Hum Mil Gaye Yuhi By Ismah Qureshi New Romantic Novel Episode 71&75
Madiha Shah Writes: Urdu Novel Storiesa
Novel Genre: Cousin Based Enjoy Reading...
![]() |
Hum Mil Gaye Yuhi By Ismah Qureshi New Romantic Novel Episode 71&75 |
Novel Name: Hum Mi Gaye Yuhi
Writer Name: Ismah Qureshi
Category: Continue Novel
" آپ ہمیں یونی کیوں لاۓ ہیں دار۔۔۔!!! ہمیں نہیں جانا یونی۔ پلیز واپس چلیں ۔۔۔!!!"
گاڑی کے شیشے سے باہر یونی کی عمارت دیکھتے ہی اس کے ذہن میں اس دن کی کڑوی یادیں تازہ ہوئیں تو تاثرات بھی بگڑے۔ اسے امید نہیں تھی دیار اسے یونی لے آۓ گا۔
گاڑی انلاک کرتے ہوۓ دیار نے دونوں ہاتھ سٹیرنگ پر رکھے۔اور اس کی جانب دیکھا۔ وشہ کا نقاب اس وقت کھلا ہوا تھا اور پن اس نے ہاتھ میں پکڑی تھی۔
" جانم یونی پڑھنے کے لیے ہی جاتے ہیں غالباً۔میں تو پڑھنے ہی جاتا تھا آپ بھی پڑھنے ہی جاتی ہوں گی۔ انفیکٹ آج بھی آپ پڑھنے ہی آئ ہیں۔ بہت حرج ہورہا ہے آپ کی پڑھائ کا اور میں نہیں چاہتا میری بیوی فیل ہوجاۓ۔ تو اچھے بچوں کی طرح یونی جائیں میں آف ٹائم پر خود آؤں گا آپ کو لینے۔ تب تک آفس کا کچھ کام کرلوں میں بھی ۔۔۔!!!"
گاڑی کی کیز واپس سے سیٹ کرتے ہوۓ اس نے اتنی آسانی سے یہ بات کہی جیسے پہلے جو بھی ہوا تھا اسے یاد ہی نہ ہو۔ وہ واپس جانے کو تیار تھا۔ہاتھ میں پکڑی پن پر گرفت سخت کرتے ہوئے وشہ نے سامنے دیکھا۔ جہاں آج معمول سے ہٹ کر کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں۔
" دیار ہم بچے نہیں ہیں جو ایک لڑائ کے بعد ہمیں بہلا پھسلا کر آپ واپس سے سکول چھوڑ رہے ہیں کہ پڑھائ ضروری ہے تو ہم بھی سب بھول کر پڑھیں۔ لڑنا اچھی بات نہیں ہے۔ بلا بلا بلا ۔ تو ہم واپس سے دوستی کا ہاتھ سب کی جانب بڑھادیں۔ اور معاملہ ختم کردیں۔۔۔!!!"
گاڑی میں اس کی سنجیدگی سے بھری آواز گونجی۔ وہ حیران تھی اس لمحے کہ دیار نے سوچا بھی کیسے اب وہ واپس سے یونی جاۓ گی۔ بھلا جہاں عزت کو خطرہ ہو وہاں دوبارا جایا جاتا یے۔۔۔!!!
ہر گز نہیں ۔۔۔!!!
سر کو ہلکا سا خم دے کے دیار نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیاں لبوں پر جمائیں اور کچھ سیکنڈ چپ رہا پھر ہاتھ ہٹاکر اس نے کندھے اچکاۓ۔
" تو آپ کو کس نے کہا کہ پرانی باتیں بھول کر سب واپس سے شروع کریں۔ میں نے بس یونی جانے کو کہا ہے۔ پڑھنے کو کہا ہے اینڈ ڈیٹس اٹ ۔۔۔!!! اور آپ کو آج یونی جانا ہوگا۔ ہر قیمت پر۔ چاہے تو آرگومنٹ کرکے جائیں یا انرجی ویسٹ کیے بنا جائیں۔ جانا تو ہوگا آپ کو ۔۔۔!!!"
عنابی لب سنجیدگی سے باہم پیوست ہوۓ۔ اور وشہ کا پارا ہائ ہونے لگا۔ وہ اب بھی ناسمجھی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ کیا اس کا دماغ ٹھکانے پر ہے۔ وہ کیوں آزما رہا ہے اسے۔
" دیار بات ہماری عزت کی تھی ہم کیسے واپس سے اسی جگہ چلے جائیں جہاں سے رسوا ہوکر نکلے تھے ہم۔ "
سمجھانے کی کوشش کی گئ۔ تو دیار نے آنکھیں دوسری جانب کرلیں۔
" رسوا آپ نہیں ہوئ تھیں حرف میری آپ کو دی گئ خفاظت پر آیا تھا۔ اور سر جھکاکر آپ کیوں بھاگ رہی ہیں یہاں سے بھاگنا انہیں چاہیے جو گنہگار ہیں۔ وہ سب تو سکون سے رہ رہے ہیں اور ایک آپ ہیں جسے اپنی پڑھائ بھی جاری نہیں رکھنی۔
ابھی کے ابھی گاڑی سے اتریں ورنہ ٹرسٹ می میں گود میں اٹھاکر آپ کو آپ کی فرسٹ کلاس میں چھوڑ کر آؤں گا۔ اور بھیڑ کی پرواہ بھی نہیں ہوگی مجھے۔ جو جو چاہے دیکھ لے پر مجھے ذرا شرم نہیں آۓ گی "
پہلے پہل جو لہجے میں سنجیدگی تھی اگلے لمحے وہ ایسی شرارت میں بدلی کہ وشہ کا منہ کھلا حیرت سے۔ یہ بندہ سیریس ہوہی نہیں سکتا تھا۔ وہ کلس گئ ۔۔۔!! دیار نے ایک آنکھ دبائ پھر اس کی جانب جھکا۔
تو ہاتھ میں پکڑی سوئی سے اس نے فورا نقاب سیٹ کیا۔ لیکن آنکھوں میں تنبیہ تھی کہ وہ اپنی مرضی سے نہیں جارہی۔
" بقول آپ کے میں ٹھرکی ہوں۔ تو ٹھرکی لوگوں کو رومینٹک موڈ میں آنے میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ بےشرم ہوتے ہیں مجھ جیسے ٹھرکی لوگ۔ "
اس کا نقاب کی پن سیٹ کرتا ہاتھ دیار نے پکڑا پھر اس کی کلائی میں چمکتا اپنے نام کا بریسلیٹ ہاتھ سے سیٹ کرنے لگا۔ وشہ کے ہاتھ ہلکے سے کانپ گۓ۔ تو وہ دلکشی سے مسکرایا۔
" جانم میں سادہ آپ سے برداشت نہیں ہوتا اس وقت بھی ٹھرکی ہی کہہ رہی ہوں گی آپ مجھے۔تو میرے رومینٹک انداز کو دیکھ کر آپ کے دل سے کتنی گالیاں نکلتی ہوں گی میرے لیے۔ آپ سناتی نہیں پر میں امیجن کرسکتا ہوں۔ آپ کے نزدیک میں گھٹیا ترین انسان ہوں۔"
اس کا دھیان بھٹکانے کی خاطر دیار نے گھمبیرتا سے کہا۔ تو وشہ نے آنکھیں چرائیں۔
" اب ایسا بھی کچھ نہیں ہے۔ بس آپ کی سوچ ہی بری ہے تو ہمارا کیا قصور ۔۔۔!!"
ہاتھ کھینچتے ہوئے وہ اونچی آواز سے بولی۔ جب اس کے ہاتھ پر عقیدت بھرا بوسہ دے کر دیار نے وہ ہاتھ چھوڑ دیا۔
نیک اور حاجی نمازی تو آپ کبھی نہیں کہیں گی مجھے۔ آخر بیوی جو ہیں میری ۔۔۔!!! کیوں چاہتی ہیں آپ کہ ساری یونی کو پتہ چل جاۓ آپ کا شوہر کس قدر ٹھرکی اور بےشرم انسان ہے۔ میری نہیں تو اپنی عزت کا خیال کرلیں۔ "
اسے وارننگ دینے والے انداز میں دیار نے دھمکایا۔ وشہ کے گال اس وقت پورے سرخ ہوگۓ تھے اس نے شکر ادا کیا کہ دیار نے اس کے گال نہیں دیکھے ورنہ مزید شہہ ملتی اسے۔
" اپنی عزت کا خیال ہے تبھی جارہے ہیں ہم یہاں سے۔ پر ہم ناراض ہیں بھولیے گا مت۔ اگر اب کی بار کچھ ہوا تو کبھی بات نہیں کریں گے ہم۔ چاہے آپ ٹھرک پن جھاڑنے کی دھمکی دیں یا جھاڑ ہی دیں یہ ٹھرک پن ہم نہیں ڈریں گے ۔۔۔!!!"
باہر نکلتے ہی گاڑی کا دروازہ پوری شدت سے مار کر اس نے بند کیا اور ہمت کرکے یونی کا گیٹ پار کرگئ۔
پیچھے دیار نے بھی ہنستے ہوۓ گاڑی سٹارٹ کردی۔ وشہ کی جانب سے اسے اب کوئ فکر نہیں تھی۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
یونی میں اینٹر ہوتے ہی اسے محسوس ہوا جیسے آج یونی میں معمول سے ہٹ کر چہل پہل ہے۔ لڑکیاں جو پہلے بھی میک اپ میں لدی ہوئ یونی آتی تھیں آج ان کے انداز میں جیسے الگ ہی نزاکت محسوس ہوئی اسے۔ بولڈ ڈریسز پہنے کچھ لڑکیاں اپنا میک اپ سیٹ کررہی تھیں تو کچھ لڑکے انہیں دیکھنے میں مصروف تھے۔
اس نے ناگواریت کا اظہار کرتے ہوۓ قدم آگے کی جانب لیے۔ اسے بالکل دلچسپی نہیں تھی آج کیا خاص ہونے والا ہے یونی میں۔ ان رنگوں میں نہاۓ وجودوں میں وشہ کا اپنا وقار تھا ایک۔
وہ سب سے الگ لگ رہی تھی سیاہ عباۓ میں۔ جیسے ان عام سے لوگوں میں کوئ شہزادی چل رہی ہو۔ جسے اپنے وجود کی نمائش کروانا منظور نہ ہو۔
آگے بڑھتے ہوۓ وہ ابھی کلاس میں جارہی تھی جب کچھ سوچ کر وہ نوٹس بورڈ کے پاس رک گئ۔ تاکہ جان سکے آج کیا خاص ہورہا ہے یونی میں۔ کافی دنوں بعد آنے کے باوجود اس کی چال میں زرا گھبراہٹ نہ آئ وہ وشہ درانی تھی۔ گھبرانا نہیں آتا تھا اسے وہ لوگوں کو گھبرانے پر مجبور کرتی تھی۔
اس نے آج کے دن کے لیے چسپاں ہوۓ نوٹس دیکھے۔ تو ہونٹ اوو کی شکل میں گول ہوۓ۔
"اووو تو اس یونی کے نیو اونر کے استقبال میں آج یہ پارٹی رکھی گئ ہے۔ کسی نے اس یونی کو بھی خرید ہی لیا۔ آج کوئ کلاس بھی نہیں ہوگی تو ہم کیوں آۓ ہیں یہاں۔۔۔۔!!! واپس چلے جاتے ہیں بھلا ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے وقت ضائع کرنے کی ۔۔۔!!!"
اپنا فون نکال کر وشہ نے دیار کو کال کرتے ہوۓ سوچا۔ اب جب کوئ کلاس ہی نہیں تھی یونی میں تو یہاں رہنے کا کیا فایدہ۔ دوسری طرف سے دیار نے کال پک نہ کی۔ اسے یاد آیا وہ ڈرائیونگ کررہا ہے تو فون نہیں اٹھاۓ گا۔ اور وہ بھی ناراض ہے تو اسے آف ٹائم تک یہاں ہی رہنا چاہیے۔
اور ہمارے جانے کے کچھ دن بعد سے یونی بھی بند تھی۔"
سائیڈ پر سٹوڈنٹس کے لیے ویلکم بیک کا نوٹس لگا تھا اور یونی بند ہونے کی تاریخ بھی مینشن تھی۔ اس نے غور سے اس نوٹس کو دیکھا۔
" شکر ہے اللہ کا کہ اتنے دن کلاسز ہی نہیں ہوئیں ورنہ ہم کیسے ٹائم مینج کرتے پینڈنگ پر پڑا کام پورا کرنے میں۔ ایسے تو دیار کو بھی غصہ آجاتا اگر ہم ان کے ٹائم پر بھی پڑھائ کرتے۔ اچھا ہی ہوا یہ کہ یونی بند تھی ۔۔۔!!!! اب کوئ مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔!!"
اس نے اپنا اعتماد بحال کیا اور جاکر یونی کے بیک سائیڈ پر بنے ایریا میں بیٹھ گئ۔ جہاں اس وقت کچھ لڑکیاں ہی موجود تھیں۔ وہ ایریا بس لڑکیوں کے لیے مختص تھا تو اپنا نقاب کھول کر وشہ نے اپنا فون نکالا اور انسٹاگرام پر سکرولنگ کرنے لگی۔ آس پاس سے گزرتی لڑکیوں نے اسے دیکھاتھا پر شاید وہ بھی اب پہلا واقعہ مکمل نہ سہی پر کچھ حد تک بھول چکی تھیں تو کسی نے اسے تنگ نہ کیا۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
دن کے دس بج رہے تھے جب آہستہ آہستہ روحیہ کا دماغ ایکٹو ہونے لگا۔ سر میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔ برین ہیمبرج کے بعد سے وہ اپنے بال بھی نہیں باندھتی تھیں کیونکہ زرا سا سخت دباؤ اس کی جان نکال دیتا تھا۔ اور یہاں تو دلاور خان نے اسے جی بھر کے مارا تھا اس وقت اسے لگا جان نکل رہی ہے یا نکل جاۓ گی۔
اپنا سر سنبھال کے روحیہ بیڈ پر بیٹھ گئ اس کے کپڑے چینج تھے اس وقت۔ وائٹ کلر کی شرٹ اور ٹراؤزر پہنا تھا اس نے۔ کل لیڈی ڈاکٹر نے ہی ہیلپ کروائی تھی وہ ڈریس چینج کرنے میں اس کی۔ کیونکہ باران کو منظور نہیں تھا اس دلاور خان کے لمس سے غلیظ ہوۓ کپڑے اس کی بیوی کے وجود پر رہیں۔
اسے یاد نہیں تھا کیا ہوا ہے اس کے ساتھ۔ اس نے یہ انجان گھر دیکھا تو سوچنا چاہا کہاں ہے وہ۔ پر یاد نہ آیا۔
دماغ پر زور دینے کی کوشش میں اسے شدید درد کے جھٹکے لگے لبوں سے مدھم سی چیخ نکلی تو یاد آیا کل دلاور خان اس کے کتنے نزدیک تھا۔ اور وہ بے ہوش ہوگئ تھی۔ جھٹ سے آنکھیں کھول کر وہ بیڈ سے نیچے اتری۔ اور اس کمرے کو دیکھنے لگی۔ پھر اپنا حلیہ دیکھا تو دل کیا چیخ چیخ کر رونے لگے۔
ایک عزت ہی تو عورت کی اپنی ہوتی ہے وہ روتی نہ تو کیا کرتی۔
" کہیں میں دلاور خان کے قبضے میں تو نہیں ہوں۔ یاخدا یہ کیا ہوگیا میرے ساتھ۔ میں کیوں غلط وقت پر غلط آدمی کے سامنے ہار گئ۔ نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ میں علی بھائ کی رسوائ کی وجہ نہیں بن سکتی۔ وہ مر جائیں گے اگر دلاور خان کے ارادے کامیاب ہوگۓ تو۔ یااللہ ۔۔۔۔!!!!!"
سر تھامتے ہوۓ روحیہ نے ایک ہاتھ گھٹنے پر رکھا۔ اور گہرے سانس لینے لگی۔ پہلا خیال اسے دلاور خان کا ہی آیا کیونکہ باران کی آمد اسے بھول گئ تھی۔
" میں مر کیوں نہیں گئ ابھی بھی زندہ کیوں ہوں۔ بھائ کو پتہ چلے گا کہ میں ان کے دشمن کے پاس تھی کل سے تو انہیں کتنی تکلیف ہوگی۔ مجھے یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ یہ کیا ہوگیا ہے یااللہ۔۔!!!"
خود سے بڑبڑاتے ہوۓ اس نے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیرے۔ پھر سامنے رکھے ڈریسنگ مرر سے اسے اپنا عکس دکھا تو چہرے پر غصے کی وجہ سے شکنیں پڑیں۔ وہ غصے سے اس مرر کے پاس آئ اور جھٹکے سے وہاں رکھی چیزیں اس نے پھینک دیں۔ درد کی وجہ سے وہ چیخ نہ پائ ورنہ سب تہس نہس کردیتی۔
اپنے دونوں ہاتھ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر روحیہ نے دانت پیستے ہؤے اپنا زخموں سے چور چہرہ دیکھا اس لمحے اسے اپنے وجود سے بھی گھن آئ تھی۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال جھکڑتے ہوۓ روحیہ نے نیچے گرا گلدان اٹھاکر اس شیشے کو توڑ دیا جو اس کی صورت پر لگے زخم دکھا رہا تھا۔
کرچیاں اس کے ارد گرد بکھرگئیں۔ اس کا دل بھی تو یوں ہی بکھرا ہوا تھا۔ اپنے آنسو رگڑتے ہوۓ اسے اس لمحے علی ہی یاد آیا۔ جس کی رسوائ کی وجہ وہ تھی پر وہ کیسے اپنے بھائ کی رسوائ برداشت کرلیتی۔
چہرہ صاف کرتے ہوۓ روحیہ نے نیچے جھک کے ٹوٹے ہوۓ شیشے کی ایک کرچی اٹھائ۔ اور اسے ہاتھ میں دبوچ کر اس نے اپنی دوسری کلائ سامنے کی۔ قسمت سے لڑکر یہاں تک پہنچی ہوئ روحیہ کبھی اتنا نہیں ٹوٹی تھی جتنا آج ٹوٹا ہوا لگا اسے اپنا آپ۔
اتنا درد ہوا دل میں یہ سوچ کر کہ علی اس کی وجہ سے شرمندہ ہوگا وہ آج مرنے کو تیار کھڑی تھی۔ وہ بھی حرام موت۔
"سوری علی بھائ ۔۔۔!!! پر روحیہ ہار گئ اس شیطان کے سامنے۔ میں پہلے کیا کم داغدار تھی جو ایک اور داغ قسمت نے دے دیا مجھے۔ دلاور خان نے تب بھی داغدار کرنا چاہا تھا مجھے پر کر نہ سکا دیکھیں آج وہ کامیاب ہوگیا۔ بس اب میرا مرجانا ہی بہتر ہے ۔"
آنکھ سے ایک آنسو پھسل کر فرش پر گرا اس نے لب سختی سے بھینچے اور آنکھیں بند کرکے تیز دھار والے شیشے کی کرچی اس نے اپنی کلائی پر رکھی۔ پھر زور بڑھانا شروع کیا۔ وہ سسکی کیونکہ خون کی پتلی سی دھار اس کی کلائی کٹنے سے نکلی تھی۔ دباؤ اس نے مزید بڑھایا پھر آنکھیں کھول کر اس کلائی کو دیکھا۔ اور ہلکا سا مسکرائی۔
" جانتی ہوں میں اس کے بعد جہنم ہی میرا ٹھکانہ ہوگا۔ پر میں مجبور ہوں۔ اللہ مجھے معاف نہیں کرے گا۔۔۔۔!!! وہ ناراض ہوجاۓ گا مجھ سے۔ یہ حرام موت ہے وہ نہیں بخشے گا چاہے میں ہزار دلیلیں ہی کیوں نہ دے لوں۔۔!!!"
ہنستے ہوۓ اس کے چہرے پر اداسی چھانے لگی۔ اچانک اسے خیال آیا وہ کیا کررہی ہے اس وقت۔ وہ خود کشی کررہی ہے اسے ابھی ٹھیک سے سمجھ آئ۔ وہ دماغی مریضہ تھی بہت سے کام کرنے کے بعد اسے سمجھ آتا تھا اس نے کیا کرلیا ہے۔
جھٹکے سے اس کا دماغ مکمل بیدار ہوا تو اسے یاد آیا کل باران بھی آیا تھا وہاں اسے بچانے کے لیے۔ اس کے ہاتھ میں موجود شیشے کی کرچی پر اس کی گرفت ہلکی ہوئ۔ خون مسلسل بہہ رہا تھا۔ فرش پر اس کے سرخ خون کے تازہ دھبے تھے۔
" مجھے بچانے کے لیے وہ آیا تھا وہاں۔ تو کیا میں محفوظ ہوں۔ کیا باران نے بچالیا تھا مجھے ۔۔۔!!!"
ہاتھ میں پکڑا شیشے کا ٹکڑا پھینکتے ہوۓ روحیہ نے الجھ کر سوچا۔ پھر اپنی کلائی جھٹک کر اپنے چہرے پر بہتے آنسو اس نے پونچھے اور مزید یاد کرنا چاہا کیا ہوا تھا اس وقت۔
بہت یاد کرنے کے بعد اس کی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔
" باران نے نکاح کیا تھا مجھ سے۔ ہاں یاد ہے مجھے اس نے نکاح کیا تھا مجھ سے۔ تو دلاور خان سے میں محفوظ تھی۔ پر اس نے میری مرضی جانے بغیر یہ کیوں کیا۔ اس کی بیوی اور فیملی کہاں ہوگی اس وقت۔ کیا وہ مجھے سب سے چھپاکر رکھے گا تو میری اذیتوں کا کیا صلہ ملا مجھے ۔۔۔۔!!!
نہیں۔۔۔۔۔!!! یہ غلط ہے ۔۔۔!!!"
بھاری ہوتے سانس کے ساتھ روحیہ نے اپنے بال سمیٹے خون کے نشان اس کے چہرے پر بھی لگے تھے۔ اور کپڑے بھی خون سے بھیگ رہے تھے۔
" باران کے بچے ۔۔۔!!! میں زرا کمزور کیا پڑی تم نے نکاح کرلیا مجھ سے۔ کل تک مجھے مارنا چاہتے تھے تم اور آج نکاح ۔۔۔!!! پھر یہ گھر پتہ نہیں کس کا ہوگا۔ سکون سے تو نہیں رہنے دوں گی میں تمہیں۔ جان نہ نکال لی تو میرا نام بھی روحیہ نہیں ۔۔۔!!!"
سنجیدہ ہوتے ہوۓ نیچے جھک کر اپنا گرا ہوا خون روحیہ نے اپنے ہاتھ پر لگایا پھر آگے ہوکر دروازے پر اس نے مسکراتے ہوئے کچھ لکھنا شروع کیا۔
وہ اپنے ہوش میں نہیں تھی اس کا دماغ اس وقت اسے جنونی بنارہا تھا اتنے خون کے ضائع ہونے کے باوجود وہ اب تک لڑکھرائ نہیں بلکہ اپنے ہی خون سے اب کچھ لکھ رہی تھی۔
" تم بس میرے ہو بادل ۔۔۔!!!"
وہ مسکرائ یہ الفاظ اس نے دروازے پر لکھے تھے۔ پھر کمرے سے باہر نکل کر اس محل نما حویلی کو اس نے جانچتی نظروں سے دیکھا۔ گھر اچھا تھا اور پورا سفید ماربل سے سجا تھا۔ دیواریں بھی ماربل سے کور تھیں۔
اس نے سیڑھیوں کے پاس پہنچ کے دیوار پر اپنا نام لکھا بادل کے نام کے ساتھ۔
پھر ہنسنے لگی۔ اچھا لگ رہا تھا اسے یہ نام۔ خون کے دھبے گررہے تھے مسلسل۔ تو اس نے اپنی کلائی دبوچ لی وہ ڈاکٹر تھی اچھے سے اندازا تھا اسے کتنا خون بہنے سے وہ بے ہوش ہوجاۓ گی۔
آگے آتے ہوۓ روحیہ نے مزید بھی دیواروں پر دل وغیرہ بناۓ۔ وہ انسین لیڈی تھی بالکل پاگل تو اسے اپنے خون سے تحریر لکھنے میں بھی مسئلہ نہیں تھا۔
دروازے کے پاس آکر وہ زمین پر بیٹھی اور لکھا
" Welcome in my life my love "
اب حال کچھ یوں تھا کہ جگہ جگہ بکھرا خون کسی ہانٹڈ مووی کا منظر پیش کررہا تھا۔ جیسے یہاں کسی کا درد ناک قتل ہوا ہو۔ اور وہ اپنی اس حرکت پر ہنس رہی تھی۔
ہنستے ہوۓ اسے چکر آۓ تو ہاتھ پکڑ کر روحیہ سکون سے اسی کمرے میں چلی گئ جہاں سے آئ تھی وہ۔ وہاں جاکر اس نے باران کی ایک شرٹ نکال کر دراز سے قینچی ڈھونڈی اور شرٹ کاٹ کر بڑی مشکل سے اپنی کلائی پر باند لی۔ اسے اب پھر سے ہنسی آئ تھی خود پر۔
سر چکرا رہا تھا بری طرح سے تبھی ہمت کرکے روحیہ بیڈ پر لیٹ گئ اور آنکھیں بند کرکے زیر لب اس نے باران کہا۔ اس کا جنونی دماغ پھر سے غنودگی میں جارہا تھا تو وہ سوگئ وہیں۔
باران ابھی دلاور خان کے پاس گیا تھا۔ اس کا دماغ ٹھیک کرنے تو اسے زرا بھی اندازا نہیں تھا اس لڑکی نے اپنے ساتھ کیا حرکت کی ہے۔ اگر اسے اندازا ہوتا تو اسے باندھ کر جاتا۔ اب کیا ہوسکتا تھا خون ابھی بھی رس رہا تھا اور روحیہ بےہوش ہوگئ تھی۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" تمہیں پتہ ہے میں نے سنا ہے کہ اس یونی کے نیو اونر بالکل ہیرو جیسے ہیں۔ ان کی پرسنیلٹی ایسی ہے کہ دیکھتے ہی دل دھڑک اٹھتا ہے۔ میں نے انہیں تصویروں میں دیکھا تھا یار میرا تو سانس ہی رک گیا۔ کتنے سٹائلش اور ڈیشنگ ہیں وہ۔۔۔۔!!!!
اف آج اتنے پاس سے دیکھوں گی میں انہیں سوچ سوچ کر ہی جان نکل رہی ہے میری۔ بس ایک بار وہ آجائیں تو ان کی نظروں میں آنے کی کوشش کروں گی میں ۔۔۔!!!"
وشہ ایونٹ کی جگہ پر کھڑی سجے ہوئے سٹیج کو دیکھ رہی تھی۔ پاس سے گزرتی ہوئی لڑکی نے جو کمنٹ یہاں کے نیو اونر پر پاس کیا اسے سن کر اس نے ہنہہ کہا۔
" کیا کرو گی تم ان کی نظروں میں آنے کے لیے ۔۔۔؟؟؟"
دوسری نے دلچسپی سے سوال کیا تو اس نے اپنے بال جھٹکے۔
" بس ان کے استقبال میں قریب جاؤں گی پھر سینڈل میں پاؤں اٹکے گا اور ۔۔۔۔!!!"
اپنی انگلی کے گرد بال لپیٹتے ہوۓ اس لڑکی نے ادا دکھائ وہیں دوسری لڑکی نے اس کی بات کو فورا کاٹ دیا۔
" تم پکے ہوۓ پھل کی طرح ان کی جھولی میں گرو گی ڈائریکٹ ۔۔۔!!! یار پلین اچھا ہے ویسے۔ ہوسکتا ہے تمہاری صورت انہیں بھا جائے اور ملاقاتوں کا سلسلہ چل پڑے۔۔۔!!!! تم ہو بھی تو اتنی پیاری۔ سر کو مر مٹنا چاہیے تم پر۔۔۔!!!"
اس کے بے ہودہ لباس کو تیسری لڑکی نے ستائشی نظروں سے دیکھا۔ لباس ایسا تھا کہ وشہ کی آنکھیں حیاء سے جھک گئیں۔ استغفرُللہ کہہ کر وشہ وہاں سٹوڈنٹس کے لیے لگائ گئ نشستوں پر جاکر بیٹھنے لگی۔ اچانک اسکے پاس ایک لڑکی آئ۔
" میم آپ پلیز فرسٹ رو میں جاکر بیٹھیں۔ آپ کا لباس اس قابل ہے کہ آپ کو آگے بٹھایا جاۓ ورنہ یہاں کی لڑکیوں کی ڈریسنگ دیکھ کر سر سٹاف کو ہی نکال دیں گے۔ پلیز آپ آگے جائیں ۔۔۔!!!"
