Muntazir Ishqat E Hastam Novel By Areesha Khan Complete - Madiha Shah Writes

This is official Web of Madiha Shah Writes.plzz read my novels stories and send your positive feedback....

Breaking

Home Top Ad

Post Top Ad

Monday, 10 August 2026

Muntazir Ishqat E Hastam Novel By Areesha Khan Complete

Muntazir Ishqat E Hastam Novel By Areesha Khan Complete Novel

Madiha Shah Writes: Urdu Novel Stories

Novel Genre:  Cousin Based Enjoy Reading...

Muntazir Ishqat E Hastam Novel By Areesha Khan Complete 


Novel Name: Muntazir Ishqat E Hastam

Writer Name: Areesha Khan

Category: Complete Novel

"مِینُو بیٹا دروازہ کھولو دیکھو ایسے نہیں کرتے دادو ناراض ہوجائیں گی"

وہ کب سے منہ سجھائے کمرے میں بند تھی نجانے وہ اتنی ضدی کیوں تھی شاید یہ سب کے لاڈ پیار کا نتیجہ تھا جو وہ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی ناراضگی کا اظہار اس طرح سے کرتی تھی 

"چلے جائیں بابا میں نہیں آؤں گی باہر"

نو سال کی چھوٹی سی مِینُو کی چھوٹی سی ناک غصے سے لال ہوچکی تھی آخر سب کس طرح اس کی خواہش کو نظر انداز کررہے تھے مگر اس نے بھی عہد کرلیا تھا وہ اپنی بات منوائے بنا کبھی باہر نہیں آئے گی

"مینو بیٹا…دیکھو کھانے پر سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں… دیکھو ضد چھوڑ دو اور نیچے آجاؤ"

صدیق صاحب کی بات کو اگنور کرتے ہوئے وہ اپنا منہ تکیئے میں چھپا گئی تھی وہ اس کے ترلے کر کے جب تھک گئے تو سیڑھیاں اترتے ہوئے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے جہاں سب ان کے منتظر تھے

"کیا ہوا صدیق میاں؟؟ کیا مان گئی تمہاری لاڈلی بیٹی؟؟"

زلیخا بیگم نے اپنی چھڑی پر زور دیتے ہوئے ان پر تنز کیا جس پر انہوں نے نظریں جھکالیں 

"اپنی کرسی پر آکر بیٹھو میاں اور بسم اللّٰہ کرو…"

وہ سختی سے کہتی ہوئیں اپنا کھانا شروع کرنے لگیں 

انہوں نے جیسے ہی پہلا لقمہ لیا ساتھ ہی ڈائننگ پر موجود لوگوں نے کھانا شروع کردیا مگر وہ جو کب سے اس کے انتظار میں بیٹھا تھا وہ غصے سے اپنی کرسی سے اٹھتا ہوا ڈائننگ ہال سے باہر چلا گیا مگر کسی کی ہمت نہ تھی اس دس سالا بچے کو روکنے کی زلیخا بیگم نے ایک افسوس بھری نگاہ اپنے لاڈلے پوتے پر ڈالی اور سر جھکا گئیں 

وہ گرمیوں کی اس خوبصورت سی شام میں اپنے گارڈن میں موجود جھولے پر آنکھیں بند کئے بیٹھا سکون کی تلاش میں تھا مگر لمحہ بہ لمحہ اس کا غصہ بڑھتا جارہا تھا وہ تھا تو بہت چھوٹا مگر اس کی شخصیت میں ایک الگ ہی رعب تھا بڑے بڑے آدمی اس سے بات کرنے سے کتراتے تھے

"کیوں… آخر کیوں وہ ہمیشہ میرے ساتھ ایسے پیش آتی ہے… کیا میں اسے اتنا برا لگتا ہوں… میں بھی تو اس کی اتنی باتیں مانتا ہوں تو پھر وہ میری ایک بات بھی کیوں نہیں مانتی…"

وہ سختی سے کہتا ہوا مٹھیاں بھینچ گیا تھا 

"وہ کہتی ہے اگر میں نے اس کی بات نہ مانی تو وہ مجھ سے دور چلی جائے گی اس لئے میں اس کی تمام باتیں مانتا ہوں مگر پھر بھی وہ مجھ سے دور جانا چاہتی ہے آخر کیوں…"

ہاتھ کا مکا بناتے ہوئے اس نے جھولے کی راڈ پر رسید کیا تھا جس سے اس کا غصہ تو کم نہ ہوا مگر اس کے نازک سے ہاتھ سے خون ضرور رسنے لگا تھا

"زارو… یہ… یہ آپ کے ہاتھ کو کیا ہوا ہے…"

زویا بھاگتی ہوئی اس کے قریب آئی جب وہ سخت ناگواری سے اسے گھورتا ہوا ہاتھ کے اشارے سے وہی رکنے کا کہنے لگا اس کے قدم وہیں ٹھہر گئے تھے جبکہ آنکھوں سے آنسوں جاری تھے

"میں نے کتنی بار کہا ہے مجھے سائیں سردار کہہ کر پکارا کرو…سمجھ نہیں آتی تمہیں؟؟"

وہ غصے سے وہاں سے اٹھتا ہوا اس کے برابر سے کہہ کر چلا گیا یہ تو وہ بھی جانتی تھی کہ اسے صرف مینو کے منہ سے اپنا نام سننا پسند ہے وہ جل بھن کر جھولے پر جا بیٹھی تھی بڑی بے دردی سے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے وہ مینو کو برا بھلا کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالنے لگی

"پتا نہیں یہاں سب کو کتنی بار بتانا پڑھتا ہے مجھے سائیں سردار کہیں…کسی کو سمجھ ہی نہیں آتا"

وہ جو غصے سے سیڑھیاں عبور کرتا ہوا اپنے کمرے کی جانب جارہا تھا جبکہ ہاتھ سے خون اب بھی بہہ رہا تھا مینو کے کمرے سے آتی چینخوں کی آواز پر وہ ڈرا تھا اسے لگا تھا جیسے اس کا دل بند ہو جائے گا

"مینو کیا ہوا تمہیں… دروازہ کھولو پلیزز…"

ایک سینڈ نہ لگا تھا اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے میں وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہا تھا 

"مینو پلیزز دروازہ کھولو آئی سوویر میں تمہیں امریکا جانے سے نہیں روکوں گا میں تمہیں اجازت دیتا ہوں تم وہاں جاکے اپنی اسٹڈی کر سکتی ہو… پلیززز اب تو دروازہ کھولو"

وہ اس وقت اپنے کمرے میں بستر پر موجود تھا اس کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہوچکا تھا وہ مسلسل چینخ رہا تھا 

"مینو پلیزز دروازہ کھولو مینو…"

اس کا پورا وجود بخار سے ٹوٹ رہا تھا وہ درد سے تڑپ رہا تھا 

"مینو… مینو…"

"Miinu please open the door…"

"سائیں سردار… آنکھیں کھولیں سائیں کیا ہوا ہے آپ کو؟؟"

گھر کی سب سے پرانی ملازمہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے اور کچھ دوائیاں لئے اس کے کمرے میں داخل ہوئی مگر وہ اب تک اس برے خواب میں الجھا ہوا تھا 

"اماں سائیں…دیکھیں سائیں سردار کی طبیعت بگڑتی جارہی رہی ہے"

اس کے کانپتے وجود کو دیکھ کر وہ پریشان ہوئی تھیں ان کی آواز سنتے ہی اماں سائیں گھبراتی ہوئی کمرے کی طرف آئیں 

ویسے تو اس کا کمرہ اوپر تھا کیونکہ زلیخا بیگم کے لئے ویل چیئر سمیت سیڑھیاں عبور کرنا ناممکن تھا اس لئے اسے کچھ دنوں نیچے والے کمرے میں شفٹ کیا گیا تھا تاکہ وہ اس کے کمرے میں آسانی سے آتی جاتی رہیں 

"کیا ہوا ہاجرہ؟؟ کیوں شور مچا رہی ہو کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو؟؟"

انہوں نے سخت لہجے سے کہا جس پر ملازمہ نے ادب سے نظریں جھکائیں

"اماں سائیں… سائیں سردار پھر سے نیند میں کچھ بول رہے تھے…"

ہاجرہ کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

"وہ…وہ چھوٹی بی بی کا نام…"

"بس…!! یہ کھانا یہی میز پر رکھو اور تم جاؤ سکتی ہو"

وہ سختی سے کہتی ہوئیں ہاتھ سے دروازے کی جانب اشارہ کرنے لگیں جس پر ملازمہ ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اس کے جاتے ہی وہ ویل چیئر چلاتی ہوئیں اس کے سرہانے آئیں اور ماتھے پر ہاتھ رکھنے لگیں بخار اب بھی اتنا ہی تیز تھا 

"نجانے کیوں اس لڑکی نے میرے بیٹے کی زندگی کا تماشا بنا رکھا ہے"

ایک سخت نگاہ سامنے دیوار پر لگی تصویر پر ڈالتی ہوئیں وہ مٹھیاں بھینچ گئی تھیں مگر تب ہی اس نے آنکھیں کھولیں تھیں 

"اماں سائیں…"

وہ اٹھنے کی کوشش میں تھا مگر اس کے ہاتھ پر لگا زخم جو ٹیسیں مار رہا تھا وہ تڑپ کر واپس بستر پر جا لگا 

"نہ میرے بچے… ابھی تمہارا یہاں سے اٹھنا تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے کچھ وقت اور آرام کرو"

انہوں نے اس کے ماتھے پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا مگر سامنے لیٹے وجود کے چہرے پر بکھری پریشانی وہ بآسانی سمجھ چکی تھیں 

"تم کیوں پریشان ہوتے ہو؟؟ میں وقت پر ڈرائیور کو بھیج دوں گی اسے لینے"

زلیخا بیگم کی بات پر وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگا وہ اس وقت شرٹ لیز تھا اس کے بازؤں پر لگی گولی کے مقام سے خون رسنے لگا تھا 

"اماں سائیں آپ ڈرائیور کو نہ بھیجیں… میں خود… خود اسے لینے جاؤں گا"

زارون نے بڑی مشکل سے اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگایا جب ان کی نظر اس کے بازوں پر گئی وہ تڑپ کر رہ گئیں

"زارو… دیکھو تمہارا زخم اب بھی گہرہ ہے… ایسے میں کس طرح تم حویلی سے باہر جاؤ گے؟؟"

"اماں سائیں میں ٹھیک ہوں یہ تو بس ایک چھوٹا سا زخم ہے"

انہیں پتا تھا وہ انتہا کا ضدی نواب جب ضد پر آجائے تو اسے کوئی نہیں منا سکتا تھا وہ اس کے سامنے ہار مانتی ہوئیں سر جھکا گئیں

"ٹھیک ہے تم ابھی مرہم پٹی کروا لو، شام کو ڈرائیور تمہارے ساتھ جائے گا اور گارڈز بھی ساتھ لے کر جانا"

اماں سائیں نے سنجیدگی سے کہا 

"نہیں اماں سائیں میں خود ڈرائیو کر کے جاؤں گا اور مجھے گارڈز کی بلکل ضرورت نہیں"

وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی تھیں آخر وہ کس قدر بہادر شخصیت کا مالک تھا دو دن پہلے جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا شاید اگر کسی اور کے ساتھ ہوتا تو وہ کبھی اپنے کمرے سے بھی باہر نہ جاتا 

"مگر سائیں تمہاری جان کو خطرہ ہے… تم جانتے ہو نہ مخالفین تم پر نظر رکھے ہوئے ہیں کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں وہ لوگ"

زلیخا بیگم نے فکرمندی سے کہا 

"اماں سائیں کچھ بھی نہیں ہو گا میرا وعدہ ہے آپ سے، میں صحیح سلامت حویلی واپس آجاؤں گا پھر جب تک آپ کی اجازت نہ ملے باقی کہیں بھی نہیں جاؤں گا"

زارون نہ آخر اپنی بات منوا ہی لی تھی وہ اثبات میں سر ہلائے خاموش ہوگئی تھیں 

انہیں ڈر تھا کہیں پھر سے کوئی ان کے لاڈلے فرزند کو کچھ نہ کردے وہ اس پوری حویلی کی شان تھا اگر اسے ایک تنکا بھی چب جاتا تھا تو پورے گاؤں کے لوگ کھانا پینا چھوڑ دیتے تھے کیونکہ وہ اپنے سردار سے بے انتہا محبت کرتے تھے وہ اپنے سردار پر جان قربان کرنے کے لیے تیار رہتے تھے

"میں شفیق سے کہہ کر مرہم پٹی والے کو اندر بھجواتی ہوں اور تمہارے لئے ہلدی والا دودھ بھی بھیجتی ہوں"

وہ اپنی بات مکمل کر کے وہاں سے چلی گئی تھیں مگر وہ سامنے دیوار پر لگی تصویر کو مسلسل دیکھا جارہا تھا 

"تو انتظار تمام ہوا…"

اس درد میں بھی اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی تھی مگر اس کے یہ الفاظ سن کر دروازے کے باہر کھڑا وجود جل بھن گیا تھا 

★☆★☆★☆★

"آہ واٹ دا ہیل؟؟ آر یو بلائنڈ؟؟"

وہ جو کافی کا ڈسپازیبل کپ لئے فون کال پر مصروف بنا دیکھے چلتی ہوئی ائیرپورٹ سے باہر کو آرہی تھی سامنے سے آتے شخص سے ٹکرا کر اس پر برس پڑی کیونکہ کافی اس کے برینڈڈ شوز پر گر چکی تھی

"بلائنڈ میں نہیں آپ ہو "

اس شخص نے ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے کہا اور وہاں سے جانے لگا شاید وہ کوئی عام شخص تھا مگر تب ہی ایمان نے پیچھے سے اس کی شرٹ کا کالر پکڑ کر اسے سامنے دھکیلا جس پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا

"کیا کہا میں اندھی ہوں؟؟"

وہ غصے سے آگ بگولہ ہونے لگی تھی اس کی آواز پر آس پاس کے لوگ ان کی طرف متوجہ ہونے لگے تھے

"تم جانتے بھی ہو میں ہوں کون؟؟ ایمان علی نام ہے میرا… سیکنڈز کے اندر اندر تمہیں اس دنیائے فانی سے رخصت کروا سکتی ہوں میں…"

وہ انگلی کے اشارے سے اسے دھمکی دینے لگی جس پر سارے ہی لوگ جمع ہوگئے جبکہ وہ عام سا لڑکا سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر نظریں جھکا گیا

"سوری بولو ہنی کو…"

اس کا گارڈ جو اس کا سامان لیے پیچھے کھڑا تھا اس سامنے اکڑ اس لڑکے کو آنکھیں دکھانے لگا 

"سنا نہیں تم نے؟؟ سوری بولو میڈم کو…"

وہ گارڈ پھر سے دھاڑا جس پر سامنے کھڑا کم عمر لڑکا نا چاہتے ہوئے بھی مجبور ہوگیا

"معاف کردیں غلطی ہوگئی"

"اگر میں معاف نہ کروں تو؟؟"

ایمان کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی جس پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا

"تو جو آپ کہیں گی وہ کروں گا"

"گڈ… پیٹر اسے کوئی صاف کپڑا لا کر دو"

ایمان کی بات پر اس کے گارڈ جس کا نام تو پاشا تھا مگر وہ اسے پیٹر کہتی تھی وہ اپنی جیب سے ایک سفید  رومال نکال کر اس لڑکے کی جانب بڑھانے لگا جسے وہ نا سمجھی سے تھامے کھڑا ہوا 

"میرے جوتے صاف کرو "

ایمان کے کہنے پر وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا

"سنا نہیں تم نے میں نے کیا کہا؟؟ میرے جوتے صاف کرو"

وہ آنکھیں دکھاتی ہوئی چلائی تھی جس پر وہ کم عمر لڑکا نا چاہتے ہوئے بھی گٹھنوں کے بل بیٹھ کر اس کے شوز پر گری کافی صاف کرنے لگا 

"گڈ… اس کام میں بہت ماہر لگتے ہو"

وہ اپنے پرس سے ہزار کے نوٹ نکال کر اس کے اوپر گراتے ہوئے گھمنڈی انداز میں کہنے لگی جس پر وہ لڑکا جس کی آنکھوں میں نمی تھی اسے دیکھنے لگا 

"چلو پیٹر اب یہ اپنی اوقات کبھی بھی نہیں بھولے گا"

ایمان نے اس کے گٹھنے پر اپنا جوتا رکھ کر مسلتے ہوئے کہا اور وہاں سے آگے بڑھ گئی وہ لڑکا ضبط کئے کھڑا ہوا اور زمین پر پڑے نوٹوں کو نظر انداز کرتا ہوا اپنے کام میں مصروف ہوگیا 

ایمان اپنے کئے گئے عمل پر خود کر فخر محسوس کر رہی تھی اس بات سے انجان کے کسی نے اس کے اس عمل پر سخت ناگواری سے اسے گھورا تھا 

★☆★☆★☆★

"ہاہاہاہا ہاں ہاں ضرور ملنے آؤں گی پاگل آفر آل پندرہ سال بعد پاکستان آئی ہوں تم سے نہ ملوں ایسا ہو سکتا ہے…ہاں ہاں ضرور"

کالی گھنے کمر تک آتے سلکی بال جو آزاد کئے ہوئے تھے سرخ و سفید رنگت بڑی بڑی ہلکی براؤن پر کشش آنکھیں، پنکھڑی جیسے نازک گلابی ہونٹ، چھوٹی سی کھڑی ناک وہ تھیکے نقوش کی مالک تھی 

جبکہ حلیہ اس کا کچھ یوں تھا کہ ٹائٹ سی بلو اسٹریجبل جینس جس کے ساتھ وائٹ کلر کی گٹھنوں سے اوپر تک آتی شرٹ برینڈڈ شوز ایک ہاتھ میں پرس دوسرے میں موبائل مگر ڈوپٹہ نام کی کوئی شے اسکے پاس نہ تھی 

"سلام چھوٹی بی بی…"

حویلی کو ڈرائیور کو پہچاننے میں اسے زیادہ دیر نہ لگی تھی کیونکہ حویلی میں اسے سب اس ہی نام سے پکارتے تھے

"کتنی بار کہا ہے مجھے یہ بی بی وغیرہ نہ بلایا کرو خیر، میری گاڑی کہاں ہے ؟؟"

ایمان کی بات پر وہ نظریں جھکا گیا

"وہ چھوٹی بی بی وہاں کھڑی ہے"

"کیا تم حویلی کی گاڑی میں آئے ہو؟؟"

ایمان نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے پوچھا جس پر اس نے ہاں میں سر ہلایا

"واٹ؟؟ میں نے بابا سے کہا بھی تھا میرے لئے الگ گاڑی بھیجیں پھر آخر اتنے لوگ مجھے لینے کیوں آئے ہیں؟؟"

اس نے دیکھا تھا وہاں سے کچھ قدم کے فاصلے پر دو بڑی لینڈ کروزر کھڑی تھیں جن میں ایک میں صرف گارڈز تھے جبکہ دوسری میں آگے کون تھا کچھ واضح دکھائی نہیں دے رہا تھا زارون کے منع کرنے پر بھی زلیخا بیگم نے گارڈز ساتھ بھیجے تھے 

ایمان نے کھسمساتے ہوئے موبائل پر کال ملائی جب دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو غصے سے پیر پٹختی ہوئی گاڑی کی جانب بڑھنے لگی جبکہ ڈرائیور اور اس کا گارڈ اس کے پیچھے پیچھے چل دیئے 

 وہ آنکھوں پر چشمہ لگائے فرنٹ سیٹ پر ضبط کئے بیٹھا اسے آتا دیکھ رہا تھا وہ سخت غصے میں تھا وہ کس طرح کے کپڑے زیب تن کی ہوئی تھی وہ بنا آگے پیچھے دیکھے بیک ڈور کھول کر پیچھے جا بیٹھی جبکہ اس کا گارڈ باقی گارڈز کے ساتھ پیچھے والی گاڑی میں تھا 

اسے اس بات کا علم تک نہ تھا اس کے اس عمل پر وہ کتنا ہرٹ ہوا تھا زارون بنا کچھ کہے ڈرائیور کو اشارہ کرتے ہوئے خود گاڑی سے اترا اور پیچھے کا دروازہ کھول کر پیچھے آ بیٹھا وہ جو موبائل پر مصروف تھی اچانک سے کسی کو برابر آتا دیکھ کر ہڑبڑاتے ہوئے اچھل کر پرے ہوئی مگر جب نظر مخالف وجود پر گئی تو دیکھتی ہی رہ گئی 

وہ کلف کے کالے رنگ کے کرتا شلوار میں ملبوس پیروں میں پیشاوری چپل، آنکھوں پر گلاسز لگائے پر سکون انداز میں اس کے برابر میں آ بیٹھا جبکہ وہ سوالیہ نظروں سے اس شخص کو دیکھی جارہی تھی آخر کون تھا وہ شخص

"ایکس کیوزمی؟؟"

"یس…؟؟"

ایمان نے سخت ناگواری سے اسے گھورتے ہوئے کہا جس پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوا

"ہو آر یو؟؟"

ایمان کی بات پر وہ ایک اسٹائل سے آنکھوں پر سے گلاسز ہٹانے لگا مگر جب گلاسز ہٹے تو اسے اپنے بارے میں کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہ پڑی

وہ حیران کن انداز میں اسے دیکھی جارہی تھی کیا یہ اس کا خواب تھا یا پھر واقعی مخالف خوبرو نوجوان وہی شخص تھا جسے وہ کئی سالوں پہلے یہاں پر روتا چھوڑ کر اپنے خواب پورے کرنے چلی گئی تھی ایمان کی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں وہ تو پلک جھپکانا تک بھول گئی تھی

پرکشش سرخ و سفید رنگت چہرے پر سیاہ بیئرڈ ہلکے گلابی ہونٹ بڑی بڑی پلکھیں اس کی پر کشش بھوری آنکھوں پر اپنا سایہ کئے ہوئے تھیں جبکہ اس کے ترتیب سے سیٹ کئے گئے کالے سن بال جو اب آدھے ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے

وہ جتنا بچپن میں پیارا دکھتا تھا جوانی کے دنوں میں اس کا مظبوط جسم اس کا صاف شفاف بے داغ چہرہ اور بھی زیادہ دلکش دکھائی دیتا تھا اوپر سے اس کی بھوری آنکھیں اس کے کالے سن بال اور چہرے پر جچتی ہوئی داڑھی وہ بآسانی ہر لڑکی کو اپنے سحر میں جکڑ سکتا تھا

"امید ہے پہچان لیا ہوگا"

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے ساکت کر گیا تھا وہ جلدی سے چونک کر دور کھسکی وہ پہچان تو گئی تھی لیکن اسے یہ بھی پتا تھا کہ اس کہ ساتھ کس طرح سے پیش آنا ہے اس نے نفی میں سر ہلایا تو وہ تنزیہ مسکرایا 

"کہ مرشد انہوں نے قسم کھائی ہوئی ہے ہماری تمام امیدوں کو اپنے تلوے تلے روندنے کی…"

سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ بار بار اس کی نظروں کا مرکز بن رہا تھا اس کی نظر اس کے ایک ایک نقش پر تھی وہ آج بھی پہلے جیسی تھی ترچی نظریں تھیکے نقوش آنکھیں میں غصہ پیشانی پر شکن بس فرق صرف اتنا تھا وہ اب پہلے سے کئی زیادہ گھمنڈی ہو چکی تھی

"خیر میرا نام چودھری زارون علی عرف سائیں سردار ہے"

زارون کے نام بتانے کے انداز سے ہی لگ رہا تھا وہ کس قدر رعب دار شخصیت کا مالک تھا زارون کے اشارے پر ڈرائیور نے گاڑی حویلی کے راستے دوڑا دی 

★☆★☆★☆★

"یہ؟؟ یہ گاڑی یہاں کیوں روکی ہے؟؟"

گاڑی کو بوتیک پر رکتے ہوئے دیکھ کر ایمان کھسمسائی مجبوراََ اسے اس سے بات کرنی پڑی جو اسے آنکھیں چھوٹی کرتے گھور رہا تھا 

"کیونکہ ہم یہاں سے شوپنگ کرنے والے ہیں"

وہ کہتا ہوا ایک جھٹکے سے دروازہ کھول کر اترنے لگا 

"نہیں میرا ایسا کوئی موڈ نہیں اس وقت میں گھر جانا چاہتی ہوں…"

ایمان نے اپنے بالوں کو سنوارتے ہوئے ایک اسٹائل سے کہا جس پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگا 

"میں نے مرضی پوچھی؟؟"

وہ سختی سے کہتا ہوا گاڑی سے اترا جبکہ وہ اسے غصے سے گھورنے لگی 

"کیا مطلب ہے اس بات کا؟؟ مجھ سے میری مرضی پوچھے بنا تم یہاں شوپنگ کرنے لے آئے؟؟ آخر کیوں؟؟"

"کیونکہ میں نہیں چاہتا آپ حویلی ایسے حلیے میں جاؤ"

وہ سختی سے کہتا ہوا اسے زہر ہی لگ رہا تھا 

"ہیئی میں اس ہی حلیے میں وہاں جاؤں گی سمجھے نہ تم؟؟"

اس نے ہمت نہ ہاری اور بول پڑی مگر ڈرائیور سمیت تمام گارڈز اس کی ہمت پر حیران تھے آخر وہ کس کے سامنے اس طرح سے پیش آرہی تھی وہ شخص سردار تھا وہ رکا اور پلٹ کر اس کے قریب آیا 

"اگر آپ واقعی ایسے حلیے میں حویلی جانا چاہتی ہو تو کنفرم بتادو تاکہ میں ابھی اس ہی وقت آپ کے واپسی کے ٹکٹ کروا دوں…کیونکہ ایسے حلیے میں آپ واپس امریکہ تو جا سکتی ہیں لیکن حویلی نہیں…"

وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا اسے حیران کر گیا تھا 

"کون روکے گا مجھے حویلی جانے سے؟؟"

"میں…!!"

وہ یک طرفہ مسکراہٹ لئے کہنے لگی تھی جب زارون نے ایک نظر اسے دیکھا اور جواب دیتا ہوا بوتیک کے اندر چلا گیا مجبوراََ اسے بھی ساتھ جانا پڑا

"اففف بابا کہاں پھنسا دیا آپ نے مجھے"

ابھی وہ لوگ اندر آئے تھے جب زارون نے ڈیزائنر سے کہہ کر ایمان کے لئے بہت خوبصورت سی کالے رنگ کی فراک اور جوڑی دار پاجامہ نکلوایا جسے وہ بڑی حیرت سے دیکھنے لگی 

"میں یہ پہنوں گی؟؟ افف اس میں تو بہت گرمی لگے گی"

وہ منہ بناتے ہوئے اپنی پریشانی بتانے لگی 

"میم یہ صرف دیکھنے میں ہیوی ہے آپ ایک بار ٹرائے کریں دین آئی ہوپ آپکو کمفرٹیبل فیل ہوگا"

ڈیزائنر گرل کی بات پر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی وہ چینجنگ روم میں چلی گئی

"جی ہاں اماں سائیں ہم بس…"

وہ کان پر فون لگائے ابھی مڑا ہی تھا جب چینجنگ روم سے باہر آتی ایمان پر نظر گئی تو جیسے ٹھہر گئی وہ کالے رنگ کی فراک پاجامے اور سلیقے سے گلے میں ڈوپٹہ لئے بہت سلیقہ شعار لڑکی معلوم ہورہی تھی اس کے چہرے پر بکھری معصومیت وہ واقعی کوئی شہزادی لگ رہی تھی 

"کیا ٹھیک لگ رہا ہے مجھ پر"

وہ خود کلامی کرتے ہوئے مرر میں خود کو دیکھنے لگی جب زارون پیچھے سے اس کا ڈوپٹہ اس کے سر پر سیٹ کرنے لگا ایمان نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف رخ کیا  

"اب ٹھیک ہے…"

زارون کی بات پر وہ ترچی نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی وہاں سے باہر چلی گئی جبکہ زارون پیمنٹ کرتا ہوا خود بھی باہر آگیا 

ابھی آدھا راستہ گزرا تھا جب زارون کو لگا جیسے ان پر کسی کی نظریں مرکوز ہوں وہ گاڑی کے شیشے سے اطراف کا جائزہ لینے لگا جہاں کچھ مشکوک سے لوگ انہیں گھور رہے تھے وہ سمجھ چکا تھا یہ لوگ کون ہو سکتے ہیں

"ڈوپٹے سے اپنا چہرہ ڈھانپ لو"

دھیمے لہجے میں کہتا ہوا وہ ایمان کو تپا گیا تھا وہ نا سمجھی سے اسے گھورنے لگی

"صرف حویلی تک… اس کے بعد ہٹا لینا"

وہ اپنی الفاظ ادا کرتا ہوا سامنے نظریں جھکائے سیٹ سے لگے بیٹھ گیا

★☆★☆★☆★

"اماں جان کو سلام کرنا نہ بھولنا…"

گاڑی حویلی کے مین گیٹ سے اندر انٹر ہوئی جب سب کھڑے ہوئے ان کا استقبال کر رہے تھے ملازموں نے گاڑی پر پھول برسانے شروع کئے وہ عجیب و غریب نظروں سے دیکھتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلی جب اماں جان کو سامنے ویل چیئر پر دیکھ کر رکی زارون کی بات کو یاد کرتے ہی اس نے اماں جان کو پہچان لیا

"اسلام و علیکم"

وہ سرتا پیر اسے دیکھنے لگیں کیا ان کا اندازہ غلط نکلا تھا یا پھر یہ سب کمال ان کے لاڈلے پوتے زارون کا تھا انہوں نے دیکھا تھا زارون اور ایمان دونوں کی جوڑی کالے رنگ کے لباس میں ایک ساتھ بہت جچ رہی تھی 

"وعلیکم السلام"

اماں سائیں نے سنجیدگی سے جواب دیا اور ویل چیئر چلاتے ہوئے اندر کو چلی گئیں جبکہ زارون نے اسے اندر چلنے کا اشارہ کیا

"بابا "

وہ صدیق صاحب سے گلے لگ کر رونے لگی انہوں نے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے 

"کیسی ہو میری شہزادی مینو"

صدیق  صاحب کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے پندرہ سال بعد جو مل رہے تھے اپنی لاڈلی سے

"میں ٹھیک بابا اور آپ آپ کو پتا ہے میں نے آپ کو کتنا مس کیا…"

"میں نے بھی تمہیں بہت مس کیا میری جان"

انہوں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تب ہی تہمینہ بیگم چلتی ہوئیں اس کے قریب آئیں

"ارے واہ رے واہ لڑکی کتنی بڑی ہوئی ہو اور خوبصورت بھی…"

انہوں نے زبردستی اسے گلے لگایا جس پر وہ اپنے بابا کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی 

"ہائے مینو کیسی ہو تم… پہچانا مجھے میں تمہاری کزن زویا"

ابھی اس کی تائی جان نے اسے بینچا ہوا تھا جب زویا جو اس وقت مشرقی لباس میں ملبوس تھی اس کا بازوں پکڑے اس کے گلے لگی 

"ویسے کتنی اسمارٹ ہوگئی ہو نہ تم بچپن میں کیسی تھیں اور اب تو بلکل ہی بدل گئی ہو."

زویا نے اس کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے کہا 

"ویسے مجھے تو لگا تھا کہ تم ویسٹرن اسٹائل میں آؤ گی… پتا ہے میں بہت ایکسائٹڈ تھی تمہیں ایسے لک میں دیکھنے کے لئے"

زویا کی بات پر تہمینہ بیگم نے ایبرو اچکائیں

"ہیں؟؟ ویسٹرن اسٹائل؟؟ یہ کیا ہوتا ہے بھلہ؟؟"

"ارے امی جان ویسٹرن اسٹائل مطلب انگریزوں جیسے کپڑے وہ جو باہر کے ملک میں انگریز لڑکیاں پہن کر گھومتی ہیں"

زارون کو اس کی بات کرنے کی تون ایک آنکھ نہ بھائی تھی اس کی باتوں سے صاف ظاہر ہورہا تھا وہ ایمان پر طنز کر رہی تھی ایمان اپنے بابا کی طرف نا سمجھی سے دیکھنے لگی

"اوہ اچھا اچھا وہ نا زیبا کپڑے؟؟ توبہ توبہ اتنے نازیبا کپڑے ہماری حویلی کی لڑکی کیوں پہننے لگی بھلہ"

"یہاں نہ صحیح مگر وہاں تو پہنے ہوں گے… ہیں نہ ایمان؟؟"

زویا کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جبکہ تہمینہ بیگم توبہ توبہ کرتی ہوئیں پیچھے ہوگئی تھیں صدیق صاحب نے افسوس بھری نگاہوں سے ان ماں بیٹیوں کو دیکھا تھا 

"صدیق میاں اپنی صاحبزادی کو اس کے کمرے میں بھیج دو وہ تھک چکی ہو گی"

اماں سائیں کی بات پر سب پلٹے صدیق صاحب نے اثبات میں سر ہلایا

"تہمینہ بیگم تم ہاجرہ کے ساتھ جاکے باورچی خانہ سنبھالو شام سر پر ہے رات سے پہلے کھانا تیار ہو جانا چاہئے"

اماں سائیں کی بات سن کر تہمینہ بیگم جو سرمہ بھری آنکھوں سے ایمان کو گھوری جارہی تھیں کرنٹ کھا کر کچن کی طرف بھاگیں 

"سائیں زارون… شفیق کو کہہ کر اپنا زخم ایک اور بار دکھا لو اور اپنے کمرے میں جا کر کچھ دیر آرام کرلو اگر زیادہ درد ہو رہا ہے تو مرہم پٹی کروا لینا…"

اماں سائیں سنجیدگی سے کہنے لگیں ان کی بات سن کر ایمان کی نظر زارون پر گئی مگر وہ کس زخم کی بات کر رہی تھیں یہ وہ سمجھ نہ پائی 

"چلو مینو کمرے میں چلو"

صدیق صاحب ایمان کو اپنے ساتھ لے گئے وہ اس کی ڈریسنگ پہ اب بھی حیران تھے کیونکہ انہیں پتا تھا وہ کس طرح کے مجاز کی مالک ہے خیر انہوں نے اس سوچ کو یہی روک دیا جبکہ زویا وہیں کھڑی کھڑی زارون کو دیکھی جارہی تھی جب اماں سائیں واپس جاتے جاتے رکیں

"تم یہاں کھڑی کھڑی کیا کر رہی ہو؟؟ باورچی خانے میں جاکے ہاتھ بٹاؤ"

اماں سائیں کے سخت لہجے سے گھبراتے ہوئے وہ جلدی سے کچن کی جانب بھاگی جبکہ زارون بھی اپنے کمرے میں چلا گیا 

★☆★☆★☆★

ابھی وہ اپنے بالوں کو سکھا ہی رہی تھی جب اس کا دروازہ بجنے لگا 

"آجاؤ"

ایمان کی بات پر وہ جلدی سے اندر آئی 

"مینو تمہارا سب کھانے پر انتظار کر رہے ہیں"

اس وقت ایمان نے صرف ٹائٹز اور شارٹ شٹ پہنی ہوئی تھی زویا اسے سرتا پیر دیکھنے لگی

"اچھا میں آتی ہوں"

وہ ڈرایر سائٹ میں رکھتی ہوئی کہنے لگی

"ویسے تم کونسا سوٹ پہننے والی ہو؟؟"

زویا کی بات پر وہ اس کی طرف دیکھنے لگی وہ اسے کوئی چپکو لڑکی ہی معلوم ہوتی تھی 

"جو مجھے ٹھیک لگے پہن لوں گی…"

ایمان نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا 

"میں بتاؤں آج کھانے پر تم کونسا پہنوگی؟؟"

ایمان ابھی اس کی بات سمجھتی ہی جب زویا اس کے وارڈروب بھی گھس کر ڈریس نکالنے لگی ویسے تو ایمان کو اپنی پرسنل چیزوں میں کسی اور کی مداخلت برداشت نہ تھی لیکن آج اس کا یہاں پہلا دن تھا تو یہ سب تو برداشت کرنا ہی تھا نہ اس لئے وہ خاموش ہوگئی

"یہ لو یہ پہن لو…تم پر بہت اچھا لگے گا"

زویا نے لال رنگ کی گٹھنوں تک آتی شرٹ اس کے ساتھ ٹائٹ سی بلو جینز نکال کر اس کی طرف بڑھائی 

"یہ…؟؟"

"ہاں نہ یہی پہنو تم پر اچھا لگے گا میں بھی تو دیکھوں کہ امیرکن ڈریس میں تم کتنی پیاری لگتی ہوں گی"

زویا اس کی طرف ڈریس بڑھا کر مسکرانے لگی جس پر جواباً ایمان بھی مسکرائی 

"اچھا چلو میں نیچے جاتی ہوں تم جلدی سے تیار ہوکر نیچے آجانا…اوکے…اور ہاں کھلے بال اچھے لگتے ہیں تم پر"

وہ کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی ایمان جلدی سے اپنے بالوں کو سکھا کر ڈریس چینج کرنے کے غرض سے وارڈروب والے روم میں چلی گئی 

"اب آئے گا مزہ"

وہ اپنے شیطانی دماغ کے ساتھ فاتحانہ مسکراہٹ لئے مسکراتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے چلی گئی

سب لوگ ڈائننگ ہال میں موجود تھے جب تہمینہ بیگم نے اشارے سے زویا کو اپنے پاس بلایا 

"بتا کیا خبر ہے؟؟"

"ارے ممی جی آپ پریشان ہی نہ ہوئیں اور بس دیکھتی جائیں پہلے دن ہی کیسا زلیل کرواتی ہوں میں اس ایمان کو…"

زویا اپنے مکرو چہرہ کے ساتھ مسکرائی 

"ہیں ایسا کیا کر کے آئی ہے تو؟؟ سن تجھ پر تو نام نہیں آئے گا نہ؟؟"

"ارے ممی جی کیا ہوگیا بھلہ زویا پر کوئی نام لگا سکتا ہے؟؟ بھول گئیں آپ؟؟ پہلے بھی کتنے کھیل کھیلے ہیں میں نے بھلہ آج تک میرا نام کہیں آیا؟؟ نہیں نہ تو بھلہ آج کیسے آئے گا"

زویا کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئیں واپس باورچی خانے چلی گئیں

زلیخا بیگم کے تین بیٹے تھے جن میں سے سب سے بڑے بیٹے چودھری بادشاہ علی تھے جن کا بیٹا زارون علی تھا زارون کے بچپن میں ہی بادشاہ علی اور امرین بیگم کا ایک کار ایکسیڈنٹ میں انتقال ہوگیا تھا تب زارون پانچ سال کا تھا تب سے اب تک اس کی پرورش زلیخا بیگم نے خود کی تھی

زلیخا بیگم کا دوسرا بیٹا چودھری اختر علی تھا ان کا بھی کچھ سالوں پہلے اپنے بڑے بھائی کی موت کے ایک سال بعد ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوگیا تھا جن کی بیوہ تہمینہ بیگم تھیں ان کے دو بچے تھے ایک زویا تھی جو زارون کی ہم عمر تھی اور دوسرا ان کا بیٹا اصغر علی جو زارون سے ایک سال بڑا تھا زیادہ تر پڑھائی کی وجہ سے شہر سے باہر ہوتا تھا 

صدیق علی زلیخا بیگم کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا جن کی بیوی پہلی اولاد کی ولادت کے وقت ہی دم توڑ گئی تھیں کبھی تو ایمان ان کی لاڈلی بیٹی تھی کیونکہ وہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی اس لئے سب اس سے بہت پیار کرتے تھے 

ایمان کے پیدا ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اماں سائیں نے اسے زارون کی دلہن کے طور پر مانگ لیا تھا تبھی تو ان کا رشتہ بچپن سے طے تھا بادشاہ علی کی وفات کے بعد گھر کے سارے اختیارات اور گاؤں کی پنچایت کے فیصلوں کے لئے زارون کو حقدار بنایا گیا تھا

بچپن ہی سے سب اسے سردار سائیں کہہ کر پکارتے تھے اور اس کا پار حکم مانتے تھے وہ الگ بات تھی ایمان نے کبھی اس کا نہ تو کوئی حکم مانا نا ہی اسے کبھی سائیں کہہ کر پکارا وہ واحد تھی پورے گاؤں اور حویلی میں بھی جو نہ صرف زارون کو نام لے کر مخاطب کرتی تھی بلکہ اس پر اپنا حکم بھی چلاتی تھی 

زارون دل کے ہاتھوں مجبور بچپن ہی سے اسے کھونے کے ڈر سے اس کا ہر حکم مانتا تھا اور اس کے لبوں سے اپنا نام سن کے مسکراتا بھی تھا مگر جب اسے باہر پڑھنے جانے کا شوق ہوا تو زارون اس بات کے خلاف تھا

وہ کیسے اپنی ہونے والی بیوی کو دوسرے ملک جانے کی اجازت دیتا باقی سب بھی اس بات کے خلاف تھے مگر ایمان نے رونا دھونا ڈال کر اپنی ضد منوا ہی لی تھی اور تب سے اب تک زارون ہر دن اپنے رب کے حضور پیش ہوکر اسے پانے کی دعائیں کرتا تھا 

زویا بچپن ہی سے زارون کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا کرتی تھی مگر زارون کو وہ لڑکی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی زویا بچپن سے ہی ایمان کے لئے اپنے دل میں کھوٹ رکھتی تھی اور اکثر وہی چھوٹی موٹی چالاکیاں کر کے ایمان کو سب کی نظر میں جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتی تھی اس بات پر تہمینہ بیگم شروع سے اپنی لاڈلی کا ساتھ دیتی تھیں

"ایمان کہاں ہے؟؟"

اماں سائیں جنہیں زارون نے پلیٹ میں کھانا نکال کر دیا تھا ایک نظر پورے ہال پر مار کر سختی سے کہنے لگیں جس پر زویا نے مکار شکل پر شیطانی مسکراہٹ لئے تہمینہ بیگم کو دیکھا جو مزے اسے بیٹھی اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھیں

"میں آگئی… سوری مجھے تھوڑی دیر ہوگئی"

وہ جب ڈائننگ ہال میں آئی تو سب کی توجہ کا مرکز بن گئی اس نے اس وقت سفید رنگ کے شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے اور ڈوپٹہ سر پر لیا ہوا تھا زارون کی نظریں اس پر سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں

اماں سائیں سمیت صدیق صاحب بھی اسے حیرانی سے دیکھ رہی تھے جبکہ زویا اور تہمینہ بیگم اسے دیکھ کر جل بھن گئی تھیں زویا کو یقین نہیں آرہا تھا یہ سب کیسے ممکن ہوگیا تھا 

فلیش بیک

وہ عشاء کی نماز ادا کر کے ابھی اپنے کمرے سے باہر آیا ہی تھا جب اسے کھٹکا لاحق ہوا پہلے اس کے قدم ایمان کے کمرے کی جانب بڑھے مگر پھر رکے ابھی وہ کچھ سوچ ہی رہا تھا جب ایمان کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آئی 

"رکو…کہاں جارہی ہو آپ؟؟"

ایمان ابھی سیڑھیاں اترنے ہی والی تھی جب زارون نے اسے روکا وہ سوالیہ نظروں سے راستہ روکے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی 

"ڈائننگ ہال میں"

"ان کپڑوں میں؟؟"

ایمان کی بات پر زارون نے ایک نظر اس کے کپڑوں پر ڈالی جس پر وہ باقاعدہ اسے گھورنے لگی 

"ہاں ان کپڑوں میں"

اسے یہ شخص بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا جو بار بار اس کے ہر کام میں روک ٹوک کئے جارہا تھا 

"ایسے نہیں جا سکتیں آپ"

ایک بار پھر سے وہ اس کے سامنے آیا تھا ایمان نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا

"تمہارا پرابلم کیا ہے ہاں؟؟ میں کوئی نوکر ہوں تمہاری؟؟ جو کب سے مجھ پر حکم چلائے جا رہے ہو… آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟؟ میری مرضی میں کچھ بھی پہنوں کچھ بھی کروں تمہیں اس سے مطلب؟؟"

وہ تیز آواز کے ساتھ اس پر بھڑک اٹھی اس بات کا علم تو زارون کو پہلے ہی تھا کہ وہ ایسے ہی رویے سے پیش آئے گی زارون نے ضبط سے آنکھیں مینچ لیں

"ایمان میں بس آپ سے یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ یہ حویلی ہے کوئی آپ کا امریکہ نہیں جو جیسا دل کرے ویسے کپڑے زیب تن کرلئے جائیں، یہ گاؤں ہے ہمارا یہاں کیسے لباس زیب تن کئے جاتے ہیں آپ کو اس بات کا پتا ہونا چاہیے"

زارون نے نرمی سے اسے سمجھایا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

"ایک منٹ ایک منٹ… کیا یہاں ایسے کپڑے کوئی بھی نہیں پہنتا؟؟ تو پھر اس نے مجھے ایسے کپڑے پہننے کا کیوں کہاں؟؟"

