرتی ہیں وہ اُسے تنبیہہ کرتا بولا ،،
کیا آپ ایسا کریں گے میرے ساتھ!!....
مجھ سے تو کوئی پیار ہی نہی کرتا
ایک آپ ہی تھے جو منع نہی کرتے تھے اب آپ
لگا لیں شکایت وہ روہانسی ہوتی بولی
لیکن میں بتا رہی ہوں میں بھی اپنی مما کے گھر چلی جاؤنگی اور پھر ڈیلیوری کے بعد واپس آونگی وہ روتے ہوے اُسے دھمکی دیتی بولی
منہا میری زندگی __۔۔۔__"میری جان رونا نہیں
یار میں بس آپکے لیے کہہ رہا تھا
آپ کیوں نہی سمجھتی
اچھا چپ کریں کچھ نہی کہہ رہاوہ اُسے ساتھ لگاتا بولا
اور جانے کی بات نہی کرنی میرا ایک پل نہی گزرتا آپ کے بغیر ۔۔۔۔مجھ غریب پر تھوڑا ترس کھائیں،،
اچھا ٹھیک ہے نہی جاؤنگی لیکن آپ رات میں میرے لیے پزا لے کر آئے گے
وہ بھی لارج والاچہرہ اٹھاتی بولی
ڈن اور کچھ میری جان
ہاں اور میں اُس میں سے آپکو ایک پیس بھی نہی دونگی
وہ اُسکی شرٹ کے بٹنوں سے کھیلتی بولی
ٹھیک ہے جی نہی دیجئے گا
اب خوش وہ مسکراتا ہوا بولا
ہاں بہت وہ اُس سے دور ہوتے بولی
لیکن آپ نے اب دوبارہ روم میں نہی جانا اکیلے
یار مجھے تو اپنی فکر ستائے جا رہی ہے کیا بنے گا میرا
کیسے دو بچیوں کو سمبھالونگا میں"
وہ زیچ ہوتا بولا
سمبھالنا تو آپکو پرے گا ٫شاہ جی "
آپکو ہی شوق ستائے جا رہا تھا بےبی کا
اور میں پہلے بتا رہی ہوں
اُسکے سارے کام آپ ہی کریں گے
میں تو پہلے اتنے مہینوں سے اچھی نیند نہی سوئی
اسلیے رات آپ بیبی کو سنبھالیں گے اور اُسکے ساتھ جاگے گے
میں آرام سے اپنی نیندیں پوری کرونگی وہ اُسکے سینے پر سر رکھتی بولی
میں خود اپنی بیٹی کو سنبھالوگا اُسکی فکر کرنے کی ضرورت نہیں آپکو
لیکن یہ جو نیندیں پوری کرنے والی بات ہے یہ سراسر ظلم ہے مجھ پر وہ معنی حیزی سے بولا
کوئی ظلم نہی میں پہلے بتا رہی ہوں دونو کو میری نیند بلکل بھی خراب کرنے کی ضرورت نہیں
میں جی بھر کے سونا ہے
کرنے ہی نہ دوں میں آپکو نیندیں پوری ۔۔۔
میں اپنا وقت آپکو بلکل بھی نیند کی نظر نہی کرنے دونگا پہلے بتا رہا ہوں اُسے دیکھتا وہ جل کر بولا
وہ مسکراتی اُسکا نام پکاڑ" گئی،،
جی شاہ کی جان!!..
اب کونسی فرمائش رہ گئی ہے
وہ مسکراتا بولا
منہا کا قہقہ گونجا
اب میں اتنا بھی نہی کھاتی شاہ آپ جان بوجھ کر مجھے بدنام کر رہے ہیں وہ اُسکے سینے پر ہاتھ مارتی بولی
جان شاہ آپ جتنا دل چاہے کھاؤ
کسی کی اتنی جرات میری بیوی کو کچھ بولے وہ اُسے پچکارتے بولا
اچھا پھر پزا کے ساتھ ایک کوک بھی لے کر آئیے گا اور نا خاموشی سے روم میں بجھوا دینا
وہ جو سمیع کنجوس ہے نا۔۔۔۔٫٫ اگر اُسنے دیکھ لیا تو مسکینوں کے جیسا منہ بناے گا اور پھر
نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اُسے دینا پڑے گا وہ اتنے پیارے منھ کے زاویے بگاڑتی بولی کے حمزہ کو اُسکی اس حرکت اور ٹوٹ کر پیار آیا
جھکتا اُسکے گال پر لب رکھتے بولا
ٹھیک ہے میری جان جو آپکا حکم "
وہ اُسکی بات سنتی کھلکھلا دی
___________
سمیع بیچارے کی بھی پریڈ لگی ہوئی تھی
جب بھی حمزہ گھر نہ ہوتا وہی گنچکر بنا پھرتا
کبھی اُس سے کچھ منگواتی تو کبھی کہتی یہ تو وہ والا ہے ہی نہیں جو سکینہ لائ تھی
تھک کر وہ بیٹھ جاتا کے اُسی سے منگوا لو
یہ دیکھیں میرے ہاتھ بابھی تیسری دفعہ جا رہا ہوں ترس کھائیے مجھ پر کچھ
تھکا ہارا یونی سے آیا ہوں وہ دھپ سے صوفے پر بیٹھتا بولا
ہائے اللہ اب میں سمجھا بھائی بیچارے کیوں اتنے کمزور ہوتے جا رہے ہیں جتنا آپ نے مجھے ایک چیز کے لیے خوار کیا ہے
میرا معصوم بھائی تو پتہ نہیں کیا کیا لاتا پھرتا ہے
زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں جا کر مجھے لا کر دو ورنہ حمزہ کو فون کرکے شکایت کرونگی تمہاری
حمزہ کا نام سنتے ہی وہ اٹھا
یوں ہی دھمکا ڈرا کر کام کرواتی ہیں آپ
اُسے دیکھ پاس آتی اریج مسکرا دی
اُن کا تو یہ روز کا ہی کام لگا تھا
اریج اور منہا مل جاتی اور سمیع بیچارہ اکیلا رہ جاتا ۔۔۔۔
_____________________
گرم موسم ہونے کی وجہ سے وہ لان کا سبز لونگ فروک کے ساتھ سفید پجامہ پہنے سفید ہی دوبٹہ کندھے پر ڈالے اپنے بھاری وجود کے ساتھ چھوٹے اسٹیپ لیتی سیڑھیاں اُتر رہی تھی