پرفکر لہجے میں اس نے التجا کی تو ناچاہتے ہوئے بھی وشہ کو آگے جاکر بیٹھنا پڑا۔ پروفیسرز اور لیکچرارز کی چیئرز دوسری جانب تھیں۔ وشہ کو حیرت ہوئ کہ اسے صرف سب سے آگے بیٹھایا گیا تھا باقی سب تو پیچھے ہی بیٹھ رہے تھے۔
کچھ دیر میں تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ ابھی چیف گیسٹ کے آنے سے پہلے انہیں اپنی باتیں ختم کرنے کا حکم ملا تھا کیونکہ اس کے آنے کے بعد وہ سیدھا اپنی بات کرتا اور تقریب ختم کردی جاتی۔ ایک نیا چہرہ سٹیج پر آیا جس نے ایز آ یونی ڈین اپنی سپیچ کا آغاز کیا۔
یہاں وشہ کو حیرت کا مزید ایک اور جھٹکا لگا کیونکہ پچھلا ڈین بقول ان کے کچھ دن پہلے مر گیا تھا۔ پر کیسے ۔۔۔!!! ان کے مطابق اس کی ڈیتھ کچھ دن پہلے ہوئ تھی۔
وہ دھڑکتے دل کے ساتھ ان صاحب کی باتیں سننے لگی۔ آدھے گھنٹے تک نیو ڈین نے اپنے عزائم اور اہلیت کا انہیں بول بول کر بتایا کہ وہ یہ بھی کردے گا، وہ بھی کردے گا۔ سب ہی کردے گا۔ اس یونی کو آکسفرڈ یونیورسٹی بنادے گا۔
سب سٹوڈنٹ اسے سن کم رہے تھے اور اس یونی کے نیو اونر کے زیادہ انتظار میں تھے۔ تقریب مزید آگے بڑھی۔ کچھ پرفارمسز رکھی گئ تھیں یہاں۔ ان کا آغاز ہوگیا۔ ابھی تک وہ نہیں آیا تھا جس کے آنے کا انتظار تھا سب کو۔
دو گھنٹے گزر گۓ۔ اب سب کی امیدیں ماند پڑنے لگیں کہ شاید وہ نہ ہی آۓ۔ پرفارمسز ختم ہوچکی تھیں۔ جب اچانک ماحول میں سکوت چھایا۔ میڈیا والوں کو یہاں آنے سے منع کیا گیا تھا تو جو اکا دکا لوگ یہاں تھے میڈیا انڈسٹری سے انہیں بھی بھیج دیا گیا۔
سب کی دھڑکنیں ایک ہنگم سے دھڑکنے لگیں۔ سب اپنی نشستوں سے کھڑے ہوۓ۔ اونر کے استقبال کے لیے گیٹ پر کچھ سٹوڈنٹس کھڑے تھے۔ اور باقی کے یہاں بیٹھے ہوۓ تھے۔ وشہ کا سانس رک رہا تھا اچانک وہ ڈین کیسے مرگیا۔ اس کے ذہن میں دیار کی صورت آرہی تھی اس سوال کے جواب میں۔تو سٹوڈنٹس کے اٹھتے ہی اب اس کے لیے یہاں بیٹھنا مشکل ہوگیا تو وہ اٹھ کر وہاں سے چلی گئ۔
لمبے لمبے قدم بھرتے ہوئے اس کا رخ انجانے میں ہی سہی داخلی دروازے کی طرف تھا۔ خاموشی میں اچانک تالیوں کی آواز گونجی شہد رنگ آنکھوں نے سامنے دیکھا جہاں راہداری سے چلتے ہوۓ ایک جانا پہچانا چہرہ سٹوڈنٹس کے ہجوم میں سے گزر کر اس جانب آرہا تھا۔
بلیک تھری پیس سوٹ پہنے ہوۓ بکھرے بالوں کے ساتھ اپنی شاہانہ چال چلتے دیار نے کئ لڑکیوں کی سانسیں روکی ہوئ تھیں اور خوش قسمتی سے وشہ بھی ان لڑکیوں میں ہی شامل تھی۔
ان آنکھوں کو جو تو تیرا عکس دکھے
پھر دھڑکنوں میں لازم ہے قہر مچے
کبھی سانس چلے کبھی دل رکے
میرے ارد گرد جو ہے سب تھمے
اے میرے دل کے در۔۔۔!!!
مجھے لگ رہا ہے۔۔!!
ہم ملے ہیں جیسے یونہی۔۔۔!!!
(اسماء قریشی رائٹس)
" دار۔۔۔!!!" وشہ کی سانسیں تھمیں۔ ہاں دیار درانی اپنے سحر سے اسی کو تو پاگل کرنا چاہتا تھا اور وہ ہوبھی رہی تھی پاگل۔ دل کی دھڑکنوں نے رقص کیا اس لمحے۔ کبھی چلیں تو کبھی رکیں۔
وہ سب سے بے خبر آگے بڑھتا گیا۔ ہاں اس نے بھی اپنی ملکہ کو دیکھ لیا تھا۔ کیا خبر تھی اسے وہ انتظار میں ہوگی ورنہ وہ کب کا آگیا ہوتا۔ سٹوڈنٹس کی جان نکالنے والا یہ شخص تو ابھی ایک ساحرہ کی صورت میں کھویا ہوا تھا۔
ہم جانتے ہیں۔۔!!
تیرے دل کے قانون میں ۔۔!!!
ہم نا تیرا عشق تھے۔۔!! نا ہی جنون تھے۔۔۔!!
ہم تو کچی ڈور سے بس بندھ گۓ
پھر تونے نظر جو ملائ تھی۔
ہاں ہم مل گۓ تھے یونہی ۔۔۔!!!
( اسماء قریشی رائٹس )
وہ آگے بڑھ رہا تھا اور وشہ کے نزدیک سب رک چکا تھا ۔جب وہ لڑکی جس نے دیار کی نظروں میں آنے کی پلیننگ کی تھی۔ اس نے اچانک اپنا پاؤں پھسلنے کا ڈرامہ کیا وہ وشہ کے برابر میں ہی کھڑی تھی اچانک وہ گری پر کسی سٹوڈنٹ کا دھکا وشہ کو لگا اسی لمحے۔ اپنا بیلنس لوز کرتے ہی وہ آگے کی سمت گرنے لگی اور دیار نے اسی پل اسے تھام لیا۔ دونوں کی آنکھیں ملیں۔ وہ دوسری لڑکی تو ان دونوں کے پیروں میں گری ہوئ تھی۔
تمہیں کیا خبر میرے چارہ گر
تیری راہ میں کھڑے مدتوں سے ہم۔۔!!!
جو ہوتی خبر ۔۔۔!! کہ گرنے پہ میرے
سنبھالیں گے ۔۔۔!!! بازو ہی تیرے۔۔۔!!!
اے روح کے مکین ۔۔۔!!!
تو قسم سے ہم خود کو گرادیتے
تیری راہوں میں خود کو بچھا دیتے ۔۔۔!!!
اے میرے سکون ۔۔۔!!!
ہم تو ملے تھے بس یونہی ۔۔۔!!!
(اسماء قریشی رائٹس )
وہ ہوش میں آتے ہی گڑبڑا گئ۔ اس وقت سارے سٹوڈنٹس کی نظریں اسی پر تھیں۔ اور دیار تو سب سے لاپرواہ اسی کو تھامے کھڑا تھا۔
" یہ مس پردہ دار۔۔۔!! ہمارا چانس بھی مار گئ۔ خود ونی ہوئ ہے نا تو اپنے ادھیڑ عمر شوہر سے تنگ آکر کسی اور کے بازوؤں میں آسمائ ہے۔ سلی گرل ۔۔۔!!!"
دور کسی نے سر گوشی کی یہ وہی لڑکی تھی جو ان کے پیروں سے اٹھ کے اپنے کپڑے جھاڑ کر دوڑ ہوگئ تھی یہاں سے۔ دیار نے ناگواریت سے آنکھیں میچیں۔ وہ جانتا تھا ایسے کئ طعنے وشہ پہلے بھی سنتی رہی ہے۔ وشہ نے اس کے بازوؤں کے حصار سے نکلنا چاہا تو بجاۓ اسے چھوڑنے کے دیار نے کچھ ایسا کیا کہ سٹوڈنٹس کی نظریں اور دل دونوں ہی کرچی کرچی ہوگۓ۔
اپنی جان کو دیار نے اسی لمحے اٹھالیا۔ ہاں وہ کہتا تھا وہ بےشرم ہے اسے شرم نہیں آۓ گی اور نا ہی اس لمحے آرہی تھی اسے شرم۔ وشہ نے گھور کر اسے دیکھا تو اس نے ایک آنکھ دبائ۔
" چھوڑیں ہمیں ہمارا مزاق نہ بنائیں ۔۔۔!!!"
اس نے دبی دبی غراہٹ میں کہا۔
" بیوی کو اگر شوہر سنبھالے تو اسے مزاق بنوانا نہیں کہتے۔ اسے پیار جتانا کہتے ہیں۔ جانم کچھ لوگوں کا منہ توڑنے کو بےشرم ہونا پڑتا ہے تو ہونے دیں بےشرم مجھے۔ میرے بازوؤں میں گرنے سے یہ سوچنا تھا نا کہ آپ کا شوہر ٹھرکی بھی ہے۔۔۔!!! اب بھگتیں مجھے ۔۔۔!!!"
جھک کر اس نے اس کے کان میں کہا تو وہ بیچاری شرم سے پانی پانی ہوگئ۔ سٹوڈنٹس حیران تھے کہ کیا ہورہا ہے یہاں۔ اس شخص نے ایک انجان لڑکی کو گود میں اٹھایا تھا کچھ لڑکیوں کی آنکھوں میں مرچیں لگیں۔
" ہم ناراض ہوجائیں گے ۔۔۔!!!"
اس نے احتجاجاً کہا۔
" میری جان بھی حاضر آپ کو منانے کے لیے۔ میں منالوں گا ۔۔۔!!!"
اس نے قدم آگے بڑھاۓ۔
تیری چاہتیں ۔۔۔!!
پھر یہ شدتیں ۔۔۔!!!
ہماری قربتیں ۔۔۔!!!
اور میری رنجشیں ۔۔۔!!!
کچھ تو عجب سی بات ہے ۔۔۔!!
کہ تیری ہر ادا ہی کمال ہے ۔۔!!
اے راحتِ جان میری ۔۔۔!!!
تو تو اتر گیا ہے میری روح میں
ہم تو ملے تھے یار بس یونہی۔۔!!!
(اسماء قریشی رائٹس)
سب کی چہ مگوئیاں عروج پر تھیں جب اپنی جانم کو دیار نے فرنٹ رو میں اپنے سامنے والی نشست کے سامنے کھڑا کیا پھر اس کی جانب دیکھتے ہوۓ مسکراہٹ دبائ۔
" آۓ لو یو بولنے والا ہوں میں آپ کو۔ کہیں دل نہ رک جائے آپ کا تو سوچا پہلے ہی الرٹ کردوں۔ تیار رہیے گا یہ یونی میری بےشرمی کی حدیں دیکھے گی آج ۔۔۔!!!
ایڈوانس میں لو یو جانم ۔۔۔!!!"
اسے شانوں سے تھام کر دیار نے نشست پر بٹھادیا۔ جو بیچاری اس وقت اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا منہ چھپانے لگی۔ یہاں بھی سٹوڈنٹس ہکا بکا تھے۔ اس یونی کی سب سے ڈیسنٹ لڑکی اس یونی کے نیو اونر کے ساتھ دیکھی گئ تھی ان سب کو اپنی آنکھوں پر حیرت ہوئ۔
دیار نے سب کو نظر انداز کرتے ہوئے سٹیج سنبھال لیا۔ یہاں تو ٹیچرز بھی شاکڈ تھے۔ اس نے گلا کھنکارتے ہوئے اس سارے مجمعے پر شرارتی سی نظر ڈالی۔
" ریلیکس گائیز۔ کیا ہوگیا ہے۔ مر ور تو نہیں گۓ سب لوگ۔ زندہ ہوجاؤ۔ ایسی مری ہوئ صورتوں کی میری یونی میں جگہ نہیں ہے۔۔۔!!!"
دیار نے مائیک کے پاس جھک کر کہا۔ اس کی آواز سنتے ہی اپنے حیرت سے کھلے منہ سب نے بند کرلیے۔
" میں یہاں بس تھوڑی سی دیر کے لیے آیا ہوں۔ کوئ ہیلو ہائے نہیں کہوں گا نا ہی کوئ لمبی چوری تقریریں کروں گا۔ اتنا ٹائم نہیں ہے میرے پاس جو ایسی فضول جگہ پر ضائع کروں جہاں کے سٹوڈنٹس کو پڑھنے سے زیادہ کسی کی پرسنل لائف پر گوسپ کرنے کا شوق ہے۔ کسی سٹوڈنٹ کو تنگ کرکے جہاں سب اپنی بوریت کا علاج ڈھونڈتے ہیں وہاں کے سٹوڈنٹس کو دیار درانی ہیلو کہنے کی بجاۓ گیٹ آؤٹ کہنا پسند کرے گا ۔۔۔!!!"
شرارت لہجے سے غائب ہوئ۔ اب اس کی جگہ لہجے میں اتنی پختگی تھی کہ سب کی روح کانپ اٹھی۔ وشہ نے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔ کیا کررہا تھا وہ اب۔
" کونگریچولیشن سٹوڈنٹس یو آل آر ٹرمینیٹڈ فرام دس یونی۔۔۔۔!!! اپنی اپنی سیمسٹر فی اٹھانا اور دفع ہوجانا یہاں سے۔ تاکہ تم سب کو پتہ ہو۔ یونی میں رہنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اور مجھے رولز توڑنے والوں سے نفرت ہے۔
میرا مینیجر تم سب کو کل تک فارغ کردے گا۔ یونی کے سوشل اکاؤنٹ پر جس جس نے میری جانم کے خلاف ایک لفظ بھی بولا تھا اس کے لیے کوئ رعایت نہیں ہے میرے پاس۔ میرے انڈر جو دوسری یونی ہے اس کے سٹوڈنٹس کل سے اس جگہ شفٹ ہو جائیں گے۔ انہیں نیو یونی کی ضرورت تھی۔ اور یہ یونی میری ہی ہے "
تیکھے انداز میں اپنا حکم سناتے ہوئے دیار نے اپنے بکھرے بال دوسرے ہاتھ سے سیٹ کیے۔ یہ بس غصے کو قابو کرنے کو اس نے کیا تھا۔ سٹوڈنٹس اپنی اپنی نشستوں پر گرنے والی انداز میں بیٹھ گۓ۔ کہاں سب نے اس کے استقبال کی تیاری کی تھی اور کہاں وہ انہیں ہی باہر پھینک رہا تھا۔
" کسی کے پیسے اس یونی کے اکاؤنٹ میں نہیں رہیں گے میری جانم کا صدقہ سمجھنا اسے۔۔۔!! اور یہاں کے اونرڈ ٹیچرز بھی کل سے شکل گم کرلیں۔ کوئ بھی بری یاد جو میری جان کے ذہن پر برا اثر ڈالے مجھے گوارہ نہیں ہے۔ "
مڑ کے اس نے ٹیچرز کو دیکھا اب دوبارہ ہر جگہ سکوت چھا گیا تھا۔
مورخ لکھے گا ایک ایسا عاشق بھی تھا جس نے پوری یونی خریدنے کے بعد اپنے اعزاز میں رکھے گۓ فنکشن میں سٹاف سمیت سب کو نکال باہر کیا یونیورسٹی سے کیونکہ انہوں نے اس کی بیوی کو تنگ کیا تھا۔
" بس اتنا ہی کہنا تھا مجھے۔ ویسے تو کسی کے استقبال میں رکھی تقریب تھی یہ اب ان پھولوں کو اپنے مقبرے پر ڈال لینا۔ فولز۔۔۔!!! اچھا ایک اور بھی بات تھی تم سب کو تجسس تھا نا وشہ کے ادھیڑ عمر نیچ سوچ رکھنے والے شوہر سے ملنے کا۔ جس کے نام پر طعنے سن کر میری بیوی کی نیندیں حرام ہوئیں۔ تو آؤ ملو اس سے ۔۔۔!!!"
دو قدم پیچھے ہوتے ہوۓ دیار نے اپنے دونوں بازو کھول دیے۔
کبھی یوں بھی مل ۔۔۔!!!!
کبھی مجھ سے جڑ۔۔۔۔!!!
کہ جو میں تیرا ہوں ۔۔۔۔!!!
سب جان لیں ۔۔۔!!!
کہ تو میری ہے سب مان لیں ۔۔۔!!!
اے ہم نشیں ۔۔۔!!!
تیری چاہ میں ۔۔!!
دیکھ ہم بھی حد سے گزرگۓ۔۔!!
تیرے عشق میں ہم تو سنور گۓ ۔۔۔!!
اے میری یادوں کا جہاں۔۔۔!!
پھر کیا ہے غلط اور کیا صحیح۔۔!!
پر تو جانتا ہے ہم ملے تھے یونہی ۔۔۔!!
(اسماء قریشی رائٹس)
" میں ہوں وہ شخص جس سے وشہ کی شادی ہوئ۔ جس کی تصویر دیکھنے کو سب تڑپ رہے تھے۔ میں ہوں وہ شخص جس سے نکاح میں آنے کی سزا تم لوگوں نے اپنے لفظوں سے میری بیوی کو دی۔ میری جان کے آنسو بے مول نہیں جو میں درگزر سے کام لوں۔ جس جس نے ستایا میری جانم کو اسے میں اتنی ہی تڑپ نہ دوں تو مجھے دیار درانی نہ کہنا۔۔۔!!! میں ہو اپنی جانم کا دیار ۔۔۔!!! دیار درانی ۔۔۔!!!! "
اس کی آواز آس پاس گونجنے لگی۔ وہ اتنی شدت سے یہ لفظ بول رہا تھا وشہ بھی کانپ اٹھی۔ بے ساختہ وہ اپنی نشست سے کھڑی ہوئ۔ سامنے کھڑا شخص اسے اپنا دیوانہ کرچکا تھا۔
" لیں جانم لے لیا آپ کا بدلہ ۔۔۔!!! "
ہنستے ہوۓ اس نے سر کو جھکایا۔ ہر طرف ہڑبڑی مچی تھی اس نے وہ کیا تھا جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
ہم سمجھے وہ خریدے ہی کیوں
ہمارے چند آنسو کیا انمول ہیں ۔۔۔!!!
مگر اس کے ذوق کو کیا کہیں
یا پھر عشق کے شوق کو کیا کہیں۔۔۔!!!
جس نے ایک ہی آنسو کی قیمت میں
اپنی جان تک بھی وار دی ۔۔۔!!!
اے میرے دار۔۔۔!!
کوئ مان کیسے لے۔۔!!
کہ عشق کی راہ میں ۔۔۔۔!!!!
ہم مل گۓ یونہی ۔۔۔!!!
(اسماء قریشی رائٹس )
آگے آتے ہوئے اس نے جھک کر وشہ کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیا۔ وہ شہزادوں والی چال رکھنے والا اس یونی کی بنیادیں ہلانے والا شخص اپنی بیوی کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
" بہت پیار کرتا ہوں میں آپ سے۔ حد سے زیادہ ۔۔۔!!!"
فرط جذبات سے اس کی آنکھیں بھیگنے لگیں۔ آنسو تو وشہ کی آنکھوں سے بھی نکلے۔ کوئ اس کا اس قدر دیوانہ تھا کہ اس کی خاطر سب کر گیا وہ سہہ نہ پائ۔
اس سے پہلے وہ نیچے گرتی دیار نے اٹھ کر اسے حصار میں قید کیا اور آرام سے اٹھا کر اب اس یونی سے باہر کی جانب قدم لیے۔ کچھ آنکھوں میں اپنے ساتھ ہوۓ اس عمل پر حیرت تھی تو کچھ اس وقت کو رورہے تھے جب ونی والے میٹر کو لمبا کیا انہوں نے۔
کچھ وشہ کی قسمت پر رشک کررہے تھے تو کچھ کا سانس اب بھی رکا ہوا تھا۔ وہ شہزادہ اپنی شہزادی وہاں سے لے کر چلا گیا۔ اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی اب۔
" خانی۔۔۔!!! کل ہمیں چیک اپ کے لیے جانا ہے۔ تم سفر کرتو لو گی نا ۔۔۔!!!"
اس کا ہاتھ پکڑ کر فدیان نے اسے ویل چیئر سے اٹھنے میں مدد دی۔ وہ اب بھی سہارے کے بغیر کھڑی نہیں ہوسکتی تھی۔ پیٹ میں ہوتے درد کی وجہ سے۔
معصومہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ جس نے دوسرا بازو اس کے شانے پر پھیلاکر مکمل اپنے سہارے کھڑا کیا۔ مبادا وہ لڑکھڑا کر اپنا زخم خراب نہ کرلے۔
" جی میں کرلوں گی سفر۔ اب درد پہلے سے کم ہے تو مسئلہ نہیں ہوگا۔ مجھے باہر جانا ہے فادی۔ میں بور ہوگئ ہوں کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر۔۔۔!!!"
اس کے کندھے سے لگ کر معصومہ نے مدھم سی آواز میں کہا۔ تو اس کی حالت کا خیال کرتے ہوئے فدیان نے اسے چلنے میں مدد دی۔ جو ایک قدم اٹھاتی پہلے پھر گرنے کے خوف سے فدیان کے ہاتھ پر گرفت مزید سخت کرلیتی۔ جب یقین ہوجاتا اب وہ نہیں گرے گی تو وہ دوبارا سے چلنے لگتی۔
" معصومہ ۔۔۔!!! ایک بات تو بتاؤ یہ گولی کھاتے وقت تمہیں ایک لمحے کو بھی میرا خیال نہیں آیا تھا کہ مجھ پر کیا گزرے گی اپنی خانی کو خون میں تر دیکھ کر۔ جسے میں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اس کی تکلیف مجھے بھی مار دے گی۔ ویسے تو بہت ڈرپوک ہو تم پھر یہ حرکت کیوں کی تم نے۔۔۔۔!!!!"
چند قدم چلنے کے بعد تھک کر معصومہ نے گہرا سانس لیا۔ تبھی فدیان بھی وہاں ہی رک گیا۔ اس کے ذہن میں کافی ٹائم سے یہی سوال گردش کررہا تھا پر اس سے پوچھنے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ اس دن جو جو معصومہ نے کہا تھا فدیان کو آج بھی یاد تھا۔ اسے حیرت ہوئ تھی کہ معصومہ کی کسی بات میں کسی انداز میں وہ کیوں شامل نہیں تھا۔
آخر کیوں ۔۔۔۔!!! معصومہ نے یہ سوال سنا تو حلق ترکے سامنے لاونج میں رکھا شوپیس دیکھنے لگی۔
" فدیان سچ سے منہ نہیں موڑا جاتا۔ اور میں تو کبھی بھی فینٹسی لینڈ میں جینے والی لڑکی رہی ہی نہیں ہوں۔ اپنی حد ہمیشہ یاد رکھتی ہوں میں۔جانتی ہوں کہ بوجھ بوجھ ہی رہتا ہے ہمیشہ۔ انسان خود اٹھاۓ یا کوئی کندھے پر ڈال جاۓ۔۔۔۔!!!اور بھلا مجھ جیسی ونی کے مرنے سے کس کو فرق پڑنا تھا۔ کسی کو بھی نہیں۔ الٹا زمین کا بوجھ ہی کم ہوتا ۔۔۔!!!"
اس کے انداز میں درد کی کچھ لہریں شامل ہوئیں۔ سامنے کھڑا شخص اس پر اپنا آپ وار چکا تھا۔ دن میں تین بار ڈریس چینج کرنے والے شخص کو اب دو دو دن یاد ہے نہ رہتا کہ اپنی بھی فکر کرنی ہے اس نے
بکھرے بال، سلوٹ زدہ کپڑے، چہرے پر تھکن، انداز میں سنجیدگی۔۔۔!!! غرض فدیان کی تو پرسنیلٹی ہی چینج ہوگئ تھی معصومہ کے پیچھے خوار ہوتے ہوۓ۔
وہ اب پہلے والا لاابالی فدیان نہیں تھا بلکہ صدیوں کا تھکا ہوا شخص بن گیا تھا۔
اور وہ پاگل اب بھی سمجھتی تھی وہ فدیان کے لیے بوجھ ہے۔
" کیا ہے تمہاری حد تمہارے نزدیک جو اتنے بڑے بڑے بول بول رہی ہو تم ۔۔!!!"
ایک کانٹا اس کے حلق میں اٹکا۔ درد سے چہرے پر کچھ شکنیں پڑیں۔ معصومہ نے سانس نارمل کرلیا تھا تو وہ اب پھر سے چلنے لگی۔
" میری حد تو کبھی شروع ہی نہیں ہوئ آج تک۔ پہلے خان حویلی کا پنجرا تھا اب آفریدی خاندان کی بدلے کی چاہ کی ڈوریں ہیں۔ مجھے خود نہیں پتہ میری حد کیا ہے۔ پتہ نہیں کیوں کسی کو مجھ سے محبت نہیں ہوتی۔ سب کو میں بوجھ ہی لگتی ہوں۔ تب سوچا تھا جان چھوٹ جاۓ گی اس زندگی سے پر مجھ پر تو موت کو بھی ترس نہیں آتا۔ "
چلتے چلتے فدیان کے قدم منجمد ہوگۓ۔ یہاں وہ تباہ ہوگیا اس وجود کے پیچھے اور اس کے دل کو اب بھی شک تھا اس کی محبت پر۔ یعنی معصومہ کے دل تک رسائ تو اس نے کبھی حاصل کی ہی نہیں۔ وہ تو اسے مجبورا قبول کررہی تھی۔ زبردستی ایڈجسٹ کررہی تھی اس کے ساتھ۔
گریٹ ۔۔۔!!!! تو وفائیں اتنی ہی بےمول تھیں اس ناسمجھ لڑکی کے سامنے کے اسے فدیان کی محبت۔۔۔!!! ارے محبت کیا عشق دکھتا ہی نہیں تھا۔ اس نے معصومہ کے کندھے سے ہاتھ ہٹایا اور اسے لان میں رکھی کرسی پر بٹھادیا۔ معصومہ تو بس ایک تواتر سے لفظ بولتی گئ تھی کیا خبر تھی اسے کسی کا دل کاٹ گئ ہے وہ۔
" تمہارے نزدیک محبت کیا ہے معصومہ۔ ۔۔۔!!!!"
اس کے پاس بیٹھ کر اس نے عام سے انداز میں پوچھا۔ اسے لگا تھا جیسے معصومہ اس کی محبت کو ہمدردی ہی سمجھتی رہی ہے اب تک۔ یا کمپرومائز ۔۔۔!!!!
لان کی ہوا میں سانس کھینچتے ہوۓ اس سوال پر اس نے کچھ لمحے خاموشی اختیار کی اور جواب سوچا۔
" محبت ۔۔۔!!! مجھے نہیں پتہ ٹھیک سے کیا ہوتی ہے یہ۔ مجھ سے مما کے سوا کسی نے محبت کی ہی نہیں کبھی۔ ان کی محبت کا اگر میں بتاؤں تو مجھے خوش کرنا اور بابا سے بچانا ان کی محبت تھی۔ میں روتی تھی تو وہ چپ کرواتی تھیں۔ مجھے کہانیاں سناتی تھیں۔ اور خیال رکھتی تھیں یہ ان کی محبت تھی۔۔۔!!!"
سوچتے ہوۓ معصومہ کو اپنی ماں کا ہی خیال آیا بس۔ اس لمحے سامنے بیٹھا شخص تو کسی فہرست میں تھا ہی نہیں۔ وہ یک طرفہ مسکرایا۔
معصومہ کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسے لگا تھا وہ سمجھے گی وہ اس کے تعاقب میں یے پر یہاں تو معصومہ نے مڑ کر پیچھے دیکھا ہی نہیں تھا کبھی۔ وہ منہ پر کہتی تھی فدیان کی محبت کی قدر ہے اسے پر دل کو آج تک وہ جگہ نہ ملی جہاں فدیان کی محبت رکھی ہوئ تھی۔
" تم یہیں بیٹھو فریش ہونا ہے مجھے ابھی ۔ دو دن گزر گۓ نہاۓ ہوۓ اب تو کمرے کے کیڑے مکوڑے بھی مجھے دیکھ کر ناک بند کررہے ہیں وہ وقت دور نہیں جب ہجرت کرجائیں گے یہ کیڑے مکوڑے۔
کل تو ایک کاکروچ میرے سامنے آکر دہائیاں دے رہا تھا کیوں ہمیں مارنے کے لیے نیو فارمولا بنارہے ہو تم اپنی بو سے۔ شیمپو اور صابن کے پیسے ہم سے لے لو۔ اگر گھر میں پانی نہیں تو ہم بالٹی بھر کر لا دیتے ہیں پر اللہ کا واسطہ ہے نہا لو۔۔۔!!! "
وہاں سے اٹھتے ہوئے وہ جھوٹی ہنسی ہنسنے لگا۔ ہاں دل تو دکھا تھا اس کا آج۔ انجانے میں ہی سہی پر معصومہ نے دل دکھایا تھا اس کا۔ معصومہ نے ہنستے ہوئے سر ہاں میں ہلایا تو اپنے آنسو ضبط کرکے کو وہ وہاں سے اٹھ کر تقریبا بھاگتے ہوۓ گھر کے اندرونی حصے میں آیا اور فورا اپنے روم میں اینٹر ہوتے ہی اس نے ڈریسنگ مرر کے سامنے رک کر اپنا عکس دکھا۔
عجیب سی وحشت ہوئ اسے اپنے بکھرے حلیے سے۔ ایسی وخشت کہ اس نے دوسری نظر نہ ڈالی اپنے چہرے پر اور فورا واش روم میں بند ہوکر اس نے اگلے ہی پل شاور آن کیا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو کور کرکے چند آنسو اپنی ناقدری پر بہاۓ۔
" میں دیوانہ ہوگیا اس کے پیچھے اور وہ میری محبت کو ہمدردی سمجھ رہی ہے۔ میں پاگل ہوں جو بھول گیا فدیان آفریدی کی محبت کسی کے پیچھے اپنا آپ خوار کرنا ہوہی نہیں سکتی۔ میں نے اپنا آپ رول دیا تبھی تو اسے سب ہمدردی لگ رہی ہے۔ پر اب نہیں۔
میں کیوں بدل گیا ۔۔؟؟ میں مزید اس ہمدرد فدیان کے حول میں نہیں رہ سکتا۔ مجھے واپس سے وہی بننا ہوگا جو میں تھا۔ اور میں وہی بنوں گا۔۔۔۔!!!!