"کس نے؟؟"

وہ حیران ہوا 

"وہ زویا نے…"

زارون نے غصے سے مٹھیاں بھینچیں 

"آپ اس کی باتوں کو نظر انداز کریں اور پلیززز کوئی اور ڈریس پہن لیں… میں ریکوئسٹ کرتا ہوں آپ سے کہ جب آپ سب کے ساتھ ہوں تو ایسا ڈریس پہنا کریں جو یہاں سب پہنتے ہیں جو ہر لحاظ سے مناسب ہو"

اس کے نرمی سے سمجھانے پر ایمان کا غصہ تھوڑا کم ہوا تھا 

"مگر میرے پاس تو آج والی فراک کے علاوہ ایسے اور کوئی کپڑے نہیں"

وہ معصوم سی شکل بنائے اس وقت اسے اس دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی زارون کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی جسے وہ دیکھ کر حیران ہوئی 

"آپ پریشان نہ ہوئیں اور اپنے کمرے میں جائیں میں نے بوتیک کال کردی ہے وہ بس ڈریسز لے کر آتے ہی ہوں گے ان میں سے کوئی بھی ڈریس پہن کر آپ سب کے سامنے آئیں گی"

زارون کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا جب وہ جاتے جاتے پھر رکا

"اور ڈوپٹہ ساتھ لینا نہ بھولیئے گا"

زارون کی بات پر وہ اسے دیکھتی رہ گئی وہ واپس اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ وہ بھی اپنے کمرے کے اندر چلی گئی 

فلیش ناؤ

وہ چلتی ہوئی اپنے بابا کے برابر والی کرسی پر آ بیٹھی اماں سائیں نے جیسے ہی لقمہ بنایا سب لوگ کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے جبکہ اماں سائیں کی نظر زارون پر گئی جو اب تک صرف ایمان کو دیکھا جارہا تھا ان کی ایک بار پھر سے میچنگ ہوگئی تھی کیونکہ زارون نے سفید رنگ کی کلف کی شلوار کمیض پہنی ہوئی تھی 

"سائیں… کن سوچوں میں گم ہو؟؟"

اس کی توجہ کا مرکز ٹوٹا جب اماں سائیں کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی

"جی اماں سائیں…وہ زمین کے معملات کے بارے میں سوچ رہا تھا"

"کھانا وقت پر کھایا کرو باقی کام بعد میں…"

اماں سائیں سمجھ چکی تھیں جبکہ وہ اثبات میں سر ہلاتا ہوا کھانا کھانے میں مصروف ہوگیا 

"اے لڑکی… تو نے تو کہا تھا یہ چڑیا آج رچ کر ذلیل ہونے والی ہے"

تہمینہ بیگم سے رہا نہ گیا وہ برابر بیٹی زویا کے کان میں سرگوشی کرنے لگیں 

"مجھے کیا پتا ممی… میں نے تو اسے خود اپنے ہاتھوں سے ایسے کپڑے نکال کر دیئے تھے مجھے کیا پتا یہ اتنی ہوشیار نکلے گی…"

زویا نے کھا جانے والی نظروں سے ایمان کو دیکھا جو پر سکون انداز میں کھانے میں مصروف تھی

★☆★☆★☆★

وہ لوگ کھانے کے بعد گارڈن میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اماں سائیں صدیق صاحب کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مصروف تھی جبکہ وہ دونوں ماں بیٹیاں اب تک جلی بھنی بیٹھی تھیں 

ایمان گارڈن میں لگے جھولے پر بیٹھے کتاب پڑھنے میں مصروف تھی جبکہ وہ سامنے کرسی پر بیٹھا چائے کا کپ پکڑے اسے دیکھ رہا تھا 

"ہاں تو تہمینہ بیگم… کیا اصغر میاں کی طرف سے کوئی خیر خبر آئی بھی یا نہیں ؟؟"

اماں سائیں کی بات پر تہمینہ بیگم میٹھی چھری بنی مسکرانے لگیں

"جی جی اماں سائیں اصغر کی طرف سے حویلی کے ٹیلی فون پر خبر آئی تھی تھوڑی بات چیت کی پھر آپ کا حال پوچھ رہا تھا…بڑا ہی یاد کر رہا تھا دادی جان کو آخر جان چھڑکتا ہے اپنی دادی پر"

تہمینہ بیگم نے مکھن لگاتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ ایسا کچھ بھی نہ تھا زویا حیرانی سے اپنی ممی کو دیکھنے لگی 

"اصغر میاں سے کچھ پوچھا ؟؟ کہ پڑھائی مکمل کب ہوگی؟؟ ارے بھئی کیا ضرورت ہے دوسرے شہر جا کر پڑھنے کی؟؟ سائیں زارون بھی تو حویلی میں ہی رہ کر کتنا آگے تک پڑھا ہے…"

اماں سائیں کی بات پر تہمینہ بیگم ایبرو اچکائے زویا کو دیکھنے لگیں 

"ویسے اماں بیگم…آپ نے ایمان کو بھی تو پڑھنے جانے کی اجازت دی تھی وہ بھی دوسرے ملک… میرا لاڈلا تو بس دوسرے شہر گیا ہے"

تہمینہ بیگم کی بات پر اماں سائیں اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگیں جبکہ اپنا نام سن کر ایمان بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی 

"اس کی بات الگ تھی، اس کی ماں کی آخری خواہش تھی کہ اس کی اولاد کی ہر خواہش پوری کی جائے، بھلہ اختر میاں نے تو ایسی کوئی خواہش نہ رکھی تھی اور ویسے بھی سائیں سردار نے خود اسے جانے کی اجازت دی تھی پھر ہم کون ہوتے ہیں اسے روکنے والے"

اماں سائیں کی بات پر وہ خاموش ہوگئیں جبکہ ایمان زارون کو دیکھنے لگی جو مسلسل اسے ہی دیکھا جارہا تھا 

"اصغر میاں کو کل ہی فون کرو، اسے کہو جتنی پڑھائی رہتی ہے حویلی میں آکر مکمل کر لے"

"جی جی میں کہہ دوں گی اسے"

تہمینہ بیگم جھوٹی مسکراہٹ دکھاتی ہوئیں اندر ہی اندر غصے سے لال ہورہی تھیں

"صدیق میاں کل تم پرانی حویلی چلے جانا وہاں کچھ کام کرانا باقی ہے"

"جی اماں سائیں آپ فکر نہ کریں میں پرانی حویلی کا سارا کام سنبھال لوں گا"

اماں سائیں کی بات پر جہاں زارون کی آنکھوں میں چمک آئی وہیں ایمان خاموشی سے اسے دیکھنے لگی تھی

تبھی زویا کے ہاتھ سے چائے کا کپ زمین پر جا گرا جس پر سب اسے دیکھنے لگے

"ہائے اللّٰہ خیر کرے کیا ہوا میری بچی تیری طبیعت تو ٹھیک ہے نہ؟؟"

تہمینہ بیگم وابیلہ مچاتے ہوئے کھڑی ہوئیں جبکہ زارون نے بیزاری سے اپنی چائے کا آخری گھونٹ بھرا

"کچھ نہیں ہوا ممی میں ٹھیک ہوں"

زویا نے مٹھیاں بینچتے ہوئے کہا 

"ہائے دن بھر لگی رہتی ہے سارا دن کچن میں کام کرتی رہتی ہے چل کمرے میں چل کر آرام کر دن بھر کی تھکن سے ہلکان ہورہی ہوگی"

تہمینہ بیگم جتاتی نظروں سے دیکھتی ہوئیں زویا کو اپنے ساتھ لے گئیں جبکہ باقی سب اماں جان کو دیکھنے لگے 

"اماں سائیں میں کیا کہتا ہوں زویا کے لئے بھی کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر یہ فرض بھی ادا کردیتے ہیں"

صدیق صاحب کی بات پر اماں سائیں نے اثبات میں سر ہلایا

"کہہ تو ٹھیک رہے ہو میاں مگر میاں اس کے بھائی کے بنا کیسے ہم اس کا رشتہ دیکھ لیں، تھوڑا صبر کرو اسے یہاں آنے دو پھر اس بارے میں بھی گفتگو ہوگی"

"جیسا آپ کو ٹھیک لگے اماں سائیں"

صدیق صاحب نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور اٹھنے لگے 

"اماں سائیں آپ کو کمرے تک چھوڑ دوں…"

"ہاں چلتے ہیں"

صدیق صاحب نے ویل چیئر چلاتے ہوئے کہا جبکہ انہوں نے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا

"سائیں سردار؟؟ کیا بات ہے سونا نہیں ہے؟؟"

زارون جو موبائل میں مصروفیت ظاہر کرتا ہوا چور نظروں سے ایمان کو دیکھ رہا تھا اماں سائیں کی بات پر چونکہ 

"اماں سائیں بس چائے پی کر جاتا ہوں…"

"مگر کہ تو خالی ہے میاں"

زارون نے بہانا بنایا تو اماں سائیں نے چوری پکڑی

"وہ… وہ اماں سائیں میں نے اور چائے بنوائی ہے کچھ ہی دیر میں آتی ہوگی…"

زارون نے دل ہی دل میں خود کو پاگل کہا جبکہ اماں سائیں سب سمجھ چکی تھیں 

"شفیق کو کہہ کر چائے کمرے میں منگوا لو دیر تک جاگنا صحت کے لیے اچھا نہیں ہوتا اور پھر زخم بھی گہرہ ہے"

وہ کہتی ہوئیں صدیق صاحب کے ساتھ اپنے کمرے کی جانب چلی گئیں جبکہ وہ جو اب اتنے سالوں بعد اس سے ڈھیر ساری باتیں کرنے کی خواہش رکھتا تھا اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف بڑھنے لگا 

"ایمان…"

وہ جو کتاب میں سر جھکائے کہانی میں مگن سی تھی اس کی آواز پر سر اٹھ کر اسے دیکھنے لگی وہ بنا کچھ کہے اس کے برابر آ بیٹھا وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے کچھ جتانا چاہ رہا تھا 

"کیا تمہیں یاد ہے ہم رات کے اس پہر اکثر چھت پر جاکر تارے گنا کرتے تھے… اور چاند کے سب سے زیادہ قریب جو تارا ہوتا تھا تم اسے اپنا نام دیتی تھیں"

اس نے ماضی کی کچھ یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا جس پر ایمان اس کی طرف دیکھنے لگی

"نہیں مجھے ایسا کچھ یاد نہیں…"

اس نے صاف مکرتے ہوئے آنکھیں گھمائیں

"اچھا تو یہ تو یاد ہوگا نہ ایک بار جب ہم سب پرانی حویلی گئے تھے تب تم رات کے وقت اکیلی چھت پر چلی گئی تھیں اور جب سب نے تمہیں نیچے بلایا تو تم نے آنے سے صاف انکار کردیا اور کہا میں صرف زارون کے ساتھ نیچے آؤں گی"

زارون کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی کیونکہ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمایاں تھی

"اور جب سب نے مجھے تمہیں نیچے لانے کا کہا تب تم نے مجھے بھی اپنے ساتھ وہیں بٹھا لیا تھا اور پھر ہمیں کسی نے تنگ نہ کیا کیونکہ ہم کھیل اور اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے تھے"

وہ سمجھ چکی تھی زارون اسے کیا یاد دلانے کی کوشش کر رہا تھا وہ ان سب باتوں سے بھاگ جانا چاہتی تھی ایمان کو گھبراہٹ ہونے لگی وہ جلدی سے کتاب بند کئے کھڑی ہوئی

"مجھے نیند آرہی ہے گڈ نائٹ"

ابھی وہ جانے لگی تھی جب زارون نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا

"اتنی جلدی؟؟ جہاں تک میں نے سنا تھا تم امریکہ میں بھی رات گئے جاگ کر پڑھائی کر رہی ہوتی تھیں"

زارون اس کی رگ رگ سے واقف تھا 

"میں بہت تھک چکی ہوں مجھے آرام کرنا ہے"

"ٹھیک ہے کل بات کریں گے شب بخیر"

زارون کی بات کا کوئی بھی جواب دیئے بنا وہ جلدی سے اندر کی جانب چلی گئی جبکہ وہ بھی ہاتھ میں درد کا احساس کرتے ہوئے آرام کرنے چلا گیا 

★☆★☆★☆★

وہ کروٹیں بدل رہی تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی جب اس کی سونے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو وہ اٹھ بیٹھی اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی

"اماں سائیں نے پرانی حویلی میں کس کام کی بات کی تھی؟؟ وہاں تو تب ہی کام کرایا جاتا ہے جب خاندان میں سے کسی کی شادی ہونے والی ہو"

ایمان کا دل پریشان سا تھا اسے جس بات کا ڈر تھا اگرچہ وہی بات ہونے والی تھی تو شاید وہ پھر سے یہاں سے چلی جائے 

"اور یہ زارون… یہ آخر مجھے ماضی یاد کیوں دلا رہا تھا؟؟ نہیں ایمان… ایسا کچھ بھی نہیں ہے… بہت جلد بہت جلد تم اس خاندان سے بہت دور چلی جاؤ گی"

وہ دل ہی دل میں کبھی نہ پورا ہونے والا عہد کرتی ہوئی  واپس بستر میں منہ چھپائے لیٹ گئی

وہ درد سے ایک بار پھر تڑپ رہا تھا اسے لگ رہا تھا اس کا بازوں بلکل بیکار ہوچکا ہو جیسے 

"سائیں سردار، آپ کہیں تو ڈاکٹر کو فون کردوں؟؟ وہ ایک بار یہاں آکر دیکھ لے گا کہ زخم اب کیسا ہے"

"نہیں شفیق رہنے دو، مجھے بس آرام کرنا ہے اب تم جا سکتے ہو"

وہ مرہم پٹی کرکے اس کے حکم کے مطابق وہاں سے چلا گیا جبکہ زارون جو اس وقت شرٹ لیز تھا اپنے بستر پر لیٹ کر درد کم ہونے کا انتظار کرنے لگا 

"کیا وہ واقعی سب کچھ بھول گئی ہے؟؟ کیا میرے پیار میں اتنی بھی طاقت نہیں کہ ایک بار صرف ایک بار اس کا دل میرے لئے دھڑکے…"

وہ آنکھیں بند کئے لیٹا دل ہی دل میں مخاطب ہوا 

"وہ بھاگ رہی ہے مجھ سے، میری باتوں سے، لیکن آخر کب تک؟؟ اسے بننا تو میرا ہی محرم ہے، تو آخر ان سب کوششوں کا فائدہ؟؟"

زارون بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا درد سے اس کا پورا وجود تپ رہا تھا بخار آہستہ آہستہ ایک بار پھر اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا 

"کہیں ایسا تو نہیں جو کچھ زویا کہتی ہے وہ سب سچ ہو… کہیں ایسا تو نہیں ایمان کو کوئی اور پسند…"

ایک جھٹکے سے اسنے آنکھیں کھولیں وہ غصے سے بستر سے اٹھ بیٹھا اس کا دل کانپنے لگا تھا اس کا ڈر بڑھنے لگا تھا آخر وہ کتنے سالوں سے اس دشمنِ جاں کا انتظار کر رہا تھا آخر کتنی کوششیں کی تھیں اس نے کہ وہ واپس آجائے مگر وہ اپنے وقت پر اپنی مرضی سے یہاں آئی ہے 

"نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکتا… ایمان صرف اور صرف زارون علی کی ملکیت ہے، وہ میری ہے صرف میری… اس کے دل پر صرف میرا راج ہوگا میں حکومت کروں گا وہاں…"

وہ جنون بھرے لہجے میں کہتا ہوا تیز تیز سانسیں لینے لگا 

★☆★☆★☆★

"سردار سائیں گاؤں سے کچھ لوگ آئے ہیں کہتے ہیں بہت پریشان ہیں سردار سائیں سے ملنا چاہتے ہیں"

صبح ساتھ بجے کا وقت تھا وہ جو شیشے کے سامنے کھڑا تیار ہو رہا تھا ملازم کی بات پر پلٹا 

"ٹھیک ہے شفیق انہیں بیٹھک میں ٹھہراؤ میں آتا ہوں اور سنو!!! مہمان نوازی کرنا نہ بھولنا"

وہ حکم سناتا ہوا اپنے بال سنوارنے لگا 

"جو حکم سائیں سردار"

وہ ادب سے کہتا ہوا واپس چلا گیا جبکہ زارون شیشے کے سامنے کھڑا پرفیوم لگانے لگا جب اس کی نظر کھڑکی سے باہر گئی تو وہ دنگ رہ گیا 

وہ جوگنگ ڈریس میں موجود باہر گارڈن میں پشپس کرنے میں مصروف تھی زارون کو لگا وہ خواب دیکھ رہا ہو جیسے وہ جلدی سے اپنی گھڑی پہنتا ہوا داڑھی کے ساتھ ہلکی سی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا موبائل جیب میں ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا 

وہ وائٹ کلر کے ٹائٹس اور لائٹ پنک کلر کی چھوٹی سی شرٹ میں ملبوس بالوں کی پونی باندھے کانوں میں ائیر پوٹ لگائے اپنے کام میں مصروف تھی جب وہ اپنے مظبوط قدموں کے ساتھ چلتا ہوا اس کے قریب گیا 

"ایمان…"

وہ بنا کچھ سنے اپنے کام میں مصروف رہی زارون اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا جھک کر اس کے کان سے ایئرپورٹس نکالنے لگا جس پر وہ کرنٹ کھا کر زمین سے جا لگی 

"آآاہ…یہ…یہ کیا حرکت ہے؟؟ ڈرا دیا تم نے تو…"

وہ جلدی سے خود کو سنبھالتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور ایک نظر سامنے کھڑے وجود پر ڈالی تو آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے 

وہ نیلے رنگ کا کرتا پجامہ پہنا آج سچ مچ کا سردار لگ رہا تھا اس کی شخصیت میں آج ایک الگ ہی رعب تھا وہ اپنی بھوری آنکھوں سے اسے گھورنے لگا کیونکہ کل اسے یہاں پہلا دن تھا تبھی وہ خاموش تھا وہ کس طرح ضبط کئے ہوئے تھا یہ وہ خود جانتا تھا 

★☆★☆★☆★

"یہ کیا ہے؟؟"

"کیا؟؟"

زارون کے سخت لہجے پر وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جب زارون نے ایک نظر اس کے پورے حلیے پر دوڑائے وہ کہیں سے بھی حویلی میں رہنے والی لڑکی نہ لگ رہی تھی 

"یہ کس طرح کے کپڑے پہنے ہوئے ہیں آپ نے؟؟ آپ کو میں کل سے کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ اس طرح کے کپڑے یہاں نہیں پہنے جاتے، ابھی اور اسی وقت اپنے کمرے میں جائیں اور کوئی ڈھنگ کے کپڑے پہن کر باہر آئیں"

وہ اسے حکم دیتا ہوا سختی سے پلٹنے لگا جب وہ اچھل کر اس کے سامنے آئی 

"او ہیلو مسٹر… کس بات کا رعب جھاڑ رہے ہو مجھ پر ہاں؟؟ سمجھتے کیا ہو خود کو تم؟؟"

وہ ٹھہرا تھا اس کے تلخ لہجے پر وہ آخر کس طرح ا سے الجھ رہی تھی وہ آنکھیں چھوٹی کئے اسے دیکھنے لگا 

"تمہیں کیا لگتا ہے؟؟ اتنی دور سے یہاں تمہارے لیکچر سننے آئی ہوں؟؟ یہ نا کرو وہ نہ کرو ایسے کپڑے نہ پہنو ڈوپٹہ پہنو یہ کرو وہ کرو ہو کون تم ہاں؟؟ تمہیں کس نے پرمیشن دی میری ذاتی زندگی میں مداخلت کرنے کی؟؟"

وہ مسلسل تلخ کلامی کئے جارہی تھی وہ چپ کھڑا اس کا رؤیہ دیکھ رہا تھا مگر اندر سے گزرتی زویا گارڈن سے آتی آوازیں سن کر رکی تو اس کے کان کھڑے ہوئے

"بات سنو مسٹر تم ہوں گے سائیں سردار… مگر میں نہیں مانتی کسی سردار وردار کو سمجھے"

ایمان نے اسے انگلی دکھاتے ہوئے گھورا 

"جانتا ہوں!!! اور میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایک سردار کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنے بچپن کے منگیتر کی حیثیت سے دیکھو…"

آخر کار دل کی بات لبوں پر آہی گئی تھی زارون نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ الفاظ ادا کئے تھے جس پر وہ ساخت سی کھڑی اس کا منہ دیکھی جارہی تھی آخر جس بات کا اسے ڈر تھا وہی ہوا تھا 

یہاں آنے سے پہلے اسے لگا تھا وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا ہوگا مگر ایسا نہیں نہ تھا یہاں کے لوگ بھلے ہی بدل چکے تھے مگر زارون اب بھی بلکل ویسا ہی تھا وہی باتیں وہی دیکھنے کا انداز اور اب بھی وہی ایک منگیتر والی رٹ، اگر اس میں کچھ بدلہ تھا تو وہ یہ کہ وہ اب پہلے سے بھی زیادہ حسین خوبرو اور رعب دار ہوچکا تھا 

"اور رہی بات مداخلت کرنے کی اجازت کی تو یاد رہے چودھری زارون علی کو کچھ بھی کرنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں!!!…ہونے والا شوہر ہوں تمہارا جو چاہے حکم دے سکتا ہوں تمہیں"

زارون نے حق جتاتے ہوئے کہا جس پر وہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی وہاں سے اندر کو جانے لگی 

"اور ہاں ایک اور بات!!! بہتر ہوگا میرے ساتھ ایسے رویئے سے پیش آنے سے گریز کرو… میں بار بار نہیں بخشتا…"

اسے لگا تھا اس کا دماغ پھٹ جائے گا وہ اسے گھورتی ہوئی اندر کی جانب چل دی جبکہ زویا ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر جہاں جلی تھی وہیں اس کے دماغ میں کچھ شیطانی آئیڈیاز چل رہے تھے 

★☆★☆★☆★

"اماں سائیں آپ یقین نہیں کریں گی ایمان نے اتنے بے حیائ والے کپڑے زیب تن کئے ہوئے تھے کہ اگر وہ اس حلیے میں کسی مہمان کے سامنے آتی نہ تو سب نے ہمارے اوپر کیچڑ اچھالنا تھا یہ کہہ کر کہ زلیخا بیگم کی بوتی اور ہونے والی بہو خود تو باہر سے آئی ہی ہے ساتھ بے حیائی بھی لائی ہے"

اس نے کچھ دیر پہلے جو کچھ دیکھا تھا اب اس پر مرچی مصالحہ لگا کر وہ اماں سائیں کے سامنے پیش کر رہی تھی جس کی بات سن کر اماں سائیں سختی سے اسے گھورنے لگیں

"کیا مطلب ہے تمہاری بات کا؟؟ تہمینہ بیگم کیا یہ سچ کہہ رہی ہے؟؟ "

"اور نہیں تو کیا اماں سائیں میں تو باورچی خانے میں کھانا بنا رہی تھی پھر مجھے زویا نے بتایا تو میں بھاگتی بھاگتی وہاں آئی مگر وہ وہاں سے غصے سے چلتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی"

تہمینہ بیگم صاف جھوٹ کہتی ہوئیں ایک بھی بار نہ کترائیں

"کل تک تو وہ بلکل ٹھیک تھی بھلہ اچانک اس نے ایسے کپڑے کیوں پہنے اور وہ سائیں سردار سے کر بات پر الجھ رہی تھی"

وہ خود کلامی کرتی ہوئیں سوچ میں پڑھ گئیں جب زویا نے تہمینہ بیگم کو اشارہ کیا

"اماں سائیں میں نے دیکھا تھا وہ بڑی بد تمیزی سے سائیں سردار سے پیش آرہی تھی اور تو اور جس سے کوئی آنکھیں ملا کر بات نہیں کر سکتا وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلسل تلخ کلامی کئے جارہی تھی"

تہمینہ بیگم کی بات پر زلیخا بیگم اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگیں

"بلکل صحیح کہا ممی جی اور پتا ہے ہمارے سائیں سردار جنہیں کسی کی اٹھتی ہوئی نظریں نہیں برداشت وہ خاموشی سے کھڑے ایمان کی باتیں سن رہے تھے"

زویا نے مٹکتے ہوئے کہا زلیخا بیگم کو یہ سب سن کر بہت غصہ آیا 

"اب بھلہ آپ ہی بتائیں اماں سائیں کوئی اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ بھلہ ایسے پیش آتا ہے؟؟ "

زویا آخری الفاظ کہہ کر ان کا دل جلاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ وہ سر پکڑے بیٹھیں سوچوں میں پڑھ گئیں ان کا ایسا حال دیکھ کر تہمینہ بیگم کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی

سائیں سردار میری مدد کریں وہ لوگ میری بیٹی کی زندگی خراب کردیں گے سائیں وہ وڈیرا کہتا ہے اگر میں نے اس کا ادھار نہ چھکایا وہ میری لالی کو اٹھا لے جائے گا"

ایک آدمی مسلسل زارون کے پیروں میں گر گر کر ہاتھ جوڑتا ہوا اپنی بیٹی کی عزت کی بھیک مانگ رہا تھا زارون نے جھک کر اسے سہارا دیتے ہوئے کھڑا کیا 

"یہ کیا کر رہے ہیں آپ ڈنو چاچا آپ پریشان نہ ہوئیں آج شام تک میں سارے معاملات حل کرلوں گا"

زارون کی بات پر وہ اس کا شکریہ ادا کرنے لگے جب وہاں سے چلتی ہوئی ایمان نے ان کی گفتگو سنی

"سائیں سردار ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے آپ لالی کو بچالیں گے نہ…"

"آپ پریشان نہ ہو ڈنو چاچا اللّٰہ مدد فرمائے گا مگر آپ نے اس سے ادھار کب لیا؟؟ اور کون کون ہیں وہ؟؟"

زارون نے ایک نظر بیٹھک کے باہر کھڑی ایمان پر ڈالی جو اسے دیکھتے ہوئے چھپ گئی

"سائیں سردار اللّٰہ گواہ ہے ہم نے جب بھی مدد مانگی ہے صرف آپ سے مانگی ہے میں اتنا سا تھا جب میرے ابا سائیں بادشاہ سائیں گی غلامی میں تھے تب سے اب تک ہم صرف آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں ہم نے ایک روپیہ بھی ادھار نہ لیا تھا"

زارون حیران ہوا

"کیا واقعی؟؟ پھر وہ لوگ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟؟"

زارون کے سوال پر انہوں نے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا

"سائیں سردار وہ لوگ ملک سلطان کے آدمی ہیں سائیں وہ لوگ زبردستی کہانی بنا کر میری لالی کو لے جانا چاہتے ہیں سائیں وہ ملک سلطان … وہ میری لالی کو قید "

ابھی آگے وہ مزید کچھ کہتے جب پھر سے ان کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوئے 

"ملک سلطان؟؟ اگر واقعی یہ سب ملک سلطان کروا رہا ہے تو پھر کوئی شک نہیں وہ یہ سب جان بوجھ کر کروا رہا ہے…"

"سائیں ایک ہفتے سے لالی پڑھنے بھی نہیں جارہی اسی ڈر سے"

"پریشان نہ ہو آپ میں آج ہی کچھ کرتا ہوں اور جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوجاتا لالی کو ہماری حویلی لے آئیں وہ کچھ دنوں یہیں رہے گی…جیسے ہی مسئلہ حل ہوتا ہے لالی بہن کو آپ اپنے ساتھ کے جائیے گا"

زارون نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے اس کا بہت شکریہ ادا کیا اور واپس چلے گئے جیسے ہی وہ لوگ گئے زارون نے دیکھا ایمان پلٹ کر جانے لگی ہے 

"رکو…"

اس کی رعب دار آواز پر نا چاہتے ہوئے بھی ایمان کے قدم رکے تھے ایک نظر سرتا پیر دیکھتے ہوئے زارون اس کے قریب آگیا کیونکہ وہ اس وقت روایتی کپڑوں میں ملبوس تھی یہ سب صدیق صاحب کے سمجھانے پر ممکن ہوا تھا 

"مجھ سے بھاگتی کیوں ہو آپ؟؟"

زارون کے سوال پر وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھی جارہی تھی

"میں کیوں بھاگوں گی تم سے؟؟ ڈرتی نہیں ہوں تم سے سمجھے…"

وہ ایک بار پھر تلخ کلامی کر گئی تھی جس پو زارون نے ایک گہری سانس لی 

"تو پھر مجھے دیکھ کر یوں بھاگیں کیوں؟؟"

"مجھے لائبریری جانا ہے"

آخر کار اپنے مطلب کی بات پر آہی گئی تھی جس پر زارون نے اثبات میں سر ہلایا

"اجازت لینا چاہتی ہو؟؟"

زارون نے آنکھوں آنکھوں میں کچھ جتانا چاہا 

"میں تم سے بھلہ کب سے اور کیوں اجازت لینے لگی؟؟"

وہ اسے گھورنے لگی

"اجازت تو لینی پڑے گی… کیا آپ کو یاد نہیں بچپن میں آپ کی ہر ضد میری مرضی کے بغیر پوری نہیں ہو پاتی تھی…صرف وقت بدلا ہے اصول اب بھی اپنی جگہ ہیں…"

زارون کی بات پر وہ ایک بار پھر اسے گھورنے لگی

"میں نے کہا نہ مجھے کہیں بھی جانے کے لیے تمہاری اجازت کی بلکل بھی ضرورت نہیں سمجھے تم…"

زارون ایبرو اچکائے اس کے سرد لہجے پر حیران تھا وہ اب پہلے سے بھی زیادہ ضدی ہوچکی تھی 

"ٹھیک ہے میری اجازت کے بنا اس حویلی سے باہر جا کر دیکھاؤ اگر تم نے ایک بھی قدم اس حویلی سے باہر رکھا میں وعدہ کرتا ہوں میں یہ سرداری چھوڑ دوں گا"

وہ اسے چیلنج دیتا ہوا حیران کر گیا تھا وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی باہر کی جانب جانے لگی جبکہ وہ بھی دونوں ہاتھ لپیٹے اسے جاتا دیکھنے لگا 

"میری گاڑی کہاں ہے؟؟ ڈرائیور کو کہو میری گاڑی نکالے."

ملازم کو ایمان کی بات سن کر زارون کے حکم کا منتظر تھا ایمان نے اسے سختی سے گھورا

"سنا نہیں تم نے میں نے کیا کہا؟؟ گاڑی نکالو میری…"

"چھوٹی بی بی آپ کی گاڑی گیراج سے باہر تب ہی نکلے گی جب سائیں سردار کی اجازت ہوگی…"

ملازم کی بات پر وہ اسے بے یقینی سے دیکھتی ہوئی پیچھے پلٹی جہاں زارون کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا 

"ٹھیک ہے ڈرائیور سے کہو چھوٹی بی بی کو لائبریری جانا ہے… ابھی اس ہی وقت…"

وہ زارون کو دیکھتے ہوئے ملازم کو حکم سناتی ہوئی ایک بار پھر سے اسے خاموش کر گئی تھی وہ خاموشی سے کبھی ایمان تو کبھی زارون کو دیکھا جارہا تھا 

"کیا ہوا؟؟ اب کیا اس میں بھی تمہیں تمہارے سائیں سردار کی اجازت درکار ہے"

ایمان کے دانت بیچنے پر ملازم نے اثبات میں سر ہلایا

"افففف… ٹھیک ہے دفع ہو جاؤ یہاں سے شکل گم کرو اپنی کسی کام کے نہیں تم… میرا گارڈ کہاں ہے؟؟ پیٹر… پیٹر…"

وہ غصے سے چلاتی ہوئی سارے ملازموں کو جمع کر گئی تھی 

"پیٹر چھٹی پر ہے"

زارون کی آواز پر وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگی جو سر اٹھائے ایک اسٹائل سے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا 

"تم…!!! تمہاری تو میں!!!"

وہ دانت بیچتے ہوئے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی یہ منظر تمام ملازمین دیکھ کر تقریباً حیران ہی تھے 

"ریلیکس مینو تمہیں کسی بھی طرح اس کو غلط ثابت کرنا ہے، اس لئے جوش سے نہیں ہوش سے کام لو"

ایمان نے اندر ہی اندر خود کو ریلیکس کیا اور ایک گہری سانس لی

"اب دیکھو میں کیا کرتی ہوں"

وہ بھاگتے ہوئے سیڑھیاں عبور کر کے اپنے کمرے کی جانب بھاگی وہ اس کے ارادے بھانپتا ہوا ملازم کو اشارے سے حکم دینے لگا جس پر ملازم نے فوری عمل کیا

وہ اپنا پرس لئے واپس نیچے کو آئی اور اسے کے برابر سے ایک شیطانی مسکراہٹ اچھالتے ہوئے باہر کی جانب گئی مگر یہ کیا دروازہ بند تھا

"یہ دروازہ کیوں بند ہے؟؟ واچ مین کہاں ہے؟؟"

وہ حیرانی و پریشانی کے ملے جلے تاثرات لئے تمام ملازمین کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی جن میں سے ایک ملازم نکل کر سامنے آیا 

"سائیں سردار کی اجازت کے بنای حویلی کا دروازہ کبھی نہیں کھلے گا"

ایمان کو لگا اس کا سر پھٹ جائے گا وہ تو پیدل مارچ کرنے نکلی تھی مگر یہاں تو زارون اس سے چار ہاتھ آگے نکلا تھا وہ بے یقینی سے واپس مڑتی ہوئی اندر آنے لگی جہاں وہ فاتحانہ انداز میں چلتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا یقیناً اس کا یہ انداز ایمان کے تن بدن میں آگ لگا گیا تھا 

★☆★☆★☆★

"پتا نہیں سمجھتا کیا ہے خود کو سردار ہوگا تو ہوگا بڑا آیا حکم صادر کرنے والا، ابھی جانتا نہیں مجھے کون ہوں میں، ایمان علی نام ہے میرا مجھ حکم چلائے گا؟؟ خواب میں بھی ایسا نہیں ہونے دوں گی میں"

وہ مسلسل بڑبڑائی جارہی تھی جب ملازمہ اندر آنے کی اجازت مانگنے لگی

"چھوٹی بی بی میں اندر آجاؤں؟؟"

"ہاں ہاں یہ بھی اپنے سائیں سردار سے ہی پوچھ لو کیا پتا ان صاحب کو تمہارا یہاں آنا اچھا نہ لگے ہونہہ عجیب کہیں کا"

ملازمہ سامنے کھڑے زارون کو دیکھتی ہوئی سر جھکا گئی زارون اس کے الفاظ سن چکا تھا وہ مسکرایا تھا 

"چھوٹی بی بی اماں سائیں نے آپ کو اپنے کمرے میں بلایا ہے"

ملازمہ باہر سے ہی کہنے لگی 

"کیوں بلایا ہے مجھے؟؟"

اس نے تنک کر پوچھا 

"یہ تو نہیں پتا بی بی جی مگر اماں سائیں کا حکم ہے کچھ ہی دیر میں ان کے کمرے میں آنا ہے"

ملازمہ کہتی ہوئی چلی گئی جبکہ زارون وہیں کھڑا ہوا تھا 

"ہاں ہاں یہاں تو سب ہی حکم چلاتے رہتے ہیں ایک میں ہی ہوں جو سب کا حکم مانے گی پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے مجھے سب نے"

وہ بک بک کرتی ہوئی جیسے ہی کمرے سے نکلی سامنے اسے کھڑا پا کر اس کی بولتی بند ہوگئی کر اسے تعجب سے دیکھ رہا تھا 

"ہوگیا؟؟ اب چلیں؟؟"

وہ نرمی سے کہتا ہوا آگے چل گیا جبکہ وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورتی ہوئی پیچھے پیچھے چل دی

"سلام اماں سائیں."

زارون نے ادب سے سلام کی اور ان کے پیروں میں جا بیٹھا 

"وعلیکم السلام میری جان…"

انہوں نے ایک نظر ایمان پر ڈالی جو خاموشی سے سامنے صوفے پر آ بیٹھی

"صدیق میاں کہاں ہے؟؟"

"میں آگیا اماں سائیں"

ان کے پوچھنے پر صدیق صاحب بھی سامنے آبیٹھے 

"اماں سائیں آپ نے یوں اچانک بلایا؟؟ سب خیریت تو ہے…"

زارون نے فکر مندی سے پوچھتے ہوئے ان کا ہاتھ تھاما 

"کیوں نہیں بلا سکتی بھلہ؟؟ اب تم سے ملنے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت ہوگی؟؟"

اماں سائیں کی بات پر زارون نے ان کے دونوں ہاتھوں پر بوسہ دیا

"کیسی باتیں کر رہی ہیں اماں سائیں آپ کا جب دل کرے ایک آواز لگائیں غلام آپ کی غلامی میں حاضر ہوجائے گا"

زارون کی بات پر انہوں نے پیار سے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا جس پر صدیق صاحب بھی مسکرائے جبکہ ایمان کو یہ سب نوٹنکی ڈرامے سے کم نہ لگ رہا تھا 

"اچھا اچھا بس میں نے تم لوگوں کو ایک ضروری بات کرنے کے لیے بلایا تھا…"

"جی اماں سائیں حکم کریں کیا بات ہے"

صدیق صاحب کی بات پر ایمان حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی 

"صدیق میاں پرانی حویلی کا سارا کام مکمل ہو چکا ہے؟؟ اگر باقی ہے تو جلد سے جلد کروا دو اصغر میاں بھی آتا ہی ہوگا آج یا کل میں پھر ہم رسمیں شروع کریں گے پتا بھی ہے کہ کتنا وقت لگتا ہے گھر کی سجاوٹ کام کاج اور شادی بیاہ کی تیاریوں میں"

اماں سائیں کی باتوں پر جہاں زارون کی نظریں جھکیں اور لبوں پر مسکراہٹ آئی وہیں ایمان کا دل دھڑکنے لگا وہ اپنے بابا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی 

"اماں سائیں آپ پریشان نہ ہوں آپ بس تاریخ پکی کریں ہم آپکے حکم کے منتظر ہیں سارے کام وقت پر مکمل ہوجائیں گے"

ایمان نے بے یقینی کی کیفیت میں برابر بیٹھے اپنے بابا کی جانب دیکھا جو مسکرا رہے تھے

"چلو اچھا ہے پھر شام میں بیٹھ کر تاریخ پکی کریں گے تب تک صدیق میاں پرانی حویلی کا ایک چکر لگا آؤ کچھ پتا تو چلے مزدوروں نے کام ڈھنگ سے کیا بھی یا نہیں"

اماں سائیں کی بات پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

"میاں سردار… یہاں بیٹھ کر مسکراتے رہوگے یا کچھ بولو گے بھی"

اماں سائیں کی بات پر وہ مسکراہٹ دبانے کی کوشش کرنے لگا مگر ناکام رہا 

"اماں سائیں میں کیا کہوں بھلہ جو آپ نے کہہ دیا سو طے ہوگیا"

"وہ تو ٹھیک ہے مگر سردار ہو تمہارے بھی کچھ اصول ہیں کچھ باتیں ہیں کچھ کہنا چاہتے ہو تو کہو… آخر دلہا بھی تو پھر دلہن کا جوڑا گھر کی تقریبات وغیرہ سب تمہیں ہی طے کرنا ہے نہ"

ابھی اماں سائیں نے آدھی ہی بات کی تھی جب وہ اٹھ کھڑی ہوئی 

"مجھے کوئی بتائے گا یہ کس بارے میں بات کی جارہی ہے؟؟"

جہاں سب مسکرا رہے تھے اچانک سے اس کے رویئے پر حیران ہوئے

"بابا کیا ہورہا ہے یہ سب؟؟"

"مینو بیٹھ جاؤ… اماں سائیں خود بتائیں گی تمہیں سب کچھ"

صدیق صاحب نے اسے زبردستی بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ اماں سائیں اسے سخت تاثرات لئے دیکھ رہی تھیں 

"کیا تم نہیں جانتیں کس بارے میں بات کی جارہی ہے؟؟"

اماں سائیں کے سخت لہجے پر اس نے نفی میں سر ہلایا جبکہ اماں سائیں صدیق صاحب کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں

"صدیق میاں… یہ کیا کہہ رہی ہے؟؟ کیا واقعی اسے کچھ نہیں پتا؟؟"

"اماں سائیں کل ہی تو آئی ہے موقع نہیں ملا بات کرنے کا، میں نے سوچا کیوں نہ آپ خود ہی بتادیں اسے سب کچھ"

صدیق صاحب شرمندہ سے ہوئے جس پر اماں سائیں نے اثبات میں سر ہلایا

"ایمان… تم اتنا تو جانتی ہوں گی تمہاری پیدائش پر تمہاری ماں اس دنیا سے کوچ کر گئی تھی اور ساتھ یہ وعدہ بھی لے گئی تھی کہ تمہاری تمام جائز خواہشات پوری کی جائیں جس کے لئے تمہارے باپ نے ہم سب کی مخالف کے باوجود تمہیں باہر پڑھنے بھیجنا چاہا"

اماں سائیں کا لہجہ سخت مگر دھیمہ تھا جبکہ امکان خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھی 

"تمہاری تمام خواہشات کو پورا کیا گیا مگر تمہارے باہر پڑھنے جانے پر میں نے سخت اختلاف کیا تھا تمہاری باپ نے تو تمہارے لئے بہت اچھے اسکول کا بھی انتظام کردیا تھا…مگر میں نے پھر بھی مخالف کی تھی مگر جانتی ہو تمہاری یہ خواہش بھی صرف زارون کی وجہ سے پوری ہوئی ہے"

زارون کے ذکر پر ایمان خاموشی سے اسے دیکھنے لگی 

"زارون نے ہمیشہ تمہاری تمام خواہشات کو پورا کیا تمہاری ہر بات مانی تمہاری ماں کسے کیا گیا وعدہ ہم نے پورا کیا مگر تمہاری ماں کے وعدہ دینے سے پہلے میں نے اس سے یہ وعدہ کیا تھا کہ تمہیں اپنے زارون کی دلہن بناؤں گی…"

اچانک سے وہ ہوش میں آئی اس کا در دھڑکا تھا وہ ڈر رہی تھی اندر ہی اندر اسے لگا تھا اس کے جسم میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہونے لگی ہو

"کیونکہ میں نہیں چاہتی بن ماں کی بیٹی ہم سے اس حویلی سے اور اپنے لوگوں سے دور جائے… اس لئے تمہاری بات بچپن ہی میں زارون سے کردی گئی تھی اس بات کا علم زارون کو ہمیشہ سے تھا مگر کیونکہ تم چھوٹی تھیں تبھی تمہیں ان سب باتوں کی سمجھ نہ تھی"

زارون کی نظریں ایمان پر مرکوز تھیں وہ اس کے چہرے کے اڑتے ہوئے رنگوں کو دیکھ چکا تھا 

"وہ الگ بات ہے چھوٹا تو زارون بھی تھا مگر اس نے ہمیشہ تمہیں اپنی امانت اپنی ذمہداری سمجھا ہے اور باخوبی اس ذمہ داری کو نبھایا بھی ہے تو اب وقت آ چکا ہے مزید تاخیر کرنے کے بجائے ہم تمہیں پوری طرح سے اس کی حفاظت میں سونپ دیں کیونکہ آخر ہو تو تم اس ہی کی امانت"

وہ بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کرنٹ کھا کر کھڑی ہوئی تھی

"یہ نہیں ہوسکتا … یہ ممکن نہیں ہے… ایسا کیسے ہوسکتا ہے…"

وہ حیرانی سے اپنے بابا کو دیکھ رہی تھی جو خاموش بیٹھے اسی کو دیکھے جارہے تھے

"بابا جان آپ کچھ بولتے کیوں نہیں ہیں آپ سب کیسے بنا مجھ سے پوچھے بنا میری مرضی جانے کسی سے بھی میری شادی کردیں گے؟؟"

وہ خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ آخر کیا کہہ گئی تھی وہ ہمیشہ اسے اپنی تلخ کلامی سے تکلیف دیا کرتی تھی اور آج بھی وہ بلکل نہ بدلی تھی 

"کیا مطلب ہے تمہارا؟؟ کسی سے بھی شادی؟؟ وہ کوئی کسی نہیں بلکہ تمہارا کزن ہے بچپن سے اس ہی کے نام پر تھی تمہاری زندگی"

اماں سائیں کو اس کا ایسا رؤیہ بہت ناگوار گزرا تھا

"ایسا نہیں ہوسکتا آپ ایسے کیسے زبردستی میری شادی کر سکتی ہیں"

"ایمان چپ ہوجاؤ…"

صدیق صاحب غصے سے کھڑے ہوئے اماں سائیں ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھیں

"کیوں چپ ہوجاؤں بابا؟؟ آپ کچھ بھی نہیں کہیں گے؟؟ آپ کی بیٹی کی زبردستی شادی کی جارہی ہے اور آپ مجھے چپ کروا رہے ہیں"