گھر میں اس وقت کوئی موجود نہی تھا اسی لیے دوبٹہ شانوں پر گرا ہوا تھا
چھوٹے قدم اٹھاتی وہ خاموشی سے کیچن کی جانب گئی
اور ملازمہ سے چارٹ کا باؤل پکڑے پوچھا
مرچیں زیادہ ڈلوائی تھی نہ ؟؟
جی جی بی بی جی بڑی کڑاری بنوائی ہے ملازمہ جلدی سے بولی
وہ سر ہلاتی باؤل لیتی دھیرے سے لاؤنج کے قریب سے گزر کر لان میں جانے لگی
جب اس کیا دھیان آوازوں کی جانب گیا
سیٹنگ روم سے آوازیں آ رہی تھی
اُس نے تھوڑے سے کھلے دروازے سے اندر جھانکا
ربیعہ بیگم اور اُن کی دو ماڈرن سی سہیلیاں بیٹھیں باتیں کر رہی تھی
وہ واپس مڑنے لگی لیکن اپنا نام سنتی ٹھٹھک کر رکی
تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر کا منظر دیکھا جہاں وہ بیٹھی اُنھیں اُس کے بارے میں کچھ بول رہی تھی
ربیعہ ڈارلنگ،،،
تم جانتی نہیں ان غریب مڈل کلاس لڑکیوں کو
انکا تو کام ہے امیر لڑکوں کو پھسا کر اُن سے شادی کرنا
عشق محبت کے چکر چلانا ۔۔۔۔
تاکے عیش کر سکیں اور ساتھ میں اپنے غریب گھر والوں کو بھی سپورٹ کر سکیں
تم کہاں ان چکروں میں پر گئی
تم جانتی نہیں ہو یہ جو بھولی بنی پھرتی ہیں یہ اصل میں بہت تیز ہوتی ہیں۔۔۔
سب کچھ اپنے نام کروا کر سبكو چلتا کرواتی ہیں
اور حمزہ تو ہے بھی بہت نیک بچہ
وہ بیچارہ تو پھنس گیا ہے
اور مجھے تو خیرت ہے تم پر تم کیسے اُس لڑکی کو اپنے گھر کی بہو بنا سکتی ہو؟؟....
جسکا کوئی سٹینڈرڈ" ہی نہیں
لیلٰی از رائٹ" ربیعہ ،،
یہ معصومیت کی دیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں
تم کچھ دںن رکو تمہیں بھی اپنی اصلیت دیکھا دے گی
اب میں کیا کروں؟؟؟
ربیعہ بیگم سر پکڑتی بولی
ڈونٹ وری ڈارلنگ !۔۔۔۔
ہمارے ہوتے ہوے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں
ہمارے پاس ایک بہت اچھا پلین ہے
بس تمہیں کرنا یہ ہے کے کسی بھی طرح حمزہ کو منہا سے دور کرنا ہے
اُسے اُس سے بدگماں کرنا ہے
وہ کبھی اُس سے دور نہی ہوگا اب تو ویسے بھی وہ اُس کو اولاد دینے والی ہے
ربیعہ بیگم پریشان سی بولی
کونسا بچہ دوبارہ نہی ہو سکتا اور اگر اُسے بچہ چاہیے ہوا تو اُس سے بچہ لے کر اُسے چھوڑ دے
وہ شاطرانہ انداز میں بولی
اس سے پہلے کے وہ اور کچھ کہتی
منہا دروازہ کھول اندر داخل ہوئی
اُنکی باتیں سن اُسے اپنے پیروں پر کھڑے رہنا مشکل ترین عمل لگا
اتنی نفرت ۔۔۔اُسکا دماغ سنسنا اٹھا ،،
وہ ہمت کرتی اُنکے قریب گئی
وہ دراصل میں نے سوچا میں بھی آپکے نیک مشوروں سے مستفید ہو جاؤں
تو کون سے پلان بنائے جا رہے تھے میرے خلاف
ہاں سچ آپ حمزہ کو مجھ سے دور کرنے کی بات کر رہی تھی ۔۔۔۔
چچ بہت افسوس سے کہنا پر رہا ہے
پہلا پلان تو کینسل ہو گیا
کیونکہ جو شخص میرے بغیر ایک پل نہی رہ سکتا آپ اسے مجھ سے دور کرنے کی پلاننگ کر رہی ہیں
بہت افسوس ہوا
آنٹی آپ بھی ۔۔۔مجھے آپ سے یہ امید نہی تھی کے آپ بھی میرے بار ے میں ایسا سوچتی ہیں۔۔۔
آپ تو سب جانتی ہیں
کے کیس طرح آپ کے بیٹے نے مجھ سے زبردستی شادی کی ۔۔۔
پھر بھی آپ ایسا سوچ رہی ہیں
اور آپ دونو وہ اُنکی جانب مڑی
شرم آنی چاہیے اس عمر میں اس طرح کی پلاننگ کرکے دوسروں کا گھر خراب کرتے ہوے
ربیعہ یہ دو ٹکے کی لڑکی کس لہجے میں بات کر رہی ہے ہم سے،،، وہ آگ بگولا ہوتی بولی
منہا تم اپنے روم میں جاؤ ربیعہ بیگم تو اُسے اپنے سامنے دیکھ ہی گربرا گئی
کیوں ۔۔۔۔!!!کیوں__ جاؤ میں
اس وقت میری ذات کے مطلق بات ہو رہی ہے میں کیسے جا سکتی ہوں کہی
شرم آنی چاہیے آپ دونو کو
اب اس سے پہلے کے میں آپ دونو کو دھکے دے کر گھر سے نکلواؤں خاموشی سے اٹھ کر چلی جائے
ربیعہ یہ کیا کہہ رہی ہے تمہاری بہو،،
وہ حفت زدہ سی ہوتی ربیعہ بیگم کو دیکھتی بولی
منہا معافی مانگو ان سے
مہمان ہیں یہ میری ،،
اس طرح سے بات نہی کر سکتی تم ان سے'''
ان دو ٹکے کی عورتوں سے میں نہی معافی مانگوں گی
جلدی سے انہیں میرے گھر سے نکالیں میں انہیں ایک منٹ بھی اپنے گھر میں برداشت نہی کر سکتی
وہ کہتی کمرے سے نکل گئی
پیچھے وہ دونوں سیخ پا ہوتی ربیعہ بیگم کو دیکھتی بولی
بہت اچھی خاطر داری کروائی ہے ربیعہ!!!