ہاں میں فدیان آفریدی بنوں گا۔ جو میرا اصل ہے۔ ناکہ مزید اپنا مزاق بنواؤں گا۔۔۔!!!"
پانی اس کے چہرے پر مسلسل قطرے قطرے کرکے گرتا گیا اور وہیں وہ خود کو کمپوز کررہا تھا وہ بننے کے لیے جو وہ پہلے سے ہے۔
کہتے ہیں کسی کے سامنے اتنا کبھی نہیں جھکنا چاہیے کہ کوئ آپ کو گرا پڑا انسان ہی سمجھ لے۔ آپ کی فیلنگز کو پیروں تلے روند دے اور اسے پرواہ ہی نہ ہو۔ ہمیشہ خود کو اپنے پارٹنر کے لیول تک لے جانا چاہیے۔ یا اس سے اوپر۔ پیروں میں گر کر بے مول نہیں کرنا چاہیے خود کو۔
اس نے خود کو نظر انداز کردیا تھا۔اب اسے خود کو اور معصومہ کو ساتھ لے کر چلنا تھا۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" جانم ۔۔۔!!! ٹھیک ہیں آپ۔۔۔!!! "
گاڑی میں وشہ کو بٹھاکر دیار نے سائیڈ سے واٹر باٹل اٹھائ اور اس کے چہرے پر پانی کا چھڑکاؤ کرکے اس کے رخسار تھپتھپاۓ۔ جس نے کچھ دیر بعد آنکھیں کھول دیں۔ ادھ کھلی آنکھوں سے اپنے عزیزِ جان شوہر کو دیکھتے ہی اس نے ہاں میں سر کو ہلکی سی جنبش دی۔
دیار نے پانی کی بوتل اس کے منہ سے لگا کر چند گھونٹ پانی اس کے حلق میں اترنے کا انتظار کیا پھر بوتل بند کرکے اس نے وشہ کے چہرے پر شبنم کے قطروں کی طرح چمکتا پانی ہاتھ سے پونچھا۔
" دیار یہ سب جو ہوا کیا خواب تھا۔ یا حقیقت تھی۔"
لبوں پر زبان پھیرتے ہوۓ وشہ نے دیکھا وہ اس وقت کہاں ہے۔ تو معلوم ہوا وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
" سب حقیقت تھی جانم۔۔۔!!! آپ نے کوئ خواب نہیں دیکھا۔ آپ کے شوہر نے جو کیا سچ میں کیا۔ یہ یونی میں اس حادثے کے بعد ہی خرید چکا ہوں۔ "
دیار کا انداز بالکل سیریس تھا وہ مزاق کے موڈ میں نہ لگا وشہ کو۔ پھر ڈین کی موت یاد آتے ہی اس نے بےساختہ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
" تو کیا یہاں کے ڈین کو بھی آپ نے ہی مروایا ہے۔ دیار کیا یہ بھی سچ ہے ۔۔۔!!!"
دیار کا بازو تھام کے اس نے دعا کی کاش وہ کہہ دے اس حادثے سے اس کا لینا دینا نہیں پر جیسے اس نے کندھے اچکاۓ تھے وشہ کے کانوں میں سیییی سییییی کی آواز آنے لگی۔ کیا وہ قاتل بھی ہے ۔۔۔!!!
" جانم اسلام نے ہمیں بدلہ لینے کا پورا حق دیا ہے۔ اور دیار درانی بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود بھی کسی حرامی کو زندہ چھوڑ دے تو یہ اس طاقت کے ساتھ ناانصافی ہوگی جو کئ مظلوم لوگوں کو انصاف دلوانے کے لیے مجھے دی گئ ہے۔
وہ ساحل کمینہ اور بھی کیسز میں ملوث تھا۔ آپ تو بہادر ہیں تو خود کو بچاگئیں پر ہر کوئ آپ کی طرح بہادر نہیں ہوتا۔ ہمارے ملک میں کسی کو انصاف نہیں ملتا۔
یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا اصول چلتا ہے۔ سو میں سے ہارڈلی دس فیصد کیس ہوں گے جو ایمانداری سے سلجھ جائیں باقی سب میں پیسے کی پاور چلتی ہے۔تو وہ بھی رشوت دے کر خود کے کیسز دوسروں کے سروں پر ڈال چکا تھا اور اب اپنی گندی سوچ مزید معصوم سٹوڈنٹس پر عیاں کررہا تھا۔
تو ایسے گند کو صاف کردینا چاہیے نا کہ اسے کھلا چھوڑنا چاہیے ۔۔۔!!!!"
وشہ کو تفصیل سے سمجھاتے ہوۓ دیار کے لہجے میں ایسی بے فکری تھی جیسے بندہ مروانا آسان کام تھا اس کے لیے۔ ہاں آسان کام ہی تھا۔ وہ دیار درانی تھا جس کے ڈسے وہ پانچ سے چھ لوگ اب سڑکوں پر تقریبا بھیک ہی مانگ رہے تھے۔
ان کی اکڑ تو اس نے نکال دی تھی۔ وشہ نے سمجھ کر سر ہاں میں ہلایا۔ یہ سب وہ بھی جانتی تھی۔
"بس اس منحوس کو اٹھوا کر اس کی اعترافی ویڈیو بنوائی میں نے۔ اسے دو سے تین ہفتے ٹارچر کیا اپنے انداز میں اور بس وہ نازک اندام شخص اتنے میں ہی مر گیا۔ پھر اس کی لاش اس کے گھر کے واشروم سے ملی۔ بڑا ہی منحوس انسان تھا وہ۔ ابھی تو مزہ آنے لگا تھا اس کی چیخیں سن کر اور وہ مر گیا۔۔۔!!!"
افسوس دکھاتے ہوئے اس نے سر جھکایا۔ موصوف نے جس ٹارچر کو تھوڑا سا کہا تھا اصل میں اس شخص نے دو ہفتے برداشت کرلیا وہی بڑی بات تھی۔
دیار نے پہلے تو اس کا لائسنس کینسل کروایا۔ اس کی اعترافی ویڈیو بنائ جس کی وجہ سے اس کی بیوی نے اس پر حلع کا مقدمہ دائر کردیا۔ نوکری جانے کے بعد اس پر ہراسمنٹ کے کیس کی انکوائری بھی بیٹھ گئ۔ ساتھ ہی حلع کا مقدمہ بھی تھا تو اس کی ساری سیونگز اس میں ضائع ہوگئیں۔
تب پولیس سے اس کی ضمانت کرواکے دیار اسے اپنے مہمان خانے لے آیا۔ جہاں اس کی سب سے پہلے انگلیاں کاٹی گئیں جس سے وہ معصوم لڑکیوں کو چھونے کی کوشش کرتا تھا۔ وہ اسی قابل تھا کہ اس کی انگلیاں ہی کٹ جاتیں۔
پھر دیار نے اس کے سر کے ایک ایک بال کو نچوادیا۔ اسے یاد تھا اس کی بیوی کے سر سے چادر اتاری تھی اس نے۔ اس نے اس کے بال دیکھے جنہیں دیکھنے کا حق بس دیار کا تھا۔ سزا تو بنتی تھی ۔
اس کی قیمت ساحل نے ادا کی۔ دیار نے اس کے رخسار پر اترے تھپڑ مارے تھے کہ اس کے رخسار پھٹ گۓ۔ اسے اپنی بیوی کے چہرے کے نشان بھی یاد تھے۔
پھر روز ساحل کو الیکٹرک شاک دیے گۓ دیار اس کی چیخیں سن کر مطمئن ہوتا رہا اور دو ہفتے تک تو ساحل کی چمڑی بھی ادھیڑ کر رکھ دی گئ۔ ابھی بھی اسکا دل نہیں بھرا تھا۔ لیکن چند دن پہلے وہ اچانک مر گیا اس نے خود کشی کرلی تھی اپنا سانس روک کر۔
خیر اس کا گند ہی ہٹا اس دنیا سے تو دیار نے اسے اس کے گھر پھینکوا دیا ۔ پولیس نے راز داری سے اس شخص کی موت کو خود کشی ڈیکلیئر کردیا کہ اس نے ذلت سے تنگ آکر خود کو آگ لگالی ہے اور معاملہ ہی ختم۔۔۔۔!!!!!
" اچھا چھوڑیں اسے۔ جو بھی کیا آپ نے ٹھیک ہی کیا۔ ایسے گھٹیا لوگوں کو جینے کا حق ہونا بھی نہیں چاہیے۔ اچھا ہم اب ہاسپٹل جائیں گے۔ آپ کے بازو کا چیک اپ کروانے۔ ہمیں تسلی ہوجاۓ گی یوں ۔۔۔!!!"
وشہ نے ساری سوچیں ایک جانب کردیں۔ دیار نے بھی سر کو خم دیا کہ وہ سب بھول گئ ہے۔ اپنی بیوی کے ذہن پر سوار ہو وہ شخص اسے منظور نہیں تھا۔
" اس کے بعد جیولر کے پاس بھی جائیں گے پیاری سی نوز رنگ آپ کے چہرے کی زینت بنوانے۔۔۔!!!"
اس نے بھی اپنا حکم سنادیا تو بےساختہ وشہ نے اپنا ہاتھ ناک پر رکھ لیا۔ اور آنے والے درد کو سوچ کر ہی ڈرنے لگی۔ دیار نے مسکراہٹ مشکل سے دبائ۔
" جانم کیا ہوگیا ہے یار۔ ایک چھوٹی سی سوئ سے ڈررہی ہیں آپ۔ کچھ نہیں ہوگا۔ میں ہوں نا ساتھ ۔۔۔!!!"
اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے اس نے اس کا ڈر دور کرنا چاہا جس نے بس رونی صورت بناکر ہنہہ کہا۔ تو دیار نے گاڑی سٹارٹ کردی۔ سارا معاملہ سلجھا کر اب وہ مکمل سکون میں تھا۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
دوپہر کے وقت تک باران سارا کام نپٹا کر گھر واپس آگیا۔ اسے امید تھی روحیہ اٹھ گئ ہوگی اور اب اسے بھوک بھی لگی ہوگی اس لیے کھانا بھی باران ساتھ ہی لے آیا تھا۔
کیز نکال کر باران نے دروازہ انلاک کیا۔ بھلے گھر میں گارڈز کی فوج تھی پر باران نے کبھی کسی پر اندھا یقین نہیں کیا تھا۔ وہ تو خود پر بھی بھروسہ نہیں کرتا تھا۔ تو کیسے روحیہ کے معاملے میں کسی گارڈ پر بھروسہ کرلیتا۔
دروازہ کھولتے ہی نیلی آنکھوں نے سامنے فرش پر سرخ رنگ سے لکھی تحریر دیکھی۔ خون جما ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں بے یقینی سے پھیلیں۔
" کیا یہ کوئ مزاق ہے ۔۔۔۔!!! روحیہ کیا مجھے اس رنگ سے ڈرانا چاہتی ہے اب۔ افففف یہ لڑکی کب سدھرے گی۔ سمجھ رہی ہے میں اس فیک بلڈ کو اس کا خون سمجھ کر بھاگتا ہوا اس کے پاس چلا آؤں گا۔ کہ اس نے خود کو نقصان پہنچا لیا ہے۔سوچ ہے اس کی یہ بس ۔۔۔!!! "
آنکھیں سکیڑ کر اس خون کو دیکھتے ہوئے اس نے ہنستے ہوئے دروازہ واپس سے بند کردیا۔ تو نظریں اب آگے کی سمت اٹھیں جہاں قطرہ قطرہ خون اب راہداری سے ہوتے ہوئے کچن کے ساتھ بنی سیڑھیوں کی سمت جارہا تھا۔ باران نے ڈائریکشن فالو کی تو دیوار پر دل میں اس کا نام لکھا تھا بادل ۔۔۔!!!
طنزیہ انداز سے مسکراتے ہوئے باران نے اپنے ہاتھ میں پکڑے شاپر کچن میں رکھ دیے۔
" بڑی ہی کوئ پہنچی ہوئ چیز ہو تم۔ اپنی الٹی سیدھی حرکتوں سے مجھے ڈرانا چاہتی ہو۔ بیوقوف لڑکی یہ نہیں جانتی کہ باران آسانی سے نہیں ڈرتا۔
لگتا ہے دماغ سیٹ کرنا ہوگا اس کا۔ بچکانہ سوچ ہے اس کی۔ بیوقوف ۔۔۔۔!!!!"
سر جھکائے باران نے فریج سے پانی کی بوتل نکالی اور سکون سے اسے پی کر روحیہ سے نمٹنے کے لیے کمرے کی جانب چلا گیا۔
کمرہ سیکنڈ فلور پر انتہائی دائیں جانب بنے پورشن میں سیکنڈ نمبر پر تھا۔ جہاں تقریبا ایک الگ ہی گھر کا نظارہ تھا کیونکہ سامنے گلاس وال سے دور پہاڑ یہاں سے صاف نظر آتے تھے۔ اور سٹنگ ایریا کے ساتھ یہاں الگ سے ایک کچن اور تھرڈ پورشن پر جانے کے لیے سیڑھیوں کے ساتھ چند کمرے تھے۔
اور حیرت انگیز طور پر سارے کمروں کے دروازے الگ الگ تھے پر وہ سب اسی کے کمرے سے اٹیچ تھے۔ وہ کسی بھی کمرے کا دروازہ کھول کر گھومتا ہوا اپنے بیڈ تک جاسکتا تھا۔
آس پاس بکھرا خون دیکھ کر ناجانے کیوں پر باران ٹھٹھکا۔ بے ترتیبی سے پھیلا خون پھر خون کی سمیل اسے کچھ غلط سوچنے پر مجبور کررہے تھے۔
تیز قدم لے کر وہ روم میں انٹر ہوا جہاں وسیع و عریض کمرے میں محترمہ وائٹ بیڈ پر وائٹ ہی کمفرٹر اوڑھ کر سوی ہوئ تھیں۔
" انسین لیڈی یہاں آرام فرما رہی ہیں اور گھر کی حالت دیکھ کر لگا تھا یہ اب تک اوپر پہنچ گئ ہوں گی۔ خود بھی پاگل ہے میرا بھی دماغ خراب کرتی رہتی ہے۔۔۔!!!"
استہزاء سے کہتے باران نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں لکھی تحریر پڑھ کر ہنسا تھا وہ۔
" روحیہ اٹھ جاؤ۔ میں کھانا لے آیا ہوں۔ فریش ہوکر کھالو۔ اتنی دیر بھوکا رہنا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ کم آن گیٹ اپ ۔۔۔۔!!!"
اس نے اونچی آواز میں رعب سے کہا۔ پر آواز گھوم کر اس کے ہی کانوں سے ٹکرائ۔ روحیہ تو سورہی تھی۔
منہ بگاڑ کر باران اس کے قریب بیڈ کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔
" نہیں ڈرا میں تمہاری اس فضول حرکت سے۔ اٹھ جاؤ اب ۔۔۔!!"
اب کی بار آواز تیز ہوگئ۔ پر وہ اب بھی سورہی تھی۔ باران نے غصے سے اس پر سے کمفرٹر کھینچ لیا۔
" دماغ مت خراب کروں میرا۔ ورنہ جان نکال لوں گا تمہاری۔ بیوقوف لڑکی پیار کی زبان تمہیں سمجھ نہیں آتی۔ ۔۔۔!!!"
کمفرٹر کھینچنے کے بعد بھی وہ سوئی ہوئ تھی تو سلگ کر باران نے اس کا چہرہ اپنی جانب موڑ دیا۔ باران کو دھچکا لگا۔ اس کا چہرہ یوں پیلا پڑا تھا جیسے سارا خون ہی ختم ہوگیا ہو اس کے اندر سے۔
اچھل کر باران اس سے چند قدم دور ہوگیا۔ جان تو اب نکلی تھی اس کی۔ نظریں اس کے خون آلود کپڑوں سے ہوتی ہوئیں اس کی کلائی پر بندھی اپنی شرٹ پر جاٹھہریں۔
بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھ کر اس نے اس کی کلائی تھامی کر اور جما خون دیکھنے لگا۔
" روحیہ ۔۔۔!!! مزاق بہت برا ہے۔ میں نے روح کی جگہ تمہیں دی ہے پاگل۔ جو حد کبھی کسی نے نہیں پھلانگی اسے خود تمہارے لیے ختم کیا ہے۔ تم مجھے نہیں چھوڑ سکتی۔۔۔۔!!! دیکھو میں سچ میں ڈر گیا ہوں۔ جواب جو مجھے "
والہانہ انداز میں جھک کر اس کی پیشانی پر تادیر بوسہ دیا۔ تو اس کے سرد وجود کی وجہ سے باران کی دھڑکنیں مشتعل ہوئیں۔ اپنا فون نکال کر اس نے ڈاکٹر کو فورا یہاں آنے کو کہا۔ ساتھ ہی بتادیا روحیہ نے سوسائیڈ اٹیمپٹ کی ہے۔
روحیہ کے وجود کو اٹھا کر باران فورا واش روم کی سمت بھاگا۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کا وقت نہیں تھا ابھی اور اس کی پلس بھی بہت سلو چل رہی تھی۔
غصے سے اس کی رگیں پھول رہی تھیں۔ روحیہ کی ہمت کیسے ہوئی آخر خود کو تکلیف دینے کی۔ اسے شاور کے نیچے اپنے سہارے پر کھڑا کرکے باران نے اس کا چہرہ اپنے سامنے کیا اور شاور آن کردیا۔
گرم پانی کی بوندیں روحیہ کے چہرے پر گرنے لگیں۔ سرخ جما ہوا خون اس کی رخساروں سے بہہ کر اس کے ہواس جھنجھوڑنے لگا۔ باران نے اس کا چہرہ مکمل شاور کی سمت کھڑا کردیا وہ اسے کھو نہیں سکتا تھا۔
کچھ سیکنڈز بعد روحیہ کی پلکوں میں جنبش ہوئ تو باران کی سانسیں بھی چلنے لگیں۔ اسے خود سے لگاکر اس نے زیر لب اللہ کا شکر ادا کیا۔
" کیوں کیا تم نے یہ سب۔ پاگل ہو تم۔ اب مل تو گیا ہوں میں تمہیں پھر یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ مجھے ہی تو مانگ رہی تھی تم دیکھو اب میرے نکاح میں ہو۔ پھر کیوں کیا تم نے یہ ۔۔۔۔!!!!"
اسے خود میں بھینچتے ہوۓ باران کی جان لبوں پر آرہی تھی۔ اسے وہ چاہیے تھا اب وہ اس کی دسترس میں تھا۔ پھر کیوں وہ خود کو تکلیف دے رہی تھی۔
" ب۔بادل آۓ ل۔لو یو ۔۔!!!"
باران نے آنکھیں کھولیں۔ روحیہ کا جملہ اس نے سن لیا۔ اس کا چہرہ سامنے کرتے ہوئے باران نے نرمی سے اسے شاور سے دور کردیا۔
" بادل لوز یو ٹو ۔۔۔۔!!!! مجھے نہیں پتہ کب ہوئ یہ محبت۔ روح کے جانے کے بعد محبت حرام تھی مجھ پر۔ پھر بھی کر لیا میں نے یہ گناہ۔ پر یار تم میں روح دکھتی ہے مجھے۔ میں دیوانہ ہوگیا ہوں تمہارا۔ مت تڑپاؤ مجھے۔ ہاں کرتا ہوں میں تم سے پیار ۔۔ !!!"
اس کے بال سمیٹتے ہوۓ باران نے اظہارِ محبت کیا۔ ہاں اسے بھی محبت ہوگئ تھی۔ کب ہوئ نہیں پتہ پر ہوگئ تھی۔ اب اسے روحیہ کے بغیر نہیں جینا تھا۔
روحیہ نے آنکھیں کھولیں۔ گرم پانی سے اس کے اندر کچھ ہمت آئ تھی۔ سامنے باران کی صورت دیکھتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی۔ دائیں ہاتھ سے اس نے باران کا گال چھوا۔ تو مسکراہٹ مزید گہری ہوئ۔
" ت۔تم میرے ہو بس ۔۔۔!!! میں تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گی۔ سب سے چھپا کر۔ اپنے پاس ۔۔۔!!!"
ہاتھ زخمی ہونے کی وجہ سے اس کے رخسار سے مس ہوکر نیچے گرنے لگا۔ تبھی فورا باران نے اس کے ہاتھ کو سہارا دے کر اس کی ان آنکھوں میں جھانکا۔
" جیسے تم چاہو۔ ہم ساتھ رہیں گے ہمیشہ ۔۔۔!!!"
اپنے آنسو پیتے ہوۓ باران نے اسے اٹھا کر سامنے سنک پر بٹھایا۔
اور وارڈ روب سے اس کے کپڑے لاکر اس کے ہاتھ پر رکھ دے۔ پھر ٹاول سے اس کا چہرہ صاف کرنا شروع کیا۔
" ڈاکٹر ابھی کچھ دیر میں یہاں ہوگی۔ اس کے آنے سے پہلے چینج کرلو۔ باقی کے حساب تم سے بعد میں لوں گا میں۔ بڑے دانت نکل رہے ہیں نا تمہارے بعد میں بتاؤں گا۔ پاگل ۔۔۔!!!"
پل میں خود پر غصے کا حول چڑھاتے ہوۓ وہ اسے وہیں چھوڑ کر چلا گیا۔ اس کے جانے کی دیر تھی روحیہ بھی اپنا چکراتا سر سنبھالتے ہوئے چینج کرنے کے لیے اٹھ گئ۔ فرش پر پھیلا خون دیکھ کر اسے اندازا ہوگیا کہ باران کی حالت کیا تھی اس وقت۔ کلائی اس نے اپنی کاٹی تھی اور درد سے موصوف ادھ موئے ہوگۓ تھے۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" خون بہت زیادہ ضائع ہوگیا ہے۔ انہیں بلڈ لگے گا اب۔ ورنہ یہ سروائیو نہیں کرسکیں گی سر۔ آپ کو انہیں ہاسپٹل لے کر جانا ہوگا۔ وہاں کچھ ٹیسٹ کے بعد انہیں ارجنٹ بیسز پر بلڈ چڑھایا جاۓ گا۔۔۔۔!!!"
ڈاکٹر نے تشویش بھرے انداز میں بات مکمل کرتے ہوۓ روحیہ کی ڈریپ میں کچھ انجیکشنز انجیکٹ کیے۔ جو اس وقت باران کا ہاتھ دوسرے ہاتھ سے مضبوطی سے تھامے ہوۓ آنکھیں بند کرکے لیٹی تھی۔
" نہیں اسے سروائیو کرنا ہوگا اب۔ آسان نہیں ہے میری زندگی میں آکر مجھ سے دور ہونا۔ پر اسے یہ سب کرتے ہوئے ڈر کیوں نہیں لگتا مجھے سمجھ نہیں آرہی۔
پہلے بھی یہ ایسی حرکت کرچکی ہے اور آج سارے گھر میں اپنے خون سے تحریریں لکھنا۔ یہ عام انسان کے بس کی بات نہیں۔
دوسری طرف یہ پاگل پن کی حدوں کو چھوتی لڑکی اس دلاور خان سے ڈر گئ۔ وہ بڈھا جو آگے ہی مرنے والا ہوگا یہ اس سے ڈر گئ۔ میں نہ آتا تو کیا بنتا اس کا۔
معاملہ مجھے کچھ گڑ بڑ لگتا ہے۔ یہ ایسی نہیں ہے جو نظر آتی ہے۔ "
کھوۓ ہوۓ انداز میں باران نے بغور اس کی بند آنکھیں دیکھیں اور دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں کو سہلایا۔ اسے بھی اچھا لگتا تھا روحیہ کو محسوس کرنا۔
ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں میز پر رکھ دیں۔
" سر ویسے یہ آپ کے پیچھے پاگل ہے تو کوئ عام لڑکی ہو بھی نہیں سکتی۔ بھلا شیر کی کچھار میں ہم معصوم لوگوں نے دل کے ہاتھوں ہار کر بھی ہاتھ نہیں ڈالا موت کے خوف سے اور یہ پرسوں آپ کے پاس آئ اور آج آپ کے ہاتھ میں اس کا ہاتھ ہے۔ اس نے نا صرف کچھار میں ہاتھ ڈالا بلکہ شیر کو ہی اپنا بنالیا۔ بڑی چالاک اور تیز لڑکی ہے یہ"
وہ روانی میں بولتی جارہی تھی جب اپنی بات پر باران کا ری ایکشن دیکھ کر اس نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔ جو اسے غصے سے دیکھا رہا تھا۔
" سوری سر ۔۔۔!!! مجھے نہیں لگتا کوئ خاص بات ہوگی۔ کیونکہ لڑکیاں ایسی سیچوئیشنز میں ڈر جاتی ہیں یہ نیچرل ہے۔ آپ زیادہ سوچ رہے ہیں بس۔
آپ ان کی ڈائٹ کا خیال رکھیں۔ انہیں آرام کی ضرورت ہے اور بلڈ لازمی لگوالیجۓ گا کل تک۔ "
شرمندہ ہوتے ہوئے وہ سر جھکا کر کھڑی ہوئ تو باران نے اکتا کر نظریں پھیر لیں۔
" لمٹس میں رہا کرو اپنی۔ باران ہر کسی کے لیے نرم دل نہیں یے۔ اور روحیہ کے کیس کو سیریسلی ڈیل کرسکتی ہوں تو ٹھیک ہے ورنہ اپنا حساب کرو اور جاؤ۔ آئندہ تمیز کے دائرے میں رہنا۔ بیوی ہے یہ میری۔ تو میں کچھ بھی الٹا برداشت نہیں کروں گا "
اشارے سے ہی سہی باران نے اسے گیٹ آؤٹ کہا تو شرم کے احساس سے اسے وہاں سے فورا جانا پڑا۔ اس کے جانے کی دیر تھی باران نے روحیہ کے زخمی رخسار ہاتھ سے سہلاۓ۔
" اسے کہنا تمہیں نہ دیکھے ورنہ میں جان نکال لوں گی اس کی۔ میری پراپرٹی ہو تم۔ یہاں سے بھی سر دباؤ مزہ آرہا ہے۔ اور کچھ کھانے کو بھی منگواؤ مجھے بھوک لگی ہے۔ باقی خون وون مجھے نہیں لگوانا۔ میرا بلڈ پیور ہے ایویں ہی کسی کا انجان خون لگاکر مجھے اس میں ملاوٹ نہیں کرنی۔ مجھے تو علی بھائ کا بلڈ لگا تھا وہی دوڑنے دو مجھ میں۔۔۔!!!"
روحیہ کی آواز سن کر وہ چونکا۔ محترمہ جاگ رہی تھیں۔ روحیہ نے اسکا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کر اسے دبانے کو کہا تو باران نے خوامخواہ ہی نخرے دکھاتے ہوۓ منہ دوسری طرف کرلیا پھر یہ خون والی بات سن کر اس کے کان کھڑے ہوۓ۔
" تمہیں پہلے بھی بلڈ لگا تھا۔ کب ۔۔۔!!!"
تفتیشی انداز سے پوچھا گیا۔
" بہت بار لگ چکا ہے میری حرکتیں ہی الٹی ہیں تو گنتی کون یاد رکھے گا۔ اور مزے کی بات بتاؤں ہر بار علی بھائ کا ہی لگتا ہے وہ کہتے ہیں ان کی بہن کی رگوں میں ان کا خون دوڑنا چاہیے۔ چاہے زبردستی ہی اپنا خون مجھ میں انڈیل دیں۔
اب بھی زیادہ مسئلہ ہے تو علی بھائ کو بلوالو۔ وہ دے دیں گے ایک بوتل خون کی ۔۔۔!!! "
دانتوں کی نمائش کرنے کے ساتھ ساتھ وہ باران کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو آگے پیچھے کررہی تھی۔ باران کو اس کے منہ سے اس کے بھائ کا ذکر بھی برا لگا۔
" اپنا بلڈ لگوادوں گا میں تمہیں۔ تمہارے ڈیٹا میں مینشن تھا تمہارا بلڈ گروپ۔ ہم دونوں کا سیم ہی ہے۔ اب کچھ نہ بولنا اور سوجاؤ۔ ڈریپ ختم ہوگی تو کھانا کھالینا۔"
اس نے ہاتھ نہیں کھینچا تھا اس کے ہاتھ سے یہ سائن تھا کہ اسے برا نہیں لگا اس کا چھونا۔ روحیہ نے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور آنکھیں موند گئ۔
باران نے بھی اس کا سر دبانا شروع کردیا۔ اپنے سٹاف کی نظروں میں دنیا کا بے رحم ترین انسان جو انسانوں کی طاقت بن کے پھر انہیں مارتا ہے جسے کسی پہ رحم نہیں آتا۔ وہ اپنی بیوی کے حکم مان رہا تھا۔
آخر کار باران کو اسکی روح ملی تھی اور وہ انجانے میں ہی سہی اس کی راہ میں بچھ چکا تھا۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" کب تک ناراضگی چلے گی اب۔ میری جان کچھ تو بولو۔ میں نے نہیں کیا تمہارے ساتھ کچھ بھی یار۔ تمہاری زبان تمہارے منہ میں ہی ہے پھر چپ کیوں ہوگئ ہو۔۔۔!!!"