ایمان کی تیز آواز کمرے سے باہر جارہی تھی جہاں سب نوکر جمع ہوگئے تھے کمرے کے باہر کھڑیں وہ دونوں ماں بیٹیاں خوش ہورہی تھیں

"ایمان کوئی زبردستی تمہاری شادی نہیں کروا رہا ہم سب جانتے ہیں اور رضامند بھی ہیں آخر تمہیں کیوں اعتراض ہے؟؟ کیا یہ کافی نہیں تمہارا باپ راضی ہے؟؟"

صدیق صاحب کی بات پر وہ ایبرو کا زاویہ بنائے انہیں بے یقینی سے دیکھنے لگی

"نہیں یہ کافی نہیں ہے بابا جان…میں یہ شادی نہیں کروں گی میری مرضی کے بنا کوئی بھی میری شادی نہیں کر سکتا آپ بھی نہیں سمجھے آپ "

تھڑ………

ابھی آگے وہ کچھ کہتی جب صدیق صاحب اپنی عزت افزائی پر شرمسار ہوتے ہوئے ایک زور دار تماچہ اس کے گال کی زینت بنا گئے تھے 

"چاچا جان… یہ کیا کیا آپ نے؟؟"

وہ حیرت انگیز انداز سے کھڑا ہوا ان کے قریب آیا 

"سائیں سردار اس کی حمایت نہ کرو مجھے نہیں پتا تھا جس لڑکی کو لاڈ پیار سے پال کر اتنا بڑا کیا ہے وہ ایک دن اس طرح میرے سامنے کھڑی زبان درازی کرے گی"

جہاں ان کی آنکھیں غصے سے لال تھیں وہیں وہ کال پر ہاتھ رکھے نم آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی

"یہ پرورش دی تھی میں نے تمہیں؟؟ یوں سب کے سامنے اپنے باپ کی عزت مٹی میں ملاؤ گی اب تم ہاں؟؟ کیا اس دن کے لئے تمہاری تمام خواہشات پوری کی تھیں میں نے…"

وہ غصے سے بھڑک اٹھے تھے 

"آئی ہیٹ یو بابا "

وہ سرخ آنکھیں لئے کہتی ہوئی وہاں سے اپنے کمرے کی جانب چلی گئی تھی جبکہ باہر کھڑی زویا اور تہمینہ بیگم خوشی کے مارے ایک دوسرے کو دیکھی جارہی تھیں

"ایمان…"

"رکو میاں"

وہ ابھی اس کے پیچھے جاتے جب اماں سائیں کی بات پر رکے

"یاد رہے عورت ذات پر ہاتھ اٹھانا ایک مرد کی نشانی ہرگز نہیں ہے اپنے غصے کو قابو میں رکھو"

انہوں نے سختی سے کہا جبکہ زارون کو اب تک اس کی ناراضگی کی فکر کھائی جارہی تھی

"مگر اماں جان وہ ایسے کیسے کر سکتی ہے؟؟"

"سمبھل جائے گی ابھی بہت وقت پڑا ہے اسے راضی ہونا پڑے گا…تم پریشان نہ ہو اسے تھوڑا وقت دو نا سمجھ ہے جلدی سمجھ آجائے گی"

وہ نرمی سے کہتی ہوئیں انہیں واپس بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگیں جبکہ زارون پیشانی رگڑتا ہوا اس کے پیچھے گیا 

★☆★☆★☆★

"دروازہ کھولو ایمان…"

تقریباً دس منٹ تک وہ یوں ہی اس کے کمرے کے باہر کھڑا اس کے دروازہ کھولنے کا انتظار کر رہا تھا مگر وہ مسلسل اسے الٹا سیدھا کہی جارہی تھی لیکن زارون کو ضبط کرنا آتا تھا 

"سائیں سردار اماں سائیں کہہ رہی ہیں چھوٹی بی بی اور آپ کا کھانے پر سب انتظار کر رہے ہیں"

ملازمہ کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جبکہ مجبور آکر زارون نے ملازم سے چابی منگوا کر دروازہ کھولا 

وہ جو گٹھنوں میں منہ دیئے بیٹھی مسلسل روئی جارہی تھی کسی کے آنے کی آہٹ سے سر اٹھا کر دیکھنے لگی زارون تڑپا تھا اندر ہی اندر اس کا دل پریشان ہوا تھا اس کا سرخ چہرہ اس کی بھیگی آنکھیں دیکھ کر اسے بھی اتنی ہی تکلیف ہوئی تھی جتنی اس وقت ایمان کو ہورہی تھی

"کیوں آئے ہو تم یہاں؟؟ چلے جاؤ یہاں سے…"

ایمان نے غصے سے کہا مگر وہ بنا کچھ کہے اس کے پاس زمین پر آبیٹھا وہ سرخ آنکھیں لئے اسے گھور رہی تھی زارون نے اپنا ہاتھ قریب بڑھاتے ہوئے اس کے رخساروں پر رقص کرتے آنسوؤں کو صاف کیا جس پر اس نے اس کا ہاتھ جھٹکا 

"یہی چاہتے ہو نہ تم؟؟ کہ میں تمہاری قید میں تڑپتی رہوں؟؟ میں ایمان علی ہوں کوئی تمہاری غلام نہیں جو جب دل چاہا تم مجھ پر اپنا حکم سنا دو گے"

وہ چینختے ہوئے کہنے لگی جس پر اس نے آنکھیں میچ لیں 

"دیکھو ایمان یہ تو ایک دن ہونا ہی تھا… تم میری امانت ہو تمہیں ایک نہ ایک دن میرا ہونا ہی تھا اب جب کہ تم اپنی خواہش کے مطابق اتنے سالوں باہر مجھ سے دور رہ کر اپنی پڑھائی مکمل کر چکی ہو تو اب بھلہ اور تاخیر کیوں؟؟"

وہ نرمی سے کہتا ہوا اسے سمجھانے لگا

"تاخیر؟؟ کس نے کہا تاخیر کرو؟؟ انکار کرو کہہ دو اپنی اماں سائیں سے کے تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی"

اس نے بے دردی سے آنکھوں سے بہتے آنسوں صاف کئے

"مگر میں تو ایسا نہیں چاہتا میں نے اتنے سالوں تمہارا انتظار کیا ہے ایمان میں محبت کرتا ہوں تم سے…"

وہ اپنا حالِ دل بیان کرنے لگا 

"مگر میں تو نہیں کرتی تم سے محبت اور کبھی کروں گی بھی نہیں…"

وہ سرد لہجے میں کہتی ہوئی اسکی تکلیف کا باعث بن رہی تھی 

"مگر تم میری منگیتر ہو تم مانو نہ مانو مگر ہونا تمہیں میرا ہی ہے، تو کیوں نا تم خوشی خوشی ہی مان جاؤ"

وہ اس کے بکھرے بالوں کو اپنی انگلی سے کان کے پیچھے کرنے لگا ایک بار پھر سے ایمان نے اس کا ہاتھ جھٹکا تھا جس سے اس کا زخم تازہ ہونے لگا تھا 

"تمہیں کیا لگتا ہے میں سب بھول گئی؟؟ کچھ بھی نہیں بھولی میں آج بھی اپنی بات پر قائم ہوں مجھے نفرت ہے تم سے… نہیں کرنی مجھے تم سے شادی…"

اس نے سخت ناگواری سے سامنے بیٹھے شخص کو گھورا 

"کیا مجھ میں کوئی کمی ہے؟؟ یا پھر کوئی اور مجھ سے بہتر…"

وہ خود ہی آدھے الفاظ کہتا ہوا سر جھکا گیا تھا 

"ملا نہیں لیکن جو بھی ملے گا تم سے بہتر ہوگا، بہت بہتر"

وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے بھرم کو چھلنی کرنے لگی

"ٹھیک ہے میں وعدہ کرتا ہوں تم سے ایمان علی اگر ڈھونڈ سکتی ہو تو ڈھونڈ لو مگر شادی سے پہلے پہلے تک، اگر تم نے مجھ سے بہتر شخص ڈھونڈ لیا تو میں خود تمہارے نکاح میں گواہ کے طور پر شامل ہوؤں گا"

وہ سرد لہجے سے کہتے ہوئے اپنے زخمی وجود کے ساتھ غصے سے اٹھتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ پھر سے اپنی پوزیشن پر واپس آگئی تھی وہ اس بات سے انجان تھی جس طرح اس نے دونوں بار اس کا ہاتھ جھٹکا تھا اس کے زخم سے خون رسنے لگا تھا

★☆★☆★☆★

رات کا وقت تھا جب وہ اپنے کمرے سے نکلی تو پوری حویلی میں سناٹا تھا وہ بنا کچھ کہے سیڑھیوں سے اترنے لگی جب ایک ملازمہ اس کی جانب آئی

"چھوٹی بی بی کچھ چاہئے آپ کو؟؟ حکم کریں…"

اس نے سر جھکائے ادب سے کہا 

"گھر کے باقی لوگ کہاں ہیں؟؟"

"وہ چھوٹی بی بی اماں سائیں تو بڑے سائیں کے ساتھ پرانی حویلی گئی ہوئی ہیں"

ملازمہ کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"اور زارون؟؟"

اس کے منہ سے سائیں سردار کا نام اس طرح سن کر ملازمہ حیرت سے دیکھنے لگی جس پر اس نے سوالیہ نظروں سے اسے گھورا

"وہ سائیں سردار کا زخم پھر سے تازہ ہوگیا اس لئے وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہے ہیں…"

وہ حیران ہوئی تھی جب سے وہ آئی تھی بار بار کسی زخم کا ذکر کیا جارہا تھا مگر اس نے بلکل بھی دھیان نہیں دیا تھا

"سنو!!! کس زخم کی بات کر رہی ہو تم کیسا زخم؟؟"

"وہ چھوٹی بی بی جس دن آپ کا فون آیا تھا آپ پاکستان آرہی ہیں اماں سائیں کے لاکھ منع کرنے پر بھی سائیں سردار اس دن اپنے خاص بندوں کے ساتھ دشمن کے علاقے کے قریب شکار پر گئے ہوئے تھے جب گھر کے ملازم نے فون کر کے آپ کے آنے کی اطلاع دی اس وقت دشمنوں نے سائیں سردار پر چھپ کر گولی چلادی جو ان کے بازؤں میں لگ گئی"

ملازمہ کی بات پر وہ حیران ہوئی 

"اور پھر دوسرے ہی دن وہ اپنے تازے زخم کی پرواہ کئے بغیر آپ کے لینے چلے گئے اب آج نجانے کیسے اچانک سے ان کا زخم پھر سے تازہ ہوگیا اور اس میں سے خون نکلنے لگا تھا، بس ابھی مرہم پٹی کروا کر آرام کرنے گئے ہیں سردار"

ملازمہ کے تفصیل سے بتانے کے بعد اس نے اثبات میں سر ہلایا

"ٹھیک ہے تم جاؤ…"

اسے یاد آیا تھا اس نے بہت زور سے زارون کا ہاتھ جھٹکا تھا جس پر وہ ضبط کر گیا تھا وہ دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اپنے سامنے والے کمرے کی جانب بڑھی جو کہ زارون کا تھا اس نے بنا آواز کئے دروازہ کھول کر اندر جھانکنا چاہا 

وہ اس وقت سفید رنگ کی بنیان پینے بیٹھا تھا جس جبکہ اس کے ہاتھ پر بندھی پٹی اب بھی لال نظر آرہی تھی ہاتھ میں کسی کی تصویر لئے بیٹھا وہ اپنی الگ ہی دنیا میں تھا جب اچانک نظر سامنے گئی وہ جلدی سے کرنٹ کھا کر وہاں سے پیچھے ہوئی

"ایمان…اندر آجائیں…"

وہ نرمی سے کہتا ہوا اس کی چوری پکڑ گیا تھا مگر وہ بنا کچھ کہے وہاں سے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی وہ بامشکل ہمت کرتا ہوا اپنا کرتا پہن کر اپنے بستر سے اٹھا ایمان کی تصویر کو سائٹ ٹیبل پر رکھ کر وہ کمرے سے باہر آیا 

"سائیں سردار آپ کو کچھ چاہئے…؟؟ حکم کریں سائیں."

"نہیں مجھے کچھ نہیں چاہئے…کیا ایمان نے کھانا کھایا؟؟"

"نہیں سائیں وہ تو ابھی کچھ دیر پہلے آپ کا اور باقی سب کے پوچھ رہی تھیں "

ملازمہ کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"ٹھیک ہے تم کھانا ایمان کے کمرے میں پہنچا دو میں انتظار کر رہا ہوں"

وہ رعب دار انداز میں حکم دیتا ہوا ایمان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا 

★☆★☆★☆★

وہ بنا نوک کئے اس کے کمرے آیا جب وہ اپنے بستر پر بیٹھی ترچی نظروں سے اسے دیکھتی ہوئی منہ پھیر گئی تھی اس کے اس انداز پر زارون کے لبوں پر مسکراہٹ بکھرنے لگی تھی وہ آہستگی سے چلتا ہوا اس کے پاس آبیٹھا 

"اب تک ناراض ہو؟؟"

وہ انتہائی نرم لہجے سے مخاطب ہوا 

"میں بھلہ کیوں تم سے ناراض ہونے لگی؟؟"

اس نے تنک کر جواب دیا 

"پھر اب تک روٹھی ہوئی کیوں بیٹھی ہو؟؟ اب تک کھانا کیوں نہیں کھایا؟؟"

زارون نے دیکھا تھا اس کی آنکھیں رونے کی وجہ سے اب تک لال تھیں 

"میری مرضی…"

وہ اس کے نرم لہجے پر تلخ کلامی کرتے ہوئے اسے ایک بار پھر سے ہرٹ کر رہی تھی وہ خاموش ہوگیا تھا

"تم یہاں کیوں آئے ہو؟؟"

اسے اپنے پاس پرسکون انداز میں بیٹھے دیکھ کر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

"کیونکہ مجھے بہت بھوک لگی ہے"

"تو جا کر کھانا کھائیں یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟؟"

اس نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کو گھورا

"کیونکہ آج کا کھانا میں یہی کھانے والا ہوں"

"واٹ؟؟ میرے کمرے میں؟؟ مگر کیوں؟؟"

"کیونکہ میری مرضی…"

وہ بڑے آرام سے کہتا ہوا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاکر بیٹھ گیا جبکہ ملازمہ اجازت طلب کر کے اندر آئی اور کھانے کی ٹرے اس کے سامنے رکھ کر واپس مڑ گئی

"ہممم آج تو بہت مزے کی بریانی بنی ہے…۔"

اسے پتا تھا ایمان بھوک کے معاملے میں بہت سنجیدہ رہتی ہے اس سے زیادہ دیر بھوکا نہیں رہا جاتا تھا اس لئے وہ اکثر جلدی مان جایا کرتی تھی آج زارون نے خاص طور پر چکن بریانی بنوائی تھی جو بلکل ایمان کی پسند کے مطابق تھی

"واہ کیا ٹیسٹ ہے…"

اس نے پہلا لقمہ لیتے ہوئے کہا جس پر ایمان اسے گھورنے لگی وہ اس کے سامنے بیٹھا اس کی فیورٹ بریانی کھایا جارہا تھا مگر وہ بچاری اپنی ضد کے چکر میں بھوکی بیٹھی تھی 

"ویسے ماننا پڑے گا آپ کی ضد کو، بھلہ میں تو کبھی اپنی ضد کے چکر میں اتنی ٹیسٹی بریانی نہ چھوڑوں"

اس نے دوسرا لقمہ لیا جس پر ایمان کے منہ میں پانی آنے لگا 

"ویسے میں نے سنا تھا امریکا میں سب کچھ ہوتا ہے سوائے اتنی ٹیسٹی اور اسپائسی چکن بریانی کے،"

اب وہ تیسرا لقمہ لیا جو کہ اب ایمان کی برداشت سے باہر ہورہا تھا 

"ویسے یہ کھانا میں نے تمہارے لئے منگوایا تھا لیکن اگر تمہیں نہیں کھانا تو کوئی بات نہیں ویسے اگر تم کہو تو میں تھوڑی سی بچا دیتا ہوں کیونکہ ملازمہ بتا رہی تھی یہ آخری پلیٹ بچی ہے…"

وہ حیرانی سے اسے دیکھی جارہی تھی وہ کس طرح اس کے سامنے اس ہی کے لئے آیا ہوا کھانا خود ٹھوسا جارہا تھا ابھی وہ ایک اور لقمہ لیتا جب ایمان نے غصے سے اس کے ہاتھ سے چمچہ چھینا 

"تمہیں شرم نہیں آتی؟؟ یہ کھانا میرے لئے آیا ہوا ہے اور تم اسے بھی جن کی طرح ختم کئے جارہے ہو…انسان ہو بھی یا نہیں؟؟"

وہ غصے سے کہتی ہوئی اس کے سامنے سے پلیٹ اٹھا کر خود شروع ہوگئی جبکہ اس دوران زارون نے بامشکل اپنی ہنسی دبائی تھی 

"یہاں کسی کو میرا خیال ہی نہیں"

اس نے جلدی سے پہلی بائٹ لی اس کی بات پر زارون تعجب سے اسے دیکھ رہا تھا 

"صبح سے بھوکی ہوں مجال ہے جو کسی نے آکر کھانے کا پوچھا ہو"

اسے یہ بریانی واقعی ٹیسٹی لگ رہی تھی 

"مگر میں نے تو پوچھا تھا…"

زارون نے بڑی معصومیت سے کہا جس پر وہ اسے گھورنے لگی

"تم نے پوچھا؟؟ اوہ سچ میں؟؟ میرا آیا ہوا کھانا کب سے خود تمام کئے جارہے ہو آدھی پلیٹ بچا کر دی ہے، اس گھر میں صحیح سے کھانا بھی نہیں ملتا، پوری دیگ میں سے صرف ایک پلیٹ بچائی ہے وہ بھی آدھی کر کے دی ہے"

اس نے غصے سے کہا اور پھر سے بریانی سے انصاف کرنے لگی جس پر اس کا قہقہہ نکلا

"میں نے مذاق کیا تھا کھانا بہت رکھا ہوا ہے، تم ملازمہ کو کہہ کر منگوا لینا"

زارون کی بات پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی مگر جب اسے اپنی طرف متوجہ پایا تو رخ دوسری طرف کیے کھانے میں مصروف ہوگئی

"صدیق میاں میں سوچ رہی تھی پرانی حویلی کا وہ اوپر والا کمرہ سائیں سردار اور اس کی دلہن کو دے دیا جائے"

ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھے سب لوگ ان کی جانب متوجہ ہوئے 

"جیسا آپ کو ٹھیک لگے اماں سائیں"

صدیق صاحب نے سنجیدگی سے کہا اور ناشتے میں مصروف ہوگئے 

"اماں سائیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟؟ وہ کمرہ تو میں نے اپنے اصغر اور اس کی دلہن کے لئے پسند کیا تھا"

تہمینہ بیگم کے اچانک بولنے پر سب کا ہاتھ رکا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے جبکہ زویا ان کی بات سے متفق ہاں میں سر ہلانے لگی

"بلکل صحیح کہہ رہی ہیں آپ ممی، وہ کمرہ تو اصغر بھائی جان اور ان کی دلہن کا ہوگا…کیونکہ گھر کے بڑے بیٹے اصغر بھائی جان ہیں"

زویا کے بولنے پر اماں سائیں نے سخت تاثرات لئے اسے گھورا 

"کتنی بار کہا ہے بڑوں کے بیچ میں بولنے سے گریز کرو، کب سمجھو گی؟؟"

اماں سائیں کے سخت لہجے پر وہ چہرے کے عجیب و غریب زاوئیے بنائے اپنے ناشتے میں مگن ہوگئی

"بہو تمہیں کتنی مرتبہ کہا ہے اپنی من مرضی کی خواہشات کو پورا کرنے کے خواب دیکھنے کے بجائے اس پر عمل کیا کرو جو میرا حکم ہے"

اماں سائیں نے سخت ناگواری سے اپنے سامنے بیٹھی تہمینہ بیگم کو گھورا تھا جس پر وہ مچل کر رہ گئی تھیں

"استغفار اماں سائیں میری بھلہ کیا مجال جو آپ کا حکم نہ مانوں، میں تو بس بتا رہی تھی کہ…"

"کیا بتا رہی تھیں؟؟ کہ اصغر علی اس گھر کا بڑا اور زارون علی چھوٹا بیٹا ہے؟؟ مت بھولو سرداری چھوٹے سائیں کے پاس ہے"

"جج جی اماں سائیں"

وہ شرمندہ سی نظریں جھکا گئیں

"اور ویسے بھی اصغر میاں کو آجانے دو پھر اس کی مرضی جان کر اس کے لئے بھی کوئی لڑکی ڈھونڈ لینا اور جب کوئی روایتی لڑکی مل جائے تو تمہاری ان خواہشات کو مدنظر رکھ کر ہی آگے فیصلہ کیا جائے گا آخر ماں ہو تم اس کی بھلہ تم سے پوچھے بنا ہم اس کی شادی کا فیصلہ تھوڑی نہ کریں گے"

اماں سائیں کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"صدیق میاں تمہاری صاحبزادی کہاں ہے؟؟ کیا اب تک نہیں اٹھی؟؟"

اماں سائیں کی بات پر صدیق صاحب جن کا کل سے موڈ آف تھا ان کی جانب خاموشی سے دیکھنے لگے 

"اماں سائیں میں کل سے اس سے نہیں ملا"

"ارے بھلہ یہ کیا بات ہوئی؟؟ بھئی جو کچھ ہوا اب کیا ساری زندگی اس بات کو ہی دل سے لگائے رکھنا ہے؟؟ ارے کم عمر بچی ہے نئی ہی تو آئی ہے حویلی میں یہاں کے اصولوں کو سمجھنے میں اسے تھوڑا وقت تو لگے گا نہ"

اماں سائیں نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

"ویسے اماں سائیں اب ایسی بھی کونسی پڑھائی تھی جس کی وجہ سے ایمان گھر کے تمام اصول ہی بھوک بیٹھی"

تہمینہ بیگم اپنی عادت سے مجبور تنزیہ انداز میں کہنے لگیں جس پر صدیق صاحب کا دل دکھا تھا اماں سائیں نے پھر سے تہمینہ بیگم کو گھورا جس پر وہ جلدی سے اپنے ناشتے میں مصروف ہوگئیں

جبکہ زارون کو ان باتوں سے شدید نفرت تھی اگر کوئی ایمان کے خلاف ایک لفظ بھی کہتا تھا اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی مگر ایک سردار ہونے کی حیثیت سے وہ ہمیشہ ان باتوں کو ضبط کر جاتا تھا 

"زویا جاکر دیکھ آؤ وہ ابھی تک کیوں نہیں اٹھی؟؟ اللّٰہ جانے رات میں بھی اس نے کچھ کھایا تھا یا نہیں…"

اماں سائیں کو اس کی فکر ہورہی تھی انہوں نے سنجیدگی سے کہا تھا جس پر زارون ان کی طرف دیکھنے لگا

"اماں سائیں رات میں نے اسے کھانا کھلا دیا تھا"

زارون کی بات پر زویا جل بھن کر اسے دیکھنے لگی جبکہ زلیخا بیگم نے اثبات میں سر ہلایا

"چلو اچھا ہوا یہ تو کہ اس نے رات کھانا کھا لیا تھا"

انہیں یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ زارون آج بھی ایمان کے لئے ایسے ہی جزبات رکھتا ہے جیسے پہلے تھے 

★☆★☆★☆★

وہ جب نیند سے بیدار ہوئی تو اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہونے لگا اس نے اٹھنے کی بہت کوشش کی مگر اس کا وجود بخار میں تپ رہا تھا بامشکل اس نے سامنے گھڑی میں وقت دیکھا جہاں وقت بارہ سے اوپر ہوچکا تھا 

"اففف اللّٰہ آخر یہ کیا ہورہا ہے"

اسے لگا اس کا سر چکرا رہا ہو 

"بابا…"

اس نے تیز آواز لگائی مگر تب ہی اسے کل والا منظر یاد آیا اس کے جان سے پیارے بابا نے اپنی جان سے پیاری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا اچانک سے اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی 

"بابا آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟؟"

وہ بامشکل بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی اسے بہت افسوس تھا کل جو کچھ ہوا تھا اسے اتنا تو پتا تھا یہ سب ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا مگر اتنی جلدی ایسا ہوجائے گا اس نے اس بات کا تصور بھی نہ کیا تھا 

"آپ کتنے بدل گئے ہیں بابا، پہلے آپ مجھے منانے آجایا کرتے تھے مگر اب… اب آپ کی بیٹی بخار میں تڑپ رہی ہے اور آپ کو کوئی خبر تک نہیں…"

اس کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے تھے

مگر تب اسے کل والا منظر یاد آیا جب زارون اس کے پاس بیٹھا اسے کس طرح سے باتوں میں لگا کر کھانا کھلا گیا تھا وہ ہمیشہ سے ایسا ہی کرتا تھا ایمان کے لاکھ غصہ کرنے پر لاکھ بدتمیزی کرنے پر بھی وہ شخص اس کا بے انتہا خیال رکھتا تھا 

"افسوس بابا… وہ شخص جس کی موجودگی مجھے ایک پل نہیں برداشت وہ شخص آج بھی ویسا کا ویسا ہی ہے، مگر آپ… آپ بدل گئے بابا…"

وہ سر پکڑے سسکیوں سے رونے میں مصروف تھی اسے آج شدت سے اپنے اکیلے ہونے کا احساس ہورہا تھا 

"پانی…"

اسے لگا اس کا گلا سوکھنے لگا ہو کسی سہرا کی طرح وہ اپنی سائٹ ٹیبل پر پانی کا گلاس اٹھانے لگی اچانک سے اس کا سر چکرایا اور گلاس اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوگیا اب اس کی آنکھوں سے مزید آنسوں جاری ہونے لگے تھے

★☆★☆★☆★

"ویسے اماں سائیں اب اگر میں کچھ کہوں گی تو سب بولیں گے بولتی ہے، آپ کو پتا ہے صبح سے کوئی دس پندرہ بار ایمان کے کمرے کا دروازہ بجا چکی ہوں ایک تو میڈم اللّٰہ جانے کیوں دروازہ بند کر کے سوری ہیں اوپر سے سونا بھی ایسا کے ڈھول بجانے پر بھی نہ اٹھے، لیکن خیر میں جاتی ہوں دوبارہ"

زویا اپنی لمبی چٹیا کو ایک جھٹکے سے کمر کی طرف دھکیلتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں چلتی ہوئی ڈائننگ ہال سے باہر جانے لگی جب ملازمہ بھاگتی ہوئی ڈائننگ ہال میں آئی جو جلد بازی میں زویا سے ٹکرا گئی

"آااہ ممی میرا پاؤں"

"ہائے ہائے ہاجرہ دن بہ دن اندھی نہیں ہوتی جارہی تم ہاں؟؟ آنکھیں کھول کر چلا کرو ہائے میری چاند سی بیٹی سے ٹکرا گئی پتا بھی ہے نا کتنی نازک ہے میری بچی ہائے"

وہ جو گرتے گرتے بچی تھی اب ڈرامے بازیاں کرنے لگی جبکہ تہمینہ بیگم جو بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئیں تھی وہ اس ڈرامے بازی میں زویا کا پورا پورا ساتھ دینے لگیں

"وہ وہ معازرت بیگم صاحبہ مگر…"

"اے مگر وہ کیا؟؟ ہاں ابھی اگر وہ گر جاتی تو"

ملازمہ ہڑبڑاہٹ کے سبب کچھ بول ہی نہیں پارہی تھی جبکہ تہمینہ بیگم اب تک اس پر برس رہی تھیں 

"بہو بس کرو!!! اسے سانس تو لینے تو… ہاجرہ کیا ہوا؟؟ اتنی بوکھلائی ہوئی کیوں ہو؟؟"

اماں سائیں کی تیز آواز پر ان کی زبان کو بریک لگا 

"وہ اماں سائیں چھوٹی بی بی…"

"کیا ہوا چھوڑی بی بی کو؟؟"

ابھی وہ آدھے ہی الفاظ کہہ پائی تھی جب زارون کرسی پیچھے کئے فکرمندی سے کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا

"وہ سائیں سردار چھوٹی بی بی کے کمرے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی ہے…اور میں نے بہت دروازہ بجایا مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا"

ہاجرہ کی بات پر وہ اماں سائیں کی طرف دیکھنے لگا جو پہلے ہی پریشان نظر آرہی تھی 

"چھوٹے سائیں رکیں"

زارون نے ایک منٹ نہ لگایا وہ صدیق صاحب کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا اپنے مظبوط قدموں سے باقاعدہ دوڑتے ہوئے سیڑھیاں عبور کر کے ایمان کے کمرے کی جانب جا پہنچا 

"اللّٰہ خیر کرے نجانے اب یہ لڑکی کونسا نیا ھنگامہ برپا کرنے والی ہے"

صدیق صاحب اٹھ کر جانے لگے تھے

"کرنا کیا ہے صدیق بھائی صاحب یاد نہیں آپ کی صاحبزادی نے بچپن میں بھی بے وجہ رو رو کر پوری حویلی سر پر اٹھا لی تھی اور تب کہیں جا کر سائیں سردار نے اسے باہر پڑھنے جانے کی اجازت دی تھی نجانے اب کونسی نئی ضد کھڑی کرنے والی ہے آپ کی لاڈلی"

تہمینہ بیگم نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی صدیق صاحب کے دل کو دکھانے میں اماں سائیں شک کی نگاہ سے صدیق صاحب کو دیکھنے لگیں کیا واقعی وہ جو سوچ رہی تھیں وہ ہونے والا تھا 

★☆★☆★☆★

"ایمان…ایمان دروازہ کھولو ایمان…"

وہ پاگلوں کی طرح دروازہ پیٹ رہا تھا اسے ایمان کو کھونے کا بچپن ہی سے بہت ڈر تھا اسے ڈر تھا کہیں وہ اپنا سالوں کا پیار نہ کھو بیٹھے جس پیار کا اس نے بچپن سے انتظار کیا تھا اسے خود سے دور تصور کر کے اس کی روح تک کانپ اٹھی تھی

"ایمان…"

وہ جانتا تھا یقیناً کچھ ہوا تھا ورنہ اتنی خاموشی کبھی نہ ہوئی تھی اس نے ملازمہ سے چابی منگوا کر دروازہ کھولا مگر جب نظر سامنے پڑے وجود پر گئی تو اس کے وجود کو ایک زور دار جھٹکا لگا تھا وہ کسی بے جان شے کی مانند زمین پر بے ہوش پڑی تھی زارون کو لگا اس کا دل کسی نے مٹھی میں زور سے دبوچ لیا ہو

وہ سردار تھا ایک انتہائی سنجیدہ نرم دل مظبوط سردار، جو طوفان کے بجائے کئی طوفانوں کا سامنا کر چکا تھا وہ سردار جو کبھی کسی کے آگے نہ جھکا تھا جس نے ہمیشہ بہادری دلیری سے ہر مشکل کا سامنا کیا تھا

جس نے کبھی گٹھنے نہیں ٹیکے تھے جس کے دل میں سوائے اللّٰہ باریک تعالٰی کے اور کسی کا ڈر نہ تھا جس کی کوئی کمزوری نہ تھی مگر آج وہ کمزور پڑھتا دکھائی دے رہا تھا اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا وہ خود کو ہارتا ہوا محسوس کر رہا تھا 

"ایمان آنکھیں کھولو ایمان"

وہ اس کے گالوں کو تھپتھپائے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا زارون کو لگا اس کا دل بند ہونے کو ہے 

"ایمان…"

صدیق صاحب جو ابھی ابھی سیڑھیوں سے اوپر آئے تھے اپنی بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر تڑپ کر رہ گئے تھے

"مینو…"

وہ جلدی سے اس کے پاس آ بیٹھے 

"مینو آنکھیں کھولو میری جان"

وہ جو بامشکل ہلکی سی آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی اسے اس ہی شخص کا چہرہ نظر آیا تھا جس سے وہ بے انتہا بیر رکھتی تھی 

"بابا"

زارون کے جان میں جان آئی تھی جب اس نے اپنے سوکھے لبوں سے کچھ کہا تھا زارون اسے گود میں اٹھائے بیڈ پر لایا 

"ایمان تم ٹھیک تو ہو نہ میرا بچہ؟؟"

صدیق صاحب نے پیار سے اس کے رخسار کو چھوا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"بابا آپ اب بھی ناراض ہیں مجھ سے…"

وہ دھیمے لہجے میں کہنے لگی 

"نہیں میری جان میری شہزادی بابا تم سے بھلہ کبھی ناراض ہوئے ہیں"

انہوں نے اسے گلے سے لگایا جس پر اس نے اپنے ہاتھوں سے حصار بناتے ہوئے آنسوں بہانا شروع کئے 

"نہیں میری جان میری پرنسز ایسے نہیں روتے…"

وہ لوگ تو یہ بھول ہی بیٹھے تھے سامنے کھڑا شخص جس کی کچھ دیر پہلے جان نکلی جارہی تھی وہ ایمان کی نظروں کے انتظار میں تھا مگر وہ تو جیسے اسے بھول ہی بیٹھی تھی 

"مگر میں آپ سے ناراض ہوں بابا"

"کیوں میری جان… بابا کو معاف کردو"

صدیق صاحب نے اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھے جب اس نے چھوٹی سی سرخ ناک کو رگڑتے ہوئے کہا 

"بابا آپ میری بات مان لیں پلیززز"

"ایمان تمہیں تو بہت بخار ہے"

وہ ابھی مزید کچھ کہتی جب صدیق صاحب نے اس کی پیشانی کو گرم محسوس کرتے ہوئے زارون کی طرف دیکھ کر کہا

"چاچا جان پریشان نہ ہوئیں میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں"

"کوئی ضرورت نہیں احسان کرنے کی میرے بابا اور میرے درمیان جو کچھ ہوا اس کی اصل وجہ تم ہو"

وہ جیب سے موبائل نکال کر باہر جانے ہی لگا تھا جب وہ اس پر برس پڑی جس پر اس کے قدم رکے تھے

"ایمان ایسے نہیں کہتے سائیں سردار ہیں وہ…"

"اوہ پلیزز بابا میں نہیں مانتی کسی سردار کو میں بس اتنا جانتی ہوں آج میں جس حال میں بھی ہوں اس کی وجہ یہ سامنے کھڑا شخص ہے"

وہ غصے سے چینخی جارہی تھی جب زویا اور تہمینہ بیگم بھی وہاں پہنچے 

"ہائے ہائے لڑکی سائیں سردار کے سامنے کیسے پیش آرہی ہو؟؟ جانتی بھی ہو وہ سائیں سردار ہیں، نہ صرف اس حویلی گاؤں بلکہ اس پورے شہر کے سردار اور پھر اپنے ہونے والے شوہر سے بھلہ ایسے کون پیش آتا ہے؟؟"

تہمینہ بیگم ہمیشہ آگ پر تیلی کا کام سر انجام دیتی تھیں ان کی باتوں سے ایمان کو مزید تپ چڑھی تھی

"بکواس بند کریں اپنی… یہ شخص میرا شوہر نہیں بن سکتا سمجھیں آپ…"

"ہائے اللّٰہ یہ دن دیکھنا باقی رہ گیا تھا کہا بھی تھا صدیق بھائی صاحب کو کہ اس کو میرے حوالے کردیں ایسی تربیت کروں گی کہ زویا کی جڑواں لگے گی دیکھو کیسی زبان دراز نکلی ہے"

تہمینہ بیگم کو ایک اور موقع ملا تھا جسے بھی وہ ہاتھ سے گوانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھیں

"ایک یہ ہے میری زویا جس نے کبھی کوئی غلط بات نہیں کی سنسکاری ہے میری بچی اس نے تو کبھی سائیں سردار کے ساتھ تیز آواز میں بات بھی نہ کی اور ایک یہ ہے نواب زادی جو ہمارے سامنے ہی پوری حویلی میں شور مچا کر سائیں سردار سے تلخ کلامی کر رہی ہے آخر اسے اجازت کس نے دی ہے"

ایسے وقت میں بھی وہ مسلسل اسے برا اور اپنی بیٹی

 کو اچھا کہیں جارہی تھیں

"چچی جان بس کریں… آپ اپنے کمرے میں جائیں یہ میرا اور ایمان کا ذاتی معاملہ ہے بہتر ہوگا آپ سب اس میں مداخلت کرنے سے گریز کریں"

وہ سخت لہجے سے کہتا ہوا ان کی زبان بند کروا گیا تھا صدیق صاحب بھی اسے دیکھنے لگے کیونکہ وہ کبھی گھر کی عورتوں سے سخت لہجے سے پیش نہ آیا تھا 

"اور رہی بات اجازت کی تو یہ آپ سمیت پورا گاؤں جانتا ہے کہ چودھری زارون علی کسی کی تلخ کلامی، اونچی آواز اور کڑوا لہجہ برداشت کرتا ہے تو صرف ایمان علی ہے، ایک یہی تو ہے جو زارون علی کے سامنے اپنی من مرضی سے پیش آتی ہے…اسے اجازت ہے یہ جو چاہے کر سکتی ہے"

زارون کے یہ الفاظ سن کر ایمان تعجب سے اس کی طرف دیکھنے لگی تھی زارون نے اپنے الفاظ ایمان کی طرف دیکھ کر ادا کئے تھے جس پر زویا پیر پٹختی ہوئی اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے چلی گئی تھی

"چاچا جان آپ پریشان نہ ہوئیں اور جا کر اپنا ناشتہ مکمل کرلیں تب تک میں یہیں پر ہوں ڈاکٹر تھوڑی دیر میں آتا ہی ہوگا"

اس کی بات مانتے ہوئے انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلے گئے

جبکہ اس کے حکم کی تعمیل ہوتا دیکھ کر وہ غصے سے اسے گھورنے لگی وہ پر سکون انداز میں چلتا ہوا صوفے پر آ بیٹھا اور اپنی بڑھتی داڑھی کو سہلاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا جس پر ایمان نے مزید اسے گھورا بے ساختہ زارون کے لبوں پر مسکراہٹ آئی 

"اتنا نہ گھورو الریڈی اتنا تیز فیور ہے ایسا نہ ہو بی پی بھی ٹوپ پر چلا جائے…"

اس کے ایسے مسکرانے پر ایمان کو اس سے سخت چڑھ آنے لگی تھی وہ غصے سے بیڈ سے اٹھ کر اسے گھورتی ہوئی باتھ چلی گئی 

★☆★☆★☆★

"چھوٹے سائیں اب کیسی ہے ایمان کی طبیعت"

"جی اماں سائیں بہتر ہے اب میں نے ناشتہ اس کے کمرے میں بھجوا دیا تھا"

زارون کی بات پر زلیخا بیگم نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ پاس کھڑی زویا پھر سے غصے سے لال ہونے لگی 

"چلو اچھا کیا اسے تھوڑا وقت دینا چاہیے وقت آنے پر سمجھ بھی جائے گی اور مان بھی جائے گی ویسے بھی ہم نے سوچا ہے کچھ مہینے بعد تقریب رکھی جائے"

اماں سائیں کی بات پر صدیق صاحب نے اثبات میں سر ہلایا مگر زارون کو کہاں برداشت تھا کہ وہ مزید تاخیر کرے پہلے ہی وہ کتنے سال انتظار کر چکا تھا مگر اب اس نے سوچ لیا تھا اس ضدی لڑکی کو اب زارون کی ضد بننے سے وہ خود بھی نہیں روک پائے گی 

"اماں سائیں آپ کو نہیں لگتا مزید تاخیر کرنا مناسب نہیں؟؟ پہلے ہی مخالفین گھات لگائے بیٹھے ہیں ابھی ذرا خطرہ تھما ہے اس لئے ان کا کسی بھی طرح سے حملہ کرنا ممکن نہیں لیکن اگر تاخیر کردی گئی تو ممکن ہیں وہ لوگ پھر سے تیار ہو جائیں"

اس نے بات کو بہت اچھی طرح سے سنبھالتے ہوئے پیش کیا

"اماں سائیں یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ابھی انہوں نے حملہ کرلیا ہے جس کا ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، بہتر یہی ہوگا کہ جلد سے جلد شادی کردی جائے…"

زارون کی بات پر صدیق صاحب نے بھی اپنا ارادہ بتایا جس پر اماں سائیں نے اثبات میں سر ہلایا

"صدیق میاں وہ بیٹی ہے تمہاری تم اسے پیار سے سمجھاؤ اسے مناؤ، جانتے ہیں تھوڑی ضدی ہے مگر مان جائے گی…"

اماں سائیں کی بات پر زارون نے سکھ کا سانس لیا جبکہ تہمینہ بیگم زویا کے اشارہ کرنے پر پھر سے اپنا شیطانی دماغ چلانے لگیں

"ویسے میں سوچ رہی تھی اماں سائیں کیوں نہ ایمان سے آپ خود بات کریں… کیا پتا وہ مردوں کو نہ بتائے اپنی پریشانی آپ کو بتادے "

تہمینہ بیگم کی بات پر صدیق صاحب نے اپنا سر پکڑا 

"بھلہ ایسی کونسی پریشانی ہو سکتی ہے جو وہ اپنے بابا کے بجائے مجھے بتائے گی؟؟"

زلیخا بیگم نے سوچتے ہوئے کہا 

"دیکھیں اماں سائیں میں کروں گی بات صاف اور سیدھی، بھئی آج کل کا دور بڑا غلط چل رہا تھا ارے باہر جاکر پڑھنا مطلب پریشانیوں کو اپنے گلے لگانا… کیا پتا اس کے انکار کی کوئی اور وجہ ہو…"

"مثلاً؟؟"

اماں سائیں کو تجسس ہوا آخر وہ کیا کہنا چاہ رہی تھیں

"مثلاً یہ کہ آج کل لڑکا لڑکی پاکستان کی یونیورسٹی میں بھی ساتھ پڑھتے ہیں تو بھلہ وہ تو بہت آزادانہ ملک تھا کیا پتا ایمان کو بھی کوئی… میرا مطلب ہے کوئی پسند آگیا ہو… اب دیکھیں ایسی باتیں تو وہ مرد سے کرنے سے رہی نہ…"

ابھی تہمینہ بیگم آگے کچھ کہتیں جب اماں سائیں نے انہیں سخت ناگواری سے گھورا جبھی زارون بھی غصے سے کھڑا ہوا لیکن صدیق صاحب سر جھکا گئے تھے آخر اتنے الزامات وہ کیسے لگا لیتی تھیں

"ایک بات کان کھول کر سن لیں آپ چچی جان… آج کے بعد اگر آپ نے ایمان کے بارے میں کوئی بھی غلط بات کی یا اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی تو میں بھول جاؤں گا کہ آپ اس گھر کی فرد اور مجھ سے بڑی ہیں…"

آج پہلی بار اس کا صبر جواب دے گیا تھا جب تہمینہ بیگم اور زویا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھیں وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ صدیق صاحب ایک افسوس بھری نگاہ ان پر ڈالتے ہیں وہاں سے اپنے کمرے کی جانب چلے گئے 

"سوچ سمجھ کر بولا کرو تہمینہ بیگم…"

اماں سائیں کو بلکل بھی پسند نہیں آیا تھا ان کا ایمان کو ایسا کہنا البتہ وہ ظاہر نہیں کرتی تھیں مگر ایمان کے لئے ان کے دل میں بہت محبت تھی

★☆★☆★☆★

"بابا جان آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟؟ مطلب آپ اپنی بات پر اب بھی قائم ہیں؟؟"

صدیق صاحب کی بات پر اسے زور کا جھٹکا لگا تھا آخر وہ اب تک اسے رضامند ہونے کے لیے تیار کر رہے تھے مگر اسے ان سے ایسی امید نہ تھی

"ہاں میں اپنی بات پر آج بھی قائم ہوں… ایمان بیٹا تم کیوں نہیں سمجھ رہیں اپنے بابا کو دیکھو میں بھی تو تمہیں سمجھتا ہوں نہ… آخر مسئلہ کیا ہے؟؟"

صدیق صاحب کے دل میں اب واقعی ڈر بیٹھ گیا تھا جبھی وہ بہت خوفزدہ تھے کیونکہ انہیں زارون کے غصے کا پتا تھا اگر واقعی ایمان کو کوئی پسند ہے تو یا تو وہ اس شخص کو ختم کردے گا یا پھر ایمان کی خوشی کے خاطر خود کو ختم کرلے گا 

"بابا آپ بھی تو اس بار مجھے نہیں سمجھ رہے آپ جانتے ہیں مجھے ایسا ماحول نہیں پسند یہ گاؤں، سردار، یہ مسئلے، دشمنیاں، حملے یہ سب مجھے نہیں پسند… آپ جانتے ہیں میں ماڈرن زمانے کو زیادہ اہمیت میں رکھتی ہوں"

ایمان نے اپنے بالوں کو سنوارتے ہوئے کہا

"ایمان ایک بات سچ سچ بتاؤ…"

اس کی بات پر صدیق صاحب نے اپنے ماتھے کا پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا اس وقت ان کی آنکھوں میں عجیب سا ڈر تھا

"کیا تمہیں کوئی اور پسند ہے؟؟ یا ایسا کچھ…"