وہ انہیں روکتی رہ گی لیکن وہ دونوں پاؤں پٹختی تن فن کرتی نکل گئی
پیچھے وہ سر پکڑ کے بیٹھ گئی
فون پکڑ کے حمزہ کو جلدی سے گھر بلایا
آج فیصلہ ہو ہی جائے
__________________
حمزہ اُنکا فون سنتا جلدی سے گھر آیا
پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کے وہ اُسے اتنے غصے میں بولی ہوں
وہ پریشانی سے اُنکے کمرے میں داخل ہوا
وہ سامنے سر پکڑے بیٹھی تھی
مما کیا ہوا ہے ؟؟..
کیا بات ہے !!!
آپ کیوں ایسے بیٹھی ہیں وہ متفکر سا اُنکا ہاتھ تھامتے بولا
تمہاری بیوی کے ہوتے کبھی کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے
شروع دن سے میں اس لڑکی کوبرداشت کرتی آئی ہوں
صرف تمہاری وجہ سے
لیکن اب میری برداشت ختم ہو گئی ہے
وہ آگ بگولا ہوتی بولی
مما ہوا کیا ہے ؟؟
کیا ہو سکتا ہے
غریب مڈل کلاس لڑکی کو تم نے میرے سر پر بٹھایا ہوا ہے
وہ اپنی اوقات دیکھا رہی ہے
آج اُسنے مجھے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
میری دوستوں کے سامنے مجھے اتنا بے عزت کیا
اُن سے اتنا روڈ بولی
اور جب میں نے معافی کا کہا تو مجھے بھی خوب باتیں سنای اور کہا کے یہ اُسکا گھر ہے
اُسکے شوہر کا گھر ہے
اُسکا سب سے زیادہ حق ہے
وہ اپنے سے چار باتیں لگاتی رونے لگی
مما ۔۔۔مما بس __پلیز ۔۔۔روئیں مت
میں پوچھتا ہوں منہا سے اُس نے ایسا کیوں کیا
وہ ایسی تو نہیں ہیں
ضرور انہوں نے کچھ کہا ہوگا پہلے وہ انہیں ساتھ لگاتا بولا
ربیعہ بیگم اُسکی بات سنتی غصے سے بولی
ہاں بیٹا سہی کہا تھا سب نے کے بیوی کے آتے ما ں جوٹھی لگنے لگی
بلا کبھی چوڑ نے بھی بتایا ہے کہ اُسنے چوری کی ہے
اُلٹا وہ بھی مجھ پر ہی الزام لگائے گی
وہ نحوّت سے بولتی چہرہ موڑ گئی
مما میرا وہ مطلب نہیں ۔۔۔
آپ فکر نہ کریں میں خود اُس سے بات کرتا ہوں
وہ آپ سے معافی مانگیں گی اپنے رویے کی
لکین پلیز آپ اس رویاں نہیں کریں
وہ اُن کے آنسو صاف کرتا بولتا اٹھ گیا
میں آتا ہوں ابھی
اپنے اندر اٹھتے غصے کو وہ قابو کرتا سیڑھیوں کے دو دو سٹیپ لیتا کمرے میں داخل ہوا
دھڑ کی آواز سے دروازہ کھولا تو وہ سامنے بیڈ پر لیٹی سو رہی تھی
وہ غصے سے لال ہوتا اُسکے قریب گیا اور اُسے جھنجھوڑ کر سیدھا کیا
منہا جو رو رو کر کچھ دیر پہلے ہی سوئی تھی کسی کے جھنجھوڑنے سے نیند سے جاگی
اور ہربڑا کر اُسے دیکھنے لگی
اُسے سامنے پاتے ہی سب یاد آتے اُسکی آنکھیں نم ہو گئی
حمزہ اُسکا نام پُکارا
لیکن اُسنے کب اسکو سنا
اُس کی تو آنکھوں پر جھوٹ کی پٹی بندھی تھی
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
وہ جو اُسے دیکھ کر کچھ سکون میں آئی تھی
اُسکا سرخ چہرہ دیکھ پریشان ہو گئی
خطرے کی گھنٹیاں دماغ میں بجنے لگی
کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ،،،
لیکن اُسے یقین تھا اُس پر"....
وہ اُسے کبھی تنہا نہیں چھورے گا
یہ میں کیا سن رہا ہوں منہا!!
اُسکے بازوں پر سخت گرفت کرتے وہ بولا
آپ نے مما کے ساتھ بتميزی کی ہے
وہ نیچے بیٹھی اتنا رو رہی ہیں...مجھے وضاحت چاہئے آپکے رویے کی
یہ کون سی غیر اخلاقی حرکت کی ہے آپ نے!
گھر میں آے ہوے مہمانوں کو کون یوں ذلیل کرکے نکالتا ہے
مجھے آپ سے یہ امید نہی تھی
منہا اُسکی سخت گرفت پر ترپ اٹھی ۔۔۔تکلیف سے آنسو بہنے لگے
آپ نے اُن کی تو بات سںن لی
لیکن وجہ نہی پوچھی میری بتميزی کرنے کی ہاں وہ کیوں اپنی غلطی بتائے گی آپ کو
منہا درشتی سے بولتی اپنا بازو چھڑوانے لگی
منہا۔۔۔۔۔ حمزہ غصے اور اشتعال سے دھاڑا
وہ اُسکی آواز سنتی کانپ کے رہ گئی
اپنی زبان کو قابو میں رکھیں یہ نہ ہو میں کچھ غلط قدم اٹھا دوں
اور نیچے جا کر مان سے معافی مانگیں اپنے رویے کی
وہ سرخ انگارا آنکھوں سے اُسے دیکھتا بولا
کیوں کیوں معافی مانگوں جب میری غلطی ہی نہیں،،،
آپ ایک بار میری بات سن لیں ۔۔۔۔
پھر آپ جو کہیں گے میں کرونگی
لیکن ایک بار میر بات تو سن لیں وہ بے بسی سے بولی
مجھے کچھ نہی سننا
بس آپ نیچے جا کر مما سے معافی مانگیں گی وہ خود پر قابو پاتا بولا
بہت خوب "تو آپکی مان کامیاب ہو گئی اپنے پلین میں
وہ تو چاہتی یہی تھی کے آپکو مجھ سی بدگماں کریں
اور مجھے لگتا ہے اُنکا پلین کام کر رہا ہے
جو آپ میری ایک بات سننے کے روادار نہیں
منہا۔۔۔!!