درمان نے آگے ہو کر اس کے ہاتھ پکڑے۔ وہ اس وقت صوفے پر بیٹھی تھی۔ ناشتہ اور دوپہر کا کھانا بھی اس کے براہِ نام کھایا تھا اور اس کی صحت اجازت نہیں دیتی تھی وہ کوئ لاپرواہی برتے۔
اس کی سوجھی ہوئ آنکھوں میں آنسو پھر سے تیرنے لگے۔ وہ کل رات حد سے زیادہ ڈر گئ تھی۔ اس نے صبح سے ایک لفظ نہیں بولا تھا نا ہی درمان کی صورت دیکھنے کی غلطی کی تھی۔
" اچھا ایک کام کرتے ہیں چیک کرتے ہیں کہ اس منہ میں زبان ہے بھی یا کل کٹ کر معدے میں گرگئ تھی۔ مجھے تو لگ رہا ہے تمہارے منہ میں لگی زبان سچ میں کٹ گئ ہے۔ اچھا منہ تو کھولو ۔۔۔!!!"
ایک گھٹنہ صوفے پر رکھ کر درمان آگے جھکا پھر دوسرے ہاتھ سے اس کا جبڑا نرمی سے جکڑتے اس نے ہلکا سا دباؤ بڑھایا۔ تو اس کے ہونٹ وا ہوۓ۔ اس نے غور سے دیکھا تو وہاں کٹ کا نشان تھا چھوٹا سا۔
وہ پوری طرح کانپنے لگی۔ درمان نے اس کا جبڑا چھوڑا اور اس کے آنسو صاف کرکے اس نے اپنا کان پکڑا۔
" میری جان ۔۔۔!!! میرا شہزادہ ۔۔۔!!! درد ہورہا یے نا۔ میں ہوں ہی برا۔ کیا کردیا یہ میں نے۔ اب میں سمجھ گیا غصہ کیوں حرام ہے۔ غصے میں ہم جانور بھی بن سکتے ہیں۔ بالکل بے حس۔۔۔!!! "
اپنا کان درمان نے چھوڑ دیا کیونکہ مقابل بیٹھی یہ لڑکی تو ہوں ہاں بھی نہیں کررہی تھی۔
"ہنی چوٹ لگی تھی تو بتانا چاہیے تھا نا تمہیں۔ ہم اس پر میڈیسن لگاتے۔ تو درد ختم ہوجاتا۔ اچھا ایک کام کرتے ہیں آئس کریم کھاتے ہیں۔ اچھا لگے گا تمہیں۔۔۔!!!"
پھیکا سا مسکراتے ہوئے درمان فریزر سے آئس کریم لینے چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی زرلشتہ نے گہرے سانس لیے اور ڈرتے ہوۓ صوفے کر کنارے پر بیٹھ گئ۔ آج تک اس کی یادداشت میں کسی نے اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کی تھی کجا چھری سے ڈرانا۔
وہ سچ میں ڈری ہوئ تھی۔ آئس کریم لاکر درمان اس کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ پھر اسنے سپون زرلش کے منہ کے قریب کیا۔
" کھالو پلیز ۔۔۔!!! کچھ تو کھالو۔ تکلیف ہورہی ہے مجھے تمہیں یوں دیکھ کر۔ کہیں میں اپنے ساتھ کچھ برا نہ کرلوں پلیز کچھ کھالو ۔۔۔!!"
درمان کے لہجے میں ندامت محسوس کرکے ناچاہتے ہوۓ بھی زرلشتہ نے وہ آئس کریم کھالی۔ اسے ڈر تھا کہیں وہ پھر سے غصے میں نہ آجاۓ۔
فلحال وہ اتنے میں ہی خوش تھا تبھی اسے بہلاتے ہوۓ وہ نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسے آئس کریم کھلاکر اس نے اب آگے کی پلاننگ کی۔
" ایک کام کرتے ہیں رات میں ڈنر باہر کریں گے کسی فیمس پاستہ ڈش کے ساتھ۔ ساتھ میں چاکلیٹ ڈیزرٹ۔ اور جو تم چاہو۔۔۔!!!"
لہجے میں محبت سموۓ وہ جواب کا منتظر تھا جب ہمت کرکے زرلشتہ نے نہ میں سر ہلایا۔
" کیون نہیں جانا زری۔ تمہیں یہ سب ہی تو پسند ہے۔ پلیز یار ایسے مت کرو میرے ساتھ۔ میں شرمندہ ہوں بہت ۔۔۔!!!"
درمان کی آنکھوں میں فکر تھی۔ ملال تھا۔ تڑپ تھی۔ تبھی زرلشتہ نے جھجھکتے ہوئے اپنے منہ کی جانب اشارہ کیا۔
" د۔درر ہوگا وہ ک۔کھا کر۔۔۔!!!"
اس کے لبوں سے کئ گھنٹوں بعد ٹوٹے پھوٹے لفظ نکلے تو درمان کو اندازا ہوا وہ اب ٹھیک سے بول نہیں پارہی۔ ڈر اس پر غالب ہے۔ جو اس کی زبان بھی جھکڑ چکا ہے۔
" اچھا نہیں کھائیں گے ہم ایسا کچھ بھی۔ ہم بعد میں ڈنر پر چلے جائیں گے۔ ابھی کے لیے آئس کریم ہی بہت ہے۔ چلو کوئ مووی دیکھتے ہیں۔۔۔!!!"
اس کا دھیان بٹانے کی ایک اور کوشش کی گئ۔ تو اس نے ڈرتے ہوۓ اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔ وہ انکار نہیں کرپائ۔ درمان کا غصہ اسے واپس سے نہیں چاہیے تھا۔
درمان نے اٹھ کر پردے برابر کیے ساتھ ہی لائٹس آف کرکے وہ کچن سے زرلشتہ کے لیے کچھ کم سپائسی سنیک لے کر آگیا پھر کارٹون مووی پلے کرکے اس نے اس کی توجہ اس جانب کروادی۔
غلطی اس نے کی تھی اب خمیازہ بھی اسے بھگتنا تھا۔
" کون لایا ہے مجھے یہاں؟ کیوں باندھ کے رکھا ہے مجھے۔ ہمت ہے تو سامنے آؤ۔۔۔!!!"
تے خانے کی شکل کے تاریک کمرے میں جہاں بلب کی ہلکی سی روشنی فضا میں اڑریے خاک کے ذرے نمایا کررہی تھی۔ وہاں جانوروں کو باندھنے والی کھونٹی زمین میں گاڑھ کر، ایک پتلی سی زنجیر اس میں گزارتے ہوۓ دلاور خان کے ایک پیر کو باندھا گیا تھا۔
اس نے اپنا پاؤں کھینچا تو کمرے میں زنجیر کی زمین سے رگڑ کی وجہ سے ایک عجیب سے وخشت ناک آواز پیدا ہوئ۔ دلاور خان غصے کی شدت سے دھاڑا۔ اس کی آواز کمرے میں گونج اٹھی اور ماحول مزید وخشت زدہ ہونے لگا۔
" بادل خان ۔۔۔۔!!!! کہاں ہو تم ؟ مجھے بچاؤ آکر۔ مجھے کسی نے قید کرلیا ہے۔ میں خطرے میں ہوں جہاں بھی ہو آؤ اور رہا کرو مجھے۔"
گلا پھاڑتے ہوۓ دلاور خان پھر سے چیخنے لگا۔ جب سے وہ یہاں آیا تھا اسے یہ لوگ کسی الگ انداز کی سزا دے رہے تھے۔ سزا دماغی تھی۔یعنی کسی نے اسے جسمانی اذیت نہیں دی تھی وہ حق بس باران کا تھا تبھی یہ اسے کسی جانور کی طرح باندھ کر اندھیرے میں اس کی سسکیاں انجواۓ کررہے تھے۔ وہ مسلسل چیختا، چلاتا، سوال کرتا اور جواب اسے یہاں کوئ دینے کو تیار نہیں تھا۔
" بندر کا تماشا دیکھنے کا موڈ ہورہا یے تیرا ۔۔۔!!!"
لیپ ٹاپ کی سکرین سے یہ منظر دیکھتے ہوۓ راسم نے مسکرا کر اپنے ساتھی سے پوچھا جس نے کندھے اچکاۓ۔
" اس منحوس کو دیکھنے سے تو اچھا ہی ہے ہم بندر ہی دیکھ لیں سر۔ دکھا دیں تماشہ۔ نہیں تو باران سر کے آنے تک اس منحوس کو دیکھتے ہوئے میں پاگل ہوجاؤں گا "
اپنی نشست سنبھالتے ہوئے اس شخص نے اکتاہٹ بھرے انداز سے جواب دیا۔ وہ بھی دلاور خان کی شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آچکا تھا۔ بھلا وہ کوئ شے تھی دیکھنے والی۔
راسم نے کرسی کی ٹیک چھوڑتے ہوۓ اپنے کان میں لگے بلو ٹوتھ ڈیوائس کو ہلکا سا پریس کیا۔
" دلاور کی محبوبہ کو چھوڑ دو اس پر۔ سالے کو برا شوق ہے حسین چہروں کو دیکھنے کا۔ اس وقت اس منحوس کو کسی دوشیزہ کی ضرورت ہوگی تو چھوڑ دو اسے۔ تاکہ اس منحوس کو کمپنی دے وہ۔ اور ہم بھی تھوڑا سا انجوائے کرلیں۔۔۔!!!"
متوقع صورتحال سوچتے ہی راسم کے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ رینگنے لگی۔ یہ دوشیزہ والی بات سن کے اس کا ساتھی جھٹکے سے سیدھا ہوا۔ اور آس پاس دیکھنے لگا کہیں باران ہی نہ آجاۓ۔
" سر کیا کررہے ہیں آپ۔ کسی لڑکی کو بھیج رہے ہیں اس منحوس کے پاس۔ اگر باران سر آگۓ تو مجھے بھی الٹا لٹکا کر سیدھا کریں گے۔ پلیز سر یہ نہ کریں۔ وہ جان نکال لیں گے ہماری ۔۔۔!!!"
ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس شخص کے پسینے چھوٹے۔ صرف باران کا نام ہی اسے ڈرانے کو بہت تھا۔ البتہ راسم کی مسکراہٹ میں زرا کمی نہ آئ۔
" کیا ہوگیا ہے یار۔ ایک دو پیار بھرے بوسے تو یہ منحوس بھی ڈیزرو کرتا ہے۔ آخر انسان ہے۔ اور وہ بندی خود پیار کرنا چاہتی ہے اس سے۔ تڑپ رہی ہے ایک ملاقات کے لیے یہ خوشی سے چیخ اٹھے گا میرا زیادہ دماغ نہ خراب کرو۔ باران کو میں سنبھال لوں گا۔ بس اب تم انجواۓ کرو یہ پیار بھرا سین ۔۔ !!!"
اس نے خفگی سے اسے سمجھایا بھلا جب بندی خود اس کے پاس جانا چاہتی ہے تو وہ کیوں روکے۔ اس شخص کی صورت رونے والی ہوگئ۔ راسم کی باتیں اور انداز دونوں خطرے کی علامت تھے۔ اسے چھوڑ کر راسم خود سکرین پر دلاور خان کی جانب دیکھنے لگا۔ دوسرے شخص نے شرم سے آںکھیں پھیر لیں۔ یہ سب وہ نہیں دیکھ سکتا تھا۔
دوسری جانب وہ دوشیزہ ایک شخص کی ہمراہی میں تے خانے کی سیڑھیوں سے نیچے سیدھا دلاور خان کے پاس آکر رک گئ۔ اس کا وہاں آنا تھا جب دلاور خان کی آنکھوں میں حیرت کا سمندر ابھرا۔ جن نظروں جو دوسروں کو خوفزدہ دیکھ کر خوش ہونا پسند تھا وہ بھی خوفزدہ ہوگئیں۔ اس دوشیزہ نے چند قدم اس کی جان لیے۔ دلاور خان کا سانس بھاری ہونے لگا۔ لگتا تھا ملاقات بھاری پڑنے لگی ہے اب۔
"ی۔یہ یہاں ۔۔۔!!! کوئ ہے کیا یہاں۔ پلیز میری مدد کو آؤ۔۔!!"
خوف سے اس کی آواز لڑکھڑائ اگلے ہی پل وہ اٹھ کر بھاگنے لگا پر زنجیر کی وجہ سے واپس سے زمین پر گرگیا۔ پھر اس کے حلق سے چند مزید چیخیں نکلیں۔ کہ کوئ یہاں آجاۓ۔ وہ دوسرا وجود تو دلاور خان کو دلچسپ نگاہوں سے تاڑنے میں مگن تھا اتنا کہ اپنی جگہ سے ہلا ہی نہ۔
یہ سب دیکھتے ہی راسم زئی کا فلک شگاف قہقہہ کمرے میں گونج اٹھا۔
" اوۓ کیا رومینٹک سین یے یار۔ دیکھ لے۔ کیوں محروم رہنا چاہتا ہے اس سے۔ اللہ کے بندے ایک بار دیکھ تو سہی۔ پچھتاۓ گا نہیں۔ تو خوش قسمت ہے ورنہ میں تجھے یہ سین نہ دکھاتا۔رومینس پیک پر ہے۔ تو دیکھ تو سہی۔شرما بعد میں لینا ۔۔!!!!"
ہنستے ہوئے راسم نے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ لیے وہ دوشیزہ اب آہستہ آہستہ دلاور خان کے قریب جارہی تھی۔ راسم نے زبردستی ہی اس دوسرے شخص کا منہ سکرین کی جانب کیا جسے یہ بے ہودگی نہیں دیکھنی تھی پر جو اس نے دیکھا وہ اچھلے بنا نہ رہ سکا۔
" سر ۔۔۔۔!!! یہ رومینس ہے۔ کیا رومینس ہے اس میں۔ مجھے لگا تھا سچ میں کوئ لڑکی ہوگی۔ پر یہاں تو چھپکلی ہے۔۔۔۔!!! ایوووو یہ کیا ہے سر۔۔۔!!!"
سکرین پر چلتا منظر دیکھ کر اس کے تاثرات بگڑے پر راسم دلاور خان کی حالت پر اب بھی ہنس رہا تھا۔ جی ہاں وہ دوشیزہ ایک چھپکلی تھی ( مونث ہونے کی وجہ سے اسے ناول میں دوشیزہ کہا گیا ہے۔ ورنہ دلاور کے ساتھ سین میں محض چھپکلی کہنا مناسب نہ ہوتا )۔
جو بڑی بےتابی سے دلاور خان کے قریب جارہی تھی اور وہ اتنی ہی بے چینی سے اس سے دور بھاگ رہا تھا۔
" رومینس ہی تو ہے میری نظر سے دیکھ ذرا۔ ایک غلیظ دلاور خان جسے انسان نہیں چھپکلا پیدا ہونا چاہیے تھا کیونکہ یہ دوسروں کی زندگیوں میں زہر گھولتا رہا ہے پر بےضرر بننے کا دکھاوا کرکے۔ اس کی برادری کی حسین و جمیل لڑکی رات کے اس پہر اس سے اکیلے میں ملنے آئ ہے اور یہ خوشی سے چیخ رہا ہے۔ یہ پیار ہی تو ہے۔ ابھی تو یہ ساری رات ایسے ہی چیخے گا اس کا علاج یہی ہے۔ اور میں اس کی ویڈیو باران کو دکھاؤں گا۔ مزہ آۓ گا۔۔۔۔!!!! "
گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے راسم آخر میں پھر سے ہنسنے لگا تو اس بار اس کا ساتھ اس کے ساتھی کو بھی دینا پڑا۔ منظر سچ میں عجیب ہی تھا۔
ایک چھپکلی جو بظاہر اتنی خطرناک نہیں لگتی اس کا زہر سانپ کے زہر جتنا ہی خطرناک ہے۔ اس کی سکن کا ذرا سا بھی حصہ اگر کھانے سے مس ہوجاۓ تو وہ کھانا کچھ ہی منٹوں میں کئ لوگوں کی جان لے سکتا ہے۔دلاور خان پر کیڑوں کی یہ قسم ہی سوٹ کرتی تھی۔
دلاور خان اب اٹھ کر دیوار سے چپک کر کھڑا ہوا اور چھپکلی مزے سے اس کے گرد چکر کاٹ رہی تھی کبھی دیوار پر چڑھ جاتی تو کبھی اسے گھورنے لگتی۔ اور وہ سانس روک کر لرز رہا تھا۔
عجیب وقت آگیا وہ دلاور خان جس کے اشارے پر اس کے آدمی کچھ بھی کر جاتے تھے آج ایک چھپکلی سے ڈر کر دیوار سے چپکا تھا اور بہت چلانے کے باوجود بھی اسے بچانے کوئ نہ آیا۔
اسے کہتے ہیں قدرت کا انصاف ۔۔۔۔!!!
ابھی تو سزا کا آغاز ہوا انتہا ابھی باقی تھی۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" جی جی بھائ سبببببببببببببب ٹھیک ہے۔ میں بھی ٹھیک ہوں۔ باران بھی ٹھیک ہے۔ موسم بھی ٹھیک ہے اور یہ گھر بھی ٹھیک ہے۔ آپ ٹینشن نہ لیں ۔۔۔!!!"
ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ ہاسپٹل سے واپس آئ تھی باران کا خون اسے لگایا گیا ابھی ایک بوتل ہی چڑھی تھی دوسری کے لیے اسے پندرہ دن کا وقت دیا گیا۔ باران ضروری کام سے باہر گیا تھا ابھی تو وہ علی سے بات کررہی تھی۔
" میرے بیٹے ۔۔۔!!! تمہارا رنگ پھیکا لگ رہا ہے مجھے۔ کچھ کیا ہے تم نے اپنے ساتھ ؟ اگر ایسا ہے تو سن لو میری مری صورت دیکھو گی تم۔ بتاؤ کیا کیا ہے تم نے "
علی نے اس کی آنکھوں سے اندازا لگا لیا وہ بیمار ہے تو پوچھے بنا نہ رہ پایا۔ روحیہ فورا گڑبڑا گئ۔ اسی لمحے لائبہ بھی علی کے ساتھ آکر بیٹھی۔
" وہ بھائ ۔۔۔!!!"
روحیہ نے ہونٹوں پر زبان پھیری۔ اور آنکھیں اس سے چرائیں۔
" علی اس نے باران کو حاصل کرنے کے لیے اگر اپنے ساتھ کچھ کیا ہے تو کہہ دیں اس سے میں مرگئ اس کے کیے۔ رہے اپنے باران کے ساتھ ۔۔۔!!!"
اس کے نظریں چرانے پر لائبہ کو غصہ آیا۔ روحیہ نے فورا سکرین کی جانب دیکھا۔
" اللہ نہ کرے آپی۔ کیا ہوجاتا ہے آپ کو۔ قسم لے لیں اسے حاصل کرنے کو کچھ نہیں کیا۔ بس میں بھول گئ تھی ہمارا نکاح ہوا ہے تو مجھے لگا میرے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے تو میں کیسے آپ کا سامنا کروں گی تو میں نے نس کاٹ لی اپنی ۔۔ !!!"
لب کاٹتے ہوۓ روحیہ نے سر جھکایا جب اس نۓ انکشاف پر علی کے ساتھ لائبہ بھی شاکڈ تھی۔ اس نے تاسف سے سر کو دائیں بائیں جنبش دی۔
" نس کاٹ لی تم نے ۔۔۔۔!!!! تم پھر سے باتیں بھول رہی ہو۔ یہ نارمل نہیں ہے۔ میری جان میں نے تمہیں وہاں اس لیے بھیجا ہے کہ تم ریلیکس رہو ناکہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم مزید سٹریس میں جاؤ۔ اچھا میں آرہا ہوں وہاں۔ سب میں ہینڈل کرلوں گا۔ تم اب مزید اپنے بھروسے نہیں رہ سکتی۔"
علی پریشان تھا تبھی اس نے فیصلہ لیا تو روحیہ نے نفی میں سر ہلایا۔
" بھائ قسم لے لیں ہوش میں نہیں کیا یہ سب۔ مجھے تو جب ٹھیک سے ہوش آیا تو پتہ چلا میں نے کتنی بڑی حماقت کی تھی۔ سوری بھائ آئندہ کچھ نہیں ہوگا پرامس۔۔۔! آپ ابھی نہ آئیں پلیز۔ کچھ ٹائم رک جائیں مجھے ابھی بہت کچھ کرنا ہے پلیز ۔۔۔!!!"
سکرین کی جانب معصومیت سے دیکھتے ہوۓ روحیہ نے منت کی تو چار و ناچار علی چپ ہوگیا۔
" روحیہ۔۔۔!!! پلیز اپنا خیال رکھو۔ کیوں کسی کی وجہ سے تکلیف دے رہی ہو خود کو۔ ہمیں بس تمہاری فکر ہے میری جان۔ اب تو نکاح بھی ہوگیا ہے تو خوش رہو اس کے ساتھ۔ بھول جاؤ پچھلی باتیں۔ پلیز ۔۔۔!!!"
لائبہ نے محبت سے چور انداز میں اسے تاکید کی جس نے فورا سر ہاں میں ہلادیا۔ پھر کچھ دیر تک باتیں کرکے اس نے کال کٹ کردی اور سونے کے لیے لیٹ گئ۔ آج گھر میں معمول کے برعکس کافی ملازمائیں کام میں مصروف تھیں۔ کچھ تو روحیہ کے کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑی تھیں کہ ایک ہلکی سی آواز پر چوکس ہوکر وہ دروازہ کھول کر اسے دیکھتیں کہ وہ ٹھیک تو یے ۔۔۔!!!
باران نے اب پکا انتظام کردیا تھا۔ اور روحیہ کا فلحال خود کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں تھا۔
" اپنے اس بہنوئ کو میسج کریں اور سختی سے کہیں ہماری روحیہ کو کھروچ بھی آئ اب تو اس کی جان میں نکالوں گی۔ وہ گری پڑی نہیں ہے۔ کہ اس کی بیماری کے باوجود وہ اسے اکیلا گھر چھوڑ گیا ہے۔
کریں اسے میسج ۔۔۔!!!"
علی نے لیپ ٹاپ بند کرکے رکھا تو اس کے پاس سے اٹھتے ہی لائبہ سختی سے اسے حکم دینے لگی۔
" میں کیسے اسے میسج کروں میرے پاس کونسا اس کا نمبر ہے ۔۔۔!!!"
اس نے انکار کیا۔ وجہ روحیہ تھی۔ اس کے کہے بغیر وہ ایسی کوئ حرکت نہ کرتا۔
" اووووو تو نمبر نہیں ہے آپ کے پاس۔ ایسا کرتے ہیں میں اور بچے حسن کے گھر شفٹ ہوجاتے ہیں میرے پاس بھی اس گھر کی سیپرٹ کیز نہیں۔ آپ رہیں اکیلے یہاں ۔۔ !!!"
دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر لائبہ نے استہزاء سے کہا تو علی کے دماغ نے خطرے کا الارم دیا۔
" اچھا کررہا ہوں میسج۔ نند بھائ کو حکم چلانے کے لیے بس میں ہی ملتا ہوں۔ "
نروٹھے انداز میں علی نے باران کا نمبر ڈائل کرتے ہی اسے ٹیکسٹ لکھ کر سینڈ کردیا۔ یہ نمبر روح کے پاس نہیں تھا ابھی پر باران کی فل انفو نکلوانے والے علی صاحب کے پاس تو اس سے ریلیٹڈ ہر انفارمیشن تھی سواۓ شادی کے۔
لائبہ بس منہ پھلا کر کمرے سے نکل گئ۔ پیچھے وہ بیچارا اب اپنے آفس کے کام میں لگ گیا۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" میری بہن کا خیال رکھو۔ ورنہ نتائج اتنے سنگین ہوں گے کہ تمہاری سوچ ہے۔ تم اگر سیکرٹ ایجنٹ ہو تو یاد رکھو بغیر ٹریننگ کے تم سے تو آگے ہی ہوں میں۔ اس کا ایک ثبوت تمہارے ویری پرسنل نمبر تک رسائ حاصل کرنا ہے۔ اور تمہاری شناخت اس حلیے میں کروانا ہے جس میں تم بھی خود کو نہیں پہچان سکتے۔ تو لاپرواہی نہ کرنا اس کی جانب سے۔ اسے بےسہارا نہ سمجھنا اس کا بھائ اس کے ساتھ ہمیشہ موجود ہے۔ امید ہے اب میری روحیہ کو کھروچ بھی نہیں آۓ گی۔۔۔!!!"
سامنے کی کرسی اسی وقت پشاور نے سنبھالی تو غور سے باران کے چہرے پر آتے جاتے رنگ دیکھے۔ وہ اپنی سیکرٹ واچ پر موصول ہوا میسج دیکھ رہا تھا۔ جس پر اس کی ٹیم کے بھروسے مند لوگوں کے سوا کبھی کسی کا میسج نہیں آیا تھا۔
باران نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے واچ کے اوپر کی جانب اور نیچے کی جانب کا حصہ دبایا۔ بلیو کلر کی لائٹ نکلی اسی کے ساتھ ہی واچ کے سٹریپ بند ہوۓ اور وہ چھوٹے سے coin کی شکل میں باران کے ہاتھ پر تھی اس coin کو اس نے اپنے کوٹ کی پاکٹ میں رکھ دیا۔
" جیسی بہن ویسا بھائ۔ شاک پر شاک دے رہے ہیں۔ پتہ نہیں مجھ تک آنے کے راستے انہیں ملے کہاں سے۔ کسی کے ساتھ انجانے میں زیادتی ہوئ ہے مجھے سے تبھی تو یہ سب ہورہا ہے میرے ساتھ۔ لیکن کنٹرول باران کنٹرول ۔۔۔!!! بیوی کا بھائ ہے وہ تجھے اسے سنبھالنا تو ہوگا ۔۔۔!!!"
بیچاری سی صورت بناکر کڑھتے ہوئے باران کی جو حالت تھی یشاور کے چہرے پر تبسم پھیلانے کی وجہ بن گئ۔ ویٹر نے دو گلاس جوس ان کے سامنے رکھ دیا جو باران نے یشاور کے آنے سے پہلے آرڈر کیا تھا۔ اس ٹھنڈے ٹھار جوس کے گلاس کو باران نے ایک ہی سانس میں حلق سے اتارا۔
" حیرہت تو ہے نا سب یہ تم کیوں تپے ہوۓ ہو آج۔ کس مائ کے لعل نے تمہارے جیسے افلاطون کو تپادیا۔ ویسے ایک بات کہوں گا میں بادل خان والے لک سے زیادہ اس لک میں پیارے ہو تم۔ ایک دو لڑکیاں تو یہاں سے گزرتے ہوے ہی فدا ہو گئ ہوں گی تم پر۔ اب شادی کر ہی لو۔"
اس کی حالت سے حظ اٹھاتے ہوئے یشاور نے کرسی سے ٹیک لگالی۔ اور مخلصانہ مشورہ دیا۔ بادل کی اصل صورت اس نے کچھ گھنٹے پہلے ہی دیکھی تھی آفس میں۔ باران نے دانت آپس میں رگڑے۔
" کرلی ہے شادی۔ سالے صاحب کا میسج آیا تھا اس وقت۔بھلا سسرالیوں سے زیادہ ایک اچھے خاصے بندے کو کون تپاسکتا ہے۔ تم چھوڑو یہ سب بتاؤ کچھ لو گے ۔۔!!!"
سیدھا بیٹھ کر باران نے اپنی آنکھیں سہلائیں اور اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا۔ پھر سیریس ہوتے ہوۓ اس نے پوچھا۔یشاور نے سر کو نفی میں جنبش دی۔
" شادی کی مبارکباد ۔۔!! شکر ہے کوئ عقل کا کام کیا تم نے۔ اپنی زندگی میں بچوں اور بیوی کے پیچھے جو انسان خوار نہ ہو بھلا کیا کیا اس نے زندگی میں۔ خیر مجھے بس بہار کے گھر والوں کے مجرم کے بارے میں بتادو۔ بس اس کے علاؤہ مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔!!"
یشاور کو اس کی شادی کا سن کر واقعی اچھا لگا تو اس نے صدق دل سے مبارکباد دی۔جواب میں باران نے اپنی جیکٹ کی اندرونی پاکٹ سے ایک ڈیوائس نکالی اور اس کے سامنے رکھی پھر دوسری پاکٹ سے اس نے ایک یو ایس بی ڈیوائس نکالی جسے اس نے یشاور کے عین سامنے رکھا۔
" اس یو ایس بی ڈیوائس میں تمہارے باپ کے سارے کالے کرتوتوں کے ثبوت اور مختصر ڈیٹا ہے۔ اتنا ہے کہ تم اس کی حقیقت جان لو گے۔ سارا علاقہ جان چکا ہے کہ وہ کتنا کمینہ اور دو نمبر انسان تھا بس ایک تم ہی بچت ہو۔ دیکھ لینا یہ سب۔ اور اس ڈیوائس میں اس رات کی ویڈیو ہے بہار کے گھر سی سی ٹیوی ہمراز فٹ تھے جنہیں اس جگہ سے ہٹایا گیا۔ قتل کی ویڈیو بھی ملی ہے اور ان لوگوں کی اپنے باس سے کی گئ باتیں بھی۔ اتنا ڈیٹا یے اس میں کہ تم سچ جان لو گے ۔۔۔!!! بس ہمت سے دیکھنا یہ سب ۔۔!!!"