مزید آگے کچھ بھی کہنا ان کے لئے نہ ممکن سا تھا انہوں نے خوفگی سے اسے دیکھا جو بے یقینی سے انہیں دیکھ رہی تھی

"بابا جان آپ یہ کیسا سوال کر رہے ہیں؟؟"

اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا اس نے تو ایسا کبھی سوچا بھی نہ تھا ان کی دی ہوئی آزادی کا اس نے کبھی کوئی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا تھا 

"ایمان تمہیں میرے سر کی قسم سچ بتاؤ… اگر ایسی کوئی بھی بات ہے تو تم مجھے سچ سچ سب کچھ بتا دو ایسا نہ ہو مجھے بعد میں کسی اور کے منہ سے پتا چلے…"

صدیق صاحب نے اس کا ہاتھ اپنے سر پر رکھا جس پر وہ حیرانی سے انہیں دیکھنے لگی

"بابا آخر آپ کو ہو کیا گیا ہے؟؟ بھلہ مجھے کون پسند ہوگا؟؟ آپ جانتے بھی ہیں میں کسی ہوں پھر آپ نے ایسا سوال کیوں پوچھا مجھ سے؟؟ بھلہ مجھ سے ایسی کوئی غلطی ہو سکتی ہے کیا؟؟"

ایمان کی بات پر ان کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے تھے جس پر وہ پریشان سی ہوئی تھی

"بابا جان آپ رو رہے ہیں؟؟"

ایمان کی بات پر انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا 

"بیٹا تم جانتی ہو نہ تمہاری تربیت میں نے بہت احتیاط سے کی ہے میں نے پوری کوشش کی ہے کہ کوئی کمی نہ ہو، دیکھو بیٹا مجھے سب کے سامنے رسوا نہ کرنا تمہارے انکار کی بھلے جو بھی وجہ ہو لیکن بات کردار تک آ ہی جاتی ہے…"

ایمان نے اپنے ہاتھ سے ان کے آنسؤوں کو صاف کیا 

"بابا آپ کو کسی نے کچھ کہا ہے؟؟  یقیناً تائی جان نے کچھ الٹا سیدھا کہا ہوگا…"

"بیٹا جب تک تم زارون کے نکاح میں نہیں آجاتیں لوگ باتیں بناتے رہیں گے، لیکن اگر ایک بار تم اس کے نکاح میں آگئیں پھر دیکھنا تمہیں کوئی افف بھی نہیں کہے گا"

صدیق صاحب نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا جس پر اس نے چہرے کے عجیب و غریب زاوئیے بنائے 

"بیٹا میں سچ کہہ رہا ہوں یہ تو تم بھی جانتی ہو بچپن ہی سے وہ تمہیں ہر طرح سے سپورٹ کرتا ہے ہمیشہ تمہارا ساتھ دیتا ہے تمہاری ہمایت کرتا ہے اور تو اور تمہارے سامنے آج اس نے کس طرح ان دونوں ماں بیٹیوں کو چپ کروایا تھا… اور ابھی کچھ دیر پہلے بھی وہ تمہارے کردار پر اٹھتی انگلیوں کو نیچے کر چکا تھا اور آگے بھی اگر مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو ایک وہی ہے جس پر مجھے پورا بھروسہ ہے وہ تم پر اٹھتی تمام انگلیوں کو کاٹنے میں دیر نہیں کرے گا"

ان کی بات پر جہاں اس کا دل کردار کے الفاظ پر پریشان ہوا تھا وہیں پر کچھ پل کے لیے اس کا دل یہ بات تسلیم کرنے لگا تھا کہ واقعی زارون کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب سچ ہے مگر بیچ میں کہیں اس کی ضد اس کی انا اور غصہ پھر سے آنے لگا تھا

"بابا آپ مجھے کچھ وقت دیں… میں فلحال ان سب باتوں کو سمجھنے اور قبول کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہوں…"

اس بار اس نے کوئی تلخ کلامی نہ کی بلکہ وہی کہا جو اسے ٹھیک لگا تھا صدیق صاحب نے اثبات میں سر ہلایا

"تمہارے پاس دو ہفتے ہیں سوچنے کے لئے، دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں ایمان ہمیں شادی جلد سے جلد کرنی ہوگی ورنہ مسئلہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا"

صدیق صاحب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا 

"بابا کیسا مسئلہ؟؟"

"مخالفین… جو اصل مسئلہ ہیں، دیکھو ایمان جب تک تم یہاں تھیں ہم کھل کر نا تو جنگ کر سکے تھے نہ انہیں ان کی کی ہوئی حرکت کا جواب دے سکے تھے کیونکہ ہمیں تمہارا بہت ڈر تھا، مگر تمہارے جانے کے بعد زارون نے ان سے ہر ظلم کا بدلہ لیا تھا اور اس ہی وجہ سے آخری بار انہوں نے زارون پر چھپ کر وار کیا تھا جو زخم ابھی بھی اس کے بازؤں پر ہے…"

ان کی بات پر اسے کچھ کچھ سمجھ آنے لگا تھا 

"بیٹا دیکھو اب جب تم واپس حویلی آچکی ہو انہیں اس بات کی خبر مل چکی ہوگی اب وہ موقع کے انتظار میں ہوں گے تبھی تو حویلی سے تمہارا نکلنا منع ہے… اس لئے جلد سے جلد تمہاری شادی کردی جائے گی تاکہ شادی سے فارغ ہوکر ہم انہیں ایسا جواب دیں جو ان کی سات نسلیں تک یاد رکھیں "

ابھی وہ لوگ باتوں میں مصروف تھے جب ملازم نے اجازت چاہی

"آجاؤ"

"سائیں ڈرائیور آپ کا انتظار کر رہا ہے، اماں سائیں کا حکم تھا پرانی حویلی کا چکر لگا لیا جائے"

"ٹھیک ہے شفیق تم جاؤ میں ابھی آتا ہوں"

اشارہ ملتے ہی ملازم واپس چلا گیا تو وہ ایمان کی طرف متوجہ ہوئے

"امید ہے تمہیں ساری صورتحال سمجھ آ گئی ہوگی… اب تم مزید اپنے بابا کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرو گی"

وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے ہوئے وہاں سے چلے گئے جبکہ وہ جو کچھ مہینوں کا وقت چاہتی تھی صرف دو ہفتوں کا سن کر اس کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی

★☆★☆★☆★

شام کا وقت تھا گاؤں میں تیز ہوائیں رقص کرتی محسوس ہورہی تھیں آسمان پر بادلوں کا راج تھا وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا نیچے گارڈن میں ہاتھ پھیلائے گھومتی ہوئی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اسے اس وقت کسی پری سے کم نہ لگ رہی تھی

وہ جو بارش کی بوندوں سے لطف اندوز ہورہی تھی کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرتی ہوئی اطراف میں نظریں دوڑانے لگی اتنی بڑی حویلی میں بھلہ وہ کہاں کہاں تک اس نظر کو تلاش کرتی تمام جہگوں پر دیکھنے کے بعد جب اس کی نظر زارون کے کمرے کی کھڑکی پر گئی تو وہ جیسے وہیں کھڑی جم گئی

اسے مسلسل اپنی طرف متوجہ پا کر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے گھورنے لگی جس پر بے ساختہ زارون کے لبوں کو ایک خوبصورت مسکراہٹ نے چھوا تھا جس پر وہ مزید اسے گھورنے لگی وہ اس کی تھیکی نگاہوں سے دل ہی دل میں لطف اندوز ہوتا ہوا کھڑکی سے غائب ہوگیا 

"ہونہہ بے شرم کیسے گھور رہا تھا مجھے، مگر میں بھی ایمان علی ہوں بھلہ کوئی زیادہ دیر تک مجھ سے نگاہیں تھوڑی ملا سکتا ہے"

وہ دانت بیچتے ہوئے خود کلامی کرنے لگی جبکہ آخری والے الفاظوں پر خود کو سہراتی ہوئی ایک انداز سے بالوں کو سنوارنی لگی مگر تبھی اچانک سے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے وہ کرنٹ کھا کر پلٹی

وہ جو کچھ دیر پہلے جس بات کو لے کر خود پر عش عش کر اٹھی تھی اب اصل میں وہی بات اس کے چھوٹے سے پچھتاوے کی وجہ بن چکی تھی کیونکہ سامنے کھڑا شخص مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھا جارہا تھا 

"کک کیا ہے؟؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟؟"

ایمان کے لئے اب مزید اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھنا مشکل ہوتا جارہا تھا وہ نظریں چراتی کوئی بڑبڑائی

"پھر کیسے دیکھا جائے؟؟"

وہ شوقیہ انداز میں کہتا ہوا اسے پھر سے تپا رہا تھا 

"دیکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟؟"

اس نے بھی تنک کر جواب دیا جس پر ایک بار پھر اس کے لب مسکرائے 

"اچھا جی صحیح… تو پھر نہیں دیکھتے ہم آپ کو دشمنِ جان…ویسے بھی سنا ہے جن سے دل کا رشتہ ہوتا ہے وہ نظروں سے جان لینے کا ہنر رکھتے ہیں…"

ایمان کو اکثر لگتا تھا جیسے وہ شاعرانہ انداز میں گفتگو کرنے کا ہنر رکھتا ہوگا

"اتنا اچھا موسم ہے اتنا اچھا موڈ تھا سب خراب کردیا…"

اس کی بات کا کوئی بھی جواب دیئے بغیر وہ وہاں سے جانے لگی جبکہ مسلسل منہ میں بڑبڑائی جارہی تھی جو وہ سن چکا تھا 

"حویلی سے باہر جانا چاہتی ہو؟؟"

اس مرتبہ اس کے قدم رکے تھے کیونکہ بات جو اس کے مطلب کی تھی وہ جب سے یہاں آئی تھی ایک دن بھی یہاں سے باہر نہیں گئی تھی اب جب زارون کے منہ سے یہ الفاظ سنا تھا تو اندر ہی اندر بے حد خوش تھی 

"ہاں نہ پلیززز… میرا مطلب… ضرور…"

وہ خوشی سے چور لہجے میں کہے گئے الفاظ پر آخری میں تھوڑی شرمندہ بھی ہوئی تھی

"ٹھیک ہے تیار ہوجاؤ… پہلے تمہاری لائبریری جائیں گے پھر وہاں سے جہاں تم کہو…"

زارون کی بات پر وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی 

"جائیں گے مطلب؟؟ کیا تم بھی میرے ساتھ جاؤ گے؟؟"

وہ ایک نظر سرتا پیر زارون کو دیکھتی ہوئی آنکھیں گھمانے لگی کیونکہ وہ اس وقت وائٹ کلف کی شلوار کمیض میں ملبوس تھا جبکہ شال اس کے کاندھے پر ترتیب سے سیٹ ہوئی تھی کیونکہ ایمان کو ایسے کپڑے بلکل پسند نہیں تھے جو زارون سمجھ چکا تھا

"پندرہ منٹ ہیں آپ کے پاس… اگر جانا چاہتی ہو تو تیار ہوکر باہر آجانا میں ویٹ کروں گا…"

وہ مختصر سا کہتا ہوا پلٹ کر چلا گیا جبکہ وہ بے یقینی سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی آخر وہ کس طرح اس کے سوال کا جواب دیئے بغیر اپنی بات آگے رکھتا ہوا چلا گیا تھا 

"افففف اللّٰہ اب میں کس طرح جاؤں گی وہاں؟؟ بھلہ کوئی پرانی دوست نکل آئی تو اسے کیا جواب دوں گی؟؟ اس سے ملو یہ ہے میرا کزن زارون… بڑا سردار سائیں بنا پھرتا ہے پہننے کی تو تمیز تک نہیں جب دیکھو شلوار قمیض پہنے شال لٹکائے چہرے پر غصہ لئے کسی سلطنت کے سلطان کی طرح پوری حویلی میں گھومتا رہتا ہے …"

وہ اس کے جانے کے بعد مسلسل بڑبڑائی جارہی تھی مگر تب اسے یاد آیا اس کے پاس صرف پندرہ منٹ ہیں

"اففف پندرہ منٹ؟؟ صرف پندرہ منٹ؟؟"

وہ کسی چھوٹی سی بچی کی طرح بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی 

سب سے پہلے اس نے وارڈروب سے کپڑے سلیکٹ کئے پھر شاوور سے فارغ ہوکر وہ بالوں کو سکھا کر ہلکا سا میکپ کرنے لگی اس نے شوکنگ پنک کلر کی خوبصورت سی فراک پہنی تھی جس پر سنہرے دھاگے اور خوبصورت نگوں سے کام کیا ہوا تھا یہ ان ہی کپڑوں میں سے تھی جو زارون نے اس کے لئے اکھٹے منگوا لئے تھے 

ڈوپٹے کو ترتیب سے گلے میں لئے اونچی ہیل پہنے بالوں کو آزاد کئے ہوئے اور خوبصورت سی جیولری پہنے وہ اس وقت واقعی بہت حسین لگ رہی تھی میک اپ کو ایک آخری ٹچ دے کر اپنا موبائل لئے وہ کمرے سے باہر نکل گئی 

وہ باہر کی جانب کھڑی گاڑیوں میں سے زارون کی گاڑی تلاش کر رہی تھی مگر تب ہی اس کی نظر حویلی کے آخری حصے کی جانب گئی جہاں مختلف قسم کے خوبصورت پھول لگے ہوئے تھے وہیں کوئی شخص براؤن تھری پیس پہنے دوسری جانب رخ کئے کھڑا فون پر مصروف تھا 

"یہ کون ہے؟؟ یہ اس حویلی کا تو کہیں سے بھی نہیں لگ رہا"

وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو مزید بڑی کرتے ہوئے تجسس سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی تھی جب وہ پلٹا تھا 

جب وہ پلٹا تو سامنے کھڑی لڑکی کو خود کی جانب دیکھتے ہوئے پایا پہلے تو وہ اپنا سن گلاسز ہٹا کر اسے سرتا پیر دیکھنے لگا وہ کسی اپسرا سے کم نہ لگ رہی تھی اصغر کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی وہ قدم بڑھاتے ہوئے اس کی جانب آیا 

"کون ہو تم؟؟ یقیناً اس حویلی کی تو ہو نہیں سکتیں… کیونکہ ہمارے ایسے نصیب کہاں کہ گاؤں میں کوئی اتنی حسین پری اتر آئے…"

وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھنے پر مجبور کر گیا تھا ایمان اسے سرتا پیر دیکھنے لگی

حد سے زیادہ لمبا قد چوڑا سینا گہری کالی بڑھی ہوئی داڑھی چھوٹی آنکھیں گول شیپ کے ہونٹ جن پر عجیب قسم کی مسکراہٹ تھی ایمان کو وہ کسی جن سے کم نہ لگ رہا تھا 

"اگر دیکھ لیا ہو تو جواب دینا پسند کروگی لڑکی؟؟" اصغر کی بات پر وہ تھیکی نگاہوں سے اسے گھورنے لگی

"ہیلو مسٹر آپ ہیں کون؟؟ اور ادھر کیا کر رہے ہیں؟؟"

وہ دونوں ہاتھوں کو کمر پر تانے مسلسل اسے گھوری جارہی تھی جو سامنے کھڑا اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا 

"میں…!!! میں اس حویلی کا اور چودھری خاندان کا پہلا وارث… چودھری سردار اصغر علی… ویسے آپ چاہیں تو صرف اصغر بھی بلا سکتی ہیں"

اس کے چہرے پر ایک بار پھر سے عجیب سی مسکراہٹ آئی جس پر ایمان نے چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بنائے

"اوہ تو آپ ہیں اصغر علی… ایک سردار کم تھا یہاں؟؟ جو آپ بھی آگئے؟؟" ایمان کی بات پر اس کا قہقہہ نکلا

"میڈم اگر میرا انٹرویو کرلیا تو اب بتانا پسند کروگی ہو کون تم؟؟"

"مائے سیلف ایمان علی ڈاٹر آف چودھری صدیق علی اس گھر کی سب سے چھوٹی صاحبزادی…"

وہ بھی ایمان تھی اس نے تو پی ایچ ڈی کر رکھی تھی اسٹائل مارنے میں 

"آآاہ واہ سن کر خوشی ہوئی تم تو میری کزن نکلیں میں تو کوئی اور ہی سمجھ رہا تھا… بائے دا وے مجھے یقین نہیں آرہا تم وہی بچی ہو جو کچھ سالوں پہلے اتنی چھوٹی سی تھی اور آج کچھ سالوں بعد… اتنی زیادہ خوبصورت حور لگ رہی ہو…"

وہ اسے بغور دیکھتا ہوا تعجب سے کہنے لگا

ویسے تو ایمان کو اپنی تعریفیں سننا بہت پسند تھا لیکن اس کے ایسے انداز میں کی گئی تعریف اسے بلکل بھی پسند نہ آئی ایمان نے اسے گھوری سے نوازا اور واپس مڑنے لگی تب ہی تہمینہ بیگم سمیت سب باہر کو آئے جبکہ زلیخا بیگم ویل چیئر پر اندر ہی سے یہ منظر دیکھ رہی تھیں 

"ہائے میرا لختِ جگر میرا لال میرا بچہ اس حویلی کا بڑا بیٹا آگیا…"

وہ اس کے صدقے واری جانے لگیں جس پر ایمان انہیں عجیب طرح سے دیکھنے لگی تہمینہ بیگم کی بات پر وہ آگے بڑھ کر انہیں سلام کر کے ان سے گلے ملا جس پر وہ اس کی پیشانی سمیت گالوں کو بھی چومنے لگیں 

"چچا جان…اسلام و علیکم"

اصغر نے صدیق صاحب سے ہاتھ ملایا اور گلے لگ گیا جبکہ وہ بھی اسے واپسی آنے پر خوش آمدید کرنے لگے 

"بھیا…"

وہ بھاگتی ہوئی اپنی لمبی چٹیا کو ایک جھکٹے سے پیچھے دھکیل کر اپنے بھائی کے گلے آ لگی

"کیسی ہے بھیا کی جان؟؟"

"میں ٹھیک بھیا آپ کیسے ہیں؟؟ آپ کو پتا ہے ممی جی آپ کو کتنا یاد کرتی تھیں"

زویا کی بات پر وہ مسکرانے لگا 

مگر تب ہی نظر اندر کی جانب گئی جہاں زلیخا بیگم بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھیں 

"اماں سائیں…اسلام و علیکم…کیسی ہیں آپ؟؟"

وہ قدم آگے بڑھاتا ہوا ان کے قدموں تلے جا بیٹھا جس پر انہوں نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا 

"وعلیکم السلام خوش آمدید اصغر میاں… بڑی جلدی نہیں آگئے تم؟؟"

انہوں نے سنجیدگی سے کہا

"بس اماں سائیں مصروفیات کی وجہ سے ٹکٹ دیر سے کروائی تھی…" اس نے مسکراتے ہوئے وجہ بتائی

★☆★☆★☆★

سب لوگ حویلی کے بڑی بیٹھک میں موجود گپ شپ میں مصروف تھے جبکہ وہ کھڑی ٹوٹلی بور ہوچکی تھی تب ہی زارون وہاں آیا 

"کہاں تھے تم؟؟ مجھے تیار ہونے کا کہہ کر خود کدھر غائب ہوگئے تھے؟؟ پتا ہے نہ مجھے ویٹ کرنا بلکل بھی نہیں پسند"

وہ سخت لہجے میں کہتی ہوئی جہاں سب کی حیرانی کا سبب بنی تھی وہیں زارون اس کی چھوٹی سی ناک پر اتنا سارا غصہ دیکھ کر تھوڑا مسکرایا تھا 

"آئی ایم سوری ایک امپورٹینڈ کال تھی…"

"اب چلیں؟؟"

وہ باقاعدہ اسے گھورتے ہوئے وہاں سے باہر نکلنے لگی مگر جب پیچھے کھڑے شخص کو بجائے اس کے اندر کی جانب بڑھتے دیکھا تو پھر سے رکی

"ہممم زارون علی… کافی زیادہ بڑے سمجھ دار اور ہینڈسم ہوگئے ہو…"

اصغر اٹھ کر کھڑا ہوا جب زارون آگے بڑھ کر اس کے گلے لگا 

"کیسے ہو چھوٹے…" وہ چہرے پر مخصوص انداز کی مسکراہٹ لئے پوچھنے لگا

"ٹھیک الحمدللہ اور آپ…" زارون نے مسکراتے ہوئے کہا

"میں بلکل فٹ" وہ بھی مسکرا دیا 

وہ لوگ وہیں باتوں میں مصروف ہوگئے جبکہ باتوں باتوں میں زارون وہیں صوفے پر بیٹھ گیا جس پر بیٹھک سے باہر کھڑی ایمان اسے باقاعدہ غصے سے گھورنے لگی جب زارون کی نظر اس پر گئی وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا 

وہ جس کے سامنے کوئی آج تک اونچی آواز میں پیش نہیں آیا تھا وہ جس کے غصے سے لوگ کانپ جاتے تھے وہ جس نے کبھی ڈرنا نہیں سیکھا تھا وہ شخص جس کے حکم پر پورا شہر چلتا تھا وہ نکچڑی سی لڑکی اس پر حکم بھی چلاتی تھی اسے غصہ بھی دکھاتی تھی تلخ مزاجی بھی کرتی تھی اور گھورنے میں تو اس نے حد ہی پار کی ہوئی تھی 

"کہیں جارہے ہو؟؟"

اماں سائیں پہلے ہی اندازہ لگا چکی تھیں جبھی پوچھنے لگیں 

"جی اماں سائیں ایمان کو لائبریری سے کچھ کتابیں لینی ہیں…" زارون نے ایمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو اب دونوں ہاتھ لپیٹے اسے ہی دیکھ رہی تھی 

"اچھا جاؤ… دھیان سے جانا…"

اماں سائیں کی بات پر زارون نے اثبات میں سر ہلایا جبکہ جہاں صدیق صاحب اور اماں سائیں زارون اور ایمان کے ایک ساتھ جانے پر حیران مگر خوش ہوئے تھے وہیں زویا اور تہمینہ بیگم جل کر راکھ ہوگئی تھیں 

"اللّٰہ حافظ"

ابھی اس کے قدم بیٹھک سے باہر بڑھے ہی تھے جب تہمینہ بیگم کے اشارہ کرنے پر زویا جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی 

"سائیں سردار… کیا میں بھی ساتھ چلوں؟؟ مجھے بھی کچھ لینا ہے…"

زویا کی بات پر ایمان ایبرو کا زاویہ بنائے کبھی زارون تو کبھی سامنے کھڑی زویا کو دیکھنے لگی 

"کیا کرو گی تم جا کر؟؟ کتابیں پڑھنا تو تمہیں آتیں نہیں…"

ابھی زارون کچھ بولتا اس سے پہلے اماں سائیں بول پڑھیں 

"وہ اماں سائیں… میں کتابیں تھوڑی نہ لینے جارہی ہوں… مجھے تو بازار سے کچھ ضروری سامان لینا ہے…"

زویا نے جلدی سے بات بنائی جس پر اماں سائیں زارون کی جانب دیکھنے لگیں جبکہ زارون ایمان کو جو اس وقت شدید غصے سے کھڑی ان تمام لوگوں کو گھور رہی تھی

زارون کو یہ بات بہت پہلے ہی پتا چل گئی تھی جب وہ بہت چھوٹا تھا ایمان کے جانے کے بعد سے زویا زارون کے ساتھ زبردستی دوستی کرنے کی کوشش میں رہتی تھی جبکہ زارون کو زبردستی کرنے والوں سے بہت چڑھ رہی تھی جبھی وہ اسے بلکل پسند نہیں کرتا تھا 

پھر جب وہ اٹھارہ کا ہوا تب زویا کی یہ دوستی پسندیدگی کی نظر میں بدل گئی تھی تب سے نجانے کتنی بار زویا نے زارون سے اظہار کیا تھا مگر زارون اسے بہن کی نظر سے دیکھا کرتا تھا

لیکن ایک بار زویا نے حد ہی کردی تھی جب وہ اپنے کمرے میں سورہا تھا تب زویا جان بوجھ کر اس کے کمرے میں گھس آئی تھی جب زارون کو اپنے پیروں پر کسی کی ہتھیلی کا دباؤ محسوس ہوا تو وہ اٹھ بیٹھا تھا جب سامنے زویا کو دیکھا وہ بھی رات کے اس پہر تب اس نے اس ہی وقت اسے ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر نکالا اور دروازہ بند کردیا تھا

تب سے اب وہ اسے بہن بھی نہیں مانتا تھا وہ کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا تھا لیکن اس کی نظر میں وہ ایک بگڑی ہوئی لڑکی ہی تھی 

"کیا لینا ہے مجھے بتادو میں ڈرائیور کے ہاتھ بھجوا دوں گا"

زارون پہلی بار ایمان کے ساتھ کہیں باہر جارہا تھا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کے درمیان کوئی تیسرا موجود ہو جبکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ زویا جان بوجھ کر ان کے ساتھ چلنے کا کہہ رہی تھی 

"ڈرائیور کے ہاتھ کیوں؟؟ میں چلتی ہوں نہ ساتھ…"

وہ زبردستی اپنا دوپٹہ اوڑھے باہر کی طرف آنے لگی اس کی ڈھٹائی پر جہاں زارون نے ضبط کیا وہیں ایمان نے اس کا راستہ روکا

"کوئی ضرورت نہیں… میں اکیلی جاؤں گی… مجھے اپنے ساتھ کسی کی بھی موجودگی نہیں پسند…"

آج پہلی بار وہ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی جلن دیکھ رہا تھا دل ہی دل میں اسے خوشی کے ساتھ بہت سکون محسوس ہورہا تھا 

وہ الگ بات تھی کہ ایمان کو واقعی کسی کی موجودگی برداشت نہ تھی لیکن جب سے وہ یہاں آئی تھی زویا بار بار اس کے ہر کام میں ٹانگ اڑاتی تھی اور آج بھی تو یہی ہورہا تھا مگر آج ایمان کسی بھی طرح کا کمپرومائز کرنے کے موڈ میں نہیں تھی اس لئے بھڑک پڑھی

"اب تم چل رہے ہو یا میں جاؤں اپنے روم میں…؟؟"

ابھی اس کی پہلی والی بات پر سب شاکڈ تھے جب ایک اور بار وہ سختی سے کہنے لگی نجانے کیوں مگر زارون کو اس کا یہ غصہ بہت پیارا لگ رہا تھا 

"کھڑے رہو مجھے نہیں جانا"

وہ اسے اپنی طرف متوجہ وہیں کھڑا پا کر پیر پٹختی ہوئی وہاں سے باہر چلی گئی جبکہ زارون جو مسکراتا ہوا اماں سائیں سے اشارے سے اجازت مانگ کر اس کے پیچھے چلا گیا وہیں تہمینہ بیگم گھورتی ہوئی اسے جاتا دیکھ رہی تھیں اور زویا خالی منہ لئے وہیں کھڑی رہی

"ارے بھئی اب یوں ہی بیٹھے رہنا ہے یا پھر کھانے کی تیاری بھی کرنی ہے کچھ؟؟"

اماں سائیں کی بات پر تہمینہ بیگم جلدی سے اٹھتی ہوئیں کچن کی جانب جانے لگیں

"اماں سائیں رہنے دیں ابھی تو رات ہونے میں کافی وقت ہے اور میں لنچ کر چکا ہوں تو بھوک بھی نہیں لگ رہی، ایسا کرتے ہیں ساتھ مل کر چائے پی لیتے ہیں"

اصغر کی بات پر اماں سائیں نے اثبات میں سر ہلایا اور تہمینہ بیگم کو اشارے سے چائے کے انتظام کا کہا 

★☆★☆★☆★

وہ جب چلتا ہوا باہر کی جانب آیا تو وہ گارڈن کی سائیڈ رخ کئے کھڑی ہوئی تھی یقیناً وہ خفا تھی وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اس کی جانب بڑھا 

"ایمان…"

اس کے نرم لہجے پر وہ اسے دیکھے بنا دوسری جانب رخ موڑ گئی یقیناً وہ اب ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی 

"ایمان بات سنیں…"

زارون اس کے سامنے آکھڑا ہوا تبھی وہ دوبارا سے رخ موڑنے لگی تھی مگر تب ہی زارون نے اس کا بازوں پکڑے اس کا رخ اپنی جانب کیا 

"کیا بدتمیزی ہے؟؟ ہاتھ چھوڑو میرا…"

"نہ چھوڑوں تو؟؟"

وہ جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی وہ اس کے غصے کو مزید ہؤا دے رہا تھا 

"میں تمہارا منہ توڑ دوں گی"

وہ پھر سے ایک سردار کے سامنے کھڑی اسے دھمکی دے رہی تھی جس پر وہ مسکرایا

"اتنی ہمت ہے؟؟" اس نے تعجب سے پوچھا

"ہاں" ایمان نے بھی ایک انداز سے کہا جس پر وہ اش اش کر اٹھا

"توڑ دو پھر…!!"

وہ اپنا چہرہ اس کے قریب کئے اسے حیران کر گیا تھا جس پر وہ چہرے کے عجیب و غریب زاوئیے بنائے اسے گھورنے لگی 

"سمجھتے کیا ہو خود کو ہاں؟؟ بات مت کرو مجھ سے تم جاؤ اسے ہی لے کر جاؤ باہر…!!"

"تم جیلس ہورہی ہو؟؟"

اس کی تلخ کلامی پر زارون نرمی سے مخاطب ہوا تب اس نے ایبرو کا زاویہ بنایا

"اوہ ہیلو مسٹر؟؟ وہ کوئی سلیبریٹی لگی پڑی ہے جو میں اس سے جیلس ہوؤں گی؟؟"

 اس نے تنزیہ انداز میں کہا جس پر وہ حویت سے اسے دیکھنے لگا 

"خیر چلو ہمیں دیر ہورہی ہے"

وہ مختصر سا کہتا ہوا قدم بڑھانے لگا مگر وہ وہیں کھڑی رہی 

"ایمان؟؟"

زارون نے نوٹ کیا تھا وہ آج واقعی غصے میں لگ رہی تھی بالکل پہلے جسے غصے میں

"میں نے کہا نہ مجھے نہیں جانا"

وہ غصے سے غررائی تھی

"اچھا سنیں… میں سوری کہتا ہوں… معذرت خواہ ہوں دوبارہ ایسا کبھی نہیں ہوگا وعدہ!!!"

اس کے نرمی سے کہے گئے الفاظوں پر وہ اڈے ترچی نظروں سے دیکھتی ہوئی گاڑی کی فرنٹ سیڈ پر جا بیٹھی جبکہ وہ اس کے انداز پر بامشکل اپنی مسکراہٹ دبائے ڈرائیور سیٹ سنبھالتا ہوا گاڑی کی کیز گھما گیا

★☆★☆★☆★

"واللّٰہ ممی جی ایسا تو نہ کہیں اتنی اچھی تو ہے وہ"

تہمینہ بیگم جو کب سے اپنے کمرے میں بیٹھی اپنے بیٹے اور بیٹی کے سامنے ایمان کی برائیاں کر رہ تھیں اب اصغر کی بات پر اسے گھورنے لگیں

"کیا؟؟ کیا کہا اچھی؟؟ وہ جس کی تیر کی طرح لمبی زبان ہے وہ بد دماغ بگڑی ہوئی لڑکی تجھے اچھی لگ رہی ہے؟؟ رک ذرا دو چار دن انتظار کر اور دیکھ اس کا رؤیہ پھر پوچھوں گی میں تجھ سے…"

تہمینہ بیگم نے بھڑکتے ہوئے کہا 

"اففف ممی جی غصے کی تھوڑی تیز ہے لیکن ہے بڑی کڑک…"

ایک بار پھر اصغر اپنی بات پر سامنے بیٹھی اپنی ممی اور بہن کو غصہ دلا گیا تھا 

"بھیا جی بس کردیں آپ اس چڑیل کی زیادہ تعریفیں نہ کریں وہ جب سے یہاں آئی ہے میری گردن پر کسی تلوار کی طرح لٹکی ہوئی ہے نہ میں کچھ کہہ پارہی ہوں نہ کر پارہی ہوں"

زویا نے سخت لہجے میں کہا 

"اب تمہیں کیا ہوگیا؟؟ تمہیں بھی اس پیاری سی پری سے مسئلہ درپیش ہے؟؟"

اصغر اس کی طرف متوجہ ہوا 

"پری؟؟ ہاں ہاں بلکل وہ تو کوہِ قاف کی پری ہے نہ… ایک میں ہی تو ہوں جو کسی کو نظر نہیں آتی…"

زویا نے جلتے ہوئے کہا اور منہ بناگئی جبکہ اصغر قہقہہ لگاتا ہوا اس کے پاس آبیٹھا

"نہیں نہیں میری پیاری بہن تو پریوں کی بھی ملکہ ہے… سب سے خوبصورت لڑکی"

اصغر نے اسے پیار سے منایا جس پر وہ اسے ترچی نظروں سے دیکھنے لگی

"چھوڑ اسے بات سن میری… کچھ لایا بھی ہے ساتھ یا سارے پیسے خود پر اڑھا دیئے…؟؟"

تہمینہ بیگم کی بات پر وہ اپنا سوٹ کیس ان کی جانب بڑھانے لگا 

"ممی جی کیا ہوگیا آپ کو اتنی بڑی حویلی میں رہتے ہوئے بھی آپ پیسوں کا پوچھ رہی ہیں… یہ لیں آپ سب کے لیے گفٹ لایا ہوں شہر سے…"

اصغر نے سنجیدگی سے کہا جس پر تہمینہ بیگم منہ بنائے اسے دیکھنے لگیں مگر زویا خوشی سے سوٹ کیس کھول کر اپنے تحفے نکالنے لگی

"ہائے اللّٰہ یہ دیکھیں ممی جی کتنے مہنگے تحفے ہیں… یہ دیکھیں یہ سوٹ، یہ چپل اور میک اپ بھی لائے ہیں آپ، اور یہ۔۔۔ خوشبو والی بوتل۔۔۔ہائے۔۔۔"

وہ خوشی سے ایک ایک چیز نکال کر دیکھ رہی تھی جبکہ اس کی آخری والی بات پر اصغر مسکرایا 

"شاید ابھی تم نے یہ نہیں دیکھا ہوگا…"

اصغر کی بات پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جب اصغر نے آگے بڑھ کر تمام تحفوں کے نیچے چھپا ڈبا نکالا 

"یہ؟؟ یہ کیا ہے؟؟"

وہ اس ڈبے کو ہاتھ میں لئے کسی جاہلانہ انداز میں ہلا کر پوچھنے لگی

"خود ہی کھول کر دیکھ لو "

جیسے ہی اس نے پیکنگ کھولی اندر سے موبائل کا ڈبا نکلا

"ہائے…!!! یہ میرے لئے؟؟ ہائے ممی دیکھ رہی ہیں نہ آپ بھیا شہر سے میرے لئے موبائل لائے ہیں … اسے کھولتے کیسے ہیں بھیا… اس کا تو بٹن ہی نہیں"

"ادھر دکھاؤ ایسے نہیں کھولتے"

اصغر اسے موبائل آن کر کے دکھانے لگا جس پر وہ خوشی خوشی موبائل لئے کمرے سے باہر جانے لگی

"رک… اماں سائیں کے سامنے نہ گھومنا وہ ویسے ہی تجھ پر بڑی تنقیدیں کرتی ہیں"

تہمینہ بیگم نے سختی سے کہا جس پر وہ منہ بنائے اصغر کو دیکھنے لگی

"بھیا دیکھا آپ نے؟؟ آپ کے جانے کے بعد نہ ممی روز مجھ پر حکم چلاتی ہیں… یہ نہ کر وہ نہ کر ایسا نہیں ویسا نہیں… مطلب میں اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہیں سکتی"

زویا منہ بسورے کھڑی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی

"اففف اللّٰہ ممی جی کیوں کرتی ہیں آپ میری بہن کو اتنا تنگ اب میں آگیا ہوں نہ اب کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا میری بہن کو… جاؤ بہنا جو دل کرے ویسا کرو… تمہارا بھائی سب سنبھال لے گا"

اصغر نے بھرپور اسے سپورٹ کیا تھا جس پر تہمینہ مزید منہ بسورے بیٹھ گئیں جبکہ زویا باقاعدہ خوشی سے اچھلتے کودتے باہر کو بھاگ گئی

"اور بتائیں ممی کیا حال تھا میرے پیچھے حویلی کا؟؟ کیا کرتا پھر رہا تھا زارون میرے پیچھے؟؟"

اصغر نے موچھوں کو تاؤ دیئے جانچتی نظروں سے انہیں دیکھا 

"کیا کرتا پھر رہا تھا؟؟ یہ پوچھ کیا نہیں کرتا پھر رہا تھا… سارا گاؤں بچپن ہی سے اس کے اشاروں کا غلام رہا ہے اور اب تو مزید وہ سب کے دلوں میں گھر کر گیا ہر ایک کا بھروسہ جیت لیا ہے اس نے… اور تو اور اب تو دشمن بھی حملہ نہیں کرتے… بس ابھی کچھ دن پہلے ایک گولی ضرور ماری تھی مگر حال تیرے سامنے ہے"

تہمینہ بیگم نے اسے پوری صورتحال سے آگاہ کیا

"اچھا!!! اور اماں سائیں... ان کا کیا کہنا ہے آگے؟؟"

اس نے پھر سے سوال کیا

"کہنا کیا ہے؟؟ وہ اپنے لاڈلے پوتے کی شادی کرنے والی ہیں اس بدتمیز ایمان سے…"

ایمان کا نام سنتے ہی اس کے کان کھڑے ہوئے

"ایمان سے؟؟ مگر آپ نے تو کہا تھا وہ باہر سے پڑھ کر آنے والی لڑکی کبھی گاؤں کے لڑکے سے شادی نہیں کرے گی…"

اصغر نے انہیں ان کے الفاظ یاد دلائے

"ہاں ہاں کہا تھا شروع شروع میں تو اس لڑکی نے بہت رونا ڈالا ہوا تھا پوری حویلی سر پر اٹھائی ہوئی تھی مگر اب دیکھ کس طرح اسے اپنے پروں میں دبا کر باہر لے گئی…"

تہمینہ بیگم نے جلن سے چور لہجے میں کہا جس پر اصغر نے آنکھیں گھمائیں

"اور زویا؟؟ زویا کا کیا ہوا پھر؟؟ آپ تو اس کی شادی زارون سے کروانا چاہتی تھیں نہ؟؟"

اصغر کو یاد آیا 

"کوشش تو اب تک جاری ہے مگر اماں سائیں کوئی موقع نہیں چھوڑتیں ہر موقع برباد کر دیتی ہیں... سمجھ نہیں آتا کیا کروں اب…"

تہمینہ بیگم کی بات پوری ہوئی ہی تھی جب ملازمہ انہیں چائے پر بلانے آئی

"ٹھیک ہے جاؤ تم آتے ہیں ہم…"

تہمینہ بیگم کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلائے واپس مڑ گئی جبکہ اصغر گہری سوچوں میں گم تھا

"اصغر… آجا نیچے چائے پر سب انتظار کر رہے ہیں…"

"آتا ہوں ممی جی آپ چلیں."

وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے نیچے چلی گئیں جبکہ اصغر ایمان کے بارے میں سوچ رہا تھا

حویلی تین منزلوں پر مشتمل تھی نیچے والے حصے میں اماں سائیں، تہمینہ بیگم اور صدیق صاحب کے کمرے تھے اور ساتھ مہمانوں کے لئے بیٹھک بھی تھی اور دو تین کمرے اور بھی تھے جو قریبی مہمانوں کے لئے خالی تھے 

پہلی منزل پر چھ کمرے تھے جن میں سے دو کمرے بند تھے جبکہ چار کمروں میں سے ایک کمرہ ایمان اس کے برابر والا زارون اور باقی کے دو کمرے اصغر اور زویا کے تھے 

دوسری منزل پر آٹھ کمرے تھے جن میں سے تین سے چار کمرے تو اسٹور روم کی جگہ استعمال ہوتے تھے جبکہ باقی کے چار کمرے وہ زارون کے استعمال میں تھے

ایک کمرے میں اس کے والد اور والدہ کا سامان تھا جہاں وہ اکثر جایا کرتا تھا 

دوسرے کمرہ اسٹیڈی روم کی جگہ استعمال ہوا کرتا تھا جس میں مختلف بڑی بڑی کتابیں جمع تھیں حویلی اور گاؤں کے تمام مسائل وہ اس ہی کمرے میں بیٹھ کر حل کرنے کے منصوبے بنایا کرتا تھا 

تیسرا کمرہ جس میں ایمان اور زارون کی بچپن کی یادیں تھیں جہاں ان کے بچپن کے کھلونے، کپڑے اور بہت سی پرانی یادیں موجود تھیں جبکہ آخری کمرہ جس میں کیا تھا وہ زارون کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی وہ کمرہ زارون کے علاوہ کبھی کسی نے کھولا تھا 

★☆★☆★☆★

"لو آگئی آپ کی لائبریری…"

وہ جو موبائل پر مصروف تھی زارون کی بات پر اسکرین سے نظر ہٹائے باہر کی جانب دیکھنے لگی 

"اوکے میں ابھی آتی ہوں…"

وہ جیسے ہی کہہ کر اترنے لگی زارون کی آواز پر اس کے قدم رکے

"میں بھی ساتھ چلوں گا…"

وہ عجیب و غریب زاویئے بنائے گاڑی سے نکل کر جانے لگی جبکہ زارون بھی اس کے پیچھے پیچھے تھا 

لائبریری کے اندر بہت کم لوگ تھے عموماً صرف لڑکیاں ہی تھیں جن کی نظریں اب زارون پر مرکوز تھیں ایمان تمام روؤ چیک کرتی ہوئی ففتھ روؤ میں آ رکی جبکہ اس ہی دوران زارون بھی کچھ کتابیں دیکھ رہا تھا تب اس کی نظر ایمان پر گئی جو روؤں میں لگی ایک ایک کتاب چیک کر کے بار بار واپس رکھ رہی تھی 

اس کے چہرے کے زاویئے دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکا تھا کچھ ہے جو میڈم کے موڈ کے مطابق نہیں ہے وہ ہاتھ میں لی ہوئی کتاب رکھ کر اس کی جانب آیا جو پریشانی سے ایک ایک کتاب دیکھ رہی تھی

"کیا ہوا؟؟ کیا ڈھونڈ رہی ہو آپ؟؟"

اس نے سنجیدگی سے پوچھا جسے وہ نظر انداز کرتی ہوئی اپنے کام میں مصروف رہی 

"ایمان!! میں آپ سے بات کر رہا ہوں…"

اس نے ایمان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر سے اسے مخاطب کیا جس پر وہ کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورنے لگی 

"دکھائی نہیں دے رہا میں مصروف ہوں؟؟ تم سے بات کرنے کا وقت نہیں میرے پاس…"

وہ سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئی واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئی اس بات سے انجان کے اس کی آواز پر سب ان کی جانب دیکھنے لگے تھے 

"یہ کیا حرکت ہے؟؟"

اس بار زارون کو تھوڑا غصہ آیا تھا 

"چپ رہو…"

وہ پھر سے کہتی ہوئی اپنے کام میں مصروف ہوگئی جبکہ زارون کے لئے اب وہاں کھڑا رہنا مشکل ہو چکا تھا وہ بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا لائبریری سے باہر نکل آیا 

"کتنا ہینڈسم لڑکا تھا نہ یار…!!! کتنا اچھا لڑکا تھا"

اس کے جانے کے بعد کافی لڑکیاں آپس میں گوسپس کر رہی تھیں جو کہ ایمان سن چکی تھی 

"اچھا لڑکا!!! خاک اچھا اتنا ہی اچھا لگ رہا ہے تو یہاں لائبریری میں کیا کر رہی رہیں جاکے شادی کرلیں نہ اس سے میری بھی جان چھٹے گی…"

وہ بڑبڑاتے ہوئے واپس اپنے کام میں مصروف ہوگئی 

وہ اسٹیرنگ پر ہاتھ مارتا ہوا اپنا غصہ ضبط کرنے کی کوشش کرنے لگا آخر وہ اس کا ہونے والا مجازی خدا تھا وہ کس طرح سے ہمیشہ گھر میں سب کے سامنے اور اب باہر بھی سب کی موجودگی میں اس طرح سے پیش آرہی تھی یہ اب اس کے لئے ایک ناقابلِ برداشت حرکت تھی

کچھ دیر وہ یوں ہی بیٹھا اس کا انتظار کرتا رہا پھر وہ اسے باہر آتی دکھائی دی جس پر زارون نے اس پر سے نظر ہٹا کر گاڑی اسٹارٹ کی وہ بنا کچھ کہے بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی 

زارون نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اس کے ہاتھ میں کوئی کتاب نہ تھی جبکہ چہرے پر بکھری مایوسی وجہ پوچھنے پر اکسا رہی تھی مگر وہ بنا کچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کر گیا 

ابھی کچھ ہی منٹ کا فاصلہ طے پایا تھا جب زارون کو اس کی سسکیوں کی آوازیں آنے لگیں وہ بوکھلاتا ہوا اسٹیرنگ پر ہاتھ جمائے اس کی جانب دیکھنے لگا جو اپنی سرخ ناک کو مزید رگڑتے ہوئے تسوے بہا رہی تھی 

"ایمان؟؟ کیا ہوا ؟؟"

وہ پریشان ہونے لگا تھا اس نے جلدی سے گاڑی فٹ پاتھ پر لگائی اور اس کی جانب متوجہ ہوا جو مسلسل سسکیوں پر تھی وہ زارون کا دل دھڑکا رہی تھی

"ایمان بتائیں مجھے کیا ہوا ہے؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟؟"

وہ اب مزید پریشانی میں مبتلا ہونے لگا تھا زارون کو اس کے آنسوں تکلیف دے رہے تھے

"میری فیورٹ اسٹوری بک سورٹ آؤٹ ہوچکی ہے…"

زارون کے بہت پوچھنے پر اس نے کچھ کہا تھا باریک سی آواز میں چند الفاظ ادا کئے تھے جسے سن کر وہ بے حد حیران ہوا تھا 

"کیا؟؟ تو کیا آپ کے رونے کی وجہ یہ ہے؟؟"

وہ حیران کن انداز میں کہنے لگا جس پر وہ اپنی چھوٹی سی سرخ ناک کو مزید رگڑنے لگی

"مسئلہ یہ نہیں کہ سورٹ آؤٹ ہوگئی مسئلہ یہ ہے کہ وہ ساری کی ساری ہی سورٹ آؤٹ ہوگئی ہیں"

اس نے دبی آواز میں کہا

"تو کیا ہوا؟؟ شہر میں نہ تو یہ کوئی آخری لائبریری تھی نہ ہی وہ آخری کتاب تھی…ہم کسی اور لائبریری پر جاکر چیک کرتے ہیں…"

زارون نے اس کی پریشانی کا حل نکالتے ہوئے اسے تسلی دی اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا

"نہیں زارون…"

ابھی وہ کیز گھماتا مگر ایمان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے روکنا چاہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگا تو اچانک سے ایمان نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچا

"میرا مطلب ہے کہ… وہ جس رائٹر کی تھی وہ رائٹر نے صرف تین دن کے لئے سیل لگائی تھی اور کیونکہ ون پر ون فری تھی تو ساری کی ساری بکس سورٹ آؤٹ ہوگئی ہیں مجھے نہیں لگتا اب کہیں اور ملے گی… اب وہ بک دوبارا تب ہی آئے گی جب اس رائٹر کو اچھے سے فیڈ بیک ملیں گے…"

ایمان کی بات پر زارون کچھ سوچنے لگا پھر اس نے اپنی جیب سے موبائل نکال کر کسی کو کال ملائی 

"وعلیکم السلام میں ٹھیک الحمدللہ… میں ایک کتاب کا نام اس کے مصنف کے نام کے ساتھ تمہیں بھیج رہا ہوں شہر کی تمام لائبریریز تمام یونیورسٹیز پر چیک کرو، ضرورت پڑھنے پر پورے ملک میں تلاش کرنا اور کچھ ہی دیر میں مجھے انفارم کرو…مجھے وہ کتاب چاہیے آج… ابھی…"

وہ اپنی بات ایک الگ ہی انداز میں مکمل کرتا ہوا کال ڈسکنیکٹ کر گیا جب ایمان اس کی جانب بڑی حیرت سے دیکھنے لگی زارون اس کی جانب متوجہ ہوا جس پر وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی

"کتاب اور اس کے رائٹر کا نام اس نمبر پر سینڈ کردیں… کچھ ہی دیر میں وہ کتاب آپ کو مل جائے گی"

زارون نرمی سے کہتا ہوا جیسے ہی اس کی جانب ہاتھ بڑھا کر آنسوؤں کو پوچنے لگا وہ یک دم دور ہوئی جس پر زارون نے ایک گہری سانس لی اور اپنا ہاتھ واپس پیچھے کھینچا

وہ اسے بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی زارون نے ڈش بورڈ پر رکھے ٹشو باکس میں سے ایک ٹشو نکال کر اس کی جانب بڑھایا جسے وہ تھام کر اپنے آنسوں صاف کرنے لگی تب ہی اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی 

ایمان نے زارون کا موبائل ڈش بورڈ سے اٹھایا اور لکھے گئے نمبر پر کتاب اور رائٹر کا نام لکھ کر سینڈ کرنے لگی کچھ ہی دیر بعد زارون کا موبائل رنگ ہونے لگا جب زارون نے کال ریسیو کر کے کان پر لگایا 

"مطلب ملنا مشکل ہے؟؟"

زارون کی بات پر وہ اسے پھر سے دیکھنے لگی اس کی جان نکلی جارہی تھی اسے وہ کتاب ہر حال میں چاہئے تھی

"اوکے رائٹر کی انفارمیشن نکالو اور ڈائریکٹ اس سے جاکے وصول کرو، یہ کام آج ہی ہوجانا چاہئے شام تک کا وقت ہے تمہارے پاس"

وہ حیران کن انداز میں ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگی آخر ایک کتاب کے پیچھے وہ اس کے رائٹر تک پہنچ گیا تھا… زارون نے ایک نظر برابر بیٹھی ایمان کو دیکھا جو اس کی جانب متوجہ تھی اب جلدی سے رخ موڑ گئی 

"آپ کی وہ کتاب شام تک گھر آ جائے گی… آپ نے کچھ اور لینا ہے تو بتادیں…"

زارون سنجیدگی سے کہتا ہوا اس کے جواب کا منتظر تھا

"کچھ بھی نہیں لینا…"

وہ سادے سے انداز میں کہتی ہوئی سیٹ سے ٹیک لگا گئی جب اس کی نظر سامنے کی جانب گئی جہاں آئس کریم پالر بنا ہوا تھا 

"آئس کریم کھانی ہے؟؟"

زارون کی بات ہو اس کی نظریں وہاں سے ہٹیں اور نفی میں سر ہلانے لگی جبکہ موسم اتنا خوشگوار تھا کہ شام کا ہلکا سا اندھیرا چھانے لگا تھا ٹھنڈی ہوائیں رقص کرتی محسوس ہورہی تھیں زارون اس کی خواہش بھانپنے ہوئے آئیس کریم پالر کی جانب جا رکا

"میں نے کہا تھا نہ مجھے نہیں کھانی…"

وہ تیور چڑھائے مخاطب ہوئی

"مگر مجھے تو کھانی ہے… کیونکہ اس موسم میں سادی سی لانگ ڈرائیو میں کوئی خاص مزہ نہیں آئے گا…"

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا گاڑی سے نکل کر آئس کریم پالر کے اندر چلا گیا بنا اس سے کچھ پوچھے 

"ہونہہ اکیلے ہی چلا گیا… بندا اخلاقاً ہی پوچھ لیتا ہے…" وہ ہاتھ لپیٹے منہ میں ہی بڑبڑانے لگی جب رنگ کی آواز پر اس کی نظر زارون کے موبائل پر گئی جو اب تک ڈش بورڈ پر رکھا ہوا تھا شاید کسی کی کال تھی 

"یہ کون ہے؟؟ پروفیسر؟؟"

اسکرین پر چمکتا ہوا نام پڑھ کر وہ موبائل فون ہاتھ میں لئے دیکھنے لگی 

"ہونہہ میں بھی پاگل ہوں یقیناً کوئی لڑکی ہوگی، اور ان صاحب نے اپنی عزتِ نفس بچانے اور اپنا گھمنڈ قائم رکھنے کے لیے کسی پروفیسر کے نام سے سیف کرلیا ہوگیا…"

وہ پھر سے بڑبڑانے لگی جب کال بند ہوگئی مگر تب ہی اس کی نظر موبائل اسکرین کے وال پیپر پر گئی جہاں زارون اور ایمان کی بچپن کی پکچر لگی ہوئی تھی اور بیچ میں چھوٹا سا ریڈ ہارٹ بنا ہوا تھا

وہ ساکت سی بیٹھی اسکرین پر ہی دیکھتی جارہی تھی جب اس کی نظر باہر نکلتے ہوئے زارون پر گئی وہ جلدی سے موبائل کو واپس ڈش بورڈ پر رکھ کر سیدھی ہوکر بیٹھ گئی

وہ ہاتھ میں آئس کریم کپ لئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے بیٹھ گیا اس کے ہاتھ میں آئس کریم کے دو کپ تھے وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

"لگتا ہے گھر پر کھانا نہیں ملا جبھی ایک ساتھ دو دو کپ ختم کرنے والا ہے"

وہ منہ میں منمنائی جبکہ برابر بیٹھا زارون اس کی بات بآسانی سن چکا تھا 

"آپ جانتی ہیں میں چوکلیٹ فلیور نہیں کھاتا یہ والی آپ کے لئے ہے میں اسٹابری والی کھاؤں گا…"

زارون نے ایک کپ اس کی جانب بڑھایا کیونکہ اب وہ اس کو مجبور کر چکا تھا اس لئے منع کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ایمان نے فٹ سے اس کے ہاتھ سے کپ چھینا اور کھانے میں مصروف ہوگئی جبکہ وہ مسکراتا ہوا گاڑی اسٹارٹ کئے دور ایک سنسان راستے پر نکل گیا 

آئس کریم کے کپ پر سے نظر ہٹی تو وہ گاڑی سے باہر دیکھنے لگی یہ وہی راستہ تھا جہاں زارون اکثر ایمان کو لایا کرتا تھا کیونکہ وہ ڈرائیور کے ساتھ اکثر اسے اسکول سے پک کرنے یا پھر اسے کچھ دلانے جاتا تھا تو اس کے حکم پر ڈرائیور انہیں کچھ دیر اس ہی راستے گھمایا کرتا تھا 

"کچھ یاد آیا؟؟ ہم اکثر ساتھ میں اس راستے پر آیا کرتے تھے… بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ہمارے درمیان ایک ڈرائیور ہوا کرتا تھا مگر اب کوئی بھی نہیں…"

زارون نے دھیمے مگر چاہت سے چور لہجے میں کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی کیونکہ زارون نے گاڑی کی اسپیڈ سلو کردی تھی اور وہ پوری طرح سے اس کی جانب متوجہ تھا تو ایمان نے بات گھمانا چاہی

"جی نہیں ایک اور فرق ہے پہلے میرے پاس چوکلیٹس، کینڈیز، اور بھی بہت سی چیزیں ہوا کرتی تھیں مگر اب صرف آئس کریم ہے…"

ایمان نے بچوں کی طرح منہ بناتے ہوئے کہا جس پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا 

"کہو تو ابھی دلا دوں؟؟ کینڈیز چوکلیٹس وغیرہ…"

زارون نے نرمی سے کہا جس پر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کئے گھورنے لگی 

"پہلے اپنی آئس کریم تو ختم کرلو پھر دلانا مجھے چوکلیٹ کینڈیز…"

ایمان نے باقاعدہ اسے چڑاتے ہوئے کہا 

"کیسے ختم کروں؟؟ ایک ہاتھ سے ڈرائیو کر رہا ہوں دوسرے ہاتھ میں کپ ہے…"

زارون نے اپنی پریشانی بتائی جس پر وہ اسے دیکھنے لگی واقعی وہ کیسے آئس کریم کھاتا

"تو اب کیا کریں؟؟"

"گاڑی چلانا بھی ضروری ہے… سوچنا پڑے گا…"

وہ ذومعنی الفاظ کہتا ہوا اسے چھوٹی سی پریشانی میں مبتلا کر رہا تھا وہ اس کے ارادے بھانپتی ہوئی کچھ نیا سوچنے لگی 

"گاڑی روکو…"

"کیوں؟؟"

اس کی بات پر وہ حیران ہوا 

"گاڑی میں ڈرائیو کر لیتی ہوں تم اپنی آئس کریم ختم کرو…"

ایمان کے کہنے کی دیر تھی زارون کے دماغ میں آیا ہوا آئیڈیا بچارا وہیں کا وہیں رہ گیا وہ بنا کچھ کہے گاڑی کو اس سنسان سڑک کے کنارے روک کر باہر نکلا جبکہ ساتھ ایمان بھی گاڑی سے باہر آئی اور چابی کے لیے ہاتھ بڑھایا 

"موسم اچھا ہے…میرے خیال سے پہلے ہمیں اپنی آئس کریم ختم کر لینی چاہیے"

زارون نے بچارگی والے انداز سے کہا اور گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا ہوگیا جبکہ اس کے چہرے پر بکھرے بیچارگی والے تاثرات پر بامشکل ایمان نے اپنی ہنسی دبائی

زارون نے ایک نظر پہلے اسے پھر اس کی آئس کریم کو دیکھا جس پر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کئے گھورنے لگی 

"تم میری آئس کریم کو کیوں دیکھ رہے ہو؟؟ تمہارے پاس اپنی ہے نہ؟؟"

ایمان نے آئس کریم اس سے دور کرتے ہوئے کہا 

"بس ایسی دل کیا ایک بائٹ لے لوں…ویسے… صحیح کہا تم نے میری آئس کریم تم سے زیادہ ٹیسٹی اور یمی اور زیادہ بھی ہے…"

وہ آنکھ دبائے کہتا ہوا اسے تپا رہا تھا واقعی ایمان کی آئس کریم اب اینڈ ہونے لگی تھی مگر کیونکہ زارون جب ڈائیونگ میں مصروف تھا اس وجہ سے اس نے اب تک صرف مشکل سے تین چار بائٹ ہی لیں تھیں…

"زارون وہ کون ہے؟؟"

ایمان نے روڈ کے اندر والے سائیڈ اشارہ کرتے ہوئے کہا جس پر زارون گھبراتا ہوا اس جانب دیکھنے لگا اور یوں ہی موقع سے فائدہ اٹھا کر ایمان نے اس کی آئس کریم کے کپ میں سے تھوڑی آئس کریم اپنے کپ میں لے لی جس وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگا 

"بڑی چلاک ہو آپ"

زارون نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا جس پر وہ فاتحانہ مسکرائی ساتھ ہی ساتھ اسپون کو گھماتے ہوئے اس کی آئس کریم پہلے والی آئس کریم کے فلیور سے مل گئی جو کہ اب اس سے بلکل بھی کھائی نہیں جارہی تھی

زارون نے قہقہہ لگایا تھا جس پر وہ اسے غصے سے گھورنے لگی 

"لو یہ بھی تم ہی کھالو…"

وہ کار کے بونٹ پر کپ رکھتی ہوئی خود پیر پٹختی ہوئی گاڑی میں جا بیٹھی جبکہ زارون اس کی ونڈو کی طرف آیا 

"یہ لو… یہ تم کھاؤ مجھ سے بلکل بھی نہیں کھائی جارہی… البتہ تمہاری والی آئس کریم کافی ٹیسٹی ہے میں وہ کھا لوں گا…"

وہ اپنا کپ اسے تھماتا ہوا اس کا کپ اٹھائے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا دونوں نے اپنی آئس کریم ختم کی مگر تب ہی زارون کو لگا آس پاس کوئی ہے جو ان پر نظر رکھا ہوا ہے

"ہمیں گھر چلنا چاہئے… یہ ماسک لگا لو…"

زارون نے اسے ماسک دیا اور خود گاڑی اسٹارٹ کر کے ریوس کرنے لگا

"یہ ماسک کیوں؟؟"

وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی تبھی گاڑی کے پیچھے والے شیشے پر کسی نے زور دار فائرنگ کی جس پر ایمان کی چینخ نکلی 

"ایمان…"

وہ بہت ڈر گئی تھی وہ زارون کا کاندھا پکڑے اس سے چپک گئی تھی جبکہ زارون ایک ہاتھ سے ایمان کے گرد حصار بنائے دوسرے ہاتھ سے گاڑی دوڑانے لگا مگر اب بھی فائرنگ کی آوازیں آرہی تھیں شاید کوئی تھا جو گاڑی کا ٹائر پنکچر کرنا چاہ رہا تھا 

وہ جب سے حویلی آئی تھی لاؤنچ میں بیٹھی مسلسل روئی جارہی تھی اس نے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا وہ بہت ڈری ہوئی تھی گولی زارون کے بازؤں کو چھو کر گزری تھی اماں سائیں انتہا کی پریشان تھیں سب کے سب اس کے گرد کھڑے ہوئے اس کے کچھ بولنے کا انتظار کر رہے تھے 

"ایمان بیٹی بتاؤ کیا بات ہے؟؟"

اماں سائیں نے نرمی سے اس کے رخساروں کو چھوتے ہوئے پوچھا جس پر وہ انہیں دیکھنے لگی 

"اماں سائیں وہ… وہ زارون…"

وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی وہ سامنے ویل چیئر پر بیٹھی اماں سائیں کے قدموں میں آ بیٹھی ان کی گود میں سر رکھے وہ زاروقطار رونے لگی تھی وہاں کھڑے سب کے سب لوگ حیران و پریشان ہوگئے 

اماں سائیں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے چھپ کرانا چاہا

"بیٹی کیا ہوا ہے زارون کو بتاؤ مجھے…"

وہاں کسی کو کچھ بھی نہیں پتا تھا سوائے صدیق صاحب کے، جب وہ لوگ حویلی کے راستے پر نکل رہے تھے مخالفوں کی گاڑی زارون کی گاڑی کے ساتھ چلنے لگی تھی 

ان میں سے ایک نقاب پوش نے ایمان کو نشانہ بنانا چاہا تھا جس پر زارون اسے اپنے سینے میں بینچتے ہوئے وہ گولی خود کے کھا چکا تھا اس کا پورا بازوں خون میں لت پت ہوچکا تھا اور گولی بھی اس ہی جگہ لگی تھی جہاں کچھ دنوں پہلے لگی تھی

زارون بڑی مشکلوں سے گاڑی ڈرائیو کر کے آگے بڑھا تھا تو مخالفین کی گاڑی دور کہیں غائب ہوچکی تھی بڑی مشکلوں سے وہ حویلی کے قریب پہنچا تھا جب اس کا درد بڑھتا جارہا تھا وہ اب ڈرائیو نہیں کر سکتا تھا

گاؤں کے لوگوں اور اماں سائیں سے یہ بات چھپانے کے لئے اس نے صدیق صاحب کو کال کروائی تھی صدیق صاحب آتے ہی اسے حویلی کے پیچھے والے حصے میں لے گئے تھے جبکہ ایمان کو گھر بھیج دیا تھا کسی نے اماں سائیں کو کچھ بھی نہیں بتایا تھا

"اماں سائیں زارون کو گولی لگی ہے"

اصغر کی بات پر سب کے سب چونک اٹھے تھے جبکہ اماں سائیں کو لگ رہا تھا ان کا دل بند ہو جائے گا

"یہ؟؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟؟"

انہوں نے بے ساختہ دل کے مقام پر ہاتھ رکھا

"اماں سائیں آپ پریشان نہ ہوں سائیں سردار بلکل ٹھیک ہیں بڑے سائیں ان ہی کے ساتھ ہیں"

شفیق کی بات پر اماں سائیں نے سنجیدگی سے اپنے قدموں میں بیٹھی ایمان کو دیکھا جو اب سسکیوں پر آچکی تھی

"وہ اس وقت کہاں ہے؟؟"

"اماں سائیں سائیں سردار بڑے سائیں کے ساتھ حویلی کے پیچھلے حصے میں ہیں، ڈاکٹر صاحب معائینہ کر رہے ہیں"

ملازم نے کہا جس پر اماں سائیں نے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ چلا گیا 

"ایمان… بچہ اٹھو… زویا ایمان کو اس کے کمرے میں لے جاؤ…"

اماں سائیں نے اسے پیار سے کہا جبکہ زویا کو تھوڑی سختی سے حکم دیا جس پر وہ ایمان کو اپنے ساتھ لے کر سیڑھیوں کی جانب چلی گئی 

"ہائے اللّٰہ اماں سائیں اب کیا ہوگا ؟؟ کیا ایسے ہی وہ سائیں سردار پر حملہ کرتے رہیں گے… سائیں سردار کی شادی بھی آرہی ہے نجانے کس منحوس کی نظر لگ گئی ہماری حویلی کو"

تہمینہ بیگم نے ہائے توبہ مچائی 

"تہمینہ بیگم… تم خانساماں کو آج رات کے کھانے کا سمجھا دو… حویلی کے دیگر معاملات میں خود سنبھال لوں گی"

تہمینہ بیگم چہرے کے عجیب و غریب زاویئے بنائے کچن کی جانب بڑھ گئیں جبکہ اب صرف اصغر اور زلیخا بیگم ہی وہاں موجود تھے

"اماں سائیں آپ زارون کو منع کیوں نہیں کرتیں کہ وہ ان دشمنیوں کے جھمیلوں سے نکل آئے…اور اپنی زندگی کا سوچے… بھلہ کیا رکھا ہے ان میں؟؟ ایسی سرداری کا کیا فائدہ؟؟ کہ سردار کی جان پر بنی رہے…"

اصغر نے سنجیدگی سے کہا جس پر اماں سائیں اسے ایبرو اچکائے دیکھنے لگیں

"اصغر میاں… تم بھی اس ہی حویلی کے فرد ہو ہمارے فرزند ہو بھلہ تم اس طرح کی بات کر بھی کیسے سکتے ہو؟؟ کیا تم نہیں جانتے زارون علی کو سرداری اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہے… اسے ہمارے لوگوں کا کتنا خیال ہے اور پھر وہ بالغ ہونے سے پہلے سے ہی اپنی تمام ذمہ داریاں بہت اچھے سے نبھا رہا ہے…"

اماں سائیں نے گفتگو کو طویل کیا جس پر وہ انہیں دیکھنے لگا 

"میں جانتا ہوں اماں سائیں آپ بلکل صحیح کہہ رہی ہیں مگر وہ میرا چھوٹا بھائی ہے مجھے فکر ہے اس کی میں نہیں چاہتا اتنی سی عمر میں وہ اپنا نقصان کر بیٹھے…"

اصغر کے دل میں اب بھی سرداری کی خواہش تھی جو صرف زویا اور تہمینہ بیگم ہی جانتی تھیں 

"وہ سردار سائیں ہے… اس کے لئے اپنی زندگی بعد میں ہے پہلے اس کے اپنے لوگ ہیں… وہ نیک رستے پر چل رہا ہے پھر چاہے یہ راستہ کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو اللّٰہ سائیں اس کے ہمیشہ ساتھ رہیں گے، تمہارے یا ہمارے فکر کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا"

اماں سائیں نے سخت لہجے میں کہا اور وہاں سے چلی گئیں جبکہ وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے سوچنے لگا 

"سردار تو میں اس سے لے کر ہی رہوں گا… سرداری پر سب سے پہلا حق میرا ہے میں اپنا حق واپس لے کر رہوں گا چاہے اس کے لئے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے"

کچھ گھٹیا سوچ دماغ میں آتے ہی ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے مکرو چہرہ پر نمودار ہوئی تھی

★☆★☆★☆★

"ادھر بیٹھ جاؤ ایمان…"

زویا نے بڑے آرام سے اسے اس کے بستر پر بٹھایا اور کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کرنے لگی کیونکہ ایمان رونے میں مصروف تھی وہ اب تک بہت ڈری ہوئی تھی اس لئے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کی کوئی بھی حرکت نہ دیکھ سکی 

"ہوگئے تمہارے ڈرامے ختم؟؟"

زویا ہاتھ لپیٹے کھڑی اسے گھور رہی تھی جس پر ایمان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا جس کے تیور پل بھر میں بدل گئے تھے زویا اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی

"کیا مطلب ہے تمہارا؟؟"

ایمان نے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے پوچھا 

"اتنی میسنی نہ بنو، بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں میں تم جیسی لڑکیوں کو، اچھے لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسا کر انہیں برباد کرنے کی مہارت رکھتی ہو نہ تم"

زویا نے سخت لہجے میں کہا ایمان کو سمجھ نہیں آرہا تھا آخر اسے اچانک سے ہوا کیا ہے

"کیا ہوا؟؟ میری باتوں کو سمجھنے میں مشکل ہورہی ہے؟؟ تم سردار سائیں سمیت سب کو پاگل بنا سکتی ہو مگر مجھے نہیں… میں بہت اچھے سے جانتی ہوں تمہارے یہ ڈھونگ اور ڈرامے بازیاں جب سے تم یہاں آئی ہو تب سے حویلی میں کوئی نہ کوئی مسئلہ کھڑا ہورہا ہے"

زویا نے بھڑکنے والے انداز میں کہا ایمان کو اب اس پر غصہ آرہا تھا 

"تمہارا آخر مسئلہ کیا ہے؟؟"

ایمان نے آج پوچھ ہی لیا تھا جس پر وہ تنزیہ مسکرانے لگی

"میرا مسئلہ تم ہو ایمان… جب سے تم اس دنیا میں آئی ہو تب سے سب صرف تمہیں ہی چاہتے ہیں تم نے مجھ سے میری خوشیاں تک چھین لیں مگر میری ایک بات یاد رکھنا زارون کو تم مجھ سے چھین نہیں سکتیں…"

زارون کا نام سن کر اور زویا کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر ایمان کے ہوش تک اڑ گئے تھے آخر وہ یہ سب کیا کہی جارہی تھی 

"زارون صرف میرا ہے صرف میرا، میں بچپن سے اسے چاہتی ہوں مگر تمہاری وجہ سے وہ ہمیشہ مجھ سے دور رہا ہے لیکن اب مزید نہیں میں اسے تمہارا کبھی بھی نہیں ہونے دوں گی… سنا تم نے…"

ایمان کے حواس باختہ ہوگئے تھے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کہے تو کیا کہے

"میری ایک بات کان کھول کر سن لو تم ایمان میرے زارون سے دور رہو جب جب تم اس کے قریب رہی ہو اسے کوئی نہ کوئی نقصان پہنچا ہے اس دن بھی تمہارے آنے کا سن کر جہاں پوری حویلی میں خوشیاں نظر آرہی تھیں وہیں زارون کے بازؤں پر گولی لگی تھی اور آج بھی یہی ہوا ہے ان سب کی وجہ تم ہو صرف تم اگر میرے زارون کو کچھ بھی ہوا میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں سمجھی تم…"

وہ زہر اگلتے الفاظ باقاعدہ اس کے منہ پر مار کر باہر چلی گئی تھی جبکہ وہ جو پہلے ہی ڈری سہمی بیٹھی تھی اب مزید پریشان ہوگئی تھی اسے وہ منظر یاد آیا تھا جب زارون نے اسے خود میں بیچ کر اس کے نام کی گولی اپنے بازوں پر پیوست کرلی تھی بنا کچھ سوچے سمجھے، ایمان کو اس بار تو یقین تھا ہی کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے مگر وہ اس کے لئے جان پر کھیل جائے گا یہ اسے آج پتا چلا تھا 

★☆★☆★☆★

"اماں سائیں پریشان نہ ہوئیں چھوٹا سا زخم ہے جلدی ٹھیک ہو جائے گا" 

زلیخا بیگم جو پچھلے کئی گھنٹوں سے اس کے ساتھ بیٹھی اسے مسلسل نصیحتیں کی جارہی تھیں اب سنجیدگی سے دیکھنے لگیں 

"بیٹا کیوں نہیں سمجھتے تم اس خاندان کا واحد چراغ ہو، ہزاروں لوگوں کی امید ہو تم"

اماں سائیں کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرایا

"واحد ؟؟ اماں سائیں اصغر بھائی …"

"سوچنا بھی مت"

ابھی آدھے الفاظ اس کے منہ میں ہی تھے جب وہ اسے تنبیہ انداز میں کہنے لگیں

"تمہیں سرداری صرف اس ہی لئے نہیں دی گئی کہ تم بادشاہ علی کے فرزند تھے بلکہ اس لئے بھی دی گئی تھی کہ تم ذہین، بہادر، وفادار اور سب سے بڑھ کر سچے اور انصاف پسند ہو… پورے گاؤں کو صرف تم پر بھروسہ ہے کسی اور کو اپنا سردار تصور تک کرنا نہیں برداشت، پھر چاہے وہ اصغر میاں ہی کیوں نہ ہو"

زلیخا بیگم کو اصغر پر بھی بھروسہ نہ تھا انہوں نے اپنے دل کی بات آج کہہ دی تھی جس پر زارون سنجیدہ سا انہیں دیکھنے لگا 

"خیر میں تمہارا مزید وقت نہیں لوں گی تم آرام کرو میں سوپ بھجواتی ہوں"

اماں سائیں کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بیڈ کراؤن پر سر ٹکائے آنکھیں بند کر گیا

کچھ ہی دیر گزری تھی جب دروازہ بچنے لگا 

"آجائیں…"

زارون کو لگا کوئی ملازم سوپ پہنچانے آیا ہوگا مگر جب نظر سامنے سے آتے نازک وجود پر گئی تو وہ جو درد کی شدت سے دوچار ہورہا تھا جلدی سے اٹھ کر بیٹھنے لگا 

"آپ کو اجازت کی ضرورت نہیں آپ بنا اجازت بھی آ سکتی ہیں"

زارون کو بہت حیرت ہوئی تھی رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا وہ اب تک جاگ رہی تھی اور پھر وہ اس سے ملنے خود آئی تھی

"تمہاری طبیعت کیسی ہے؟؟"

ایمان صوفے پر بیٹھنے لگی جب زارون نے اسے اپنے پاس بیٹھنے کی جگہ دی تو وہ اس کے سامنے ہی آ بیٹھی 

"میں ٹھیک ہوں الحمدللہ مجھے کیا ہونا ہے یہ سب تو چلتا رہتا ہے..."

زارون نے نرمی سے کہا 

"مگر میں بہت ڈر گئی تھی…"

بے ساختہ ایمان نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا جس پر وہ اسے تعجب سے دیکھنے لگا ایمان نے واپس ہاتھ پیچھے کھینچا

"ڈرنے کی کیا ضرورت؟؟ آپ تو بہت بہادر لڑکی ہو"

زارون نے سنجیدگی سے کہا وہ دیکھ چکا تھا اس کا خون بہتا دیکھ کر ایمان کس قدر رو رہی تھی

"میں نہیں ہوں بہادر… تم ہو… کس طرح تم نے مجھے بچانے کے لیے اپنا بازوں آگے کردیا"

ایمان اس کی بھوری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کھوئے ہوئے انداز میں کہنے لگی جس پر وہ مسکرایا

"جب بات محب کی ہو تو بازوں تو کیا سینہ بھی حاضر ہے"

ایک پل کے لیے وہ اس کے گہرے الفاظوں پر ساخت سی ہوگئی تھی جو زخمی وجود کے ساتھ بیٹھا مسلسل مسکرا رہا تھا دونوں کی نظریں ایک دوسرے سے ملی تھیں 

مگر دروازے پر دستک ہوئی جس سے ان کی نگاہوں کا رابطہ منقطع ہوا ملازم سوپ کا باؤل لئے کھڑا اجازت کا منتظر تھا جب زارون نے بامشکل اسے اشارے سے اندر بلایا ملازم سوپ کا پیالا سائٹ ٹیبل پر رکھ کر واپس چلا گیا

"تم میڈیسن لے کر آرام کرو میں جارہی ہوں…"

وہ اٹھنے لگی تھی جب زارون نے اس کا ہاتھ پکڑا تب ہی اس کے درد میں مزید شدت محسوس ہوئی 

"زارون… تم ٹھیک تو ہو نہ… کیا زیادہ درد ہورہا ہے؟؟"

ایمان نے پریشانی سے کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا

"کچھ دیر یوں ہی میرے پاس بیٹھی رہیں آپ… شاید یہ درد کم ہو جائے…"

زارون نے سنجیدہ سے انداز میں کہا جس پر ایمان اثبات میں سر ہلاتے ہوئے واپس اس کے پاس بیٹھ گئی جب زارون نے سوپ کا پیالا تھاما اور دوسرے ہاتھ سے چمچے کو بامشکل لبوں کے قریب لانے لگا مگر یہ ممکن نہ تھا کیونکہ اس کا ایک ہاتھ زخمی تھا 

"میں ہیلپ کردوں؟؟"

کچھ دیر کی کوششوں کے بعد ایمان نے آگے بڑھ کر پیالا پکڑتے ہوئے کہا جس پر زارون کی آنکھوں میں چمک آنے لگی اس کی طرف سے کوئی بھی جواب نہ پا کر ایمان اس کے تھوڑا قریب آئی اور سوپ پلانے لگی 

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا وہ اس کی فکر کر رہی تھی شاید اس کے زخم کی وجہ سے اس پر ترس کھا کر ہی صحیح مگر زارون کے لئے یہ لمحہ بہت حسین تھا ایمان اس کی نظروں کی تپش محسوس کرتے نظریں پیالے پر جمائے اسے سوپ پلانے میں مصروف ہوگئی 

کچھ ہی دیر بعد اس نے زارون کو میڈیسن دیں اور واپس جانے لگی مگر تب ہی زارون کا موبائل بجا 

"ٹھیک ہے تم اسے ملازم کے ہاتھ اندر بھجوا دو… میں خود دیکھ لوں گا…"

زارون نے ایمان کو اشارے سے روکا جبکہ موبائل پر اپنی بات مکمل کر کے وہ فون بند کر گیا 

تب ہی ملازم ہاتھ میں ایک باکس لئے اندر آیا 

"سائیں سردار یہ آپ کے لئے آیا ہے…"

"ٹھیک ہے آپ جائیں…"

زارون نے ایک ہاتھ سے باکس پکڑا اور ایمان کو اس باکس کو کھولنے کا اشارہ کرنے لگا جب باکس کھلا تو اندر دو کتابیں تھیں 

"اوہ شکر… کیا یہ واقعی مل گئی ہیں… تھینک گاڈ… شکریہ تمہارا زارون…"

ایمان وہ باکس لئے مسکراتے ہوئے پلٹی 

"ایمان…"

وہ پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

"ان میں سے ایک مجھے دے دیں… کیونکہ یہ دونوں ایک ہی ہیں…"

خوشی میں مگن ہوکر وہ یہ دیکھنا بھول ہی گئی تھی کہ دوسری کتاب کونسی تھی جب اس نے دونوں کتابیں نکالیں تو وہ دونوں ایک ہی تھیں مگر زارون نے دو کیوں منگوائی تھیں 

"کیا یہ تم پڑھو گے؟؟ کیا تم نے اپنے لئے منگوائی ہے؟؟"

ایمان نے حیرت سے سوال کیا 

"میں دیکھنا چاہتا ہوں ایسی کونسی کتاب ہے جس کے لئے آپ نے آج اپنے قیمتی آنسوؤں کو ضائع کیا تھا… آخر ایسی کونسی کتاب ہے جو میری محبت کی شدت کو بھی مات دے چکی ہے… "

زارون کی بات پر وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگی آخر وہ سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ بچپن سے اسے کتنا پیار دیتا آرہا تھا وہ اس کے لئے کتنا رویا تھا کتنا تڑپا تھا مگر مجال ہے جو اس دشمنِ جاں کو اس کے آنسؤوں سے فرق پڑھا ہو جبکہ آج ایک کتاب کے لئے وہ کتنا روئی تھی 

ایمان نے ایک کتاب نکال کر اس کے سائٹ ٹیبل پر رکھی جبکہ دوسری کتاب لئے ایک الوداعی نگاہ اس کی بھوری آنکھوں پر ڈال کر وہاں سے چلی گئی جبکہ زارون نے کتاب کو ہاتھ میں لے کر نام پڑھا 

”انتظار کی گھڑیاں“

زارون نے کوشش کی وہ پڑھے مگر اس کے درد اور پھر دوائیوں کا نشہ اسے کتاب واپس رکھنے پر مجبور کر رہا تھا وہ کتاب کو سائیٹ ٹیبل پر رکھ کر بستر پر لیٹ گیا کچھ ہی دیر بعد وہ نیند کی وادیوں میں گم تھا 

★☆★☆★☆★

صبح کا وقت تھا جب وہ کتاب ہاتھ میں لئے باہر لان میں ٹہل رہی تھی جب پیچھے سے کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس کر کے پلٹی وہ سامنے کھڑا اپنی چھوٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ایمان کو وہ ایک آنکھ نہیں بھایا تھا 

"ہائے فیری کیسی ہو؟؟ اتنی صبح صبح… یہاں؟؟"

اصغر نے بغور اس کا جائزہ لیا وہ لائٹ گرین کلر کی پیاری سی بن چاکوں والی قمیض جو فراق معلوم ہورہی تھی ساتھ ہی چوڑی دار پاجامہ بالوں کی ترتیب سے چٹیا بنائے ڈوپٹہ کاندھے پر ڈالے وہ کسی اپسرا سے کم نہ لگ رہی تھی

"کیوں صبح صبح یہاں ٹہلنا منع ہے؟؟"

اس نے الٹا سوال کیا جس پر وہ تعجب سے اسے دیکھنے لگا 

"نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں مس فیری یہ تمہاری حویلی ہے جب دل چاہے جہاں دل چاہے ٹہلو… خیر اور بتاؤ کمپلیٹ ہوگئی تمہاری اسٹیڈی؟؟ خیر اتنا پڑھنے کا فائدہ بھی کیا جب اینڈ میں شادی ہی کرنی ہے تو"

اس نے تنزیہ انداز میں کہا جس پر وہ اسے آنکھیں چھوٹی کئے گھورنے لگی

"کیا میں نے کچھ غلط کہا ہے؟؟ آج صبح کچھ دیر پہلے سب تمہاری اور زارون کی شادی کی باتیں کر رہے تھے یقین نہیں آتا تو کچھ دیر بعد خود ہی دیکھ لینا"

وہ معنی خیزی سے کہتا ہوا واپس چلا گیا جبکہ ایمان کو یاد آگیا کہ اسے زارون سے ایسا کوئی رشتہ نہیں بنانا تھا

"شادی شادی شادی اففف!!! میں بھی دیکھتی ہوں کون کراتا ہے میری شادی…"

اس نے تنک کر کہا اور اپنے کتاب لئے کمرے کی جانب بڑھ گئی کچھ ہی دیر میں ملازمہ اسے ناشتے پر بلانے آئی جب وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے ڈائننگ ہال میں پہنچی تو وہاں سب موجود تھے سوائے زارون کے، 

اس کے آتے ہی سب نے ناشتہ شروع کیا سب خاموشی سے کھانے میں مصروف تھے جب اماں سائیں کی بات پر سب ان کی طرف متوجہ ہوئے

"مجھے ایک ضروری بات کرنی ہے سب سے…ناشتے کے بعد بیٹھک میں ملیں"

ایمان نے ایک نظر اصغر کو دیکھا جو اس ہی کو دیکھ رہا تھا

ناشتے کے بعد سب لاؤنچ میں موجود تھے جب زارون اسٹک لئے اندر کی جانب آیا اور بیچ والے صوفے پر جا بیٹھا

"زارون بیٹا طبیعت کیسی ہے اب؟؟"

صدیق صاحب نے سنجیدگی سے پوچھا

"جی چچا جان اللّٰہ پاک کا کرم ٹھیک ہوں اب…"

زارون کی بات پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

"درد کم ہوا؟؟"

زلیخا بیگم نے سوال کیا

"جی اماں سائیں وہ تو رات ہی ٹھیک ہوگیا تھا"

ایک نظر ایمان پر ڈال کر وہ ذومعنی الفاظ کہتا ہوا مسکرایا جس پر ایمان اسے دیکھنے لگی جبکہ زویا غصے سے ایمان کو دیکھنے لگی کیونکہ اماں سائیں کے آنے سے پہلے وہ زارون کے کمرے میں گئی تھی

جس کی فضول باتوں پر زارون نے اسے اس ہی وقت نکلنے کا حکم دیا تھا مگر اماں سائیں کے بعد جب ایمان اس کے کمرے کے جانب گئی تھی تب زویا اسے جاتا دیکھ چکی تھی جبکہ اصغر آنکھیں چھوٹی کئے معاملے کو سمجھنے کی کوشش میں تھا

"میں نے فیصلہ کرلیا میں اگلے ہفتے تم دونوں کا نکاح رکھوں گی"

اماں سائیں کے الفاظ جہاں صدیق صاحب اور زارون کی نگاہوں میں چمک پیدا کر گئے وہیں ایمان کے سر پر ایک نیا پہاڑ توڑ گئے تھے ایک نظر اس نے اصغر کو دیکھا جو عجیب انداز میں مسکرا رہا تھا

"اماں سائیں اتنی جلدی؟؟"

تہمینہ بیگم نے اچانک سے کہا سب انہیں دیکھنے لگے

"میرا مطلب ابھی تو سائیں سردار کو گولی لگی ہے سنبھلنے میں تھوڑا وقت لگے گا"

تہمینہ بیگم نے جلدی سے بات سنبھالی

"بات تمہاری درست ہے مگر اب مزید تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے سب جانتے ہیں مخالفین کی نظر اب صرف سائیں سردار تک ہی نہیں بلکہ اس گھر کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ایمان پر بھی ہے کل بھی زاروں نے ایمان کو بچایا ہے آگے بھی وہ لوگ ان پر حملہ کر سکتے ہیں آگے بھی زارون ہی ایمان کی حفاظت کرے گا"

اماں سائیں کی بات پر ایمان زارون کو دیکھنے لگی جو اسے چاہت بھرے انداز میں دیکھ رہا تھا

"میں چاہتی ہوں جلد سے جلد یہ دونوں ایک پاک مظبوط رشتے میں بندھ جائیں تاکہ ایک دوسرے کے محافظ بن سکیں…"

اماں سائیں کی بات پر زویا خونخوار نظروں سے اپنی ماں کو گھورنے لگی تھی 

"اگلے ہفتے زارون اور ایمان کا نکاح ہوگا… صدیق میاں پرانی حویلی کو سجھا دو پورے گاؤں کو پتا لگنا چاہیے سائیں سردار کے گھر میں خوشی ہورہی ہے…"

اماں سائیں نے بھرم والے انداز میں کہا جس پر صدیق صاحب اثبات میں سر ہلانے لگے جبکہ زارون گردن جھکائے مسکرانے لگا

"دونوں حویلیوں کے گرد پیرادار بڑھا دو تاکہ دشمن کسی قسم کی کوئی چالاکی نہ کر سکے… بہو تم ملازموں کو کہہ کر خبر بھجواؤ ایمان کے لئے نئے زیورات اور کپڑیں خریدنے ہیں… کسی اچھے سنار کو بلوایا جائے…"

اماں سائیں کی بات پر تہمینہ بیگم منہ بنائے زویا اور اصغر کو دیکھنے لگیں 

"مجھے اتنی جلدی یہ شادی نہیں کرنی بابا…"

آج پھر سے وہ سب کے سامنے اٹھ کھڑی ہوئی جب سب اس کی جانب متوجہ ہوئے 

"ایمان بیٹا بعد میں بات کریں گے…"

صدیق صاحب نے اسے چپ کرانا چاہا 

"بس کریں بھائی صاحب آج اس لڑکی کو بولنے دیں آخر ہمیں بھی تو پتا چلے کہ آخر اس کے انکار کی اصل وجہ کیا ہے"

تہمینہ بیگم نے تنزیہ انداز میں کہا جس پر صدیق صاحب انہیں دیکھنے لگے 

"ایمان صورتحال تمہارے سامنے ہے مخالفین اب چین سے نہیں بیٹھیں گے بہتر یہی ہوگا جلد سے جلد تم دونوں کا بیاپ ہوجائے میری زندگی کا کچھ پتا نہیں کب کیا ہوجائے میں مرنے سے پہلے یہ نیک کام کر کے جانا چاہتی ہوں"

اماں سائیں نے اسے نرمی سے سمجھایا 

"آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں؟؟ میں اتنی جلدی شادی نہیں کر سکتی…"

اس نے باقاعدہ اونچی آواز میں کہا 

"اتنی جلدی شادی نہیں کر سکتیں یا… سائیں سردار سے شادی نہیں کر سکتیں…"

زویا جو کب سے غصے کی آگ میں جل رہی تھی اپنی مکرو زبان سے زہر اگلتے ہوئے گویا ہوئی جس پر زارون غصے سے اسے گھورنے لگا 

"آپ لوگوں کو جو سمجھنا ہے سمجھیں لیکن یہ میرا آخری فیصلہ ہے اگر آپ میں سے کسی نے بھی میری زبردستی شادی کروانے کی کوشش کی آئی سویر میں واپس امریکہ چلی جاؤں گی اور پھر کبھی واپس نہیں آؤں گی"

وہ غصے سے کہتے ہوئے پیر پٹختی ہوئی وہاں سے اوپر کی جانب چلی گئی جبکہ زارون کو اس کے الفاظ بہت بری طرح سے چبے تھے مگر اصغر کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی جسے کوئی نہ دیکھ پایا 

"اماں سائیں مجھے دو دن کی مہلت دیں یہ شادی کے لیے ضرور راضی ہو جائے گی یہ میرا وعدہ ہے آپ سے…"

صدیق صاحب نے اماں سائیں کے چہرے پر سخت تاثرات دیکھ کر التجائی انداز میں کہا جس پر وہ انہیں سختی سے دیکھنے لگیں