اس سے پہلے کے اُسکا ہاتھ اٹھتا ۔۔۔
وہ خود پر ضبط کرتا اپنا ہاتھ ہوا میں ہی روک گیا
جب کے منہا پھٹی آنکھوں سے اُسے بے یقینی سے دیکھنے لگی
اُس کے الفاظ،،، اُسکا اٹھتا ہاتھ دیکھ کر منھ میں ہی دم تور گئے
وہ تو یہ کبھی سوچ ہی نہی سکتی تھی کے یہ وقت بھی آئے گا
یہ وہ شخص نہی تھا جس نے اُسکے ساتھ رہنے ،،،،اُس پر یقین کرنے کا وعدہ کیا تھا،،
یہ وہ تو نہیں تھا
جو راتوں کو جاگ کر اُسکا خیال رکھتا ۔۔۔۔
جو اُسکی ایک آواز سے اٹھ کر بیٹھ جاتا
یہ تو کوئی اور تھا ۔۔۔
یہ اُسکا حمزہ نہی تھا
اُسکی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ حمزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
میں ایسا نہی چاہتا تھا لیکن آپ نے مجھے مجبور کر دیا
وہ اپنی کن پٹی سہلاتا کمرے میں چکر لگاتا بولا
منہا بس اُسے دیکھتی رہ گئی جو آج اُس پر ہاتھ اٹھانے کے قریب تھا
وہ اُسے ساکت کھڑے دیکھ اُسکے قریب آیا
اور اُسے بازوں سے تھامے بولا ۔۔۔
آپ معافی مانگ رہی ہیں کے نہیں؟؟تلخی سے بولتا اُس سے جواب مانگ رہا تھا
مجھے ہاں ۔۔۔یاں نہ میں جواب چاہیے؟؟
اُسکی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں ڈالے وہ اُس سے سوال کر رہا تھا
اُس کے الفاظ منہا کا دل زحمی کر رہے تھے لیکن اُسے کب پرواہ تھی
نہی میں معافی نہی مانگو گی
اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے وہ ڈیٹھ بنی بولی
آخر یہ شخص اُسکی بات سن کیوں نہی رہا
حمزہ کی گرفت اُس پر ڈھیلی ہوئ
ٹھیک ہے پھر ۔۔
۔اسکا مطلب میری بات کی کوئی ویلیو نہی آپکی نظر میں وہ غصے سے غراتا منھ موڑ گیا
آج میں جان گیا ہوں اپنی اوقات
وہ اس وقت کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہ رہا تھا
منہا اُسکی بات سنتی ترپ گئی
حمزہ ایسی بات نہی ہے
آپ ایک بار میری''
وہ اُسکے قریب جاتی اُسکا ہاتھ پکڑتی اُسکا چہرہ اپنی جانب کرتی آنسو سے تر چہرے سے بولی
حمزہ اُسکی جانب سخت تاثرات سے دیکھتا اُسکا ہاتھ جھٹکتا اُسے خود سے دور کر گیا
اُس کے ہاتھ جھٹک کر دور کرنے سے منہا کا توازن برقرار نہ رہا اور وہ اُس سے دور جا گری
حمزہ جو اُس کے ہاتھ جھٹکتے باہر نکلنے لگا تھا
دھڑم،،، کی آواز سنتے مڑا
وہ نیچے گری پیٹ پڑ ہاتھ رکھتی تکلیف کی شدت سے دوہری ہو رہی تھی
وہ اس تمام صورت حال کو سمجھ نہیں پایا ۔۔۔
اُسکی چیخ سنتا خواس باختہ سا اُسکے قریب آیا
جو پیٹ پر ہاتھ رکھے آنسو بہا رہی تھی
منھ ام سوری،، ۔۔۔۔ام سوری "
کچھ نہیں ہوگا آپکو!!
میں کچھ نہی ہونے دونگا سے باہوں میں لیے وہ جلدی سے نیچے کی جانب بھاگا
۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔۔وہ روتی ہوئی بس یہی بول پائی
کچھ نہی ہوگا کچھ نہی منہا،
آپ ۔۔۔میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دونگا ۔۔۔۔وہ اُسے تکلیف میں دیکھ خود بھی روتا ہوا بولا
دادو،،،
وہ اُسے بانہوں میں لیے دادو کو پُکارتا دیوانہ وار لاؤنج میں آیا
دادی جو منہا کو آرام کرنے کا کہتی خود بیٹھی تسبیح کر رہی تھی
آوازیں سنتی جلدی سے باہر آئی
سامنے کا منظر دیکھ اُنکی چیخ نکل گئی
منہا میری بچی وہ چیختی اُسکے قریب ایک
حمزہ کیا ہوا ہے منہا کو ،،،کیسے__؟
دادی جلدی چلیں پلیز،،
وہ اُسے لیے جلدی سے گاڑی میں بیٹھا
۔سامنے سے آتے اریج اور سمیع تمام صورت خال سمجھ نہ پائے اور تیزی سے اُنکی جانب لپکے
حمزہ جو گاڑی میں بیٹھتا کانپتے ہاتھوں سے گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تھا
سمیع کی آواز سنتا اُسے دیکھتا بولا
بھای کیا ہوا ہے ۔۔۔بابھی،، ۔۔ بھا ۔۔۔کو کیا ہوا
اسکو تکلیف میں دیکھ سمیع کے منھ سے بمشکل کچھ الفاظ نکلے
سمیع بہت برا ہو گیا یار بہت ۔۔۔۔
وہ ٹوٹے ہوے لہجے میں بولا،،
تم جلدی سے منہا کے گھر والوں کو خبر کرو اور ہاسپٹل آ جانا
وہ بولتا گاری بھگا لے گیا ،،
ہاسپٹل کے سامنے گاری روکتے وہ اُسے لیے اندر بھاگا
ہسپتال کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے اُسکی تکلیف کا سوچتے اُسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے
کس قدر تکلیف میں تھی وہ
راستے میں دادی کی گود میں سر رکھے وہ چیختی بس اپنے بچے کو بچانے کا بول رہی تھی
یہ سب کیا ہو گیا مجھ سے ۔۔۔
اُس نے ایسا تو نہیں چاہا تھا
وہ تو اُسے تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