یشاور نے وہ موبائل نما پتلی سی ڈیوائس پریس کرکے آن کی تو سامنے مختلف آپشنز شو ہوۓ جن میں سے ویڈیو والے آپشن کو کلک کرکے اس نے ویڈیو دیکھنا شروع کی۔
جیسے جیسے وہ یہ سب دیکھتا گیا اس کے چہرے پر چھاۓ رنگ سفید ہوتے گۓ۔ ان لوگوں کو وہ جانتا تھا یہ اس کے باپ کے چمچے تھے۔ قتل کی ویڈیو پھر بہار کا وہاں سے بھاگنا سب تھا وہاں۔
اگلی ریکارڈنگ پلے ہوئ اس کے بعد۔جس میں اس کے باپ کی باتیں تھیں۔ اس نے فورا دوسرے آئیکن اوپن کیے تو وہاں اس پراپرٹی کے کاغذات تھے جو تین بے قصور جانوں کے عوض اس فرعون نے اپنے نام کروائی تھی۔
وہ سمجھدار انسان تھا تو بغیر واویلا کیے اس نے باران کو عجیب نظروں سے دیکھا جیسے اس سب کی امید نہیں تھی اسے اپنے باپ سے۔
" تمہاری ماں کو طلاق ہوگئ ہے تو تم بہار کو لے کر ہوسکے تو ان کے پاس چلے جانا۔ کچھ دن وہیں رہو بچی کا دل بھی لگ جاۓ گا۔ پھر سچ جان کر وہ تم لوگوں سے بدظن نہیں ہوگی ۔۔۔!!!"
اس کی حالت دیکھتے ہوئے اس نے دوستانہ انداز میں مشورہ دیا۔ اس نے وہ ڈیوائس واپس اس کے سامنے رکھ دی۔
" وہ اس حد تک گریں گے امید نہیں تھی مجھے۔ کہاں ہیں وہ اب ۔۔۔!!!"
ضبط سے یشاور کی آنکھوں میں نمی چمکی۔ جس اولاد کو باپ رسوا کرے بھلا وہ اولاد کس سے شکوہ کرے گی۔
"سچ کڑوا ہے پر یہی سچ ہے۔ باقی دلاور خان نے میری عزت کی طرف ایک بار پھر گندی نظر ڈالی تھی تو وہ میرے پاس ہے میں جو چاہوں کروں اس کے ساتھ۔ علاقے کی نظروں میں وہ بھاگا ہوا شخص ہے۔ جو سچ کھلنے پر بھاگ گیا اور اس کی جائیداد کاروبار میں خسارے کی وجہ سے نیلام ہوگئ ہے کل۔ بس تم اب معاملہ ہینڈل کرو۔ کچھ بگڑنے لگے تو بتادینا مجھے۔ میں حاضر ہوں ہمیشہ تمہارے لیے۔ خود کو اکیلا نہ سمجھنا ۔۔۔!!!"
اپنی جگہ سے اٹھ کر باران نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے حوصلہ دیا۔ یشاور نے ہاں میں سر کو بڑی مشکل سے جنبش دی۔ ابھی تو حیرت کا پہاڑ گرا تھا اس پر۔ جس لڑکی سے اسے محبت ہوئ تھی وہ اس کے باپ کے ہاتھوں تباہ ہوئ ہوئ تھی۔ یہ سچ جب وہ جانے گی تو کیا کرے گی۔
تم جاؤ ۔۔۔!! میں بھی کچھ دیر بعد چلا جاؤں گا۔ "
یشاور ضبط سے لب کاٹنے لگا۔ اسے ابھی تنہای چاہیے تھی تبھی باران نے وہاں سے جانا ہی مناسب سمجھا۔
اس کے جانے کی دیر تھی یشاور نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھاما یہ کیا ہوگیا تھا اچانک ہی ۔۔۔!!!
" بابا کیا کردیا آپ نے یہ ؟ وہ کیوں رہے گی اپنے گھر والوں کے قاتل کے بیٹے کے ساتھ۔ ابھی تو محبت ہوئ تھی مجھے۔ آپ کی خودغرضی نے اجاڑ دیا میرے آشیانے کو۔
میں کبھی معاف نہیں کروں گا آپ کو کبھی بھی۔ آۓ ہیٹ یو ۔۔۔ !!!!"
دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں بال شدت سے جھکڑتے ہوۓ یشاور نے درد سے لب بھینچے کہ چہرہ پورا سرخ ہوگیا۔ بہار کا خیال اسے مار رہا تھا اس وقت۔
" سر آپ کیا لیں گے مزید ۔۔۔!!!"
عقب سے ابھری آواز پر اس نے درد سے ایک آہ بھری۔
" تھوڑا سا سکون اگر مل جاۓ تو لادو کہیں سے۔ اسی کی چاہ ہے مجھے۔"
اس نے سر اٹھایا تو اس بات پر ویٹر نے الجھ کر بھنویں سکیڑی۔
"کیونکہ زہر تو اپنوں نے ہی پھیلایا ہے رگوں میں۔ سنا تھا باپ اولاد کی خاطر سب کرسکتا ہے آج پتہ چلا وہ اولاد کوئ اور ہی ہوتی ہے۔ جس پر دنیا واری جاۓ۔ مجھ جیسوں کو درد ہی ملتا ہے بس ۔۔ !!!"
تلخ مسکراہٹ کے سنگ اپنے ہاتھ اٹھا کر اس نے تکلیف سے کہا پھر اپنے والٹ سے اس وقت جتنے پیسے ہاتھ میں آۓ وہاں رکھتے ہوئے وہ ڈیوائسز اٹھا کر جانے لگا۔
" سر بل پے ہوچکا ہے۔ آپ کے ساتھ جو سر تھے وہ دے گۓ ہیں بل ۔۔۔!!!"
اتنے سارے پیسے دیکھتے ہی ویٹر نے فورا کہا تو یشاور نے دوسرے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ ہونے کا کہا۔
" سب کے بل مجھے ہی پے کرنے ہیں اب۔ چاہے کسی کے گناہوں کا کفارہ ہویا اپنے کفن کا خرچہ۔ سب مجھے خود ہی ادا کرنا ہے۔ دعا کرنا میں تباہ نہ ہوں اب۔ ورنہ جی نہیں پاؤں گا ۔۔۔!!!"
ایک لمحے ٹھہر کر اس نے اپنی درد سے چور آنکھیں اس کے چہرے پر ڈالیں پھر اسی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ چلا گیا وہاں سے۔ پیچھے وہ ویٹر کبھی وہ پیسے دیکھنے لگا تو کبھی اس کی پشت۔
کیونکہ یہ پیسے کم و بیش تیس سے چالیس ہزار تھے۔ اتنا تو بڑے امیر سے امیر بندے کا بل آج تک یہاں نہیں بنا تھا۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" فادی کہاں ہیں آنٹی؟ وہ لنچ نہیں کریں گے کیا۔ صبح ناشتے کے ٹائم بھی غائب تھے۔ آپ انہیں بلادیں میں ان کے ساتھ ہی کھاؤں گی کھانا ۔۔۔!!!"
ٹیبل پر معمول کے برعکس آج خاصی خاموشی تھی۔ پہلے تو فدیان اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاتا تھا اسے اور کل سے وہ خود ہی کھارہی تھی۔ پہلے تو اس نے فیل نہ کیا کہ یہ سب روٹین سے ہٹ کر ہے پر اب اسے فیل ہونے لگا۔
ملازمہ اس کی پلیٹ میں میش پوٹیٹو اور چکن کے انتہائ پتلے اور نرم ریشے رکھ رہی تھی۔ سامنے میش ہوئ سبزیاں, پتلا سا کسٹرڈ اور مزید کچھ پرہیزی کھانے رکھے ہوۓ تھے جو خاص فدیان کی ہدایت پر بنتے تھے روز۔
معصومہ سوپ وغیرہ نہیں پیتی تھی شوق سے تو وہ سرچ کرکے اس کی صحت کے حساب سے مناسب ڈشز بنواتا تھا جو وہ خوش ہوکر کھالے۔
۔" میم وہ تو آفس گۓ ہیں۔ پہلا دن تھا ان کا۔ آپ سوئ ہوئ تھیں تو وہ جلدی ہی چلے گۓ۔ ناشتہ بھی نہیں کیا نہ ہی اب پتہ ہے رات میں کب آئیں گے۔ لیکن تاکید کی تھی انہوں نے آپ کو کھانا وقت پر دیا جاۓ۔ "
توجہ اس پلیٹ پر رکھتے ہوئے اپنی بات کہہ کر ملازمہ سر جھکا کر چلی گئ۔ معصومہ کو عجیب لگا کہ شوہر وہ اس کا ہے اور اپنے فرسٹ ڈے پر اس نے اس سے بات بھی نہیں کی۔
" مصروف ہوں گے وہ۔ ورنہ مجھے کیوں اگنور کریں گے۔ میں زیادہ ہی سوچ رہی ہوں بس۔ "
ذہن میں عجیب عجیب خیال آرہے تھے تبھی معصومہ نے فورا خود کو سمجھایا اور کھانا کھانے لگی۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" سر لنچ ٹائم ہوگیا ہے۔ کہیں تو آپ کے لیے لنچ یہیں منگوا لوں میں"
سیکرٹری وقت پر وہاں موجود تھا۔ اور فدیان کا فوکس یہ فائلز تھیں جو اسے شام تک ختم کرنی تھیں۔
" لے اؤ لنچ ساتھ میں کل کا کام بھی لے آؤ۔ آج رات بارہ تک جو جو کرسکتا ہوں میں سب کروں گا۔ بس مجھے مصروف رہنا ہے تو تم رات کے کھانے کا بھی اچھا سا بندوبست کرلینا۔۔ !!! دونوں بھائ اکٹھے ہی کھائیں گے"
ہنوز فدیان کی نظریں ان فائلز پر تھیں۔ پہلے تو سیکرٹری کو رات بارہ تک کا سن کر دھچکا لگا کہ کیا اب رات کو بھی کام کرنا پڑے گا۔ پھر فدیان کے منہ سے بھائ کا لفظ سن کر اس نے اپنی آنکھوں میں آئ نمی پونچھی۔
" سر آپ نے مجھے بھائ کہا۔ سچ میں ۔۔۔!!! تھینک یو سر۔ اب ڈنر کیا میں تو کل کا لنچ بھی آپ کے ساتھ یہاں رک کر کروں گا۔ "
جذباتی ہوتے ہوۓ وہ رونے ہی والا تھا۔ فدیان نے مسکراہٹ روک کر سامنے سے پانی کا گلاس اٹھایا۔
" اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔ میں بھی مسلمان ہوں تم بھی مسلمان ہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائ ہوتا ہے۔ اب رونا مت برو۔ کچھ اچھا سا لاؤ اب کھانے کو۔ !!!"
پانی کا ایک گھونٹ پی کر اس نے بے نیازی سے کہا تو اس آفس کے باس کا اتنا اپنائیت والا انداز دیکھ کر وہ فورا حکم کی تعمیل میں لگ گیا۔
" کیوٹ سا سٹاف یے میرا۔ مزہ آۓ گا ان کے ساتھ ۔۔۔۔!! معصومہ ڈیئر جب میں دل کہیں اور لگالوں گا تب تمہیں پتہ چلے گا کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ۔ تمہیں ہمدردی چاہیے تھی تو اب ہمدردی ہی ملے گی "
معصومہ کے بارے میں سوچتے ہوۓ اس کے چہرے پر پھر سے تکلیف چھانے لگی تو سب چھوڑ کر وہ کام میں مگن ہوگیا۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" مسئلہ کیا ہے زرلش ۔۔۔!! کیوں کررہی ہو اپنے ساتھ یہ ظلم۔ کھانا نہیں کھاؤ گی تو کمزور ہوجاؤ گی بعد میں مسائل پیدا ہوں گے۔ پلیز ناراضگی کو ایک جگہ رکھ کر کچھ کھالو اچھے سے۔ پلیز ۔۔۔!!!"
یہ صبح سے تیسری کوشش کی درمان نے اسے کھانا کھلانے کی۔ وہ کل رات سے بھوکی تھی کھانے کے نام پر ہی اس کا جی متلارہا تھا اور کل رات سے مسلسل قے کی وجہ سے اب اس کی ہمت بھی جواب دے چکی تھی۔
درمان نے کچھ نرم سی غذا اس کے لیے بنائ تو اسے دیکھ کر وہ ایک بار پھر واش روم کی جانب بھاگ گئ۔
" درمان کیوں ڈرایا تھا تم نے اسے۔ جب اس کی حالت پہلے ہی خراب ہے ۔ یہ باتیں کرتی ہوئ ہی اچھی لگتی ہے۔ اور تمہیں بھی عادت ہے اس کی باتوں کی پھر بے وقوفی کی ضرورت کیا تھی۔"
اپنے ہاتھ میں پکڑا باؤل وہیں رکھ کر وہ اس کے پیچھے واش روم میں آیا جو سنک پر جھکی ہوئی تھی دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ کر۔
" میری جان ہاسپٹل چلیں ۔۔۔!!! تمہیں یوں دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے مجھے۔ کل رات سے کچھ نہیں کھایا تم نے۔کہیں کچھ برا نہ ہو جاۓ۔ پلیز مجھ سے بات تو کرو۔۔۔!!!"
اس کی پشت سہلاکر اس نے اس کا فیس واش کروایا۔ پھر اسے خود سے لگاکر نرمی سے کہا۔جو حد سے زیادہ کمزور ہوگئ تھی اس وقت جیسے جان ہی نہ ہو اس میں۔ کل رات بھی ڈاکٹر گھر آئ تھی جس نے بس یہی کہا وہ کسی بات پر خوفزدہ ہے تو اس کی جان کو خطرہ ہے ابھی۔ وہ اسے پرسکون کرے۔ اسے بس سکون کی ضرورت ہے۔ پر کیسے کرے وہ اسے پرسکون ۔ ۔!! جب وہ بات ہی نہیں کررہی صحیح سے۔
" م۔مما پاس ج۔جانا ہے "
ہانپتے ہوئے وہ درمان سے دور ہونے لگی تو چکر کھاکر واپس سے اس سے لگ گئ۔
" اس حالت میں تمہیں دیکھ کر وہ دیار حلع کا کیس کرے گا مجھ پر۔ میں کیسے بھیجوں تمہیں وہاں۔ اچھا ایک کام کرتے ہیں کہیں گھومنے جاتے ہیں۔ یا پھر ایسی کوئ گیم کھیلتے ہیں جو تمہیں پسند ہو۔ بس ایک بار ٹھیک ہوجاؤ میں کچھ سخت نہیں کہوں گا پھر کبھی بھی ۔۔!!!"
درمان منتوں پر اترا۔زرلشتہ کی حالت اسے ڈرارہئ تھی۔
" م۔مما۔۔۔!!!"
پھر سے زرلشتہ نے مدھم سی پکار دی تو تھک کر اسے گود میں اٹھا کر درمان لاونج کی سمت چلا گیا۔ اس کا وزن بھی اب نہ ہونے کے برابر تھا۔ وہ جو پہلے کہتی تھی میں موٹی ہوجاؤں گی تو آپ کو اچھی نہیں لگوں گی وہ جھاگ کی طرح بے جان ہورہی تھی۔
" جی میری جان میں لے جاؤں گا تمہیں وہاں۔ مجھ سے مت ڈرو یار۔ میں پیار کرتا ہوں تم سے۔ حد سے زیادہ پیار۔ میں کچھ نہیں کروں گا پرامس۔۔۔!!!"
اسے صوفے پر بٹھاکر درمان سامنے بیٹھا تو وہ بامشکل اس سے دور کھسک گئ۔ سرمئی آنکھیں دب چکی تھیں اور ہونٹ خشک ہوکر اب بس پھٹنے والے تھے۔
کیا کوئ کسی کے غصے سے اتنا بھی ڈر سکتا ہے کہ اس کی جان سچ میں نکل جاۓ تو جواب تھا ہاں ڈر سکتا ہے۔
کسی کے غصے سے کوئ مر بھی سکتا ہے۔
مثال زرلشتہ تھی۔
جو پھول آئ سی یو سے واپس آکر بھی نہ مرجھایا وہ اس وقت مرجھا کر گرنے والا تھا۔
" آ۔آپ م۔مار دیں گے۔ ز۔زبان کاٹ لیں گے۔ سسسسسسووووووو سوری ۔۔!! پر ن۔نہیں مارنا۔ !!!"
پھولتے سانسوں کے درمیان اس نے کہا تو درمان نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھ شدت سے چومے۔
" مجھے مار لو۔ لڑلو۔ پر ڈرو نہیں مجھ سے۔ پلیز ۔۔۔!!!"
۔اس نے سر اس کے ہاتھوں پر ٹکایا یہ یخ بستہ ہاتھ اس کی جان نکال چکے تھے ۔
اس سے پہلے وہ ہاتھ کھنچتی دروازے کی ڈور بیل سن کر درمان نے خود ہی اس کے ہاتھ چھوڑے اور اٹھ کر اس کے گالوں پر لمس چھوڑا۔
" جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ پلیز ۔۔۔!!!"
وہ سانس روک رہی تھی ڈر کی وجہ سے تبھی وہ خود ہی دور ہوگیا اور دروازہ کھولنے چلا گیا۔
اس کے وہاں سے دور ہوتے ہی زرلشتہ ڈر کر پھر سے رونے لگی۔ اور اپنے گال رگڑتے ہوئے اس نے وہ منظر یاد کیا جب یہی شخص اس کی زبان کاٹنے والا تھا ۔
" لالہ جان سیو می پلیز ۔۔۔!! وہ مار دیں گے مجھے۔ کوئ بچائیں مجھے۔ یااللہ پلیز مجھے یہاں سے بھیج دیں۔ پلیز ۔۔۔!!!"
دبی دبی ہچکیوں کے درمیان اس نے دعا کی اور کانپتے ہاتھوں کو گھٹنوں کے گرد باندھ کر وہ گھٹنوں میں منہ چھپاکر رونے لگی۔
بعض اوقات آپ کا چھوٹا سا عمل بھی کسی کی دنیا ہلاسکتا ہے۔ کسی ہنستے کھیلتے انسان کو موت کے قریب کرسکتا ہے تو ہمیشہ معصوم دل کے لوگوں کے لیے مزاج میں شائستگی رکھیں۔ یاد رکھیں غصہ حرام تھا حرام ہے اور حرام ہے رہے گا۔ چاہے جو مرضی ہوجاۓ۔ تو جو آپ سے کمزور ہے اسے اس حرام شے کی نظر نہ کریں۔ وہ بدلا تو تکلیف آپ کو ہی ہوگی۔
شیطان کے ہاتھوں کھلونا بننے سے لاکھ درجے اچھا ہے درگزر سے کام لے کر نیک و کاروں کی فہرست میں شامل ہوجانا۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" جی آپ کون ؟ کس سے ملنا ہے آپ کو ؟ "
دروازہ کھول کر درمان نے اس سامنے کھڑے وجود سے پوچھا۔ سامنے ایک عورت سیاہ شال سے اپنا آدھا چہرہ چھپاکر کھری تھی۔
" اپنے بیٹے سے ملنا ہے مجھے۔ میں اپنے بیٹے کی ماں ہوں ۔۔ !!!"
جواب پورے اعتماد سے دیا گیا۔ تو اچھنبے سے درمان نے اس کے ادھ چھپے چہرے کی سمت نگاہیں دوڑائیں۔
" آپ کا بیٹا ؟؟؟ یہاں تو میرے علاؤہ کوئ نہیں رہتا۔ آپ شاید غلط پتے پر آگئ ہیں۔ سوری یہ آپ کے بیٹے کا گھر نہیں ۔۔!!!"
ایک رسمی سی مسکراہٹ اسے پاس کرکے درمان واپس جانے لگا تو اس عورت نے مٹھیاں بھینچیں۔ باہر گارڈز نے دراب آفریدی کے آرڈر پر اسے اندر جانے کی اجازت دی تھی اور داخلی دروازے پر کھڑا اس کا بیٹا اسے انجان کہہ کر دوسرا راستہ دکھا رہا تھا۔
" تو تم کیا آسمان سے گرے تھے۔ پیدا نہیں ہوۓ تھے کیا ؟؟؟ تمہاری کیا کوئ ماں نہیں ہے۔ میں بالکل صحیح پتے پر آئ ہوں پر تمہارا دماغ ٹھکانے پر نہیں لگتا ۔۔ !!!"
دانت پیستے ہوۓ ان کا بس نہ چلا ایک دو تھپڑ اس کے منہ پر لگادیں۔ جوان اولاد ہے یہ سوچ کر وہ چپ ہوگئیں ورنہ ابھی جوتا بھی اتر سکتا تھا۔
درمان نے بھنویں سکیڑیں۔
" میری ماں مرچکی ہے۔ آپ جو بھی ہیں پلیز میرا دماغ خراب نہ کریں۔ میں زیادہ دیر لحاظ نہیں کروں گا ۔۔!!!"
ابھی بھی وہی اکڑ تھی اس کے لہجے میں جو اسے وراثت میں ملی تھی۔ وہی غصہ ، وہی لاپرواہ انداز انہیں سمجھ نہ آیا تئیس سالوں بعد اسے دیکھ کر وہ اسے گلے لگائیں یا رکھ کر منہ پر ایک آدھ تھپڑ لگائیں۔
" مر گئ ہے تمہاری ماں۔ "
انہوں نے غصے سے کہا پھر لہجے میں افسوس شامل ہوا۔
" سن کر بڑا افسوس ہوا۔ زرا یہاں میرے پاس تو آنا اپنے بیٹے کے گھر کا ایڈریس میں تمہیں سمجھادوں۔ شاید تم اسے جانتے ہو "
مصنوعی ہمدردی دکھا کر انہوں نے اسے پاس بلایا جو سر جھٹک کر ان کے پاس آگیا۔
" بتائیں آپ۔ کہاں ہے آپ کا بیٹا ۔۔۔!!!"
اس کے پوچھنے کی دیر تھی جب فضا میں زوردار تھپڑ کی آواز گونجی۔ درمان شاکڈ رہ گیا اور سحرش نے ہنستے ہوۓ اس کے لال گال پر رکھے ہاتھ کو تھکی دی۔
" یہ رہا میرا نکما بیٹا۔۔۔۔!!! "
ہاتھ جھاڑ کر وہ مسکرائیں۔ درمان کا منہ غصے سے کھلا۔
"ہمت کیسے ہوئی آپ کی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی میں ۔۔۔!!!"
دھاڑتے ہوئے اس نے ابھی جملہ مکمل نہیں کیا تھا جب ایک اور تھپڑ اس کے منہ پر چھپا۔ اب کی بار ان کی انگوٹھی اس کے گال پر لگی تو وہ کراہ اٹھا۔
" ایسے ہوئ میری ہمت بیٹا جی۔۔۔!! درمان صاحب آپ غصے کے برے ہیں تو اچھی میں بھی نہیں ہوں۔ نو ماہ اسی ماں کے پاس رہے ہو تم اپنا آپ کاٹ کر تمہیں دنیا دکھائ ہے۔ پھر پانچ سے چھ سال تک تمہیں سینے سے لگاکر رکھا ہے اب مجھے ہی آنکھیں دکھارہے ہو ۔۔۔!!!
بدتمیز ۔۔۔!! تمہیں اس شنایہ نے تمیز نہیں سکھائ یا سارا پیار اس عورت کے کیے تھا اب میرے لیے غصہ رہ گیا ہے۔ !!
درمان کی آنکھوں میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی اس وقت۔ سامنے کھڑی اس عورت کا دعویٰ کہ وہ اس کی ماں ہے ان دو تھپڑوں کے بعد اسے ماننے کے قابل لگا۔
" مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ محترمہ کیوں اچانک یہاں نازل ہوکر مجھ پر تھپڑوں کی بارش کررہی ہیں۔ میں اگر آپ کا سچ میں بیٹا ہوں تو مار کر کیوں ثابت کررہی ہیں۔۔۔!!!"
اپنے گال سے ہاتھ ہٹاکر درمان نے اس جگہ کو انگلیوں کی پوروں سے چھوا جہاں ان کی انگوٹھی سے زخم بن گیا تھا۔ تو کراہ اٹھا۔
سحرش دو قدم پیچھے ہوئیں پھر سر سے لے کر پیر تک انہوں نے اپنی نامراد اولاد کا جائزہ لیا۔
" تم ہی فلحال میرا مسئلہ ہو میرے نالائق بیٹے۔ اچھا خاصا قد نکال لیا ہے تم نے ورنہ جب میرے پاس تھے تب تو چھوٹے سے تھے۔ خیر اصولا تو مجھے تمہارا منہ چومنا چاہیے پر میرا اس نالائق اولاد کے ساتھ فری ہونے کا ارادہ نہیں تو سائیڈ پر ہو تھک گئ ہوں میں تو ذرا آرام کروں گی۔۔۔!!!"
ناک سے مکھی اڑانے والے انداز میں وہ اسے وہاں سے سائیڈ پر ہونے کا کہہ کر خود ہی اسے دھکا دے کر آگے بڑھ گئیں۔ درمان زلزلے کی زد میں تھا۔ اسے یقین ہوگیا ایسی ظالم ماں اس کی ہی ہوسکتی ہے۔
" ویسے میری بہو رانی کہاں ہے درمان۔ بیٹی کا بڑا شوق تھا مجھے پر نصیب کہاں شوق پورے ہونے دیتا یے تو تم دو نالائقوں کے سوا کچھ نہیں مل سکا مجھے۔ میں بتارہی ہوں اپنی بہو کو رانی بناکر رکھوں گی میں۔ تم میرے جوتے کھاؤ گے اور اسے میں مزے دار قسم کا کڑاہی گوشت بناکر کھلاؤں گی۔ ویسے کھا تو لے گی نا وہ یہ سب۔ آج کل کی بچیوں کے بھی الگ ہی شوق ہوتے ہیں میں نے سنا ہے کہ بس سلاد کے پتے کھاتی ہیں تاکہ پتلی رہیں۔ میری بہو تو ایسی نہیں ہے نا۔ اگر یے تو مجبورا میرے شوق اب بھی ویسے ہی رہیں ۔!!!"
انہوں نے داخلی دروازہ کھولتے ہوئے پیچھے کی سمت مڑ کر اسے دیکھتے ہوئے تجسس سے سوال کیا۔ تئیس سالوں بعد ملنے کے باوجود وہ یوں اس سے مخاطب تھیں جیسے سالوں سے جانتی ہوں۔
آخر ماں تھی وہ اس کی۔ لہجے میں اپنائیت تو لازمی تھی۔
درمان نے اپنا کان کھجایا۔ اور آنکھیں میچ لیں۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا یہاں کیا ہورہا ہے۔
" پہلے تو ثابت کریں آپ میری ماں ہیں۔ پھر آگے بڑھیے گا۔ ایسے کوئ بھی منہ اٹھا کر آئے اور میری ماں ہونے کا دعویٰ کرے میں مان نہیں سکتا۔ رکیں آغا جان کو کال کرلوں میں۔ پھر کنفرم ہوگا۔ سچ کیا ہے۔۔۔!!!"
درمان نے اپنا فون نکالتے ہوئے ان کا راستہ روکا اسے اب بھی یقین نہیں آیا تھا مکمل طور پر اسی وقت انہوں نے تیسرا تھپڑ اس کے منہ پر مار دیا تو اس بیچارے کے ہاتھ ایک ہی جگہ رک گۓ۔ اتنی بےعزتی ۔۔۔۔!!!!!!
کیسی ماں تھیں یہ جنہیں ہاتھ سے بات کرنا پسند تھا۔ اولاد سوال کرے تو جواب میں تھپڑ ۔۔۔!!!! یہ سوال کریں اور جواب انہیں چاہیے ہو تو بھی ایک تھپڑ لازمی ماریں گی۔
" بہت بگاڑ رکھا ہے اس دراب نے تمہیں۔ تبھی تو کھمبے کی طرح لمبے ہونے کے باوجود تمہیں اپنی ماں سے بات کرنی نہیں آئ۔ تین تھپڑوں کے بعد بھی تمہیں ثبوت چاہیے کہ میں تمہاری ماں ہوں تو جوتا حاضر ہے میرا پھر بھی زیادہ کی چاہ ہے تو لان میں پائپ اور الماری میں ہینگر تو رکھے ہوں گے۔ پوری سرچ کی ہے میں نے کہ آج کل اولاد کو عقل کیسے مل سکتی ہے تو بیٹا جی بس اتنا بتاؤ ثبوت کتنا پائیدار ہونا چاہیے۔ تو میں انتظام بھی اس حساب سے کروں ۔۔۔!!!"
اپنی آستینیں کہنیوں تک لے جاکر وہ لڑنے کے لیے تیار ہوئیں تو فورا درمان ڈر کر دو قدم دور ہوگیا۔ اس عورت کے ہاتھوں تین تھپڑ کھانے کے بعد بھی وہ غصے سے لال پیلا نہیں ہوا تو وجہ وہ خون تھی جو اس کی رگوں میں دوڑ رہا تھا اسی عورت کا خون۔ احترام کے تقاضے تبت جنہیں پھلانگنا گناہ کہلاتا ۔۔۔!!!