"یہ جتنی جلدی راضی ہو جائے صدیق میاں اتنا اس کے لئے بہتر ہے… ایسا نہ ہو اس کا ایک غلط قدم سب کچھ برباد کردے…"

اماں سائیں نے سرد لہجے سے کہا اور وہاں سے چلی گئیں جبکہ زویا اور تہمینہ بیگم اپنے کمرے میں چلی گئیں

★☆★☆★☆★

"دیکھ لیا تو نے اپنی لاپرواہی کا انجام؟؟ کہا بھی تھا تجھ سے تھوڑا دماغ چلا کچھ محنت کر کسی طرح اسے اپنے جال میں پھنسا مگر نہیں تو تو سدا کی بے وقوف ہے اور رہے گی…"

تہمینہ بیگم اس پر بھڑک اٹھیں

"کر تو رہی تھی اتنی کوششیں بچپن سے تو اس کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی اور کیا کروں؟؟ اماں سائیں نے تو قسم کھا رکھی ہے اس چڑیل کو اس گھر کی بہو بنانے کی…"

زویا نے منہ بناتے ہوئے اونچی آواز میں کہا 

"سن لڑکی… اگر تو نے اس ایک ہفتے کے اندر اندر یہ کام سر انجام نہ دیا نہ تو بھول جانا پھر کے تو اس گھر کی بہو بنے گی… پہلے ہی اماں سائیں اصغر سے تیرے لئے لڑکا ڈھونڈنے کی بات کر رہی تھیں"

تہمینہ بیگم کی بات پر زویا کے ہوش اڑ گئے تھے

"ہیں کیا کہہ رہی ہو ممی؟؟ دماغ تو ٹھیک ہے نہ تمہارا؟؟ میں کسی اور سے شادی نہیں کروں گی چاہے کچھ بھی ہو جائے…"

زویا نے آور ایکٹنگ کا مظاہرہ کیا تب ہی اصغر کمرے میں آیا

"تبھی کہہ رہی ہوں کلموہی کچھ دھیان لگا کچھ نئی ترکیب سوچ… اسے اپنی طرف مائل کر…"

تہمینہ بیگم نے ایک چپت اس آور ایکٹنگ کی دکان کے کندھے پر لگائی جس پر وہ مسلتے ہوئے انہیں گھورنے لگی 

"دیکھ رہے ہیں بھیا آپ کیسے ظلم کر رہی ہیں ممی مجھ پر"

زویا نے پیچھے سے آتے بھائی کو کہا جس پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوئیں وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے آبیٹھا 

"کیا ہوگیا ممی جی کیوں ظلم کر رہی ہو میری معصوم بہنا پر"

اصغر نے مسکرا کر اپنی موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بہن کی سائڈ لی جس پر وہ اسے بھی گورنے لگیں

"ہاں ہاں یہاں سب پر ہی ظلم ڈھائے جارہے ہیں ایک میں ہی پاگل ہوں جو اپنے بچوں کا مستقبل روشن کرنے کی کوشش کرتے کرتے آدھی ہوگئی ہوں کسی کو نظر نہیں آتا…"

انہوں نے واویلا مچاتے ہوئے کہا اور بستر پر جا بیٹھی جبکہ زویا بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی

"ممی جی زویا کیسے اسے اپنے قابو کرے گی؟؟ یہ آپ بھی جانتی ہیں کہ زارون ایک مظبوط شخصیت کا مالک ہے… وہ ان چھوٹی باتوں میں کبھی نہیں آئے گا…"

اصغر نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا 

"تو کیا کروں گا؟؟ اس کمبخت کو کسی اور سے شادی بھی نہیں کرنی اس گھر سے بھی نہیں جانا اور زارون کو بھی پھنسا نہیں پائی بتا کیا کروں میں اب؟؟ صرف ایک ہفتہ باقی ہے…"

انہوں نے ایک اور چپت زویا کے کندھے پر لگاتے ہوئے کہا جس پر وہ دور ہوئی 

"ایک کام ہو سکتا ہے… اگر آپ لوگ میرا ساتھ دیں…اس سے سانپ بھی مرجائے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی"

اصغر نے ذومعنی الفاظ میں کہا

"کیسا کام؟؟"

اصغر نے انہیں پورا پلان سمجھایا جس پر زویا تو خوشی سے جھوم اٹھی تھی جس پر تہمینہ بیگم نے اسے ہاتھ پکڑ کر واپس بٹھایا وہ منہ کے زاویئے بنائے گھورنے لگی 

"اے میرے خدایا تو پاگل تو نہیں ہوگیا؟؟ اگر غلطی سے بھی انگلی پکڑائی تو وہ ہاتھ پکڑ لے گی سمجھ رہا ہے نہ تو؟؟ اور مجھے وہ بلکل بھی نہیں قبول… ارے زہر لگتی ہے وہ مجھے زہر…"

تہمینہ بیگم نے آنکھیں نکالتے ہوئے غصے سے کہا

"ارے میری پیاری ممی جی کون کہہ رہا ہے اس زہر کو نگلو؟؟ بس منہ میں رکھ کر اگل دینا ہے… سمپل…"

اصغر نے شیطانی مسکراہٹ اچھالتے ہوئے کہا جس پر تہمینہ بیگم اس کی بات پر غور کرنے لگیں 

"سن اگر واقعی وہ ہمارے گلے کی ہڈی بن گئی تو؟؟"

تہمینہ بیگم نے سرگوشی نما انداز میں پوچھا

"پریشان مت ہو مجھے تھوڑا وقت دو ایک تیر سے دو شکار کرنا مجھے اچھے سے آتا ہے…"

"ایمان بیٹا بات کو سمجھنے کی کوشش کرو تم نے تو کہا تھا نہ کہ تمہیں کچھ وقت چاہیے دیکھو اب تم اپنی بات سے مکر رہی ہو"

صدیق صاحب کی بات پر اس نے بے یقینی سے انہیں دیکھا

"بابا میں نے وقت ضرور مانگا تھا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میں نے رضامندی ظاہر کی تھی"

صدیق صاحب نے اپنا سر پکڑا 

"ایمان بس کردو بہت ہوگیا… میں نے اماں سائیں سے صرف دو دن کا وقت مانگا تھا اور پچھلے دو دنوں سے میں تمہیں مسلسل سمجھا رہا ہوں… آخر تم چاہتی کیا ہو؟؟ کیا تمہیں اپنے باپ کی عزت سے بڑھ کر اپنی خواہش عزیز ہے؟؟"

صدیق صاحب نے افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھا 

"تم جانتی ہو نیچے سب تمہارے بارے میں کیسی کیسی باتیں کئے جارہے ہیں؟؟ سب کو یہی لگ رہا ہے کہ تمہیں… تمہیں کوئی اور پسند ہے"

انہوں نے شرم سے چور انداز میں کہا جس پر وہ انہیں دیکھنے لگی

"بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے…"

"ایمان تمہارے پاس آج شام تک کا وقت ہے… اگر تم نے جواب ہاں میں نہیں دیا تو یاد رکھنا شادی تمہاری پھر بھی ہو کر رہے گی مگر کسی اور سے…"

وہ اسے اپنا فیصلہ سنا کر چلے گئے تھے جبکہ وہ بے یقینی سے انہیں جاتا دیکھ رہی تھی 

"اففف کاش میں واپس پاکستان آتی ہی نہ تو یہ سب نہ ہورہا ہوتا…"

وہ منہ بناتے ہوئے کہتی ہوئی اپنا دوپٹہ کاندھے پر ڈال کر کمرے سے نیچے جانے لگی وہ ابھی گارڈن میں پہنچی ہی تھی کہ اچانک کسی سے ٹکرائی 

"آاہہہہ…"

سامنے کھڑا شخص اسے کمر سے تھامے کھڑا تھا اسے لگا زارون ہے مگر وہ اصغر تھا اس نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا 

"ارے ارے آرام سے نازک پری…"

اس نے آگے بڑھ کر کہا جس پر وہ دو قدم دور ہوئی

یہ سب پچھلے دو دنوں سے ہورہا تھا ایمان کو وہ شخص ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا وہ ہر وقت یوں ہی اس کے آس پاس منڈلاتا رہتا تھا اس کی موجودگی میں ایمان کو اپنا آپ محفوظ محسوس نہیں ہوتا تھا 

"دور ہٹیں آپ… آپ کا مسئلہ کیا ہے؟؟ ہر دوسرے دن مجھ سے ٹکرانے کا کانٹریکٹ سائن کیا ہوا ہے آپ نے؟؟ یا قسم کھائی ہوئی ہے بار بار میرے آگے پیچھے گھومنے کی…"

وہ اب پریشان آ چکی تھی اس کی ایسی حرکتوں سے مگر آج اس کی برداشت جواب دے گئی تھی زارون نے صرف دو تین بار ہی اس کا ہاتھ پکڑا تھا وہ بھی کسی مجبوری کے تحت مگر وہ شخص اسے جان بوجھ کر چھونے کی کوششیں کرتا تھا اور ایسا وہ زارون کی غیر موجودگی میں ہی کرتا تھا 

"ارے ارے آپ تو ناراض ہی ہوگئیں پری…میں تو بس یوں ہی…"

اس نے مکرو انداز میں مسکراتے ہوئے کہا

"بات سنیں آپ میری… اگر آج کے بعد آپ میرے آگے پیچھے نظر بھی آئے یا مجھے چھونے کی کوشش بھی کی نہ تو… تو بہت برا ہوگا آپ کے ساتھ سمجھے آپ"

وہ اسے انگلی سے تڑی لگاتی ہوئی واپس پلٹ کر حویلی کے گیراج کی جانب چلی گئی جبکہ وہ شیطانی انداز میں مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا 

وہ جیسے ہی باہر آئی کسی لڑکی کو کھڑا پایا البتہ وہ اپنے حلیے سے گاؤں کی کوئی عام سی لڑکی ہی لگ رہی تھی

"یہ کون ہے؟؟"

"چھوٹی بی بی اس کا نام لالی ہے… یہ آپ کی شادی تک یہی رہے گی…"

اس کے پوچھنے پر ملازمہ نے کہا جس پر وہ اسے حیرت سے دیکھنے لگی

"اوکے… "

وہ بے فکری والے انداز میں کہتی ہوئی گاڑی کی جانب بڑھ گئی یقیناً اسے پھر کوئی نئی کتاب چاہئیے ہوگی 

★☆★☆★☆★

"اچھا کیا نام ہے تمہارا ؟؟"

"جی اماں سائیں لیلہ نام ہے سب لالی کہتے ہیں…"

اس عام سی لڑکی نے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا

"اچھا تو تم اسکول میں پڑھتی ہو؟؟"

اماں سائیں نے سنجیدگی سے پوچھا

"جی اماں سائیں پڑھتی ہوں مگر پچھلے مہینے سے پڑھنے نہیں جارہی اور گھر میں بیٹھے بیٹھے سب کچھ بھول گئی کچھ مہینے بعد میرے امتحانات بھی ہیں"

لالی نے معصومیت سے کہا 

"تم پریشان نہ ہو ہماری چھوٹی صاحبزادی تمہیں پڑھا دیں گی"

"اچھا کیا واقعی؟؟ وہی جو باہر ملک سے آئی ہیں…؟؟"

"ہاں ہاں وہی"

اماں سائیں کی بات پر اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرائیں

"چلو تم اپنا سامان اپنے کمرے میں رکھ دو ہاجرہ تمہیں کمرہ دکھا دے گی"

نیچے ایک خالی کمرہ تھا جہاں لالی کا سامان رکھا گیا تھا وہ ابھی کپڑے تبدیل کر کے رات کے کھانے کے لیے باہر آ ہی رہی تھی جب اصغر کی نظر اس پر گئی وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا اپنے کمرے سے نکلتی ایمان نے جب یہ منظر دیکھا تو دوڑتے ہوئے نیچے آئی

"لیلہ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟؟" وہ جو سیدھا سیدھا جارہی تھی اچانک سے رکی

"آپ ایمان بی بی ہیں نہ؟؟"

اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا

"ہاں تم آپی بھی بول سکتی ہو مجھے اور ہاں اگلی بار تم اس نہیں بلکہ اس راستے سے جایا کرنا اوکے…"

اس نے ایک نظر دور کھڑے اصغر پر ڈالتے ہوئے کہا وہ اس کی ان نظروں کا مطلب سمجھ چکی تھی

"جی ٹھیک ہے ایمان آپی "

اس چھوٹی سی سولہ سالا لڑکی نے معصومیت سے کہا اور ایمان کے ساتھ چل دی

"واہ واہ کیا بات ہے پری خود تو اپنی حفاظت مجھ سے کر ہی رہی ہیں ساتھ میں اس نئے شکار کو بھی بچا رہی ہیں… لیکن پریشان نہ ہو میری جان میں اتنی جلدی اسے بلکل بھی تنگ نہیں کروں گا میرا نشانہ صرف تم ہو"

اس نے شیطانی قہقہہ لگاتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا 

"السلام و علیکم"

"وعلیکم السلام"

سب نے لیلہ کے سلام کا جواب دیا اور اسے بیٹھنے کا کہا 

"بیٹا تمہیں اگر یہاں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک کسی کو بھی بتا دینا"

صدیق صاحب نے شفقت سے کہا 

"بڑے سائیں زارون بھائی نے مجھے ساری کتابیں دلا دی تھیں… اب بس کل سے پڑھائی شروع کروں گی"

اس نے مسکراتے ہوئے کہا 

"اوہ یہ تو بہت اچھا ہوگیا پھر… تمہیں جو کچھ نہ آئے مجھ سے پوچھ لینا…"

بیچ میں اصغر نے ٹانگ اڑائی وہ یہ سب کچھ ایمان کو سنانے کے لیے کر رہا تھا 

"اس کی کوئی ضرورت نہیں میں ہوں نہ میں کل ہی سے لیلہ کو پڑھانا شروع کروں گی"

ایمان نے سرد لہجے میں کہا جس پر وہ اسے مسکراتے ہوئے دیکھنے لگا 

"ہاں ایمان کی شادی تک ایمان اسے پڑھایا کرے گی اور شادی کے بعد جب بھی وقت ملے گا وہ اسے سمجھا دیا کرے گی"

اماں سائیں کی بات پر سب نے اثبات میں سر ہلایا

"بہت چلاک ہوتی جارہی ہے یہ لڑکی… اس کا جلد سے جلد کوئی حل کرنا ہی پڑے گا"

اصغر دل ہی دل میں سوچتا ہوا کھانے میں مصروف ہوگیا

★☆★☆★☆★

رات کا وقت تھا جب ایمان اپنے کمرے میں بیٹھی کتابوں میں مصروف تھی جب اچانک سے لائٹ چلی گئی وہ موبائل کا ٹارچ جلائے باہر کی جانب جانے لگی تب اچانک کسی سے ٹکرائی اس کا موبائل زمین پر جا گرا اور بند ہوگیا

کوئی شخص تھا جس نے اس کا موبائل اٹھایا اور اسے تھمایا مگر اندھیرا اتنا تھا کہ وہ پہچان نہ پائی اسے لگا شاید یہ زارون ہوگا مگر ایسا نہ تھا جیسے ہی وہ پلٹی کسی نے اس کے کان میں سرگوشی کی 

"اگر تم چاہو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں اس شادی کو روکنے میں…"

وہ آواز پہچان چکی تھی یہ کوئی اور نہیں بلکہ اصغر تھا وہ جلدی سے پلٹ کر فاصلہ بنانے لگی وہ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پارہے تھے 

"آپ ایسا کیوں کریں گے؟؟"

ایمان نے اس سے سوال کیا

"کیونکہ میں ایک معصوم سی لڑکی کو ایک جلاد سردار کے حوالے ہرگز نہیں کر سکتا…"

"کیا مطلب ؟؟"

اچانک سے لائٹس آن ہوئیں وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی

"مطلب وطلب چھوڑو اور میرا ساتھ دو میں تمہیں اس سے آزاد کرا دوں گا لیکن بدلے میں مجھے بھی کچھ چاہئے ہوگا"

اس نے ذومعنی الفاظ میں کہا جس پر وہ اسے گھورنے لگی

"مجھے تمہارا تھوڑا سا وقت اور تھوڑا سا پیار چاہئے بس…"

وہ اپنی گندھی نیت لئے قدم آگے بڑھا رہا تھا جب ایمان نے رکھ کر اس کے منہ پر تھپڑ مارا اس سنسان ہال میں اس کے تماچے کی آواز گونجی تھی

"خبردار جو مجھے چھونے کی کوشش بھی کی تم نے… اب تک تو میں خاموش تھی مگر اب اگر مزید تم نے کوئی گھٹیا حرکت کرنے کا سوچا بھی تو میں سب کو بتادوں گی کہ تم انسان نہیں حیوان ہو…"

ایمان نے اسے انگلی سے وارن کرتے ہوئے کہا جبکہ وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے مسلسل اسے گھور رہا تھا 

"ایمان علی یہ تم نے بلکل اچھا نہیں کیا اب یا تو تمہیں میری بات ماننی پڑے گی یا پھر میں تمہیں کسی اور کے لائق چھوڑوں گا ہی نہیں"

وہ جا چکی تھی مگر وہ دل ہی دل میں ارادہ کرتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چلا گیا تھا 

وہ جب کمرے میں آئی تو اس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا تب ہی اس کے کمرے کا دروازہ بجا اس نے خوفگی سے دروازے کی جانب دیکھا تب ہی دوبارہ دستک ہوئی 

"کون ہے؟؟"

"ایمان…"

زارون کی آواز سن کر اس کی جان میں جان آئی جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا وہ اندر آیا 

"ایمان لائٹ چلی گئی تھی آپ ٹھیک تو ہو نہ؟؟"

اسے شک تھا وہ ڈری ہوگی مگر واقعی ایسا تھا وہ اس کے کاندھے پر سر ٹکائے رونے لگی تھی نجانے کیوں مگر اسے وہ اپنا اپنا سا لگا تھا جیسے اس کے وجود کا کوئی پرسکون حصہ ہو

"ایمان کیا ہوا ہے بتائیں؟؟ کیا آپ کو ڈر لگ رہا ہے؟؟"

وہ پریشان ہوا تھا آج سے پہلے تو وہ کبھی اس کے قریب نہ آئی تھی پھر آج اچانک اسے کیا ہوگیا تھا ایمان کچھ دیر یوں ہی اس کے کاندھے پر سر ٹکائے خاموشی سے روتی رہی پھر اچانک سے دور ہوئی

"ایمان… کیا ہوا ہے بتائیں پلیزز میرا دل بہت پریشان ہورہا ہے…"

وہ مظبوط شخصیت مظبوط ارادے رکھنے والا سردار ہمیشہ ایک لڑکی کے آنسؤوں پر پگھل جاتا تھا وہ آگے بڑھتا ہوا اس کے رخساروں کو اپنی انگلی سے پوچنے لگا مگر اس بار ایمان نے کوئی مزاحمت نہ کی تھی

"کچھ نہیں بس میں ڈر گئی تھی…" اس نے مختصر سا جواب دیا

"آپ کو ڈرنے کی بلکل بھی ضرورت نہیں میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں…"

زارون نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا ایک پل کے لیے ایمان کا دل چاہا وہ اسے اصغر کی اصلیت بتادے مگر یہ مناسب نہ تھا 

"میں بہت تھک گئی ہوں… سونا چاہتی ہوں"

اس نے ارادہ بدلتے ہوئے کہا

"جی آپ آرام کریں شب بخیر"

وہ جیسے ہی کمرے سے باہر گیا ایمان نے دروازہ بند کیا اور بستر پر آ لیٹی نجانے کب اسے نیند لگی اسے پتا ہی نہ چلا 

★☆★☆★☆★

"گھر کے سب لوگ کہاں ہیں؟؟" 

اصغر آج کام سے صبح ہی حویلی سے باہر چلا گیا تھا مگر جب واپس شام کو گھر آیا تو دیکھا گھر پر خاموشی تھی 

"وہ اصغر سائیں اماں سائیں اور باقی کے سب لوگ پرانی حویلی گئے ہیں"

ملازمہ کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"مگر کیوں گئے ہیں؟؟"

"شادی قریب آرہی ہے نہ بس دو دن ہی رہ گئے تو اماں سائیں سمیت باقی سب حویلی کی سجاوٹ اور انتظامات دیکھنے گئے ہوئے ہیں سوائے چھوٹی بی بی کے"

ملازمہ نے تفصیل سے بتایا جس پر اس کے شیطانی دماغ میں پھر سے گھٹیا سوچیں آنے لگیں 

"ہمم ٹھیک ہے…"

وہ اپنے کمرے میں جا کر کپڑے جینج کرتا ہوا باہر آیا جب نظر ایمان کے کمرے کے کھلے دروازے پر گئی بے حد کمینگی والی مسکراہٹ اس کے لبوں پر نمودار ہوئی تھی 

"تو مطلب وقت آ چکا ہے…"

اصغر خود کلامی کرتا ہوا اس کے کمرے کی جانب بڑھا وہ اس وقت کتاب پڑھنے میں مصروف تھی جب اسے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی وہ اچانک سے چونک کر کھڑی ہوئی جب نظر کمرے میں موجود اصغر پر گئی جو کھڑا ہوا سرتا پیر اسے گھور رہا تھا

"یہ کیا بدتمیزی ہے؟؟"

ایمان نے غصے سے کہا 

"یہ بدتمیزی نہیں بدلہ ہے میری جان…پہلے تو میں نے سوچا تھا کہ میں صرف زارون سے بدلہ لوں گا اسے تم سے دور کر کے… لیکن تمہارے اس تماچے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا… اب جب تک میں تمہیں پوری طرح اپنے قدموں میں نہ گرا دوں مجھے سکون نہیں آئے گا" 

وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا وہ پیچھے کو ہوتی چلی جارہی تھی 

"خبردار جو میرے قریب بھی آئے تو… میں شور مچا دوں گی…"

ایمان نے سرد لہجے میں کہا 

"بکواس بند کرو…!!!"

اصغر غصے سے چلایا تھا جس پر وہ ڈری تھی آخر تو ایک لڑکی تھی نہ بھلہ کیسے کسی کی ایسی حرکت برداشت کرتی

★☆★☆★☆★

"سائیں سردار ہماری پرانی زمینوں میں سے چند زمینیں بیچ دی گئی ہیں"

سامنے کھڑے آدمی کی بات سن کو وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا وہ اس ہی وقت کرسی سے کھڑا ہوا، سامنے رکھی میز پر زمینوں کے کاغذات بکھرے پڑے تھے

"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ہاشم صاحب؟؟ ایسا کیسے ممکن ہے؟؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کوئی بنا کسی ٹھوس ثبوت کے ہماری زمین کو بیچ دیتا ہے؟؟ وہ بھی صرف چند روپیوں کے لیے"

زارون کشمکش میں مبتلا پیشانی رگڑتے ہوئے گویا ہوا جس پر سامنے کھڑے شخص نے باہر سے کسی کو اشارہ کر کے اندر بلایا 

"سائیں سردار یہ ہے وہ شخص جب ہماری زمین کا سودا ہورہا تھا تب یہ وہیں موجود تھا"

زارون نے ایک نظر اس آدمی کو دیکھا وہ کوئی عام سا ہی لگ رہا تھا 

"ناممکن… یہ ممکن ہو ہی نہیں سکتا یقیناً وہ ثبوت جھوٹے ہوں گے…بتاؤں آخر یہ سب کیسے ہوا؟؟"

زارون نے پورے یقین کے ساتھ کہتے ہوئے سامنے کھڑے شخص سے سوال کیا

"سائیں سردار ملک سلطان اپنے کچھ آدمیوں کے ساتھ آکر آپ کی پرانی زمین کا سودا کر رہا تھا اور ساتھ ہی بہت بڑی رقم بھی لایا تھا…"

اس نے ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا

"کیا؟؟ ملک سلطان؟؟ ہمارے مخالف نے وہ زمین خریدی ہے؟؟ مگر ایسا کیسے ممکن ہے کون اتنی جرات کر سکتا ہے؟؟ اگر واقعی اس نے یہ زمین خریدی ہے تو زمین کے کاغذات اصلی ہوں گے…"

زارون نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اور اسے جانے کا اشارہ کیا جس پر وہ آدمی چلا گیا

"سائیں سردار کیا لگتا ہے؟؟ کیا حویلی سے کسی نے کاغذات…"

وہ مزید کچھ بول نا سکا کیونکہ وہ زارون کے غصے کو جانتا تھا 

"اگر واقعی ایسا ہے تو جس نے یہ حرکت کی ہے… میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا"

وہ ارادہ کرتا ہوا واپس اپنی حویلی کے راستے نکل گیا

★☆★☆★☆★

"آپ مانیں نہ مانیں مگر مجھے سو فیصد یقین ہے اماں سائیں آپ کی لاڈلی پوتی ضرور کسی نہ کسی غلط چکر میں پڑ چکی ہے دیکھ لئے گا ایک دن یہ لڑکی ہم سب کی نظروں میں گر جائے گی"

تہمینہ بیگم کی بات پر اماں سائیں نے اسے گھورا وہ لوگ پرانی حویلی میں زارون کے کمرے میں موجود تھے جو تقریباً سج ہی چکا تھا 

"زبان کو لگام دو تہمینہ بہو… اگر کسی نے ایسی گفتگو سن لی تو ایمان کا تو پتا نہیں مگر تم سب کی نظروں میں ضرور گر جاؤ گی"

انہوں نے اسے ٹوکا جس پر وہ منہ بنانے لگی

"اماں سائیں آپ کو میں پچھلے ایک ہفتے سے سمجھا رہی ہوں مجال ہے جو آپ نے میری ایک بھی بات مانی ہو تو… جب تک آپ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتیں آپ کو یقین نہیں آئے گا"

انہوں نے پھر زہر گھولنا چاہا

"کیا تم نے اسے دیکھا ہے کبھی کوئی غلط حرکت کرتے ہوئے؟؟"

زلیخا بیگم نے سوال کیا جس پر وہ خاموشی سے آنکھیں مٹکانے لگی

"اماں سائیں وہ دن بھی دور نہیں… میں نے آپ کو بتایا تھا نہ وہ اصغر کے آگے پیچھے…"

"بس تہمینہ بیگم!!! وہ اس کے بڑے بھائی کی جگہ ہے کیا اول فول بکتی جارہی ہو"

اماں سائیں نے اس بار اونچی آواز پر کہا تھا جس پر زویا جو باہر کھڑی ہوئی اپنے بھائی سے کال پر پلان بنا رہی تھی اب اندر کو آئی

"اماں سائیں ممی جی نہ کچھ اول فول نہیں بکتیں… یہ دیکھیں ابھی ابھی بھیا کی کال آئی ہے وہ پرانی حویلی کے لئے نکل ہی رہے تھے جب ایمان نے انہیں گھر میں بلایا ہے… اس وقت وہ گھر میں اکیلی ہے جانتی ہیں نہ آپ؟؟"

اماں سائیں نہ سمجھی سے ان دونوں ماں بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جو ان کے کان بھرنے کا کوئی موقع جانے نہ دیتی تھیں

"اماں سائیں سائیں سردار حویلی گئے ہیں شاید کچھ بھول گئے تھے انہوں نے کہا تھا آپ کو بتادوں…"

ملازمہ کی بات پر جہاں اماں سائیں خوفگی کی کیفیت میں مبتلا تھیں وہیں وہ دونوں ماں بیٹیاں انتہائی خوش دکھائی دے رہی تھیں

"شفیق کو بلاؤ ہمیں ابھی اس ہی وقت حویلی جانا ہے… ہمیں لگتا ہے یہ جھوٹ ہے ایمان ایسی نہیں ہے…"

اماں سائیں کی بات پر وہ دونوں ماں بیٹی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگی تھیں جبکہ اماں سائیں کا دل پھٹا جارہا تھا 

وہ لوگ حویلی کے لئے نکل گئے تھے زارون کی گاڑی ان سے کافی آگے جا چکی تھی 

"سن زویا… کیا کام بن چکا ہوگا؟؟"

تہمینہ نے سرگوشی کی

"ارے ممی جی آپ بلکل بےفکر رہیں زارون کا اعتبار آج اس پر سے اٹھ جائے اور وہ نہ صرف زارون بلکہ سب کی نظروں سے گر چکی ہوگی"

زویا کی بات پر وہ شیطانی انداز میں مسکرائیں

★☆★☆★☆★

"تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے شور مچانے پر سب یہاں اکھٹا ہوکر تمہیں ڈیفینس کریں گے اور مجھے غلط سمجھیں گے؟؟ غلط فہمی ہے تمہاری باہر سے پڑھ کر آئی ہوئی ایک بگڑی لڑکی پر بھلہ کون یقین کرے گا؟؟"

اس کی لال آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی 

"زارون کرے گا مجھ پر یقین… جب میں اسے تمہاری حقیقت بتاؤں گی انسان کی کھال میں چھپے بھیڑیے ہو تم…"

ایمان نے حقارت بھری نگاہوں سے اسے دیکھا جو مکرو چہرہ لئے مسکرا رہا تھا 

"کیا سچ میں؟؟ کیا کہو گی تم اسے؟؟ کہ چوھدری اصغر علی نے تمہاری عزت پر ہاتھ ڈالا ہے؟؟ اور وہ مان لے گا؟؟"

اس نے تعجب سے سوال کیا جس پر ایمان اسے گھورنے لگی

"چلو مان لیتے ہیں اگر اس نے مان بھی لیا کہ یہ سب میں نے کیا ہے… تو کیا وہ تمہیں اپنا لے گا؟؟"

اس نے فاتحانہ انداز میں کہا جس پر ایمان ساکت رہ گئی تھی 

"ویسے میں بلکل بھی نہیں چاہتا کہ میں انتی جلدی تمہارے ساتھ کچھ غلط کروں… لیکن وہ کیا ہے نہ مجھے جلد سے جلد سرداری چاہئے اور اس کے لئے مجھے زارون کو توڑنا ہوگا… اب ظاہر سی بات ہے تم اس کی کمزوری ہو تبھی تو میں تمہیں …"

وہ مزید قریب آتا جب ایمان نے ایک اور تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا جس پر وہ آنکھیں پھاڑتا ہوا خونخوار نظروں سے اسے دیکھنے لگا 

"اوقات کیا ہے تیری ہاں؟؟ تجھ جیسی کتنی لڑکیوں کو میں اپنے پیروں کی دھول بنا چکا ہوں"

اصغر نے بھڑکتے ہوئے آگے بڑھ کر ایمان کے بالوں کو اپنی گرفت میں لیا 

"آآہ دور ہٹو جنگلی جاہل انسان… میں تمہاری جان لے لوں گی"

ایمان نے چینختے ہوئے کہا مگر اس کی آواز اس کمرے سے باہر نہ جا سکی 

"جان تو اب میں لوں گا تیری… اب دیکھ تو تیرے ان تماچوں کی سزا تجھے کس صورت میں دیتا ہوں میں"

ایک جھٹکے سے اسے بیڈ پر اچھال کر وہ ابھی اس کی جانب لپکتا ہی جب دھڑام کی آواز سے دروازہ کھلا 

وہ پلٹ کر خوفگی سے دیکھنے لگا زارون نے اسے گریبان سے جکڑ کر پیچھے دھکیلا جس سے وہ زمین پر جا گرا جبکہ ایمان نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تب ہی اماں سائیں لوگ بھی حویلی پہنچے زارون کے ہاتھ میں بندوق تھی

یہ لیلہ ہی تھی جس نے اصغر کی نظروں کو پہچان لیا تھا اس نے اسے ایمان کے کمرے میں جاتا دیکھ کر گھر کے ٹیلی فون سے زارون کو کال کی تھی اور ساتھ ہی چھپ کر کمرے کے باہر سے اصغر کی تمام باتیں سن لی تھیں

"زارون تم دیکھ رہے ہو نہ یہ یہ لڑکی ہم دونوں بھائیوں کے بیچ دراڑ پیدا کرنا چاہتی ہے… اس نے خود فون کر کے مجھے یہاں بلایا تھا"

اصغر کی نظر جب زارون کی بھوری آنکھوں پر گئی جو غصے میں لال ہو چکی تھیں اور ہاتھ میں بندوق تھی تو وہ جھوٹی باتیں بنانے لگا

"مجھے نہ صرف ایمان سے عشق ہے بلکہ اس کے کردار کی پاکیزگی پر پورا بھروسہ ہے پھر چاہے وہ دنیا کے کسی حصے میں کیوں نہ چلی تھی مجھے اس پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے وہ آج بھی اتنی ہی پاکیزہ ہے جتنی پیدا ہونے کے بعد تھی"

زارون نے سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے اپنے الفاظ کہے تھے جبکہ ایمان یوں ہی ساکت سی اسے دیکھ رہی تھی

"زارون یہ سب جھوٹ ہے… تم سمجھنے کی کوشش کرو میں تو یہاں کسی ضروری کام سے آیا تھا…"

اصغر بوکھلاتے ہوئے کھڑا ہوا اور صفائیاں دینے لگا 

"جانتا ہوں میں آپ کے ضروری کاموں کو آپ اور آپ کی وہ بہن مل کر کس طرح میرے بند کمرے سے زمین کے کاغذات نکالتے ہیں اور جو سودا آپ کل کر کے آئیں ہیں… وہ آپ کو بہت بھاری پڑھنے والا ہے"

زارون کی بات ختم نہیں ہوئی تھی جب صدیق صاحب جنہیں سب کے واپس حویلی جانے کی اطلاع ملی تھی تب وہ بھی وہاں پہنچ چکے تھے یوں سب کو سیڑھیوں کے نیچے کھڑا پا کر خود ایمان کے کمرے کی جانب بڑے 

"زارون مجھے معاف کردو مجھے پیسوں کی ضرورت تھی…"

اس نے بے بس لاچاروں کی طرح ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا

"تو آپ مجھ سے مانگ لیتے میں جان بھی دے دیتا مگر آپ کی نیت ہمیشہ سرداری پر تھی…"

زارون کی آواز اتنی اونچی تھی کہ پوری حویلی اکٹھا ہو گئی تھی

"زارون بیٹا یہ کیا کر رہے ہو؟؟"

صدیق صاحب کو سمجھ نہیں آرہا تھا یہاں ہوا کیا تھا 

"زارون بیٹا اللّٰہ کا واسطہ کچھ غلط نہ کردینا…"

نیچے اماں سائیں پریشانی کی حالت میں اسے روکنے کی کوشش میں تھیں مگر اس کے دماغ پر اس وقت غصہ سوار تھا

"زارون ہاں میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا ملک سلطان کو زمین بیچ کر لیکن یہ یہ جو کچھ تم سمجھ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہے تم تو جانتے ہو میں ایسا نہیں ہوں"

اس نے پھر سے صفائی دینا چاہی

"زارون یہ لڑکی مجھے پھنسا رہی ہے اس نے خود کال کر کے مجھے یہاں بلایا تھا یہ جھوٹ بول رہی ہے"

وہ ایمان کی جانب اشارہ کر کے چینخا جس پر زارون افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا

"یہ جھوٹ بول رہی ہے؟؟ اس نے تو اب تک کچھ بولا ہی نہیں…"

زارون نے ایک نظر ایمان کی جانب دیکھا جس کا پورا چہرہ اشکوں سے لبریز ہوچکا تھا

"زارون بیٹا بندوق نیچے کرو…"

صدیق صاحب سمجھ چکے تھے آخر مسئلہ کیا ہوا تھا جبکہ اماں سائیں کا رو رو کر برا حال تھا 

"زارون مجھے معاف کردو"

زارون کا غصہ دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا زارون اس پر کبھی یقین نہیں کرے گا

"دھوکے کی تو معافی مل سکتی ہے مگر آپ نے عزت پامال کرنے کی کوشش کی ہے اور جانتے ہیں زارون کی زندگی میں اس حرکت کی کیا سزا ہے؟؟"

اس نے سرد لہجے میں کہا جس پر سب اس کی جانب دیکھنے لگے

"موت…"

زارون نے اس کی پیشانی پر بندوق رکھی تھی تہمینہ بیگم اور زویا کی چینخیں پہلے ہی نکلنا شروع ہوچکی تھیں مگر کسی کی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ آگے بڑھ کر اسے روک سکے

(دو ہفتے بعد)

"ایمان علی ولد صدیق علی آپ کا نکاح چوھدری زارون علی ولد بادشاہ علی سے تیس کروڑ سکا رائج الوقت کرایا جارہا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟…"

وہ عروسی لباس میں ملبوس اپنی خوبصورت سرخ آنکھوں  میں کاجل لگائے ہونٹوں پر ہلکی سی سرخی لگائے بالوں کا موتیے کے پھول سے سجھا جوڑا بنائے بیش قیمتی چمکدار زیورات زیب تن کئے زارون کی دلہن کے نام کے بنائے ڈوپٹے کا گھونگھٹ کئے ساخت بیٹھی ہوئی تھی 

ان کا نکاح برسوں سے چلتی ہوئی روایت کے مطابق پرانی حویلی میں رکھا گیا تھااس بڑے سے ہال میں تقریباً تین سو سے زائد افراد ٹہرے ہوئے تھے

"ایمان علی ولد صدیق علی آپ کا نکاح چوھدری زارون علی ولد بادشاہ علی سے تیس کروڑ سکا رائج الوقت کرایا جارہا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟…"

اس کے سامنے ہی زارون کو بٹھایا گیا تھا ان کے درمیان خوبصورت گلاب کے پھولوں کی دیوار بنائی گئی تھی جن میں سے بامشکل زارون کو اس کا چمکتا ہوا ڈوپٹہ دکھائی دے رہا تھا 

حسبِ روایت زارون نے دولہا اور ایک سردار کی حیثیت سے سب سے الگ بیش قیمتی لباس زیب تن کیا تھا ہلکے سنہرے رنگ کی شیروانی جس کے ساتھ سفید رنگ کا پاجامہ ساتھ ہی ان کا روایتی پگڑا پہنے وہ آج دنیا کا سب سے خوبرو نوجوان اور رعب دار شخصیت کا مالک لگ رہا تھا 

"ایمان علی ولد صدیق علی آپ کا نکاح چوھدری زارون علی ولد بادشاہ علی سے تیس کروڑ سکا رائج الوقت کرایا جارہا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟…"

مولوی صاحب نے یہی جملہ تیسری بار دہرایا تھا جبکہ سب کے سب ایمان کو حیران کن انداز میں دیکھ رہے تھے جو انہیں مینچے اپنے دل پر پتھر رکھے اپنے بابا کی دی ہوئی قسموں پر مجبور بے بس سی زندہ لاش بنی بیٹھی تھی جبکہ اس کی کاجل سے بھری آنکھوں سے آنسوؤں کے بہنے کا عمل اب تک جاری تھا 

"ایمان… بیٹا جواب دو… قبول کرو…"

صدیق صاحب جو اس کے برابر بیٹھے تھے اسے خاموش پا کر ہوش کی دنیا میں لانے لگے زارون ضبط کئے بیٹھا مسلسل پھولوں کی دیوار کے دائیں جانب گھونگھٹ میں بیٹھی لڑکی کو دیکھ رہا تھا 

"ایمان… میری عزت کا پہلے ہی بہت تماشا بن چکا ہے مزید نہ بناؤ…کیا تم میرا مرا ہوا منہ دیکھنا چاہتی ہو؟؟"

انہوں نے تڑپ کر کہا جس پر وہ اپنی سرخ آنکھیں لئے انہیں دیکھنے لگی جن کی آنکھیں پہلے ہی سے نم تھیں

"قبول ہے…"

ایک نگاہ اپنے جان سے پیارے والد پر ڈال کر وہ زیر لب گویا ہوئی جس پر جہاں سب کی جان میں جان آئی تھی وہیں زارون کے دل کو قرار سا ملا تھا ایمان نے پیپرز پر سائن کیا اور سب نے دعا پڑھی 

نکاح مکمل ہوچکا تھا مگر تقریب اب بھی جاری تھی گاؤں کی عورتیں کافی تعداد میں زارون کی بیوی کی حیثیت سے اس کا چہرہ دیکھنے آرہی تھی مگر وہ یوں ہی سر جھکائے ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھی 

"زارون… جاؤ ایمان کا گھونگھٹ اٹھاؤ…"

اماں سائیں کی بات پر زارون حیرت سے انہیں دیکھنے لگا جو پہلے ہی اس کی جانب متوجہ تھیں

"ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟؟ بیٹا یہ رسم ہے… جاؤ گھونگھٹ اٹھاؤ اس کا… اب وہ تمہاری بیوی ہے"

اماں سائیں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جس پر وہ بنا کچھ کہے پھولوں کی دیوار میں پھولوں کو پرے کرتا ہوا دوسری جانب آیا جہاں وہ ساخت سی بیٹھی اپنی بے بسی کا سوگ منا رہی تھی 

زارون نے آگے بڑھ کر اسے شانوں سے چھوا اور اپنے مقابل کھڑا کیا اس کے شوہر کی حیثیت سے دونوں ہاتھوں سے اپنے نام کا دوپٹہ اٹھائے وہ اس کے صاف و شفاف ہر گناہ سے پاک چہرے کو دیکھنے کا خواہشمند تھا

 مگر جب نظریں اس کی بھوری آنکھوں سے ٹکرائیں تو ایک درد سا دل میں اٹھا تھا وہ سرخ آنکھیں جو مسلسل رونے کی وجہ سے مکمل لال ہوچکی تھیں اب زارون کی تکلیف کی وجہ بن رہی تھیں وہ زیادہ دیر اس کی آنکھوں میں نہ دیکھ پایا تھا اس کے حسین سراپے پر ایک نگاہ ڈال کر وہ واپس گھونگھٹ سے چہرہ ڈھانپتا ہوا باہر کو چلا گیا تھا 

تقریباً چار پانچ گھنٹوں تک ان کی رسمیں جارہی رہیں زارون نے ایک مرتبہ بھی دوبارہ اس کی جانب نہ دیکھا تھا وہ نیچے نظریں کئے اس کی اور اپنی تمام رسومات اماں سائیں کے کہنے پر ادا کر رہا تھا 

چھوٹی موٹی رسمیں پوری ہونے کے بعد ایمان کو زارون کے کمرے میں لے جایا گیا جو اب اس کا بھی تھا چاروں طرف پھول ہی پھول تھے پورا کمرہ پھولوں سے سجایا گیا تھا ایک خالی دیوار پر ایمان اور زارون کی کچھ ساری تصویریں لگی ہوئی تھیں یہ کمرہ کافی بڑا تھا یہاں ضرورت کی ہر چیز موجود تھی 

وہ اپنا جوڑا سنبھالتے ہوئے پھولوں سے سجے بستر پر جا بیٹھی جو کہ اصل میں اس کی قبر تھی وہ بے بسی سے اپنی گلاب کے پھولوں سے سجی قبر پر بیٹھ کر اپنی موت کا ماتم منا رہی تھی

اسے یہاں بیٹھے دو گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا روایت کے مطابق شادی کی تمام رسومات ادا کرنے کے بعد اسے تھکن کا احساس ہورہا تھا وہ بیڈ کے سرہانے سر ٹکائے آنکھیں موند گئی تھی تب ہی کسی نے دروازہ کھولا تھا جس کی آواز اس کی نیند میں خلل پیدا کر چکی تھی

★☆★☆★☆★

(کچھ دن پہلے)

"زارون رک جاؤ تمہیں اماں سائیں کی قسم"

وہ جو غصے کی آخری حدوں پر تھا صدیق صاحب کی بات پر اس کے ہاتھ سے بندوق زمین پر جا گری تھی زارون افسوس بھری نگاہوں سے اپنے بیچھے کھڑے اپنے چاچا کو دیکھ رہا تھا جہنوں نے آج اسے بے انتہا مجبور کر دیا تھا 

وہ ایک نظر اپنی محبت پر ڈالے بڑے بڑے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا مگر کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا اسے اپنا غصہ ہر صورت قابو کرنا تھا ورنہ وہ اپنی جان بھی لے سکتا تھا

رات جب وہ واپس حویلی آیا تو اماں سائیں نے ملازم سے کہہ کر اسے ہال میں بلایا جہاں کچہری لگی ہوئی تھی اماں سائیں کے حکم پر وہ وہاں آیا جہاں عدالت سا سماں تھا

ایک کٹہرے میں اصغر جبکہ دوسرے کٹہرے میں اپنی محبت کو کھڑا پا کر وہ بے یقینی سے اماں سائیں کو دیکھ رہا تھا اطراف میں بیٹھے تماشائی لوگ کاروائی شروع ہونے کے انتظار میں تھے اماں سائیں کا فیصلہ آخر تھا 

"زارون یہاں سامنے بیٹھو…"

اماں سائیں نے سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا مگر وہ نہ بیٹھا پہلی بار اس نے اماں سائیں کی بات نہ مانی تھی وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھیں باقی کے لوگ حیران تھے 

"میں نے کہا یہاں بیٹھو…"

اماں سائیں کا لہجہ اس دفع سخت تھا مگر وہ صرف نظریں جھکائے کھڑا تھا جیسے اصل مجرم وہی تھا اماں سائیں کو اب غصہ آرہا تھا 

"زارون… کیا تمہیں سنائی نہیں دے رہا میں نے کیا کہا ہے؟؟"

