Ishq E Janam By Sohni MIrza New Complete Romantic Novel - Madiha Shah Writes

This is official Web of Madiha Shah Writes.plzz read my novels stories and send your positive feedback....

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Thursday 8 August 2024

Ishq E Janam By Sohni MIrza New Complete Romantic Novel

Ishq E Janam By Sohni MIrza New Complete Romantic Novel 

Madiha Shah Writes: Urdu Novel Stories

Novel Genre:  Cousin Based Enjoy Reading...

Ishq E Janam By Sohni Mirza Complete Romantic Novel 

Novel Name: Ishq E Janam

Writer Name: Sohni Mirza

Category: Complete Novel


چلو یار ! جلدی چلو کہیں لیٹ نہ ہو جائیں ہم، کیا ایسے کیا دیکھ رہے ہو اب چلو بھی !"  سفید شرٹ ، بلیک پینٹ اور جیکٹ میں ملبوس وہ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔ 

"ٹائم دیکھا ہے تم نے؟ ہر بار تمہاری وجہ سے لیٹ ہوتے ہیں ہم۔ کبھی تو وقت پر تیار رہا کرو۔ پورا ایک گھنٹہ ہو گیا ہے ہمیں یہاں گاڑی میں تمہارا ویٹ کرتے ہوۓ" عرشمان جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا عینا کو گھورتے ہوتے بولا۔ 

"میں نے تو تمہیں نہیں کہا تھا کہ میرا ویٹ کرو۔ میرے بغیر جا سکتے تھے تو چلے جاتے میں نے منع تو نہیں کیا تھا ناں !"۔

"ارے یار! بس بھی کرو تم لوگ۔ ہر وقت آپس میں لڑتے ہی رہتے ہو۔ کیا ہوگیا عرشمان! اگر وہ تھوڑی سی لیٹ ہو گئی ہے تو؟ اور تم بھی عینا یار کچھ خیال کیا کرو۔ ہم کب سے یہاں پر بیٹھے تمہارا ویٹ کر رہے ہیں۔" حمزہ جو کہ عرشمان اور عیناء کا دوست تھا پچھلی سیٹ پر بیٹھا دونوں سے مخاطب ہوا۔ 

"چلو عرشمان! تم گاڑی چلاؤ پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے" نمرہ جو حمزہ کی کرش بھی تھی اور دوست بھی اسکے پہلو میں بیٹھی عرشمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ 

"اگر آئندہ کہیں جانا ہوا اور یہ محترمہ ساتھ ہوئی، تو میں تو کبھی نہیں جاؤں گا پہلے بتا رہا ہوں۔" 

" میں بھی کونسا مر رہی ہوں تمہارے ساتھ جانے کے لئے، مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے تمہارے ساتھ کہیں جانے کا، ان فیکٹ مجھے تم سے کوئی بات ہی نہیں کرنی۔" 

"ابے سالے! تو ہی چپ ہو جا۔ اتنی مشکل سے سب کو ایک ساتھ کہیں جانے کی پرمیشن ملی ہے اور تم دونوں کی لڑائی ہی ختم نہیں ہو رہی۔ اب جانا ہے یا نہیں؟" حمزہ اپنا سر پکڑتے ہوۓ بولا۔

عرشمان نے غصے سے گاڑی سٹارٹ کی اور برسوں پرانی حویلی کے راستے پر چل دیے۔ 

"حمزہ تو نے ٹارچ رکھی یا نہیں؟ اور نمرہ تمہیں لیپ ٹاپ کا بولا تھا۔" عرشمان نے دونوں کو فرنٹ شیشے میں دیکھتے ہوئے کہا۔ 

"ہاں سب سامان رکھ لیا ہے۔ تو ٹینشن نہ لے!" حمزہ نے جواب دیا۔ 

"گڈ"۔

"آگے کس طرف جانا ہے لیفٹ یا رائٹ؟" 

"لیفٹ" حمزہ نے لیپ ٹاپ سے نقشہ دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

"اوکے۔" عرشمان نے گاڑی کا رخ بائیں طرف کیا اور شارٹ کٹ لیا پھر میوزک آن کیا۔

"شام بھی خوب ہے، پاس محبوب ہے۔

عاشقی کے لیے اور کیا چاہیے۔۔!!"

"اوۓ ہوۓ ! تو اب سمجھ آئی ہے مجھے کہ یہ گانا آخر  کس کے لیئے لگایا گیا ہے۔" حمزہ نے عرشمان کو چھیڑتے ہوئے کہا۔

"اُف" عرشمان کا جواب سن کر حمزہ اور نمرہ زور سے ہنس دیے۔ 

"کس کے لیے لگایا ہے؟ مجھے بھی بتاؤ۔" عینا نے سوالیہ انداز سے بیک سیٹ پر حمزہ اور نمرہ کو دیکھتے ہوۓ کہا۔

"ارے! کسی کے لئے نہیں لگایا تمہیں پتا تو ہے اس کی عادت کا ہر وقت مجھے چھیڑنے کے علاوہ اسے اور کوئی کام نہیں۔"

ہاہاہاہاہاہا! 

"عرشمان یار اب بس بھی کر اور کتنا چھپائے گا؟ اب کر بھی  دے ناں عینا کو پروپوز۔" حمزہ نے شرارتی انداز سے کہا تو عینا نے تیوری چڑھاتے ہوۓ اسے دیکھا۔

"خدا کا نام لے حمزہ ! پروپوز ؟ اور وہ بھی اس چڑیل کو ؟  اتنے برے دن بھی نہیں آۓ ابھی عرشمان احمد کے"

"ہممم۔ اور نورالعین سکندر بھی مر نہیں رہی ہے عرشمان احمد کے لیے" عرشمان کا جواب سن کر تو عینا آگ بگولہ ہی ہو گئی۔

عینا کی بات پر عرشمان ہلکا سا مسکرایا۔

ہاہاہاہاہاہا۔ "لو ہوگئے پھر سے دونوں شروع۔" نمرہ نے حمزہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

جبھی اچانک گاڑی رک گئی۔ 

"اوہ شِٹ یار ! اب گاڑی کو کیا ہوگیا ہے؟" عرشمان نے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔

"پیٹرول تو ختم نہیں ہو گیا کہیں ؟" 

"نہیں۔ آتے ہوئے ٹینکی فل کروائی تھی میں نے" حمزہ کی بات پر عرشمان نے جواب دیا۔

"تو پھر اس وقت یہاں سنسان راستے پر گاڑی کیوں رک گئی ہے؟ یہاں تو کوئی مکینک بھی نہیں ملے گا۔ تمھیں کس نے کہا تھا کہ شارٹ کٹ لو؟" عینا نے تو سوالوں کی بارش کر دی۔

"تم تھوڑی دیر کے لیے چپ نہیں رہ سکتی کیا ؟ چیک کرتا ہوں نکل کر۔" عرشمان نے سر پھرے انداز میں جواب دیا ۔

"یار گاڑی ہیٹ اپ ہو گئی ہے نیچے اترو سب۔" 

"اب کھڑے رہو، پورا ایک گھنٹہ یہاں سب منہ اٹھا کر!" عینا نے نیچے اتر کر زور سے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے کہا۔

عرشمان کافی دیر تک عینا کو گھورتا رہا۔

----------------------------------------------

                    ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

حمزہ علی دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اس کے والد علی افتخار دو سال پہلے ایک حادثے میں اللّٰہ کو پیارے ہوگئے۔ اب 

اس کی پڑھائی کا سارا خرچہ اس کی بڑی بہن نائمہ ایک کالج میں پڑھا کر پورا کرتی تھی۔ اور اسکی ماں نورین علی کپڑے سلائی کرکے باقی گھر کا سارا نظام چلاتی تھی۔ اس کی چھوٹی بہن سائمہ فرسٹ ائیر کی طالبہ تھی۔

 حمزہ انتہائی شرارتی اور ڈرپوک تھا۔ اسکا قد میانہ اور حُلیہ بھی موزوں ہوتا تھا۔ وہ ہر بار بمشکل دوستوں کی مہربانی سے امتحان میں پاس ہوتا تھا۔

 اسکی اور عرشمان کی دوستی تقریباً آٹھ سال پرانی تھی۔ نمرہ اور عینا کو وہ تین سال سے جانتے تھے۔ اور اب سب ایک ساتھ یونیورسٹی میں انجینرنگ کے سٹوڈنٹس تھے۔

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

نمرہ حنیف انتہائی زہین ہونے کے ساتھ کلاس کی ٹاپر بھی تھی۔ شہریار ،نمرہ کا چھوٹا بھائی تھا اور نویں کلاس کا طالب علم تھا۔ نمرہ اور شہریار دونوں ایک اپارٹمنٹ میں رہتے تھے۔ نمرہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک کلینک میں بھی کام کرتی تھی جس سے وہ اپنے اور اپنے بھائی کی ضروریات پوری کرتی تھی۔ اسکا یونیورسٹی میں داخلہ اسکالر شپ پہ ہوا تھا۔ 

اسکا قد نارمل، بال گھنگریالے، رنگ ہلکا گورا اور چشمہ لگا ہوا تھا۔ وہ نہ صرف اپنے بلکہ اپنے دوستوں کے بھی نوٹس بنا کر دیتی تھی۔ نمرہ ہر ایک کی ہمدرد اور مددگار ہوا کرتی  تھی۔ اور بہت ہی معصوم دل لڑکی تھی۔ 

چھ سال پہلے نمرہ کے والد کا انتقال ہوا تھا اور اس کے ایک سال بعد ہی اس کی والدہ بھی اس دنیا کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے  رخصت ہو گئیں۔ اس نے زندگی میں بہت ہی غم اور پریشانیاں دیکھی تھیں مگر ہمت کبھی نہ ہاری۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"اب تو جناب صاحب کو ٹائم کا اندازہ بھی نہیں ہورہا ہوگا کہ کتنا ٹائم ہوچکا ہے۔ یہی اگر نورالعین سکندر تھوڑی سی لیٹ ہو جائے تو آفت آ جاتی ہے۔ پورے تیس منٹ ہو چکے ہیں ہمیں یہاں کھڑے ہوئے۔ اور رات بھی ہونے والی ہے۔ مگر جناب عرشمان احمد ملِک کی گاڑی ٹھنڈی ہو گی تو ہم کہیں جائیں گے نا !" ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے وہ دھڑا دھڑ بولے چلی جارہی تھی۔

"عینا تمہاری پرابلم کیا ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ جب تک تم میرے منہ سے اچھی خاصی سن نہ لو تمہیں سکون نہیں آتا۔" عرشمان غصے سے چلا کر بولا۔

"او ہیلو! سکون مجھے نہیں بلکہ سکون تمہیں نہیں آتا جب تک تم مجھے غصہ نہ دلا دو۔" انگلی دیکھاتے ہوۓ اس نے جواب دیا۔

" تم ناں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"اوۓ ! چھوڑ ناں پلیز۔ تجھے پتا تو ہے عینا کی عادت  کا، اسے مزہ آتا ہے تجھے باتیں سنا کر۔ تُو بتا اور  کتنی دیر لگے گی یار رات ہو رہی ہے؟" حمزہ نے عرشمان کی بات کو کاٹتے ہوۓ کہا۔

"اوہ ریلی! تو مجھے مزہ آتا ہے اس سے لڑائی کرکے؟"

"لو بھئی! اب توپوں کا رخ تیری طرف ہے" حمزہ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا۔

"ابے یار! معاف کردے مجھے۔ میں تجھ سے نہیں لڑ سکتا۔" حمزہ نے عینا کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔

ہاہاہاہاہاہا۔ عرشمان اور نمرہ زور سے ہنس دئیے۔

"اوکے۔ چلو گائیز چلتے ہیں" عرشمان نے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔

----------------------------------------------

                    ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

تقریباً ایک گھنٹے کی مزید مسافت کے بعد وہ سب ایک قدیم حویلی کے سامنے رکے۔

"اوہ تیری ! حویلی کتنی بڑی اور ڈراونی ہے یار۔۔!" حمزہ چونک کر بولا۔

"تو انویسٹیگیشن کی جگہ بھی تو تُو نے ہی چُوز کی تھی" نمرہ نے جواب دیا۔

"ہممم."

چاروں نے نیچے اتر کر اپنی اپنی ٹارچ آن کی اور حویلی کی طرف بڑھے۔

"اسٹاپ گائیز!"

"اوہ ہو ! اب کیا ہوا ہے حمزہ؟" عینا نے چونک کر کہا۔ 

"ششش ! سنو گائیز۔ اتنی اندھیری کالی رات ہے۔ اوپر سے ایک ڈراونی حویلی بھی  ہمارے سامنے ہے اور یہاں پر ہمارے علاوہ کوئی اور موجود بھی نہیں ہے۔ سوچو ! اگر ہم میں سے کسی کا سامنا بھوت سے ہو گیا تو ہمیں بچانے بھی کوئی نہیں آۓ گا۔ میں تو کہتا ہوں کہ واپس چلتے ہیں سب۔"

"ڈرپوک کہیں کا" عرشمان نے مسکراتے ہوۓ کہا۔

حویلی کے دروازے پر پہنچتے ہی حمزہ نے ایک عجیب سا خوف اپنے وجود میں محسوس کیا۔

"اس پر تو لاک لگا ہے۔"

"اب"؟

"تو کیا ہوا مسڑ عرشمان صاحب توڑیں گے ناں اس لاک کو کیونکہ وہ تو خود کو بہت ہیرو سمجھتے ہیں۔" عینا کا انداز طنزیہ تھا۔

"حمزہ دیکھ ! شاید یہاں کوئی ایسی چیز ملے جس سے ہم لاک کو توڑ سکیں" عرشمان اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔

حمزہ نے بالآخر ایک اینٹ کے ٹکڑے سے لاک توڑا اور سب نے حویلی کی دہلیز کو عبور کیا۔

"گائیز! مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے چلو نا پلیز یہاں سے۔ دیکھو تو یہاں پر کتنا اندھیرا ہے اور اندر کچھ نظر بھی نہیں آ رہا۔"

"یار ! تُو اتنا ڈرتا کیوں ہے؟ پہلی بات تو یہ کہ ہمیں یہاں پر کوئی بھوت نہیں ملے گا۔ تیری بات بالکل غلط ثابت ہوگی کہ یہاں پر بھوت ہیں۔ اور دوسری بات اگر بھوت مل بھی گیا تو ٹینشن نہ لے۔ ایک چڑیل ہے ناں ہمارے ساتھ۔  اسکی بھوت سے سیٹنگ کروا دیں گے۔" وہ عینا کی طرف دیکھ کر مسکرایا۔

"یو شٹ اَپ عرشمان!" عینا تپ اٹھی۔

"ہاہاہاہاہاہا "۔

اسے عینا کو تنگ کرنے میں بہت خوشی ملتی تھی۔

"اوکے ! تو یہ حویلی بہت بڑی ہے۔ ایک کام کرتے ہیں۔ حمزہ تم اور نمرہ رائٹ سائیڈ پر جاؤ میں اور عینا لیفٹ طرف  چلتے ہیں۔ اگر تمہیں کوئی بھوت ملے تو کال کر دینا۔ ہم ضرور آئیں گے اس کا استقبال کرنے۔"

"نا۔۔۔نا۔۔۔نا۔۔۔نہیں۔۔! میں تمہارے ساتھ جاؤں گا عرشمان۔"

"ابے سالے ! یہی تو صحیح موقع ہے نمرہ کو امپریس کرنے کا۔ اگر اس کے سامنے کوئی بھوت آیا تو ہیرو بن کے اس کو بچا لینا۔ بس پھر سمجھو کہ نمرہ تمہاری۔" اس نے حمزہ کے کان میں سرگوشی کی۔

"ہممم ! میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ ٹھیک ہے تم لوگ جاؤ۔" وہ نمرہ کے سامنے اکڑ کر بولا۔

عرشمان اور عینا مسکراتے ہوئے بائیں طرف بڑھے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

دروازہ کھلتے ہی ایک بڑی سی گاڑی بنگلے کے پورچ میں داخل ہوئی۔

"آپ آج اتنی جلدی آگئے. خیریت تو ہے؟"

"ہاں آج آفس میں اتنا کام نہیں تھا۔ اس لئے جلدی فری ہوگیا۔ سوچا کہ آج ہم کسی اچھے سے ہوٹل میں ڈنر کرتے ہیں۔"

احمد ابراہیم ملِک ایک بہت ہی مشہور بزنس مین تھا۔ اسے کام کے سلسلے میں اکثر بیرون ملک جانا پڑتا تھا۔ اسکی بیوی عالیہ احمد ایک فیشن ڈیزائنر تھی۔ 

عرشمان احمد ملِک ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ انتہائی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ کافی زہین بھی تھا۔ اسکے گہرے سیاہ سِلکی بال ہمیشہ اسکے ماتھے پہ گرے رہتے تھے۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ ایک عجیب سی چمک ہوتی تھی جسے آج تک کوئی غور سے دیکھ نہیں پایا تھا۔ کمال کی پرسنلٹی، اٹیٹوڈ اور حسین ہونے کی وجہ سے وہ  یونیورسٹی کی جان تھا۔  غرض کہ یونیورسٹی کی ہر لڑکی اس پر جان چھڑکتی تھی۔ مگر وہ بہت ہی کم کسی کو منہ لگاتا تھا۔

 عرشمان کو بہت ہی لاڈ اور پیار سے پالا گیا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے اکلوتے بیٹے کی ہر جائز اور ناجائز خواہش کو پورا کیا۔ یہی وجہ تھی کہ عرشمان احمد نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہیں کی تھی۔

 "ہممم۔ آج نہیں کل کریں گے"

 "کیوں آج کیا ہے؟"

 "احمد! وہ دراصل آج عرشمان گھر پر نہیں ہے اس لئے۔"

 "کہاں ہے وہ؟"

 "دوستوں کے ساتھ کہیں جانے کا پلان تھا۔ یہی بتایا اس نے مجھے۔"

 "دیکھو عالیہ! میں آپکو کتنی بار سمجھا چکا ہوں کہ مجھے اتنی رات تک اس کا دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا بالکل پسند نہیں ہے۔ اور وہ بھی خاص کر لڑکیوں کے ساتھ۔"

 "اوہ ہو ! عرشمان کوئی بچہ نہیں ہے جو اسے روک سکیں۔ اسے اپنے اچھے برے کی سمجھ ہے اب"

 "اچھا! تو کب تک واپس آنے کا بولا ہے آپکے لاڈلے نے؟"

 "جلدی آ جاؤں گا۔ یہی کہا اس نے۔"

 "ہممم ! آ ہی نہ جائے کہیں جلدی۔ رات بارہ بجے سے پہلے آپ کے صاحبزادے گھر میں داخل نہیں ہونگے لکھوا لیں مجھ سے۔" 

 "چھوڑیں آپ ! ڈنر ریڈی ہے" وہ چیئر کو سیٹ کرتے ہوئے بولی۔

 "میری بیگم صاحبہ کے ہاتھ میں تو کمال کا ذائقہ ہے۔"

 انہوں نے مسکرا کر کہا۔

 "تو ہمیشہ کی طرح آپ پہچان گئے ہیں کہ کھانا میں نے بنایا ہے۔ نسیمہ نے نہیں۔ ہممم؟"

 "جی بالکل۔"

 "ویسے کہاں گئے ہیں آپ کے صاحبزادے؟"

 "آپ جانتے تو ہیں بتاتا نہیں ہے وہ کہ کہاں جا رہا ہوں۔"

وہ کافی دیر خاموش رہے۔

"احمد؟"

 "ہممم؟"

 "کیا ہوا؟"

 "کچھ نہیں۔"

 "اچھا مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔"

 "جی بولیں۔"

 "عرشمان کا لاسٹ سمسٹر ہے۔ تو میں سوچ رہی تھی کہ کیوں نہ ہم اس کی منگنی کردیں اور جیسے ہی اس کی پڑھائی کمپلیٹ ہوگی۔ تو بزنس کا کام سنبھال لے۔ پھر اس کی شادی کر دیں گے۔ کیا خیال ہے آپ کا؟"

 "اچھا تو آپ گھر میں بہو لانا چاہ رہی ہیں۔ پھر بتائیں کون ہے پھر آپ کی نظر میں۔"

 "کوئی بھی نہیں ہے۔ کیوں نہ ہم پہلے ایک بار عرشمان کی رائے جان لیں۔ ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی پسند ہو؟"

 "کیوں ؟ اس نے آپ سے کچھ کہا ہے کیا؟"

 "نہیں تو۔"

 "پھر؟"

 "بس میں چاہتی ہوں کہ ایک بار اس سے پوچھ لوں۔"

 "ہممم۔ ٹھیک ہے۔"

 ---------------------------------------------

                      ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

حویلی کے پیچھے ایک بہت بڑا قبرستان تھا جسے دیکھ کر وہ دونوں چونک گئے۔

"یار مینڈک! یہ حویلی کے پیچھے قبرستان کا کیا لاجک ہے؟ کہیں یہاں پر سچ میں بھوت ہیں تو نہیں؟" وہ کپکپاتے ہوۓ عرشمان سے مخاطب ہوئی۔

" تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ناں کہ اگر کوئی بھوت مل گیا تو تمہارا لائف پارٹنر مل گیا سمجھو۔" وہ ہنس کر بولا۔

"آئی ایم سیریس اوکے؟"

"اوکے" اس نے کندھے اچکا کر کہا۔

وہ جیسے جیسے قبرستان کی طرف بڑھے عینا کے پسینے چھوٹنے لگے۔

"عینا تم ٹھیک ہو؟"

"عرشمان ! پتہ نہیں کیوں پر مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ آئی تیھنک، حمزہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ ہمیں واپس چلنا چاہیے۔"

"اوہ ! تو تمہیں بھی ڈر لگتا ہے۔ آئی مین تم بھی اسکی طرح  ڈرپوک ہو؟"

"جی نہیں ! میں ڈرپوک نہیں ہوں مگر ڈر تو سب کو لگتا ہے عرشمان ! تمہیں بھی لگتا ہوگا کسی نہ کسی چیز سے ضرور۔"

"ہاہاہاہاہاہا۔ تم ڈرپوک ہو مس نورالعین سکندر! اب تم مانو یا نہ مانو الگ بات ہے۔"

"نہیں ہوں!"

"ہو۔"

"کہا ناں نہیں ہوں !"

"کہا ناں ہو" وہ اسکے قریب آکر اسکے چہرے کو گھورتے ہوۓ بولا ۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

عینا ہمیشہ اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر خاموش ہو جاتی تھی۔

----------------------------------------------

   ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"السلام علیکم"

"بابا آپ؟"

"سرپرائز !"

سلام کا جواب دیتے ہوۓ وہ اپنے بابا سے لپٹ گئی۔

سکندر شاہ آرمی میں میجر تھا اور اس کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی کا نام سارہ تھا جو انتہائی سلجھی ہوئی، درمیانے قد کی اور قدرے خوبصورت تھی۔ اور اس کی چھوٹی اور لاڈلی بیٹی نورالعین تھی جسے سب پیار سے عینا کہتے تھے۔ عینا کا قد لمبا اور اسکی ڈارک گرین موٹی موٹی آنکھیں تھیں، پلکیں انتہائی گھنی، باریک خوبصورت ناک اور ہلکے لال رنگ کے چھوٹے چھوٹے ہونٹ تھے۔ اسکے بال انتہائی سِلکی اور لمبے تھے جو کسی آبشار کی مانند تھے اور اسکا سفید گورا رنگ اسکے تیکھے نقشوں کو مزید چار چاند لگا دیتا تھا۔ غرض کہ وہ ہر لحاظ سے انتہا درجے کی خوبصورت تھی۔ مگر شرارتی اور لا پرواہ تھی اور سب کے ساتھ جلدی گھل مل جاتی تھی۔ 

بہت چھوٹی ہی عمر میں دونوں نے اپنی ماں کو کھو دیا۔ سکندر شاہ نے دونوں بیٹیوں کی پرورش بہت نازوں سے کی اور انہیں کبھی ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی۔ اس نے ان دونوں کی اچھی دیکھ بھال کی زمہ داری سکینہ کو دی۔ چونکہ سکینہ کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے وہ سارہ اور عینا کو اپنی سگی اولاد کی طرح ہی پیار کرتی تھیں۔

"آپ نے تو سچ میں سرپرائز دے دیا ہے بابا۔ آپ نے بتایا تک نہیں آنے سے پہلے۔"

"میں نے اب ریٹائرمنٹ لے لی ہے بیٹا۔"

"اوہ سچ میں بابا؟"

"ہاں بیٹا۔ اچھا عینا کہاں ہے نظر نہیں آرہی؟"وہ صحن میں نظر دوڑاتے ہوئے بولے۔

"ب۔۔۔ب۔۔۔ب۔۔۔با۔۔۔بابا۔۔۔۔وو۔۔۔۔وو۔۔۔وہ."

"کیا بات ہے بیٹا؟ اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟"

"ب۔۔۔ب۔۔بابا وہ عینا تو۔۔۔۔۔۔وہ عینا۔۔۔۔۔۔۔ہاں ! وہ عینا کی کسی دوست کی شادی تھی۔ اس کی مہندی پر گئی ہے۔ ابھی بس  آتی ہی ہوگی۔" وہ کپکپاتے ہوئے بولی۔

"ٹھیک ہے بیٹا میں ویٹ کر رہا ہوں۔ اسے بتانا مت کے بابا آئے ہیں۔ میں اسے بھی سرپرائز دینا چاہتا ہوں۔"

"جی بابا"۔

بابا کے کمرے میں جاتے ہی وہ بھاگ کر روم میں گئی اور موبائل اٹھایا۔

----------------------------------------------

                   ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ایک منٹ"۔ فون رنگنگ کی آواز سن کر وہ عرشمان سے مخاطب ہوئی۔

"جی آپی ! بولیں۔"

"عینا کہاں ہو تم؟ بابا گھر آ گئے ہیں اور تمہارا پوچھ رہے ہیں" یہ سارہ کی آواز تھی ۔

"کیا؟" وہ چونک کر بولی۔

"ہاں۔"

"آپی بابا ایسے اچانک کیسے آگئے؟"

" وہ سرپرائز دینا چاہتے تھے ہمیں۔ تم بس جلدی سے گھر آ جاؤ۔"

"اوکے ! آپی میں آ رہی ہوں" کال بند کرتے ہی اس نے فوراً  عرشمان کی طرف دیکھا جو ابھی بھی اس کے پہلو میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

"عرشمان جلدی چلو ! بابا اچانک گھر آ گئے ہیں اب مجھے جانا ہوگا۔"

"لیکن انہیں تو کچھ دن بعد آنا تھا ناں؟"

"ہممم۔ لیکن انہوں نے آنے سے پہلے بتایا ہی نہیں۔ وہ ہمیں سرپرائز دینا چاہتے تھے۔ اب اگر بابا کو پتہ چل گیا کہ میں اتنی رات کو تم لوگوں کے ساتھ یہاں اتنی دور کسی ہانٹڈ  جگہ پر ریسرچ کرنی آئی ہوں تو میری خیر نہیں۔"

"اوہ اچھا ! تو یہ بات ہے۔ پھر تو میں بالکل نہیں جاؤں گا۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"عرشمان پلیز چلو۔ تنگ نہیں کرو"

"اب ہی تو اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے۔ پھر یہ موقع میں ہاتھ سے کیسے جانے دوں؟" اسکی آنکھوں میں شرارت تھی۔

"عرشمان دیکھو پھر کسی دن تنگ کر لینا۔ پلیز ! آج نہیں پلیز چلو !" وہ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔

"اچھا ٹھیک ہے چلتے ہیں۔ مگر پہلے مجھے سوری کہو"

"سوری کس چیز کی؟"

"جو آج اتنی زبان چلائی ہے عرشمان احمد کے آگے۔"

"سوری ! اور وہ بھی تمہیں ؟ نیوور !"

"تو ٹھیک ہے مت بولو۔" 

 وہ قبرستان کے مزید وسط میں جانے لگا۔

"اُف ! اب اس مینڈک کو سوری بولنی ہی پڑے گی ورنہ یہ  نہیں مانے گا۔ ڈھیٹ کہیں کا۔" وہ آہستہ آواز میں خود سے باتیں کرنے لگی۔

"اچھا سنو ! وہ میں کہہ رہی تھی کہ سو۔۔۔۔۔۔سو۔۔۔۔۔سو۔۔۔۔" وہ پیچھے مڑ کر عرشمان کو جاتا دیکھ کر بولی۔

"ہمممم؟ بولو، بولو !"

"وہ میں کہہ رہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوری مینڈک !" وہ جھٹ سے بولی ۔

"مینڈک نہیں۔ عرشمان جی بولو۔"

"کیا؟ عرشمان جی؟"

"ہممم۔ ہممم۔ بولو شاباش !"

"اُف خدایا ! آج کیا کچھ کرنا پڑ رہا ہے مجھے صرف بابا کی ڈانٹ سے بچنے کیلئے ۔"

"ہاہاہاہاہاہا۔ بولو ناں مس نورالعین ! پھر ہمیں جانا بھی ہے۔ واپس جانے میں بھی تقریباً تین گھنٹے لگیں گے۔"

"اوکے۔ سوری۔"

"آگے"؟

"عرشمان۔۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔۔۔۔جییییییییییییی" وہ دانتوں کو جوڑتے ہوۓ زور سے بولی۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ یہ ہوئی ناں بات۔ گڈ گرل"

"اگر آج میری مجبوری نہ ہوتی تو میں کبھی بھی تمہیں سوری نہیں بولتی مینڈک !"

"جو بھی ہے لیکن! تمہارے منہ سے یہ سب سن کر اچھا لگا۔" اس نے عینا کو تکتے ہوۓ کہا۔

  "ہمممممم" وہ منہ مروڑتے ہوۓ غصے سے چل دی۔

----------------------------------------------

                      ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"وہ دیکھو حمزہ۔ وہاں کیا ہے؟" وہ درخت پر ٹارچ کی روشنی مارتے ہوئے بولی۔

"یار یہ تو کوئی لائٹ لگ رہی ہے۔"

" میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جنات اپنا زیادہ تر بسیرا درختوں پر ہی کرتے ہیں۔" 

"ہمممممم" وہ دھیرے دھیرے ڈرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔

"او ہیلو گائیز ! چلو چلتے ہیں۔" دور سے انہیں عرشمان نے آواز دی تو وہ دونوں زور سے چیخ اٹھے۔

"کیا ہوا تم دونوں کے پسینے کیوں چُھوٹ رہے ہیں؟ کہیں  واقعی کوئی بھوت ووت تو نہیں دیکھ لیا؟ اور چیخے کیوں تم لوگ؟" عرشمان کی بات پر انہوں نے پھر کوئی جواب نہ دیا اور زور زور سے سانس لینے لگے۔

"کیا ہوا ٹھیک تو ہو نا تم دونوں؟ اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہو؟" عینا نے سوال کیا۔

"ہاں ہم ٹھیک ہیں۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔ دراصل۔۔۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔وہاں۔۔۔۔۔۔۔" نمرہ نے بولنے کی کوشش کی۔

"کیا وہ ؟ کیا ہے وہاں؟"

"عرشمان یار ! وہ وہاں درخت پر کچھ ہے۔" 

"کیا ہے درخت پر؟" حمزہ کی بات پر عرشمان نے دوبارہ سوال کیا۔

"پتہ نہیں ! کوئی لائٹ ہے۔ کافی تیز ہے وہ۔ شاید کوئی بھوت ہو۔" اس نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

"وٹ؟"مجھے بھی دکھاؤ کیسے ہوتے ہیں بھوت۔ میں بھی تو دیکھوں کون سا لائٹوں والا بھوت بیٹھا ہے درخت پر۔" وہ آگے بڑھنے لگا۔

 اچانک ایک بلی نے درخت پر سے چھلانگ لگا دی ۔ 

سب کی چیخوں کی آواز دور دور تک سنائی دی۔

"شٹ اَپ یار ! کیوں چیخ رہے ہو سب کے سب؟  وہ بس ایک بلی تھی۔" عرشمان نے اونچی آواز میں کہا۔

"یار میری تو جان ہی نکل گئی تھی جیسے اس بلی نے اچانک نیچے جمپ لگایا۔" عینا دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔

"ڈرپوک سب کے سب"

"ہاں جیسے تمہیں تو کبھی کسی سے ڈر لگا ہی نہیں۔"

"جی مس عینا صاحبہ ! مجھے کسی چیز سے ڈر نہیں لگتا۔"

"ایک دن ضرور لگے گا مسٹر۔ بھوت سے نہ سہی مگر کسی کو کھونے کا ڈر ضرور ہوگا تمہیں بھی"۔

"اوہ پلیز عینا !"

"خیر چھوڑو یار ! تم دونوں کو کچھ نہیں ملا کیا۔ اتنی جلدی واپس آ گئے تم لوگ؟" حمزہ نے پوچھا۔

"اب کیا بتاؤں تجھے میرے دوست ! مس نورالعین سکندر صاحبہ کے گھر سے کال آئی ہے۔ انہیں ارجنٹ گھر جانا ہوگا۔ ان کے والد صاحب گھر تشریف لا چکے ہیں اور اگر ہم گھر ٹائم پر میڈم صاحبہ کو ڈراپ نہیں کرتے تو ان کی واٹ لگ جائے گی۔ اور اگر اس میڈم کی واٹ لگ گئی تو کل یونیورسٹی میں سارا دن ہم لوگوں کا دماغ خراب کرے گی۔ اس لیے فوراً جانا پڑے گا۔"

"ہاہاہاہاہاہا۔"

"عرشمان تمہیں تو عادت ہے بات کا بتنگڑ بنانے کی" عینا کو کافی غصہ آچکا تھا۔

"اچھا ریلیکس ! چلو گائیز چلتے ہیں۔ آج کی انویسٹیگیشن یہیں ختم۔"

"اوکے باس"

عرشمان ان کے گروپ کا لیڈر تھا اور اس کو سب باس کہتے تھے۔ سواۓ عینا کے وہ اسے ہمیشہ مینڈک ہی کہا کرتی تھی۔ 

"السلام علیکم بابا جانی !" وہ سکندر شاہ سے لپٹتے ہوۓ بولی۔

"وعلیکم السلام ! کیسا ہے میرا بچہ؟"

"آپ کے بنا آپ کا بچہ کیسا ہو سکتا ہے بابا؟" اس نے معصومیت سے کہا۔

"آ... ! تو میرا بچہ کافی اداس ہو گیا تھا میرے بغیر ہمم؟ اسی لئے میں نے سوچا کہ چلو اچانک چل کر سرپرائز دیتے ہیں۔"

"بہت بہت اچھا کیا آپ نے بابا جانی"۔

" اچھا اب یہ بتاؤ کہ میری شہزادی رات کے اس وقت کہاں گئی تھی؟"

"وہ۔۔۔۔۔۔۔ آپی نے بتایا نہیں کیا آپکو"؟

"سارہ نے بتایا کہ تم اپنی کسی دوست کی مہندی پر گئی تھی"۔

"اوہ ہاں ! جی بابا جانی میں وہیں تو گئی تھی"۔ وہ جھٹ سے بولی۔

"بابا اگر آپ کی اور آپ کی لاڈلی بیٹی کی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو کیا ہم کھانا کھائیں؟" سارہ نے طنزیہ کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ ادھر آؤ میرا بچہ۔ تم بھی تو میری بیٹی ہو" وہ دونوں کو سینے سے لگا کر بولے۔

"‏‏کیا بابا آپ نے ابھی تک کھانا ہی نہیں کھایا؟"

"نہیں ! میری پیاری بیٹی کے بغیر میں کھانا کیسے کھا سکتا ہوں سوچا تم آؤ گی تو تینوں مل کر کھائیں گے۔"

"لوو یو بابا"۔ 

"سیم۔۔ میرا بچہ ۔" 

آج سکینہ نے سکندر شاہ کی پسند کی تمام ڈیشز بنائی تھی۔ کھانا کھا کر باتیں کرتے ہوئے انہیں پتا ہی نہیں چلا کہ رات کے دو بج چکے تھے۔

"اوہ بابا ! دو بج گئے ہیں۔ صبح مجھے یونی بھی جانا ہے میں تو سونے جا رہی ہوں اب آپ دونوں باتیں کریں۔"

"ٹھیک ہے میرا بچہ ! گڈ نائٹ"۔

"گڈ نائٹ بابا جانی"

کمرے میں جاتے ہی وہ بستر پر ڈھیر ہوگئی اسے پتا ہی نہ چلا کہ وہ کب نیند کی آغوش میں چلی۔

----------------------------------------------

"

«اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ ، اَللهُ أَكْبَرُ »

وہ اذان کی آواز سنتے ہی بستر سے اٹھی اور دعا پڑھی۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَااَمَاتَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔

(شکر ہے اللّٰہ کا جس نے ہمیں موت کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔

گھر میں گیزر کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اس نے ٹھنڈے پانی سے ہی وضو کیا ، تسبیح اٹھائی اور مصلّے پر جا کر کھڑی ہوئی۔

نماز مکمل کرنے کے بعد اس نے صبح کے اذکار پڑھے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔

اللّٰہ تعالی کی خوب حمد و ثناء اور سب کے لئے بھلائی کی دعا مانگنے کے بعد اس نے اپنے بارے میں دعا مانگی۔

"اے اللّٰہ میں تیری بہت ہی گنہگار بندی ہوں۔ تو بالکل ویسا ہی ہے جیسا میں چاہتی ہوں بس مجھے بھی ویسا بنا دے جیسا تو چاہتا ہے۔ آج یونیورسٹی میں میرا پہلا دن ہے۔ میرے پیارے اللّٰہ جی ! مجھے ہر نامحرم کے شر اور بری نظر سے محفوظ رکھنا۔ میں بھٹکنے لگوں تو سنبھال لینا۔ میں گرنے لگوں تو تھام لینا۔ اے اللّٰہ ! میرا تیرے سوا اور کوئی نہیں۔ میرے دل میں اپنی چاہت کو تمام چاہتوں پر حاوی رکھنا ہمیشہ اور مجھے میری نظر کی حفاظت کرنے کی توفیق دینا۔ آمین یا رب العالمین !"

"فاطمہ"!

جیسے ہی اس نے دعا مکمل کی اس کے ابا اس کے منتظر تھے۔

"جی ابا جان ! السلام علیکم "۔

"وعلیکم سلام"۔ 

"فاطمہ بیٹا۔ میں مسجد جا رہا ہوں دروازہ لگا لینا۔"

"جی ابا جان "۔

اس نے جاۓ نماز سائیڈ پر رکھا اور قرآن پاک کی تلاوت فرمانے لگی۔ 

ہمیشہ کی طرح قرآن پاک پڑھتے ہوئے اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اللّٰہ پاک اس سے کلام فرما رہے ہوں۔ وہ بہت خوش اور پرسکون تھی۔

فاطمہ نور اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کا رنگ انتہائی گورا تھا اور چہرے سے نورانیت صاف ظاہر ہوتی تھی۔ وہ انتہائی نیک سیرت اور خوبصورت تھی۔ آج تک کسی نامحرم نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ 

اس کے ابا نور محمد امام مسجد تھے۔ اور اس کی والدہ بھی حافظہ تھیں جو ایک گھریلو خاتون تھیں۔ انہوں نے فاطمہ کی پرورش اسلامی ماحول میں کی تھی۔ وہ غریب تو تھے مگر اپنی بیٹی کی ہر خواہش کو ہمیشہ پورا کیا۔

"فاطمہ ! بیٹا میں نے چائے بنا دی ہے تمہارے ابا آجائیں تو انہیں دے دینا۔ اور ٹائم سے تیار ہو جانا پھر وہ تمہیں یونیورسٹی چھوڑ دیں گے۔ آج تمہارا پہلا دن ہے تو میں نہیں چاہتی کہ تم لیٹ ہو جاؤ"۔

"جی اماں ! میں آرہی ہوں"۔ فاطمہ نے قرآن پاک کو بند کرتے ہوئے جواب دیا۔

جیسے ہی اس کے ابا نے گھر میں قدم رکھا اس نے فوراً ناشتہ لگایا اور یونیورسٹی کے لیے تیار ہوگئی۔

----------------------------------------------

                    ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہائے ! یہ ظالم انسان کسی دن جان لے گا میری"۔ وہ عرشمان کو یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر بولی۔

نطاشہ کلاس کی جی آر تھی۔ اس نے جب سے عرشمان کو دیکھا وہ اس کے لئے پاگل تھی۔ اس نے کئی بار باتوں ہی باتوں میں عرشمان کو پھسلانے کی کوشش کی مگر اس نے کبھی کوئی رسپونس نہیں دیا۔ اور آج بھی عرشمان کو جینز کی بلیک پینٹ شرٹ میں دیکھ کر وہ مدہوش ہو رہی تھی۔

"اب بس بھی کرو نطاشہ۔ آخر کب تک خود کو اس کے پیچھے تھکاؤ گی؟" 

ثمرہ جو کہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی روز اس کے ایک ہی رونے سن کر تنگ آنے لگی تھی۔

"جب تک وہ مجھے مل نہیں جاتا۔"

"وہ تمہیں کبھی نہیں ملے گا۔ تم نے کتنی بار کوشش کی ہے مگر اس نے تو کبھی تمہاری طرف ایک نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ تم پاگل مت بنو اس کے پیچھے نطاشہ۔ تمہارے جیسی کتنی ہی لڑکیاں اس کے آگے پیچھے گھومتی ہیں۔ تو پھر تم کیا چیز ہو اس کے لیے۔ خدا کے واسطے اس کا پیچھا چھوڑ دو۔"

"نہیں ! کبھی نہیں۔"

"مرضی ہے تمہاری۔ میں تو اب تم سے مزید کچھ نہیں کہوں گی۔"

ثمرہ نے منہ بناتے ہوئے کلاس کا رخ کیا۔

مگر نطاشہ کی نگاہیں اب بھی عرشمان کا تعاقب کر رہی تھیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ویسے تو ہمیشہ مینڈک مجھے کہتا ہے کہ میں لیٹ آتی ہوں مگر آج خود دیکھو۔ لیکچر سٹارٹ ہونے والا ہے اور ابھی تک کلاس میں نہیں آیا۔" عینا نے حمزہ اور نمرہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

اسی وقت عرشمان کلاس میں داخل ہوا۔

"لو شیطان کا نام لو اور شیطان حاضر۔"

"گڈ مارننگ فرینڈز"۔

"گڈ مارننگ" حمزہ نے جواب دیا۔

"یہ محترمہ صبح صبح شیطان کو کیوں یاد کر رہی تھی"۔

"شیطان کو نہیں تمہیں یاد کیا تھا اور لو تم حاضر۔ کیونکہ تم بھی کسی شیطان سے کم نہیں ہو۔"

"ابھی شروع دن میں ہی میرا تمہارے منہ لگنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اس لیے بہتر ہے کہ تم اپنا منہ بند رکھو۔"

"یار تم دونوں چپ ہونے کے کتنے پیسے لو گے؟" حمزہ نے تنگ آکر کہا۔

"چھوڑو دوستو! آج جونئیرز کا پہلا دن ہے تو انکی ریگنگ نہیں کرنی کیا؟" نمرہ نے تینوں کی طرف دیکھا۔

"نہیں آج میرا موڈ نہیں ہے تم تینوں کر لو"۔

"کیوں ہمارے باس کا آج موڑ کیوں آف ہے؟" حمزہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

"کچھ نہیں یار ! بس رات دیر سے گھر پہنچنے کی وجہ سے ڈیڈ سے کافی انسلٹ ہوئی میری"۔

"ہاہاہاہاہاہا" تینوں عرشمان کی بات پہ زور سے ہنس دیئے۔

"تو تجھے کب سے انسلٹ فیل ہونے لگ گئی میرے دوست؟"

"ہنس لو تم سب کے سب"۔

"او بھئی ! تیری کونسا اکیلے کی ہوئی ہے ہم سب کی بھی تو  ہوئی ہے۔ ویسے کہا کیا ہے انکل نے جو تو نے اتنا سیریس لے لیا"؟

" زیادہ تو کچھ نہیں کہا بس یہی کہا کہ آئندہ اتنی رات کو لڑکیوں کے ساتھ باہر نہیں رہنا۔"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ یو مین انکل شک کرتے ہیں تم پہ؟" عینا نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔

"پتا نہیں چڑیل !"

"ہمممممم ۔ اچھا چلو چھوڑو بھول جاؤ سب۔ اور مل کر ریگنگ کرتے ہیں بہت مزا آئے گا۔"

"ہاں ! چل ناں یار چلتے ہیں۔" حمزہ نے عینا کی بات پر حامی بھرتے ہوئے کہا۔

"اوکے"

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

وہ سر سے لے کر پاؤں تک مکمل بلیک عبایا میں لپٹی ہوئی یونیورسٹی کے گیٹ میں داخل ہوئی۔ 

"اوہ مائی گاڈ ! اب یہ کیا نمونہ ہے؟" نطاشہ نے اسکا مذاق اڑانے کی کوشش کی ۔

سب کی نظریں اس پر ہی ٹکی تھیں۔ مگر وہ ان سب کے پاس سے ایسے گزر کر جا رہی تھی جیسے اسے یہ سب باتیں سننے کی عادت ہو۔"

وہ چاروں بھی ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھنے لگے۔

"گائیز ! ہمارا پہلا شکار تو بہت مزے کا ہے"۔ حمزہ نے طنز کرتے ہوۓ کہا۔

عینا اور نمرہ نے حمزہ کی بات پر ہنس کر حامی بھری مگر عرشمان خاموش کھڑا اسے دیکھتا ہی رہا۔

"اب تو یہ چڑھ گئی ماسٹر گروپ کے ہاتھ اب تو اس کی ریگنگ بہت مزے کی ہونے والی ہے۔" صارم جو کہ ان کا کلاس فیلو تھا ان کی طرف دیکھ کر مخاطب ہوا۔ 

"اسٹاپ"!

حمزہ کی آواز سن کر فاطمہ نے اپنے قدم وہیں روک دیے۔

"ارے واہ ! آج دیکھو تو سہی ہماری یونیورسٹی میں کون آیا ہے۔ ایک انتہائی پارسا جونیئر۔" 

"ہاہاہاہاہاہا ۔ اوہ کم آن حمزہ ! اس کے حلیے کا مذاق تو مت اڑاؤ۔ بیچاری کو دکھ ہوگا اور پھر کہیں ایسا ہی نہ ہو کہ وہ اپنی بے عزتی فیل کرکے کل بالکل ہی عبایا اتار دے۔" عینا نے اسکے گرد چکر لگاتے ہوئے کہا۔

"عینا چھوڑو ! جانے دو اس کو۔ مجھے تو بچاری بہت معصوم لگ رہی ہے۔" نمرہ نے اسکی حمایت کی۔

"ارے ! ایسے کیسے چھوڑ دیں اس کی ہی تو ریگنگ کرنے میں مزا آئے گا"۔

"عینا مجھے تو ترس آرہا ہے اس لڑکی پر۔ میں تو کہتی ہوں اس کو جانے دو کسی اور کو پکڑتے ہیں جا کر"۔

"کیوں حمزہ کیا کہتے ہو تم؟ چھوڑ دیں کیا اسکو ؟" عینا نے سوال کیا۔

"نہ۔ بالکل نہیں۔" حمزہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔

"آپ جائیں۔" عرشمان، فاطمہ سے مخاطب ہوا۔

"کیا؟ ایسے کیسے جاۓ یار؟ ابھی تو اس کی ریگنگ کی ہی نہیں۔" 

"شٹ اَپ! حمزہ راستے سے ہٹو"۔ عرشمان نے سختی سے کہا۔

"کیا ہوگیا ہے عرشمان ! اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو؟"

"بس جب کہہ دیا عینا کہ اس کی ریگنگ نہیں کرنی تو نہیں کرنی دیٹس اِٹ۔" وہ غصے سے غرایا۔

حمزہ اور عینا راستے سے ہٹے تو فاطمہ نے کلاس کی طرف قدم بڑھا دیئے۔

سب حیرانگی سے عرشمان کی طرف دیکھ رہے تھے کیونکہ اس سے پہلے اس نے کبھی کسی کے معاملے میں ایسے ریکٹ  نہیں کیا تھا۔

"چلو دوستو ! مجھے اب کسی کی ریگنگ نہیں کرنی" عینا نے گھورتے ہوۓ عرشمان کو دیکھا۔

حمزہ اور نمرہ بھی کندھے اچکاتے ہوئے اس کے پیچھے چل دیئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"اور سنائیں بھائی صاحب ! آپ کو تو کبھی بہن کی یاد نہیں آئی تو میں نے سوچا کہ چلو میں ہی اپنے بھائی کو یاد کر لیتی ہوں۔" مہرین نے لان میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔

"مہرین ایسی بات نہیں ہے دراصل تمہیں پتا تو ہے ابھی کل ہی ریٹائرمنٹ لی ہے میں سوچ ہی رہا تھا عینا اور سارہ کے ساتھ تمہاری طرف چکر لگانے کا۔ مگر تم پہلے آ گئی۔"

"جی بھائی صاحب ! میں سمجھتی ہوں آپ کی بات"۔

"مہرین، عادل کہاں ہے؟ اس کو بھی ساتھ لے آتی"

" کام سے واپسی پر یہیں آئے گا وہ۔

"اچھا کیا"۔

"ارے پھپھو آپ کب آئیں ؟" وہ گلے ملتے ہوئے بولی۔

"بس ابھی آئی ہوں۔ عینا کہاں ہے؟"

"پھپھو عینا تو یونیورسٹی گئی ہے۔"

"اوہ ! اچھا۔"

"بیٹا ! کچھ کھانے پینے کا بندوبست کرو" سکندر صاحب نے  سارہ کو مخاطب کیا۔

"جی بابا"۔

سارہ نے جیسے ہی کچن کا رخ کیا تو سکینہ نے آکر مہرین کو سلام کہا"۔

"وعلیکم السلام۔ کیسی ہیں آپ خالہ؟

سکینہ کو سب سارہ کی ماں کی طرح ہی عزت دیتے تھے۔

"میں بالکل ٹھیک"۔

"چلو اچھا ہوا سکینہ خالہ بھی یہاں ہیں۔ تو میرے خیال سے میں جس مقصد کے لئے آئی ہوں اب مجھے اپنی بات سامنے رکھنی چاہیے۔"

"کیا مطلب کون سی بات مہرین ؟ صاف صاف کہو" سکندر شاہ نے سوال کیا۔

"بھائی آپ جانتے تو ہیں کہ میں عینا سے بچپن سے ہی کتنا پیار کرتی ہوں۔ بہت چھوٹی عمر میں ہی دونوں نے اپنی ماں کو کھو دیا۔ عینا میرے لیے میری سگی بیٹی کی طرح ہے۔  عادل اور عینا بھی بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور  دوست بھی ہیں۔ اکٹھے پلے بڑھے ہیں ساتھ۔ بھائی عادل میرا اکلوتا بیٹا ہے۔ اور میرا واحد سہارا بھی۔ اپنی جوانی میں ہی میں بیوہ ہو گئی تو آپ نے اپنی شفقت کا ہاتھ میرے سر پر رکھا۔ اور ہمیشہ عادل کو اپنے سگے بیٹے کی طرح پیار کیا۔ ہمارا سارے گھر کا خرچہ آج تک آپ نے پورا کیا اور اب عادل کی جاب لگ گئی ہے۔ میرا بچہ اب جوان ہے اور گھر کے سارے اخراجات خود پورے کر سکتا ہے۔ اب وہ ایک ذمہ دار نوجوان ہے۔ میں اس کی شادی کرنا چاہتی ہوں۔ اور مجھے اپنے اکلوتے بیٹے کے لئے عینا سے بہتر اور کوئی نہیں لگا۔ میں اپنے بیٹے عادل کے لئے عینا کا آپ سے ہاتھ مانگنے آئی ہوں بھائی صاحب۔" اس نے اپنی بات مکمل کرکے لمبی سانس لی۔

سکینہ اور سکندر شاہ نے سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ 

"تم کیا کہتی ہو سکینہ؟" 

"میں کیا کہہ سکتی ہوں صاحب ! جیسا آپ کو مناسب لگے۔" اس نے گردن جھکا کر جواب دیا۔

"نہیں، نہیں سکینہ ! تمہیں اپنی رائے دینے کا پورا حق ہے۔ آخر تم نے اس کی ایک ماں کی طرح پرورش کی ہے۔" مہرین نے شائستہ انداز سے کہا۔

"جو صاحب کا فیصلہ میرا بھی وہی فیصلہ ہے۔ مگر میرا ایک مشورہ ہے صاحب جی کے آپ ایک بار عینا بیٹیا سے ضرور اس کی رائے جان لیں۔"

"عینا کی طرف سے ہاں ہی ہے میں جانتا ہوں۔ وہ اور عادل ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست ہیں اور عینا کے لئے اس سے بہتر اور کوئی جیون ساتھی نہیں ہو سکتا۔" 

"مگر پھر بھی صاحب جی ! ایک بار پوچھ لیں تو بہتر ہوگا"۔

"نہیں، میرے خیال سے اس کی ضرورت نہیں ہے۔" 

سکندر شاہ کی بات سن کر سکینہ خاموش ہو گئی۔

"عادل ہمارا اپنا بچہ ہے بھلا اس سے بہتر عینا کے لیے اور کون ہو سکتا ہے۔ تم ٹینشن نہیں لو مہرین۔ آج سے عینا تمہاری امانت ہے ہمارے پاس۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ کوئی رسم کرلی جائے تاکہ رشتہ پکا ہو جائے۔"

"جی بھائی صاحب ! میں بھی یہی کہہ رہی تھی کہ پہلے منگنی کر لیتے ہیں اور جیسے ہی عینا کی پڑھائی مکمل ہوگی تو ہم بارات لے کر آ جائیں گے۔"

"ٹھیک ہے۔"

 سارہ ہاتھ میں ٹرے تھامے ہوئے لان میں داخل ہوئی۔

"یہ لیں پھپھو ! آپ کے لئے گرما گرم چائے"۔ وہ ٹرے میز پر رکھتے ہوئے بولی۔

"ہمیشہ خوش رہو سارہ"۔

"کیا میں جان سکتی ہوں کہ کیا باتیں ہو رہی تھیں؟ اور میرے آتے ہی سب خاموش ہو گئے۔"

"نہیں سارہ بیٹا ایسی کوئی بات نہیں ہے تم بھی تو ہماری اپنی بچی ہو تم سے بھلا کیا چھپانا۔" مہرین نے پیار سے کہا۔

"تو بتائیں پھر"۔

"سارہ میں عینا کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہوں۔ بس اسی سلسلے میں ہم بات کر رہے تھے"۔

"کیا"؟ مہرین کی بات سن کر تو جیسے سارہ کو جھٹکا سا لگا۔

"ہاں کیوں کوئی مسئلہ ہے کیا"؟

"نہ۔۔۔نہ۔۔۔۔نہیں پھپھو ! مجھے کیا مسئلہ ہو سکتا ہے بھلا"۔ وہ اٹکتے ہوۓ بولی۔

"میں جانتی تھی کہ تمہیں بھی بہت خوشی ہوگی"۔ مہرین کی بات سن کر سارہ خاموش ہوگئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"اب پتہ نہیں اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ کب اس مینڈک کا دماغ خراب ہو جائے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ مسٹر عرشمان احمد ملِک صاحب ماسٹر گروپ کے لیڈر جو ٹھہرے۔ اب ہمیں دو ٹکے کے لوگوں کے لئے بھی مسٹر عرشمان صاحب کی باتیں سننی پڑیں گی۔ کمال ہے ویسے ! آج کی آئی ہوئی ایک لڑکی کے لئے جناب اپنے دوستوں کی سب کے سامنے انسلٹ کر دیتے ہیں۔ مگر انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ان کی شان میں گستاخی ہو جاۓ گی۔" عینا کینٹین کے سامنے میز پر بیٹھی لفظوں کی برسات کر رہی تھی۔

"عینا چپ ہو جاؤ عرشمان آ رہا ہے"۔ حمزہ نے دھیمی آواز میں عینا کو اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

" آ رہا ہے تو آجائے میں کون سا کسی سے ڈرتی ہوں۔" وہ چلا کر بولی۔

"اہمم اہمم" عرشمان نے گلا کھنکھارا۔

"کیا؟ کیا بولنا چاہ رہے ہو؟ پیچھے کیوں کھڑے ہو ؟میرے منہ پر آکر ہے بولو ناں"۔

"اچھا تو بول دوں پھر؟ سن سکو گی میرے الفاظ۔۔؟" عرشمان اسکے سامنے رخ کرتے ہوئے بولا ۔

"جی۔۔۔!"

"تو سنو پھر ! مس نورالعین سکندر صاحبہ ! آپ اور مسٹر حمزہ علی افتخار دونوں ایک معصوم لڑکی کی ریگنگ کر رہے تھے۔ وہ لڑکی جو نہ جانے کتنے لوگوں کی طنزیہ نظروں کا نشانہ بن رہی تھی مگر پھر بھی خاموش تھی۔ ایک پل کے لئے سوچو کہ اگر تمہارا کوئی سب کے سامنے ایسے مذاق اڑاۓ تو کیسا محسوس ہوگا تمہیں؟ تم لوگوں کا روب و دبدبہ صرف معصوم اور غریب لوگوں پر ہی چلتا ہے۔ کبھی آج تک مجھے کسی نے کیوں کچھ نہیں کہا۔ کیونکہ مجھے سب کا منہ بہت اچھے سے بند کرنا آتا ہے صرف اس لئے ناں؟ اور عینا تم تو خود ایک لڑکی ہو۔ پھر ایک لڑکی ہو کر کسی دوسری لڑکی کے حلیے کو موضوع بنا کر کیسے اسے تنقید کا نشانہ بنا سکتی ہو۔ اور ریگنگ کا مطلب صرف  شرارت کے طور پر تنگ کرنا ہوتا ہے۔ کسی کا مذاق اڑانا یا اسے ذلیل کرنا نہیں ہوتا۔ ہمیں کسی بھی معصوم انسان کی تذلیل کا کوئی حق نہیں ہے۔ اب ذرا خود کو ہی دیکھو ! میں نے تو تمہاری ویسے انسلٹ کی ہی نہیں جیسے تم اس کو سب کے سامنے زلیل کر رہی تھی۔ لیکن پھر بھی تمہیں کتنا برا لگا ہمممم؟  حالانکہ میں تو تمہارا دوست ہوں مگر پھر بھی کتنا غصہ آ رہا ہے ناں تمہیں! سیم ایز دا کیس وید دیٹ گرل ڈئیر۔(same is the case with that girl dear)"

"اوہ اچھا ! تو اب اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے تم مجھے باتیں سناؤ گے عرشمان؟ واہ۔۔!"

"میں کسی کو باتیں نہیں سنا رہا بس سمجھا رہا ہوں اور ویسے بھی وہ دو ٹکے کی لڑکی نہیں ہے عینا۔"

"واقعی؟"

"یس ! (Yes)"

"اگر وہ دو ٹکے کی نہیں ہے تو کیا میں ہوں پھر؟" وہ غضب کر بولی۔

"دیکھو ! عینا میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ تم بات کا غلط مطلب لے رہی ہو۔ اور یہ اتنا غصہ کس چیز کا ہے تمہیں؟ میں نے کوئی پہلی بار تو تمہیں باتیں نہیں سنائی ہر روز سنتی ہو ۔"

"تم مجھے باتیں سنا رہے ہو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مجھے غصہ اس چیز پر ہے مسڑ عرشمان احمد کہ تم نے سب کے سامنے کسی اور لڑکی کے لیے میری انسلٹ کی"۔

"اوہ ! تو اب میں سمجھا میرے دوست! بھائی اسے غصہ یہ نہیں ہے کہ تو نے اس کی انسلٹ کی بلکہ اسے غصہ یہ ہے کہ تو نے کسی اور لڑکی کی طرفداری ہی کیوں کی۔" حمزہ پھر سے عرشمان کو چھیڑتے ہوئے بولا۔

"اوہ یو شٹ اَپ! حمزہ ۔" عینا نے اپنی لڑائی کا رخ اسکی طرف موڑا۔

"اب بس بھی کرو عینا۔" نمرہ نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا۔

"کیوں ؟ وجہ؟"

"اوکے ریلکس ! دیکھو عینا تمہیں میری بات پر غصہ ہے تو ٹھیک ہے مجھ سے لڑو ناں۔  اب اس میں ان دونوں کا کیا قصور ہے؟"

عینا ابھی بھی غصے سے عرشمان کو گُھور رہی تھی۔

"دیکھ بھائی ! ایسے اس کا موڈ ٹھیک نہیں ہوگا تُو ایک کام کر اس کو سوری بول دے"۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ اچھا مذاق ہے ! تُو اچھے سے جانتا ہے کہ میں کبھی کسی کو سوری نہیں بولتا تو میں اس چڑیل کو کیوں  بولوں گا ہمم؟"

"ہاں بالکل تم کیو۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ بات کرتے کرتے خاموش ہوگئی کیونکہ عرشمان کی نظریں پاس سے گزرتی ہوئی فاطمہ پر تھیں جو ہاتھ میں کتابیں تھامے لائبریری کی جانب بڑھ رہی تھی۔

وہ کافی دیر تک عرشمان کی آنکھوں کو اسکا تعاقب کرتے ہوئے دیکھتے رہی۔

وہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے ناں؟" عرشمان پیار سے مسکراتے ہوئے بولا۔

"تھوڑا سا پیار ہوا ہے۔۔۔۔۔۔ تھوڑا ہے باقی" حمزہ نے گنگناتے ہوئے کہا ۔

"او پلیز عرشمان ! اب یہ مت کہنا کے تمہیں اس سے پیار ہوگیا ہے۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تمہاری چوائس ایٹ لیسٹ(choice at least) اتنی بری نہیں ہو سکتی۔" عینا طنزیہ انداز میں گویا ہوئی۔

"نہیں پیار ہوا تو نہیں ہے ۔ مگر۔۔۔۔! ہو بھی سکتا ہے۔" 

"کیا۔۔۔؟" وہ چونک کر بولی ۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ کم آن عینا ! تم بھی حد کرتی ہو۔ تم جانتی ہو نا کہ عرشمان احمد کبھی کسی سے محبت نہیں کر سکتا"۔

"ہممم۔ اور کرنا بھی مت۔ خاص طور پر اس مولون سے تو بالکل بھی نہیں۔" عینا کا لہجہ اب کافی نارمل تھا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔"

"چلو شکر ہے۔ اسی بہانے تم دونوں کی لڑائی تو ختم ہوئی۔" نمرہ نے ہنس کر کہا۔

بیلّ کی آواز پر عینا اور عرشمان ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کلاس میں داخل ہوئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا؟ منگنی؟ اور وہ بھی میری؟ اور وہ بھی اس عادل کے بچے سے؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"عینا آہستہ بولو پھپھو سن لیں گی۔"

"سنتی ہیں تو سن لیں"۔

"عینا۔ بابا کا فیصلہ ہے یہ ۔"

"مگر آپی ! آپ جانتی ہیں ناں کہ مجھے عادل میں کوئی دلچسپی نہیں؟"

"جانتی ہوں مگر بابا کا حکم ہے تو تمہیں بھی ماننا ہی پڑے گا۔"

"کبھی نہیں"۔

"کیا مطلب کبھی نہیں ؟  تو اب کیا تم بابا کے فیصلے کے خلاف جاؤ گی؟۔

"میں نے ایسا نہیں کہا آپی۔ مگر میں عادل سے شادی کبھی نہیں کروں گی۔"

"تو پھر کس سے کرو گی؟"

سارہ کی بات سن کر وہ خاموش ہو گئی۔

"عینا بتاؤ ناں؟ چپ کیوں ہوگئی؟ اگر عادل سے شادی نہیں کرو گی تو کس سے کرو گی پھر؟ کیا جواب دو گی بابا کو؟ کہ آخر کیوں نہیں کرنی تمہیں عادل سے شادی؟"

"کیونکہ آپی۔۔۔۔۔۔۔۔!"

"اب بولو بھی۔"

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"عینا؟"

"ادھر دیکھو ذرا میری طرف ؟" سارہ نے عینا کے چہرے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

"عینا ! تمہارا چہرہ اتنا تپ کیوں رہا ہے؟ بتاؤ کیا بات ہے؟ تم کسی کو پسند کرتی ہو کیا؟

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"عینا بتاؤ بھی ! مجھے فکر ہو رہی ہے"۔

"آپی۔۔۔۔۔۔۔"

"ہاں میری جان ! بولو"۔

"آپی میں اُس کھڑوس سے بہت محبت کرتی ہوں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ اسے مجھ میں کوئی انڑرسٹ نہیں "۔ اسکی پلکیں بھیگ چکی تھی۔

"کون کھڑوس؟"

"آپی وہ کھڑوس ہی ہے۔ مجھ پہ ہر وقت غصہ کرتا ہے"۔

"عینا جس سے پیار کرتے ہیں ناں تو سب سے پہلے اسکی عزت کرتے ہیں۔"

"نہیں آپی۔ میں اسکی عزت کرتی ہوں سچ میں۔ بس کبھی کبھی بہت غصہ آتا ہے اس پر ۔"

"اچھا بتاؤ کون ہے وہ؟"

"عرشمان " 

"کیا؟"

"آپی وہ بہت برا ہے۔ مجھ پہ ہر وقت روب جماتا ہے اور آج تو کسی اور اسلامی ٹائپ لڑکی کیلئے مجھے باتیں بھی سنائی"۔ اس نے روتے ہوۓ کہا۔

"اگر اتنا ہی برا لگتا ہے تو اس سے محبت کیوں کرتی ہو؟"

" کیوں کہ وہ باقی لڑکوں جیسا نہیں ہے بہت اچھا بھی ہے۔  وہ کبھی دوسری لڑکیوں کے پیچھے نہیں بھاگتا۔ خوامخواہ میں کسی کا مذاق نہیں بناتا۔ غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے۔ اپنی خوبصورتی کا ناجائز فائدہ بھی نہیں اٹھاتا۔ اور نہ ہی اس نے کبھی اپنے بہت زیادہ امیر ہونے پر غرور کیا۔"

"اچھا ٹھیک ہے اب میری بات دھیان سے سنو"

"جی آپی"۔

"دیکھو اگر تم ڈائریکٹ بابا کو انکار کرو گی تو بابا اس کی وجہ پوچھیں گے اور اگر تم بابا سے اپنی پسند کا اظہار کرو گی تو بابا کو لگے گا کہ تم ان کے حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہو۔ ان کا مان ٹوٹ جائے گا عینا۔"

"تو پھر اب میں کیا کروں آپی ؟"

"تم عرشمان سے بات کرو اسے بتاؤ کہ تم اسے پسند کرتی ہو پھر اگر وہ حامی بھرے تو اس سے رشتے کی بات کرو اور جب وہ رشتہ بھیجے تو پھر بابا کو میں ہینڈل کر لوں گی۔"

"اور اگر اس نے انکار کیا تو؟"

"تو میری جان ! تم عادل سے شادی کر لینا اس کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں۔"

وہ سارہ سے لپٹ کر آنسو بہانے لگی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"اسلام علیکم"۔

"وعلیکم السلام۔ عادل بیٹا کیسے ہو؟"

"میں ٹھیک ہوں ماموں الحمدللّٰہ"۔

عادل کی آواز سن کر وہ کمرے سے باہر آئی۔

"ہاۓ پھپھو !"

"عینا بیٹا تم کب آئی؟ مجھے تو لگا تم ابھی تک یونیورسٹی ہی ہو"۔

عادل بچپن سے ہی عینا کو پسند کرتا تھا۔ مگر اپنی پسند کا اظہار اس نے تب کیا جب وہ اپنی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہوا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ عینا سکندر شاہ کی لاڈلی بیٹی ہے اور وہ اسے کبھی کسی نکمے انسان کے ہاتھوں نہیں سونپیں گے۔ عینا کے لاکھ انکار کے باوجود بھی اس کے دل میں کبھی اس کی محبت کم نہیں ہوئی تھی۔ اور آج وہ بہت خوش تھا کیونکہ اب عینا اس کے نام سے منسوب ہونے والے تھی ۔

"پھپھو ابھی آئی ہوں تھوڑی تھکی ہوئی تھی تو سوچا پہلے شاور لے لوں پھر آپ سے ملوں گی۔" وہ سرد آنکھوں سے عادل کو دیکھ رہی تھی۔

"اچھا ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو"

"جی پھپھو۔"

"بیٹا تمہیں سارہ نے شاید بتا دیا ہوگا۔ لیکن اگر نہیں بتایا تو میں بتا دیتی ہوں کہ آج سے تم صرف میری بھتیجی اور بیٹی ہی نہیں بلکہ میری ہونے والی بہو بھی ہو۔"

مہرین کی بات سن کر عینا نے بمشکل خود کو کنٹرول کیا مگر عادل کی نگاہیں مسلسل اسی پر تھیں۔

"میرا بچہ ! میں جانتا ہوں کہ تم اور عادل بچپن سے ہی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہو۔ اس لیے میں نے تمہاری رائے جاننا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ تمہارے لیے عادل سے بہتر اور کوئی نہیں ہو سکتا۔" سکندر شاہ نے بڑے پیار سے عینا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

"جی بابا"۔ اس وقت کچھ بھی کہنا مناسب نہیں تھا۔ کیونکہ وہ پہلے عرشمان کا جواب سننا چاہتی تھی۔

"ارے ! سکینہ مٹھائی لاؤ منہ میٹھا کراؤ سب کا۔ خوشی کا موقع ہے۔"سکندر شاہ نے مسکرا کر کہا۔

"جی ! صاحب جی"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"بیٹا کبھی تو اس موبائل کی جان چھوڑ دیا کرو جب دیکھو موبائل میں ہی لگے رہتے ہو" وہ کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے بیڈ پر لیٹے موبائل چلاتے ہوئے دیکھ کر بولیں۔

"او میری پیاری موم ! ادھر بیٹھیں۔ آپ کے اتنے کیوٹ سے فیس(face) پر غصہ بالکل سوٹ نہیں کرتا۔"

"عرشمان مجھے تمہاری عادتیں بالکل نہیں پسند۔ گھر آتے ہی کمرے میں گھس گئے ہو۔ ماں کو سلام تک نہیں کیا اور ایک میں ہوں جو کب سے تمہارا ویٹ کر رہی تھی"۔

"موم ایکچولی(actually) ! میں جب گھر میں آیا تو آپ گھر پہ نہیں تھیں تو بتائیں کیا میں دیواروں کو سلام کرتا؟"

"ہاں میں اپنی دوست کی طرف گئی تھی اس کے ہاں پوتا ہوا ہے اس کی مبارکباد دینی تھی۔ اور ایک دیکھو میں ہوں کہ جس کے بیٹے کی ابھی تک منگنی بھی نہیں ہوئی اور تم نے تو گھر آ کر پوچھا بھی نہیں ہوگا کہ ماما کہاں ہیں؟"

"او کم آن موم(oh come on Mom) ! آپ کیسی باتیں کرتی ہیں؟ میں نے سب سے پہلے نسیمہ سے آپ کے بارے میں ہی پوچھا تھا مگر اس نے کہا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں تو میں روم میں آگیا۔ سِمپل !"

"اچھا چھوڑو وہ سب۔ یہ بتاؤ کہ شادی کب کرنی ہے ؟ بھئی میرا بھی دل کرتا ہے اپنے پوتا، پوتی دیکھنے کو"۔

"ہاہاہاہا۔ موم یہ اچانک آپ کو میری شادی کا خیال کہاں سے آگیا"؟

"میں تو کب سے سوچ رہی تھی مگر آج اپنی دوست کا پوتا دیکھ کر کچھ زیادہ ہی محسوس ہوا ہے"۔ وہ مسکرا کر بولیں۔

"سو فنی موم"۔(so funny)

"فنی کے کچھ لگتے ! بتاؤ؟ کوئی لڑکی پسند کی ہے یا پھر میں خود اپنی مرضی سے بہو لے آؤں؟"

"ہاہاہاہاہاہا۔۔۔"

"اب ہنستے ہی رہو گے یا بتاؤ گے بھی مجھے"؟

"کیا بتاؤں موم؟ جب کوئی ہے ہی نہیں"۔

"کیا واقعی"؟ انہوں نے حیرانگی سے کہا۔

"ہمممم" وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ 

"تو اس کا مطلب ہے کہ میں اپنی پسند کی بہو سکتی ہوں۔ ہممممم؟"

"بائے دا وے(by the way) ! آپ نے کس کو پسند کیا ہے میرے لیے؟"

"نہیں۔ فی الحال تو کوئی نہیں ہے۔ مگر کسی رشتے والی سے رابطہ کرتی ہوں کہ مجھے کوئی زبردست سا رشتہ دکھائے میرے اکلوتے بیٹے کے لئے۔ تم دیکھنا ! بالکل چاند سی بہو لیکر آؤں گی تمہارے لیۓ۔ جو تمہارے ساتھ کھڑی اچھی بھی لگے گی۔"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ آپ رہنے ہی دیں موم۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی چاند سی بہو نے آپ کو دن میں تارے دکھائے ہوئے ہوں۔" 

"کیوں رہنے دوں؟ شادی تو تمہاری کرنی ہی ہے ناں؟ اور رہی بات دن میں تارے دکھانے کی تو میرے پیارے بیٹے ! بیوی کو سسرال والوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے یہ اس کا شوہر ہی اسے بتاتا ہے"۔

"اوہ ! تو یہ بات ہے پھر تو آپ ٹینشن ہی مت لیں میری پیاری موم۔ جو آپ کی عزت نہ کرے وہ عرشمان احمد کو چاہیے ہی نہیں"؟ وہ پیار سے اپنی موم کے گال کھنچتے ہوۓ بولا۔

"اچھا یہ بتاؤ چائے پیئو گے"؟

"کون بنا رہا ہے"؟

"میں"۔

"پھر تو بالکل پیئوں گا موم" اس نے جھٹ سے کہا۔

"ٹھیک ہے" 

"موم ! جاتے ہوۓ ڈور بند کر دیجیے گا پلیز"۔ 

"اوکے بیٹا"۔

دروازے کے بند ہوتے ہی اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا پھر ماتھے پر بازو رکھ کر آنکھیں بند کیں اور لیٹ گیا۔ اسے بار بار فاطمہ کا چہرہ یاد آرہا تھا"۔

"کیا ہے تم میں فاطمہ؟ میں کیوں تمہارے بارے میں سوچ رہا ہوں؟ میں جب بھی آنکھیں بند کرتا ہوں تو تمہارا ہی چہرہ  مجھے کیوں دکھائی دے رہا ہے" وہ خود سے مخاطب تھا۔

بالآخر اس نے پھر آنکھیں بند کیں اور سو گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"بیگم صاحبہ ! چھوٹے صاحب سو گئے ہیں۔" نسیمہ نے چاۓ کچن میں واپس لاتے ہوۓ کہا۔

"تھکا ہوا ہوگا میرا بیٹا۔ اچھا تم یہ چاۓ واپس ڈالو اور برتن دھو لو جلدی سے۔ اور آج شام کا کھانا مت بنانا ہم تینوں آج ڈنر باہر کریں گے"۔

"جی بیگم صاحبہ!"۔

یہ عشاء کا وقت تھا جب وہ صحن میں کھلے آسمان تلے چاند کی مدھم روشنی میں جائے نماز پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔

"یا اللّٰہ آپ تو جانتے ہیں ناں! یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا ہر بار کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی میرے پردے کا مذاق ضرور بناتا ہے۔ مگر میں ہر بار سہہ جاتی ہوں ، خاموش ہو جاتی ہوں فقط آپ کے لئے اللّٰہ جی۔ کیونکہ پلٹ کر جواب دینے میں وہ مزہ کہاں جو آپ کی خاطر برداشت کرنے میں ہے۔ مگر اللّٰہ جی ! میں بھی انسان ہوں ناں ؟ میں بھی تھک جاتی ہوں۔ مجھے بھی درد ہوتا ہے ، مجھے بھی رونا آتا ہے۔ پر میں کسی سے نہیں کہتی کیونکہ میرے سب سے پیارے دوست صرف آپ ہو اللّٰہ جی۔ 

میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے سب سے زیادہ پیار کرتے ہو۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ ہر اس آنسو سے واقف ہو جو میں نے فقط آپ کی خاطر پلکوں کے پیچھے چھپا لیا۔ میرے لیے آپ کی دوستی اور آپ کی پسند سب سے زیادہ انمول ہے۔ آپ کو سب کچھ بتا کر آپ سے باتیں کر کے مجھے سکون مل جاتا ہے۔ اللّٰہ جی ! آپ مجھے بہت غور سے سنتے ہو۔ اور میرے لئے یہی کافی ہے کہ آپ مجھ سے پیار کرتے ہو پھر مجھے اپنے حضور سجدہ ریز ہونے کی توفیق دیتے ہو۔ جہاں اس دنیا میں برے لوگ ہیں تو وہیں اچھے لوگ بھی تو ہے ناں؟ میں کیسے کہہ دوں کہ میری تذلیل کی گئی اور آپ نے دیکھا نہیں۔ بلکہ آپ نے دیکھا بھی ، سنا بھی اور میری مدد کے لئے ایک انسان کو وسیلہ بھی بنایا۔ 

اللّٰہ جی ! میں نہیں جانتی کہ وہ کون تھا اور اس کا کیا نام تھا۔ مگر وہ جو بھی تھا اس نے ان سب کو میری مزید تذلیل کرنے سے روکا۔ وہ میرے لئے ایک فرشتہ ہی بن کر آیا تھا اور میں جانتی ہوں یہ آپ کی طرف سے ہی میرے لئے مدد تھی۔

آپکا شکر ہے میرے مالک! آپکا لاکھ لاکھ شکر ہے میری مدد کیلئے۔ اور ہر اس نعمت کیلئے جو آپ نے مجھے عطا کی۔ میرے پیارے اللّٰہ ! مجھے کبھی میرے حال پہ مت چھوڑنا۔ اور اس انسان کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھنا جس نے آج میرا ساتھ دیا۔ آمین۔"

اسے ہمیشہ کھلے آسمان تلے اندھیرے میں اللّٰہ سے باتیں کر کے بہت خوشی ملتی تھی اور وہ اپنا ہر دکھ سکھ سب سے پہلے اللّٰہ کو بتاتی تھی۔

اس نے دعا مکمل کرتے ہی جائے نماز کو سمیٹا اور چارپائی پر لیٹ گئی۔ سونے سے پہلے کے تمام اذکار پڑھنے کے بعد اس نے  اپنے اور اپنے والدین پر پھونک ماری اور آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے سو گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کال اٹھاؤ یار ! پلیز کال اٹھاؤ جلدی۔" وہ کمرے میں ادھر اُدھر چکر لگاتے ہوۓ موبائل پر مخاطب تھی۔

"ہیلو"۔

"شکر ہے کہ تم نے کال ریسیو کی۔ کب سے ٹرائی کر رہی ہوں یار ! کہاں بیزی تھے"؟

"شاور لے رہا تھا۔ بولو"

"تم سے ملنا تھا مجھے۔"

"اس وقت"؟ اس نے گھڑی پر ٹائم دیکھا تو رات کے نو بج چکے تھے۔

"ہممم"۔

"کیوں خیریت"؟

"ہاں یار ! کوئی ضروری بات کرنی ہے تم سے اس لیے۔ اب  بتاؤ مل سکتے ہو یا نہیں؟"

"ایم سوری ! عینا اس وقت تو میں پیرنٹس کے ساتھ ڈنر پر جا رہا ہوں۔ جو بھی بات ہے تم فون پر بول دو۔ میں سن رہا ہوں۔"

"نہیں ! فون پر کرنے والی نہیں ہے۔ ٹھیک ہے تم جاؤ۔ ہم کل یونیورسٹی میں بات کریں گے"۔

"اوکے"۔

"گُڈ نائٹ ! سویٹ ہارٹ"۔ وہ شرماتے ہوۓ بولی۔

"ک۔۔۔۔۔ک۔۔۔کہ۔۔۔کیا؟۔۔۔۔کیا کہا تم نے؟ زرا پھر سے بولنا ! مجھے ٹھیک سے سنائی نہیں دیا۔" اس نے حیرانگی سے کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ کچھ نہیں! باۓ"۔

"اوۓ ہیلو ! بات تو سنو۔۔۔۔۔" اس نے کان سے فون ہٹایا کیونکہ کال کٹ چکی تھی۔

"عجیب ہے یہ لڑکی بھی !" اس نے مسکراتے ہوئے موبائل جیب میں ڈالا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"او مائی گاڈ !" تم ؟ اور محبت ؟ وہ بھی عرشمان سے؟" وہ چونک کر بولی۔

"ہممممم۔"

"یہ کب ہوا؟ تم نے کبھی بتایا تک نہیں؟ بلکہ ہمیشہ ایسے شو کروایا کہ جیسے تمہیں عرشمان میں کوئی انٹرسٹ ہے ہی نہیں؟"

" پھر تم بتاؤ اور کیا کرتی میں؟ وہ بھی تو ہمیشہ یہی شو کرواتا ہے ناں !"

"لیکن عینا پھر بھی ! میں تمہاری دوست ہوں کم از کم تمہیں مجھے تو بتانا چاہیے تھا۔" 

"نمرہ ایم سوری یار ! مگر میں چاہتی تھی کہ وہ خود مجھے پروپوز کرے۔ لیکن ! ایسا ہوا ہی نہیں۔ اب تم بتاؤ میں کیا کروں؟"

"ہممممم۔ سوچتی ہوں کچھ"۔ 

"آئیڈیا !"

"کیا جلدی بتاؤ؟"

"دیکھو ! اگر تم عرشمان کو خود پروپوز کرو گی تو ہمیشہ اسکے انڈر (under) ہی رہنا پڑے گا۔ کیوں کہ اس محبت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی جس کا آغاز ایک عورت کی طرف سے ہو۔ اور اگر نہیں کرو گی تو تمہیں عادل سے شادی کرنی پڑے گی اور یہ تو میں بھی کبھی نہیں ہونے دوں گی تمہارے ساتھ۔"

"پھر اب؟" اس نے معصوم سا منہ بناتے ہوۓ کہا۔

"میرے پاس ایک آئیڈیا ہے جس سے ہمیں پتہ چل جائے گا کہ عرشمان کو تم سے محبت ہے یا نہیں"۔

"اب بولو بھی جلدی پھر وہ دونوں آ جائیں گے اور لیکچر بھی سٹارٹ ہونے والا ہے۔

"اچھا سنو پھر !"