وہ خود کو شرمندگی کی اتھاں گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس کر رہا تھا
آج اس کی وجہ سے اُسکی بیوی بچہ تکلیف میں تھے
زبان سے بس ایک ہی دعا نکل رہی تھی
آلہ میری بیوی بچے کو زندگی دے ،،،
اللہ میرے گناہ کی سزا میری بیوی کو نہ دینا
وہ خدا سے ہمکلام ہوتا بس یہی الفاظ دہرائے جا رہا تھا
سر آپکو ڈاکٹر صاحبہ اپنے کیبن میں بلا رہی ہیں
ایک سسٹر اُسکے قریب آتی بولی
وہ سر ہلاتا اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپاتا دھڑکتے دل کے ساتھ کیبن میں داخل ہوا
بیٹھیے مسٹر شاہ
اور کچھ پیپر اُسکے سامنے رکھ دیئے ۔۔۔
وہ نا سمجھی سے پیپر دیکھتے ڈاکٹر کی جانب دیکھنے لگا
مسٹر شاہ مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کے آپکی وائف کے کیس میں بہت کامپلیکيشنز ہیں
میں نے پہلے بھی آپکو اُنکا بہت خیال رکھنے کا کہا تھا
لیکن اب ان کی کنڈیشن بہت خراب ہے
بہت زیادہ بلیڈنگ کی وجہ سے بچہ اور مان دونو کی جان کو خطرہ ہے
آپکو ان پیپر پر سائن کرنے ہو نگے تاکہ ہم فوری طور پر آپریٹ کر سکیں
میں اپنی پوری کوشش کرونگی دونو کو بچانے کی لیکن اگر آپ کسی ایک کو بچانا چاہیں تو کس کو بچاے گے
یہاں سائن کر دیں
ڈاکٹر اپنے پیشہ وارانہ لہجے میں بولتی پین اُسکے آگے رکھ گئی ۔۔۔
ڈاکٹر کی بات سنتا سدمے سے گنگ وہ اُسے دیکھنے لگا
یوں لگا جیسے ہاسپٹل کی چھت اُسکے سر پر آ گری ہو
ڈاکٹر اُسکی خالت دیکھتی بولی
میں سمجھ سکتی ہوں یہ بہت مشکل ہے
لیکن میں مجبور ہوں ۔۔۔۔
آپ بس خدا سے دونو کی زندگی کی دعا کیجئے
کانپتے ہاتھوں سے اُسنے پیپر پر سائن کیے اور اپنی متاعِ جان کی زندگی بچانے کا لیے کہا
لیکن مجھے میری بیوی بچہ دونوں سہی سلامت چاہیے وہ ڈاکٹر کو دیکھتا بولا
انشا اللہ ہم اپنی پوری کوشش کریں گے
آپ بھی دعا کریں دونو کی زندگی کے لیے
کہتی وہ کمرے سے نکل گئی
وہ سر تھامے وہی بیٹھتا شدتِ ضبط سے سر ہاتھوں میں گرائے آنسو بہانے لگا ۔۔۔۔
اُسکی ایک غلطی سے سب بکھر گیا ،،،
اُس نے تو اُسکے سنگ کتنے خواب سجائے تھے ۔۔۔۔
سب بکھر گئے ،،،
لیکن یہ تو اب خدا ہی جانتا تھا کے اُنکے خوابوں کو تعبیر ملنی تھی ،،،،یاں بکھرنے تھے،،
🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋🦋
وہ لڑکھڑاتے ہوے قدموں سے باہر آیا ۔۔
قریب بینچ پر بیٹھتا سر ہاتھوں میں تھام گیا"
سب میری وجہ سے ہوا ہے دادی ۔۔۔
میں ایسا نہی چاہتا تھا _"میں تو بس اُسے سمجھانا چاہتا تھا کہ اُس نے غلط کیا،،
لیکن یہ مجھ سے کیا ہو گیا،،،وحشت زدہ سا بالوں کو مٹھیوں میں جکڑتے بولا
خوصلہ کرو میرے بچے سب ٹھیک ہو جائے گا خدا اچھے لوگوں کے ساتھ کبھی برا نہی کرتا اور میری منہا تو دل کی اتنی اچھی ہے،،
آج بھی تمہاری ماں اور اُسکی سہیلیوں نے اُسے کیا کیا نہی سنایا
لیکن بچی خاموشی سے سب سنتی میرے پاس آتی بس روتی رہی
اتنی مشکل سے چپ کروا کر میں نے اُسے بیجھا تھا لیکن کیا پتہ تھا کے یہ سب ہونا ہے
وہ دادی کی بات سنتا مزید اذیت سے دوچار ہوتا سر جھکا گیا
دادی یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ،،
لیکن میں ایسا نہی چاہتا تھا وہ نم آنکھوں سے اُنھیں دیکھتا بولا
اور پھر جھکے سر سے اُنھیں ساری بات بتاتا چلے گیا
حمزہ یہ کیا کر دیا تم نے بیٹا ،،
اُسے کتنا یقین تھا تم پر اور تم نے دادی '' دکھ سے بولتی خاموش ہو گئی
دادی آپ دعا کریں بس اُسکے لیے میں اُس کے بغیر نہی رہ سکتا
وہ میری رگوں میں خون بن کر دوڑتی ہے
میں کیسے اُسے تکلیف دے سکتا ہوں
اُسے ایسے لگ رہا تھا جیسے اُسکا دل دھڑکنا بند ہو جائے گا
سب ٹھیک ہو جائیگا تم منہا کے گھر والوں کو اطلاع کر دو اس وقت اُنکا یہاں ہونا ضروری ہے
کچھ ہی دیر میں سب ہاسپٹل میں موجود تھے ۔۔۔
منہا کی مما کا تو رو رو کر برا حال تھا
جبکہ ربیعہ بیگم بیٹے کی درگروں خالت دیکھ کر اپنے کیے پر پچهتا رہی تھی
لیکن اب کیا کر سکتی تھی
اسلیے خاموشی سے ایک طرف کرسی پر بیٹھ گئی
وہ مسلسل پریشانی سے کوریڈور کے چکر لگا رہا تھا
عجیب وسوسے اُسکے ذہن میں آ رہے تھے
حمزہ یہ دیکھیں کتنا پیارا ہے ناں
وہ خوشی سے نہال ہوتی بولی ۔۔۔۔
حمزہ اُسکی چہکتی آواز سنتا قریب آ گیا جو ہاتھوں میں چھوٹا سا پنک فروک پکڑے خوش ہو رہی تھی
سب سے پہلے ہم اُسے یہی پہنائے گے ۔۔اور پھر یہ وہ دوسرا ڈریس اٹھاتی بولی