انہوں نے زارون کی جانب بھڑ کر کہا 

"اماں سائیں میں نہیں جانتا کس نے کیا کہانی بنائی ہے مگر میرا دل اس بات کا گواہ ہے میری ایمان پوری طرح پاک اور بے قصور ہے"

زارون نے ایمان کی جانب دیکھتے ہوئے جس کے الفاظ سن کر ایمان آنسوؤں کو رگڑتے ہوئے بڑی حیرت سے اسے دیکھنے لگی جو اب تک اس ہی کی حمایت کر رہا تھا اماں سائیں کے چہرے پر سخت تاثرات نمایاں ہوئے 

"میں نے تم سے یہ نہیں پوچھا کہ کون قصور وار ہے کون بے قصور، میں جہاں تمام مسائل کا حل چاہتی ہوں"

اماں سائیں نے سب پر نظر ڈوراتے ہوئے اپنی بات مکمل کی

"اماں سائیں واقعی؟؟ پھر آپ نے ایمان کو کٹہرے میں کیوں لا کھڑا کیا؟؟"

آج وہ کہیں سے بھی پہلے والا زارون نہ لگ رہا تھا جو اماں سائیں کے ایک حکم پر جان ہتھیلی پر رکھ دیتا تھا وہ آج صرف اور صرف ایمان کا زارون لگ رہا تھا جسے بچپن ہی سے ایمان سے شدت سے عشق تھا جو پاگلوں کی طرح اس کے عشق میں دیوانہ تھا 

"زارون… سوال پر سوال مت کرو… آخر کیا مطلب سمجھوں میں تمہارے اس لہجے کا؟؟"

اماں سائیں کی آواز پر جہاں سب چونکے تھے وہیں زارون ان کی جانب دیکھنے لگا جنہوں نے آج سے پہلے کبھی اس سے اس لہجے میں بات نہ کی تھی 

"معاف کیجئے گا اماں سائیں لیکن جس عدالت میں میری محبت کو سب کے سامنے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے میرے لئے اس جگہ بیٹھنا حرام ہے…"

زارون نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا جس پر اماں سائیں اسے تعجب سے دیکھنے لگیں سب کو یہ تو پتا ہی تھا وہ بچپن سے ہی ایمان کو چاہتا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پیار میں اتنی شدت آجائے گی اس کا تصور تو شاید اس نے خود بھی نہ کیا ہوگا

"اگر تمہیں واقعی اپنی محبت کا یہاں کٹہرے میں کھڑا رہنا ناقابلِ برداشت لگ رہا ہے تو پوچھو اس سے، پوچھو اس سے کہ آخر یہاں تک آنے کی نوبت آئی ہی کیوں؟؟"

اماں سائیں نے سخت ناگواری سے ایمان کو دیکھا تھا جو سب کی آنکھوں میں اپنے لئے حقارت محسوس کر کے تکلیف کی انتہا پر تھی

"اماں سائیں میں اس سے ایک لفظ بھی صفائی نہیں مانگوں گا… کیونکہ مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے… پھر چاہے پوری دنیا ہی کیوں نہ اس کے خلاف ہوجائے مگر… مگر میں کبھی بھی اس کے خلاف نہیں جاؤں گا میں کبھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا"

زارون کی نظریں اس کی سرخ آنکھوں سے جا ملی تھیں اس کی بھوری آنکھوں کی عجب کشش تھی ایمان کا دل دھڑک رہا تھا اسے اس وقت صرف زارون اپنا لگ رہا تھا 

"ٹھہرو، ابھی ہم کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے جب تک سب کی بات نہ سن لی جائے"

اماں سائیں کے اشارے پر سب سے پہلے زویا بول اٹھی

"اماں سائیں قسم لے لیں ہم سب کہہ رہے ہیں یہ لڑکی جب سے یہاں آئی ہے اس کی نظر ایک بار بھی زارون پر نہیں گئی جب سے اصغر بھیا یہاں آئے ہیں وہ جہاں بھی ہوتے ہیں ایمان ان ہی کے ساتھ دکھائی دیتی ہے"

زویا کی بات پر ایمان بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی جبکہ اصغر کے مکرو فریب چہرے پر کمینگی والی مسکراہٹ آئی تھی 

"اور آج جو کچھ تم مجھے حویلی میں بتا رہی تھیں کیا وہ سب سچ تھا؟؟"

اماں سائیں نے ایک اور سوال کیا

"جی ہاں اماں سائیں نہ صرف آج بلکہ ایمان کو میں نے کئی بار اصغر بھائی کو اشارے کرتے دیکھا تھا مگر میں کہتی بھی کیا چپ رہے مگر آج تو اس نے حد ہی کردی اکیلے گھر میں بھائی کو کال کر کے ہی بلا لیا"

وہ اپنا بدلہ لے رہی تھی نجانے ایمان نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا تھا جو وہ جھوٹ ہو جھوٹ بولی جارہی تھی زارون نے سرد تاثرات لئے اس جھوٹی لڑکی کو دیکھا جو جب سے زہر اگل رہی تھی

"اصغر… کیا واقعی ایمان نے تمہیں فون کر کے بلایا تھا؟؟"

اماں سائیں نے اصغر سے پوچھا 

"جی ہاں اماں سائیں اس نے کہا تھا اسے کچھ ضروری بات کرنی ہے میں جب گھر آیا تو کوئی نظر نہ آیا اس لئے میں اس کے کمرے کی جانب بڑھ گیا اور اندر جاتے ہی…"

اصغر جھوٹ کی انتہا پر تھا مگر آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب زارون کی سرخ آنکھیں اس پر مرکوز ہوئیں 

"کہو چپ کیوں ہوگئے؟؟"

"اماں سائیں سچ تو یہ ہے ایمان کو میں اپنی چھوٹی بہن سمجھتا تھا لیکن پچھلے کچھ دنوں پہلے ایمان کئی بار مجھ سے یہ کہہ چکی تھی کہ اسے زارون جیسے گھٹیا شخص سے شادی نہیں کرنی…"

اس نے بات کو ایک نیا رخ دیتے ہوئے کہا ایمان نے ایبرو کا زاویہ بناتے ہوئے زارون کو دیکھا جیسے یقین دلا رہی ہو کہ یہ جھوٹ ہے

"کیا وجہ بتائی اس نے تمہیں؟؟"

اماں سائیں نے پھر سے سوال کیا

"وہ کہہ رہی تھی اسے ایک گاؤں میں رہنے والے عام سے سادہ مزاج لڑکے سے شادی نہیں کرنی وہ ایک پڑھا لکھا لڑکا چاہتی ہے میں نے اسے بہت سمجھایا مگر اگلے ہی دن اس نے یہ کہا کہ یہ مجھ سے شادی کرنا پسند کرے گی مگر زارون سے نہیں، اور آج مجھے نہیں پتا آخر ایمان نے ایسا کیوں کیا تھا لیکن میری اس میں کوئی غلطی نہیں"

چہرے پر کمینگی لئے اس نے ایمان کو دیکھا جو مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی

"جھوٹ… جھوٹ ہے یہ اماں سائیں… زارون یہ جھوٹ…"

"چپ…تم بلکل چپ رہو…"

ایمان کی بات ابھی ادھوری تھی جب اماں سائیں اس پر بھڑک پڑھیں 

"تمہیں شرم نہیں آئی اصغر؟؟ جب تم اسے اپنی چھوٹی بہن مانتے تھے تو آخر کیسے تم اس کے کمرے میں گئے تھے؟؟ کہاں تھی تمہاری غیرت؟؟"

"اماں سائیں جب اسے ہی اپنی عزت کا خیال نہ تھا تو میں بھلہ کیا کرتا"

اماں سائیں نے چینختے ہوئے کہا جس پر اصغر نے مختصر سا کہہ کر سر جھکالیا

"بات سنو اصغر میاں عزت صرف عورتوں کی نہیں ہوتی مردوں کی بھی ہوتی ہے تم نے آخر ایسا کیا بھی کیسے؟؟"

اماں سائیں کی بات پر ایمان زارون کو دیکھنے لگی جس نظریں جھکائے مٹھیاں بینچیں بامشکل وہاں رکا ہوا تھا جبکہ صدیق صاحب کو اب اپنے سینے میں درد محسوس ہونے لگا تھا ان کی آنکھیں تر ہوچکی تھیں 

"اماں سائیں بس کردیں آپ ان باتوں جو ختم کردیں کہ کس کی غلطی تھی کس کی نہیں اب پوچھیں اس بے شرم بے حیا لڑکی سے کہ اس نے ہماری کچھ عزت بچائی یا سب نیلام کر بیٹھی ہے"

تہمینہ بیگم جو کافی دیر سے خاموش کھڑی مزے لے رہی تھیں اب اونچی آواز میں گویا ہوئیں جس پر اماں سائیں چکی نظروں سے ایمان کی جانب دیکھنے لگیں تہمینہ بیگم کی بھڑکائی ہوئی آگ پھیلتی دکھائی دے رہی تھی

زارون کو وہ ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں مگر وہ صرف اپنے چاچو کی بیوہ ہونے پر ان کا لحاظ کرتا تھا ورنہ وہ سب سے پہلے اس عورت کی زبان گدی سے الگ کرتا باقی حساب بعد میں پورا ہوتا

"اماں سائیں بس!!! بہت ہوا!!! مجھے اور چاچا جان کو مزید رسوا نہ کریں!!! ہاتھ جوڑتا ہوں میں آپ کے آگے بس کردیں ورنہ آج کسی نہ کسی کی تو لاش اس حویلی سے باہر جائے گی ہی ساتھ میری بھی قبر اس حویلی میں بن جائے گی"

زارون ہاتھ جوڑتے ہوئے کہنے لگا تھا آنکھیں بے انتہا سرخ تھیں جو رونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ لال ہوچکی تھیں صدیق صاحب بے بس سے تماشا دیکھ رہے تھے انہیں اپنی جان جاتی محسوس ہورہی تھی

"رسوا؟؟ کیا میں نے تمہیں رسوا کیا ہے؟؟ تم اس لڑکی کی حرکت نہیں دیکھ رہے؟؟ چلو مان لیتی ہوں کہ اصغر غلط ہے مگر کہیں نہ کہیں تو اس کی بھی غلطی ہوگی نہ تمہیں دکھائی کیوں نہیں دے رہا؟؟" 

اماں سائیں کو اب زارون کے بھروسے پر غصہ آرہا تھا 

"آپ نے اسے کچھ کہنے کا موقع ہی کب دیا اماں سائیں؟؟"

زارون کے سوال پر وہ خاموش ہوئیں کیونکہ واقعی کچھ ایسا ہی تھا اماں سائیں کے اشارے پر ایمان کے لب ہلے تھے اس نے ایک ایک بات تفسیل سے وہاں موجود سب لوگوں کے سامنے بیان کی تھی

"میں کیسے مان لوں تم سچ کہہ رہی ہو؟؟"

اماں سائیں نے ایبرو اچکائے اس سے سوال کیا جس پر وہ زارون کی جانب سرخ نظروں سے دیکھنے لگی 

"ایک اور گواہ ہے اماں سائیں… لیلہ اندر آؤ…"

لیلہ کا نام سن کر اصغر کے ہوش اڑ گئے تھے لیلہ نے آتے ہی سب سچ بتانا شروع کیا کہ کس طرح اس نے اصغر کو کافی بات ایمان کو تنگ کرتے اسے پریشان کرتے دیکھا تھا

کس طرح اصغر جان بوجھ کر ایمان کے کمرے میں گیا تھا اور زارون کی زمین کو بنا اجازت بیچنے کی حرکت بھی اصغر کی تھی جو کہ آج اس نے خود ایمان کے سامنے اعتراف کیا تھا 

اب کچھ سچ جان کر اماں سائیں سمیت صدیق صاحب کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی اب سمجھ آیا تھا انہیں کہ اصغر زارون سے اس کا حق چھیننا چاہتا تھا جس کے لئے اس نے دشمن تک سے کٹھ جوڑ کرلیا تھا اصغر کو لگا تھا اب اس کا کھیل تمام ہونے والا ہے اپنے شیطانی دماغ میں وہ ایک اور نئی کہانی گڑنے لگا تھا

★☆★☆★☆★

"اماں سائیں ہاں میں نے یہ سب کیا ہے مگر ایمان اور میرے درمیان جو کچھ ہوا اس میں ایمان کی بھی مرضی تھی"

اس نے ایمان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی جبکہ ایسا کچھ بھی نہ تھا وہ صرف ایمان کو زارون سے دور رکھ کر زارون کو تکلیف دینا چاہتا تھا 

"زبان کو قابو میں رکھو اصغر… ورنہ جڑ سے الگ کردوں گا"

زارون بنا کوئی لحاظ کئے دھاڑا تھا جس پر سب اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے

"میں زبان قابو میں رکھوں؟؟ جب تمہاری منگیتر خود کو قابو نہ کر سکی تو چلے مجھے سکھانے ہاں؟؟"

اصغر نے پلٹ کر الٹا اسے جواب دیا

"ایمان بتاؤ سب کو تمہارے مجھ سے تعلق پہلے ہی دن سے تھے بس ہم نے سب سے چھپایا تھا، بتاؤ تم نے کس طرح مجھے اپنی طرف راغب کیا تھا"

ایمان کان پر ہاتھ رکھے مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی جبکہ اصغر کی گھٹیا گفتگو پر زارون نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر زور دار مکا مارا جس سے وہ زمین پر گرتے گرتے بچا

ایک شور سا تھا جو اس کے غصے پر تھم سا گیا تھا مگر اب غصہ دونوں طرف تھا آگ دونوں طرف بھڑک چکی تھی اصغر نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا تھا 

"بس کرو تم دونوں."

اماں سائیں کو یقین نہیں آرہا تھا کس طرح وہ دونوں ایک دوسرے کا گریبان پکڑے ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار کھڑے تھے

"اپنی اس گندھی زبان سے میری ایمان کا نام بھی نہ لینا… اور نہ ہی اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرنا ورنہ قسم ہے مجھے اس رب کی میں اب کسی کی قسم پر بھی لحاظ نہیں کروں گا"

زارون نے اس کا گریبان دبوچ کر اسے لال آنکھوں سے گھورا تھا جس کے چہرے پر اب کمینگی والی مسکراہٹ تھی

"اماں سائیں میں آج ابھی اور اس ہی وقت ایمان سے نکاح کرنا چاہتا ہوں"

زارون نہیں چاہتا تھا مزید کوئی بھی اس کی محبت کے کردار پر انگلی اٹھائے اس کی بات سن کر سب کے سب حیران رہ گئے تھے جبکہ اصغر کا قہقہہ نکلا تھا 

"کیا واقعی؟؟ پہلے اس سے تو پوچھ لو جو تمہارے بجائے میرے ساتھ وقت گزارتے تھی کیا وہ تم سے شادی کرنے پر راضی ہے بھی یا نہیں"

شیطانی مسکراہٹ لئے اس نے یہ بات کہیں تھی جس پر ایک اور بار زارون کا تھپڑ اس کے منہ پر جا لگا تھا جس کی وجہ سے ہونٹ سے خون رسنے لگا تھا

"خبردار جو ایک الفاظ بھی اور بولا تو جان لے لوں گا میں تمہاری…"

"نہیں لے پاؤ گے تم… میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک سرداری نہ حاصل کرلوں"

اس نے ارادہ بیان کیا جس پر زارون اسے افسوس بھری نگاہوں سے دیکھنے لگا ایک دن پہلے جسے وہ اپنا بڑا بھائی مانتا تھا آج وہ شخص اس کے سب سے قریبی دشمنوں میں سے ایک تھا 

"گریبان چھوڑو ایک دوسرے کا!!!"

اماں سائیں کی بات پر ان دونوں نے ایک دوسرے کو جھٹکے سے چھوڑا تھا تب ہی صدیق صاحب کے الٹے ہاتھ میں شدت کا درد ہونے لگا جب وہ درد سے تڑپنے لگے سب ان کی جانب متوجہ ہوگئے 

"بابا… بابا جان"

"صدیق… صدیق بیٹا کیا ہوا ہے"

ایمان بھاگتی ہوئی صدیق صاحب کے پاس آئی اماں سائیں بھی بہت پریشان ہوگئی تھیں زارون نے ملازم کو گاڑی نکالنے کا حکم دیا اور انہیں بامشکک سنبھالتے ہوئے گاڑی میں لے گیا ساتھ ایمان بھی تھی 

اس کے جاتے ہی اصغر خاموشی سے باقی کی زمینوں کے کاغذات نکال کر فرار ہوگیا جبکہ تہمینہ بیگم اور زویا بھی ان ہی کے ساتھ اپنا سامان باندھ کر وہاں سے چلی گئیں اور یہ سب کچھ بہت خاموشی سے ہوا تھا کیونکہ اب یہاں ان کا راز فاش ہوچکا تھا ان کا یہاں رہنا ناممکن تھا اب اماں سائیں کو پتا چل چکا تھا تہمینہ اور زویا بھی ملی ہوئی تھیں 

ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ صدیق صاحب کو ہارٹ اٹیک آیا تھا انہیں اب تک اوبضرویشن میں رکھا ہوا تھا جبکہ ایمان کا تو رو رو کر برا حال تھا زارون اسے چپ کرانے کی پوری کوشش کر رہا تھا 

اگلے دن صبح انہیں روم میں شفٹ کردیا تھا ان سے ملنے کی اجازت مل چکی تھی وہ اپنے بابا جان کو بیڈ پر دیکھ کر مزید رونے لگی تھی مگر زارون نے اسے سنبھالا تھا جب وہ لوگ واپس گھر آئے تب اماں سائیں نے ان تینوں کی غیر موجودگی کی اطلاع دی تھی مگر زارون نے کوئی ایکشن نہ لیا تھا 

ایمان کی بے گناہی ثابت ہوچکی تھی صدیق صاحب نے اماں سائیں سے بات کر کے ان دونوں کی شادی کرانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایمان بلکل خاموش تھی کیونکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہوا تھا اس کے لئے اتنی جلدی سنبھلنا مشکل تھا

مگر صدیق صاحب نے اس بار اس سے پوچھے بنا اسے اپنا فیصلہ سنایا تھا جس پر اب وہ کوئی ردعمل نہیں کر رہی تھی شاید نا وہ اظہار کر سکتی تھی نہ انکار اس لئے خاموش سی ہوگئی تھی

کچھ ہی دن میں اپنے بابا کی دی ہوئی قسموں پر اسے رضامند ہونا پڑا تھا اماں سائیں نے تہمینہ بیگم سمیت اس کی دونوں اولادوں کے چلے جانے کی بات وہیں ختم کردی تھی نہ انہیں ڈھونڈا گیا تھا نہ ہی اماں سائیں نے انہیں شادی میں بلانے کا حکم دیا تھا

بس پھر کچھ ہی دنوں بعد ان کا نکاح پرانی حویلی میں رکھ دیا گیا تھا اور اب وہ لوگ نکاح کے ایک پاک بندھن میں بندھ چکے تھے

★☆★☆★☆★

وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اندر آیا ایمان بوجھل آنکھوں سے اسے تک رہی تھی جو اس ہی جی جانب بڑھ رہا تھا ایمان نے اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کیا زارون اس کے سامنے آبیٹھا مسلسل رونے کی وجہ سے اور تھکن ساتھ ہی نیند کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ پڑھ چکی تھیں 

زارون اس کے معصوم چہرے کو دیکھنے لگا جو ابھی کسی بھی تاثر سے پاک تھا زارون اس کے قریب آبیٹھا اس کی قربت محسوس کرتے ہی وہ دوسری جانب رخ کر گئی زارون کو اس کا یہ انداز بلکل پسند نہ آیا تھا لیکن جن حالات میں یہ سب ہوا تھا شاید اس کا یہی نتیجہ نکلنا تھا

"ماشاءاللہ بہت خوبصورت لگ رہی ہو بلکل ایک شہزادی کی طرح حسین…"

زارون نے دھیمے مگر چاہت سے چور لہجے میں کہا جس پر وہ اسے خاموشی سے دیکھنے لگی زارون نے جیب سے ایک باکس نکالا

جس میں ہیرے کی انگوٹھی تھی ایک ہاتھ اس کی جانب بڑھایا جسے وہ تھامنے کے بجائے اسے گھورنے لگی تب ہی اس نے خود اس کا نازک ہاتھ تھاما اور اسے کی انگلی میں اپنے نکاح کے بعد کا پہلا تحفہ پہنا

"بہت خوبصورت دکھائی دے رہی ہے"

زارون کی بات پر ایمان نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تب ہی وہ اس کے مزید قریب آنے لگا ایمان نے یک دم اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے مزید قریب آنے سے روکا جسے وہ حیرت سے دیکھنے لگا

"میں مانتی ہوں میں نے تم سے نکاح کی حامی بھری ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مجھے بھی تم سے محبت ہوگئی، البتہ تم میرے شوہر ضرور ہوؤں گے لیکن مجھے تم سے اس طرح کا کوئی رشتہ نہیں بنانا جیسا تم چاہتے ہو"

ایمان کے الفاظ اس پر پہاڑ بن کر گرے تھے وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا جو سرد لہجے میں کہتی ہوئی اس پاک رشتے کا مذاق بنا رہی تھی

"ایمان یہ آپ کیا کہہ رہی ہو؟؟اپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہو یہ کیسے ممکن ہے؟؟"

اس نے نرمی سے پوچھا جس پر وہ سخت تاثرات لئے اسے گھورنے لگی

"تمہیں کیا لگتا ہے کسی مجبوری کے تحت اگر میں نے تم سے نکاح کر لیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزاروں گی، ایسے خیالات اپنے دل و دماغ سے نکال دو کیونکہ ہم صرف نام کے میاں بیوی ہوں گے"

وہ سمجھ چکا تھا آخر وہ کیا کہنے کی کوشش کررہی تھی زارون افسوس بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا وہاں سے اٹھا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکال کر پہلے باتھ گیا

وہاں سے چینج کر کے اپنا تکیہ اور چادر لئے صوفے پر جا لیٹا تھا جبکہ وہ خاموش بیٹھی اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہی تھی ایک نظر اس نے ایمان کو دیکھا تو ایمان نے نظروں کا رخ بدلہ 

"آپ پریشان نہ ہوں آپ کی اجازت کے بنا میں آپ کے قریب نہیں آؤں گا جہاں میں نے کئیں برس بچپن سے جوانی تک آپ کا انتظار کیا تھا وہیں تھوڑا اور صحیح"

زارون نے اس کے جانب دیکھ کر دھیمے مگر درد بھرے لہجے میں کہا جس پر وہ اسے دیکھنے لگی

"مگر مجھے اپنی محبت پر پورا یقین ہے میرا یہ امتحان بہت جلد اپنے اختتام کو پہنچے گا اور جو اتنے سالوں سے میں نے آپ کو چاہا تھا آپ سے اپنے لئے پیار مانگا تھا مجھے یقین ہے ایک دن یہ انتظار ختم ہو جائے گا اور مجھے آپ کا پیار ضرور حاصل ہو گا"

زارون کی بھوری آنکھوں میں نمی جبکہ ہونٹوں پر عجب مسکراہٹ تھی اس کے اتنے یقین سے کہے گئے الفاظوں پر ایمان تعجب سے اسے دیکھنے لگی 

"مجھے آپ کی طرف سے اپنے لئے عشق کا انتظار تھا ہے اور ہمیشہ آپ کے عشق کا انتظار رہے گا… لیکن ایمان… دھیان رہے کہیں دیر نہ ہو جائے…"

زارون نے اپنی بات مکمل کی ایک نظر سامنے بیٹھی لڑکی پر ڈال کر وہ دوسرے جانب کروٹ کر گیا شاید وہ اپنے آنسوؤں کو چھپا رہا تھا 

ایمان بامشکل اپنے بھاری جوڑے کو سنبھالتی ہوئی ڈریسنگ کے سامنے آ بیٹھی سب سے پہلے اس نے اپنے تمام زیورات اتارے پھر اپنے وارڈروب سے آرام دہ سوٹ نکال کر باتھ چلی گئی 

جب وہ واپس آئی تو زارون سو چکا تھا وہ واپس اس پھولوں سے سجے بستر پر جا بیٹھی ایک نظر سوئے ہوئے زارون کر ڈال کر سائڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو بند کرتے ہوئے وہ آنکھیں موندے بستر پر لیٹ گئی نیند نے اسے اپنے آغوش میں لے لیا تھا 

وہ دنیا جہاں سے بیگانی ہوکر اپنی نیند پوری کر رہی تھی جبکہ اس کمرے میں موجود مخالف وجود سویا نہ تھا بلکہ ہر رات کی طرح اس رات بھی وہ اشکوں کی برسات میں بھیگ رہا تھا

★☆★☆★☆★

نکاح کے چند دنوں بعد ان کے ولیمے کی تقریب تھی پوری گاؤں کی دعوت تھی حویلی کے باہر تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے مہمان دلہا دلہن کے انتظار میں اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے

وہ دونوں سامنے سے چلتے ہوئے اسٹیج پر آ بیٹھے ایمان نے سفید رنگ کا خوبصورت بھاری شرارا پہنا ہوا تھا جبکہ چہرے پر ہلکا مگر خوبصورت میک اپ کیا ہوا تھا بیش قیمتی چمکدار زیورات زیب تن کئے ہوئے تھے جبکہ بالوں کو آزاد کر کے سر پر ڈوپٹہ سیٹ کیا ہوا تھا وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی 

زارون جو اس کے برابر بیٹھا ہوا تھا اس نے کالے رنگ کا تھری پیس سوٹ پہنا ہوا تھا برینڈڈ شوز کے ساتھ اس کی واچ بھی برینڈڈ دکھائی دے رہی تھی اپنے بالوں کو جیل کی مدد سے کوور کئے وہ آج حد سے زیادہ پیارا لگ رہا تھا 

سب کی نظریں ان پر مرکوز تھیں کچھ رسومات کے بعد کھانا شروع کردیا گیا تھا ان کا رؤیہ سب کے سامنے نارمل تھا ورنہ پہلی رات کی طرح ہر رات وہ لوگ ایک دوسرے سے دور رہتے تھے ان کے درمیان ایسا کوئی تعلق نہ تھا جیسا نکاح کے بعد بن جاتا ہے

تقریب ختم ہونے کے بعد وہ اپنے روم میں آکر چینخ کرنے چلی گئی تھی جبکہ زارون تمام سرداران سے ملنے اور بات چیت کرنے کی وجہ سے حویلی سے دور تھا ابھی وہ واپس حویلی آیا ہی تھا جب اندر ہال سے کسی کے چینخ چینخ کر رونے کی آوازیں آنے لگیں وہ اندر کی جانب بھاگا 

ایمان جو اب آرام دہ کپڑوں میں ملبوس صوفے پر بیٹھی ناول کی کتاب میں مصروف تھی اچانک سے نیچے سے کسی کے چیخنے کی آوازوں پر وہ گھبراتی ہوئی کتاب وہیں چھوڑ کر نیچے کو بھاگی 

"اُجڑ گئی میں اماں سائیں برباد ہوگئی میں"

تہمینہ بیگم زوروں شور سے رونے میں مصروف تھیں پوری حویلی اکھٹا ہوگئی تھی زارون اور ایمان بھی وہاں پہنچ گئے تھے جبکہ تہمینہ بیگم کو وہاں اکیلا دیکھ کر سب کے دماغ میں بس ایک ہی سوال تھا 

"بہو ہوا کیا ہے بتاؤ گی بھی یا نہیں؟؟ کیا پھر کوئی نیا کارنامہ انجام دے کر آئی ہو؟؟"

اماں سائیں نے سختی سے کہا جس پر تہمینہ بیگم زارون کے قدموں میں جا گری اس اچانک والے عمل پر زارون دو قدم پیچھے ہوا 

"سائیں سردار رحم کریں ہم پر معاف کردیں ہمیں، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے خدارا معاف کردیں"

تہمینہ بیگم زاروقطار روئی جارہی تھیں جبکہ زارون اماں سائیں کی جانب نہ سمجھی سے دیکھ رہا تھا جو خود ہی نہیں جانتی تھیں کہ ہوا کیا ہے

"چچی جان یہ کیا کر رہی ہیں آپ اٹھیں پلیزز"

زارون نے ان کے جڑتے ہوئے ہاتھوں کو پکڑ کر کھڑا کیا 

"ادھر بیٹھیں اور کیا ہوا ہے بتائیں مجھے؟؟"

زارون نے ان سے وجہ پوچھتے ہوئے صوفے پر بٹھایا اور ملازمہ کو پانی لانے کا اشارہ کیا 

وہ اب بھی خاموش نہیں ہوئیں تھیں ملازمہ کے آتے ہی زارون نے پانی کا گلاس لے کر ان کی جانب بڑھایا جسے وہ پینے لگیں

"اب بتاؤ بہو کیا ہوا ہے آخر کیوں اتنا واویلا مچایا ہوا ہے تم نے وہ بھی اتنی رات گئے"

اماں سائیں ان سب سے سخت ناراض تھیں کیونکہ اس عورت نے اپنے دونوں بچوں کے ساتھ مل کر جو ان کے ساتھ کیا تھا وہ معافی کے لائق نہ تھی

"سائیں سردار اصغر علی کو مار دیں گے وہ لوگ اور… اور زویا… ہائے میری بچی اسے باندی بنا لیا ہے ان منحوسوں نے خدارا انہیں بچا لیں سردار"

تہمینہ نے تڑپ کر ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا جس پر زارون نے پھر سے ان کے جڑے ہاتھوں کو نیچے کیا

"آپ مجھے تفصیل سے بتائیں آخر ہوا کیا ہے؟؟"

ایمان کو وہ عورت ڈرامے باز ہی لگ رہی تھی جبکہ اماں سائیں زویا کا نام سن کر تھوڑی پریشان ہوگئی تھیں کیونکہ جیسی بھی تھی تھی تو اس حویلی کی عزت

"سائیں میرے بیٹے سے بہت بڑی غلطی ہوگئی اس نے جاتے جاتے بھی آپ کی زمینوں کے کاغذات نکالے تھے اور آدھی سے زیادہ پرانی زمینیں اس ملک سلطان کو بیچ دی تھیں اور اور کچھ دنوں بعد پتا چلا کہ وہ سارے کے سارے کاغذات نقلی تھے اور تب ہی انہوں نے ہمارے پلاٹ ہر حملہ کیا اور اصغر اور زویا کو اٹھا لے گئے"

انہوں نے روتے ہوئے سب کچھ تفصیل سے بتایا جبکہ کاغذات کے بارے میں اماں سائیں کو اب پتا چلا تھا لیکن زارون سب پہلے سے ہی جانتا تھا اس لئے اس نے نقلی کاغذات رکھوا دیئے تھے

"کس قدر شیطان صفت عورت ہو تم تہمینہ بیگم اور تم نے اپنے بچوں کو بھی اپنے جیسا بنا لیا شرم آنی چاہیے تمہیں"

اماں سائیں نے سخت ناگواری سے انہیں دیکھا تھا جس پر انہوں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا

"چچی جان ملک سلطان نے کیا کہا ہے؟؟"

زارون نے تمام باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا

"وہ کہتا ہے اسے اس کی رقم واپس چاہیے ورنہ وہ اصغر کو تو جان سے مار ہی دے گا لیکن زویا…"

آگے وہ کچھ کہہ نہیں پائی تھیں جبکہ زارون ملازم سے کہہ کر گارڈ کو حکم دیتا ہوا خود اپنی بندوق لئے باہر کو جانے لگا

"زارون رکو…"

اماں سائیں نے اسے روکا 

"اماں سائیں مجھے جانے دیں…"

زارون سخت غصے میں تھا 

"زارون بیٹا تمہاری ابھی نئی نئی شادی ہوئی ہے اور تم ابھی سے ان جھگڑوں میں پڑھ رہے ہو تم جانتے بھی ہو اس کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟؟"

اماں سائیں نے اسے سمجھانا چاہا جبکہ ایمان بھی اس کے اچانک جانے پر کافی پریشان تھی 

"اماں سائیں آپ پریشان نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوگا آپ بس چچا جان کو کچھ مت بتائیے گا میں جلد واپس آجاؤں گا"

وہ اپنی بات مکمل کرتا ہوا بندوق اور اپنے گارڈز کے ساتھ  گاڑی میں بیٹھ کر حویلی سے دور چلا گیا 

★☆★☆★☆★

"چھوڑو مجھے خبیثوں دور رہو میری بہن سے…"

ملک سلطان ابھی زویا کا بغور جائزہ لے ہی رہا تھا جب اصغر غصے سے دھاڑا ملک سلطان کا ایک زور دار قہقہہ ہوا میں گونجا اصغر نے رسیوں کو کھولنے کی ناکام کوشش کی

"تیری بہن… آج سے یہ تیری بہن نہیں بلکہ میرے اور میرے آدمیوں کے دل بہلانے کا ذریعہ ہے"

ایک اور بار اس کا زور دار قہقہہ نکلا تھا جس پر اصغر خونخوار نظروں سے اسے گھورنے لگا 

"جب میں ہزار بار بتا چکا ہوں کہ جو کچھ ہوا وہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا تو آخر کیا چاہتے ہو تم؟؟"

اصغر نے گمبھیر لہجے میں کہا جس پر سلطان اسے گھورنے لگا 

"غداری غداری ہوتی ہے چاہے جان بوجھ کر کی جائے یا انجانے میں، تجھے ابھی اور اس ہی وقت میرا پیسہ واپس کرنا ہوگا ورنہ تو تو جائے گا جان سے لیکن تیری یہ بہن… اسے میری پورے گاؤں کے سامنے عبرت بنا دوں گا"

ملک سلطان نے سخت لہجے میں کہا اور زویا کی جانب بڑھنے لگا اصغر مسلسل چینختا چلاتا رہا مگر اس شیطان نما شخص پر اس کی چینخوں کا کوئی اثر نہ پڑا

"دکھتی تو خوبصورت ہے لیکن اگر رقص وغیرہ کر کے دکھا دیتی تو کیا ہی بات تھی"

وہ اپنی گندھی نظروں سے اسے گھورتا ہوا ابھی مزید قریب آتا جب زارون نے ہوا میں گولی چلائی جس کی آواز پر سب چونک اٹھے

"یہ کس حرام خور نے میری بنا اجازت میرے ہی علاقے میں گولی چلائی ہے؟؟"

اس نے اپنے آدمیوں سے غرراتے ہوئے سوال کیا تب ہی زارون اپنی بندوق لئے اندر آیا جسے دیکھ کر اصغر اور زویا سمیت سب حیران رہ گئے

"ملک سلطان انہیں چھوڑ دو تمہیں جتنی رقم چاہیے میں دوں گا "

زارون نے اگر بڑھ کر سرد لہجے میں کہا جس پر وہ قہقہہ لگانے لگا

"ارے کھڑے کیوں ہو سب خوش آمدید کرو سائیں سردار آیا ہے"

اس نے مکرو چہرہ پر شیطانی مسکراہٹ اچھالی جبکہ زارون غصے میں تھا 

"اصغر کی رسیاں کھول دو اور اسے جانے دو"

زارون نے بندوق تھامے سرد لہجے میں کہا جبکہ اصغر اسے نا سمجھی سے دیکھ رہا تھا وہ اس کے ساتھ کتنا برا کرتا آرہا تھا مگر آج بھی زارون سب کچھ جانتے بوجھتے اسے یہاں بچانے آیا تھا 

"مطلب تم کہو گے چھوڑ دو تو کیا میں اسے چھوڑ دوں گا؟؟"

سلطان نے اپنی بندوق نکالی جبکہ زارون اس کی ایک ایک حرکت نوٹ کر رہا تھا 

"تمہیں اسے چھوڑنا پڑے گا کیونکہ تم نہیں جانتے تمہارا علاقہ میرے آدمیوں نے گھیرے میں لے لیا ہے اب آگے تمہاری مرضی اگر تم اس دونوں کو یہاں سے صحیح سلامت جانے دیتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ تمہارے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں میں دیر نہیں کروں گا ملک سلطان"

زارون نے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا جس پر وہ غصے سے اسے گھورنے لگا 

"تمہاری اتنی ہمت کے تم نے میرے علاقے کو گھیرے میں لیا… اب دیکھو میں تمہارے ساتھ کرتا کیا ہوں"

ابھی وہ اصغر کی کنپٹی پر گولی چلاتا اس سے پہلے ہی زارون کے اشارے پر ملک سلطان اور زارون کے آدمیوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی 

زارون کے چند آدمیوں نے زارون کی حفاظت کرنے کے لئے اطراف میں دائرہ بنایا مگر زارون اصغر کو بچانے کے لیے انہیں ہٹاتا ہوا اصغر کی جانب بڑا زویا اصغر کے پاس کھڑی مسلسل چینخی جارہی تھی ہر طرف افراتفری کا سماں تھا 

"اصغر اور زویا کا لے کر گاڑی میں جاؤ جلدی…"

زارون نے اپنے چند آدمیوں کو حکم دیا جبکہ وہ ملک سلطان کو ڈھونڈ رہا تھا جو نجانے کہاں جا کر چھپ گیا تھا زارون نے پورا پلاٹ چھان مارا مگر وہ کہیں بھی نہ تھا 

تب ہی اچانک فائرنگ کی اور ساتھ ہی اصغر کی چینخوں کی آواز سنائی دی زارون دوڑتا ہوا باہر کو آیا جہاں اصغر زمین پر گرا کسی زخمی پرندے کی مانند تڑپ رہا تھا اور زویا اس کے پاس بیٹھی مسلسل روئی جارہی تھی اصغر کے سینگ میں چار گولیوں کے نشان نمایاں تھے

"اصغر!!!"

زارون کے پیروں تلے زمین نکل گئی وہ بھاگتا ہوا اس کی جانب بڑھا مگر اب دیر ہوچکی تھی وہ اپنی بہن کی گود میں سر رکھے دم توڑ چکا تھا 

"بھیا!!!"

زویا کی ایک زور دار چینخ ہوا میں سمائی تھی زارون بے یقینی سے اصغر کے مردہ وجود کو دیکھ رہا تھا جو اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا زارون کی بھوری آنکھیں خون اور بدلے کی آگ میں لال ہوچکی تھیں

وہ پاگلوں کی طرح اسے اطراف میں ڈھونڈ رہا تھا ہر طرف گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں زارون کے آدمی ملک سلطان کے آدھے سے کئی زیادہ آدمیوں کو مار چکے تھے مگر ملک سلطان کو جیسے زمین نگل گئی تھی یا آسمان کھا گیا تھا 

★☆★☆★☆★

"اصغر… اصغر میرا بچہ…"

ان کی چینخیں سن کر کچن میں کھڑی ایمان بھاگتی ہوئی ان کے کمرے کے اندر آئی جہاں ملازمہ سرہانے کھڑی فکرمندی سے انہیں دیکھی جارہی تھی

"کیا ہوا ہے انہیں ؟؟ کیا جاگ گئی ہیں یہ؟؟"

ایمان ان کے قریب آبیٹھی ایک ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھ کر بخار کی شدت محسوس کرنے لگی جو کہ اب تک عروج پر تھا

"پتا نہیں ایمان بی بی شاید یہ نیند میں ڈر گئی ہیں"

ملازمہ نے مختصر سا کہا 

"شاید میڈیسن کا نشہ اتر چکا ہے… ہاجرہ تم ان کے لئے یخنی بناؤ انہوں نے صبح بھی ٹھیک سے کچھ نہیں کھایا تھا"

اصغر کی موت کو ایک مہینے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا مگر تہمینہ بیگم کی طبیعت میں بہتری نہیں آئی تھی ان کی طبیعت کو لے کر اکثر سب پریشان رہتے تھے جبکہ زارون اب تک ملک سلطان کو ڈھونڈ رہا تھا مگر اب تک اس کا کوئی سراغ نہ ملا تھا 

"اماں سائیں مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے"

زارون کی آواز پر وہ دروازے کی جانب دیکھنے لگیں جہاں وہ کھڑا اجازت کا طلبگار تھا اماں سائیں نے اشارے سے اسے اجازت دی وہ چلتا ہوا ان کے پاس آ بیٹھا 

"اماں سائیں مجھے لگتا ہے ہمیں واپس اپنی حویلی چلے جانا چاہئے اور زویا کے بارے میں کچھ سوچ لینا چاہیے… چچی جان اپنے حواسوں میں نہیں ہیں اور زویا کی زمہ داری اب ہم پر ہے خدانہ خواستہ اسے کچھ ہوگیا تو روزِ محشر چچا جان کو ہم کیا جواب دیں گے ان کی ایک اولاد کو تو ہم کھو چکے ہیں لیکن زویا جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائے اتنا بہتر ہے"

زارون نے تفصیل سے اپنی بات کہی جس پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگیں

"تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں آج ہی رشتے والی سے کہہ کر کوئی اچھا رشتہ دیکھتی ہوں… پھر اس کو بھی رخصت کردیں گے"

زارون اور اماں سائیں باتوں میں مصروف تھے جب ملازمہ اماں سائیں کو بلانے آئی 

"اماں سائیں ایمان بی بی آپ کو بلا رہی ہیں تہمینہ بیگم کی حالت ٹھیک نہیں ہے…"

"اچھا مجھے لے چلو اس کے پاس"

اماں سائیں کی بات پر ملازمہ ان کی ویل چیئر چلاتے ہوئے وہاں سے چلی گئی جبکہ زارون کو کسی کی کال آنے لگی

"اپنے ساتھ چند آدمیوں کو لے جاؤ اور اس پر کڑی نظر رکھو، آج شام ہی اس کا کام تمام کردیں گے اور فلحال اس بات کی خبر حویلی میں کسی کو بھی نہیں ہونی چاہیے "

زارون نے اپنا حکم سنایا اور باقی کے انتظامات کے لئے حویلی کے باہر چلا گیا 

وہ حویلی سے کچھ ہی دور تھا جب عصر کی اذان کا وقت ہونے لگا وہیں قریب ایک مسجد تھی جہاں اس نے اپنی گاڑی کھڑی کی مسجد میں جا کر وضو کیا اور اپنے رب کے حضور پیش ہوکر نماز ادا کرنے لگا 

نماز پڑھنے کے بعد اس نے سلام پھیرا اور مختصر سی تسبیح کا ورد کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے پہلے اپنے مرحوم والدین، پھر اپنی جان سے پیاری اماں سائیں اور تمام عزیز لوگ اور سب سے آخر میں اپنی زندگی اپنے جینے کی وجہ یعنی اپنی ایمان کے لئے دعا کرنے لگا

آنسوں اس کی بھوری آنکھوں سے چھلک کر رخساروں پر بہنے لگے دل کسی شیشے کی طرح صاف و شفاف تھا دل میں اللّٰہ کے بعد ایمان کی محبت بسی ہوئی تھی وہ ایمان کو ٹوٹ کر چاہتا تھا وہ جانتا تھا وہ اسے نہیں اپنائے گی لیکن وہ اس کی زندگی تھی وہ چاہ کر بھی اسے نہیں چھوڑ سکتا تھا

"یا اللہ… تمام جہانوں کے مالک… تو نہیں ہمیشہ میرے دل کی ہر خواہش پوری کی ہے میں تیرا جتنا شکر ادا کروں کم ہے، میرے مالک میں بہت شرمندہ ہوں میں چاہ کر بھی اس رشتے کو آگے بڑھانے میں ناکام ہوں مگر اس کا گناہ ایمان کے نہیں میرے حصے میں لکھ دے کیونکہ وہ بہت معصوم ہے وہ نادان ہے"

اپنی جان سے پیاری بیوی کو یاد کر کے اس کی آنکھیں مزید بھر آنے لگی تھیں

"اے کل کائنات کے مالک میں نہیں جانتا وہ مجھے کبھی اپنا شوہر مانے گی یا نہیں لیکن میں ایک بہت بڑی جنگ میں جا رہا ہوں جہاں سے شاید میں کبھی واپس نہ آ سکوں… میرے بعد میری ایمان کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا وہ میری کل کائنات ہے"

اس کا دل تڑپ رہا تھا وہ ایمان سے چاہ کر بھی دور نہیں جا پارہا تھا لیکن اسے جانا تھا ایک ایسی لڑائی میں جو ادھوری تھی جسے پورا کرنے کے لیے وہ آج تیار ہو چکا تھا سب کے لیے دعا کر کے وہ وہاں سے نکل گیا تھا ایک ایسے سفر پر جس کا کسی کو بھی علم نہ تھا 

★☆★☆★☆★

"ایمان تم اپنے کمرے میں جاؤ…"

ایمان سائیں کی بات پر وہ نا سمجھی سے انہیں دیکھنے لگی

"سنا نہیں تم نے اپنے کمرے میں جاؤ…"

اماں سائیں اسے وہیں کھڑا پا کر اس کی جانب متوجہ ہوئیں

"اماں سائیں ان کی حالت بہت خراب ہے "

اس نے تہمینہ بیگم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا

"پتا ہے مجھے زویا کہاں ہے ؟؟ اسے بلاؤ، اسے کہو آکر سنبھالے اپنی ماں کو، تم ابھی نئی دلہن ہو تمہارا یہاں زیادہ دیر رہنا ٹھیک نہیں ہے کل کو تمہاری بھی اولادیں ہوؤں گی اس کمرے میں نجانے کتنی بیماریاں رچ بس چکی ہوں گی"