"ہمممم"۔ اس نے نمرہ کے قریب ہوکر کہا۔

"دیکھو ! یہ بات ہم سب بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ صارم  تمہیں پسند کرتا ہے۔ مگر آج تک تم نے اس کے پیار کو ریجیکٹ ہی کیا ہے اور اب وقت آ چکا ہے اس کے پیار کو اکسیپٹ(accept) کرنے کا۔"

"کیا بکواس ہے یہ نمرہ؟ میں تمہیں یہاں بتا رہی ہوں کہ مجھے عرشمان سے پیار ہے اور تم مجھے کہہ رہی ہو کہ میں صارم کا پروپوزل اکسیپٹ کروں؟" 

"ارے میری ماں ! پہلے پوری بات تو سن لیا کر پھر اپنے مشورے دیا کر" وہ سر پکڑتے ہوئے بولی۔

"ہاں بول"۔

"دیکھ جب تُو صارم کی محبت قبول کرے گی تو اگر تو عرشمان کو برا لگا یا اسے جلن ہوئی تو سمجھ لینا کہ وہ بھی تجھ سے پیار کرتا ہے۔ اور اگر اس نے کوئی ردِ عمل نہ دیکھایا بلکہ الٹا خوش ہوا تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے تم میں کوئی دلچسپی نہیں۔ چاہے تم جس سے بھی شادی کرو، جس کی بھی ہو جاؤ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"

"مگر یہ بات تو میری منگنی کا سن کر ہی پتہ چل جائی گی۔ یعنی اگر اسے مجھ سے محبت ہوئی تو وہ کبھی میرا نام کسی اور سے منسوب نہیں ہونے دے گا"۔

"ہاں ! یہ بھی ہے"۔

"چلو دیکھتے ہیں۔ اسے آنے تو دو ایک بار"۔ 

"چھوڑو یہ بتاؤ کہ عادل کیسا ہے؟"

"نمرہ مجھے تنگ مت کر پلیز "۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ اچھا ٹھیک ہے۔ نوٹس بناۓ تُو نے سر جمشید کے"؟

"ارے نہیں یار ! اس منگنی کے چکر میں سب زہن سے نکل گیا"۔

"کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے پہلے ہمیشہ بنا کر آتی ہو"۔

"ہاہاہاہاہاہا "۔

"لو آگیا تمہارا کرش !" نمرہ، عرشمان اور حمزہ کو آتے ہوئے دیکھ بولی۔

"چُپ ہو جاؤ اب ! ویسے تیرے والا بھی تو ساتھ ہی ہے"۔ اس نے نمرہ کو چھیڑتے ہوۓ آنکھ ماری۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ کمینی کہیں کی"۔ وہ عینا کے بازو پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی۔

"ہاۓ گائیز ! گڈ مارننگ"۔ عرشمان اور حمزہ نے ہاتھ لہراتے ہوۓ کہا۔

"گڈ مارننگ" وہ دونوں مسکرا کر بولیں۔

"کیا ڈِسکشن ہو رہی تھی"؟ عرشمان چئیر پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔

"نتھنگ سپیشل !" نمرہ نے جواب دیا۔

"آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو نمرہ !" حمزہ نے شرما کر کہا۔

"شکریہ "۔

"تم مجھے مِس کر رہی تھی ناں"؟

"بالکل نہیں!"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ نمرہ کبھی تو ہاں میں جواب دے دیا کرو بیچارہ روز تم سے پوچھتا ہے"۔ عینا نے حمزہ کی حمایت کی۔

"اچھا یہ سب چھوڑو عینا ! تم بتاؤ جو تم بتانے والی تھی"۔ نمرہ نے اسے اشارہ کیا۔

"اوہ ہاں !"

"کیا بتانا ہے بتاؤ"۔ عرشمان نے دلچسپی ظاہر کی ۔

"دوستو ! کل میری پھوپھو آئیں تھیں اور ساتھ میں ان کا بیٹا عادل بھی۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

بیلّ کی آواز پر وہ وہیں خاموش ہو گئی۔

"اوکے فائن عینا ! بعد میں بتانا۔ چلو لیکچر کا ٹائم ہوگیا ہے"۔ عرشمان نے چئیر سے اٹھتے ہوۓ کہا۔

سب نے کلاس کا رخ کیا مگر عینا کی نگاہیں ساتھ چلتے ہوۓ عرشمان پر ہی تھیں۔

"ایسے کیا دیکھ رہی ہو"؟ عرشمان نے عینا کو گھورتے ہوۓ دیکھ کر کہا۔

"کچھ نہیں "۔

اسکے جواب پر وہ سر جھٹک کر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ارے شرفُو !" کلاس سے باہر آتے ہی وہ سامنے کوری ڈور میں بیٹھے اشرف سے مخاطب ہوا جو گول گپے کھانے میں مصروف تھا۔

"ہاں !" عرشمان کی آواز سن کر وہ جلدی جلدی گول گپے ٹُھوسنے لگا۔

اشرف جامی یونیورسٹی کا چوکیدار اور رپورٹر تھا۔ جسے پیار سے سب شرفُو کہتے تھے۔ ہر نئی خبر وہ پیسے وصول کر کے دیتا تھا۔ اور سب سے پہلی خبر ہمیشہ وہ ماسٹر گروپ کو ہی دیتا کیونکہ عرشمان اس کا سب سے پہلا گاہک ہوتا تھا۔

"کھا لے ! کھا لے ! مفت کا مال ہے۔ یقیناً یہ گول گپے بھی تُو نے کسی کو خبر سنا کر ہی لیۓ ہوں گے۔" عرشمان نے اسکے قریب آکر اسکے کندھے پر بازو رکھتے ہوۓ کہا۔

"نہیں ! پہلی بار خود اپنے پیسوں سے لیۓ ہیں۔ کیونکہ میرے پاس ایک ایسی خبر ہے جسے سنانے کے بعد میں امیر ہونے والا ہوں۔" 

شرفو کی بات سن کر اس نے حیرانگی سے اپنے دوستوں کی طرف دیکھا۔

"کیا خبر ہے؟ جلدی بتا یہ باقی کے گول گپے مجھے دے"۔ حمزہ اسکے ہاتھ سے پلیٹ پکڑتے ہوۓ بولا۔

"ایسے کیسے بتا دوں؟  پیسے لگتے ہیں"۔ 

"کچھ تو شرم کرلو شرفو بھائی ! کبھی تو بنا پیسوں کے خبر سنا دیا کرو"۔ عینا نے معصومیت سے گئی۔

"ہاۓ ! ہاۓ ! ہاۓ"! وہ دل پہ ہاتھ رکھ کر بولا۔

"کیا ہوا ؟" نمرہ نے سوال کیا۔

"جب یہ خوبصورت لڑکی مجھے بھائی کہتی ہے تو میرے دل پر چھریاں چلتی ہیں چھریاں!" وہ معصومانہ انداز میں گویا ہوا۔

"شرفو!" عرشمان نے سنجیدگی سے کہا۔

"جی۔۔۔۔۔جی۔ عرشمان صاحب ! حکم"۔ وہ فرما برداری سے بولا ۔

"چوّلیں نہ مار اور خبر سنا"۔ اسکا لہجہ کافی سخت لگ رہا تھا۔

"دیکھ عرشمان کو غصہ آ رہا ہے شرفو کو تجھ پہ لائن مارتے ہوۓ دیکھ کر" اس نے عینا کے کان میں سرگوشی کی ۔

نمرہ کی بات سن کر عینا نے شرماتے ہوئے عرشمان کو دیکھا جو ابھی بھی غصے سے شرفو کو دیکھ رہا تھا۔

"نہیں نہیں باس ! اس بار ایسے ہی سو دو سو میں خبر نہیں سناؤں گا۔ چونکہ خبر بڑی ہے تو رقم بھی بڑی ہی لگے گی۔"

"اچھا تو بول کتنے پیسے؟" عرشمان نے ماتھا مسلتے ہوۓ کہا۔

"پورا ایک ہزار"۔ 

"ٹھیک ہے پکڑ ۔ لیکن اگر خبر مزے کی نہ ہوئی تو ہزار جوتیاں بھی کھاۓ گا مجھ سے"۔ عرشمان پیسے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا۔

"ٹھیک ہے"۔ اس نے پیسے پکڑے۔

"ہمممم۔ اب بول !" حمزہ مخاطب ہوا ۔

شرفو نے سب کو اپنے قریب ہونے کا اشارہ کیا تو سب نے اس کی طرف کان دھر لیے۔

"خبر یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔"

"ارے شرفو بھائی !" 

دور سے سمیر کی آواز سن کر شرفو وہیں رک گیا۔ 

"شرفو بھائی ! صبح آپ نے کہا تھا کہ آپ کے پاس ایک تازہ خبر ہے جلدی سے مجھے سناؤ"۔ اس نے قریب آکر کہا۔

"اوۓ! ہم تجھے کھڑے نظر نہیں آ رہے کیا جو منہ اٹھا کر خبر سننے آگیا ہے؟" حمزہ نے ٹونٹ مارا۔

" تو میں بھی پیسے دے کر ہی خبر سننے آیا ہوں۔ اب ہٹو راستے سے"۔ سمیر نے اکڑ کر کہا۔

"ہاں آجا ! نکال ہزار روپیہ اور تٗو بھی سن لے خبر"۔ شرفو نے اشارہ کیا۔

"آ جاتے ہیں پتا نہیں کہاں کہاں سے"۔ وہ منہ میں بڑبڑایا۔

"ایک سیکنڈ شرفو !" عرشمان نے اسے پچکارا۔

"بیٹا ! تُو پیسے دے یا نہ دے مگر شرفو تجھے خبر نہیں سنائے گا۔ سمجھا؟ یُو کین گو ناؤ (you can go now) !" اس نے غصے سے کہا۔

"کیوں جاؤں میں ؟ پیسے شرفو کو دینے ہیں تمہیں نہیں"۔ سمیر اسکے مقابل کھڑا ہو گیا۔

"اوہ اچھا ! تو اب تُو ماسڑ گروپ سے پنگا لے گا؟" 

"کون ہو کون تم لوگ؟ بدمعاش ہو کوئی؟"

"ہاں بیٹا ! ہم بدمعاش ہی ہیں " حمزہ کی آواز میں کافی جوش تھا۔

"چلو دیکھتے ہیں پھر بدمعاشی! شرفو بھائی بتاؤ تم کتنے پیسے لو گے خبر سنانے کے؟ "

 لڑائی کی آواز سن کر یونیورسٹی کے بہت سے لوگ یہاں جمع ہو رہے تھے۔

"دیکھ سمیر ! تجھے میں پیار سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں سے چلا جا۔ اگر میرا دماغ شاٹ ہو گیا ناں تو پھر پوری یونیورسٹی جانتی ہے عرشمان احمد کے غصے کو"۔ اس نے اسکا گریبان پکڑتے ہوئے کہا۔

"اچھا ! تو یہ بات ہے دکھاؤ پھر اپنا غصہ۔ میں تو سنوں گا شرفو بھائی سے خبر"۔ وہ ڈٹ کر بولا ۔

"تُو ایسے نہیں مانے گا لگتا ہے تجھے دوسری زبان ہی سمجھ میں آتی ہے"۔

"عرشمان چھوڑو ! جانے دو اس کو۔ ابھی کل ہی تو آیا ہے یہ۔ خوامخواہ میں بچے سے پنگا لے کر کیا کرو گے ؟ دھیرے دھیرے یہ خود ہی جان جائے گا ہمارے بارے میں"۔ عینا نے لڑائی ختم کرنے کی کوشش کی۔

"چھوڑو شرفو بھائی ! امید ہے کہ اس سے زیادہ پیسے نہیں دیے ہوں گے ان لوگوں نے۔ اب خبر سناؤ" وہ پانچ ہزار اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا۔

شرفو نے جیسے ہی پیسے ہاتھ میں لئے عرشمان غصے سے اُسے گھورنے لگا۔

"نہیں سمیر بھائی ! میں یہ پیسے نہیں لے سکتا۔" اس نے پیسے واپس پکڑا دئیے۔

"مگر کیوں؟"

"کیونکہ تم ابھی کل آۓ ہو اور ماسٹر گروپ کو نہیں جانتے۔ مگر میں بہت اچھے سے جانتا ہوں ان سے بڑھ کر مجھے کوئی عزیز نہیں ہے۔ میرے ہر اچھے برے وقت میں انہوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ پیسوں کے لالچ میں اپنی دوستی خراب نہیں کر سکتا میں۔ اور میرا تمہیں بھی یہی مشورہ ہے کہ تم ماسڑ گروپ سے پنگا کبھی مت لینا"۔ اس نے نصیحت کی۔

"ٹھیک ہے شرفو بھائی۔" اس نے نرمی سے کہا۔

"مگر تم یاد رکھنا کہ سمیر عبد الستار سے پنگا بہت مہنگا پڑے گا تمہیں۔" اس نے انگلی دیکھاتے ہوۓ دھمکی دینے کی کوشش کی۔

"سستی تو عرشمان احمد جوتی بھی نہیں پہنتا۔" اس نے سمیر کی انگلی پکڑ کر نیچے کرتے ہوۓ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔

سمیر نے خاموشی سے اپنا رخ دوسری جانب موڑا اور کلاس کی طرف چل دیا۔

"تم سب لوگ کیا دیکھ رہے ہو؟ تماشا لگا ہوا ہے کیا یہاں پر؟" عینا غصے سے ہجوم کو دیکھ کر چلّائی۔

 سب واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئے۔

"چل شرفو ! اب خبر سنا" حمزہ جھٹ سے بولا۔

"ایک منٹ۔" عرشمان نے رکنے کا اشارہ کیا۔

اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور پانچ ہزار کے دو نوٹ شرفو کے ہاتھ پر رکھ دیے۔

"یہ لے شرفو ! یہ تیرا انعام ہے"۔

"شکریہ ! عرشمان بھائی"۔

"چل اب ہو جا سٹارٹ!" اس نے ہنس کر کہا۔

"تو خبر یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔"

"کہ؟" نمرہ نے سوال کیا۔

"کہ اس ویک اینڈ۔۔۔۔۔۔۔"

" ابے سالے ! بول بھی دے اب کیوں سسپینس (suspense) ڈال رہا ہے"۔ حمزہ نے اسکے سر پر تھپڑ مارتے ہوۓ کہا۔

"اچھا ! بول رہا ہوں"

"اس ویک اینڈ تم لوگوں کا۔۔۔۔۔"

"اب اگر تُو نے بات مکمل کرنے سے پہلے اپنا منہ بند کیا تو بڑی مار کھاۓ گا مجھ سے"۔  عرشمان چِڑ کر بولا۔

"اچھا باس ! غصہ نہ کر بتا رہا ہوں۔ تو اس ویک اینڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"چلو عرشمان ہو جاؤ شروع "۔ عینا نے ضبط توڑتے ہوۓ کہا۔

"حمزہ !"۔ اس نے اشارہ کیا تو حمزہ نے آستین اوپر چڑھا لیے۔

"ابے رُکو"! شرفو نے کینٹین کی طرف دوڑ لگا دی۔ اور وہ چاروں بھی اسکے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے ۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟" اس نے ساتھ والی کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔

"جی کیوں نہیں !"

"فاطمہ نام ہے ناں تمہارا"؟

"جی"۔

"میرا نام سحرش ہے"۔

"اچھا لگا آپ سے مل کر سحرش"۔ اس نے شائستگی سے کہا۔

" تم کل بھی لائبریری میں یہاں اسی چئیر پر آ کر بیٹھی تھی ناں ؟

"جی"۔

"میں نے دیکھا ہے تم زیادہ کسی سے بات نہیں کرتی چپ چپ رہتی ہو۔ ایسا کیوں ہے؟"

"کیونکہ انسان جتنا خاموش رہتا ہے اتنی ہی عزت پاتا ہے"۔

"ارے واہ ! تم تو باتیں بھی بہت اچھی کرتی ہو"۔

"اچھا یہ عبایا کی سمجھ نہیں آئی مجھے۔ یعنی اس یونیورسٹی میں تو کوئی بھی عبایا نہیں پہنتا تو تمہیں عجیب نہیں لگتا؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"نہیں ! بالکل نہیں "

"فاطمہ ! تم بہت گہری لڑکی ہو"۔

"تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟"

"کیوں کہ میں نے بتایا کہ تم  زیادہ بولتی نہیں ہو خاموش رہتی ہو۔ تو تمہارے اندر کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا؟"

"ایسا نہیں ہے سحرش!"

"تم دوستی کرو گی مجھ سے؟"

"کیا دوستی؟" اس نے چونک کا سحرش کو دیکھا۔

"ہاں دوستی کیوں نہیں کروگی کیا دوستی ؟"

"ایسی بات نہیں ہے سحرش !"

"تو پھر اتنی حیران کیوں ہوئی؟"

"دراصل سحرش ! تمہارا حلیہ اور میرا حلیہ بالکل مختلف ہے۔ تم کسی امیر گھرانے کی اور ماڈرن لڑکی لگتی ہو اس لئیے۔"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ تو کیا امیر اور ماڈرن لوگ ایک معصوم لڑکی سے دوستی نہیں کر سکتے؟"

"میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا" وہ مسکرا کر بولی۔

"خیر چھوڑو فاطمہ ! چلو کینٹین چلتے ہیں۔ میں تمہیں اپنی دوستی کی خوشی میں ٹریٹ دیتی ہوں"۔ وہ فاطمہ کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔

"نہیں ٹریٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے"۔

"بھئی میں اپنی خوشی سے دے رہی ہوں۔ چلو اٹھو اب انکار مت کرنا پلیز"۔

"اچھا چلو" اس نے نرم لہجے میں کہا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"دکھائی نہیں دے رہا کیا تمہیں؟ دیکھ کر نہیں چل سکتی؟" وہ بنا دیکھے زور سے بولا۔

لائبریری سے باہر نکلتے ہوئے وہ عرشمان سے ٹکرائی جو تیزی سے شرفو کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔

"ایم سوری !" وہ سر جھکا کر بولی۔

"تم کیوں سوری بول رہی ہو فاطمہ؟ دیکھ کر وہ نہیں چل رہا تھا تو غلطی اسکی ہے۔" سحرش نے گرج کر کہا۔

اس نے سحرش کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور جھک کر فاطمہ کی بُکس اٹھانے میں مدد کرنے لگا مگر اس کی نگاہیں فاطمہ کے چہرے پر ہی تھیں جس میں بمشکل صرف آنکھیں ہی دکھائی دے رہی تھیں۔

"عرشمان چھوڑو یہ سب وہ خود اٹھا لے گی۔ اور وہ دیکھو شرفو بھاگ رہا ہے پکڑو اسے"۔ عینا جل کر بولی۔

مگر عرشمان کو تو جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ اس کی نگاہیں مسلسل فاطمہ پر ہی تھیں جو نظریں جھکاۓ اپنی بُکس اٹھا رہی تھی۔

"چلیں؟" اس نے سوالیہ نظروں سے سحرش کو دیکھا۔

"ہاں چلو"۔

"سنو فاطمہ !" عرشمان نے اسے پیچھے سے آواز دی۔

آواز سنتے ہی فاطمہ نے اپنے قدم روک دیے۔

"مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے"۔ عرشمان نے اسکے سامنے ہوتے ہوۓ کہا۔

"آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟" اس نے معصومانہ سوال کیا۔

"ابھی آپکی دوست نے لیا آپکا نام اور کل آپکے گلے میں لٹکے ہوۓ سٹوڈنٹ کارڈ پر بھی دیکھا تھا"۔

اس نے مزید کوئی جواب نہ دیتے ہوۓ قدم آگے بڑھا دئیے۔  عینا جو پاس کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی اس نے بمشکل اپنے ضبط کو کنٹرول کیا۔

"فاطمہ ! میں نے کہا کہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے"۔ عرشمان نے پھر سے اسے آواز دی۔

مگر فاطمہ نے کوئی ردعمل شو نہ کرواتے ہوئے اپنے قدم کنٹین کی طرف جاری رکھے۔

"عجیب ہے یہ لڑکی۔ کوئی جواب ہی نہیں دے رہی" وہ خود سے مخاطب ہوا ۔

"جب وہ جواب نہیں دے رہی تو تم کیوں اس سے بات کرنے کے لیے مر رہے ہو"؟ عینا تپ اُٹھی۔

"مر نہیں رہا میں"۔

"لگ تو ایسا ہی رہا ہے"۔

"چھوڑو شرفو کہاں ہے؟ اسے پکڑتے ہیں"۔

"شرفو، نمرہ اور حمزہ اب تک بہت دور نکل چکے ہوں گے۔ تم ایک کام کرو فاطمہ کے پیچھے جاؤ اور اس سے باتیں کرو۔ ہم خود شرفو کو پکڑ کر اس سے خبر جان لیں گے۔" اس نے طنزیہ کہا۔

"مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے مس نورالعین ! کہ آپ کو فاطمہ سے جلن ہو رہی ہے"؟ وہ قریب آکر بولا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ جلن؟ اور مجھے؟ اور وہ بھی اس فاطمہ سے ؟ اچھا مذاق ہے عرشمان "۔ اس نے ڈھٹائی سے کہا۔

"اچھی بات ہے اگر نہیں ہو رہی تو !" اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھا۔

"ہمممم۔" وہ اور کچھ نہ بول سکی۔

"اب چلو شرفو کی ایسی کی تیسی کرتے ہیں"۔ اس کا انداز شرارتی تھا۔

وہ خاموشی سے عرشمان کے پیچھے چل دی مگر اس کی سوچوں میں فاطمہ کا عکس تھا کیونکہ وہ اسے کبھی کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہاۓ ! ہاۓ !" وہ تھک کر زور زور سے سانس لینے لگا۔

"چل شرفو کے بچے ! بتا اب۔ بہت بھگا لیا تُو نے" حمزہ نے اسے پکڑ کر کہا۔

"اچھا میرے بھائی ! بتاتا ہوں۔ پہلے سانس تو لینے دو"

"ہمممم۔ بول بول شاباش !"

"ارے ! یہ عرشمان اور عینا کہاں رہ گئے دونوں؟" نمرہ نے ادھر ادھر نظریں گھمائیں تو وہ دونوں دور سے چلے آرہے تھے۔

"وہ رہے"۔ حمزہ نے اشارہ کیا۔

"ہمممم؟ پھر شرفو نے بتائی کوئی نیوز یا نہیں؟" اس نے پاس آکر کہا۔

"نہیں یار ! اب کہتا ہے مجھے سانس لینے دے"۔

"ویسے تم لوگ کہاں رہ گئے تھے؟" نمرہ نے سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا۔

"کہیں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"جناب مسٹر عرشمان احمد ملک صاحب ! فاطمہ کو دیکھنے رک گئے تھے۔" عینا نے عرشمان کی بات کاٹی۔

"کون فاطمہ؟" حمزہ چونکا۔

"وہی مس مولون صاحبہ !"

"او پلیز ہے عینا !" عرشمان نے بیزاری ظاہر کی۔

"اچھا اب تم لوگوں کی باتیں ختم ہوگئی ہوں تو میں خبر سناؤں؟ یا پھر سے بھاگ جاؤں؟" 

"ارے ! نہیں شرفو بولو تم۔ اور خبردار ! جو دوبارہ بھاگنے کی کوشش بھی کی تو۔" عرشمان کے لہجے میں طمانیت تھی۔

"اچھا تو پھر سنو!"

چاروں نے پھر سے شرفو کی طرف کان دھر لیے۔

"تو خبر یہ ہے کہ اس ویک اینڈ۔۔۔۔۔۔۔"

"خدا کی قسم ! اب میرا دماغ خراب ہو رہا ہے۔" عرشمان نے غصے سے کہا۔

"سوری ! سوری ! اب پوری خبر سناؤں گا۔ عینا کی قسم !" شرفو نے شرما کر عینا کو دیکھا۔

"ہاہاہاہاہاہا !" حمزہ زور سے ہنسا تو عرشمان نے اسے گھورا۔

"اوکے باس ! سوری " اس نے اپنا منہ بند کرتے ہوۓ کہا۔

"خبر یہ ہے کہ اس ویک اینڈ تم لوگوں کا ٹرِپ جا رہا ہے شمالی علاقوں میں اور وہ بھی پورے ایک ہفتے کیلئے" وہ جھٹ سے بول پڑا۔

"یا ہُووووو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!" عینا اور حمزہ اُچھل کر بولے۔

"چلو اب بھاگو یہاں سے۔ شرفو کو اور بھی کام ہیں "۔ اس نے سب کو ہٹنے کا اشارہ کیا اور چلا گیا۔

تینوں خوشی سے جھوم رہے تھے مگر عرشمان کے چہرے پر کوئی خوشی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

"کیا ہوا عرشمان تُو خوش نہیں ہے کیا؟ پہلے تو کسی بھی فنکشن کا یا ٹرِپ کا سن کر سب سے زیادہ خوشی تجھے ہوتی ہے اور آج تیرا منہ لٹکا ہوا ہے خیر تو ہے؟" حمزہ نے اسے پریشان دیکھ کر سوال کیا۔

"نتھنگ لیو اِٹ یار !" (Nothing leave it)

"پکی بات ہے؟"

"ہمممم۔ چل چلتے ہیں سب کو بتاتے ہیں ٹرِپ کا"۔

"اوکے باس "۔

----------------------------------------------

"ہاہاہاہاہاہا۔ جی بالکل بھائی صاحب ! ٹھیک کہا آپ نے"

"تو پھر اس ویک اینڈ پہ رکھ لیتے ہیں منگنی کا فنکشن۔"

"جی بہتر"

"ٹھیک ہے سارا بیٹا تم عینا کو بتا دینا کہ اس ویک اینڈ پر اس کی منگنی ہے عادل سے۔"

"کیا؟" اس نے لان میں داخل ہوتے ہی چونک کر کہا۔

"چلو اچھا ہوا عینا بیٹا تم بھی آگئی۔" مہرین شائستگی سے بولی۔

"بابا آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟"

"کیا مطلب؟" سکندر شاہ نے حیرانگی سے پوچھا۔

"مطلب یہ بابا کہ آپ نے مجھ سے پوچھے بنا میری منگنی کا دن بھی ڈسائیڈ کر لیا؟" اس نے بیگ چئیر پر رکھتے ہوۓ کہا۔

"کیوں کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے کیا؟" 

"جی بابا ! اس ویک اینڈ میرا ٹرپ جا رہا ہے اور میں اپنا فائنل ٹرِپ مِس نہیں کر سکتی۔"

"اوہ ہو ! یہ تو واقعی مسئلہ ہوگیا"۔ سکندر شاہ نے افسردگی سے کہا۔

"کوئی بات نہیں بھائی صاحب ! ہم دو دن بعد کا فنکشن رکھ لیتے ہیں۔" مہرین نے مشورہ دیا۔

"ہاں یہ ٹھیک ہے۔ پھر اس کے بعد سکون سے ٹرِپ انجوائے کرنا میرا بچہ !"

"مگر بابا ! اتنی جلدی کیا ہے آخر؟"

"بیٹا ! آج بھی کرنی ہے اور کل بھی۔ تو پھر جلدی کر لی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔"

"لیکن بابا۔۔۔۔"

"بس ! میرا بچہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ اور میرا فیصلہ پتھر پر لکیر ہوتا ہے یہ تم بہت اچھے سے جانتی ہو۔ اس لیے اپنے جن دوستوں کو بلانا ہے انہیں آج ہی بتا دو" سکندر شاہ نے عینا کی بات کاٹی۔

عینا نے غصے سے اپنا بیگ اٹھایا اور کمرے میں جا کر دروازہ زور سے پٹخ دیا۔

"یہ کیا طریقہ ہے آخر ! مجھ سے پوچھے بنا ہی میری زندگی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں؟"  وہ بیگ زور سے بیڈ پر چلا کر پھینکتے ہوئے بولی۔

"عینا میری بات سنو ! " سارہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔

"مجھے پلیز تھوڑی دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دیں آپی !" اس نے چیخ کر کہا۔

"عینا میری جان ! بات تو سنو ایک بار میری۔" وہ مسلسل دستک دے رہی تھی۔

"آپی کہا ناں ! اکیلا چھوڑ دیں۔"

"ٹھیک ہے"۔ سارہ نے مایوسی سے جواب دیا۔

"اب کیا کروں میں ؟ یا اللّٰہ ! کیسے سمجھاؤں میں ان سب کو کہ مجھے عادل سے منگنی کرنی ہی نہیں ہے" اسکی آنکھ میں آنسو تھے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہیلو ! ہاں عینا بولو"۔

"عرشمان مجھے تم سے ملنا ہے ابھی اسی وقت !"

"ارے ہاں ! تم کل بھی کچھ بتانے والی تھی مجھے۔ پھر آج یونیورسٹی میں بھی نہیں بتایا۔ بولو کیا بات ہے؟"

"مل کر بتاؤں گی۔ فون پر نہیں بتا سکتی بہت ضروری بات ہے۔"

"ہمممم۔ تو بتاؤ کہاں ملنا ہے؟"

"اسی ہوٹل میں آ جاؤ جہاں ہمیشہ ہم اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹی کرتے ہیں"۔

"اوکے۔" عرشمان نے فون جیب میں رکھا گاڑی کی چابی اٹھائی اور گیراج کی جانب بڑھا۔

" رُکو ! عرشمان کہاں جا رہے ہو تم؟" وہ اسے سیڑھیوں سے نیچے اترتا دیکھ کر بولیں۔

"موم ! کچھ کام ہے مجھے بس تھوڑی دیر میں آیا"۔

"کسی سے ملنے جا رہے ہو؟"

"جی ! عینا سے"۔

"ابھی یونیورسٹی سے تو واپس آئے ہو۔ وہاں نہیں ملے کیا اس سے"؟

"اوہ ہو موم ! اتنی انویسٹیگیشن کیوں کر رہی ہیں آپ؟

"بیٹا انویسٹیگیشن نہیں کر رہی بس پوچھ رہی ہوں۔"

"میں واپس آ کر بتاؤں گا آپ کو۔ فی الحال میں لیٹ ہو رہا ہوں۔ باۓ !"

"ارے میری بات تو۔۔۔۔۔۔۔"انہوں نے اسے پیچھے سے آواز دی مگر وہ جا چکا تھا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہاۓ !" وہ صوفے پہ بیٹھی عینا سے مخاطب ہوا۔ 

"ہاۓ !"

"اتنی سڑی شکل کیوں بنائی ہوئی ہے؟ چڑیل !" اس نے بیٹھتے ہی اسے چھیڑا۔

"عرشمان میرا مذاق کا بالکل موڈ نہیں ہے سو پلیز بی سیریس !" 

"اوکے میڈم ! مگر پہلے کچھ آرڈر کر لیتے ہیں۔ یہ بتاؤ چائے پیئو گی یا کافی؟"

"چاۓ"۔

"گُڈ ! میں بھی"۔ اس نے مسکرا کر کہا ۔

 ویٹر کو پاس آنے کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے چائے کا آرڈر دیا۔

"ہاں تو اب بولو محترمہ !" اس نے اپنے بازو ٹیبل پر رکھے۔

"عرشمان! وہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"ہمممم؟"

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"عینا بولو بھی!"

"عرشمان وہ میں تمہیں بتانا چاہتی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔" ا اسکی پلکیں نم ہو چکی تھیں۔

"عینا کیا ہوا ہے تم رو کیوں رہی ہو؟ کسی نے تم سے کچھ کہا ہے؟ بتاؤ مجھے۔" اس نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا۔

وہ کافی دیر تک اس کے ہاتھوں میں ہاتھ دیکھ کر روتی رہی۔

"عینا پلیز بتاؤ مجھے۔ میں نے کبھی تمہیں اتنا روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ کیا ہوا ہے؟" 

"عرشمان دو دن بعد۔۔۔۔۔۔" وہ پھر سے زاروقطار رونے لگی۔

"یار ! تم اتنا رؤ گی تو میں تم سے بات نہیں کروں گا۔ اس نے نرمی سے کہا۔

" اوکے ! اب نہیں روتی"۔ اس نے اپنے آنسو صاف کئے۔

"ہمممم ۔ گُڈ گرل ! اب بتاؤ"۔

" عرشمان ! دو دن بعد میری اینگیجمینٹ (Engagement) ہے عادل سے۔" وہ اٹکتے ہوۓ بولی۔

"وٹ"؟ اس نے چونک کر کہا۔

"ہمممم"۔ وہ پھر سے رونے لگی۔

"واہ ! ویری گُڈ مس نورالعین ! کیا دوستی نبھائی ہے تم نے۔ اتنی جلدی بتا رہی ہو ؟ منگنی والے دن ہی بتا دیتی کیا ضرورت تھی دو دن پہلے بتانے کی ؟" اس نے طنزیہ کہا۔

"عرشمان ! مجھے خود آج پتہ چلا ہے"۔

"ہممممم۔ یہ بھی سہی ہے۔" اس نے دوبارہ طنز کیا۔

"تم خوش ہو؟"

" ہاں بہت خوش ہوں میں تمہاری منگنی کا سن کر "۔ اس نے طمانیت سے جواب دیا۔

"مگر میں خوش نہیں ہوں عرشمان ! بالکل بھی خوش نہیں ہوں۔" اسکی آواز میں کافی درد تھا۔

"تو کیا چاہتی ہو اب تم؟"

" میں تم سے بس ایک سوال کا جواب جاننا چاہتی ہوں"۔

" تھینکس !" عرشمان ٹیبل پر چاۓ رکھتے ہوۓ ویٹر سے مخاطب ہوا۔

"ہمممم ۔ کیا جاننا چاہتی ہو؟"

" کہ تم خوش ہو میری عادل سے منگنی پر یا نہیں؟"

"بہت زیادہ خوش ہوں۔ بتا تو دیا"۔ اس نے پھر سے طنز کیا۔

" نہیں ! ایسے نہیں."

"پھر کیسے؟"

"میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو کہ تم مجھے عادل کے ساتھ دیکھ کر خوش ہو؟"

" موم میرا ویٹ کر رہی ہونگی۔ چلتا ہوں باۓ !" وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوۓ چئیر سے اٹھا۔

" عرشمان تم بنا جواب دئیے نہیں جا سکتے".

" سی یو لیٹر"۔ اس نے باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔

"عرشمان!" 

"عرشمان سنو تو !"

"عرشمان!"

اس نے کئی آوازیں دیں مگر وہ اسے نظر انداز کرتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

واپس گھر آتے ہی اس نے پرس بیڈ پر پھینکا اور سکندر شاہ سے لپٹ گئی۔

"بابا ! مجھے یہ منگنی نہیں کرنی" اس نے روتے ہوۓ کہا۔

"مگر کیوں میرا بچہ؟" انہوں نے پیار سے پوچھا۔

"بابا میں ابھی مینٹلی طور پہ فریش نہیں ہوں۔ اور میرے ایگزیمز بھی ہونے والے ہیں۔"

"میرا بچہ ! یہ تو کوئی وجہ نہ ہوئی انکار کی۔"

"بابا جو بھی ہے پلیز آپ ابھی منع کردیں پلیز!" اس نے ہاتھ جوڑ دئیے۔

"یہ کیا کر رہی ہو تم ؟ آئندہ یہ مت کرنا۔ تم ہمیشہ مجھ سے اپنی ہر بات منوا لیتی ہو۔ چلو اب جیسے میرا بچہ خوش ویسے ہی میں خوش !" انہوں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے سے لگایا۔

"تھینکس بابا جانی !" وہ نم آنکھوں سے مسکرائی۔

" خوش رہو ۔ میرے بچے !"

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

یہ بریک کا وقت تھا جب وہ کینٹین سے سموسوں کی پلیٹ اٹھا کر کلاس میں فاطمہ کے پاس آ کر بیٹھی۔

"یہ کیا بات ہوئی فاطمہ ! تم آخر کیوں نہیں جاؤں گی ٹرِپ پر"؟ 

"کیونکہ ! میرا من نہیں کرتا"۔

"عجیب ہو تم قسم سے۔ خیر مجھے اور کچھ نہیں سننا تم جاؤ گی ضرور۔ بس میں نے کہہ دیا۔"

"نہیں ! میں نہیں جا سکتی۔"

"فاطمہ ! تم مجھے اپنی دوست مانتی ہو یا نہیں؟"

"مانتی ہوں"۔

"تو پھر بس مجھے اور کچھ نہیں سننا۔ تم چل رہی ہو۔"

"سحرش تم۔۔۔۔۔۔"

"دیکھو اگر پیسوں کا مسئلہ ہے تو کوئی بات نہیں۔ میں ارینج کر دوں گی"۔ اس نے اسکی بات کاٹی۔

"ایسی بات نہیں ہے"۔ 

"تو پھر ڈن (done) ہے۔"

چلو اب تھوڑی دیر تک شاپنگ پر چلتے ہیں اور میں کروانگی تمہیں شاپنگ"۔

"مجھے نہیں جانا"۔

"میں تمہیں لیکر ہی جاؤں گی اور یاد رکھنا اگر تم ٹرِپ نہیں گئی تو میں بھی نہیں جاؤں گی۔"

"سحرش ! میں آج ابا سے بات کروں گی پھر کل بتاؤں گی تمہیں۔

"ٹھیک ہے"۔

"اچھا چلو ! اب سموسے کھاتے ہیں"۔

"ہمممم"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان ! تُو میری بات کیوں نہیں سن رہا آخر کیا مسئلہ ہے تجھے؟ کب سے تیرے پیچھے پیچھے پھر رہا ہوں میں۔" حمزہ نے گراؤنڈ میں چلتے ہوۓ زور سے اسکا بازو پکڑا۔

"اور تجھے میں کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ مجھے فی الحال کسی سے کوئی بات نہیں کرنی۔ اب مجھے اکیلا چھوڑ دے پلیز !"

"نہیں ! بالکل اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ اب بتا کیا بات ہے مجھ سے کیا چھپا رہا ہے یار؟"

"کچھ نہیں چھپا رہا"۔

"نہیں کچھ تو ہے ۔ چل بتا !"

"کہا ناں کچھ نہیں ہے۔ اب دفع ہو جا یہاں سے"۔ اس نے غصے سے کہا ۔

"ٹھیک ہے تیری مرضی !"

حمزہ ناراضگی ظاہر کرتے ہوۓ وہاں سے چلا گیا۔

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا ہوا حمزہ ؟ کچھ بتایا اس نے؟" نمرہ نے سوال کیا۔

" کچھ بھی نہیں بتایا اور الٹا میری انسلٹ کر دی"۔

"بس بہت ہو گیا ! کل سے منہ سُجا کر بیٹھا ہے اور کسی سے بات بھی نہیں کر رہا۔ اب میں اسکو سیدھا کرتی ہوں اپنے طریقے سے"۔ عینا نے ہاتھ ٹیبل پر مارا۔ پھر جلدی سے اٹھی اور عرشمان کی جانب بڑھی جو گراؤنڈ میں اکیلا بیٹھا تھا۔

"اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟ کیوں اتنا بڑا منہ سُجایا ہوا ہے تم نے؟" وہ اسکے قریب آکر بیٹھ گئی۔

"عینا جاؤ یہاں سے"۔ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

"دیکھو میں جانتی ہوں کہ تم مجھے کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن تم ٹینشن مت لو۔ میں نے بابا کو منگنی کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اب چِلّ کرو۔" اس نے آنکھ ماری اور مسکرائی۔

"ک۔۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔کیا....؟ کیا کہا تم نے؟ میں۔۔۔۔۔؟ اور تمہیں کسی اور کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔ برداشت نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔؟" اس نے لفظوں کو زور دیتے ہوۓ بات کو دہرایا۔

"جی بالکل ! اب کہو کہ تمہیں دکھ نہیں ہوا تھا میری منگنی کا سن کر؟"

"بالکل بھی نہیں ہوا تھا مس نورالعین ! اور رہی بات برداشت کرنے کی تو میں تمہیں کسی اور کے ساتھ تو چھوڑو بلکہ   اپنے ساتھ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میں تمہیں یونیورسٹی میں بمشکل برداشت کرتا ہوں اور مجھ میں اتنا حوصلہ نہیں ہے کہ تمہیں ساری زندگی کے لیے اپنے پلّے باندھ سکوں" اس نے ہنس کر کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ تم بھی ناں مینڈک ! کبھی مت سدھرنا !"

"اگر میں سدھر گیا تو ان کا کیا ہوگا جن کو میری شرارتوں سے عشق ہے ؟" اس نے مزاقاً کہا۔

"ویسے کس کو ہے عشق تمہاری شرارتوں سے؟"

"بہت سے لوگوں کو اور شاید تمہیں بھی !" وہ آنکھیں ملا کر بولا ۔

"ممممممممم۔۔۔۔مجھے؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"ہاں نہیں ہے کیا ؟ سچ بتانا؟"

" ن۔۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔۔۔۔۔نہ۔۔۔۔۔۔۔نہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں تو !" اس نے اٹکتے ہوۓ نظریں جھکا لیں۔

" عینا میں جانتا ہوں کہ تم جھوٹ بول رہی ہو"۔

"کہا ناں نہیں !" وہ ڈٹ کر بولی۔

"اچھا ! اگر ایسی بات ہے تو پھر یہ بتاؤ کہ تم نے مجھے ہی اپنی منگنی کا آ کر کیوں بتایا اور تم میرے ہی سامنے آ کر کیوں روئی؟ تم  آخر کیوں عادل سے منگنی نہیں کرنا چاہتی تھی ؟" 

"عرشمان ! پلیز چھوڑو ناں یہ فضول باتیں۔ چلو سب مل کر ٹرِپ کی پلاننگ کرتے ہیں۔ "وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

"یہ بھی صیح ہے ویسے ! کہ بات کا جواب دئیے بغیر  ہی بات گول کر دو" اس نے کندھے اچکاۓ۔

"چلو اٹھو بھی اب !" 

وہ اسکی پیروی کرتا ہوا اسکے پیچھے چل دیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ارے واہ ! تو تم اسے منانے میں کامیاب ہو گئی ؟" حمزہ نے اسکی تعریف کی۔

"جی بالکل ! مسڑ مینڈک کو صرف میں ہی منا سکتی ہوں"۔ وہ اِترا کر بولی ۔ تو عرشمان نے اسے مسکرا کر دیکھا۔

"شکر ہے ! کسی کی بات تو سنتے ہو تم عرشمان۔" نمرہ ہنس کر گویا ہوئی۔

وہ دونوں چیئریز سیٹ کرتے ہوئے ان کے پاس بیٹھ گئے۔

"اوہ عینا ! تم یہاں بیٹھی ہو؟ میں تمہیں پوری یونیورسٹی میں ڈھونڈ کر آیا ہوں"۔ صارم نے پاس آکر کہا۔

"اور تُو عینا کو کیوں ڈھونڈ رہا تھا"؟ عرشمان نے سوال کیا ۔

"اک نظر دیکھنے کو دل کر رہا تھا۔ اور کچھ بات بھی کرنی تھی اس لئے۔" 

"ہاۓ ! میرا بھی تمہیں دیکھنے کو بہت دل کر رہا تھا اور مجھے بھی کوئی ضروری بات کرنی تھی تم سے۔ اچھا ہوا جو تم خود ہی آ گئے۔" اس نے عرشمان کو چِڑانے کی کوشش کی۔

"زہِ نصیب ! چلو پھر تھوڑا پرسنل ہوکر بات کرتے ہیں۔"

"اوکے"۔ 

وہ جھٹ سے اٹھی صارم کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالا اور پھر گراؤنڈ کی طرف رخ کیا۔ اب عرشمان کی نظریں ان کے ہاتھوں پر تھی۔ وہ مشکوک نگاہوں سے عینا اور صارم کو جاتے دیکھ رہا تھا۔ مگر حمزہ اور نمرہ مسلسل عرشمان کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش میں تھے۔

"چلو عینا ڈارلنگ ! اب بولو کیا کہنا چاہتی تھی مجھ سے؟" وہ اسکے قریب آیا۔

عینا جھٹ سے پیچھے ہوئی۔ پھر عرشمان کو دیکھا جو مسلسل انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ اسکی نگاہوں میں جلن صاف محسوس کر سکتی تھی۔

"صارم ! مجھے یاد ہے کہ تم نے مجھے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار پروپوز کیا ہے مگر میں نے ہر بار تمہارا پرپوزل ریجیکٹ کر دیا اور اب مجھے احساس ہوا ہے کہ تم ایک سچے انسان ہو۔ کیا تم پھر سے ایک بار مجھے پروپوز کرو گے تاکہ میں تمہارا پروپوزل ایکسیپٹ کر سکوں؟"

"عینا ! تم سچ کہہ رہی ہو؟" اس نے خوشی سے پوچھا۔

"ہاں بالکل!"

"ٹھیک ہے۔"

صارم نے گراؤنڈ میں لگے ہوئے پودے سے گلاب کا پھول توڑا اور پھر گھٹنے کے بل بیٹھ گیا۔

"میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ عینا کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟"

عینا نے فوراً عرشمان کے چہرے کی جانب دیکھا جو دور چیئر پر بیٹھا ابھی بھی اسے ہی گھور رہا تھا۔ پھر صارم کے ہاتھ سے پھول پکڑا اور مسکرائی۔

"کل ملیں گے حمزہ۔ خدا حافظ !" عرشمان جھٹ سے چئیر سے اٹھا اور گیٹ کی جانب چل دیا۔ دونوں نے اسے کئی آوازیں دیں مگر وہ جا چکا تھا۔

عینا نے عرشمان کو جاتا دیکھ کر فوراً پھول زمین پر پھینکا اور اپنے دوستوں کی جانب بڑھی۔ 

"کیا ہوا اسے؟ وہ کیوں چلا گیا؟"

"عینا تم نے بہت غلط کیا ہے تمہیں اس کا پروپوزل اکسیپٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ شاید اسے اچھا نہیں لگا اس لیے وہ چلا گیا"۔ حمزہ نے غصیلے انداز میں کہا۔

"او ہو ! زیادہ اوور ریکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔ میں جسٹ اس کو جیلس فیل کروا رہی تھی"۔

"جب تمہیں اچھے سے پتا ہے کہ وہ تمہیں کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا تو پھر کیوں اس کا دل دُکھاتی ہو تم؟"

"ک۔۔۔۔ک۔۔۔۔کیا۔۔۔۔؟ کیا کہا تم نے۔۔۔۔؟ اس نے کچھ کہا ہے کیا میرے بارے میں؟" اس نے تجسّس ظاہر کیا۔

"نہیں ! کچھ نہیں کہا۔ مگر ہم دونوں اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہے تھے جسے دیکھ کر کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اسے تمہارا صارم کا ہاتھ پکڑ کر جانا اور اس کا پروپوزل ایکسیپٹ کرنا اچھا نہیں لگا"۔

"یہ بات خود اس کے منہ سے سن سکوں اسی لئے تو یہ سب کچھ کیا ہے میں نے"۔

"واہ عینا ! تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے تم اسے جانتی ہی نہیں۔ تمہیں اچھے سے پتا ہے ناں کہ وہ کبھی بھی اپنی پیار کے متعلق فیلنگ شو نہیں کرواتا"۔

"لیکن ! اب کروائے گا"۔

"تمہیں کیا لگتا ہے؟ تمہارے یہ سب کرنے سے وہ تمہیں اظہار کرے گا؟ نہیں ! بلکہ اگر اسے تم سے محبت ہوئی بھی تو وہ پیچھے ہٹ جائے گا۔ یہ سوچ کر کہ تم تو ہر ایرے غیرے لڑکے کا ہاتھ پکڑ لیتی ہو۔ ہر کسی کا پروپوزل قبول کرلیتی ہو"۔ اس نے سمجھانے کی کوشش کی۔

"ہاں عینا ! میرے خیال سے حمزہ بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔ تمہیں یہ سب نہیں کرنا چاہیے۔" نمرہ نے اتفاقِ راۓ ظاہر کی۔

"تو پھر اب میں کیا کروں؟" اس نے معصومیت سے پوچھا۔

"کچھ مت کرو۔ بس جو ہونا تھا ہو چکا ہے مگر آئندہ احتیاط کرنا۔" حمزہ نے مشورہ دیا ۔

"ٹھیک ہے۔"

"عینا تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ تم نے صرف عرشمان کو جلانے کے لئے میرے جذبات کا تماشا بنایا؟" صارم قریب آکر عینا سے مخاطب ہوا ۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ تو تمہیں کیا لگتا ہے کہ نورالعین سکندر تم سے محبت کرے گی؟ ویری فنّی ! شکل دیکھی ہے تم نے کبھی اپنی؟ وہ اسکا مذاق اڑاتے ہوۓ بولی۔

"تو اس کا مطلب ہے کہ تم عرشمان سے محبت کرتی ہو؟  دیکھنا ! عینا جس طرح تم نے میرا دل توڑا ہے ناں ! تمہارا بھی ٹوٹے گا۔ جیسے تم نے میرے جذبات کا مذاق اڑایا ہے صرف اپنے مقصد کے لئے۔ اسی طرح تمہارے جذبات بھی تمہارے منہ پر مارے جائیں گے یاد رکھنا !" وہ سسکتے ہوۓ بولا۔

صارم کی بات سن کر وہ خاموش ہو گئی۔ اور کافی دیر تک اسے ٹکٹکی باندھ کر روتے ہوۓ جاتا دیکھتی رہی۔

"چھوڑو دفع کرو یار ! تم ٹینشن مت لو ایسا کچھ نہیں ہوگا انشاء اللّٰہ۔" نمرہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے حوصلہ دیا۔

"چلو میں کنٹین سے کچھ لے کر آتا ہوں پھر مل کر کھاتے ہیں سب"۔ حمزہ نے اسکا دھیان بھٹکانے کی کوشش کی۔

"اوکے"۔ نمرہ نے جواب دیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

وہ مغرب کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئی تو فورا کچن میں گئی۔ کھانا ٹرے میں رکھا۔ نور محمد صاحب بھی نماز پڑھ کر مسجد سے گھر تشریف لاۓ پھر دروازہ کھٹکھٹایا تو فاطمہ نے بھاگ کر دروازہ کھولا۔

"السلام علیکم ! بیٹا نماز پڑھ لی تم نے؟"

"واعلیکم السلام ! جی ابا"۔

"اچھا"۔

نورمحمد صحن میں پڑی چارپائی پر براجمان ہوئے اور فاطمہ نے کھانے کی ٹرے سامنے لا کر رکھی۔ پھر اپنے ابا کے روبرو بیٹھ گئی۔

"ابا ! مجھے آپ سے ایک چیز کی اجازت چاہیے تھی"۔

"ہاں بولو میری پیاری بیٹی !" انہوں نے کھانا کھاتے ہوۓ جواب دیا۔

"ابّا پرسوں ہماری یونیورسٹی کا ٹرپ جا رہا ہے اور میری دوست چاہتی ہے کہ میں بھی ساتھ جاؤں۔ اگر آپ اجازت دیں تو کیا میں چلی جاؤں؟" اسنے سر جھکا کر پوچھا۔

"کیا؟ ٹرِپ جارہا ہے؟ اور میری بیٹی بھی جانا چاہتی ہے؟"

"جی اباّ"۔ وہ معصومیت سے بولی ۔

"لیکن ! میری بیٹی نے اس سے پہلے تو کبھی ایسی ضد نہیں کی تو پھر اس بار کیا ہو اچانک؟" وہ نرمی سے بولے۔

"نہیں ! ابّا یہ میری ضد نہیں ہے بس خواہش ہے۔ اور اپنی خواہش میں نے آپ کے سامنے رکھی ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں چلی جاتی ہوں ورنہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر"۔

"اچھا کہاں جا رہا ہے ٹرپ؟ کتنے دنوں کے لیے؟ اور کتنے پیسے چاہئیں؟"

"ایک ہفتے کے لئے جا رہا ہے ابّا۔ شمالی علاقوں کی طرف اور تقریبا پندرہ ہزار ہر بچے نے دینے ہیں۔ مگر آپ فکر مت کریں ابا میری پیمینٹ (payment) میری دوست کر رہی ہے۔"

"نہیں بیٹا ! پہلی بات تو یہ کہ تمہاری رقم تمہاری دوست نہیں دے گی۔ کیونکہ تم جانتی ہو کہ میں ایک خود دار انسان ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کی رقم کوئی اور دے۔ بیٹا کبھی بھی کسی انسان کا احسان مت لینا پھر چاہے وہ تمہارا دوست ہی کیوں نہ ہو۔"

"مگر ابّا ! آپ اتنے پیسے کہاں سے لائیں گے؟"

"کہیں سے بھی لے لوں گا بیٹا۔ تم نے زندگی میں پہلی بار کوئی خواہش کی ہے تو میں کیسے اس کو نظر انداز کر سکتا ہوں"۔

"نہیں ! ابّا رہنے دیں۔ مجھے نہیں جانا کہیں۔ مجھے ایسی کوئی خواہش نہیں کرنی جس کی وجہ سے میرے ابا کو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے پڑیں۔" اسنے سنجیدگی سے کہا۔

"مگر ! بیٹا میں تمہیں خود اپنی خوشی سے بھیج رہا ہوں"۔ وہ پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے۔

"نہیں ابا ! بس نہیں جانا مجھے "۔

وہ اٹھی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ پھر جائے نماز بچھا کر دو نفل ادا کئے اور روتے ہوۓ دعا کیلئے ہاتھ اٹھاۓ۔

"اے میرے پیارے اللّٰہ جی ! آپ جانتے ہیں کہ اس بار میرا بھی بہت دل کر رہا تھا ٹرِپ پر جانے کو۔ مگر میں اپنے ابا کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ میری وجہ سے کسی کے قرض دار بنیں۔ اے میرے پیارے اللّٰہ جی ! آپ میرے دل سے ان تمام خواہشات کو نکال دیں جن کی وجہ سے میرے ماں باپ کو شرمندہ ہونا پڑے۔ اور میرے لیۓ آسانیاں پیدا فرما دیں۔ آمین۔"

"فاطمہ!"

اس نے ماں کی آواز سن کر جلدی سے جائے نماز سمیٹا پھر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کمرے کے دروازے پر کھڑی تھیں۔

"جی اماں !"

"بیٹا ابا کو کھانا دے دیا؟"

"ہاں جی۔"

"اچھا ایک کام کرو تھوڑی سی چائے بنا لو۔ میرا بہت من کر رہا ہے چائے پینے کو۔ تمہارے ابّا بھی پی لیں گے۔"

"جی اماں ! ٹھیک ہے"۔

پھر وہ کچن کی جانب بڑھی اور چائے بنانے میں مصروف ہو گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"نسیمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نسیمہ۔۔۔۔۔!" وہ گھر آتے ہی زور زور سے نسیمہ  کو آوازیں دینے لگا۔

"ج۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔چھ۔۔۔۔۔۔چھ۔۔۔۔۔۔چھوٹے صاحب!" وہ بھاگ کر کمرے میں آئی اور اٹکتے ہوئے بولی۔

"کیا ہے یہ؟" اس نے فرش پہ پڑے جوگرز کی طرف اشارہ کیا۔

"ج۔۔۔۔۔۔ج۔۔۔۔جو۔۔۔جوتے ہیں۔ صاحب!"

"مجھے بھی پتا ہے کہ جوتے ہیں یہ۔ میں پوچھ رہا ہوں کہ ان کو پالش کس نے کیا؟" وہ غضب کر بولا۔

"ممم۔۔۔۔مممم۔۔۔میں نے۔ صاحب !"

"ان کو پالش کون کرتا ہے؟ ایڈیئٹ(Idiot) ! "

وو۔۔۔۔۔۔وو۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ص۔۔۔ص۔۔۔ص۔۔۔صاحب۔۔۔۔ج۔۔۔ج۔۔۔"

"کیا یہ وہ ؟ کیا لگا رکھی ہے؟" وہ غصے سے چلّایا۔

"غلطی ہو گئی چھوٹے صاحب ! آئندہ نہیں ہوگا۔ معاف کر دیں" وہ احتراماً سر جھکا کر بولی۔

"عرشمان احمد کی لائف ڈکشنری میں معافی نام کا لفظ نہیں ہے۔" اس نے گرج کر کہا۔

شور کی آواز سن کر عالیہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں۔

"کیا ہوا ہے عرشمان ؟ کیوں شور مچا رکھا ہے ؟ کیوں ڈانٹ رہے ہو اس بچاری کو؟" وہ سنجیدگی سے بولیں۔

"آپ کی اس بیچاری نوکرانی نے میرے سارے شوز خراب کر دیے ہیں۔ اس پاگل کو اتنا ہی نہیں پتا کہ جوگر شوز پالش نہیں کیے جاتے۔" 

"کیا ہوگیا عرشمان اگر اس بیچاری نے کر دئیے تو؟ اسے نہیں پتہ چلا کوئی بات نہیں۔ تم نیو شوز لے لینا۔" انہوں نے اسکی طرف داری کی۔

"موم ! آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ مجھے بالکل نہیں پسند کہ میری چیزوں کو کوئی بنا پرمِشن ہاتھ لگائے۔ اپنی اس دو ٹکے کی نوکرانی کو سمجھا دیں کہ اگر اس نے آئندہ میری کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔" وہ زور سے دھاڑا۔

"اب تم کھڑی کیوں ہو یہاں پر؟ اور باتیں سننی ہیں؟ اب جاؤ  یہاں سے؟" عالیہ بیگم سختی سے مخاطب ہوئیں۔

"اب تم بتاؤ مُوڈ کیوں آف ہے تمہارا آج؟ کسی سے لڑائی ہوئی ہے کیا" نسیمہ کے جاتے ہی انہوں نے سوال کیا۔

وہ کوئی جواب دیئے بنا ہی منہ بسورتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔

"پتا نہیں کس کس کا غصہ نکالتا رہتا ہے یہ سب پر۔" وہ خود سے بولیں۔

----------------------------------------------

یہ اگلی صبح کے تقریبا دس بجے کا وقت تھا جب وہ اپنا سیکنڈ لیکچر ختم ہوتے ہی سامنے ڈائیز پر آکر کھڑا ہوا۔

"ہیلو فرینڈز !  پرنسپل سر نے مجھے کلیکشن کرنے کو کہا ہے۔ آج لاسٹ ڈے ہے اور کل ٹریپ جا رہا ہے۔ سب اپنی اپنی کلیکشن مجھے سبمٹ کروا دیں۔ ہری اَپ !"

سب نے اس کے پاس آکر اپنی کلیکشن جمع کروائی اور چلے گئے۔ پھر اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ دوسری کلاسز کا رخ کیا اور ہر کلاس میں جاکر یہی جملہ دوہرایا۔ اب وہ فرسٹ سمیسٹر کی کلاس میں داخل ہوۓ۔ اچانک اس کی نظر فرسٹ سیٹ پر بیٹھی فاطمہ پر پڑی۔ جو نگاہیں جھکا کر اپنے پڑھائی کرنے میں مصروف تھی۔ تبھی سحرش نے اس کے پاس آکر اپنی کلیکشن جمع کروائی۔

"یہ لو مسڑ عرشمان سینئر!" وہ پیسے اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولی۔

" جسٹ 15000؟" اس نے پیسے ہاتھ میں پکڑتے ہوۓ پوچھا۔

"ہاں کیوں زیادہ دینے تھے کیا؟" اسنے حیرانگی سے سوال کیا۔

"نہیں ! آئی مین تمہاری دوست نہیں جا رہی کیا؟ اسکی کلیکشن کہاں ہے؟"

" وہ نہیں جا رہی۔ " وہ افسردگی سے بولی۔

"مگر کیوں؟"

"اسکا دل نہیں کر رہا ہوگا تو وہ نہیں جارہی۔ اس میں تمہیں کیا مسئلہ ہے؟" عینا نے سوال کیا۔

"نہیں ! دل کی بات نہیں ہے۔ دراصل اس کے ابا نے اسے اجازت نہیں دی"۔

"اوہ ویری سیڈ !" نمرہ نے افسوس کا اظہار کیا ۔

"سحرش دیکھو ! اگر پیسوں کا مسئلہ ہے تو میں پیمنٹ کر دوں گا نو پرابلم۔" عرشمان نے ہمدردی ظاہر کرتے ہوۓ کہا۔

"بات تو دراصل یہی ہے سینئر ! اور میں نے اس کی پیمنٹ کرنے کا کہا تھا لیکن اس نے منع کردیا۔ وہ نہیں جانا چاہتی۔"

"اوکے ! " اس نے سحرش کو قریب ہونے کا اشارہ کیا۔

اب عینا کی نگاہیں عرشمان پر تھی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ پھر اس نے ان کی باتیں سننے کے لیے لیے کان ادھر دھر لئے۔

"سحرش ! میں فاطمہ کی پیمنٹ کر دیتا ہوں۔ تم اسے مت بتانا کہ اس کی پیمنٹ کس نے کی تھی۔ بس کسی بھی طرح کل اسے ٹرِپ پر لے آنا اوکے؟" اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔

"مگر سینئر میں اس سے کہوں گی کیا؟ اسے لگے گا کہ میں نے اس کی پیمنٹ کی ہے۔ اور وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی۔"

"تم بس اسے کہہ دینا کہ اس یونیورسٹی کا رُول ہے۔ کوئی بھی ایک انسان فری جا سکتا ہے۔ اور تم نے سر کو اسکے بارے میں بتایا تو پرنسپل سر نے تمہاری پیمنٹ لینے سے انکار کر دیا۔ سِمپل !" 

"واہ سینئر! کیا زبردست دماغ لڑایا ہے۔" 

"اسی لیۓ تو سب مجھے ماسٹر گروپ کا ماسٹر مائنڈ کہتے ہیں۔" وہ مغرور ہوکر بولا۔

"اوکے سینئر !" اس نے انگوٹھا دیکھایا۔

"چلو دوستو !" عرشمان نے سب کو چلنے کا اشارہ کیا۔ تو سب اسکے پیچھے ہو لئے۔

"عرشمان!" عینا نے اسے چلتے ہوئے آواز دی۔

"ہمممم"۔

"تم فاطمہ کا کیوں پوچھ رہے تھے؟"

"بس ایسے ہی"۔

"سہی"۔

"تمہارا محبوب آج نظر نہیں آ رہا خیر تو ہے؟" اس نے طنز کیا۔

"عرشمان میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں"۔

"ہمممم۔۔۔"؟

"کل جو بھی ہوا وہ صرف ایک مذاق تھا۔ میں نے  صارم کا کوئی پروپوزل  قبول نہیں کیا"۔ اس نے اپنی صفائی دینے کی کوشش کی۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ تو یہ سب تم مجھے کیوں بتا رہی ہو؟ بھئی !  تمہارا جس کا دل کرے پروپوزل قبول کرو جس کا دل چاہے ریجیکٹ کرو، مجھے اس سے کیا غرض"۔

"یار تجھے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا؟" حمزہ نے چونک کر سوال کیا۔

"نہیں!" وہ سنجیدگی سے بولا۔

اب اسے صارم کی وہ بد دعا یاد آنے لگی تھی جو کل اس نے روتے ہوئے دی تھی۔ اس لئے وہ خاموش کھڑی اس کے چہرے کو تکتی رہی۔

"خیر چھوڑو بھی یہ سب۔ میں یہ پیمنٹ پرنسپل سر کو سبمٹ کروا کر آتا ہوں۔" 

تینوں خاموش کھڑے رہے اور عرشمان پرنسپل آفس کی طرف چلا گیا۔

"عینا تم ٹینشن مت لو۔ میں اور حمزہ بات کریں گے عرشمان سے۔ وہ تم سے ہی محبت کرتا ہے۔ بس شاید اسے غصہ ہے کل والی بات پر۔ مگر دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انشاء اللّٰہ!" نمرہ نے اسے تسلی دی۔

"بالکل عینا ! میں خود پرسنلی بات کروں گا عرشمان سے۔ تم پر سکون رہو۔" حمزہ نے بھی اسے حوصلہ دیا۔

"اچھا چلو تم شاپنگ کا کہہ رہی تھی ناں ؟ ہم دونوں مل کر شاپنگ پر چلتے ہیں۔" نمرہ نے اسکا دھیان ہٹانے کی کوشش کی ۔

"ہمممم"۔ اس نے مختصر جواب دیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"آپی وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا۔ اس نے کہا کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا چاہے میں جس کے ساتھ بھی رہوں۔" وہ روۓ جا رہی تھی۔

"لیکن مجھے لگتا ہے کہ نمرہ نے سہی کہا ہے۔ ہو سکتا ہے اسے تم پر غصہ ہو۔ اور وہ بس تمہیں احساس دلانا چاہتا ہو۔ اس لئے اس نے ایسا بولا ہوگا۔"

" اگر اسے مجھ پر غصہ تھا تو وہ غصہ نکال لیتا ناں ! میرا دل توڑنے کی کیا ضرورت تھی اسے؟ اور تو اور مجھے تو یہ بھی لگتا ہے کہ اسے فاطمہ میں دلچسپی ہے۔ بڑے وثوق سے سحرش سے گذارش کر رہا تھا کہ فاطمہ کو لازمی لے کر آئے۔ مجھے تو ایسے لگ رہا تھا جیسے اگر فاطمہ نہ گئی تو وہ بھی نہیں جائے گا۔"

"ایسا کچھ نہیں ہے میری جان ! جیسا تم سوچ رہی ہو۔ ویسے بھی کل تم اس کے ساتھ ٹرِپ پر چلی جاؤ گی پھر وہ  پورا ہفتہ تمہارے ہی ساتھ رہے گا۔ تو دل کھول کر اپنی باتیں کرنا، اس کا دل جیت لینا۔ تم دیکھنا اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا اور اگر موقع ملا تو اسے بتا بھی دینا کہ تم اس سے پیار کرتی ہو۔ مگر پہلے تم رونا تو بند کرو میری جان !" سارہ نے اسے گلے سے لگایا۔

"جی آپی ! آپ صیح کہہ رہی ہیں۔ میں شاید کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں"۔

"ہاں چلو شاباش ! اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور دیکھاؤ تو زرا کیا شاپنگ کی ہے تم نے"۔ وہ شاپنگ بیگز ٹٹولنے لگی۔

"یہ شرٹ دیکھیں کیسی لگ رہی ہے مجھ پہ؟" اس نے آئینے کے سامنے شرٹ اپنے ساتھ لگا کر پوچھا۔

"بہت زبردست! دیکھتا ہی رہ جاۓ گا وہ تمہیں اس شرٹ میں"۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ اور بھی دیکھاتی ہوں آپکو۔ اب یہ دیکھیں یہ شرٹ اور جیکٹ میں نے ہم دونوں کیلیئے لی ہے۔ سوچا سیم ڈریسنگ کریں تو سب جلیں گے دیکھ کر"۔ وہ مسکرا کر بولی۔

"بہت خوبصورت ہے یہ بھی۔ اچھا ایک کام کرنا ! جب وہ یہ شرٹ اور جیکٹ پہنے تو اپنی ایک سیلفی بھیجنا اسکے ساتھ۔"

"اوکے ڈنّ"۔

پھر وہ مزید چیزیں دیکھانے میں مصروف ہو گئ۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"بیٹا تمہیں پکا پتا ہے کہ تمہاری رقم کسی اور  نے نہیں دی اور یونیورسٹی کی طرف سے ہی تم فری جارہی ہو۔ کسی کا احسان تو نہیں لے رہی ناں؟" وہ کمرے میں آ کر بیڈ پر بیٹھی فاطمہ سے مخاطب ہوئے۔

"جی جی ابّا !  سحرش نے تو ایسا ہی کہا مجھ سے اور مجھے یقین ہے کہ وہ مجھ سے جھوٹ نہیں بول رہی ہو گی۔"

"اسے پہلے نہیں پتا تھا کیا؟ آج ہی اچانک کیسے پتا چلا؟"

"نہیں ابا ! اسے نہیں پتا تھا۔ وہ تو اسے کسی سینئر لڑکے نے بتایا جو آج کلیکشن کرنے آیا تھا۔"

"اچھا ! چلو تم کہتی ہو تو میں مان لیتا ہوں بیٹا۔ لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ ایک ہفتے کے لیے تم گھر سے باہر رہو گی۔"

"آپ فکر مت کریں ابا۔ میں آپ سے رابطے میں رہوں گی۔"

"اپنا خیال رکھنا بیٹا۔ خوش رہو"۔ وہ اسکے سر پر ہاتھ کر بولے۔

"جی ابا ! "

"چلو ٹھیک ہے بیٹا تم جانے کی تیاری کرو۔ صبح لیٹ نہ ہو جانا کہیں۔"

"جی"۔

وہ کمرے سے باہر چلے گئے اور فاطمہ بیگ میں کپڑے رکھنے لگی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عینا اٹھ جاؤ ! لیٹ ہو جاؤ گی تم"۔ اس نے کھینچ کر اس پر سے کمبل اتارا۔

"آپی سونے دیں۔ نہ تنگ کریں مجھے۔ پلیز !" وہ کمبل دوبارہ اوڑھتے ہوئے بولی۔

"عینا سات بج چکے ہیں۔ چھے بجے کا تم نے الارم لگایا تھا اور الارم بچتے ہی تم نے الارم بھی توڑ کے پھینک دیا۔ اب جلدی اٹھو ! لیٹ ہو جاؤ گی۔ صرف ایک گھنٹہ رہتا ہے۔ ورنہ سب تمہیں چھوڑ کر چلے جائیں گے پھر سوتی رہنا یہاں سکون سے۔" اس نے کمبل اتار کر پھینک دیا۔

"آپی کیا بدتمیزی ہے یہ؟ کوئی چین سے سونے بھی نہیں دیتا اس گھر میں۔" وہ چلّاتی ہوئی اٹھی۔

"ایک تو میں نے تمہیں ٹائم سے اٹھایا ہے۔ اوپر سے تم مجھ پر ہی غصہ کر رہی ہو؟ چلو شاباش ! صرف ایک گھنٹہ رہتا ہے۔ آٹھ بجے تمہارا ٹرپ نکل جائے گا پھر منہ دیکھتی رہنا تم۔"

"اُف ! ویسے آپ کو ایک بات بتاؤں آپی ! میرے دوست مجھے چھوڑ کر کبھی بھی نہیں جائیں گے"۔ وہ اترا کر بولی۔

"دیکھ لیں گے۔ چلو ! اب فریش ہو جاؤ۔ میں ناشتہ لگاتی ہوں"۔

"کیا مصیبت ہے!  اتنی صبح صبح اٹھا دیا ہے اب مجبوراً نہانا ہی پڑے گا۔" وہ منہ میں بڑبڑائی۔ اور پھر فریش ہونے چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان بیٹا ! تمہاری تیاری کمپلیٹ ہوگئی؟" 

"جی موم ! بس ہو گئی ہے تقریباً۔" وہ پرفیوم لگاتے ہوۓ بولا۔

"کتنی بار کہا ہے تم سے تھوڑا کم پرفیوم لگایا کرو۔ پوری یونیورسٹی بے ہوش ہوجاتی ہوگی تمہاری اس خوشبو سے۔" 

"ہاہاہاہاہاہا۔"

"چلو آجاؤ اب نیچے۔ ناشتے پر تمہارے ڈیڈ ویٹ کر رہے ہیں تمہارا۔"

"اوکے موم ! بس آیا"۔

وہ سیڑھیوں سے اتر کر ڈائینگ ٹیبل پر پہنچا اور چیئر سیٹ کرکے بیٹھ گیا۔

"گُڈ مارننگ ڈیڈ !"۔

"گُڈ مارننگ بیٹا "۔

"آج سارا ناشتہ میں نے خود بنایا ہے۔ سوچا کہ میرا بیٹا ایک ہفتے کے لیے باہر جا رہا ہے۔ تو ماں کے ہاتھ کی کھانے کو مِس کرے گا۔"

"واہ موم ! سچ میں بہت مِس کروں گا۔"

" بیٹا تمہارے فائنلز کب ہو رہے ہیں؟"

"آفڑ وون منتھ آلموسٹ ڈیڈ۔ !" 

"تیاری کیسی ہے؟"

"ہمیشہ کی طرح پرفیکٹ!"

"گُڈ"۔

"بیٹا ساڑھے سات تو ہو گئے ہیں کب جاؤ گے تم؟" وہ گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولے۔

"اوہو ! کیا ہوگیا ہے احمد۔ اس کو ناشتہ تو کرنے دیں سکون سے"۔ عالیہ بیگم نے پانی گلاس میں ڈالتے ہوۓ کہا۔

"لگتا ہے ڈیڈ ! میں آپ کو گھر میں اچھا نہیں لگتا"۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ ارے نہیں بیٹا ! تم جانتے ہو ناں کہ میں وقت کی پابندی کا کتنا خیال رکھتا ہوں۔ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ تم بھی خیال رکھا کرو۔"

"جی ڈیڈ ! آئی نو دیٹ یو ور جوکنگ! (You were joking)" وہ مسکرا کر بولا۔

"ہممممم۔"

"اوکے موم ! ناؤ آئی ایم گوئینگ"۔ اس نے چئیر سے اٹھتے ہوۓ کہا۔

"بیٹا ناشتہ تو ٹھیک سے کرلو"۔

"بس ہو گیا موم !"

وہ بھاگ کر سیڑھیوں سے اوپر چڑھا۔ کمرے میں گیا۔ بیگ اٹھایا پھر چابی اٹھائی اور نیچے آگیا۔

"اوہو نسیمہ ! میرا لیپ ٹاپ رہ گیا ہے روم میں۔ وہ اٹھا کر لے آؤ ، ٹیبل پر پڑا ہو گا۔" وہ نسیمہ سے مخاطب ہوا جو ڈائینگ ٹیبل کے پاس کھڑی تھی۔

"جی چھوٹے صاحب!"

پھر وہ گیراج میں کھڑی گاڑی کی طرف بڑھا اور اپنا سامان بیک سیٹ پر رکھا۔ عالیہ بیگم اور احمد ملِک بھی اسے الوداع کہنے کیلئے گیٹ پر موجود تھے ۔

"یہ لیں چھوٹے صاحب ! آپکا لیپ ٹاپ"۔ 

"اوکے !" اس نے لیپ ٹاپ اس کے ہاتھ سے پکڑا اور گاڑی میں رکھ دیا۔

"اوکے بیٹا ! اپنا بہت بہت خیال رکھنا۔ میری ڈھیروں دعائیں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔" وہ اسکا ماتھا چومتے ہوۓ بولیں۔

"ٹھیک ہے بیٹا ! بیسٹ آف لک ٹُو یُوور جورنی (Best of luck to your journey)۔" احمد ملِک نے اسے گلے سے لگاتے ہوۓ کمر پر تھپکی دی۔

"لوو یُو (love you) موم ، ڈیڈ "۔ 

"لوو یُو ٹُو بیٹا"۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

وہ گاڑی میں بیٹھا اور یونیورسٹی کی طرف گامزن ہوگیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہاۓ اللّٰہ! آپی میرا سڑیٹنر (straightener) کہاں ہے؟" وہ پورا کمرہ چھانتے ہوۓ بولی۔

"اب ہوش آگئی ہے؟ کب سے کہہ رہی تھی کہ ٹائم سے اٹھ جاؤ۔ میں جانتی تھی کہ تمہیں پھر ٹائم پر چیزیں نہیں ملیں گی اپنی۔"

"آپی پلیز ! اس وقت مجھ پہ غصہ کرنے کی بجائے میری ڈھونڈنے میں ہیلپ کریں تو زیادہ مناسب ہوگا۔"

"میرے پاس ہے رکو ! میں لاتی ہوں اپنے کمرے سے"۔

"توبہ ہے آپی ! کتنی بار کہا ہے کہ میری کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا کریں۔ اُف !" اس نے غصے سے کہا ۔

"مر نہیں جاؤ گی تم۔ اگر میں نے ہاتھ لگا لیا ہے تو۔"

"اُف ! اُف اُف ! اب جلدی سے لیکر آئیں میں لیٹ ہو رہی ہوں پلیز"۔

"اوکے۔"

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

عرشمان کی نگاہیں دور سے آتی ہوئی فاطمہ پر تھیں۔ جو آج بغیر عبایہ کے ایک ڈھیلے ڈھالے بھورے رنگ کے لباس میں ملبوس انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ مگر چہرے پر حجاب اور نقاب وہی تھا۔ 

"عرشمان ! اٹینڈینس لگا لی ؟" 

"نہیں سر ! میرا مطلب ہے جی سر." وہ ہچکچایا۔

"کیا بات ہے آج عرشمان احمد ہچکچا رہا ہے خیریت ؟" پروفیسر زاکر نے حیرانگی سے پوچھا۔

"جی سر"۔

"سر وہ دراصل یہ کسی اور کو دیکھنے میں اتنا مگن تھا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ آپ کب اس کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اور کب سوال کیا۔" حمزہ نے شرارت کی۔

"کس کو دیکھنے میں؟"

"کسی کو بھی نہیں سر۔ بکواس کر رہا ہے یہ۔ اس کی عادت ہے۔" اس نے بات کو رفع کرنے کی کوشش کی۔

"چلو نکلتے ہیں۔ ٹائم ہوگیا ہے اور آٹھ بچ چکے ہیں۔ سب بچے بھی آگئے ہیں۔"

"نہیں سر ! عینا ابھی نہیں آئی ہم اس کا تھوڑا ویٹ کر لیتے ہیں۔" نمرہ نے کہا ۔

"ٹھیک ہے پھر کال کرو اسے۔ اور اسے بولو اگلے پانچ منٹ میں وہ یہاں ہو۔ ورنہ ہم کسی کا بھی زیادہ انتظار نہیں کریں گے"۔

"جی سر"۔ وہ سر جھکا کر بولی۔

"اور تم عرشمان ! تم میرے ساتھ آؤ۔ تمہیں میں بس کی ترتیب سمجھاتا ہوں۔"

"اوکے سر"۔ وہ پروفیسر زاکر کے پیچھے چل دیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہائے فاطمہ ! عرشمان کتنے پیار سے تمہیں دیکھ رہا تھا۔ بلکہ میں نے تو نوٹ کیا ہے وہ اکثر تمہیں دیکھتا ہے۔" سحرش نے اسے چھیڑا۔

"کون عرشمان ؟"

"ارے تم عرشمان کو نہیں جانتی؟ پاگل لڑکی ! وہی جس نے اس دن تمہاری ریگنگ سے تمہیں بچایا تھا۔ اور اس دن لائبریری کے سامنے تم سے ٹکرایا بھی تھا۔"

"اوہ اچھا وہ؟"

"ہممم۔ کیسا لگتا ہے تمہیں وہ؟"

"اچھا ہے"۔

"ہے ناں ! کتنا ہینڈسم ہے ناں ویسے وہ؟"

"ہوگا"۔ وہ بس کی سیٹ پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔

"ہوگا کیا مطلب ؟ تم نے نہیں دیکھا کیا اسے؟"

"ایک نظر ہی دیکھا تھا بس"۔

"تو تمہیں کیسا لگا وہ؟ خوبصورت نہیں ہے کیا؟"

"ہے تو؟"

"تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ مجھے لگتا ہے وہ تمہیں پسند کرتا ہے"۔

"سحرش تمہیں پتا ہے ناں ! مجھے کسی لڑکے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اور آئندہ مجھ سے کسی بھی لڑکے کے بارے میں بات مت کرنا۔"

"لیکن میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔"

"مجھے کچھ نہیں سننا سحرش پلیز  !چپ ہو جاؤ اور بیٹھ جاؤ"۔ اس نے اسکی بات کاٹی۔

"اوکے"۔ سحرش منہ بناتے ہوئے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"سر پلیز ؟ تھوڑا سا ویٹ اور کرلیں۔ وہ بس پہنچنے ہی والی ہے۔" نمرہ نے منت کی۔

"نہیں ! پورے بیس منٹ اوپر ہو چکے ہیں۔"

"مگر سر۔۔۔۔۔۔!" 

"چلو سٹوڈنٹس سب اپنی اپنی بس میں بیٹھ جاؤ۔" وہ حمزہ کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔

"گائیز کہاں رہ گئی ہے وہ؟" عرشمان نے غصے سے سوال کیا۔

"میں اسے صبح سے پانچ سو دفعہ کال کر چکی ہوں۔ مگر وہ کہہ رہی ہے کہ وہ کب سے گھر سے نکلی ہوئی ہے۔ بس ٹریفک زیادہ ہے۔ پانچ منٹ میں آجائے گی۔ اور سر ویٹ ہی نہیں کر رہے۔" نمرہ نے جواب دیا ۔

"اسکے پانچ منٹ کا مطلب بہت اچھے سے جانتا ہوں میں۔ اور تمہیں پتا ہے ناں کہ زاکر سر اپنے اصولوں کے پکے ہیں وہ کسی کی نہیں سنیں گے۔" وہ غصے سے بولا۔

"چلو بیٹا تم لوگ بھی بس میں سوار ہو جاؤ۔ ہم نکلنے لگے ہیں۔ ہری اَپ!" پروفیسر زاکر ان چاروں سے مخاطب ہوۓ۔

"سر پلیز ! صرف دو منٹ اور رک جائیں۔ پلیز سر !" عرشمان نے التجا کی۔

"نہیں ! چلو سب"۔ وہ سختی سے بولے اور خود بھی بس میں سوار ہوگئے۔

 تینوں نے عینا کا انتظار کرتے ہوئے دور دور تک دیکھا اور پھر دھیرے دھیرے بس میں سوار ہو گئے۔

اب پانچوں بسیں یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر روڈ پر پنچ گئیں۔ سب سے پہلی بس سینئرز کی تھی جس میں وہ تینوں سوار تھے۔ نمرہ بار بار عینا کا فون ٹرائی کر رہی تھی مگر کال رسیو نہیں ہو رہی تھی۔ تینوں کے چہرے افسردگی سے لٹک چکے تھے کیونکہ بس اپنی منزل کی جانب سپیڈ پکڑنے لگی تھی۔ تبھی اچانک انہیں دور سے عینا کی آواز سنائی دی۔

"اسٹاپ گائیز !" عرشمان اور نمرہ دونوں بس کے دروازے پر کھڑے اسے دور سے بھاگ کر آتا ہوا دیکھ رہے تھے۔

"ڈرائیور بس روکو جلدی !" عرشمان نے زور سے ڈرائیور کو آواز دی۔

"کیوں کیا ہوا؟ " پروفیسر زاکر جو اسی بس میں موجود تھے۔ جھٹ سے سوال کرنے لگے۔

"سر عینا آگئی ہے۔" نمرہ نے جواب دیا ۔

"ٹھیک ہے۔ ڈرائیور گاڑی سلو کرو" وہ نرمی سے بولے۔

ہاف وائٹ پینٹ، لونگ شوز اور بـے بی پِنک شرٹ میں وہ دور سے بھاگتی ہوئی بہت شاندار لگ رہی تھی۔ اور اسکے لمبے سلِکی کُھلے بال ہوا میں لہر رہے تھے۔ عرشمان پیار سے اسے  دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی وہ بس کے قریب پہنچی تو عرشمان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھٹکے سے بس میں سوار کر لیا۔ پروفیسر زاکر نے ڈرائیور کو سپیڈ تیز کرنے کا اشارہ کیا۔ وہ پورے ایک منٹ تک بس کے دروازے میں کھڑے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ اب حمزہ اور نمرہ مسلسل ان دونوں کو گُھور رہے تھے۔ 

"تھوڑی اور لیٹ آ جاتی۔ کیا ضرورت تھی اتنی جلدی آنے کی؟" عرشمان نے طنز کیا۔

"یار ! سوری تم لوگوں کو اتنا انتظار کرنا پڑا"۔ وہ معصومیت سے بولی ۔

"اچھا بس ! اب زیادہ ایکٹگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ معصومیت تمہارے چہرے پر بالکل سُوٹ نہیں کرتی۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

"تم سے سوری کس نے کہا ہے؟ میں تو نمرہ اور حمزہ سے کہہ رہی تھی۔ شکل دیکھی ہے سوری والی تم نے اپنی؟" عینا نے مزاقاً کہا ۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ کافی ہو گئی ہے صبح صبح تیری۔" حمزہ نے عرشمان کو غصہ دلانے کی کوشش کی۔

"تو ایک سوال کا جواب تو دیں۔ مس نور العین صاحبہ !"