جی میری جان آپ اُسکے ڈریس ہی بدلتی رہنا بس میرا پیارا بچہ،،
خوش "
حمزہ اُسکے گال پر لب رکھتا بولا تو وہ منھ بناتی بولی
تو ہاں نہ اتنے زیادہ تو ہیں میں اُسے سب ڈریس پہنا کر اُسکی پکس بناؤ گی ،،
آئی سی یو کے دروازے کے قریب کھڑے ہوتے گزرے لمحے اُسکی آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے
اللہ مجھ پر رحم کر میرے مالک
میری بیوی اور بچی کی زندگی بحش دے میرے مولیٰ
آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کے دھاڑی میں جذب ہوا
ڈاکٹر نے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہی دیا تھا
سب کے لبوں پر بس اُسکی اور ننھی جان کی زندگی کے لیے دعا نکل رہی تھی
کچھ ہی دیر میں سسٹر کمبل میں لپٹا ننھا سا وجود لیے اُنکے قریب آئی سب اُسکی جانب لپکے
مبارک ہو سر بیٹی ہوئی ہے،،
اور آپکی وائف کی طبیعت بھی اب اسٹیبل ہے
سب اُسکے منھ سے یہ الفاظ سنتے پرسکون ہوتے
شکر ادا کرنے لگے
اُس ذات پاک کا جس نے انکی اولاد کی حفاظت کی
کچھ ہی دیر میں اُنھیں روم میں شفٹ کر دیا جائیگا
سسٹر نے ننھی سی جان کو اُسکی جانب بڑھایا وہ نم آنکھوں سے اُس ننھی گلابی گڑیا کو دیکھنے لگا اور کانپتے ہاتھوں سے محبت سے اُسے اپنی باہوں میں بھرا
اپنی اولاد کا پہلا لمس محسوس کرتے اُسکی آنکھیں بھیگ گئی ۔۔۔
وہ بلکل اپنی ماں کی کاپی لگ رہی تھی ۔۔۔
جھکتے اُسکے نرم نازک گلابی گال کو چوما
آنسو ٹوٹ کر گال پر بہا وہ اپنے خدا کا جتنا شکر ادا کرتا کم تھا ۔۔۔۔
سب اُسکے قریب آتے اُس چھوٹی سی جان کو دیکھنے لگے جو فلہال آنکھیں کھولنے کے موڈ میں نہی تھی
وہ سب کو بےبی میں گم دیکھ شکرانہ کے نفل ادا کرنے چلے گیا
__________________
ہاسپٹل میں قدم رکھتے ہی بس وہ یہی سوچ رہا تھا کے کیسے اُسکا سامنا کرے گا ۔۔۔۔
سوچیں اُسکا دماغ مفلوج کر رہی تھی
وہ اتنی تکلیف سہتے ہوئے اُسکی اولاد کو دنیا میں لای اور اُسنے کیا کیا اُسکے ساتھ
اُسکا مان یقین توڑ دیا ،،
کیسے نظریں ملاے گا وہ اب اُس سے
حقیقت جاننے کے بعد وہ خود سے نظریں ملانے کے قابل نہی رہا تھا
ہمیشہ اُسکی وجہ سے وہ معصوم تکلیف سہتی رہی تھی
پہلے زبردستی شادی کی پھر اُسکی اجازت کے بغیر زبردستی تعلق قائم کیا ۔۔۔۔
اور اب جب وہ اتنی مشکل سے نارمل زندگی کی طرف آئ تھی خوش رہنے لگی تھی
تو اُسنے کیا کر دیا
وہ شکستہ قدموں سے شکن زدہ سے صبح والے کپڑوں میں چلتا بینچ پر بیٹھ گیا
ربیعہ بیگم اُسکی خالت دیکھ کر ترپ گئی
اُسکے قریب آتی اُسکے ماتھے پر لب رکھتیں بولی
مجھے معاف کر دو میرے بچے۔۔۔
میں نے بہت غلط کیا وہ روتی ہوئی اُسکے آگے ہاتھ جوڑ گئی
مما یہ کیا کر رہی ہیں
پلیز میں آگے ہی بہت تکلیف میں ہوں
مجھے اور اذیت نہ دیں
وہ اُنکے ہاتھ تھامتے لبوں سے لگا گیا
میری جاں ۔۔۔۔میرا بچہ ۔۔۔سب میری وجہ سے ہوا ہے
میں نہ اُنکی باتوں میں آتی ۔۔۔اور نہ یہ سب ہوتا وہ روتی ہوئی بولی
اندر تمہاری بیوی بچہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں اور تم یہاں بیٹھے ہو
اس وقت اُسے سب سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے میرا بیٹا
ربیعہ بیگم اُسکا ہاتھ تھامتے بولی
وہ سرخ آنکھیں اٹھاتا انہیں دیکھتا کرب سے بولا
میں کیسے جاؤ اُسکے پاس میں نے بہت برا کر دیا
میری وجہ سے آج اُسے اتنی تکلیف برداشت کرنی پڑی
وہ کہتی رہی کے ایک بار میں اُسکی بات سںن لوں،،،
لیکن میں نے نہی سنی
وہ اذیت سے آنکھیں میچتا اپنے آنسو اندر اتارتا بولا
میں کیسے سامنا کرونگا اُسکا مما،،
میرے میں اُسکے سامنے جانے کی ہمت نہیں
وہ اُنکے سینے سے لگتا بولا
نہ میری جان ایسے نہی بولتے،،
وہ سب جانتی ہے ،،،
اس سب میں تمہارا کوئی قصور نہیں
اصل قصوروار تو میں ہوں
وہ اُسکا چہرہ ہاتھوں میں لیتی بولی
حمزہ میرا بیٹا یہ آپکی غلطی نہی ہے
اُس وقت خالات ہی ایسے تھے
اور ویسے بھی میں منہا کو سب بتا چکی ہوں کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے
وہ تھوڑی سی ناراض ہوگی
تم اُسے راضی کرلو ۔۔۔اُسے اپنے ہونے کا یقین دلاؤں
اُس سے معافی مانگ لو
اُسکا دل بہت بڑا ہے وہ معاف کر دے گی
ابھی وہ کچھ اور بولتی کے منہا کی مما (کلسوم بیگم )
چلتی اُنکے قریب آئی
______________
اُس نے نیم بیہوشی میں ہلکی سی آنکھیں کھولی تو سب کو اپنے قریب پایا ۔۔۔۔
اُسکی نظر جس چہرے کو تلاش کر رہی تھی وہ کہی نہ تھا