تبھی تو اسے اس عورت کے اردوں سے ڈر لگا۔ ہاں درمان بھی اس دنیا میں کسی سے ڈرتا تھا۔ وہ تھی اس کی ماں ۔۔۔!!!
" ہوگیا یے یقین پلیز اس عمر میں میں ہینگر سے پٹتا اچھا نہیں لگوں گا تو معاف کردیں۔ آگے ہی کان تک دکھنے لگا ہے تھپڑ کھاکر ۔ اتنی ظالم تو بس میری ہی ماں ہوسکتی ہے۔ جانتا ہوں میں۔
سارا گھر آپ کا ہے جو چاہیں کرلیں۔۔۔!!!" اپنا فون اس نے واپس سے پاکٹ میں رکھ دیا۔ اتنی مار آج کے لیے بہت تھی۔
اتنا جلدی اسے یقین ہوجاۓ گا وہ جانتی تھیں تبھی انہوں نے ایک دلکش مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی اور فورا اس کے گھر میں داخل ہوگئیں۔
پیچھے وہ بھی اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ ان کے قدموں پر قدم رکھنے لگا۔
" تم اصل میں بچپن سے ہی ضدی ہو بہت۔ کیوں نہ ہو ضدی آخر زریاب آفریدی کا خون ہو تم۔ یہ اکڑ یہ غصہ سب وہیں سے ملا ہے تمہیں۔ تمہاری گھٹی میں شامل ہے یہ غصہ۔ اللہ مغفرت فرماۓ تمہارے دادا کی بہت سخت مزاج کے تھے وہ۔ جب میری اور دراب کی محبت کا انہیں پتہ چلا تھا تو واویلا مچایا تھا انہوں نے کہ یہ نہیں ہوسکتا۔
دراب کے سر پر گن رکھی کہ سرداری کی نشست چاہیے تو محبت بھول جاؤ۔ ورنہ جاؤ سڑکوں پر رہو۔ میرے گھر میں ایسے شخص کی جگہ نہیں جو میری نافرمانی کرے۔خاندان سے باہر رشتہ جوڑنے کا سوچا تو ذلیل ہوجاؤ گے۔ "
آگے چلتے ہوۓ انہوں نے ایک گلدان میں سجے پھولوں کو انگلیوں کی پوروں سے چھوا۔ ان کی بات سن کر درمان کے چہرے پر حیرت در آئ۔ یہ بولنے میں فدیان جیسی تھیں۔ اور مزاج میں اس جیسی۔ کہ بس میری ہی سنو ۔۔۔!!! وہ مسمرائز ہوا۔
" پھر تمہارے آغا جان ڈٹ گۓ کہ شادی کروں گا تو سحرش سے ہی کروں گا ورنہ چلائیں وہ گن۔ جس زندگی میں سحرش نہیں اس زندگی سے بھلی موت ہے میرے لیے۔
بہت بڑا ہنگامہ ہوا گھر میں لیکن حیرت انگیز طور پر کوئ میرے گھر مجھے ڈرانے نہ آیا۔ ورنہ میں تو ڈرپوک تھی فورا ہی چھوڑ دیتی سب۔ لیکن انہوں نے دراب کو آزمایا۔ چھ مہینے وہ اس محبت پر ڈٹا رہا پھر آخر میں پوری دھوم دھام سے میرے گھر کی چوکھٹ پر بارات آئ۔
پوری عزت سے مجھے رخصت کیا گیا۔ وہ مان دیا انہوں نے جو شاید ہی کسی کو ملا ہو۔ بہت اچھے تھے وہ۔ تمہیں گھٹی بھی انہوں نے دی تھی اور چاہتے تھے تم ان جیسے بنو۔۔۔!!!"
ماضی کی چند یادوں میں کھوتے ہوۓ وہ آسودگی سے مسکرائیں پیچھے چلتے درمان کو بات ادھوری سی لگی جو اس کا تجسس ختم کرنے کو ناکافی تھی۔
" تو وہ مانے کیسے ۔۔۔!!! ان کی تو ماں بھی زندہ نہیں تھی جو تھپڑ مار کر منالیں تو پھر وہ کیسے مان گۓ۔۔!! "
اس نے گہرائ سے سوچ کر سوال کیا تو تھپڑ والی بات پر ان کے چہرے پر چھائ مسکراہٹ مزید گہری ہوئ۔
" انہوں نے دراب کو آزمایا تھا کہ وہ اپنے قول و فعل کا کتنا پکا ہے۔ ایک بات بات کہہ کر کیا وہ ڈٹ سکتا ہے اس پر۔ کہیں وہ ڈگمگا تو نہیں جاۓ گا اپنے فیصلے پر۔ پھر جب انہیں یقین ہوگیا کہ وہ اب مرجاۓ گا پر قول سے نہیں ہٹے گا تو وہ جو جاننا چاہتے تھے جان گۓ۔
انہوں نے پورے علاقے کو کہا تھا جو مرد ایک بار کی گئ محبت پر جان دینے کو تیار تھا پر ہٹنے کو نہیں وہ آئندہ بھی اپنے ہر فیصلے پر ثابت قدم رہے گا۔ پھر چایے فیصلہ گھاٹے کا ہی کیوں نہ ہو۔اس جیسا سردار انہیں واپس نہیں ملے گا۔۔۔!!!!
خیر بہو کہاں ہے میری۔ اووو تو یہاں بیٹھی ہے ۔۔۔!!!"
پورے مان سے ماضی کی باتیں درمان کو بتاتے ہوئے وہ کب لاونج میں آئیں انہیں بھی خبر نہ ہوئی۔ جب سامنے گھٹنوں میں سر چھپاکر بیٹھی زرلشتہ کو دیکھ کر انہوں نے پیار سے کہا۔
" درمان آج تھپڑوں کا ریکارڈ لگے گا تیرا۔ تین پہلے پڑے اب زرلشتہ کو دیکھ کر دس سے بیس مزید پڑیں گے تو اپنا نام بدل کر تھپڑ آفریدی رکھ لے اب۔ کیونکہ یہی ہونا ہے آج سے ۔۔۔!!!"
وہ زرلشتہ کے قریب گئیں تب درمان نے بیچارگی سے سوچا۔
سخرش نے زرلشتہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ ڈر کر اچھل پڑی۔
انسوؤں سے تر چہرہ، کمزور سا سراپہ ، ڈری ڈری آنکھیں اور پھولا ہوا سانس وہ کہیں سے پرانی زرلشتہ نہ لگی ۔۔۔!!! اسے ٹھیک سے سانس نہیں آریا تھا اس لمحے۔ وہ سمجھ گئیں۔
" درمان یہ تمہاری بیوی ہے ۔۔۔!!!"
وہ حیران تھیں اس نے سر ہاں میں ہلایا۔
" جی یہ زرلش ہے۔ میری بیوی۔ طبیعت کچھ خراب ہے اس کی۔ چیک اپ کروایا ہے پر میڈیسنز اثر نہیں کررہیں۔ "
اس نے پریشان ہوکر بتایا وہ اس کی وجہ سے سچ میں پریشان تھا۔
" یہ کچھ نہیں بہت زیادہ بیمار ہے۔ میری معلومات کے مطابق تیسرا یا چوتھا مہینہ ہے نہ اس کا ابھی تو یہ اتنی کمزور کیوں لگ رہی ہے۔ کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ۔۔۔!!!"
اسے گھور کر انہوں نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔ درمان نے جواب میں دکھ سے سر جھکایا۔ آگے بڑھ کر سحرش نے زرلشتہ کے رخسار پر ہاتھ رکھا۔ جو لمبے لمبے سانس لے رہی تھی۔
" م۔مما۔۔۔!!!!" روتے ہوئے زرلشتہ نے مشکل سے کہا۔ تو انہوں نے جھک کر اس کے رخسار چومے۔ پھر اسے اپنے ساتھ لگاکر اس کی پشت سہلائ۔ کسی عورت کو اپنے پاس دیکھتے ہی زرلشتہ کا ضبط ٹوٹنے لگا تو وہ ان کے گلے لگ کر رونے لگی۔ سحرش نے ایک تگڑی گھوری سے درمان کو نوازا جس کا سر ابھی بھی جھکا تھا۔
" میری جان میں ہوں نا یہاں۔ میں بھی تو آپ کی مما جیسی ہی ہوں۔ میرے بچے کو کیا ہوا ہے۔ مجھے دیکھ کر بتاؤ۔"
انہوں نے اس کا چہرے سامنے کیا جو رونے کی وجہ سے لرز رہی تھی۔
" س۔سانس نہیں آرہا۔ ٹ۔ٹھیک سے ۔۔۔!!!"
درمان سے اس نے بات نہیں کی تھی اس بارے میں کیونکہ اسے ڈر تھا وہ اسے مار ہی نہ دے پر انہیں جانے بغیر ہی اس نے بتادیا۔ تو درمان بھی چونکا۔
" کب سے مسئلہ ہورہا یے سانس لینے میں ۔۔۔!!!"
انہوں نے اگلا سوال پوچھا تو اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اپنا چہرہ صاف کیا۔
" پ۔پرسوں سے ۔۔۔!!!"
وہ فوراً وہاں سے اٹھیں اور درمان پر غصیلی نگاہ ڈالی۔
" تمہیں تو بعد میں پوچھوں گی میں۔ ابھی بتاؤ کچن کہاں ہے؟ کچھ رکھا بھی ہے کیا وہاں یا پھر مکھیاں ہی مار رہے ہو تم ۔۔!!!"
دبی دبی غراہٹ سن کر اس نے فورا دائیں جانب اشارہ کیا۔
" اس طرف ہے۔ آگے سے دائیں جانب پھر دو کمرے چھوڑ کر بائیں جانب سامنے۔۔۔!!!"
ہمم کہہ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئیں۔ اپنے وقت کے کچھ ٹوٹکے یاد تھے انہیں اب بھی۔ سالوں کی قید میں ماضی یاد کرنے کے سوا انہوں نے کیا کیا تھا۔
تبھی تو اپنا ماضی اب حرف بہ حرف ان کے ذہن پر نقش تھا۔ ان کے جانے کی دیر تھی درمان وہیں اس سے دور کھڑا رہا۔
وہ کن اکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی تو بیچارے کو اب ناچاہتے ہوئے بھی دور رہنا تھا اس سے۔
پندرہ منٹ بعد وہ ہاتھ میں ایک گلاس میں کوئ قہوہ نما چیز اور دوسرے ہاتھ میں کوئ نرم سی غذا جو وہ اس وقت کھاسکتی تھی لے آئیں۔
کھانا دیکھ کر زرلشتہ کا دل خراب ہونے لگا تو وہ چہرہ دوسری سمت کر کے بیٹھ گئ۔
" بیٹا یہ پی لو آپ۔ دو منٹ میں سکون آجاۓ گا آپ کو۔ !!! میں آپ کی ساس ہوں۔ بری والی نہیں اچھی والی ساس۔ تو میری بات مان سکتی ہو آپ۔ ۔!!!"
وہ ہچکچا رہی تھی تو انہوں نے اسے بہلانے کی کوشش کی۔ درمان کو بے چینی ہورہی تھی کہ وہ کیسے ٹھیک ہوگی۔ اسے بس وہ ٹھیک چاہیے تھی آنکھیں بند کرکے سانس روک کر زرلشتہ نے وہ مشروب پیا۔ ایک گھونٹ پینے کے بعد اسے قے آئ تو انہوں نے اس کی پشت سہلاکر باقی کا گلاس واپس سے اس کے ہونٹوں سے لگادیا۔
مشکل سے وہ آدھا گلاس پی کر اس نے نفی میں سر کو جنبش دی تو سمجھ کر انہوں نے گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔
" آرام سے ایک ایک چمچ کرکے یہ کھاؤ ۔۔ !! بس دو منٹ لگیں گے اور آپ ٹھیک ہوجاؤ گی۔ بس اب ڈرنا نہیں یے آپ نے۔ یہاں میرے ہوتے ہوۓ کوئ آپ کو ہاتھ بھی نہیں لگاۓ گا۔۔۔۔!!!"
اسے باؤل پکڑاتے انہوں نے پیار سے کہا کو اب صرف ان کی موجودگی کی وجہ سے کچھ حد تک ریلیکس تھی۔
پھر انہوں نے درمان کو دیکھا۔
" درمان میں نے پوچھا تھا کیا کیا ہے تم نے اس کے ساتھ۔ یہ ڈری ہوئی ہے اس وقت۔ دراب نے کہا تھا میری بڑی بہو تو شنایہ کو بھی سکون کا سانس نہیں لینے دیتی تھی۔ چپ ہونے والوں میں سے وہ نہیں ہے تو یہ اس حال میں کیسے آئ ۔۔۔!!!"
انداز تفتیشی تھا تبھی درمان نے حلق تر کیا۔ جھوٹ بولنا اسے پسند نہیں تھا چاہے پھر قصور اس کا ہی کیوں نہ ہو۔ تو اب بھی سچ بولنا تھا اسے۔
" وہ پرسوں غصہ آگیا تھا مجھے تو اس پر نکل گیا۔۔ !! تب سے ڈرہی ہے مجھ سے۔ میں نے معافی مانگی تھی پر یہ ریلیکس نہیں ہورہی ۔۔۔!!! اور۔۔ !!"
اس کے لفظوں کا سلسلہ ایک اور تھپڑ توڑ دیا۔ سحرش کی آنکھوں میں اترا خون درمان نے بغور دیکھا۔ کیا شے تھیں یہ ۔ ۔!!!
" بےشرم ۔۔۔!! یہ سکھایا گیا ہے تمہیں کہ بیوی پر غصہ اتارو۔ پہلے بھی تم یقینا یہ کرچکے ہو تبھی تو ہچکچاۓ نہیں یہ بتاتے ہوئے۔ پر تب تمہاری ماں شنایہ تھی جو شہ دیتی تھی تمہیں اب میں ہوں جسے صحیح غلط کی تمیز ہے۔ عورت پر ہاتھ اٹھاؤ گے تو باخدا ہاتھ توڑ دوں گی ۔۔۔!!!!!"
درمان نے گال پر ہاتھ رکھ لیا۔ وہ غصے سے لفظ چبا چبا کر اس کے ذہن میں اتار رہی تھیں۔
زرلشتہ ان کا یہ روپ دیکھ کر ہاتھ میں پکڑا کھانا فورا کھانے لگی۔ یہاں بیٹا ظالم تھا تو ماں مہا ظالم۔
درمان کے پاس جواب ہوتا تو دیتا انہیں۔ وہ شرمندہ تھا تبھی یہ تھپڑ اس کے نزدیک حق پر تھا۔
" بےوقوف اس کی حالت کا لحاظ کرلینا تھا تم نے۔ بیوی نہیں تو انسان ہی سمجھ لیتے۔اس کی حالت کیا ایسی ہے کہ اسے ڈراؤ تم۔"
بولتے بولتے ایک اور تھپڑ درمان کے منہ پر چھاپ چھوڑ گیا۔
یہ پانچواں تھپڑ درمان نے کھایا تھا۔
وہ دنیا کی پہلی ماں تھیں جنہوں نے تئیس سال بعد اپنے سگے بیٹے سے ملاقات کی اور تحفے میں اس کا منہ چومنے کی بجاۓ پانچ تھپڑ مارے ۔۔۔!!!
اور مزید کئ چاہ اب بھی تھی۔
" بس بہت ہوگیا میں اسے اپنے ساتھ لے کر جارہی ہوں۔ اچھے سے خیال رکھوں گی اس کا۔ تمہارے بھروسے نہیں چھوڑوں گی اسے۔ سامان پیک کرواکر بھیج دینا اس کا ۔۔!!! چوں چراں نہ کریو بیٹا جی ورنہ ابھی دس تھپڑ رہتے ہیں۔۔۔!!!"
اس نے تڑپ کے کچھ بولنے کی کوشش کی تو انہوں نے اسے انگلی دکھاکر روک دیا۔
پھر مڑ کر واپس سے زرلشتہ کے پاس چلی گئیں۔
" میری بیٹی میرے ساتھ جارہی ہے اپنے گھر یعنی حویلی میں۔ ٹھیک ہے نا جلدی سے یہ کھا لو پھر گھر جائیں گے۔ اس ظالم بدتمیز لڑکے سے دور۔ جب تک اس کی عقل نہ ٹھکانے آئ ہم میں سے کوئ بھی اس کی صورت نہیں دیکھے گا ۔۔ !!!"
زرلشتہ نے سر ہاں میں ہلایا اسے اس لمحے بس اسی جن سے دوری چاہیے تھی اور درمان اب چپ رہنے کے سوا کچھ بھی نہ کرسکا۔ ان کے آتے ہی زرلشتہ کی حالت بہتر ہونے لگی تو اب اسے بھی یہی ٹھیک لگا وہ ان کے ساتھ چلی جاۓ۔
یہ اس کی ماں ہیں جانتا تھا وہ بھی۔ بھلا اپنی سگی ماں کے بارے میں وہ کیوں پتہ نہ کرواتا۔ پر ہچکچاہٹ اور سالوں کی دوری کی وجہ سے وہ انجان بن کر دور جانا چاہتا تھا۔
لیکن یہ پانچ تھپڑ اسے یاد دلاگۓ ماں سے دور جانا ناممکن ہوتا یے۔
زرلشتہ کا سانس مکمل بحال ہونے کی دیر تھی وہ ان کے ساتھ چلی گئ۔ پیچھے درمان اس خالی گھر میں اب اپنی تنہائی کے ساتھ موجود تھا۔
یہ سب اس کی بیوقوفی کا نتیجہ تھا۔ اپنے رخسار پر ہاتھ رکھتے ہی اسے درد ہوا۔ پورے گال لال ٹماٹر بن چکے تھے اس وقت۔
" جھوٹے منہ بھی نہیں پوچھا کہ کیسے ہو تم ؟؟ تھپڑ مارنا اور میری ہی بیوی لے جانا یاد تھا انہیں۔
میں بھی سوچتا تھا آخر فدیان کس پر چلا گیا ہے۔ اتنا عجیب کیوں یے وہ۔ اب مکمل پتہ چل گیا میرا پورا خاندان ہی عجوبہ ہے۔ سمیت میرے ۔۔ !!! "
صوفے کی پشت پر سر رکھتے ہوۓ اس نے آہ بھری ۔ اس وقت یہ چھت دیکھنے کے سوا کوئ چارہ نہ تھا۔
اس کی سزا جو شروع ہوگئی تھی
۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
رات کے بارہ ہونے والے تھے اور یشاور تھک ہار کے گھر کے دروازے پر کھڑا سوچ رہا تھا کہ کس منہ سے بہار کے سامنے جاۓ وہ جب اس کے گھر والوں کے قاتل کا خون ہے وہ۔
اس کے مجرم کا بیٹا ہونے کے باوجود کس منہ سے اب اسے اپنا کہے۔
اب ساری زندگی تو وہ یہاں کھڑا ہو نہیں سکتا تھا تو اپنی پاکٹ سے سیپرٹ کیز نکال کر اس نے دروازہ کھولا۔ قدم کمرے کی جانب سے تھے اسے امید تھی وہ کمرے میں ہی ہوگی۔
کمرے کا دروازہ کھول کر اس نے سامنے دیکھا بیڈ خالی تھا۔ وہ ٹھٹھکا بہار کو اصولا یہیں ہونا چاہیے۔
اس نے واش روم کا ڈور دیکھا جو انلاک تھا یعنی وہ یہاں بھی نہیں تھی۔
اب اس کے دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں کہ بہار یہاں نہیں ہے تو کہاں ہے۔ اس نے وہ کمرہ دیکھا جہاں وہ پہلے رہتی تھی پھر لاؤنج میں واپس آیا۔ وہ کہیں بھی نہیں تھی۔ نہ کچن میں نہ رومز میں۔۔۔!!!
" بہار ۔۔۔!!!! کہیں تم سب جان تو نہیں گئ۔ کہیں تم مجھے چھوڑ تو نہیں گئ۔ میں کیسے رہوں گا تمہارے بغیر یار ۔۔۔!!! بہار کہاں گئ ہو تم ۔۔۔!!!"
اضطراب کے عالم میں لب کاٹتے ہوۓ وہ گھر سے باہر قدم بڑھا گیا۔ اس وقت سوسائٹی کے سب گھروں کی لائٹس بند تھیں۔ وہ دس بجے کے قریب واپس آیا تھا یعنی وہ دس بجے سے پہلے ہی گھر میں نہیں تھی۔
دماغ میں عجیب عجیب سے خیال آنے لگے۔ وہ اکیلی لڑکی جس کا اس دنیا میں اس کے سوا یے ہی کوئ نہیں وہ اس انجان شہر میں کہاں جاسکتی ہے۔
اس کے قدم اٹھنے سے انکاری تھے اگر اٹھتے بھی تو بہار کو کہاں ڈھونڈتے۔
ہمت کرکے وہ سڑک کی طرف چلنے لگا۔ چل کم وہ دوڑ زیادہ رہا تھا۔ سڑک مکمل سنسان تھی انسان کیا وہاں تو جانور بھی نہیں تھے۔ سٹریٹس لائٹس کی مدھم روشنی میں دیوانوں کی طرح بھاگتے ہوۓ وہ دوڑ تک اسے ڈھونڈتا ہوا گیا۔ پھر کچھ سوچ کر واپس جس رستے سے آیا تھا اسی جانب دوڑنے لگا یہ سوچ کر کہ شاید وہ اس راستے پر اسے ملے ہی نہ۔
دوسری جانب بھی وہ دور تک بھاگا پر اسے پتہ نہیں تھا کیسے ڈھونڈے وہ اسے۔ اب اس کا سانس تھمنے لگا۔ گھٹنوں کے بل سڑک پر بیٹھ کر یشاور نے اپنے بال مٹھی میں جکڑ لیے اور چند سسکیوں کے بعد آنسو اس کی آنکھوں سے بہنے لگے۔
" نہیں بہار تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔ میں کیسے رہوں گا یار تمہارے بغیر۔ کسی کو اپنی عادت ڈال کر یوں نہیں چھوڑتے بہار ۔۔۔!!!"
وہ چیخ اٹھا۔ اس کی آواز اس خاموش رات میں سرد سڑک پر گونجی پھر خود ہی دب گئ۔ اہنے بکھرے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسی ہاتھ کی پشت سے اس نے اپنے آنسو رگڑے جو اس کی آنکھوں کے کنارے جم سے گۓ تھے۔ اور واپس سے اپنے گھر کی سمت چل پڑا۔
اسے اب بھی نہیں پتہ تھا وہ واپس کیوں جارہا ہے پر وہ جارہا تھا۔ گھر میں دوبارہ داخل ہوکر اس نے دوبارہ بہار کو ڈھونڈا۔اس دفعہ بھی گھر کی کچھ لائٹس آف تھیں لیکن اس کا دماغ اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ نوٹ کرسکتا۔ پہلے بھی روشنی مدھم ہی تھی پر اسے خیال نہ آیا لائٹس آن کرلے۔
اس نے جونہی قدم لاونج میں رکھے فورا لائٹس آن ہوئیں اسی کے ساتھ ہی party poppers کے پھٹنے کی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔ رنگ برنگے کاغذ اس کے بالوں پر گرے۔
نظریں سامنے دشمنِ جان سے ملیں جو معمول سے ہٹ کر آج بلیک ایسٹرن سٹائل ساڑھی پہنے ہوئے ( جس کا بلاؤز اور پلو بالکل ڈیسنٹ اور پورا تھا) بال ہلکے سے کرل، اور لائٹ میک اپ پر ڈارک لپ اسٹک کا ٹچ دے کر حد سے زیادہ حسین لگ رہی تھی۔ یشاور ایک لمحے کے لیے تو سانس لینا بھی بھول گیا اسے امید نہیں تھی وہ گھر میں ہی ہوگی۔
" Happy birthday to you ....!!!!
Happy birthday to you .....!!!!
Happy birthday...!!! Happy birthday...!!! Happy birthday dear Khan G ...!!!!
Happy birthday to you ...!!!"
پھر اگلے ہی پل بہار نے خوش ہوتے ہوئے اس کے لیے سونگ گانا شروع کیا۔ بہار کی آواز سن کر یشاور نے آگے بڑھ کر اسے سمجھنے کا موقع دیے بغیر خود میں بھینچ لیا تو وہ ساکت رہ گئ۔ یشاور کی آنکھوں سے کچھ آنسو نکل کر اس کے بالوں میں جذب ہونے لگے۔
" خان جی آپ رورہے ہیں ۔۔۔!!! پر ہوا کیا ہے آپ کو ؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟ خان جی۔۔۔!!!!"
اس کے حصار کی شدت پر بہار نے بامشکل پوچھا وہ محسوس کرسکتی تھی یشاور رورہا ہے۔ یشاور نے اسے جواب نہ دیا بلکہ کافی دیر تک اسی پوزیشن میں ہی کھڑا رہا۔ پھر آخر کار اس نے بہار کو خود سے جدا کیا اور اس کی پیشانی پر محبت بھرا لمس چھوڑا۔ کچھ آنسو بہار کے رخساروں پر گرے تو وہ تڑپ اٹھی۔
" شکر ہے اللہ کا کہ تم یہیں ہو۔ میں ڈر گیا تھا بہت۔ مجھے لگا تم مجھے چھوڑ گئ ہو ۔۔۔!!!"
اس کی آنکھوں میں چھپے سوال کا جواب یشاور نے دیا تو اس کے ہاتھ اپنے رخساروں سے ہٹا کر بہار نے اس کے آنسو صاف کیے۔
" خان جی ۔۔۔!!! آپ نے ایسی فضول بات سوچی بھی کیوں آخر۔ میرا آپ کے سوا ہے ہی کون اس دنیا میں اور آپ کو میں کیوں چھوڑوں گی۔ پلیز مت روئیں۔ آپ میری وجہ سے روکر مجھے تکلیف دے رہے ہیں ۔۔۔!!!"
بہار کے لہجے میں تڑپ تھی تبھی اپنے آنسو اپنے ہاتھ کی پشت سے چن کر یشاور نے لب باہم پیوست کیے۔
" ہوتا کوئ تو تم کیا چلی جاتی مجھے چھوڑ کر؟ کیا تم بس اس وجہ سے میرے ساتھ ہو کہ میرے علاؤہ تمہارہ کوئ نہیں؟؟"
وہ تکلیف میں تھا اس وقت۔ بہار نے فورا سر دائیں سے بائیں ہلایا۔
" کبھی بھی نہ چھوڑتی۔ اتنا اچھا شوہر روز روز تو ملنے سے رہا۔ آپ کا برتھ ڈے تھا تو میں نے آپ کے لیے کیک بنایا۔ پھر کھانا بھی بنایا اور دیکھیں خود بھی میں تیار ہوئی ہوں ۔۔۔!!!"
محبت سے اس کے سوال کا چھوٹا سا جواب دینے کے بعد بہار نے گھوم کر اسے دکھایا کہ وہ اس کے کیے تیار ہوئ ہے تو وہ تکلیف میں بھی ہنسے بنا نہ رہ سکا۔
" پھر میں آپ کا ویٹ کررہی تھی آپ آۓ ہی نہیں تو میں چھت پر چلی گئ تھوڑی سی دیر کے لیے پھر ابھی ہی اتری ہوں نیچے تو دروازہ کھلا تھا مجھے لگا آپ آگۓ اور سرپرائز خراب ہوگیا تو میں نے آپ کو ڈھونڈا پر آپ نہیں ملے۔ آپ کہاں گۓ تھے خان جی ۔۔۔!! آج دیر کیوں ہوگئ۔ آپ کو پتہ ہے نا میں اکیلی ہوتی ہوں۔ آپ کا انتظار رہتا ہے مجھے۔۔۔!!!"
آنکھوں میں خفگی لیے آگے بڑھ کر اس نے یشاور کے دونوں ہاتھ پکڑے اور منہ بناکر سر جھکا لیا۔ یشاور کا دل ہی نہ کیا کہ اسے سچ بتادے کہ وہ اس محبت کے لائق ہی نہیں۔ اسے یہ لمحے ہمیشہ ایسے ہی چاہیے تھے۔
" مجھے تو یاد ہی نہیں کہ میرا کوئ برتھ ڈے بھی ہوتا ہے۔ بس آج آفس میں ایک اہم میٹنگ تھی تو میں لیٹ ہوگیا۔ جانتا ہوں کہ تم اکیلی ہوتی ہو تو کل ہم مورے کے گھر جارہے ہیں۔ وہ اکیلی ہیں وہاں تو اب کچھ عرصہ ہم وہاں ہی رہیں گے۔ تمہاری بوریت بھی دور ہوجاۓ گی اور میں بھی سکون میں رہوں گا۔ ٹھیک ہے ۔۔۔!!!"
اس کے بالوں کو محبت سے چھو کر کان کے پیچھے کرتے ہوۓ اس نے نرم سے انداز میں کہا۔ اس کے علاؤہ اسے اب بہار کو کچھ نہیں بتانا تھا۔
وہ جانتا تھا یہ زیادتی ہے اس کے ساتھ پر کیا کرتا وہ بھی۔ ایک تو دل کے ہاتھوں مجبور تھا تو دوسرا اس معصوم کو کیوں دنیا سے لڑنے کے لیے چھوڑ دیتا۔ یہ غصے میں خود کو تکلیف نہ دے اسے یہی ڈر تھا اب۔
گھر جانے کا سن کر بہار کی آنکھوں میں کئ دیپ جل اٹھے تبھی فورا سر اٹھا کر اس نے اس کی ان سبز رنگ آنکھوں میں تشکر بھرے انداز سے دیکھا۔
" سچی خان جی۔ ہم دونوں اب آپ کی مما کے ساتھ رہیں گے۔ برتھ ڈے آپ کا تھا گفٹ آپ نے مجھے دے دیا۔ آپ سچ میں بہت اچھے ہیں۔۔۔!!!"