"جی پوچھیں۔ مسٹر عرشمان احمد ملک صاحب !"

"اگر میری شکل اتنی ہی بری ہے تو پھر یہ سب لڑکیاں مجھ پہ مرتی کیوں ہیں؟" وہ ہلکا سا مسکرایا ۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ ان بیچاریوں کی نظر کمزور ہے اس لیے۔ مگر میں ان سٹوپِڈ لڑکیوں میں سے نہیں ہوں۔" وہ اکڑ کر بولی۔

"سچ میں؟" نمرہ نے شرارتی انداز میں کہا۔ تو عینا نے غصے سے اسے دیکھا جس پر نمرہ مسکرا دی۔

"ویسے خیر جو بھی ہے مگر آج میں تمہاری کچھ تعریف کرنا چاہوں گا۔ کہ مس نورالعین آج آپ کافی خوبصورت لگ رہی ہیں"۔ اس نے آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔

"ارے واہ واہ  واہ ! آج تو کمال ہو گئی۔ عینا کی تعریف۔۔۔۔۔ وہ بھی عرشمان کے منہ سے؟" حمزہ طنز کرتے ہوۓ بولا۔

"کیوں میں اس کی تعریف نہیں کر سکتا کیا؟"

"کر سکتے ہو باس۔۔۔۔ بالکل کر سکتے ہو"۔

عینا نے اپنے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے شرما کر عرشمان کو دیکھا جو حمزہ کی بات پر اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ 

"چلو سٹوڈنٹس! دروازے میں مت کھڑے ہوں۔ بند کرو دروازہ ! اور اندر آکر سب کے ساتھ انجوائے کرو۔" پروفیسر زاکر چاروں سے مخاطب ہوئے۔

"اوکے سر"۔

عرشمان نے عینا کو پیچھے ہونے کا اشارہ کیا اور پھر دروازہ بند کیا۔ کچھ سٹوڈنٹس چیئرز پر بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے ہو کر ہلّا گُلّا کر رہے تھے۔ وہ چاروں بھی فرنٹ پر جا کر کھڑے ہوگئے اور اپنا رخ بیک کی طرف کیا۔ صارم جو لاسٹ سیٹ پرخاموشی سے بیٹھا کھڑکی کی باہر جانب دیکھ رہا تھا ، عینا کو دیکھ کر اسے پاگلوں کی طرح گھورنے لگا۔ عینا نے بھی کئی بار نگاہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ اس کی نظروں میں اپنے لئے عجیب سی نفرت صاف محسوس کر سکتی تھی۔ 

وہ کبھی صارم کو دیکھتی اور کبھی عرشمان کو جو سب کے ساتھ ہنسی مذاق میں لگا ہوا تھا۔ کہ اچانک نمرہ کی نظر عینا پر پڑی جو افسردگی سے کھڑی تھی۔

"کیا ہوا ہے عینا؟ تم اتنی خاموش کیوں ہو؟ سب اتنا انجوائے کر رہے ہیں اور تم منہ لٹکا کر کھڑی ہو" ؟ 

"کچھ نہیں ہوا نمرہ"۔

"اچھا اگر کچھ نہیں ہوا تو چلو ! تم بھی ہمارے ساتھ انجوائے کرو۔" اس نے عینا کا ہاتھ پکڑا اور ڈانس کرنے لگی۔

پھر عینا نے بھی اپنا دھیان بھٹکانے کی کوشش کی۔

"سنو ! سب مل کر ایک گیم کھیلتے ہیں"۔ عینا نے اونچی آواز میں کہا تو صارم بھی اسکی طرف متوجہ ہو گیا۔

"ہممم بولو"۔ پروفیسر صاحب نے کہا۔

"سر ہم بوائز اور گرلز کی الگ الگ ٹیم بنائیں گے۔ اور پھر ایک دوسرے کو مختلف حروف دیں گے ۔ جس سے مقررہ وقت پر گانے سنانے ہونگے۔ اور جیتنے والی ٹیم دوسری ٹیم کو ایک ٹارگٹ دے گی جو انہیں ہر حال میں پورا کرنا ہوگا۔"

"ہمممم۔ اچھا ہے ! چلو تو تم لوگ کمپیٹیشن شروع کرو۔ میں سائیڈ پر بیٹھ کر دیکھتا ہوں۔" پروفیسر نے خوش دلی سے کہا۔

اب بوائز بیک سائیڈ پر اور گرلز فرنٹ سائیڈ پر کھڑی ہو گئیں۔ صارم بھی کمپیٹیشن میں حصہ لینے کیلئے کھڑا ہوگیا۔

"تو چلو سٹارٹ کریں؟" عینا نے سے سوال کیا۔ تو سب نے ہاں میں جواب دیا۔

"اوکے ! تو بوائز تم لوگ ت سے سونگ سناؤ گے۔"

"میں۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں ! " حمزہ ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے بولا۔

"چلو سب ریڈی ہو جاؤ جناب بکرا صاحب سونگ سنانے لگے ہیں"۔ عرشمان نے اسکا مذاق اڑاتے ہوۓ کہا تو سب زور سے ہنسنے لگے۔

"سالے تُو صبر کر میری باری آنے دے۔ پھر دیکھ ! تیرا کیسے مذاق اڑاتا ہوں میں۔" حمزہ نے اسکے کان میں سرگوشی کی ۔

"چل۔۔۔چل تُو سونگ سنا۔ ورنہ وہ کاؤنٹنگ کرنے لگ جائیں گی۔"

"یہ سونگ سپیشل نمرہ کے لئے ہے"۔ اس نے شرما کر کہا تو سب اونچی آواز میں نمرہ کو چھیڑنے لگے۔

"تم سا کوئی پیارا ، کوئی معصوم نہیں ہے۔۔۔۔۔ تم جان ہو میری ، تمہیں معلوم نہیں ہے"

"اوۓ ہوۓ ! " عینا نے سے کُہنی مارتے ہوئے کہا۔

کافی دیر تک سب انہیں تنگ کرتے رہے۔ اور اب بوائز کی باری تھی۔

" تو تم گرلز م سے سونگ بناؤ۔" شہباز نے کہا۔

"میری قسمت کے ہر اک پنّے پہ۔۔۔۔ میرے جیتے جی۔۔۔۔۔ بعد مرنے کے۔۔۔۔۔۔ میرے ہر اک پل ، ہر اک لمحے میں۔۔۔۔۔ تُو لکھ دے میرا اسے۔۔۔۔۔ اے خدا۔۔۔۔ اے خدا۔۔۔۔۔۔ جب بنا۔۔۔۔۔ اُس کا ہی بنا۔" عینا فوراً عرشمان کی طرف دیکھ کر گنگنانے لگی۔ 

"اوکے اب ہماری باری۔۔۔۔" نمرہ نے کہا۔

"تم لوگ ک سے سونگ بناؤ۔

" کدی کسے نوں توں وی چاہویں۔۔۔۔۔ اودے تے مردی جاویں۔۔۔۔۔ او دیوے تینوں توکھے۔۔۔۔۔ تُو رہ جائیں اوہدی ہوکے۔۔۔۔۔۔" صارم نے درد بھری آواز میں عینا کو دیکھتے ہوۓ گانا گایا۔

"اوۓ دُکھی آتما ! نکل یہاں سے"۔ حمزہ نے اس پچکارا۔

سب زور سے ہنس دیے اور کمپٹیشن جاری رہا۔ اور اب لاسٹ پر عرشمان باقی تھا کیونکہ سب سونگ سنا چکے تھے۔

"چلو عرشمان ! اب تمہیں میں دیتی ہوں ورڈ" عینا نے مسکرا کر کہا ۔

"اوکے"۔

"تم اپنی مرضی سے سناؤ سونگ۔ مگر ایک شرط ہے"۔

"کیا؟"

"تم کسی کو ڈیڈیکیٹ کرو گے"۔

"اوکے چڑیل !" 

"چلو ! ہو جاؤ شروع "۔

اب سب بے چینی سے اس کے سونگ سنانے کا انتظار کر رہے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ سونگ آخر کسے ڈیڈیکیٹ کرے گا۔

"سو دِس سونگ اِز فار۔۔۔۔۔۔۔حمزہ"۔

"تیری جیت ، میری جیت۔۔۔۔۔۔ تیری ہار ، میری ہار۔۔۔۔۔ سن اے  میرے یار۔۔۔۔۔۔ تیرا غم ، میرا غم۔۔۔۔۔ تیری جان ، میری جان۔۔۔۔۔ ایسا اپنا پیار۔۔۔۔۔۔۔ جان پر بھی کھیلیں گے۔۔۔۔۔۔ تیرے لیے لے لیں گے۔۔۔۔۔ سب سے دشمنی۔۔۔۔یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے۔۔۔۔۔ توڑیں گے دم مگر۔۔۔۔۔۔۔ تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔۔۔۔"

سونگ ختم ہوتے ہی حمزہ کی آنکھ میں آنسو آگئے اور اس نے زور سے عرشمان کو گلے لگایا۔ اب وہ خوب موج مستی سے انجوائے کرتے ہوئے شمالی علاقوں میں داخل ہوئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

یہ تقریبا رات کے نو بجے کا وقت تھا جب وہ سب کیمپ لگا  کر بون فائیر کر کے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔ ہر تھوڑے فاصلے پر سب نے اپنے الگ الگ گروپس بناۓ ہوۓ تھے اور آگ کے گرد بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ اوکے گائیز ہم ایک گیم کھیلیں؟" عینا نے تینوں سے پوچھا۔

"اب کونسی گیم ؟" نمرہ نے منہ بنا کر پوچھا۔

"کہ ہم چاروں ایک دوسرے سے سے ایک ایک سوال پوچھیں گے اور اس سوال کا بالکل سچ جواب دینا ہوگا پوری ایمانداری سے؟" 

"انڑسٹنگ !" عرشمان نے حامی بھرتے ہوۓ کہا۔

"اوکے ! تو سب سے پہلا سوال نمرہ سے "۔ عینا نے اشارہ کیا ۔

"ہمممم"؟

"نمرہ تم یہ بتاؤ کہ تمہیں حمزہ سے محبت ہے یا نہیں؟ دیکھو بالکل سچ بتانا ہے پوری ایمانداری سے"۔

"لعنت ہے تم پہ عینا !" اس نے غصے سے کہا۔

"نہیں نہیں ! تم نے زبردست سوال کیا ہے عینا۔" حمزہ نے تعریف کی۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ تم لوگ جو بھی کہو مگر اب جواب تو دینا ہی ہوگا نمرہ۔" عینا نے کندھے اچکاۓ۔

"کوئی بات نہیں بچُو ! تم سے بھی سوال میں ہی کروں گی۔" نمرہ نے اسے للکارا۔

"چلو کر لینا۔ مگر پہلے تم تو جواب دو۔ " وہ مسکرا کر بولی۔

"حمزہ مجھے اچھا لگتا ہے مگر صرف ایک دوست کی حیثیت سے۔ باقی رہی محبت ! تو وہ بہت جلد ہو جاۓ گی۔" اس نے شرما کر کہا۔ تو حمزہ خوشی سے جھوم اٹھا۔ اس پر سب نے زور سے قہقہہ لگایا۔

"اوکے گائیز ! اب باقی سب سے بعد میں پوچھیں گے پہلے عرشمان کی باری۔ اور اس سے سوال میں کروں گا۔" حمزہ نے کہا۔

"اوکے ! نو برابلم۔ پوچھو جو پوچھنا ہے"۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

"بیٹا تُو یہ بتا کہ عینا اور فاطمہ میں سے اگر کسی ایک کو منتخب کرنا پڑے تو توُ کسے چُوز کرے گا"؟

"کیا بکواس ہے یہ؟" اس نے سختی سے پوچھا۔

"بکواس کیسی ؟ بھئی سوال ہے اسکا سِمپل سا جواب بنتا ہے بتا۔" 

اب تینوں اس کے جواب کے منتظر تھے اور مسلسل اسے گُھور رہے تھے کہ آخر وہ کیا جواب دے گا۔

"کیا ؟ ایسے کیا دیکھ رہے ہو تم سب میری طرف؟"

"ابـے سالے ! جواب دے یار "۔

" عینا اور فاطمہ کا کیا کمپیریزن ؟"

"مطلب"؟ حمزہ نے حیرانگی سے پوچھا۔

"مطلب یہ کہ عینا میری دوست ہے اور فاطمہ میر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ کہتے کہتے خاموش ہو گیا ۔

"فاطمہ کیا۔۔۔۔۔۔۔عرشمان ؟" عینا نے اٹکتے ہوئے کہا۔

"فاطمہ کچھ نہیں۔۔۔۔۔"

"بولو عرشمان! میں سننا چاہتی ہوں۔

پھر وہ اٹھا اور بنا کچھ کہے اپنے کیمپ میں چلا گیا۔ چند آنسو عینا کے رخسار پر بہہ نکلے۔

"عینا ! میں بہت جلد عرشمان سے کنفرم کرکے تمہیں ضرور بتاؤں گا۔ اور یقین رکھو اس کے دل میں صرف تم ہو ، فاطمہ نہیں۔ فاطمہ کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو۔" حمزہ نے اسے تسلی دی اور پھر اٹھ کر عرشمان کے پیچھے کیمپ میں چلا گیا۔مگر جب وہ کیمپ میں پہنچا تو عرشمان گہری نیند سو  چکا تھا۔  اس نے اسے جگانا مناسب نہ سمجھا اور خود بھی سو گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

یہ رات کا آخری پہر تھا جب وہ اپنے کیمپ سے نکلی۔ بوتل سے پانی لے کر وضو کیا اور کچھ دور جائےِ نماز بچھا کر تہجد کی نماز کیلیۓ کھڑی ہو گئی۔ سلام پھیرنے کے بعد وہ دوبارہ سجدے میں گر گئی اور زار و قطار رونے لگی۔ 

"اللّٰہ جی پلیز مجھے اپنی محبت دے دیں !" وہ روتے ہوئے بار بار یہی دہرا رہی تھی۔

اچانک اسی ٹائم عرشمان اٹھا اور ٹھنڈی ہوا لینے کی غرض سے کیمپ سے باہر آیا۔ تب اس کی نظر فاطمہ پر پڑی۔ جو سجدے میں بار بار یہی کہتے ہوۓ رو رہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں صاف کیں اور قریب درخت کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔ کچھ دیر تک تو وہ روتی رہی پھر سجدے سے اٹھی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ اب وہ ہلکی آواز میں دعا مانگ رہی تھی جسے عرشمان سن نہیں سکتا تھا۔ وہ کافی دیر تک فاطمہ کے چہرے پر نظریں جمائے کھڑا رہا۔ 

آج پہلی بار اس نے اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ دعا مانگنے کے بعد اس نے جاۓ نماز سمیٹا اور تب اچانک اس کی نظر عرشمان پر پڑی جو مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس نے جلدی سے اپنے دوپٹے سے چہرے پر نقاب کیا۔ اور سر جھکاتے ہوئے تیزی سے اس کے پاس سے گزر کر اپنے کیمپ میں جانے لگی۔

"فاطمہ !" عرشمان نے پیچھے سے اسے آواز دی۔

اس کی آواز پر فاطمہ نے اپنے قدم جما دئیے۔

"مجھ سے شادی کرو گی؟"

عرشمان کی بات سن کر اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پھر اس نے اپنا رخ عرشمان کی جانب موڑا اور اسے حیرانگی سے گھور کر دیکھنے لگی۔

"دیکھو ! میں نے کوئی غلط طریقہ نہیں اپنایا۔ تم سے نکاح کا پوچھا ہے جو کہ اسلام میں جائز ہے۔ اب بتاؤ۔ کیا تم مجھ سے نکاح کرو گی؟" 

"۔۔۔۔۔۔۔۔"فاطمہ نے کوئی جواب نہ دیا اور مسلسل نظریں جمائے اسے دیکھتی رہی۔ آج پہلی بار اس نے کسی نامحرم کو اتنے غور سے دیکھا تھا۔

"تمہاری خاموشی کا میں کیا مطلب سمجھوں۔ فاطمہ؟"

مگر اسے تو جیسے سانپ سونگھ چکا تھا۔

"ٹھیک ہے۔ سوچنے کے لئے وقت لے لو۔ ایک دن کافی ہے؟" اس نے پھر سے سوال کیا ۔

مگر فاطمہ نے تو جیسے چپ ہی سادھ لی تھی۔

"یار ! کچھ تو بولو۔"

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"اوکے فائن ! میں تمہیں دو دن کا وقت دے رہا ہوں۔ اچھے سے سوچ لو اور پھر سوچ کر جواب دینا۔ اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تمہارا جواب ہاں میں ہوا تو میں بہت جلد اپنے پیرنٹس کو تمہارے گھر بھیج دوں گا۔ اور اگر تمہارا جواب انکار میں ہوا۔ تو پھر عرشمان احمد دوبارہ تمہیں کبھی پلٹ کر بھی نہیں دیکھے گا۔" 

اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ اسے گھورتا ہوا واپس اپنے کیمپ میں چلا گیا۔ مگر فاطمہ مجسمہ بن کر کافی دیر تک  وہیں کھڑی رہی۔ 

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد سب نے کرکٹ کھیلنے کا پلان کیا۔ لڑکے اور لڑکیوں نے الگ الگ ٹیم بنائی اور میچ شروع ہوگیا۔ اور یہ شرط رکھی گئی کہ جیتنے والی ٹیم کو ایک ٹارگٹ دیا جاۓ گا جو انہیں ہر حال میں پورا کرنا ہوگا۔ اور باقی سب لوگ میچ دیکھنے بیٹھ گئے۔

اب پہلی بیٹنگ کی باری سمیر کی تھی تو لڑکیوں میں سے ثمرہ نے بالنگ کروائی۔ بیس رنز کے بعد ہی وہ آؤٹ ہوگیا۔ اسی طرح ہر لڑکے نے بیٹنگ کی اور اب حمزہ کی باری تھی۔

"حمزہ! اگر تُو بھی جلدی آؤٹ ہو گیا ناں تو ہمارے زیادہ رنز نہیں بن پائیں گے۔ اس لئے بی کئیر فُل۔" عرشمان نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا۔

"اوکے باس ! تُو ٹینشن ہی نہ لے۔ اتنے رنز بناؤں گا کہ یہ لڑکیاں کبھی بھی اتنے نہیں بنا پائیں گی ۔" وہ اکڑ کر بولا۔

"نمرہ ! اسے بیٹنگ تم کراؤ گی"۔ عینا نے کہا۔

"ٹھیک ہے"۔

نمرہ بالنگ کروانے کے لیے بھاگی تو حمزہ اکڑ  کر بیٹنگ کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ مگر پہلی ہی بال پر اس کا بیٹ گھوم گیا اور وہ آؤٹ ہوگیا۔

"اوہ شِٹ !" عرشمان نے چلاتے ہوئے کہا اور اپنا سر پکڑ کر مسلنے لگا۔

 سب لڑکیاں خوشی سے ناچنے لگیں اور اب عرشمان کی  باری تھی۔ 

"لعنت ہے تجھ پر !" عرشمان نے حمزہ سے بیٹ پکڑتے ہوۓ کہا۔ مگر حمزہ منہ لٹکا کر کھڑا رہا۔

"اسے تو بیٹنگ میں کرواؤں گی۔" عینا اپنی کیپ سیدھی کرتے ہوۓ بولی۔

عرشمان اور عینا نے گُھور کر ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر عینا نے بالنگ کروائی۔ پہلی ہی بالنگ پر عرشمان نے چھکا مارا تو سب واہ واہ کر اٹھے۔ تقریباً ستر رنز بنانے کے باوجود بھی وہ آؤٹ نہیں ہو رہا تھا۔ اور عرشمان کے نعرے بلند ہوتے جا رہے تھے۔

"یار میں تو اسے بالنگ کروا کروا کر بھی تھک گئی ہوں۔ مگر یہ تو آؤٹ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔" عینا نے افسردگی سے نمرہ سے کہا ۔

"تم سہی کہہ رہی ہو۔ اگر ایسے ہی چلتا رہا تو ہم گرلز تو اتنے رنز کبھی نہیں بنا پائیں گی اور یہ بوائز جیت جائیں گے۔ ہمیں کچھ تو کرنا ہی ہوگا جس سے یہ آؤٹ ہو جائے۔"

"مگر کیا کریں؟"

"آئیڈیا!"

"کیا؟" 

"عینا اگر ہم نے عرشمان کا دھیان بھٹکا دیا تو پھر وہ آؤٹ ہو جائے گا۔" 

"مگر ہم اسکا دھیان کیسے بھٹکائیں گے؟"

"اب یہ تو تمہیں ہی پتا ہوگا کہ آخر ایسا تمہیں کیا کرنا ہے جس سے اس کا دھیان بھٹک جائے"۔

"چلو کرتی ہوں ٹرائی "۔

"ہممممم۔"

عینا نے جیسے ہی بالنگ کروائی تو عرشمان کی بیٹنگ کرنے سے پہلے ہی اس نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا۔ عرشمان کا زرا سا دھیان ہٹا اور وہ آؤٹ ہوگیا۔ پھر وہ بھاگ کر عینا کے پاس گیا جو نیچے بیٹھ کر زور سے چیخ رہی تھی۔

"عینا کیا ہوا ہے تمہیں؟" وہ اسکے پاس آکر بولا۔

"یار پاؤں میں موچ آگئی ہے۔ بہت درد ہو رہا ہے"۔

"دیکھاؤ زرا۔" اس نے اسکا پاؤں پکڑ کر دیکھا۔

سب اسکے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے تھے ۔

"عرشمان تم آؤٹ ہو گئے کیا"؟ عینا نے معصومیت سے پوچھا۔

"ہممم"۔

"یا ہُووووووو۔۔۔۔۔۔ !" وہ اپنا پاؤں چھڑا کر خوشی سے اچھلنے لگی۔

"مطلب تم ایکٹنگ کر رہی تھی؟ تم نے یہ سب مجھے آؤٹ کرنے کیلئے کیا"؟ وہ غصے سے چلایا۔

"ہمممم۔ سوری"۔ وہ کان پکڑتے ہوۓ مسکرا کر بولی۔

"ی۔۔۔۔۔ی۔۔۔۔یہ۔۔۔۔ چیٹنگ ہے"۔ حمزہ نے کہا۔

"جو بھی ہے۔ اب ہماری باری"۔ نمرہ نے عینا کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

"چلو ! اب تمہاری خیر نہیں عینا"۔ عرشمان بولا۔

"اوکے "۔

اب لڑکیوں کی باری تھی۔ وہ بمشکل پنتالیس رنز بنانے میں کامیاب ہوئیں اور اب بس عینا ہی باقی رہ گئی تھی اور اسکے مقابلے میں بوائز کے اسیّ رنز مزید تھے۔ اسے اپنی ہار صاف دیکھائی دے رہی تھی۔ وہ مایوسی سے بیٹنگ کرنے کے لیۓ آ کھڑی ہوئی اور اسکے مقابل عرشمان بال ہاتھ میں اچھالتا ہوا آیا۔ اسکی لٹکی ہوئی شکل دیکھ کر وہ مسکرا رہا تھا۔

"تو مس عینا ! آر یُو ریڈی؟" 

"ہممم"۔

اس نے بیٹنگ کروائی اور عینا مشکل سے پچیس رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئی۔ سب بوائز اپنی جیت کی خوشی میں ناچنے لگے مگر عرشمان نے کوئی خوشی ظاہر نہ کی۔

"کیا ہوا؟ تُو خوش نہیں ہے کیا" حمزہ نے سوال کیا ۔

"نہیں"۔

"کیوں"؟

"کیوں کہ عینا خوش نہیں ہے اور میں اسے اداس نہیں دیکھ سکتا"۔ 

"واہ بھئی واہ ! اسکا مطلب کہ دال میں کچھ کالا ہے" اس نے اسے چھیڑا۔

"نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے جیسا تُو سوچ رہا ہے"۔

"تجھے اس سے محبت ہے ناں؟"

"اُف !" وہ سر پکڑ کر بولا۔

"اوکے سٹوڈنٹس! اب جیتنے والی ٹیم ہارنے والوں کو ٹارگٹ دے"۔ پروفیسر زاکر ان سے مخاطب ہوۓ۔

"جی سر"۔ حمزہ نے جواب دیا۔

"ایک کام کرتے ہیں ہر لڑکی ایک لڑکے کی کوئی خوبی بتائے گی"۔ سمیر نے کہا۔

"اوکے ڈن"۔ نطاشہ نے جواب دیا۔

سب لڑکیوں نے ایک ایک لڑکے کی خوبی بتائی اور اب نطاشہ کی باری تھی۔

"میں عرشمان کی خوبی بتانا چاہوں گی۔ کہ وہ بہت ہی خوبصورت ہے اور کسی بھی ایری غیری لڑکی کو منہ نہیں لگاتا۔" نطاشہ نے تعریف کی تو سب نے تالیاں بجائیں۔

"میں حمزہ کی خوبی بتاتی ہوں کہ حمزہ بہت ہی سچا اور معصوم انسان ہے۔ دل میں کبھی میل نہیں رکھتا"۔ نمرہ نے کہا۔

"اور میں بھی مینڈک کی ہی۔۔۔ممم۔۔۔میرا مطلب ہے کہ عرشمان کی ہی تعریف کروں گی کہ وہ جیسا بھی ہے مگر رحمدل ہے اور اپنے امیر ہونے پر کبھی غرور نہیں کرتا بلکہ سب کی مدد کرتا ہے ہمیشہ "۔ عینا کے منہ سے اپنی تعریف سن کر وہ ہلکا سا مسکرایا ۔

اس کے بعد سب نے بیٹھ کر خوب باتیں کی اور ڈانس بھی کیا۔ جس میں حمزہ کا ڈانس کافی مزاحیہ تھا۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد وہ سب پھر سے بون فائیر کر کے بیٹھ گئے۔

"پتا جب میں چھوٹی تھی ناں تو میں ٹُو کلاس میں فیل ہو گئی تھی اور میری ماما نے مجھے ایک تھپڑ مارا تھا۔ اس پر میں اتنا روئی تھی اور پورے دو دن کھانا نہیں کھایا۔ بابا تو آرمی میں ہوتے تھے اور ماما ہم پر کسی باپ کی طرح سختی کرتیں تھیں۔ وہ تھپڑ مجھے آج تک یاد ہے اور اس کے بعد میں نے قسم کھا لی کہ چاہے کچھ بھی ہو جاۓ میں نے ہر کلاس میں پاس ضرور ہونا ہے۔" وہ مسکراتے ہوئے اپنے بچپن کی کہانی سنا رہی تھی۔ اور وہ تینوں بہت دلچسپی سے اسکی باتیں سن رہے تھے۔  پھر اچانک عرشمان کا فون بجا۔

"ایکس کیوز می فرینڈز ! گھر سے کال ہے"۔ وہ اٹھا اور تھوڑی دور جاکر کال ریسیو کی۔

"حمزہ تم کب بات کرو گے عرشمان سے؟" نمرہ نے سوال کیا ۔

"کونسی بات؟"

"یار کمال کرتے ہو تم بھی۔ عینا اور عرشمان کی بات۔ پوچھو اس سے کہ اسے عینا سے محبت ہے یا نہیں؟"

"اوہ ہاں ! پوچھتا ہوں"۔ وہ جلدی سے اٹھا اور عرشمان کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا۔ 

"اوکے موم ! کل بات کریں گے۔ گُڈ نائٹ "۔ حمزہ کو دیکھ کر اس نے کال بند کر دی۔

"عرشمان!"

"ہمممم۔ "

"تجھ سے بہت ضروری بات کرنی ہے"۔

"ہمممم بول."

"مگر دیکھ یار پلیز ! میں تیرا دوست ہوں۔ میں بھی تجھ سے ہمیشہ اپنی ہر بات شیئر کرتا ہوں۔ اور تُو بھی کچھ مت چھپانا۔ سچ سچ بتا دینا۔"

"اوکے۔ پوچھ"

"تجھے عینا کیسی لگتی ہے؟"

"کیا مطلب کیسی لگتی ہے؟ دوست ہے تو اچھی ہی لگے گی ناں"۔

"مطلب تجھے عینا سے محبت ہے یا نہیں؟"

"ہاہاہاہاہاہا۔ تُو پھر سے مجھے تنگ کرنے کے لیے آ گیا ہے"؟

"نہیں۔ یار میں سیریس ہوں۔ مذاق نہیں کر رہا"۔

"اچھا جی !" وہ ہنستے ہوئے بولا۔

نمرہ اور عینا دور سے انہیں دیکھ رہی تھیں مگر فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔

"عرشمان پلیز بتا ناں یار !"

"دیکھ میرے بھائی ! تجھے سچ بتاؤ ناں تو میں عینا کے بارے میں سوچتا ضرور ہوں۔ میری سوچوں میں ہمیشہ عینا ہی رہتی ہے۔ لیکن۔۔۔۔" 

"لیکن؟"

"لیکن یار ! مجھے اس سے محبت ہے یا نہیں یہ تو میں خود بھی نہیں جانتا۔ میں سوچتا عینا کو ہوں۔ مگر پسند فاطمہ کو کرتا ہوں ۔"

"کیا؟۔۔۔۔۔پسند؟۔۔۔اور وہ بھی فاطمہ کو۔۔۔۔۔۔؟" اس نے چونک کر پوچھا۔

"ہمممم۔ اور صرف اتنا ہی نہیں۔ بلکہ کل رات میں نے اس سے  پوچھا بھی ہے کہ وہ مجھ سے شادی کرے گی یا نہیں۔ اگر اس کا جواب ہاں میں ہوا تو میں اسی سے شادی کروں گا۔ لیکن اگر اس کا جواب انکار میں ہوا تو پھر میں زبردستی نہیں کرونگا۔"

"یا خدا ! تُو نے اسے پرپوز بھی کر دیا اور ہمیں بتایا تک نہیں۔ کیا یہ تھی تیری دوستی؟"

"حمزہ مجھے موقع ہی نہیں ملا۔ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ میں کسی کو کچھ بتا ہی نہیں سکا۔ مگر اب بتا رہا ہوں ناں !" 

"ان کے بیچ کیا باتیں ہو رہی ہونگی"۔ عینا ، نمرہ سے مخاطب ہوئی۔

"پتا نہیں یار "۔

وہ دونوں پھر خاموشی سے انہیں دیکھنے لگیں۔

"مگر جو بھی ہے یار تجھے ایٹ لیسٹ مجھے تو بتانا چاہیے تھا۔ تُو نے اچھا نہیں کیا"۔

"حمزہ پلیز ٹرائی ٹُو انڈر سٹینڈ یار !"

"لیکن میرا تجھے ایک مشورہ ہے یار"۔

"کیا"۔

"فاطمہ کے لیے آنٹی بھی کبھی راضی نہیں ہونگی۔ اور میرا مشورہ یہ ہے کہ تُو فاطمہ کو چھوڑ دے۔ اسے بھول جا۔ اس کا اور تیرا کوئی جوڑ نہیں بنتا یار۔"

"نہیں حمزہ ! مجھے ایک بار تو اس کا جواب ضرور سننا ہے بس۔"

"اور اگر اس نے انکار کردیا تو؟ پھر تُو کس سے شادی کرے گا؟"

"پتا نہیں"۔ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

"ویسے ایک بات پوچھوں؟"

"ہمممم۔"

"تجھے فاطمہ میں ایسا نظر کیا آیا کہ تجھے اس سے محبت ہوگئی؟ مطلب اتنی لڑکیاں ہیں اس یونیورسٹی میں جو تیرے آگے پیچھے گھومتی ہیں۔ تیری ایک نظر کو ترستی ہیں۔ اور ان سب کو چھوڑ کر تجھے فاطمہ ہی ملی؟ آخر ایسا کیا ہے یار اس میں؟"

"وہی ! جو اس یونیورسٹی کی کسی اور لڑکی میں نہیں ہے"۔

"کیا"؟

"حیا"۔

"تیرا کہنے کا مطلب کیا ہے کہ اگر عینا اور نمرہ پردہ نہیں کرتیں تو کیا وہ بے شرم اور بے حیا ہیں؟" وہ غصے سے بولا۔

"میں اس کے حلیے یا اس کے لباس کی بات نہیں کر رہا حمزہ۔ میں اس کے چہرے اور اس کی آنکھوں کی بات کر رہا ہوں۔ اس کا چہرہ ہمیشہ کوّر ہوتا ہے۔ جسے کوئی نامحرم نہیں دیکھ سکتا۔ اور اس کی آنکھوں میں حیا ہے جو اسے کسی اور نامحرم کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے ہی نہیں دیتی"۔

"تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ عینا اور نمرہ کی آنکھوں میں حیا نہیں ہے"؟

"یار میں نے ایسا کب کہا؟ تُو بار بار ان دونوں کو بیچ میں کیوں لے آتا ہے؟" 

"دیکھ عرشمان ! میں نہیں جانتا کہ تُو کیا کہنا چاہتا ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ نمرہ اور عینا بے شرم نہیں ہیں"۔

"اور میں نے بھی ایسا کچھ نہیں کہا حمزہ "۔

"اگر ایسا کچھ نہیں ہے۔ تو پھر فاطمہ ہی کیوں؟ عینا کیوں نہیں"؟

"میں نے کہا ناں ! عینا بہت اچھی لڑکی ہے اور میں دل سے اس کی عزت کرتا ہوں۔ بس مذاق میں الٹے نام لے لیتا ہوں۔ لیکن سچ میں ! میں اسے دل سے دوست مانتا ہوں۔"

"جانتا ہوں۔ اور شاید اسی لئے تُو نے شریکِ حیات کے روپ میں فاطمہ کو چُنا۔ عینا کو نہیں"؟

"تُو کہنا کیا چاہتا ہے؟ صاف صاف بول"۔

"میں یہی کہنا چاہتا ہوں میرے بھائی ! کہ عینا سے زیادہ بہتر تیرے لیے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ آگے تیری اپنی مرضی ہے"۔

وہ اپنی بات مکمل کر کے چلا گیا اور عرشمان کافی دیر تک وہیں کھڑا سوچتا رہا۔

"کیا کہا اس نے؟" عینا نے سوال کیا ۔

"کچھ نہیں"۔

"کیا مطلب کچھ نہیں؟ تم اتنی دیر تک ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہے۔ کچھ تو کہا ہوگا اس نے؟ بتاؤ ہمیں "۔ نمرہ نے کہا۔

"سوری عینا ! مگر عرشمان تم سے محبت نہیں کرتا۔ وہ فاطمہ سے محبت کرتا ہے۔ اور اس نے اسے پروپوز بھی کردیا ہے۔ اب اسے فاطمہ کے جواب کا انتظار ہے۔ اگر اس نے ہاں کر دی تو وہ فاطمہ سے ہی شادی کرے گا۔ اور اگر اس نے انکار کر دیا تو پھر بھی میں تمہیں جھوٹی تسلی نہیں دے سکتا کہ وہ لازمی تم سے ہی شادی کرے۔" وہ افسردگی سے بولا۔

حمزہ کا جواب سن کر عینا کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے تھے۔ وہ زار و قطار رونے لگی اور بنا کچھ کہے اٹھ کر اپنے کیمپ میں چلی گئی۔

"نمرہ تم جاؤ اس کے پاس۔ اسے اس وقت تمہاری سب سے زیادہ ضرورت ہے"۔ اس نے نمرہ کو مخاطب کرکے کہا۔

"ہممم"۔ وہ فورا اٹھی اور عینا کے پیچھے کیمپ میں چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

کیا ہوا فاطمہ؟ میں تمہیں صبح سے نوٹ کر رہی ہوں۔ تم کچھ کھوئی کھوئی سی ہو۔ کوئی پریشانی ہے کیا؟ مجھ سے شیئر کر سکتی ہو تم"۔ 

"نہیں"۔

"کچھ تو ہے یار ! تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو نا؟"

"سحرش ! آج صبح جب میں تہجد کی نماز پڑھنے کے لیے اٹھی تو عرشمان نے میرا چہرہ دیکھ لیا اور جب میں نقاب کر کے بھاگنے لگی۔ تو اس نے مجھے روکا اور۔۔۔۔۔۔۔۔"

"اور؟"

"وہ مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے"۔

"کیا؟ عرشمان۔۔۔۔۔! اور تم سے نکاح؟" وہ چونک کر بولی۔

"ہاں اور اس نے مجھے دو دن کا وقت دیا ہے سوچنے کیلئے ۔اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اگر میں نکاح کے لئے ہاں کر دیتی ہوں تو وہ اپنی فیملی کو میرے گھر بھیج دے گا۔ اور اگر میں انکار کرتی ہوں تو وہ دوبارہ کبھی میرے پیچھے نہیں آئے گا"۔

"واؤ ! مطلب جس لڑکے کے پیچھے ہر لڑکی مرتی ہے وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ تو کمال ہی ہو گیا فاطمہ۔ اور تم اتنی بیوقوف ہو کہ تم نے اسے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔ تمہاری جگہ میں ہوتی تو فوراً ہاں کر دیتی۔"

"یہی بات تو مجھے سمجھ میں نہیں آئی کہ اس نے آخر مجھ سے ہی کیوں کہا"؟

"جو بھی ہے مگر تم مجھے بتاؤ تمہارا فیصلہ کیا ہے؟ کہیں تم اسے انکار کرنے کا تو نہیں سوچ رہی"؟

"سحرش مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا جواب دوں اسے"۔

"پاگل لڑکی ! دِیا لے کر بھی ڈھونڈو گی ناں تب بھی اتنا اچھا ہمسفر نہیں ملے گا تمہیں۔ ساری زندگی عیش کرو گی۔ فوراً ہاں کر دو بیوقوف۔"

"نہیں۔ میں اسے ہاں نہیں کر سکتی کیونکہ ابا کبھی نہیں مانیں گے"۔

"لو جی ! یار تمہارے ابّا کیا چاہتے ہیں کیسا داماد ملے انہیں؟ بھلا سینئر سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے؟ کیا کمی ہے اس میں؟ پیسہ ، دولت ، شہرت ، عزت ، خوبصورتی سب کچھ تو  ہے اس کے پاس"۔

"تم صحیح کہہ رہی ہو سحرش مگر۔۔۔۔۔۔"

"مگر وگر کچھ نہیں پاگل ! میں ابھی جاتی ہوں اور سینئر کو بتاتی ہوں کہ تمہاری طرف سے ہاں ہے۔ پھر دیکھنا وہ کیسے تمہارے لیے رشتہ بھیجے گا۔ اور تم اس کے گھر میں دلہن بن کر چلی جاؤ گی۔" وہ کیمپ میں سے اٹھنے لگی مگر فاطمہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھا لیا۔

"تم ایسا کچھ نہیں کرو گی سحرش !"

"پھر کیا چاہتی ہو تم فاطمہ؟ انکار کرو گی تو کسی اور سے شادی کرنی پڑے گی۔ اور کیا بھروسہ کہ وہ انسان کیسا نکلتا ہے۔ یار تمہیں عرشمان سے بہتر اور کوئی نہیں مل سکتا۔ یقین کرو میرا۔"

"جانتی ہوں مگر میں نے فیصلہ اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے۔ جو اسے منظور ہوگا وہی ہوگا۔ ہمارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ بھی نہیں ہوتا سحرش۔ اگر میں اس کی قسمت میں ہوئی تو اسے مل جاؤں گی۔ اور اگر نہیں۔۔۔۔ تو وہ کسی بھی قیمت پر مجھے حاصل نہیں کر سکتا۔" 

"لیکن انسان کو قسمت خود بھی بنانی پڑتی ہے"۔

"میں نے تم سے کہا ناں سحرش ! اگر اسے میرا محرم بننا ہوا تو کوئی نہیں روک سکتا۔ اور اگر ہم ایک دوسرے کی تقدیر میں نہیں ہیں۔ تو میں اس کے پیچھے اپنا وقت برباد کرکے اپنے رب کو ناراض نہیں کر سکتی۔"

"سہی ہے۔ تمہاری مرضی "۔ وہ خاموش ہو گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عینا پلیز چپ ہو جاؤ۔" نمرہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگایا اور اسکی کمر کو سہلایا۔

"وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا بلکہ اس فاطمہ سے پیار کرتا ہے۔ وہ دو ٹکے کی لڑکی اسکی محبت ہے۔" وہ ہچکیوں سے روتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔     

"وہ بکواس کرتا ہے۔ اسے کوئی محبت نہیں ہے فاطمہ سے۔ وہ صرف تم سے محبت کرتا ہے۔ تم دیکھنا اسے بہت جلد احساس ہو جائے گا۔" اس نے حوصلہ دینے کی کوشش کی۔

"تم جھوٹ بول رہی ہو۔ تم صرف مجھے جھوٹی تسلیاں دے رہی ہو۔ تم بھی بہت اچھے سے جانتی ہو کہ وہ جب ایک بار فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ اب وہ کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ وہ فاطمہ سے شادی کر لے گا۔ اور میں۔۔۔۔میں روتی رہ جاؤں گی۔ میرے سارے خواب ٹوٹ جائیں گے۔" وہ بس روۓ جارہی تھی۔

"نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی میں تمہیں کوئی جھوٹی تسلی دے رہی ہوں۔ آخر اُس فاطمہ میں ہے ہی کیا؟ اس کا اور فاطمہ کا بھلا کیا جوڑ۔ تم رونا تو بند کرو پلیز ! تم دیکھنا بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں خود بات کرونگی عرشمان سے۔"

"نہیں تم کسی سے کوئی بات نہیں کرو گی۔ اس نے جس کو چننا تھا اس نے چن لیا۔ اب اسے کبھی پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ مجھے اس سے محبت تھی یا ہے۔"

"ایسا کیوں کہہ رہی ہو تم عینا ؟"

"کیونکہ ! میں نہیں چاہتی کہ وہ مجھ پر ترس کھائے"۔

"کیسی باتیں کر رہی ہو تم عینا وہ ہمارا دوست ہے تو پھر ترس کیسا؟"

"بس میں نے کہا ناں کہ تم اس سے کوئی بات نہیں کرو گی اور حمزہ کو بھی منع کر دینا تم"۔ اس نے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔

"تو پھر کیا تم اپنی محبت ایسے ہی کسی اور کے ہاتھوں میں جانے دو گی؟ اتنی آسانی سے بھول جاؤ گی اسے؟"

"تم سے کس نے کہا کہ میں اسے بھول جاؤں گی یا میں اتنی آسانی سے اسے چھوڑ دوں گی؟"

"تو پھر کیا کرو گی تم"؟

"وہ فاطمہ کا جواب سننا چاہتا ہے ناں؟ میں اس کا فیصلہ تو نہیں بدل سکتی اور نہ ہی اسے فاطمہ سے شادی کرنے سے منع کر سکتی ہوں۔ مگر فاطمہ کا فیصلہ ضرور بدل سکتی ہوں۔"

"وہ کیسے؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"پیسہ۔۔۔۔۔۔پیسہ بہت کچھ کرواتا ہے نمرہ"۔ وہ سنجیدگی سے بولی۔

"مطلب تم فاطمہ کو پیسے دو گی؟"

"ہاں ! جتنے پیسے مانگے گی اتنے دونگی۔ اور کہوں گی کہ ہمیشہ کے لئے اس کی نظروں سے دور ہو جائے۔"

"مگر تم اتنے پیسے کہاں سے لاؤ گی؟ یعنی اگر اس نے لاکھوں روپے مانگ لئے تو تم کہاں سے دو گی؟"

"وہ میرا مسئلہ ہے"۔

"ٹھیک ہے عینا۔ لیکن اگر عرشمان کو پتہ چل گیا تو؟"

"اسے کون بتائے گا ؟ تم یا میں؟"

"کیوں تم اس پلان میں حمزہ کو شامل نہیں کرنا چاہتی کیا؟"

"نہیں۔ حمزہ کو پلان میں شامل کرنے کی بیوقوفی نہیں کر سکتی میں۔ تم اچھے سے جانتی ہو کہ وہ عرشمان کا بیسٹ فرینڈ ہے۔ ہماری دوستی سے پہلے وہ اس کا دوست ہے۔ وہ ہمارا کبھی ساتھ نہیں دے گا کیونکہ وہ اپنے دوست سے اس کی محبت کبھی الگ نہیں کرنا چاہیے گا۔"

"ہمممم۔ سہی کہہ رہی ہو تم"۔

"تو پھر بس ! اب یہ بات ہم دونوں کے بیچ میں رہنی چاہیے۔ باقی فاطمہ کا منہ میں خود ہی بند کروا لوں گی"۔ وہ ڈٹ کر بولی۔

"چلو ٹھیک ہے اب تم سو جاؤ۔ اور زیادہ مت سوچو۔ انشاء اللّٰہ سب اچھا ہی ہوگا۔"

"انشاء اللّٰہ "۔

نمرہ نے اسے دوبارہ گلے سے لگایا اور حوصلہ دیا۔ پھر وہ دونوں نیند کی آغوش میں چلی گئیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"آج ہم سب لوگ تقریبا دس بجے آگے روانہ ہونگے اور کسی ہوٹل میں قیام کریں گے" پروفیسر زاکر سب کو جمع کرکے مخاطب ہوۓ۔

"جی سر" سب نے ہمہ تن جوش ہوکر جواب دیا۔

"چلو سب اپنے اپنے بیگ پیک کرو اور تیاری کرو۔"

"اوکے سر"۔

سب نے اپنا سامان بیگ میں جمع کرنا شروع کیا اور اسی دوران عینا کی نظر اس شرٹ اور جیکٹ پر پڑی جو اس نے عرشمان کے لیے لی تھی۔ وہ دونوں چیزیں اٹھا کر عرشمان کی جانب بڑھی جو اپنا سامان پیک کرنے میں مصروف تھا۔

"عرشمان!"

"ہمممم۔ " اس نے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے جواب دیا۔

"تمہارے لئے گفٹ لیا تھا میں نے۔ اب یاد آیا تو سوچا تمہیں دے دوں۔" اس نے پیکٹ اسکی طرف بڑھایا۔

"کیا ہے اس میں؟"

"کھول کر دیکھ لو"۔

اس نے پیکٹ پکڑ کر کھولا۔

"ارے واہ ! مس نورالعین یہ میرے لئے ہے؟" اس نے مسکرا کر پوچھا۔

"جی۔"

"بہت خوبصورت ہے۔ تھینک یو"۔

عینا نے بنا کچھ بولے خاموشی سے اپنا رخ دوسری جانب موڑا اور جانے لگی ۔

"عینا!" اس نے پیچھے سے آواز دی۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"ادھر دیکھو ! میری طرف "۔ اس نے بازو سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی جانب موڑا۔

مگر عینا گردن جھکائے خاموش کھڑی رہی۔

"ناراض ہو مجھ سے"؟

"میں کسی سے ناراض نہیں ہوں"۔  اس نے سرد لہجے سے کہا۔

"اچھا میری چڑیل !" وہ مسکرایا ۔

"صرف چڑیل کہو تو زیادہ بہتر ہے"۔

"کیا مطلب؟"

"مطلب کہ میں چڑیل ضرور ہوں تمہارے مطابق۔ مگر تمہاری نہیں ہوں۔" وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔

"ایسا کیوں کہہ رہی ہو"۔

"کیوں کیا غلط کہا ہے میں نے؟ تم کسی اور کے ہو اور میں کسی اور کی ہوں۔ تو پھر آئندہ مجھے اپنی چڑیل مت کہنا"۔

"اچھا ! تو بتاؤ پھر کہ میں کس کا ہوں"؟ اسکا لہجہ سخت تھا۔

"فاطمہ کے"۔ وہ ڈٹ کر بولی۔

"حمزہ نے کہا ہے تم سے؟"

"جس نے بھی کہا ہو مگر کہا تو سچ ہے ناں؟"

"تو پھر اتنا بھی بتا دو۔ کہ تم کس کی ہو"؟

"کسی کی بھی۔ مگر اب تمھاری نہیں ہوں"۔

وہ کافی سنجیدگی سے ایک دوسرے کے چہرے کی طرف دیکھتے رہے۔ پھر عینا نے اپنا رخ موڑا اور واپس سامان پیک کرنے میں مصروف ہو گئی۔

تقریبا دس بجے سب بس میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ دو گھنٹے کی مزید مسافت کے بعد انہوں نے ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ جہاں ہر گروپ کے لئے الگ الگ کمرے بک کروائے گئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ارے واہ بھئی واہ ! دیکھو تو ذرا کون آیا ہے آج ہمارے پاس۔ سینئر نور العین"۔ سحرش نے اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر کہا۔

"فاطمہ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے اکیلے میں۔" عینا  فاطمہ سے مخاطب تھی۔

" واہ ! آج سینئر نور العین صاحبہ کو ہم جیسے لوگوں سے بات کرنے کی نوبت کیسے پیش آگئی"؟ سحرش نے طنز کیا۔

"کیوں میں بات نہیں کر سکتی کیا؟ اور ویسے بھی سحرش ! تم اپنا منہ بند رکھو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ مجھے تم سے نہیں ، فاطمہ سے بات کرنی ہے۔ اور میں اسی سے مخاطب ہوں۔ بہتر ہے کہ تم ہمیں تھوڑی دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دو۔" عینا نے منہ توڑ جواب دیا۔

"او کے سینئر صاحبہ! غصہ تو نہیں کرو"۔

"ہمیں اکیلا چھوڑ دو۔ سحرش !" اس نے دوبارہ دہرایا۔

"اوکے"۔ سحرش اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی عینا نے فوراً دروازہ لاک کیا۔

"جی بولیں ! آپ کیا کہنا چاہتی ہیں مجھ سے؟" بیڈ پر بیٹھی فاطمہ نے اس سے سوال کیا۔

"ضروری بات کرنی ہے تم سے"۔ وہ اسکے نزدیک آ کر براجمان ہو گئی۔

"جی"۔

"عرشمان نے کیا کہا ہے تم سے؟"

"کون عرشمان ؟"

"اوہ اچھا ! واؤ ! تو تم عرشمان کو جانتی ہی نہیں ہو؟" اس نے مسکراتے ہوۓ طنزیہ انداز میں کہا۔

"دیکھیں آپ جو کہنا چاہتی ہیں۔ صاف صاف کہیں"۔

"میرے سامنے زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں فاطمہ۔ تم عرشمان کو بہت اچھے سے جانتی ہو۔ تمہیں پتہ ہے کہ میں کس کی بات کر رہی ہوں۔" وہ طمانیت سے بولی۔

"کہیں آپ سینئر عرشمان کی بات تو نہیں کر رہیں؟"

"بالکل ! اچھا ہوا بہت جلدی یاد آ گیا"۔

"جی بولیں۔ کیا مدد کر سکتی ہوں میں آپ کی ؟" اس نے نرمی کہا۔

"میں نے تم سے پوچھا ہے کہ عرشمان نے تمہیں کیا کہا ہے؟"

"آپ میرے پاس آئی ہیں۔ تو میرے خیال سے آپ جانتی ہونگی کہ انہوں نے مجھ سے کیا کہا ہے"۔

"ہاں۔ مگر میں تمہارے منہ سے ایک ایک حرف سننا چاہتی ہوں"۔

"انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر میں نے ہاں میں جواب دیا تو وہ اپنی فیملی کو میرے گھر بھیجیں گے۔ اور اگر میں نے انکار کیا تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ بس اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا انہوں نے مجھ سے۔"

"اچھا ! اور تم نے کیا جواب دیا"؟

"کچھ نہیں۔ خاموش رہی میں۔"

"اور کیا ارادہ ہے؟ ہاں میں جواب دو گی یا پھر انکار کرو گی؟"

"پتہ نہیں"۔

"پتا تو تمہیں بہت اچھے سے ہے۔ بس تم بتانا نہیں چاہتی۔" وہ غصے سے بولی۔

"دیکھیں میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا"۔

"تو بہتر ہے کہ اپنا فیصلہ جلدی کرلو اور تمہارے لئے اور بھی زیادہ بہتر ہوگا اگر تم اپنا فیصلہ انکار میں کرو تو"۔

"آپ کو میرے فیصلے سے کیا لینا دینا؟"

"لینا دینا ہے۔ کیونکہ میں عرشمان سے محبت کرتی ہوں۔ اور وہ صرف میرا ہے۔ ہم دونوں کے بیچ میں کسی تیسرے کو ہرگز برداشت نہیں کروں گی میں۔ تمہارے لئے اچھا ہے کہ تم راستے سے خود ہی ہٹ جاؤ۔ ورنہ مجھے ہٹانے کے بہت سے طریقے آتے ہیں۔" اس نے دھمکی دی۔

"اچھا ! اگر میں ہاں کر دوں۔ تو کیا کریں گی آپ؟"

"تمہیں کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑوں گی میں۔ حشر ، نشر کر دوں گی میں تمہارا فاطمہ۔ تم ابھی مجھے جانتی نہیں ہو۔" وہ آنکھوں میں شدید نفرت لئے بولی۔

"ایک بات بتاؤں میں آپ کو؟ آپ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔ کچھ بھی نہیں کر سکتیں آپ میرے ساتھ۔ کیونکہ میرے ساتھ میرا اللّٰہ ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ اگر وہ مجھے ذلیل کرنا چاہے ، تو کوئی بھی مجھے عزت نہیں دے سکتا اور اگر وہ مجھے عزت دینا چاہے  تو کروڑوں لوگ مل کر بھی مجھے زلیل نہیں کر سکتے۔" اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم عرشمان کو ہاں میں جواب دو گی۔ ہمممم؟" اس نے غضب ناک کر پوچھا۔

"میں نے کہا ناں۔ میں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔"

"اُف ! اچھا دیکھو اب میری بات دھیان سے سنو۔ میں تمہیں ایک آفر دیتی ہوں۔"

"کیسی آفر؟"

"اگر تم عرشمان کو انکار کر دو۔ تو میں تمہیں منہ مانگی رقم دوں گی۔ اتنی کہ تم ساری زندگی عیاشی سے گزار سکتی ہو"۔

"آپ کو میں لالچی نظر آتی ہوں کیا؟"

"شاید !"

"معاف کیجیے گا۔ مگر مجھے ایک روپیہ بھی نہیں چاہیے۔"

"یعنی تم اسے کسی قیمت پہ انکار نہیں کرو گی؟"

"دیکھیں عینا ! میری آپ سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی مجھے آپ کے دوست میں کوئی دلچسپی ہے۔ میں نے پہلے  فیصلہ نہیں کیا تھا مگر اب کر لیا ہے"۔

"کیا؟"

"کہ آپ کا دوست آپ کو ہی مبارک ہو۔ مجھے نہیں چاہیے وہ۔ میں انکار کر دوں گی۔ اور یہ میں اس لیے نہیں کروں گی کہ مجھے آپ سے پیسے چاہیں یا کوئی اور لالچ ہے۔ بلکہ اگر مجھے لالچ ہوتا تب بھی میں آپ کی آفر قبول نہ کرتی کیونکہ میں نے سنا ہے کہ جتنا وہ امیر ہے اس حساب سے میں اُسے ہاں میں جواب دے کر کئی گناہ زیادہ پیسوں پر عیش کر سکتی ہوں۔ لیکن ! میں ایسا نہیں کروں گی۔ آپ اُسے دل سے چاہتی ہیں۔ میری دعا ہے کہ وہ آپ کو مل جائے۔ میں آپ کی خوشی کی خاطر انکار کر دوں گی۔ آپ فکر مت کریں۔"

"تم جھوٹ بول رہی ہو ناں فاطمہ؟" 

"نہیں۔ میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں۔"

"تمہیں کیا واقعی ہی عرشمان میں کوئی دلچسپی نہیں؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"نہیں"۔

"تو تم پکا اسے انکار کر دوں گی ناں؟ ہاں تو نہیں کرو گی؟"

"جی جی بالکل !"

"شکر ہے"۔ اس نے لمبی سانس لی۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ آپکے چہرے کے تاثرات دیکھ کر تو ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ جان نچھاور کرتی ہیں اس پر؟"

"ہمممم۔ کچھ ایسا ہی ہے۔ مگر شاید اسے قدر ہی نہیں ہے۔"

"قدر کی امید۔۔۔۔۔اور وہ بھی ایک انسان سے۔۔۔۔ عینا جو انسان اپنے رب کی قدر نہیں کرتا پھر وہ آپکی قدر کیا کرے گا؟"

"تم کہنا کیا چاہتی ہو"؟

"ایک بات کا جواب دیں مجھے؟"

"ہمممم"۔

"عرشمان نماز پڑھتا ہے؟"

"پتا نہیں"۔

"آپ کتنے سال سے اسے جانتی ہو؟"

"تقریبا تین سال سے۔ مگر کیوں؟"

"ان تین سالوں میں آپ نے کبھی اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا؟"

"میں کیسے دیکھ سکتی ہوں؟ میں تو بس یونیورسٹی میں اس سے ملتی ہوں۔ یا پھر کبھی کبھار باہر مل لیتے ہیں"۔

"کبھی اس نے ذکر کیا ہو کہ وہ مسجد گیا تھا یا کچھ بھی ایسا کہ اس نے نماز پڑھی تھی۔ یا دعا مانگی تھی۔ کچھ بھی؟"

"نہیں۔"

"کبھی کسی پارٹی کے دوران یا کسی بھی موقع پر اس نے کہا ہو کہ وہ نماز پڑھنے جا رہا ہے؟"

"نہیں۔ مجھے یاد نہیں۔"

"تو اس کا مطلب ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھتا"۔

"شاید۔ مگر تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو؟"

"کیونکہ جو انسان اپنے رب کو بھلا سکتا ہے وہ کسی کو بھی بھلا سکتا ہے"۔

"تم ایسا کیسے کہہ سکتی ہو؟ ہو سکتا ہے وہ اللّٰہ تعالی کو تم سے زیادہ عزیز ہو"۔

"جی بالکل ہو سکتا ہے۔ مگر میں آپ کو سمجھا رہی ہوں کہ خوبصورتی، دولت، شہرت، عزت یہ سب چیزیں معنی نہیں رکھتیں۔ ہمسفر کا نیک ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ جو کل کو ہمارا ہاتھ تھام کر ہمیں جنت میں اپنے ساتھ لے کر جا سکے۔"

"ہم دونوں ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں فاطمہ۔ میں بھی بالکل اس کے جیسی ہی ہوں تو تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے"۔

"ٹھیک ہے۔ اس وقت آپ کو میری باتیں سمجھ میں نہیں آئیں گی۔ مگر میں دعا ضرور کروں گی آپ کے لیے"۔

"تھینکس !" پھر وہ اٹھی اور مطمئن ہو کر کمرے سے باہر چلی گئی۔

میرے بھائی ! کوئی ڈراونی مووی دیکھتے ہیں بیٹھ کر"۔ وہ کھڑکی میں کھڑے عرشمان کے کندھے پہ ہاتھ کر بولا۔

"تُو دیکھ لے یار ! میرا موڈ نہیں ہے"۔

"کیوں تیرے مُوڈ کو کیا ہوا ہے؟ صبح سے دیکھ رہا ہوں تجھے۔ سب ٹھیک تو ہے ناں؟"

"صبح سے ایک ہی بات پریشان کر رہی ہے مجھے"۔

"کونسی بات"۔

"عینا کا رویہ آج کافی بدلا بدلا سا تھا۔ پہلے میں اسے چڑیل کہتا ہوں تو برا نہیں مانتی وہ۔ لیکن آج  اسے برا لگا۔ حالانکہ وہ جانتی ہے میں صرف مذاق کرتا ہوں۔"

"تو اس میں ٹینشن لینے والی کونسی بات ہے؟ ہوسکتا ہے اسے کوئی بات بری لگی ہو تیری"۔

"ہمممم۔ وہی سوچ رہا ہوں۔ لیکن مجھے نہیں یاد کہ میں نے اسے کچھ ایسا کہا جو اسے برا لگ سکتا۔ کیونکہ کل تک اس کا موڈ بالکل ٹھیک تھا۔ بہت عجیب سا ری ایکٹ کر رہی تھی آج۔"

"تُو نے پوچھا نہیں پھر اس سے؟"

"پوچھا تھا۔ مگر اس نے بتایا نہیں"۔

"میرے بھائی ! پھر اس میں ٹینشن لینے والی کیا بات ہے؟ جب اسکا موڈ ٹھیک ہو گا تو کرلے گی بات۔ اور ویسے بھی تجھے کیا فرق پڑتا ہے؟ تُو تو فاطمہ سے پیار کرتا ہے ناں ؟اور عینا تو صرف تیری دوست ہے۔"

"میرے نزدیک دوستی محبت سے زیادہ معنی رکھتی ہے حمزہ۔"

"واقعی؟" وہ حیرانگی سے بولا۔

"ہمممممم۔"

"تو اس کا مطلب ہے کہ اگر تجھے عینا کی خاطر فاطمہ کو چھوڑنا پڑے۔ کیا پھر تُو چھوڑ دے گا؟"

"نہیں۔"

"پھر دوستی زیادہ معنی کیسے رکھتی ہے؟"

"بس رکھتی ہے"۔

"خیر چھوڑ یار ! تیری فلاسفی میری سمجھ میں نہیں آتی۔ چل اندر بیٹھ کے مووی دیکھتے ہیں۔ بلکہ ایک کام کرتے ہیں عینا اور نمرہ کو بھی اپنے روم میں ہی بلا لیتے ہیں۔ پھر سب مل کر مووی دیکھیں گے۔ بہت مزا آئے گا قسم سے"۔

"کہا ناں یار ! میرا موڈ نہیں ہے تُو دیکھ لے"۔ اس نے سختی سے کہا تو حمزہ منہ بسورتا ہوا کمرے میں چلا گیا اور وہ کافی دیر تک چاند کی مدھم روشنی میں آسمان کی جانب دیکھ کر عینا کے خیالوں میں کھویا رہا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"آپ اپنا آفس کا کام وہی ختم کرکے آیا کریں۔ گھر میں آکر جب آپ آفس کا کام لے کر بیٹھتے ہیں تو مجھے بہت غصہ آتا ہے۔" عالیہ بیگم بیڈ پر بیٹھے احمد صاحب سے مخاطب تھیں۔

"چلیں جی ! آئندہ کوشش کروں گا۔ بولیں آپ نے کوئی بات کرنی ہے کیا مجھ سے؟"

"جی ! اگر آپ کے پاس اپنی بیگم صاحبہ کیلئے کچھ وقت ہو تو۔" وہ بال کیچر میں لپیٹتے ہوۓ بیڈ پر آکر بیٹھ گئیں۔

"سارا وقت ہی آپ کے لئے ہے بیگم۔ بولیں !" 

"آپ سے کچھ کہا تھا میں نے"۔

"کیا"؟

"عرشمان کی منگنی کرنی ہے"۔

"ہاں تو کر دیں جہاں آپکا دل چاہے۔ بھئی آپ کو اور آپ کے بیٹے کو پتا ہوگا۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔"

" میں عرشمان سے بات کر چکی ہوں اسے کوئی لڑکی پسند نہیں ہے۔ تو میرے خیال سے اب مجھے اپنی پسند کی ہی بہو لے آنی چاہئیے۔"

"ہو سکتا ہے کہ وہ ابھی اپنی پسند کا اظہار نہ کرنا چاہتا ہو"۔

"ہو ہی نہیں سکتا۔ میرا بیٹا مجھ سے کوئی بات نہیں چھپاتا۔ اور اگر کوئی لڑکی ہوتی تو وہ مجھے کھلم کھلا کہہ دیتا۔"

"چلیں جی مان لیتے ہیں۔ تو آپ کس کو بہو بنانا چاہتی ہیں"۔

"ہے میری نظر میں ایک بہت ہی اچھی ، خوبصورت ، پڑھی لکھی اور اچھے گھرانے کی لڑکی۔ "

"کون؟"

"آپ اسے جانتے ہیں بلکہ ہم سب اسے جانتے بھی ہیں اور اس سے مل بھی چکے ہیں۔ عرشمان تو اسے بہت ہی اچھے سے جانتا ہے۔ اور دونوں کی جوڑی بھی کمال کی لگے گی۔ بالکل چاند جیسی لڑکی ہے۔"

"مگر ہے کون؟ بتائیں بھی"۔ انہوں نے تجسس ظاہر کیا۔

"نور العین"۔

"وہ جو عرشمان کی دوست ہے۔ وہ؟"

"جی وہی۔"

"ہاں ماشاء اللّٰہ اچھی بچی ہے"۔

"تو پھر چلیں کل سکندر شاہ کی طرف؟"

"اتنی جلدی بھی کیا ہے؟ عرشمان کو تو آنے دو۔ اسے ایک بار بتا دینا کہ تم نورالعین کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اسے نورالعین پسند ہی نہ ہو۔"

"ایسا نہیں ہو سکتا۔ نورالعین کو وہ تین سال سے جانتا ہے۔ اور ہمیشہ اس کی اتنی تعریفیں کرتا ہے کہ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ اور کتنا لڑتے بھی تو ہیں ایک دوسرے سے۔ جہاں لڑائی ہوتی ہے وہیں پیار بھی ہوتا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔"

"چلیں ٹھیک ہے۔ مگر ایک بار وہ واپس آ جائے تو پھر چلیں گے"۔

"نہیں ! اس کے واپس آنے سے پہلے جانا ہے۔ میں اسے سرپرائز دینا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ کل جب وہ واپس آئے تو اسے ہم سرپرائز دیں کہ فلاں دن اس کی نورالعین کے ساتھ منگنی ہے۔ آپ یقین کریں وہ بہت خوش ہوگا سن کر۔"

"تو اس کا مطلب کہ کل جانا لازمی ہوگیا ہے۔ کیونکہ اب ہماری بیگم صاحبہ کا آرڈر ہے۔" وہ مسکرا کر بولے۔

"ہاہاہاہا۔ جی !"

"ٹھیک ہے پھر کل دوپہر کو آپ تیار رہیے گا۔ میں کل جلدی آفس سے واپس آ جاؤں گا۔ تو پھر ہم چلیں گے۔"

"اوکے"۔

"اب ذرا اپنے ہاتھ کی گرما گرم چائے تو پلا دیں"۔

"اچھا ٹھیک ہے۔ لاتی ہوں۔" وہ مسکراتے ہوئے کچن کی جانب بڑھیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج انکا یہاں آخری دن تھا اور شام کو انہیں واپس روانہ ہونا تھا۔ ان چار دنوں میں عرشمان نے کئی بار عینا کو بلا کر وجہ جاننے کی کوشش کی مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا اور اسے مسلسل اگنور کرتی رہی۔  یہ چار دن ماسٹر گروپ کیلئے کافی بورنگ ثابت ہوۓ۔ انہوں نے پھر سے کیمپ لگا کر ایک جگہ قیام کیا۔ اب دوپہر ہو چکی تھی۔ سب نے اپنا سامان پیک کرنا شروع کیا اور واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ 

"فاطمہ !" عرشمان پیکینگ کرتی ہوئی فاطمہ کے قریب آکر بولا۔

فاطمہ نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا اور بنا کوئی جواب دیے واپس سامان پیک کرنے میں مشغول ہو گئی۔

"کیا فیصلہ کیا تم نے؟" وہ ڈائریکٹ آپ سے تم پر آ چکا تھا۔

" آپ جائیں یہاں سے"۔

"بنا جواب سنے میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا۔ بتاؤ  مجھے کیا فیصلہ کیا تم نے؟"

"میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی"۔ وہ اسکے روبرو ہو کر بولی۔

"مگر کیوں؟ کیا کمی ہے مجھ میں؟"

"کوئی کمی نہیں ہے آپ میں۔ آپ ایک بہت ہی اچھے انسان ہیں۔ مگر میں اپنے ماں باپ کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتی۔ وہ میرے لئے جس ہمسفر کا بھی انتخاب کریں۔ مجھے وہ قبول ہے۔"

"اوہ ! تو بس اتنی سی بات۔ تمہارے ماں باپ مان جائیں گے۔ میں رشتہ بھیجوں گا اور وہ ہاں کر دیں گے۔ پھر تو شادی کرو گی ناں مجھ سے؟" اس نے دوبارہ سوال کیا۔

"مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ہے۔ میں نے کہا ناں"۔ اسکا لہجہ اب سخت ہونے لگا تھا۔

"مگر وجہ بھی تو بتاؤ ناں انکار کی"۔

"کیونکہ ! مجھے آپ پسند نہیں ہیں۔" وہ غصے سے چلائی۔

اب ان کے گرد بھیڑ لگنی شروع ہو گئی تھی اور وہ تینوں بھی کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ مگر عینا بمشکل اپنے جذبات کو ضبط کر کے کھڑی تھی۔

"کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟میں نہیں پسند۔۔۔۔۔۔؟ عرشمان احمد ملِک۔۔۔۔۔۔۔تمہیں پسند نہیں ہے۔۔۔۔؟" اس نے طمانیت سے کہا۔

"جی !"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ شکریہ بہت بہت مس فاطمہ ! مجھے یہ یاد دلانے کے لیے کہ میں بھی کسی کو پسند نہیں ہو سکتا۔ بہت غرور ہونے لگا تھا مجھے خود پر۔" وہ طنزیہ انداز میں بولا۔

"مجھے مغرور لوگ بھی بالکل نہیں پسند ۔ اور غرور ہو بھی کس بات کا آخر ! ہم سب انسانوں کی اوقات ایک جیسی ہی ہے۔ ہم سب مٹی سے بنے ہیں اور مٹی میں ہی چلے جائیں گے۔ سب کی اوقات برابر ہے۔"

"تھینک یُو سو مچ مس فاطمہ ! مجھے میری اوقات یاد دلانے کے لئے۔"

"امید ہے کہ آپ کو آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا ۔ اب آپ جا سکتے ہیں یہاں سے"۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ یُو مین تم انکار کر رہی ہو میری ہونے سے؟" وہ مسکرایا ۔

"جی۔"

"تو اب ایک حقیقت میرے منہ سے بھی سن لو مس فاطمہ نور۔ کہ تمہیں زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود ہی اپنا دل توڑتا ہوں۔ ارے ! تم کیا مجھے چھوڑو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاؤ ! عرشمان احمد خود تمہیں  چھوڑتا ہے۔" اس نے چلّا کر کہا۔

"ایتھے رکھ ! " حمزہ منہ میں بُڑبڑایا۔

"اور ایک بات میری کان کھول کر سن لو مس فاطمہ نور ! کہ میں وہ نہیں ہوں جسے تم ایک بار ٹھکراؤ گی تو پاگلوں کی طرح تمہارے پیچھے پیچھے آۓ گا۔ بلکہ میں وہ ہوں ! جسے اگر ایک بار انکار کر دو تو دوبارہ کبھی اس انسان کو پلٹ کر بھی نہیں دیکھتا۔ پھر چاہے وہ جئیے یا مرے۔ اور تم نے کہا ناں کہ تم مجھ سے شادی نہیں کر سکتی کیونکہ میں تمہیں پسند نہیں ہوں۔ تو یاد رکھنا عرشمان احمد ملِک ایسا وقت لے کر آئے گا۔ تم خود مجھ سے بھیک مانگو گی کہ میں تم سے شادی کر لوں مگر ! میں تمہیں ایسی ٹھوکر مار کر جاؤں گا کہ تمہیں آج کے اس دن پر افسوس ہوگا۔" وہ اونچی آواز میں بولا۔ 

"اور ہاں ! ایک بات اور یاد رکھنا کہ عرشمان احمد دھمکی  نہیں ، وارننگ دیتا ہے۔" اسنے جاتے ہوۓ واپس مڑ کر انگلی دیکھاتے ہوۓ کہا اور پھر عجیب نفرت کی نگاہوں سے اسے گُھورتا ہوا اپنے کیمپ میں چلا گیا ۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"صاحب جی ! دیکھیں ذرا کون آیا ہے آج"۔ سکینہ صوفے پر  بیٹھے سکندر شاہ سے گویا ہوئی۔

"ارے احمد ملک صاحب ! آپ؟" وہ اٹھے اور گرم جوشی سے گلے ملے۔

"السلام علیکم !"

"وعلیکم السلام۔ کیسی ہیں آپ بھابھی؟" سکندر شاہ نے عالیہ بیگم کی جانب دیکھ کر کہا۔

"الحمدللّٰہ ! بالکل ٹھیک ہوں۔"

"آئیں بیٹھیں آپ لوگ۔" سکندر شاہ نے صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

"جی ضرور۔" 

"سکینہ کھڑی کیوں ہو؟ بھئی کھانے کا بندوبست کرو۔ اتنے عرصے بعد احمد صاحب کو ہماری یاد آئی ہے"۔ سکندر شاہ سکینہ کو دیکھتے ہوئے بولے۔

"جی۔" سکینہ نے اپنے قدم کچن کی جانب بڑھائے اور کھانے کا انتظام کرنے لگی۔

"اور سناؤ سکندر سب ٹھیک چل رہا ہے؟ اور سارہ بیٹی نظر نہیں آرہی کہاں ہے وہ؟" احمد ملِک نے سوال کیا۔

"جی سب خیریت ہے الحمدللّٰہ ۔ اور سارہ زرا اپنی کسی دوست کی طرف گئی ہے آ جاۓ گی ابھی۔"

"اچھا "۔

انہوں نے کافی دیر تک بیٹھ کر باتیں کی اور شام کا کھانا بھی کھایا۔ سارہ نے بھی گھر آکر سب سے سلام کیا اور خوب الفت ولگن سے انکی مہمان نوازی کی۔ کھانے کے بعد چائے کا انتظام کیا گیا۔ وہ سب اکٹھے بیٹھ کر چائے پینے میں مشغول تھے جب عالیہ بیگم سکندر شاہ سے مخاطب ہوئیں۔

"سکندر بھائی ! دراصل ہم یہاں آج کسی مقصد کے لیے آئے ہیں۔"

"کس مقصد کیلئے ؟ میں سمجھا نہیں۔" سکندر شاہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

"آپ ہمارے بیٹے عرشمان کو جانتے ہیں۔ اس سے مل بھی چکے ہیں کئی بار۔ اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ ماشاء اللّٰہ سے پیسے کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ خدا کا دیا سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ تو آپ کو ہمارا بیٹا کیسا لگتا ہے؟"

"ماشاءاللّٰہ ! اچھا لڑکا ہے عرشمان ۔ مگر آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہیں"؟

"دراصل سکندر ! ہم نورالعین کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں۔ اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو۔"

سکینہ اور سارہ کے چہرے پر تو خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مگر سکندر شاہ سوچ میں پڑ گئے۔

"کیا ہوا سکندر؟ خاموش ہو گئے ہو۔" احمد ملِک نے سوال کیا ۔

"میں خاموش اس لیے ہوں کیونکہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں آپ کو اب کیا جواب دوں"۔

"ارے کوئی مسئلہ نہیں ہے سکندر بھائی ! آپ تسلی سے سوچ لیں۔ کچھ دن کا وقت لے لیں اور پھر ہمیں سوچ کر جواب دے دیجئے گا۔ ظاہر ہے بیٹی کا معاملہ ہے۔ تو میں آپ کے جذبات سمجھ سکتی ہوں۔" عالیہ بیگم نرمی سے بولیں۔

"میرا کل بھی وہی جواب ہوگا۔ جو آج ہے"۔

"کیا؟" احمد ملِک نے تجسّس ظاہر کیا ۔

"دیکھو احمد ! میں نورالعین کے لئے کہیں اور ہاں کر چکا ہوں۔ میں اپنی بہن کو کو زبان دے چکا ہوں۔ اور اب میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ مجھے معاف کرنا۔" سکندر شاہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اٹھے اور کمرے میں چلے گئے۔

"سکندر بھائی کس کی بات کر رہے ہیں سارہ؟" عالیہ بیگم  نے سارہ کی جانب دیکھا۔

"عادل کی آنٹی۔ وہ میری پھپھو کا بیٹا ہے۔ اور کسی آفس میں جاب کرتا ہے۔ بابا اسی سے شادی کرنا چاہتے ہیں عینا  کی مگر۔۔۔۔۔۔" وہ خاموش ہو گئی۔

"مگر۔۔۔۔۔؟" احمد ملِک نے سوال کیا ۔

"مگر عینا خوش نہیں ہیں انکل۔ وہ عرشمان کو ہی پسند کرتی ہے۔"

"کیا؟ اس کا مطلب سکندر بھائی زبردستی کر رہے ہیں عینا کے ساتھ؟" عالیہ بیگم نے بھنویں سکیڑتے ہوۓ کہا۔

"جی۔ مگر بابا نہیں جانتے"۔

"تو پھر انہیں بتاؤ بیٹا"۔ احمد ملِک نرمی سے بولے۔

"آپ فکر مت کریں انکل میں بات کروں گی بابا سے۔ اور آپ پریشان مت ہوں آنٹی۔ عینا آپ کی ہی بہو بنے گی۔انشاءاللّٰہ !" اس نے دونوں کی جانب دیکھ کر کہا۔

"انشاء اللّٰہ بیٹا "۔ عالیہ بیگم اپنی سیٹ سے اٹھیں اور احمد ملِک کو چلنے کا اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے سب سے رخصت چاہی اور اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں؟" عینا ، عرشمان کی ساتھ والی سیٹ پر اپنا بیگ رکھتے ہوۓ بولی۔

"پہلے پوچھ کر بیٹھتی ہو؟" اس نے سخت لہجے میں کہا۔

"میں جانتی ہوں کہ فاطمہ کی وجہ سے تمہارا موڈ آف ہے۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔"

"نام بھی مت لو میرے سامنے اس کا"۔وہ عینا کی بات کاٹتے ہوئے بولا۔

"ہمممم۔ مجھ سے بھی کوئی ناراضگی ہے کیا؟" اس نے ساتھ بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔

"نہیں۔"

"پھر ایسے اجنبیوں کی طرح ری ایکٹ کیوں کر رہے ہو؟"

"اب ہوش آئی ہے؟ پچھلے چار دنوں سے تمہیں بلانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر تم ہو کہ سنتی ہی نہیں۔"

"ہمممم۔ وہ میں۔۔۔۔۔۔۔ ناراض تھی تم سے۔۔۔۔۔۔ اس لیے"۔

"چلو شکر ہے ناراضگی تو ختم ہوگئی ہے۔ ویسے وجہ بتانا پسند کریں گی مس نور العین صاحبہ؟ کہ آپ کیوں ناراض تھیں مجھ سے؟"

"اب تم دو ٹکے کے لوگوں کے پیچھے اپنا وقت پرچار کرو گے تو میں تمہیں سلامی تو پیش نہیں کروں گی ناں !"

"کیا مطلب؟"

"پھر کہو گے کہ اسکا نام مت لو۔ مگر میں فاطمہ کی بات کر رہی ہوں۔"

"اُف ! پلیز عینا۔  اس ٹوپِک کو بند کردو اب۔ میں اس کے بارے میں مزید نہیں سوچنا چاہتا۔"

"اوکے۔ ریلکس !مگر ایک بات پوچھوں میں تم سے؟"

"ہمممم۔"

"اب تو اسکا پیچھا چھوڑ دو گے ناں؟ دوبارہ تو نہیں جاؤ گے اس کے پیچھے؟"

"تمہیں لگتا ہے کہ عرشمان احمد اب کبھی پلٹ کر بھی دیکھے گا اس کو؟" اس نے تیوری چڑھائی ۔

"جتنا میں تمہیں جانتی ہوں۔ تو کبھی نہیں"۔

"بالکل !"

"مگر محبت اتنی جلدی ختم نہیں ہوتی عرشمان!"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ "

"ہنس کیوں رہے ہو؟"

"تم نے بات ہی کچھ ایسی کی ہے"۔

"میں نے کچھ غلط نہیں کہا۔ بالکل سچ کہا ہے۔"

"تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو؟ تم نے کیا کبھی کسی سے محبت کی ہے؟"

"ہممممم۔"

"وٹ۔۔۔۔۔؟ کب۔۔۔۔۔؟ کس سے۔۔۔۔۔۔۔؟" اس نے چونک کر کہا۔

"چھوڑو ! پھر کبھی بتاؤں گی"۔

"بتاؤ ناں یار پلیز !"

"ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ اور صحیح وقت آنے پر تمہیں ضرور بتاؤں گی"۔

"تم تو بڑی میسنی نکلی یار۔ مجھے بتایا تک نہیں؟"

"تو تم بھی تو میسنے ہی ہو پورے۔ تم نے کونسا بتایا مجھے اس فاطمہ کے بارے میں"۔

"یار پلیز ! لیو اِٹ"۔ وہ چڑ کر بولا۔

"اوکے۔"

"ویسے مجھے تم پر بہت غصہ ہے عینا "۔

"غصہ کیوں؟"

"کیونکہ پورے چار دن تم نے مجھ سے بات نہیں کی۔ میں نے کتنی بار کوشش کی تم سے بات کرنے کی مگر تم نے ہر بار مجھے اگنور کیا"۔

"اوہ ! تو اس کا مطلب کے مسٹر عرشمان احمد ملِک صاحب بور ہوگئے میرے بغیر۔ ہممم؟" اس نے اتراتے ہوۓ پوچھا۔

"ہی ہی ہی ہی۔۔۔۔۔! شکل دیکھی ہے اپنی؟" وہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا۔

"کیوں؟ کیا ہے میری شکل کو؟ اچھی نہیں ہے کیا؟ دیکھو سچ بتانا !"