بچے کا ذکر سن کر ایمان کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی تھی وہ بنا کچھ کہے وہاں سے اپنے کمرے کی جانب آگئی تھی بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر پھولوں کی ٹوکری میں رکھا تحفہ جو کل زارون اس کے لئے لایا تھا اسے دیکھنے لگی مگر وہ تو زارون سے بات تک نہیں کرتی تھی 

ایمان نے پھولوں کی ٹوکری کو اٹھا کر ان میں سے پھول جھڑائے اور اندر رکھے تحفے کو باہر نکال کر دیکھنے لگی جن میں دونوں ہاتھوں کی سرخ رنگ کی چوڑیاں خوبصورت سی باریک پائل اور زارون اور ایمان کے نام کا چھوٹا سا لاکٹ رکھا ہوا تھا ایمان کو یہ سب بہت پسند آیا تھا

یہ کوئی نئی بات نہ تھی وہ پر روز اس کے لئے کئی تحفے لایا کرتا تھا مگر اسے سوتا دیکھ کر خاموشی سے اس کے سرہانے رکھ کر خود صوفے پر جا کر سو جاتا تھا اور پھر جب دوسرے دن ایمان کی آنکھ کھلتی تھی تو اپنے سائڈ ٹیبل پر پھولوں کی ٹوکری رکھی پا کر وہ سمجھ جاتی تھی کل رات زارون اس کے لئے تحفے لایا تھا 

"کتنا صبر والا انسان ہے نہ یہ شخص… جس کی مجھ بار بار تذلیل کرتی تھی جس کی محبت کا میں کئی بار مذاق بنا چکی تھی جسے میں کئی بار دھتکار چکی تھی وہ شخص آج بھی میری کتنی عزت مجھ سے کتنی محبت کرتا ہے"

ایمان کی آنکھوں کے سامنے زارون کی وہ بھوری آنکھیں گردش کرنے لگیں تھیں اسے زارون کی محبت پر اب کافی حد تک یقین ہوچکاتھا اور یہ بھی کہ زارون ہمیشہ سے صرف اس ہی کا تھا ایمان کے دل میں اب زارون کے لئے جگہ بنتی جارہی تھی 

"زارون روز میرے لئے اتنا کچھ کرتا ہے… کاش میں بھی اس کے لئے کچھ کر سکوں…"

ایمان نے زیر لب ہوتے ہوئے کہا تب اس کا دھیان آج کی تاریخ پر گیا 

"اوہ۔۔۔ کل تو زارون کی برتھڈے ہے۔۔۔"

ایمان کے چہرے پر بے ساختہ خوبصورت سی مسکراہٹ آئی تھی اس کے دماغ میں کوئی ترکیب چل رہی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے وہ آج کی رات خوبصورت بنانے والی تھی 

★☆★☆★☆★

"شفیق۔۔۔ پیٹر کہاں ہے؟؟"

ایمان کے سوال پر ملازم ان کہی جانب دوڑا

"وہ چھوٹی بی بی پاشا تو یہیں حویلی میں ہی ہے سرونٹ کوارٹر میں ہوگا آپ کہیں تو بلا لاؤں اسے؟؟"

ملازم نے سر جھکائے بڑے احترام سے کہا 

"ہاں اسے بلاؤ مجھے کسی کام سے باہر جانا ہے"

ایمان اپنی بات مکمل کر کے پلٹنے لگی 

"ایمان بی بی وہ۔۔۔ سائیں سردار کا حکم ہے اگلے دو دن تک حویلی کی کوئی خاتون باہر نہیں جا سکتی"

"کیا!!! مگر کیوں؟؟" وہ حیران ہوئی

"ایمان بی بی ہمیں کچھ نہیں پتا بس ان کا یہی حکم تھا آپ کو جو بھی منگوانا ہے ہمیں بتادیں ہم لا دیں گے" 

شفیق کی بات پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"تم پیٹر کو بلا دو میں اس ہی سے منگوا لوں گی"

ملازم اثبات میں سر ہلاتے ہوئے سرونٹ کوارٹر کی جانب چلا گیا 

وہ وہیں کھڑی پیٹر کا انتظار کر رہی تھی جب زویا وہاں سے گزرنے لگی مگر اسے دیکھ کر رکی

"ایمان۔۔۔ کیا بات ہے بڑی خوش نظر آرہی ہو"

زویا نے اس کے لبوں پر بکھری مسکراہٹ کو دیکھتے ہوئے پوچھا حویلی میں کافی کچھ بدل گیا تھا مگر وہ اب تک ویسی کی ویسی ہی تھی

"تمہیں اس سے مطلب؟؟"

ایمان نے بھی پلٹ کر سوال کیا جس پر وہ تنزیہ مسکرائی

"مطلب تو کوئی نہیں، البتہ جس سے مجھے مطلب ہے وہ اس وقت حویلی میں موجود ہے ہی نہیں"

ایمان اس کی باتوں کر نظر انداز کرتی ہوئی وہاں سے باہر کی جانب چلی گئی وہ جانتی تھی زویا کی فطرت ہی ایسی ہے اور ہمیشہ رہے گی اور یہ بھی کہ زارون زویا کو بہن مانتا تھا اسے زارون پر پورا بھروسہ تھا

"پیٹر بات سنو!!!" اس نے سرگوشی نما انداز میں کہا

"میم حکم کریں" پاشا سر جھکائے کھڑا ہوا

"پیٹر یہ لسٹ پکڑو اور یہ تمام چیزیں منگوا لو شام تک پیچھے والے گارڈن میں مجھے سارے انتظامات مکمل چاہئیں سمجھ رہے ہو نہ تم؟؟"

پیٹر سمجھ چکا تھا وہ اثبات میں سر ہلائے حکم کی تعمیل کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا جبکہ اب ایمان کا رخ اماں سائیں کے کمرے کی جانب تھا

"جی اماں سائیں زارون بلکل صحیح کہہ رہا ہے ہمیں زویا کی جلد سے جلد شادی کروا دینی چاہیے"

صدیق صاحب اماں سائیں کے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھے گویا ہوئے

"ہاں صدیق میاں مجھے اس لڑکی پر بلکل بھروسہ نہیں ارے پہلے ہی اس نے اتنا کچھ کیا تھا اب میں مزید ایمان اور زارون کے درمیان اسے نہیں آنے دوں گی"

اماں سائیں نے سختی سے کہا جبکہ باہر کھڑی ایمان ان کی بات سن چکی تھی

"آپ بلکل پریشان نہ ہوں اماں سائیں میرے اور زارون کے درمیان کوئی چاہ کر بھی نہیں آ سکتا"

ایمان کی بات پر وہ دونوں چونک کر نا سمجھی میں اسے دیکھنے لگے جو مسکراتے ہوئے اماں سائیں کے پاس آ بیٹھی اماں سائیں کو اس کا ایسا رؤیہ کوئی معجزہ ہی لگ رہا تھا 

"اماں سائیں کل زارون کی برتھڈے ہے میں نے ساری پلاننگ کرلی ہے مجھے بس آپ لوگوں کی مدد چاہیے پلیززز مجھے میری ہیلپ کردیں"

اماں سائیں اور صدیق صاحب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

"افف اب آپ لوگ ایک دوسرے کو دیکھتے ہی رہیں گے یا آگے بھی کچھ کرنا ہے؟؟"

ایمان نے منہ بناتے ہوئے کہا جس پر وہ دونوں ہی مسکرا دیئے تھے

"اچھا بھئی بتاؤ زارون کی برھڑے پر ہم تمہاری کیا مدد کر سکتے ہیں؟؟"

صدیق صاحب نے اپنی لاڈلی سے بڑے پیار سے پوچھا جس پر وہ بلش کر گئی

"مگر بیٹی زارون تو اپنا جنم دن مناتا ہی نہیں"

اماں سائیں نے مختصر سا کہا

"اماں سائیں جبھی تو ہم ان کی برتھڈے ارینج کریں گے اور پھر انہیں سرپرائز دیں گے"

ایمان نے مسکراتے ہوئے کہا اور اپنا پلان بتانے لگی جسے سن کر وہ دونوں خوش ہوگئے

★☆★☆★☆★

رات ساڑھے گیارہ کا وقت تھا جب سب لوگ پچھلے گارڈن میں کھڑے زارون کا انتظار کر رہے تھے مگر وہ اب تک حویلی نہیں آیا تھا

ایمان اس کی لائی ہوئی خوبصورت سی سرخ رنگ کی فراق زیب تن کی ہوئی تھی جس کے ساتھ جوڑی دار پاجامہ اور خوبصورت سا ڈوپٹہ جو کاندھے پر تھا بالوں کو آزاد کئے اونچی ہیل پہنے چہرے پر ہلکا سا میکپ کئے وہ آج ضرورت سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی

جبکہ باقی سب لوگ بھی ہلکا پھلکا تیار ہوئے کھڑے تھے گارڈن پورا سجایا ہوا تھا سب نے اپنے اپنے تحائف ایک بڑے سے ٹیبل پر رکھ دیئے تھے کیک بھی وہیں رکھا ہوا تھا مگر زارون کا اب تک کچھ پتا نہ تھا 

"لیلہ تم زارون کو کال تو کرو دیکھو کہاں رہ گئے وہ…"

ایمان کی بات پر لیلہ نے زارون کو کال ملائی مگر دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔

"ایمان باجی زارون بھائی میری کال نہیں اٹھا رہے…"۔

اس نے چہرے پر پریشانی والے تاثرات لئے کہا۔ 

"بابا جان آپ کال کریں شاید آپ کی اٹھا لیں"۔

ایمان کے کہنے پر صدیق صاحب نے بھی اسے کال کی مگر اب تک کوئی جواب نہ تھا۔

"ایمان بیٹی تم کر کے دیکھو مجھے یقین ہے وہ تمہاری کال ضرور اٹھا لے گیا"۔

اماں سائیں کے کہنے پر اس نے نمبر ڈائل کیا مگر پھر سے کوئی جواب نہ تھا اب سب کے سب پریشان ہو چکے تھے ایمان ہاتھ میں پھولوں کے بکے لئے کھڑی دوسرے ہاتھ سے موبائل پکڑے مسلسل اسے کالز پر کالز کیے جارہی تھی مگر کوئی جواب نہ تھا تبھی باہر سے عجیب سا شور سنائی دیا۔

"اماں سائیں یہ شور کیسا ہے؟؟"۔

صدیق صاحب پریشان ہوگئے تھے جبکہ ساتھ ہی سب لوگ پریشان تھے۔

"اللّٰہ خیر کرے ہاجرہ دیکھو حویلی کے باہر کیا ہوا ہے۔۔۔"۔

اماں سائیں کے کہنے پر ملازمہ باہر کی جانب جانے ہی لگی تھی جب ان کے کچھ آدمی زخمی حالت میں اندر بھاگتے ہوئے آئے۔

"شفیق یہ۔۔۔ یہ کیا حالت بنائی ہوئی ہے تمہارے چہرے پر یہ خون کیسا ہے؟؟" اماں سائیں ان کے خون بھرے کپڑوں کو دیکھ کر گھبرا گئی تھیں سب لوگ اس آدمی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔

"اماں سائیں وہ۔۔۔ وہ سائیں سردار"۔

ابھی وہ اتنا ہی کہہ پاتا جب اس کا سر چکرایا اور وہ زمین پر جا گرا تب ہی باقی کے آدمی بھی اندر کو بھاگتے ہوئے آئے سب کے سب زخمی تھے ان سب کی ایسی حالت دیکھ کر تمام لوگوں کے چہرے پر خوف نمایاں ہوچکا تھا۔

"خدارا کوئی مجھے بتائے گا کہ ہوا کیا ہے؟؟ کہاں ہیں سائیں سردار؟؟"۔

اماں سائیں کے چینخنے پر ایک آدمی آگے آیا 

"اماں سائیں۔۔۔ سائیں سردار کو گولی لگی تھی جس وجہ سے ان کا پیر پھنسل گیا تھا اور وہ اس اونچی چٹان سے نیچے جا گرے"۔

اس کے بتانے کی دیر تھی ہر طرف خاموشی چھا گئی وہ جو زارون کے انتظار میں سج دھج کر ہاتھوں میں پھولوں کے بکے لئے کھڑی تھی اچانک سے وہ چکے زمین پر جا گرا وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی جانب بھاگی باقی سب بھی باہر کو جانے لگے۔

★☆★☆★☆★

اسپتال میں افراتفری کا عالم تھا وہ لوگ پاگلوں کی طرح ہر آتے جاتے لوگوں سے ٹکراتے ہوئے زارون کو ڈھونڈ رہے تھے گارڈ کے بتانے کے مطابق زارون جس چٹان سے گرا تھا وہاں سے بچنا ممکن تو نہ تھا مگر ان سب لوگوں نے مل کر اس چٹان کے نچلے حصے میں اتر کر اسے ڈھونڈا تھا۔

جہاں وہ اپنے زخمی وجود کے ساتھ بے ہوش ملا تھا مگر اس کی سانسیں ابھی چل رہی تھیں اسے اسپتال منتقل کردیا گیا تھا مگر اب تک وہ لوگ اسے اسپتال میں ڈھونڈ نہ پائے تھے تبھی ریسیپشن سے پتا چلا اس کا آپریشن ہورہا ہے۔

"ایمان بیٹا رونا بند کرو اس کے لئے دعا کرو۔۔۔ دعا کرو کہ اسے کچھ نہ ہوا ہے وہ جلد سے جلد ٹھیک ہو جائے"۔

وہ آپریشن تھیٹر کے باہر بے بسی سے کھڑی روئی جارہی تھی جبکہ اماں سائیں جنہیں گھر پر لیلہ کے ساتھ چھوڑا تھا وہ گھر پر ہی بے ہوشی کی حالت میں پڑی ہوئی تھیں۔

"بابا جان زارون کو کچھ ہوگا تو نہیں نہ"۔

وہ اپنی سرخ آنکھوں کو مزید رگڑتے ہوئے اپنے بابا جان سے پوچھنے لگی جس پر صدیق صاحب نے آنکھیں مینچ لیں تبھی ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا۔

"ڈاکٹر پلیززز ٹیل می زارون کیسا ہے؟؟ وہ ٹھیک تو ہے نہ؟؟"۔

ایمان کے پوچھنے پر انہوں نے گردن جھکالی تھی

"ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں انہیں دعا کی ضرورت ہے دماغ پر بہت گہری چوٹ آئی ہے اگر وہ بچ جاتے ہیں تو یہ کوئی معجزے سے کم نہ ہوگا"۔

ڈاکٹر اپنی بات ختم کر کے جا چکا تھا۔ 

وہ وہیں ساکت سی کھڑی اپنے رویئے پر غور کر رہی تھی جس طرح ہمیشہ وہ زارون کے ساتھ پیش آئی تھی زارون نے کبھی اس سے تلخ کلامی کا مظاہرہ نہ کیا تھا مگر وہ کوئی موقع نہیں چھوڑتی تھی زارون کی انسلٹ کرنے کا۔

"مجھے آپ کی طرف سے اپنے لئے عشق کا انتظار تھا ہے اور ہمیشہ آپ کے عشق کا انتظار رہے گا… لیکن ایمان… دھیان رہے کہیں دیر نہ ہو جائے…"۔

اسے زارون کے کہے گئے الفاظ یاد آرہے تھے اس کا چہرہ رونے کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا جبکہ آنکھوں میں سوزش محسوس ہورہی تھی۔

"یہ میں نے کیا کیا…جو شخص مجھے ٹوٹ کر چاہتا تھا اس سے منہ موڑ لیا…"۔

اب جاکے اس کی آنکھیں کھلی تھیں اسے اب اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہورہا تھا وہ ایک ایسی آگ میں جل رہی تھی جو انجانے میں اس نے خود اپنے ہاتھوں سے لگائی تھی۔

"زارون… زارون کو اگر کچھ ہوگیا تو… تو میرا کی ہوگا؟؟ کیا کروں گی اس کے بنا میں"۔

اسے اب پتا چلا تھا اسے اب زاروں کی اہمیت کا احساس ہورہا تھا اسے اب زارون کی محبت کی بے قدری تڑپا رہی تھی کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر نے زارون کا آپریشن مکمل ہونے کا بتایا مگر یہ بھی کہ صبح تک اگر اسے ہوش نہ آیا تو وہ کومہ میں جا سکتا ہے شاید کچھ گھنٹوں، کچھ دنوں یا پھر کچھ سالوں یا پھر پوری زندگی کے لئے۔

انہیں یہاں کافی گھنٹے گزر چکے تھے فخر کی اذانوں کا وقت تھا دور مسجدوں سے اذان کی مدھم سی آواز سنائی دے رہی تھی وہ اپنے بوجھل قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی وضو کے لیے گئی ایک خالی کمرے میں بہت سی جائے نماز رکھیں ہوئی تھیں۔

ایمان نے نماز ادا کرنے کے لیے ڈوپٹہ باندھا اور جائے نماز پر کھڑی ہو کر نماز ادا کرنے لگی پہلے دو رکعت اور پھر آخری کی دو رکعت ادا کر کے اس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے۔

"اے میرے پروردگار میرے شوہر کو جلد سے جلد صحتیاب کر دے اسے جلد اپنے پیروں پر کھڑا کردے اسے پہلے جیسی صحت آتا فرما آمین…"۔

اس کے بہتے آنسوں اس بات کا ثبوت تھے کہ وہ زارون کو اپنانے کے لیے راضی تھی اس کے لئے زارون کی زندگی بہت اہمیت رکھتی تھی۔

"یا اللہ پاک مجھے میرے شوہر کا غم نہ دینا، میں نہیں جانتی کہ مجھے زارون سے محبت ہے یا نہیں لیکن… لیکن میں اسے کبھی کھونا نہیں چاہتی میں اسے اپنانا چاہتی ہوں مجھے اس سے دور نہ کرنا"۔

اس کے آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے صدیق صاحب باہر کھڑے اسے ایسے دعا کرتا دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے ان سب کو اب بس صبح کا انتظار تھا۔

"کیا میں اندر اپنے شوہر کے پاس جا سکتی ہوں؟؟ پلیززز"۔

ایمان کے التجائی انداز پر ڈاکٹر نے اسے زارون کے پاس جانے کی اجازت دے دی زارون کو اب تک آپریشن تھیٹر میں رکھا ہوا تھا کیونکہ اس کے دماغ کی چوٹ بہت گہری تھی 

وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اس کے بلکل پاس آئی زارون کا وجود بے جان شے کی طرح اس بستر پر پڑا ہوا تھا اس کے سر پر بندھی پٹی ہاتھوں اور پیروں پر آئے گہرے زخم اس کا چہرہ کہیں سے بھی ٹھیک سے پہچان میں نہ آرہا تھا 

ایمان اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اس کے سرہانے بیٹھ گئی تھی اسے زارون کی مدھم سی سانسیں محسوس ہورہی تھیں جیسے جانے لگی ہوں 

"اٹھو زارون مجھے ضرورت ہے تمہاری۔۔۔ تمہیں جینا ہوگا میرے لئے تمہیں میری قسم پلیززز اٹھ جاؤ۔۔۔"

وہ مسلسل اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرے اسے جگانے کی کوشش میں تھی آنسوں تیزی سے اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے اسے آج پہلی بار زارون کو کھونے کا خوف شدت سے محسوس ہورہا تھا 

ڈاکٹر کے بتائے گئے وقت کے مطابق اسے اب تک ہوش میں آ جانا چاہیے تھا اماں سائیں بھی اسپتال پہنچ چکی تھیں ساتھ تہمینہ بیگم اور زویا بھی موجود تھے سب باہر کھڑے زارون کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے

"زارون پلیززز آنکھیں کھول لو دیکھو تمہاری ایمان تمہارے پاس ہے دیکھو تم مجھے اب غصہ دلا رہے ہو پلیززز اٹھ جاؤ…"

وہ تڑپ رہی تھی اسے جگانے کے لیے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ایک ہی رات میں زارون اس کے لئے اتنا ضروری ہو جائے گا 

اس کی نظر برابر میں لگی مشین پر گئی جہاں زارون کے دل کی دھڑکنیں اچانک بڑھنے لگی تھیں 

"ڈاکٹر۔۔۔ڈاکٹر!!!" 

وہ بھاگتی ہوئی باہر آئی جہاں ڈاکڑ صدیق صاحب کے ساتھ کھڑے زارون کی حالت کے بارے میں بات کر رہے تھے اچانک سے اس کی جانب متوجہ ہوئے اور اندر بھاگے سب کے سب پریشان ہوگئے تھے اس دفعہ تہمینہ بیگم بھی دل سے اس کے لیے پریشان تھیں

"اوہ مائے گاڈ۔۔۔ نرس پلیززز ادھر آئیں۔۔۔ میم آپ باہر جائیں۔۔۔"

ڈاکٹر نرس کے ساتھ زارون کی حالت کو پھانپتے ہوئے اسے چیک کرنے لگے تبھی انہوں نے ایمان کو باہر بھیجا وہ مجبور تھی وہ جانا نہیں چاہتی تھی مگر یہ ضروری تھا

ابھی دس منٹ ہی ہوئے تھے جب ڈاکٹر باہر آیا سب کے سب لپک کر اس کی جانب گئے سب سے آگے ایمان تھی

"ڈاکٹر اب کیسے ہیں میرے شوہر کیا ہوا ہے انہیں؟؟"

اس کے آنسوں اب بھی بہہ رہے تھے 

"پریشان نہ ہوں وہ اب خطرے سے باہر ہیں شاید آپ سب کی دعائیں قبول ہو چکی ہیں۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ہم انہیں روم میں شفٹ کردیں گے پھر آپ لوگ ان سے مل لئے گا"

ڈاکٹر انہیں مسکراتے ہوئے کہہ کر چلے گئے جبکہ وہ لوگ سب خوش ہوکر اللّٰہ پاک کا شکر ادا کر رہے تھے تبھی آگے بڑھ کر تہمینہ بیگم نے ایمان کے سر پر ہاتھ رکھا اور اسے دعا دی جس پر وہ جواباً مسکرائی تھی

کچھ ہی دیر بعد زارون کو روم میں شفٹ کردیا گیا تھا مگر وہ ٹھیک سے ہوش میں اب بھی نہ تھا کیونکہ دماغ پر چوٹ گہری تھی ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق وہ سب ایک ایک کر کے اسے ایک نظر دیکھ کر واپس آگئے تھے

وہ سب سے آخر میں دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اس کے پاس جا بیٹھی جہاں وہ بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا ایمان نے اس کی پیشانی پر اپنی نرم ملائم ہتھیلی رکھی جس کا لمس محسوس کرتے ہی اس نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر وہ یہ منظر دیکھ نہ پائی کیونکہ وہ اس وقت سر جھکا کر دعائیں کرنے میں مصروف تھی 

"اللّٰہ پاک تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے مجھے میرے شوہر سے ملا دیا انہیں ایک نئی زندگی دی میں تیرا جتنا شکر ادا کروں کم ہوگا۔۔۔"

البتہ وہ ٹھیک سے تو ہوش میں نہ تھا مگر اس کے یہ الفاظ وہ سن چکا تھا وہ بڑی حیرت سے سامنے بیٹھی آنسوں بہاتی لڑکی کو دیکھنے لگا وہ آج پہلے بار اس کے لئے تو رہی تھی یہ آنسوں اس کے محرم کے نام کے ہی تو تھے

"اگر زارون کو کچھ ہوجاتا تو میں کبھی خود کو معاف نہ کر پاتی یا شاید۔۔۔ شاید میں جی ہے نہ پاتی۔۔۔"

اب وہ مکمل سر جھکائے رونے میں مصروف تھی جب زارون نے اپنا ہاتھ ایمان کے چہرے کی جانب بڑھایا جسے محسوس کرتے ہوئے وہ آنکھیں کھولے اسے حیرت و خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے دیکھنے لگی جبکہ وہ بہت حیران تھا 

"ایمان۔۔۔ آپ۔۔۔ آپ رو۔۔۔ کیوں رہی ہو۔۔۔؟؟"

ایمان نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما جو اب تک اس کے چہرے کے قریب تھا وہ بامشکل دوائیوں کے نشے میں بس اتنا ہی کہہ سکا تھا 

"زارون تم اٹھ گئے۔۔۔ تم۔۔۔ کیا تم واقعی ہوش میں آگئے۔۔۔؟؟"

وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی جو بامشکل اپنی تھوڑی سی آنکھیں کھولے اس کے آنسؤوں کو دیکھ رہا تھا زارون نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اس کے چہرے پر بہتے آنسوؤں کی طرف بڑھایا 

"ایمان آپ۔۔۔ آپ نہ رویا کرو۔۔۔ مجھے۔۔۔ مجھے یہاں تکلیف ہوتی ہے۔۔۔"

زارون کو اس حالت میں بھی اس کے آنسوں تکلیف دے رہے تھے آخر کس قدر عشق میں پاگل انسان تھا وہ ایمان نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو اس حالت میں بھی اپنے ہاتھ کے پور سے اس کے آنسؤوں کو صاف کر رہا تھا 

"زارون میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔ مجھے ڈر تھا کہیں تم۔۔۔ تم مجھ سے دور نہ چلے جاؤ۔۔۔"

زارون کو یقین نہیں آرہا تھا وہ اس کے لئے اتنی زیادہ پریشان ہو سکتی تھی 

"میں۔۔۔ میں آپ کو چھوڑ کر بھلہ کہاں جا سکتا ہوں۔۔۔ آپ ہی میری کل کائنات ہو۔۔۔"

اس کے چہرے پر بکھری زلفوں کو کان کے پیچھے کرتا ہوا وہ اس کی آنکھوں میں شدت سے دیکھنے لگا تھا جس پر وہ مسکرائی تھی

"زارون میں سمجھ نہیں پائی تھی میں بہت غلط تھی میں نے ہمارے اس پاک رشتے کا مذاق بنایا تھا یہ مجھے اب پتا چلا ہے تم میرے لئے میرا سب کچھ ہو کیا تم میری کی گئی تمام غلطیوں پر مجھے معاف کردو گے؟؟"

اس نے زارون کا ہاتھ تھام کر اسے چومتے ہوئے کہا یہ پہلا بوسہ تھا جس کی پہل ایمان نے کی تھی زارون اس کی آنکھوں میں اپنے لئے فکرمندی دیکھ چکا تھا وہ محسوس کر چکا تھا وہ اسے قبول کر چکی تھی

"آپ نے جو کچھ کیا وہ سب بھی شاید ضروری تھا۔۔۔ ورنہ آج آپ میرے لئے یوں نہ رو رہی ہوتیں۔۔۔"

زارون نے دھیمے لہجے میں کہا جس پر ایمان شرمندہ سی اسے دیکھنے لگی

"میں نے آپ کو کہا تھا مجھے اپنے پیار پر پورا بھروسہ ہے نہ ایک نہ ایک دن میرا یہ انتظار تمام ہوجائے گا اور مجھے آپ کا پیار حاصل ہوجائے گا دیکھیں آج وہ دن آ ہی گیا جس کا میں منتطر تھا وہ عشق مجھے مل چکا ہے"

زارون کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی جبکہ اس کی بات پر ایمان بھی مسکرانے لگی تھی 

★☆★☆★☆★

حویلی میں ہر طرف چہل پہل کا سماں تھا سب اپنے کاموں میں مصروف تھے پرانی حویلی کو ایک بار پھر سجا دیا گیا تھا مہمان کی آمد شروع ہو چکی تھی

ہال میں ایک طرف بہت ساری لڑکیاں زویا کے آس پاس بیٹھیں اس کی مہندی دیکھ رہی تھیں جبکہ باقی لڑکیاں بیچ میں گول دائرہ بنا کر ڈانس کرنے میں مصروف تھی جبکہ اس ہی ہال میں دوسری طرف تخت پر اماں سائیں اور تہمینہ بیگم بیٹھے تالیاں بجا رہے تھے

"افففف زارون بتائیں کونسے والے ایئر رنگز پہنوں؟؟ دیکھیں یہ والے بھی سوٹ کر رہے ہیں اور یہ والے بھی۔۔۔"

وہ جو اس وقت شیشے کے سامنے کھڑا اپنی شیروانی ٹھیک کر رہا تھا اس کی بات پر شیشے میں ہی پیچھے کھڑی ایمان کو دیکھنے لگا

"جو زیادہ اچھے لگ رہے ہیں وہی پہن لو۔۔۔"

وہ مختصر سا کہہ کر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب ہاتھ بڑھا کر پرفیوم کی بوتل اٹھائے لگانے لگا جس پر وہ جو کب سے ڈریسنگ کے سامنے ہاتھ میں بندے لئے کھڑی تھی اس کی جانب بیچارگی سے دیکھنے لگی

"اب دونوں ہی بہت اچھے ہیں نہ"

ایمان نے بچوں والی شکل بناتے ہوئے کہا جس پر زارون کے لب مسکرائے وہ اس کی جانب بڑھا اور دونوں ایئر رنگز کو دیکھنے لگا 

"یہ والے زیادہ پیارے لگ رہے ہیں آپ پر یہ پہن لو"

زارون نے اس کی مشکل آسان کرتے ہوئے کہا جس پر متفق ہوکر وہ مسکراتے ہوئے پہننے لگی تب ہی زارون اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا 

"واقعی بہت اچھے لگ رہے ہیں یہ مجھ پر۔۔۔ خیر مجھ پر تو سب ہی کچھ اچھا لگتا ہے"

اس نے مغرورانہ انداز میں بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے کہا جو زارون کے چہرے پر جا ٹکرائے

"بلکل صحیح کہا میری جان پر تو سب کچھ ہی بہت پیارا لگتا ہے آخر آپ ہو بھی تو اتنی پیاری"

زارون اس کے کان میں سرگوشی کرنے لگا جس پر ایمان کے لب مسکرائے

"دور ہٹیں یہ مذاق کا وقت نہیں ہے۔۔۔"

اس نے جھنجھلاتے ہوئے اسے دور کیا 

"میں مذاق کر بھی نہیں رہا میری جان"

زارون نے بھی اس کی جانب دیکھنے ہوئے چاہت سے چور لہجے میں کہا جبکہ ایمان ایک نظر اسے دیکھ کر پھر اپنے چہرے پر میک اپ کو آخری ٹچ دینے لگی 

"دیکھیں اب میں بلکل ریڈی ہوگئی ہوں سب آ بھی گئے ہوں گے میں نیچے جارہی ہوں آپ بھی آجانا۔۔۔" ابھی وہ جانے کے لیے مڑتی جب زارون نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا جس پر وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی

"ہممم واقعی آپ ریڈی ہو مگر بس ایک چیز کی کمی ہے۔۔۔"

زارون نے اسے سرتا پیر دیکھا

وہ سرخ رنگ کے خوبصورت لینگے میں سرخ ہی قمیض کے ساتھ سرخ رنگ کے خوبصورت ڈوپٹے میں ضرورت سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی جبکہ ہاتھوں میں سرخ رنگ کی بھری بھری چوڑیاں اونچی سرخ رنگ کی سینڈل اور بالوں کو آزاد کیا ہوا تھا 

جبکہ زارون کی شیروانی بھی سرخ رنگ کی تھی اس وجہ سے ان کی میچنگ ہو رہی تھی

"اگر گجرے پہن لئے جائیں تو شاید آپ اور بھی زیادہ پیاری لگو گی"

زارون کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی جب زارون نے ٹیبل پر رکھے باکس میں سے خوبصورت پھولوں کے گجرے نکالے اور اس کی نازک سی کلائی میں پہنانے لگا 

"واؤ یہ تو واقعی بہت خوبصورت لگ رہے ہیں"

زارون جو اسے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اس کی بات پر مسکرانے لگا تو وہ بھی بکش کر گئی

آج ان کی شادی کو پورے چار مہینے ہو چکے تھے ان دونوں کے بیچ اب سب کچھ صحیح تھا آخر کار تہمینہ بیگم بھی اپنی حرکتوں سے باز آ چکی تھیں ان ہی کے کہنے پر زویا کے لئے لڑکا ڈھونڈا تھا جو اسے بلکل پسند نہ تھا مگر وہ تھا ہی اتنا نرم مزاج محبت والا کے زویا مان گئی تھی وہ آج ان کی شادی تھی 

ملک سلطان کو تو وہ اس ہی دن ختم کر چکا تھا اور باقی کے دشمنوں سے بھی وہ نمٹ چکا تھا اب ان کے درمیان کوئی دشمن نہ تھا اب ان کی زندگی سکون اور محبتوں سے بھری ہوئی تھی 

★☆★☆★☆★

"ارے وہ دیکھو زارون بھائی اور ایمان بھابھی آگئے"

لیلہ کی بات پر سب ان کی جانب متوجہ ہوئے جو ایک ساتھ آتے بہت خوبصورت لگ رہی تھے زارون کے کہنے پر لیلہ نے ایمان کو بھابی کہنا شروع کیا تھا ورنہ وہ اسے اپنی ٹیچر والے رشتے کے مطابق آپی یا باجی کہا کرتی تھی

"ماشاءاللہ اماں سائیں دیکھیں دونوں کتنے پیارے لگ رہیں ہیں نہ ساتھ"

تہمینہ بیگم نے ہر زہر سے پاک لہجے میں بولا جس پر زلیخہ بیگم مسکرائیں

"صحیح کہہ رہی ہو بہو واقعی ان دونوں کی جوڑی بہت زیادہ جچتی ہے اللّٰہ پاک ان کو نظریں بد سے بجائے رکھے"

"آمین"

اماں سائیں نے انہیں دعا دیتے ہوئے کہا جس پر پیچھے سے آتے صدیق صاحب نے آمین کہا 

"ارے بھئی لڑکیوں کیا اب بس یوں ہی ڈانس ہی کرتے رہنا ہے یا دلہا بھائی کا ویلکم بھی کرنا ہے"

ایمان کی بات پر جہاں لڑکیاں چونکی وہیں سب مسکرا دیئے 

"کیا مطلب کیا بارات آگئی؟؟"

زویا اچانک سے اچھل کر کھڑی ہوئی 

"کیوں بھئی کیا نہیں آنی چاہیے تھی؟؟"

ایمان نے اس کے چہرے کے اڑتے ہوئے رنگ کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا 

"ابھی تو میری مہندی بھی نہیں سوکھی۔۔۔ بلال کو مہندی کی اسمیل بلکل بھی نہیں پسند وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں"

وہ فکر مندی سے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی جس پر ایمان نے بامشکل اپنی ہنسی دبائی 

ویسے تو ان کے درمیان بہت لڑائیاں رہتی تھیں دونوں ایک دوسرے سے بات تک نہیں کرتی تھیں مگر کیونکہ بلال زویا کو پسند کرنے لگا تھا اس لئے ایمان کی مدد سے اس نے زویا کو راضی کروایا تھا اس لئے اکثر کبھی کبھی ان دونوں کے درمیان ہنسی مذاق ہو جاتا کرتا تھا

وہ الگ بات تھی زویا اب بھی اکثر اسے زارون کو چھین لینے کا الزام دیتی تھی لیکن زارون کے سمجھانے پر ایمان اس کی ان بے مقصد باتوں کو در گزر کر دیتی تھی کیونکہ اسے اپنے شوہر پر پورا بھروسہ تھا وہ ہمیشہ سے صرف اس ہی کا تھا 

"اوہ تو یہ مسئلہ ہے؟؟ لیکن بارات تو اب باہر آگئی ہے انفیکٹ وہ لوگ تو اندر آنے کے انتظار میں ہیں۔۔۔ یعنی انہیں منع کرنا پڑے گا ویسے بڑے ہی کوئی عجیب و غریب شخصیت کے مالک ہیں بلال بھائی اب بھلہ جب ان کو تم سے شادی کرنی ہی ہے تو انہیں مہندی کی اسمیل برداشت کر لینی چاہیے کیوں لڑکیوں؟؟"

ایمان نے ایک اسٹائل سے کمر پر ہاتھ باندھ کر کہا جس پر سب ہنسنے لگے جبکہ سب لڑکیوں نے کم آواز ہوکر بلکل کہا تھا

"خیر اگر واقعی مسئلہ اتنا سنجیدہ ہے تو۔۔۔ چلیں زارون چل کر ہم انہیں منع کردیتے ہیں کہ بھئی بعد میں آنا ابھی مہندی نہیں سوکھی"

ایمان کی بات پر زارون مسکرانے لگا جبکہ زویا بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی

"ارے ارے رکو میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ میں تو کہہ رہی تھی کہ۔۔۔"

وہ پریشانی والے تاثرات لئے بولنے ہی لگی تھی جب آدھے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے کیونکہ واقعی بارات باہر آ چکی تھی ہر طرف پٹاخوں کی آوازیں آرہی تھیں اور ڈھول بج رہے تھے

"ہائے اللّٰہ یعنی بارات سچی مچی آگئی؟؟ اففف زارون چلیں مجھے بہت سارے پھول برسانے ہیں جلدی چلیں میں ان کا ویلکم کروں گی"

ایمان دانتوں کے درمیان انگلی دبائے عجلت سے بولی اس کے اس انداز پر سب مسکرانے لگی جبکہ زارون کی مسکراہٹ مزید گہری ہونے لگی تھی ابھی وہ کچھ سمجھتا جب وہ اس کا بازوں پکڑے باہر کی جانب دوڑ لگا گئی تو سب کے ساتھ ساتھ زویا کا بھی قہقہہ نکلا تھا 

★☆★☆★☆★

(چند سالوں بعد)

"اور پھر وہ اپنے ایک بڑے سے گاؤں کا سردار بن گیا تھا اور پھر اس کی اس شہزادی سے شادی ہوگئی تھی"

اماں سائیں پانچ سال کے حارب کو کہانی سنانے میں مصروف تھیں جو اصل میں اس ہی کو والدین کی کہانی تھی

"سچی دادو جان؟؟ پھر اس شہزادی نے شہزادے سے دوستی کرلی یا وہ اب بھی ناراض تھی؟؟"

حارب نے بہت پر بکھری معصومیت کے ساتھ نرمی سے پوچھا وہ ویسے تو شرارتوں میں آگے سے آگے ہوتا تھا لیکن جب بھی وہ اماں سائیں کے پاس ہوتا تھا پورا کا پورا زارون لگتا تھا اور پھر سب سے اہم بات اس کی آنکھیں بھی زارون کی طرح تھیں 

"ہاں بلکل پھر ان دونوں کی دوستی بھی ہوگئی اور پھر اس ہی خوشی میں ان کو اللّٰہ پاک نے ایک بہت بہادر بیٹا دیا جانتے ہو اس کا نام بھی حارب ہے"

وہ بڑی حیرت سے زلیخہ بیگم کے ساتھ بیٹھے کہانی سن رہا تھا

جبکہ وہ اوپر اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی اس کی طبیعت کافی ٹائم سے ٹھیک نہیں تھی اور اس ہی کی فکر میں آج وہ بھی حویلی سے باہر نہیں گیا تھا بلکہ ایمان کے برابر اس کا ہاتھ تھامے بیٹھا اصل وجہ سمجھنے کی کوشش میں تھا 

"ایمان مجھے لگتا ہے ہمیں ایک بار آپ کا چیک اپ کروا لینا چاہیے"

زارون نے اسے مشورہ دیتے ہوئے کہا

"اففف زارون میں کہہ رہی ہوں نہ ٹھیک ہوں میں آپ پریشان نہ ہوئیں اور جاکہ حارب کو دیکھیں وہ اماں سائیں کا جب سے دماغ کھایا جارہا ہے"

ایمان نے پیشانی مسلتے ہوئے کہا جس پر وہ مسکرا دیا 

"میری جان وہ دماغ نہیں کھا رہا ہماری داستان سن رہا ہے اور آپ تو جانتی ہو جب تک وہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچے سکون نہیں لے گا"

زارون نے مزاج میں نرمی لئے کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا

"اچھا اب چلیں آپ اپنی حالت ٹھیک کریں میں ڈاکٹر کو کال کر دیتا ہوں وہ آجائیں گی آپ کا چیک اپ کرنے"

زارون اس و بچوں کی طرح سمجھاتا ہوا اٹھ کر چلا گیا جبکہ وہ نفی میں سر ہلائے مسکرا دی کیونکہ وہ جانتی تھی آخر وہ تمام بے صبرا کیوں ہورہا تھا 

ڈاکٹر کے جاتے ہی ایمان نے زارون کو کمرے میں بلایا جبکہ زارون کا منہ عموماً بنا ہی ہوا تھا جس پر ایمان نے اپنی ہنسی کنٹرول کی

"زارون۔۔۔ اچھا بس نہ جو ہوا سو ہوا میں پہلے بھی کہہ رہی تھی پہلے سے سب کچھ نہ سوچیں حارب کا کوئی بھائی نہیں آنے والا۔۔۔"

ایمان نے اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا جس پر وہ بنا کچھ کہے اس کے پاس آ بیٹھا 

"زارون۔۔۔ کیا ہوا اب منہ کیوں لٹکا لیا آپ نے؟؟"

ایمان کے اتنا پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا جس کا مطلب تھا "کچھ نہیں ہوا"۔۔۔

"اچھا سنیں نہ۔۔۔"

ایمان نے پھر سے اسے بڑے لاڈ سے مخاطب کیا جس پر وہ اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا

"وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔"

اس نے نوٹ کیا تھا اس کے بتائے جانے والی بات پر وہ کوئی خاص تجسس کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا 

"کہ حارب کا بھائی نہیں بلکہ بہن آنے والی ہے۔۔۔"

ایمان نے بلآخر اصل بات کہہ ہی ڈالی تھی جس پر وہ حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لئے اسے دیکھ رہا تھا 

زارون کو ایک اور اولاد کی خواہش تھی پھر چاہے بیٹا ہو یا بیٹی مگر حارب اکثر چھوٹے بھائی کی خواہش رکھتا تھا آج ایمان نے خود ڈاکٹر کو سچ بتانے سے منع کیا تھا وہ خود اسے سچ بتانا چاہتی تھی 

"ایمان یہ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں کیا واقعی۔۔۔!!!"

وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا وہ اسے اپنی باہوں میں لئے بیچ گیا جبکہ ایمان نے اس کے گرد باہیں ڈال دیں تھیں آج ایک اور بار وہ لوگ بے انتہا خود نظر آرہے تھے 

"جی ہاں زارون ہماری دعائیں قبول ہوگئی ہیں"

بے ساختہ دونوں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسوں چھلکنے لگے تھے

انہیں اللّٰہ پاک پر کامل یقین تھا وہ ہمیشہ ہر نماز میں ایک دوسرے کے لئے بہتری اور زندگی بھر کے سفر کی دعا کرتے تھے اور اس لئے اللّٰہ پاک نے انہیں ہر قسم کی رحمتوں سے نوازا تھا بے شک میرا رب ہر جائز خواہش کی تعبیر کرنے والا ہے

ختم شدہ

If you want to read More the  Beautiful Complete  novels, go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Complete Novel

 

If you want to read All Madiha Shah Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Madiha Shah Novels

 

If you want to read  Youtube & Web Speccial Novels  , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Web & Youtube Special Novels

 

If you want to read All Madiha Shah And Others Writers Continue Novels , go to this link quickly, and enjoy the All Writers Continue  Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Continue Urdu Novels Link

 

If you want to read Famous Urdu  Beautiful Complete Novels , go to this link quickly, and enjoy the Novels ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Famous Urdu Novels

 

This is Official Webby Madiha Shah Writes۔She started her writing journey in 2019. Madiha Shah is one of those few writers. who keep their readers bound with them, due to their unique writing ✍️ style. She started her writing journey in 2019. She has written many stories and choose a variety of topics to write about


Muntazir Ishqat E Hastam Novel

 

Madiha Shah presents a new urdu social romantic novel  Muntazir Ishqat E Hastam  written by Areesha Khan. Muntazir Ishqat E Hastam  by Areesha Khan is a special novel, many social evils have been represented in this novel. She has written many stories and choose a variety of topics to write about Hope you like this Story and to Know More about the story of the novel, you must read it.

 

Not only that, Madiha Shah, provides a platform for new writers to write online and showcase their writing skills and abilities. If you can all write, then send me any novel you have written. I have published it here on my web. If you like the story of this Urdu romantic novel, we are waiting for your kind reply

Thanks for your kind support...

 

 Cousin Based Novel | Romantic Urdu Novels

 

Madiha Shah has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best.

۔۔۔۔۔۔۔۔

Mera Jo Sanam Hai Zara Bayreham Hai Complete Novel Link 

If you all like novels posted on this web, please follow my web and if you like the episode of the novel, please leave a nice comment in the comment box.

Thanks............

  

Copyright Disclaimer:

This Madiha Shah Writes Official only shares links to PDF Novels and does not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through the world’s famous search engines like Google, Bing, etc. If any publisher or writer finds his / her Novels here should ask the uploader to remove the Novels consequently links here would automatically be deleted.

  

No comments:

Post a Comment

Post Bottom Ad

Pages