چہکتے ہوۓ وہ مسکرانے لگی۔ یشاور نے سر ہاں میں ہلایا۔
" اور میرا گفٹ ۔۔۔!!!"
اس کی آنکھوں میں پھر سے ایک امید کی لہر ابھری۔ بہار نے سر جھکایا۔
" میں گھر سے باہر نہیں گئ خان جی۔ آج آنٹی بھی جلدی چلی گئ تھیں پھر آپ کی برتھ ڈے کا مجھے شام میں پتہ چلا آپ کی کبرڈ صاف کرتے ہوۓ۔ وہاں آپ کے آئ ڈی کارڈ کی کاپی تھی۔ تو میں جلدی میں بس یہی کرسکی۔ سوری گفٹ نہیں ہے میرے پاس ۔۔۔!!!"
اس نے اپنی صاف گوئ سے کام لیا۔
" تو اپنا آپ گفٹ کردو مجھے ہمیشہ کے لیے۔ کہ چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہوجاۓ تم مجھے نہیں چھوڑو گی۔
اگر چھوڑنے کا سوچا بھی کبھی تو چھوڑنے سے پہلے ہی مجھے موت آجاۓ۔ سانسیں تھم جائیں اور تمہارا ہوکر ہی میں دنیا سے چلا جاؤں۔ مجھ سے تم کبھی الگ نہیں ہوگی آج قسم کھاؤ میری ۔۔ !!!"
بہار کی مسکراہٹ غائب ہوئ اس جملے پر اذیت سے اس نے یشاور کے لبوں پر ہاتھ رکھا۔ اس سے زیادہ سننے کی ہمت نہیں تھی اس میں۔ وہ تو اذیت سے چور کسی ناگہانی آفت سے پہلے کی تیاری کررہا تھا۔
" اللہ نہ کرے کہ آپ کو کبھی کچھ ہو۔ اور نہ کبھی میں آپ سے دور جاؤں گی۔ خان جی کیا ہوگیا ہے آپ کو۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے۔ آپ کھانا کھالیں۔ پھر آرام کریے گا۔"
یشاور نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس پر لمس چھوڑا اب آنکھوں میں نمی واضح تھی۔
" قسم کھاؤ ۔۔۔!! میری آخری سانس پر بھی تم میری ہی ہوگی۔۔۔!!!"
وہ باضد تھا ایک ہی بات پر تو بہار آگے بڑھ کر اس کے ساتھ لگ گئ اپنے ہاتھوں کا نازک سا حصار اس نے اس کی پشت پر باندھا۔
"آپ کی قسم خان جی۔ میں آپ کے پاس ہوں اور ہمیشہ رہوں گی۔ کبھی نہیں چھوڑوں گی آپ کو۔ آپ بھی نہ چھوڑنا مجھے۔ "
مدھم سی آواز یشاور کے کانوں میں آب حیات بن کر اتر گئی تو اس نے بہار کے سر پر عقیدت بھرا بوسہ دیا ساتھ ہی بے قرار دل کو قرار سا آیا تھا۔
" چلین اب کیک کاٹ لیں۔ آپ تو ایموشنل ہی ہوگۓ ہیں۔ آجائیں۔۔۔!!"
اپنی پوزیشن کا خیال آتے ہی بہار اس سے دور ہوگئ۔ یشاور اس کی معصوم سی حرکت پر مسکرایا پھر اس نے فریزر سے کیک نکالا جو اس کی پیاری سی بیوی نے بنایا تھا۔
کیک پرفیکٹ تو نہیں بس سادہ سا تھا پر یشاور سے کوئ اس کیک کی قیمت پوچھتا تو وہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر قیمت بتاتا۔
کیک کاٹ کر دونوں نے اکٹھے کھانا کھایا اس دوران بھی یشاور انجانے سے ڈر سے بار بار اسے یوں دیکھتا رہا جیسے اس سے دور جانے کی سوچ ہی اسے مار دے گی۔
بس کبھی کبھی کسی اور کے کیے کی سزا آپ کو بھگتنی پڑتی ہے۔ چاہے قصور نہ بھی ہو۔ مجرم آپ بھی کہلاۓ جاتے ہیں۔
•┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
اگلے دن کی صبح کا آغاز معمول جیسا ہی ہوا۔ صبح سویرے سورج کے چڑھتے ہی فدیان آفس جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ ابھی بھی وہ اپنی واچ سیٹ کررہا تھا جب کھٹ پٹ کی آواز سے معصومہ اٹھ گئ۔ رات وہ اس کے انتظار میں ہی سوگئ تھی۔ معصومہ نے آنکھیں مسلیں تو سامنے اسے فدیان دکھا۔
" آپ رات دیر سے گھر آۓ تھے کیا؟؟ میں انتظار کررہی تھی آپ کا ۔۔!! ابھی بھی جلدی جارہے ہیں۔ سب خیریت تو ہے "
جمائ روک کر وہ آرام سے اٹھ کر بیڈ کراؤن سے لگ کر اسے دیکھنے لگی جس نے بس مرر سے سرسری سی نگاہ ڈالی اس پر۔ رچ بلیک کلر کی ٹرٹل نیک شرٹ پر گریئیش بلیک کلاسی جیکٹ اور رچ بلیک جینز پہنے وہ اپنے جیل سے سیٹ بالوں کے ساتھ صبح صبح ہر سمت اپنی شخصیت کے جوہر بکھیرنے میں مگن تھا۔
" ہاں بس آفس میں کام تھا کچھ۔ تو رات میں دیر ہوگئ مجھے۔ آج کا بھی ٹھیک سے پتہ نہیں شاید لیٹ ہوجاؤں تو تم کھانا کھالینا اور سوجانا۔"
اپنی واچ اس نے سیٹ کی پھر مرر سے اپنا تنقیدی جائزہ لیا۔ اب وہ پہلے والا فدیان لگ رہا تھا ہر چیز سے لاپرواہ۔ اپنی ذات میں مگن۔
معصومہ نے لیٹ آنے کا سن کر منہ بنایا۔
" آفس تو درمان لالہ بھی جاتے ہیں پر وہ تو رات میں بارہ بجے واپس نہیں آتے۔ ٹائم سے گھر آتے ہیں۔ ایک آپ ہی ہیں جو انوکھے آفس جانے لگے ہیں۔ گھر اور بیوی کی ہوش ہی نہیں۔۔۔!!!"
نروٹھے انداز میں وہ شکوے کرنے لگی تو فدیان جہاں تھا وہیں رک گیا۔ اسے اچھا لگتا تھا معصومہ کا بیویوں کی طرح اسے روکنا ٹوکنا۔
وہ چاہتا اس سے دور جاۓ پر یہ دیوانہ دل تو ایک اشارے کی تلاش میں بیٹھا تھا۔ فوراً ہوگیا اس کی طرف متوجہ ۔۔۔ !!!
" اگر آپ کو اب ایسے ہی رہنا ہے تو مجھے مما کے پاس چھوڑ آئیں۔ میں وہاں ہی رہ لوں گی۔ یہاں اکیلے رہنے سے تو اچھا ہے نا۔ ان سے ملے بھی وقت ہوگیا ہے تو وہاں چھوڑ آئیں مجھے "
وہ ابھی مکمل اس کیفیت میں کھویا بھی نہیں تھا جب معصومہ کی اگلی بات اسے ہوش میں لے آئ وہ زخمی انداز میں مسکرانے لگا۔
ہاں وہ دنیا کا پہلا انسان تھا جو اپنی ہی ساس سے جیلس تھا مکمل طور پر کہ آخر کیوں وہ اس کی بیوی کے حواسوں پر سوار رہتی ہیں۔ کیوں ۔۔۔؟؟؟
سامنے سے پرفیوم اٹھا کر اس نے خود پر سپرے کی۔
" ہوجانا تیار میں دوپہر میں آؤں گا تو چھوڑ دوں گا تمہیں ان کے گھر۔ باقی تم اتنا اداس ہورہی ہو تو ایک ڈیڑھ مہینہ سکون سے رہ لو وہاں۔ اچھے سے جب دل بھر جاۓ تو بتادینا میں لینے آجاؤں گا ۔۔ !!!"
پرفیوم کی شیشی اس نے وہیں پٹخ دی اسے برا لگ رہا تھا کہ وہ کیوں اسے ہمیشہ سیکند چوائس رکھتی ہے جبکہ اب نکاح کے بعد وہ اس پر حاکم ہے۔
وہ کیوں نہیں سمجھتی کہ نکاح ہونے کے باوجود اس نے کبھی اس پر حق نہیں جتایا کیونکہ وہ جانتا ہے وہ ابھی چھوٹی ہے۔ابھی اس کا حق ہے اپنی زندگی کے ان دنوں کو جینے کا تو وہ بس اسی وجہ سے اس کی خاطر خود کو بدل چکا ہے تو وہ کیوں اسے نہیں سمجھتی۔
معصومہ نے اس کی ناراضگی نوٹ نہیں کی تھی اسے اس وقت اپنے گھر والوں سے ملنے کی خوشی تھی۔
" سچ میں فادی ۔۔۔!!! تھینک یو سو مچ ۔۔۔!! میں ہوجاؤں گی تیار۔ آپ بہت اچھے ہیں۔ میری ساری باتیں مانتے ہیں۔ تھینک یو سو مچ ۔۔۔!!!"
اور اب بھی وہ اس کی خفگی نوٹ نہ کرسکی۔ تو بولنے کا کیا فایدہ تھا یہاں۔
" اللہ حافظ ۔۔۔!!!"
وہ کمرے سے ہی چلا گیا۔ معصومہ خوش تھی بہت اس وقت۔ جلدی سے اٹھ کر وہ واش روم گئ تاکہ فریش ہوکر پیکنگ کرسکے۔
اور فدیان ملازمہ کو ہدایت دے کر گھر سے چلا گیا کہ معصومہ کو وقت پر ناشتہ کرواکر میڈیسن دے دے وہ۔ ساتھ ہی اس کی پیکنگ بھی خود کرے کہیں وہ اس دوران خود کو تکلیف نہ پہنچالے۔
دوپہر میں بھی اسے کھانا جلدی کھلادے تاکہ راستے میں وہ بھوکی نہ رہے۔
آخر کتنا خیال تھا اسے اس کا کہ اب بھی ناراض ہونے کے باوجود اسے اس کی ہی فکر تھی۔
اس نے معصومہ کو سب دیا عزت، مان ، پیار ، بھروسہ سب ۔۔۔۔!!!!
بدلے میں کیا چاہا بس اتنا کہ وہ اس کی محبت کو محسوس کرے اس کے جذبوں کی قدر کرے بھلے بدلے میں پیار نہ دے پر کبھی اس کی محبت کو کمپرومائز یا ہمدردی نہ سمجھے اور وہ نادانی میں ہی سہی اس کا دل دکھا گئ۔
" میں بے وفا نہیں ہوں روح ۔۔۔!!! سچ میں میں بےوفا نہیں ہوں۔ تو تم کیوں ناراض ہوگئ ہو مجھ سے؟۔ اب تو ملنے بھی نہیں آرہی۔۔۔!!!"
سورج کی تپش آج معمول سے تیز تھی اس پہاڑی علاقے میں۔ تبھی پورے قبرستان کی مٹی بھی تپ کر خشک ہوگئ۔ نا پرندے تھے آج یہاں نا ہی پھولوں کی تازگی برقرار رہی تھی دوپہر کے وقت تک۔بس معمول سے تیز گرمی کی وجہ سے ہر سو سناٹا تھا۔
ایسے میں آج قبرستان کے بیچ و بیچ بنی ایک قبر پر باران آفریدی شرمندہ سا بیٹھا کسی کو منانے کی کوششوں میں لگا تھا۔ ہاں وہ آج روح کے پاس آیا تھا۔ اسے لگا وہ اس سے ناراض ہوگئ ہے تبھی تو روحیہ کے ملنے کے بعد سے اسے اس کا خیال بھی نہیں آرہا۔ تو اسے یہاں آنا پڑا۔
اب جب دل کی سن کر اس نے روحیہ سے نکاح کرلیا تو دماغ کی سن کر اسے روح کو منانے بھی آنا پڑا۔ آج اپنی ایجنسی میں اس نے کسی لڑکی کے منہ سے ایک طعنہ سنا تھا تب سے اس کی جان سولی پر لٹکی تھی۔
"مرد چاہے جتنا بھی عشق معشوقی کا دعویٰ کرے دوسری عورت کے سامنے جھک ہی جاتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا تھا باران سر اس محبت کو ایک ہی دن میں بھول جائیں گے جس کے پیچھے اپنی زندگی کے اتنے خوبصورت سال انہوں نے برباد کیے۔ پر آج ان کے نکاح کی خبر سن کر یقین ہوگیا مرد بےوفا ہی رہے گا۔ چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔ اس کی فطرت میں وفا ہے ہی نہیں۔ یہ ایک عورت سے دل لگا ہی نہیں سکتا۔ ان مردوں کو کبھی عشق کا دعویٰ کرنا ہی نہیں چاہیے یہ بہک جاتے ہیں آخر میں۔ چاہت ہوتی کیا ہے انہیں تو مطلب بھی نہیں پتہ ۔۔ !!!"
باران نے آنکھیں بند کیں تو آنسو آنکھوں میں مرچوں کی طرح چبھنے لگے ۔ کہاں سوچا تھا اس نے سکون بدلہ لے کر بھی نہیں ملے گا۔
" ہاں میں نے نکاح کرلیا اس سے۔ مانتا ہوں میں بھی ۔۔!! جو جگہ صرف تمہاری تھی وہ میں نے اسے دے دی اپنے دل میں۔ ہم دونوں کے بیچ میں وہ تیسری بن کر آگئ۔"
اس نے ندامت سے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملائیں۔ پھر اپنے گھنے سیاہ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ مجرموں کی طرح اپنا جرم قبول کیا۔
" پر مجھے اس میں تم دکھی تو لگا قدرت نے کوئ معجزہ دکھا کر تمہیں میرے قریب لاکھڑا کیا ہے۔ مجھے دوسرا موقع مل رہا ہے تمہیں اپنی پناہوں میں قید کرنے کا تو میں کیوں ناشکری کروں۔۔۔!!!"
اپنی بات روح کو سمجھانے کی خاطر اس نے دلیل دی۔ جواب میں تو اس کا دل بھی خاموش تھا آج۔ جیسے آج وہ اس سے سب کروا کر کہہ رہا ہو تم ہو مجرم ۔ !!
شراکت تو کی ہے تم نے۔ بڑی محبت اور عشق کی باتیں کرتے تھے ایک عورت دو منٹ میں تمہارے عشق کی بنیادیں ہلاگئ اور تم سکون سے اسے قبول بھی کرگۓ۔
ہاں تم دھوکے باز ہو ۔۔۔!!!
کہیں دور سے اس کے دل نے شکوہ کیا۔ کیا عجیب دل تھا اس کا۔ سب کروا کر اب اسے ہی کٹہرے میں کھڑا کرکے الزام بھی لگا رہا تھا۔
" میں دھوکے باز نہیں ہوں روح۔ مت سنو تم کسی کی بھی بات۔ میں ہمیشہ سے تمہارا ہی تھا۔ تمہارا ہوں اور باخدا آخری سانس تمہارے نام پر ہی لوں گا۔ پلیز مجھ سے خفا نہ ہو ۔۔۔!!!"
آنکھوں میں ضبط کے آنسو لے کر اس نے سر دائیں سے بائیں تیزی سے ہلایا۔ اس کی نیلی آنکھوں میں سرخی اتررہی تھی۔ وہ تڑپ رہا تھا اس وقت۔
" تم دھوکے باز ہو باران۔ تم ہمیشہ سے دھوکے باز ہی تھے۔۔۔!!! پہلے اس معصوم کو ذلیل ہونے کے لیے اپنے نام پر بٹھا کر چلے گۓ۔ پھر سالوں بعد اس کے مرنے پر تم آۓ۔ جب تڑپ تڑپ کر وہ مرگئ تھی۔ تو تم نے چند آنسو بہا کر سمجھا اس کی اذیت کا مداوا ہوگیا۔
خود تو تم نے ساری زندگی بس سکون سے گزاری اور اب تم نے مجبوری کا رونا روکر کسی دوسری عورت کو اپنا ہمسفر چن لیا۔ تو بتاؤ روح کا کیا ۔۔۔؟؟؟؟؟ اس کی اذیتوں کا کیا؟ اس عشق کا کیا جو وہ تم سے کرتی تھی؟؟؟ جس کے دعوے تم نے بھی کیے تھے۔ بولو "
ضمیر کی آواز بغور اس نے سنی۔ وہ چیخ چیخ کر پوچھ رہا تھا کیوں کیا تم نے نکاح ؟؟؟؟
کیوں بھول گۓ روح کو ؟؟؟
دل کی دنیا میں مچے طوفان سے لڑتے ہوۓ باران نے اس کی قبر پر گرے پھول ہاتھ میں لیے۔
" وہ تم جیسی تھی یار۔ میں نہیں جانے دے سکا اسے۔ تم جانتی ہو میری آتی جاتی سانس پر صرف تمہارا حق ہے تو معاف کر دو نا مجھے۔ اور راضی ہوجاؤ۔۔۔!!!"
ان پھولوں کو لبوں سے لگاتے ہوۓ باران نے سر وہیں ہاتھوں میں گرایا اور رونے پڑا۔ پوری شدت سے اس نے لب بھینچے کہ سسکیوں کی آواز باہر نہ نکلے۔
" پر وہ روح تو نہیں تھی۔ تمہیں تو روح سے عشق تھا۔ روح جیسی سے نہیں ۔۔۔!!! تمہارا عشق جھوٹا تھا۔ پہلے دن سے ہی ۔۔۔!!!"
اس نے سر اٹھایا کہیں دور سے کسی نے اس کے عشق کو جھوٹا کہا۔ یوں لگا تھپڑ پڑا ہو اس کے رخسار پر۔ جس کی گونج سے دل کے کئ ٹکڑے ہوۓ ہوں۔
" میرا عشق سچا ہے۔۔۔!!! سمجھ گۓ تم ۔۔۔!!! سچا عشق ہے میرا۔ زبان سنبھال کر بات کرو ۔۔۔!!!"
وہاں سے اٹھ کر باران نے گرجدار آواز میں ہوا میں معلق کسی نادیدہ وجود کو جیسے جواب دیا تھا۔ آنکھیں مکمل سرخ ہوئیں اور گردن کی رگیں تن سی گئیں۔
" ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔!!! گرجو بادل خان ۔۔۔!! مزید گرجو۔۔۔!!! تم جیسے مرد ہوتے ہیں جو ایک عورت پر جان دینے کی بات کرتے ہیں اور دوسری عورت کی چند اداؤں پر مر مٹتے ہیں۔ تم مان کیوں نہیں جاتے روحیہ پر مر مٹے ہو تم۔ عشق تو تمہیں اب ہوا ہے۔ پہلے تو بس روح برباد ہوئ تھی۔ تم دھوکے باز ہو ۔۔۔!!!"
اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا تو اسے اپنا عکس دکھا جو ہنس رہا تھا اس پر۔ غصے کے عالم میں وہ آگے بڑھا تاکہ اسے مار سکے تو وہ اسی لمحے ہوا میں تحلیل ہوگیا۔
" میں پاگل ہورہا ہوں اس لڑائ میں۔ اس کے پاس جاؤ تو لگتا ہے وہ تم ہو۔ پھر دل کہتا ہے اسے قبول کرلوں کیونکہ وہ واقعی تم ہو۔ تمہاری خوشبو آتی ہے اس کے پاس سے۔ میرا عشق بھی تب یہی کہتا ہے وہ تم ہی ہو۔ میں پاگل ہوجاؤں گا یار اس کی حرکتیں، باتیں ، لمس سب تمہارے جیسا ہے۔ باخدا لگتا ہے تم زندہ ہوکر میرے سامنے آگئ ہو۔ وہ روتی ہے تو دل تڑپتا ہے جیسے تمہارے آنسو قطرہ قطرہ میرے دل پر گر کر اسے جلارہے ہوں۔ وہ اذیت میں جاۓ تو میری سانسیں رک جاتی ہیں۔ میں بے وفا نہیں ہوں یار دل اس کو تم سمجھ بیٹھا ہے۔ ایسا کرو نوچ دو اس دل کو۔ یہ باغی ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔!!!!"
اپنے گھٹنوں کے بل زمین پر گرتے ہوۓ وہ شدت اذیت سے بس مر مٹنے کو تیار تھا۔ آنسو گرتے گۓ۔ کوئ بھی اس شخص کو سمجھ نہیں سکا۔۔۔!!!
کچھ لوگ کہتے ہیں یہ غلط ہے کیونکہ اس نے روحیہ سے نکاح کرلیا اور روح کو بھول گیا۔
کچھ لوگ کہتے وہ روح ہی تھی تو یہ غلط نہیں ہے۔
پر حقیقت کوئ بھی نہ سمجھ پایا۔
جب کوئ کسی سے آخری حد تک عشق کرے نا تو بس ایک آہٹ کافی ہوتی ہے محبوب کو پہچاننے کے لیے۔ آہٹ تو چلو آگے کی بات ہوگئ بس ایک بار محبوب کسی جگہ سانس لے لے تو وہ ہوا ہی کافی ہوتی ہے یہ جاننے کے لیے کہ وہ وہاں سے گزرا ہے۔
تو جب روح ایک الگ چہرے کے ساتھ اس کے سامنے آئ تو وہ کیسے اسے نہ پہچانتا ۔۔۔!!! اگر وہ نہ پہچانتا اور اسے اسی کے سہارے چھوڑ دیتا تو یہ عشق کی توہین ہوتی۔ عشق روح سے ہوتا ہے چہروں سے نہیں ۔۔۔!!!
اس نے نکاح تو کیا ۔۔۔!!! پر روح سے کیا۔ کیونکہ اس کا بےچین دل بس اسی کے لمس پر سکون میں آیا تھا۔ عشق سچا تھا تو پہچان لیا اسے اس کے دل نے۔ تو یہ بیوفائی تو نہ ہوئ کسی بھی اینگل سے ۔۔۔!!!
اگر باران روح سے خود نکاح نہ کرتا تو پھر عشق جھوٹا تھا جو ایک صورت بدلنے پر محبوب کو پہچان نہ سکا۔ اگر تب وہ اس کی حالت پر تڑپتا نہیں تو عشق جھوٹا تھا جو محبوب کے درد پر رویا نہیں۔۔۔!!!!
باران بےقصور تھا اس سب میں۔ وہ تو دل کے ہاتھوں۔
بے بس ہوا۔ پھر بھی اسے ہی برا کہا جاۓ تو یہ زیادتی ہوئ۔
" دماغ کہتا ہے تم تو مرگئ ہو ۔ پھر کیسے واپس آسکتی ہو۔ میں بےوفا نہیں ہوں۔میں کیا کروں ایسا کہ سب ٹھیک ہوجاۓ۔ تم کرو نا سفارش اللہ سے کہ میری سانسیں ختم ہو جائیں۔ اور میں اس درد سے آزاد ہوجاؤں۔ کرو نا سفارش ۔۔!!!"
دونوں کہنیاں اس تپتی زمین پر رکھتے ہوئے اس نے فریاد کی۔
" چھوڑ دو سب۔۔۔!!! بہت دور چلے جاؤ اس عورت سے جو تمہارے عشق پر سوال بن رہی ہے۔ روح چاہیے تو روحیہ کو چھوڑ دو ۔۔۔!!!"
دماغ کی بات پر دل تڑپ گیا۔
" یہ مت کرنا۔ وہ مرجاۓ گی تمہارے بغیر ۔۔۔!!!"
دل نے سمجھانا چاہا۔
" تو مر جانے دو۔ تمہارا مقصد وہ نہیں ہے۔ روح کو سوچو۔ اور اس دنیا کے اس کونے میں چلے جاؤ جہاں تم تک اب کوئ بھی نہ پہنچ سکے۔ جو سانسیں لکھی ہیں وہ اپنے عشق کی یاد میں گزار دو ۔چھوڑ دو اسے ۔۔۔!!!"
دماغ نے بات ہی ختم کردی۔ اس زمین سے اٹھ کر باران نے اپنے آنسو پونچھے۔ چمکتے چہرے پر اب اداسی ہی اداسی تھی۔
صحرا میں پیاس سے تڑپتے انسان کے ہاتھ میں پانی کا پیالا پکڑا کر واپس سے چھین لیا جاۓ نہ تو جیسے اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے کہ اب وہ نہیں بچے گا آج باران کا دل بھی ویسے ہی ٹوٹ گیا۔
وجہ تھی وہ جنگ جو اس کے اندر چل رہی تھی اور اس نے اسے ہرادیا۔ اپنا فون نکال کر اس نے کسی کو کام ملائ۔
" ہیلو۔۔۔!!! مجھے پاکستان سے بہت دور کسی ملک کی ٹکٹ چاہیے کل تک۔ کوئ بھی ایسی جگہ جہاں مجھ تک کوئ نہ پہنچ سکے۔ کسی کو گمان ہی نہ ہو میں وہاں جاسکتا ہوں۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہاں شفٹ ہونا ہے مجھے۔یہ سب رازداری سے کرو۔ بات میرے اور تمہارے بیچ ہی رہے۔ بس کل میں سب چھوڑنے والا ہوں۔ ایجنسی، اپنی زندگی سب۔ یہ دنیا سب ۔۔۔۔!!!!!
انتظام کرکے بس فلائٹ کی ٹائمنگ بتادینا۔ اللہ حافظ ۔۔۔!!!"
ایک ہی سانس میں اپنی بربادی کا فیصلہ کرکے اس نے کال کٹ کردی۔ دوسری طرف راسم تھا جو اس سے اب اس بات کی وجہ بھی دریافت نہ کرسکا۔ کیونکہ جس نمبر سے اس نے اسے کال کی تھی اس کا مطلب ہی یہی تھا مجھے سوال نہیں سننا بس کام مکمل کرو۔
باران کے جسم میں یہ فیصلہ کرنے کے بعد جیسے جان باقی نہ رہی۔ وہ الجھ گیا تھا اتنا کہ اگر روحیہ کو چنتا تو روح سے دھوکہ ہوتا اگر روح کو چنتا تو روحیہ سے دوری پر دل پھٹنے لگتا۔
اسے دونوں میں سے ایک کو چننا پڑا تو اس نے روح کو چن کر باقی کی زندگی دکھ کے زندان میں گزارنے کا فیصلہ کرکے اپنی ہی روح چھلنی کردی۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" آگیا تمہارا گھر ۔۔۔!!! وہ یہاں رہ رہی ہیں باران چاچو نے بتایا تھا۔ تمہارے بابا لاپتہ ہیں اور ان کی جائیداد نیلام ہوچکی ہے۔تمہاری مما یہاں اکیلی رہ رہی ہیں تو ان کا دل بھی لگ جاۓ گا۔ جاؤ تم ۔۔۔!!!"
ابھی فدیان نے بات بھی مکمل نہیں کی تھی جب اس نے پہلو میں نگاہ ڈالی تو شاکڈ رہ گیا وہ تو جاچکی تھی۔ بس گاڑی رکی اور وہ سامنے اس گھر کی سمت چلی گئ۔ اس نے تو خدا خافظ بھی کہنا ضروری نہ سمجھا اسے۔ گھر میں آنے کی آفر کرنا تو دور کی بات تھی۔
" واہ معصومہ ۔۔۔۔!!! تمہیں تو مجھ سے بھی زیادہ جلدی تھی دور جانے کی۔ بندہ اللہ حافظ ہی کہہ لیتا ہے۔ توبہ ہے یار ۔۔ !!! کونسی بیویاں ہوتی ہیں جنہیں شوہروں کی ناراضگی سے فرق پڑتا ہے۔ میری والی نمونی کو تو پتہ بھی نہیں کی میں ناراض ہوں اس سے۔ بس بلی لے گئ وہ اپنی۔ حد ہے ویسے۔ صحیح کہتی ہے زرلش اس سونا کی بچی کو کسی بلے کے ساتھ بھگادیں تو سب سیٹ ہوگا "
لطیف سا طنز کرتے ہوئے فدیان نے سٹیرنگ پر ہاتھ مارا پھر مسکین سی صورت بناکر اس جگہ کو دیکھنے لگا جہاں وہ کچھ لمحے پہلے بیٹھی تھی۔ اس بیچارے کا نصیب ہی عجیب تھا تبھی تو بچی ملی بیوی کے روپ میں۔ جسے سب سمجھ میں آتا یے سواۓ فدیان اور اپنے رشتے کے۔ لیکن سونا کا زکر کرتے ہوۓ وہ جل بھن گیا۔
" تجھے واقعی کسی کی بددعا ہی لگی ہے فدیان۔ ورنہ جو لڑکی جیلس ہونا بھی جانتی ہو اور ایموشنل بھی ہو اسے بس تو ہی سمجھ نہ آۓ تو بات ماننے کے لائق نہیں۔ تو ڈوب چکا ہے فدیان تو اب اسی پانی میں گھر بناکر رہنے لگ۔ کیونکہ سال دو سال تک تو اسے میری ناراضگی سے فرق نہیں پڑنے والا ۔۔۔!!!"