"بالکل چڑیل لگتی ہو"۔

" تمہیں ایک پتے کی بات بتاؤں میں؟ تم بھی بالکل مینڈک کی طرح ہی دِکھتے ہو۔ اور تمہاری زبان بھی بالکل مینڈک کی طرح ٹر ٹر کرتی ہے۔" اس نے بھی اچھی خاصی سنا دیں۔

"ہاہاہاہاہاہا"۔

"اب دانت کس خوشی میں نکل رہے ہیں تمہارے؟"

"مزا آتا ہے۔ جب میں تمہیں چھیڑتا ہوں اور تم چِڑ جاتی ہو"۔ 

"تم ناں دفع ہو جاؤ کہیں"۔

"کہاں؟"

"کہیں بھی۔ مگر مجھے اب تمہارے ساتھ نہیں بیٹھنا"۔

"تو پھر میں کیوں جاؤں؟ تم اٹھو یہاں سے"۔

"اُف !" وہ غصے سے ہاتھ ہلاتی ہوئی اُٹھ کھڑی ہوئی اور سب کے ساتھ بس میں انجوائے کرنے لگی۔

"یار ! تو اکیلا کیوں بیٹھا ہے؟ چل آ جا مل کر ڈانس کرتے ہیں"۔ حمزہ نے اسے اکیلا بیٹھے دیکھا تو اسکے پاس آکر بولا۔

"ارے بیٹھا رہنے دو اسے۔ ویسے بھی یہاں سب کے بیچ آ کر ٹر ٹر ہی کرے گا۔" عینا نے ایکشن مارتے ہوۓ کہا۔

"اب تو ضرور آؤں گا"۔ وہ عینا کو گُھورتے ہوۓ کھڑا ہو گیا۔

بس میں کچھ سٹوڈنٹس ڈانس کر رہے تھے ، کچھ گانا گانے میں مصروف تھے اور کچھ بیٹھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔ مذاق مذاق میں کئی بار عرشمان ، عینا کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھماتا اور پھر اچانک چھوڑ دیتا۔ انکا سارا سفر شرارتوں میں گزرا۔ اور انہیں علم ہی نہ ہوا کہ کب وہ واپس لاہور پہنچ گئے۔ سب کے والدین انکے منتظر کھڑے تھے۔ بس سے نیچے اتر کر ہر ایک نے اپنے اپنے گھر کی جانب رخ کیا۔

"السلام علیکم ! موم" اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اپنی ماں کو سلام کیا۔

"واعلیکم السلام ! کیسا ہے میرا بیٹا؟" عالیہ بیگم نے اس کا ماتھا چوم کر اسے گلے سے لگایا۔

"میں ٹھیک ہوں موم۔ آپ کیسی ہیں؟"

"تمہارے بغیر تمہاری موم کیسی ہو سکتی ہیں"۔

"‏اوہ موم ! میں نے آپ کو بہت مِس کیا"۔

"سیم ںیٹا۔"

"آپ تو اتنی جلدی اسے لے کر آ گئے۔ مجھے لگا تھوڑا ٹائم لگے گا۔ میں کھیر بنا رہی تھی اس کے لیے"۔ وہ احمد ملِک کی طرف دیکھ کر بولیں۔

"ہاں جب میں وہاں پہنچا تو آپ کے صاحبزادے پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔ تھوڑا لیٹ ہو گیا میں"۔

"ٹِرپ کیسا گزرا تمہارا؟" 

"ٹھیک تھا بس"۔

"بس کیوں کیا ہوا؟ انجوائے نہیں کیا؟"

"کیا ہوگیا ہے عالیہ ؟ اس کو بیٹھنے تو دو۔ پھر سوال کر لینا۔" احمد ملِک نے کہا۔

"چلو بیٹا تم آرام کرو۔ میں تمہارے لئے چائے بناتی ہوں۔" 

"اوکے"۔ وہ کندھے اچکاتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

"آپ بھی پیئں گے چاۓ؟" وہ احمد ملِک سے مخاطب ہوئیں۔

"جی۔"

"ٹھیک ہے"۔ 

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ٹرِپ کیسا گزرا تمہارا عینا؟" سارہ بیڈ پہ لیٹی عینا سے گویا ہوئی۔

"بس نہ پوچھیں آپی !"

"کیوں کیا ہوا؟ اور تم نے مجھے تصویر بھی سینڈ نہیں کی اسکے ساتھ؟"

"آپی اپنی تصویر تو تب سینڈ کرتی ناں جب وہ جناب جیکٹ پہنتے"۔

"مطلب اس نے تمہارا دیا ہوا تحفہ لیا ہی نہیں؟"

"لیا ہے۔ مگر پہنا نہیں ابھی"۔

"کیوں؟"

"ہماری لڑائی ہو گئی تھی اس لیے"۔

"لڑائی کیوں ہوئی"؟

"اوہ ہو ! وہ سب چھوڑیں آپی۔ آپ کو ایک مزے کی بات بتاتی ہوں"۔

"کیا"؟ وہ اسکے قریب ہوئی۔

"آپ کو پتہ ہے عرشمان نے فاطمہ کو پروپوز کیا"۔

"کیا؟ اور تم خوش ہو رہی ہو؟" وہ حیرانگی سے بولی۔

"جی"۔

"عینا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے"؟ اس نے اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھا۔

"جی آپی بالکل ٹھیک ہے۔ میں خوش اس لیے ہوں کیونکہ فاطمہ نے عرشمان سے شادی کرنے سے انکار کر دیا"۔

"ہیں؟"

"ہمممم۔ اور صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ اسے عرشمان پسند نہیں ہے"۔

"سچ میں؟"

"یس"

"تو پھر عرشمان نے کچھ نہیں کہا کیا؟"

"کہنا کیا تھا آپی ! ہم سب جانتے ہیں اسے۔ وہ سب کچھ برداشت کر سکتا ہے۔ مگر اپنی بےعزتی نہیں"۔

"اچھا پھر کیا کہا اس نے؟"

"کھری کھری سنا دیں اور یہ بھی کہا کہ اب ایسا وقت لے کر آؤں گا تم خود مجھ سے بھیک مانگو گی کہ میں تم سے شادی کر لوں۔ مگر تب میں تمہیں ٹھوکر مار دوں گا۔ اور میں اسے اچھے سے جانتی ہوں۔ وہ جو کہتا ہے وہ ہر صورت کرتا ہے۔"

"اس کا مطلب یہ فاطمہ کا قصہ ختم ہوا"؟

"ہمممم۔" وہ مسکرا کر بولی۔

"اچھا تو اس لیے اس نے تمہارے لیے رشتہ بھیجا"۔ 

"ک۔۔۔۔ک۔۔۔۔کیا؟"

"ہاں بھئی! ظاہر ہے جب فاطمہ نے شادی سے انکار کردیا تو اس نے اپنے پیرنٹس سے کہا ہوگا کہ اسے تم پسند ہو۔ وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس کے پیرنٹس رشتہ لے کر آگئے۔"

"آپی ! آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ سیدھی طرح بولیں۔"

"کل عرشمان کے پیرنٹس آئے تھے یعنی احمد ملِک اور مسز احمد ملِک صاحبہ ۔ تمہارا رشتہ لے کر آئے تھے"۔

"کیا ؟ آپی آپ مذاق کر رہی ہیں ناں؟" 

"نہیں ۔ سچ کہہ رہی ہوں تمہاری قسم"۔ 

"ایک منٹ ! آپ کہہ رہی ہیں کہ کل عرشمان کے پیرنٹس آۓ تھے۔۔۔۔۔۔ وہ بھی میرے لئے؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"ہاں بھئی ہاں !"

"ہاۓ ! کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہی۔ چونٹی کاٹیں مجھے۔" وہ اُچھل کر بولی۔

"نہیں پگلی !"

"آپی ! میں آپ کو بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں"۔ اس نے خوشی سے سارہ کے دونوں ہاتھ پکڑے اور اسے گھمایا۔

"اچھا بس۔۔۔ بس ! زیادہ خوش مت ہو تم"۔

"کیوں خوش نہ ہوں آپی؟ میرا خواب پورا ہونے جارہا ہے۔ میرا محرم بننے جارہا ہے وہ شخص ۔"

"وہ تمہارا محرم نہیں بن رہا عینا۔ کیوں کہ بابا نے انکار کر دیا ہے"۔

"کیا؟" 

"ہاں میری جان ! اور بابا کی فیصلے کو کوئی نہیں بدل سکتا۔ تم اچھے سے جانتی ہو۔"

"مگر آپی! آپ نے کہا تھا کہ وہ رشتہ بھیجے تو آپ بابا کو منا لو گی۔"

"ہاں کہا تھا مگر وعدہ تو نہیں کیا تھا ناں۔ اور دیکھو عینا ! میں کوشش کر سکتی ہوں مگر گارنٹی نہیں دے سکتی کہ بابا مانیں گے یا نہیں مانیں گے۔ اور ویسے بھی بابا کو اگر کوئی منا سکتا ہے تو وہ تم خود ہو۔"

"ٹھیک ہے۔ تو پھر میں خود بات کروں گی بابا سے"۔

"اور کیا کہو گی انہیں؟ کہ تم ان کا فیصلہ نہیں مان سکتی؟"

"نہیں بلکہ یہ کہوں گی کہ عادل سے شادی نہیں کر سکتی۔"

"ٹھیک ہے تم کرلینا بابا سے بات۔ میری دعا ہے کہ وہ مان جائیں۔ اور تمہیں تمہارا پیار مل جائے۔"

"آمین"۔ وہ سارہ کے گلے لگ گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کھانا کیسا لگا بیٹا؟" وہ ڈائینگ ٹیبل پر عرشمان سے مخاطب تھیں۔

"بہت زبردست ہے موم"۔

"اسی لئے تو مجھے اپنی بیگم بہت اچھی لگتی ہے۔ کمال کا ذائقہ ہے اس کے ہاتھ میں۔" احمد ملِک نے مسکراتے ہوئے کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا "۔ وہ دونوں زور سے ہنس دئیے۔

"عرشمان تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے"۔

"سرپرائز؟"

"ہممممم۔ ہم تمہاری عینا سے منگنی کر رہے ہیں"۔

"وٹ؟" وہ چونک کر بولا۔

"ہاں بیٹا۔ کیوں تمہیں کوئی اعتراض ہے کیا ؟" احمد ملِک نے سوال کیا ۔

"کب؟ کیسے؟"

"کل ہم گئے تھے ان کی طرف۔ سکندر بھائی سے بات کی ہے ہم نے۔ مگر انہوں نے کہا کہ وہ کہیں اور ہاں کر چکے ہیں۔ اپنے  شاید بھانجے کی طرف۔ مگر سارہ نے بتایا کہ عینا تمہیں پسند کرتی ہے۔ اور وہ پوری کوشش کرے گی سکندر بھائی کو منانے کی۔ انشاءاللّٰہ بہت جلد وہ مان جائیں گے۔ اور پھر ہم تم دونوں منگنی کر دیں گے۔" عالیہ بیگم نے نرمی سے کہا۔

"کیا۔۔۔۔۔۔۔؟عینا۔۔۔۔۔۔۔۔اور مجھ سے محبت۔۔۔۔۔۔؟"

"ہاں سارہ نے تو یہی بتایا۔"

"ہو ہی نہیں سکتا۔ اور ویسے بھی آپ لوگ کس کے کہنے پر وہاں رشتہ لے کر گئے تھے؟ وہ چڑیل تو یہی سمجھے گی ناں کہ میں اسے پسند کرتا ہوں۔ یا میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔" وہ غصے سے بولا۔

"تو تم اسے پسند نہیں کرتے کیا؟" احمد ملِک نے پوچھا۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"چپ کیوں ہوگئے عرشمان؟ بتاؤ تمہیں نورالعین اچھی نہیں لگتی کیا؟"

وہ بنا کچھ بولے چیئر سے اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

"ایک تو یہ لڑکا کسی کی سنتا بھی نہیں ہے۔ اب کھانا بیچ میں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔" عالیہ بیگم نے غصیلے انداز میں کہا۔

"کہا تو تھا کہ ایک بار اس سے پوچھ لو۔ مگر آپکو لگتا تھا کہ وہ نورالعین کو پسند کرتا ہے۔ اب دیکھ لیا؟ ہو گئی تسلی؟" احمد ملِک سنجیدگی سے بولے۔

"پسند تو یہ کرتا ہے ۔ یہ بات تو پتھر پہ لکیر ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں جیسے ہی اس سے پوچھا بنا کچھ بولے کھانا بیچ میں چھوڑ کر چلا گیا۔ اب آپ خود بتائیں اگر اسے محبت نہ ہوتی تو صاف منع کر دیتا۔ ہم سے لڑتا۔ لیکن اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔"

"شاید "۔

"چلیں آپ کھانا کھائیں۔ صبح بات کروں گی میں اس سے"۔

"مگر جو آپ کے صاحبزادے کھانا چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ اس کا کیا؟"

"رہنے دیں اسے آپ جانتے تو ہیں۔ کوئی فائدہ نہیں ہے اس کے پیچھے جانے کا۔ دروازہ لاک کر لیا ہوگا اور صبح سے پہلے اب دروازہ نہیں کھولے گا۔ "

"ہاں یہ تو ہے"۔

کھانا کھانے کے بعد عالیہ بیگم نے نسیمہ سے برتن سمیٹنے کو کہا اور خود کمرے میں چلی گئیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"اوۓ ہوۓ ! سوہنیے اپنا نمبر تو دے دے۔"

"غضب کی خوبصورت ہے تُو۔ اک نظر دیکھ لے ہم غریبوں کو"۔

 "میری جان ! دیکھو تو سہی کتنی پیاری لگ رہی ہے۔"

وہ تینوں مختلف طرح سے اسے بائیک پر بیٹھے چھیڑتے جا رہے تھے۔ پہلے تو وہ کافی دیر تک خاموشی سے گاڑی چلاتی رہی مگر جب ایک لڑکے نے اس سے اپنی جان بولا۔ تو بات اسکی برداشت سے باہر ہو گئی۔ اس نے گاڑی بیچ سڑک میں انکی کی بائیک کی آگے روک دی۔ اور اپنی پونی لہراتی ہوئی اتر کر ان کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔

"ہممممم۔ اب بولو کیا کہہ رہے تھے تم تینوں؟" اس نے اپنے ہاتھ کمر پر رکھتے ہوۓ رعب سے کہا ۔

"وہ ہم کہہ رہے تھے کہ آپ بہت خوبصورت ہو جی۔ نمبر مل سکتا ہے آپ کا؟" ایک لڑکے نے دلیری سے کہا۔

"ہاں کیوں نہیں۔ نوٹ کرو"۔ 

"جی ! میں نوٹ کرتا ہوں" پہلے لڑکے نے اپنا موبائل جیب سے نکالا۔

"ارے ! صرف تم کیوں کرو گے؟ تینوں چھیڑ رہے تھے تو تینوں نوٹ کرو ناں نمبر ۔" 

"جی۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔!" 

تینوں نے اپنے موبائل نکال کر نمبر نوٹ کرنا شروع کیا۔

"یہ آپکا پرسنل نمبر ہے جی؟" ایک لڑکے نے سوال کیا۔

"ہڈیوں والے ڈاکٹر کا نمبر ہے"۔ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

"جی؟" تینوں نے بیک وقت حیرانگی سے پوچھا۔

اس نے فوراً اپنی گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا اور بیٹ نکال کر تینوں کی پٹائی شروع کردی۔ 

"باجی ! معاف کر دو۔ آئندہ نہیں کریں گے"۔

"باجی ! آپ بہن ہو ہماری۔ پلیز رحم کرو ہم پہ۔"

وہ تینوں اب جان سے باجی پر آ چکے تھے اور کان پکڑ کر معافیاں مانگنے لگے۔ اب ان کے گرد کافی لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ 

"ہڈیوں والے ڈاکٹر کا نمبر تم لوگوں کو پہلے ہی دے دیا ہے۔ کوئی ہڈی ٹوٹ گئی ہو یا جوڑ ہل گیا ہو تو اس ڈاکٹر کے پاس چلے جانا بہت اچھا اسپیشلسٹ ہے۔ اور اس سے جا کر بتانا  کہ ماہین افغن نے آپ کا نمبر دیا تھا۔" خوب مار لگانے کے بعد اس نے اپنا چہرے کا رخ دوسری جانب کیا اور پھر دوبارہ واپس مڑ کر ایک اور بیٹ رسید کیا۔ اب ان تینوں کی چیخ دور دور تک سنائی دے سکتی تھی۔ پھر واپس اپنی گاڑی میں بیٹھی اور اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا ؟ عرشمان نے تمہارے گھر رشتہ بھیجا ؟" نمرہ نے ششدر ہو کر پوچھا۔

"ہمممم۔" وہ کلاس سٹارٹ ہونے سے پہلے گفتگو کر رہے تھے۔

"اَن بلیو ایبل !" حمزہ نے طنز کیا۔

"تو تمہیں لگتا ہے کہ میں تم لوگوں سے جھوٹ بول رہی ہوں؟"

"نہیں۔" نمرہ نے کہا۔

" سالے ! نے مجھے بھی نہیں بتایا۔ مجھ سے کہا کہ فاطمہ سے محبت کرتا ہے اور رشتہ تمہارے گھر بھیج دیا۔ آنے دو اسکو تو میں پوچھتا ہوں۔" حمزہ غصے سے بولا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔"

"لو ! ہمیشہ کی طرح شیطان کا نام لو اور شیطان حاضر !" عینا نے عرشمان کو آتے ہی دیکھ ٹونٹ مارا۔

"ہائے گائیز ! گُڈ مارننگ۔" 

"گُڈ مارننگ۔" سب نے مل کر جواب دیا۔

"ابـے سالے ! تُو نے رشتہ بھیجنے سے پہلے مجھے بھی نہیں بتایا؟" حمزہ نے اسکے بیٹھتے ہی شکوے شروع کر دئیے۔

"کیسا رشتہ؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"لو ! اسے تو کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔" نمرہ نے پوائنٹ مارا۔

"تیرا رشتہ۔۔۔۔۔۔عینا کے لئے !" حمزہ نے کہا۔

"ہاں عینا ! مجھے تم سے اسی سلسلے میں بات کرنی تھی۔ دیکھو ! موم ، ڈیڈ خود اپنی مرضی سے تمہارے گھر آئے تھے رشتہ لے کر۔ میں تو تمہارے ساتھ ٹرِپ پر تھا۔ مجھے تو اس بارے میں پتا تک نہیں۔ اس لیے اس بات کو سیریس لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے معاملہ ختم کر دیا ہے۔ اب وہ آئندہ نہیں آئیں گے۔" عرشمان نے وضاحت دی۔

"کیا مطلب؟" عینا نے پوچھا۔

"مطلب وہی ہے جو میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔ کہ تم سے شادی میرے پیرنٹس کی خواہش تھی میری نہیں۔" 

"یعنی تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے؟" 

مگر وہ کوئی جواب دیے بغیر اٹھ کر کنٹین کی جانب چلا گیا۔

"اب یہ کیا تماشہ ہے بھئی؟" نمرہ نے چِڑچڑے انداز میں کہا۔

"رکو ! میں پوچھتا ہوں اس سے"۔ حمزہ اس کے پیچھے چلا گیا۔

"عینا تم ٹینشن مت لو۔ سب ٹھیک ہوگا۔" نمرہ نے اسے تسلی دی۔

"یار تیرے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ تُو کیا چاہتا ہے آخر؟ اگر تجھے وہ نہیں پسند تو اس کے گھر رشتہ کیوں بھیجا پھر؟" وہ اسکے قریب آکر بولا۔

"پہلی بات یہ کہ میں آلریڈی بتا چکا ہوں کہ میں نے اس کے گھر رشتہ نہیں بھیجا۔ موم ، ڈیڈ اپنی مرضی سے گئے تھے۔ اور دوسری بات ! تم سے کس نے کہہ دیا کہ مجھے وہ نہیں پسند؟"

"مطلب تجھے عینا پسند ہے؟" اس نے خوشی سے پوچھا۔

"پیچھے ہٹ !" وہ اسکو دھکا دیتا ہوا واپس کلاس میں عینا کے پاس آکر بیٹھ گیا۔

"کیا ہوا ہے میری چڑیل کو؟" اس نے مسکرا کر پوچھا۔

"عرشمان پلیز ! اسے کچھ دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دو"۔ نمرہ سرد لہجے میں بولی۔

"نہیں ! عینا ادھر دیکھو میری طرف۔ میری آنکھوں میں۔" اس نے چیئر اسکے قریب کی۔

عین اسی وقت پروفیسر صاحب لیکچر کلاس میں داخل ہوئے۔ اس نے فوراً اپنی چیئر پیچھے کھسکائی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"جاہل لوگ ! پتا نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں منہ اٹھا کر"۔ وہ غصے سے بڑبڑاتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی۔

"آۓ ہاۓ ! آج کس کمبخت کی شامت آ گئی"؟ اسکی ماں اسکی جانب دیکھ کر بولی۔

"بس تین کتے پیچھے پڑ گئے تھے۔ میں نے بھی ہڈی ڈال کر چپ کروا دیا۔" 

"اپنی یہ حرکتیں کب چھوڑو گی تم؟" وہ چاۓ کا کپ اسے پکڑاتے ہوۓ بولیں۔

"کبھی نہیں !" 

"مجھے بہت ڈر لگتا ہے کہ اگر تمہیں ایسا شوہر مل گیا جو تم سے بھی زیادہ تیز ہوا۔ تو تمھارا کیا بنے گا؟ کیسے بساؤ  گی تم اپنا گھر؟" وہ اپنا سر پکڑ کر بولیں۔

"ارے امی ! ٹینشن کیوں لیتی ہو؟ اس کو بھی دو دن میں سیدھا کر لوں گی میں۔" اس نے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا۔

"کہیں الٹا تمہیں ہی ناں سیدھا کر دے وہ"۔

"ہو ہی نہیں سکتا۔ ماہی کسی کے باپ کی بھی نہیں سنتی"۔

"بیٹا شوہر سب کچھ سنوا لیتے ہیں"۔ 

"چلو دیکھتے ہیں کہ وہ مجھے بدلتا یا میں اسکو "۔

"خیر چھوڑو یہ بتاؤ۔ نوکری کا کیا بنا؟"

"مل جاۓ گی۔ انشاء اللّٰہ"!

"ایک تو پتا نہیں تمہیں کب نوکری ملے گی"۔

"امی کیا ہوگیا ہے؟ آپ دیکھنا ایسی نوکری ملے گی کہ سب سلوٹ پیش کریں گے آپ کی بیٹی کو۔"

"جب ملے گی ناں تب بات کرنا۔ اور آج بھی گاڑی رینٹ پر لے کر گئی تھی"؟

"ہاں ناں !" اس نے زبان باہر نکالی۔

"اُف خدایا !"

امی ! غصہ نہیں کرو۔ سارے قرض اتار دوں گی۔ بس اب آپ کی بیٹی کی جاب لگ جائے ایک بار۔"

اس کی ماں منہ مناتی ہوئی کچن میں چلی گئی۔

ماہین افغن اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ سب پیار سے اسے ماہی کہتے تھے۔ اس کے والد صاحب افغن آفندی ایک سال پہلے ہارٹ اٹیک سے وفات پا چکے تھے۔ اور تب سے وہ نوکری کی تلاش میں تھی۔ گھر کا سارا خرچہ اس کی ماں شہناز بی بی ایک گھر میں کام کرکے  پورا کرتی تھی۔ ماہین نے بی ایس آئی-ٹی کیا ہوا تھا۔ مگر اسے کوئی بھی جاب دینے کو تیار نہیں تھا کیونکہ اسکے پاس صرف نام کی ڈگری تھی۔ محلے کی ہر لڑائی میں اس کا پنگا ہوتا تھا۔ غرض کہ اسے اپنے محلے کی غنڈی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حتی کہ اس کی ڈریسنگ کا اسٹائل بھی لڑکوں جیسا تھا۔ اس کی گول خوبصورت آنکھیں ، کافی تیکھی ناک اور بہت ہی باریک ہونٹ تھے۔ اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کاجل اور ہونٹوں پر ہلکے گلابی رنگ کی لپ سٹک لگی ہوتی تھی۔ اسکے بالوں کا لیئر کٹ تھا جسے ہمیشہ وہ ٹائٹ باندھ کر رکھتی تھی۔

جاب انٹرویو پر جانے کے لئے وہ گاڑی رینٹ پر لیتی تھی تاکہ دیکھنے والے پر اچھا امپریشن پڑے۔ مگر مسلسل ناکامی کے بعد اس نے تقریباً ایک ماہ پہلے شِتال انڈسٹری میں اپلائی کیا تھا۔ یہ کمپنی احمد ملِک صاحب کی تھی۔ جس میں سلیکشن کافی مشکل اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ یہ شہر کی سب سے مشہور کمپنی تھی۔ اس انڈسٹری کا اسے اپنی دوست منال سے پتہ چلا تھا جو کہ اسی انڈسٹری میں جانے کی خواہشمند تھی۔ ماہین جانتی تھی کہ اسے کبھی بھی اس کمپنی میں جاب نہیں مل سکتی مگر پھر بھی خدا کے سہارے اس نے اپلائی کیا تھا اور بالآخر اسے آج اس کمپنی سے انٹرویو کیلئے کال آئی تھی جس کی وجہ سے وہ آج کافی خوش تھی۔ مگر اس نے اپنی ماں کو اس بارے میں نہ بتایا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر اس انٹرویو میں بھی وہ فیل ہوگئی تو اس کی ماں کی ساری امیدیں ٹوٹ جائیں گی۔ لہذا اس نے فیصلہ کیا کہ وہ سلیکٹ ہونے کے بعد ہی خوشخبری سناۓ گی۔ اب اسکا سارا دھیان کل ہونے والے انڑویو پر تھا اس لئے اس نے اسکی تیاری شروع کر دی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

پورا لیکچر عرشمان ، عینا کی جانب دیکھتا رہا۔ وہ کبھی اس کے پاؤں پر پاؤں مارتا تو کبھی اسکے بال کھینچتا۔ لیکچر کے ختم ہوتے ہیں عینا نے غصے سے اسے دیکھا۔

"اب بولو کیا ہے؟ کیوں تنگ کر رہے ہو مجھے؟"

"تمہیں ایک بات کہنی ہے۔ میرے ساتھ چلو۔" وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر گراؤنڈ میں لے گیا۔ نمرہ اور حمزہ بھی انکے پیچھے ہی کلاس سے باہر آگئے۔

"آج عرشمان کا مُوڈ کافی فریش لگ رہا ہے۔ دیکھو عینا کو منانے کی کوشش کر رہا ہے۔" نمرہ نے حمزہ کے کان میں سرگوشی کی۔

"ہمممم۔"

گراؤنڈ کے بالکل وسط میں جا کر اس نے عینا کو اپنی آنکھیں بند کرنے کا کہا۔ اور خود ایک گھٹنے کے بل گیا۔ اب سب کی نگاہیں ان دونوں پر تھیں۔ پھر اس نے عینا کو اپنی آنکھیں کھولنے کا کہا۔

"آئی لو یو عینا ! عُرف چڑیل۔ کیا تم مجھ جیسے جن سے شادی کرنا پسند کرو گی؟" اس نے اپنی جیب سے انگوٹھی نکال کر اسے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

عینا نے خوشی سے اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھے اور پھر دھیرے دھیرے ہٹاۓ۔ اسکی آنکھیں خوشی سے نم ہو چکی تھیں۔

"ہممممم۔" اس نے اپنا ہاتھ عرشمان کے ہاتھ میں تھما دیا۔

عرشمان نے اسے انگوٹھی پہنائی تو حمزہ اور نمرہ خوشی سے اچھل پڑے۔ سب نے مل کر تالیاں بجائیں۔ مگر آج ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت سی لڑکیوں کے منہ لٹکے ہوۓ تھے۔ پھر وہ کھڑا ہوا اور انہوں مسکراتے ہوئے ایک دوسرے دیکھا۔ 

"عرشمان تمہیں عینا جیسی چڑیل سے تو کبھی شادی کرنی ہی نہیں تھی۔" نمرہ نے شرارتی انداز سے کہا۔

"ہمممم۔ مگر اسے میرے علاوہ کوئی اور جھیل بھی نہیں سکتا۔" اس نے ہنستے ہوۓ جواب دیا۔

"اور تمہیں بھی میرے علاوہ کوئی اور برداشت نہیں کر سکتا۔ مینڈک !" عینا نے بھی تیر چلا دیا۔

"ہاہاہاہاہاہا"۔

"بس اب اپنے بابا کو منا لینا میڈیم "۔ 

"میں اپنا بیسٹ ٹرائی کروں گی"۔ اس نے جوش سے کہا۔

"گُڈ"۔

"مگر تمہیں تو فاطمہ پسند تھی ناں ؟ پھر اچانک یہ تمہاری محبت کا رخ میری جانب کیسے مڑ گیا؟" وہ حیرانگی سے بولی۔

"بالکل صیح کہا۔ فاطمہ میری پسند تھی ، محبت نہیں۔ کیوں کہ اگر محبت ہوتی تو میں اسے کبھی نہیں چھوڑتا۔ اور سچ کہوں ناں۔ تو فاطمہ کو چھوڑنا میرے لئے کوئی مشکل نہیں ہے۔ مگر تمہیں چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا میں۔"

"واہ ! یہ ہوئی ناں بات۔" حمزہ نے داد دی۔

"لیکن گائیز ! عینا سے شادی میں بعد میں کروں گا۔ پہلے مجھے اپنا ٹارگٹ پورا کرنا ہے۔"

"کیسا ٹارگٹ ؟" حمزہ نے سوال کیا۔

"اب وقت آگیا ہے ، اپنے جونیئرز کو بھی بتا دیا جائے کہ ماسٹر گروپ کیا چیز ہے۔"

"میں سمجھی نہیں۔" عینا نے تیوری چڑھائی ۔

"سمجھنے کیلئے دماغ چاہیے ہوتا ہے محترمہ۔ جو تمہارے پاس ہے ہی نہیں۔" عرشمان نے پھر سے اسے چھیڑا۔

"عرشمان تم۔۔۔۔۔۔۔۔"

"سمجھ تو ویسے مجھے بھی نہیں آئی یار"۔ حمزہ نے اسکی بات کاٹی۔

"اوکے لِسن(listen) میں سمجھاتا ہوں۔" اس نے سب کو قریب ہونے کا اشارہ کیا۔

"مجھے پہلے فاطمہ سے بدلہ لینا ہے۔ اور بدلہ بھی ایسا جسے وہ ساری زندگی یاد کرے گی کہ اس نے کس سے پنگا لیا تھا۔ بہت غرور ہے ناں اسے خود پر اسکی اکڑ  تو اب میں ختم کروں گا۔ اور اسے بتاؤں گا کہ عرشمان احمد کیا چیز ہے۔ اس لیے میں جو بھی قدم اٹھاؤں۔ عینا تم بیچ میں بالکل نہیں آؤ گی"۔

"صرف میں مطلب؟"

"کیوں کہ میں کچھ ایسا کرنے جا رہا ہوں۔ جو شاید تم سے برداشت نہ ہو"۔

"کیا؟"

"فی الحال میں تمہیں نہیں بتا سکتا۔ مگر مجھ سے وعدہ کرو کہ تم مجھے غلط نہیں سمجھو گی۔ اور مجھ پہ ہمیشہ یقین کرو گی"؟

"اوکے۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔" اس نے پیار سے کہا۔

"تھینکس !"

" مگر تُو کرنے کیا والا ہے؟" حمزہ نے پوچھا۔

"جسٹ ویٹ اینڈ واچ"۔ اس کی ہنس کر کہا۔

"اوکے باس !"

"چلو تم سب کو کسی اچھے سے ہوٹل میں ٹریٹ دیتا ہوں۔"

"یاہو۔۔۔۔۔۔"۔ نمرہ نے عینا کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔

 وہ سب آج بہت خوش تھے۔عرشمان نے انہیں ٹریٹ دی اور پھر سب مذاق کرتے ہوئے گھر واپس آگئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کہاں تھے؟" اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی عالیہ بیگم نے سوال کیا۔

"یونیورسٹی"۔

"یونیورسٹی سے تو کب کی چھٹی ہو چکی ہے اس کے بعد اتنی دیر تک کہاں تھے؟ اب مغرب ٹائم تم گھر آ رہے ہو۔"

"او میری پیاری موم ! آپ کیوں اتنے سوال کرتی ہیں میں اب کوئی چھوٹا بچہ تو نہیں ہوں جو ہر جگہ آپ کو بتا کر جایا کروں"۔ اس نے اپنی ماں کے گال کھینچتے ہوۓ پیار سے کہا ۔

"عرشمان مجھے مسکے مت لگاؤ۔ اور بچے چاہے جتنے بھی بڑے ہو جائیں پر ماں باپ کے لیے وہ چھوٹے بچے ہی رہتے ہیں۔"

"اوکے! آپ کی ہونے والی پیاری بہو کے ساتھ تھا۔"

"نورالعین ؟"

"جی"۔

"اس کا مطلب تم نے اسے اپنی شریکِ حیات کے روپ میں قبول کر لیا ہے؟"

"ہمممم۔ اور صرف اتنا ہی نہیں اسے انگوٹھی بھی پہنا دی ہے"۔

"انگوٹھی؟"

"جی"۔

"وہ کہاں سے لی تم نے"؟

"سنار سے"۔ وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔

"میرا مطلب ہے۔ پیسے کہاں سے لیے تم نے"؟

"اوہ کم آن موم ! آپ جانتی ہیں میرے پاس پیسے ہوتے ہیں۔ ڈیڈ جو پاکٹ منی دیتے ہیں اسی میں سے لی۔"

"ک۔۔۔۔ک۔۔۔۔۔کیا؟ عرشمان احمد نے۔۔۔۔۔۔۔ خود۔۔۔۔۔ اپنی پاکٹ منی۔۔۔۔۔۔ سے عینا کے لیے رِنگ لی !" وہ حیرانگی سے بولیں۔

"جی۔"

"میرا بیٹا اتنا سمجھدار کب سے ہو گیا؟ اور پیسے بھی بچا لئے؟"

"محبت سب کچھ کروا دیتی ہے موم"۔

"محبت؟ کل تک تو تمہیں اس سے کوئی محبت نہیں تھی"۔

"آپ سے کس نے کہا؟ میں نے تو کبھی نہیں کہا کہ مجھے عینا سے محبت نہیں ہے۔"

"تو پھر کل ہمارے رشتہ پوچھنے والی بات پر غصہ کیوں کر رہے تھے"؟

"ویسے ہی "۔ اس نے ہنس کر کہا۔

"بیٹا مجھے سچ سچ بتاؤ تم کہیں عینا کے ساتھ کوئی دھوکا تو نہیں کر رہے ناں؟"

"موم کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ وہ تین سال سے میری دوست بھی ہے اور آپ جانتی ہیں کہ میں دوست کے ساتھ کبھی دھوکا نہیں کر سکتا۔"

"چلو شکر ہے۔ اب بس اسکے والد صاحب مان جائیں اور میں جلدی سے اپنی بہو کو گھر لے آؤں"۔

"ہمممم۔ ایک اور بات بتاؤں آپ کو؟"

"ہاں۔"

"میں نے اسے سونے کی رِنگ نہیں دی"۔

"تمہیں شرم آنی چاہیے عرشمان۔ اتنے امیر باپ کی اولاد ہوتے ہوئے بھی تم نے اسے آرٹیفیشل رِنگ دی؟"

"اُف"!

"بتاؤ"؟

"موم میں نے اسے آرٹیفیشل رِنگ نہیں بلکہ ڈائمنڈ رِنگ دی ہے"۔

"کیا؟" وہ چونک کر بولیں۔

"جی۔ اتنا ہلکا لے لیا آپ نے اپنے بیٹے کو موم کہ میں اسے آرٹیفیشل رِنگ دوں گا؟"

"مگر بیٹا وہ تو بہت مہنگی آتی ہے۔ اور تمہیں ابھی سے اتنی مہنگی رِنگ دینے کی کیا ضرورت تھی؟"

"مہنگی ہے تو کیا؟ عرشمان احمد کی محبت ہے وہ۔ ہیرا کوئی معنی نہیں رکھتا اسکے آگے"۔ اس نے شائستگی سے کہا۔

"ماشاءاللّٰہ ! اللّٰہ تمہیں ہمیشہ اسکے ساتھ خوش رکھے"۔

"آمین۔ ایکچولی مجھے محبت تو اس سے بہت پہلے سے تھی شاید مگر احساس اب ہوا۔"

"وہ کیسے؟"

"موم ہماری یونیورسٹی میں ایک لڑکی پڑھتی ہے فاطمہ نام کی۔ پہلے میں نے اسے شادی کا پرپوزل دیا۔ اس نے ریجیکٹ کر دیا اور کہا کہ میں اسے پسند نہیں ہوں۔ پھر مجھے آپ نے بتایا کہ عینا مجھ سے محبت کرتی ہے۔ تو مجھے احساس ہوا کہ شاید ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں۔ فاطمہ تو شاید میرے قابل ہی نہیں تھی۔ "

"ہاں بیٹا جو ہوتا ہے۔ اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے"۔

"ہمممم۔" 

"چلو تم ریسٹ کرو۔ میں شام کے کھانے کا بندوبست کرتی ہوں پھر تمہارے ڈیڈ بھی آنے والے ہیں۔" 

"اوکے"۔ 

اس نے اپنے کمرے کی جانب رخ کیا اور عالیہ بیگم نے شام کے کھانے کی تیاری شروع کی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"آپی ! مجھے تو یقین نہیں ہو رہا کہ عرشمان نے خود مجھے پرپوز کیا ہے۔ وہ بھی نیچے بیٹھ کر۔۔۔۔۔۔ پوری یونیورسٹی کے سامنے۔" وہ خوشی سے جھومتے ہوۓ بولی۔

"یہ تو واقعی کمال ہی ہو گیا"۔

"جی آپی "۔

"مگر عینا۔۔۔۔۔۔۔"

"مگر؟"

"بابا نہ مانے تو؟"

"آپی میں ایسے آنسو بہاؤں گئی بابا کے آگے کہ وہ جھٹ سے مان جائیں گے۔"

"اللّٰہ کرے"۔

"ہمممممم"۔

"اچھا انگوٹھی تو دِکھاؤ اپنی"۔

"دیکھیں ! مجھے تو ڈائمنڈ کی لگ رہی ہے"۔

"ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے ظاہر ہے بھئی ! امیر  ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے۔ اس کے لئے کیا مشکل ہے ڈائمنڈ کی رِنگ دینا۔"

"ہاں جی۔"

"اور فاطمہ کا قصہ؟ وہ ختم ہو گیا کیا؟"

"صرف ختم ہی نہیں بلکہ عرشمان تو اس سے بدلہ لینا چاہتا ہے۔ سمجھو اب تو فاطمہ کی خیر نہیں۔"

"اچھا؟ تو کیا کرے گا وہ؟"

"یہ تو نہیں بتایا اس نے۔ وہ اپنے پلان کبھی بتاتا نہیں ہے۔ لیکن مجھے پتا ہے کہ وہ ایسی واٹ لگائے گا فاطمہ کی کہ وہ ساری زندگی یاد کرے گی۔"

"چلو دیکھتے ہیں کیا کرتا ہے وہ"۔

"ہممم"۔

"لیکن کہیں وہ تمہارے ساتھ بھی کوئی چال تو نہیں چل رہا ناں؟ یعنی اسے پہلے تو تم سے کوئی محبت نہیں تھی اب اچانک ہوگئی۔ یہ بات مجھے کچھ ہضم نہیں ہو رہی"۔

"آپی ! عرشمان سب کو دھوکا دے سکتا ہے مگر نورالعین کو نہیں"۔

"اللّٰہ خیر کرے بس !"

"انشاء اللّٰہ۔"

"اچھا میں سکینہ خالہ کی کچن میں مدد کروانے جا رہی ہوں۔ تم بھی کبھی کام کو ہاتھ لگا دیا کرو عینا۔"

"او آپی ! مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے یہ گھر کے کام کرنے میں۔ آپ جائیں خوشی سے کریں۔"

"ہاں اور کل کو جب تمہارے سسرال والے کہیں گے کام کرنے کو۔ تب کیا کروں گی تم؟"

"ڈونٹ وری ! بہت سے نوکر ہیں عرشمان کے گھر میں۔ مجھے کیا ضرورت پھر کام کرنے کی۔" 

"تمہارا تو خدا ہی حافظ ہے عینا۔"

"اچھا ٹھیک ہے آپ جائیں۔ سکینہ خالہ انتظار کر رہی ہونگی۔ میں ذرا گانے سن لوں۔" 

"تف ہے تم پر"۔

عینا نے ہیڈ فون کان سے لگاۓ اور آنکھیں بند کرکے گانے سننے لگی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"السلام علیکم !"

"واعلیکم السلام۔ جی آپ لوگ کون؟" نور محمد نے دروازہ کھول کر پوچھا۔

"میں احمد ملِک اور یہ میری بیگم عالیہ احمد۔ ہمارا بیٹا عرشمان آپ کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہے"۔

"جی آئیے۔" انہوں نے اندر آنے کا اشارہ کیا۔

وہ صحن میں پڑی چارپائی پر آکر بیٹھ گئے۔ اور نور محمد صاحب اپنے لیے کرسی لا کر اس پر براجمان ہوگئے ۔

"فاطمہ بیٹا چائے کا بندوبست کرو"۔ 

"آپ بھابھی کو بھی بلا لیں کیونکہ ہمیں آپ دونوں سے بات کرنی ہے"۔ عالیہ بیگم بولیں۔

"ٹھیک ہے۔" نور محمد صاحب نے اپنی بیگم کو آواز دی۔ تو وہ بھی ان کے سامنے آکر متوجہ ہوئیں۔

"دراصل ہمیں سیدھی بات کرنے کی عادت ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ ہم جس مقصد کے لیے آئے ہیں پہلے وہ بات کر لیں۔ کھانا پینا تو بعد میں بھی ہوتا رہے گا۔" احمد ملِک نے کہا ۔

"جی جی"۔

"ہمارا بیٹا عرشمان آپ کی بیٹی فاطمہ کو پسند کرتا ہے اور فاطمہ بھی اسے پسند کرتی ہے مگر ہو سکتا ہے کہ اس نے آپ سے زکر نہ کیا ہو۔ ہم اسی سلسلے میں یہاں آئے ہیں۔ عرشمان ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔ ماشاءاللّٰہ پیسے کی بہت ریل پیل ہے ہمارے گھر میں۔ آپ کی بیٹی کو ہمارے گھر میں کسی بھی قسم کی تنگی محسوس نہیں ہوگی۔ عیش کرے گی ساری زندگی۔ اگر آپکی اجازت ہو تو ہم فاطمہ کو اپنی بہو بنانا چاہتے ہیں۔" احمد ملِک نے بات مکمل کی۔

"لیکن فاطمہ تو ابھی پڑھ رہی ہے"۔ نور محمد نے جواب دیا۔

"کوئی مسئلہ نہیں پڑھتی رہے۔ بلکہ ہم خود پڑھا لیں گے اسے۔" عالیہ بیگم نے شائستگی سے کہا۔

"لیکن۔۔۔۔۔۔"!

"لیکن ویکن کچھ نہیں۔ آپ بس ہمیں جواب دے دیں"۔ عالیہ بیگم نے اسکی ماں کی بات کاٹی۔

"ٹھیک ہے ہم آپ کا گھر اور آپکے بیٹے کو آ کر دیکھیں گے۔  پھر ہم اپنا فیصلہ بتا دیں گے۔" نور محمد صاحب نرمی سے بولے۔

" آپ کا جب دل چاہے آپ آ جائیے گا۔ ہم انتظار کریں گے۔ اور یہ ہمارے گھر کا ایڈریس ہے۔" احمد ملِک نے ایڈریس نوٹ کروایا۔

"ٹھیک ہے۔"

"تو پھر ہمیں اجازت دیں"۔ عالیہ بیگم نے چارپائی سے اٹھتے ہوۓ کہا۔

"ارے ! مگر فاطمہ بیٹی کھانا بنا رہی ہے۔ آپ وہ کھا کر جائیے گا۔" انہوں نے روکنے کی کوشش کی۔

"نہیں پھر کبھی سہی۔ چلیں عالیہ؟" احمد ملِک ، عالیہ سے مخاطب ہوۓ۔

"جی۔"

نور محمد صاحب انہیں دروازے تک رخصت کرنے آئے۔ اور پھر خدا حافظ بول کر دروازہ بند کر دیا۔

وہ شِتال انڈسٹری کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ اس نے کافی اوپر  تک نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو یہ ایک بہت ہی بڑی بلڈنگ تھی۔ 

آج اس کا انٹرویو تھا۔ وہ جیسے ہی انٹرویو کے لیے آفس میں داخل ہوئی تو سامنے ہی ایک اور لڑکی ہاتھ میں فائل تھامے کھڑی تھی۔ وہ کسی امیر گھرانے کی لگ رہی تھی۔ ماہی اس کا حلیہ دیکھ کر ہی سمجھ گئی کہ یہ بھی جاب کے سلسلے میں یہاں آئی ہے۔ 

"ہم انڑویو کیلئے آئی ہیں۔ ہمیں کہاں جانا ہوگا؟" وہ دونوں سامنے کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی کے پاس آکر بولیں۔

"آپ 5th فلور پر چلیں جائیں۔"

"شکریہ"۔

"ماہی اسکی پیروی کرتی ہوئی لِفٹ میں سوار ہوگئی۔ وہ سر سے لیکر پاؤں تک غور سے اس لڑکی کو گُھور رہی تھی اور اپنی اور اسکی ڈریسنگ میں موازنہ کر رہی تھی۔ سیکنڈ فلور پر اچانک لیفٹ کا دروازہ کھلا اور مزید دو لڑکیاں لِفٹ میں داخل ہوئیں۔ ان میں سے ایک احمد ملِک کی اسسٹنٹ تھی اور دوسری جونئیر سیکرٹری تھی۔ وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔

"تمہیں پتہ ہے آج یہاں پر ایک امیر باپ کی نواب زادی جاب انٹرویو کے لیے آ رہی ہے اور باس نے کہا ہے کہ اس کو جاب  لازمی دینی ہے کیونکہ وہ باس کی کسی دوست کی بیٹی ہے۔" اسسٹنٹ جونئیر سیکرٹری سے اونچی آواز میں کہہ رہی تھی۔

"ہاں بھئی کیا کہہ سکتے ہیں۔ ویسے تو اس آفس میں کسی کو سفارش پر جواب نہیں ملتی۔ مگر باس کے دوست کی بیٹی ہے تو باس اپنی مرضی سے دے ہی دیں گے۔ غریبوں کا بھی حق کھا جاتے ہیں یہ امیر لوگ۔ ویسے کیا نام ہے اس کا؟" 

"نشا خالد نام ہے اس بگڑی امیر زادی کا"۔ 

"اچھا"۔

لِفٹ کے رکتے ہی وہ دونوں بھی 5th فلور پر چلی گئیں مگر ماہی اور وہ لڑکی اب بھی لِفٹ میں کھڑی تھیں۔

"چلو بھی"۔ ماہی اس لڑکی سے مخاطب ہوئی۔

مگر اس نے واپس فرسٹ فلور کا بٹن پریس کیا اور فرسٹ فلور پر پہنچتے ہی غصے سے اپنی فائل اچھالی اور چلی گئی۔

"حد ہے ! اگر جاب کرنی ہی نہیں تھی تو انڑویو کیلئے آئی ہی کیوں تھی۔ پاگل لڑکی!" ماہی غصے سے چلائی۔

پھر اس نے ففتھ فلور کا بٹن پریس کیا اور اسکی فائل اٹھائی۔ فائل اٹھاتے ہی اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کیونکہ سی-وی پر اس کا نام نشا خالد درج تھا۔ 

"اوہ ! تو یہ بات ہے۔ میڈم سے اپنی بےعزتی برداشت نہیں ہوئی اس لئے فائل پھینک کر چلی گئی۔ مگر اس کے پاس تو ویسے ہی کافی ڈگریاں تھیں۔ اسے تو شاید ایسے ہی جاب مل جاتی۔ پھر سفارش کی کیا ضرورت تھی اسے"۔وہ خود سے ہی باتیں کرنے لگی۔

لِفٹ رکی تو اس نے ففتھ فلور پر قدم رکھا۔ اور ہاتھ میں دونوں فائلز تھامے ہوۓ سامنے بیٹھی اسسٹنٹ کے پاس آکر کھڑی ہو گئی ۔

"جی میں جاب انٹرویو کے لئے آئی ہوں۔ مجھے کس سے ملنا ہوگا؟"

اسسٹنٹ نے اوپر والی فائل اس کے ہاتھ سے پکڑی جو کہ نشاء خلد کی تھی۔ اور سی-وی پر لکھا نام دیکھتے ہی اسے گھورنے لگی۔

"نہیں یہ میری فائل نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"ٹھیک ہے۔ آپ کل سے جاب پر آ جائیے گا"۔ اس نے ماہی کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا۔

"مگر۔۔۔۔۔"

"ہاں میں جانتی ہوں کہ آپ نشاء خالد ہیں۔ آپ کی جاب ہوچکی ہے۔ آپ آج سے میری اسسٹنٹ ہیں۔ کل آٹھ بجے آپ آفس میں موجود ہوں۔ اور یاد رکھیئے گا کہ باس کو وقت کی پابندی کرنے والے ایمپلائیز ہی پسند ہیں۔"

"لیکن میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔"

"سیلری کی ٹینشن مت لیں۔ آپ کی سٹارٹنگ سیلری اسّی ہزار ہے۔ اسکے علاوہ بونس اور کمیشن الگ ملے گا۔اور آہستہ آہستہ آپ کی سیلری بھڑ جائے گی۔ اب آپ آج کا دن ریسٹ کریں اور کل ٹائم سے جاب پر آ جائیے گا۔" ماہی کی بات سنے بغیر ہی اپنی بات مکمل کر کے وہ واپس اپنے کام میں مصروف ہو گئی۔

مگر اتنی زیادہ سیلری کا سن کر ماہی دنگ رہ گئی اور آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی۔ یہ سیلری اسکی سوچ سے بھی کہیں زیادہ تھی۔

"وہ مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے"۔

اسسٹنٹ نے بنا کچھ بولے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

"آپ کون ہیں اور یہاں کیا کام کرتی ہیں؟ آپ نے کہا کہ میں آپ کی اسسٹنٹ ہوں تو آپ کون ہیں؟"

"میرا نام گلشن محمود ہے۔ میں یہاں کے باس احمد ملِک صاحب کی اسسٹنٹ ہوں اور آج سے تم میری اسسٹنٹ ہو اوکے؟"

"جی"۔ وہ خوشی خوشی واپس مڑی اور گھر کی جانب روانہ ہوگئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"یہ لو ! تم دونوں کے پورے دو لاکھ روپے"۔ عرشمان نے پیسے انکے ہاتھ میں پکڑاتے ہوۓ کہا۔

"شکریہ صاحب !"

"کام تو پکا کیا ہے ناں؟ انہیں شک تو نہیں ہوا کہ تم لوگ میرے پیریںٹس نہیں ہو؟" 

"نہیں نہیں بالکل بھی نہیں "۔

"گُڈ !"

"صاحب ! اب وہ آپ کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو آپ انہیں اپنے گھر کیسے بلائیں گے؟ میرا مطلب ہے آپ کے گھر میں آپ کے پیرنٹس بھی تو ہوں گے ناں؟"

"ہمممم۔ مگر اس کا بھی سلوشن ہے میرے پاس"۔

"کیا؟"

"عرشمان احمد اپنے پلینز کسی کو نہیں بتاتا۔ اس لئے ویٹ کرو۔ میں خود کال کروں گا تمہیں۔"

"جی بہتر !"

"اب تم دونوں جاؤ یہاں سے۔"

"ٹھیک ہے"۔

پھر وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے اور چلے گئے۔ اس آدمی کا نام اقبال محمود تھا اور اس عورت کا نام جمیلا بی بی تھا جو کہ اسکی زوجہ تھی۔ وہ ناجائز کام کر کے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔ عرشمان احمد نے انہیں پیسوں کا لالچ دے کر ہی اپنے فرضی ماں باپ بنا کر فاطمہ کے گھر رشتے کے لئے بھیجا تھا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"بتاؤ بیٹا کب سے چل رہا ہے یہ سب کچھ؟ کب سے جانتی ہو تم اسے؟ اور کب سے پسند کرتے ہوئے ایک دوسرے کو؟"

"ابا ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس کے والدین جھوٹ بول رہے تھے۔ مجھے تو اس میں کوئی دلچسپی ہے ہی نہیں"۔ وہ سہم کر بولی۔

"فاطمہ بیٹا دیکھو ! کسی کو پسند کرنا کوئی گناہ نہیں ہے۔ بس اس محبت میں بہک جانا گناہ ہے۔ اور ہم اس کا گھر بار دیکھیں گے۔ اس لڑکے کو دیکھیں گے۔ اگر سب کچھ بہترین ہوا تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے بیٹا۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھ کر ان کا نکاح کیا تھا۔"

"جی ابا ! جیسے آپکی مرضی !"

"خوش رہو بیٹا !" وہ اسکے سر پر پیار دیتے ہوۓ بولے۔

نورمحمد کے جاتے ہی اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور جائے نماز بچھا کر خوب رونے لگی۔

"یا اللّٰہ آپ تو جانتے ہیں ناں کہ یہ سب کچھ جھوٹ ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ میرا دامن پاک ہے۔ یا اللّٰہ مجھے مطلبی اور دھوکے باز لوگوں سے بچا لیجئے گا۔" وہ سسکتے ہوۓ دعائیں مانگ رہی تھی۔

اچانک اس کے ابا دروازہ کھول کر دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے۔ اس نے جلدی سے جاۓ نماز سمیٹا اور اپنے آنسو صاف کر کے نور محمد کی جانب دیکھا۔

"فاطمہ بیٹا ! ایک کپ چاۓ تو بنا دو میرے لئے۔ سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ اور ساتھ میں پیناڈول کی گولی بھی لے آنا"۔

"جی ابا"۔ 

وہ چائے بنانے کے لئے کچن میں گئی تو اس کی ماں بھی وہیں کھڑی تھی۔ 

"فاطمہ تم نے تو دیکھا ہے اس لڑکے کو۔ کیسا ہے وہ؟"

"ک۔۔۔۔ک۔۔۔کو۔۔۔۔۔کون؟" ماں کے سوال پر وہ جھجھکتے ہوئے بولی۔

"وہی جس کے ماں باپ آج ہمارے گھر آئے تھے۔ کیا نام تھا اسکا۔۔۔۔۔۔۔ارے ہاں ! عرشمان ! کیسا ہے وہ دیکھنے میں؟"

"ٹھیک ہے"۔

"بس ٹھیک؟"

"اماں آپ لوگ جائیں گے تو جا کر دیکھ لیجیے گا۔ مجھ سے مت پوچھیں یہ سب۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔"

"چلو ٹھیک ہے۔ تم چائے بنا رہی ہو تو ایک کپ میرے لیے بھی بنا لینا"۔

"جی اماں !" 

وہ چائے بناتے بناتے گہری سوچوں میں گم ہو گئی اور اسے دھیان ہی نہ رہا کہ کتنی دیر تک چائے ابل کر چلہے میں گرتی رہی۔

"فاطمہ ! دھیان کدھر ہے تمہارا؟" ماں کی آواز پر اس نے چونک کر چائے کی جانب دیکھا جو کہ اب گر گر کر آدھی رہ چکی تھی۔

"ہاۓ اللّٰہ !" اس نے فوراً چولہا بند کیا۔

"اب دوبارہ بناؤ"۔ ماں نے غصے سے کہا۔

"ج۔۔۔۔ج۔۔۔۔جی اماں !"

اس کی ماں غصے سے اسے باتیں سناتی ہوئی کچن سے باہر چلی گئیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہائے  !میں تمہیں کیا بتاؤں منال؟ وہ انڈسٹری کتنی بڑی تھی اور میں کتنی خوش ہوں اس انڈسٹری میں جاب ملنے پر۔" وہ دفتر سے واپسی پر منال کے گھر آئی تھی۔ 

منال اس کی بچپن کی دوست تھی۔ وہ اپنی ہر بات سب سے پہلے منال سے شیئر کرتی تھی۔ اس لیے اس نے اس خوشی کا بھی سب سے پہلے منال کو ہی بتایا۔ مگر منال کے چہرے پر کوئی خاص رونق نہیں تھی۔ وہ ماہی کے لئے خوش تھی مگر اپنے لئے اداس۔ کیونکہ وہ خود بھی اس انڈسٹری میں جانا چاہتی تھی۔ مگر اسے جاب کیلئے تو دور انٹرویو کے لیے بھی کال نہیں آئی تھی۔ یہ ماہی کی خوش قسمتی ہی تھی کہ اسے بنا انڑویو کے اس کمپنی میں نوکری مل گئی۔

"لیکن اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تم نشاء خالد نہیں ہو تو؟" منال نے اسے اپنا خدشہ ظاہر کیا ۔

"جب پتہ چلے گا تب دیکھی جائے گی۔ مگر فی الحال تو نہیں ناں؟"

"مگر ماہی یہ سب کچھ غلط ہے۔ کسی اور کا نام استعمال کرکے نوکری کرنا ٹھیک نہیں ہے۔"

"لیکن اس کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی تو نہیں ہے میرے پاس یار۔" اس نے افسردگی سے کہا۔

"ہاں تم صحیح کہہ رہی ہو۔ تمہارے لیے یہ نوکری بہت ضروری ہے۔ اور خالہ کا ہاتھ بھی بٹ جائے گا۔ ظاہر ہے اب وہ بوڑھی ہو چکی ہیں تو تمہیں کمانا چاہیے۔"

"مگر میں نے سوچ لیا ہے منال کہ جیسے ہی ہمارے سارے قرضے اتر جائیں گے اور میرے لئے جہیز کا سامان بن جائے گا۔ تو میں اپنی کمپنی کے باس کو خود جا کر سب کچھ سچ سچ بتا دوں گی۔ پھر چاہے وہ مجھے نوکری سے نکالیں یا نہ نکالیں۔"

"ہاں یہ ٹھیک ہے۔ اچھا تم چاۓ پئیو گی یا کھانا کھاؤ گی؟"

"کھانا کھاؤں گی بھئی "۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ اچھا"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہاں ٹھیک ہے مہرین ! پھر ہم لوگ اس جمعرات کو منگنی کا فنکشن رکھ لیتے ہیں۔ ویسے بھی اب عینا بھی ٹرِپ سے واپس آ چکی ہے اور پھر آگے اس کے ایگزیمز شروع ہونے والے ہیں۔ وہ مصروف ہو جائے گی۔ تو منگنی کر کے رشتہ پکا کر لیتے ہیں۔ اس کے ایگزیمز سے فارغ ہوتے ہی تم شادی کے دن لے جانا۔ میں عینا اور سارہ کی ایک ساتھ ہی شادی کرکے اپنے فرض سے سبکدوش ہونا چاہتا ہوں۔" سکندر شاہ اور مہرین لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

"جی بالکل بھائی صاحب ! میں بھی اب جلد از جلد عینا کو اپنے گھر لے آنا چاہتی ہوں۔"

"ٹھیک ہے"۔ 

سارہ نے چائے کی ٹرے ٹیبل پر لا کر رکھ دی اور خود کرسی پر بیٹھ گئی۔

"اور سناؤ سارہ ! تمہاری روٹین کیسی جا رہی ہے؟ شاہ میر سے بات ہوتی ہے؟" مہرین اسکی جانب متوجہ ہوئی۔

"جی پھپھو ! سب ٹھیک ہے الحمدللّٰہ"۔

"کب کی ڈیٹ مانگی ہے انہوں نے سارہ کیلئے بھائی؟"

"وہ تو بہت جلدی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ بس میں نے ہی ہاں نہیں کی۔ ایک بار عینا کی ایگزیمز ہو جائیں۔ پھر ایک ساتھ ہی دونوں کے سسرال والوں کو ڈیٹ دے دیں گے۔"

شاہ میر سارہ کا منگیتر تھا۔ تقریباً تین مہینے پہلے ہی انکی  منگنی ہوئی تھی۔ شاہ میر کے ماں باپ انگلینڈ میں رہتے تھے اور وہ پاکستان میں اپنا بزنس کرتا تھا۔ اسکی ایک ہی بہن تھی جو کہ شادی شدہ تھی اور وہ بھی انگلینڈ میں ہی سیٹل تھی۔ سارہ اور شاہ میر ایک ہی آفس میں کام کرتے تھے اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ شاہ میر کے رشتہ بھیجنے پر سکندر شاہ نے فوراً ہاں کر دی تھی کیونکہ سارہ کیلئے خاندان میں کوئی جوڑ نہیں تھا اور شاہ میر ایک اچھا اور کامیاب بزنس مین تھا۔ 

"سہی ہے بھائی صاحب! بچیاں جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائیں اتنا ہی اچھا ہے۔ زندگی کا کیا بھروسہ کب ختم ہو جائے۔"

"ہاں مہرین !" سکندر شاہ نے چاۓ کا سیپ لیتے ہوۓ جواب دیا۔

"السلام علیکم پھپھو !" اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی  مہرین کو سلام کیا۔

"واعلیکم السلام۔ کیسی ہے میری بیٹی؟" وہ اسکو گلے لگاتی ہوئی بولیں۔

"ٹھیک ہوں۔ آپ کیسی ہیں؟"

"الحمدللّٰہ "۔

"یہ بیگ بعد میں رکھنا۔ پہلے بیٹھ کر میری بات سنو"۔ 

"جی پھپھو "۔

"کیسا گزرا یونیورسٹی میں دن؟"

"بس ٹھیک تھا۔"

"کیوں کیا ہوا؟"

"ایکچولی آج حمزہ اور عرشمان نہیں آئے تھے۔ تو میں کافی بور ہوئی ان کے بغیر۔"

اس کے جواب پر مہرین اور سکندر شاہ نے شکی نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا۔

"ممم۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ وہ دونوں میرے کافی اچھے دوست ہیں ناں تو دوستوں کے بغیر بندے کو بوریت ہی ہوتی ہے۔ اس لئے"۔ اس نے صفائی دینے کی کوشش کی ۔

"ہاں سہی کہہ رہی ہو۔ اچھا بیٹا میں نے اور بھائی صاحب نے فیصلہ کیا ہے کہ اس جمعرات کو تمہاری اور عادل کی منگنی کر دیں۔ تم تیار رہنا میں تمہیں شاپنگ پر لے کر جاؤں گی۔ اور تمہاری پسند کی شاپنگ کرواؤں گی۔ ٹھیک ہے؟" وہ پیار سے بولیں۔

"کیا۔۔۔۔۔۔منگنی؟"

سکندر شاہ نے اثبات میں سر ہلایا۔

عینا خاموشی سے وہاں سے اٹھی اور منہ بناتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"موم !" وہ لان میں پودوں کو پانی دیتی ہوئی عالیہ بیگم کے پاس آ کر مخاطب ہوا۔

"ہمممممم"۔ عالیہ بیگم نے پلٹ کر دیکھا تو عرشمان انکے پیچھے کھڑا تھا۔

"آپ جم پر کب جائیں گی اور بیوٹی پالر کا کس دن چکر لگائیں گی؟"

"کیوں تمہیں اپنی موم بوڑھی ہوتی نظر آرہی ہے کیا؟ یا پھر میں موٹی ہوگئی ہوں؟" انہوں نے تیوری چڑھائی ۔

"ارے نہیں یار ! میری موم تو آج بھی بہت ینگ ، فِٹ اور خوبصورت ہیں۔"

"تو پھر یہ جم اور بیوٹی پارلر کا کیوں پوچھ رہے تھے ؟"

"آ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔اس لیۓ موم۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔"۔

"کیا وہ؟"

"آ۔۔۔۔۔موم کیونکہ آپ کو میں نے کافی دنوں سے جاتے ہوئے دیکھا نہیں ناں۔ اس لئے پوچھ رہا تھا بس"۔ وہ جھٹ سے بولا۔

"بیٹا جم پر تو روز ہی جاتی ہوں میں اور بیوٹی پارلر پہ ہر سنڈے کو"۔

"ارے ہاں ! وہی تو کہہ رہا تھا میں کہ آپ بیوٹی پالر کافی دنوں سے نہیں گئی"۔

"لاسٹ سنڈے کو گئی تھی میں۔ مگر تم باہر کہیں آوارہ گردی کرنے گئے ہوئے تھے۔ تو تمہیں کیا پتا کہ میں گئی تھی یا نہیں گئی تھی۔ اور اب پرسوں سنڈے ہے تو پھر ہی جاؤں گی ناں !"

"اب آپ میری انسلٹ کر رہی ہیں موم"۔ اس نے معصوم سے شکل بنا کر کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ اچھا چلو چھوڑو یہ سب۔ آج شام ڈنر پر چلیں؟ تم ، میں اور تمہارے بابا؟" 

"نو ! میرا موڈ نہیں ہے۔ پھر کبھی سہی ۔"

"ہمممم۔ ابھی عینا کی کال آ جاۓ ناں کہ ایک ساتھ ڈنر کرنا ہے تو بھاگے چلے جاؤ گے۔" 

"ایسی بات نہیں ہے"۔

"میں جانتی ہوں تمہیں عرشمان "۔

"اوکے فائن چلیں گے۔ آپ ناراض نہ ہوں پلیز "۔ وہ اپنی ماں کے دونوں ہاتھ پکڑ کر بولا۔

"اچھا ٹھیک ہے"۔

"نہیں ایسے نہیں ! میری پیاری سی موم پہلے مجھے پیاری سے سمائل کر کے دیکھائیں۔"

"شریر !" وہ مسکراتے ہوۓ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں۔

"اوہ ہو ! موم میرے سارے بال خراب کر دئیے آپ نے"۔ اس نے چِڑ کر کہا ۔

"اوکے اوکے سوری ! بھئی مجھے نہیں پتا تھا کہ میرے بیٹے کا حُسن خراب ہوتا ہے"۔ وہ ہنس کر گویا ہوئیں۔

"موم پلیز !" 

"اچھا ٹھیک ہے۔ میں کچھ نہیں کہتی۔ تم جاؤ جہاں جا رہے تھے"۔

"ہمممم۔" وہ اپنے بال سیٹ کرتے ہوۓ واپس مڑا۔

"ویسے کہاں جا رہے ہو؟" عالیہ بیگم نے پیچھے سے آواز دی۔

"آوارہ گردی کرنے "۔ اس نے ہاتھ ہلا کر ہنستے ہوۓ کہا اور بھاگ گیا۔ 

"یہ لڑکا کبھی نہیں سدھرے گا"۔ انہوں نے خود سے سرگوشی کی۔ اور پھر واپس پودوں کو پانی دینے میں مصروف ہو گئیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ماہی اٹھ جا نکمی اولاد"!  شہناز بی بی نے اسے جھنجھوڑتے ہوۓ کہا۔

"امی ! کیا آپ بھی صبح صبح مجھے باتیں سنانا شروع ہو جاتی ہیں"۔ وہ انگڑائی لیتی ہوئی اٹھی۔

"آج کہیں نہیں جانا کیا انٹرویو کے لئے"؟

"ہو تو گئی جاب۔ اب کیوں دینا انٹرویو ؟" اس نے اپنے آنکھیں مسلتے ہوۓ جواب دیا۔

"کون سی جاب؟ کہاں کی جاب؟ لگتا ہے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہی ہو تم ماہی۔ اٹھ جاؤ"!

"امی میں کوئی خواب نہیں دیکھ رہی۔ کل میں جہاں انٹرویو کے لیے گئی تھی۔ وہاں میری جوب ہو چکی ہے۔ الحمدللّٰہ اور اتنی اچھی انڈسٹری ہے کہ کیا بتاؤں میں آپ کو۔سٹارٹنگ سیلری ہی اسّی ہزار ہے میری۔"

"ہیں؟" وہ چونک کر بولیں۔

"جی امی ! آپ کی بیٹی کی قسمت ہے کہ وہاں پر جاب لگ گئی۔ اب موجیں کرو۔ جانا تو میں نے آج سے تھا لیکن میں نے سوچا کہ سوموار والے دن سے آفس جوائن کروں گی۔ کپڑے بھی لے لوں گی۔ وہاں پر پہن کر جانے کے لیے کوئی ایک بھی ڈھنگ کا سوٹ نہیں ہے میرے پاس۔"

"تو سچ کہہ رہی ہے نہ ماہی ؟" انہوں نے اس کے پاس بیٹھ کر پیار سے پوچھا۔

"جی امی بالکل سچ کہہ رہی ہوں۔"

"یا خدا ! تیرا شکر ہے"۔ وہ ہاتھ اٹھا کر کہنے لگیں۔

"جی اب آج کا دن سکون سے سونے دیں مجھے"۔

"ٹھیک ہے میری شہزادی سوجا"۔

"واہ امی ! جاب کے لگتے ہی شہزادی بھی بنا دیا مجھے"؟

"بیٹا ہر ماں کے لئے اس کی بیٹی شہزادی ہی ہوتی ہے بس تیری نوکری کی وجہ سے پریشان رہتی تھی اس لئے غصہ کر لیتی تھی۔ اب مسئلہ حل ہو گیا ہے تو اللّٰہ تجھے کامیاب کرے"۔

"آمین امی"۔

شہناز بی بی پھر اسے پیار دیتے ہوئے وہاں سے اٹھیں اور ماہی نے واپس آنکھیں موندھ لیں۔

---------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"بابا "

"جی میرا بچہ ! آؤ"۔ سکندر شاہ نے کمرے کے دروازے میں کھڑی عینا کی جانب دیکھا۔

"مجھے آپ سے بات کرنی ہے"۔ وہ اندر داخل ہوتی ہوئی بولی۔

"ہاں ہاں کہو"۔

"بابا میں۔۔۔۔۔۔" 

"کیا ہوا میرا بچہ ! بولو کیا کہنا ہے؟"

"بابا میں۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔" اسکے چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔

"بیٹا اتنا گھبرا کیوں رہی ہو ؟ جو بات ہے اطمینان سے بولو"۔

"بابا میں عادل سے منگنی نہیں کرنا چاہتی۔"

کیوں"؟

"کیونکہ وہ مجھے پسند نہیں ہے "۔

"اور وجہ نہ پسند ہونے کی؟"

"کوئی وجہ نہیں ہے بابا۔ بس ایسے ہی"۔ وہ سر جھکا کر معصومیت سے بولی۔

"کسی اور کو پسند کرتی ہو؟" انہوں نی سنجیدگی سے سوال کیا تو عینا نے چونک کر انکی جانب دیکھا۔

"بتاؤ"۔

"نہ۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔مممم۔۔۔۔۔میرا مطلب۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔"

"کون ہے وہ ؟"

"کوئی نہیں "۔

"اچھی بات ہے اگر کوئی نہیں ہے تو۔ اور اگر کوئی ہوا بھی تو اسے اپنے ذہن سے نکال دو۔ کیونکہ تمہاری شادی عادل سے ہی ہوگی"۔  سکندر شاہ نے رعب سے کہا۔

ج۔۔۔۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔جی بابا"۔ وہ لرزتے ہوۓ بولی اور پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ پھر  اس نے روتے ہوۓ فوراً سے اپنا فون اٹھایا اور عرشمان کو کال ملائی۔ اس کے بار بار ٹرائی کرنے پر بھی وہ کال رسیو نہیں کر رہا تھا۔ بالآخر اس نے زور سے اپنا موبائل بیڈ پر دے مارا اور منہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔ پوری رات اس نے ٹینشن میں گزاری۔ وہ اپنا سارا دکھ عرشمان سے شیئر کرنا چاہ رہی تھی مگر آج سارا دن اسکی اس سے کوئی بات نہ ہو سکی۔ آج پھر عرشمان اور حمزہ دونوں غیر حاضر تھے۔ اس نے کئی بار دونوں کا فون ٹرائی کیا مگر عرشمان نے فون ریسیو ہی نہ کیا  اور حمزہ کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ اگلے دن اتوار تھا اور وہ پھر عرشمان سے نہیں مل سکتی تھی یہی سوچ سوچ کر اس کا سر چکرانے لگا تھا نمرہ نے بھی اسے تسلی تو دی مگر اس کا سر درد تھا کہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ یونیورسٹی سے گھر واپس آ کر اس نے اپنے کمرے کا دروازہ لاک کیا اور دھڑام سے بیڈ پر گر گئی۔ اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتے سوچتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اور جب وہ اٹھی تو مغرب کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ اذان کی آواز سنتے ہی اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھولیں اور اپنے کپڑے چینج کر کے جاۓنماز پر جا کر کھڑی ہو گئی۔ خدا جانے آج کتنے عرصے بعد اس نے نماز پڑھی تھی۔سلام پھیرتے ہی وہ فوراً سے دوبارا سجدے میں گر گئی۔ اور ہچکیاں لے کر رونے لگی۔ وہ اپنے سارے دکھ درد آج اپنے رب کو بتانا چاہ رہی تھی مگر الفاظ تھے کہ زبان کا ساتھ دینے کو تیار ہی نہیں تھے۔نہ جانے ہم انسانوں کو رب صرف دکھ درد میں ہی کیوں یاد آتا ہے۔ وہ کتنی دیر سجدے میں سر رکھ کر روتی رہی پھر اچانک فون کی رنگ ٹون پر اس نے فوراً اپنا سر سجدے سے اٹھایا ، جاۓ نماز سمیٹا اور بھاگ کر فون اٹھایا تو یہ عرشمان کی کال تھی۔

"آگئی ہوش؟ زندہ ہوں ابھی میں۔ مری نہیں ہوں۔ جب مر جاتی تب کرلیتے کال"۔ فون اٹھاتے ہی اس نے لفظوں کے تیر چلا دئیے۔

"کیسی فضول باتیں کر رہی ہو عینا؟"

"کہاں تھے اتنے دنوں سے؟ یونیورسٹی بھی نہیں آتے۔ اور میرا فون بھی نہیں اٹھاتے؟"

"ایم ریلی سوری یار ! کل جب موم ڈیڈ کے ساتھ ڈنر پر گیا تو فون سائیلینٹ پر کر دیا تھا۔ دوبارہ سائیلینٹ اوپن کرنا ہی بھول گیا۔ پھر گھر آکر ایسا سویا کہ جب صبح آنکھ کھلی تو گیارہ بج چکے تھے۔ اس لیے یونیورسٹی سے لیٹ ہو گیا اور یونی آ نہیں سکا۔ پھر ڈرائیور آج چھٹی پر تھا تو موم نے کہا کہ انہیں شاپنگ پر لے جاؤں تو وہاں چلا گیا۔ سارا دن بزی رہا۔ اب جب فون اٹھانے کا ٹائم ملا۔ دیکھا تو تمہاری کافی کالز آئی ہوئی تھیں۔ پھر فوراً تمہیں کال بیک کی ہے"۔

"سہی۔ تم بزی ہی رہنا"۔ اس نے طنزیہ انداز سے کہا۔

"کیا مطلب"؟

"مجھے تمہاری جب سب سے زیادہ ضرورت تھی تب تم میرے لئے فری نہیں تھے"۔

"عینا ایسی بات نہیں ہے یار۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟ سب خیریت تو ہے؟ مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ تم رو رہی ہو؟" 

"عرشمان! بابا سے کل بات کرنے کی کوشش کی تھی میں نے مگر وہ نہیں مان رہے"۔

"کیا مطلب نہیں مان رہے؟ تم نے انہیں بتایا نہیں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟"

"یہ بتایا کہ عادل سے شادی نہیں کر سکتی۔ مگر یہ بتانے کی ہمت نہیں ہوئی کہ تمہیں پسند کرتی ہوں"۔

"تو پھر بتاؤ انہیں یار"۔

"نہیں فی الحال نہیں "۔

"کب بتاؤں گی پھر؟ جب تمہاری منگنی ہو جائے گی اس عادل سے تب؟" اس نے غصے سے کہا۔

"تم مجھ سے لڑو تو مت پلیز۔ میں پہلے ہی بہت ٹینشن میں ہوں۔اس وقت بابا سے کوئی بات نہیں کر سکتی۔ ہم کل یونیورسٹی میں ملیں گے پھر بات کریں گے۔"

"تم کہہ رہی ہو کہ تم اپنے بابا سے بات نہیں کر سکتی اور میں چین سے بیٹھ جاؤں؟" اس نے گرج کر کہا مگر کال کٹ چکی تھی۔ غصے میں ساتھ والے ٹیبل پر پڑا گملا اس نے زور سے اٹھا کر فرش پر پٹخ دیا۔

"چھوٹے صاحب ! وہ۔۔۔۔۔بیگم صاحبہ۔۔۔۔۔۔۔۔ نے دودھ کا گلاس بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کیلئے۔" نسیمہ نے کمرے میں داخل ہوتے  کپکپاتے ہوئے کہا۔

"دفع ہو جاؤ یہاں سے !" وہ چیخ کر بولا۔

"ج۔۔۔۔ج۔۔۔۔جی۔۔۔۔۔"۔ نسیمہ نے سر جھکاۓ دروازہ بند کیا اور چلی گئی۔

----------------------------------------------

"موم اور ڈیڈ کام کے سلسلے میں گھر سے باہر ہیں۔ اور تمہارے پاس صرف دو گھنٹے ہی ہیں۔ میں نے تمام نوکروں کو بھی سمجھا دیا ہے کہ تم لوگوں کو ہی بیگم صاحبہ اور صاحب جی بولیں۔ دھیان رہے کوئی بھی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے۔ اور فون کرو انہیں پوچھو کہاں پہنچے ہیں وہ؟" عرشمان اقبال اور جمیلا بی بی سے اپنے گھر کے لان میں کھڑا انہیں سمجھا رہا تھا۔ 

"ابھی پوچھتا ہوں"۔ اقبال نے ابھی فون جیب سے نکالا ہی تھا کی گیٹ پر دستک ہوئی۔ 

عرشمان نے اشارہ کیا تو چوکیدار نے جھٹ سے دروازہ کھولا۔ نور محمد اور انکی زوجہ نے گھر میں قدم رکھتے ہی حسرت بھری نگاہوں سے بنگلے کی جانب دیکھا۔ جو کہ انتہائی خوبصورت اور دل کو لبھا جانے والا گھر تھا۔ سامنے لاؤنج  میں دو بڑی گاڑیاں کھڑی تھیں جن میں سے ایک عرشمان کی تھی اور دوسری سب کے استمال کیلئے۔ اتنا بڑا گھر اور گاڑیاں دیکھ کر نور محمد کی آنکھیں دنگ رہ گئیں۔

کافی دیر تک تو وہ کھڑے گھر کا معائنہ کرتے رہے پھر چوکیدار نے اشارہ کیا تو وہ گھر کے اندرونی پہلو کی جانب بڑھے۔ اقبال اور جمیلا نے خوب بڑھ چڑھ کر انکا استقبال کیا۔کافی دیر بیٹھ کر باتیں کرنے کے بعد نور محمد اقبال سے مخاطب ہوۓ۔

"ارے ! احمد صاحب، عرشمان بیٹے کو بھی تو بلائیے۔ ان کو ہی تو دیکھنے آئے ہیں ہم۔ کہاں ہے وہ؟"

"وہ اپنے کمرے میں ہوگا۔ میں ابھی بلواتا ہوں۔ نسیمہ جاؤ ! عرشمان صاحب م۔۔۔۔ممم۔۔۔۔۔ممممم۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ عرشمان کو بلاؤ"۔ اقبال نے جھجھکتے ہوئے کہا۔

نسیمہ نے اثبات میں سر ہلایا اور عرشمان کے کمرے کی جانب بڑھی۔

"چھوٹے صاحب۔۔۔۔۔ آپ کو وہ۔۔۔۔۔۔ اقبال بلا رہا ہے"۔ اس نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر لیٹے ہوۓ عرشمان سے کہا۔

"ٹھیک ہے۔ تم جاؤ"۔

"جی"۔

السلام علیکم"۔ عرشمان سیڑھیوں سے اترتا ہوا سامنے صوفے پر بیٹھے نور محمد اور ان کی بیگم سے مخاطب ہوا۔

"وعلیکم السلام"۔نور محمد نے آگے بڑھ کر پیار دیا۔

"یہ ہمارا بیٹا ہے"۔ اقبال نے عرشمان کی جانب اشارہ کیا۔

"ماشاءاللّٰہ! آپ کا بیٹا تو بہت خوبصورت ہے"۔ فاطمہ کی ماں نے کہا۔

عرشمان سامنے صوفے پر بیٹھ گیا اور بہت ساری باتیں ہونے کے بعد نور محمد نے تمام چیزوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رشتے کے لئے ہاں کر دی۔ 

"چلیں ٹھیک ہے نور محمد صاحب۔ لیکن ہم منگنی نہیں کرنا چاہتے۔ ہم ڈائریکٹ نکاح ہی کرنا چاہتے ہیں۔" اقبال شائستگی سے بولا۔

"لیکن اتنی جلدی نکاح؟" نور محمد نے حیران ہو کر پوچھا۔

"جی دراصل پھر اس کے پیپر ہونے والے ہیں اور پھر ہمارا بزنس بھی اتنا بڑا ہے کہ عرشمان بیرون ملک چلا جائے گا اور ہم چاہتے ہیں کہ اس کی شادی ہو جائے۔ تو چلو اپنی بیگم کو بھی ساتھ ہی لے جائے گا۔" اس نے پوری ہمت سے جواب دیا۔

"ہاں یہ بھی صحیح ہے ویسے بھی ہمارے مذہب میں ہے کہ جتنی جلدی ہو جائے بالغ بچے اور بچیوں کا نکاح کر دینا چاہیے۔"

"جی۔ تو پھر کب آئیں ہم آپ کے گھر نکاح کی تاریخ لینے؟"

"اب تو آپ کا اپنا گھر ہے جب مرضی آجائیں"۔

"تو پھر ہم کل ہی آجائیں گے"۔

"ہاہاہاہاہاہا "۔ نور محمد مسکراۓ۔

"دراصل ہم نے کہا ناں کہ ہم بہت جلدی کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں جہیز کا بھی کوئی لالچ نہیں ہے آپ اس کی فکر مت کریں۔ بس آپ کو اپنی بیٹی رخصت کرنی ہے اور شادی کا سارا خرچہ بھی ہم خود ہی اٹھا لیں گے اس کی بھی آپ فکر مت کریں۔"

"چلیں ٹھیک ہے"۔

"تو پھر کل ہم آ جائیں؟ ڈیٹ ڈیسائڈ کر لیں؟"

"جی جی جیسا آپ کو مناسب لگے احمد صاحب "۔

"ٹھیک ہے تو پھر ہم کل چکر لگائیں گے آپ کی طرف۔ اور یاد رکھیے گا کہ ہمیں اسی مہینے میں شادی کرنی ہے کیوں کہ اگلے مہینے عرشمان کے پیپر شروع ہوجائیں گے اور فاطمہ بے شک بیرون ملک جاکر پڑتی رہے۔ ہمیں اس کی پڑھائی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔"

"چلیں پھر ہمیں اجازت دیں۔ کل ملاقات ہوگی انشاء اللّٰہ"۔

نور محمد نے صوفے سے اٹھتے ہوۓ سب سے اجازت چاہی اور چلے گئے۔

ان کے جاتے ہی عرشمان نے اقبال کی جانب دیکھا۔

"پرفیکٹ!" اس نے اقبال کی تعریف کی۔

"شکریہ جناب"۔

"باقی کے پیسے تو کام ختم ہونے پر ہی ملیں گے۔ اب آپ دونوں جا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ موم آجائیں۔ جاؤ جلدی۔" 

"اور تم سب لوگ اپنا منہ بند رکھنا۔ موم ڈیڈ کو ذرا سی بھی بھنک نہیں پڑھنی چاہیے کہ یہاں پر کوئی آیا تھا۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ نسیمہ یہ برتن اٹھاؤ یہاں سے۔ "سب نوکروں سے مخاطب ہونے کے بعد اس نے نسیمہ کی جانب دیکھا۔

"جی چھوٹے صاحب"۔ 

پھر اس نے بھاگ کر سیڑھیاں چڑھی اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔

فاطمہ تمہارے ابو نے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے عرشمان کے ساتھ"۔ اسکی امی نے نرمی سے اسے بتایا۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"فاطمہ تم خوش ہو ناں میری بیٹی؟"

"جی اماں میں بہت خوش ہوں۔ آپ فکر مت کریں"۔

"ٹھیک ہے"۔

ماں کے جاتے ہی اس نے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان !" عالیہ بیگم کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

"جی موم"۔

"بیٹا یونیورسٹی جا رہے ہو تو پہلے آفس چلے جانا۔ تمہارے ڈیڈ اپنی امپورٹنٹ فائل گھر بھول گئے ہیں یہ انہیں دے دینا۔" وہ فائل پکڑاتے ہوئے کہنے لگیں۔

"اوکے"۔

"السلام علیکم مس گلشن"۔ 

"وعلیکم السلام!" اس نے اپنی عینک سیدھی کرتے ہوئے کہا۔

"تو میرا کیا کام ہے یہاں"؟

"ماہین تم۔۔۔"