وہ جانتی تھی وہ اُسکے سامنے کبھی نہی آے گا ۔۔۔
وہ اس سب کا قصور وار خود کو سمجھ رہا ہوگا
میری بچی میری جان تم ٹھیک ہو،،
منہا کو ہوش میں آتے دیکھ کلثوم بیگم اُسکے قریب آتے بولی
وہ انکے سہارے اٹھ کر بیٹھی ۔۔۔
جی مما میں بلکل ٹھیک ہوں
ربیعہ بیگم چھوٹی سی گلابی بچی کو اٹھائے اُسکے قریب آئی
اور ننھی سی جان کو اُسکی گود میں دیا
مبارک ہو میری جان بیٹی ہوئی ہے ۔۔
وہ اُسکا ما تھا چومتی بولی
بیٹی ۔۔۔۔وہ اپنی گود میں موجود بچی کو نم آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
اُسکے گلابی نین نقش ہوبہو اُس پر تھے
وہ جھکتی اپنے لب اُسکے رخسار پر رکھ گئی
منہا ۔۔ربیعہ بیگم اُسکے قریب بیٹھتی اُسکا نام پکاڑتی اُس کے قریب بیٹھ گئ
وہ جو بلکل بچی میں کھوئی ہوئی تھی اُنکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔
منہا میں اپنے رویے کی معافی چاہتی ہوں وہ نادم سی نظریں جھکائے بولی ۔۔۔
نہی آنٹی اس سب کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔
میں جانتی ہوں آپ نے خود یہ سب نہی کیا ۔۔۔۔آپ سے کروایا گیا ہے
اور ویسے بھی جو گزر گیا اُسے بھول جائیں
میں سب بھول چکی ہوں ۔۔۔
آپ میری ماں کی جگہ ہیں اور ماں معافی مانگتی اچھی نہی لگتی وہ اُنکی نم آنکھیں دیکھتی بولی ۔۔۔
منہا پلیز میری غلطی کی سزا میرے بیٹے کو نہ دینا
وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے ۔۔۔۔
وہ تو میری وجہ سے بس غصے میں آ گیا تھا
ورنہ میرا بیٹا ایسا نہی ہے وہ اُسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگی
میں جانتی ہوں اُس نے جان بوجھ کر ایسا نہی کیا ہوگا
آنٹی کیا ہو گیا ہے آپکو
میں جانتی ہوں سب ،،
پلیز اس طرح مجھے شرمندہ نہ کریں
خوش رہو میری بچی جیتی رہو
وہ مسکراتی اُسے دعائیں دینے لگی
--------------
بیٹا آپکو منہا بلا رہی ہے آپ جاؤ اندر
وہ ایک نظر سب کو دیکھتا خود میں ہمت جمع کرتا اٹھا
اور دھیمے قدموں سے دروازے کے قریب رک گیا
آنکھیں میچتا وہ روم کا دروازہ کھول اندر داخل ہوا ۔۔۔سامنے سمیع اُسے گود میں لیے کھڑا تھا اور باقی سب اُس سے لینے کے لئے آگے پیچھے گھوم رہے تھے ۔۔۔۔
اور اُسکی رگ جان یہ منظر دیکھ مسکرا رہی تھی
لو بھائی آ گئے،،
اب بےبی صرف اپنے بابا کے پاس جائے گی تم لوگوں نے تو اُسے تنگ کر دیا ہے سمیع اُسکے قریب آتا حمزہ کو بےبی دیتے بولا
تو موسیٰ اور اریج کے چہرے پھول گئی
بھئی یہ کیا بات ہوئی کب سے میں اپنی باری کا انتظار کر ہی تھی
چلو ابھی دوبارہ آ کر اٹھا لینا ہماری ہی ہے یار
سب آہستہ آہستہ کمرے سے نکل گئے
وہ جو آنکھیں کھولے پٹر پٹر اپنے باپ کو دیکھ رہی تھی
حمزہ کی نظر اُسکے معصوم گلابی چہرے پر ٹھر سی گئی
جو ماں کی طرح تھی لیکن آنکھیں بلکل حمزہ کے جیسی تھی
اپنی گول موٹی موٹی گرے آنکھوں سے وہ اپنے باپ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
میں چاہتی ہوں میری بیٹی کی آنکھیں بلکل آپ جیسی ہوں ۔۔۔۔
اُسکے ذہن میں اُسکا بولا گیا جملہ گردش کیا
وہ جھکتا اُسکی آنکھوں پر اپنا لمس چھوڑ گیا
بچی بھی باپ کا لمس پاتے ہولے سے آنکھیں موند گئی
سارا پیار اب بیٹی کو ہی دے دیں گے
یاں میری لیے بھی کچھ رکھیں ہے منہا کی ناراض سی آواز اُسکے کانوں میں سنای دی
وہ چھوٹےقدم اٹھتا بےبی کو بےبی کورٹ میں ڈالتا اُسکے قریب بیٹھتا نظریں جھکائے دھیمے لہجے میں بولا
مجھے معاف کر دیں منہا
میں میں یہ نہی چاہتا تھا
معافی تو بہت چھوٹا لفظ ہے لیکن میں پھر بھی آپ سے معافی چاہتا ہوں
اپنے اب تک کے ہر اُس عمل کی جس سے آپکو تکلیف پہنچی
اُسکے لہجے میں گھلی نمی محصوس کرکے منہا ترپ کر اُسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام گئ
حمزہ یہاں دیکھیں میری طرف ۔۔۔
وہ اپنی سورخ ڈورو والی آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگا
مجھے یہ نظریں کبھی جھکی ہوئی نہی چاہیے
نہ میرے سامنے اور نہ کسی اور کے
مجھے اپنا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا شوہر پسند ہے
مجھے یہ نظریں جھکائے بولنے والا بندہ بلکل بھی نہی پسند
منہا میں بہت نادم ہوں ۔۔۔۔
مجھے جو مما نے بتایا میں نے اس پر یقین کر لیا
وہ لب بھينچتا بولا
میں ایسا نہی تھا چاہتا میں تو آپکو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا
پتہ نہیں کیسے !!
میں نہ چاہتے ہوے بھی آپکو تکلیف دینے کا سبب بنا
وہ بے بسی سے بولتا اُسکے ہاتھ نرمی سے تھامتے بولا
منہا اُسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی
میں سب جانتی ہوں
آپکو مجھے کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں
میں جانتی ہوں کے آپ خود سے زیادہ مجھے چاہتے ہیں
جو شخص مجھے ایک کھروچ لگنے نہی دیتا وہ مجھے خود تکلیف کیسے دے سکتا ہے
مجھے خود سے زیادہ آپ پر یقین ہے
اب ایسے منھ لٹکا کے مت بیٹھیں
مجھے تو ہر وقت ہنستا مسکراتا میرے حمزہ سے محبت ہے
مجھے اُس شخص سے محبت ہے جس نے میری بے رخی،، ناراضگی کے باوجود میری تمام خواہشوں کا احترام کیا
وہ تھوڑا سا اُسکے قریب ہوتی اُسکے ماتھے پر اپنے لب رکھتی بولی
اور مجھے
مجھے آپ سے پیار نہی محبت ہے،،
پیار تو ہر کسی سے ہو سکتا ہے۔۔۔
کسی کے لفظوں سے ،،، زرد پتوں سے
جنگلوں سی لمبی سڑک سے
کسی جھیل کنارے پرے پتھروں سے
مجھے محبت ہے آپ سے،،
محبت ہے کوئی ہر کسی سے نہی کرسکتا
محبت بس ایک سے ہوتی ہے اور ایک پر ختم
اور مجھے آپ سے بے پناہ محبت ہے،،
وہ اپنے اندر تک سکون اترتا محسوس کرتا اُسکی آنکھوں میں دیکھ اپنے گھمبیر لہجے میں بولا
کچھ لمحے ابھی سرکے ہی تھے کہ ایک باریک سی آواز اُسکے کانوں میں سنا ی دی
وہ مسکراتی ہوئی اپنی ننھی سی پری کو دیکھنے لگی
حمزہ اُسے کارٹ سے اٹھاتا اُسکے قریب لے آیا
دیکھ لیں یہ تو آتے ہی مجھ سے جلنے بھی لگی ہے
ہاہاہا حمزہ کا قہقہ گونج اٹھا
خدا کو مانیں بیگم میری چھوٹی سی جان پر اتنا برا الزام نہ لگائے ۔۔۔
وہ بےبی کو اُسکی گود میں ڈالتا بولا
حمزہ اسکی آنکھیں بلکل آپ جیسی ہیں نہ
وہ اُسکی آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتی خوش ہوتی بولی
وہ اُسے دیکھنے لگا جو ماں کی کاربن کاپی تھی لیکن آنکھیں اُسنے حمزہ سے چورای تھی
وہ اُسے گود میں لیے ایک بار پھر سے اُسکی آنکھیں چُوم گیا ۔۔۔کبھی اُسکے ننھے ہاتھ چومتا
تھینک یو سو مچ منہا ۔۔۔
مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لئے
آگے جھکتا اُسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا ،،
اہمم اہم" کیا ہم اب اندر آ سکتے ہیں سمیع تھوڑا سا دروازہ کھولتا اندر جھانکتا بولا
وہ اب میری باری ہے بے بی کو اٹھانے کی پھر کوئی اور اٹھا لے گا
وہ اندر آتا حمزہ کی گود سے بےبی اٹھانے لگا ۔۔۔
نہی بھائی بلکل بھی نہی اس نے پہلے بھی اٹھایا تھا اب میں اٹھاؤں گی بےبی کو
اریج آگے ہوتی حمزہ کی گود سے ننھی پری کو لینے لگی
اندر آتے سب اُنھیں دیکھ کر مسکرا دیے ۔۔۔
منہا نام کیا رکھنا ہے ننھی شہزادی کا دادی اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔
اسکا نام اسکے بابا نے رکھ دیا ہوا ہے دادی جان وہ سبکو دیکھتی بولی
اچھا تو پھر ہمیں بھی تو بتائیے ہماری پری کا نام
موسیٰ مسکراتا ہوا بولا
حورب ۔۔۔۔۔۔
اسکا مطلب ؟؟اریج اُسے دیکھتی بولی
جنّت کی حور۔۔۔۔۔
ماشا اللہ نام تو بہت خوبصورت ہے
سب کو نام بہت پسند آیا ۔۔۔۔
حمزہ سب کو آپس میں مصروف دیکھ اُسکے قریب ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔
الحمدللہ ۔۔۔۔۔ "بلیسڈ ٹو ہیو یو"
شکریہ میری زندگی اتنی حسین بنانے کے لئے ۔۔۔۔مجھے قبول کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔
میرا خواب_ اے _دل" پورا کرنے کے لئے
منہا مسکراتی اُسکے کندھے پر سر رکھ گئی
دوسری طرف اب جنگ عظیم جاری ہو چکی تھی،،،،
بڑے چھوٹے سب ننھی حورب کے لیے کھڑے تھے ۔۔۔وہ دونوں سب کو دیکھ مسکرا دیے ۔۔۔۔
......
ختم شدہ
If you want to read More the Beautiful Complete novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔
If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read Youtube & Web Speccial Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read Famous Urdu Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about
Khuwab Ae Dil Bikharne Na Do Novel
Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Khuwab Ae Dil Bikharne Na Do written by Yamna . Khuwab Ae Dil Bikharne Na Do by Yamna is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.
Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply
Thanks for your kind support...
Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels
Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.



No comments:
Post a Comment