آہ بھر کر اس نے گاڑی سٹارٹ کی۔ پھر وہاں سے چلا گیا۔ بیچارے کا دکھ جائز تھا اب جس شخص کو بیوی ہی آٹے میں نمک کے برابر سمجھے تو اس بیچارے کی کیا ویلیو رہ گئ۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
معصومہ جو اپنی ہی ایکسائٹمنٹ میں گاڑی انلاک ہوتے ہی اپنی ماں کے گھر کی طرف چلی گئ تھی گھر کے دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے پیچھے ہی سمت دیکھا مسکراتے ہوئے۔
اسے امید تھی فدیان وہیں ہوگا پر وہ تو نہیں تھا وہاں۔
اس کا زخم بہت بہتر تھا اب تو وہ سکون سے بغیر سہارے کے چل رہی تھی ڈاکٹر کی ہدایت پر۔ اس کا سامان کچھ دیر میں ڈرائیور یہاں تک چھوڑ جاتا۔ اچھی پیکنگ مکمل نہیں تھی تو وہ دونوں ہی بس آگۓ۔ دونوں نہیں تینوں ۔۔۔!!! سونا کو کون بھولے گا۔
" یہ کہاں گۓ۔۔۔!! میرے ساتھ ہی تو تھے یہ۔ شاید میرا سامان لینے گۓ ہوں۔ خود ہی آجائیں گے ۔۔ !!!"
خود سے اندازا لگاتے ہوۓ اس نے بیل بجائ۔ یہ گھر بہت بڑا نہیں تھا ان کی حویلی کے جیسا تبھی یہاں گارڈز بھی نہیں تھے۔ سونا کو اس نے گود میں اٹھایا ہوا تھا جو آلسی پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ بھنگی بنی سورہی تھی۔
دوسری سے تیسری بیل پر بھی کوئ دروازہ کھول کر باہر نہ آیا تو اب وہ اداس ہونے لگی کہ شاید یہاں کوئ ہے ہی نہیں۔
مایوس ہوکر اس نے چوتھی دفعہ بیل بجائ تو اس دفعہ کسی نے دروازہ کھول دیا۔
" مما سرپرائز دیکھیں کون آیا ہے ۔۔۔۔۔۔!!!!"
دروازہ کھلتے ہی معصومہ چہک اٹھی اور اس نے جوش سے کہا۔ تو سامنے کھڑا شخص حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں اسی جگہ سٹل رہ گیا۔
البتہ معصومہ کے چہرے کے رنگ اس شخص کو دیکھ کر نا صرف سمٹے وہ خوف سے ایک قدم پیچھے بھی ہوگئ۔ سامنے یشاور کھڑا تھا۔
" کون آیا ہے یشاور ۔۔۔۔۔!!!!!!"
پیچھے سے سبریبہ بیگم کی آواز آئ تو یشاور ہوش میں آیا۔
" سرپرائز آیا ہے آپ کے لیے۔ پر ریسیو غلط بندے نے کرلیا۔ "
مسکراتے ہوۓ یشاور نے انہیں جواب دیا۔ پھر معصومہ کی جانب متوجہ ہوا۔ جو بس یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔
" اکیلی آئ ہو یا فدیان بھی آیا ہے؟"
انداز اپنائیت بھرا تھا پر وہ ڈر کر مزید ایک قدم پیچھے ہوگئ۔سونا نے میاؤں کہا جیسے بتارہی ہو اکیلی کہاں ہے وہ میں اتنی موٹی بلی کیا تمہیں دکھ نہیں رہی۔
" اچھا اندر تو آؤ مورے اندر ہی ہیں۔ میں کھا نہیں جاؤں گا تمہیں تم آجاؤ اندر۔ "
اسے ڈرتا ہوا پاکر اسے شرمندگی ہوئ۔ وہ آج بھی اس سے ہی ڈرتی تھی۔ معصومہ نے نفی میں سر ہلایا۔
" آ۔آپ دور رہیں مجھ سے ۔ و۔ورنہ میں فادی کو بتادوں گی۔ نہیں تو سونا کو آپ پر چھوڑ دوں گی وہ کھاجاۓ گی آپ کو۔ م۔میں ڈرتی نہیں ہوں آپ سے۔ مجھے کمزور نہ سمجھنا ۔۔۔!!!''
ایک انگلی اٹھاکر معصومہ نے ڈرتے ہوئے اسے دھمکایا تو وہ مسکرا اٹھا۔ پہلی ہی بار اس نے اسے دھمکی دیتے سنا تھا۔ ورنہ تو یہ اب تک بےہوش ہوجاتی۔ دوسری طرف یہ موٹی بلی اسے کھاۓ گی اس بات پر اس کا دل قہقہہ لگانے کو چاہا۔
" مورے آپ کا سرپرائز دھمکیاں دے رہا ہے کہیں میرا قتل ہی نہ کروادے ایک گارڈ کے ہاتھوں تو بہار کو بھیجیں۔ وہ اسے سنبھال لے گی ۔۔!!!"
ڈرنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اس نے واپس سے اونچی آواز میں کہا تو اس دفعہ بہار جو سبرینہ بیگم کی گود میں سر رکھ کر ان سے یشاور کی باتیں کررہی تھی وہ اٹھ گئ وہاں سے۔
اور دروازے کی طرف آکر اس نے یشاور کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے آنکھوں ہی آنکھوں کے اشارے سے اسے چپ ہونے کو کہا۔
"یہ بہن ہے میری ۔۔۔!!! مورے کو سرپرائز دینے آئ ہے۔ مجھ سے زرا ڈرتی ہے تو تم اسے بہلاکر اندر لے آؤ۔۔۔!!!"
اس کی جانب جھک کر اس نے مدھم آواز میں اسے بتایا جو بہن کا سن کر حیران ہوئ۔
" آپ کی بہن بھی ہے کوئ۔ اگر ہے تھی تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔ یہ کہاں ہوتی ہے ۔۔۔!!!"
یشاور نے ایک نظر معصومہ کو دیکھا۔
" یہ سسرال ہوتی ہے اپنے۔ بابا نے ونی کردیا تھا اسے۔ باقی کی باتیں میں بعد میں بتاؤں گا ابھی اسے اندر لے جانے میں میری مدد کرو ۔۔۔!!!"
یشاور نے مختصراً اسے جواب دیا جو ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔ وہ دونوں آج صبح ہی یہاں آۓ تھے۔
سمجھ کر بہار نے مسکراتے ہوۓ معصومہ کی جانب قدم لیے۔
" یہ بلی تمہاری ہے ۔۔۔!!!"
" میری ہی ہے۔ یہ بلی نہیں سونا ہے۔ اسے نام سے بلائیں ۔۔۔!!!"
انداز حمکیہ ہوا۔ تو بہار نے سونا کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
" سونا تو بہت پیاری ہے۔ تم بھی پیاری ہو بہت ۔۔۔!!! میرا نام بہار ہے۔ "
اس نے بات کو طول دینا چاہا۔ معصومہ اب کی بار چپ رہی۔ سونا نے بھی میاؤں کیا جیسے تعریف پر کہا ہو" وہ تو میں ہوں۔"
" سبرینہ آنٹی اندر ہی ہیں ڈیئر نند ۔۔۔!! میں بھابھی ہوں تمہاری۔ یہاں مت کھڑی ہو اندر آجاؤ۔ ان پر یقین نہیں ہے تو کیا ہوا مجھ پر یقین کرلو ۔۔۔!!! بےفکر رہو میرے ہوتے ہوئے یہ تمہیں بالکل نہیں ڈرائیں گے ۔۔۔!!!"
ہنستی ہوئ بہار کو دیکھ کر معصومہ نے ہممم کہا پھر ایک غصیلی نگاہ ڈرتے ہوئے بھی یشاور پر وہ ڈالنا نہ بھولی اور آرام سے احتیاط سے وہ بہار کے پیچھے چلنے لگی۔ سونا کو اس نے چھوڑ دیا جو آلسی پن سائیڈ پر رکھ کر اس سے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگی۔
ٹی وی لاؤنج سے اب سبرہنہ بیگم بھی اٹھ گئیں تاکہ دیکھ سکیں باہر ایسا کون شخص آیا ہے کہ بہو اور بیٹا دروازے کے ہی ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان کے اٹھنے کی دیر تھی معصومہ کا چہرہ انہیں دکھا۔ تو وہ ساکت رہ گئیں۔
چھوٹی سی ناک غصے سے پھلا کر وہ نیچے دیکھ کر چل رہی تھی۔ اور بہار اور یشاور اس کے پیچھے تھے۔
کتنا مکمل منظر تھا یہ کہ آج پہلی بار اپنی بیٹی اور بیٹا انہوں نے ایک ساتھ دیکھے۔
" معصومہ خانم ۔۔۔۔!!!"
لبوں سے ممتا بھری پکار نکلی جسے سن کر معصومہ نے سر اٹھایا۔ ماں تو ماں ہوتی ہے چاہے پیدا کرنے والی ہوتا پھر پال پوس کر بڑا کرنے والی۔
دونوں کا پیار ایک جتنا ہی ہوتا ہے۔ اور ممتا کی تڑپ بھی برابر ہوتی ہے۔
سبریبہ بیگم نے آگے آکر اسے گلے سے لگایا پھر اس کے سر پر بوسہ دیا۔
" میری جان ۔۔۔!! میرا بیٹا ۔۔۔!! میری شہزادی ۔۔۔!!!!"
انہوں نے اس کا منہ دیوانہ وار چوما۔ اور پھر سے اسے خود میں بھینچا تو وہ کراہ اٹھی۔
پیٹ میں درد اٹھا تھا اس وقت شدید۔ وہ جھٹکے سے ان سے دور ہوئ اور پیٹ پر ہاتھ رکھا۔
اس دفعہ تین لوگ اس کی جانب فورا آۓ۔
" معصومہ یہاں کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔!! چوٹ لگی ہے کیا۔ "
سبرہبہ بیگم کے سوال پر اس نے درد برداشت کرتے ہوۓ ہاں میں سر ہلایا۔
" گ۔گولی لگی تھی۔۔۔!!!"
اسے بہار نے سہارا دیا اور صوفے کی جانب لے گئ۔
اس دفعہ ان سب پر جیسے پوری چھت ہی آگری۔ سوئی سے ڈرنے والی لڑکی کو گولی لگی اور کوئ جانتا بھی نہیں۔۔۔!!
سبرہبہ بیگم نے دل کے مقام پر ہاتھ رکھا کہ یہ کب ہوا۔ اور آگے بڑھ کر انہوں نے اس کے رخسار چومے۔
" کب ۔۔۔؟؟ کیسے ؟؟ کیوں ؟؟ مجھے کیوں نہیں بتایا۔ میری جان درد زیادہ ہورہا ہے کیا۔ میرا بیٹا یہ کیا ہوگیا۔ کیا وہ لوگ تمہیں مارتے تھے ۔۔۔!!!"
غم کی وجہ سے ان کی آواز بھڑائ تو معصومہ نے ان کے ہاتھ پکڑے۔
" اتنا درد نہیں ہے مما۔ کچھ ہفتے پہلے لگی تھی۔ میں نے فادی کو منع کیا تھا آپ کو بتانے سے آپ روپڑتی مجھے پتہ تھا۔ لیکن فادی نے بہت خیال رکھا تھا میرا وہ بہت اچھے ہیں۔ اتنا کوئ بڑا مسئلہ نہیں ہے اب ۔با درد ہوتا یے تھوڑا بہت۔مجھے کوئ نہیں مارتا تھا وہاں۔ بس ایک چھوٹا سا مسئلہ ہوگیا تھا تو گولی لگ گئ۔آپ سب چھوڑیں اس سے ملیں یہ سونا ہے ۔۔۔!!!"
ان کے ہاتھ چوم کر اس نے بے پرواہ ہوکر بتایا ورنہ وہی جانتی تھی درد سے کئ راتیں اس نے رو کر بھی گزارہ تھیں جب اسے سنبھالنے والا بس فدیان ہی تھا۔
سبرینہ اور یشاور نے نوٹس کیا وہ اب اٹک اٹک کر بات نہیں کرتی تھی بلکہ اس کا انداز ہی الگ تھا۔ اپنی بلی اٹھا کر وہ اب سب کو اسے دکھانے لگی۔
ہر طرف خاموشی چھاگئی۔
" یہ چھوٹا سا مسئلہ ہوا ہے۔ تم نے مجھے بتایا بھی نہیں کچھ۔ حد ہوتی ہے لاپرواہی کی بھی۔ اپنے شوہر کا نمبر دو اسے میں سیٹ کرتی ہوں۔ یہ سب کیسے ہوا یہ تو بتاؤ ۔۔۔!!!"
انہوں نے سرزنش کی تو وہ بھی خاموش ہوگئ پھر ایک گہرا سانس بھر کر اس نے سب بتادیا کہ کیسے اس دن شنایہ بیگم اسے بیچنے والی تھیں تو زرلشتہ نے اسے بچایا پھر شنایہ نے زرلشتہ کو مارنے کی کوشش کی تو وہ سامنے آگئ اور اسے گولی لگ گئ۔ پھر جب ہوش آیا تو پتہ چلا شنایہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس نے خود کشی کرلی۔ اور باقی سب بھی اس نے بتادیا۔
سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ کیسی فتنہ پرور عورت تھی وہ۔ بہار کو لگتا تھا شاید اس دنیا میں سب سے برا اسی کے ساتھ ہی ہوا ہے پر معصومہ کی باتیں سن کر اسے علم ہوا یہاں تو اور بھی بہت سے لوگ تکلیفوں سے گزر رہے ہیں۔
یشاور شرمندہ ہوا کہیں نہ کہیں یہاں بھی اسے اپنا ہی آپ مجرم لگا۔
اب جب شنایہ ہی مرگئ تھی تو وہ کس سے شکایت کرتے مجبورا چپ ہونا پڑا سب کو۔
معصومہ نے اپنے آنسو پونچھے اور سونا کو نیچے چھوڑ کر خود سبرینہ بیگم کے گلے لگ گئ تاکہ انہیں حوصلہ دے سکے۔
" مما کچھ نہیں ہوا مجھے ٹھیک ہوں میں اچھا یہ بتائیں یہ لوگ یہاں کیسے آۓ۔ یہ لڑکی تو ٹھیک ہے پر ان کو آپ نے معاف کیوں کیا۔۔۔؟؟؟ بھلا یہ بھی ہوئ معاف کرنے والے انسان ہیں۔ ہنہہ ۔۔۔!!!"
منہ بسورتے ہوۓ وہ انہیں چھوٹی بچی لگی جسے سامنے کھڑا شخص پسند نہیں تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی سب مسکراۓ۔
" بری بات ۔۔۔!!! بھائ ہے تمہارا۔ شرمندہ ہے اپنے رویے پر اب بیوی سمیت آیا ہے تو میں منع کیسے کرتی ۔۔۔!!!"
انہوں نے اسے پچکارا۔ جواب میں وہ مزید منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی۔
" یہ شرمندہ بھی ہوتے ہیں واہ ۔۔۔!!! اب میں نہیں ڈرتی ان سے تو کہہ دینا آپ انہیں میں یہاں ہی رہوں گی۔ مسئلہ ہے تو میرا کیا جاتا ہے ۔۔۔!!!"
اس نے پھر سے غصہ دکھایا تو یشاور سٹپٹا گیا۔ یہ بولنا سیکھ کر آئ تھی اپنے سسرال سے۔ بہار مسکرائی اس کی بہادری پر جسے اتنا سب سہہ کر بھی کوئ شکوہ نہیں تھا قسمت سے۔
بعض اوقات کسی دوسرے کا دکھ دیکھ کر آپ کو اپنا دکھ کم لگنے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔
" تو میں کونسا نکال رہا ہوں تمہیں۔ "
وہ بے اختیار بول اٹھا۔
" نکال سکتے بھی نہیں۔ میری سونا کھاجاۓ گی آپ کو ۔۔۔!!!"
وہ جرح پر اتری۔ تو یشاور نے اس آلسی بلی کو دیکھا جو اب فرش پر پھیل کر لیٹی تھی۔
" یہ مجھے کھائ گی۔ مزاق تو ڈھنگ کا کرو۔ مطلب کچھ بھی ۔۔۔!! چل تو سکتی نہیں یہ اور مجھے مارے گی۔۔۔!!!"
معصومہ کو تنگ کرنے کی خاطر اس نے پاؤں سے اس بلی کو دھکا لگایا۔ جو فرش پر پوچے کی طرح رگڑ کھانے لگی۔ معصومہ کا منہ کھلا۔
" سونا اٹھو ورنہ گھر سے باہر پھینک دوں گی تمہیں ۔۔۔!!!"
اپنی جگہ سے کھڑے ہوکر وہ چلائ تو اگلے ہی پل میاؤں کی چیخ کے ساتھ یہ بلی ایک جنگلی روپ میں اٹھی اور یشاور کے گھٹنے پر حملہ کردیا اس نے جو اچھل کر دور ہوا۔ معصومہ نے آگے بڑھ کر اس آلسی سونا کو اٹھایا پھر اس کی ناک سے اپنی ناک ملا کر رگڑی۔
" گڈ جاب ماۓ چیمپ۔۔۔!!! ان کو ٹریلر دیکھانا ضروری تھا کہ ہم دونوں جتنے معصوم دکھتے ہیں اتنے ہیں ۔نہیں۔ تو دور رہیں ہم سے ۔۔!!!"
چڑانے والے انداز میں آنکھیں پٹپٹاتے ہوۓ وہ سونا کو گود میں لے کر بیٹھ گئ۔ یشاور کو محسوس ہوا سونا کا ایک ناخن اسے بری طرح چبھ گیا ہے پر اب درد سے کراہ بھی نہیں سکتا وہ۔ ورنہ بےعزتی ہوجاۓ گی۔
تبھی کہتے ہیں ڈونٹ جج آ بک باۓ اٹس کوور ۔
ان دونوں کی لڑائ سے حظ اٹھاتے ہوۓ بہار اور سبریبہ کی ہنسی کی آواز گونج اٹھی۔
سالوں بعد آج سبرینہ بیگم کو اپنا آشیانہ مکمل لگا۔ ان دو بچوں کے ساتھ۔ معصومہ کی بہادری اور یشاور کا دوستانہ انداز سب ہی نیا تھا یہاں۔
•┈┈┈┈┈𝓘𝓼𝓶𝓪𝓱 𝓠𝓾𝓻𝓮𝓼𝓱𝓲 𝓝𝓸𝓿𝓮𝓵𝓼┈┈┈┈┈•
" ہم نے کہا تھا نا نہیں پہننی کوئ نوز پن ہمیں۔ لیکن آپ نہیں مانے دیکھیں ہمیں اب تک درد ہورہا ہے ۔۔۔!!"
دیار کے ہاتھ جھٹک کر وشہ روہانسی ہوئ۔ اس کی ناک اب بھی سرخ تھی اور زخم تھوڑا سا خراب بھی ہوگیا تھا وجہ بار بار اس جگہ کو دبانا تھا۔ اس دن تو نوش پائیرسنگ نہیں کروائ تھی اس نے شاپ جو بند تھی
تو کل شام دیار اسے اس کے نہ نہ کرنے کے باوجود اپنے ساتھ لے گیا۔ اور اپنا شوق اس نے پورا کروا ہی لیا۔ وہ الگ بات ہے کہ وشہ کل شام سے مسلسل رورہی تھی۔ اور دیار اسے چپ کروا ہی نہیں پارہا تھا۔
" قسم سے اگر پتہ ہوتا آپ اتنا روئیں گی اس چھوٹی سی پن کی وجہ سے تو میں اپنی خواہش پر مٹی ڈال دیتا۔ یا پورا کا پورا محل بنادیتا اس خواہش پر۔ لیکن آپ کو درد نہ ہونے دیتا۔ پلیز مجھے یہ دوا لگانے دیں آپ کچھ بہتر فیل کریں گی ۔۔۔!!!"
وہ دونوں لاونج میں بیٹھے تھے اس وقت۔ وشہ نے غصے میں کمرہ ہی چھوڑ دیا تھا کل رات کو۔ تب اس کا ناک بہت زیادہ سوج گیا تھا تو غلطی سے دیار ہنس پڑا۔ پھر ہونا کیا تھا وہ رات کے بارے بجے دوسرے کمرے میں چلی گئ اور دروازہ لاک کرلیا پھر آج صبح سے وہ دیار سے دور بھاگ رہی تھی۔ اب تو دوپہر بھی ڈھلنے کو تھی پر اس کا موڈ ٹھیک نہ ہوا۔
" آپ ہنستے ہیں ہم پر۔ اب پیار نہیں کرتے آپ ہم سے۔ صحیح کہتے ہیں جب محبوب آپ کی دسترس میں ہو تو اس کی قدر ختم ہوجاتی ہے۔ ہماری قدر بھی ختم ہوگئی ہے۔ اب آپ کا دل بھر گیا ہے ہم سے۔ مما سن لیں آپ کا بیٹا ہم سے اکتا گیا ہے۔ ہمیں چھوڑنا چاہتا ہے اب۔ کیونکہ ہم جیسی بدصورت بیوی اسے نہیں چاہیے ۔۔۔!!!"
وشہ کو رات کے وہ چند سیکنڈز ہی یاد تھے جب ہنسنے کا گناہ دیار سے ہوگیا۔ باقی کے مطلب وہ خود نکال لیتی۔
کچن سے آتی ہوئی رخمینہ بیگم نے اس بات پر تگڑی گھوری دکھائ دیار کو جو بیچارگی سے اب اپنا کان کھجانے لگا۔ یہ اس نے تو سوچا ہی نہیں تھا ناجانے وشہ نے بول کیسے دیا۔
" منہ توڑ دوں گی میں اس کا اگر میری پھول سی بچی کو اس نے درد دیا تو۔ پہلے ہی پتہ نہیں کس خواہش کے چلتے میری بیٹی کا ناک خراب کروادیا ہے اس نے اب دوسری شادی کی باتیں کررہا ہے۔ بدتمیز کہیں کا ۔۔۔!!!"
انہوں نے اپنے ہاتھ میں پکڑا آئل اس کے ناک پر لگایا جہاں سے ابھی خون رس رہا تھا۔ وشہ کے ہاتھ میں موجود ٹشو پر بھی خون اور سفید سے پانی کے نشان تھے۔ باریک سی لونگ تو بیچ میں ہی جھول رہی تھی۔
اور زخم خراب کرنے والی اب خود ہی سب پر غصہ نکالنے میں لگی تھی۔دیار منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ پیچھے ہٹ گیا۔ رخمینہ بیگم کے آئل لگاتے ہی وشہ نے رونا بند کردیا۔ وہ بس ہائپر ہورہی تھی۔
کچھ ڈر ہم خود ذہن میں بناتے ہیں۔ خود کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ کام ہے ہی ناممکن تو جب کبھی وہ کام ہم کر لیں تو تکلیف سے لازمی گزرتے ہیں۔
" م۔مما ہمارا فیس خراب ہوگیا ہے نا اب۔ اب ہم پیارے نہیں لگیں گے۔ "
اس کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔ رخمینہ بیگم نے دیار کو ہاتھ کے اشارے سے فون دینے کو کہا۔ جو اس نے فورا نکال کر ان کے ہاتھ پر رکھا مبادا وہ اسے مارنا ہی نہ شروع کردیں اس کی بیوی کے سامنے۔
" کس نے کہہ دیا کہ میری بیٹی کا فیس خراب ہوگیا ہے۔ اتنی پیاری لگ رہی ہے نا یہ نوز پن۔ دیکھو تو سہی شہزادی لگ رہی ہو آپ اس میں ۔۔۔!!"
وشہ نے فون کے کیمرے میں اب غور سے اپنا چہرہ دیکھا۔ سوجی ہوئ آنکھیں، ماند پڑے رخسار اور اس سرخ ناک کے ساتھ وہ جتنی حسین اس وقت دیار کو لگ رہی تھی وہ انجان تھی اس بات سے۔ دیار کا بس نہ چلا اسے ہواؤں میں اڑادے۔ اس کا یہ روپ تو حد سے زیادہ دلکش تھا۔ وہ اسے اپنی جانب اٹریکٹ کررہی تھی۔
" میرے بچے بس چند دن رک جاؤ آپ۔ پھر دیار ایک پیاری سی نوز رنگ بنوا کر لاۓ گا آپ کے لیے۔ سچ میں حسین لفظ بھی تب چھوٹا پڑے گا آپ کے سامنے۔ اچھا بس اب رونا نہیں ہے۔ مما کی بات ماننی ہے اور اسے اب ٹچ نہیں کرنا۔ بھول جاؤ اسے۔ خود ہی ٹھیک ہو جاۓ گا یہ زخم۔ !!!"
کیمرے میں خود کو غور سے دیکھتے ہوۓ وہ بھی تھوڑا سا مسکرائی۔ دل میں خیال آیا جب دیار اسے اپنی فیورٹ چیز میں دیکھے گا تو کتنا خوش ہوگا۔ یہی سوچ کر اس کے گالوں پر گلال بکھرا۔ دیار نے نچلا لب دانتوں تلے دبایا پھر اپنی حالت پر قابو پانے کے لیے یہاں وہاں دیکھنے لگا۔
رخمینہ بیگم نے بھی سکون کا سانس لیا بالآخر۔ وہ کافی ٹائم سے وشہ کو ریلیکس کرنے کی کوششوں میں تھیں جو بس پینک ہی ہورہی تھی۔
" دیار۔۔۔!!! زرلشتہ کی دعوت تو بیچ میں ہی رہ گئ ہے۔ ہم میکے والے ہیں اس کے۔ اتنی بڑی خبر پتہ چلنے کے باوجود ہم اس کے گھر مٹھائ بھی نہیں بھیج سکے۔ وہ کیا سوچے گی ہمارے بارے میں ۔۔ !!!"
کب سے ان کے ذہن میں یہ بات چل رہی تھی پر دیار کے سامنے وہ بھول جاتی تھیں ابھی یاد آتے ہی انہوں نے پوچھ لیا۔
" ان کے گھر ڈیتھ ہوئ ہے مما۔ ہم کیسے ابھی کسی دعوت کا کہیں انہیں۔ حالات بہتر ہوجائیں پہلے پھر سوچیں گے اس بارے میں۔ تب تک اس کی یادداشت بھی واپس آجاۓ گی۔ "
وہ برابر والے صوفے پر بیٹھا ملازمہ جوس کے گلاس کے ساتھ حاضر تھی جو اس نے پکڑ لیا۔ رخمینہ بیگم کو اس کی بات ماننے لائق لگی۔
" ایک تو یہ لڑکی فون بھی نہیں اٹھارہی۔ کافی دنوں سے بات نہیں ہوئ ہماری اور اسے فکر ہی نہیں۔ یہ سدھرنے والوں میں سے ہے ہی نہیں۔"
انہوں نے سر جھٹکا۔ تو اسی وقت لاؤنج میں چند ملازم ہاتھ میں گفٹ باکسرز پکڑ کر داخل ہوۓ۔
دیار اپنی نشست سے اٹھا کہ اب یہ لوگ کون ہیں ؟
اٹھ تو وشہ اور رخمینہ بیگم بھی گئیں۔
" یہ سب کیا ہے ؟؟ اور کون ہو تم لوگ ۔۔؟؟"
دیار آگے بڑھا ۔ بجاۓ اسے جواب دینے کے ان لوگوں نے اپنا کام جاری رکھا جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔
" میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔۔؟؟؟"
اس نے سختی دکھائ اب۔ تو ایک ملازم نے سر کو زرا سا خم دیا۔
" سر ابھی پتہ چل جاۓ گا آپ کو ۔۔۔!!! ہمیں کچھ بھی بولنے کی اجازت نہیں۔ ہمارا کام بس سامان رکھنا ہے ۔۔۔!!!"
۔ملازم کی بات سن کر دیار نے لب بھینچے۔ ان لوگوں سے بات کرنا فضول تھا کیونکہ یہ اپنا کام کررہے تھے۔ ان سب کے پیچھے تو کوئ اور تھا۔
تحائف کی لائن مزید لمبی ہوتی تھی۔ اب رنگ برنگے پھول ، شاپنگ بیگز ، گفٹس اور بھی ناجانے کیا کیا اس لاونج میں جگہ گھیرے ہوۓ تھے۔
بہراور درانی بھی گھر پر ہی تھے۔ وہ مردان خانے سے سیدھا حویلی میں داخل ہوۓ ان گاڑیوں کی آواز کی وجہ سے وہ حویلی میں آئ تھیں ابھی۔
سب ان ملازمین کی کاروائ دیکھ رہے تھے جو شاید ان کے گھر کو دکان بنانے کی نیت سے ہی آۓ تھے۔
جاری ہے۔۔۔
If you want to read More the Beautiful Complete novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read Youtube & Web Speccial Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
If you want to read Famous Urdu Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about
Hum Mi Gaye Yuhi Romantic Novel
Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Hum Mi Gaye Yuhi written by Ismah Qureshi Hum Mi Gaye Yuhi by Ismah Qureshi is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.
Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply
Thanks for your kind support...
Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels
Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.
۔۔۔۔۔۔۔۔
Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link
If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.
Thanks............
Copyright Disclaimer:
This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.
No comments:
Post a Comment