"ماہی کہو تو زیادہ اچھا لگے گا مجھے"۔ 

"اچھا ماہی تم میری اسسٹنٹ ہو تو جو کام بھی میں تمہیں کرنے کو دوں گی تمہیں وہ کرنا ہوگا۔ باس ابھی ابھی آفس پہنچے ہیں جلدی سے انکے لئے چاۓ لیکر جاؤ"۔

"اچھا"۔ اس نے غصے سے آنکھیں پھیری اور چاۓ لیکر آفس کا دروازہ نوک کیا۔

"یس۔ آجائیں۔" احمد ملِک نے اندر سے آواز دی۔

"گڈ مارننگ سر"۔

"گڈ مارننگ"۔

"سر آپ نے چائے منگوائی تھی۔" اس نے چائے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا۔

"بیٹا تم نشا خالد ہو؟"

"ج۔۔۔ج۔۔۔جی"۔ وہ جھجھک کر بولی۔

"تو پھر مجھے سر کیوں کہہ رہی ہو؟ بچپن میں تو انکل کہتی تھی"۔

"جی وہ بس ایسے ہی"۔

"اچھا۔ جا کہاں رہی ہو بیٹھو"۔ احمد ملِک نے سامنے چیئر پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

"جی"۔

"بابا کیسے ہیں"؟

"جی ٹھیک ہیں الحمدللّٰہ"۔

"تمہاری امی کی ڈیتھ کا بہت افسوس ہے مجھے آج تک"۔ انہوں نے افسردگی سے کہا۔

"جی بس بابا بھی اسی لیے پریشان رہتے ہیں بہت یاد کرتے ہیں امی کو"۔ اس نے بھر پور ایکٹنگ کرنے کی کوشش کی ۔

"مگر تمہاری امی کو تو بیس سال ہوگئے فوت ہوئے؟" وہ حیرانگی سے بولے۔

"مممم۔۔۔۔مم۔۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ وہ آج تک بھول نہیں پائے امی کو"۔ اس نے اٹکتے ہوۓ کہا۔

"ہمممممم"۔

"بیٹا کوئی بھی مسئلہ ہو تو مجھے ضرور بتانا۔ آخر خالد میرا بہت اچھا دوست ہے اور تم میری اپنی بیٹی ہی ہو۔"

"ضرور"۔

"ٹھیک ہے بیٹا دل لگا کر کام کرنا اب تم جاؤ مجھے کچھ اہم کام کرنا ہے"۔

"جی"۔ اس نے کرسی سے اٹھ کر تیزی سے باہر کی جانب دوڑ لگا دی۔ کیبن سے اتنی تیزی سے باہر نکلتے ہی وہ سامنے آتے ہوئے عرشمان سے ٹکرا گئی۔

"پاگل ، بیوقوف ، ڈنگر دھیان کدھر ہے تمہارا؟ سمارٹ لڑکی دیکھی نہیں اور ٹکرانے آگئے؟" وہ غصے سے بولی۔

"او۔۔۔۔۔او۔۔۔۔او۔۔۔۔ہیلو ! کیا بول رہی ہو تم؟" اس نے جھٹ سے جواب دیا ۔

"وہی جو تم نے سنا۔ اب کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو؟ ہٹو راستے سے"۔

"تمہیں پتا ہے کہ میں کون ہوں؟" وہ اپنے دونوں بازو باندھ کر رعب سے بولا۔

"مجھے جاننا بھی نہیں ہے کہ تم کون ہو"۔

"بائی دا وے۔ تم اسی آفس میں کام کرتی ہو ہممممم؟"

"جی ہاں"۔

عین اسی ٹائم گلشن بھاگتی ہوئی آئی اور عرشمان کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی۔

"گڈ مارننگ سر"۔

"گڈ مارننگ! کیسی ہو گلشن"؟ اس نے گلشن کی جانب دیکھا۔

"میں ٹھیک ہوں س۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"اوہ ! تو گلشن کو اپنے جال میں پھنسا بھی چکے ہو تم؟" وہ گلشن کی بات کاٹتے ہوۓ بولی"۔

گلشن نے غصے سے ماہی کی جانب دیکھا اور چپ رہنے کا اشارہ کیا۔

"ارے گلشن آپ مجھے چپ رہنے کا کیوں کہہ رہی ہیں؟ اور آپ اس ڈفر انسان کو سر کیوں بول رہی ہیں؟ مجھے تو یہ شکل سے ہی چپڑاسی لگتا ہے۔"

گلشن نے پھر غصے سے اسے گھورا اور خاموش ہونے کا اشارہ کیا۔

"یہ بدتمیز لڑکی کون ہے گلشن؟" عرشمان نے اس سے پوچھا۔

"تمہیں کیوں بتائیں ہم؟ تاکہ تم مجھ جیسی خوب صورت لڑکی پر لائن مارو؟" اس نے پھر سے تیر چلایا۔

"سر یہ میری اسسٹنٹ ہے"۔

"کمال ہے اس قسم کے بدتمیز لوگ بھی ہمارے آفس میں پائے جاتے ہیں"۔ اس نے ماہی کی جانب دیکھا۔

"بدتمیز تم ہو۔ تم آکر مجھ سے ٹکرائے ہو۔ میں نہیں !" وہ پھر سے شروع ہوگئی۔

"کیا نام ہے اس کا گلشن؟"

"س۔۔۔س۔۔۔۔سر ماہین "۔

"عُرف ماہی"۔ اس نے ایفشنسی مارنے کی کوشش کی۔

احمد ملک نے اپنے کیبن کا دروازہ کھولا اور باہر آئے۔

"کیا شور ہو رہا ہے یہاں؟"

"ڈیڈ میں آپ کی فائل دینے آیا تھا۔ یہ لیں"۔ اس نے فائل پکڑاتے ہوئے کہا۔

ڈیڈ لفظ سنتے ہی ماہین ششدر رہ گئی اور اس نے چونک کر عرشمان کی جانب دیکھا۔ جو اسکے چہرے کے اڑے ہوئے رنگ بخوبی محسوس کر سکتا تھا"۔

"ٹھیک ہے بیٹا تم یونیورسٹی کے لیے لیٹ ہو رہے ہو گے"۔

"جی ڈیڈ میں بس جا ہی رہا تھا"۔

ماہین کا دل زور سے دھک دھک کر رہا تھا کہ اگر عرشمان نے احمد ملِک کو اس کی بد تمیزی کے بارے میں بتا دیا تو اس کی یہ جاب بھی ہاتھ سے چلی جائے گی۔ فائل پکڑتے ہی احمد ملِک اپنے کیبن میں واپس چلے گئے۔

"اب بولیں ! کیا کہہ رہی تھی آپ مس ماہین عُرف ماہی !" وہ مسکرا کر بولا۔

"وہ۔۔۔۔۔۔۔۔می۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔س۔۔۔۔سو۔۔۔۔۔۔۔۔سوری۔۔۔۔۔۔۔س۔۔۔۔۔۔۔سر"۔ 

"میں تمہیں چپڑاسی لگتا ہوں"؟ اس نے اپنے ہونٹ بھینچ لئے۔

"ن۔۔۔۔۔نہیں سر"۔

"تم پر لائن مارنے کی کوشش کر رہا تھا؟"

"وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

"گلشن اپنی اسسٹنٹ کو تھوڑی تمیز سکھا دو میرے آفس جوائن کرنے سے پہلے پہلے۔ کیونکہ میں اس قسم کے بدتمیز ایمپلائز اپنی کمپنی میں بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا۔" وہ رعب سے بولا۔

"جی سر"۔

اس نے پھر سے طنزیہ مسکراہٹ سے ماہین کے چہرے کی طرف دیکھا جو شرمندہ نگاہوں سے سر جھکا کر کھڑی تھی اور پھر چلا گیا۔

"ماہی تم چلو میرے ساتھ"۔ گلشن نے ماہین کا بازو پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لے گئی۔

"یہ مجھے کہاں لے آئی ہو آپ؟" ماہین نے حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھا۔

"یہ وہ جگہ ہے جہاں پر ہماری کمپنی کے ڈریس سلائی ہوتے ہیں۔ تو آج سے تم اگلا پورا ایک ہفتہ یہاں پر بیٹھ کر ڈریس سلائی کروگی۔"

"مگر کیوں؟"

"تاکہ تمہیں نصیحت آجائے کہ آئندہ کسی بھی اونچے عہدے والے بندے سے بدتمیزی نہیں کرنی۔"

"میں دوبارہ نہیں کروں گی یار سچ میں۔ اور مجھے تھوڑی پتا تھا کہ وہ ڈفر انسان باس کا بیٹا ہے۔"

"تم پھر سے عرشمان سر کو ڈفر کہہ رہی ہو"۔

"وہ کتنا بدتمیز ہے اور تم اس کی طرف داری کر رہی ہو؟ یار گلشن کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ تم کس کی حمایت کررہی ہو جو کسی لڑکی کی ذرا بھی عزت نہیں کرتا۔ اور تمہیں بھی تو کتنی باتیں سنا کر گیا ہے نا وہ؟"

"عرشمان سر کیسے ہیں اور کیسے نہیں میں انہیں تم سے بہتر جانتی ہوں۔ اور رہی بات لڑکیوں کی عزت نہ کرنے کی تو میں تمہیں بتا دوں ماہی کہ وہ ہر لڑکی کی بہت عزت کرتے ہیں۔ تم نے بدتمیزی کی لیکن انہوں نے پھر بھی تمہیں کچھ نہیں کہا۔ حالانکہ وہ چاہتے تو اسی وقت تمہیں نوکری سے فارغ کر دیتے۔ مگر یہ ان کا بڑا پن ہے کہ وہ خاموشی سے چلے گئے اور انہوں نے باس کو نہیں بتایا۔"

"اچھا اب تم غصہ مت کرو مجھ پہ گلشن۔ آئندہ نہیں کروں گی بدتمیزی پرامس"۔

"ٹھیک ہے"۔

"ویسے کب تک آفس جوائن کریں گے؟ ہمارے باس کے سڑیل بیٹے عرشمان صاحب"؟"

"پتا نہیں۔ مگر اتنا ضرور پتہ ہے کہ بہت جلدی"۔

"مطلب کے صرف کچھ دن ہیں ہمارے مزے کے۔ پھر یہ سڑیل ہمارا باس بن جائے گا اور ہمیں دب کر رہنا پڑے گا ہے ناں؟"

"جی ۔ مگر مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے عرشمان سر سے کیونکہ وہ بہت اچھے انسان ہیں"۔

"تم تو بھئی چمچی ہو اس عرشمان سر کی"۔

"چمچی نہیں ہوں۔ بس عزت کرتی ہوں دل سے"۔

"وٹ ایوور"

"چلو اب تمہیں ایک اور کام دینا ہے"۔ 

"چلو"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو؟ اتنا بڑا دھوکہ؟ وہ بھی اپنی تین سال پرانی دوست کے ساتھ؟ تمہیں شرم نہیں آتی؟ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلتے ہوئے۔ اگر شادی اُس فاطمہ سے ہی کرنی تھی تو پھر مجھے پرپوز کیوں کیا تھا؟ کیوں میرے دل میں اپنے ساتھ شادی کے جذبات جگائے تھے؟ کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا؟ کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا؟ بولو !" وہ اسکے کلاس میں داخل ہوتے ہی سب کے سامنے روبرو ہو کر چیختے ہوۓ بولی۔

"عینا ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ میں تمہیں سب سمجھاتا ہوں"۔ اس نے اپنی صفائی دینے کی کوشش کی ۔

"مجھے نہ ہی کچھ سننا ہے اور نہ ہی سمجھنا۔ مجھے بس ایک سوال کا جواب چاہیے تم سے۔ کہ آخر کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا؟" 

"عرشمان تجھے کم از کم مجھے تو بتانا چاہیے تھا۔ اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تُو عینا کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کر سکتا ہے۔"حمزہ نے بھی ناراضگی ظاہر کی۔

"عینا ایسا کچھ نہیں ہے یار۔ ٹرسٹ می" اس نے دوبارہ کہا۔

"اچھا اگر یہ سب جھوٹ ہے تو پھر کیا فاطمہ جھوٹ بول رہی ہے؟ تم نے اس کے گھر کوئی رشتہ نہیں بھیجا؟ اور تم اس سے نکاح نہیں کرنے والے کیا؟" وہ اپنے غصے پہ قابو نہیں کر پا رہی تھی۔

"عینا دیکھو میری بات س۔۔۔۔۔۔"

"مجھے کچھ نہیں سننا۔ کچھ بھی نہیں۔ یہ بتاؤ کہ جو کچھ فاطمہ نے کہا وہ سچ ہے یا نہیں؟ ہاں یا نہ؟" عینا نے اسکی بات کاٹی۔

"عینا تم میری بات تو۔۔۔۔۔۔"

"ہاں یا نہ؟" وہ غضب کر بولی۔

"عینا یار۔۔۔۔۔"

"ہاں یا نہ"؟ اب کی بار وہ چیخ اٹھی۔

"ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔سچ ہے"۔ اس نے بمشکل کہا۔

عرشمان کا جواب سن کر عینا خاموش ہوگئی۔ غم کے چند آنسو اسکے رخسار پر بہہ نکلے۔ اور بنا کچھ کہے وہاں سے چلی گئی۔ نمرہ نے بھی اسکی پیروی کی مگر حمزہ اب بھی وہیں کھڑا عرشمان کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جو منہ لٹکا کر اپنا ماتھا مسل رہا تھا۔ عرشمان نے پھر سب  کی جانب دیکھا سب کھڑے اس کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔ اس نے غصے سے سر جھٹکا اور چلا گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عینا چپ ہو جاؤ میری جان ! میں نے تو تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ اسے کوئی محبت نہیں ہے تم سے۔ وہ تمہارے ساتھ دھوکا کر رہا ہے۔ بھلا ایسے اچانک کیسے محبت ہو جاتی ہے۔" سارہ نے اسے گلے سے لگایا۔

"آپی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ عرشمان میرے ساتھ یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر اسے محبت نہیں تھی تو پھر دعوی کیوں کیا محبت کا؟" اس نے آہیں بھرتے ہوۓ کہا۔

"دفع کرو اس بے وفا انسان کو۔ تم ریلیکس ہو جاؤ میری جان۔"

" میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گی۔ کبھی بھی نہیں"۔

"کرنا بھی نہیں چاہیئے "۔

"میں نے سوچ لیا ہے آپی"۔ وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولی۔

"کیا؟"

"کہ میں عادل سے منگنی کر لوں گی۔ میں اب بابا کو منع نہیں کروں گی۔"

"ہاں میری جان"۔

وہ پھر سے گلے لگ گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان بیٹا ! آج اتنی جلدی آگئے؟" عالیہ بیگم نے اسے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر سوال کیا۔

اور وہ کوئی جواب دیئے بغیر غصے سے سیڑھیاں پھلانگتا  ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

"عجیب ہے یہ لڑکا۔ لگتا ہے آج پھر کسی سے جھگڑا کرکے آیا ہے یقیناً۔" وہ خود سے مخاطب ہوئیں۔

"بیگم صاحبہ! آپ نے بلایا؟"

"ہاں کب کی آوازیں دے رہی تھی۔ تمہیں اب سنائی دیا ہے؟"

"معاف کیجیے گا بیگم صاحبہ۔ میں ڈرائنگ روم کی صفائی کر رہی تھی"۔ نسیمہ نے معصومیت سے جواب دیا۔

"اچھا ٹھیک ہے جاؤ عرشمان سے پوچھو اسے کوئی چیز چاہیے تو نہیں۔ صبح بھی ناشتہ کئے بغیر ہی چلا گیا"۔

"چھوٹے صاحب آ گئے کیا؟"

"ہاں ابھی آیا ہے"۔

"جی"۔

نسیمہ نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ اندر سے لاک تھا۔ وہ واپس نیچے آئی اور عالیہ بیگم کو بتایا۔

"بیگم صاحبہ ! چھوٹے صاحب نے دروازہ لاک کیا ہوا ہے"۔

"اچھا تم جاؤ میں خود دیکھتی ہوں اسے"۔

عالیہ بیگم نے قدم اس کے کمرے کی جانب بڑھائے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔

"عرشمان دروازہ کھولو بیٹا"۔

"موم پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔" وہ بیڈ پر بیٹھا ہوا غصے سے چلایا۔

"بیٹا مگر ہوا کیا ہے؟ صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تم نے اور یونیورسٹی سے بھی اتنی جلدی واپس آگئے ہو۔ مجھے نہیں بتاؤ گے کیا؟"

"موم میں نے کہا ناں جسٹ لیو می آلان"۔

"اچھا تم دروازہ تو کھولو"۔ وہ مسلسل دستک دے رہی تھیں۔

"آئی سیڈ لیو می آلان ! پلیز یار لیو می"! وہ چیخ کر بولا۔

عالیہ بیگم نے پھر مزید کوئی دستک نہ دی اور خاموشی سے واپس چلی گئیں ۔

اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور عینا کو کال کی۔ مگر عینا کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔ پھر اس نے غصے سے موبائل بیڈ پر پھینک دیا۔ اور خود سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اس کے ذہن میں بار بار عینا کا عکس آ رہا تھا۔ 

"میں کیا کروں؟ میں تمہیں چاہ کر بھی سچ نہیں بتا سکتا تھا یار۔ پر تم نے تو وعدہ کیا تھا نا کہ تم مجھ پر یقین کرو گی۔میں مانتا ہوں میری غلطی ہے لیکن میں نے تمہیں کوئی دھوکا نہیں دیا عینا۔ پلیز یار پلیز مجھ سے بات کرو۔ کاش تم نے ایک پل کے لیے رک کر میری بات سنی ہوتی۔ کاش !" کسی نے اسکے اندر سرگوشی کی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"چلیں ٹھیک ہے تو پھر اگلے مہینے کی بیس تاریخ کو ہم بارات لیکر آ جائیں گے۔" اقبال نے نور محمد سے کہا۔

"ٹھیک ہے انشاء اللّٰہ"۔

اقبال اپنی بیگم کے ساتھ اٹھا اور گھر سے باہر آتے ہی عرشمان کو کال ملائی۔

"ہممم بولو"۔

"کام ہو گیا ہے صاحب ! بیس تاریخ کو آپ کا نکاح ہے فاطمہ سے"۔

"گڈ"۔

"صاحب ہمارا انعام"؟

"بیس تاریخ کو ہی ملے گا۔ بے فکر رہو"۔

"جی شکریہ"۔

"سو مس فاطمہ گیٹ ریڈی فار عرشمان احمد ریوینج"۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر ابھری۔

اچانک اس کے فون کی دوبارہ رنگ ٹون بجی۔

"یاد آگئی ہے تجھے میری؟ مجھے تو لگا کہ تو نے بھی عینا کی طرح مجھے غلط سمجھ لیا؟" یہ حمزہ کی کال تھی۔

"عینا اور نمرہ چاہے کچھ بھی کہیں مگر میں تجھے بہت اچھے سے جانتا ہوں۔ مجھ سے کہیں مل یار تُو۔ اور بتا کیا چکر ہے؟ تُو کسے دھوکا دے رہا ہے؟"

"دھوکا نہیں دے رہا۔ بس بدلہ لے رہا ہوں"۔

"بدلہ؟ مگر کس سے اور کس چیز کا بدلہ؟"

"ہمممم۔ مس فاطمہ نور سے۔ اپنی بےعزتی کا بدلہ"۔

"مگر فاطمہ نے تو تیری کوئی بےعزتی نہیں کی۔ اس نے ایسا تو کبھی کچھ نہیں کہا"۔

"وہ میری انسلٹ ہی تھی حمزہ"۔

" پھر اس لحاظ سے تو عینا سے تجھے زیادہ بدلہ لینا چاہیے۔ کیونکہ عینا نے تیری آج زیادہ انسلٹ کی ہے سب کے سامنے

 وہ زیادہ چلائی ہے تجھ پر۔ غصہ کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ تُو اسے دھوکہ دے رہا ہے"۔

"مجھے اس پر غصہ نہیں آتا حمزہ۔ اس سے سچی محبت کی ہے میں نے۔ وہ چڑیل مجھے مارے گی بھی تو چپ چاپ سہہ لوں گا۔"

"واہ"۔

"ہمممممم"۔

"چل ٹھیک ہے پھر کل یونیورسٹی میں ہی ملتے ہیں"۔

"اوکے"۔

"باۓ"۔

"باۓ دوست"۔ اس نے فون رکھا اور خود چاند کی مدھم روشنی میں چہل قدمی کرنے لگا۔

"مگر یار اتنا بڑا دھوکہ؟" حمزہ نے چونک کر کہا۔

"ہمممم۔"

عرشمان اور حمزہ کینٹین میں بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے۔

"یار اس کی تو زندگی برباد ہو جائے گی"۔

"تو ہونے دے۔ آئی ڈونٹ کیئر"۔

"لیکن اس کی غلطی اتنی بڑی نہیں ہے عرشمان جتنی بڑی تُو اسے سزا دے رہا ہے"۔

"اسے بھی تو پتہ چلے نا کہ اس نے پنگا کس سے لیا تھا"۔

"مگر میرا یہی مشورہ ہے کہ تُو یہ سب مت کر۔ اور جب انکل آنٹی کو پتہ چلے گا کہ تُو نے کیا حرکت کی ہے تو تیری خیر نہیں"۔

"پہلی بات انہیں پتا نہیں چلے گا اور اگر پتہ چل بھی گیا تو نو پرابلم۔ بس تھوڑا بہت غصہ کریں گے ڈیڈ اور پھر سب نارمل ہوجائے گا"۔ اس نے بے پرواہ ہو کر کہا۔

"چلو یار میرے کہنے سے کیا ہوگا؟ کرنی تُو نے اپنی مرضی ہے"۔

"ہمممم"۔ وہ مسکرایا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا تم کل منگنی کر رہی ہو؟ وہ بھی اس عادل کے بچے سے؟" نمرہ نے ششدر ہو کر پوچھا۔

 پچھلے دو دن سے عینا یونیورسٹی نہیں جا رہی تھی۔وہ عرشمان کے دیے گئے دھوکے کی وجہ سے کافی پریشان تھی۔

 اور آج نمرہ اس سے ملنے اس کے گھر آئی تھی۔

"ہاں"۔

"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا"؟

"شاید"۔

"لیکن عینا تم تو عرشمان سے محبت کرتی ہو۔ پھر تم کسی اور سے منگنی کیسے کر سکتی ہو؟"

"تمہیں پتا ہے نمرہ؟ انسان سوچتا تو بہت کچھ ہے اور کرنا بھی بہت کچھ چاہتا ہے مگر دھیرے دھیرے اس کی زندگی کے معنی بدل جاتے ہیں اور پھر انسان وہ کرنے لگتا ہے جو نہ تو کبھی اس نے سوچا ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی چاہا ہوتا ہے"۔ اس کے لہجے سے اس کا درد صاف نمایاں ہو رہا تھا۔

"میں جانتی ہوں عرشمان نے بہت غلط کیا ہے۔ لیکن سب باتیں اپنی جگہ اور محبت اپنی جگہ ہوتی ہے یار۔"

"میں کسی ناپسندیدہ انسان کو قبول کر سکتی ہوں نمرہ مگر کسی دھوکے باز انسان کو نہیں۔"

"لیکن میرے خیال سے تمہیں اسے ایک موقع دے کر دیکھنا چاہیے۔ حمزہ سے میری بات ہوئی تھی اس نے کہا کہ عرشمان غلط نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو۔ اور تم جلد بازی میں کوئی غلط فیصلہ نہ کر لو۔ اس لیے  پلیز ایک بار پھر سوچ لو اچھے سے۔" وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی۔

"ایک ہی پتھر سے دو بار ٹھوکر کھانے کا شوق نہیں ہے مجھے نمرہ"۔

"مگر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ صیح ہو"۔

"تم میری دوست ہو یا اس کی؟" 

"آف کورس تمہاری ہوں یار"۔

"تو پھر اس کی صفائیاں پیش کرنے کی کوشش مت کرو۔ اگر وہ اتنا ہی سچا تھا تو مجھے بتا سکتا تھا۔ مگر اس نے سب کے سامنے اعتراف کیا کہ جو کچھ فاطمہ نے کہا وہ سچ ہے۔ یعنی وہ اس فاطمہ سے شادی کر رہا ہے؟"

"میں صفایاں نہیں دے رہی یار۔ مگر پتہ نہیں کیوں میرا دل نہیں مان رہا کہ عرشمان تمہارے کوئی ساتھ دھوکا کر سکتا ہے"۔

"یقین تو مجھے بھی نہیں آ رہا تھا مگر اب بہت اچھے سے آگیا ہے۔ اس نے جب خود اپنے منہ سے قبول کیا ہے کہ فاطمہ سچی ہے تو پھر گنجائش کیسی؟"

"مگر تم سوچ لو اچھے سے"۔

"میں نے بہت سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا ہے"۔

"تو کیا تم اس عادل کے ساتھ پوری زندگی گزار لو گی ہنسی خوشی؟"

"پتا نہیں"۔ اس نے معصومیت سے کہا۔

"میں جانتی ہوں کہ تمہیں اب بھی عرشمان سے محبت ہے۔ اور تم کہیں نہ کہیں اسے ہی پانا چاہتی ہو۔ بس باہر سے جھوٹ بول رہی ہو"۔

"میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے نمرہ؟ ہوتا تو وہی ہے جو ہماری قسمت میں لکھ دیا گیا ہے"۔

"مگر ہو سکتا ہے کہ تمہاری قسمت میں عرشمان ہی ہو"۔

"لیکن مجھے تو ایسا نہیں لگتا"۔

"رب سے اچھا گمان رکھا کرو عینا"۔

"وہ رب جس کے آگے میں نے کبھی سر نہیں جھکایا اسکی فرض کی گئی نمازیں نہیں پڑھیں۔ جس کی کبھی زندگی میں ایک بات بھی نہیں مانی۔ وہ رب جس نے مجھے آج تک میری خواہش کی ہر چیز عطا کی مگر میں مسلسل اس کی نافرمانی کرتی آئی۔ اس رب سے مانگوں بھی تو ایک انسان کو؟"

"تو پھر اس کے علاوہ اور کون دے سکتا ہے بھلا؟"

"وہ جو چاہے تو کیا نہیں ممکن؟

 وہ نہ چاہے تو کیا کرے کوئی !"

"بے شک"۔

"تو پھر یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے"؟

"ہاں"۔

"ٹھیک ہے اللّٰہ تمہارے نصیب اچھے کرے"۔

"آمین"۔

"شام تک یہیں یہی رکوں گی میں۔"

"تھینکس"۔

نمرہ ہلکا سا مسکرا دی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"وٹ؟ عینا کی انگیجمنٹ وہ بھی آج؟"

"ہاں یار مجھے تو ابھی کچھ دیر پہلے ہی پتہ چلا ہے"۔

"عینا ایسا کیسے کر سکتی ہے؟ وہ تو مجھ سے محبت کرتی ہے ناں پھر کسی اور سے منگنی کیسے کر سکتی ہے وہ؟"

"مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آرہی یار"۔ 

"تُو جائے گا منگنی میں؟"

"یار جانا تو نہیں چاہتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔"۔

"رک ایک منٹ عینا کی کال آرہی ہے مجھے"۔

"اوکے"۔

اس نے حمزہ کی کال کٹ کر کے آنا کی کال رسیو کی۔

"ہیلو"۔ عینا کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔

"بولو کیسے یاد آگئی آج میری؟"۔ 

"عرشمان آج شام کو میری منگنی ہے عادل سے۔ اور میں چاہتی ہوں کہ تم اس فنکشن میں ضرور آؤ پلیز"۔

"پورے دو دن تم نے مجھے بلاک کر رکھا اور آج تم مجھے کال کرکے یہ بتا رہی ہو کہ تم کسی اور سے منگنی کر رہی ہو؟" وہ چلّا کر بولا۔

"ہاں میری جان ! تم سے ہی تو سیکھا ہے کہ دل کیسے جلاتے ہیں تو اب جب تم پر آزمایا ہے تو اتنی تکلیف کیوں ہو رہی ہے؟" اس نے طنزیہ کہا۔

"میں نے کسی سے کوئی منگنی نہیں کی عینا"۔

"بالکل صحیح کہا منگنی نہیں کی بلکہ تم تو ڈائریکٹ نکاح کرنے جا رہے ہو"۔

"عینا میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہے میں فاطمہ سے کوئی نکاح نہیں کر رہا"۔

"اچھا تو پھر اس دن سب کے سامنے یونیورسٹی میں یہ کیوں کہا تھا کہ جو فاطمہ نے کہا وہ سب سچ ہے؟"

"کیونکہ اس وقت سب لوگ وہاں پر موجود تھے اور میں سب کو اپنی پلاننگ کے بارے میں نہیں بتانا چاہتا تھا"۔

"اچھا تو یہ بات ہے۔ مان لیا مسٹر عرشمان احمد کے آپ جو بھی کہہ رہے ہیں وہ سب سچ ہے۔ تو پھر مجھے ایک سوال کا جواب دیں۔ کیا آپ کے پیرنٹس اس کے گھر رشتہ لے کر نہیں گئے؟"

"نہیں"۔

"واہ ! اس کا مطلب کہ فاطمہ جھوٹ بول رہی تھی؟"

"نہیں فاطمہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی۔ میں نے اس کے گھر رشتہ بھیجا ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔"

"دیکھو عرشمان میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جسے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ میں بہت اچھے سے جانتی ہوں کہ تم مجھے صرف اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھسلانے کی کوشش کر رہے ہو۔ میں اتنی بیوقوف نہیں ہوں کہ تمہاری ان فضول باتوں میں آکر اپنا مستقبل خراب کر لوں۔ کبھی تم کہتے ہو کہ تمھارے پیرنٹس اس کے گھر رشتہ لے کر نہیں گئے اور دوسری طرف تم یہ کہتے ہو کہ فاطمہ سچ کہہ رہی ہے

 یعنی کہ تمہارا رشتہ اس کے گھر گیا ہے"۔

"تو اس کا مطلب ہے کہ تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے؟"

"نہیں"۔ اس نے ڈٹ کر کہا۔

"پھر ٹھیک ہے مس نورالعین سکندر آپ کریں اپنی مرضی"۔

"بالکل کرونگی"۔

"یعنی تم آج عادل سے منگنی کر کے رہو گی۔ ہممم؟"

"جی"۔

"تو پھر ٹھیک ہے کرو۔ مگر یاد رکھنا جب تمہارے سامنے حقیقت کھلے گی تو تمہارے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ سواۓ پچھتاوے کے"۔

"میں کبھی نہیں پچھتاؤں گی عرشمان۔ بے فکر رہو"۔

"چلو دیکھتے ہیں۔ مگر ایک بات میری کان کھول کر سن لو عینا۔ کہ اگر آج تم نے یہ منگنی کی تو سمجھ لینا کہ عرشمان احمد تمہارے لئے ہمیشہ کے لیے مر چکا ہے۔ آگے جو تمہارا دل چاہے کرو۔"

"ٹھیک ہے"۔ 

کال کٹتے ہی عرشمان نے فوراً حمزہ کا نمبر ملایا۔

"ہیلو"۔

"حمزہ میری بات دھیان سے سن"۔

"ہاں بول"۔

"تُو آج عینا کی منگنی میں ضرور جائے گا اور جیسے ہی اس کی منگنی ہو جائے تو فوراً مجھے کال کر کے بتا دینا"۔

"کیا مطلب؟ کیا کہا عینا نے تجھ سے؟"

"اس نے کہا ہے کہ وہ ہر صورت عادل سے منگنی کرے گی۔ اسے مجھ پر بھی یقین نہیں ہے اور میں اسے مزید اپنی کوئی صفائی نہیں دینا چاہتا۔ ایک انسان جو مجھے سننا ہی نہیں چاہتا میں آخر کیوں اس کے سامنے اپنے الفاظ ضائع کروں؟ وہ کرنا چاہتی ہے تو کر لے۔ بس تُو مجھے بتا دینا کہ اس نے منگنی کر لی ہے۔ مجھے ایک مان ہے اس پر کہ وہ کبھی بھی کسی اور سے منگنی نہیں کرے گی۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ میرے مان کی آخر کتنی لاج رکھتی ہے۔"

"یار تُو نہیں جائے گا منگنی میں؟"

"میں لاکھ بہادر صحیح حمزہ مگر مجھ میں اپنی محبت کو کسی اور کے نام ہوتا دیکھنے کی ہمت نہیں ہے"۔

"ٹھیک ہے یار تو ٹینشن نہ لے۔ انشاء اللّٰہ سب اچھا ہوگا"۔

"ہمممممم"۔ اس نے فون سائیڈ پر رکھا اور دھڑام سے بیڈ پر گر کر چھت کو تکنے لگا۔ 

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

یہ تقریبا رات کے آٹھ بجے کا وقت تھا گھر کے لان کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ سب مہمان آنا شروع ہو گئے تھے۔ سکندر شاہ بہت خوش دلی سے سب کا استقبال کر رہے تھے۔ آج عادل بھی کافی اچھے حلیے میں تیار ہو کر آیا تھا۔

سب کی آمد کرنے کے بعد مہرین نے عینا کا ہاتھ پکڑا اور اسے سب کے سامنے لے آئیں۔ پھر سکندر شاہ سے رسم شروع کرنے کی اجازت چاہی اور انگوٹھی نکال کر عادل کے ہاتھ میں تھما دی۔ عینا آج سلور کلر کی میکسی میں کھلے بالوں کے ساتھ بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔ میک اپ نے اس کے چہرے کے نقش کو مزید خوبصورت کرکے نمایاں کر دیا تھا۔

عادل نے عینا کا ہاتھ تھامنے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ مگر عینا گردن جھکائے خاموش کھڑی تھی اور اس کے ذہن میں مسلسل عرشمان کے خیالات آ رہے تھے۔ اسے بار بار عرشمان کے بولے گئے الفاظ یاد آ رہے تھے کہ اگر اس نے منگنی کی تو وہ ہمیشہ کیلئے اسکو کھو دے گی۔ دماغ کی رگیں جیسے پھٹنے کے قریب تھیں۔

تبھی اچانک سارہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اسے ہاتھ آگے بڑھانے کا اشارہ کیا۔ اس نے بمشکل کپکپاتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور انگوٹھی پہن لی۔ پھر عینا نے بھی واپس عادل کو انگوٹھی پہنائی۔ اب سب ان کی تصویریں بنانے میں مصروف تھے۔ مگر وہ تو جیسے اندر سے مر چکی تھی۔

فنکشن ختم ہونے کے فوراً بعد حمزہ نے عرشمان کو فون ملایا۔ جو بے چینی سے گھر کی چھت پر ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا۔ فون کی رنگ ٹون بجتے ہی اس نے فوراً کال ریسیو کی۔

"ہیلو جلدی بول حمزہ۔ بتا اس نے منگنی نہیں کی ناں؟"

مگر حمزہ کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اسے کیسے بتائے۔ کہ اس کی عینا اسکا مان توڑ چکی ہے۔ اس لیے وہ چپ رہا۔

"تُو کچھ بول کیوں نہیں رہا؟ یار پلیز بتا ناں"۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"حمزہ میں کچھ بکواس کر رہا ہوں۔ بتا مجھے اس نے منگنی کی یا نہیں"؟ وہ غصے سے چلایا۔

"ہ۔۔۔ہ۔۔۔۔ہا۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔کر۔۔۔۔۔۔لی"۔ اس نے بمشکل کہا۔

حمزہ کا جواب سنتے ہی وہ خاموش ہو گیا مگر اسکی پلکوں کے کنارے بھیگ چکے تھے۔ 

"ہیلو۔۔۔۔۔عرشمان۔۔۔۔۔۔؟"

مگر عرشمان نے کال کاٹ دی اور بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں آیا دروازہ لاک کیا اور فون اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔ پھر نیچے بیٹھ کر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائی اپنے گھٹنے کھڑے کئے ، اپنے دونوں بازو پر سر رکھ کر بچوں کی طرح رونے لگا۔ آج زندگی میں پہلی بار کسی نے اس کا مان توڑا تھا۔ آج سے تقریباً گیارہ سال پہلے آخری بار وہ اپنی دادی کی وفات پر ایسے رویا تھا۔ مگر محبت تو کبھی کسی پر رحم نہیں کھاتی۔

؎ میری کوئی ہے خطا تو ثابت کر

    ہوں برا تو برا ثابت کر

    تجھے چاہا ہے کتنا تُو کیا جانے

    چل میں بـے وفا ہی سہی ، تُو اپنی وفا ثابت کر۔۔۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان بیٹا کیا ہوا ہے؟ تم نے کل رات بھی کھانا نہیں کھایا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟" عالیہ بیگم نے اسکے ماتھے پہ ہاتھ لگایا۔

مگر وہ خاموشی کی دیوار بن کر لیٹا ہوا تھا۔

"عرشمان کیا بات ہے بیٹا؟ پریشان لگ رہے ہو بہت زیادہ؟"

"موم آج کے بعد یونیورسٹی نہیں جاؤں گا کبھی"۔

"کیوں؟"

"بس ایسے ہی"۔

"مگر پھر بھی بیٹا کوئی وجہ تو ہوگی ناں؟ مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو؟"

"موم کل عینا نے عادل سے منگنی کر لی ہے۔ اور میں دوبارہ اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا "۔

"کیا؟ منگنی؟"

"جی"۔

"لیکن سکندر بھائی صاحب نے ہمیں انوائٹ تک نہیں کیا؟"

"وہ آپ کو کیوں بلائیں گے موم؟ وہ اچھے سے جانتے ہیں کہ آپ اسے اپنی بہو بنانا چاہتی تھی۔ پھر وہ آپ کو بلا کر آپکو تکلیف نہیں دینا چاہتے ہوں گے۔" اس نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا ۔

"افسوس ہوا بہت مجھے"۔

"آپ کو صرف افسوس ہو رہا ہے موم۔ اور میرا دل اندر سے چیخ چیخ کر رو رہا ہے"۔

"ہاۓ میں صدقے"۔ عالیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکا سر اپنے سینے سے لگا لیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"یار اتنے دن ہو گئے ہیں یہ عرشمان یونیورسٹی کیوں نہیں آتا؟" نمرہ نے گراؤنڈ میں بیٹھے حمزہ سے پوچھا۔

"بس ایسے ہی۔ شاید اب وہ نہیں آئے گا کبھی"۔

"ایگزامز بھی نہیں دینے کیا اس نے "؟

"پتا نہیں"۔

"چلو شکر ہے اتنی شرم تو ہے اس میں کہ مجھے دھوکا دینے کے بعد نظریں ملانے کی ہمت نہیں ہورہی اسکی" عینا نے ٹونٹ مارا۔

"اس نے تمہیں کوئی دھوکا نہیں دیا عینا۔ جب تمہیں سب سچ پتہ چلے گا تو تمہارے پاس سوائے رونے دھونے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔"

"اوہ پلیز ! حمزہ تم تو رہنے ہی دو۔ تم تو چمچے ہو عرشمان کے"۔

"میں کسی کا چمچا نہیں ہوں۔ میں بس سچ کا ساتھ دے رہا ہوں"۔

"چلو دیکھتے ہیں۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون کتنا سچا تھا"۔

"بالکل"۔

"یار تم دونوں ایک دوسرے سے لڑنا تو بند کرو پلیز"۔ نمرہ نے چِڑ کر کہا۔

"میں تو بالکل خاموش ہوں بھئی"۔ عینا شائستگی سے بولی۔

"حمزہ ویسے تمہیں پتا تو ہوگا۔ کہ وہ پیپرز دینے آئے گا یا نہیں؟ یار صرف ایک ہفتہ رہتا ہے ایگزیمز سٹارٹ ہونے میں۔ پھر تیاری بھی تو کرنی ہے ناں"۔ نمرہ نے سوال کیا۔

"میری اس سے اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی یار۔ مگر  مجھے یقین ہے کہ وہ  پیپرز دینے ضرور آئے گا"۔

"اچھا"۔

پھر نمرہ نے عینا کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور تینوں کلاس روم کی طرف چل دیے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان"! 

"جی موم"۔ عالیہ بیگم کی آواز پر اس نے سگریٹ فوراً اپنے  پیچھے چھپا لی۔

"یہ کیا چھپا رہے ہو تم مجھ سے؟ دیکھاؤ"۔

"نہیں موم کچھ نہیں ہے"۔ وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

"مجھے سگریٹ کی سمیل آرہی ہے۔ تم سموکِنگ کر رہے تھے کیا؟" وہ اسے شکی نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔

"ن۔۔۔نہ۔۔۔۔نہیں تو"۔

عالیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکا بازو پکڑ کر زور سے کھینچا اور اس کے ہاتھ سے سگریٹ پکڑ لی۔

"یہ کیا ہے عرشمان؟ تم نے یہ نشہ کب سے شروع کر دیا؟" وہ غصے سے بولیں۔

"موم ایم سوری"۔

"کیا سوری ہاں؟ کب سے سگریٹ پینا شروع کی ہے تم نے؟"

"آ۔۔۔آ۔۔۔آج۔۔۔۔۔۔فرسٹ ٹائم پی ہے۔" وہ گردن جھکا کر بولا۔

"عرشمان ادھر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولو۔ کب سے پی رہے ہو؟ میں جانتی ہوں تم جھوٹ بول رہے ہو مجھ سے۔ سچ  سچ بتاؤ"۔

"جس دن سے عینا کی منگنی ہوئی ہے تب سے"۔

"کیا؟ تم اتنے دنوں سے سموکِنگ کر رہے ہو اور مجھے پتا ہی نہیں چلا؟"

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"عرشمان آج کے بعد میں تمہارے ہاتھ میں دوبارہ کبھی سگریٹ نہ دیکھوں۔ ورنہ میں تمہارے ڈیڈ کو بتا دوں گی اور وہ کتنے سٹرِکٹ ہیں یہ بات تم بہت اچھے سے جانتے ہو۔" وہ طمانیت سے بولیں۔

"لیکن موم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"بس مجھے اور کچھ نہیں سننا۔ میرے لاڈ پیار نے کچھ زیادہ ہی بگاڑ دیا ہے تمہیں۔ دن رات اب میری نظریں تم پر ہی رہیں گی۔ اور وہ کوئی دنیا کی آخری لڑکی نہیں تھی جس کے لیے تم مرے جا رہے ہو۔"

"اوکے"۔

"ہممممم۔ میں نسیمہ کے ہاتھ گانا بھیجواتی ہوں کھا لینا"۔

"اوکے"۔

عالیہ بیگم نے غصے سے سگریٹ ڈسٹ بین میں پھینکی اور دروازہ بند کر کے چلی گئیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ٹھیک ہے مہرین۔ اگلے مہینے کی بائس تاریخ بالکل بہتر رہے گی۔ ابھی مہینے کے شروع میں ہی عینا کے ایگزامز سٹارٹ ہو رہے ہیں۔ پیپرز سے فارغ ہو جاۓ تو تم اسے بیاہ کر لے جانا۔" 

"جی"۔ 

مہرین آج شادی کے دن لینے کے لئے ان کے گھر آئی ہوئی تھی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی جب عینا نے ان کی باتیں سنیں تو بنا سلام کیے ہی اپنے کمرے میں گھس گئی۔ دروازہ لگا کر بیگ زور سے اٹھا کر بیڈ پر پھینکا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں رواں ہوگئیں۔ آج اس سے بنا پوچھے ہی اس کی شادی بھی طے کر دی گئی تھی۔ اب وہ بس کچھ دن کی ہی مہمان تھی۔ جذبات میں آکر اس نے عادل سے منگنی تو کر لی تھی مگر اس کے دل میں اب بھی صرف عرشمان کی ہی چاہت تھی۔

یہ جو غلط فہمی کے پچھتاوے ہوتے ہیں ناں یہ دراڑیں سی ڈال دیتے ہیں۔ سوچوں میں بھی ، یادوں میں بھی اور یہاں تک کہ دل میں بھی۔ اور پھر رشتوں میں کمزوریاں تو تب پیدا ہوتی ہیں جب انسان غلط فہمی میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب بھی خود سے ہی تلاش کر لیتا ہے۔

؎ غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ

     کہا کچھ تھا ، وہ کچھ سمجھا 

     مجھے کچھ اور کہنا تھا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ارے واہ فاطمہ ! آج دیکھو تو اتنے دنوں بعد عرشمان احمد ملِک صاحب ہمارے کالج میں تشریف لائے ہیں۔ یعنی میرے جیجُو"۔ اس نے فاطمہ کو چھیڑا تو عرشمان کو آتا ہوا دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائی اور شرمانے لگی۔

"ہائے ! دوست کیسا ہے؟" حمزہ نے اسے گلے لگاتے ہوۓ پوچھا۔

"ٹھیک ہوں"۔ اس نے اس کے گلے سے لگتے ہوئے پیچھے کھڑی عینا کی جانب دیکھ کر کہا۔

"گُڈ"۔

"السلام علیکم عرشمان"۔ نمرہ مسکرا کر بولی ۔

"واعلیکم السلام"۔

عرشمان مسلسل عینا کی جانب دیکھ رہا تھا مگر وہ اسے نظر انداز کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھی۔

"پیپر کا سناؤ یار۔ آتا ہے آج پیپر یا نہیں؟" نمرہ نے سوال کیا ۔

"تمہیں پتا تو ہے عرشمان احمد ہمیشہ اپنے کانسیپٹ لکھتا ہے۔" وہ مسکرا کر بولا ۔

"ہاں اور تیرے اس اپنے کانسیپٹ میں بھی بہت ٹاپ کلاس کے نمبر آتے ہیں۔" حمزہ نے شرارتی انداز سے کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ تم دونوں کی تیاری کیسی ہے"؟

"بھئی میں تو ہمیشہ کی طرح تیرے آسرے پر آیا ہوں اور نمرہ میرے آسرے پر"۔ حمزہ ہنس دیا۔

"اوکے"۔ 

"کیسے ہو عرشمان؟" عینا نے سنجیدگی سے پوچھا۔

"بہت خوش !" وہ بھی آنکھیں ملا کر بولا۔ اور پھر فوراً ہال میں چلا گیا۔

اس نے دو تین سوال مکمل کرنے کے بعد عرشمان کی جانب دیکھا جو اندھا دھند پیپر لکھنے میں مصروف تھا۔

"ہاۓ ! اس کھڑوس کو کتنا پیپر آتا ہے ناں۔ ایسے لگ رہا ہے جیسے سارا حفظ کیا ہو اس نے۔ اور ایک میں ہوں جسے ایک دو سوالوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں آتا۔ کیا کروں اب میں؟اگر اس سے پوچھا تو سر پر چڑھ جائے گا۔ ویسے بھی وہ میرے بغیر بہت خوش ہے اسے کیا ضرورت ہے میری۔ اور اگر حمزہ سے پوچھا تو وہ تو خود اس کا چیٹر بنا ہوا ہے۔ سارے کا سارا اس کا دیکھ کر چھاپ رہا ہے۔ اور نمرہ سے تو پوچھ ہی نہیں سکتی وہ تو اتنی دور بیٹھی ہے۔ کیا کروں آخر؟ یہ نطاشہ کی بچی تو مجھے ایک لفظ بھی نہیں بتائے گی۔ نہ جانے ایسا کیوں لگتا ہے جیسے مجھے اپنی سوتن سمجھتی ہو۔ حالانکہ اب تو میں اس کی سوتن رہی ہی نہیں۔ لگتا ہے اب اس کھڑوس سے پوچھنا ہی پڑے گا اگر نہیں پوچھوں گی تو فیل ہو جاؤں گی۔ اور فیل ہو گئی تو گھر میں کوئی عزت نہیں رہے گی۔اور اگر عزت نہیں رہے گی تو پھر میں کیا کروں گی۔ سب کے طعنے تو میں بالکل نہیں سن سکتی۔ اُف خدایا میں کیا کروں؟" وہ بال پوائنٹ دانتوں میں اٹکا کر ادھر اُدھر سب کی جانب دیکھتے ہوۓ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔

"عرشمان !" اس نے آہستہ سے ساتھ والی چیئر پر بیٹھے عرشمان کو آواز دی۔ 

عرشمان نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو عینا نے معصوم سی شکل بنائی اور پھر بنا کچھ بولے واپس اپنے پیپر پر دیکھنے لگی۔ مگر عرشمان اس کی شکل دیکھ کر ہی سمجھ چکا تھا کہ آج اسے پیپر نہیں آتا۔

"چلو میڈم ! دیکھتے ہیں کہ آج تم اپنا مستقبل بچانے کے لئے مجھ سے ہیلپ لیتی ہو یا پھر اپنی انا سلامت رکھتی ہو"۔ وہ مسکرا کر سوچ رہا تھا۔

عینا نے پھر سے چپکے سے اسے دیکھنے کی کوشش کی اور اسے اپنے پیپر میں مصروف دیکھ کر منہ بسورنے لگی۔

تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ گزرنے کے بعد اب اسے اپنے پیپر کی بہت زیادہ فکر ہونے لگی تھی۔ کیونکہ کوئی بھی اسکی ہیلپ کرنے کو تیار نہیں تھا۔

اس نے پھر سے عرشمان کی جانب دیکھا اور ہلکی آواز میں اسے پکارا۔ عرشمان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

"ہیلپ چاہیے تمہاری۔ پیپر نہیں آتا مجھے۔ کر دو گے؟" وہ معصومانہ انداز میں گویا ہوئی۔

"پہلے کبھی انکار کیا ہے کیا؟ جو اب کروں گا؟" 

اس نے فوراً اپنی شیٹ اسکی جانب سیدھی کر دی۔ عینا نے جلدی جلدی اس کا پیپر کاپی کیا اور پھر اسے منہ چڑاتے ہوئے سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ 

حال سے نکلنے کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ مگر اس سے پہلے کے عرشمان کچھ کہتا عینا نے فوراً گیٹ کی طرف قدم بڑھا دئیے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج ان کا آخری پیپر تھا۔ پیپر ختم ہونے کے بعد حمزہ خوشی سے ناچتا ہوا ہال سے باہر آیا اور سب لڑکوں نے بھی اسکے ساتھ مل کر ڈانس شروع کر دیا۔ کافی ہنسی ٹھٹھے کا ماحول ہو چکا تھا۔ اور آج ان کا یونیورسٹی میں بھی آخری دن تھا پھر سب نے اپنے دوستوں سے الوداع چاہی اور ایک دوسرے کے گلے مل کر خوب روئے۔ عینا نے عرشمان کی جانب ایک الوداعی نظر  دوڑ آئی جس سے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ آج کے بعد شاید اسے کبھی نہیں دیکھ پائے گی۔ عرشمان دوستوں کے ساتھ مگن تھا پھر اسکی بھی اچانک جب عینا پر نظر پڑی تو وہ اس کے چہرے کے تاثرات سے اس کی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا تھا۔

"کیا ہوا ؟ آج اتنی حسرت بھری نگاہوں سے کیوں دیکھ رہی ہو مجھے؟" وہ اسکے قریب آکر بولا۔

"تم نے تو شاید مجھ سے کبھی محبت کی ہی نہیں اور جس سے کی وہ تمہیں حاصل ہونے جا رہی ہے۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ میں صرف اور صرف تمہارے ہاتھوں کا ایک کھلونا تھی۔ کاش کہ تم نے کبھی مجھے دل سے چاہا ہوتا تو میں ساری دنیا سے لڑ کر تمہارا ساتھ دیتی کبھی تمہیں نہ چھوڑتی۔ مگر تم کبھی نہیں جان سکتے کہ کتنا مشکل ہوتا ہے اس انسان کو الوداع کہنا جس کے ساتھ آپ اپنی پوری زندگی گزارنا چاہتے ہوں۔ کیونکہ تم نے کبھی اپنے پیار کو کھویا نہیں ہے۔" وہ اپنی نم آنکھوں سے بولی۔

"تم فقط ایک بار مجھ پر یقین کر کے تو دیکھتی عینا۔ کاش تم نے کبھی عادل سے منگنی نہ کی ہوتی۔ کاش کہ تم نے بھی میری بات پر یقین کیا ہوتا۔ مگر اب بھی کچھ نہیں بگڑا صرف منگنی ہوئی ہے جو ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ ابھی بھی وقت ہے عینا۔ ہاں میں نے کہا تھا کہ اگر تم نے منگنی کرلی تو سمجھ لینا کہ میں تمہارے لئے ہمیشہ کے لئے مر گیا۔ مگر آج پہلی بار عرشمان احمد کسی کے لیے اپنی زندگی کے اصول بدل رہا ہے۔ میں تمہیں ایک اور موقع دیتا ہوں صرف ایک بار میرا ساتھ دے دو۔ صرف ایک بار ہاں کر دو۔ میں ساری دنیا سے لڑ کر تمہیں اپنا بناؤں گا۔ صرف ایک بار کہہ دو کہ تمہیں مجھ پر یقین ہے میں تم سے وعدہ کرتا ہوں۔ میں تمہارا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ چاہے مجھے پھر کچھ بھی کرنا پڑے۔ مگر میں تمہیں حاصل کر کے رہوں گا۔"

"اور تم بھی فقط ایک بار کہہ دو کہ فاطمہ جھوٹ بول رہی تھی"۔

"نہیں فاطمہ جھوٹ نہیں بول رہی تھی لیکن۔۔۔۔۔۔۔"

"بس اب کچھ نہیں سننا عرشمان۔ بس کافی ہے"۔ وہ اسکی بات کاٹتے ہوۓ بولے۔

"لیکن یار پوری بات تو سن لو"۔

"نہیں"۔ وہ روتی ہوئی چلی گئی۔ اور جاتے ہوئے ایک بار بھی پلٹ کر اس کی جانب نہیں دیکھا۔

دن گزرتے گئے اور آج بیس تاریخ تھی۔ آج عرشمان کا فاطمہ سے نکاح تھا۔ گھر میں زور و شور سے شادی کی تیاریاں چل رہی تھی۔ نور محمد نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر انتظام کیا۔ مہمانوں کی آمد بھی ہونی شروع ہو گئی تھی۔ فاطمہ آج سرخ رنگ کے جوڑے میں دلہن بن کر انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ وہ دل سے اس رشتے کے لئے خوش تھی۔ مگر ہماری حد سے زیادہ خوشیوں کو بھی اکثر کسی کی نظر لگ جاتی ہے۔ اپنے آنے والے وقت سے بالکل بے خبر وہ دل ہی دل میں عرشمان سے بے پناہ محبت کرنے لگی تھی۔ کیونکہ آج وہ اس کا محرم بننے جا رہا تھا۔ 

سب انتظامات ہو چکے تھے اور اب برات کے آنے کا انتظار ہو رہا تھا۔ مگر وقت گزرتا جا رہا تھا اور ابھی تک بارات نہیں آئی تھی۔ بالآخر نور محمد نے اقبال کو کال ملائی مگر اسکا نمبر بند جا رہا تھا۔ پھر مسلسل ناکامی کے بعد انہوں نے عرشمان کا نمبر ٹرائی کیا تو وہ بھی بند تھا۔ سب کے چہرے پر مایوسی چھانے لگی تھی۔ لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کرنی شروع کر دی تھی۔ مگر نور محمد ان سب باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بار بار عرشمان اور اقبال کا فون ملا رہے تھے۔

ادھر دوسری طرف عینا نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ اسے مسلسل یہی سوچ تکلیف دے رہی تھی کہ آج اسکا عرشمان کسی اور سے نکاح کرنے جا رہا ہے۔ دو دن بعد اسکی بھی شادی تھی مگر اسکے چہرے پر کوئی رونق نظر نہیں آتی تھی۔ نمرہ کے علاوہ اس نے کسی کو بھی اپنی شادی کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ عرشمان بھی اسکے نکاح سے بالکل بے خبر تھا۔ سارہ کے لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ اسے کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا حوصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ بھی اس بات سے بالکل انجان تھی کہ آنے والے وقت میں اسے مزید کتنا رونا تھا۔

سارا دن گزر گیا اور اب مغرب کی نماز کا وقت ہونے والا تھا۔ نور محمد نے کچھ لوگوں کو عرشمان کے گھر بھی بھیجا۔ مگر گارڈ نے انہیں اندر نہ جانے دیا اور دروازے سے ہی واپس موڑ دیا۔ فاطمہ کے چہرے کی خوشی بھی اب ماند پڑنے لگی تھی۔ اس نے اپنی تمام دوستوں کو کمرے سے باہر بھیج دیا اور خود جائے نماز بچھا کر رونے لگی۔ جبھی اچانک اسکا فون بجا۔ اس نے جائے نماز سمیٹا اور بھاگ کر فون اٹھایا تو یہ ایک اجنبی نمبر تھا۔ اس نے نا جانے کیوں آج ایک انجان نمبر سے کال رسیو کی مگر کچھ نہ بولی۔

"ہیلو ! فاطمہ ہو ناں؟" یہ عرشمان کی کال تھی۔

"ج۔۔۔ج۔۔۔۔جی"۔ وہ بمشکل بولی۔

"کیسی ہو؟"

"آ۔۔۔آپ۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔۔کہاں ہیں؟ ابھی تک بارات لیکر کیوں نہیں آۓ؟ سب انتظار کر رہے ہیں ابا بھی بہت پریشان ہیں۔" وہ پہلی بار آج کسی نامحرم سے سوال کر رہی تھی۔

"کیوں کیا ہوا؟ اتنی جلدی تھک گئے انتظار کر کے؟"

"ک۔۔۔ک۔۔۔۔۔ک۔۔۔۔کیا مطلب؟"

"مطلب یہ مس فاطمہ نور کہ عرشمان احمد کوئی بارات لے کر نہیں آرہا۔ میں تم سے کوئی شادی نہیں کر رہا۔ اپنے ابا کو جا کر بتا دو کہ وہ میرا مزید انتظار نہ کریں۔" وہ سنجیدگی سے بولا۔

"آ۔۔۔آ۔۔۔۔آپ مذاق کر رہے ہیں ناں؟" اس نے لرزتے ہوۓ پوچھا۔

"نہیں بالکل بھی نہیں۔ اور تمہیں کیا لگتا ہے مس فاطمہ نور کہ عرشمان احمد ملِک تم جیسی دو ٹکے کی لڑکی سے شادی کرے گا؟ جس نے سب کے سامنے مجھے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ میں اسے پسند نہیں ہوں۔ تمہیں کیا لگتا ہے میں اتنا بے وقوف ہوں کہ پھر بھی تمہیں پسند کروں گا؟ اور تم سے شادی کرنے کا سوچوں گا؟" وہ مسکرایا۔

"آ۔۔۔۔آ۔۔۔۔آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ دیکھئے ابا بہت پریشان ہو رہے ہیں۔ آپ کو مجھ پر جتنا غصہ نکالنا ہے نکاح کے بعد نکال لیجئے گا۔ میں چپ چاپ سن لوں گی۔ سب کچھ سہہ لوں گی۔" وہ روتے ہوۓ بولی۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تم سے نکاح کروں گا؟ارے ذرا خود کو شیشے میں دیکھ تو لو۔ تم کس اینگل سے میرے قابل لگتی ہو؟"

"دیکھیں میں نے کہا ناں۔ پلیز آپ اس وقت جلدی آجائیں۔باقی سب باتیں بعد میں کریں گے۔"

"میں نے کہا کہ میں نہیں آؤں گا۔ کبھی بھی نہیں آؤں گا۔ اور تمہیں ایک اور سچ بتاؤں میں مس فاطمہ نور؟ جو لوگ تمہارے گھر میرا رشتہ لے کر آئے تھے وہ میرے پیریںٹس تھے ہی نہیں۔ فقط انہیں پیسوں کا لالچ دے کر اپنے فرضی ماں باپ بنا کر میں نے تمہارے گھر بھیجا تھا۔ تاکہ تم سے شادی کا ناٹک کر کے تمہارے گھر والوں کو نکاح کے لئے تیار کر سکوں اور پھر عین موقع پر برات ہی لے کر نہ جاؤں۔ ورنہ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ عرشمان احمد ملِک کی بارات اس جیسے چھوٹے سے گھر میں آۓ گی؟"

"میں جانتی ہوں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ کو مجھ پر غصہ ہے ناں تو آپ جی بھر کر اپنا غصہ مجھ پر نکال لیجئے گا۔ مگر میری غلطی کی سزا میرے ماں باپ کو مت دیں پلیز"۔

"عرشمان احمد سب کچھ بھول سکتا ہے فاطمہ ! مگر اپنی بےعزتی نہیں"۔

"میں آپ سے معافی مانگتی ہوں اس کی۔ پلیز اب مان جائیں اور آجائیں بارات لے کر"۔ وہ روہانسی ہوئی جا رہی تھی۔

"چلو ٹھیک ہے۔ مگر میری ایک شرط ہے"۔

"کیسی شرط؟ میں آپ کی ساری شرطیں ماننے کے لیے تیار ہوں"۔

"یہ ہوئی نہ بات"۔

"جی بتائیں"۔

"تم مجھ سے ویڈیو کال پر ہاتھ جوڑ کر معافی مانگو گی اور  بھیک مانگو گی کہ میں تم سے شادی کر لوں۔ بولو منظور ہے؟"

"لیکن۔۔۔۔۔۔"

"دیکھو زیادہ وقت نہیں ہے تمہارے پاس۔ آلریڈی برات کافی لیٹ ہو چکی ہے"۔

"ٹھ۔۔۔۔ٹھ۔۔۔۔ٹھی۔۔۔۔ٹھیک ہے"۔

"ہمممم۔ جلدی کرو"۔

اس نے فورا عرشمان کو ویڈیو کال ملائی۔

"میں آپ سے معافی مانگتی ہوں عرشمان۔ جو کچھ میں نے اس دن کہا اس سب کے لیے پلیز آپ مجھے معاف کر دیں۔ اور مجھ سے شادی کرلیں۔ پلیز میں آپ سے بھیک مانگتی ہوں۔ پلیز آپ مجھ سے شادی کرلیں۔" اس نے روتے ہوۓ ہاتھ جوڑ دئیے۔

"ویسے بہت اچھی لگ رہی ہو آج"۔ وہ ہنس کر بولا۔

"اب پلیز آ جائیں جلدی"۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ ارے تم کتنی پاگل ہو فاطمہ تم بھول گئی کہ میں نے تم سے کیا کہا تھا تم مجھ سے شادی کی بھیک مانگو گی کہ میں تم سے شادی کر لوں۔ مگر اس دن میں تمہیں ایسی ٹھوکر مار کر جاؤں گا کہ تم کسی کو بھی منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گی۔ پھر تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ میں تمہیں اپنا لوں گا؟ جاؤ جا کر بتا دو اپنے والد کو کہ وہ میرا مزید انتظار نہ کریں اور تمہیں کسی بھی ایرے غیرے کے ساتھ اپنی عزت رکھنے کے لئے بیاہ دیں۔ تمہیں ایک اور سچ بتاؤں میں فاطمہ؟ میں نے تم سے شاید کبھی محبت کی ہی نہیں۔ شاید وہ ایک وقتی جذبہ تھا جو اسی وقت ختم ہو گیا جب تم نے مجھے ٹھکرایا تھا۔ میں نے اسی وقت قسم کھائی تھی کہ تم سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لے کر ہی رہوں گا۔ اور دیکھو میں نے اپنا بدلہ لے لیا۔ بہت مان تھا ناں تمہیں خود پر کہ تم کبھی کسی سے محبت نہیں کرو گی۔ مگر آج دیکھو تم عرشمان احمد کے سامنے اپنی محبت کی بھیک مانگ رہی ہو۔ کہا تھا ناں میں نے فاطمہ کہ تم نے غلط بندے سے پنگا لے لیا ہے۔ آئی ہوپ ! تمہیں یقین ہوگیا ہوگا اور بہت اچھے سے سبق بھی یاد ہوگیا ہوگا کہ دوبارہ عرشمان احمد سے پنگا بھول کر بھی مت لینا۔ اور ایک بات اور کہ میں نورالعین سے محبت کرتا ہوں اور تم سے شادی صرف اور صرف ایک ڈرامہ تھا۔ تمھیں سبق سکھانے کے لئے۔ باقی نکاح تو میں عینا سے ہی کروں گا۔ پھر چاہے مجھے اس کے لئے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اب رؤ بیٹھ کر ساری زندگی۔ خدا حافظ"۔

اب اس میں مزید کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی اس لیے کال کٹتے ہی موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ عین اسی وقت اس کے ابا کمرے میں آئے۔

"فاطمہ! بیٹا تمہاری تو کوئی بات نہیں ہوئی عرشمان سے؟ پوچھو اس سے کب تک آئیں گے وہ لوگ؟"

"وہ نہیں آئیں گے ابا"۔ وہ ساکت کھڑی سسکیاں لے رہی تھی۔

"کیا مطلب نہیں آئیں گے؟ "

"ابا عرشمان مجھ سے بدلہ لے رہا تھا اپنی بےعزتی کا۔ اس کی ابھی مجھے کال آئی تھی۔ اور جو ہمارے گھر رشتہ لے کر آئے تھے وہ اس کے والدین تھے ہی نہیں۔ وہ کبھی بارات لیکر نہیں آئے گا کیونکہ اس کا بدلہ پورا ہوچکا ہے۔" اس نے ناجانے کیسے حوصلہ بلند کرکے سب کچھ بول دیا۔

فاطمہ کی بات ختم ہوتے ہیں اسکے ابا فوراً زمین پر گر گئے۔ 

"ابا۔۔۔ابا۔۔۔۔ابا"۔ وہ زور سے چیخی۔

فاطمہ کی آواز سن کر سب کمرے میں آۓ اور اس کے ابا کو  ایمبولینس بلوا کر ہسپتال شفٹ کر دیا گیا۔ اس نے اپنی ساری چوڑیاں توڑ دی اور زیورات اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر پھینک دیئے۔ 

نور محمد کی حالت کافی تشویش ناک تھی۔ بیٹی کا غم باپ کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ اگر باپ کا بس چلے تو اپنی بیٹی کی زندگی سے سارے کانٹے چن کر پھول بچھا دے۔

"ڈاکٹر صاحب ! چچا جان ٹھیک تو ہو جائیں گے ناں؟" سیف الرحمن نے ڈاکٹر کی جانب دیکھ کر پوچھا۔

سیف الرحمن نور محمد کا بھتیجا اور عالم تھا۔ اس نے کبھی کسی غیر عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ نور محمد بھی اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور آج ہسپتال میں بھی وہی انہیں لے کر آیا تھا۔ 

"ایم سوری انکی حالت کافی خراب ہے۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ ان کا بچنا کافی مشکل ہے مگر ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔ آپ میں سے سیف الرحمن کون ہے؟"

"جی میں ہوں"۔

"آپ آئیں اندر۔ وہ آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں"۔

"جی"۔

سیف نے ڈاکٹر کی پیروی کی مگر فاطمہ اور اس کی ماں کا رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔

"جی چچا؟" وہ نور محمد کا ہاتھ پکڑ کر بولا۔

"بیٹا ! شاید میں مزید زندہ نہ رہ سکوں۔ میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں مگر اپنی بیٹی فاطمہ کا غم مجھ سے برداشت نہیں ہوگا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کے لئے ایک غلط انسان کا انتخاب کر لیا۔ کاش کہ میں نے فاطمہ کے لئے تمھارا انتخاب کیا ہوتا تو آج مجھے یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔ میں ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کروں گا جن کی وجہ سے میری بیٹی کی زندگی خراب ہوئی۔ بیٹا میں پہلی بار زندگی میں تم سے کچھ مانگ رہا ہوں۔ کیا تم مجھے دو گے؟"

"حکم کریں چچا"۔

"بیٹا کیا تم میری بیٹی فاطمہ سے شادی کرو گے؟"

سیف الرحمن خاموش کھڑا حیرانگی سے نورمحمد کی جانب دیکھتا رہا۔

"بتاؤ بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔کیا۔۔۔تم۔۔۔۔۔۔۔" انہیں پھر سے دل پر ایک جھٹکا سا لگا۔ 

"جی۔۔۔جی۔۔۔ چچا"۔ اس نے مضبوطی سے نور محمد کا ہاتھ تھاما۔

"میری بیٹی کا۔۔۔۔۔۔بہت بہت خیال رکھنا۔ خوش رہو۔۔۔۔۔۔می۔۔۔میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ اسے پیار دے کر بولتے ہوۓ اچانک سے خاموش ہوگئے اور انکا بازو بیڈ کے ساتھ لٹک گیا۔

"چچا۔۔۔۔چچا۔۔۔۔۔چچا۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر دیکھیں ناں چچا کو کیا ہوا؟" سیف نے چلا کر کہا۔

"ایم سوری۔۔۔۔۔ہی ایز نو مور"۔ ڈاکٹر نے انہیں چیک کرتے ہوئے بتایا۔

سیف الرحمان بمشکل قدم لڑکھڑاتا ہوا وارڈ سے باہر نکلا۔ فاطمہ اسے دیکھ کر سکتہ رہ گئی۔

محض تھوڑی دیر بعد ہی نور محمد کے چہرے پر سفید کپڑا ڈال کر انہیں سٹریچر کے زریعے باہر لایا گیا۔ لاش دیکھ کر فاطمہ نے ایک زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے وہ چابی گھماتا ہوا گھر کے لاؤنج میں داخل ہوا۔ سامنے کھڑے احمد ملِک اور عالیہ بیگم غصے سے اسے گھور رہے تھے۔

"کیا ہوا؟ آپ دونوں مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟" وہ قریب آکر بولا۔

تو احمد ملِک نے ایک زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا۔

"شرم آنی چاہیے تمہیں۔ کیا یہ دن دیکھنے کے لئے پیدا کیا تھا ہم نے تمہیں؟ ارے ! مجھے تو شرم آرہی ہے تمہیں اپنا بیٹا کہتے ہوئے"۔ انہوں نے غضب ناک ہو کر کہا۔

"کیا کِیا ہے میں نے ڈیڈ؟ کیوں مارا ہے آپ نے مجھے؟" وہ بھی چیخ کر بولا۔

"کسی کی بیٹی کی زندگی برباد کر کے تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ تم نے کیا ہی کیا ہے؟ شکر کرو کہ میں نے صرف تمہیں ایک تھپڑ مارا ہے ورنہ میرا تو دل چاہتا ہے کہ تمہیں دھکے دے کر گھر سے نکال دوں۔" 

"کس کی زندگی برباد کی ہے میں نے؟" 

"فاطمہ کی۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ مجھے کچھ پتہ نہیں چلتا؟ تمہارا باپ ہوں میں۔ تمہاری ہر حرکت پر میری نظر ہوتی ہے۔ میں کچھ دن کام میں مصروف کیا ہوگیا تو تم نے سوچا کہ تم کچھ بھی کرو گے اور مجھے کوئی خبر ہی نہیں ہوگی؟ تمہیں اندازہ بھی ہے؟ تمہاری اس حرکت کی وجہ سے ایک انسان کی جان چلی گئی۔"

"کس کی جان؟"

"اس لڑکی کے باپ کا صدمے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے۔"

"وٹ؟" اس نے چونک کر کہا۔

"ہاں اور اس اقبال اور اس کی بیگم کو بھی میں آج ہی پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔ کتنے پیسے دیے تھے تم نے انہیں یہ گھٹیا حرکت کرنے کے لئے؟"

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے"۔

"دو لاکھ پہلے دیے تھے اور باقی کے آٹھ لاکھ آج دئیے ہیں۔"

"واہ ! باپ کے پیسے کیا خوب کارناموں میں اڑا رہے ہو تم۔ کیا میں اس لئے کماتا ہوں کہ تم اس پیسے کا ناجائز استعمال کر کے دوسروں کی زندگیاں خراب کر سکو؟"

"ڈیڈ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس کے باپ کی ڈیتھ ہو جاۓ گی"۔

"تو اب لگ گیا ناں پتہ؟ سوچو اگر اس کے گھر والوں نے تم پر کیس کر دیا تو کہیں منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے ہم"۔

"کیس کر دیا تو پیسہ دے کر منہ بند کروا دیں گے"۔

"واہ ! دیکھ رہی ہو عالیہ اپنے بیٹے کا ڈھیٹ پن؟ اسے ذرا سا بھی احساس نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے ایک انسان اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔" احمد ملِک نے عالیہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا۔

مگر آج عالیہ بیگم خاموش کھڑی رہیں۔

کل اس کے باپ کا جنازہ ہے اور اس کے جنازے میں شریک ہونے کے بعد تم اس کے سب گھر والوں سے معافی مانگو گے۔" احمد ملِک گرم لہجے میں بولے۔

"وٹ؟ معافی؟ اور میں؟ وہ بھی اس فاطمہ سے؟  نیوور"

"ہاں ! تاکہ وہ تمہیں معاف کر دے"۔

"مگر مجھے اس کی معافی نہیں چاہئے ڈیڈ"۔

"تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر تمہیں اس سے معافی مانگنی تو تم یہ گھر چھوڑ کر جا سکتے ہو"۔

"احمد آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ رات کے اس وقت اپنے جوان بیٹے کو خود گھر سے باہر کون نکالتا ہے؟" عالیہ بیگم نے اپنی خاموشی توڑی۔

"بس ! اب کوئی بھی کچھ نہیں بولے گا۔ میں اپنا فیصلہ سنا چکا ہوں۔ اب تم بتاؤ عرشمان کہ تم معافی مانگو گے یا نہیں؟" انہوں نے سختی سے پوچھا۔

"کبھی نہیں"۔ وہ ڈٹ کر بولا۔

"تو پھر تم جا سکتے ہو"۔

"اوکے"۔ اس نے اپنے کندھے اُچکاۓ اور باہر کی جانب قدم بڑھا دئیے۔

"احمد آپ کیا کر رہے ہیں؟ روکیں اسے پلیز۔ میری خاطر"۔ عالیہ بیگم نے منت کی۔

"رُکو !" احمد ملک کی آواز پر اس نے اپنے بڑھتے قدم وہیں جما دیے اور واپس پلٹ کر دیکھا۔

"گاڑی کی چابی ادھر رکھو۔ تم گاڑی لے کر نہیں جاؤ گے"۔

عالیہ بیگم نے حیرانگی سے احمد ملِک کی جانب دیکھا۔

"یہ پڑی آپکی چابی"۔ اس نے غصے سے چابی نکال کر فرش پر پھینک دی۔

پھر اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے پیسے نکالے اور ہوا میں اچھال دئیے۔

"آپ کی گاڑی تو کیا آپ کا ایک روپیہ بھی اپنے ساتھ لے کر نہیں جاؤں گا میں۔ بہت ناز ہے ناں ڈیڈ آپ کو اپنے پیسے پر۔ تو میں بھی دیکھوں گا کہ بیٹے کے بغیر آپ اس پیسے کا کیا کریں گے۔ ایک پُھوٹی کوڑی بھی نہیں چاہیے مجھے آپ کی دولت میں سے۔" وہ غصے سے چلا کر بولا اور پھر چلا گیا۔ عالیہ بیگم نے احمد ملِک کی بہت منتیں کیں مگر شاید وہ اپنے فیصلے پر ڈٹ چکے تھے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا؟عرشمان بدلہ لے رہا تھا فاطمہ سے؟ اس کا مطلب وہ سچ کہہ رہا تھا؟ اس نے میرے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کیا؟" وہ پاس بیڈ پر بیٹھی نمرہ سے مخاطب تھی۔

"ہممممم۔"

"یہ میں نے کیا کر دیا؟ وہ مجھے سمجھاتا رہا مگر میں نے اس کی ایک نہیں سنی" اس نے رونا شروع کر دیا۔

"مگر اب تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا عینا۔ پرسوں تمہاری شادی ہے۔ اور تم نے اسے بتایا تک نہیں اپنی شادی کا۔ اور الٹا مجھے بھی منع کردیا کسی کو بتانے سے۔"

"یاخدا ! یہ میں نے کیا کر دیا؟" اس نے اپنا سر پکڑتے ہوۓ کہا۔

"عینا اب تو تمہیں یقین ہو گیا ناں کہ عرشمان سچا تھا۔ وہ صرف تم سے ہی محبت کرتا ہے۔ اس نے تمہارے ساتھ کوئی دھوکا نہیں کیا۔ تو اب تم انکار کر دو اس شادی سے۔"

"نہیں میں ایسا نہیں کرسکتی نمرہ۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہی میں کیا کروں۔"

"کیوں نہیں کر سکتی؟"

"یار میرا مایوں ہوچکا ہے۔ کل میرے ہاتھوں پر کسی اور کے نام کی مہندی بھی لگ جائے گی۔ اور پرسوں میرا نکاح ہے۔ سب کو پتہ ہے۔ سب مہمانوں کی آمد ہو چکی ہے۔ سب کے سامنے میں کیسے جواب دے سکتی ہوں؟ بابا کبھی انکار نہیں کریں گے۔ وہ لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے؟"

"تو پھر ایک اور آئیڈیا ہے میرے پاس"۔

"کیا؟"

"تم بھاگ جاؤ عرشمان کے ساتھ"۔

"کیا؟" وہ چونکی۔

"ہاں یار ! اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ انکل کبھی مانیں گے نہیں اتنی جلدی۔ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔"

"مگر۔۔۔۔۔"

"مگر وگر کچھ نہیں۔ تم بس سامان پیک کرو۔ باقی میں حمزہ سے بات کرکے تمہیں بتاتی ہوں کہ عرشمان کا کیا فیصلہ ہے"۔

"اوکے"۔ اس نے آنکھوں میں آنسو لیئے حامی بھر دی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا بکواس ہے یہ؟" وہ غررایا۔

"بکواس نہیں کر رہا۔ قسم سے سچ کہہ رہا ہوں۔ مجھے بھی ابھی ابھی پتا چلا ہے نمرہ سے۔ اس نے کہا کہ عینا نے اس کو منع کیا ہوا تھا بتانے سے۔ اب جب تمہارے بدلے والی بات عینا  کو پتہ چلی ہے تو وہ تم سے شادی کرنا چاہتی ہے۔"

"نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتا حمزہ ! عینا اتنی بڑی بات مجھ سے کیسے چھپا سکتی ہے"۔

"یہی سچ ہے میرے دوست"۔ اس نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"یار تُو بکواس کر رہا ہے۔ میری عینا کبھی بھی میرے علاوہ کسی اور کو قبول نہیں کر سکتی"۔اس نے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکا۔

"جب وہ منگنی کر سکتی ہے تو شادی بھی کر سکتی ہے میرے بھائی"۔

"لیکن۔۔۔۔۔۔!" وہ مزید بولنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور حمزہ کے گلے لگ کر پھوٹ کر رو دیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

؎ آپکا ذکر ، آپکی باتیں ، سب کچھ آپکا۔۔۔۔

     میرے ذہن میں اب اس کے سوا اور کچھ بھی نہیں

     صرف سسکیاں ، آنسو اور صرف آہیں

      سب کچھ میرا 

      میرے لبوں پے اب اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔

      راہ یوں بدلی کے کچھ بھی نہ رہا 

      اور مجھ سے کچھ بھی نہ کہا !

      آپ نے سوچا تو ہوتا 

      آپ نے سوچا بھی نہیں جاتے جاتے !

      کیسے زندہ رہوں گی آپ کے بعد؟

      کون کہے گا مجھ سے کہ میں ہوں ناں

      کون رکھے گا میرے سر پر ہاتھ

      اب فقط ذہن میں یہ گونجتا ہے۔۔۔!

      آپ تھے تو سب میرا

      آپ نہیں تو سب آپکا

      اب بـے مول ، بـے رنگ مٹی کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔

      میں ایسے ہوں کہ نہ ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔

وہ اپنے باپ کی قبر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

"ابھی وقت نہیں تھا بابا جان ! آپ نے جلدی کی ہے جانے میں" الفاظ اب مزید اس کی زبان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں تھے۔

"بابا آپ کیوں چلے گئے مجھے چھوڑ کر؟ آپ کی بیٹی آپ کے بغیر کیسے رہے گی؟ کیسے لڑے گی اس دنیا سے؟مجھے تو آپ کے بغیر رہنا آتا ہی نہیں۔ لڑنا تو دور کی بات میں تو آپ کی انگلی پکڑے بغیر کھڑی بھی نہیں ہو سکتی"۔ اب اس نے سسکیاں لے کر رونا شروع کر دیا تھا۔

"فاطمہ"! سیف کی آواز پر اس نے اپنا سر قبر پر سے اٹھایا۔

"چلو ! بہت دیر ہو گئی ہے۔"

"ہممممم۔" اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور اسکا ہاتھ پکڑ کر چل دی۔ کیونکہ اب وہ اس کا محرم بن چکا تھا۔ نور محمد کے کفن دفن کے فوراً بعد ہی سادگی سے ان کا نکاح پڑھا دیا گیا اور نکاح ہوتے ہی فاطمہ نے سب سے پہلے اپنے بابا کی قبر پر جانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس نے بھی اپنے باپ کا فیصلہ سمجھ کر خاموشی سے ہاں میں بھر دی تھی۔

"فاطمہ!"

"جی"۔

"میں سوچ رہا ہوں کچھ دنوں تک ان امیرزادوں پر کیس کر دوں۔ جن کی وجہ سے چچا ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ تمہارا کیا خیال ہے؟"

"نہیں۔ میں اس دنیا کے لوگوں سے انصاف نہیں مانگوں گی۔ میں نے اپنا معاملہ رب پر چھوڑ دیا ہے۔ بے شک ! وہ بہترین انصاف کرنے والا ہے"۔

"لیکن فاطمہ پھر بھی اتنی آسانی سے انہیں کیسے جانے دو گی؟"

"اس دنیا کی عدالتیں مجھے انصاف نہیں دلا سکتی سیف۔ میں جانتی ہوں وہ بہت امیر ہے اس کا باپ رشوت دے کر سب کو چپ کروا دے گا۔ مگر خدا کی عدالت میں کوئی رشوت نہیں چلتی۔ وہ رب لے گا میرا بدلہ"۔

"ٹھیک ہے"۔

وہ اسے بازو سے پکڑ کر قبرستان کے باہر لے کر آیا اور پھر وہ دونوں اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج اس کی مہندی تھی۔ رسم ختم ہونے کے بعد اس نے اپنے کمرے کی طرف رخ کیا اور دروازہ لاک کر کے خوب روئی۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں پر لگی مہندی کو دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے  واش روم کے بیسن پر جا کر زور زور سے اپنے دونوں ہاتھ رگڑے اور مہندی اتارنے کی کوشش کرنے لگی۔ اچانک کھٹک کی آواز سن کر وہ فوراً واش روم سے باہر آئی۔ مگر اسے کمرے میں کوئی دکھائی نہ دیا۔ وہ جیسے ہی واپس واش روم کی جانب مڑی تو کسی نے پیچھے سے آ کر زور سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔

اس نے ہاتھ ہٹانے کی بہت کوشش کی مگر گرفت کافی مضبوط تھی اس لئے وہ ناکام رہی۔ کسی نے پھر زور سے اسے کندھوں سے پکڑ کر دیوار سے لگا دیا۔ اور پھر دھیرے دھیرے اپنا ہاتھ اسکے منہ سے ہٹایا۔ وہ پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے عرشمان کو دیکھ رہی تھی۔

"ت۔۔۔ت۔۔۔۔تم۔۔۔؟"

"شششششش۔۔۔۔!" اس نے منہ پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

"عرشمان تم یہاں؟۔۔۔۔۔۔ اس وقت۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے کمرے میں کیسے آئے؟" اس نے آہستگی سے پوچھا۔

"کھڑکی سے"۔ وہ مسکرایا۔

"تم یہاں سے چلے جاؤ۔ کسی نے دیکھ لیا تو قیامت آجائے گی۔"

"تو دیکھ لے"۔ اس نے قریب آکر کہا۔

"دیکھو عرشمان ! میں کوئی بھی تماشا نہیں چاہتی۔ پلیز چلے جاؤ یہاں سے"۔

"ٹھیک ہے۔ مگر تمہیں ساتھ لے کر ہی جاؤں گا"۔

"میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی"۔

"کیوں؟"

"بس ایسے ہی"۔

" یہ مہندی تم نے اس عادل کے لیے لگوائی ہے؟" اس نے اس کے ہاتھ پکڑ کر کہا۔

مگر عینا بنا کچھ بولے روتے ہوئے اسے دیکھتی رہی۔

"عینا ! تم صرف میری ہو۔ صرف اور صرف عرشمان احمد کی۔ سمجھی؟" وہ اسے گھورتے ہوۓ بولا۔

"میں بھی یہی چاہتی ہوں مگر۔۔۔۔۔۔"

"اب تو یقین آ گیا ناں کہ میں سچا تھا؟ مگر تم نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا عینا۔ تمہاری شادی کی تاریخ طے ہوئی اور تم نے مجھے ایک بار بھی بتانا گوارا نہیں سمجھا۔ کیا یہ تھی تمہاری محبت؟ یا شاید تم نے کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں؟"

"نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں تم سے بہت محبت کرتی ہوں عرشمان۔ اپنی جان سے بھی زیادہ"۔

"اگر اتنی ہی محبت ہے تو پھر چلو میرے ساتھ"۔

"نہیں عرشمان ! میں اپنے بابا کو ناراض نہیں کر سکتی"

"یار ہمارا نکاح ہو جائے تو اس کے بعد میں خود تمہارے ساتھ آؤں گا۔ اور ہم دونوں مل کر انکل سے معافی مانگ لیں گے۔ وہ باپ ہیں یار معاف کر دیں گے۔ اور رہی بات میرے پیریںٹس کی تو انہیں میں منا لوں گا کسی بھی طرح۔"

"عرشمان بات صرف ناراضگی کی نہیں ہے۔ میرے بابا کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ان کی بہت بےعزتی ہوگی۔ معاشرے میں ان کا ایک نام ہے اور میں اپنے بابا کا نام ڈوبنے نہیں دے سکتی"۔

"تو اس کا مطلب کہ تم عادل سے ہی شادی کرو گی۔ ہمممم؟"

"مجھے معاف کر دینا عرشمان!"

"تم جانتی ہو کہ عرشمان احمد کی لائف ڈکشنری میں معافی نام کا لفظ نہیں ہے"۔

"تم نے میری خاطر اپنی زندگی کے بہت سے اصول توڑے ہیں۔ پلیز ایک اور توڑ دو۔ مجھے معاف کر دینا یار میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتی۔" وہ روہانسی ہوئی جا رہی تھی ۔

"مگر تم نے تو میرا ساتھ دینے کی قسم کھائی تھی ناں؟ یاد ہے؟"

"ہاں یاد ہے لیکن ! چلنا بھی تو ماں باپ نے ہی سکھایا تھا۔"

عینا کے جواب پر وہ خاموش ہو گیا اور سر پکڑ کر ادھر اُدھر گھومنے لگا۔ پھر تھوڑی دیر بعد اس نے روتے ہوئے اس کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیئے۔

"پلیز عینا ! پلیز چلو میرے ساتھ۔ میں تمہیں ساری زندگی خوش رکھوں گا تم جو چاہو گی تمہیں وہی دوں گا۔ پلیز ایک بار میرا ساتھ دے دو۔ عینا پلیز ایک بار ہاں کر دو۔ میں تمہاری خاطر سب سے لڑ لوں گا۔ سب کو منا لوں گا۔ پلیز !" اس نے اپنے ہاتھ بھی جوڑ دئیے۔

"عرشمان تم کیا کر رہے ہو یہ؟" وہ بھی بیٹھ کر روتے ہوۓ اسکے ہاتھ پکڑ کر بولی۔

"بتاؤ تم چلو گی ناں میرے ساتھ؟" 

بہت دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے نفی میں اپنا سر ہلا دیا۔

"عینا ! ایسا مت کرو پلیز۔ میں تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ میں مر جاؤں گا یار !" وہ بـےتحاشا رو دیا۔

"مجھے معاف کرنا عرشمان ! میں نہیں کرسکتی۔ پلیز مجھے فورس مت کرو۔ میں اپنے بابا کا مان نہیں توڑ سکتی۔ اگر آج میں تمہارے ساتھ چلی گئی تو دوبارہ کبھی کوئی سکندر شاہ اپنی بیٹی پر یقین نہیں کرے گا۔" اس نے بھی آنسوؤں کے چشمے بہا دئیے۔

"تو مجھے بھی بتاؤ میں کیا کروں؟ مجھے نہیں آتا تمہارے بغیر رہنا"

"کوئی کسی کے بغیر نہیں مرتا عرشمان۔ صرف عادت کی بات ہوتی ہے۔ جو ایک دن چُھوٹ ہی جائے گی۔"

"تمہاری کیٹیگری میں عادت ہوگی۔ مگر میں نے سچی محبت کی ہے۔ اور میں سچ میں نہیں رہ سکتا مر جاؤں گا میں پلیز۔ زندگی میں پہلی بار عرشمان احمد نے کسی کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہیں۔ عینا انکار مت کرو۔ صرف ایک بار ، صرف ایک بار ہاں کہہ کر تو دیکھو۔ میں نے کہا ناں میں سب کو منا لوں گا۔ بس تم ہاں کر دو پلیز۔ ایک بار ہاں کردو۔ صرف ایک بار پلیز !" اس نے اسکے ہاتھ پکڑ کر اپنے ماتھے کے ساتھ لگا کر منت کی۔

"ایم سوری "۔

"اگر میں تمہارے بغیر رہ سکتا ہوتا تو کبھی تمہارے سامنے یہ بھیک نہیں مانگتا۔"

"مجھے معاف کر دینا"۔

"دیکھو اگر تم اب بھی انکار کرو گی۔ تو میں زبردستی تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا"۔

"تم مجھے یہاں سے زبردستی نہیں لے جا سکتے۔ اور اگر لے بھی گئے تو میں اپنے بابا کی اجازت کے بغیر کبھی نکاح نہیں کروں گی۔"

"عینا پلیز یار ! زندگی میں پہلی بار تم سے کچھ مانگا ہے میں نے"۔

"تم مجھ سے میری جان مانگ لو میں ہنس کر دے دوں گی۔ مگر میں یہ نہیں کر سکتی۔ "

"ٹھیک ہے۔" اس نے سنجیدگی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا اور پھر اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

عینا چپ کھڑی اسے دیکھتی رہی۔

"میں تم سے اب آخری بار پوچھ رہا ہوں عینا۔ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟ کیونکہ آج کے بعد دوبارا کبھی نہیں پوچھوں گا۔ ہاں یا نہ؟"

"عرشمان تم۔۔۔۔۔"

"بس بہت ہوگیا ! مجھے اور کچھ نہیں سننا۔ ہاں یا نہ؟"

"نہیں "۔

"اوکے فائن ! تم نے جو میرے ساتھ کرنا تھا تم نے کیا۔ اگر زندہ رہا تو ساری زندگی تمہیں معاف نہیں کروں گا۔ اور تمہارے دھوکے کو ہمیشہ یاد رکھوں گا۔ اور اگر مر گیا تو میری قاتل تم ہو گی یاد رکھنا۔" اس نے بس اتنا کہا اور پھر کھڑکی کے زریعے واپس چلا گیا۔ عینا خاموشی سے نم آنکھوں سے اسے جاتا دیکھ کر ہی تھی۔

عرشمان کے جانے کے بعد اس نے کھڑکی بند کی اور چیخ کر روئی۔ آج اس نے خود اپنے ہی ہاتھوں سے ہمیشہ کیلئے اپنی محبت کا گلا دبا دیا تھا۔

وہ بھی اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اسے سمجھانا چاہتی تھی کہ وہ کتنا اہم ہے اس کے زندہ رہنے کے لیے۔ اسے دکھانا چاہتی تھی کہ اس کے بغیر اس کی حالت نزاع میں پڑے بیمار جیسی ہو جاتی ہے۔ اسے اپنی آخری ٹوٹتی سانسوں کی آواز سنانا چاہتی تھی۔ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اسے پانا چاہتی ہے کہ وہ بھی صرف اسی کو چاہتی ہے۔ مگر اب وہ اس کی زندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جا چکا تھا۔

کبھی کبھی ہم انسان اتنے بے بس ہو جاتے ہیں کہ ہمیں خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی خواہشوں اور اپنی چاہتوں کا گلا گھوٹنا پڑتا ہے۔

آج اسکی شادی تھی۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی وہ خود کو دلہن کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ مہرون اور گولڈن کلر کے لہنگے میں آج وہ بالکل چاند کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔ مگر اس کے چہرے پر کوئی رونق نہیں تھی۔ اور آنکھیں بھی رونے کی وجہ سے کافی سوُج چکی تھیں۔ وہ مسلسل انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اسے تو عرشمان کی دلہن بننا تھا۔ اس نے تو ہمیشہ اسی کے ساتھ جینے کے خواب دیکھے تھے۔ مگر زندگی بھی انسان کے کیسے کیسے امتحان لیتی ہے ناں ! کہ ایک جیتا ، جاگتا ، ہنستا ، کھیلتا انسان اندر سے مر جاتا ہے۔ مگر سامنے والے کو کبھی محسوس بھی نہیں ہونے دیتا کہ اس کے اندر زندگی کا کوئی وجود نہیں۔

"عینا میرا بچہ ! قاضی صاحب نکاح پڑھانے کے لیے اجازت چاہ رہے ہیں"۔ سکندر شاہ نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

"جی"۔ وہ بمشکل بولی۔

"جی قاضی صاحب اندر آ جائیں"۔ سکندر شاہ نے انہیں آواز دی۔

سارہ کا نکاح پڑھانے کے بعد قا ضی صاحب ، سکندر شاہ اور چند گواہان عینا کی جانب متوجہ ہوئے۔

"نورالعین سکندر ولد سکندر شاہ آپ کا نکاح عادل نواز ولد نواز چوہدری حق مہر دس ہزار روپے سکّہ رائج الوقت سے کیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"قاضی صاحب نے اس سے پوچھا۔

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"میری چڑیل۔۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔مینڈک کہیں کا۔۔۔۔۔۔"اس کے ذہن میں مسلسل عرشمان اور اپنی باتیں گھوم رہی تھیں۔

"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟" 

"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" 

"پروپوز ؟ اور وہ بھی اس چڑیل کو۔۔۔۔۔۔۔۔اتنے برے دن بھی نہیں آئے ابھی عرشمان احمد کے۔۔۔۔۔۔۔"

"بیٹا کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟" قاضی صاحب نے تیسری مرتبہ پوچھا لیکن عینا نے کوئی جواب نہ دیا۔

سب سوالیہ نظروں سے سکندر شاہ اور مہرین کی طرف دیکھ رہے تھے۔

"عینا؟" سکندر شاہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے پکارا۔

"ج۔۔ج۔۔۔۔جی۔۔۔بابا"۔ وہ اچانک اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔

"میرا بچہ ! قاضی صاحب کچھ پوچھ رہے ہیں۔ جواب دو"۔

"ج۔۔جی۔۔۔۔۔قبول ہے"۔ وہ اٹکتے ہوۓ بولی۔

"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟"

"ق۔۔۔۔قبول ہے"

"قبول ہے؟"

"ج۔۔۔۔جی۔۔۔۔" چند آنسو اس کے رخسار پر بہہ نکلے۔

سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور پھر سکندر شاہ اسے پیار دیتے ہوئے قاضی صاحب کے ساتھ کمرے سے باہر چلے گئے۔

سب کے جاتے ہی اس نے سارہ کو گلے لگایا اور خوب روئی۔ نمرہ نے بھی اس کی کمر کو سہلا کر اسے حوصلہ دینے کی کوشش کی۔

"میں نے آج اسے ہمیشہ کے لئے کھو دیا۔۔۔۔۔۔وہ کہتا تھا وہ مر جائے گا میرے بغیر۔۔۔۔۔۔میں بھی مر جاؤں گی آپی ! پتہ نہیں میں کیسے رہوں گی اس کے بغیر۔ مجھے بھی نہیں جینا آتا اس کے بنا۔ میں کسی اور کی ہو گئی ہوں اب۔ اور وہ بھی کسی اور کا ہو جائے گا۔" وہ پھر سے ہچکیاں لیکر روئی تھی۔

سارہ اور نمرہ بھی اسے دیکھ کر اپنے آنسوؤں کو کنٹرول نہ کر سکیں اور بمشکل اسے سنبھالا۔

نکاح ہونے کے کچھ دیر بعد نمرہ اور مہرین نے اسے پکڑ کر سٹیج پر بٹھایا۔ عادل بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا۔ مگر وہ تو جیسے بے جان روح بن گئی ہو۔

شادی کی ساری رسومات ہونے کے بعد اب رخصتی کا وقت تھا۔ سکندر شاہ قرآن کے سائے میں اسے رخصت کرنے کے لئے ہال کے دروازے تک آۓ۔

"بابا ! آپ نے اپنی من مانی کی۔ آپ کو میرے ساتھ جو کرنا تھا آپ کر چکے۔ میں نے بھی آپ کی رضا کے سامنے سر جھکا دیا اور ایک بیٹی ہونے کا فرض نبھایا۔ مگر یاد رکھیئے گا کہ آج اس گھر سے سرخ جوڑے میں آپ کی بیٹی کی ڈولی نہیں بلکہ جنازہ جا رہا ہے۔ آج کے بعد آپ کی بیٹی آپ کے لیے مر چکی ہے۔ نورالعین دوبارہ کبھی بھی اس گھر میں قدم نہیں رکھے گی۔ اللّٰہ حافظ "۔ اس نے جاتے ہوئے دھیرے سے سکندر شاہ کی جانب دیکھ کر کہا اور پھر گاڑی میں بیٹھ گئی۔

اس کی رخصتی ہو چکی تھی۔ مگر سکندر شاہ اب بھی وہیں ساکت کھڑے تھے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا؟ کب؟ کہاں؟ کس ہسپتال میں؟" احمد ملِک نے چونک کر کہا۔

"کیا ہوا؟" عالیہ بیگم نے بھی حیرانگی سے ان کی جانب دیکھا۔

"ٹھیک ہے ہم آرہے ہیں"۔ انہوں نے فوراً فون بند کیا۔

"کیا ہوا کیا ہے؟ سب خیریت تو ہے ناں؟"

"چلو جلدی چلو۔ ہمیں ہوسپیٹل جانا ہوگا"۔ وہ بولتے ہوئے تیزی سے گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔

"یا اللّٰہ خیر ! کہیں عرشمان کو تو کچھ نہیں ہوا ناں؟ پلیز بتائیں میرا دل بیٹھا جا رہا ہے"۔

"پتا نہیں۔ یہ تو وہاں پہنچ کر ہی پتہ چلے گا"۔

عالیہ بیگم پورے راستے میں عرشمان کی سلامتی کی دعائیں مانگتی جا رہی تھیں۔

"میں احمد ملِک ہوں۔ عرشمان کا والد۔ میرا بیٹا کہاں ہے "؟ وہ سامنے کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی کے پاس آکر بولے۔

"وہ وہاں اس طرف"۔

"شکریہ"۔ 

احمد ملِک اور عالیہ بیگم بھاگ کر دائیں جانب بڑھے تو وہاں پر حمزہ کھڑا تھا۔

"کہاں ہے عرشمان؟" احمد نے اس سے سوال کیا۔

"انکل۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔"

"کیا وہ؟ کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو؟ جلدی بولو"۔ عالیہ بیگم چیخیں۔

"آنٹی ! عرشمان نے خودکشی کرنے کی کوشش کی ہے"۔

حمزہ کی بات سن کر کر عالیہ بیگم زور سے رو دیں اور احمد ملِک بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔

"کہاں ہے میرا بیٹا؟ وہ ٹھیک تو ہے ناں؟ اسے کچھ ہوا تو نہیں؟" وہ روتے ہوئے بولیں۔

"آنٹی مجھے جیسے ہی پتہ چلا میں اسے فوراً ہسپتال لے آیا۔ ڈاکٹرز چیک اپ کر رہے ہیں پتہ چل جائے گا ابھی۔ آپ فکر مت کریں۔ انشاءاللّٰہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔"

"یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے احمد۔ کیا ضرورت تھی اسے مارنے کی؟ اور پھر اسے گھر سے بھی نکال دیا آپ نے۔ دیکھ لیا نتیجہ؟" وہ غصے سے احمد ملِک سے مخاطب تھیں۔

"نہیں آنٹی ! انکل کا کوئی قصور نہیں ہے اس میں۔۔۔ وہ تو۔۔۔۔۔"

"وہ تو کیا؟"

"آنٹی آج عینا کی شادی تھی۔ عرشمان کل اسے منانے کے لیے گیا تھا مگر اس نے شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوا۔ وہ اسے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس لئے اس نے یہ خودکشی کی حرکت کی ہے۔"

"کیا؟" احمد ملِک نے افسردگی سے کہا۔

"جی انکل"۔

"ڈاکٹر کیسا ہے میرا بیٹا؟" ڈاکٹر کے روم سے باہر نکلتے ہی احمد ملِک نے سوال کیا۔

"الحمدللّٰہ وہ خطرے سے باہر ہیں۔ مگر یہ مجھے پولیس کیس لگتا ہے"۔

"شکر"۔ عالیہ بیگم نے ٹھنڈی آہ بھری۔

"نہیں ڈاکٹر یہ ہمارے گھر کا کوئی پرسنل معاملہ ہے"۔

"چلیں ٹھیک ہے احمد ملِک صاحب۔ ہم انہیں تھوڑی دیر میں آئی سی یو میں شفٹ کر رہے ہیں پھر آپ ان سے مل لیجئے گا۔"

"ٹھیک ہے"۔

"میں ابھی اپنے بیٹے کا صدقہ اترواتی ہوں"۔ عالیہ بیگم نے کہا۔

تھوڑی دیر بعد اسے آئی سی یو میں شفٹ کر دیا گیا۔ اور وہ تینوں وہاں اس سے ملاقات کرنے کیلئے پہنچے۔

"بیٹا کیسے ہو؟" احمد ملِک نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔

"حمزہ ! عینا کا نکاح ہوگیا ناں؟" اس نے حمزہ کی جانب دیکھا۔

مگر حمزہ سر جھکا کر خاموش کھڑا رہا۔

"دفع کرو تم اس بے قدر لڑکی کو"۔ عالیہ بیگم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کہا۔

"حمزہ میں نے تجھ سے کچھ پوچھا ہے"۔

"بیٹا جانے دو اسکو۔ بھول جاؤ"۔ احمد نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

"حمزہ !"

"ہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔ہاں"۔ حمزہ نے مایوسی سے جواب دیا۔

"کیوں بچایا پھر آپ سب نے مجھے؟" اسکی آنکھ سے آنسو بہنے لگے۔

"بیٹا پاگل مت بنو۔ یہ زندگی بہت قیمتی ہوتی ہے اسے ایسے ہی کسی کے پیچھے ضائع نہیں کرتے"۔ عالیہ بیگم نے پیار سے کہا۔

" نہیں چاہیے مجھے وہ زندگی جس میں وہ نہیں ہے"۔ 

"بیٹا ! حوصلہ رکھو۔ مرد بنو۔" احمد ملِک پیار سے بولے۔

"ڈیڈ آپ جس سے کہیں گے میں معافی مانگ لوں گا۔ مگر پلیز ، پلیز عینا کو واپس لا دیں ناں کہیں سے"۔ اس نے آہیں بھرنا شروع کر دیں۔

عالیہ بیگم نے بھی اس کی حالت دیکھ کر رونا شروع کر دیا۔ پھر پیار سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور اس کا ماتھا چوما۔ آج احمد ملِک کی آنکھوں سے بھی آنسو آ گئے۔

سب اسے سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر انسان کو صبر آنے میں وقت لگتا ہے۔ آج اس نے اپنے سمیت سب کو رلا دیا تھا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"السلام علیکم!" عادل سلام کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔

مگر سامنے ساری سیج بکھری ہوئی تھی۔ اور عینا اپنا ڈریس چینج کر کے سو چکی تھی۔

اس نے مایوسی سے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر بنا کچھ بولے اپنے کپڑے تبدیل کرکے صوفے پر سو گیا۔

کافی دیر کے بعد عینا نے آنکھیں کھولیں اور بیڈ سے اٹھ کر کھڑکی میں آ کر کھڑی ہو گئی اور آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔

"نہ جانے تم کیسے ہو گے عرشمان۔ پلیز مجھے معاف کر دینا۔ میں مجبور تھی۔" اس نے بھیگی پلکوں سے خود سے کہا۔

پھر کمرے میں آکر اپنا موبائل اٹھایا تو اس پر نمرہ کے کافی سارے میسیجز آئے ہوئے تھے۔

اس نے جب میسیجز اوپن کئے تو اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ اور موبائل اسکے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

کھٹک کی آواز سے عادل کی آنکھ کھل گئی۔ اور اس نے حیرانگی سے عینا کو دیکھا۔

"کیا ہوا؟"

"کچھ۔۔۔ن۔۔۔۔نہیں"۔ اس نے اپنے ضبط کو قابو میں رکھتے ہوۓ کہا۔

"ٹھیک ہے۔ اچھا جب میں کمرے میں آیا تو تم سو چکی تھی۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟"

"ہممممم۔"

"اگر تم۔۔۔۔۔۔۔"وہ اسکے قریب آکر کھڑا ہو گیا۔

"عادل میرے سر میں بہت درد ہے۔ مجھے کچھ دیر ریسٹ کرنا ہے۔ پلیز تم سو جاؤ۔" وہ جلدی سے پیچھے ہٹی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔

عادل نے بھی اپنا منھ لٹکایا اور صوفے پر جا کر سو گیا۔

عینا کے ذہن میں بار بار عجیب سے وسوسے آرہے تھے کہ اگر عرشمان کو کچھ ہوگیا تو وہ کیا کرے گی۔ نہ جانے کتنی ہی دیر وہ آنسوؤں سے اپنا تکیہ بھگوتی رہی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

اگلی صبح اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور اس کے والدین اسے گھر لے آئے۔اس کی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو چکی تھیں۔

"بیٹا تم یہاں آرام کرو میں تمہارے لئے خود اپنے ہاتھوں سے کچھ اچھا سا بنا کر لے کر آتی ہوں۔" عالیہ بیگم نے اسے نرمی سے کہا اور دروازہ بند کر کے چلی گئیں۔

"عرشمان میرے دوست ! تُو تو بہت بہادر ھے یار۔ حوصلہ رکھ۔" حمزہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"بہادر لوگ بھی کبھی کبھی ہار جایا کرتے ہیں"۔

"یار تیری بات ٹھیک ہے مگر عینا کوئی اس دنیا کی آخری لڑکی تو نہیں تھی۔"

"میرے لیے آخری ہی تھی۔"

"میں سمجھ سکتا ہوں یار"۔

"تُو نہیں سمجھ سکتا۔ اِن فیکٹ کوئی بھی نہیں سمجھ سکتا۔ جس انسان پر گزرتی ہے ناں صرف وہی سمجھتا ہے۔" وہ طنزیہ مسکرایا۔

"یار دیکھ انکل آنٹی بھی تو تجھ سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ تیرا کتنا خیال رکھتے ہیں۔ کتنے لاڈ اٹھاتے ہیں تیرے۔ کیا ان سب کے پیار کی تیری زندگی میں کوئی اہمیت نہیں؟"

"ہے اہمیت۔ مگر زندگی آخر رلا ہی دیتی ہے پھر چاہے ہم کتنے ہی لاڈلے کیوں نہ ہوں"۔ پھر سے آنسوؤں نے اسکی پلکوں کو بھگو دیا۔

"جانتا ہوں۔ زندگی تو سب کے امتحان لیتی ہے میرے دوست۔ بس لاڈلوں کو زندگی کا تھپڑ ذرا زور سے لگتا ہے۔"

"ہممممم۔"

"دیکھ یار اب تجھے اس کے بغیر رہنا سیکھنا ہے۔ تجھے خود کو سنبھالنا ہوگا۔ یہ بات سمجھانی ہوگی کہ زندگی کسی کے جانے سے نہیں رکھتی ہر حال میں جینا پڑتا ہے۔ وہ جس نے تیرے مخلص جذبات اٹھا کر تیرے منہ پر مار دیے تُو اس کے لیے آنسو بہا رہا ہے؟ اس کے پیچھے اپنی زندگی خراب کر رہا ہے؟ اور اس کے پیچھے اپنے ماں باپ کو تکلیف دے رہا ہے؟"

"تُو بالکل صحیح کہہ رہا ہے۔ میں اب اس کے نام سے بھی نفرت کرنا چاہتا ہوں۔ اس کی ساری سوچوں کو اس کے سارے خیالوں کو اپنے دماغ سے نکال کر باہر پھینک دینا چاہتا ہوں۔ مگر مجھ سے یہ سب نہیں ہو پا رہا حمزہ "۔

"ہمت کر سب ہو جائے گا"۔

"ہمممممم"۔

"یار تُو تو جو کہتا ہے وہ کرکے بھی دکھاتا ہے۔ تو پھر ڈٹ جا ناں۔ کہ تُو اس کو بھول کر دکھاۓ گا۔ ایسا وقت لے کر آئے گا کہ وہ خود تیرے لیے ترسے۔"

"وہ باہمت عرشمان مر چکا ہے اب میرے اندر"۔

"تو پھر اس کو دوبارہ سے زندہ کر۔ اور اس عرشمان کو مار دے جو عینا پر مرتا ہے۔ اور اس کو زندہ کر جو ہر کام کر سکتا ہے۔"

"ہمممممم۔"

"تُو ہمت تو کر۔ دیکھنا انشاءاللّٰہ ایک روز تُو اسے ضرور بھول جائے گا۔"

"انشاء اللّٰہ "۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیسی ہو نمرہ؟"

"میں ٹھیک ہوں"۔

"اور وہ کیسا ہے؟"

"وہ کون؟"

"عرشمان"۔

"اب اسے بھول جاؤ۔ تم نے خود اپنی مرضی سے یہ راہیں چنی ہیں۔ تو اب جب عادل سے نکاح کر ہی لیا ہے تو پھر عرشمان کا ذکر بھی دوبارہ اپنی زبان پر مت لانا۔ ویسے بھی اب وہ تمہارا نہیں ہو سکتا"۔

"جانتی ہوں۔ مگر وہ ٹھیک تو ہے ناں؟ بس اتنا بتا دو"۔

"ہاں ٹھیک ہے وہ۔ اسے ڈسچارج کر دیا ہے اور وہ گھر چلا گیا ہے۔ حمزہ ابھی بھی اس کے ساتھ ہے۔ وہ بتا رہا تھا کہ اس کی حالت کچھ ٹھیک نہیں ہے مگر تمہیں اس سے کیا؟ تم نے تو اپنی من مانی کرنی تھی کرلی۔ اب دوبارہ اسکے بارے میں مت پوچھنا مجھ سے۔"

"ٹھیک ہے نہیں پوچھوں گی"۔

"خدا حافظ "۔

اس نے فوراً فون کان سے ہٹایا اور اپنے آنسو صاف کئے پھر کچن میں چلی گئی جہاں مہرین کھڑی تھیں۔

"ارے ! تم ابھی سے کچن میں کیوں آگئی؟ تمہیں ابھی کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نئی نویلی دلہن ہو جا کر آرام کرو۔" مہرین نے پیار سے کہا۔

"آپ سے کس نے کہا پھپھو کہ میں یہاں کچن میں کام کرنے آئی ہوں؟ میں تو پانی پینے آئی تھی اور بھول کر بھی مت سوچیے گا کہ میں کوئی گھر کا کام کروں گی۔ سمجھ گئی آپ؟" وہ بد تمیزی سے بولی۔

"یہ تم امی سے کس انداز میں بات کر رہی ہو عینا؟" عادل نے اسکی بات سن لی تھی۔

"اسی انداز میں جس انداز سے مجھے کرنی چاہیے۔ اور آپ دونوں ایک بات کان کھول کر سن لیں۔ اگر میں اس گھر میں رہوں گی تو اپنی مرضی سے رہوں گی۔ ورنہ بے شک مجھے طلاق دے دو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔" وہ دھڑلے سے بولی۔

"ہاۓ ! کیسی باتیں کر رہی ہو تم عینا بیٹا؟ ابھی کل ہی تو تمہاری شادی ہوئی ہے"۔ 

"او پلیز پھپھو ! مجھے مت سیکھائیں کہ مجھے کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ مجھے جو کہنا تھا وہ میں کہہ چکی ہوں۔ امید ہے آپ دونوں کو میری بات بہت اچھے سے سمجھ آگئی ہوگی۔" اپنی بات مکمل کرنے کے بعد اس نے پانی سے بھرا گلاس اٹھایا اور تیزی سے قدم دوڑاتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"پاسپورٹ ؟" عالیہ بیگم نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے حیرانگی سے پوچھا۔

"جی موم"۔

"مگر کس چیز کا پاسپورٹ؟ کہاں جا رہے ہو تم؟" 

"عالیہ یہ امریکہ جا رہا ہے۔ وہاں پر جس نئے بزنس کا میں نے آغاز کیا ہے اسے سنبھالے گا"۔ احمد ملِک نے کہا۔

"مگر آپ جانتے ہیں کہ ابھی اس کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ ابھی یہ صدمے سے باہر نہیں آیا اور آپ اسے بزنس کا کام دے رہے ہیں؟ اور وہ بھی امریکہ والے بزنس کا؟"

"موم میں ٹھیک ہوں۔ میں نے خود ہی ڈیڈ سے کہا ہے کہ مجھے امریکہ والا بزنس سنبھالنا ہے۔ میں جلد از جلد اس کو بھولنا چاہتا ہوں۔"

"وہ سب تو ٹھیک ہے مگر بیٹا۔۔۔۔۔۔"

"عالیہ وہ جو کرتا ہے اسے کرنے دو۔ مجھے اپنے بیٹے پر یقین ہے۔ یہ بہت جلد ایک کامیاب بزنس مین بن جائے گا انشاء اللّٰہ ۔" احمد ملِک نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔

"چلیں ٹھیک ہے۔ اب آپ باپ بیٹے نے فیصلہ کرلیا ہے تو میری کون سنے گا"۔ 

"ہاہاہاہاہاہا۔" احمد ملِک زور سے ہنس دئیے۔

"کب تک بن رہا ہے تمہارا پاسپورٹ؟"

"موم کل مل جائے گا"۔

"اتنی جلدی کیسے؟"

"ڈبل پیسے پـے کر رہا ہوں میں عالیہ !" 

"لیکن ! احمد ڈبل کیوں؟"

"کیونکہ آپ کے صاحبزادے جلدی جانا چاہتے ہیں اس لیے۔"

"اور میرا بیٹا جلدی کیوں جانا چاہتا ہے؟"

"آپ کو بتایا تو ہے موم۔ کہ اس کو بھولنا چاہتا ہوں اس کی ہر ایک یاد سے دور جانا چاہتا ہوں۔ کچھ عرصہ تک وہاں رہوں گا۔ امریکہ کے ماحول میں ایڈجسٹ ہو جاؤں گا تو یہ سب چیزیں بھول جائیں گی مجھے۔ یہاں کی یادیں تکلیف نہیں دیں گی اور جب پوری طرح کوور اَپ ہو جاؤں گا تو پھر پاکستان واپس آ جاؤں گا۔"

"چلو ٹھیک ہے بیٹا۔ اللّٰہ تمہیں کامیاب کرے۔"

"آمین"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج جب وہ کمرے میں آیا تو عینا بیڈ پر بیٹھی کانوں میں ہینڈ فری لگا کر گانے سن رہی تھی اور چند آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ اس نے قریب آکر ہینڈ فری کھینچ کر اسکے کان سے نکالی۔

"او ہو !" وہ زور سے چلائی۔

"کیا سن رہی ہو؟" عادل نے اس سے سوال کیا۔

"سونگز سن رہی ہوں۔ تمہیں کوئی پرابلم ہے؟" وہ اکڑ کر اسکے سامنے کھڑی ہو گئی ۔

"میں جانتا ہوں کہ تم یہ بدتمیزی کیوں کر رہی ہو"۔

"کیوں؟"

"کیونکہ تم اس عرشمان کو پسند کرتی ہو ناں؟ اور اسی لئے تم چاہتی ہو کہ میں تمہیں طلاق دے دوں تاکہ تم واپس جا کر اس سے شادی کر لو۔ صحیح کہہ رہا ہوں نہ میں؟"

"تم کیسے جانتے ہو اسے؟"

"تم مجھے بے وقوف سمجھتی ہو؟ تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم میری بیوی ہو اور مجھے پتہ ہی نہیں ہوگا کہ میری بیوی یہ سب کیوں کر رہی ہے۔ کیوں شادی کی پہلی رات ہی وہ رو رہی تھی اور کیوں وہ اپنے کپڑے چینج کر کے آرام و سکون سے سو گئی۔"

"چلو اچھی بات ہے اگر پتہ ہے تو۔ مجھے بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔"

اس کی بات سن کر عادل نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر مارا۔ اس نے نفرت والی نگاہوں سے عادل کی جانب دیکھا اور پھر واپس اس کے منہ پر بھی ایک چٹاخ سے تھپڑ رسید کیا۔

"تم کیا سمجھتے ہو کہ نورالعین لاوارث ہے؟ میں ان لڑکیوں میں سے نہیں ہوں عادل جو اپنے شوہر کی مار چپ چاپ سہتی ہیں۔ اس لئے اگر دوبارہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش بھی کی تو تمہارا منہ توڑ کر ہاتھ میں پکڑا دوں گی۔ سمجھے تم؟" وہ چیخ کر بولی اور پھر زور سے دروازہ بند کرتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا؟ تم نے واپس عادل کے منہ پر تھپڑ مار دیا؟" نمرہ نے چونک کر پوچھا۔

"ہاں تو اور کیا۔ گھٹیا انسان"۔

"ارے واہ ! عینا تم نے تو کمال کر دی"۔

"وہ لائق ہی اسی کے ہے"۔

"ویسے ایک بات پوچھوں میں تم سے"؟

"ہاں پوچھو"۔

"اگر عادل کی جگہ عرشمان ہوتا تو کیا تم اس کو بھی واپس تھپڑ مارتی؟"

"پہلی بات اگر عادل کی جگہ وہ ہوتا تو میں اس سے کبھی بھی بدتمیزی نہیں کرتی۔ اور اگر کر بھی لیتی تو اسے میری بد تمیزی برداشت کرنے کی عادت ہے۔ اور دوسری بات اگر اسے غصہ آ بھی جاتا تو وہ مجھ پر ہاتھ کبھی نہیں اٹھاتا۔ کیونکہ میں اسے بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ اور اگر فرض کرو وہ ہاتھ اٹھا بھی لیتا تو میں چپ چاپ سہہ لیتی۔ لیکن عادل کی مار کبھی نہیں سہہ سکتی میں۔"

"گُڈ"۔

"اچھا اب جلدی سے کھانے کے لئے کچھ لے کر آؤ۔ پیٹ میں چوہے ناچ رہے ہیں"۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ اوکے"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج اس کی فلائٹ تھی۔ اپنے پیرنٹس سے ملنے کے بعد وہ حمزہ سے ملا اور پھر جہاز میں بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد فلائٹ پرواز کر گئی۔ وہ جاتے ہوئے اَن گنت دکھ ، غم ، یادیں اور تکلیفیں ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ اور اس نے یہ عزم کیا تھا کہ جب وہ واپس آئے گا تو پہلے والا عرشمان بن کر لوٹے گا۔

ادھر دوسری طرف عینا اور عادل کے جھگڑے مزید بڑھاتے ہی جا رہے تھے۔ اور اس نے زبردستی عینا کے قریب آنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن ابھی تک اس نے عادل کو دل سے قبول نہیں کیا تھا۔

عرشمان کے امریکہ جانے کا سن کر وہ کافی افسردہ تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کبھی زندگی میں اس سے مل بھی پائے گی یا نہیں۔ قسمت نہ جانے انہیں اب کس موڑ کی طرف لے جارہی تھی۔ عرشمان اسے بھولنے کے عزم سے امریکہ جا چکا تھا اور وہ مسلسل اس کی یادوں میں پریشان رہتی تھی نہ جانے کیوں وہ اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی مسلسل اسی کو سوچتی رہتی تھی۔ 

بعض دفعہ ہم کسی چیز کو شدت سے چاہتے ہیں۔ مگر وہ ہمیں نہیں ملتی اور کسی تیسرے کو بن مانگے ہی عطا کر دی جاتی ہے۔ مقصد ہمیں تکلیف دینا نہیں ہوتا۔ بس ہم اپنے رب کی مصلحتوں سے بے خبر شکووں کے انبار لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ کئی بار ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہماری زندگی ختم ہو چکی ہے مگر دراصل وہیں سے ہماری اصلی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ 

"السلام علیکم !" جہاز سے نیچے اترتے ہی اس نے سامنے کھڑے اپنے والدین کی جانب دیکھا۔

"وعلیکم السلام۔ کیسے ہو بیٹا؟" احمد ملِک نے اسے اسے گلے لگایا۔

"فِٹ ! اور میری پیاری موم کیسی ہیں؟"

"میں بھی بالکل ٹھیک ! میرے لال"۔ عالیہ بیگم نے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ اسے پیار کیا۔

"بالکل نہیں بدلا ناں یہ احمد؟ آج بھی سیم ویسا ہی لگ رہا ہے جیسا یہاں سے جاتے وقت تھا۔"

"ہمممم۔" انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

"نہیں موم ! اب بالکل بھی ویسا نہیں ہوں۔ بہت بدل چکا ہے  آپکا بیٹا"۔

"اچھا جی ! مگر مجھے تو ویسے ہی لگ رہے ہو"۔ عالیہ نے ہنس کر کہا۔

"نہیں۔ جاتے وقت میں بالکل ٹوٹ چکا تھا۔ مگر اب بہت ہی مضبوط انسان ہوں۔ جو عرشمان یہاں سے گیا تھا وہ بہت جذباتی تھا۔ رو رہا تھا۔ اور جو اب ہے وہ ہر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرتا ہے۔ اور درد چاہے کتنا ہی کیوں نہ مل جاۓ مگر روتا نہیں ہے۔ ایک چیز میں نے سیکھ لی ہے اس زندگی سے موم کہ انسان کسی کے بغیر نہیں مرتا۔ ہاں مگر اسکے اندر بہت کچھ مر جاتا ہے پھر چاہے وہ چاہت ہو ، مان ہو، بھروسہ ہو یا پھر حسین خواب۔ اسکی سانس ضرور چلتی ہے۔ اب میں یہ جان چکا ہوں کہ زندگی ملنے اور بچھڑنے کا نام ہے۔ یہاں ضروری نہیں کہ ہر انسان ہمیں اچھا ہی ملے اور ہر چاہت کا ملنا بھی ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہمیں یہ سیکھانے بھی آتے ہیں کہ دوبارہ کبھی ان جیسے لوگوں پر بھروسہ مت کرنا۔ اب میں زندگی کا اصل مطلب جان چکا ہوں۔"

"بالکل سہی کہا بیٹا"۔ احمد ملِک نے اسکی کمر پر تھپکی دی۔

"ہاں اور اب جب دوبارا امریکہ جاؤ گے اور تمہاری دلہن بھی ساتھ ہی بھیجوں گی میں"۔

"اوہ موم ! پلیز یار"۔ وہ ہنس کر بولا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ چلو چلتے ہیں"۔ احمد ملِک نے شائستگی سے کہا۔

"جی"۔

آج وہ پورے دو سال بعد امریکہ سے پاکستان واپس آیا تھا۔ وہ اب بالکل بدل چکا تھا۔ وہ ایک کامیاب بزنس مین بن کر لوٹا تھا جس کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس نے امریکہ جا کر اپنے بزنس پر فل فوکس کیا اور کروڑوں روپے کا منافع کمایا اب وہ تقریباً پچیس سال کا ہو چکا تھا۔ بہت کم عمری میں ہی اس نے بہت کامیابی حاصل کر لی تھی۔ 

اس کی زندگی میں اب اس کے پیرنٹس اور اس کے دوست حمزہ کے علاوہ کسی کی جگہ نہیں تھی۔ 

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"مما"۔

"جی میری جان !" وہ پیار سے بولی۔

"مما وہ۔۔۔۔۔۔" اس نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا جس پر ٹوکری میں چند فروٹس پڑے تھے۔

"وہ کیا"؟

"وہ۔۔۔۔۔فلو......"

"ہاہاہاہاہاہا۔ دوبارہ سے بولو"۔

"مما۔۔۔وہ زور سے بولا"۔

"ہممم۔"

"وہ فلو۔۔۔۔۔۔۔" اس نے دوبارہ اشارہ کیا۔

"ہاں ہاں بیٹا وہ فلو نہیں۔۔۔۔ فروٹ ہوتے ہیں۔" اس نے اسکی گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا۔

اور پھر اٹھ کر چند فروٹس اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔

احد نورالعین کا بیٹا تھا۔ جو تقریباً ایک سال اور چند ماہ کا تھا۔ اسے ابھی صحیح سے لفظ ادا کرنے نہیں آتے تھے۔ اگرچہ وہ عادل کو دل سے پسند نہیں کرتی تھی مگر اپنے بیٹے میں اس کی جان بستی تھی۔ نورالعین کے حق میں کیے گئے غلط فیصلے کی وجہ سے سکندر شاہ پریشان رہنے لگے تھے۔ اور اس کی شادی کے تقریباً تین ماہ بعد ہی دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اس جہانِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ باپ کے مرنے کے بعد سارہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ انگلینڈ میں شفٹ ہوگئی اور دوبارہ کبھی بھی پاکستان واپس نہیں آئی۔

سکندر شاہ نے مرنے سے پہلے اپنی ساری جائیداد نورالعین کے نام کر دی تھی۔ اس کے باپ کی جائیداد کا سارا پیسہ نورالعین کے بینک اکاؤنٹ میں پڑا تھا۔ جسے نکلوانے کیلئے عادل ہر ہر وقت سازشیں کرتا رہتا تھا۔ مگر عینا اس کی کسی بھی بات میں آنے کو تیار نہیں تھی۔ وہ اسکی ہر بات کو اب صرف اور صرف اس کے پیسے کی وجہ سے برداشت کرتا تھا۔ وہ بھی بس اپنے بیٹے احد کی وجہ سے اس کے ساتھ گزارا کر رہی تھی۔ عادل نے اسے بہت پیار دینے کی کوشش کی مگر وہ اس کے لالچی پن سے بخوبی واقف تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اب عادل اس پر کیوں اتنی جان نچھاور کرتا ہے۔ عینا اپنے باپ کے پیسوں سے بزنس کرنا چاہتی تھی مگر عادل کی وجہ سے وہ بینک سے رقم نکلوانے سے ڈرتی تھی۔ اور اسے بزنس میں کوئی خاص تجربہ بھی نہیں تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اپنے باپ کے پیسے ایسے ہی فضول میں ڈبو دے۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ مگر اس گزرتے وقت کے ساتھ وہ کسی بھی صورت عادل کو دل سے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ 

کہتے ہیں کہ عورت کو اگر نئے مرد سے عزت ملے تو وہ اپنی جان سے پیاری محبت کو بھی بھول جاتی ہے۔ مگر میں کہتی ہوں کہ عورت کی ذات کی کوئی فلاسفی نہیں اگر بسنا چاہے تو جھونپڑیوں میں بھی خوش رہتی ہے۔اور اگر نہ بسنا چاہے تو محلوں کو بھی لات مار دیتی ہے۔کبھی یہ سادگی کا مذاق اڑاتی ہوئی نظر آتی ہے اور کبھی ظرف کی قدردانی کی حد کر دیتی ہے۔

عورت کے اندر ہر مرد کے ساتھ سونے کی خواہش نہیں جاگتی۔ اور جس کے ساتھ سونے کی طلب جاگے پھر کسی اور کا سایہ بھی وہ وجود کی آس پاس برداشت نہیں کرتی۔ایسے میں اگر اَن چاہ انسان زندگی اور وجود پر آکر قابض ہو جائے تو وہ زندہ لاش بن جاتی ہے۔

اور پھر کسی کے لیے اس سے بڑا جھوٹ اور کیا ہوگا کہ جب وہ اپنی آنکھیں بند کرے تو اسے کسی اور کا چہرہ نظر آئے اور جب آنکھیں کھولے تو سامنے کوئی اور موجود ہو۔

وہ جانتی تھی کہ وہ دوبارہ عرشمان کو کبھی حاصل نہیں کر پائے گی۔ مگر پھر بھی اسے ایک آس تھی کہ وہ زندہ ہے۔ اور شاید کہیں نہ کہیں وہ آج بھی عرشمان کے دل میں موجود ہے۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"سرپرائز!" وہ اپنے دونوں بازو بچھا کر حمزہ کے سامنے کھڑا ہو کر بولا۔

"ابے سالے ! تُو کب آیا؟" اس نے بھاگ کر اسے گلے سے لگایا۔

"آج صبح ہی آیا ہوں۔ سوچا سب سے پہلے تجھ سے مل لوں"۔

"یار تُو مجھے کم از کم ایک کال تو کر دیتا۔ میں بھی تجھے ایئرپورٹ سے پِک کرنے آجاتا۔"

"نہیں میں نے سوچا تُو اپنے کام میں بزی ہو گا اس لئے۔"

"کیسا کام یار؟ دوستی سے بڑھ کر بھی کچھ ہوتا ہے کیا بھلا؟"

"ہمممم یہ تو ہے"۔ اس نے اپنا بازو اسکی گردن میں ڈالا۔

"اچھا چل آجا گھر چلتے ہیں۔ تجھے اماں کے ہاتھ کی اچھی سی چائے پلاتا ہوں۔"

"چل"۔

وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے پیدل گھر کی طرف جا رہے تھے۔ کہ اچانک حمزہ کا فون بجا۔

"اٹھا لے۔ کس کی کال ہے؟" اس نے مسکرا کر کہا۔

"نمرہ کی۔ لیکن تُو چھوڑ یار۔ آج سارا وقت تیرے لئے۔"

"نہیں بالکل نہیں۔ کال رسیو کر چل شاباش !"

"لیکن یار اس سے تو روز بات ہوتی ہے۔ اور تُو اتنے عرصے بعد امریکہ سے واپس آیا ہے۔ تو آج تیرے ساتھ رہوں گا"۔

"وہ سب ٹھیک ہے۔ مگر میں اپنی ہونے والی بھابھی کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔" وہ شرارتی انداز سے بولا۔

"ہاہاہاہاہاہا "۔

"ہیلو"۔

"السلام علیکم"۔

"واعلیکم السلام"۔

"کہاں ہو؟"

"اپنی جان کے ساتھ"۔ وہ عرشمان کو آنکھ مارتے ہوۓ بولا۔

"کیا مطلب ؟کونسی جان؟" اس نے چونک کر پوچھا۔

"ہے ایک جان۔" 

"بتاؤ مجھے کون ہے وہ؟" 

"بس ہے ناں ایک!"

"سیدھے طریقے سے بتاؤ کون ہے؟ اور تم کہاں ہو؟ بلکہ میں خود آتی ہوں وہاں"۔

"ارے نہیں ! نہیں۔ میں عرشمان کے ساتھ ہوں اور ہم گھر کی طرف جارہے ہیں۔"

"عرشمان؟" وہ حیرانگی سے بولی۔

"ہاں ! آج ہی امریکہ سے واپس آیا ہے"۔

"تم جھوٹ بول رہے ہو۔ بتاؤ کس ماں کے ساتھ ہو تم"؟

"ہاہاہاہاہاہا۔ ماں کا لفظ سن کر عرشمان زور سے ہنسا۔

"سالے ! وہ مجھے اب غصے میں کچھ بھی کہہ دیتی ہے۔ جب سے میری اس سے منگنی ہوئی ہے تب سے اس نے مجھ پر رعب جمانا شروع کر دیا ہے ۔" وہ فون سائیڈ پر کرکے عرشمان سے مخاطب ہوا۔

"ہاں ! ہاں ٹھیک ہے۔ کر بات یار"۔

"ہممم۔ ہاں تو نمرہ یار میں سچ کہہ رہا ہوں قسم سے۔"

"یہ ابھی ہنسنے کی آواز کس کی تھی؟"

"عرشمان کی تھی یار۔ بتایا تو ہے اسکے ساتھ ہوں"۔

"ان بلیو ایبل"۔

"یار سچ کہہ رہا ہوں۔ اچھا لو تم خود عرشمان سے بات کر لو تاکہ تمہیں تسلی ہو جاۓ۔" 

"اوکے کرواؤ"۔ 

اس نے فون عرشمان کے ہاتھ میں تھما دیا۔

"السلام علیکم "۔

"وعلیکم السلام ! عرشمان اسکا مطلب حمزہ سچ کہہ رہا تھا؟ تم واقعی واپس آ گئے ہو؟"

"ہاں بھئی ! ہمیشہ کیلئے تھوڑی نہ گیا تھا۔"

"ہممم۔ کیسے ہو؟"

"میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میری ہونے والی بھابھی کیسی ہیں؟" 

"ہاہاہاہاہاہا۔ ٹھیک ہوں"۔

"اور؟"

"اور سب ٹھیک ہے۔"

"اچھا"۔

"واپس کب جانا اب امریکہ؟"

"آج ہی تو واپس آیا ہوں۔ اور دیکھو پھر کب جاتا ہوں"۔

"میرا تو مشورہ ہے کہ اب واپس نہ جانا کبھی بھی"۔

"کیوں؟"

"کیونکہ کوئی بہت اداس ہو گیا تھا تمہارے جانے سے"۔

"کون؟" 

"آپکی عینا"۔ اس نے ہنس کر کہا۔

عینا کا نام سن کر وہ خاموش ہو گیا اور غصے سے موبائل حمزہ کو پکڑا دیا۔

"کیا ہوا؟"

"تُو بات کر لے۔ اور اسے اپنی زبان میں سمجھا دینا کہ دوبارہ غلطی سے بھی میرے سامنے اپنی اس دوست کا نام نہ لے۔ ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔" اس نے غضب ناک ہو کر کہا۔

"اوکے ! بھائی ریلکس "۔ وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

"نمرہ میں بعد میں بات کروں گا تم سے"۔

"اوکے"۔

"باۓ"۔ اس نے فوراً کال کاٹ دی۔

"کیا ہوا ہے میرے دوست ! دفع کر اس بات کو"۔

"مجھے اسکے نام سے بھی نفرت ہے حمزہ "۔

"ٹھیک ہے میں سمجھا دوں گا نمرہ کو۔ اب ریلکس ہو جا"۔

"ریلکس ہی ہوں یار میں"۔

"اچھا چل آجا اندر گھر آگیا "۔

"ہمممم"۔

"اماں ! دیکھو کون آیا ہے"۔ حمزہ نے گھر میں قدم رکھتے ہی ماں کو آواز دی۔

"ارے ماشاء اللّٰہ! کیسے ہو بیٹا؟"  نورین بیگم نے اسکے سر پر پیار دیا۔

"الحمدللہ ! آپ کیسی ہیں؟ طبیعت تو ٹھیک رہتی ہے ناں اب  آپکی؟"

"ہاں۔ اللہ کے فضل و کرم سے بلکل ٹھیک ہوں۔"

"صائمہ بیٹا بھائی آئے ہیں۔ جلدی سے اچھی سی کڑک چائے بنا کر لے کر آؤ۔" نورین بیگم نے اس کی چھوٹی بہن کو آواز دی۔

"السلام علیکم بھائی"۔ وہ پاس آکر بولی۔

"وعلیکم السلام"۔ اس نے شائستگی سے جواب دیا۔

پھر وہ دونوں چارپائی پر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد صائمہ نے ٹرے میں چائے کے کپ اور چند بسکٹ لا کر انکے سامنے رکھ دئیے۔

"آنٹی آپ حمزہ کی شادی کب کر رہی ہیں؟" وہ نورین بیگم سی مخاطب تھا۔

"بس بہت جلد انشاءاللّٰہ میں تو چاہتی ہوں کہ نائمہ کی شادی بھی ساتھ ہی کردوں۔ اس کی بھی عمر گزرتی جارہی ہے پھر اچھے رشتے بھی نہیں ملیں گے۔ بس جہیز کی وجہ سے کافی پریشان ہیں ہم"۔

"کیوں کیا ہوا کوئی مسئلہ ہے کیا؟"

"کچھ نہیں یار ! بس تجھے پتا تو ہے رشتے والے آجکل جہیز ہی دیکھتے ہیں۔ انہوں نے جہیز کی اتنی ڈیمانڈ کر دی ہے کہ ہم افورڈ نہیں کر سکتے۔ اور اب میں تو وہاں انکار کرنے کا سوچ رہا ہوں مگر اماں ہی نہیں مان رہیں"۔ حمزہ نے افسردگی سے کہا۔

"کیوں آنٹی؟ جن کی آج اتنی ڈیمانڈ ہے وہ کل کو کیا کریں گے نائمہ آپی کے ساتھ؟" اس نے بھی اپنی تجویز پیش کی ۔

"تمہاری بات ٹھیک ہے عرشمان بیٹا۔ لیکن تم جانتے ہو کہ نائمہ کی کافی عمر ہو گئی ہے اور وہ لڑکا بھی کنوارا ہے۔ پھر گھر بھی اچھا ہے۔ سب کچھ بہترین ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ رشتہ ہاتھ سے جائے۔ کیونکہ اس کے بعد پتا نہیں میری بیٹی کے لئے کوئی اچھا رشتہ ملے یا نہ ملے۔"

"آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں آنٹی۔ لیکن وہ لالچی لوگ ہیں"۔

"بیٹا آج کل پیسے کا کس کو لالچ نہیں ہوتا؟ ہر بندہ امیر ہونا چاہتا ہے"۔

"ہمممم۔ لیکن میرے خیال سے حمزہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آپ کو اس رشتے سے انکار کر دینا چاہیے۔ آگے آپ کی مرضی"۔

"عرشمان بیٹا تم سے ایک بات پوچھوں؟ اگر تم برا نہ مانو تو؟"

"جی ! جی آنٹی ضرور پوچھیں۔ میں کیوں برا مانوں گا آپ کی بات کا؟"

"اگر میں اس رشتے سے انکار کر دوں۔ تو کیا تم میری بیٹی سے شادی کرو گے؟"

نورین علی کی بات پر وہ ششدر رہ گیا اور حیرانگی سے حمزہ کی جانب گھورنے لگا۔

"امی ! آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟" حمزہ نے سنجیدگی سے کہا۔

"بیٹا تم نے کوئی جواب نہیں دیا؟" نورین بیگم حمزہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولیں۔

"آنٹی آپ کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو نائمہ آپی کی شادی کیلئے تو میں حاضر ہوں۔ آپ جہیز کی فکر مت کریں۔ جہیز کی رقم میں دے دوں گا۔ آپ بس میرے دوست کی شادی کی تیاری شروع کریں"۔ اس نے بات کو گھماتے ہوئے کہا۔

"لیکن بیٹا۔۔۔۔۔۔۔"

"اچھا آنٹی میں چلتا ہوں پھر کبھی ملاقات ہوگی۔ خدا حافظ"۔ وہ نورین علی کی گفتگو کاٹتے ہوۓ اجازت چاہی اور چلا گیا۔

"امی آپ کیسی باتیں کرتی ہیں؟ کیا ضرورت تھی عرشمان سے یہ سب کہنے کی؟ آپ جانتی ہیں ناں کہ نائمہ آپی اور عرشمان کی عمر میں کتنا فرق ہے؟ وہ کیا سوچتا ہو گا ہمارے بارے میں؟" عرشمان کے جاتے ہی اس نے اپنی ماں سے غصے میں کہا۔

"میں جانتی ہوں کہ عمر میں فرق ہے لیکن اگر عرشمان اس گھر کا داماد بن جائے تو سوچو کہ ہماری تو قسمت بدل جائے گی۔ اور تمہاری بہن نائمہ ساری زندگی تمہیں دعائیں دے گی۔ تم ایک بار اس کو منا کر تو دیکھو۔ وہ تمہارا دوست ہے تمہاری بات کی لاج ضرور رکھے گا۔"

"امی یہ دیکھیں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں میں۔ اس نے آج تک ہمارے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ جب مجھے پیسوں کی ضرورت ہوئی اس نے میرے منہ سے بولنے سے پہلے ہی ہمیشہ ہماری مدد کی۔ اور آپ کیا چاہتی ہیں؟ کہ میں صرف اور صرف اپنے مفاد کی خاطر اپنے دوست کی زندگی برباد کر دوں؟ آپ جانتی ہیں کہ اس کے اور ہمارے اسٹیٹس میں کتنا فرق ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پیرنٹس اس کے لیے آپی جیسی سادہ لڑکی کا انتخاب کبھی نہیں کریں گے۔ آپ نورالعین کو جانتی ہیں وہ اس جیسی کسی اسٹائلش لڑکی سے ہی شادی کرے گا۔" اس نے غصے سے اپنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا۔

"ارے ! جانے دو تم۔ بہن کے بارے میں نہ سوچنا۔ بس اپنے دوست کا ہی سوچنا"۔

"جی امی ! کیونکہ میں آپ کی طرح صرف خونی رشتوں کا نہیں بلکہ اپنے دل سے جڑے رشتوں کا بھی سوچتا ہوں۔ اور اس نے تو پھر بھی کہہ دیا کہ وہ آپی کے جہیز کی تیاری کر دے گا۔ مگر آپ پھر بھی اپنے بارے میں ہی سوچ رہی ہیں۔ افسوس ہے امی"۔ وہ چلاتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"عرشمان!" عالیہ بیگم نے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی طرف دیکھا۔ وہ بیڈ پر ٹیک لگا کر موبائل چلانے میں مصروف تھا۔

"جی موم"۔

"ہر وقت موبائل؟ اب کس سے باتیں کر رہے ہو؟"

"اوہ ہو موم ! کسی سے بھی نہیں۔ بس کچھ امپورٹنٹ پوسٹ تھیں وہ پڑھ رہا تھا۔" اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوۓ کہا۔

"اچھا سنو بیٹا ! تمہیں ایک چیز دیکھانی تھی"۔ وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولیں۔

"جی دیکھائیں"۔

"یہ کچھ لڑکیوں کی تصویریں ہیں۔ دیکھو تمہیں ان میں سے کونسی لڑکی پسند ہے"۔ انہوں نے چند تصاویر اسکی جانب بڑھائیں۔

"اُف ! موم پلیز یار ! ابھی میں کل ہی امریکہ سے واپس آیا ہوں اور آپ نے مجھے یہ تصویریں دیکھانا شروع کر دیں ہیں"۔ 

"عرشمان بس بہت ہو گیا۔ اب میں تمہاری ایک نہیں سنوں گی۔ تمہارے پاکستان جانے سے پہلے ہی میں تمہاری شادی کرنا چاہتی تھی۔ مگر اب تم پورے دو سال بعد واپس آئے ہو اور ابھی تک تمہاری منگنی بھی نہیں ہوئی۔ بس اب میں مزید انتظار نہیں کر سکتی۔ بھئی مجھے اب اپنے پوتا پوتی دیکھنے ہیں۔"

"موم مجھے کوئی شادی نہیں کرنی ہے پلیز"۔اس نے چڑ کر کہا۔

"شادی تو میں تمہاری اب کروا کر ہی رہوں گی"۔

" تو کیا آپ زبردستی کریں گی میرے ساتھ؟"

"بیٹا تمہارے ساتھ زبردستی میں تو کیا تمہارا باپ بھی نہیں کرسکتا۔ بہت اچھے سے جانتی ہوں میں تمہیں۔ آخر تمہاری ماں ہوں میں۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا میری بات کا مان ضرور رکھے گا"۔

"ابـے یار ! اب آپ نے مجھے ایموشنل بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے؟"

"ہاں یہی سمجھ لو"۔ وہ مسکرائیں۔

"اچھا ٹھیک ہے۔ اگر آپ کو اتنا ہی شوق ہے تو کردیں میری شادی۔ جہاں آپ کا دل چاہے ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔"

"وہ سب تو ٹھیک ہے مگر تمہیں ایک بار لڑکی دیکھنی تو چاہیے ناں؟ اچھا دیکھو مجھے ان سب تصویروں میں سے یہ لڑکی سب سے زیادہ خوبصورت اور اچھی لگی ہے۔ تم دیکھ کر بتاؤ تمہیں کیسی لگی؟" وہ ایک لڑکی کی تصویر نکال کر اسے دیکھانے لگیں"۔

"موم ! پلیز یار مجھے نہیں دیکھنی کوئی تصویر۔ آپ کو اچھی لگ رہی ہے تو آپ ہاں کر دیں۔ آئی ڈونٹ کیئر"۔ اس نے تصویر بنا دیکھے ہی سائیڈ پر رکھ دی۔

"بیٹا مگر ایک بار دیکھ تو لو کہ وہ لڑکی آخر ہے کیسی۔ تم نے آخر پوری زندگی گزارنی ہے اس کے ساتھ۔"

"جب پسند کا شخص ہی نہ ملے تو پھر کچھ بھی مل جائے۔ کیا فرق پڑتا ہے موم؟" اس نے غمزدہ ہوکر کہا اور پھر اٹھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔

مگر عالیہ بیگم اسکی بات سن کر لا جواب ہو گئیں۔

"کاش میرے بیٹے ! میں تمہارے لئے کچھ کر سکتی۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اسے کب کا تمہارا بنا دیتی۔ کبھی اسے تمہاری زندگی سے دور نہ جانے دیتی۔ اور کبھی تمہاری آنکھ میں کوئی آنسو نہ آنے دیتی۔ مگر افسوس ! کہ تمہاری ماں بے بس ہے۔ مگر مجھے یقین ہے اپنے رب پر۔ وہ یقیناً تمہاری زندگی میں کسی ایسی لڑکی کو لائے گا۔ جو تمہارے دل میں عینا کے خلا کو پُر کر دے گی اور تم اسکا نام تک بھول جاؤ گے۔ انشاء اللّٰہ!" وہ خود سے ہی دھیمی آواز میں مخاطب تھیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"امی ! دیکھیں میں کیسی لگ رہی ہوں اس ڈریس میں؟" وہ شیشے کے سامنے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔

"ماشاءاللّٰہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو ماہی۔ کہیں تمہیں میری نظر ہی نہ لگ جائے"۔

"ہر ماں کو اپنی ہی اولاد سب سے زیادہ پیاری لگتی ہے"۔

"نہیں لیکن ! میری بیٹی تو دنیا کی سب سے پیاری بیٹی ہے"۔

"امی خیر تو ہے آپ کو؟ آپ آج میری اتنی تعریفیں کیسے کر رہی ہیں؟"

"کل کچھ لوگ تمہیں دیکھنے آ رہے ہیں ماہی۔ بہت ہی اچھے اور امیر گھرانے سے ہیں۔ ساری زندگی عیش کرو گی اگر یہاں رشتہ ہو گیا تو۔ اس لیے یہ ڈریس تم کل پہن لینا۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔ انشاءاللّٰہ ضرور پسند آ جاؤ گی ان کو"۔

"ہیں؟ کون دیکھنے آ رہا ہے؟ کس کو بلا لیا آپ نے؟" 

"میں نے تو شگفتہ سے بات کی تھی کہ تمہارا کہیں رشتہ کروا دے۔ اس نے مجھے بتایا کہ کسی امیر گھر کا لڑکا ہے۔ اور اکلوتا بیٹا ہے اپنے ماں باپ کا۔ انتہائی امیر بھی ہے۔ ڈیفنس میں رہتے ہیں وہ لوگ۔"

"امی جانے دو آپ۔ اتنے میرے گھر کا لڑکا اور وہ بھی اکلوتا؟ بھلا مجھ سے شادی کیوں کرے گا؟"

"قسمت کی بات ہے ماہی! ہم تو بس کوشش کرسکتے ہیں۔ باقی تمہارے نصیب"۔

"اگر تو وہ کافی امیر ہے پھر تو میں کل کافی اچھے سے تیار ہو جاؤں گی۔ کیونکہ آپ تو جانتی ہیں میں تو ہمیشہ سے اونچے گھروں میں رہنے کے خواب دیکھتی ہوں۔ ہائے ! اللّٰہ کرے اس کی فیملی کو میں پسند آ جاؤں۔ یقین کریں امی میں تو خوشی سے ہی پاگل ہو جاؤں گی۔"

"انشاء اللّٰہ "۔

"امی ویسے سوچنے والی بات ہے کہ اگر وہ لڑکا اتنا ہی امیر ہے اور اکلوتا بھی ہے۔ اور اتنا کامیاب بزنس مین ہے۔ تو بھلا اس کے گھر والوں کو رشتوں کی کمی ہوگی کیا؟ وہ ہم جیسے مڈل کلاس لوگوں کے گھر رشتہ دیکھنے کیوں آ رہے ہیں؟ اپنے اسٹیٹس کے لوگوں میں کیوں نہیں دیکھ لیتے؟ مجھے تو دال میں کچھ کالا لگتا ہے۔"

"نہیں شگفتہ سے بات ہوئی ہے میری۔ وہ اس لڑکے کی ماں کو بہت اچھے سے جانتی ہے۔ اس نے بتایا کہ اس کی ماں بالکل بھی لالچی نہیں ہے۔ اور وہ لوگ جہیز تو بالکل بھی نہیں لیں گے۔ ماشاء اللّٰہ سے ان کے گھر بہت دولت ہے۔ انہیں کسی جہیز کی ضرورت نہیں ہے۔ بس لڑکے کی ماں چاہتی ہے کہ اسکو خوبصورت ، پڑھی لکھی اور خیال رکھنے والی بہو مل جائے۔ اسے پیسے سے کوئی غرض نہیں۔"

"واہ امی ! آج کل کے دور میں ایسی سوچ کون رکھتا ہے؟ اگر وہ واقعی ایسے ہیں تو سچ میں۔ بہت ہی اعلیٰ نسل کے لوگ ہونگے پھر وہ"۔

"ہاں بالکل"۔

"چلیں امی ! پھر میں یہ ڈریس اتار کر رکھ دیتی ہوں۔ اب کل ہی پہن لوں گی"۔

"ہاں ٹھیک ہے"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"آفس کب سے جوائن کر رہے ہو عرشمان؟" رات کھانے کے ٹیبل پر وہ عرشمان کی طرف دیکھ کر گویا ہوئیں۔

"پرسوں سے انشاء اللّٰہ !"

"کل کیوں نہیں بیٹا؟"

"ڈیڈ کیونکہ کل کچھ دوستوں کے ساتھ باہر جانے کا پلان ہے اس لیے"۔

"اچھا چلو ٹھیک ہے"۔

"احمد آپ کل آفس سے جلدی واپس آجائیے گا۔ ہمیں کہیں جانا ہے"۔ عالیہ بیگم کی بات پر عرشمان نے چونک کر انہیں دیکھا۔

"کہاں؟"

"دراصل میں کل عرشمان کے لیے ایک لڑکی دیکھنے جا رہی ہیوں۔آپ بھی ساتھ چلیں گے تو مناسب رہے گا"۔

"اُف"۔ عرشمان نے تیوری چڑھائی اور واپس کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔

"کون سی لڑکی؟" احمد ملِک نے سوال کیا ۔

"بس ہے کوئی۔ شگفتہ سے میں نے رشتہ دکھانے کو کہا تھا تو اس نے چند لڑکیوں کی تصویریں مجھے دکھائی تھی۔ ان میں سے مجھے ایک لڑکی سب سے زیادہ پسند آئی۔ اور بس انہی کی طرف جانا ہے۔"

"بھئی معذرت! کل تو میں بالکل نہیں جا سکتا۔ بہت ضروری میٹنگ ہے میری۔ ہم پرسوں چلیں گے"۔

"نہیں احمد میں نے انہیں ٹائم دیا ہوا ہے۔ وہ انتظار کریں گے۔ اچھا نہیں لگتا کسی کو وقت دو پھر جاؤ ہی نہ"۔

"چلیں پھر آپ چلی جائیے گا ڈرائیور کے ساتھ۔ اور عرشمان کو بھی ساتھ لے جانا۔ یہ بھی فیس ٹو فیس لڑکی کو دیکھ لے گا"۔

"اوہ پلیز ڈیڈ ! مجھے ان سب چکروں سے دور ہی رکھیں تو بہتر ہے"۔ اس نے سنجیدہ مزاج میں کہا۔

"تو پھر آپ اکیلی چلی جائیے گا عالیہ۔ جب بعد میں منگنی وغیرہ کرنی ہوگی یا اگر آپ کو لڑکی پسند آگئی تو میں بعد میں چلا جاؤں گا"۔

"چلیں ٹھیک ہے"۔

"ہمممممم"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

گاڑی کا پچھلا دروازہ کھلتے ہی لال رنگ کے پینسل ہیل شوز اور سفید پلازو پہنے ہوۓ اس نے قدم گاڈی کے باہر رکھا۔ سرخ رنگ کی شرٹ ، بلیک سن گلاسز اور کھلے بالوں میں کھڑی آج عالیہ بیگم کسی حسین نوجوان لڑکی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ 

دروازے پر دستک ہونے کے بعد شہناز بی بی نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی عالیہ بیگم کو سر سے لے کر پاؤں تک حیرانگی سے گھورنے لگیں۔

"السلام علیکم میں مسز احمد ملِک!"

"وعلیکم السلام ! جی میں نے پہچان لیا۔ آپ کے حلیے سے ہی۔ آئیے اندر آئیں۔"

"جی"۔ عالیہ بیگم نے دھیرے دھیرے قدم اندر بڑھائے اور سامنے صحن میں پڑی چارپائی پر آکر براجمان ہوگئیں۔

"کیسی ہیں آپ؟" شہناز بی بی نے احترام سے پوچھا۔

"الحمدللّٰہ!"

"آپ بیٹھے میں ماہین کو فون کر کے بلاتی ہوں"۔

"ماہین کون؟"

"ماہین میری بیٹی ہے۔ سب پیار سے اسے ماہی کہتے ہیں"۔

"اوہ اچھا"۔

"جی"۔

"کہاں گئی ہے وہ؟"

"وہ دراصل میں نے اسے تھوڑا سامان لینے کے لیے بھیجا تھا۔ بس ابھی آتی ہی ہوگی"۔

"اچھا اچھا"۔

"جی آپ بس بیٹھیں۔ میں ابھی فون کرکے آتی ہوں"۔

"اوکے "۔ وہ مسکرا کر بولیں۔

شہناز بی بی نے تیزی سے قدم اندر کمرے کی جانب بڑھاۓ  اور کال کرنے کیلئے فون اٹھایا۔ تو فوراً دروازے پر دستک ہوئی۔ انہوں نے واپس فون رکھا اور دروازہ کھولنے کے لئے بھاگیں۔ تو دروازے پر ماہین کھڑی تھی۔

عالیہ بیگم کی نظر سامنے کھڑی ماہین پر پڑی تو وہ اسے مکمل آنکھیں کھول کر دیکھتی ہی رہ گئیں۔ ٹیل پونی ، بازو پر چین لپیٹی ہوئی ، ہلکے گرین رنگ کی شارٹ شرٹ کے اوپر والے دو بٹن کھلے ہوۓ اور جینز کی ٹائٹ پینٹ  میں ملبوس وہ بالکل غنڈا قسم کی محسوس ہو رہی تھی۔

ماہی نے شاپر اپنی ماں کو پکڑائے اور عالیہ بیگم کو آکر سلام کیا۔

"وعلیکم السلام !" وہ اسے گھورتے ہوئے بولیں ۔

"وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنٹی۔۔۔۔۔آپ اتنی جلدی آ گئیں؟ آنے سے پہلے کال کر لیتیں تو چلو میں اپنا حلیہ کچھ بہتر کر لیتی۔" اس نے شرمندگی سے کہا۔

"کوئی بات نہیں"۔

"میں ذرا چینج کرکے آتی ہوں"۔

"نہیں ایسے ہی ٹھیک ہے۔ بیٹھ جاؤ تم میرے پاس۔"

"جی"۔ 

"آپ ٹھنڈا لیں گی یا گرم؟" شہناز بی بی نے ادب سے پوچھا۔

"کچھ بھی"۔

"ٹھیک ہے"۔ 

شہناز بی بی غصے سے ماہین کو دیکھتی ہوئی کچن میں چلی گئیں۔

"بیٹا کیا کرتی ہو تم؟" عالیہ بیگم نے ماہین کی جانب دیکھا۔

"وہ۔۔۔م۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔"

"ریلیکس رہو ماہین۔ ہو جاتا ہے کبھی کبھی۔"

"جی۔ آنٹی میں کسی کمپنی میں جاب کرتی ہوں۔ "

"اچھا کیا کام کرتی ہو کمپنی میں؟"

"میں وہاں کے باس کی اسسٹنٹ کی اسسٹنٹ ہوں"۔

"اچھا"۔

"کوالیفکیشن کیا ہے تمہاری؟"

"جی میں نے بی - اے کیا ہوا ہے"۔

"صیح"۔

"اکلوتی ہی ہو؟"

"جی"۔

"کتنی سیلری لیتی ہو؟"

"تقریباً اب تو ایک لاکھ ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ کمیشن الگ۔"

"ماشاءاللّٰہ "۔

اتنے میں شہناز بی بی ٹرے میں چند کھانے پینے کی چیزیں اٹھاۓ سامنے کرسی پر آ کر بیٹھ گئیں "۔

"لیں مسز احمد!"

"شکریہ"۔ انہوں نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔

"کیا نام ہے آپ کے بیٹے کا؟"

"عرشمان۔"

"اچھا کتنا پڑھا ہوا ہے آپ کا بیٹا؟ مطلب کیا کرتا ہے؟"

"اس نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے انجینرنگ کی ہے۔ اور ماشاء اللّٰہ سے امریکہ میں اپنا بزنس سنبھال رہا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی واپس آیا ہے۔"

"ماشاءاللّٰہ ! ماشاءاللّٰہ !"

"سنا ہے کہ آپ لوگ کافی امیر ہیں۔ اور آپ کے حلیے سے دیکھ کر بھی لگ رہا ہے۔ تو آپ ہم جیسے غریبوں کے گھر کیسے آگئیں؟"

"ہاہاہاہاہاہا۔ ایسی بات نہیں ہے۔ میرے نزدیک پیسے کی کوئی اہمیت نہیں۔ انسان کا اخلاق اچھا ہونا چاہیے۔"

"جی بالکل !"

"آپ کے خاوند ساتھ نہیں آئے؟"

"ان کی کچھ ضروری میٹنگ تھی آج۔ اس لیے نہیں آ سکے۔ لیکن نیکسٹ ٹائم ضرور آئیں گے۔"

"اچھا ! اچھا !"

"آپ کی بیٹی ماشاءاللّٰہ بہت پیاری ہے۔ مجھے بہت پسند آئی۔"

"یہ تو آپکا بڑکپن ہے جی"۔

"ارے اس میں بڑکپن والی کیا بات ہے؟ اچھا میں چاہتی ہوں کہ ایک بار ماہین اور عرشمان ایک دوسرے سے مل لیں۔ آپ کیا کہتی ہیں؟"

"جی جی ضرور مل لیں۔ مجھے تو کوئی اعتراض نہیں"۔

"چلیں ٹھیک ہے پھر۔ میں آپ کو عرشمان سے پوچھ کر بتا دوں گی۔"

"ٹھیک ہے"۔

کافی دیر باتیں کرنے کے بعد عالیہ بیگم نے اجازت چاہی۔

"ارے ! تھوڑی دیر اور بیٹھ جاتیں آپ آنٹی"۔ ماہی نے التجا کی۔

"نہیں بیٹا ! گھر میں پہلے ہی کوئی نہیں ہے اور میں زیادہ دیر تک اپنے گھر کو نوکروں کے آسرے پر نہیں چھوڑتی۔ عرشمان تو دوستوں کے ساتھ باہر گھومنے گیا ہے۔ اس لئے مجھے جلدی جانا ہوگا۔"

"چلیں ٹھیک ہے۔ اللّٰہ حافظ"۔

"خدا حافظ "۔

گلے ملنے کے بعد عالیہ بیگم گاڑی میں بیٹھیں اور اپنے گھر کی جانب گامزن ہوگئیں۔

"عادل؟" وہ اسکے پاس آکر بولی۔

عادل اپنے کمرے میں بیٹھا دفتر کے کوئی کاغذات دیکھنے میں مصروف تھا۔

"ہاں"۔

"احد کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے۔ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے۔"

"کیوں کیا ہوا ہے اسے ؟"

"نزلہ ، زکام اور ہلکا سا بخار بھی ہے"۔

"نزلہ زکام تو عام سی بات ہے۔ کوئی گولی وغیرہ دو۔ ٹھیک ہو جائے گا خود ہی۔"

"عادل میں اسے کوئی گولی نہیں دے رہی۔ تم۔اٹھو اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ۔"

"میں نہیں جا رہا۔"

"تو کیا اسے مرتا رہنے دو گے پھر؟" 

"عینا ! میرا دماغ خراب مت کرو۔ اور چلی جاؤ یہاں سے۔" اس نے بھی سختی سے کہا۔

"یُو نو وٹ؟ تم صرف نام کے باپ ہو۔ تمہیں تو اپنے بیٹے کی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور پتہ نہیں میں بھی کیوں تمھارے ساتھ رہ رہی ہوں۔ اب میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ میں مزید تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ مجھے طلاق چاہیئے "۔

"ہاہاہاہاہاہاہا۔ تم نے کئی بار مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا ہے۔ مگر ہر بار میں نے تمہیں ایک ہی جواب دیا ہے۔ اور آج بھی یہی جواب دوں گا کہ میں تمہیں طلاق کبھی نہیں دوں گا۔ تم جو کر سکتی ہو کر لو۔ تمہیں میرے ساتھ ہی رہنا پڑے گا ہر صورت میں۔"

"نہیں میں اب مزید تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی"۔

"اچھا تو پھر کیا کروں گی تم؟"

"میں نے سوچ لیا ہے کہ میں کورٹ سے خلع لے لوں گی۔"

"مگر خلع بھی تب ہی ہو گئی جب میں خلع کے کاغذات پر دستخط کروں گا۔ اور میں کسی بھی صورت دستخط نہیں کروں گا میری جان !" اس نے طمانیت سے کہا۔

"مجھے اپنی جان مت بولا کرو۔ کتنی بار کہا ہے میں نے تم سے۔ تمہیں میری بات سمجھ میں نہیں آتی؟" وہ غررائی۔

"نہیں"۔

"اب تم چاہے دستخط کرو یا نہ کرو۔ مگر میں تمہارے ساتھ نہیں رہوں گی"۔

"تو پھر کہاں رہو گی؟"

"جب تک ہماری خلع نہیں ہو جاتی تب تک صرف تمہارے ساتھ ہوں۔ اور جس دن خلع ہو گئی۔ اس دن تمہاری طرف واپس پلٹ کر بھی نہیں دیکھوں گی میں۔"

"اچھا اور احد؟"

"احد میرے ساتھ رہے گا"۔

"ویسے جتنا عرصہ ہماری شادی کو ہو چکا ہے ناں اب تک تمہیں مجھے دل سے قبول کر لینا چاہیے تھا۔ مگر تمہارے دل میں تو پتہ نہیں کس گھٹیا انسان کی چاہت ہے۔ اتنا عرصہ میرے ساتھ گزارنے کے باوجود بھی تم اس بـے غیرت لڑکے کو اپنے دماغ سے نہیں نکال سکی ناں؟"

"تمہارے گھٹیا یا بـے غیرت کہنے سے وہ ویسا بن نہیں جائے گا عادل۔ بس انسان جیسا خود ہوتا ہے اسے لگتا ہے کہ ساری دنیا ہی ویسی ہے۔" اس نے بھی منہ توڑ جواب دیا۔

"اپنی بکواس بند کرو تم"۔ وہ غصے سے اٹھ کر اسکا منہ پکڑتے ہوۓ بولا۔

"ورنہ کیا کرو گے تم ہاں؟" اس نے جھٹکے سے اسکا ہاتھ پیچھے کیا۔

"طلاق تو بالکل نہیں دوں گا۔ مگر جان سے مار دوں گا میں تمہیں۔"

"اتنی ہمت نہیں ہے تمہاری"۔

"ہمت کی بات مت کرو۔ ہمت اب بہت ہے۔ کیونکہ اب تمہارا ساتھ دینے کے لیے تمہارا باپ زندہ نہیں ہے۔"

"بالکل صحیح کہا تم نے۔ بـے شک میرا باپ زندہ نہیں ہے۔ مگر اس باپ کی بہادر بیٹی نورالعین آج بھی زندہ ہے۔ جو اپنے حق کیلئے خود آواز اٹھا سکتی ہے۔" وہ اس کے روبرو کھڑی ہو کر بولی۔

"مجھے تم سے مزید کوئی بحث نہیں کرنی۔ فی الحال چلی جاؤ یہاں سے"۔

"جا رہی ہوں اور انشاء اللّٰہ بہت جلد تمہاری زندگی سے بھی چلی جاؤں گی۔" وہ غصے سے چلاتی ہوئی کوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"آؤ بیٹا ! بہت جلدی واپس آئے ہو"۔ عالیہ بیگم نے اس سے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ کر طنزیہ انداز میں کہا۔

"لو بھئی ! ہو گئی پھر سے کلاس شروع"۔ وہ آنکھیں گھماتا ہوا بولا۔

"بیٹا تم صبح سے گھر سے نکلے ہوئے ہو اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے۔ اور اب عشاء کے وقت گھر واپس آ رہے ہو۔ ایسے کون سے ضروری دوست تھے جن کے ساتھ تمہیں پورا دن لگ گیا؟"

"موم ! صرف حمزہ ہی نہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی میرے بہت سے دوست ہیں۔ مختلف دوستوں سے مل کر آیا ہوں۔ آج کافی انجوائے کیا میں نے۔"

"عرشمان اب یہ فضول کی دوستیاں چھوڑ دو۔ کل سے تم آفس جا رہے ہو اور آج مجھے تمہارے لئے لڑکی بھی پسند آگئی ہے۔ تم بتاؤ کب ملو گے  اس سے؟"

"اُف موم ! یار اب آپ نے کون سی لڑکی پسند کرلی ہے میرے لئے؟ اور کس سے ملنا ہے مجھے؟"

"ماہین"۔

"کون ماہین؟"

"جو بہت جلد تمہاری بیوی بنے گی وہ۔"

"ابـے یار کون ہے یہ ماہین؟ کہاں رہتی ہے؟ کیسی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ کچھ جانا بھی ہے آپ نے؟ یا بس ایسے ہی اس کو میرے سر پر تھوپ رہی ہیں آپ؟"

"ساری انفارمیشن لے لی ہے میں نے۔ اور رہی بات ماہین دِکھنے میں کیسی ہے۔ تو میں نے تمہیں تصویر دکھائی تھی۔ مگر تم نے دیکھی ہی نہیں۔ اب میں نے تصویر واپس بھیج دی ہے۔ تم ایک کام کرو ، وقت بتا دو مجھے۔ تم کس ٹائم فری ہوگے۔ میں ماہین کو بلا لوں گی۔ تم اس سے ملاقات کر لینا اور جان لینا کہ کیسی ہے وہ۔ پھر مجھے بتانا۔ اگر تمہیں وہ پسند آئی تو میں تمہاری جھٹ سے شادی کروا دوں گی اس سے۔" وہ چٹکی بجا کر بولیں۔

"اوہ پلیز موم ! جیسی بھی ہے بس ٹھیک ہے۔ مجھے نہیں ملنا کسی سے"۔

"مگر بیٹا تم نے پوری زندگی گزارنی ہے اس کے ساتھ۔ کم از کم اسے ایک بار دیکھ تو لو۔ کہ وہ دِکھنے میں کیسی ہے۔"

"نہیں موم۔ آپ نے دیکھ لی بس کافی ہے"۔ اس نے اپنی بات مکمل کی اور سیڑھیوں پھلانگتا ہوا کمرے میں چلا گیا۔

"کیا تھا اگر ایک بار مل لیتا اس سے۔ لیکن ڈھیٹ ہے یہ لڑکا"۔ وہ منہ میں ہی بڑبڑائیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"چلو ! چلو ! جلدی ہٹاؤ یہاں سے یہ سب"۔ گلشن نے ایک آدمی کو اس کے ٹیبل سے ساری فائلز اٹھانے کو کہا۔ آج

وہ تیزی سے ادھر اُدھر بھاگتے ہوئے کام کر رہی تھی۔

"السلام علیکم گلشن خیریت تو ہے؟ آج اتنی تیزی سے کام کیوں کر رہی ہو؟ کیا جلدی ہے؟" وہ پینٹ شرٹ پہنے ہوۓ اسکے پاس آکر بولی۔

"ٹائم نہیں ہے میرے پاس تم سے باتیں کرنے کا۔ تم بس ایک بات ذہن نشین کر لو کہ کسی بھی بندے سے بدتمیزی نہیں کرو گی آج"۔ اس نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

"مگر ہوا کیا ہے؟ اور میں نے کس سے بدتمیزی کی؟"

"یار تمہیں کہہ رہی ہوں ناں میں۔ تم آج چپ رہنا پلیز۔ اگر تم چاہتی ہو کہ تمہاری نوکری قائم رہے تو تم اپنا منہ بند رکھنا۔"

"تمہاری اس جلدی کا میری نوکری سے کیا تعلق ہے؟ صاف بتاؤ مجھے گلشن"۔ اس نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔

"تو پھر سنو ! آج مسٹر عرشمان احمد ملِک صاحب آرہے ہیں۔ اور آج سے یہ آفس وہی سنبھالیں گے۔ سمجھ میں آگئی؟"

"کون عرشمان؟" وہ حیرانگی سے بولی۔

"ارے واہ ! اتنی جلدی بھول بھی گئی تم؟"

"مجھے سچ میں نہیں یاد گلشن۔ تم کس کی بات کر رہی ہو؟"

"اپنے باس احمد ملِک صاحب کے صاحبزادے مسٹر عرشمان احمد ملِک صاحب۔ جن سے تم نے آج سے دو سال پہلے بدتمیزی کی تھی۔ جب تم نئی نئی اس جاب پر لگی تھی تب۔ یاد آیا کچھ؟"

"ہاۓ اللّٰہ ! وہ سڑیل؟" وہ چونک کر بولی۔

"جی"۔ اس نے اپنی بات کو زور دیتے ہوۓ کہا۔

"رُل گئے پھر تو ہم سمجھو "۔ وہ مایوسی سے بولی۔

"شاید! اب جلدی کرو۔ تمہارا بھی کوئی کام رہتا ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

وہ بات کرتے کرتے خاموش ہو گئی۔ کیونکہ دور سے عرشمان اور احمد ملِک آ رہے تھے اور سب ادب سے انہیں سلام کر رہے تھے۔ پھر گلشن بھاگتی ہوئی انکے پاس جاکر کھڑی ہو گئی اور انہیں سلام کرتے ہوۓ انکی پیروی کرنے لگی۔ ماہین سر سے لیکر پاؤں تک پھٹی نظروں سے عرشمان کو گھور رہی تھی۔ لیکن عرشمان نے اسکے پاس سے گزرتے ہوۓ ایک نظر بھی اس پر نہ دوڑائی۔ لیکن احمد ملِک نے اسے بھی اپنے کیبن میں آنے کا اشارہ کیا۔ وہ بھی گلشن کی طرح تیزی سے چلتی ہوئی انکے پیچھے ہو لی۔

کیبن میں جا کر احمد ملِک خود سامنے والی چئیر پر بیٹھ گئے اور عرشمان انکے ساتھ والی پر۔ وہ دونوں احتراماً سر جھکاۓ انکے سامنے کھڑی تھیں۔

"گلشن !" احمد ملِک نے گلشن کی جانب دیکھا۔

"جی باس !" وہ ادب سے بولی۔

"بشارت صاحب کو بھی میں نے بتا دیا ہے اور اس آفس کے لگ بھگ سبھی لوگوں کو پتا ہے اور تم بھی جانتی ہی ہوگی کہ اپنا یہ بزنس میں اب اپنے بیٹے عرشمان کے حوالے کر رہا ہوں اور خود امریکہ والے بزنس پر فوکس کروں گا۔"

"یس سر"۔

"تم ایک بہت ہی وفا دار ایمپائر ہو میری کمپنی کی۔ اور آج سے عرشمان یہاں کا سی -ای -او ہے۔ اور اب تم میری نہیں بلکہ عرشمان کی اسسٹنٹ ہو"۔

"جی سر"۔

"اور نشا بیٹا تم بھی آج سے عرشمان کے انڈر ہی کام کرو گی۔" 

اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

"ہمممممم۔ پھر ملیں گے انشاء اللّٰہ "۔ احمد ملِک اپنی بات کہہ کر اٹھے اور چلے گئے۔

مگر عرشمان اب بھی سامنے کرسی پر براجمان تھا۔ اور عجیب نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

"تم جاؤ گلشن"۔

"جی سر"۔ عرشمان کے حکم پر وہ فوراً کیبن سے باہر چلی گئی۔

"تو تمہارا نام نشا ہے؟ مگر تم نے تو آئی تھینک کچھ اور بتایا تھا؟" وہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔

"جی ماہین نام بتایا تھا اور ماہی"۔

"تو اس کا مطلب تمہارا نام نشا نہیں ہے؟"

"نہیں۔۔۔۔مم۔۔۔۔میرا مطلب۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔"۔

"کیا نہیں؟ کیا  ہاں؟ کیا نام ہے تمہارا؟" اس نے سختی سے پوچھا۔

"میرا نام  نشا خالد ہے۔ اور مجھے سب پیار سے ماہین عُرف ماہی کہتے ہیں"۔ وہ جھٹ سے بولی۔

"ایک ہی انسان کے تین نام؟"

"جی"۔

"ٹھیک ہے۔ جاؤ میرے لئے ایک کپ چائے لے کر آؤ۔" 

"جی سر"۔

"لگتا ہے گلشن نے کافی تمیز سکھا دی ہے تمہیں۔ خیر کافی اچھا لگا دیکھ کر۔" اس نے طنزیہ مسکراہٹ سے کہا۔

"جی"۔ وہ اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے بولی۔

اور پھر تیزی سے قدم دوڑاتی ہوئی کیبن کے باہر آئی۔

"اُف ! میرا بس چلے تو اس کو جان سے مار دوں۔ اب کیا ساری زندگی اس سڑیل انسان کے نیچے رہ کر کام کرنا پڑے گا؟ یہ حکم بھی دیتا ہے تو آگ لگ جاتی ہے مجھے۔" وہ غصے سے بڑبڑاتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔

"کیا ہوا کس پر اتنا غصہ کر رہی ہو؟" عمیر نے اسے پاس سے گزرتے ہوۓ دیکھ کر پوچھا۔

"وہ آیا نہیں ہے آج ہمارا نیا سڑیل باس مسٹر عرشمان احمد ملک صاحب !"

عمیر بھی اسی کمپنی کا ایک ایمپلائر تھا۔ اس کی اور ماہی کی دوستی تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ہوئی تھی۔ وہ ماہین کو پسند بھی کرنے لگا تھا مگر اظہار کرنے سے ڈرتا تھا کیونکہ ماہین کا رویہ اکثر سخت ہوتا تھا۔

"کیوں کیا ہوا؟"

"مجھ پر عجیب طریقے سے رعب جماتا ہے۔ مان لیا کہ اس کمپنی کا نیا باس ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اگلے بندے سے اس طرح سوال کرے جیسے اس کے اوپر حاکم لگا ہوا ہو۔ مجھے چائے لانے کا آرڈر ایسے دیا ہے جیسے میں اس کی اسسٹنٹ نہیں بلکہ اس کی نوکرانی ہوں۔ میرا تو بس نہیں چل رہا ورنہ اس کا گلا دبا دوں میں۔" 

"اہمممم۔۔۔۔۔۔اہممممم"۔

عرشمان کے کھنکھارنے کی آواز سن کر اس نے فوراً پیچھے مڑ کر دیکھا۔

"مر گئی آج تو"۔ وہ آنکھیں میچتی ہوئی دھیمی آواز میں بولی۔

"کیا کہہ رہی تھیں آپ مس نشا۔۔۔۔عرف ماہین۔۔۔۔۔۔عرف ماہی؟"

"ک۔۔۔ک۔۔۔۔ک۔۔۔۔کچھ ۔۔۔ن۔۔۔۔۔نہیں سر"۔ وہ اٹک کر بولی۔

"گلا دبانا چاہتی ہیں آپ میرا؟" اس نے اپنے دونوں بازو باندھتے ہوئے کہا۔

ماہین نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبا دیا۔

"مجھ پر فوکس کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اپنے کام پر فوکس کریں۔ ورنہ مجھے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگے گا آپ کو اس جاب سے نکالنے میں"۔ وہ سخت لہجے میں مخاطب ہوا۔

"ج۔۔۔ج۔۔۔۔جی۔۔۔۔"۔ پھر وہ فوراً بھاگتی ہوئی چائے لینے چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج آفس سے واپسی پر وہ حمزہ کے ساتھ اس کی بہن نائمہ کی شادی کی خریداری کے لیے شاپنگ مال آیا تھا۔ شاپنگ سے واپسی پر مال سے باہر نکلتے وقت اس کی نظر ایک چھوٹے بچے پر پڑی جو اکیلا کھڑا رو رہا تھا۔ حمزہ کو کسی کی کال آئی تو وہ کال سننے کے لیے سائیڈ پر چلا گیا۔ مگر وہ مسلسل کھڑا اس بچے کو روتا دیکھ رہا تھا۔

"بیٹا ! کیا ہوا؟ کیوں رو رہے ہو آپ؟" وہ اسکے قریب آکر اسکے آنسو صاف کرتے ہوۓ بولا۔

"مما۔۔۔"۔ صرف اتنا بول کر اس نے پھر سے رونا شروع کر دیا عرشمان سمجھ چکا تھا کہ شاید اس کی مما کہیں کھو گئی ہیں۔

"بیٹا کہاں ہیں آپ کی مما"؟ اس نے پیار سے پوچھا۔ مگر بچے نے ادھر اُدھر اشارہ کیا اور پھر آنسو بہانے شروع کر دئیے۔

عرشمان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہر طرف دیکھا مگر اسے کہیں بھی اس کی ماں نظر نہ آئی۔ 

"احد !" اچانک کسی نے اسے پیچھے سے آواز دی۔ اور پھر بھاگتی ہوئی آ کر بچے سے لپٹ کر اس کا منہ چومنے لگی۔

"بیٹا کہاں چلے گئے تھے تم؟ مما پریشان ہو جاتی ہیں۔ تمہیں میں نے چیئر پر بیٹھنے کا کہا تھا اور تم ادھر بھاگ آۓ۔" وہ اسے پیار کرتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔ مگر عرشمان خاموش کھڑا پھٹی آنکھوں سے عینا کی جانب دیکھ رہا تھا۔

"آپکا شکری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" وہ اسکی طرف کر بولتی ہوئی اچانک چپ ہو گئی۔ آج پھر سے اسکا دل پہلے کی طرح زور سے دھڑکا تھا۔

کافی دیر تک وہ دونوں ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔

"عرشمان!" حمزہ کی آواز پر اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔

"ارے ! عینا تم؟" وہ چونک کر بولا۔

"ہممممم۔ کیسے ہو حمزہ؟"

"میں ٹھیک۔ مگر تم یہاں کیا کر رہی ہو؟"

"کچھ نہیں وہ بس احد کے کچھ کپڑے لینے تھے۔ اس لئے۔"

"اوہ اچھا"۔ 

وہ خاموش کھڑا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔

"اور تم کیسے ہو عرشمان ؟" 

عرشمان نے نفرت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔ اور اپنے جذبات کو کنٹرول کرتے ہوئے بنا کچھ بولے فوراً وہاں سے چلا گیا۔

"بالکل نہیں بدلا یہ۔ آج بھی بالکل ویسے کا ویسا ہی کھڑوس ہے۔" اس نے ہنس کر کہا۔

"ہاں ۔ اچھا عینا میں بھی چلتا ہوں۔ عرشمان گاڑی میں میرا ویٹ کر رہا ہو گا۔ پھر کبھی ملیں گے۔"

"اوکے"۔ 

وہ بھاگتا ہوا مال سے باہر گیا۔ اس نے بھی تیز تیز قدم باہر کی جانب بڑھاۓ اور عرشمان کو گاڑی میں بیٹھ کر جاتا ہوا دیکھنے لگی۔ وہ تب تک اس کی گاڑی کو دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی۔

نہ جانے کیوں آج اس کی آنکھوں سے پھر اپنی کچھ ادھوری حسرتوں کو یاد کرکے آنسو بہنے لگے تھے۔ 

"پتہ نہیں عرشمان ! اب تم مجھ سے محبت کرتے ہو گے یا نہیں۔ یا شاید تمہاری زندگی میں کوئی اور آگیا ہوگا۔ آج تمہاری آنکھوں میں میرے لئے صرف نفرت دکھائی دے رہی تھی۔ وہ نورالعین جسے تم ہمیشہ پیار سے دیکھتے تھے۔ جس کی باتیں ہمیشہ تمہارے دل کو لبھاتی تھیں۔ آج اس کے سامنے بولنا تو دور۔ بلکہ تم نے تو اپنی آواز تک نہیں سنائی اسے۔ میں تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ میں آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی پہلے کبھی کیا کرتی تھی۔ مگر کیا کروں؟ مجبور ہوں۔" خود کی سوچوں میں الجھتے ہوۓ دل ہی دل میں کسی نے اسکے اندر سرگوشی کی ۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا۔ ان کے ملنے کے کچھ دن بعد ہی عادل اور احد کا ایکسیڈینٹ ہوا اور وہ دونوں اس میں اپنی جان کی بازی ہار بیٹھے۔ عینا احد کی موت پر بہت چیخ کر روئی تھی۔ اور آج اس کی عدت مکمل ہو گئی تھی اور دوسری طرف عرشمان کی شادی کی ڈیٹ بھی طے کرلی گئی۔ اپنی عدت مکمل ہونے کے بعد وہ نمرہ کے ساتھ اس کے فلیٹ میں رہنے لگی۔ کیونکہ نمرہ بھی اپنے بھائی شہریار کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔ اس لئے اس نے بھی اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لئے نمرہ کے ساتھ رہنا مناسب سمجھا۔ دوسری طرف عرشمان اور ماہین اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے محرم بننے جارہے ہیں۔ ماہین کے سامنے یہ سچائی تب کھلی جب آج احمد ملِک ابراہیم ، عالیہ بیگم کے ساتھ شادی کی تاریخ طے کرنے ماہین کے گھر پہنچے۔ ماہین کو دیکھ کر وہ بھی دنگ رہ گئے۔ اب انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ ماہین نے ان سے جھوٹ بولا۔ مگر انہوں نے عالیہ بیگم سے کچھ نہ کہا۔ کیونکہ وہ پہلے سچائی جاننا چاہتے تھے اور اسی لئے آج انھوں نے ماہین سے ملاقات کے لیے اسے ایک ہوٹل میں بلایا تھا۔

"بیٹا اب تم مجھے بتاؤ کہ تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟ میں آج تک یہی سمجھتا رہا کہ تم میرے دوست کی بیٹی نشاء ہو۔ لیکن تم تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر میں وجہ جاننا چاہتا ہوں یہ جھوٹ بولنے کی؟" وہ سامنے والی چئیر پر بیٹھے ماہین سے کہہ رہے تھے۔ 

"آئی ایم سوری سر ! میں آپ کو سچ بتانا چاہتی تھی۔ مگر بتا نہیں پائی۔ دراصل میں اپنی سی- وی لے کر ہی آپ کے آفس میں انٹرویو دینے کے لیے آئی تھی۔ مگر جب میں وہاں  پہنچی تو نشاء خالد نام کی لڑکی بھی وہیں پر موجود تھی۔ اس نے کسی غصے میں آکر اپنی فائل پھینکی اور چلی گئی۔میں نے وہ فائل اٹھائی اور گلشن کے پاس گئی۔ تب گلشن نے اوپر والی فائل اٹھائی اور مجھے نشاء خالد سمجھ لیا۔ میں نے اسے بتانے کی کوشش بھی کی مگر اس نے میری بات سنی ہی نہیں۔  سر میں اس وقت مجبوری تھی۔ میرے لیے یہ نوکری بہت ضروری تھی۔ کیونکہ اگر مجھے نوکری نہ ملتی تو میری ماں کو طرح طرح کے لوگوں کی باتیں سننی پڑتیں۔ ہم قرض دار لوگ تھے۔ اس لیے اپنا قرضہ اتارنے کے لیے میں نے وقتی طور پر خاموش رہنا ضروری سمجھا۔ مگر آج مجھے احساس ہوا ہے کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی۔ آج ہمارے سارے قرضے بھی اتر چکے ہیں اور جب آپ کو سچ بتانے کا وقت آیا۔ تب آپ کے بیٹے عرشمان صاحب ہمارے آفس کے باس بن گئے۔ اور میں ان کے سامنے سچ بتا کر خود کو ان کی نظروں میں نہیں گرانا چاہتی تھی۔ ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجیے گا سر !" اس نے اپنا سر جھکا لیا۔

"بیٹا اگر ایسی بات تھی تو تم مجھے سچ بتا دیتی۔ میں تمہیں نوکری دے دیتا۔ بس تمہیں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا۔ خیر اب تو جو ہونا تھا ہو چکا ہے۔ میں تمہاری غلطی کو معاف کرتا ہوں۔ لیکن تم عرشمان کو سچ بتا دوگی۔ تو بہتر رہے گا۔"

"نہیں سر میں فی الحال انہیں سچ نہیں بتا سکتی۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارا رشتہ طے ہو چکا ہے۔ شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہو گئی ہے اور کچھ دنوں تک ہماری شادی بھی ہوجائے گی۔ اس صورتحال میں انہیں سب سچ بتا کر میں ان کی نظروں میں گرنا نہیں چاہتی۔ لیکن میرا آپ سے وعدہ ہے کہ نکاح کے فوراً بعد ہی میں انھیں سب کچھ سچ سچ بتا دوں گی۔ کیونکہ میں اپنے رشتے کا آغاز کسی بھی جھوٹ سے نہیں کرنا چاہتی۔"

"کیا عرشمان جانتا ہے کہ تم اس کی ہونے والی بیوی ہو؟"

"سر وہ جس طرح سے ہیہیو (behave) کرتے ہیں۔ تو ان کے رویے سے مجھے نہیں لگتا کہ انہیں اندازہ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی انسان اپنی ہونے والی بیوی سے اس طرح ٹریٹ نہیں کرتا جیسے وہ میرے ساتھ کرتے ہیں۔ "

"ہمممم۔ ٹھیک ہے میں عرشمان سے بات کروں گا اور اسے کہوں گا کہ تم سے ایک بار مل لے۔"

"نہیں سر ! آپ انہیں کچھ مت بتائیے گا۔ میرے خیال سے وہ نہیں جانتے کہ میں ان کی ہونے والی بیوی ہوں۔ اور میں اس راز کو راز ہی رکھنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ اگر انہوں نے رشتے سے انکار کر دیا تو میری ماں کے سارے خواب ٹوٹ جائیں گے۔ اور میں انہیں تکلیف نہیں دینا چاہتی۔ پلیز سر آپ سے ریکویسٹ ہے کہ آپ اس راز کو ہمارے نکاح تک راز ہی رہنے دیں۔ نکاح کے بعد انہیں پتہ چل ہی جائے گا سب کچھ ۔"

"چلو ٹھیک ہے بیٹا لیکن آج کے بعد تم مجھے سر نہیں کہو گی"۔

"تو پھر کیا کہوں گی؟"

"فی الحال انکل اور شادی کے بعد بابا کہہ سکتی ہو"۔

"جی"۔ وہ مسکرا دی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"یار کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں۔ میں بس کسی بھی طریقے سے ان دونوں کو ملوانا چاہتا ہوں"۔ وہ آج نمرہ سے ملنے اسکے کلینک گیا تھا۔

"وہ سب ٹھیک ہے لیکن ہم انہیں ملوائیں کیسے؟ دیکھو عینا کو میں منا لوں گی۔ اس کی لائف میں کوئی بھی نہیں ہے اب۔ احد کے بعد وہ خود سے بھی بے زار ہونے لگی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی زندگی میں اب کچھ نہیں بچا۔ وہ بالکل اکیلی ہے۔ اور اس کے دل میں اب بھی عرشمان کے لیے چاہت ہے۔ لیکن کیا عرشمان اسے قبول کرے گا؟ اور اب تو اس کی  شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہو گئی ہے۔ کیا پھر وہ اتنا بڑا اسٹینڈ لے گا عینا کیلئے ؟"

"دیکھو جہاں چاہت ہوتی ہے نہ وہاں بندہ اسٹینڈ بھی لے لیتا ہے۔ اور میں نے اس سے اس متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی۔ لیکن اب ضرور کروں گا۔ اور میں اس چانس کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم چاروں پھر سے ایک ہو جائیں۔ پھر سے گھومنے پھرنے جایا کریں۔ زندگی کو انجوائے کریں۔ ان دونوں کے درمیان جتنی بھی تلخیاں ہیں وہ سب ختم ہو جائیں۔ یہ ایک دوسرے سے لڑیں ، ایک دوسرے کو منائیں اور خوش رہیں بالکل۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارا یہ چُکٹّا گروپ کبھی بھی نہ ٹوٹے۔"

"ہاں یار ! میں بھی یہی چاہتی ہو کہ ہم دونوں کی شادی پر عرشمان اور عینا دونوں کپل بن کر شامل ہوں۔"

"چلو ٹھیک ہے تم عینا کو کنوینس کرنے کی کوشش کرو۔ اور میں عرشمان کو"۔

"لیکن عینا کی طرف سے ہاں ہی ہے مجھے کنفرم پتا ہے۔ تم بس عرشمان کو مناؤ۔"

"اوکے "۔

"اچھا تمہارے کلینک اسپیشل تم سے ملنے آیا ہوں۔ اب چائے کا نہیں پوچھو گی؟"

"ہاہاہاہاہاہا ۔ ضرور"۔

"مے آئی کم اِن سر؟" اس نے کیبن کے دروازے پر نوک کرتے ہوئے پوچھا۔

"یس"۔

"سر یہ آج کی جو میٹنگ ہے اس کے حوالے سے کچھ ڈیٹیلز ہیں۔ آپ یہ دیکھ لیں۔"

"اوکے"۔

"میں نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تم میرے ہسبینڈ بنو گے۔ یار تم تو اتنے سڑیل ہو ایک نظر اٹھا کر بھی میری طرف نہیں دیکھتے۔ تو شادی کے بعد کیا کرو گے؟ ہائے ! جب تم مجھے اپنی بیوی کے روپ میں دیکھو گے تب تمہارے فیس ایکسپریشن کیسے ہوں گے۔ کیا تم مجھ سے پیار سے بات کرو گے؟ یا اسی طریقے سے سڑی ہوئی شکل لے کر مجھ پر رعب جماؤ گے؟ کیسا لمحہ ہوگا نہ وہ۔ شدت سے انتظار میں ہوں میں جب تم مجھ سے پیار بھری باتیں کرو گے۔ لیکن کیا تم بھی کبھی پیار والے لہجے سے دیکھو گے میری طرف؟ کیا تم بھی مجھ سے پیار سے بات کرو گے کبھی؟" فائل ٹیبل پر رکھنے کے بعد وہ کتنی ہی دیر عرشمان کے چہرے کی جانب دیکھتے ہوئے اندر ہی اندر خود سے مخاطب تھی۔

عرشمان نے جیسے ہی نظر اوپر اٹھائی تو اسے اس طرح گھورتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا۔

پھر اچانک وہ اپنے خیالوں کی دنیا سے باہر آئی اور کیبن سے واپس جانے کے لئے دروازے کی طرف مڑی۔

"مس ماہین؟" عرشمان کی آواز پر اس نے کھٹک کر پیچھے کی جانب دیکھا۔

"ج۔۔۔ج۔۔۔جی سر"۔

"آپ کون ہیں؟ ماہین یا نشاء؟"

"ک۔۔ک۔۔۔کیا مطلب؟" عرشمان کے سوال پر اس نے چونک کر پوچھا۔

"آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟ میں جانتا ہوں کہ آپ نشاء خالد نہیں ہیں"۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوا اسکے قریب آکر بولا۔

ماہین کے پاؤں سے تو جیسے زمین ہی نکل گئی۔ وہ تو اسے نکاح کے بعد سب کچھ بتانا چاہتی تھی تو کیا احمد ملِک نے اسے سب کچھ پہلے ہی بتا دیا تھا؟ طرح طرح کے سوالات اسے زہن میں گھوم رہے تھے۔

"میں آپ سے مخاطب ہوں۔ مس ماہین افگن"۔ اپنا مکمل نام سن کر اس نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا ۔

"آپ یہی سوچ رہی ہونگی نہ کہ مجھے یہ سب کیسے پتا چلا؟ تو سنیں ! آپ کے حلیے سے کوئی بھی دیکھ کر یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ آپ کسی امیر گھرانے کی لڑکی نہیں ہیں۔ اور آپ نے جب مجھے اپنے تین نام بتاۓ تو میرے زہن میں شک پیدا ہو گیا۔ اور اسکے علاوہ ایک امیر باپ کی بیٹی جس سے بچپن میں میری کافی اچھی انڈر سٹینڈنگ تھی بھلا وہ کیسے میری اسسٹنٹ بن کر رہ سکتی ہے۔ ان سب باتوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اور جب میں نے آپکی سی-وی دیکھی تو اس پر تین زبانیں لکھی ہوئی تھیں کہ آپکو عربی، انگلش اور فارسی آتی ہے۔ مگر آپکو تو عربی اور فارسی تو دور انگلش بھی صیح طریقے سے نہیں آتی۔ اب آپ مجھے بتانا مناسب سمجھیں گی کہ آپ کون ہیں؟ اور یہاں میری کمپنی میں پچھلے دو سال سے کس کی جاسوس بن کر کام کر رہی ہیں؟" وہ رعب دار لہجے میں بولا تھا۔

"نہیں۔ میں کسی کی جاسوس نہیں ہوں۔" اس نے سہم کر کہا۔

"تو پھر کون ہو تم ؟ اور کسی اور کا نام استعمال کرکے یہاں کام کیوں کر رہی ہو؟"

"یہ سچ ہے کہ میں نشا نہیں ہوں مگر یہ بھی سچ ہے کہ میں نے یہ سب جان بوجھ کر نہیں کیا اور نہ ہی میں نے کسی کے نام کا کوئی غلط استعمال کیا ہے"۔

"میرے ڈیڈ کو پچھلے دو سالوں سے تم بے وقوف بنا رہی تھی۔ مگر مجھے بے وقوف بنانا اتنا آسان نہیں ہے۔ اس لئے سچ بتا دو تو بہتر ہے ورنہ تم سوچ بھی نہیں سکتی کہ میں تمہارے ساتھ کیا کچھ کر سکتا ہوں"۔

"ممم۔۔مممم۔۔۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں۔ میں کوئی جاسوس نہیں ہوں۔ آپ الزام لگا رہے ہیں مجھ پر"۔ 

"دیکھو! میں لاسٹ ٹائم پوچھ رہا ہوں۔ ورنہ نیکسٹ ٹائم پولیس پوچھے گی تم سے"۔ 

"میرا اصلی نام ماہین ہے۔ اور آج سے تقریباً دو سال پہلے میں اس کمپنی میں انٹرویو دینے کیلئے آئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" اس نے اٹکتے ہوۓ اپنی ساری سچائی تفصیل سے بتا دی"۔

"اوہ ! تو اسکا مطلب کہ تم نے اس نام کا فائدہ اٹھایا اور یہاں پر جاب کرتی رہی ہمممم؟"

"نہیں۔ میں نے کسی کے نام کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ میں بس مجبور تھی اور آپکے والد میری سچائی جانتے ہیں"۔

"وٹ؟ ڈیڈ جانتے ہیں؟" وہ ششدر رہ کر بولا۔

"جی۔ اور میں آپکو فی الحال نہیں بتانا چاہتی تھی کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ آپ مجھ پر یقین نہ کریں۔ اور کہیں آپکو ایسا نہ لگے کہ آپ نے کسی غلط اور جھوٹی لڑکی کو قبول کیا ہے"۔

" قبول کیا مطلب ؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا ۔

"جس لڑکی سے آپکا رشتہ طے ہوا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کون ہے"؟

"نہیں۔ اور تمہیں میری پرسنل لائف میں انٹرفیئر کرنے کی ضرورت نہیں ہے"۔

"میں آپکی پرسنل لائف میں انٹرفیئر کر بھی نہیں رہی۔ میں تو صرف ہماری پرسنل لائف کے متعلق کہہ رہی ہوں"۔

"اب تم اپنی لِمٹ کراس کر رہی ہو"۔ وہ غصے سے غررایا۔

"آپ کی جس سے شادی ہو رہی ہے ناں ! وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکہ میں ہی ہوں۔"

"وٹ نان سینس؟" وہ چلا کر بولا۔

"یہی سچ ہے۔ اور اگر میری بات پر یقین نہیں ہے تو جا کر اپنی والدہ سے پوچھ لیں"۔ وہ اپنی بات مکمل کر کے تیزی سے کیبن سے باہر چلی گئی اور وہ وہیں حیران کھڑا اسکے کہے کے متعلق سوچتا رہا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"ہاں بول۔ کیوں بلایا تُو نے مجھے یہاں؟" اس نے گاڈی کا دروازہ بند کرتے ہوۓ کہا۔

"یہیں گلی میں کھڑا ہونا ہے کیا؟ گھر چل کے بات کرتے ہیں"۔

"نہیں حمزہ ! میں تھوڑا جلدی میں ہوں۔ تُو یہیں بات کر"۔

"کیوں گھر میں بھابھی تو ہے نہیں جو تیرا انتظار کر رہی ہوگی"۔ وہ شرارتی انداز میں بولا۔

"بکواس مت کر۔ اور بول جلدی"۔

"یار یہاں گلی میں کیا بات کروں میں؟"

"تُو نے کچھ کہنا ہے تو ٹھیک ورنہ میں جا رہا ہوں"۔

"تو صاف صاف بول ناں کہ تُو میرے گھر آنا ہی نہیں چاہتا۔"

"حمزہ مجھے ایموشنل کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ میرا پہلے ہی مُوڈ بہت خراب ہے۔ پلیز"۔

"اچھا ! چل بتا کیا ہوا ہے؟" اس نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا اور اسکے ساتھ ساتھ گلی میں چلنے لگا۔

"کچھ نہیں یار"۔

"ابـے بے غیرت ! بتا بھی دے اب"۔

"یار کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں میں "۔

"کیوں کیا ہوا؟"

"میری شادی جس لڑکی سے ہونے جا رہی ہے وہ میری اسسٹنٹ ہے"۔

"کیا؟" وہ چونکا۔

"ہمممم۔ اور اس نے مجھ سے جھوٹ بھی بولا"۔

"کیسا جھوٹ؟"

"اس نے اپنا نام نشا بتایا جب کہ اسکا اصلی نام ماہین ہے اور وہ نشا کا نام استعمال کرکے ہماری کمپنی میں پچھلے دو سال سے جاب کر رہی تھی"۔

"اوہ تیری ! اسکا مطلب کہ وہ لڑکی فراڈی ہے؟"

"نہیں ! اسکی غلطی نہیں ہے۔ گلشن نے غلطی سے اسے نشا سمجھ لیا اور اسے جاب دے دی۔ اور ماہین کو جاب کی سخت ضرورت تھی اس لئے اس نے سچ نہیں بتایا"۔

"جو بھی ہو یار ! مگر جھوٹ تو جھوٹ ہی ہوتا ہے"۔

"ہمممم"۔

"تو اب؟"

"اب کیا؟"

"تُو پھر بھی شادی کرے گا اس سے؟ ایک تو وہ تیری اسسٹنٹ ہے اور دوسرا جھوٹی بھی"۔

"وہی تو سمجھ نہیں آ رہی یار کہ کیا کروں؟ موم ڈیڈ کو کیسے بولوں کہ اس سے شادی نہیں کر سکتا؟ جبکہ شادی کی ڈیٹ بھی فکس ہو چکی ہے۔ صرف کچھ دن ہی رہ گئے ہیں شادی میں"۔

" ایک بات پوچھوں ؟"

"ہممم"۔

"سچ بتانا ہے"۔

"یار میں پہلے بھی تجھ سے ہمیشہ سچ ہی بولتا ہوں"۔

"اچھا تو پھر یہ بتا کہ تجھے اب بھی عینا سے محبت ہے یا نہیں؟"

"حمزہ!" اس نے غصے سے اسے گُھورا۔

"پلیز! بتا ناں یار پلیز "۔

"تجھے کتنی بار کہا ہے کہ میرے سامنے اسکا نام بھی مت لیا کر"۔

"دیکھ یار ! اب عینا بیوہ ہو چکی ہے۔ اسکا بیٹا بھی اب اس دنیا میں نہیں ہے اور اسکی عدت بھی پوری ہو چکی ہے۔ اور تُو بھی اس شادی سے خوش نہیں ہے۔ تو۔۔۔۔۔۔۔۔"

"تو؟"

"تو تُو اس سے شادی کر لے یار"۔

"تُو جانتا بھی ہے کہ تُو کیا بول رہا ہے؟"

"ہاں ! میں یہ تم دونوں کے بھلے کیلئے کہہ رہا ہوں یار۔ میں جانتا ہوں کہ تم دونوں ایک دوسرے کے بغیر بالکل ادھورے ہو۔ تُو بھی ماہین کے ساتھ کبھی خوش نہیں رہ سکے گا کیونکہ جو لڑکی آج اتنے جھوٹ بول رہی ہے وہ کل کو کیا کرے گی؟ اور عینا بھی بالکل اکیلی ہو چکی ہے۔ وہ بھی اب تیرے علاوہ کسی اور کے ساتھ کبھی سکھی نہیں رہے گی۔ یار اس نے تو عادل کے ہوتے ہوۓ بھی تجھ سے محبت کرنا نہیں چھوڑی تو اب کیسے کسی اور کے ساتھ خوش رہے گی وہ؟"

"مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چاہے وہ خوش رہے یا روۓ۔ میرے لئے تو وہ کب کی مر چکی ہے۔ اور اگر آج کے بعد تُو نے بھی کبھی میرے سامنے اسکا نام لیا تو یاد رکھنا کہ وہ دن ہماری دوستی کا آخری دن ہوگا۔"

"مگر یار۔۔۔۔۔۔"

"اینف (enough) حمزہ! میں ماہین کو تو پھر بھی قبول کر لوں گا مگر عینا کو کبھی بھی نہیں"۔ اس نے غصے سے کہا اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"موم"! اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی چلانا شروع کر دیا۔

"کیا ہوگیا؟ اتنا چیخ کر کیوں بول رہے ہو؟" عالیہ بیگم نے سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے پوچھا۔

"آپ کس سے میری شادی کروا رہی ہیں؟"

"کیا مطلب ؟"

"مطلب یہ کہ اسکا نام ماہین افگن ہے کیا؟"

"ہاں کیوں؟"

"موم آپ جانتی بھی ہیں کہ وہ لڑکی میری اسسٹنٹ ہے؟" 

"کیا؟"

"جی ہاں ! اور اس نے مجھ سے جھوٹ بھی بولا کہ اسکا نام نشا ہے۔ وہ آج تک کسی اور کے نام سے میرے آفس میں جاب کرتی رہی اور ڈیڈ کو یہ بات پتا تھی مگر انہوں نے پھر بھی مجھے نہیں بتایا۔"

"یہ سب کیا بول رہے ہو تم؟"

"وہی جو سچ ہے"۔

"لیکن احمد نے تو مجھ سے ایسی کوئی بات نہیں کی"۔

"تو کیا آپ کو کچھ نہیں پتا تھا؟"

"نہیں"۔

"ڈیڈ ! آپ نے مجھ سے اور موم سے جھوٹ کیوں بولا؟ آپ جانتے تھے کہ ماہین نشا نہیں ہے۔ وہ کسی اور کا نام استعمال کر رہی ہے۔ مگر آپ نے اسے نوکری سے نہیں نکالا اور مجھے بھی سچ نہیں بتایا۔ اور آپ یہ بھی جانتے تھے کہ وہ میری اسسٹنٹ ہے اور موم اسی کو میری بیوی بنانا چاہتی ہیں پھر بھی آپ نے خاموشی سے سب کچھ ہونے دیا۔ کیوں ڈیڈ؟ کیوں؟" وہ بھاگتا ہوا اپنے ڈیڈ کے کمرے میں گیا اور جاتے ہی سوالوں کی بونچھاڑ کر دی۔

"کیونکہ ماہین نے جب یہ نوکری شروع کی تو اس وقت وہ مجبور تھی اور مجھے بھی اسکی سچائی کچھ دن پہلے ہی پتا چلی ہے تمہاری شادی کے دن طے ہونے کے بعد"۔ انہوں نے اخبار کو سائیڈ پر رکھتے ہوۓ جواب دیا۔

"مطلب آپکو نہیں پتا تھا کہ ماہین ہی آپکی ہونے والی بہو ہے؟"

"نہیں بیٹا"۔

اس نے اپنا سر پکڑا اور غصے سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔

"اب مجھے بتائیں آپ دونوں کہ میں کیا کروں؟" 

"کیا مطلب؟ کیا کروں ؟" عالیہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا۔

"مطلب کہ میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کیسے کر سکتا ہوں جس نے مجھ سے جھوٹ بولا۔ مجھے دھوکے میں رکھا اور جو میری اسسٹنٹ سیکریٹری ہے"؟

"دیکھو بیٹا ! انسان کے عہدے میں چھوٹا یا بڑا ہونے سے کچھ بھی نہیں ہوتا بس اسکا دل اور نیت اچھی ہونی چاہیے۔ اور ماہین کا دل اور نیت دونوں صاف ہیں"۔ احمد ملِک نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

"مگر ڈیڈ میں اس سے شادی نہیں کر سکتا"۔

"کیوں ؟ کیا کمی ہے اس میں؟ کیا وہ خوبصورت نہیں ہے ؟ کیا وہ ایجوکیٹڈ نہیں ہے؟ یا کیا وہ اخلاق کی اچھی نہیں ہے؟" عالیہ بیگم نے سختی سے پوچھا۔

"موم وہ بہت اچھی ہوگی۔ بٹ میں اس سے شادی نہیں کروں گا"۔

"مگر کیوں؟"

"کیونکہ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے موم"۔

"اچھا ! تو کیا اب بھی اس نورالعین میں دلچسپی ہے تمہیں؟ وہ جس نے تمہیں ٹھکرا کر اپنی مرضی سے شادی کر لی؟ اور آج دیکھو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔"

"موم پلیز یار ! نام بھی مت لیں میرے سامنے اسکا"۔ اس نے عالیہ بیگم کی بات کو کاٹ کر چیختے ہوۓ کہا۔

"اچھا ریلیکس! نہیں لیتی اسکا نام دوبارا ۔ مگر بیٹا دیکھو اب شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی ہے۔ ایک دو دن تک شادی کے فنکشنز بھی شروع ہو جائیں گے۔ کارڈ بھیج دئیے ہیں ہم نے۔ اب اگر ایسے میں تم شادی سے انکار کرو گے تو ہماری کیا عزت رہ جاۓ گی"۔ عالیہ بیگم پیار سے اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔

"آئی کین انڈر سٹینڈ موم ! لیکن میں۔۔۔۔۔۔"

"زیادہ مت سوچو بیٹا ! اور اپنے کمرے میں جاکر آرام کرو میں تمہاری لئے جوس بھجواتی ہوں۔ جاؤ شاباش!"

"اوکے"۔ اس نے اپنا سر جھٹکا اور کمرے میں چلا گیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

"کیا؟ وہ عینا پر اس جھوٹی لڑکی کو ترجیح دے گا"۔ وہ فون پر حمزہ سے مخاطب تھی۔

"نمرہ عرشمان اپنی جگہ غلط نہیں ہے۔ یہ بات تم بھی جانتی ہو کہ عینا نے بھی اسکے رونے دھونے کے باوجود عادل کو چُنا تھا۔"

"ہاں وہ سب ٹھیک ہے یار۔ لیکن اگر قسمت انہیں پھر سے ایک ہونے کا موقع دے رہی ہے تو اب عرشمان کو ویسا نہیں کرنا چاہیے جیسا عینا نے کیا تھا"۔

"ہمممم۔ مگر اب ہم کیا کر سکتے ہیں"۔

"یار تم ایک بار اس سے دوبارا بات کر کے دیکھو۔ شاید وہ مان جاۓ"۔

"نہیں یار ! اب میں اس سے دوبارا اس بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا کیونکہ اس نے صاف کہا ہے کہ اگر پھر سے میں نے عینا کا نام بھی لیا تو وہ مجھ سے دوستی توڑ دے گا"۔

"لیکن حمزہ ! میں اپنی دوست کو مزید دکھی نہیں دیکھ سکتی۔ اسکی زندگی میں اب کچھ نہیں رہا۔ اسے اب کسی چیز کی چاہت نہیں ہے۔ جب سے اس نے عرشمان کی شادی کا سنا ہے تب سے تو اس نے صیح سے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ہر وقت احد کو یاد کرتی رہتی ہے۔ اب ایسے میں صرف وہی ہے جو اسکو واپس زندگی کی طرف لا سکتا ہے۔ کیا تم میری خاطر اتنا نہیں کر سکتے ؟"

"تمہارے لئے تو جان بھی حاظر ہے نمرہ۔ مگر یہ فیصلہ عرشمان کا ہے میرا نہیں"۔

"تم کہو تو میں ایک بار بات کر کے دیکھوں عرشمان سے؟"

"نہیں نمرہ ! اس نے اگر میری نہیں سنی ناں تو تمہاری بھی نہیں سنے گا۔ الٹا اپنی انسلٹ ہی کرواؤ گی تم "۔

"تو پھر اور کیا کریں ہم یار؟" وہ افسردگی سے گویا ہوئی۔

"ایک بندہ ہے جسکی وہ شاید سن لے"۔

"کون؟ جلدی بتاؤ؟"

"خود عینا"۔

"کیا؟ کبھی تم کہتے ہو کہ وہ عینا کا نام بھی سننا چاہتا اور کبھی کہتے ہو کہ وہ عینا کی ہی سنے گا؟"

"دیکھو یار ! وہ ہمارے سامنے یہی کہتا ہے کہ اسے اب عینا میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔ لیکن اگر ایک بار عینا خود اس سے مل لے اور اس سے معافی مانگ کر اسے منانے کی کوشش کرے تو شاید اسکے دل میں سوئی ہوئی محبت پھر سے جاگ اٹھے"۔

"مگر عینا اس سے ملے گی کیسے؟ کیا وہ عینا سے ملنے کیلئے راضی ہو جاۓ گا؟"

"نہیں وہ کبھی نہیں مانے گا میں جانتا ہوں اسکو۔ اس لئے ہمیں ہی ان دونوں کو ملوانا پڑے گا"۔

"مگر کیسے؟"

" میرے پاس ایک آئیڈیا ہے "۔

"کیا؟"

"دیکھو میں نے عرشمان کو نہیں بتایا کہ عینا تمہارے ساتھ رہ رہی ہے۔ اسے بس عادل اور احد کی ڈیتھ کا بتایا تھا میں نے۔ جس سے اسے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔"

"ہممم؟"

"اس لئے پلان یہ ہے کہ میں اسے تمہارے گھر لے آؤں گا کسی بھی بہانے۔ اور تم اسے اپنے گھر کے کسی کمرے میں بٹھا دینا۔ پھر تم اس کمرے میں عینا کو لے جانا اور ہم دونوں باہر سے دروازہ لاک کر دیں گے۔ کیسا؟"

"مگر عرشمان تو غصے سے پاگل ہو جاۓ گا۔ وہ ہم سے کبھی بات نہیں کرے گا"۔

"ارے ! کیا یار ! بس وقتی غصہ ہوگا جو کچھ دنوں تک خود ہی ختم ہو جاۓ گا۔ مگر اسی بہانے وہ ایک دوسرے سے بات کر لیں گے۔اور اگر ہمارا اتنا سا ریسک لینے سے انکی درمیان آئی دراڑ ختم ہو جاۓ تو ہمیں اور کیا چاہیے"؟

"لیکن اگر کچھ گڑ بڑ ہو گئی تو؟"

"کیسی گڑ بڑ؟ تم عینا کو بھی مت بتانا اوکے"۔

"وہ تو صیح ہے یار۔ مگر پتا نہیں کیوں مجھے یہ سب کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا"۔ اس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔

"او ! کچھ نہیں ہوتا یار۔ ٹرسٹ می"۔

"ان کے بیچ کچھ غلط تو نہیں ہوگا ناں؟"

"تم پاگل ہو کیا؟ تم اچھے سے جانتی ہو کہ عرشمان ایسا نہیں ہے اور نہ ہی عینا ایسی ہے"۔

"ہممم"۔

"چلو پھر کل شام کو تیار رہنا اوکے؟"

"اوکے"۔ اس نے فون بند کیا اور بے چینی سے ادھر اُدھر گھومنے لگی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

اگلی صبح ماہین آفس سے غیر حاضر تھی۔ حمزہ کی کال آنے پر اپنا سارا کام ختم کرنے کے بعد وہ اسے پِک کرنے کیلئے اسکے گھر پہنچا۔

"کیسا ہے دوست؟" حمزہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوۓ کہا۔

"فِٹ"۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

"اور؟"

"اور سب ٹھیک"۔

"آفس کا کام اچھا جا رہا ہے؟"

"ہممم۔ پرفیکٹ الحمدللّٰہ"۔

"کیا فیصلہ کِیا پھر تُو نے؟"

"کس بارے میں؟"

"ماہین سے شادی کر رہا ہے؟"

"ہمممم۔"

"یار اسکی سچائی جاننے کے باوجود بھی؟"

"ہمممم۔"

"لیکن کیوں؟"

"کیونکہ اسکے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں میرے پاس"۔

"ہاہاہاہاہاہا تو اسکا مطلب کہ عرشمان احمد نے بھی حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنا سیکھ لیا ہے؟"

"وقت سب کچھ سیکھا دیتا ہے میرے بھائی"۔

"ہاں یہ تو ہے"۔

"اچھا بتا کہ ہم جا کہاں رہے ہیں؟"

"نمرہ کی طرف"۔

"اسکی طرف کیوں؟"

"کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ تیری شادی سے پہلے بھی ہم ایک بار مل کر کہیں کھانا کھانے چلیں"۔

"ہمممم۔ دیٹس گڈ"۔

"یس"۔

تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک بڑی سی بلڈنگ کے سامنے رکی۔ وہ دونوں تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوۓ نمرہ کے فلیٹ میں پہنچے۔

"خوش آمدید! مسڑ عرشمان احمد صاحب "۔ نمرہ نے دروازہ کھولتے ہی طنزیہ انداز میں کہا۔

"ہاہاہاہاہاہا تھینکس"۔ 

"آئیے اندر"۔

"نہیں تم ریڈی ہو کر آ جاؤ۔ ہم دونوں نیچے گاڑی میں تمہارا ویٹ کر رہے ہیں"۔ عرشمان نے حمزہ کو واپس مڑنے کا اشارہ کیا۔

"ابـے یار ! ایسے کیسے چلے جائیں۔ نمرہ کے ہاتھ کی چاۓ پی کر ہی جائیں گے"۔ وہ سامنے صوفے پر آکر براجمان ہو گیا۔ 

"اوکے"۔ عرشمان نے بھی اندر کی جانب قدم بڑھاۓ۔

"عرشمان!" نمرہ نے اسکی جانب دیکھا۔

"ہمممم"۔

"تم سامنے والے کمرے میں بیٹھ جاؤ گے پلیز؟" نمرہ نے کتراتے ہوۓ پوچھا۔

"کیوں؟"

"اب۔۔۔۔ب۔۔۔۔ب۔۔۔وہ یار ! دراصل میں اور نمرہ ساتھ میں کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔" حمزہ نے نمرہ کو آنکھ ماری تو اس نے واپس غصے سے اسکی جانب دیکھا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ یار شیم آن یُو ! پھر کبھی سہی۔ ایٹ لیسٹ مجھ سنگل کا ہی کچھ خیال کر لو"۔

"نہیں ناں یار ! تُو کیوں کباب میں ہڈی بن رہا ہے جا ناں اندر"۔ 

"اگر ایسی بات ہے تو مجھے نہیں بلکہ تم دونوں کو اندر جانا چاہیے۔ اور اگر اس لئے آیا تھا تُو یہاں تو مجھے ساتھ کیوں لایا پھر ؟"

"ابـے یار ! یہ کتنا دماغ کھاتا ہے"۔ حمزہ اپنا سر پکڑتے ہوۓ منہ میں بڑبڑایا۔

"کچھ کہا تُو نے؟" اس نے تیوری چڑھائی۔

"نہیں! نہیں عرشمان احمد ملِک صاحب ہماری کیا مجال کہ ہم آپ کو کچھ کہہ سکیں۔ آپ مہربانی فرما کر ہم دونوں کو کوئی پرائیویسی دیں گے پلیز؟" وہ طنزیہ انداز میں گویا ہوا۔

"ہاہاہاہاہاہا ۔ اوکے فائن ! لیکن صرف پانچ منٹ ہاں؟" وہ صوفے سے اٹھتا ہوا بولا۔

"اوکے"۔

عرشمان نے شکی نگاہوں سے ان دونوں کو دیکھا اور کمرے میں چلا گیا۔

"اب جلدی جاؤ تم عینا کو بھیجو کمرے میں"۔ اس نے نمرہ کے کان میں ہلکی سی سرگوشی کی۔

"تم پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم کیا بکواس کر رہے تھے؟ تم نے اکیلے میں کچھ وقت گزارنا ہے میرے ساتھ؟" نمرہ نے غصے سے پوچھا۔

"اوکے سوری سوری ۔ اب جاؤ پلیز جلدی۔ زیادہ ٹائم نہیں ہے ہمارے پاس"۔ اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

"اوکے"۔ نمرہ منہ چڑاتی ہوئی عینا کے کمرے میں چلی گئی۔

"عینا؟" اس نے دروازے پر نوک کیا۔

"ہاں نمرہ"۔ وہ بیڈ پر بیٹھی ناول پڑھ رہی تھی۔

"تم زرا میرے ساتھ آؤ گی پلیز ؟"

"کہاں؟"

"ساتھ والے کمرے میں؟"

"کیوں؟"

"وہ۔۔۔۔۔یار۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔ہاں وہ کچھ بھاری سامان ہے مجھ سے اکیلے اٹھایا نہیں جا رہا۔ تم میری زرا مدد کر دوگی؟"

"وہ سب تو ٹھیک ہے مگر شیری کہاں ہے؟"

"شہریار تو باہر دوستوں کے ساتھ آوارہ گردی کرنے گیا ہوا ہے"۔

"اچھا"۔ اس نے ناول سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اسکی پیروی کرتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تو فوراً اسکی نظر سامنے کھڑے عرشمان پر پڑی جو آئینے میں دیکھ کر اپنے بال سیٹ کر رہا تھا۔ 

عینا نے جیسے ہی واپس پلٹنے کی کوشش کی تو نمرہ نے زور سے دروازہ بند کر دیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز سے عرشمان نے جھٹ سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو عینا دروازے کے پاس کھڑی تھی۔ وہ دونوں کافی دیر تک خاموش کھڑے ایک دوسرے کی جانب دیکھتے رہے۔ پھر عرشمان نے بنا کچھ بولے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ باہر سے لاک تھا۔ عینا چپ کھڑی قریب سے اسے دیکھتی رہی۔ 

"حمزہ! یہ کیا بد تمیزی ہے یار؟ دروازہ کھولو"۔ وہ غصے سے بولا۔

مگر باہر سے کوئی جواب نہ آیا۔ آج کافی عرصے بعد عینا نے اسکی آواز سنی تھی۔

"حمزہ۔۔۔۔۔۔۔نمرہ؟" اس نے غضب دار ہو کر دونوں کو آواز دی۔ مگر پھر بھی باہر مکمل خاموشی تھی۔

"حمزہ میں لاسٹ ٹائم کہہ رہا ہوں۔ اگر تُو نے ابھی بھی دروازہ نہ کھولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ آئی سیڈ اوپن دا ڈور"۔ اس بار اس نے چیخ کر کہا۔

"وہ دروازہ نہیں کھولیں گے عرشمان!" عینا نے اپنی خاموشی توڑی۔

"تو اسکا مطلب کہ تم بھی اس پلان میں شامل تھی؟" وہ غصے سے دھاڑا۔

"نہیں۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔ مگر میں جانتی ہوں کہ وہ دروازہ نہیں کھولیں گے۔"

"وٹ ربیش !" اس نے زور سے دروازہ پیٹا۔

"عرشمان !" عینا نے اسکا بازو پکڑا۔

"ہاتھ مت لگاؤ مجھے تم"۔ اس نے غصے سے اپنا بازو چھڑایا۔

"نفرت کرتے ہو مجھ سے اب؟" وہ نم آنکھوں سے بولی۔

"نفرت؟ تم تو میری نفرت کے قابل بھی نہیں ہو"۔ 

"مجھے معاف کر دو پلیز!" اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

"معافی کس چیز کی؟ معافی تو گناہوں کی ہوتی ہے۔ غلطیوں کی ہوتی ہے۔ کسی کے مخلص جذباتوں کے ساتھ کھیلنے اور اسکو زندہ لاش بنانے کی کوئی معافی نہیں ہوتی۔"

"زندہ لاش تو میں ہوں عرشمان! مجھے دیکھو۔ کیا میں تمہیں زندہ نظر آتی ہوں ؟ تمہارے پاس تو خوش ہونے کی ہزار وجوہات ہیں۔ مگر میرے پاس ایک بھی نہیں"۔ 

"اپنے لئے اس کانٹے دار راستے کا انتخاب تم نے خود کیا ہے"۔

"جانتی ہوں۔ مگر کیا مجھے اسکی معافی نہیں مل سکتی؟"

"عرشمان احمد کبھی معاف نہیں کرتا"۔

"یہ بھی جانتی ہوں۔ لیکن۔۔۔۔۔۔"

"نہیں۔ تم مجھے نہیں جانتی اب۔ کیونکہ تم جس عرشمان کو جانتی تھی وہ تو اسی دن مر گیا تھا جب تم نے کسی اور کو نکاح میں قبول کر لیا تھا۔ اب جو تمہارے سامنے ہے وہ تمہارے لئے اور تم اس کے لئے بالکل انجان ہو"۔

"نہیں پلیز ! ایسا مت کہو۔ کیا ہم پھر سے دوست نہیں بن سکتے؟" وہ روہانسی ہوئی جا رہی تھی۔

"دوستی کے بعد محبت ہو سکتی ہے مس نورالعین مگر محبت کے بعد دوستی کبھی نہیں ہو سکتی"۔

"عرشمان پلیز ایک چانس اور دے دو پلیز"۔

"دوسرا موقع تو صرف کہانیاں دیتی ہیں۔ حقیقی زندگی نہیں"۔

"مگر تقدیر ہمیں پھر سے ایک ہونے کا موقع دے رہی ہے ۔ پلیز اب تم مان جاؤ۔ مت کرو کسی اور سے شادی"۔ اس نے زاروقطار روتے ہوۓ اسکے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے۔

"تمہارے اس رونے سے مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ اب میں بھی تمہاری طرح پتھر کا ہو چکا ہوں"۔

"عرشمان ! جو غلطی میں نے کی وہ تم مت کرو پلیز"۔

"تو تم مانتی ہو کہ تم نے غلط کیا تھا؟"

"نہیں۔ میں نے اپنے بابا کا مان رکھ کر کچھ غلط نہیں کیا ہاں مگر عادل سے شادی کر کے ضرور غلط کیا"۔

"اب تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہو گا؟ یا تمہارے رونے کا کیا فائدہ؟ اب تو مر گیا وہ عرشمان جو کبھی تم پر مرتا تھا۔"

"عرشمان پلیز میں بھی آج تمہاری منت کرتی ہوں۔ پلیز مت کرو کسی اور سے شادی۔ میں تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی۔ تم میرے جینے کی آخری امید ہو۔ اور تم بھی کسی اور کے ہو گئے تو مر جاؤں گی میں"۔ وہ اب آہیں بھرنا شروع ہو گئی تھی۔

"نہیں مرو گی۔ میں تمہارے سامنے زندہ کھڑا ہوں ناں ! تو تم بھی نہیں مرو گی۔ تمہیں بھی کچھ نہیں ہوگا"۔

"تم اتنے سنگدل کیسے ہو سکتے ہو یار؟"

"تم نے بنا دیا ہے"۔

"تو میں معافی بھی تو مانگ رہی ہوں ناں"۔

"کیا میرے معاف کرنے سے تم خوش ہو جاؤ گی؟"

"ہاں"۔

"تو ٹھیک ہے مس نورالعین سکندر جاؤ عرشمان احمد نے تمہیں دل سے معاف کیا۔"

"سچ میں"؟ وہ نم آنکھوں سے مسکرا دی۔

"ہمممم۔ مگر تم سے شادی نہیں کر سکتا"۔ 

"کیا؟" وہ پھر سے غمگین ہو گئی۔

"تمہیں معافی چاہئیے تھی نہ تو کر دیا معاف۔ مگر پہلے جیسے عرشمان کو دیکھنے کی تمنا تم اپنے زہن سے نکال دو۔ اور یہ میں نے تمہیں معاف اس لئے نہیں کِیا کہ مجھے تمہاری خوشی آج بھی عزیز ہے۔ بلکہ اس لئے کِیا ہے کہ تم کم از کم اپنے ضمیر کے بوجھ سے آزاد ہو سکو۔ باقی رہی بات نکاح کی تو وہ تو میں بھی تمہاری طرح کسی اور سے ہی کروں گا۔"

"ایک چانس دے دو پلیز۔ اگر تم نے کبھی واقعی مجھ سے سچی محبت کی تھی تو تمہیں اسی محبت کا واسطہ ہے پلیز ایک چانس"۔

"میں نے بھی مانگا تھا۔ سیم تمہاری طرح چیخ کر رویا تھا مگر تمہیں مجھ پر ترس نہیں آیا تھا تو پھر تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تم پر رحم کھاؤں گا؟"

"جب معاف ہی کر دیا ہے تو پھر یہ بدلے کیوں لے رہے ہو؟"

"بدلہ؟ مس نورالعین فار یوور کائنڈ انفارمیشن ! بدلہ تو میں نے تم سے لیا ہی نہیں۔ کیونکہ اگر مجھے تم سے بدلہ ہی لینا ہوتا تو میں تمہیں برباد کر دیتا۔ مگر محبت کرنے والا انسان بدلہ کبھی نہیں لیتا"۔

"تو پھر یہ سب کیا ہے؟"

"یہ سب وہ سبق ہے جو میں تم سے ہی سیکھا ہے۔ اور معاف ضرور کیا ہے مگر بھولوں گا کبھی نہیں"۔

"عرشمان! پلیز ادھر میری طرف دیکھو ! میں وہی عینا ہوں۔ پلیز اپنی اس چڑیل کو ایک موقع اور دے دو پلیز!"

"میری چڑیل تو کب کی دفن ہو چکی ہے۔ اور اب جو اس وقت میرے سامنے کھڑی ہے وہ عادل نواز کی بیوہ ہے"۔ وہ طمانیت سے بولا تھا۔

"اوہ ! تو اب سمجھی میں۔ تم مجھے اس لئے قبول نہیں کر رہے نہ کیونکہ میں کسی اور کے ہاتھوں استعمال ہو چکی ہوں؟"

"نہیں! محبت کرنے والے انسان کو اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ لیکن شرک تو خدا بھی معاف نہیں کرتا عینا"۔

"پلیز عرشمان میں تم سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں دوبارہ زندگی میں کبھی کسی بھی موڑ پر تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔ مگر پلیز تم سے التجا کر رہی ہوں۔ پلیز مان جاؤ"۔

"روح کی دھجیاں بکھیرنے والوں کے وعدوں پر پھر سے اعتبار نہیں کر سکتا میں"۔

"مگر میں اپنے مرے ہوۓ بیٹے کی قسم کھاتی ہوں۔ میں سچ کہہ رہی ہوں پلیز ایک آخری بار یقین کر لو میرا پلیز"۔

"جب اعتبار ایک بار اُٹھ جاۓ ناں تو پھر اگلا بندہ چاہے قسم کھاۓ یا زہر ، فرق نہیں پڑتا"۔

عینا نے مایوسی کے عالم میں اسکی جانب دیکھا تبھی اچانک حمزہ نے دروازہ کھول دیا۔

"میں نے کسی غلط ٹائم پہ اینٹری تو نہیں ماری ناں؟" حمزہ نے تجسّس بھری نگاہوں سے دونوں کو دیکھا۔

"حمزہ ! آج کے بعد کوئی عرشمان احمد تجھے نہیں جانتا۔ اور اب تیری اور میری دوستی ختم ! جیسے میں عینا کے لئے مر چکا ہوں ناں ٹھیک ویسے ہی آج سے عرشمان تیرے لئے بھی مر گیا۔" اس نے سنجیدگی سے حمزہ کے پاس آکر کہا اور پھر باہر دروازے کی جانب قدم بڑھا دئیے۔

"عرشمان۔۔۔۔یار میری بات تو سن۔۔۔۔۔۔عرشمان۔۔۔۔۔۔۔۔عرشمان !" حمزہ نے اسے کئی آوازیں دیں اور اسکے پیچھے بھی بھاگا مگر وہ تیزی سے سیڑھیاں اترتا ہوا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔ پھر وہ واپس اوپر آیا اور عینا کی جانب دیکھا۔

"کیا کہا اس نے؟" حمزہ کے سوال پر عینا نے منفی میں اپنا سر ہلایا اور روتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔

"میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا یہ سب۔ اب عرشمان نے عینا کو بھی ہاں نہیں کی اور اپنی دوستی بھی ختم کر کے چلا گیا۔

"تم اسکی فکر مت کرو۔ وہ اس وقت شدید غصے میں ہے۔ غصہ ٹھنڈا ہوگا تو مان جاۓ گا۔"

"اللّٰہ کرے"۔

"اچھا اب میں بھی چلتا ہوں۔ تم عینا کو سنبھالو"۔ 

"اوکے"۔

یہ رات کا آخری پہر تھا جب وہ گرم بستر سے اٹھ کر وضو کرکے جاۓ نماز پر آ کھڑی ہوئی۔ آج شاید زندگی میں پہلی بار وہ تہجد کی نماز ادا کرنے کیلئے اٹھی تھی۔ جاۓ نماز پر کھڑے ہوتے ہی اس کی پلکیں بھیگ گئیں اور اس کے آنسو مصلّے پر گرنے لگے۔ نا جانے کتنے تہہ بہ تہہ درد تھے جو وہ آج صرف اپنے رب کو سنانا چاہتی تھی۔ 

نوافل مکمل کرنے کے بعد اس نے سلام پھیرا اور واپس سجدے میں گر گئی۔ وہ شاید بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ اسکی زبان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں تھے۔ وہ ٹوٹی، پھوٹی سی التجائیں لے کر آج اللّٰہ کے سامنے اپنے دل کا حال سنانے آئی تھی۔ وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ چاہے اس سے بولا جاۓ یا نہ بولا جاۓ مگر آج وہ خدا کو سب کچھ بتاۓ گی۔ اس نے بمشکل کانپتے ہوۓ دعا کیلئے ہاتھ اٹھاۓ۔

"یا اللّٰہ ! تُو تو جانتا ہے کہ میں کتنی گناہگار ہوں۔ میں نے کبھی تیرے پکارنے پر لبیک نہیں کہا مگر پھر بھی تُو نے مجھے زندگی کی ہر سہولت دی۔ میں نے جو چاہا تُو نے مجھے وہی دیا۔ مگر ایک انسان کے سامنے میں ہار گئی۔ تیری یہ گنہگار بندی بہت کمزور ہے یا رب۔ مجھ میں اتنے درد سہنے کی طاقت نہیں ہے۔ جب تک میرے بابا زندہ تھے تب تک میں نے ہمیشہ خوشیاں ہی دیکھیں۔ تُو تو میرے دل کا حال جانتا ہے میرے رب ! تُو جانتا ہے کہ میں نے کیسے اپنے دل پر پتھر رکھ کر اپنے باپ کے سر کو جھکنے سے بچایا تھا۔ قسمت کا لکھا سمجھ کر عادل کو قبول کر لیا یہ سوچ کر کہ شاید وہی میرے حق میں بہتر ہوگا۔ میں مانتی ہوں اللّٰہ کہ میرا رویہ اسکے ساتھ کچھ اچھا نہیں تھا۔ مگر تُو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے اسکے نکاح میں ہوتے ہوۓ کبھی اسکی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی۔ پھر جب احد پیدا ہوا تب میں بہت خوش ہوئی تھی مگر شاید وہ خوشی بھی عارضی ہی تھی۔ تُو نے مجھ سے پھر سب کچھ لے لیا میرے اللّٰہ! میرے بابا بھی ، عرشمان بھی اور میرا بیٹا احد بھی۔ میں تجھ سے کوئی شکوہ نہیں کر رہی یا رب۔ بس اتنا بتا رہی ہوں کہ تیرے ہر فیصلے پر تیری اس گناہگار بندی نے صبر کیا صرف تیری رضا کیلئے۔

لیکن اب تیری بندی بہت تھک گئی ہے اللّٰہ! بہت تھک گئی ہے۔ آنسو ٹپ ٹپ اسکے اٹھے ہوۓ ہاتھوں پر گر رہے تھے۔

میں نے بہت کوشش کی ہے عرشمان کو منانے کی۔ اسکے سامنے منت بھی کی ہے اور ہاتھ بھی جوڑے ہیں مگر وہ پھر بھی مجھے اپنانے کو تیار نہیں ہے۔ ہر انسان کے پاس جینے کی کوئی نہ کوئی امید ہوتی ہے یا رب ! لیکن میرے پاس اسکے علاوہ اور کوئی امید نہیں۔ اور اگر وہ بھی کسی اور کا ہو گیا ناں تو تیری یہ خطاکار بندی ہار جاۓ گی اللّٰہ! ٹوٹ جاۓ گی ، بکھر جاۓ گی ، ہمت کھو دے گی ، مزید نہیں سہہ پاۓ گی۔ تُو نے کہا ہے میرے رب کہ تُو کسی بھی انسان کو اسکی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ بھلا پھر کیسے تُو مجھے اس آزمائش میں ڈالے گا یا رب ! جبکہ تُو جانتا ہے کہ تیری بندی کمزور ہے سہہ نہیں پاۓ گی۔ میں نے آج تک تجھ سے کبھی بھی تڑپ کر کچھ نہیں مانگا یا اللّٰہ! مگر آج تیری چوکھٹ پر کچھ مانگنے آئی ہوں۔

میں جانتی ہوں کہ تُو اپنے بندے کو کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ یہ تیری شان کے خلاف ہے۔ اسی لئے میں آج تجھ سے اپنی محبت مانگنے آئی ہوں۔ میں نہیں جانتی کہ عرشمان میرے حق میں بہتر ہے یا نہیں۔ مگر میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ تُو برے کو بہتر بنانے پر قادر ہے۔ اے میرے پیارے اللّٰہ! عرشمان کو میرا محرم بنا دیجیئے۔ اس کے دل میں میرے لئے جتنی بھی میل ہے اسکو نکال کر پہلے جیسی محبت ڈال دیجیۓ پلیز۔ 

میں جانتی ہوں کہ یہ سب اب بہت مشکل ہے کیونکہ اسکی شادی کی تاریخ بھی طے ہو چکی ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اب کوئی راہ ، کوئی صورت نہیں ہے اسکے محرم بننے کی۔ مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ممکن اور ناممکن تو صرف ہم انسانوں کیلئے ہوتا ہے۔ تیری زات کیلئے تو سب ممکن ہے۔ اے میرے پیارے اللّٰہ جی! پلیز آپ کوئی راہ نکال دیں ناں ! جیسے آپ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کیلئے نکالی تھی۔ پلیز میری محبت لوٹا دیجیئے ناں ! جیسے آپ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام لوٹا دئیے تھے۔ پلیز اللّٰہ جی! پلیز میری ادھوری کہانی کو مکمل کر دیجیے۔

میں نے اسکو بھی بہت منایا ہے، اسکے سامنے بھی بہت روئی ہوں مگر وہ نہیں مانا ، اسکو مجھ پہ رحم نہیں آیا۔ اور اب میں آپکو بھی منانے کی کوشش کر رہی ہوں۔ پلیز آپ مان جائیں اللّٰہ۔ اب آپکے سامنے بھی رو رہی ہوں۔ پلیز آپ مجھ پر رحم کر لیں اور اسے میرا محرم بنا دیں اللّٰہ۔

پلیز میرے پیارے اللّٰہ ! تُو عرشمان کو میرا محرم بنا دے۔" وہ کتنی ہی دیر پھر سجدے میں سر رکھ کر روتے ہوۓ یہی الفاظ دہراتی رہی۔ پھر فجر کی اذان پر اس نے اپنا سر اٹھایا اور نماز ادا کی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد اس نے قرآن پاک اٹھایا اور تلاوت کرنے لگی۔ پھر اس نے ترجمہ پڑھنا شروع کیا۔ اور اچانک ایک آیت پر اسکی نگاہیں ٹھٹھک گئیں۔

وَمَنۡ يَّتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسۡبُهٗؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمۡرِهٖ‌ؕ

"اور جو کوئی بھی اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ یقین رکھو اللہ اپنا کام پورا کرکے ہی رہتا ہے" 

(سورۃ الطلاق، آیت 3)

"یا اللّٰہ! میں نے اپنا معاملہ تیرے حوالے کیا ہے۔ اور مجھے تجھ پر یقین ہے کہ تُو مجھے کبھی بھی مایوس نہیں کرے گا۔ پر کیا تُو نے مجھے معاف کر دیا ہے میرے رب؟" آیت پڑھتے ہی اس نے پھر سے نم آنکھوں سے کہا۔

پھر چند صفحات پلٹے۔

نَبِّئۡ عِبَادِىۡۤ اَنِّىۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُۙ○

"میرے بندوں کو بتا دو کہ میں بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہوں"

(القرآن، سورة الحجر، 49)

یہ آیت پڑھ کر اس نے سسکیوں میں رونا شروع کر دیا۔ آج اسکا رب اس سے ہمکلام تھا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اپنے رب کی محبت کو محسوس کیا تھا۔

"اے میرے پیارے اللّٰہ! تیری محبت میں کتنا سکون ہے ناں! میں تو ایسے ہی آج تک اس دھوکے باز دنیا کے پیچھے بھاگتی آئی۔ اب میرا بھی تجھ سے وعدہ ہے اللّٰہ کہ اگر تُو نے مجھے وہ دے دیا جو میں چاہتی ہوں تو میں بھی ویسی بن جاؤں گی جیسا تُو چاہتا ہے۔ بس تُو مجھ سے راضی ہو جا اور مجھے بھی اپنی رضا میں راضی کر دے۔ آمین"۔ اس نے قرآن پڑھتے ہوۓ پھر سے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔ اور پھر چہرے پر ہاتھوں کو پھیر کر قرآن پاک غلاف میں لپیٹ کر الماری میں رکھ دیا۔ 

اب اس نے آہستہ آہستہ کچن کی جانب قدم بڑھائے اور چاۓ بنا کر نمرہ کے روم کے دروازے پر دستک دی۔

" آجاؤ عینا"۔ اس نے بستر سے اٹھ کر انگڑائی لیتے ہوۓ کہا۔

"تمہارے لئے چاۓ لائی ہوں۔ اٹھ کر منہ دھوؤ اور چاۓ پی لو۔" وہ چاۓ ٹیبل پر رکھ کر بولی۔

"عینا تم آج اتنی جلدی کیسے اٹھ گئی؟" 

"بس کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو ہمیں چین سے سونے ہی نہیں دیتے"۔

"اللّٰہ تمہیں صبر دے"۔

"آمین۔"

"یہ تم نے آج حجاب کیا ہوا ہے۔ نماز پڑھ کر آئی ہو کیا؟" اس نے حیرانگی سے پوچھا۔

"ہمممم"۔

"بھئی ماشاء اللّٰہ!"

"اچھا اب طنز مت کرو"۔

"نہیں طنز نہیں کر رہی یار ! بس خوش ہوں تمہارے لئے۔"

"تھینکس "۔

"اچھا دعا میں کیا مانگا؟"

"اسکا ساتھ اور اللّٰہ کی رضا"۔

"خدا تمہاری دعا قبول کرے۔"

"آمین"۔

"ویسے عینا برا مت ماننا۔ میں تمہیں ہرگز بد گمان نہیں کر رہی۔ لیکن تم پہلے سے ہی خود کو آنے والے وقت کیلئے تیار رکھو"۔

"کیا مطلب ؟"

"مطلب تمہیں اچھے سے پتا ہے۔ کہ عرشمان کی شادی میں صرف ایک ہفتہ ہی رہ گیا ہے اور ہم نے اپنی آخری کوشش بھی کرکے دیکھ لی ہے۔ مگر وہ نہیں مانا۔ تو اب مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی تم سے شادی کرنے کیلئے مانے گا بھی۔ اس لئے میں چاہتی ہوں کہ تم خود کو آنے والے دکھ کیلئے تیار رکھو۔ کیونکہ وہ بہت جلد اب کسی اور کا ہو جاۓ گا"۔

اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ واش روم میں منہ دھونے چلی گئی اور عینا کافی دیر تک وہیں کھڑی اسکی کہی گئی بات کے متعلق سوچتی رہی۔ پھر واپس اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ لگا کر زور زور سے رونا شروع کر دیا۔

"کیا واقعی وہ اب کسی اور کا ہو جاۓ گا؟ اور میں خالی ہاتھ رہ جاؤں گی؟ نمرہ صیح کہتی ہے کہ اب ایک ہفتے میں کیا ہو سکتا ہے بھلا۔ میں کیسے برداشت کروں گی اسکا کسی اور کا ہونا۔ کیا اللّٰہ نے مجھے معاف نہیں کیا؟ کیا میری مانگی گئی دعائیں اور آنسو سب رائیگاں چلے گئے؟ کیا اب وہ کبھی نہیں مانے گا؟ کیا واقعی میں نے اسکو ہمیشہ کیلئے کھو دیا؟" وہ خود کی ہی سوچوں سے الجھنے لگی تھی۔ 

تبھی اچانک اسکی نظر پھر سے الماری میں پڑے ہوۓ قرآن پر پڑی۔ اس نے فوراً اپنے آنسو صاف کئے اور قرآن پاک اٹھا کر اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے لگی۔ ابھی اس نے دو چار صفحات ہی پلٹے تھے کہ اسکی نظریں ایک آیت کا حصار کرنے لگیں۔

اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ‌ؕ ۔ 

کیا اللّٰہ اپنے بندے کیلئے کافی نہیں؟

(سورۃ زمر آیت 36)

اس آیت پر ہاتھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ مانو جیسے اسے سارے سوالوں کے جواب مل گئے ہوں۔ وہ اب پر سکون ہو چکی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اسکا رب اسکی دعاؤں پر کُن ضرور کہے گا۔ پھر اس نے واپس غلاف چڑھا کر قرآن کو الماری میں رکھا اور خود بیڈ پر ٹیک لگا کر آنکھیں موندھ لیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

وقت پھر تیزی سے گزرنے لگا تھا اور اس گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ عینا کی امیدیں دم توڑنے لگیں تھیں۔ کیونکہ اسے اپنی چاہت کے ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ وہ اب مایوس ہونے لگی تھی۔

ادھر دوسری طرف شادی کے فنکشنز بھی شروع ہوچکے تھے۔ آج شام مایوں کی رسم تھی اور عرشمان پھر بھی آفس آیا ہوا تھا۔

"ہیلو!" فون کی رنگ ٹون بجتے ہی اس نے کال ریسیو کی۔

"عرشمان ! میں نے ماہین کو آفس بھیجا ہے تاکہ تم اسے لیکر اسکی پسند کی شاپنگ کروا دو۔ میں چاہتی ہوں کہ شادی کا جوڑا بھی وہ اپنی پسند سے لے۔" یہ عالیہ بیگم کی آواز تھی۔

"موم ! آپ خود لے جائیں اسے۔ میں بزی ہوں"۔

"میں تمہارے سارے بہانوں کو بہت اچھے سے جانتی ہوں عرشمان "۔

"موم میں کوئی بہانہ نہیں کر رہا۔ سچ میں بہت کام ہے آج آفس میں۔"

"جو بھی کام ہو۔ ایک تو تم آج بھی آفس پہنچ گئے اوپر سے تمہارے پاس اپنی ہونے والی بیوی کیلئے بھی وقت نہیں ہے؟ حد ہے ویسے"۔

"ہونے والی ہے۔ ابھی ہوئی نہیں ہے۔ اور جب میری بیوی بن جاۓ گی تو وقت بھی نکال لیا کروں گا۔ فی الحال میں بہت بزی ہوں۔ باۓ"۔ اس نے فوراً کال کاٹ دی۔

عین اسی وقت اسکے کیبن کے دروازے پر کسی نے نوک کیا۔

"کیا میں اندر آ سکتا ہوں سر؟" حمزہ نے شرارتی انداز سے کہا۔

"نہیں"۔ اس نے اس پر نظر دوڑاتے ہی فوراً جواب دیا۔

"مگر میں تو آؤں گا"۔ وہ اسٹائل مارتا ہوا سامنے والی چیئر پر آکر براجمان ہو گیا۔

عرشمان نے غصے سے اسکی جانب گھورا۔

"کیا یار ایسے کیا دیکھ رہا ہے؟ پتا نہیں ہے کہ مہمان آیا ہے تو اسکے لئے چاۓ منگواؤ"۔ 

"حمزہ جسٹ گیٹ آؤٹ فرام مائی آفس"۔ اس نے سختی سے کہا۔

"یار ابھی تک ناراض ہے کیا؟ اب تو اس بات کو پانچ دن ہو گئے ہیں؟" وہ کرسی سے اٹھ کر سنجیدگی سے بولا ۔

اسی لمحے ماہین کیبن کے دروازے پر آئی مگر دروازہ کھولے بغیر ہی انکی باتیں سننے کیلئے کھڑی ہو گئی۔

"مجھے تجھ سے کوئی بات کرنی ہی نہیں ہے۔ چلا جا یہاں سے"۔ اب عرشمان کے لہجے میں طمانیت اترنے لگی تھی۔

"عرشمان یار سوری !" وہ معصومانہ انداز سے بولا۔

"کوئی سوری نہیں۔ تُو جانتا ہے اچھے سے کہ میری لائف ڈکشنری میں معافی نام کا کوئی لفظ نہیں"۔

"یار آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دے پلیز! تجھے پتا بھی ہے کہ میری نیت غلط نہیں تھی۔ میں تو صرف اتنا چاہتا تھا کہ تیرے اور عینا کے بیچ جو بھی اختلافات ہیں وہ سب ختم ہو جائیں۔ اور تم دونوں سب کچھ بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ اپنی نئی زندگی کا آغاز کرو۔ تُو اس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا اس لئے مجھے مجبوراََ تم دونوں کو ایک ساتھ کمرے میں بند کرنا پڑا۔"

حمزہ کی بات سن کر ماہین پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی۔

"مجھے کوئی صفائی نہیں چاہیئے۔ بہتر یہی ہے کہ تُو چلا جا یہاں سے"۔ وہ غصے سے بولا تھا۔

"نہیں جاؤں گا۔ جب تک تُو مان نہیں جاتا تب تک میں کہیں نہیں جاؤں گا۔"

"حمزہ میں لاسٹ ٹائم کہہ رہا ہوں۔ بہتر ہے کہ چلے جاؤ خود ہی۔ ورنہ میں گارڈز کو بلا لوں گا۔"

"عرشمان یار میں نے جو بھی کیا تیری خوشی کیلئے کیا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تُو آج بھی عینا سے اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنی پہلے کرتا تھا۔ بس تُو مانتا نہیں اب۔"

"میرے لئے کیا صیح ہے کیا نہیں۔ مجھے کون عزیز ہے اور کون نہیں۔ اس بات کا فیصلہ میں خود کر سکتا ہوں"۔

"اچھا ٹھیک ہے تجھے مجھ پر غصہ ہے تو نکال لے یار۔ مگر خفا تو مت ہو پلیز!"

"میں ہماری دوستی کو ختم کر چکا ہوں حمزہ۔ اور جسے میں ایک بار چھوڑ دوں پھر اسے ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیتا ہوں۔"

"تُو جذباتی فیصلے کر رہا ہے۔ اور ہماری دوستی اتنی کمزور نہیں ہے جو ایسے کہنے سے ہی ٹوٹ جاۓ گی"۔

"مگر میں توڑ چکا ہوں"۔

"تو جوڑ لے ناں پھر سے میرے بھائی"۔

"میں مزید بحث کرنے کے موڈ میں بالکل نہیں ہوں۔ اس لے چلا جا"۔

"اوکے ٹھیک ہے چلا جاؤں گا۔ مگر میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا میرے دوست ! کہ تیری اور میری دوستی تو ہمیشہ ہی رہے گی مگر عینا کو تُو پھر ہمیشہ کیلئے کھو دے گا۔ اور دوبارہ چاہ کر بھی اسے حاصل نہیں کر پاۓ گا۔ میں جانتا ہوں کہ تجھے اس پر غصہ ہے مگر ایک بار اکیلے میں بیٹھ کر اسکے بارے میں سوچنا ضرور۔ اگر زرا سا بھی درد ہوا ناں تو سمجھ لینا کہ محبت اب بھی باقی ہے"۔ اس نے صرف اتنا کہا اور جب دروازہ کھولا تو سامنے ماہین کھڑی تھی جو تعجب خیز نگاہوں سے دونوں کو دیکھنے لگی۔

"آپ عرشمان صاحب کے دوست ہیں؟" 

"جی مگر آپ کون ہیں؟"

"میں ماہین افگن"۔

"اوہ ہو ہو ! تو اسکا مطلب کہ ہماری ہونے والی بھابھی"؟ وہ ہنس کر بولا۔

"لیکن ابھی تو کسی اور کو بھابھی بنانے کا کہہ رہے تھے آپ؟"

"ہاں وہ۔۔۔۔۔۔دراصل میں عینا کی بات کر رہا تھا۔ عرشمان اسے پسند کرتا ہے ناں اس لئے"۔ اس نے جھٹ سے کہا۔

"اچھا ! اور آپ نے انہیں ایک ساتھ کمرے میں بند بھی کیا تھا؟" اسکا لہجہ سخت ہو رہا تھا۔

"حمزہ آئی سیڈ گو"! عرشمان نے چلا کر کہا۔

"نہیں آپ میرے سوالوں کے جواب دئیے بغیر نہیں جائیں گے"۔ ماہین نے اپنا فیصلہ سنایا۔

"اوکے۔ ہاں تو میں نے ان کو ایک ساتھ بند بھی کیا تھا اور پوری رات یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

"حمزہ!" عرشمان اسے ٹوکتے ہوۓ غصے سے گھورنے لگا۔

"کیا یار میں تو سچ ہی بتا رہا ہوں" وہ اپنی ایکٹنگ کو برقرار رکھ کر بولا۔

مگر ماہین اب تپ چکی تھی۔

"تجھے اچھے سے پتا ہے کہ تُو جھوٹ بول رہا ہے۔"

"بس بہت ہو گیا"۔ ماہین غصے سے چلائی۔

"کیا؟"

"عرشمان آپ کسی اور لڑکی کو پسند کرتے تھے تو میری زندگی کیوں برباد کی؟"

"کرتا تھا کرتا ہوں نہیں"۔

"اور جو آپکا دوست کہہ رہا ہے کہ آپ اس کے ساتھ کمرے میں بند تھے وہ سب کیا ہے پھر؟"

"تم میرے کردار پر شک کر رہی ہو ماہی؟"

"ہاں"

"تو پھر سنو میں تمہیں کوئی بھی صفائی دینا ضروری نہیں سمجھتا" وہ بے پرواہ ہو کر بولا تھا۔

"مگر میں آپکی ہونے والی بیوی ہوں۔ میرا سب کچھ جاننا ضروری ہے"۔ وہ روبرو ہوئی۔

"اور مجھے شکی مزاج لڑکیاں بالکل نہیں پسند"۔

"میں شک نہیں کر رہی۔ بس مطمئن ہونا چاہتی ہوں۔"

"میرے پاس تمہارے فضول سوال کا کوئی جواب نہیں ہے۔"

"تو پھر ٹھیک ہے۔ میں آپ سے شادی نہیں کروں گی"۔

حمزہ کی آنکھوں میں ماہین کی بات سن کر ایک چمک سی ابھری۔

"تو مت کرو۔ کسے پرواہ ہے"۔ 

"تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ؟" وہ ڈائیریکٹ آپ سے تم پر آ چکی تھی۔

"نہیں"۔

"صیح ہے۔ تو پھر میری بات کان کھول کر سن لو مسڑ عرشمان احمد کہ آج سے بلکہ ابھی سے میں اس جاب سے ریزائن دیتی ہوں اور میں تم سے کوئی بھی کسی بھی قسم کا رشتہ نہیں رکھنا چاہتی"۔

"اوکے فائن ! تو تم جا سکتی ہو"۔

"تم جس قدر بے پرواہ ہو رہے ہو ناں ! اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ تمہارا دوست جو بھی کہہ رہا ہے وہ بالکل سچ ہے"۔

حمزہ نے بمشکل اپنی ہنسی کنڑول کی۔

"تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو"۔

"ویسے تم یہی سمجھتے ہو ناں عرشمان احمد کہ تم جب جسکو چاہو نوکری سے نکال سکتے ہو تو سنو یاد رکھنا میں خود یہ نوکری چھوڑ رہی ہوں۔ اور اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم بہت خوبصورت اور امیر ہو اس لئے تمہیں کوئی نہیں ٹھکرا سکتا تو پھر سے سنو ماہین افگن خود تمہیں ٹھکرا کر جارہی ہے۔ مجھے تم سے یا تمہارے پیسے سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس لئے تم آزاد ہو اب سے"۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ ویری فنّی مس ماہین! تو تمہیں لگتا ہے کہ عرشمان احمد کو کوئی قید کر سکتا ہے؟ جو تم مجھے آزاد ہونے کا کہہ رہی ہو؟ اور رہی بات جاب اور میری تو تم سے کئی گناہ زیادہ بہتر ایمپائر ہیں میرے پاس اور میں یعنی عرشمان احمد کو حاصل کرنے کی ہر کسی کی اوقات بھی نہیں ہے"۔ وہ مغرور ہوکر بولا تھا۔

"کسی دن تمہارا یہ غرور تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا"۔

"غرور نہیں ہے مجھے۔ بس ناز ہے خود پر"۔

"تمہیں پتا ہے کہ میں نے آج تک تمہاری ہر بد تمیزی اور گستاخ لہجہ صرف اس لئے برداشت کیا کیونکہ یا تو میں تمہاری اسسٹنٹ تھی یا تمہاری ہونے والی بیوی۔ مگر اب کچھ بھی نہیں ہوں اس لئے آج سے تمہارے ساتھ بھی ویسے ہی پیش آؤں گی جیسے دوسرے آوراہ لڑکوں سے پیش آتی ہوں کیونکہ تم نے ابھی تک ماہین کا اصلی چہرہ دیکھا ہی نہیں ہے۔ پچھتاؤ گے تم یاد رکھنا"۔ اس نے انگلی دیکھاتے ہوۓ کہا اور پھر چلی گئی۔

"اب تُو بھی کھڑا میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے؟ دفع ہو جا یہاں سے"۔ وہ غصے سے دھاڑا۔

"اوکے جا رہا ہوں"۔ حمزہ اپنی ہنسی دباتا ہوا کیبن سے باہر نکل آیا اور فوراً عرشمان کے گھر کی جانب رخ کیا۔

گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے عالیہ بیگم کو سلام کیا۔ اور ڈرائنگ روم میں پڑے صوفے پر آکر براجمان ہو گیا۔

"نسیمہ ! حمزہ کیلئے چاۓ لیکر آؤ"۔ عالیہ بیگم نسیمہ سے مخاطب ہوئیں۔

"شکریہ آنٹی"۔

"اور سناؤ بیٹا کافی دنوں بعد چکر لگایا ہے۔"

"جی وہ بس سارا دن کام ہی ختم نہیں ہوتے اس لئے۔"

"اچھا"۔

"آنٹی آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی اس لئے مجھے خود آنا پڑا "۔

"ہاں بولو بیٹا"۔ 

"آنٹی دراصل میرا اور عرشمان کا کسی بات پہ چھوٹا سا جھگڑا ہو گیا تھا اس لئے میں آج اسے منانے کیلئے اسکے آفس گیا تھا۔ اور ہم دونوں آپس کی کچھ باتیں کر رہے تھے تبھی ماہین وہاں آگئی۔ اس نے آکر عرشمان کی بہت بےعزتی کی اور شادی سے انکار کر کے اپنا رشتہ بھی توڑ کر چلی گئی۔"

"کیا؟" وہ چونک کر بولیں۔

"جی اور عرشمان نے پھر مجھے بھی غصے میں دفتر سے نکال دیا۔ چلو کوئی بات نہیں آنٹی مجھے برا نہیں لگا مگر میں تو بس یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ دو دن رہ گئے ہیں شادی میں اور ایسے میں اگر ماہین نے شادی نہ کی تو؟"

"ایسے کیسے رشتہ ختم کرکے چلی گئی وہ؟ کوئی بات تو ہوئی ہی ہوگی"۔

"پتہ نہیں آنٹی۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ اب مانے گی"۔

"تم رکو میں ابھی شہناز کو فون کرکے پوچھتی ہوں"۔

"جی "۔ 

انہوں نے فوراً شہناز بی بی کو کال ملائی اور سلام کرتے ہی سارا ماجرا جوں کا توں بیان کر دیا۔ شہناز بی بی اس معاملے سے بالکل بے خبر تھیں۔ تبھی اچانک فون ماہی نے پکڑ لیا۔

"السلام علیکم آنٹی"۔

"واعلیکم السلام ! یہ میں کیا سن رہی ہوں ماہی؟ تم نے عرشمان کی انسلٹ کی اور رشتہ بھی ختم کر دیا؟"

"جی ایسا ہی ہے۔ کیونکہ میں آپ کے بدتمیز اور دھوکے باز بیٹے سے شادی نہیں کر سکتی"۔ وہ آج بد لحاظ ہو کر بولی تھی۔

"میرا بیٹا بدتمیز اور دھوکے باز نہیں ہے۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔" 

"وہ ایسا ہی آنٹی۔ اور مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ بلکہ غلط فہمی تو مجھے تب ہوئی تھی جب مجھے لگا کہ آپ جیسے امیر لوگوں کے دل ہم غریبوں کیلئے صاف ہیں۔"

"تم کہنا کیا چاہتی ہو"؟

"دیکھیں آنٹی میں آپ کو صاف صاف بتاتی ہوں۔ آپکا بیٹا کسی عینا نام کی لڑکی کو پسند کرتا ہے۔ اور اسکے ساتھ پوری رات ایک ہی کمرے میں بند بھی رہ چکا ہے۔ اور اسے کسی لڑکی سے بات کرنے کی تمیز بھی نہیں ہے۔ اس لئے سوری میں آپکے گھٹیا بیٹے سے شادی نہیں کرسکتی"۔

"خبر دار ! جو میرے بیٹے کو آئندہ گھٹیا بولا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ اپنے بیٹے کو میں تم سے بہتر جانتی ہوں اور تم کیا اس رشتے سے منع کرو گی۔ میں خود تم جیسی بد لحاظ لڑکی کو اپنی بہو بنانے کے قابل ہی نہیں سمجھتی۔ اچھا ہوا کہ تمہارا اصلی چہرہ پہلے ہی سامنے آ گیا۔ اب آج کے بعد میں نے تمہارے منہ سے اپنے بیٹے کے خلاف ایک لفظ بھی ناقابلِ برداشت سنا تو میں تمہاری بوڑھی ماں پر بھی ترس نہیں کھاؤں گی۔ سمجھی تم ؟" عالیہ بیگم آج کافی تپ چکی تھیں۔ 

کال کاٹنے کے بعد وہ اپنا سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گئیں۔

"ریلکس رہیں آنٹی"۔ حمزہ انکے پاس آکر بیٹھ گیا۔

"کیسے ریلکس رہوں؟ وہ پتا نہیں کس قسم کے گھٹیا الزامات لگا رہی تھی میرے بیٹے پر۔ اور صرف دو دن ہیں شادی میں اور ان دو دنوں میں کہاں سے اچھی لڑکی ڈھونڈوں گی میں؟" 

"آنٹی آپ فکر مت کریں۔ اسکا بھی حل ہے میرے پاس"۔ 

"کیا؟"

"آپ عینا سے اسکی شادی کروا دیں"۔

"کیا مطلب؟ وہ تو پہلے سے ہی کسی کے نکاح میں ہے"۔

"نہیں آنٹی ۔ شاید کسی نے آپکو بتایا نہیں مگر کچھ ماہ پہلے اسکے شوہر عادل اور بیٹے احد کی ایک کار ایکسیڈینٹ میں ڈیتھ ہوگئی۔"

"کیا؟ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون "۔

"جی اور اب وہ نمرہ کے ساتھ اسکے فلیٹ میں رہتی ہے۔ وہ بہت ہی اکیلی ہو چکی ہے آنٹی۔ آپ شاید نہیں جانتی مگر اس نے مجبوری میں عادل سے شادی کی تھی۔ لیکن اس نے کسی اور کے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی صرف عرشمان کو ہی چاہا ہے۔ وہ اب بالکل اکیلی پڑ چکی ہے۔ اسے جینے کی اور کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اور ایسے میں صرف عرشمان ہی ہے جو اسے پھر سے زندگی کی طرف واپس لا سکتا ہے"۔

"اللّٰہ اسے صبر دے۔ مگر بیٹا میں اسے اپنی بہو کیسے بنا سکتی ہوں۔ لوگ کیا کہیں گے کہ میں نے اپنے اکلوتے بیٹے کیلئے ایک بیوہ لڑکی کا انتخاب کیا؟"

"آنٹی لوگوں کا تو کام ہے باتیں کرنا۔ اور آپ کیلئے اپنے بیٹے کی خوشی اہم ہونی چاہیے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ عرشمان آج بھی اس سے محبت کرتا ہے۔ بس بتاتا نہیں ہے"۔

"لیکن مجھے ایسا نہیں لگتا۔ اور میں کیسے بھول سکتی ہوں کہ اس لڑکی کی وجہ سے ہی میرے بیٹے نے اپنی جان لینے کی کوشش کی تھی۔"

"آنٹی آپ بھی تو ایک عورت ہیں ناں! میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں کہ اگر ایک طرف آپکی محبت ہو اور دوسری طرف آپ کے باپ کی عزت تو آپ کسے چنیں گی؟"

"باپ کی عزت"۔

"تو پھر اس نے بھی تو وہی کیا تھا۔ پھر وہ غلط کیوں ہوئی؟ حالانکہ وہ تو آج بھی صرف عرشمان سے ہی پیار کرتی ہے"۔

"تم صیح کہہ رہے ہو بیٹا لیکن۔۔۔۔۔۔۔"

"لیکن ویکن کو چھوڑ دیں آنٹی۔ اب آپکے پاس اسکے علاوہ اور کوئی آپشن بھی تو نہیں ہے۔ ورنہ ماہین کی ہی منت کر لیں آپ"۔

"ہرگز نہیں۔ میں اپنے بیٹے کی شادی ایک ایسی لڑکی سے بالکل نہیں کرسکتی جو اس پر بھروسہ ہی نہ کرتی ہو"۔

"تو پھر عینا کو ہی چُن لیں آنٹی پلیز!"

"مگر عرشمان ؟"

"عرشمان میری تو بالکل نہیں سنے گا اب۔ صرف آپ ہی ہیں جو اسے منا سکتی ہیں"۔

"ہمممم۔ چلو سوچتی ہوں کچھ اور احمد سے بھی مشورہ کروں گی"۔

"جی آنٹی ! مگر جلدی کریے گا کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے"۔

"ہمممممم"۔

"عرشمان!" 

"جی"۔  وہ کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔

"بیٹا میں جانتی ہوں کہ جو کچھ بھی ہوا کچھ صیح نہیں تھا۔ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔"

"موم پلیز لیو اِٹ"۔

"بیٹا لیکن سب مہمان تمہارا نیچے انتظار کر رہے ہیں۔ مایوں کی رسم بہت ضروری ہوتی ہے"۔

"مجھے نہیں آنا۔ آپ جائیں"۔

"تمہارے بغیر رسم کیسے ہوگی بیٹا؟"

"موم ایک تو مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ جب شادی ہونی ہی نہیں ہے تو پھر آپ یہ رسمیں کیوں کر رہی ہیں؟"

"تم سے کس نے کہا کہ شادی نہیں ہونی؟"

"آپ اچھے سے جانتی ہیں پھر بھی پوچھ رہی ہیں؟"

"بیٹا میں نے تمہارے لئے دلہن دیکھ لی ہے"۔

"موم میں ماہین سے شادی ہرگز نہیں کروں گا اب"۔

"میں ماہین کی بات نہیں کر رہی"۔

"تو پھر کون ؟"

"بس ہے کوئی۔ چھوڑو تم اسکو بس جلدی سے نیچے آ جاؤ۔" وہ اپنی بات مکمل کرکے واپس مڑیں۔

"موم؟ بتائیں کون ہے وہ پلیز"۔ اس نے عالیہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔

"بیٹا تسلی رکھو۔ بہت اچھی لڑکی ہے"۔

"میں کوئی بھیڑ ، بکری نہیں ہوں جسے اٹھا کر کسی کے بھی ساتھ باندھ دیں گی آپ"۔

"عرشمان تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے کیا؟"

"ہے۔ خود سے بھی زیادہ ہے موم"۔

"تو پھر مطمئن رہو۔ میں وعدہ کرتی ہوں کہ وہ ماہین نہیں ہوگی مگر وہ جو بھی لڑکی ہے۔ تمہاری زندگی کو خوشیوں سے بھر دے گی انشاء اللّٰہ" انہوں نے اسکی گال پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپاتے ہوۓ کہا۔

"ٹھیک ہے موم۔ دیکھتے ہیں کہ میری ماں نے کس لڑکی کو چُنا ہے اب میرے لئے"۔

"ہممم۔ بس تم مجھ سے ایک وعدہ کرو بیٹا"۔

"کیا؟"

"کہ میں نے جس لڑکی کا انتخاب کیا ہے تم اس سے شادی سے انکار نہیں کرو گے اور اسے دل سے قبول کرو گے؟"

"اوکے پرامِس"۔

"گڈ۔ اب نیچے آ جاؤ چلو شاباش"۔

"اوکے آپ جائیں۔ میں چینج کرکے آتا ہوں"۔

"اوکے"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

عالیہ بیگم ڈائیریکٹ روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئیں اور سامنے الماری کے پاس کھڑی عینا کو آکر گلے سے لگا کر سلام کہا۔

"کیسی ہو بیٹا؟" انہوں نے مسکراتے ہوئے عینا کو دیکھا مگر وہ پھٹی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھیں۔

"السلام علیکم! بیٹا کیسی ہو؟" اب کی بار احمد ملِک نے سوال کیا۔

"مم۔۔۔۔ممممم۔۔۔۔۔میں ٹھیک"۔ وہ بمشکل بولی۔

"عینا اتنے عرصے بعد انکل آنٹی آۓ ہیں۔ بیٹھاؤ تو سہی انہیں"۔ نمرہ نے خوش دلی سے کہا۔

"جی آئیں بیٹھیں"۔ عینا نے انہیں سامنے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

"تم تو پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو گئی ہو بیٹا"۔ 

"جی"۔

"میں کچھ کھانے پینے کو لاتی ہوں"۔ نمرہ بولی۔

"نہیں تم بھی ہمارے پاس ہی بیٹھو"۔ عالیہ بیگم نے اسے مخاطب کر کے کہا۔

"اوکے"۔

"عینا بیٹا میں۔۔۔۔۔۔تمہیں اپنی بہو بنانا چاہتی ہوں۔ کیا تم میرے بیٹے سے شادی کرو گی؟" عالیہ بیگم کے سوال پر عینا دنگ رہ گئی۔

اسے انکے بولے گئے الفاظ پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ اپنے رب کے کئے گئے معجزے کے بارے میں سوچنے لگی۔ اسے یہ سب ایک خواب کی مانند محسوس ہو رہا تھا۔ اب اسکی آنکھوں سے اپنی رب کی محبت دیکھ کر آنسو بہنے لگے۔ مگر وہ خاموش کھڑی تھی۔

"عینا بیٹا تم رو کیوں رہی ہو؟ کیا تم عرشمان سے شادی نہیں کرنا چاہتی؟" عالیہ بیگم نے افسردگی سے پوچھا۔

"ن۔۔ن۔۔۔ن۔۔۔۔۔۔۔نہیں یہ تو۔۔۔۔خوشی کے آنسو ہیں آنٹی"۔ اس نے اٹکتے ہوۓ کہا تھا اور پھر عالیہ بیگم نے اسے مسکراتے ہوۓ گلے سے لگا لیا۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

یہ مغرب کی نماز کا وقت تھا۔ جب وہ سجدے میں سر رکھ کر شکر کے آنسو بہا رہی تھی۔ آج اسے اپنی قسمت پر یقین نہیں آرہا تھا۔ اس نے شاید کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا کہ اسکا رب اسکے لئے ایسا معجزہ کرے گا جسے دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ جاۓ گی۔ آج اسے اللّٰہ کی محبت بہت شدت سے محسوس ہونے لگی تھی۔

"یا اللّٰہ! تیرا شکر ہے۔ میں نے جو تجھ سے مانگا تُو نے مجھے وہ عطا کر دیا۔ میں تو مایوس ہونے لگی تھی مگر تُو نے مجھے پھر سے جینے کی ایک نئی امید دی ہے۔ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے پروردگار"۔ وہ آج روتے ہوۓ اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی۔

تبھی اچانک نمرہ کمرے میں آئی۔ اسکے قدموں کی آہٹ سن کر عینا نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کئے اور جاۓ نماز سمیٹ کر کھڑی ہوگئی۔

"عینا تم رو رہی تھی؟" نمرہ نے آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھا۔

"نہیں۔"

"عینا تم جھوٹ بول رہی ہو مجھ سے؟"

"نہیں وہ بس ایسے ہی ڈر رہی تھی تو اللّٰہ کے آگے رو لیا۔"

"اب کونسا ڈر؟"

"اللّٰہ کو کھونے کا ڈر"۔

"عینا وہ تو ہمیشہ سے پاس ہے۔ بس دور تو ہم انسان چلے جاتے ہیں"۔ 

"ہمممم"۔

"ایک بات بولوں نمرہ؟"

"ہاں بولو"۔

"پہلے میں سوچا کرتی تھی کاش کوئی ہوتا جس کے کندھے پر سر رکھ کر جی بھر کے رو سکوں۔ جس کے ساتھ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکوں۔ کاش ! کوئی ہوتا جو میرے لفظوں کا محتاج نہ ہوتا۔ جو سنے بغیر میرے دل کی ساری بات سمجھ جاتا۔ جو میری خاموشی کو محسوس کر سکتا۔ لیکن !  

اب مجھے کسی کہ ساتھ کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ مجھے آہستہ آہستہ انسانوں کی سمجھ آنے لگی ہے۔ اب میں نے لوگوں سے امیدیں لگانا چھوڑدیں ہیں اور اللّٰہ کے ساتھ غم بانٹتے بانٹتے خود کو مضبوط کر لیا ہے۔

اب جب بھی رونے کو جی کرتا ہے تو سجدے میں رو لیتی ہوں۔ اللّٰہ سے کچھ کہہ بھی نہ سکوں وہ تب بھی مجھے تسلی دیتا ہے۔ میرے ٹوٹے دل کو راحت دیتا ہے۔ میں اس کی طرف ہاتھ بڑھاتی ہوں اور وہ مجھے تھام لیتا ہے۔

مجھے کچھ آیتیں یاد آتی ہیں جو رب کا وعدہ ہے۔ میں جب ٹوٹ جاتی ہوں تو رب کے پاس جاتی ہوں۔ وہ کہتا ہے 

"تم صبر کرو تمہیں اکیلا نہیں چھوڑا"

اور ہم سمجھتے ہیں ہم بہت اکیلے ہوچکے ہیں۔ اس لیے جب کبھی تھک جاتے ہیں تو سہاروں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ لیکن دنیا کے سہارے تو مکڑی کہ جالوں سے بھی زیادہ کمزور  ہیں۔"

"بے شک"۔

"اور ایک بات کہوں میں تمہیں؟"

"ہاں"۔ 

"سب چھوڑ دو تم بھی۔ بس یہ سوچو کہ میں اللّٰہ کی نظرِ خاص میں ہوں یا نہیں۔ میں اللّٰہ کو محبوب ہوں یا نہیں۔ میرا اللّٰہ کے ہاں مقام ہے یا نہیں۔ میرا وہاں نام ہے یا نہیں۔

یہ زمین والوں کے معیار پہ انسان مر کے بھی پورا نہیں اترپاتا۔ مگر اللّٰہ کا معیار آسان ہے۔ تم آزما کر دیکھو"۔ وہ آج اطمینان سے بیٹھی اسکی باتیں سن رہی تھی۔ 

اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب عینا کہہ رہی ہے۔ وہ جو شاید کبھی ایک نماز بھی ادا نہیں کرتی تھی اب تہجد پڑھنے لگی تھی۔ اور ہر وقت اللّٰہ کی باتیں کرنے لگی تھی۔ 

سچ میں کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں۔ جو ہمیں اندر سے بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ انسان کو اس مقام تک لے جاتے ہیں جسکا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ اور شاید وہ درد کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے جو ہمیں اللّٰہ سے جوڑ دیں۔ 

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

شادی کی ساری رسمیں انتہائی دھوم دھام سے مکمل ہونے کے بعد آج مغرب کی نماز کے بعد انکا نکاح تھا۔ ملِک ہاؤس کو انتہائی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ لان کے پودوں پر بھی لائٹنگ کی گئی اور مہمانوں کی آمد کا انتظار شہر کے سب سے مہنگے اور مشہور میرج ہال میں کیا گیا۔ 

نورالعین کو تیار کروانے کیلئے عالیہ بیگم اسے انتہائی مہنگے سیلون میں لیکر آئیں تھیں۔ گھر کی سجاوٹ سے لیکر میرج ہال کی سیلیکشن سب عالیہ بیگم کی پسند کا تھا۔ بـے  حد جشن اور شور شرابـے کے بعد اب نکاح کا وقت تھا۔ قاضی صاحب ، احمد ملِک ، حمزہ علی افتخار اور چند گواہان برائیڈل روم میں داخل ہوۓ۔

آج نورالعین پہلے سے کئی گناہ زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسکے چہرے پر الگ ہی روپ اور رونق نظر آ رہی تھی۔ جیسے وہ سارے غم ایک پل میں بھول گئی ہو۔ وہ آج بالکل ایک پری کی مانند لگ رہی تھی۔ اسکا لہنگا مہرون اور ہلکے پیچ کلر کی کُرتی تھی۔ لہنگے کی قیمت تقریباً چھ لاکھ تھی۔ عالیہ بیگم چونکہ ایک معروف فیشن ڈیزائنر تھیں اس لئے انہوں نے یہ لہنگا خود ڈیزائن کیا تھا۔ مگر سارہ ارجنٹ شادی ارینج ہونے کی وجہ سے اس میں شرکت نہ کر سکی۔

"عینا بیٹا نکاح پڑھانے کی اجازت ہے؟" عالیہ بیگم نے شائستگی سے پوچھا۔

"جی"۔ اس نے شرما کر جواب دیا۔

"نورالعین سکندر ولد سکندر شاہ آپکا نکاح عرشمان احمد ملِک ولد احمد ابراہیم ملِک بہ عوض ایک کروڑ حق مہر سکّہ رائج الوقت سے کیا جاتا ہے۔ کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے؟"

"جی قبول ہے"۔ آج اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔

"آپ قبول کرتی ہیں؟"

"جی قبول کرتی ہوں"۔

"کیا آپ یہ نکاح قبول کرتی ہیں؟"

"جی قبول ہے"۔

قاضی صاحب نے اسے نکاح نامہ پکڑایا جس پر اس کی ہنسی خوشی دستخط کر دئیے۔

عالیہ بیگم نے اسکا ماتھا چوما اور قاضی صاحب اور احمد ملِک کے ساتھ ہال کی جانب چلیں گئیں۔ اب عرشمان کی باری تھی۔

"مبارک ہو تمہیں عینا"۔ نمرہ نے خوشی سے اسے گلے لگایا۔

"خیر مبارک"۔ 

"اوۓ ہوۓ ! آج تو دیکھو اسکو کتنا شرما رہی ہے"۔ حمزہ نے اسے چھیڑتے ہوۓ کہا۔ تو عینا ہلکا سا مسکرا دی۔

"چلو نمرہ اب چل کر عرشمان کو دیکھتے ہیں۔ " حمزہ نے اسے مخاطب کرکے کہا۔

"اوکے" وہ دونوں ہال کی طرف بڑھے۔ جہاں پر قاضی صاحب عرشمان کے قریب آکر بیٹھ گئے تھے۔

وہ آج مہرون رنگ کی شیروانی میں ملبوس پہلے سے کئی گناہ زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔ عرشمان اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ اسکا نکاح کس سے ہونے جا رہا ہے۔

"عرشمان احمد ملِک ولد احمد ابراہیم ملِک آپکا نکاح نورالعین سکندر ولد سکندر شاہ بہ عوض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

نورالعین کا نام سنتے ہی عرشمان نے چونک کر پہلے قاضی صاحب اور پھر عالیہ بیگم کی طرف دیکھا۔

"کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے؟" قاضی صاحب کے دوسری بار پوچھنے پر بھی وہ بالکل خاموش رہا۔ اور پھٹی آنکھوں سے عالیہ بیگم کی جانب دیکھتا رہا۔ اسے اپنی ماں سے کیا گیا وعدہ یاد آنے لگا۔ تبھی احمد ملِک نے عرشمان کے کندھے پر ہاتھ کر اسے پلکیں جھپکا کر اثبات میں جواب دینے کا اشارہ کیا۔

"جی قبول ہے"۔ وہ سنجیدگی سے عالیہ بیگم اور احمد ملِک کی جانب دیکھتے ہوۓ بولا۔

تین بار نکاح قبول کرنے کے بعد اس نے بھی نکاح نامے پر دستخط کئے اور سب نے انکی بہترین ازدواجی زندگی کیلئے دعا کی۔

"اب تو گلے مل لے سالے !" حمزہ نے اسکے قریب آکر اسے آنکھ مارتے ہوۓ کہا۔ عرشمان نے بھی چپ چاپ اسے گلے سے لگا لیا۔ سب نے اسے ڈھیروں مبارکیں دیں۔ مگر عرشمان چہرے پر جھوٹی ہنسی سجا کر سب کا جواب دیتا رہا۔

پھر عالیہ بیگم اور نمرہ ، عینا کو لیکر ہال میں داخل ہوئیں۔

عینا کے ہال میں داخل ہوتے ہی حمزہ اور اسکے کچھ اور دوستوں نے سیٹیاں مارنا شروع کر دیں۔ عرشمان دور سے اسے تک رہا تھا۔

اسکے سٹیج پر پہنچتے ہی عرشمان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ عینا نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما اور سٹیج پر چڑھ گئی۔ وہ دونوں کافی دیر تک ایک ساتھ بیٹھے رہے۔ سب نے انکی بہت سی تصاویر بنائیں اور حمزہ اور نمرہ نے انکے ساتھ فرینڈز گروپ فوٹوز بھی بنائیں۔ عینا سٹیج پر بیٹھی ہر تھوڑی دیر بعد ساتھ بیٹھے عرشمان کو دیکھ رہی تھی مگر اس نے ایک بار بھی اس پر نگاہ نہ ڈالی۔

تقریب ختم ہونے کے بعد اسکی رخصتی کر دی گئی۔ عالیہ بیگم اور نمرہ دونوں اسے پکڑ کر عرشمان کے کمرے تک لیکر آئیں۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی عینا نے رشک بھری نگاہوں سے کمرے کو دیکھا جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ وہ اب عرشمان کی دلہن ہے۔ 

پورا کمرہ تازہ پھولوں سے سجایا کیا گیا تھا۔ اور سیج انتہا درجے کی خوبصورت بنائی گئی تھی۔

عالیہ بیگم نے اسے بیڈ پر بیٹھایا اور اسکا لہنگا پورے بیڈ پر پھیلا دیا۔

"ماشاءاللّٰہ! کسی کی نظر نہ لگے میری چاند جیسی بہو کو"۔ عالیہ بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

"سچ میں آج تو عرشمان پکا بے ہوش ہی ہو جاۓ گا"۔ نمرہ نے بھی شرارت کی۔

"اچھا عینا بیٹا ! کمرے میں ہر چیز موجود ہے۔ لیکن پھر بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھ سے آکر کہہ دینا"۔ 

"جی آنٹی"۔ 

"آنٹی؟" عالیہ بیگم نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔

"جی۔۔۔وہ۔۔۔۔۔"

"عینا آج سے میں تمہاری بھی ماں ہوں۔ اس لئے تم بھی مجھے موم یا ماما یا ممی کچھ بھی سکتی ہو"۔

"جی ممی جی"۔ اس نے پیار سے کہا۔

"اچھا میں دیکھتی ہوں عرشمان کہاں ہے۔ تب تک تم دونوں گپ شپ کرو"۔

"جی"۔ 

عالیہ بیگم دروازہ بند کرکے باہر چلی گئیں اور نمرہ اسکے قریب آکر بیٹھ گئی۔

"کیسا فیل ہو رہا ہے؟" نمرہ نے اپنی بھنوئیں اوپر کرکے پوچھا۔

"عجیب سا"۔ 

"عجیب کیوں؟"

"پتا نہیں"۔

"یار اب تو عرشمان تیرا ہی ہے۔ اب اسے تجھ سے کوئی الگ نہیں کر سکتا"۔

"ہمممم۔ لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ وہ خوش نہیں ہے"۔

"ایسا کچھ نہیں ہے عینا۔ تم فضول سوچ رہی ہو۔ اور اگر وہ خوش نہیں بھی ہے ناں تو اب منا لینا اسکو۔ اب تو کہیں نہیں جاۓ بھاگ کر"۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ ہاں یہ تو ہے"۔

"اچھا یار میں لیٹ ہو رہی ہوں۔ کافی رات ہو چکی ہے گھر بھی جانا ہے۔ اس لئے اب چلتی ہوں"۔

"صبح ٹائم سے آ جانا پلیز "۔

"اوکے۔ میں تو ٹائم سے آ جاؤں گی مگر تم ٹائم سے نہیں اٹھو گی"۔ نمرہ نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا۔

"بد تمیز "۔ عینا نے ہنس کر بھنویں سکیڑیں۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ اوکے خدا حافظ "

"خدا حافظ "۔ نمرہ نے اسکی گال کے ساتھ گال ملائی اور ہاتھ ہلاتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

رات کے دو بج چکے تھے مگر ابھی تک عرشمان کمرے میں نہیں آیا تھا اور اسے نیند کے جھونکے آنے لگے۔ بالآخر اسکی آنکھ لگ گئی۔ 

تقریباً مزید آدھے گھنٹے بعد وہ کمرے میں آیا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے عینا کی جانب دیکھا جو شاید بیٹھے بیٹھے ہی سو گئی تھی۔ وہ کافی دیر تک قریب آ کر کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پھر ہلکا سا کھنکھارا۔ آواز سن کر عینا نے فوراً آنکھیں کھول لیں اور جلدی سے سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔

"نیند آرہی ہے؟" 

"ن۔۔۔ن۔۔۔۔نہیں"۔ وہ گردن جھکا کر بولی۔

"اچھا۔ ادھر دیکھو میری طرف" وہ اسکے پہلو میں بیٹھتے ہوۓ بولا۔

عینا نے نظریں اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔

"تمہیں پتا ہے عینا؟ کہ تم بہت خوبصورت ہو۔ بہت ہی زیادہ مگر میں تمہاری اس خوبصورتی کا کیا کروں؟"

"کیا مطلب ؟"

"تم جانتی ہو نہ کہ عرشمان احمد کبھی بھی کسی کی استعمال کی گئی چیزوں کو ہاتھ بھی لگاتا۔ اور ہاتھ لگانا تو دور کی بات انہیں اپنے اردگرد بھی برداشت نہیں کرتا" وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر طمانیت سے بولا۔

"عرشمان!" عینا نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا۔

پھر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور ڈریسنگ کے دراز میں سے ایک ڈبی نکالی۔

"یہ تمہارا منہ دیکھائی کا گفٹ ہے"۔ اس نے ڈبی اسکی طرف اچھال دی۔

عینا کی آنکھوں میں نمی سی اتر آئی۔

"اب اسے بعد میں کھول کر دیکھنا۔ پہلے بیڈ سے اٹھو اور صوفے پر یا نیچے جہاں بھی تمہیں مناسب لگے سو جانا۔"

"عرشمان تم یہ کیا کر رہے ہو؟" عینا بیڈ سے اٹھ کر اسکے روبرو کھڑی ہو کر بولی۔

"وہی جو مجھے کرنا چاہیے"۔

"اگر یہ سب ہی کرنا تھا تو پھر مجھے قبول کیوں کیا تھا؟ انکار کر دیتے ناں؟"

"تم سے شادی میں نے صرف اور صرف اپنی ماں کی خواہش پر کی ہے۔ ورنہ مجھے اب تم میں کوئی دلچسپی نہیں"۔

"تو اسکا مطلب کہ تمہارے دل میں میری کوئی جگہ نہیں؟"

"نہیں"۔ وہ ڈٹ کر بولا۔

"تو پھر ٹھیک ہے۔ تم مجھے ابھی اسی وقت طلاق دے دو"۔ اس نے غصے میں آکر کہا۔

"تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا؟" 

"ہاں شاید"۔

" لیکن میرا نہیں ہے۔ اس لئے چپ چاپ چینج کرو۔ خود بھی سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو"۔

"نہیں۔ جب تک تم فیصلہ نہیں کر لیتے میں تمہیں نہیں سونے دوں گی"۔

"کیسا فیصلہ ؟"

"دل سے قبول کرو گے یا پھر طلاق دو گے"؟

"عینا تم پاگل ہو کیا؟ شادی کی پہلی رات ہی طلاق کی بات کون کرتا ہے؟" وہ چلا کر بولا۔

"تو پھر ایسے بھی کوئی نہیں کرتا جیسے تم کر رہے ہو۔ اور اگر تمہیں مجھے قبول کرنا ہی نہیں ہے تو پھر آزاد کر دو ناں مجھے اس رشتے سے اور جان چھڑاؤ اپنی"۔

"میں تمہاری طرح بـے وقوف نہیں ہوں"۔

"تو پھر تم طلاق بھی نہیں دو گے؟"

"عینا اب اگر تم نے ایک بار بھی اور طلاق کا نام لیا ناں تو میرا میٹر شارٹ ہو جاۓ گا۔ اور جب میرا میٹر شارٹ ہو جائے تو میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ جانتی ہو تم یہ اچھے سے۔ اس لئے بہتر ہے کہ چپ چاپ سو جاؤ"۔

"تو پھر صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ تم مجھے نہیں چھوڑنا چاہتے"۔ اس نے اپنے آنسو صاف کرکے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا۔

وہ بنا جواب دئیے سر جھٹک کر چینجنگ روم میں چلا گیا۔ پھر ڈارک براؤن رنگ کے کپڑے پہن کر باہر آیا اور عینا کو گھورتا ہوا بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔

"لگتا ہے اب مجھے پہلے والی عینا بننا ہی پڑے گا" وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی پھر اسکے قریب آکر اپنی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے دیکھنے لگی۔

"کیا دیکھ رہی ہو؟ سو جاؤ جا کر اور مجھے بھی سونے دو پلیز"۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔

"تم کتنے پیارے لگ رہے ہو ناں مینڈک!" وہ پیار سے بولی۔

"شٹ اَپ"۔ اس نے اپنی آنکھیں پھیریں۔

"عرشمان مان جاؤ ناں پلیز !" 

"عینا جاؤ مجھے سونے دو۔ بہت نیند آ رہی ہے"۔

"نہیں پہلے تم اپنی ناراضگی ختم کرو"۔

"میں ناراض نہیں ہوں۔ کیونکہ ناراض بھی اپنوں سے ہوا جاتا ہے اور تم میری اپنی نہیں ہو"۔

"تمہاری نہیں تو کیا کسی اور کی بیوی ہوں"۔ وہ آج بھی پہلے کی طرح منہ پھٹ ہی تھی۔

عرشمان نے غصے اسکی جانب دیکھا۔

"اچھا تو تم نے نہیں ماننا؟"

"نہیں"۔

"اوکے پھر مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔ گڈ نائٹ"۔ وہ جمائی لیتے ہوۓ بولی۔

"او ہیلو! ادھر میرے ساتھ بیڈ پر کہاں سو رہی ہو؟ وہ وہاں ادھر سامنے والے بڑے صوفے پر سو جا کر"۔ 

"برابلم تمہیں ہے مجھ سے۔ مجھے نہیں اس لئے تم سو جاؤ وہاں"۔

"یہ میرا بیڈ ہے محترمہ"!

"تمہارا تو نہیں ہے۔ لکڑی کا ہے"۔ وہ کندھے اچکا کر بولی۔

"میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا۔ اس لئے پلیز اٹھو یہاں سے"۔

"اوکے۔ لیکن تم میری ایک بات مانو گے پلیز ؟"

"کیا؟"

"میں نے اللّٰہ پاک سے پرومس کیا تھا کہ جب تم میرے محرم بنو گے تو میں تمہارے ساتھ مل کر شکرانے کے نوافل ادا کروں گی۔ تو کیا تم ادا کرو گے میرے ساتھ؟"

"بات خدا کے آگے سر جھکانے کی ہے۔ تو انکار کرکے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہونا چاہتا۔ اس لئے ٹھیک ہے۔ لیکن تم بھی پہلے چینج کر لو۔ کیونکہ اتنے ہیوی ڈریس کے ساتھ تم نماز کیسے پڑھو گی؟ میں بھی وضو کر کے آتا ہوں"۔

"اوکے"۔ 

عینا اٹھی اور ٹی پنک کلر کا کڑھائی والا بے حد خوبصورت لباس زیب تن کر کے اسکے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔ پھر عرشمان نے بھی وضو کیا اور دونوں جاۓ نماز پر جا کھڑے ہوۓ۔ عینا اسکی بائیں طرف اور زرا سی پیچھے کھڑی تھی۔

نوافل ادا کرکے دونوں نے سلام پھیر کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ پھر دعا کیلئے ہاتھ اٹھاۓ۔

عرشمان تو بہت جلدی ہی دعا مانگ کر اٹھ کھڑا ہوا مگر عینا کافی دیر تک جاۓ نماز پر بیٹھی آنسو بہاتی رہی۔

وہ واپس بیڈ پر بیٹھ کر مسلسل اسے گھورتا رہا۔ عینا نے دعا کے بعد ہاتھ چہرے پر پھیرے اور جاۓ نماز واپس اسکی جگہ پر رکھ کر اسے دیکھتے ہوۓ صوفے پر بیٹھ گئی۔

"تم رو کیوں رہی تھی؟ کیا تم خوش نہیں ہو؟" عرشمان نے تجسّس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔

"وہ تو خوشی اور شکر کے آنسو تھے۔"

"کیا تم نے کبھی مجھے دعاؤں میں مانگا تھا؟"

"ہاں بہت شدت سے"۔

"ان بلیو ایبل"۔

"کیوں"؟

"جس انسان کو ہم نے رو رو کر خدا سے مانگا ہو پھر بھلا خود ہی اس انسان کو کیسے ٹھکرایا جا سکتا ہے؟"

"عرشمان محبت قربانی مانگتی ہے اور رشتے خراج۔ تمہاری خاطر میں قربانی نہیں دے سکی لیکن اپنے باپ کی خاطر خراج ضرور دیا تھا۔"

"مگر میں نے تو پہلے قربانی بھی دی تھی اور آج خراج بھی دے دیا"۔

"خراج؟"

"ہمممم۔ تم سے شادی کرکے میں نے جسٹ اپنی موم کی وِش کا احترام کیا ہے"۔

"عرشمان کیا تم مجھ سے پہلے جیسی محبت نہیں کر سکتے" وہ صوفے سے اٹھ کر اسکے قریب ہوئی۔

" تمہاری اس بات پر مجھے فیض احمد فیض کی ایک غزل یاد آ رہی ہے۔ جسکا ہر مصرع تم پر فِٹ ہوتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمہیں یہ غزل سن کر تمہارے سارے سوالوں کے جواب مل جائیں گے"۔ 

"ہمممم۔ سناؤ پھر"۔

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ ! 

میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات۔۔

تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے، 

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات۔۔ 

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے !

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے،

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے،

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا۔۔ 

ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم، 

ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے، 

جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم۔۔ 

خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے، 

جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے، 

پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے، 

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے۔۔ 

اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے !

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔ 

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا۔۔ 

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ !

"واہ ! کمال کی غزل ہے"۔

"ہمممم۔ اب سو جاؤ گڈ نائٹ"۔

اس نے کمبل اوپر اوڑھا اور سو گیا۔ عینا کافی دیر وہیں  ناجانے کس امید پر بیٹھی رہی۔ پھر اٹھ کر صوفے پر آ کر لیٹ گئی۔ اب اسکی ساری نیند اڈ چکی تھی۔ وہ چت لیٹی چھت کی جانب دیکھتی رہی۔

"نہ جانے تمہارے دل میں کیا ہے عرشمان! کیا تم کبھی مجھے دل سے قبول کرو گے بھی یا نہیں؟" ایسے بے شمار سوالات اسکے زہن میں گردش کر رہے تھے۔ پھر اچانک وہ اٹھی اور عرشمان کا دیا گیا گفٹ کھولنے لگی۔ 

گفٹ میں ایک ڈائمنڈ کا لاکٹ تھا۔ جسے وہ ہاتھ میں پکڑے کسی گہری سوچ میں ڈوبی کافی دیر تک دیکھتی رہی۔ 

لاکٹ دراز میں رکھ کر وہ مسلسل سونے کی کوشش کرتی رہی مگر نیند شاید اس سے خفا ہو چکی تھی۔

تھوڑی دیر بعد اسے دور کسی مسجد میں فجر کی اذانیں سنائی دینے لگیں۔ وہ جھٹ سے صوفے سے اٹھی۔ تازہ وضو کیا اور مصّلے پر کھڑی ہو گئی۔ نماز ادا کرنے اور ڈھیروں دعائیں مانگنے کے بعد اس نے قرآن پاک اٹھایا اور اسکی تلاوت کرنے لگی۔ 

وہ تلاوت بلند آواز سے کرنے کی عادی ہو چکی تھی۔ اس لئے تلاوت کی آواز سن کر عرشمان ڈسٹرب ہو کر ادھر اُدھر کروٹیں بدلنے لگا۔

"یار تم تھوڑا آہستہ آواز میں پڑھ لو پلیز!" وہ اپنے چہرے سے کمبل ہٹا کر بولا۔

عینا نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے تلاوت جاری رکھی۔ وہ پھر کافی دیر تک کروٹیں بدلتا رہا۔ 

پھر اس نے قرآن اٹھا کر واپس اسکی جگہ پر رکھا اور اسکے پاس آکر کھڑی ہو گئی۔

"عرشمان اٹھ جاؤ نماز کا وقت نکل جاۓ گا"۔

"مجھے پڑھنی ہوگی تو پڑھ لوں گا۔ تم جاؤ یہاں سے"۔

"نہیں اٹھو فوراً "۔ اس نے کھینچ کر کمبل اتارا۔

"عینا کیوں میرا دماغ خراب کر رہی ہو؟ جاؤ یہاں سے!" وہ ہڑبڑا اٹھا۔

اسے اتنے شدید غصے میں دیکھ کر عینا کے رخسار پر چند آنسو رواں ہوگئے۔ عرشمان نے جھٹکے سے کمبل اسکے ساتھ سے کھینچا اور لیٹ گیا۔

----------------------------------------------

"عرشمان یار ابھی تک ناراض ہے تو مجھ سے؟ پلیز مان جا۔ دیکھ تیرے سامنے ہاتھ جوڑ کر رہا ہوں۔ بھئی غلطی ہوگئی معاف کر دے مجھ غریب کو۔"

"ٹھیک ہے ویسے بھی اب ناراضگی کا کیا فائدہ؟ جس کی وجہ سے ناراض ہوا تھا وہ اب میرے نکاح میں ہے"۔

"جی میرے دوست اس کو کہتے ہیں سچی محبت"۔

"او ہیلو مجھے کوئی محبت نہیں ہے اس سے"۔

"کمال ہے یار وہ تیری بیوی ہے۔ ابھی کل تم دونوں کی شادی ہوئی ہے۔ آج شام کو ولیمہ ہے اور ابھی بھی تو کہہ رہا ہے کہ تجھے اس سے کوئی محبت ہی نہیں ہے؟"

"ہمممممم"۔

"چلو ٹھیک ہے بھائی مان لیتے ہیں"۔

"یس"۔

"اچھا میں ذرا چینج کر کے آتا ہوں گھر جاکر۔ پھر شام کو تیرا ولیمہ بھی ہے۔ تو لیٹ ہو جاؤں گا ورنہ"۔

"اوکے"۔

حمزہ ملِک ہاوس کی چھت پر کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا اور پھر واپس اپنے گھر چلا گیا۔

عرشمان سیڑھیاں اترتا ہوا نیچے اپنی موم کے کمرے میں آیا جہاں پر وہ الماری سے اپنے کچھ قیمتی زیورات نکال رہی تھیں۔

"موم"۔

"ہممم بولو عرشمان !"

"مجھے آپ سے ایک ضروری سوال کا جواب چاہیے"۔

"میں جانتی ہوں کہ تم کیا پوچھنا چاہتے ہو"۔ وہ الماری بند کرتے ہوۓ بولیں۔

"کیا؟"

"یہی ناں کہ میں نے نورالعین کا انتخاب کیوں کیا تمہارے لیے؟"

"جی"۔

"کیوں کہ بیٹا وہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے۔ اور وہ تم سے سچی محبت کرتی ہے۔ اس نے جو کچھ بھی کیا ہر بیٹی کو وہی کرنا چاہیے۔ وہ تو شاید بس اپنی بیٹی ہونے کا فرض نبھا رہی تھی۔ اور اس نے جب کچھ غلط کیا ہی نہیں تو کس چیز کی سزا دی جائے اسے؟"

"موم اس نے میرے ساتھ دھوکہ کیا تھا۔ اپنے وعدوں سے مکر گئی وہ۔ مجھے بیچ راہ میں چھوڑ دیا۔ آپ جانتی ہیں سب کچھ۔ پھر بھی آپ نے اسے ہی میرے لئے کیوں چنا؟ آخر کیوں؟ کیا وجہ تھی؟"

"عرشمان میرا تم سے ایک سوال ہے اور مجھے اس کا بالکل سچ جواب دینا"۔

"جی"۔

"کل کو اگر تمہاری بیٹی پیدا ہوتی ہے تو تم کیا چاہو گے اس کے لئے؟ یعنی کہ وہ تمہیں چھوڑ دے یا تمہارے لئے اپنے کسی عاشق کو؟"

"موم آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں؟" وہ چِڑ کر بولا۔

"بولو؟ جواب دو"۔

"میرے پاس آپ کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے موم"۔

"یقیناً تم بھی یہی چاہو گے کہ وہ تمہاری عزت اور تمہارے مان کی خاطر اپنے اس عاشق کو ٹھکرا دے۔ ہے ناں؟"

"میں ایسی نوبت کبھی آنے ہی نہیں دوں گا کیونکہ اگر وہ کسی کو پسند کرے گی بھی تو میں اسکی اسی سے شادی کروا دوں گا۔ اپنے فیصلے زبردستی کبھی مسلط نہیں کروں گا اس پر"۔

"بیٹا وقت اور حالات کے تحت سب کی پسند نا پسند بدل جاتی ہے"۔

"ہمممممم"۔

"تم نے کیا اسے ابھی تک دل سے قبول نہیں کیا؟"

"نہیں"۔

"عرشمان ؟" عالیہ بیگم نے غصے سے اسکی جانب دیکھا۔

"سوری موم"۔ وہ اپنی بات مکمل کرکے واپس مڑا تو عالیہ بیگم نے اسکا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی جانب کیا۔

"بیٹا اب وہ تمہاری بیوی ہے۔ اور تمہیں اسی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنی ہے۔ وہ تم سے بہت پیار کرتی ہے۔ اور جو کچھ ماضی میں ہو چکا ہے اسے بھول کر اپنی نئی زندگی کی شروعات کرو"۔

"مگر آپ جانتی ہیں کہ وہ سب بھولنا آسان نہیں ہے میرے لئے"۔

"مانتی ہوں بیٹا کہ بھولنا آسان نہیں ہوتا۔ مگر جب ہم کسی چیز کا ارادہ کر لیں تو دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہونے لگتا ہے۔ اپنے دل میں زرا گہرائی سے جھانک کر دیکھو گے تو تمہیں بھی اپنے دل میں اسکے لئے چاہت نظر آنے لگے گی۔"

"مگر موم میں پھر بھی یہی کہوں گا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ"۔

"میں نے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا بیٹا۔ اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے تو اسے خود آزما کر دیکھ لو۔ سچ خود تمہارے سامنے آ جاۓ گا"۔

"اوکے"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج ولیمے کا فنکشن ختم ہونے کے بعد وہ چینج کرنے کے لیے اپنے کمرے میں آئی تو عرشمان سامنے بیڈ پر ٹیک لگا کر لیپ ٹاپ چلانے میں مصروف تھا۔ اس نے ایک نظر اس کی جانب دوڑائی اور پھر واپس لیپ ٹاپ کی جانب دیکھنے لگا۔

عینا آج بھی کسی حور کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔ لائٹ گرے کلر کی میکسی میں ملبوس آج وہ کسی حیسن پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ 

دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہ ڈریسنگ کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور اپنا دوپٹہ اتارنے لگی۔ عرشمان نے پھر سے ایک نگاہ اس پر ڈالی اور دوبارہ سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

دوپٹہ اتارنے کے بعد وہ اپنے زیورات اتارنے لگی۔ عرشمان ہر تھوڑی دیر بعد اس پر ایک نگاہ ڈالتا اور واپس لیپ ٹاپ کی جانب دیکھنے لگتا۔ جیسے ہی اس نے اپنے جوڑے کے اندر لگی ہوئی پینز نکالیں تو اس کے گھنے سلکی بال کسی آبشار کی مانند اس کی کمر پر آ گرے۔ اب کی بار عرشمان دلچسپ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ سامنے شیشے میں عرشمان کا عکس دیکھ رہی تھی۔

پھر عینا نے اپنا رخ واپس عرشمان کی جانب موڑا اور ایک نظر اس پر ڈال کر اپنی میںکسی دونوں ہاتھوں سے اوپر اٹھاتے ہوئے چینجنگ روم کی جانب بڑھی۔ تبھی اچانک عرشمان کی آواز پر اس نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھا۔

"عینا؟"

"ہممم"۔

اس نے اپنا لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا اور اٹھ کر اس کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ اب وہ پیار سے اس کی آنکھوں میں گھور رہا تھا۔ 

"ایک بات پوچھوں تم سے؟"

"ہمممم"۔

"اگر میں تمہیں چھوڑ دوں تو تم کیا کرو گی؟"

اس کے سوال پر عینا نے چونک کر سرد آنکھوں سے اسے دیکھا۔

"بولو"۔

"صبر"۔ 

"تم وہ عینا نہیں ہو جس سے میں پیار کرتا تھا۔ تم بالکل بدل چکی ہو۔"

"ہمممم۔ صحیح کہا میں بالکل بدل چکی ہوں ہر طرح سے۔ بس اگر کچھ نہیں بدلا میرے اندر تو وہ میرے دل میں تمہارے لئے جذبات ہیں۔ جو نہ تو کبھی پہلے بدلے تھے نہ بدلے ہیں اور نہ ہی شاید کبھی بدل پائیں گے۔"

"اگر اتنی ہی محبت تھی تو کیوں چھوڑا تھا مجھے سسکتے ہوئے؟"

"میں مجبور تھی عرشمان ! انتہائی مجبور"۔

"اور اب تم میرے لیے کیا کر سکتی ہو؟"

"تم کہہ کر تو دیکھو۔ اپنی جان تک دے دوں گی"۔

"تب ایک قربانی تو دے نہیں سکی اور آج جان بھی دے دو گی؟"

"جان تو تم تب بھی مانگتے تو میں ہنسی خوشی دے دیتی۔ مگر تم نے مجھ سے وہ مانگا تھا جو میں کبھی نہیں دے سکتی تھی۔ جو میرے خود کے اختیار میں بھی نہیں تھا۔ تم نے مجھ سے میرا ساتھ مانگا تھا جو میں چاہ کر بھی نہیں دے سکتی تھی۔ کیونکہ اگر میں تمہارا ساتھ دیتی تو مجھے اپنے بابا کا ساتھ چھوڑنا پڑتا۔ اور اگر میں اپنے بابا کا ساتھ چھوڑ دیتی تو میرے بابا کبھی بھی دوبارہ سر اٹھا کر نہ چل سکتے۔ اور میں اپنے بابا کا سر کبھی جھکنے نہیں دے سکتی تھی"۔

"اچھا اور عادل کے ساتھ دو سال رہنے کے باوجود بھی تمہیں اس سے کبھی محبت نہیں ہوئی کیا؟"

"محبت تو نہیں ہوئی مگر انسانیت کے ناطے کبھی کبھی ہمدردی ضرور ہو جاتی تھی۔"

"کیوں محبت کیوں نہیں ہوئی؟ کیا وہ اچھا نہیں تھا؟ کیا وہ تم سے محبت نہیں کرتا تھا؟ یا اس کے پاس پیسہ نہیں تھا اس لیے؟"

"عرشمان دیکھو اگر تم یہ سوچتے ہو کہ مجھے تمہارے پیسے سے مطلب ہے تو تمہاری انفارمیشن کے لیے میں تمہیں بتا دوں کہ اس وقت میرے بینک اکاؤنٹ میں میرے بابا کی جائیداد کے پانچ کروڑ روپے پڑے ہیں جو چاہتی تو ساری زندگی اکیلے رہ کر عیاشی کر کے اڑا سکتی تھی۔ مگر میں نے پھر بھی نکاح کرنا ضروری سمجھا اور وہ بھی تم سے۔ کیونکہ دولت تو مل ہی جاتی ہے مگر محبت بہت مشکل سے ملتی ہے۔"

"اور اگر میں یہ کہوں کہ مجھے اب کسی اور سے محبت ہو گئی ہے تو؟"

"کس سے؟"

"کوئی بھی ہو وہ اسے چھوڑو تم۔ بس یہ بتاؤ کہ کیا تم مجھے اس سے شادی کرنے کی اجازت دو گی؟"

"میں تمہیں کیسے روک سکتی ہوں عرشمان؟ جب اللّٰہ نے خود مرد کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے تو میں کون ہوتی ہوں روکنے والی؟ اگر تم انصاف کر سکو گے تو کر لو شادی۔ میں منع نہیں کروں گی۔"

"ایک طرف تم کہتی ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے اور دوسری طرف تم مجھے کسی اور کو اپنانے کی اجازت دے رہی ہو۔ یہ سب کیسے ہو سکتا ہے عینا؟ محبت میں شرک برداشت نہیں ہوتا"۔

"مانتی ہوں کہ محبت میں شرکت برداشت نہیں ہوتی۔ لیکن وہ صرف محبت میں ہوتا ہے عرشمان ! مجھے تو تم سے عشق ہے۔ جہاں تم خوش تو وہاں تمہاری خوشی میں میں بھی خوش۔"

"محبوب کی خوشی میں خوش ہونا صرف کتابی باتیں ہیں عینا۔ حقیقت میں ہم اپنے محبوب کو کبھی بھی کسی اور انسان کے ساتھ نہیں دیکھ سکتے۔"

"تمہاری محبت شاید تمہیں خود غرض بناتی ہو گی۔ مگر میری محبت اتنی خود غرض نہیں ہے کہ میں اپنی خوشی کی وجہ سے کسی دوسرے انسان کی خوشی کو برباد کر دوں۔"

"لیکن میرے خیال سے انسان کو محبت میں خود غرض ہونا چاہیے اور اس حد تک ہونا چاہیے کہ بے وفائی کرنے والے محبوب کو خود اپنے ہاتھوں سے گولی مار سکے"۔

"اگر تمہاری محبت اتنی ہی خود غرض تھی عرشمان تو تم نے مجھے کیوں نہیں مارا؟"

"پتہ نہیں"۔

"خود اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی محبت کا گلا گھونٹنا آسان نہیں ہوتا"۔

"ہمممم شاید"۔

"اب اگر تمہاری باتیں ختم ہو گئی ہوں تو کیا میں چینج کر لون؟ بہت ہیوی ڈریس ہے مجھے الجھن ہو رہی ہے"۔

وہ ہلکا سا مسکرایا اور جیسے ہی وہ چینج کرنے کیلئے مڑی تو عرشمان نے زور سے اس کا بازو پکڑ کر اسے واپس اپنی جانب کھینچا۔ اب وہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل قریب کھڑے تھے۔

"تم نے مجھ سے پوچھا تھا ناں کہ کیا میں پہلے جیسا نہیں بن سکتا۔ اور تب میں نے نہ میں جواب دیا تھا مگر اب اگر تم مجھ سے دوبارا وہی سوال دوبارہ پوچھو گی تو میرا جواب ہوگا کہ لو ہوگیا عرشمان احمد بالکل پہلے جیسا۔ مگر میری بھی ایک شرط ہے"۔

"کیا؟"

"کہ مجھے بھی وہ پہلے جیسی عینا ہی چاہیے۔ اپنی وہ پہلے والی چڑیل"۔ وہ ہنس کر بولا۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ میں وہی ہوں عرشمان ! "

"لیکن ابھی تو تم نے کہا کہ تم وہ نہیں ہو"۔

"ہاں میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں وہی ہوں بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے میں نماز نہیں پڑھا کرتی تھی اور اب نماز پڑھتی ہوں۔ اب مجھے صبر کرنا آگیا ہے۔ مگر پہلے میں بہت جذباتی ہوتی تھی۔"

"عینا میں سب کچھ بھلا دوں گا میرا وعدہ ہے لیکن تم بھی مجھ سے ایک وعدہ کرو"۔

"کیسا وعدہ؟"

"کہ تم میرے سامنے دوبارہ کبھی بھی عادل اور احد کا نام بھی نہیں لوگی۔ کیونکہ اگر میں نے تمہاری زبان سے ایک بار بھی عادل کا یا احد کا نام سنا تو میرا دماغ گھوم جائے گا۔ اور میں ان کا ذکر نہیں کرنا چاہتا۔ میں وہ سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں۔ وعدہ کرو"۔

"ٹھیک ہے میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں کبھی بھی اپنی زبان پر عادل کا نام نہیں لاؤں گی اور اسکے ساتھ گزرے اپنے ماضی کے کسی بھی لمحے کو یاد نہیں کروں گی۔ مگر احد کو میں نہیں بھول سکتی عرشمان!"

"اگر اسے نہیں بھول سکتی تو ایٹ لِسٹ میرے سامنے اسے یاد مت کرنا پلیز"۔

"اوکے"۔

"گڈ"۔ اس نے مسکرا کر کہا اور پھر پیار بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا۔ عینا نے شرما کر اپنا سر جھکا لیا۔ 

اب وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت ہی قریب کھڑے تھے۔ عرشمان نے پھر مزید آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔

"عینا میں بھی تم سے آج بھی اتنی ہی محبت کرتا ہوں جتنی پہلے کرتا تھا۔ پہلے اقرار نہیں کرتا تھا اور تمہارا زکر بھی نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ اب تم اور میں کبھی نہیں مل سکتے اس لئے میں تمہیں یاد کرکے خود کو مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔ اور آج سے پہلے میں تمہیں قصور وار سمجھتا تھا مگر آج میری خدا سے دعا ہے کہ وہ مجھے بھی تم جیسی بیٹی عطا کرے" اس نے اپنے دونوں ہاتھ اسکے رخساروں پر رکھ دئیے۔

مجھے گھر میں چاروں طرف دیکھائی دے وہ۔۔

مجھے کمرے کی دیواریں اسکے جیسی چاہئیں،

اور اپنے باپ کی عزت کی خاطر چھوڑا اس نے مجھے۔۔

یا خدا ! مجھے بیٹی اسکے جیسی چاہئیے۔۔۔!!

"آمین۔ اور میری بھی دعا ہے کہ ہماری اس بیٹی کو پھر تم جیسا ہمسفر ملے"۔

"ہاہاہاہاہاہا۔ مجھ جیسا؟ مطلب مینڈک؟" اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔

"عرشمان!" عینا نے اسکا ناک پکڑ کر کھینچا اور پھر دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر ہنسنے لگے۔

تھوڑی ہی دیر میں ملِک ہاؤس مکمل تاریکی میں ڈوب چکا تھا اور چاند کی مدھم روشنی میں چند لائٹیں انکے پھولوں سے جڑے لان میں چمک رہی تھیں۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

آج حمزہ اور نمرہ کی مہندی تھی۔ اور دوسری طرف عرشمان اور عینا کی شادی کو تقریباً دو مہینے ہو چکے تھے۔ اس کچھ عرصے میں عمیر نے بھی ماہین کو پرپوز کیا اور دونوں کی شادی ہو گئی وہ بھی اب ہنسی خوشی اپنی زندگی گزار رہے تھے۔ عینا اب بالکل پہلے کی طرح ہو چکی تھی۔ اب پھر سے اس کی نمازیں چھوٹنے لگی تھیں۔ آج مہندی کے فنکشن پر بھی دونوں نے مل کر کپل ڈانس کیا اور خوب موج مستی کی۔ اگلے دن نکاح تھا اور آج نورالعین سیاہ رنگ کی ساڑھی میں ملبوس کھلے بالوں کے ساتھ انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔ عرشمان بھی آج بلیک پینٹ شرٹ میں بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا۔ شادی سے واپسی پر رات کے وقت وہ دونوں لانگ ڈرائیو پر نکل گئے اور بے حد انجوائمنٹ کرنے کے بعد گھر واپس لوٹے۔ 

کافی دیر سے سونے کی وجہ سے صبح جب عینا کی آنکھ کھلی تو فجر کی نماز کا وقت نکلنے ہی والا تھا۔ 

اس نے جلدی جلدی نماز ادا کی اور آج کافی دنوں بعد وہ قرآن پاک کی تلاوت کرنے بیٹھ گئی۔ چند آیات پڑھنے کے بعد اچانک اس کی نظر ایک آیت پر پڑی تو وہ ٹھٹھک سی گئی۔ اور اس کی آنکھوں سے فوراً آنسو جاری ہوگئے۔

وَمَا قَدَرُوۡا اللّٰهَ حَقَّ قَدۡرِهٖ ‌ۖ

اور انہوں نے اللّٰہ کی وہ قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔

(سورۃ الزمر آیت نمبر 67)

اسے اللّٰہ سے کیا گیا اپنا وعدہ یاد آنے لگا جسے وہ شاید کب کا بھلا چکی تھی۔

"مجھے معاف کر دو میرے اللّٰہ ! میں نے تو کہا تھا کہ جس دن آپ نے مجھے میری چاہت سے نواز دیا تو اس دن میں ویسی بن جاؤں گی جیسا آپ چاہتے ہو۔ مجھے معاف کر دیں اللّٰہ میں بھول گئی تھی ، میں بھٹک گئی۔ مجھے آج سب یاد آگیا، آپ سے کیا گیا وعدہ آج پھر سے یاد آ گیا ہے۔ اور اب میں آج آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں دوبارہ کبھی بھی اپنا وعدہ نہیں بھولوں گی اور آج سے میں بالکل ویسی بن جاؤں گی جیسا آپ مجھے دیکھنا چاہتے ہو۔ بس مجھے معاف کر دو میرے اللّٰہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ آج سے میری کوئی نماز بھی نہیں چھوٹے گی انشاء اللّٰہ! میری آخری غلطی سمجھ کر اپنی اس گنہگار بندی کو معاف کردیں اللّٰہ! پلیز مجھے معاف کر دیں۔" وہ قرآن کو سینے سے لگا کر ہلکی آواز میں سسکیاں لیتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ مگر اس کے ہلکا سا رونے کی آواز سن کر عرشمان کی آنکھ کھل گئی۔ 

عینا نے جیسے ہی قرآن پاک غلاف میں لپیٹ کر واپس الماری میں رکھا تو عرشمان بیڈ سے اٹھ کر اسکے قریب آ کر مخاطب ہوا۔

"کیا ہوا عینا؟ تم کیوں اتنا رو رہی تھی؟ تم سے کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟" 

"نہیں"۔

"دیکھو مجھ سے کچھ مت چھپاؤ عینا۔ بتاؤ مجھے کیا بات ہے تم کیوں اتنا رو رہی تھی؟"

"عرشمان میں آپ سے ایک بات پوچھوں؟"

"ہمممم"۔

"کیا آپ مجھے آج آفس سے واپسی پر عبایا لا دیں گے؟"

"اس کا تم کیا کرو گی؟" 

"منگوا رہی ہوں تو ظاہر ہے پہننے کے لئے ہی منگوا رہی ہوں"۔

"وٹ؟ اب تم گاؤن پہنو گی؟" وہ تیوری چڑھا کر بولا۔

"ہمممم"۔

"عینا تمہارا دماغ سیٹ ہے؟ عرشمان احمد کی وائف ہوکر تم وہ بہن جی ٹائپ حلیہ بناؤ گی؟"

"عرشمان وہ حلیہ میرے اللّٰہ کو پسند ہے اور میرے لئے میرے اللّٰہ کی پسند بہت معنی رکھتی ہے۔ میں نے آج تک بہت گناہ کیے ہیں۔ اِن فیکٹ تم سے شادی کے بعد تو میں نے اس کو ہی بھلا دیا جس نے مجھے تمہارے ساتھ سے نوازا۔ میں اب مزید گناہ نہیں کرنا چاہتی۔ میں اب مزید اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا چاہتی کیا تم میرا ساتھ نہیں دو گے؟"

"میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں عینا۔ مگر کیا تم اب سب سے پردہ کرو گی؟"

"ہمممم۔"

"حمزہ سے بھی؟"

"جی بالکل "۔

"عینا حمزہ تمہارے بھائیوں کی طرح ہے اب تمہیں اگر وہ اس طرح پردے میں دیکھے گا تو وہ کیا سوچے گا؟ اور سب نے کونسا تمہیں پہلے نہیں دیکھا ہوا جو اب تم یہ سب کر کے اپنے آپ کو چھپانا چاہ رہی ہو۔"

"عرشمان ! تم کیسی باتیں کر رہے ہو تمہیں تو خود مجھے چھپا کر رکھنا چاہیے تمہاری بیوی ہوں نہ میں؟ اور مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کوئی میرے بارے میں کیا سوچے گا میرا حسن میری خوبصورتی صرف اور صرف اس کے لئے ہے جسے میرے اللّٰہ نے میرے لئے چنا ہے  یعنی تم۔ تو پھر میں باقی سب کو دیکھا کر خود کو کیوں گنہگار کروں؟ میں نے پہلے ہی بہت گناہ کر لئے ہیں عرشمان ! پلیز میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔ پلیز مجھے منع مت کرنا"۔

"اوکے ریلیکس میری جان !" عرشمان نے آگے بڑھ کر اسکے آنسو صاف کئے اور اسے سینے سے لگا کر اسکے بالوں میں دھیرے سے ہاتھ پھیرنے لگا۔

"میں لے آؤں گا عبایا۔ تمہارا جو دل چاہے تم وہی کرو اور اگر تم سے کسی نے کچھ کہا تو ڈونٹ وری میں ہوں تمہیں پروٹیکٹ کرنے کے لئے۔"

"تھینکس!"

"اب دوبارہ تھینکس بولا تو ایک تھپڑ کھاؤ گی مجھ سے۔"

"ہاہاہاہاہاہا اوکے"۔ 

اتنے میں عالیہ بیگم نے دروازے پر دستک دی۔

"آجاؤ بیٹا ناشتے کا ٹیبل تیار ہے"۔

"جی ممی جی ہم ابھی آئے"۔ عینا مسکرا کر بولی۔

عالیہ بیگم نے واپس دروازہ بند کیا اور چلی گئیں۔

"اوکے عینا تم جاؤ نیچے۔ میں بس فریش ہو کر ابھی آیا"۔

"اوکے"۔

----------------------------------------------

                     ≫∘❀♡❀∘≪  ≫∘❀♡❀∘≪

یہ دسمبر کی آخری شام تھی۔ سورج اپنے غروب ہونے کا انتہائی خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا۔ آج ان کی شادی کو پورے چھ مہینے ہو چکے تھے۔ عینا نے شرعی پردہ شروع کر دیا تھا۔ اور فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ وہ تہجد کی بھی پابند ہو چکی تھی۔ اس کی اس لگن کو دیکھ کر عرشمان بھی اب تقریباً ہر نماز ادا کرنے لگا تھا۔ اسے اب عینا سے پہلے سے بھی زیادہ شدید محبت ہونے لگی تھی۔ 

ساحل سمندر پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ننگے پاؤں چلتے ہوئے وہ دونوں بے حد چاہت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ 

عینا کا سیاہ عبایا ہوا کے جھونکوں سے کسی پنچھی کی مانند اُڑ رہا تھا۔ اور عرشمان بھی بلیک شلوار قمیض میں ملبوس اپنی آنکھوں میں ایک دلچسپ سی کشش لئے اسکے پہلو میں کھڑا تھا۔ اسکے بال ہوا کی تیزی سے بار بار اسکے ماتھے پر آ رہے تھے۔ 

ساحل پر چلتے چلتے اچانک عینا کی نظر دور کھڑی فاطمہ پر پڑی۔

"عرشمان وہ دیکھو ! وہ فاطمہ ہی ہے ناں؟" اس نے انگلی سے اشارہ کیا تو عرشمان نے فوراً اس طرف دیکھا۔

"ہاں شاید"۔

"چلو ان کے پاس چلتے ہیں"۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتی ہوئی فاطمہ کے قریب آ کھڑی ہوئی جو سیف کے ساتھ سمندر کا نظارہ کر رہی تھی۔

"فاطمہ؟"

"جی؟" عینا کی آواز پر فاطمہ نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔

"پہچانا مجھے؟" 

فاطمہ نے پھٹی آنکھوں سے عرشمان کو دیکھا اور پھر عبایا میں ملبوس تجسس بھری نگاہوں سے عینا کو تکنے لگی۔

"آپ کی گرین آئیز کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ آپ نورالعین ہو۔ اگر میں غلط نہیں ہوں تو؟"

"ہاہاہاہاہاہا۔ تو آخر تم نے مجھے پہچان ہی لیا۔ کیسی ہو تم؟" 

" میں ٹھیک ہوں الحمدللّٰہ آپ کیسی ہو؟"

"یہ لوگ کون ہیں فاطمہ؟" سیف نے حیرانگی سے پوچھا۔

"سیف یہ نورالعین ہے ہماری سینئر تھی اور یہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"

عرشمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وہ اچانک خاموش ہوگئی۔

"اب۔۔۔۔ب۔۔۔۔۔ب۔۔۔۔یہ میرے ہسبینڈ ہیں عرشمان"۔ عینا نے اٹکتے ہوئے کہا۔

"اوہ السلام علیکم ! آپ سے مل کر بہت اچھا لگا"۔ سیف نے سلام لیتے ہوۓ کہا۔

"کیا میں جان سکتی ہوں کہ آپ نے یہ عبایا کیسے پہن لیا نورالعین؟" فاطمہ کے لہجے میں شدید نرمی تھی۔

"چھوڑو سب بہت لمبی کہانی ہے فاطمہ ! کیوں پرانی باتوں کو لے کر بیٹھ گئی ہو؟ جانتی ہوں کہ کسی وقت میں تمہارے اسی عبایا کا مذاق اڑایا تھا میں نے۔ لیکن آج میں یہ سمجھ چکی ہوں کہ عورت کی خوبصورتی پردے میں ہی ہے۔ اللّٰہ تعالی جس چیز کو پسند کرتے ہیں وہ اسے چھپا کر رکھنا ہی پسند کرتے ہیں۔ پھر چاہے وہ خانہ کعبہ ہو، قرآن پاک ہو یا پھر ایک عورت ہو۔ اُس وقت میں ان سب چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی۔ مگر آج زندگی کی ٹھوکروں نے مجھے یہ سکھایا دیا ہے کہ انسان سب کے بغیر تو جی سکتا ہے مگر اللّٰہ کے بغیر نہیں جی سکتا۔ اور سچ میں اللّٰہ کے بغیر کوئی زندگی زندگی ہے ہی نہیں۔" 

"بے شک! بہت اچھا لگا تمہیں اس طرح دیکھ کر"۔

"یہ کون ہے؟" عینا نے ششدر ہو کر پاس کھڑے چھوٹے سے بچے کی جانب دیکھا۔

"یہ میرا بیٹا ہے عمار"۔

"ماشاءاللّٰہ "۔ اس نے پیار سے اسکے گال کھینچے۔

"اچھا آپ لوگ باتیں کریں میں ذرا عمار کو آئسکریم دلوا کر آتا ہوں"۔ سیف نے مسکرا کر کہا۔

"اوکے"۔

"فاطمہ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے"۔ سیف کے جاتے ہی عرشمان اسکی جانب دیکھ کر گویا ہوا۔

"جی"۔

"میں نے تمہارے ساتھ جو بھی کیا اسکی مجھے بہت پہلے ہی سزا مل چکی ہے۔ اس لئے اب اگر ہو سکے تو مجھے۔۔۔۔۔۔"

"میں نے بھی آپکو بہت پہلے ہی معاف کر دیا تھا عرشمان۔ جب میرا بیٹا پیدا ہوا تھا تب"۔ فاطمہ نے اسکی بات کو کاٹتے ہوۓ کہا۔

"فاطمہ ! تمہارا شکریہ مگر عرشمان کی طرف سے میں بھی تم سے معافی مانگتی ہوں"۔

"کوئی بات نہیں عینا۔ اللّٰہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے"۔

"آمین۔"

"تم نے کیا مجھے کوئی بد دعا دی تھی فاطمہ؟"

"نہیں عرشمان! میں نے آپکو کوئی بد دعا نہیں دی تھی۔ بس آپ کا معاملہ اللّٰہ کے حوالے کیا تھا۔ آپ کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا مجھے اس کا علم ہے۔ چند دن پہلے ہی سحرش سے ملی تھی اسی نے مجھے بتایا"۔

"تھینکس"۔

"جزاک اللّٰہ "۔ سیف کو آتا دیکھ کر اس نے اونچی آواز میں کہا۔

"اگر آپ لوگ برا نہ مانیں تو ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔ دراصل شام کا کھانا بھی فاطمہ ہی بناتی ہے اس لئے۔ آپ دونوں ہمارے گھر ضرور آئیے گا"۔ سیف نے شائستگی سے کہا۔

"ضرور انشاء اللّٰہ "۔ عرشمان نے مصافحہ کیا اور دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہوئی الوادع چاہی۔

"تمہیں پتا ہے عرشمان ؟ پہلے میں سوچتی تھی کہ ہمارے الگ ہونے میں خدا کی کونسی مصلحت تھی۔ لیکن اب مجھے اسکی مصلحتیں سمجھ میں آنے لگی ہیں۔ میں سمجھ گئی ہوں کہ وہ رب کائنات مجھے تم سے جدا کر کے ہی اپنے قریب لانا چاہتا تھا۔ بعض دفعہ ہمارا ٹوٹنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ جب تک ہم نہ ٹوٹیں تب تک ہم اپنے رب سے نہیں جڑ پاتے۔ اگر وہ رب مجھے نہ توڑتا تو شاید میں کبھی بھی اللّٰہ کو ڈھونڈنے نہ نکلتی اور پھر اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ ہر ٹوٹنا برا نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ ٹوٹنے سے ہی ہماری اصل زندگی کی شروعات ہوتی ہے۔"

"ہمممم۔ لیکن ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آئی"۔

"کیا؟"

"کہ مجھے کیوں توڑا گیا؟"

"ہاہاہاہاہاہا۔ مگر مجھے وہ بھی سمجھ میں آگیا ہے"۔

"کیا مطلب؟"

"عرشمان تم اپنے ماں باپ کے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے تھے۔ تم نے آج تک جو چیز بھی ان سے مانگی وہ تمہارے منہ سے کہنے سے پہلے تمہیں عطا کی گئی۔ مگر کچھ چاہتوں کا وقتی طور پر ادھورا رہنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ ہم کیسے سمجھ سکیں کہ ہر چیز اتنی آسانی سے نہیں ملتی۔ اور پھر یہ زندگی تو کسی پر بھی ترس نہیں کھاتی عرشمان! اور جب تک ہمیں کوئی چیز تڑپ کر مانگنے پر نا ملے تب تک ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی۔ اس لیے کچھ چیزوں کی قدر کروانے کے لیے ان کا دیر سے ملنا ضروری ہوتا ہے۔"

"شاید"۔

"ایک بات بتاؤں میں تمہیں؟"

"ہمممممم"۔

"ہمارا مسئلہ پتہ کیا ہوتا ہے ہم اپنے فیصلے اللّٰہ پر چھوڑ تو دیتے ہیں مگر مکمل یقین نہیں کرتے۔ ہمارا یقین ہمیشہ کمزور ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم اسباب پر یقین کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ اسباب سے ہٹ کر صرف اور صرف رب کائنات کی مصلحتوں، اس کے فیصلوں اور اس کی قدرتوں پر یقین رکھتے ہیں ناں ! وہ رب کبھی بھی ان کی جھولی کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔ وہ دیر ضرور کرتا ہے لیکن اگر لگن سچی ہو تو وہ فیصلہ اور اختتام ہماری مرضی کا ہی کرتا ہے۔ صبر کو مزید طویل کر کے وہ صرف اور صرف ہمارے یقین کو آزماتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ سب چیزیں آسانی سے نہیں ملا کرتیں۔ کچھ چیزوں کے لئے دعاؤں کا مانگنا ضروری ہے۔ کچھ چیزوں کے لئے معجزے ہونے ضروری ہوتے ہیں۔ پر پتہ ہے معجزے کب ہوتے ہیں؟ جب ہمارا یقین سمندر سے بھی زیادہ گہرا ہو۔ جب راستہ دکھائی نہ دے مگر تم کہو کہ نہیں ! میرا رب راستہ بنائے گا اور یقین کرو رب اپنے بندے کا مان کبھی ٹوٹنے نہیں دیتا"۔

"بے شک"!

"عرشمان! تم میری تہجد میں مانگی گئی دعاؤں کا صلہ ہو۔ تم میرے لیے بہت انمول ہو۔ بہت زیادہ!" وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔

"اور تم بھی"۔

"مجھے صرف تم سے محبت نہیں ہے بلکہ میں تم سے عشق کرتی ہوں"۔

"تم بھی میرا عشق ہو میری جان ! میری چڑیل ، میری بھوتنی!" وہ پھر سے اسے چھیڑنے لگا۔

عینا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور وہ دونوں پھر سے مسکراتے ہوۓ ساحلِ سمندر پر چہل قدمی کرنے لگے۔ دسمبر کی الوادعی ہوائیں انکے پہلو کو چھو کر گزر رہی تھیں۔ اور اس ٹھنڈی ہوا میں وہ اسکا بازو پکڑے سمندر کی اونچی موجوں کا رقص دیکھ رہی تھی۔ زندگی پھر سے مسکرانے لگی تھی، انکی کھوئی ہوئی چاہتیں پھر سے انکی زندگی میں خوشیاں بن کر لوٹی تھیں۔ اب وہ ایک دوسرے سے عشق کرنے لگے تھے۔ ایسا عشق کہ جس کے بعد کسی اور محبت کی گنجائش نہیں رہتی۔

                                                              (ختم شُد)

                                                      

If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


Ishq E Janam Romantic Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel Ishq E Janam written by  Sohni Mirza Ishq E Janam by Sohni Mirza is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.

۔۔۔۔۔۔۔۔

Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link 

If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.

Thanks............

  

Copyright Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

  

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages